25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ (خدائے عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے

تفسیر۔ 1۔ تبارک۔ باب تفاعل سے ماضی کا صیغہ ہے برکت س ہے اس کا معنی ہے کثرت خیر یعنی اس کی خیرکثیر ہے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ ہر خیر اس کی طرف سے آئی ہے اس کی دلیل حضرت حسن (رح) کا قول ہے کہ برکت اسی کی طرف سے آئی ہے۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ کیا ہے بڑی عظمت والا ہے۔ الذی نزل الفرقان ، اس سے مراد قرآن ہے علی عبدہ ، اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ، لیکون للعالمین نذیرا، ، عالمین سے مراد ہیں جنات اور انسان، بعض نے کہا کہ نذیر سے مراد قرآن ہے بعض نے کہا محمد ﷺ ہیں۔
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہی کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا

2۔ الذی لہ ملک السماوات والارض ولم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک وخلق کل شی، ،، جس پر مخلوق کی صفت کا اطلاق ہوتا ہے ، فقدرہ تقدیرا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔ پھر اس کی ایجاد میں ایک قدر خاص کا لحاظ رکھا تاکہ تفاوت نہ ہونے پائے بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ نے ہرچیز کے لیے مدت زندگی اور عمل اور رزق پہلے سے ہی مقرر کردیا، یہ تینوں اشیاء تخلیق کے مطابق ہوتی ہیں۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا

تفسیر۔ 3۔ واتخذوا ، وہ بت جو کفار مکہ نے بنارکھے ہیں اور جن کی وہ عبادت کرتے ہیں۔ من دونہ، آلھۃ، ، اس سے مراد بت ہیں ، لایخلقون شیا وھم یخلقون، ،، ، یہ ضرر کو دور نہیں کرسکتے اور نہ ہی نفع دے سکتے ہیں۔ ولایملکون موتاولاحیاۃ، نہ وہ مردہ ہیں اور نہ ہی وہ زندہ ہیں۔ ولا نشوزا، ، اور نہ ہی ان کو قیامت کے دن دوسرے انسانوں کی طرح زندہ کرکے اٹھایاجائے گا۔
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہیں جو اس (مدعی رسالت) نے بنا لی ہیں اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے ہیں

4۔ وقال الذین کفروا، ، اس سے مراد مشرکین نضر بن حارث اور اس کے ساتھی ہیں۔ ان ھذا، یعنی یہ قرآن ، الاافک، ،(نعوذ بااللہ) جھوت ہے۔ افترائ، حضرت محمد نے اپنی طرف سے بنایا ۔ واعانہ علیہ قوم آخرون، امام مجاہد کے نزدیک اس سے یہود مراد ہیں ۔ حسن کے نزدیک عبید بن خضر حبشی کاہن ہے۔ بعض نے کہا کہ جبر ویسار اور عداس بن عبید ہیں۔ یہ اہل کتاب میں سے تھے جو مکہ میں رہائش پذیر تھے اور مشرکین کا دعوی یہ تھا کہ محمد ان سے لے کر یہ کلام بناتے ہیں۔ اس پر اللہ نے ارشاد فرمایا، فقدجاوا یہ کہنے والے کا قول ، ظلماوزورا، یہ ظلم اور جھوٹ ہے۔ باء کے حذف ہونے کے ساتھ منصوب ہے۔ ان لوگوں نے شرک اور جھوٹ کو لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کی۔
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں

5۔ وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا، ، نضر بن حارث کہا کرتا تھا، کہ یہ قران اللہ کی طرف سے نہیں ہے یہ توگزرے ہوئے لوگوں کی بنائی ہوئی کہانیاں ہیں۔ رستم اور اسفند یار کے قصے۔ اس کو محمد نے جبر ویسار اور عداس سے لکھوائے ہیں۔ یہاں اکتب کا معنی ہے طلب کرنا، یعنی وہ لکھا ہوا ان سے طلب کرتا تھا، کیونکہ یہ خود نہیں لکھ سکتے تھے ۔ فھی تملی علیہ، ان کے سامنے ان کو پڑھ کر سنائی جاتی تاکہ ان کو یاد ہوجائے ۔ بکرۃ واصیلا، صبح وشام اللہ ان کی تردید میں فرماتے ہیں۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس نے اس کو اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

6۔ قل انزلہ ، یہ قرآن آسمانی خدا نے اتارا ہے۔ الذی یعلم السر، جو غیب کو جانتا ہے ، فی السماوات والارض انہ کان غفورارحیما۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس پر کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ کہ اسکے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا ؟

7۔ وقالوا مال ھذا الرسول، ، اس سے مراد محمد ﷺ ہیں ، یا کل اطعام، جیسا کہ ہم سب کھاتے ہیں ، ویمشی فی الاسواق، اور وہ معاش تلاش کرتے ہیں اور چلتا ہے جیسے ہم چلتے ہیں اس کی امتیاز نبوت کے باعث ایسا کام نہ کرنے والا ہو۔ یعنی یہ رسول ہوتاتودوسرے انسانون سے کوئی امتیازی حیثیت ہوتی ، کافر کہتے تھے کہ تم فرشتہ نہیں ہو، فرشتہ کھاتاپیتا نہیں اور تم کھاتے پیتے ہو اور تم بادشاہ بھی نہیں ہو، اور بادشاہ بازاروں میں نہیں گھومتا پھرتا اور تم گھومتے پھرتے ہو۔ یہ سب صفات اپ کی ہیں لیکن یہ تمام صفات نبوی کے منافی نہیں، لولاانزل الیک ملک، پھرس کی تصدیق کرتے۔ فیکون معہ نذیرا، جو فرشتہ اس کے ساتھ رہ کرڈراتا۔
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں سے کھایا کرتا اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو

8۔ اویلقی الیہ کنز، ، اور اس پر آسمان سے کوئی خزانہ نازل ہوتا تو یہ خرچ کرتا کسی تردد کا محتاج نہ ہوتا اور طلب معاش میں اس کو خرچ کرتا۔ ” او تکون لہ جنۃ ، اس کے پاس کچھ باغات ہوں۔ یا کل منھا، حمزہ اور کسائی نے ناکل، نون کے ساتھ پڑھا ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ اس باغ سے کھاتے۔ وقال الظالمون ان تتبعون الارجلامسحورا، ، اس سے مراد فریب خوردہ ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ حق سے پھرنے والا۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور راستہ نہیں پاسکتے

9۔ انظر، اے محمد ! دیکھیے کیف ضربوالک الامثال، اس سے مراد اشباہ ہے یعنی انہوں نے آپ کو جھوٹے افتراء پردازوں اور بے ہودہ قصوں بیان کرنے والوں کی طرح قرار دے رکھا ہے اور بعض نے کہا کہ مسحور محتاج ہے۔ فضلوا، یہ دیکھ کر وہ حق سے گمراہ ہوگئے۔ فلایستطیعون سبیلا، ، گمراہی سے ہدایت کی طرف کوئی مخرج نہیں۔
Ayahs 25:10–11

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں نیز تمہارے لئے محل بنا دے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ تو قیامت کو ہی جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے

تفسیر۔ 10۔ تبارک الذی ان شاء جعل لک خیرامن ذالک، ، خزانوں اور باغوں سے بہتر نعمتیں دنیامیں ہی دے دیتا۔ عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کرتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو اس سے یعنی بازاروں میں گھومنے اور معاش کی تلاشی میں پھرنے سے بہتر عنایت کردے پھر آگے خیرکوبیان کیا اور فرمایا، جنات تجری من تحتھا الانھار، ویجعل لک قصورا، مضبوط مکان، عرب کے نزدیک ہر مضبوط مکان کو قصر کہتے ہیں۔ ابن کثیر ، ابن عامر اور عاصم نے بروایت ابوبکر، یجعل ، لام پر پیش پڑھا ہے دوسرے قراء نے جزم پڑھا ہے کیونکہ یہ جزاء کی جگہ واقع ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے، ان شاء جعل لک، ، حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے وادی مکہ کو میرے لیے سونابنادینے کی مجھ سے پیش کش کی میں نے عرض کیا نہیں میرے رب ، میں تو ایک دن شکم سیر ہوکر رہناچاہتا ہوں اور ایک دن بھوکا رہناچاہتاہوں تاکہ جب میں بھوکارہوں تو تیرے سامنے زاری کروں اور جب شکم سیر ہوں تو تیری تعریف اور شکر کروں۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اگر میں چاہتا تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلتے ایک فرشتہ جس کی کمر کعبے کے برابر تھی میرے پاس آیا اور اس نے کہا آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو نبی بندہ ہیں رہیں اور اگر چاہیں تو نبی بادشاہ ہوجائیں۔ میں نے جبرائیل کی طرف دیکھا جبرائیل نے اشارہ کیا کہ اپنے آپ کونچلارکھو، میں نے کہہ دیا کہ میں نبی اور بندہ رہناچاہتا ہوں۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ آپ نے حضرت جبرائیل کی طرف مشورہ دینے والے کی طرح دیکھا، حضرت جبرائیل نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ آپ تواضع کو اختیار کریں تو میں نے کہا کہ نبی اور بندہ رہناچاہتا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد آپ کو تکیہ لگائے کھانا نہیں کھاتے تھے اور فرماتے تھے میں غلاموں کی طرح کھاتا ہوں اور غلاموں کی طرح بیٹھتا ہوں۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اسکے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے

تفسیر۔ 12۔ اذاراتھم من مکان بعید،۔ کلبی کا قول ہے کہ اس سے مراد ایک سال کی راہ اور بعض کے نزدی سو سال کی راہ اور بعض نے کہا پانچ سو سال کی مسافت۔ اور ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا مجھ پر کوئی شخص جھوت کی بات کی نسبت نہ کرے اور جو ایسا کرے گا تو اس کو اپنی جگہ آگ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بنالینی چاہیے، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ آگ کی بھی آنکھیں ہوں گی، حضور نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے فرمایا، اذاراتھم من مکان بعید، اور بعض نے کہا کہ جہنم کے داروغوں کو جب دیکھیں گے ، سمعوالھا تغیظا، جوش مارنے کی آواز جو غضبناک آدمی کی غصیلی آواز کی طرح ہو۔ وزفیرا، ایک آواز، تغیظ کی آواز کیسے سنائی دی جاتی ہے۔ اس کا جواب دیا گیا کہ جب تم اس کو دیکھ لوگے اور تم جان لوگ گے کہ یہ فلاں غصہ میں ہے اور اس سے ایک آواز سنو گے بعض نے کہا کہ لہو ولعب کے وقت جب انسان کے سینے سے آواز نکلتی ہے عبید بن عمیر کا قول ہے کہ قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایاجائے گا تو کوئی مقرب فرشتہ یانبی نہیں ہوگا، جو اللہ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو۔
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

13۔ واذا القوا منھامکانا ضیقا، ، ابن عباس کا قول ہے کہ ان کو تنگ مقام میں جکڑکرڈالاجائے گا، اور نیزوں سے ماراجائے گا، مقرنین، گردن سے ہاتھ بندھے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے ہوں گے۔ بعض حضرات نے کہا کہ شیطانوں کے ساتھ ساتھ باندھے گئے شیطانوں کی جٹ میں بندھے ہوئے۔ دعواھنالک ثبورا، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد ہلاکت ہے۔ ضحاک کا بھی یہی قول ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن آگ کالباس سب سے پہلے جس کو پہنایاجائے گا وہ ابلیس ہے۔ وہ اس لباس کو اپنی دونوں بھنوؤں پرکھ کر کھینچے گا، اور یاثبوراہ پکارے گا، اس کی ذریت اس کے پیچھے یاثبور پکارتی ہوگی، آخر سب دوزخ میں جاکر ٹھہریں گے اس وقت ان سے کہاجائے گا۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

14۔ لاتدعوالیوم ثبورا واحداوادعوا ثبوراکثیرہ، ان کی ہلاکت بہت دفعہ ہوگی، خواہ وہ ایک دفعہ پکاریں یا کئی بار پکاریں ان کو نوبنوعذاب میں مبتلا کیا جائے گا، یا اس کا معنی ہے ان کی ہلاکت میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے ؟ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانا ہوگا

15۔ قل اذالک ، کیا یہ دوزخ جس کی حالت مذکورہ عبارت میں بیان کی گئی ہے جنت اور دوزخ کی اور ان کے اہل والوں کی ، خیرام جنۃ الخلد التی وعدالمتقون کانت لھم جزائ، ، جزاء بمعنی ثواب کے ہے۔ ومصیرا، اور اس کامرجع لوٹنے کی جگہ۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے

16۔ لھم فیھا مایشاون خالدین کان علی ربک وعدامسئولا، ، اس سے مراد مطلوب ہے جب مومنین اپنے رب سے دنیا میں اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ ربنا، واتنا ماوعدتنا علی رسلک ، اے ہمارے رب ہم کو وہ جنت عطا فرماجس کا وعدہ اپنے پیغمبروں کی زبانی ہم سے کیا ہے تو ان کو کہاجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ہمیشہ والی جنت میں رہنے کا وعدہ کیا، ان کی دنیا میں طاعت کی وجہ سے اور اس سے سوال کرنے سے ، محمد بن کعب قرظی نے کہا فرشتے ایفاء عہد کی اس سے درخواست کریں گے اور کہیں گے ، ربناوادخلھم جنات عدن التی وعدتھم۔
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن (خدا) ان کو اور ان کو جن ہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے ؟

17۔ ویوم یحشرھم، ابن کثیر، ابوجعفر، یعقوب، حفص ، نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ ، پڑھا ہے۔ ومایعبدون من دون اللہ، مجاہد کا قول ہے کہ اس جگہ ملائکہ جنات، حضرت عیسیٰ ، اور حضرت عزیر (علیہما السلام) مراد ہیں عکرمہ ضحاک کلبی کے نزدیک صرف اصنام مراد ہیں۔ فیقول، ، ابن عامر نے نون کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ء انتم اضللتھم عبادی ھولاء ام ھم ضلوالسبیل۔ وہ راہ حق کا راستہ کھوبیٹھے تھے۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایاں نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کی نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے

تفسیر۔ 18۔ قالواسبحانک، ، اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ ان کے ساتھ کوئی اور الہ ہو۔ ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیائ، ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تمہارے دشمن کو ہم اپناولی بنادیں اور بعض نے کہا کہ ہم کیونکر کسی دوسرے معبود کی عبادت کرنے کا حکم دیں حالانکہ ہم خود تیری عبادت کرتے ہیں ، ابوجعفر نے ، ان نتخذ، نون کے ضمہ کے اور خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں دوسرامن صلہ ہوگا، ولکن متعتھم وآباء ھم، دنیا میں لمبی عمر صحت اور نعمت کے ساتھ تمہیں فائدہ دیا۔ حتی نسوالذکر، پھر انہوں نے نصیحت کو ترک کردیا، اور قرآن پر ایمان لانے کو چھوڑ دیا، بعض نے کہا کہ وہ تمہارے ذکر سے غافل ہوگئے۔ وکانواقومابورا، ، وہ ہلاک ہوگئے ان کے اوپر بدبختی غالب آجانے کی وجہ سے۔ بورامصدر ہے واحد پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور جمع پر بھی۔ بعض کے نزدیک بورابائر کی جعم ہے۔ یہ واحد جمع مذکر، مونث سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات سے جھٹلا دیا پس (اب) تم (عذاب) نہ پھیر سکتے ہو (کسی سے) مدد لے سکتے ہو اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم کو اس کو بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

19۔ فقد کذبوکم ، یہ مشرکین کو خطاب ہے یہ تمہارے معبود ہی قیامت کے دن تمہیں جھٹلائیں گے ، بماتقولون ، کہ وہ معبود ہیں ، فماتستطیعون، حفص نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس سے مراد عابدین ہیں اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد الہ ہیں۔ صرفا، ، عذاب کو اپنے اوپر سے دور کریں گے۔ ولانصرا، ، اور اپنے نفسوں کی مدد نہیں کرسکیں گے بعض نے کہا کہ یہ معبودین باطلہ تمہارے اوپر سے عذاب کو ٹالنے والے نہیں ہیں۔ بعض نے کہا کہ صرف کا معنی حیلہ ہے، اسی سے عرب کا قول ہے، فلان یتصرف، فلاں شخص کچھ حیلہ کرے گا، مطلب یہ کہ اب تم نہ کوئی حیلہ کرسکتے ہو نہ مدد، ومن یظلم ، کون ہے جو شرک جیسا ظلم کرتا ہے ، منکم نذقہ عذاباکبیرا۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے کیا تم صبر کرو گے ؟ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے

20۔ وماارسلناقبلک من المرسلین، ، اے محمد ﷺ ، الاانھم لیاکلون الطعام، ضحاک نیابن عباس ؓ عنہماکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب مشرکوں نے رسول اللہ پر مفلس اور نادار ہونے کا طنز کیا اور کہا، مالھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق، ، تو آپ کو اس پر رنج ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، ویمشون فی الاسواق، بعض نے اس آیت کا یہ مطلب بیا ن کیا کہ ہم نے آپ سے پہلے بھی جتنے انبیاء کرام دنیا پر بھیجے ان کو بھی اسی طرح کہا گیا جیسے آپ کو کہاجارہا ہے۔ حالانکہ وہ بھی زمین پرچلتے بازار میں جاتے اور کھانا کھاتے تھے۔ وجعلنابعضکم لبعض فتنہ، مالدار کو نادار کے لیے مصیبت بنادیا۔ فقیر کہتا ہے کہ میں اس مالدار کی طرح کیوں نہیں ہواتندرست بیمار کے لیے مصیبت ہے اور شریف رذیل کے لیے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنادیا ہے تاکہ جو لوگ تمہارے مخالف ہیں اور تمہاری مخالفت میں باتین کرتے ہیں اور تم ان کی باتوں کو سنتے اور ان کی مخالفتوں کو دیکھتے ہو تو تم ان کی اس اذیت رسانی پر صبر کرو اور اپنے سیدھے راستے پر چلتے رہو۔ بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت کا نزول ابتلاء ہے کہ شریف ، رذیل کو دیکھ کر شکرادا کرتا ہے اور بسا اوقات اگر شریف آدمی اور اعلی طبقہ کا شخص اسلام لاناچاہتا اور اس سے پہلے کوئی زیریں طبقے کا شخص مسلمان ہوجاتا تو اس اونچے طبقے والے کو خیال ہوتا کہ اب اگر میں مسلمان ہواتو اس رذیل شخص کو مجھ پر برترحاصل ہوگی اور مجھے اس کے پیچھے رہنا پڑے گا، یہ سوچ کر وہ اپنا ارادہ بدل دیتا، اور کفرپر ہی ڈٹارہتا، بعض کے بعض کے لیے آزمائش ہونے کا یہی مطلب ہے یہ بھی کلبی کا قول ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول، ابوجہل، ولید بن عقبہ، عاص بن وائل ، نضر بن حارث، کے حق میں ہوا تھا، انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابوذر، حضرت ابن مسعود، حضرت عمار، حضرت بلال، حضرت صہیب، اور حضرت عامر بن فہیرہ، مسلمان ہوچکے ہیں کہنے لگے اب اگر ہم مسلمان ہوئے تو ان کے برابر ہوناپڑے گا۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول فقراء مومنین کے بارے میں ہوا، جن کے ساتھ قریش کے مشرکین مذاق اڑایا کرتے تھے وہ یہ کہتے تھے کہ ذرامحمد کے ساتھیوں کو دیکھو جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا ہے وہ تو ہمارے غلام ہیں ، غریب طبقے کے لوگ ہیں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو خطاب کرکے فرمایا، اتصبرون، فقر وشدت بھوک اور ان کی اذیتوں پر صبر کریں۔ وکان ربک بصیرا، جو شخص ان مصائب پر صبر کرے اور جو جزع فزع کرے ان سب کو دیکھنے والا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں کوئی مالدار اور جسم کے لحاظ سے اپنے سے اونچے کو دیکھتے تو اپنے سے کمزور والے کو بھی دیکھے تاکہ اس سے وہ شکرادا کرسکے۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کیے گئے یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہیں

تفسیر۔ 21۔ وقال الذین لایرجون لقاء نا، وہ قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھنے سے نہیں ڈرتے ، فراء کا قول ہے کہ یہاں رجاء امید اور خوف دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے ، تہامہ کی لغت میں، مالک مالاترجون للہ وقارا، تم اللہ کی عظمت سے کیوں نہیں ڈرتے، لولاانزل علینا الملائکۃ ، تو وہ تمہیں بتلاتے کہ محمد سچے ہیں۔ لونری ربنا، وہ اپنے رب کو خود دیکھتے اور وہ ان کو خبر دیتا۔ لقداستکبروا ، وہ اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ فی انفسھم، اس بات میں ، وعتوعتوا کبیرا۔ مجاہد کا قول ہے کہ عوتوا یعنی انتہائی سرکش ہوگئے۔ عتو کا معنی شدید ترین کفر اور بہت ہی بڑا ظلم ، عتوا کبیرا، سے مراد ہے کہ وہ انتہاء کو پہنچ گئے یہاں تک کہ خدا کو دیکھنے کے طلب گار ہوگئے۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لیے (اور) بند کردیے جاؤ

22۔ یوم یرون الملائکۃ، یعنی مرنے کے وقت بعض نے کہا کہ قیامت کے دن جب کافر ملائکہ کو دیکھیں گے ؟ بشری یومئذ للمجرمین، سے مراد کافر ہیں۔ قیامت کے دن ملائکہ مومنین کو خوش خبری دیں گے اور کفار سے کہیں گے کہ تمہارے لیے کوئی خوش خبری نہیں ۔ اسی طرح عطیہ کا قول ہے کہ بعض حضرات کا قول ہے کہ قیامت کے دن مجرمین کے لیے کوئی خوش خبری نہیں ہوگی۔ ان کے لیے جنت کی کوئی خوش خبری نہیں ہوگی۔ جیسا کہ مومنین کی خوش خبری دی جائے گی جنت کی۔ ویقولون حجرامحجورا، عطاء نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ فرشتے کہیں گے حرام ہے حرام کردیا گیا ہے کہ جنت میں سوائے ان لوگوں کے جو لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ کے قائل تھے کوئی اور داخل ہو۔ مقاتل کا قول ہے کہ جب کافروں کو قبروں سے نکالاجائے گا تو اس وقت ملائکہ کہیں گے حرام ہے تمہارے لیے جنت حرام کردی گئی ہے ۔ بعض علماء نے کہاجب مجرموں کو قبروں سے نکالاجائے گا، اور وہ ملائکہ کو دیکھیں گے تومجرم خود ہی الفاظ کہیں گے۔ ابن جریج کا قول ہے کہ عربوں پر جب کوئی مصیبت آتی ہے اور ناخوش گوار امر میں مبتلا ہوتے ہیں تو، حجرمحجورا، کہتے ہیں چناچہ مجرم فرشتوں خودیکھنے کے بعد یہ الفاظ کہیں گے۔ مجاہد کا قول ہے کہ جب کافر ملائکہ کو دیکھیں گے تو اس روز فرشتوں سے اللہ کی پناہ مانگیں گے ، اور حجرمحجورا، کہیں گے یعنی اللہ سے درخواست کریں گے کہ فرشتوں سے ان کو بچالے۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو انکو اڑتی خاک کردیں گے

23۔ وقدمنا، متوجہ ہوئے ، الی ماعملوا من عمل فجعلناہ ھباء منثورا، بےکار رائیگاں بنادیں گے اس پر کوئی ثواب نہیں دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ رب العزت کے لیے نہیں کیا، ھباء کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ حجرت علی نے فرمایا ھباء ان ذروں کو کہتے ہیں جو روشن دانوں کے شگافوں سے سورج کی روشنی پر غبار کی طرح نظر آتے ہیں مگر ہاتھ سے ان کو چھو نہیں سکتے اور نہ وہ سایہ میں نظر آتے ہیں۔ حسن، عکرمہ، اور مجاہد کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے پراگندہ جدا جدا۔ حضرتابن عباس ؓ عنہماقتادہ اور سعید بن جبیر نے فرمایا کہ ھباء اس دھول کو کہتے ہیں جس کو ہوا اڑاتی ہے اور بکھیرتی ہے۔ مقاتل نے کہا، ھباء منثورا ، وہ ذرات ہوتے ہیں جو روش دانوں کے سوراخوں سے سورج کی کرنوں پر نظر آتے ہیں اور ھباء منث وہ دھول ہوتی ہے جو گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھتی ہیں اور اس کو اڑاتی ہیں۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی عمدہ ہوگا

تفسیر۔ 24۔ اصحاب الجنۃ یومئذ خیرامستقرا، مشرکین ، متکبرین سے زیادہ وہ آرام میں ہوں گے ۔ واحسن مقیلا، ان کے آرام کی جگہیں آرام دہ ہوں گی ۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ ان الفاظ سے آیا ہے کہ قیامت کا دن آدھا نہ ہونے پائے گا، کہ اہل جنت جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں جاکرٹھہریں گے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی، ثم ان مرجعھم لاالی الجحیم، حضرت ابن مسعود کی قرات میں یہ آیت اسی طرح آئی ہے ازہری کا قول ہے قیلولہ اور مقیل نصف النہار کی استراحت کو کہتے ہیں اگرچہ اس کے ساتھ نیند نہ آئی ہو۔ واحسن مقیلا ، جنت میں نیند تو نہیں آئے گی۔ روایت میں آتا ہے کہ مومنوں کے لیے قیامت کا دن چھوٹا کردیاجائے گا، جیسے عصر سے غروب آفتاب تک ہوتا ہے۔
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے

25۔ ویوم تشقق السماء بالغمام، اس میں باء بمعنی عن کے ہے۔ جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ ، رمیت السھم بالقوس، میں نے کمان سے تیر پھینکا، تشقق، اصل میں تتشقق تھا، دوتاء تھیں۔ دونوں تاء کو ایک دوسرے میں ادغام کردیا۔ ابوعمرو، اہل کوفہ نے شین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور سو رہ ق میں ایک تاء کے حذف کے ساتھ ۔ دوسرے قراء نے تشدید کیس اتھ پڑھا ہے غمام ایک سفید اباریک بادل کی کہر کی طرح ہوگا، جو صرف بنی اسرائیل کے لیے وادی تیہ کے اندر اللہ نے نازل فرمایا تھا، ونتزل الملائکۃ تنزیلا۔ ابن کثیر نے ، ننزل دونون کے ساتھ پڑھا ہے اور لام کے رفع کے ساتھ الملائی کہ منصوب ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ قیامت کے دن اللہ ایک میدان میں ساری مخلوق کو جمع کرے گا، سب سے پہلے آسمان دنیا ٹوٹے گا، اور اس آسمان کے رہنے والے اتریں گے اور وہ زمین کے رہنے والے جنات و انسان سے زیادہ ہوں گے۔ پھر دورسرا آسمان پھٹے گا، اس کے رہنے والے اتریں گے وہ پہلے آسمان کی مخلوق سے زیادہ ہوں گے اور جنوں اور انسانوں سے بھی زیادہ ہوں گے یہاں تک کہ ساتواں آسمان بھی ٹوٹ پڑے گا، ہر آسمان والے گزرے ہوئے آسمان والے سے زیادہ ہوں پھر کریبون فرشتے نازل ہون پھر عرش کو اٹھانے والے۔
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا

26۔ الملک یومئذ ن الحق للرحمن۔ اس دن حقیقی حکومت رحمن کی ہوگی۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ قیامت کے دن اس کے سوا کسی کی ملکیت نہیں ہوگی جو فیصلہ کرے۔ وکان یوما علی الکافرین عسیرا، بمعنی بہت سخت یہ خطاب اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس دن مومن کے لیے کوئی تنگی نہیں ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے دن مومنین پر وہ اتنی دیر ہوگی جتنی کہ دنیا میں جو اخف ترین نماز پڑھی ہوگی اتنی دیر مشکل آئے گی۔
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا

ویوم یعض الظالم کی تفسیر۔ 27۔ ویوم یعض الظالم علی یدیہ، اس سے عقبہ بن ابی معیط کا ظلم مراد ہے۔ کہ جب وہ سفر سے واپس آتا تھا کھاناتیار کراتا اور اپنی قوم کے بڑے بڑے لوگوں کی دعوت کرتا تھا۔ یہ شخص رسول اللہ کے پاس زیادہ دیر بیٹھتا تھا، ایک روزسفر سے واپس ہوکرکھاناتیار کروایا لوگوں کو دعوت دی اور آپ کو بھی دعوت دی گئی آپ تشریف لے گئے۔ جب عقبہ نے کھانا لاکر آپ کے سامنے رکھا، آپ نے فرمایا میں اس وقت تک تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم لاالہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کی شہادت نہ دو گے۔ عقبہ نے کلمہ شہادت پڑھ لیا اور آپ نے اس کا کھانا کھالیا، عقبہ ابی بن خلف کادوست تھا ابی کو عقبہ کے کلمہ پڑھنے کی اطلاع معلی تو اس نے عقبہ سے کہا عقبہ تم بےدین ہوگئے ہو۔ عقبہ نے کہا خدا کی قسم میں تو بےدین نہیں ہوا۔ بات صرف یہ تھی کہ میرے گھر ایک آدمی آیا اور بغیر کلمہ پڑھوائے میراکھانا کھانے سے انکار کردیا، میری غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ وہ میرے گھر سے کھانا کھانے کے بغیرجائے۔ اس لیے میں نے شہادت دی اور اس نے کھانا کھالیا۔ ابی نے کہا میں اس وقت تم سے راضی نہیں ہوں گا، جب تک تم جاکر اس کے منہ پر تھوک نہ دو گے۔ عقبہ نے جاکرایسا ہی کیا۔ حضور نے فرمایا میں نے بھی اگر تجھے مکہ کے باہر پالیا تو تیرے سرپر تلوار ماروں گا، چناچہ بدر کے دن عقبہ مارا گیا، رہا ابی ، تو اس کے احد کے دن رسول اللہ نے اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ ضحاک کا قول ہے کہ جب عقبہ نے آپ کے چہرے پر تھوکا تو وہ تھوک واپس عقبہ کے چہرے پر آپڑا، جس سے اس کا چہرہ جل گیا، اور مرتے دم تک اس کے چہرے پر نشان رہا۔ شعبی کا بیان ہے کہ عقبہ بن ابی معیط امیہ بن خلف کادوست تھا۔ عقبہ مسلمان ہوگیا، امیہ نے کہا تونے محمد کی بیعت کرلی اس لیے میراچہرہ تیرے لیے اور تیرا چہرہ میرے لیے دیکھن احرام ہے۔ عقبہ نے اسلام کا انکار کردیا اور مرتد ہوگیا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ویوم یعض الظالم ، اس سے مراد عقبہ بن ابی معیط، بن عبدالشمس، بن مناف ہے ہاتھ کاٹنے سے مراد ندامت و افسوس کہ وہ دوست کہ جس نے اس کو اللہ کے راستہ سے روکا۔ اس نے اس کا کہامان لیا اور گناہ کفر کا ارتکاب کیا، اپنے آپ کو تباہ کردیا۔ عطاء کا قول ہے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کہنیوں تک کھاجائے گا، پھر ہاتھ اگ آئیں گے وہ حسرت و افسوس کرتے ہوئے ان کو پھر کھاجائے گا، اور یوں ہی ہاتھ اگتے رہیں گے اور وہ حسرت سے کھاتا رہے گا۔ ” یقول یالیتنی اتخذت ، دنیا میں ، مع الرسول سبیلا، کاش میں محمد کا اتباع کرلیتا، اور ان کی بیعت کرلیتا، اور ہدایت کا راستہ اختیار کرلیتا، ابوعمرو نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے یاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

28۔ یاولیتا لیتنی لم اتخذ فلاناخلیلا۔ اس سے مراد ابی بن خلف ہے۔
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے

29۔ لقد اضلنی عن الذکر، ذکر سے مراد اللہ کی یاد یاقران مجید سے گمراہ کردینا۔ بعداذجاءنی، یعنی وہ زکر جو رسول کے ساتھ آیا ہے۔ وکان الشیطان ، ہر وہ سرکش سرتاب، خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے ، راہ خدا سے روکنے والا شیطان ہے۔ للانسان خذولا، اس کو بےیارومددگار چھوڑنا ضرورت کے وقت مدد نہ کرنا۔ مطلب یہ کہ شیطان کسی کادوست نہیں ، اس آیت کا حکم عام ہے جو دودوست گناہ پر دوستی کو قائم رکھے ہوں ان کو آیت کا حکم شامل ہے۔ حضرت ابوموسی اشعری نے نبی کریم کی حدیث نقل کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ نیک اور بدہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کے پاس تومشک ہے اور دوسرا لوہار کی بٹی دھونک رہا ہے مشک اپنے پاس رکھنے والایاتوتم کو کچھ مشک مفت دے دے گایاتم اس کو خرید لوگے یا کم ازکم عمدہ خوشبو ہی تم کو مل جائے گی اور بھٹی دھونکنے والاتمہارے کپڑوں کو جلادے گایاکم ازکم اس کی طرف سے تم کو بدبو پہنچے گی۔ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا سوائے مومنین کے کسی کیساتھ نہ رہو اور سوائے پرہیزگاروں کے تمہارا کھانا اور کوئی نہ کھائے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا، آدمی اپنے دوست کے مسلک پر ہوتا ہے اس لیے اس کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

تفسیر۔ 30۔ وقال الرسول ، اس دن رسول کریم ارشاد فرمائیں گے ، یارب ان قومی اتخذوا القرآن مھجورا۔ اس قران کو چھوڑ دیا اور اس سے اعراض کرنے لگے ہیں نہ اس پر وہ ایمان لائے ہیں اور نہ ہی وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ وہ اسی کلام کو بےہودہ کہتے ہیں۔ اور بری بات کہتے ہیں وہ اس قرآن کو شعر اور جادوکہتے ہیں۔ یہ قول امام نخعی اور مجاہد کا قول ہے۔ بعض نے کہا کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ نے کہا، اے میرے رب، میری قوم نے اس قران کو متروک کردیا، اس پر اللہ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے

31۔ وکذالک جعلنا، جس طرح ہم نے مشرکین میں سے ہر پیغمبر کے دشمن بنادیے تھے اس طرح آپ بھی ویسے ہی صبر کریں۔ جیسا کہ گزشتہ پیغمبروں نے کیا، لکل نبی عدوامن المجرمین، اس سے مراد مشرکین ہیں۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ان کی باتوں سے تکلیف محسوس نہ کریں بلکہ ایسی تکالیف توماقبل انبیاء کو بھی آئیں۔ لہذا ہمارے حکم پر صبر کریں جیسا کہ پہلے انبیاء کرام نے صبر کیا تھا پھر ہم نے ان کی مدد کی اور ان کی قوموں کو ہدایت سے نوازا۔ وکفی بربک ھادیا ونصیرا۔
Ayahs 25:32–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اس طرح آہستہ آہستہ اس لئے اتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں اور اسی واسطے ہم اسکو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اسکا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں

32۔ وقال الذین کفروالولاانزل علیہ ، ،، جیسا کہ ہم نے توریت موسیٰ پر انجیل عیسیٰ پر زبور داؤد (علیہ السلام) پر اللہ نے ارشاد فرمایا، کذلک، اسی طرح ہم نے کیا، لنبث بہ فوداک، لیکن ہم نے اس کو متفرق طور پر نازل کیا تاکہ اس کی وجہ سے آپ کے دل کو تقویت اور جماؤ حاصل ہو اور آپ کو اس کے سجھنے اور یاد رکھنے میں دشواری ہ ہو۔ ماقبل انبیاء کرام پر جب کتاب نازل ہوتی تو وہ اس کو لکھتے اور پڑھتے تھے جب کہ اللہ نے قرآن ایسے نبی پر نازل فرمایا جو نہ لکھنا جانتا ہو اور نہ ہی پڑھنا جانتا ہے۔ تدریجا، اس لیے نازل فرمایا تاکہ اس کے ناسخ و منسوخ کا علم بھی ہوجائے۔ اور ہر آیت میں کسی کی بات کا جواب بھی ہوسکے جو سوال آپ سے پوچھا گیا ہوتا کہ اس میں سوال پوچھنے والے اور جواب دینے والے دونوں کے لیے آسانی والامعاملہ پیش آجائے۔ ورتلناہ ترتیلا۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے اس کا ترجمہ کیا ہے ہم نے قران کو واضح طور پر بیان کردیا۔ ترتیلا کی تفسیر۔ ترتیل کا معنی ہے ترسل یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا۔ سدی نے اس کا ترجمہ کیا ہے ہم نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے الگ الگ کردیا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم اس کے ایک حصہ کو دوسرے کے بعد لائے۔ امام نخعی اور حسن نے کہا کہ ہم نے اس کو جدا جدا ٹکروں میں بانٹ دیا ۔ ولایاتونک ، اے محمد یہ مشرکین آپ کے سامنے نہیں لاتے ۔ بمثل، وہ ایسی مثال جس سے آپ کی نبوت کو مجروح قرار دیتے ہیں اور آپ کے عمل کو باطل کرتے ہیں۔ الاجئناک بالحق، اور ہم آپ کو اس کا صحیح جواب دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مثال باطل ہوجاتی ہے جو لوگ کسی قسم کا شبہ پیدا کرتے ہیں اس کو مثل سے موسوم کیا اور اس شبہ کو دور کرنے کا نام حق دیا ہے۔ واحسن تفسیرا۔ تفسیر تفعیل کے وزن پر ہے۔ فسر کا معنی ہے ظاہر کردیناکسی ڈھکی ہوئی چیز کا پردہ ہٹادینا۔ پھر اس کے بعد مشرکین کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا۔
Ayahs 25:34–35

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ راستے بھی بہکے ہوئے ہیں

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا

تفسیر۔ 34۔ الذین وہ لوگ ، یحشرون علی وجوھھم، ان کو ہنکایا اور چلاجائے گا، الی جھنم ، اولئک شر مکانا، ان کی جگہ اور ٹھکانا اور بعض نے کہا کہ منزل اور رہنے کی جگہ ، واضل سبیلا۔ وہ سیدھاراستہ بھول گئے۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور کہا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی (جب تکذیب پر اڑے رہے) تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا

36۔ فقلنااذھبا، ، یعنی قبطی قوم کی طرف، فدمرناھم، یہاں پر اضمار ہے ۔ حضرت موسیٰ ہارون قوم کے پاس گئے دعوت دی لیکن ان دونوں کی انہوں نے تکذیب کی۔ تد میرا، پھر ہم نے اس قوم والوں کو ہلاک کردیا۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انھیں غرق کر ڈالا اور لوگوں کے لئے نشانی بنادیا اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

37۔ وقوم نوح لما، ،، اس سے مراد بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ اور جس نے ایک رسول کی تکذیب کی گویا اس نے سارے انبیاء کو جھٹلایا۔ اسی وجہ سے جمع کا لفظ ذکر کیا، اغرقنا ھم وجعلنا ھم للناس آیہ۔ اور اس کے بعد آنے والوں کے لیے ان کو عبرت کانشان بنادیا۔ واعتدنا للظالمین ، اور ہم نے ظالموں کے لیے آخرت میں شمار کرکے رکھا ہوا ہے۔ عذاب الیما، سوائے اس عذاب کے جو وہ جلدی طلب کرتے ہیں۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)

38۔ وعاداوثمود، اور ہم نے عاد وثمود کو ہلاک کردیا۔ واصحاب الرس، ان کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ اصحاب الرسول کی تفصیل۔ وہب بن منبہ کا قول ہے کہ وہ کنویں والے تھے اس کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ اور یہ جانور پالتے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے ان کی طر فاللہ نے حضرت شعیب کو بھیجا، انہوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی انہوں نے سرکشی اختیار کی اور دعوت قبول نہ کی حضرت شعیب کو یہ لوگ طرح طرح کی اذیتیں دیتے رہے تھے آخر ان سب کو ہلاک کردیا گیا، زمین سب کو کھاگئی کنویں کو بھی ان کو بھی اور ان کے گھروالوں کو بھی۔ والرس، ہر وہ کنواں جس کے اردگرد دیوار بنادی گئی ہوا سے رس کہتے ہیں۔ قتادہ اور کلبی کا بیان ہے کہ رس علاقہ یمامہ میں ایک کنواں تھا وہاں کے باشندے نے اپنے نبی کو شہید کردیا تھا، اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ بعض کا قول ہے کہ ثمود یعنی قوم صالح میں سے جو لوگ بچ گئے تھے اصحاب الرس وہی لوگ تھے یا اس کنویں ک پاس رہتے تھے جس کا ذکراللہ رب العزت نے ، وبئر معطلۃ وقصر مشید کیا ہے۔ سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ اصحاب الرس کا ایک پیغمبر تھا جس کا نام حنظلہ بن صفوان تھا، رس والوں نے اپنے پیغمبر کو شہید کردیا تھا اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ لوگ اللہ کی طرف سے ایک مصیبت میں مبتلاہوگئے تھے کعب مقاتل اور سدی کا بیان ہے کہ رس انطاکیہ میں ایک کنواں تھا لوگوں نے حبیب بن نجار کو قتل کیا اس کنویں میں ڈال دیا۔ اس کا تذکرہ آگے سورة یاسین میں آئے گا، بعض حضرات نے کہا کہ اصحاب الرس ہی اصحاب الاخدود تھے۔ انہوں نے ایک خندق کھودی تھی۔ عکرمہ کا قول ہے کہ اصحاب الرس نے اپنے نبی کو کنویں میں پاٹ دیا تھا، یعنی دفن کردیا تھا، بعض نے کہا اس معدن کو کہتے ہیں کہ رس کی جمع رس اس آتی ہے۔ وقرونا بین ذالک کثیرا، یعنی ہم نے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، عاد اور اصحاب الرس کے درمیان۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا

39۔ وکلاضربنا لہ الامثال، ان جیسی مشابہ چیزیں تاکہ ان پر کوئی حجت تام ہوجائے ہم کسی کو بھی ہلاک نہیں کرتے مگر ڈرانے کے بعد۔ وکلاتبرتتبیرا۔ یعنی ہم ان کو ہلاک کریں گے ہلاک کرنا۔ اخفش نے ، تبرنا ، کا ترجمہ کیا ہے ہم نے ان کو توڑ دیا زجاج نے کہا کہ کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کو تتبیر کہتے ہیں۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح مینہ برسایا گیا تھا کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہونگے ؟ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اٹھنے کی امید ہی نہیں تھی

40۔ ولقد اتوا علی القریۃ ، ،، مطرالسوء ، سے مراد پتھروں کی بارش ہے اور یہ بارش قوم لوط پر برسی۔ اس کی پانچ بستیاں تھیں۔ اللہ نے چار بستیوں کو ہلاک کرڈالا، اور ایک بستی بچ گئی۔ یہ چھوٹی سی بستی تھی اور یہ قوم لوط والابرا عمل نہیں کرتے تھے۔ افلم یکونوا یرونھا، جب یہ لوگ سفر کرتے ہیں اور اس بستی کے پاس سے گزرتے ہیں تو اس پر غور و فکر کرکے عبرت نہیں پکڑتے۔ کیونکہ شہر مدین مدینہ سے شام جانے والوں کے راستے کے درمیان میں آتا تھا، بل کانو لایرجون، وہ اس سے نہیں ڈرتے ۔ نشورا دوبارہ جی اٹھنے کی امید نہیں ہوتی۔