26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 26:1
تفسیر۔ 1۔ طسم، حمزہ کسائی، ابوبکر ، طسم، اور طس، حم، یس، طائ، یائ، حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ اہل مدینہ نے فتحہ اور کسرہ کے درمیان پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے تفخیم کے ساتھ فتحہ پڑھا ہے۔ اور طسم ، میں طسین نون کو بھی ظاہر کرتے ہیں یہ قول ابوجعفر حمزہ کا ہے۔ اور دوسرے قراء نے نون کے بغیر پر ھا ہے۔ عکرمہ نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے فرماتے ہیں طسم کی تفسیر میں علماء عاجز آگئے ہیں۔ علی بن طلحۃ والبی سے روایت ہے کہ وہابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں یہ قسم ہے اللہ اور اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے قتادہ نے کہا کہ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام طسم ہے۔ مجاہدکاقول ہے کہ یہ سورة کا نام ہے۔ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے کہ اللہ نے قسم کھائی ہے اپنی قدرت ، نور اور اپنی بادشاہت کی گویا طسم میں طا سے طول، سین سے سنا اور میم سے ملک ۔
Ayah 26:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

2۔ تلک ، یہ اشیاء ، آیات الکتاب المبین۔
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ﷺ شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے

تفسیر۔ 3۔ لعلک باخع ، اس نے اپنے نفس کو ہلاک کرڈالا، نفسک الا یکونوا مومنین، اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب اہل مکہ نے رسول اللہ کی تکذیب کی اور ا آپ کو یہ بات بہت شاق گزری کیونکہ حضور کو بہت زیادہ تمنا تھی اور غبت تھی کہ اہل مکہ مسلمان ہوجائیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں

4۔ ان نشاء ننزل علیھم، ،، ، قتادہ کا قول ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو کوئی ایسی نشانی نازل کردیتاتو پھر کوئی بھی نافرمانی سے گردن نہ موڑتا۔ خاضعین کی تفسیر۔ ابن جریج نے کہا آیت کا معنی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو کوئی ایسا امر نازل کردیتا پھر کوئی بھی نافرمانی سے گردن نہ موڑتا۔ خاضعین، ارشاد فرمایا، خاضعۃ، نہیں فرمایا، کیونکہ یہ اعناق کی صفت ہے۔ اس صورت میں ، خاضعین ، نہیں ہونا چاہیے تھا، خاضعۃ ، ہونا چاہیے تھا۔ (1) ۔ اسکا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے۔ اصل میں اصحاب الاعناق تھا، مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا گیا کیونکہ گردنیں جب جھک جاتی ہیں توگردنوں والے خود ہی فرماں بردار اور عاجز ہوجاتے ہیں۔ (2) اخفش کا قول ہے کہ خاضعین کا تعلق اعناقھم کی ضمر جمع مذکر (ھم) سے ہے اعناق سے نہیں۔ (3) بعض حضرات نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ عرب کا قاعدہ ہے کہ جب مونث کی اضافت مذکر کی طرف کرتے ہیں تومونث کو بھی ذکر کرتے ہیں تومونث کو بھی مذکر مان لیت ہیں اور مذکر کی اضافت مونث کی طرف کرتے ہیں تو اس میں مذکر کو بھی مونث مان لیتے ہیں۔ (4) ۔ بعض کا قول ہے کہ عنق بول کر پورا جسم مراد ہے جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے جیسا کہ اس فرمان میں ہے ، ذالک بماقدمت یداک، یہاں پر ہاتھوں سے مراد پوری شخصیت ہے ، الزمناہ طائرہ فی عنقہ، عنق سے مراد پوراشخص ہے۔ (5) ۔ مجاہدکاقول ہے کہ اعناق سے مراد ہیں بڑے بڑے سردار یعنی بڑے بڑے سردار اس آیت کے سامنے تابعدار ہوجاتے ہیں۔ (6) بعض حضرات نے کہا کہ اعناق سے مراد جماعتیں ہیں جیسے کہ عرب کہتے ہیں ، جاء القوم عنقا، عنقا، وہ لوگ جوق درجوق ٹکڑیاں بناکرآئے۔ (7) ۔ بعض نے کہا کہ لفظی رعایت کی بناء پر ایسا کہا گیا۔
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے پاس (خدائے) رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

5۔ ومایاتیھم من ذکر، ، اس سے مراد وعظ و نصیحت ہے من الرحمن محدث، اس سے مراد جدید نازل شدہ خواہ وجود کے لحاظ سے ہو وہ قدیم ہی کیوں نہ ہو۔ کلبی کا قول ہے کہ جب بھی قران میں سے دوسری بار کوئی شی نازل ہوتی ہے تو وہ پہلی نازل کردہ سے نئی معلوم ہوتی ہے۔ الاکانوا عنہ معرضین، ایمان سے اعراض کرنے والاہوگا۔
Ayah 26:6

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

تو یہ جھٹلا چکے اب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوگی جس کی ہنسی اڑاتے تھے

6۔ فقد کذبو فسیاتھیم۔ عنقریب وہ ان کے پاس آئے گا، انبائ، اس کے متعلق خبر اور اس کا انجام ، ماکانوا بہ یستھزون۔
Ayah 26:7

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں

7۔ اولم یروا الی الارض کم انبتنا فیھا من کل زوج، یعنی صنف نبات ہر طرح کا بندہ کریم، عمدہ اور اچھا آدمیوں اور جانوروں کے لیے مفید ترین غذا اور کثیر المنفعت دوا، جیسا کہ کہاجاتا ہے ، نخلہ، کریمہ، جب وہ کھجور کا درخت خوب پھل دے اور ناقہ کریمہ، کہتے ہیں جب اس کادودھ بہت زیادہ ہوجائے۔ شعبی کا قول ہے کہ لوگوں میں سے نباتات الارض وہ ہے جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے وہ کریم ہوں گے اور جو دوزخ میں داخل ہوں گے وہ لئیم ہوں گے۔
Ayah 26:8

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ اس میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

8۔ ان فی ذالک، جو ہم نے تمہیں یاد دلایا ، الایہ، یہ نشانی ہے اس کے وجود پر اور اس کی توحید پر اور اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے ، وماکان اکثرھم مومنین، تصدیق کرنے والے۔ ان پر ہمارا علم سبقت کرچکا۔ اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے ، سیبویہ کا قول ہے کہ اس جگہ کان زائد ہے یعنی آیات عظیمہ کو دیکھنے کے بعد بھی ان میں سے اکثر مومن نہیں ہیں۔
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے

تفسیر۔ 9۔ وان ربک لھوالعزیز ، ، یعنی کافروں سے انتقام لینے پر قادر ہے۔ الرحیم، اور توبہ کرنے والوں پر مہربان بھی ہے۔
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ

10۔ واذا نادی ربک موسی، یعنی اس واقعہ کو یاد کرو جب آپ کے رب نے موسیٰ کو پکارا تھاموسی نے درخت کو اورآگ کودیکھا، اس وقت اللہ نے ان کو ندادی تھی، ان ائت القوم الظالمین، جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کفر اور معیصیت کے ساتھ اور سرائیل کو غلام بنانے والے اور ان کو طرح طرح کا عذاب دلانے والے۔
Ayah 26:11

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

(یعنی) قوم فرعون کے پاس کیا یہ ڈرتے نہیں ؟

11۔ قوم فرعون الایتقون، کیا وہ اپنے نفسوں سے عذاب کو نہیں پھیرسکتے، اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ ۔
Ayah 26:12

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں

12۔ قال، حضرت موسیٰ نے ارشادفرمایا، رب انی خاف ان یکذبون۔
Ayah 26:13

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے تو ہارون کو حکم بھیج کے میرے ساتھ چلیں

13۔ ویضیق صدری، ان کی تکذیب کے باعث، ولاینطلق لسانی، اور میری زبان میں گرہ کی وجہ سے یعقوب نے یضیق اور ولاینطلق دونوں قافوں کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے ۔ دوسرے قراء نے ان دونوں کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ فارسل الی ہارون، تاکہ وہ میراوزیر بھی ہو اور تبلیغ رسالت میں میرا مددگار بھی ہو۔
Ayah 26:14

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعوی بھی) ہے سو مجھے یہ ڈر ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں

14۔ ولھم علی ذنب، دعوی ذنب سے مراد قبطی کا قتل ہے۔ فاخاف ان یقتلون، مجھے اداء رسالت میں وہ قتل کردیں گے۔
Ayah 26:15

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا ہرگز نہیں تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

15۔ قال، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، کلا، وہ ہرگز اپ کو نہیں مارسکتے، فاذھبا، بایاتنا، انامعکم مستمعون، ہم تم سب کی گفتگو کو سننے والے ہیں۔ معکم یہ جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے۔ حالانکہ موسیٰ و ہارون تودو تھے۔ یہاں دو کو جماعت کے قائم مقام کردیا گیا، بعض نے کہا کہ معکم سے مراد آپ کے ساتھ جو بنی اسرائیل تھے ہم ان کی بات کو سنتے اور دیکھ رہے ہیں۔
Ayah 26:16

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تو دونوں کے فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں

16۔ فاتیافرعون، فقولاانارسول رب العالمین، یہاں پر رسولا ذکر نہیں فرمایا، یہاں مراد صرف رسالت کا پیغام پہنچانا تھا، ابوعبیدہ کا قول ہے کہ رسول کا اطلاق دوپر بھی ہوتا ہے اور زیادہ پر بھی۔ عرب کا قول ہے ، ھذارسولی ووکیلی، ھذان۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وھم لکم عدو، بعض نے کہا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون اخوت بھائی ہونے میں متحد تھے اس لیے لفظ رسول بصیغہ مفرد استعمال کیا۔
Ayah 26:17

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

اور اس لئے آئے ہیں کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں

17۔ ان ارسل، ہم کو یہ پیغام دے کربھیجا، معنابنی سرائیل، اس سے مراد فلسطین ہیں اور وہ بنی اسرائیل ان کی عبادت نہیں کرتے، فرعون نے بنی اسرائیل کو چار سوبرس غلام بنائے رکھا اس زمانے میں بنی اسرایئل کی تعداد چھوسو اسی ہزار تھی۔ غرض موسیٰ مصر کی طرف چلے۔ ہارون (علیہ السلام) وہاں موجود تھے موسیٰ نے ہارون (علیہ السلام) کو حکم الٰہی سے مطلع کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کو دعوت دینے اس کے گھر پہنچ گئے۔ اس قصہ میں آیا ہے کہ موسیٰ جب مصر کو لوٹ کر آئے تو اس وقت اونی چوغہ پہنے ہوئے ہاتھ میں لاٹھی لیے لاٹھی کے سرے میں بڑا مٹکا تھا جس میں کھانے پینے کی اشیاء موجود تھیں۔ اس ہییت سے مصر میں داخل ہوئے مصر میں آکر اپنے گھر میں داخل ہوئے اور حضرت ہارون کو اطلاع دی کہ اللہ نے مجھے فرعون کے اور تمہارے پاس بھیجا ہے۔ تمہارے پاس اس لیے کہ بھیجا کہ ہم دونوں جاکر فرعون کو دعوت دیں۔ یہ سن کرموسی ہوارون کی والدہ آگئیں چیخ پڑیں اور کہنے لگیں فرعون تجھے قتل کرنے کے لی تیری تلاش میں ہے۔ اگر تم لوگ اس کے پاس گئے تو وہ تم کو مرواڈالے گا، حضرت موسیٰ نے ان کی ایک نہ مانی اور رات کو دونوں فرعون کے دروازے پر جاپہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا، دربان ہ کے بکے رہ گئے اور گھبراکر انہوں نے پوچھا کہ دروازے پر کون ہے، ایک روایت میں آیا ہے کہ دربانوں نے اوپر سے جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم دونون کون ہو ؟ حضرت گ موسیٰ نے فرمایا میں رب العالمین کا قاصد ہوں، فورا دربان نے فرعون سے کہا کہ ایک مجنون دروازے پر کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں رب العالمین کا قاصد ہوں فرعون نے صبح تک یونہی چھوڑے رکھا اور صبح ہوئی تو دونوں کو طلب کیا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ دونوں فرعون کی طرف گئے لیکن سال بھر تک فرعون نے اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی، پھر دربان نے جاکرفرعون سے کہا یہاں ایک آدمی ہے جو کہہ رہا ہے میں رب العالمین کا قاصد ہوں فرعون نے کہ اندر آنے دو ہم اس سے کچھ دل لگی ہی کریں گے دونوں فرعون کے پاس پہنچے اور اللہ کاپیام پہنچایا، فرعون نے حضرت موسیٰ کو پہچان لیا کیونکہ آپ نے اسی کے گھر میں پرورش پائی تھی۔
Ayah 26:18

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

(فرعون نے موسیٰ سے) کہا کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی ؟

18۔ قال الم نربک فینا ولدا، ولید سے مراد بچہ ہے قرب ولادت کی وجہ سے اس کو ولید کہا ، ولبثت فینا من عمرک سنین، وہ فرعون کے پاس تیس سال کی عمر تک رہے۔
Ayah 26:19

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تم نے ایک اور کام کیا تھا جو کیا تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو

19۔ وفعلت فعلتک التی فعلت۔ اس حرکت سے مراد قبطی کا قتل کرنا ہے۔ وانت من الکافرین، حسن اور سدی کا قول ہ ے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جس معبود کی طرف توہم کو بلارہا ہے اس کامنکر تو پہلے خود تھا ہمارے ساتھ ہمارے مذہب پر رہتا تھا، یا اس سے مراد یہ ہے کہ تو میرا منکر یا احسان فراموش ہے کہ لوٹ کر آیا ہے تو میری مخالفت کرتاآیا۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ ، انت من الکافرین، کا معنی یہ ہے کہ میری نعمت کی ناشکری کرنے والا اور میری تربیت کا حق دا کرنے والاجی سے کوئی کہے کہ ، وبیناک فینا کہ اس نے میری احسان کی ایسی ناشکری کی کہ میرے خاص لوگوں کو قتل کرنے لگا، یہ عوفی کی روایت جو ابن عباس سے منقول ہے کہ اور فرعون کفر باللہ سے واقف ہی تھا کہ اس نے جھوٹا خدائی کا دعوی کرکے کفر جیسا فعل کیا ہے۔
Ayah 26:20

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ (ہاں) وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطاکاروں میں تھا

20۔ قال، ، موسیٰ نے فرمایا، فعلتھا اذا، ، یعنی تونے ایسی حرکت کی جو اس وقت نہیں کرنی چاہیے تھی، وانا من الضالین، میں ناواقفوں میں سے تھا اس وقت اللہ نے میری طرف کوئی ہدایت نہیں بھیجی نہیں تھی بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے میں اس وقت نہیں جانتا تھا کہ وہ میرے اس فعل سے مرجائے گا، میرامقصد اس کو قتل کرنا نہیں تھا، بعض نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ بغیر قصد اور ارادہ کے میں اس وقت صحیح راستہ سے بھٹک گیا تھا یعنی ایسی نازیبا حرکت تو مجھ سے ضرور صادر ہوئی لیکن بلا ارادہ۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ سے خطا ہوگئی۔
Ayah 26:21

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم میں سے بھاگ گیا پھر خدا نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا

21۔ ففررت منکم لماخفتکم۔ تو پھر میں مدین کی طرف بھاگ گیا۔ فوھب لی ربی حکما، اس سے مراد نبوت ہے۔ مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد علم فہم ہے۔ وجعلنی من المرسلین۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ؟

ان عبدت بنی اسرائیل، کی تفسیری اقوال۔ 22۔ وتلک نعمۃ تمنھاعلی، ،، ، اس کی تاویل میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعضنے اس کو اقرار پر محمول کیا ہے اور بعض نے انکار پر محمول کیا ہے۔ جو حضرات اس کو اقرار پر محمول کرتے ہیں انہوں نے حضرت موسیٰ کے اقرار کو ایک نعمت شمار کیا ہے۔ تونے مجھے زندہ چھوڑ کر اور پالا اور دسرے اسرائیلی بچوں کی طرح قتل نہیں کرایا، گویا حضرت موسیٰ نے فرمایا بیشک یہ تیرا احسان ہے جو تو مجھے جتلارہا ہے کہ بنی اسرائیل تونے غلام بنائے رکھے اور مجھے چھوڑ دیا یعنی غلام نہیں بنایا، اور جو اس کو انکار پر محمول کرتے ہیں تو وہ اس نعمت کو بطور استفہام کے نقل کرتے ہیں اور حرف استفہام کو محذوف کردیا گیا۔ یعنی یہ احسان جس کو تونے ذکر کیا ہے کوئی احسان ہے بلکہ تونے بنی اسرایئل کو غلام بنارکھا ہے بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھنے کی صورت میں یہ تربیت کوئی احسان نہیں میری قوم کو تونے غلام بنائے رکھا اور میری تربیت کی یہ کوئی احسان ہے۔ یعنی تونے مجھے ان سے دور رکھا اور ان کے قتل سے محفوظ رکھا اور تیرے پاس پہنچ گیا اور تونے میری پرورش اور کفالت کی اگر تو بنی اسرائیل کو حد سے زیادہ ذلیل نہ کرتا اور ان کے لڑکوں کو قتل نہ کرتا تو میرے گھروالے میری پرورش کرتے اور دربار میں مجھے نہ پھینکتے ، اور تیرے مکان میں نہ لایاجاتا، (عبدت) یعنی تونے مجھے بندہ بنایا۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے، عبدت فلانا، تونے مجھے غلام بنائے رکھا۔
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ تمام جہان کا مالک کیا ؟

تفسیر۔ 23۔ قال فرعون ومارب العالمین، ، فرعون کہنے لگا، رب العالمین، کیا چیز ہوتی اور اے موسیٰ تم گمان کرتے ہو کہ تاس کے بھیجے ہوئے رسول ہو تو اپنے الہ کی صفت بیان کرو جس نے تمہیں بھیجا ہے۔ فرعون نے جنس کے متعلق سوال کیا۔ اللہ رب العزت اس سے پاک ہیں۔ اس پر موسیٰ نے اس کو جواب دیا اور ان افعال کو لائے، (معجزات کو پیش کیا) جس کا مثل انسان لانے سے عاجز ہوتا ہے۔
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

24۔ قال رب السماوات والارض ومابینھما ان کنتم موقنین۔ ان دونوں کو پیدا کرنیو الے ہیں۔ اہل معانی کا قول ہے کہ جس طرح تو ان اشیاء کو دیکھ کر تمہیں یقین ہوتا ہے ان کو معائنہ کرنے کے ساتھ لہذا یہ بھی یقین کرلو کہ وہ مخلوقات کا خدا ہے۔ جب حضرت موسیٰ نے اس کو جواب دیاتوفرعون موسیٰ کے جواب میں حیران ہوگیا۔
Ayahs 26:25–26

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں ہو

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

(موسی نے کہا) کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک

25۔ قال لمن حولہ، ، اس کی قوم کے بڑے بڑے سردار، ابن عباس کا قول ہے کہ فرعون کے اردگرد پانچ سواشخاص موجود تھے فرعون اس بات کو بعید سمجھتے ہوئے موسیٰ کی اس بات کو ان لوگوں کے سامنے پیش کیا اور کہا، الاتسمعون، یہ اس لیے کہا کہ ان لوگوں کا یہ اعتقاد تھا کہ آسمان اور زمین کے مالک یہی ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ نے اس بات کو مزید واضح بیان کیا۔
Ayahs 26:27–28

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے مجنون ہے

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ مشرق اور مغرب میں اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو

27۔ قال ، فرعون نے کہا کہ ، ان رسولکم الذین ارسل الیکم لمجنون، وہ جو کلام کرتا ہے اس پر نہ وہ عقل رکھتا ہے اور نہ وہ جانتا ہے کہ یہ کلام درست نہیں ، ان کے نزدیک جوا ان کے اعتقاد کے مطابق اعتقاد نہ رکھے تو وہ عاقل نہیں سمجھا جاتا، موسیٰ نے اس بات پر مزید اور واضح کلام بیان کیا۔
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا

تفسیر۔ 29۔ قال، فرعون نے کہا جب اس کی حجت پوری ہوگئی اور لاجواب ہوگیا تو حق سے تکبر کرتے ہوئے پھر گیا، لئن اتخذت الھا غیر لاجعلنک من المسجونین، ان قیدیوں میں شامل کردیں گے ۔ کلبی نے بیان کیا کہ فرعون کی قید کی حالت قتل سے بھی زیادہ سخت تھی، قیدی کو ایک تنہاکوٹھری میں پھینک دیتا تھا، قیدی کو وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا، اور لڑھکتا ہوا زمین کے اندر چلاجاتا تھا۔
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

(موسی نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)

30۔ قال، جب موسیٰ کے ساتھ قید کا وعدہ کیا، اولوجئتک ، اگر آپ کوئی لے آؤ، بشئی مبین، واضح آیات اس آیت کا معنی ہے کہ کیا تم لوگ میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو گے حالانکہ میں تمہارے پاس واضح دلائل لے کر آیا ہوں حضرت موسیٰ نے یہ بات اس وجہ سے کہی کہ لوگوں کے اخلاق میں سے یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ انصاف سکون حاصل کرتے تھے اور بیان کے بعد حق کو قبول کرتے تھے۔
Ayah 26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ )

31۔ قال، فرعون نے کہا، فات بہ، اگر آپ اس طرح آیات یا نشانی لے کر آئیں توپھرہم آپ کو قید نہیں کریں گے ، ان کنت من الصادقین۔
Ayah 26:32

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی دی تو وہ اس وقت صریح اژدہا بن گئی

32۔ فالقی عصاہ فاذاھی ثعبان مبین۔ اس نے کہا کہ کیا اس کے علاوہ اور بھی نشانیاں ہیں۔
Ayah 26:33

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ جو نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لیے سفید (براق نظر آنے لگا)

33۔ ونزع، موسیٰ (علیہ السلام) نے نکالا، یدہ فاذاھی بیضاء للناظرین۔
Ayahs 26:34–37

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

(فرعون نے) اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہارے کیا رائے ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اسکے اور اسکے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجئے اور شہروں میں نقیب بھیج دیجئے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ سب ماہر جادوگروں (کو جمع کر کے) آپ کے پاس لے آئیں

34۔ قال، فرعون نے کہا، للملائ، حولہ ان ھذالساحر علیم۔
Ayah 26:38

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع ہوگئے

38۔ فجمع السحرۃ لمیقات یوم معلوم، اس سے مراد زینت کا دن ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اتفاق سے وہ دن نوروز کا تھا اور شنبہ کا دن تھا۔
Ayah 26:39

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہوجانا چاہیے

39۔ وقیل للناس ھل انتم مجمتعون۔ تاکہ تم ان دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ دیکھ سکو اور کس کو غلبہ حاصل ہوگا ۔