24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ (ایک) سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اسکے (احکام کو) فرض کردیا اور اس میں واضح المطالب آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو

تفسیر۔ 1۔ سورہ، یہ سورت ، انزلناھا وفرضناھا ، ابن کثیر ابوعمرو ، وفرضناھا ، راء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ہم نے وحی کے ذریعے سے تم پر جو احکام لاگو کیے ہیں ان پر عمل کرنا تمہارے لیے لازمی اور ضروری ہے بعض اہل تفاسیر کا قول ہے کہ ہم نے اس کے اندر حد مقرر کردی ہیں اللہ کا فرمان ، فنصف مافرضتم، ہم نے تمہارے لیے یہ حد مقرر کردی ہے اور تخفیف کی دلیل اللہ کافرمان، ان الذی فرض علیک، القرآن۔ تشدید کی صورت ہو تو پھر اس کا معنی یہ ہوگا کہ کہ ہم نے اس کو تمہارے لیے کھول کھول کر بیان کردیا اور بعض نے کہا کہ ھوبمعنی فرض کے ہے جو ایجاب کے معنی میں ہے تشدید تکثیر کے لیے ہے اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ یہ تم پر اور تمہارے بعد تمہارے قیامت تک آنے والے کے لیے ہم نے اس کو واجب کردیا۔ وانزلناھا فیھا ایات بینت۔ واضح دلالت ہے۔ لعلکم تذکرون، تاکہ تم ان سے نصیحت حاصل کرو۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو اور اگر تم خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ہرگز ترس نہ آئے اور چاہیے کہ انکی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو

2۔ الزانیۃ والزانی، ،، مراد اس سے جب وہ ددونوں آزاد بالغ ہوں ، عاقل ہوں ، باکرہ ہوں اور شادی شدہ نہ ہوں توپھرہر ایک کو سوکوڑے مارے جائیں گے کہاجاتا ہے جلدہ جب اس کی جلد پر ماراجائے۔ جیسا کہ اس کو کہاجاتا ہے اس کا سر اور اس کاپیٹ اس کے سرورپیٹ پر ماراجائے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، فاجلدواکہنے سے اشارہ ہے کہ صرف جلد بدن پر ماروایسانہ مارو جو کھال ادھیڑ کر گوشت تک پہنچ جائے۔ اسی بناء فقہاء کرام نے اس سے یہ مسئلہ معلوم کیا کہ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ غیر شادی شدہ کو سوکوڑے اور ایک سال شہر بدر کرنا ہے اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کی سزا رجم ہے جس کا ذکر سورة نساء میں گزرچکا ہے۔ ” ولاتاخذکم بھمارافۃ۔ یہ تمہارے لیے رحمت اور آسانی ہے ابن کثیر نے ، رافہ ، الف کے ساتھ پڑھا ہے سورة الحدید میں اسلفظ میں قراء کا اختلاف نہیں ہے۔ رافہ، کا تعلق دل سے ہوتا ہے اس سے کوئی روکتا نہیں کیوں کہ یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ ولاتاخذکم بھمارأفۃ ، کی مختلف تفاسیر۔ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی باندی کو کوڑے لگائے جب اس نے زنا کیا تھا، آپ نے جلاد سے فرمایا کہ اس کی پیٹھ اور ٹانگوں پر مارو۔ آپ کے ایک بیٹے نے کہا، لاتاخذکم بھمارافۃ فی دین اللہ، حضرت عبداللہ نے فرمایا بیٹے اللہ نے مجھے یہ حکم نہیں دیا، میں اس کو قتل کردوں میں نے کوڑے ماردیے اور درد پہنچادیا۔ اس آیت کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ 1) کہ تم لوگ ان دونوں پر نرمی اختیار نہ کرو کہ تم ھدود قائم نہ کرسکو۔ یہی قول مجاہد، عکرمہ، عطائ، سعید بن جبیر، نخعی، شعبی کا قول ہے۔ 2) ۔ اور ایک جماعت کا قول ہے کہ تم کو اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑ لے کہ ہلکی مار مارو، ایسانہ کرو بلکہ دردناک مار مارو۔ 3۔ امام زہری کا قول ہے کہ جرم زنا اور تہمت زنا کی سزا دینے میں سختی کی جائے کیونکہ ان کی سزائیں کتاب اللہ میں مذکور ہیں اور شراب کی سزا میں خفت اختیار کی جائے کیونکہ شراب کی سزا صرف حدیث میں آئی ہے قرآن مجید سے ثابت نہیں۔ 4۔ قتادہ کا قول ہے کہ شراب خوری اور تہمت زنا کی سزا میں نرمی برتی جائے زنا کی سزا جاری کرنے میں سختی سے کام لیاجائے۔ فی دین اللہ ، اللہ کے حکم میں، ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر، اس کا معنی یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی حدود نافذ کرنے میں نرمی اختیار نہیں کرتا۔ جب اس کے سامنے اللہ کا حکم آجائے۔ ولیشھد، چاہیے کہ تو حاضر ہو۔ عذابھما، اس سے مراد ان دونوں کی حدود ہیں۔ جب اس پر قائم کی جائے۔ ” طائفۃ، اس سے مراد جماعت ہے ، من المومنین ، مجاہد اور امام نخعی نے فرمایا کہ کم ازکم مقدار ایک فرد اور اس سے اوپر عکرمہ ، عطاء نے کہا کہ دو مرد اور اس سے اوپر مراد ہیں۔ زہری اور قتادہ کا قول ہے ک ہدویا اس سے زائد کو طائف کہتے ہیں۔ امام مالک اور ابن زید نے طائفہ کی تعداد چار بتائی ہے کہ زناپرگواہ چار ہونے چاہییے۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی) بدکار عورت سے نکاح کرنا مومنوں پر حرام ہے

زانی کی سزا۔ 3۔ الزانی لاینکح، ،، تا۔۔۔ علی المومنین۔ علماء نے اس آیت کے معنی میں اور حکم میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے کہا کہ جب مہاجر مدینہ میں آئے تو ان میں کچھ لوگ بالکل نادار تھے کچھ مال ومتاع نہ تھا اور قبیلہ والے موجود نہ تھے۔ مدینہ میں کچھ پیشہ ور عورتیں رہتی تھں جو خود فروش تھیں او اس زمانے مین مدینہ کے اندر سب سے زیادہ مالدار تھیں۔ کچھ نادار مہاجروں نے ان سے نکاح کرنا چاہا ان کے بےسرمایہ لوگوں کے خرچ کی کفالت وہ عورتیں کرلیں۔ انہوں نے رسول اللہ سے اس کی اجازت طلب کی۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان پیشہ ورعوروتوں سے نکاح کرنا مومنوں کے لیے حرام ہے۔ کیونکہ وہ مشرک ہیں۔ یہ قول مجاہد عطاء بن ابی الرباح، قتادہ زہری ، اور شعبی کا قول ہے اور عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ عنہماکا بھی یہی قول آیا ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا ایک شخص جس کا نام مرثد بن ابی المرثد غنوی تھا۔ وہ قیدیوں کو مکہ سے اٹھا کر مدینہ پہنچاتا تھا اور مکہ میں ایک باغی عورت تھی اس کو عناق کہاجاتا تھا اور وہ اس کی زمانہ جاہلیت میں دوست تھی جب وہ مکہ میں آتا تو وہ اس کو اپنے ہاں بلاتی۔ اس پر مرثد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے زنا حرام قرار دیا اس نے کہا تم میرے ساتھ نکاح کرلو انہوں نے عرض کیا میں اس بارے میں اللہ کے رسول سے پوچھ لوں ؟ وہ نبی کریم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا میں عناقا سے نکاح کروح ؟ آپ خاموش رہے کوئی جواب نہیں دیا، حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی، آپ نے مجھے بلوایا اور اس آیت کو میرے سامنے تلاوت کی اور مجھے کہا کہ تم اس کے ساتھ نکاح نہ کرنا، ان لوگوں کے نزدیک یہ تحریم خاص انہی لوگوں کے لیے تھی نہ کہ تمام لوگوں کے ساتھ۔ ابن مسعود زانیہ عورت سے نکاح کو حرام سمجھتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے جب زانی زانیہ سے نکاح کرلیتا ہے تو ہمیشہ کے لیے دونوں زانی رہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے ک سزا یافتہ زانی نکاح نہیں کرتا یا نکاح نہ کرے مگر سزا یافتہ زانیہ سے اور سزا یافتہ زانیہ نکاح نہیں کرتی نہ کرے مگر سزا یافتہ زانی سے۔ سعید بن مسیب اور اہل تفسیر کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اسی آیت کی وجہ سے زانیہ سے نکاح حرام تھا۔ لیکن جب یہ آیت، وانکحوالایامی منکم، نازل ہوئی تو اس سے حرمت مذکورہ منسوخ ہوگئی۔ لہذا زانیہ بھی ایامی میں داخل ہے اس لیے اس سے نکاح جائز ہے یہ لوگ اس سے استدلال کرتے ہیں۔ وہ یہ روایت ہے کہ جو حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض کیا یارسول اللہ میری بیوی کسی چھونے والے یا طلب گار کے ہاتھ کو دفع نہیں کرتی۔ فرمایا تو اس کو طلاق دے دے۔ اس شخص نے کہاوہ خوبصورت ہے مجھے اس سے محبت ہے۔ فرمایا تو اس کو اپنے پاس رکھ ۔ دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے کہ تو ایسی حالت میں اسے اپنے پاس روکے رکھ، روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب نے زنا کے سلسلہ میں ایک مرد اور ایک عورت کو پٹوایا اور ان کو ترغیب دی کہ دونوں میں نکاح ہوجائے لیکن مرد نے انکار کردیا۔
Ayah 24:4

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا الزام لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بد کردار ہیں

تفسیر۔ 4۔ والذین یرمون المحصنات۔۔۔ تا۔۔۔ ثمانین جلدۃ۔ اس سے زنا کی تہمت ہے۔ زنا کی تہمت لگانے والے کی سزا کابیان۔ ہروہ شخص جو کسی شادی شدہ یا غیر شادی شدہ پر زنا کی تہمت لگائے اور اس کو یوں کہے تونے زنا کیا ہے یاک ہے اے زانی۔ تو اس پر اسی کوڑے لگائیں جائیں گے اگر وہ آزاد ہو اور اگر غلام ہوتوچالیس اور اگر مقذوف شادی شدہ نہ ہوتوپھرقازف پر تعزیر لگائی جائے گی، احصان کی پانچ شرائط ہیں۔ مسلمان ہونا، عاقل ہونا، بالغ ، آزاد ہو اورزنا سے پاک ہونا۔ حتی کہ اگر اس نے بلوغت کے ابتدائی دنوں میں زنا کرلیا پھر اس نے توبہ کرلی اور اس کی توبہ سے اس کی زندگی بدل گئی اور اس کی عمر طویل ہوگئی تو پھر اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔ اور اگر مقذوف نے اس کی تہمت کو سچا کہا اس طور پر کہ اس نے زنا کا اقرار کرلیایاتہمت لگانے والے نے چار گواہ حاضر کردیے توپھرقاذف سے حد ساقط ہوجائیگی کیونکہ کہ اس پر حد واجب ہوتی ہے اس کی جھوٹی تہمت لگانے سے ا سکاصدق ثابت ہوگیا۔ والذین یرمون المحصنات ، جو محصنات پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں یعنی آزاد مسلمان پاک دامن عورت پر اور وہ چار گواہ بھی پیش نہ کرسکے۔ ان کے زنا پر توپھران تہمت لگانے والوں کو اسی کوڑے لگاؤ۔ ولاتقبلوالھم شھادۃ ابدا واولئک ھم الفاسقون۔
Ayah 24:5

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

ہاں جو ان کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو خدا (بھی) بخشنے والا مہربان ہے

کیا جھوٹی تہمت لگانے والے کی گواہی قابل قبول ہوگی یا نہیں۔ 5۔ الاالذین تابوا۔۔ ،،۔ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ جھوٹی تہمت لگانے والے توبہ کے بعداس کی شہادت قبول کرلی جائے گی اور فسق والاالزام بھی ختم ہوجائے گا۔ یہ ابن عمر ؓ اور ابن عباس سے مروی ہے اور سعید بن جبیر مجاہد ، عطاء ، طاوس سعیدبن المسیب سلیمان بن یسار، شعبی عکرمہ، اور زہری کا قول ہے اور امام مالک شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ دوسرے حضرات کی اس مسئلہ میں یہ رائے ہے کہ ، محدود فی القذف، کی گواہی کبھی بھی قبول نہیں کی جائے گی، اگرچہ اس نے توبہ کرلی ہو۔ ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ یہاں استثنی ، واو لئک ھم الفاسقون۔ سے ہے یہ قول امام نخعی ، شریح، اور اصحاب الرائے کا ہے انہوں نے کہا نفس قذف کے ذریعے اس کی شہادت رد نہیں کی جائے گی۔ جب تک کہ اس پر حد نہ جاری کردی گئی ہو۔ امام شافعی کا قول ہے کہ حد لگنے سے پہلے اس میں شر تھا، لیکن جب اس پر حد جاری کردی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ بن گئی تو پھر کی سے اس کی گواہی اس کی اچھی حالت ہونے کے وقت اس کو رد کردیاجائے گا، اور کیسے اس کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے جب اس پر حد نہ جاری کردی ہو۔ شعبی کا قول ہے کہ حد قذف محض توبہ سے ساقط ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ اس آیت کا استثنی کل کا کل کے ساتھ ہے اور عام علماء کا قول ہے کہ یہ توبہ سے ساقط ہوجاتی ہے البتہ جس پر تہمت لگائی ہے وہ اس کو معاف کردے توپھر معافی ہوسکتی ہے۔ جیسے قصاص معاف کرنے سے ساقط ہوجاتا ہے لیکن توبہ سے ساقط نہیں ہوتا۔
Ayah 24:6

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک وہ سچا ہے

6۔ والذین یرمون ازواجھم۔ جوان لوگوں کی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں ۔ ولم یکن لھم شھدائ۔ جوان کے قول کے صحیح ہونے پر گواہی نہیں دیتے۔ الاانفسھم، مگر اپنے آپ کے علاوہ کوئی اور گواہ نہیں پاتے۔ فشھادۃ احدھم اربع شھادات ۔۔۔ حمزہ کسائی ، حفص، یعقوب نے ، اربع شھادات، عین کے رفع کے ساتھ مبتداء ہونے کی وجہ سے پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں عبارت اس طرح ہوگی ، فشھادۃ احدھم ان یشھد، اربع شھادات باللہ انہ لمن الصادقین۔
Ayahs 24:7–8

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ وہ پہلے چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک یہ جھوٹا ہے

7۔ والخامسۃ، ان لعنۃ اللہ علیہ ان کان من الکاذبین۔ نافع اور یعقوب نے ، ان ، تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح دوسرا ان بھی پڑھا ہے ۔ یعقوب نے یہاں لعنۃ اللہ کی جگہ غضب اللہ پڑھا ہے رفع کے ساتھ اور نافع نے غضب ضاد کے کسرہ کے ساتھ اور باء کے فتحہ کے ساتھ لفظ اللہ کو مرفوع پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ، ان ، تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ، لعنہ، نصب کے ساتھ غضب ضاد کے فتحہ کے ساتھ ۔ ان کا اسم ہونے کی وجہ سے۔ ” والخامسۃ، دوسرامنصوب ہے گواہی دینے والا، پانچویں مرتبہ گواہی دے گا، دوسرے قراء نے ا سکومرفوع پڑھا ہے مبتدا ہونے کی وجہ سے اور اس کی خبر پہلے کی طرح ہے۔ محصن وغیر محصن کی سزا کا حکم۔ اس آیت کے حکم میں فقہاء کا اختلاف ہے اور مختلف اقوال ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اس کو اجنبی شخص کے تہمت لگانے کی طرح حد لگائی جائے گی اگر وہ محصن ہو اور اگر وہ محصن نہ ہو تو پھر اس کو تعزیر لگائی جائے گی، اور اگر کوئی اجنبی تہمت لگائے اس پر حد قائم کی جائے گی ہاں اگر وہ چار گواہ حاضر کردے زنا پر تو پھر اس سے حدساقط ہوجائے گی، اور اگر مقذوف اقرار کرلے کہ میں نے زنا کیا تو پھر بھی قاذف پر حد نہیں لگے گی۔ اگر وہ محصنہ ہے تورجم کیا جائے گا، اور غیر محصن ہے تو اس کو کوڑے مارے جائیں گے اور ملک بدر کیا جائے گا، یہ پانچ احکام جن کا تعلق زوج کی لعان کے ساتھ متعلق تھا۔
Ayah 24:9

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں دفعہ یوں (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا غضب نازل ہو

تفسیر۔ 9۔ والخامسۃ ان غضب اللہ علیھا ان کامن الصادقین۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب ہے جو حد کی صورت میں ہے۔ جیسا کہ سورة کے ابتداء میں اس کا حکم دیا گیا۔ ولیشھد عذابھما طائفۃ من المومنین۔ ان ونوں میں سے ایک آیت کا معنی یہ ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کے ساتھ لعان کرتا ہے تو بیوی پر زنا کی حد واجب ہوجاتی ہے۔ اور جب ان پر حد زنا لعان کے ذریعے سے واجب ہوتی ہے تو وہ اس کو اپنے سے دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب لعان کرتا ہے تو وہ چار گواہ پیش کرتا ہے پھر وہ حاکم کے کہنے پر قسمیں اٹھاتا ہے کہ جس چیز کے بارے میں یہ مجھ پر جھوٹی تہمت لگارہا ہے میں اس سے بری ہوں اور وہ پانچویں مرتبہ یہ کہے گی کہ اے اللہ تعالیٰ کا مجھ پر عذاب ہواگرمیراشوہر اس معاملہ میں سچا ہو جو کچھ اس نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے۔ لعان کے ساتھ ایک ہی حکم متعلق ہوگا اور وہ حدکاساقط ہوجانا۔ اگر شوہر نے زناپرگواہ مقرر کرلیے جو تو پھر اس سے حد زنا ساقط نہیں ہوگی۔ اصحاب الرائے کے نزدیک میاں بیوی پر حد واجب نہیں ہوگی صرف لعان ہوگا، اگر وہ لعان کرنے پر راضی نہ ہوں توپھرا ن کو قید کرلیاجائے گا، حتی کہ دونوں لعان کرلیں اور گرشوہر لعان کرلے اور عورت لعان سے رک جائے تو عورت کو قید کرلیاجائے گایہاں تک کہ وہ لعان نہ کرلے۔ دوسرے حضرات کے نزدیک لعان یہ اس کے قول کی تصدیق ہے کہ تمہت لگانے والا اگر بینہ قائم کرنے کے لیے بیٹھ جائے تو اس کو قید نہیں کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ گواہ پالے۔ یہ اس اجنبی شخص کی طرح ہے جس نے تہمت لگائی پھر گواہوں کا انتظار کرنے لگا۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک لعان فرقت اور نسب کی نفی کا موجب ہے اور یہ دونوں چیزیں حاصل نہیں ہوں گی مگر لعان سے اور وہ دونوں میاں بیوی کے لعان کرنے کی ہی کی وجہ سے ہوگا۔ اب یہ فرقت کس حکم میں ہوگی فسخ نکاح ہوگی ی اطلاق۔ اس بارے میں اکثر اہل علم کا بیان ہے کہ یہ فرقت فسخ نکاح کے حکم میں ہے۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ ان دونوں کے درمیان یہ تفریق دائمی ہوگی۔ اگر لعان کے بعد شوہر اپنے قول سے رجوع کرلے تو اس کے رجوع کو نہیں مانا جائے گا، اس کے حق میں نہ کہ اس کی بیوی کے حق میں۔ اس صورت میں شوہر پر حد جاری کی جائے گی۔ اور پیداشدہ بچے کو اصل باپ کی طرمنسوب کیا جائے گا، لیکن لعان کی وجہ سے جو حرمت ابدی لازم ہوچکی وہ مرتفع ختم نہیں ہوگی۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک میاں بیوی کے درمیان جو فرقت واقع ہوتی ہے یہ فرقت طلاق ہے ۔ لعان کے بعد اگر شوہر نے اپنے آپ کو جھوٹا ثابت کردیا توپھرحد جاری ہونے کے بعد وہ دوبارہ اپنی بیوی کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے اور اسی طرح اگر اس نے لعان کے چند کلمات کہے تو پھر بھی لعان کا حکم متعلق نہیں ہوگا۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر وہ لعان کے اکثر کلمات کو ادا کرلیاتو اس صورت میں یہ کل کے قائم مقام ہوگا۔ ہروہ شخص جس کی قسم کا اعتبار ہے اس سے لعان کا بھی اعتبار ہوگا، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام ، مسلمان ہو یا ذمی۔ یہ قول سعید بن المیسب سلیمان بن یسار اور حسن، اور یہی قول ربیعہ مالک ثوری شافعی اور اکثر علم کا ہے۔ لیکن امام زہری اوزاعی اصحاب الرائے کے نزدیک صرف لعان آزاد مسلمان اور غیر محدود دین پر ہوگا، اور وہ دونوں میاں بیوی ہوں یا ان دونوں میں سے ایک غلام ہو، دوسراذمی ہو، یا محدود فی القذف ہو پھر ان پر لعان نہیں ہوگا۔ قرآن کی ظاہری آیات ان لوگوں کے لیے دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان لعان جاری ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ نے فرمایا، والذین یرمون ازواجھم، یہاں پر آزاد اور غلام محدود وغیرمحدود کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں ارشاد فرمایا، الذی یظاھرون من نسائھم، پھر آزاد اور غلام دونوں ظہار میں برابر ہیں اور لعان صحیح نہیں سوائے حاکم یا اس کے خلیفہ کے حکم سے۔ اگر حاکم ان دونوں کے درمیان لعان کرے، اکیلے تو جائز ہے مکان کی تعیین واجب ہے یامستحب اس بارے میں دوقول ہیں۔
Ayah 24:10

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی (تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں) مگر وہ صاحب کرم امین ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا اور حکیم ہے

10۔ ولولافضل اللہ علیکم ورحمتہ وان اللہ تواب حکیم۔ یہاں لولا کا جواب محذوف ہے کہ تم ان کی سزا میں جلدی کرتے ہو لیکن یہ تمہارے لیے ستر ہے اور تم پر حد لعان کی وجہ سے ساقط کردی ۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں جو شخص اپنے گناہوں سے رجوع کرے رحمت کے ساتھ اور حکیم ہے جو حدود اس نے تمہارے لیے مقرر کی ہیں اس کی حکمت کے متعلق وہ خوب جانتا ہے۔
Ayah 24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے ان میں سے جس شخص نے گناہ میں جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا وبال ہے اور جن نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا

واقعہ افک۔ 11۔ ان الذین جاء وا بالافک عصبۃ منکم۔ صالح ابن شہاب کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے بیان یا عروہ بن زبیر، سعید بن المیسب ، علقمہ، بن وقاص، وعبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود عن عائشہ ؓ اجمعین، سے جو آپ کی زوجہ محترمہ ہیں انہوں نے یہ حدیث بیا ن کی تھی کہ جب تہمت لگانے والوں کی تہمت سے اللہ عزوجل نے ان کو بری کردیا تھا۔ سب رواۃ جوا س حدیث کو مجھ سے بیان کرتے ہیں اور بعض حضرات نے اس حدیث کو اپنے پاس زبانی محفوظ کیا اور بعض لوگوں نے اس کو اپنے پاس ویسے ہی محفوظ کرلیا، اور بعض میرے سے وہی حدیث زبانی یاد کرتے ہیں جو میں نے حضرت عائشہ سے نقل کی ہے۔ بعض حضرات بعض کی تصدیق کرنے لگے اور بعض اس کو بعض سے یاد کرنے لگے اور وہ لوگ کہنے لگے کہ حضرت عائشہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ جب کسی سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں میں قرعہ اندازی کرتے تھے جس کا نام قرعہ میں نکل آتا اس کو ساتھ لے جاتے تھے۔ چنانچہ ایک جہاد پر آپ تشریف لے جانے لگے توحسب معمول قرعہ اندازی کی میرا نام نکل آیا مجھے اپ نے ساتھ لے لیا، یہ واقعہ پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعدکا ہے میں ہودج میں سوار ہوئی میرا ہودج ہی اٹھا کر اونٹ پر رکھا جاتا تھا اور نیچے اتارا جاتا تھا، اس طرح ہم مدینہ سے چل دیے جب جہاد سے فارغ ہوکرواپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچ کر ایک جگہ اترے ، رات کو کوچ کر کنے کا اعلان ہوا میں حاجت کے لیے اٹھی اور چل کر لشکر سے دور نکل گئی ضرورت سے فارغ ہوکر جب اپنے مقام پر پہنچی تو اس وقت سینے پر ہاتھ رکھا توعقیق یمنی کا ہار جو میں نے پہنا تھا وہ ٹوٹ کر کہیں گرگیا، میں ہار کو دھونڈنے کے لیے فورا واپس چلی گئی، ہار کی تلاش میں مجھے دیر لگ گئی میرے ہودج کو اٹھاکراونٹ پر رکھنے والے لوگ آئے اور یہ خیال کیا کہ میں ہودج کے اندر ہوں خالی ہودج کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا، اسی زمانے میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، بھاری فربہ اندام نہیں ہوتی تھیں کھانا تھوڑا کھایا کرتی تھیں اور میں تو ویسے بھی نوخیز لڑکی تھی اس لیے جن لوگوں نے کجاوہ کو اونٹ پر اٹھا کر رکھا ان کو کجاوہ کی گرانی کا اندازہ نہ ہوا۔ غرض کہ اونٹ اٹھا کر وہ لوگ چل دیے اور لشکر کے چلے جانے کے بعد مجھ کو ہار مل گیا میں پڑاو پر آئی تو وہاں نہ کوئی کہنے والا تھا اور نہ کوئی جواب دینے والا میں اپنے پڑاو پر آگئی اور خیال کیا کہ جب میں لوگوں کو نہیں ملوں گی تو ضرور یہیں لوٹ کر آئیں گے میں اپنی جگہ بیٹھی ہوئی تھی کہ آنکھوں میں نیند غالب آگئی، اور میں سو گئی، صفوان بن معطل لشکر کے پیچھے پچھلی رات سے چلے آرہے تھے وہ صبح کو اس جگہ پہنچے، جہاں میں پڑی ہوئی سو رہی تھی دور سے انھیں ایک سوتا ہوا شخص معلوم ہوا میرے پاس آئے تو مجھ کو پہچان لیا کیوں کہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے میں ان کے سامنے نکلا کرتی تھی، انہوں نے جو مجھے دیکھ کر انا للہ پڑھی تو میری آنکھ کھل گئی انہوں نے مجھے پہچان لیا میں نے اپنا چہرہ چادر سے چھپالیا اللہ کی قسم انہوں نے مجھ سے کوئی بات تک نہیں کی اور نہ میں نے سوائے انا للہ کے ان کی زبان سے اور کوئی کلمہ سنا، انہوں نے فورا یہ کیا کہ اپنی اونٹنی بٹھائی اور اس کا پاوں اپنے پیر سے دبائے رکھا میں اونٹنی پر سوار ہوگئی وہ خود بےچارے پیدل چلتے رہے اور اونٹنی کو چلاتے رہے یہاں تک کہ ہم لشکر میں اس وقت پہنچے جب کہ عین دوپہر کو گرمی کی شدت میں وہ اترے ہوئے تھے اب لوگوں نے طوفان اٹھایا اور جس کی قسمت میں تباہی لکھی ہوئی تھی وہ تباہ ہوا اور سب سے بڑا اس طوفان کا بانی وموجد عبداللہ بن ابی بن سلول منافق ملعون تھا خیر ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے اور وہاں پہنچ کر میں بیمار ہوگئی اور ایک مہینہ تک میں بیمار رہی، لوگ طوفان برپا کرنے والوں کی باتوں کا چرچا کرتے رہے لیکن مجھ کو کچھ خبر نہ ہوئی ایک ذرا ساوہم مجھے اس بات سے پیدا ہوا کہ رسول اکرم ﷺ میری بیماری کے زمانہ میں جو مہربانیاں میرے حال پر فرمایا کرتے تھے وہ اس بیماری کے زمانہ میں نہیں پاتی تھی۔ رسول اکرم ﷺ میرے حجرے میں تشریف لاتے اور سلام کرنے کے بعد فرماتے اب کیسی ہو اور تشریف لے جاتے، اس سے بیشک مجھ کو وہم ہوا مگر اس طوفان کی مجھ کو خبر تک بھی نہ تھی، بیماری سے اچھی ہونے کے بعد لاغری اور کمزوری ہی کی حالت میں، میں باہر نکلی اور میرے ساتھ مسطح کی ماں مناصع کی طرف چلی مناصع اس زمانے میں ہمارا پائے خانہ تھا اور ہم راتوں رات وہاں جایا کرتے تھے اور اس زمانہ میں ہماری حالت بالکل ابتدائی عربوں کی طرح تھی، گھروں میں بیت الخلاء بنانے سے ہمیں تکلیف بھی ہوتی تھی، ام مسطح ابورہم بن مطلب بن عبد مناف کی لڑکی تھیں اور ان کی ماں ضمر بن عامر کی بیٹی تھیں جو حضرت ابوبکر ؓ کی خالہ تھیں اور ام مسطح کے شوہر کا نام اثاثہ بن عاد بن عبد المطلب تھا، غرض کہ ضرورت سے فارغ ہو کر میں اور ام مسطح گھر کی طرف آئے، راستہ میں ام مسطح اپنی چادر میں الجھ کر گریں اور بولیں مسطح ہلاک ہو میں نے کہا کہ تم نے برا کیا، کیا ایسے آدمی کو بددعا دیتی ہوں جو غزوہ بدر میں شریک ہوا ہے بولیں بھولی بھالی کیا تو نے اس کی بات نہیں سنی ؟ میں نے کہا اس کی کیا بات ہے چناچہ مسطح کی والدہ نے تہمت لگانے والوں کا قول بیان کیا یہ سن کر میری بیماری میں اور اس بیماری کا اضافہ ہوگیا گھر واپس آئی رسول اکرم ﷺ تشریف لائے انہوں نے سلام کرنے کے بعد پوچھا تمہارا کیا حال ہے میں نے عرض کیا کیا آپ کی اجازت ہے کہ میں اپنے والدین کے پاس چلی جاوں، اس اجازت لینے کی غرض یہ تھی کہ میں اپنے والدین کی طرف سے اس بات کی تصدیق کرنا چاہتی تھی، چناچہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے اجازت دے دی، میں اپنے والدین کے یہاں چلی آئی اور آکر والدہ سے پوچھا کہ لوگ کیا چہ میگوئیاں کر رہے ہیں انہوں نے کہا بیٹی تو غم مت کر کیوں کہ اللہ کی قسم اگر کوئی خوبصورت عورت ہوتی ہے اور اس کا خاوند اس سے محبت کرتا ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوتی ہیں تو سوکنیں اس پر بڑی بڑی باتیں رکھ دیا کرتی ہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ لوگ کیا کیا باتیں ملا رہے ہیں (اور آپ یہ کہہ رہے ہیں) غرض اس رات کو ساری رات میں روتی رہی اور میرے آنسو نہیں تھمے اور نہ نیند آئی، صبح کو میں رو ہی رہی تھی کہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی ؓ اور حضرت اسامہ ؓ کو اپنی بیوی کے طلاق کے معاملہ میں مشورہ کے لیے طلب فرمایا کیوں کہ وحی آنے میں دیر ہوگئی تھی حضرت اسامہ ؓ نے تو وہی مشورہ دیا جو ان کو معلوم تھا کہ رسول اکرم ﷺ کی زوجہ مطہرہ پاک دامن ہے اور جیسا کہ ان کے دل میں آپ کی ازواج سے محبت تھی، چناچہ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ آپ کی بیوی ہیں ہمیں تو ان کے متعلق کسی برائی کا علم نہیں مگر حضرت علی ؓ نے عرض کیا یا رسول ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے تنگی نہیں رکھی ہے ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں اگر آپ خادمہ کو بلا کر دریافت کریں گے تو وہ آپ کو سچ سچ بیان کردیں گی اور عائشہ ؓ کی سچائی ظاہر ہوجائے گی، رسول اکرم ﷺ نے حضرت بریرہ ؓ کو بلایا اور فرمایا بریرہ ؓ تمہیں عائشہ ؓ کی طرف سے کبھی کوئی شک کی بات نظر آئی، حضرت بریرہ ؓ نے عرض کیا قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں نے تو عائشہ ؓ کی کوئی بات قابل گرفت کبھی دیکھی ہی نہیں۔ صرف اتنی بات ہے کہ وہ کمسن لڑکی ہیں، گھر کا گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہیں، بکری کا بچہ اس کو آکر کھا لیتا ہے اس کے بعد رسول اکرم ﷺ نے ممبر پر تشریف فرما ہو کر عبداللہ بن ابی سلول منافق مردود کے مقابل مدد چاہی، فرمایا مسلمانو ! کون میری حمایت کرتا ہے کون میری مدد کرتا ہے ایسے شخص کے مقابلہ میں جس کی جانب سے مجھے اپنے گھروالوں کے متعلق اذیت پہنچی ہے، اللہ کی قسم مجھے تو اپنی بیوی میں کوئی برائی نظر نہیں آتی لوگو میں ان کو نیک اور پاک دامن یہ سمجھتا ہوں اور جس شخص کا ذکر کیا ہے اس کو بھی نیک بخت جانتا ہوں وہ تو کبھی میرے گھر میں اکیلا نہیں آیا، ہمیشہ میرے ہی ساتھ آیا، یہ سن کر قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں اس شخص کے مقابلہ میں آپ کی مدد کو تیار ہوں، اگر یہ شخص اوس قبیلہ کا ہے تو ابھی میں اس کو قتل کردیتا ہوں اور اگر ہمارے بھائیوں میں سے خزرج کا ہے تو آپ جو حکم دیں ہم پورا کریں گے، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں سعد بن معاذ کی یہ بات سن کر سعد بن عبادہ ؓ اٹھ کھڑے ہوئے جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے، وہ پہلے بہت نیک بخت آدمی تھے مگر اس وقت ان کو ایک قومی غیرت نے آگھیرا، سعد بن معاذ سے کہنے لگے اللہ کی بقاء کی قسم تو جھوٹ کہتا ہے تو نہ اس کو مارے گا اور نہ مار سکے گا، اتنے میں اسید بن حضیر ؓ جانثار صحابی جو سعد بن معاذ ؓ کے چچا زاد بھائی تھے کھڑے ہوگئے اور سعد بن عبادہ ؓ سے کہنے لگے اللہ کی بقاء کی قسم تو جھوٹا ہے ہم تو ضرور اس شخص کو قتل کریں گے کیا تو بھی منافق ہوگیا ہے جو منافقوں کی طرف داری کرتا ہے بس اس گفتگو پر اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کے آدمی کھڑے ہوگئے اور آپس میں لڑنے والے ہی تھے مگر رسول اکرم ﷺ منبر پر ہی تھے آپ ان کو ٹھنڈا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ سب خاموش ہوئے تب آپ بھی خاموش ہوگئے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں اس دن سارے دن میرا یہ حال رہا کہ نہ میرے آنسو بند ہوتے تھے اور نہ نیند ہی آتی تھی، صبح کو میرے والدین بھی میرے پاس موجود تھے اور میرا تو دو رات اور ایک دن سے یہی حال تھا کہ نہ نیند آتی تھی اور نہ آنسو ہی تھمتے تھے میرے والدین یہ سمجھے کہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میرے والدین میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو ہی رہی تھی اتنے میں ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اسے اجازت دے دی وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی اسی حالت میں رسول اکرم ﷺ ہمارے یہاں تشریف لائے، آپ نے سلام کیا اور سلام کر کے بیٹھ گئے اس سے قبل جب سے میرے اوپر یہ بہتان لگایا گیا تھا آپ کبھی میرے پاس نہیں بیٹھے تھے ایک مہینہ تک آپ رکے رہے، میرے بارے میں کوئی وحی نہ آئی، غرض کہ آپ نے بیٹھ کر تشہد پڑھا، پھر فرمایا اما بعد عائشہ ؓ مجھے تمہارے بارے میں ایسی ایسی خبر پہنچی ہے۔ اگر تو پاک ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاک دامنی عنقریب بیان فرمادے گا اور اگر واقعی تجھ سے کوئی قصور سرزد ہوگیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے اپنے قصور کی مغفرت مانگ اور توبہ کر کیوں کہ جب کوئی بندہ اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے پھر اللہ کی درگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا گناہ بخش دیتا ہے جب رسول اکرم ﷺ یہ گفتگو ختم کرچکے تو اللہ کی قدرت یک بارگی میرے آنسو تھم گئے یہاں تک کہ ایک قطرہ بھی مجھ کو معلوم نہ ہوا، میں نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا آپ آنحضرت ﷺ کی بات کا جواب دیں انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ آپ کو کیا جواب دوں پھر میں نے اپنی والدہ ام رومان سے کہا کہ آپ تو رسول اکرم ﷺ کی بات کا جواب دیں انہوں نے کہا میں نہیں جانتی کیا جواب دوں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں بالآخر میں ہی جواب کے لیے مستعد اور میں ایک کمسن لڑکی تھی قرآن کریم بھی مجھے زیادہ یاد نہ تھا خیر میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ یہ بات جو آپ نے سنی ہے وہ آپ کے دلوں میں جم گئی ہے اور آپ اس کو سچ سمجھنے لگے ہیں تو ایسی صورت میں اگر میں یہ کہوں کہ میں پاک ہوں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں پاک ہوں جب بھی آپ مجھے سچا نہیں سمجھیں گے اور اگر میں فرضی طور پر ایک گناہ کا اقرار کرلو (جو میں نے نہیں کیا) اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے پاک ہوں تو آپ سمجھیں گے اللہ کی قسم میں اس وقت اپنی اور آپ کی مثال ایسی سمجھتی ہوں جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تھی انہوں نے جو کچھ کہا تھا میں بھی وہی کہتی ہوں کہ ( آیت) فصبر جمیل ۔ اور آپ کی باتوں پر اللہ ہی میری مدد فرمانے والا ہے، حضرت عائشہ ؓ ہیں کہ یہ کہہ کر میں نے اپنے بستر پر کروٹ بدل لی اور مجھے یہ یقین تھا کہ کیونکہ میں پاک ہوں تو اللہ تعالیٰ میری پاکی ضرور ظاہر فرمائے گا مگر اللہ کی قسم مجھے ہرگز یہ گمان نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں قرآن کریم کی ایسی آیتیں نازل فرمائے گا جو قیامت تک پڑھی جائیں گی میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ میرے بارے میں اللہ ایسا کلام اتارے کہ جو ہمیشہ پڑھا جائے، البتہ مجھے یہ امید تھی کہ رسول اکرم ﷺ کو کوئی ایسا خواب نظر آجائے گا جس سے آپ کے سامنے میری پاکیزگی ظاہر ہوجائے گی۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں پھر اللہ کی قسم رسول اکرم ﷺ جس جگہ بیٹھے ہوئے تھے نہ آپ اپنی اس جگہ سے اٹھے اور اسی طرح گھر میں جو حضرات تھے نہ اس میں سے کوئی باہر گیا کہ آپ پر وحی اترنا شروع ہوگئی اور حسب معمول آپ پر وحی کی سختی ہونے لگی اور پسینہ موتی کی طرح آپ کے بدن مبارک سے ٹپکنے لگا حالانکہ وہ سردی کا دن تھا مگر نزول وحی کے وقت آپ پر ایسی ہی سختی ہوتی تھی، خیر جب وحی کی حالت ختم ہوگئی دیکھا تو آپ مسکرا رہے ہیں، پھر پہلی بات آپ نے جو کی وہ یہی فرمائی کہ عائشہ ؓ تمہیں پاک صاف کردیا، یہ سن کر میری والدہ کہنے لگیں اٹھ کر حضور ﷺ کا شکریہ ادا کرو میں نے کہا واہ اللہ کی قسم میں تو کبھی بھی آپ کے شکریہ کے لیے نہیں اٹھوں گی میں تو فقط اپنے پروردگار کا شکریہ ادا کروں گی جو عزت اور بزرگی والا ہے اور اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ( آیت) ان الذین جآء و بالافک ۔ (الخ) پوری دس آیتیں نازل ہوئیں، چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے میری پاک دامنی میں یہ آیتیں نازل فرمائیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ جو پہلے مسطح بن اثاثہ کے ساتھ اس کی غربت اور رشتہ داری کی وجہ سے جو مہربانی کا سلوک کیا کرتے تھے کہنے لگے اللہ کی قسم اب تو میں مسطح کو کچھ نہیں دوں گا جب اس نے حضرت عائشہ ؓ کے میں ایسی باتیں کیں اور رشتہ داری کا خیال نہیں کیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ( آیت) ولا یاتل اولو الفضل منکم ۔ (الخ) یعنی تم سے وسعت اور بزرگی والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس قسم کی قسم کھالیں کہ اپنے عزیزوں یا مسکین اور مہاجروں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ نہ دیں گے، تو یہ آیتیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرمانے لگے اللہ کی قسم میں یہی چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے اور مسطح سے حسب عادت سلوک کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ میں مسطح کے ساتھ اس سلوک کو کبھی ختم نہیں کروں گا۔ روایت میں آتا ہے کہ جن لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت تراشی کی تھی رسول اللہ نے ان میں سے ہر ایک کو اسی اسی کوڑے لگوائے۔
Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا ؟ اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے ؟

تفسیر۔ 12۔ لولا، ، ھلاکے معنی میں ہے۔ اذ سمعتموہ ظن المومنون، اپنے بھائیوں سے نیک گمان کیوں نہ کیا، خیرا، حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد اہلدین ہیں کیونکہ تمام مومنین ایک جسم کی مانند ہیں۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ولاتقتلوا انفسکم، اور دوسری آیت میں ہے ، فسلموا علی انفسکم، وقالوا ھذا افک مبین، ی جھوٹ واضح ہے۔
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

یہ (افترا پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے (لئے) چار گواہ کیوں نہ لائے ؟ تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں

13۔ لولاجاء وا علیہ باربعۃ شھدائ۔ جیسا کہ انہوں نے گمان کیا، فاذلم یاتوابالشھداء فاولئک عنداللہ ھم الکاذبون۔ سوال : وہ اللہ کے نزدیک کیسے جھوٹے ہوسکتے ہیں جبکہ انہوں نے گواہ قائم نہیں کیے حالانکہ اللہ کے نزدیک جھوٹاشخص تو جھوٹا ہی ہے خواہ وہ گواہ قائم کرے یاگواہ قائم نہ کرے ؟ جواب : اللہ کے نزدیک مطلب ہے کہ اللہ کے فیصلے میں۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اللہ کے حکم کو جھٹلایا ہے بعض نے کہا کہ یہ حضرت عائشہ کے حق میں ، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ سب جھوٹے ہیں غیبت کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ وہ اصل حقیقت کو نہیں جانتے۔
Ayah 24:14

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا

14۔ ولولافضل اللہ علیکم ورحمتہ، ،، ، کا معنی خفتم ہے۔ فیہ ، اس میں برائی میں، عذاب عظیم، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ ان پر ایسا عذاب جو کبھی نہ ختم ہونے والا اس وجہ سے دنیا کے عذاب کو پہلے ذکر کیا پھر اخروی عذاب کو ذکر کیا۔ والذی تولی کبرہ منھم لہ عذاب عطیم، اور وہ عذاب ان کو پہنچ گیا کہ ان کو کورے مارے گئے اور حد لگائی گئی۔ روایات میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے چا ر آدمیوں پر حدقذف جاری کی عبداللہ بن ابی ، حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش۔
Ayah 24:15

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

15۔ اذ تلقونہ، ، جو کچھ تم کہتے ہو۔ بالسنتکم، مجاہد اور مقاتل نے کہا کہ وہ بعض بعض سے روایت کرتے ہیں۔ کلبی کا قول ہے کہ اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے سے ملتا اور کہتا تھا مجھے ایسی خبر ملی ہے کہ واقعہ کیا ہے ؟ اس طرح ایک دوسرے سے زبانی لیتا تھا، اسی طرح ابی بن کعب نے بھی پڑھا ہے زجاج کا قول ہے کہ بعض بعض کے ساتھ سیکھتے تھے، حضرت عائشہ کی قرات، تلقونہ ، لام کے زیر کے ساتھ ہے اور قاف کے تخفیف کے ساتھ ولق سے ہے بمعنی جھوت۔ وتقولون بافواھکم مالیس لکم بہ علم وتحسبونہ ھینا، وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ آسان ہے اس میں کوئی گناہ نہیں، وھوعنداللہ اعظیم، اور وہ ان پر بہت بڑا بوجھ ہے۔
Ayah 24:16

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اسے سنا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایان نہیں کہ ایسی بات زبان پر لائیں (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے

تفسیر۔ 16۔ ولولااذ سمعتموہ ، ،، ،۔ بمعنی تعجب کے ہے۔ ھذابھتان عظیم۔ یعنی یہ بڑا جھوٹ ہے جو انسان کو حیران کردیتا ہے بعض روایا ت میں آتا ہے کہ جب حضرت ایوب انصاری کی والدہ محترمہ ابونصاری سے کہا کہ کیا حضرت عائشہ کے بارے میں جو خبر مجھ تک پہنچی ہے اس کے بارے مٰں کیا خیال ہے، حضرت ابوایوب انصاری نے جواب دیا، سبحانک ھذابھتان عظیم، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 24:17

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا (کام) نہ کرنا

17۔ یعظکم اللہ، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا جو اشیاء اللہ نے تم پر حرام کی ہیں مجاہد کا قول ہے کہ جن چیزوں سے اللہ نے تمہیں روکا ہے ، ان تعودوا لمثلہ ابدا ان کنتم مومنین۔
Ayah 24:18

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

18۔ ویبین اللہ لکم الایات۔ امرونواہی کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔ واللہ علیم۔ حضرت عائشہ صدیقہ اور صفوان بن معطل کے بارے میں جانتا ہے ، حکیم، ان دونوں کی برات کی حکمت۔
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی (یعنی تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

19۔ ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشہ، جو بری باتیں پھیلانے کے خواہش مند ہیں اور زنا کو پھیلاتے ہیں اور پسند کرتے ہیں ، فی الذین آمنوالھم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ، اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے منافقین چیلے دنیاوی عذاب سے مراد حد ہے اور آخری عذاب سے مراد آگ ہے۔ واللہ یعلم ان کے اس دجل کو اورحضرت عائشہ کی برات اور جن لوگوں نے اس میں حصہ لیا وہ اللہ کے غصہ کے شکار ہوئے۔ وانتم لاتعلمون۔
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اسکی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان و رحیم ہے

20۔ ولولافضل اللہ علیکم ورحمتہ وان اللہ روف رحیم۔ یہ لولا کا جواب محذوف ہے۔ اگر ان پر اللہ کا فضل نہ ہوتاتوان پر عذاب جلدی اجاتا، ابن عباس نے کہا کہ اس سے مراد مسطح حسان بن ثابت، حمنہ بنت جحش ہیں۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

مومنو ! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے (اور) خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

21۔ یا ایھا الذین آمنوا لاتتبعوا، ،، ،، ،۔ برے افعال، والمنکر، ہر وہ ناپسندیدہ کام جو اللہ کو پسند نیہں۔ ولولافضل اللہ علیکم ورحمتہ، مازکی، مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد اصلاح ہے، قتیبہ نے کہا کہ تو پاک نہ ہوتا۔ منکم من احد، بعض مفسرین کے نزدیک آیت میں عموم ہے وہ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اس کا فضل ورحمت نہ ہوتی تو ان میں سے کوئی بھی نہ بچتا، بعض کا قول ہے کہ خطاب ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے ، افک، کے معاملے میں خوب انتشار پھیلایا۔ حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اگر ا اس کا فضل نہ ہوتاتو تمہیں اس گناہ سے پاک نہ کیا جاتا اور تمہاری اصلاح بھی نہ ہوتی ، بعض نے کہا کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو کسی کی توبہ قبول نہ کی جاتی۔ ابداولکن اللہ یزکی، تمہیں اس سے پاک کردیا من یشاء ، اپنی رحمت سے تمہارے اس گناہ کو بخش دیا، واللہ سمیع علیم۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے ان کو چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں کیا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ خدا تم کو بخش دے ؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر۔ 22۔ ولایاتل “ یعنی وہ قسم نہ کھائیں۔ یہ الالیہ، سے مشتق ہے اس کا معنی ہے قسم، اولوالفضل منکم والسعۃ، اس سے مراد مال داری اور کشائش رزق ہے منکم ، سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ ان یوتوا اولی القربی، ،، سے مراد حضرت مسطح اور ان جیسے لوگ ہیں۔ حضرت مسطح مسکین بھی تھے مہاجر بھی تھے اور بدری بھی تھے اور حضرت ابوبکر کی خالہ کے بیٹے بھی تھے۔ حضرت ابوبکر نے قسم اٹھالی کہ کوئی چیز بھی اس پر خرچ نہیں کریں گے ۔ الیعفوا والیصفحوا، حضرت عائشہ کے معاملے میں۔ الاتحبون، حضرت ابوبکر صدیق کو خطاب ہے۔ ان یغفر اللہ لکم واللہ غفوررحیم۔ جب نبی کریم نے اس آیت کو پڑھا تو کہنے لگے کیوں نہیں مجھے پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے کو معاف کردیا اور مسطح کو نفقہ دینے سے رجوع کرلیا، جو خرچ ان کو دیا کرتے تھے وہ دوبارہ دینے لگے اور کہنے لگے کہ میں ہمیشہ ان کو دیتارہوں گا۔ حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حضرت ابوبکر اور دوسرے چند صحابہ نے قسم کھالی تھی کہ جن لوگوں نے اس بہتان تراشی میں حصہ لیا ان کو کچھ نہیں دیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 24:23

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بیخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت (دونوں) میں لعنت ہے اور ان کو سخت عذاب ہوگا

23۔ ان الذین یرمون المحصنات، ، اس سے مراد پاکدامن عورتیں ہیں۔ الغافلات، زنا سے بیخبر بدکاری سے دور۔ المومنات، برائی سے غافل جوان کے دل میں بھی کبھی نہیں آئی۔ حضرت عائشہ بھی قران کی بیان کردہ صفات کے مطابق تھیں۔ لعنوا ان کو سزا دی گئی ، فی الدنیا ، دنیا میں ان پر حد جاری کی گئی۔ والاخرۃ، آخرت میں ان کے لیے آگ کا دردناک عذاب ہوگا۔ ولھم عذاب مقیم، مقاتل کا بیان ہے یہ حکم خاص عبداللہ بن ابی کے لیے تھا خصیف سے روایت ہے ک ہمیں نے سعید بن جبیر سے پوچھا زنا کرنے اور تہمت زنا لگانے میں سے کون زیادہ سخت ہے ؟ فرمایا جو مومنہ پر جھوٹی تہمت لگائے اور وہ دنیا میں اور آخرت میں ملعون ہے۔ یہ حضرت عائشہ نے خاص طور پر اس کا ذک ر کیا کہ جو حضرت عائشہ پر تہمت لگائے گا وہ دنیاوآخرت میں ملعون ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ حضرت عائشہ اور دوسری ازواج مطہرات کے بارے میں بھی ہے۔ اور ساری مومنات کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ عوام بن حوشب نے قبیلہ بنی کاہل کے ایک شیخ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ آیت مذکورہ حضرت عائشہ اور دوسری امہات المومنین کے حق میں خاص طور پر نازل ہوئی۔ اس آیت میں توبہ کا ذکر نہیں اگر کوئی دوسری مومن عورت پر زنا کی تہمت لگائے اس کے لیے اللہ نے توبہ کی گنجائش رکھی ہے۔ اس آیت میں توبہ کا ذکرابن عباس ؓ عنہمانے آیت، والذین یرمون المحصنات ثم لم یاتوا ، ، تلاوت فرمائی اور فرمایا ان لوگوں کے لیے توبہ کا ذکر کیا گیا اور آیت مذکورہ بالا میں ان لوگوں کے لیے توبہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ دوسرے اہل تفاسیر نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول حضور کی بیویوں کے حق میں ہوا تھا۔ یہاں تک کہ وہ آیت جو شروع سورت میں گزری نازل ہوئی۔ فان اللہ غفور رحیم۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوڑے اور توبہ کو نازل فرمایا۔
Ayah 24:24

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

(یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں (سب) ان کے کاموں کی گواہی دیں گے

24۔ یوم تشھد علیھم۔ حمزہ اور کسائی نے ، یشھد، پڑھا ہے فعل کی تقدیم کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے تشھد، تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ السنتھم، زبان بندی سے پہلے کا وقت مراد ہے۔ وایدیھم وارجلھم، روایت میں آتا ہے کہ زبان پر مہرلگادی جائے گی پھر ہاتھ اور پاؤں بولیں گے اور جو کچھ دنیا میں انہوں نے کیا ہوگا وہ سب کچھ کھول کر بیان کردیں گے بعض نے کہا بعض لوگوں کی زبانیں گواہی دیں گی اور بعض لوگوں کے ہاتھ پاؤں ۔ بماکانوا یعملون۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے

تفسیر۔ 25۔ یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق، ، یعنی ٹھیک ٹھیک واجبی بدلہ۔ بعض نے کہا کہ انصاف والا فیصلہ۔ ویعلمون ان اللہ ھوالحق المبین، انکی حقیقت واضح ہوجائے گی جو کچھ انہوں نے دنیا میں شمار کررکھا ہے حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا عبداللہ بن ابی (دین کی صداقت) میں شک کرتا تھا۔ قیامت کے دن اس کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق مبین ہے۔
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے یہ (پاک لوگ) ان (بد گویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) ان کے لئے بخشش اور نیک روزی ہے

26۔ الخبیثت للخبیثین، ، اکثر مفسرین کے نزدیک ، الخبیثات ، سے مراد ہی گندی باتیں ، مذمت، تحقیر اور توہین کرنے والے ناپاک الفاظ ہیں۔ خبیثین سے مراد لوگ ہیں۔ والخبیثون، لوگوں کے ساتھ، للخبیثات ، ، سے مراد ان کے آیت کا معنی یہ ہے گندی باتیں کرنے والے کے ساتھ لائق نہیں مگر گندے لوگ۔ اور پاک لوگوں کے لائق نہیں مگر پاکیزہ اور حضرت عائشہ ان لوگوں کی بری باتوں کے لائق نہیں کیونکہ حضرت عائشہ پاکیزہ ہیں۔ لہذا ان کی طرف پاک کلام اچھی باتوں ان کی تعریف وثنا کو مضاف کہاجائے گا اور اسی کے وہ لائق ہیں۔ آیت الخبیثت للخبیثین کی تفسیر۔ زجاج کا قول ہے اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ گندے کلمات جیسے کلمہ کفر، جھوٹ ، صحابہ اور اہل بیت کا براکہنا، پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا اور اس جیسی دوسری باتیں ناپاک آدمیوں جیسے عبداللہ بن ابی وغیرہ، کے لیے مناسب ہیں وہی ایسی باتیں کہہ سکتے ہیں۔ پاک لوگ ایسا کلام زبان سے نہیں نکال سکتے۔ گندے لوگوں کو انہی گندی باتوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ ان لوگوں کی مذمت کرنا مقصود ہے جنہوں نے حضرت عائشہ عہنا پر تہمت لگائی تھی اور اسمیں ان لوگوں کی مدح ہے جنہوں نے حضرت عائشہ کو اس تہمت سے بری سمجھا۔ ابن زید کا قول ہے کہ خبیثات سے مراد گندی عورتیں اور خبیثین سے مراد گندے مرد ہیں۔ یعنی اکثرگندی عورتیں گندے مردوں کے لیے اور گندے مرد گندی عورتوں کے لیے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہوتے ہیں اور حضرت عائشہ عنہا پاک ہیں اسی لیے اللہ نے ان کو اپنے رسول کی زوجیت کے لیے منتخب کیا۔ اولئک مبرون، اس سے مراد حضرت عائشہ اور صفوان ہیں۔ ان دونوں کو جمع کے لفط کے ساتھ ذکر کیا ، جیسے، فان کان لہ اخوۃ، یہاں اخوہ سے مراد اخوان ہیں۔ بعض نے کہا کہ ، اولئک مبرون، یعنی پاک مرد اور پاک عورتیں اس تہمت سے بری ہیں۔ ممایقولون لھم مغفرۃ ورزق کریم۔ مغفرت سے مراد گناہوں سے درگزر کرنا اور رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ عنہا چند باتوں پر ناز کرتی تھیں جو آپ ہی کو عطا کی گئی تھیں کسی اور عورت کو نہیں دی گئیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ حضرت جبرائیل رسول اللہ کے پاس حضرت عائشہ کی تصویر ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر لائے اور کہایہ آپ کی بیوی ہیں۔ دوسرا یہ کہ حضرت عائشہ کے علاوہ آپ ﷺ نے کسی اور عورت کے ساتھ جو کنواری ہو شادی نہیں کی۔ تیسرا یہ کہ رسول اللہ کی وفات کے وقت آپ کا سرحضرت عائشہ کی گود میں تھا۔ چوتھا یہ کہ حضرت عائشہ کے حجرے میں رسول اللہ کا جسد مبارک دفن کیا گیا۔ پانچواں یہ کہ جب رسول اللہ حضرت عائشہ کے ساتھ ایک چادر میں ہوتے تو وحی آجاتی۔ یہ شرف کسی اور بیوی کو حاصل نہیں۔ چھٹا یہ کہ حضرت عائشہ عنہا کی پاک دامنی صراحت آسمان سے نازل ہوئی۔ ساتواں یہ کہ آپ کے خلیفہ کی صاحبزادی ہیں۔ آٹھواں یہ کہ آپ صدیقہ طاہرہ ہیں۔ نواں یہ کہ اپ سے مغفرت اور رزق کریم عطا فرمانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ مسروق حضرت عائشہ کی روایت سے کوئی حدیث بیان کرتے تو یہ الفا ظ کہتے تھے مجھ سے بیان کیا۔ صدیق کی صاحبزادی صدیقہ نے جو رسول اللہ کی چہیتی بیوی تھیں اور جن کی پاک دامنی آسمان سے نازل کی گئی تھی۔
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

مومنو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ) شاید تم یاد رکھو

تفسیر۔ 27۔ یا ایھا الذین آمنوا لاتدخلوا بیوتا، ،، ،۔۔ حتی تستانوا، کامرادی معنی ہے اجازت حاصل کرنا۔ ابن عباس نے تستاذنوا پڑھا ہے اور کہتے ہیں کہ تساتنسوا، کاتب سے غلطی سے لکھا گیا ہے اسی طرح ابی بن کعب نے بھی پڑھا ہے۔ معروف قرات، تستانسوا ہے۔ بمعنی استیذان ، اور بعض نے کہا کہ کہ الااستئاس کا معنی ہے انس طلب کرنا اور وہ یہ کہ دیکھاجائے گھر میں کوئی موجود ہو تو اس میں اجازت لے کر داخل ہوجائے۔ ” خلیل کا قول ہے کہ استئاس کا معنی ہے اس کودیکھنا۔ انست نارا، میں نے آگ دیکھ پائی ، ہے طلب اذن کو استس اس کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا کہ طلب گار اجازت کے دل میں ایک طرح کی وحشت ہوتی ہے۔ اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ شاید داخلے کی اجازت نہ ملے۔ جب داخلے کی اجازت مل جاتی ہے تو اس کی وحشت دور ہوجاتی ہے۔ طلب گار اجازت طالب علم بھی ہوسکتا ہے اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ داخلے کی اجازت مل جاتی ہے ا س کو علم ہوجاتا ہے ۔ بعض نے کہا کہ استئاس کا معنی ہے آدمی دروازے کے باہر کھڑا ہوکر سبحان اللہ ، الحمدللہ، اور اللہ اکبر کہے اور کھنکارے تاکہ اطلاع ملنے پر اہل خانہ اجازت دے دیں۔ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینی چاہیے۔ اس آیت کا حکم یہ ہے کہ کوئی بھی دوسرے کے گھر میں داخل ہوتوسلام کرکے داخل ہویا اجازت لے کر داخل ہو۔ اس بارے میں اختلاف ہے اجازت پہلے لے یاسلام پہلے کرے۔ اس بارے مٰں آئمہ کا اختلاف ہے بعض حضرت کا قول ہے کہ پہلے اجازت طلب کرے اور یہ کہ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں۔ آپ پر سلام ہو۔ حتی تستانسوا، وتسلمواعلی اھلھا۔ اکثر علماء کے نزدیک سلام پہلے کیا جائے اور کہے سلام علیکم، ا ادخل، اور کہتے ہیں کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اس کی تقدیری عبارت یوں ہے کہ ، حتی تسلموا علی اھلھا وتستاذنوا، اسی طرح عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں ہے ، حضرت کلدہ بن حنبل کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا نہ اجازت داخلہ مانگی نہ سلام کیا۔ حضور نے فرمایا واپس جاؤ، اور واپس جاکر کہو السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں۔ ایک شخص نے حضرت ابن عمر سے داخلہ کی اجازت طلب کی اور کہا، میں اندر آسکتا ہوں۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا نہیں، ایک شخص نے آنے والے کو مشورہ دیا کہ پہلے سلام کر پھر اجازت داخلہ طلب کر، حسب مشورہ اس نے سلام کیا پھر اجازت طلب کی حضرت ابن عمر نے اجازت دیدی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آنے والے کی نظر کسی آدمی پر پڑجائے تو پہلے سلام کرے اور کوئی نظر نہ آئے تو طلب اجازت پہلے کرے۔ پھر سلام کرے ۔ حضرت ابوموسی ، حضرت حذیفہ اپنی محرم عورتوں کے پاس آناچاہتے تو ان سے بھی اجازت طلب کرتے حسن کا بیان ہے کہ اگر ایک ہی گھر ہو تو وہ کھنکارے اور تھوڑی سی حرکت کرلے تاکہ اس کی آہٹ سے دوسرے گھروالوں کو پتہ چل جائے۔ حضرت ابوسعید خدری کا بیان ہے کہ میرے پاس ابوموسی اشعری آئے اور کہا کہ مجھے حضرت عمر نے آدمی بھیج کربلوایا، میں طلب کرنے پر حضر ت عمر کے دروازے پر پہنچا اور تین بار سلام کیا لیکن حضرت عمر نے سلام کا جواب نہیں دیامیں لوٹ آیا، پھر جب میری ملاقات حضر تعمر سے ہوئی تو حضرت عمر نے مجھ سے جواب طلب کیا کیا تم کیوں نہیں آئے، میں نے عرض کیا میں توآیا تھا اور تین مرتبہ سلام بھی کیا تھا، لیکن سلام کا جواب نہیں آیا، تو میں واپس لوٹ گیا، کیونکہ آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا اگر تم سے کوئی تین مرتبہ داخلہ کی اجازت طلب کرے اور اس کو اجازت نہ ملے توا س کو لوٹ جانا چاہیے۔ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا کہ تم اس بات پر گواہی دو ۔ حضرت ابوسعید خدری نے فرمایا میں اٹھ کھڑا ہوا اور انکے ساتھ جاکر حضرت عمر کے سامنے شہادت دے دی۔ بشر بن سعید حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ اس میں فرمایا کہ ابوموسی اشعری نے فرمایا کہ رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین مرتبہ اجازت لے لے اور اس کو اجازت نہ ملے اس کو چاہیے کہ وہ لوٹ جائے۔ حسن نے کہا کہ پہلی مرتبہ اطلاع آمد ہے۔ دوسری مرتبہ سلام کرنا و اجازت طلب کرنا مرا د ہے اور تیسری مرتبہ واپسی کے لیے اجازت طلب کی ہے۔
Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو یہ تمہارے لئے پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام تم کرتے ہو خدا سب جانتا ہے

28۔ فان لم تجدوا فیھا احدا فلاتدخلوھا، اگر تم میں سے کوئی بھی گھر میں موجود نہ ہو تو اس میں داخل ہونے لیے اجازت طلب کرے۔ اگر اجازت نہ ملے تو اس میں داخل نہ ہو۔ حتی یوذن لکم وان قیل لکم ارجعوا فارجعوا، ، جب کوئی گھر میں موجود ہو تو اگر وہ کہیں کہ واپس لوٹ جاؤ تو واپس لوٹ جانا چاہیے، دروازے پر بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ ھو ازکی لکم، وہیں سے واپس لوٹ جانا بہتر ہے اور تمہارے لیے فائدہ مند ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اگر گھر میں داخلے کی اجازت نہ ملے تو گھر کے دروازے پر بیٹھ جانا نہیں چاہیے، کیونکہ گھرکے دروازوں پر عام طور پر حاجت مند لوگ بیٹھتے ہیں ۔ ہاں اگر کوئی میں موجود نہ ہو تو پھر اس کے انتظار میں بیٹھ جانا جائز ہے۔ حضرتابن عباس ؓ انصار کے دروازے پر احادیث کے حصول کے لیے آیا کرتے تھے ۔ اور انصاری کے دروازے میں ان کے انتظار میں بیٹھ جایا کرتے تھے داخل ہونے کی اجازت طلب نہ کرتے۔ انصاری فرماتے، اے رسول اللہ، کے چچا کے بیٹے۔ آپ نے مجھے اطلاع دے دی ہوتی، حضرت ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ ہم کو اسی طرح طلب علم کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت سہل بن سعد ساعی سے روایت ہے کہ ایک بار ایک شخص نے حجرے کے پردے سے رسول اللہ کو اندر جھانک کر دیکھا تو اس وقت رسول اللہ کے ہاتھ میں کوئی نوک دار لوہے کی چیز تھی، حضور نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے میں اس کی آنکھ میں چبھودیتا طلب اجازت کا حکم توفقط نہ دیکھنے کے لیے ہی دیا گیا ہے۔ حضر ت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تم کو جھانک کر دیکھے اور تم کو کنکری اس کو پھینک مارو اور کنکری سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تمہارا کوئی جرم نہیں۔ واللہ بماتعملون علیم۔ اجازت کے ساتھ داخل ہونا اور بغیر اجازت کے دخول ہونا۔ جب آیت استیذان نازل ہوئی توحضر ت ابوبکر کہنے لگے کہ وہ گھر کیسے ہوں گے ۔ قریش کے تاجر جو مکہ و مدینہ اور شام کے درمیان آتے جاتے ہیں۔ سردارن قریش وم کہ کے اترنے کے مقام مقرر ہوتے ہیں جنکے اندر کوئی رہتا نہیں۔ وہاں کسی سے اجازت داخلہ مانگیں گے اور کسی کو سلام کریں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔