Ayah 23:11۔ قد افلح المومنون۔ قد حرف تحقیق و تاکید کے لیے ہے۔ محققین کے نزدیک قد ماضی کو حال کے قریب کردیتا ہے یہ اس بات پر دلالت کرت ا ہے کہ کہ کامیابی ان کو حاصل ہوچکی ہے۔ فلاح نجات اور بقاء کو کہتے ہیں ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ توحید کی تصدیق کرنے والے سعادت یاب ہوں گے اور جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 23:2خشوع کی مختلف تفاسیر۔
2۔ الذین ھم فی صلاتھم خاشعون۔ خشوع کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ 1۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اظہار عجز کرنے والے۔ 2۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد ڈرنے والے۔ 3۔ مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد تواضع کرنے والے ہیں۔ 4۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد نظریں نیچی رکنے والے اور اپنی آواز کو پست کرنے والے۔ خشوع و خضوع کے قریب قریب ہے فرق یہ ہے کہ خضوع کا تعلق انسان کے ظاہری بدن کے ساتھ ہے اور خشوع کا تعلق انسان کے باطن قلب اور بصرہ اور صورت کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ اللہ کا قو ل ہے ، وخشعت الاصوات للرحمن، حضرت علی کی روایت آئی ہے کہ نماز میں ادھر ادھر التفات نہ کرنا خشوع ہے۔ 5۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ خشوع یہ ہے کہ یہ معلوم بھی نہ ہو کہ کون دائیں طرف ہے اور کون بائیں طرف اور دائیں بائیں نظر نہ ڈالے۔ مسروق حضرت عائشہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ کو نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا یہ ایک اچکنا ہوتا ہے جو شیطان بندے کی نماز میں سے اچک لیتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ بندے کی طرف برابر متوجہ رہتا ہے۔ جب تک بندہ نماز میں ادھر ادھر نظر کو متوجہ نہیں کرتا، جب بندہ ادھر ادھر التفات کرتا ہے تو اللہ بھی اس کی طرف سے توجہ پھیرلیتا ہے۔ 6۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ خشوع سے مراد ہے۔ 7۔ سکون اور حسن ہیئت۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ تو اپنی نظر کو سجدہ کی جگہ سے نہ ہٹانا۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کے صحابہ کرام نماز میں اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ، الذین ھم فی صلاتھم خاشعون، تو صحابہ کرام اپنی نظروں کو سجدے کی جگہ جما کر رکھتے تھے ہیں۔
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں ن کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ لوگ نماز کے اندر اپنی نگاہ آسمان کی طرف بلند کیوں کرتے ہیں۔ حضور کا فرمان اس معاملے میں اتنا سخت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو اس حرکت سے باز آنا چاہیے ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔ 8۔ عطا کا قول ہے کہ اپنے بدن کے کسی حصے کے ساتھ نہ کھیلنا، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ایک شخص کو نماز کے اندر داڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا، فرمایا اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اعضاء بدن میں بھی ہوتا۔
حضرت ابوذر ؓ نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ کنکریوں کو مسح نہ کرے کیونکہ اس پر اس وقت اللہ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے۔ 9۔ بعض نے کہا کہ نماز میں خشوع نام ہے توجہ کی یکسوئی کا کہ دوسرے طرف خیال نہ جائے اور زبان سے جو الفاظ ادا کررہا ہے اس پر غور و فکر کرنا چاہیے۔
Ayah 23:33۔ والذین ھم عن اللغو معرضون۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ لغو سے مراد شرک ہے اور حسن کا قول ہے کہ لغو سے مراد گناہ اور نافرمانیاں ہیں ۔ زجاج کا قول ہے کہ لغو سے مراد ہر باطل اور لھوچیز ہے۔ خواہ اس کا تعلق قول سے ہو یافعل سے ۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد کفار کے ساتھ معارضہ کرنا ہے برابھلا کہنا کے ساتھ یا گالی گلوچ کے ساتھ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، واذامروا باللغو مروکراما۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ بری بات سنتے ہیں تو خود اس کے اندر گھس نہیں پڑھتے۔
Ayah 23:4تفسیر۔
4۔ والذین ھم للزکواۃ فاعلون۔ جوان پر زکوت واجب ہے وہ ادا کرتے ہیں زکوۃ ادا کرنے والوں کو فعل کے ساتھ تعبیر کیا ہے کیونکہ فعل کا وقوع نفس مال پر نہیں ہوسکتا بلکہ فعل کا تعلق ادا کرنے سے ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ یہاں زکوۃ سے مراد عمل صالح ہے یعنی وہ نیک عمل کرنے والے ہیں۔
Ayah 23:55۔ والذین ھم لفروجھم حافظون۔ فرج اسم جمع ہے خواہ شرمگاہ مرد کی ہویا عورت کی ۔ حفظ الفرج حرام سے پاک دامن رہنا۔
Ayah 23:66۔ الاعلی ازواجھم، سوائے اپنی بیویوں کے علی بمعنی من کے ہیی۔ اوماملک ایمانھم، مایہان پر محل خفض، (حالت جر) میں ہے۔ یہ آیت خاص طور پر مردو کے بارے میں ہے۔ اس دلیل کی وجہ سے ، اوماملکت ایمانھم، کیونکہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مملوک غلام سے استمتاع بالفر ج کرے۔ فانھم غیرملومین۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو مگر اپنی بیوی اور باندی سے کیونکہ ان دونوں سے استمتاع کی صورت میں ملامت کا مستحق نہیں ہوتا شریعت کی حدود میں رہ کر۔ یعنی حالت حیض ونفاس نہ ہو۔
Ayah 23:77۔ فمن ابتغی وراء ذالک۔ جس نے ان عورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت تلاش کی۔ مثلا متعہ کی یا کسی اور چیز کی۔ فاء لئک ھم العادون، ظلم اور زیادتی میں تجاوز کرنے والے ہوں گے یا حلال و حرام میں تجاوز کرنے والے ہوں گے اور یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ استمتاع بالید بھی حرام ہے۔ یہی اکثر علماء کا بیان ہے عطاء کا قول ہے کہ کچھ لوگوں کا حشر ایسی حالت میں ہوگا کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے ابن جریج کا قول ہے کہ میں نے عطاء سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مکروہ ہے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ کچھ لوگ اپنے آلات مردمی سے خود کھیلتے ہیں اللہ نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔
Ayah 23:88۔ والذین ھم لامانتھم، ابن کثیر نے اس کو مفرد پڑھا ہے اور سو رہ معارج میں بھی جیسا ک اللہ کا فرمان ہے ، وعھدھم ، دوسرے قراء نے ا اس کو جمع کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ، ان اللہ یامرکم ان تودوالامانت الی اھلھا، یہاں آیت میں امانات جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے۔ وعھدھم راعون، وہ حفاظت کرنے والے ہیں ، یعنی اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے والے اور وہ قسمیں جو لوگوں کے ساتھ کھاتے ہیں ان کو وہ پوری کرنے والے ہیں۔ یعنی اپنی امانتوں کی حفاطت کرتے ہیں۔ امانتوں کی مختلف اقسام ہیں یاتوامانت بندوں اور اللہ کے درمیان ہوگی جیسے نماز ، روزہ ، عبادات جو اللہ نے اپنے بندوں پر واجب کی ہیں اور بعض امانتیں بندوں کے درمیان جیسے کوئی چیز ودیعت رکھی جائے تو اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔
Ayah 23:99۔ والذین ھم علی صلواتھم، حمزہ اور کسائی نے ، صلاتھم، واحد ذکر کیا ہے۔ اور دوسرے قراء نے جمع کے ساتھ ذکر کیا ہے، یحافظون ، ا اور ان کی ادائیگی میں مداومت اختیار کرتا ہے اور اوقات کی رعایت رکھتے ہیں نماز کو تکرار کے ساتھ ذکر کیا ہے کیونکہ ان کی محافظت واجب ہے جیسا کہ ان میں خشوع واجب ہے۔
Ayah 23:1010۔ اولئک۔ اس صفت والے ، ھم الوارثون، دوزخیوں کے جو درجات جنت میں تھے یہ اہل جنتی ان درجات کے وارث ہوں گے۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گھر ہیں ایک گھر جنت میں دوسرا دوزخ میں ، جب کوئی مر کر دوزخ میں چلاجاتا ہے تو اہل جنت اس کے جنت والے گھر کے وارث ہوجاتے ہیں اللہ کے فرمان، اولئک ھم الوارثون، کا یہی مطلب ہے۔
مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے منزل ہے۔ ایک منزل جنت میں ایک منزل آگ میں، مومن کے لیے جنت میں اس کی جگہ ہے اور اس کے لیے جو دوزخ میں مقام ہوتا ہے اس کو گرادیاجاتا ہے اور کافر کے لیے جو جگہ جنت میں متعین ہوتی ہے وہ گرا دی جاتی ہے اور دوزخ والی جگہ اس کے لیے مقرر کردی جاتی ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ وارث ہونے کا یہ معنی ہے کہ مال کار ان کو جنت ملے گی جیسے وارث بالاخر میراث پاتا ہے۔
Ayah 23:11تفسیر۔
11۔ الذین یرثون الفردوس، ، فردوس جنت کا اعلی درجہ ہے یہ ہم نے سورة کہف میں ذکر کیا ہے ۔ ھم فیھا خالدون۔ اس میں نہ ان کو موت آئے گی اور نہ وہ اس جہنم سے نکل سکیں گے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین اشیاء اپنے ہاتھ سے بنائیں حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے بنایا توریت کو اپنے ہاتھ سے لکھا ورفردوس کو اپنے ہاتھ سے بنایا، پھر فرمایا میری عزت کی قسم کہ اس میں کوئی شرابی داخل نہیں ہوگا اور نہ ہی دیوث۔
Ayah 23:1212۔ ولقد خلقنا الانسان، ہم نے جنس انسان آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ انسان اسم جنس ہے یہ واحد اور جمع دونوں استعمال ہوتے ہیں۔ من سلالہ۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ سلالہ سے مراد پانی خلاصہ ہے۔ 2۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد بنی آدم ہیں۔ 3۔ عکرمہ کا قول ہے کہ سلالہ سے مراد وہ پانی ہے جو پشت سے کھینچا جاتا ہے ۔ عرب نطفے کو سلالہ کہتے ہیں اور ولد کو سلیل کہتے ہیں کیونکہ وہ ان دونوں سے ہی کھینچاجاتا ہے۔ من طین۔ اس سے مراد طین آدم ہیں۔ سلالہ کہتے ہیں مٹی سے پیدا ہونا اور حضرت آدم مٹی سے بنائے گئے تھے چونکہ دوسرے انسان نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں اور غذا زمین سے پیدا ہوتی ہے۔
کلبی کا بیان ہے طین سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ۔ حضر ت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا گیا ہے اور اسی مٹی سے انسان کے نطفہ کو کھینچا جاتا ہے۔ بعض نے کہا کہ انسان سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔ من سلالہ، ان کی متی کو ہر جگہ سے کھینچا گیا تھا۔
Ayah 23:1313۔ ثم جعلناہ نطفہ، یعنی وہ انسان جس کو ہم نے نطفہ سے بنایا۔ فی قرار مکین۔ ٹھہرنے کی جگہ اور وہ رحم مادر ہے۔ اور وہ ایک مقررہ مدت تک اس میں قرار پکڑتا ہے۔
” ثم خلقنا النطفۃ علقۃ۔۔۔ تا۔۔ عظاما۔ ابن عامر اور ابوبکر کے نزدیک عظما پڑھا ہے ۔ فکسونا العظام ، ظاء کے سکون کے ساتھ واحد استعمال ہوتا ہے اور دوسرے قراء نے جمع کے صیغہ کے ساتھ نقل کیا ہے کیونکہ انسان کئی عظام پر مشتمل ہے۔ اس آیت میں ہر خلق پر چالیس دن کا وقفہ ہوتا ہے چالیس دن کے بعد یہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ فکسوناالعظام لحما، ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت کالباس چڑھایا ، ثم انشاناہ خلقا آخر۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے حضرت ابن عباس ؓ مجاہد، شعبی ، عکرمہ، ضحاک اور ابوالعالیہ نے کا کہ خلقا آخر سے مراد ہے روح پھونکنا، قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد دانتوں اور بالوں کا اگ آنا۔ ابن جریج نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ کہ مکمل جوان ہونامراد ہے حسن نے کہا کہ نریامادہ ہونامراد ہے۔
عوفی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاتفسیری قول نقل کیا ہے کہ ولادت کے بعد انسان کے تدریجی احوال مراد ہیں کہ پیدائش سے لے کردودھ پینے کے وقت تک اور اس کے بیٹھنے سے لے کرلیٹنے تک، چلنے سے عاقل مند ہونے تک کہ وہ کھائے پئے، یہاں تک کہ وہ حلم کی عمر تک پہنچ جائی اور پھر اس کے بعد ایک شہر سے دوسرے شہر گھومنا سب ہی انشاء خلق کی آخری صورتیں ہیں۔ فتبارک اللہ ، کہ وہی تعظیم اور ثنا کا مستحق ہے اسی طور پر کہ نہ اس پر زوال آیا ہے اور نہ آئے گا۔ احسن الخالقین ، وہ اچھی صورت بنانے والا اور اندازہ کرنے والا اور خلق لغت میں تقدیر (اندازہ ) کو کہتے ہیں۔
مجاہد کا قول ہے ک ہبندے بھی بناتے اور اللہ بھی بناتا ہے اور اللہ سب بنانے والوں میں سے بہتر بناننے والا ہے جسیے کہاجاتا ہے ، رجل خالق ای صانع، وہ بنانے والا ہے۔
ابن جریج کا قول ہے کہ خالقین جمع کا صیغہ اس وجہ سے ذکر کیا کہ عیسیٰ کو بھی حضر ت آدم کی طرح پیدا کیا، انی اخلق لکم من الطین، یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت کرکے کہا کہ وہ سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔
Ayahs 23:14–1614۔ ثم انکم بعد ذالک لمیتون۔ میت تشدد کے ساتھ آتا ہے اور مائت جوا سکے بعد کبھی نہ مرے اور ہم عنقریب تمہیں موت دے دیں گے ، میت تخفیف کے ساتھ لیکن اس میں تخفیف جائز نہیں۔
Ayah 23:17تفسیر۔
17۔ ولقدخلقنا فوقکم سبع طرائق۔ اس سے مراد سات آسمان ہیں کیونکہ ہر اوپر والاآسمان نیچے والے پرچڑھا ہوا ہے کہ نچلی بالائی چیز کی طرح ہوتونچلی کو بالائی چیز کا طریقہ کہاجاتا ہے۔ اس سے طارق النعل ہے کہ جب کوئی دوسرے کے نشان قدم پر چلتا اور بعض نے کہا کہ طرائق کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آسمانوں کے اندر فرشتوں یاسیاروں کے گزرگاہیں ہیں۔ وماکنا عن الخلق غافلین۔ ہم ان کے ذریعے سے تمہاری حفاظت کرنے والے ہیں کہ وہ تم پر گریں گے نہیں کہ تم اس سے ہلاک ہوجاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، ویمسک السماء ان تقع علی الارض الا باذنہ۔ بعض نے کہا کہ ہم نے آپ کو بےکار نہیں چھوڑا بغیرامرونہی کے بعض نے کہا کہ ہم مخلوق کو پیدا کرنے میں غافل نہیں ہیں۔
Ayah 23:1818۔ وانزلنا من السماء ماء بقدر، ، اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا اندازہ ہے کہ کتنی بارش ہماری معیشت کے لیے کافی ہے ۔ فاسکناہ فی الارض۔ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تالابوں اور حوضوں اور گڑھوں میں پانی کو جمع کردیاتا کہ بارش نہ ہوتولوگ اس سے کام چلاسکیں۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ زمین کا پانی پینامراد ہے۔ پانی کو زمین چوس لیتی ہے زمین کے مسامات میں پانی گھس جاتا ہے پھر اس سے چشمے اور سوت پھوٹ نکلتے ہیں زمین سے جتناپانی برآمد ہوتا ہے وہ آسمان سے برسا ہوا ہی ہوتا ہے۔
” واناعلی ذھاب لقادرون۔ یہاں تک کہ تم پیاسے ہلاک ہوجاتے اور تمہارے مویشی ہلاک ہوجاتے اور تمہاری زمین بھی بنجر ہوجاتی ۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے چار دریانازل نکیے ہیں ، سیحان، جیحان، دجلہ، فرات،۔
مقاتل کا بیان ہے کہ انہوں نیابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے جنت کے ایک چشمہ سے جو جنت کے نچلے نشیبی حصہ میں تھا پانچ دریا جبرائیل کے بازو پر نازل فرمائے۔ سیحون، جیحون، دجلہ، فرات، نیل۔ جبرائیل نے یہ دریابطور امانت پہاڑوں کے سپر د کردیے اور زمین مین بہادیے اور لوگوں کے لیے فائدہ بخش بنادیے ۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے۔ وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکناہ فی الارض۔ سے اس طرف اشارہ ہے پھر جب یاجوج ماجوج کا زمانہ آئے گا، تو اللہ تعالیٰ جبرائیل کو بھیج کر زمینسے قرآن اور تمام علم کو اورحجراسود کو جو بیت اللہ کارکن ہے اور مقام ابراہیم کو اورتابوت موسیٰ کو مع اس کی اندرونی چیزوں کے اور ان پانچوں دریاؤں کو آسمان کی طرف اٹھالے گا۔ اللہ کا فرمان ہے، اناعلی ذھاب لقادرون، جب یہ اشیاء زمین سے اٹھائی جائیں گی تو اہل ارض دنیا اور دین کی ہر بھلائی سے محروم ہوجائیں گے۔
Ayah 23:19تفسیر۔
19۔ فانشانالکلم بہ۔ اس سے مراد پانی ہے ۔ جنات من نخیل واعناب لکم فیھا، ان باغات میں ، فواکہ کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ تم گرمیوں اور سردیوں میں اس کو کھاتے ہو۔ نخیل اور اعناب کو ذکر کیا، کیونکہ عرب کے اندر یہی کثیر پھل ہیں۔
Ayah 23:2020۔ وشجرۃ، اور ہم نے تمہارے لیے ایک اور درخت پیدا کیا، تخرج من طور سینائ۔ اور وہ زیتون کا درخت ہے ۔ قراء اہل حجاز اور ابوعمرو نے ، سیناء سین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ان دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اسکے معنی میں اختلاف ہے۔
1۔ مجاہد کا قول ہے ک ہ اس کا معنی برکت ہے یعنی برکت والے پہاڑ سے ہم نے زیتون کو پیدا کیا۔
2۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے حسن، ہم نے زیتون کو اچھے پہاڑ سے پیدا کیا۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے۔
3۔ عکرمہ نے کہا ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے۔ 4۔ کلبی نے اس کا معنی یہ نقل کیا ہے کہ سیناء کا معنی ہے درختوں والا۔
5۔ بعض نے کہاسریانی زبان میں گھنے درختوں کی جھاری کو سیناء کہتے ہیں۔ 6۔ مقاتل نے کہا کہ جس پہاڑ پر بکثرت پھل دار درخت ہوں اس کو نبطی زبان میں سیناء اور سینین کہاجاتا ہے۔ 7۔ مجاہدکاقول ہے کہ سیناء خاص پتھروں کی ایک قسم ہوتی ہے یہ طور میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔
8۔ ابن زید کا قول ہے کہ طور سینائ، پورانام اس پہاڑ کا ہے جو مصر اور ایلہ کے درمیان واقع ہے۔ جہاں سے حضرت موسیٰ کو آواز دی گئی تھی ۔ تنبت بالدھن، ابن کثیر اہل بصرہ، یعقوب نے ، تنبت تاء کے ضمہ کیس اتھ اور باء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے تاء کے فتحہ کے ساتھ اور باء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اگر تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھیں تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ اس کے پھل سے تیل حاصل کرتے ہیں اور وہ زیتون ہے۔ بعض نے کہا کہ نبت اور انبت کی دونوں لغات ہیں معنی دونوں کا ایک ہی ہے۔ زہیر کا قول ہے :
ہم نے زیتون کو غریب گھروں کے اردگرد پایا، ہم نے ان لوگوں میں سے بہت ہی کم کو پایا کہ وہ اپنے لیے زیتون کونہ اگاتے ہوں۔ وصبغ للاکلبین، صبغ اور صباغ اس سالن کو کہتے ہیں جس میں روٹی ڈبوئی جاتی ہے اور روٹی پر اس کا رنگ آجاتا ہے اورادام عام سالن کو کہتے ہیں جس کو روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے اور خواہ اس سے روٹی رنگین ہو یا نہ ہو۔
مقاتل کا بیان ہے کہ اللہ نے اس درخت کو ادام بھی بنایا ہے اور دھن بھی۔ روغن زینت ادام سے مراد زیتون اور دھن سے مراد زیت ہے طور کے ساتھ زیتون کی خصوصیت اس وجہ سے ہے کہ سب سے پہلے طور میں ہی زیتون کا درخت پیدا ہوا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ طوفان کے بعد زمین پر سب سے پہلے زیتون کا ہی درخت پیدا ہوا۔
Ayah 23:2121۔ وان لکم فی الانعام لعبرۃ۔ یہ نشانی ہے جس کے ساتھ عبرت حاصل کرتے ہیں۔ نسقیکم ، عام قراء نے نون کے ساتھ ذکر کیا ہے ابوجعفر نے اس جگہ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور فتحہ کے ساتھ۔ ممافی بطونھا ولکم فیھا منافع کثیرہ ومنھا تاکلون۔
Ayah 23:22تفسیر۔
22۔ وعلیھا وعلی الفلک تحملون۔ خشکی میں اونٹوں پر سوار ہوتے ہیں اور سمندر میں کشتی پر۔
Ayah 23:2323۔ ولقدارسلنا نوحا الی قومہ فقال یا قوم اعبداللہ ، اسی کی توحید بیان کرو، مالکم من الہ غیرہ، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ افلاتتقون ، تم اس کے خوف سے ڈرتے ہو کہ وہ تمہیں غیر اللہ کی پوجا کرنے پر سزادے گا۔
Ayah 23:2424۔ فقال الملاء الذین کفروا من قومہ ماھذا الابشرمثلکم یرید ان یتفضل علیکم، اس کو ہم نے تم پر فضیلت بخشی تو وہ تمہارا متبوع اور تم اس کے تابع ہو ۔ ولوشاء اللہ ، یعنی اگر اللہ کو منظور ہوتا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ لانزل ملائکہ، تو وھی پہنچانے میں۔ ماسمعنا بھذا۔ جس بات کا حضرت نوح (علیہ السلام) مدعی ہیں ، فی اباء ناالاولین۔ بعض نے کہا کہ ہم نے یہ نہیں سنا کہ کسی بشر کو رسول بناکربھیجا ہو۔
Ayah 23:2525۔ ان ھوالا رجل بہ جنہ۔ اسے مراد جنون ہے۔ فتربصوا بہ حتی حین۔ یعنی اس کو برداشت کرو اور اس وقت کا انتظار کرو یہ خود ہی مرجائے گا۔ اور راحت پالے گا۔
Ayah 23:2626۔ قل رب انصرنی بماکذبون ، یعنی ہم نے ان کو ہلاک کردیابسبب ان کی تکذیب کے۔
Ayah 23:2727۔ فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک ووحینا، ،، اس کشتی میں داخل ہوجائے، من کل زوجین اثنین واھلک الا من سبق علیہ القول ، مگر ان کو اس پر سوار مت کیجئے جن پر ہلاک کرنے والاحکم سبقت کرچکا ہے۔ ولاتخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون۔
Ayah 23:2828۔ فاذا استویت ، جب تم اس میں بیٹھ چکو ۔ انت ومن معک علی الفلک فقل الحمداللہ الذی نجانا من القوم الظالمین۔ اس سے مراد کافر لوگ ہیں۔
Ayah 23:2929۔ وقل رب انزلنی منزلا مبارکا، ابوبکر نے عاصم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ منزلا، میم کے فتحہ کے ساتھ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ اس سے مراد اترنے کی جگہ ہے بعض نے کہایہ یہ کشتی ہے جو سوار ہونے کے بعد اترے ہیں۔ بعض نے کہا کہ وہ زمین ہے جس میں طوفان کے بعد اترے ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد کشتی ہی ہو اور اسمیں یہ بھی احتمال ہے کہ کشتی سے نکلنے کے بعد کشتی میں برکت سے مراد عذاب سے نجات کا حاصل ہونا۔ کشتی سے نکلنے کے بعد ان کی اولاد ثلاثہ میں بہت کثرت سے بڑھی ہے۔ وانت خیرالمنزلین۔
Ayah 23:3030۔ ان فی ذالک، ، جو ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی کشتی کے متعلق ذکر کیا ہے اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرنے کا ذکر کیا ہے ۔ لایات ، ان کی قدرت کی نشانیاں۔ وان کنا لمبتلین، ہم نے ان کا امتحان لیا نوح (علیہ السلام) کو بھیج کر، ان کی نصیحت کے ساتھ، اور ہم نے ان کا انتظار کیا کہ وہ نزول عذاب سے پہلے اس پر عمل کریں۔
Ayah 23:31تفسیر۔
31۔ ثم انشانا من بعدھم ، اس کے ہلاک کرنے کے بعد، قرنا آخرین۔
Ayah 23:3232۔ فارسلنا فیھم رسولا منھم، اس سے مراد ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم مراد ہے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ ان عبداللہ مالک من الہ غیرہ افلاتتقون۔
Ayah 23:3333۔ وقال الملاء من قومہ الذین کفروا وکذبوا بلقاء الاخرۃ۔ جب آخرت میں پہنچ جائیں گے۔ واترفناھم ، ہم نے ان پر نعمت کی اور ان پر وسعت کی۔ فی الحیوۃ الدنیا ماھذا الابشرمثلکم یا کل مماتاکلون منہ ویشرب مماتشربون، اس سے وہ پیتے ہیں۔
Ayah 23:3434۔ ولعن اطعتم بشرامثلکم انکم اذالخاسرون۔ وہ لوگ بیوقوف اور جاہل تھے۔
Ayah 23:3535۔ ایعدکم انکم اذا متم وکنتم ترابا وعظاما انکم مخرجون، تمہیں تمہاری قبروں سے زیادہ اٹھایاجائے گا اور پھر اسی میں لوٹایاجائے گاکیاتم اس بات کا وعدہ کرتے ہو کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی مٹی ہوجاؤ گے اور ہڈیاں بوسیدہ ہوجانے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا، اس کی نظیر قرآن پاک میں ہے ، الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم خالدا فیھا،۔
Ayah 23:3636۔ ھیھات ھیھات لماتوعدون، ابن عباس نے فرمایا کہ یہ بمعنی بعد کے ہے۔ یہ بہت دور ہے۔ ھیھات ھیھات ، تاء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ نصر بن عاصم نے اس کو ضمہ کے ساتھ پـڑھا ہے اس میں ساری لغات صحیح ہیں۔ یہ این اور کیف کی طرح اور جنہوں نے اس کو فع کے ساتھ پڑھا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ وہ مثل منذ وقط اور حیث کی طرح ہے۔ اور جو حضرات اس کو کسرہ پڑھتے ہیں وہ اس کو امس اور ھولاء کی طرح ہے۔
Ayah 23:3737۔ انھی، اس سے مراد دنیا ہے۔ الاحیاتنا الدنیا نموت ونحیا، اس میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی نحیا ون موت ہم ہی زندہ کرنے والے اور موت دینے والے ہیں کیونکہ وہ بعث بعدالموت کے منکر تھے۔ بعض نے کہا کہ وہ اپنے آباء کو تومردہ سمجھتے تھے اور بیٹوں کو زندہ سمجھتے تھے بعض کا قول ہے کہ وہ ایک قوم کو زندہ سمجھتے تھے اور دوسری کو مردہ۔ ومانحن بمبعوثین ۔ موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائیں گے۔
Ayahs 23:38–39تفسیر۔
38۔ ان ھو، اس سے مراد رسول ہیں۔ الارجل افتری علی اللہ کذبا ومانحن لہ بمومنین۔ بعث بعدالموت کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 23:4040۔ قال عما قلیل، اس سے مراد تھورے سے ماصلہ ہے۔ لیصبحن تو وہ ہوجائیں گے ، نادمین، کفر و تکذیب پر۔