27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 27:1

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس، یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

تفسیر۔ 1۔” طس “ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس کی تفصیل ماقبل حروف تہجی کے ذیل میں گزرچکی ہے۔ تلک آیات القرآن، یہ قرآنی آیات ، وکتاب مبین، اور یہ نشانیاں کتاب میں واضح موجود ہیں۔
Ayah 27:2

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

2۔ ھدی وبشری للمومنین، گمراہی سے ہدایت پانے والے اور مومنین مصدقین کے لیے جنت کی بشارت ہے۔
Ayah 27:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ آخرت کا یقین رکھتے ہیں

3۔ الذین یقیمون الصلوۃ اور وہ نماز اپنے تمام ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ویوتون الزکوۃ اور مال میں سے جو کچھ ان پر واجب ہے وہ ادا کرتے ہیں وھم بالاخرۃ ھم یوقنون۔
Ayah 27:4

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے انکے اعمال انکے لئے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں

4۔ ان الذین لایومنون بالاخرۃ زینالھم اعمالھم۔ ان قبیح افعال کو جوان کے نفس اس کو اچھا سمجھتے ہیں۔ فھم یعمھون، ا س میں وہ متردد اور حیران ہیں۔
Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں

5۔ اولئک الذین لھم سوء العذاب، دنیا میں سخت عذاب خواہ وہ قتل کی صورت میں ہو یاقید کی صورت میں ہو۔ جیسا کہ بدر کے دن میں ہوا۔ وھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون، اس لیے وہ اپنے نفسوں کو خسارے میں ڈالتے ہیں اور اپنے اہل والوں کو اوریہ سب دوزخ میں جائیں گے۔
Ayah 27:6

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے

6۔ وانک لتقلقی القرآن، آپ کو قرآن دیاجارہا ہے۔ من لدن حکیم علیم۔ اللہ کی طرف سے جو حکیم اور علیم ہے۔
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں سے (راستہ کا) پتہ لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارا تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو

7۔ اذ قال موسیٰ لاھلہ، یاد کریں اے محمد۔ اس وقت کو جب موسیٰ نے اپنے گھروالوں سے کہا جب وہ مدین سے مصر کی طرف جارہے تھے ، انی انست نارا، کہ میں نے آگ دیکھی ہے ، ساتیکم منھابخبر، کہ تم اس جگہ بیٹھے رہو میں تمہارے پاس راستے کی یا آگ کی خبر لے کر آتا ہوں اور وہ راستہ بھول گئے تھے۔ ” او اتیکم بشھاب قبس، اہل کوفہ نے اس کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں شہاب قبس کے لیے موصوف وصفت ہوگا، دوسرے قراء نے بغیر تنوین کے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یہ اضافت ، الشی الی نفسہ، کی قبیل سے ہے۔ کیونکہ شباب قبس اور دونوں قریب المعنی ہیں قبس اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کے ایک سرے میں آگ لگی ہو اور دوسرے سرے میں آگ نہ ہو۔ بعض نے کہا کہ شھاب وہ چیز جو دونور والی ہو۔ جیسے عرب کے ہاں ہر سفید چیز کو جونوروالی ہوں اس کو شھاب کہتے ہیں۔ قبس آگ کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ لعلم تصطلون ، تاکہ تم اس کے ذریعے سے سردی دور کرسکو یہ اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب سخت سردی ہو۔
Ayah 27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (بجلی دکھاتا) ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے

8۔ فلماجاء ھا نودی ان بورک من فی النار، ومن حولھا، پاک ہے وہ جو آگ کے اند رجلوہ افروز ہے۔ بورک من فی النار، کی تفسیر۔ بوک علی من فی النار، ، اور من فی النار، دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ جیسے عرب کا قول ہے ، بارک اللہ ، وبارک اللہ فیہ، بارک اللہ علیہ ، سب کا ایک ہی معنی ہے مطلب یہ ہوگا کہ جو آگ میں ہیں اور جو آگ کے اردگرد ہیں بعض نے کہا کہ بورک راجعہ، موسیٰ اور فرشتوں کی طرف معنی ہوگا برکت دی گئی اس کو جو آگ کی طلب میں ہے اس سے موسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ومن حولھا کا مصداق۔ ومن حولھا، ، سے مراد فرشتے جو اس آگ کے ارد گرد جمع تھے اس کا معنی یہ ہوگا کہ برکت دی گئی اس کو جو آگ کی طلب میں تھا اور فرشتے جوا سکے اردگرد جمع تھے اوری ہ اللہ کی طرف سے تحیہ تھا۔ جیسے حضرت ابراہیم کو فرشتوں کی زبانی پیام و برکت ورحمت دیا گیا تھا اور فرشتوں نے کہا، رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت۔ اکثر مفسرین کا مذہب یہ ہے کہ نار سے مراد نور ہے۔ لفظ نار کا زکر کیا کیونکہ حضرت موسیٰ نے اس کو آگ ہی گمان کیا تھا، اور آگ میں جو کچھ ہے وہ نور اور ملائکہ تھے۔ وہ نور حضرت موسیٰ نے دیکھا اس میں فرشتے جو تسبیح و تقدیس میں مشغول تھے اور موسیٰ آگ کے قریب تھے اور بعض نے کہا کہ من فی النار ومن حولھا، سے مراد تمام فرشتے ہیں بعض نے کہا کہ من فی النار سے موسیٰ ، اور من حولھا سے مراد ملائکہ ہیں۔ موسیٰ اگرچہ آگ میں نہیں تھے بلکہ آگ کے قریب تھے۔ حضرتابن عباس ؓ، سعید بن جبیر ، اور حسن نے اس کی یہ تفسیر کی ہے ، بورک فی النار، یعنی پاک ہے اور جو آگ کے اندر جلوہ افروز ہے اس سے مراد ہے اللہ تعالی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ندا دی اور پناکلام سنایا۔ سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ وہ بعینہ آگ ہی تھی جو اللہ کے لیے حجاب تھی۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس کا حجاب النار، نور ہے ۔ اگر کھل جائے تو اس کی ذات کے چمکارے وہاں تک مخلوق کو جلادے ۔ جہاں تک اس کی نظر کی رسائی ہوئی اللہ رب العزت نے اس سے اپنی پاکی بیان کی ہر برائی اور عیب سے ، و سبحان اللہ رب العالمین، پھر حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کی صفات کو پہچان گئے۔
Ayah 27:9

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

پاک ہے اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب و دانا ہوں

تفسیر۔ 9۔ یاموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم۔ انہ کی ضمیر بعض حضرات کے نزدیک امر وشان سے کنایہ ہے ۔ یعنی معبود میں ہی ہوں پھر حضرت موسیٰ کو اپنی قدرت پر نشانی عطافرمائی اور ارشاد فرمایا۔
Ayah 27:10

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈالدو جب اسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے

10۔ والق عصاک ، ،، حرکت کرتے ہوئے ، کانھاجان، وہ چھوٹا سانپ جو جلدی سے ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ ولی مدبرا، خوف سے پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ ولم یعقب، اور واپس مڑ کر بھی نہیں دیکھا جیسے کہاجاتا ہے ، عقب فلاں اذارجع، جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور واپس آجائے۔ قتادہ کا بیان ہے کہ واپس مڑکر بھی نہ دیکھے۔ اس کے بعداللہ نے ارشاد فرمایا، یاموسی لاتخف انی لایخاف لدی المرسلون، اس سے مراد جب امن کی حالت ہو جو امن والی ہوبل کہ رہاخوف جو ایمان کی شرط ہے وہ اس سے جدا نہیں ہوگا۔ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، انااخشاکم اللہ۔
Ayah 27:11

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں

تفسیر۔ الامن ظلم کے استثناء میں ائمہ کرام کی آرائ۔ تفسیر۔ 11۔ الامن ظلم ثم بدل، ،، ، اس استثناء میں آئمہ کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے کہا یہ حضرت (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب ان سے قبطی قتل ہوگیا، اس سے وہ خوف زدہ ہوگئے۔ اور فورا توبہ کرلی اور فرمایا رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی، اللہ نے ان کو معاف کردیا۔ ابن جریج کا قول ہے کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو کہا کہ میں نے تجھے ایک نفس کے قتل کرنے کے بعد تجھے بچایا۔ اب اس آیت کا معنی یہ ہے کہ انبیاء کرام گناہ پہنچ جانے سے یا گناہ سرزد ہوجانے سے اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اگر ان سے کوئی لغزش ہو بھی جائے تو وہ توبہ کرلیتے ہیں۔ اس تاویل کی صورت میں استثناء صحیح ہوگا۔ الامن ظلم، کلام پر ختم ہوگیا پھر اس کے بعد کلام کی ابتداء کی تقدیری عبارت یوں ہوگی، فمن ظلم ثم بدل حسنا بعد، ،، جس سے لغزش سرزد ہوگئی پھر اس کی لغزش کے بعد نیکی والاکام کردیا ار اس نے توبہ کرلی کہ اللہ اس کی توبہ قبول کرنے والا ہے اللہ غفور رحیم ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یہ استثناء مرسلین سے نہیں کیونکہ انبیاء کرام (علیہم السلام) سے لغزش کا صدور جائز نہیں بلکہ یہ استثناء کلام سے متروک ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ میرے بھیجے ہوئے کسی سے نہیں ڈرتے بلکہ خوف زدہ اور ڈر توغیرانبیاء کو ہوتا ہے جو اپنے اوپرظلم کرتے ہیں پھر توبہ کرتے ہٰں توای سے لوگ اللہ کے سوادوسروں سے بھی ڈرتے ہیں۔ بعض نحویین کے نزدیک، الا ، یہاں پر، ھھنا کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب ی ہے کہ میرے پاس پہنچ کر نہ تو پیغمبر خوف کرتے ہیں اور نہ صلحاء و مومنین جو پیغمبر نہیں اور ان سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو وہ و توبہ کرلیتے ہیں۔ اور اپنے اعمال کو درست کرلیتے ہیں وہ بھ بےگناہ کی طرح ہوجاتے ہیں ان کو بھی کوئی خوف نہیں ہوتا۔ لئلا یکون للناس علیکم حجۃ، یعنی وہ ظالم نہیں پھر اللہ نے دوسری نشانی دکھائی۔
Ayah 27:12

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا بےعیب (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اسکی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں

12۔ وادخل یدک فی جبیب، جیب قمیص کو کاٹ کر بنایاجاتا ہے۔ اہل تفسیر کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ اس وقت ایک چھوٹا سا اونی کرتہ پہنے ہوئے تھے جس کی نہ آستینیں تھیں نہ بٹن اور وہ چمکنے لگا جیسے کہ بجلی چمکتی ہے۔ اس وجہ سے اللہ کافرمان، تخرج بیضاء من غیر سوئ، بغیر کسی بیماری کے یعنی برص وغیرہ کی بیماری نہی ہوگی۔ فی تسع آیات، یہ نونشانیوں سے ایک نشانی ہے جوان کودے کر بھیجی ہے۔ الی فرعون وقومہ انھم کانوا قومافاسقین۔
Ayah 27:13

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچی کہنے لگے یہ صریح جادو ہے

13۔ فلماجاء تھم آیاتنا مبصرۃ، واضح نشانیاں جس کو وہ دیکھتے ہیں، قالواھذاسحرمبین۔ واضح جادو ہے۔
Ayah 27:14

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا کہ ان کے دل ان کو مان چکے تھے سو دیکھ لو کہ فسان کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

تفسیر۔ 14۔ وجحدوا بھا، اور انہوں نے ان نشانیوں کا انکار کیا، اور عند اللہ نشانیاں ہونے کا انکار کرنے لگے۔ واستقینھ تھا انفسھم ان کے دلوں کو یقین ہوگیا تھا، کہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ظلما وعلوا، وہ شرک اور تکبر کی وجہ سے موسیٰ پر اسلام لانے سے تکبر کرنے لگے۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین۔
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے اپنے مومن بندوں پر فضیلت دی

15۔ ولقد اتینا، و سلیمان علما، فیصلے کا علم پرندوں کی بولی کا علم اور چوپاؤں کی زبان شیطان کا مسخر ہونا اور پہاڑوں کی تسبیح، وقالاالحمدللہ الذی فضلنا، نبوت کتاب ، تسخیر، شیطان خواہ جنوں میں سے ہویا انسانوں میں سے علی کثیر من عبادہ المومنین۔
Ayah 27:16

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان داؤد کے قائم مقام ہوئے اور کہنے لگے کہ لوگو ! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عطا فرمائی گئی ہے بیشک یہ اسکا صریح فضل ہے

16۔ وورث سلیمان داوڈ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نبوت علم و حکمت اور حکومت کے وارث ہوئے دوسرے بھائیوں میں سے کوئی اس چیز کا وارث نہیں تھا، حضرت داود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے اور حضرت سلیمان کو وہی عطا کیا گیا جو حضرت داود (علیہ السلام) کودیاگیا حکومت میں سے۔ اس کے علاوہ حضرت سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا گیا اور شیاطین کو بھ مسخر کردیا گیا، مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان کا ملک بڑا تھا ارحضرت داؤد (علیہ السلام) مین سلیمان کی نسبت سے قوت فیصلہ بڑی تھی۔ اور آپ عبادت گزار زیادہ تھے اور حضرت سلیمان اللہ کی نعمتوں کے شکرگزار بہت تھے۔ وقال یا ایھا الناس علمنا منطق الطیر، پرندوں کی آواز کو بھی نطق سے موسوم کیا کیون کہ حضرت سلیمان ان کی آوازوں کو سمجھتے تھے جیسا کہ لوگوں کی باتوں کو وہ سمجھتے تھے۔ پرندوں کی زبان۔ حضرت کعب نے فرمایا، حضرت سلیمان کے پاس جنگلی کبوتر نے آواز نکالی تو آپ نے پوچھا کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے حاضرین نے کہا نہیں فرمایا یہ کہہ رہا ہے مرنے کے لیے جنو اورویران ہونے کے لیے عمارتیں بناؤ ۔ فاختہ چیخی تو آپ نے فرمایا جانتے ہو یہ کیا کہہ رہی ہے حاضرین نے کہا نہیں، فرمایا یہ کہہ رہی ہے کہ کاش یہ مخلوق پیدا نہ کی جاتی۔ مورچیخا، آپ نے پوچھا جانتے یہ کیا کہہ رہا ہے حاضرین نے کہا نہیں، فرمایا یہ کہہ رہا ہے جیسا دوسروں سے معاملہ کرو گے ویسا ہی تم سے کیا جائے گا، ہدہد بولاتوپوچھا یہ کیا کہہ رہا ہے تمہیں معلوم ہے حاضرین نے جواب دیا نہیں فرمایا یہ کہہ رہا ہے جو رحم نہیں کرے گا، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا، صرد، (لٹورا) نے آواز دی پوچھا تم جانتے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے حاضرین نے جواب دیا نہیں، فرمایا کہہ رہی ہے کہ گناہ گارا اللہ سے معافی مانگو، خطاف چیخا تو پوچھا کیا جانتے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے حاضرین نے کہا نہیں فرمایا یہ کہہ رہا ہے پہلے سے نیکی بھیجو وہاں تم کو مل جائے گی۔ مکحول نے کہا،: سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ایک تیتر چیخا، آپ نے پوچھا جانتے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے لوگوں نے کہا کہ نہیں فرمایا یہ کہہ رہا ہے ، الرحمن علی العرش الستوی، فرقد صبحی کا بیان ہے کہ ایک بلبل درخت پر بیٹھا سرہلارہا تھا دم نیچے کو جھکارہا تا، اور بول رہا حضرت سلیمان کا ادھر سے گزر ہوا فرمایا جانتے ہو یہ بلبل کیا کہہ رہی ہے۔ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا نبی ہی خوب واقف ہیں۔ فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ میں نے آدھا چھوہاراکھالیا پس دنیا پر لازم ہے کہ اس کو بڑھا کر پورا کردے۔ روایت میں آیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا ہم سات چیزوں کے متعلق آپ سے دریافت کریں گے اگر آپ بتادیں توہم مسلمان ہوجائیں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا، سمجھنے کے لیے پوچھ سکتے ہو، ضد کے لیے نہیں پوچھ سکتے۔ یہودیوں نے پوچھا کہ بتائیے چنڈول اپنے گانے میں کیا کہتا ہے اور مینڈک اپنی ٹرٹر میں کیا کہتا ہے اور مرغ اپنی بانگ میں کیا کہتا ہے اور گدھا اپنے رینگنے کے وقت میں کیا کہتا ہے اور گھوڑا اپنی ہنہناہٹ میں کیا کہتا ہے اور زرزورا اور تیتر کیا کہتے ہیں۔ ؟ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا، چنڈول کہتا ہے ، اے اللہ محمد ﷺ اور آل محمد سے بغض رکھنے والوں پر لعنت کر اورمرغ کہتا ہے ، غافلوا، اللہ کی یاد کرو، اور مینڈک کہتا ہے پاک ہے وہ معبود جس کی عبادت سمندروں کے کھنڈرات میں بھی جاتی ہے اور گدھا کہتا ہے اے اللہ عشر وصول کرنے والے پر لعنت کر۔ گھوڑا جب معرکہ میں صفوں کے مقابلہ میں ہوتا ہے تو کہتا ہے ، سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح، پاک، اور مقدس ہے ملائکہ اور جبرائیل کا رب۔ زرزور کہتا ہے اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر روز کی روزی اسی روز عطا فرماا اور تیتر کہتا ہے ، الرحمن علی العرش الستوی، یہودی یہ جواب سن کر مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام اچھارہا۔ حضرت امام جعفر صادق نے اپنے والد کی وساطت سے اپنے دادا حضرت امام حسین کا قول نقل کیا ہے کہ جب گدھ چلاتا ہے تو کہتا ہے اے آدم کے بیٹے۔ جی لے جب تک چاہے آخر موت ہے۔ عقاب چیختا ہے تو کہتا ہے لوگوں سے دور رہنے میں سلامتی ہے اور چنڈول چیختا ہے تو کہتا ہے اے اللہ آل محمد سے بغض رکھنے والوں پر لعنت بھیج اور خطاف چلاتا ہے تو کہتا ہے ، الحمدللہ ربالعالمین، اور الضالین، کو ایسا کھینچتا ہے جیسے قاری کھینچتا ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں کہ جانوروں کی آوازوں کی جو تشریح حضرت کعب سے منقول ہے اور جو تفصیل مکحول اور فرقد کے اقوال میں آئی ہے اس سب کا تعلق ممکن ہے کسی ہنگامی آواز سے ہو۔ (حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے کسی وقت جانور اس طرح بولے ہوں) اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ جانور جب بھی بولتے ہیں تویہی کلمات کہتے ہیں۔ اللہ نے اس سورت میں جو ہدہد اور چیونٹی کا کلام نقل کیا ہے اس کا تعلق تو پیش آمدہ واقعہ کے ساتھ تھا ہی البتہ یہودیوں کے سوال کے جواب میں جو کچھ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا وہ بیشک بتارہا ہے کہ یہ جانور ہمیشہ یہی الفاظ کہتے ہیں۔ اگر یہ روایت پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو اس کی تاویل کرنا ضروری ہوگی۔ ” واوتینا من کل شی، انبیاء کرام اور بادشاہوں کو عطا کیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ کل شی سے دنیا اور آخرت سے تعلق رکھنے والی ہرچیز مراد ہے۔ مقاتل کا قول ہے کہ نبوت اور حکومت اور شیاطین وہوا کی تسخیر مراد ہے۔ ان ھذالھوالفضل المبین، وہ ظاہری زیادتی جوان کے علاوہ کسی اور کو نہیں عطا کیا۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت سلیمان نے ساری روئے زمین پر سات سوبرس اور چھ ماہ تمام جن وانس اور پرندوں اور چرندوں اور درندوں پر حکومت کی اور ہرچیز کی بولی اللہ نے ان کو سکھا دی تھی اور انہی کے زمانہ میں عجیب عجیب صنعتوں کی ایجاد ہوئی۔
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سیلمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے

تفسیر۔ 17۔ وحشر لسلیمن جنودہ، ، حضرت سلیمان کے لیے جمع کردی گئیں، من الجن والانس، والطیر، دور دور سے ان کو جمع کردیا گیا، فھم یوزعون، وہ روکے جاتے ہیں۔ حضرت قتادہ کا بیان ہے کہ ہر لشکر کا حصہ دوسرے لشکر کو آگے کرتاتا کہ وہ جلدی چلے ، وزع کہتے ہیں کہ کسی کو روک دینا۔ مقاتل نے ، یوزعون ، کا ترجمہ کیا ہے۔ یساقون، ان کو چلایاجاتا تھا، محمد بن کعب نے کہا سلیمان کی لشکر گاہ سوفرسخ تھی، 25 فرسخ جنات کے لیے ، 25 فرسخ آدمیوں کے لیے ، 25 فرسخ پرندوں کے لیے اور 25 فرسخ جنگلی جانوروں کے لیے۔ حضرت سلیمان کے ایک ہزار کمرے تھے جو لکڑی کے تختوں پر فرش پر قائم تھے۔ تین سومنکوحہ بیبیاں تھیں جو تین سوگھروں میں رہتی تھیں اور سات سوباندیاں سات سوگھروں میں رہتی تھیں۔ سلیمان کے حکم سے تند ہوا اس تخت کو اٹھا کر اوپر کو لے جاتی تھی پھر بحکم حضرت سلیمان نرم نرم ہوا ا سکولے کرچلتی تھی، ایک روز آپ کہی جارہے تھے اور آسمان و زمین کے درمیان تھے کہ اللہ نے وحی بھیجی میں نے تمہاری حکومت میں اضافہ کردیا ہے اب کوئی مخلوق جہاں بھی کوئی بات کرے گی ہوا وہ بات لاکرتم کو پہنچادی گی۔
Ayah 27:18

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اسکے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

18۔ حتی اذا اتوا علی واد النمل، یہاں تک کہ یہ سب جب چیونٹیوں کی وادی پر پہنچے۔ ” علی واد ، ، میں لفظ علی بتارہا ہے کہ وہ اوپر سے آئے تھے اور بات بھی معلوم ہورہی ہے کہ اس وادی کو طے کرکے آخرہ کنارہ پر پہنچ گئے (اور وہیں چیونٹیوں کے بل تھے) اتی علی الشی، کا معنی ہے کسی چیز کو ختم کردیا اور اس کے آخری حصہ پر پہنچ گئے۔ وادی نمل کون سی جگہ ہے۔ وہب بن منبہ نے بحوالہ کعب بیان کیا ہے ، حضرت سلیمان جب تخت پر سوار ہوئے تو اہل و عیال نوکروں اور چاکروں کو اورلاؤ لشکر بھی سوار کرلیتے۔ سالن پکانے کے برتن اور وٹیاں پکانے کے آہنی تنور بھی ساتھ ہوتے تھے اتنی بڑی بڑی دیگیں نوتھیں کہ ایک ایک دیگ میں دس دس اونٹوں کا گوشت آجائے چوپایوں کے لیے میدان بھی اپنے سامنے بنواتے تھے، اثنائے سیر میں آسمان و زمین کے درمیان چوپائے اپنے میدانوں میں دوڑتے تھے اور باورچی کھانا اور روٹیاں پکانے میں مشغول رہتے تھے ، ہوا ان سب کو لے کرچلتی تھی ایک باراصطخر سے یمن کو جاتے ہوئے مدینہ شریف کے اوپر سے بھی گزرے اور فرمایا یہ نبی آخرالزمان کی ہجرت ہے خوش خبری ہے ان کے لیے جوان کے اوپر ایمان لائے اور خوشی ہے اس کے لیے جس نے ان کا اتباع کیا۔ کعبہ کے اوپر سے گزرے توکعبہ کے گرداگرد بت نظر آئے جن کی پوجا کی جاتی تھی، جب حضرت سلیمان کعبہ سے آگے بڑھ گئے توکعبہ رونے لگا اللہ نے کعبہ کے پاس وحی بھیجی اور دریافت فرمایا تیرے رونے کا سبب کیا ہے کعبہ نے کہا کہ اے میرے رب مجھے اس بات نے رلایا کہ یہ تیرانبی تھا اور تیرے دوستوں کی جماعت تھی، یہ لوگ میری طرف سے گزرے اور میرے پاس نماز نہیں پڑھی، حالانکہ میرے آس پاس تجھے چھوڑ کر بتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ اللہ نے وحی بھیجی تو نہ رو وکچھ مدت کے بعد میں تجھے سجدہ کرنے والے چہروں سے بھردوں گا، اور تیرے اندر جدید قرآن نازل کروں گا، اور تیرے اندر آخرزمانہ میں ایک نبی پیدا کروں گا، میں اپنے نبی اء سے محبت رکھتا ہوں تیرے اندر اپنی مخلوق سے ایسے لوگ آباد کروں گا کہ جو میری عبادت کریں گے اور میں اپنے بندوں پر ایک فرض (یعنی فریضۃ حج ) مقرر کردوں گا جس کو ادا کرنے کے لیے وہ اتنی تیزی سے تیرے قریب پہنچیں گے جتنی تیزی سے گدھ آپنے آشیانوں کی طرف جاتے ہیں۔ وہ تیرے ایسے مشتاق ہوں گے جیسے اونٹنی کو اپنے بچے اور کبوتری کو اپنے انڈوں کی طرف اشتیاق ہوتا ہے۔ میں تجھے بتوں اور شیطانوں کے پجاریوں سے پاک کردوں گا، پھر سلیمان چلتے چلتے وادی سدیر کی طرف سے گزرے، وادی سدیر وادی طائف کا حصہ ہے وہاں آپ کا گزر وادی نمل میں ہوا۔ کعب کا یہی قول ہے کہ وادی نمل طائف میں تھی۔ مقاتل اور قتادہ نے کہا وہ شام میں ایک زمین تھی، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وادی میں جن رہتے تھے اور وہاں کی چیونٹیاں ان کی سواریاں تھیں۔ فرق حمیدی نے کہا اس وادی کی چیونٹیاں مکھیوں کی طرح تھیں، بعض نے کہا کہ بخاتی اونٹ کے برابر تھیں، مشہور یہ کہ یہ بات کہنے والی ایک چھوٹی چیونٹی تھی۔ ” قالت نملہ، ، ایک چیونٹی نے کہا، شعبی نے کہا (وہ چیونٹی پر دار تھی) اس کے دوباز و تھے بعض نے کہا وہ لنگڑی تھی ضحاک نے اس کا نام طاحیہ اور مقاتل نے جرمی بتایا ہے۔
Ayah 27:19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار ! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما

19۔ یا ایھا النمل الدخلوا مساکنکم، یہاں پر ادخلن جمع کا صیغہ ذکر نہیں کیا، کیونکہ انسان جب کلام کرتا ہے اور حیوانات کے متعلق بات کرتا ہے تو حیوانات کے بےعقل ہوجانے کی وجہ سے ان کے لیے وہ ضمیریں استعمال کرتا ہے جو جمادات کے لیے مستعمل ہیں۔ لایحطمکنم کہ وہ تمہیں روند نہ ڈالیں۔ سلیمان و جنودہ ، حطم کہتے ہیں کہ کسی چیز کو توڑنا، وھم لایشعرون، حضرت سلیمان نے چیونٹی کی بات سن لی ، حضرت سلیمان کا تخت جب ہواپرورواں ہوتا تو مخلوق میں سے کوئی بھی کلام نہیں کرسکتا تھا، حضرت سلیمان نے اس چیونٹی کی بات دور سے سن لی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان نے تین میل دور سے یہ بات سن لی تھی ۔ ضحاک کا قول ہے کہ اس چیونٹی کا نام طاحیہ تھا مقاتل نے کہا اس کا نام جرمی تھا۔ شبہ اور اس کا ازالہ۔ سوال : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تخت تو ہوا پر تھا پھر چیونٹیوں کے روند ڈالنے کا احتمال ہی نہیں ؟۔ جواب : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا کچھ لشکر پیدل چل رہا ہو جس کی وجہ سے چیونٹیوں کو اندیشہ ہوا۔ جواب 2۔ بعض نے کہا کہ ہوسکتا ہے تسخیر ہوا سے پہلے کا واقعہ ہو۔ جواب 3۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ چیونٹی کو حضرت سلیمان کے نبی ہونے کا علم تھا اور وہ نہ توسختی کرتے اور نہ ہی کسی پر ظلم کرتے ہیں آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر تم اپنے اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ اور انہوں نے تمہیں روند ڈالا تو تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت سلیمان نے چیونٹی کی آواز سنی تو لشکر کو روک لیا، جب تک کہ وہ سب اپنے اپنے گھروں میں داخل نہیں ہوتیں اس وقت تک لشکر کو چلنے کا حکم نہیں دیا۔ ” فتبسم ضاحکا من قولھا، ، زجاج کا قول ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کی ہنسی اکثر بصورت تبسم ہی ہوتی ہے۔ بعض نے کہا کہ شروع شروع میں تبسم تھا پھر ہنس دیے ہوں۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو کبھی بھرپور ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آگیا ہو۔ آپ مسکرادیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن الحارچ بن جزء کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا۔ مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان چیونٹی کے اس قول سے بطور تعجب کے ہنس پڑے کیونکہ انسان جب دیکھتا ہے کہ جس مخلوق کے ساتھ عہد نہیں وہ بھی پورا کرتی ہے۔ اس پر حضرت سلیمان نے حمد کی جو اللہ رب العزت نے ان کو انعامات سے نوازا تھا ۔ وقال رب اوزعنی، مجھے الہام کردے۔ ان اشکر نعمتک ، ،، ، الصالحین۔ من جملہ ان میں ہمیں بھی داخل فرما، اور ہمارے نام کو ان ناموں کے ساتھ ثابت رکھ اور ان کے ساتھ ہمارا حساب کر۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ا اس سے مراد حضرت ابراہیم، اسماعیل، اسحاق و یعقوب (علیہم السلام) ہیں اور اس کے بعد آنے والے انبیاء کرام ہیں۔ بعض نے کہا کہ ہمیں اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت میں داخل کردے۔
Ayah 27:20

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے کہ کیا سبب ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا ؟ کیا کہیں غائب ہوگیا ہے

20۔ وتفقدالطیر ، اس کا معنی ہے گمشدہ چیز کا ڈھونڈنا، آیت کا معنی ہے جو پرندوں میں سے غائب ہے وہ کون سا پرندہ ہے۔ ہدہد کے غائب ہونے کا واقعہ۔ تفسیر۔ ” فقال مالی لااری الھدھد، مجھے ہدہد دکھائی نہیں دیتا، وہ کہاں غائب ہے ؟ جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ مالی اراک کثیبا، کیا ہوا استفہام تعجبیہ ہے ہدہد معروف پرندہ ہے ہدہد کے گم ہونے اور اس کے سوال کرنے کی وجہ کیا تھی بعض حضرات نے کہا اس کو توبہ کروانی تھی۔ ہدہد کو تلاش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت سلیمان کسی منزل پر اترتے تودھوپ سے بچانے کے لیے پرندے پورے لشکر پر سایہ کرتے اور ہد ہد چڑھ کر زمین کو دیکھتا تھا اور زمین کے اندر پانی کی تلاش کرتا تھا اور پانی کادوریاقریب ہونا معلوم کرتا تھا کیونکہ اس کو زمین کے اندر کی چیزیں اس طرح نظر آتی ہیں جیسے شیشہ کے اندر چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ پانی جہاں نظر آتا ہے وہ ان جاکر چونچ سے زمین کو کریدتا تھا پھر جنات پہنچ کر زمین کو کھود کر پانی برآمد کرلیتے تھے۔ کذا اخرج ابن ابی شیبہ، ،، ، حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا، ابن عباس نے یہ فرمایا تونافع بن ارزق نے کہا، اے بیان کرنے والے دیکھ کیا کہہ رہا ہے سمجھ کے بات کر) ایک بچہ جب جال بچھاکر اس میں مٹی ڈال دیتا ہے اور اس پر دانہ بکھیردیتا ہے توہد ہد کو جال نظر نہیں آتا، اور آکرپھنس جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا تیرا برا ہو جب تقدیری حکم ہوجاتا ہے تو کچھ دکھائی نہیں دیتا، دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ جب قضاوقدر آجاتی ہیی تو نظر جاتی رہتی ہے۔ اور نابینا ہوجاتی ہے غرض حضرت سلیمان ایک منزل پر اترے لوگوں نے پانی تلاش کیا کہیں نہیں ملا، پانی ضرورت سخت تھی۔ حضرت سلیمان نے ہد ہد کو تلاش کرایا، آپ کا خیال تھا کہ وہ حاضر ہوگا لیکن وہ نہیں ملا اور فرمایا کیا ہوا میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا، جب وہ اپنے لشکر کی تقریر میں فرما رہے تھے کہ ہد ہد ان کو دکھائی نہیں دیا۔ اس کے غائب ہونے کی وجہ سے تردد لاحق ہو اور فرمایا ام کان من الغائبین، کیا وہ غیرحاضروں میں سے ہے۔ ام میں میم صلہ ہے۔ بعض نے کہا کہ ، ام بمعنی بل کے ہے۔ پھر اس کے غیب پر ایک وعدہ کیا اور کہا۔
Ayah 27:21

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا میرے سامنے (اپنی بےقصوری) کی دلیل صریح پیش کرے

تفسیر۔ 21۔ لاعذبنہ عذابا شدیدا۔ یعنی میں اس کو سخت عذاب دوں گا تاکہ دوسروں ہدہدوں کو عبرت ہو۔ عذاباشدیدا سے کون سا عذاب مراد ہے۔ عذاب شدید سے کیا مراد تھی، اس کے تعین کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے کہا کہ مراد یہ تھی کہ می اس کے پر وبال اور دم نوچھ کرلوتھڑا بناکردھوپ میں ڈال دوں گا، کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں اس کوکھالیں۔ مقاتل نے کہا میں لوتھڑا بناکرتارکول ملوا کردھوپ میں پھینکوادوں گا بعض نے کہا کہ پنجرہ میں بند کردینا مراد تھا، کسی نے کہا مادہ سے ہمیشہ کے لیے جدا کرنا مقصد تھا یا یہ مطلب تھا کہ میں اس کے مخالف کے ساتھ اس کو قید کردوں گایایہ معنی تھا کہ میں اس کو ساتھیوں کا خدمت گا بنادوں گا، کہ وہ اپنے ساتھ والوں کی خدمت کرتار ہے حضرت سلیمان کے لیے ہد ہد کو عذاب دیناجائز تھا۔ ” اولاذبحنہ اس کی گردن کاٹ دوں گا، اور لیاتنی بسلطان مبین، یا اپنے غائب ہونے کی کوئی قوی دلیل پیش کرے تو پھر بخش دوں گا، یا کوئی عذر لے کر آئے تو پھر بخش دوں گا، ابن کثیر نے ، لیاتینی ، پڑھا ہے نون اول مشدد کے ساتھ اور دوسرے قراء نے ایک نون کے مشدد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ہدہد کی غیرحاضری کا سبب۔ ہدہد کی غیرحاضری کا سبب علماء نے یہ بیان کیا ہے حضرت سلیمان بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوکر حرم کعبہ کو چلے گئے اور اللہ کی مشیت جتنی تھی اس کے مطابق وہاں قیام پذیر رہے۔ جب تک مکہ میں رہے روزانہ پانچ ہزار اونٹیناں ، پانچ ہزار بیل اور بیس ہزار مینڈھے ذبح کرتے رہے ، آپ نے اپنی قوم کے سرداروں سے فرمایا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے نبی عربی جن کے اوصاف یہ ہوں گے برآمد ہوں گے ان کو مخالفین پر فتح یاب کیا جائے ، گا ان کا رعب ایک ماہ کی مسافت تک پڑے گا، نزدیک اور وران ک لیے برابر ہوگا، اللہ کے معاملہ میں وہ کسی ملامت گر کی ملامت کی پر اہ نہیں کریں گے حاضرین نے پوچھا، اے اللہ کےنی ان کا دین کیا ہوگا، فرمایا وہ دین توحید، (دین حنیف یعنی دین ابراہیمی) پرچلیں گے۔ خوشی ہو اس ک لی جوان کو پالے اور ان پر ایمان لائے حاضرین نے دریافت کیا ان کی بعثت میں کتنی مدت باقی ہے۔ حضرت سلیمان نے فرمایا، ایک ہزار ، حاضرین کو چاہیے کہ یہ وہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں حاضر نہیں ہیں، بیشک وہ انبیاء کے سردار اور خاتم المرسلین ہوں گے۔ سلیمان (علیہ السلام) کے ہدہد کی ملکہ بلقیس سے ملاقات۔ روای بیان ہے کہ حضرت سلیمان مکہ میں قیام پذیر رہے جب حج پورا کرلیا توم کہ سے نکلے اور صبح کو مکہ سے روانہ ہوکریمن کی طرف چل دیے ، صنعاء میں زوال کے وقت پہنچ گئے ۔ یہ مسافت ایک ماہ کی راہ تھی ، صنعاء کی زمین کو خوبصورت اور سرسبز پایا۔ آپ نے وہاں اترنے کو پسند کیا تاکہ کھانے اور نماز سے فراغت حاصل کریں۔ ہد ہد نے سوچا کہ سلیمان (علیہ السلام) تو اترنے میں لگے ہوئے ہیں اتنے میں آسمان کی طرف اڑ کر زمین کی لمبائی چوڑائی دیکھ لوں۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اوپرجاکر دائیں بائیں نظر دوڑائی توبلقیس کا ایک باغ نظر آیا۔ ہدہد سبزے کی طرف چل دیا اور باغ میں اتر گیا اور وہاں ایک ہد ہد سے ملاقات ہوگئی۔ ہدہد سلیمان اس ک پاس اتر کر پہنچ گیا۔ ہدہد سیمان کا نام یعفور، اور ہدہد یمن کا نام عنفیر تھا، عنفیر نے یعفور سے پوچھا کہاں سے آئے ہو اور کہاں کا ارادہ ہے ؟ یعفور نے کہا، میں اپنے مالک سلیمان بن داوڈ کے ساتھ شام سے آیا ہوں۔ عفیر نے پوچھا سلیمان کون ہے ؟ یعفور نے کہا وہ جن وانس اور شیطانوں، وحشی جانوروں، پرندوں اور ہواؤں کے بادشاہ ہیں ان کا حکم سب پر چلتا ہے تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ عفیر نے کہا اسی ملک کا باشندہ ہوں۔ یعفور نے پوچھا اس ملک کا بادشاہ کون ہے ؟ عفیر نے کہایہاں کی بادشاہ ایک عورت ہے جس کو بلقیس کہاجاتا ہے۔ بے شک تمہارے آقا کا ملک بڑا ہے لیکن بلقیس کا ملک بھی کم نہیں ہے وہ یمن کی ملکہ ہے اس کی زیر حکم بارہ ہزارجنر ل ہیں اور ہرجنرل کے ماتحت ایک لاکھ سپاہی ہیں یعنی اس قوم کی زراعت اور تجارت پر خوش حالی تھی، زراعت کے لی انہوں نے ایک بہت بڑا بند تعمیر کیا تھا جسے سدمارب کہتے ہیں آب پاشی ک لیے نہروں کا بہترین نظام قائم کیا۔ تجارت کے لیے اس قوم نے بری اور بحری دونوں راستے خود دریافت کیے بحراحمر کی موسمی ہواوں اور زیر آب چٹانوں اور لنگراندازی کے مقامات کا راز یہی لوگ جانتے تھے کیا تم میرے ساتھ چل کر اس کی حکومت دیکھنا چاہتے ہو، یعفور نے کہا مجھے یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ نماز کے وقت سلیمان کو پانی کی ضرورت ہوگی اور مجھے تلاش کریں گے ، عنفیر نے کہاتمہارا مالک اس بات سے خوش ہوگا کہ تم اس کو اس ملکہ کی خبر بتاؤ گے۔ یعفور نے عفیر کے ساتھ بلقیس کو اور اس کی حکومت کو دیکھا اور حضرت سلیمان کے پاس عصر کے وقت سے پہلے نہ پہنچ سکا۔ ہدہد کے بغیر کوئی بھی پانی تلاش نہ کرسکا۔ ادھر جب حضرت سلیمان اترپڑے تو اس جگہ پانی نہ تھا، نماز کا وقت آگیا اور پانی کی ضرورت ہوئی تو پانی نہیں ملا، آپ نے جنات سے آدمیوں سے اور شیاطین سے پانی کے متعلق دریافت کیا لیکن کسی کو معلوم نہ تھا کہ پانی کہاں ہے۔ پرندوں کی تلاش کی توہدہد کو غیرحاضر پایا۔ پرندوں کے عریف یعنی گدھ کو طلب فرمایا اور ہدہد کے متعلق اس سے پوچھا گدھ نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں۔ وہ کہاں ہے میں نے تو اس کو کہیں نہیں بھیجا ہے۔ اس وقت حضرت سلیمان کو غصہ آگیا، اور فرمایا، لاعذبنہ عذاباشدیدا، ،، پھر پرندوں کے سردار عقاب کو بلوایا اور حکم دیا کہ ابھی ہدہد کو پکڑلاؤ۔ عقاب فورا اڑا اور آسمان کے نیچے ہوا کے ساتھ چسپاں ہوگیا، وہاں سے اس کو یہ دنیا ایک پیالہ کی طرح نظرآئی پھر ادھر ادھر نظردوڑائی تویمن کی طرف سے ہدہد بھی آتا دکھائی دیا۔ عقاب اس پر ٹوٹ پڑا، ہدہد نے عقاب کو اپنی طرف آتا دیکھاتوسمجھ گیا کہ عقاب کا اراادہ میرے متعلق برا ہے۔ ہدہد نے اس کو قسم دی کہ اور کہا میں تجھے اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے تجھے طاقت عطا کی ہے اور مجھ پر قدرت دی ہے تو مجھ پر رحم کر اور کوئی دکھ پہنچانے کے درپے نہ ہو۔ عقاب ہدہد کی طرف سے پلٹ گیا، کم بخت تومرے اللہ کے پیغمبر نے قسم کھالی ہیے کہ وہ تجھے عذاب دیں گے یاذبح کر ڈالیں گے اس کے بعد دونوں نے حضرت سلیمان کی طرف رخ کردیا۔ جب لشکر تک پہنچے توگدھ اور دوسرے پرندوں نے جالیا اور کہا اے آج تو دن بھر کہاں غائب رہا، اللہ کے پیغمبر نے تیرے متعلق یہ یہ کہا تھا۔ ہدہد نے کہا کیا انہوں نے اپن قسم میں کسی قسم کی شرط بھی لگائی تھی ؟ پرندوں نے کہاہاں یہ بھی فرمایا تھا، او لیاتینی بسلطان مبین، ہدہد نے کہا بس تو میں عذاب سے بچ گیا۔ پھر عقاب اور ہدہد اڑ کر حضرت سلیمان کی خدمت میں پہنچے آپ اس وقت کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے عقاب نے کہایانبی میں اس کو لے آیا۔ ہدہد نے حضرت سلیمان کو دیکھ کر اظہار عاجزی کے طور پر اپناسر اٹھایا دم اور دونوں بازو نیچے کو لٹکائے اور زمین پر ان کو کھینچنے لگا، جب آپ کے قریب پہنچ گیا تو آپ نے اس کا سرپکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرمایا تو کہاں تھا میں تجھے ضرور سخت عذاب دوں گا، ہدہد نے کہا، یانبی اللہ، اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے یہ بات سن کر حضرت سلیمان لرز گئے اور ہدہد کو معاف کردیا اور پھر غیرحاضری کی وجہ دریافت کی۔
Ayah 27:22

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ (ہد ہد آموجود ہو اور) کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں

22۔ فمکث ، ، عاصم نے اور یعقوب نے کاف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے ان دونوں کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اس میں دونون لغات ہیں۔ غیربعید، وہ جو طویل نہ ہو، فقال احط بمالم تحط بہ ، ، کسی چیز کا ہمہ جہتی پورا پورا علم جیسا کہ کہاجاتا ہے ، علمت مالم تعلم، تو میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور مجھے ایسی خبر پہنچی ہے جو تجھ تک نہیں پہنچی اور نہ آپ کے لشکر کو کوئی خبر پہنچی۔ وجئتک من سبا، ابوعمر اوربزی ابن کثیر سے روایت نقل کی ہے کہ ، سبا، ، لسبا، ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ اور قواص نے ابن کثیر سے ساکن پڑھا ہے۔ اور بغیرہمزہ کے اور دوسرے قراء نے ہمزہ کے جر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور جو حضرات اس کو جر نہیں پڑھتے وہ اسکوشہر کا نام قرار دیتے ہیں اور جو حضرات اس کو جر دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ بندے کا نام ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ سے قوم سبا کے متعلق دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا سباایک آدمی تھا جس کے دس بیٹے تھے جن میں سے چھ دائیں جانب اوچار بائیں جانب کو چلے گئے۔ یعنی چھ نے دائیں طرف جاکرآبادی کرلی اور یہ ملک یمن کہلایا اور چار بائیں جانب جاکرآباد ہوئے۔ یہ ملک شام کہلایا، بنبا، خبر دی، (یقین) سلیمان علیہا لسلام نے پوچھا توہدہد نے کہا،۔ ہدہد کی کارگزاری ملکہ بلقیس کے متعلق۔
Ayahs 27:23–24

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے انکے اعمال انھیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور انکو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ راستے پر نہیں آئے (اور نہیں سمجھتے )

تفسیر۔ 23۔ انی وجدت امراۃ تملکھم، ، میں نے ایک ایسی عورت کو دیکھا جو سباوالوں پر حکمرانی کرتی ہیی یعنی ان کی ملکہ ہے۔ ملکہ سباکانام بلقیس بنت شراحیل تھا، وہ بعرب بن قحطان کی نسل سے تھی۔ اس کا باپ بہت بڑا بادشاہ تھا، جس کے 39 آباؤ و اجداد بادشاہ ہوکرگزرے تھے وہ خود چالیسواں تھا، ملک یمن پر حکومت کرتا تھا اور سرحدی ہمسر بادشاہوں میں سے کسی کو اپناہمسر نہیں جانتا تھا۔ اس لیے اس نے ہر بادشاہ کی بیٹی سے نکاح کرنے سے انکار کردیا تھا، آخراس کا نکاح خاندان جنات) میں سے ایک پری سے ہوگیا جس کا نام ریحانہ بنت سکن تھا۔ اس پری ک پیٹ سے بلقیس بنت شراحیل پیدا ہوئی۔ سوائے بلقیس کے شراحیل کے کوئی اور بچہ نہ تھا حدیث میں آیا ہے کہ بلقیس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک جنات میں سے تھا۔ (مترجم کو یہ حدیث کہیں نہیں ملی یا حدیث سے مراد قصہ ہے یعنی بلقیس کے قصہ میں یہ بات آئی ہے کہ بلقیس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک از قوم جن تھا۔ واللہ اعلم) ۔ باپ کے مرنے کے بعد بلقیس نے ملکہ بننے کی خواہش کی اور اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ قوم میں سے کچھ لوگوں نے مان لیا اور کچھ نے مخالفت کی۔ مخالفین نے ایک اور شخص کو اپنا بادشاہ بنالیا قوم دوفرقوں میں بٹ گئی۔ یمن کی مملکت کے بھی دوٹکڑے ہوگئے جس مرد کو بادشاہ بنایا گیا تھا اس نے لوگوں سے بہت براسلوک کیا، رعیت کی عورتوں پر دست درازی کرنے لگالوگوں نے اس کو معزول کرنا چاہا لیکن اس کی طاقت زیادہ تھی کچھ بس نہ چلا۔ بلقیس نے جب عورتوں کی یہ بےحرمتی دیکھی تو اس کو غیرت آئی اور اس نے اس ظالم بادشاہ کے پاس از خود تحریر بھیجی اور خواہش کہ تم مجھ سے نکاح کرلوتا کہ دو ونوں حکومتیں ایک ہوجائیں اور قومی نفاق مٹ جائے بادشاہ نے جواب لکھا مجھے تمہاری طرف سے امید نہ تھی کہ تم میرے پیام نکاح کو قبول کرلو گی۔ اسی لیے میں نے اپنی طرف سے نکاح کی تحریک نہیں کی۔ بلقیس نے کہا مجھے کوئی عذر نہیں، تم میرے کفو اروشریف ہو اور اب میری قوم والوں کو جمع کرکے ان کے سامنے مجھ سے نکاح کرنے کی درخواست رکھو، بادشاہ نے لوگوں کو جمع کیا اور سب کو نکاح کاپیام سنایا، لوگوں نے کہا ہمارے خیال میں توبلقیس راضی نہیں ہوگی۔ بادشاہ نے کہاپیام اس کی طرف سے ہے، میں آپ لوگوں سے یہ چاہتا ہوں کہ اس کی زبان سے تم خود اس کا اقرار سن لو، قوم والوں نے آکربلقیس سے اسکا ذکر کیا، بلقیس نے کہا ہاں مجھے اولاد کی تمنا ہے۔ غرض لوگوں نے بلقیس کا نکاح بادشاہ سے کردیا۔ بلقیس وداع ہوگئی واپنی بہت سی فوج کو جلو میں لیتی گئی اور بادشاہ کے پاس پہنچ گئی تو اس کو اتنی شراب پلائی کہ وہ بےہوش ہوگیا پھر اس کا سرکاٹ کر رات کو ہی اپنے گھرواپس آگئی، صبح ہوئی اور لوگوں نے بادشاہ کو مقتول اور سر دروازہ پر لٹکا ہواپایا تو سمجھ لیا کہ یہ نکاح ایک فریب ومکر تھا، اس کے بعد سب لوگوں نے بالاتفاق بلقیس کو ملکہ مان لیا۔ حضرت ابوبکر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کو جب خبرملی کہ فارس والوں نے کسری کی بیٹی کو اپنی ملکہ بنالیا ہے تو فرمایا کہ وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے ایک عورت کو اپنے امر کا ولی (یعنی اپنی ملکہ ) بنالیاہو۔ (رواہ البخاری، والترمذی، والنسائی) ۔ ” واوتیت من کل شی) ، جس کی طرف بادشاہوں کو حاجت ہوتی ہے ، مثلا اسلحہ کا سامان اور لشکر، ولھاعرش عظیم، حجم مین بڑا سونے کا بنا ہوا، سرخ یاقوت، سبز زبرجد اور موتیوں سے مرصع، جس کے ستون (پائے) یاقوت اور زبرجد کے ہیں۔ اس کے اوپرسات کمرے تھے اور ہر کمرے کا دروازہ علیحدہ تھا جو بندرہتا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ بلقیس کا تخت تیس ہاتھ لمبا اور تیس ہاتھ چوڑا تھا، مقاتل کا بیان ہے کہ طول اسی ہاتھ تھا۔ اور اونچائی تیس ہاتھ اور ہوا میں اس کا طول اسی ذراع تھا۔ بعض نے کہا کہ اس کا طول ذراع اور اس کی چوڑائی چالیس ذراع اور اس کی بلندی تیس ذراع تھی۔
Ayah 27:25

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کہ خدا کو جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کردیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں نہ سجدہ کریں

25۔ الایسجدوا، ، ابوجعفر کسائی نے ، الایسجدوا ، تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ جب وہ کھڑے ہوتے ہیں تویوں کہتے ہیں، ، الایاثم، اے گناہ گار کیا تم اللہ کو سجدہ نہیں کرتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ، الایاھو ا اسجدوا، یہ جملہ امر یہ مستانفہ ہے بعض نے کہا کہ یہ عرب سے اسی طرح سماعا منقول ہے جیسے عرب کے ہاں یہ مشہور ہے ، الایا ارحمون، اسی طرح یہاں بمعنی کلمہ معترضہ کے ہے۔ عبارت یوں تھی ، امامن الھد ھد واما من سلیمان، ابوعبیدہ کا قول ہے کہ اللہ کا مذکورہ حکم جملہ مستانفہ ہے۔ یعنی اے لوگو، اللہ کو سجدہ کرو۔ دوسرے قراء نے ، الایسجدوا ، تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کردیا تاکہ یہ اس کو سجدہ کریں۔ للہ الذی یخرج الخبا، یعنی پوشیدہ چھی ہوئی بات۔ فی السماوات والارض، زمین اور آسمان میں اس سے کوئی چیز بھی چھی ہوئی نہیں۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ ، خباء السموات اور خباء الارض، منبرہ کو کہتے ہیں اور عبداللہ کی یہی قرات ہے۔ یخرج الخبا من السماوات والارض، اور اس میں جو کچھ بھی ہے وہ اپنی رفتار سے چل رہا ہے۔ عرب کا قول ہے کہ میں تمہی اس شہر سے نکالوں گا جس کا ہم نے ارادہ کیا ہے ۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ غیب ، آیات کا مطلب ہے کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ اشیاء کو جانتا ہے۔ ” ویعلم ماتخفون وماتعلنون، کسائی نے حفص عن عاصم سے بیان کیا کہ یہ تاء کے ساتھ ہے کیونکہ پہلی قرات میں خطاب کا صیغہ ہے اور کسائی نے قرات پر تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 27:26

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے

26۔ اللہ لاالہ الاھورب العرش العظیم، ، وہی عبادت کا مستحق اور سجود کا مستحق ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں ۔ ملکہ سبا کا عرش اگرچہ بڑا تھا لیکن اللہ عزوجل کے عرش کے مقابلے میں ایک جنب سے بھی حقیر تھا، یہاں پر ہدہد کا کلام تام ہوا جب ہدہد اپنے کلام سے فارغ ہوا ۔
Ayah 27:27

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

(سلیمان نے) کہا (اچھا) ہم دیکھیں گے تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے

27۔ قال، ، حضرت سلیمان نے ہدہد سے کہا، سننظراصدقت، جو تونے ہم کو خبر پہنچائی ہے کیا وہ سچی ہے یا نہیں ؟ ام کنت من الکاذبین، پھر ہدہد نے لوگوں کو پانی بتایا، پھر لوگوں نے گڑھے کھود کر پانی خود بھی پیا اور جانوروں کو بھی پلایا۔ حضرت سلیمان کامل کہ بلقیس اسلام کی دعوت پر خط لکھنا۔ حضرت سلیمان نے ایک خط اس طرح ، بندہ خدا سلیمان بن داؤد کی طرف سے بلقیس کے نام۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، سلام ہو اس پر جو ہدایت پر چلے ۔ امابعد، میرے مقابلے میں فخرنہ کرو اور اطاعت گزار ہوکر میرے پاس آجاؤ، ابن جریج نے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان نے صرف اتنے ہی الفاظ لکھے جتنے اللہ نے اپنی کتاب میں نقل کیے ، قتادہ نے کہا انبیاء کی تحریریں ایسی ہی مختصر ہوتی ہیں۔ وہ کلام کو طول نہیں دیتے نہ زیادہ بات لکھتے ہیں خط لکھ کر حضرت سلیمان نے اس پر مشک چسپاں کیا اور اس پر مہر لگاکرہدہد کے حوالے کردیا اور فرمایا۔
Ayah 27:28

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا خط لے جا اور اسے انکی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

28۔ اذھب بکتابی ھذافالقہ الیھم، ،، ابوعمرو عاصم ، حمزہ حاء کے ساکن کے ساتھ ، ابوجعفر ، یعقوب نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ثم تول عنھم، ان سے ذرا دور رہ کر دیکھنا، فانظر ماذایرجعون، وہ اس خط کا جواب کیسے دیتے ہیں، کیا جواب دیتے ہیں ۔ ابن زید کا قول ہے کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اصل میں اس طرح عبارت تھی، اذھب بکتابی ھذا فاقلہ الیھم فانظر ماذایرجعون، ، میرے اس خط کو لے جاؤ اور اس کو ان تک پہنچادو، اور دیکھو اس کا ردعمل کیا ہے وہ کیا کرتے ہیں۔ ہدہد خط لے کر بلقیس کے پاس پہنچا بلقیس اس وقت صنعاء سے تین منزل پر مقام مارب میں تھی، ہدہد ملکہ کے قصر میں پہنچاتودروازے سب بند تھے اور کنجیاں ملکہ نے اپنے سرہانے رکھ لیں تھیں، غرض ہدہد بلقیس کے قریب پہنچ گیا بلقیس چت لیٹی سو رہی تھی ہدہد نے خط اس کے سینہ پر رکھ دیا۔ بلقیس پڑھی ہوئی تھی خط لے کر مہر دیکھی مہر دیکھتے ہی لرز گئی کیونکہ حضرت سلیمان کی حکومت کا نقشہ مہر میں موجود تھا، وہ سمجھ گئی کہ جس نے یہ خط بھیجا ہے وہ مجھ سے بڑا بادشا ہ ہے ہدہد خط پھینک کر کچھ پیچھے ہٹ گیا بلقیس نے خط پڑھا پھر جاکرتخت پر بیٹھی ، اور اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا، یہ سردار بارہ ہزار تھے ہر سردار کے ماتحت ایک لاکھ سپائی تھے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے کہ بلقیس کے ساتھ ایک لاکھ اقیال تھے اور ہر قیل کے پاس ایک لاکھ فوج تھی، قیل بمعنی نواب یا بادشاہ سردار کو کہتے ہیں قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ بلقیس کی مشورہ کمیٹی 313 آدمیوں پر تھی، ہر ممبر شوری کے تحت دس ددس ہزار سپاہی تھے سب آکر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔
Ayah 27:29

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

(ملکہ نے) کہا دربار والو ! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے

تفسیر۔ 19۔ قالت، ، بلقیس نے ان سب سے کہا، یا ایھا الملاء ، اے سردار اپنی قوم کے شرفاء لوگ تھے۔ بلقیس نے خط کو کریم کہا مختلف وجوہ سے ۔ ” انی القی الی کتاب کریم، ، عطاء اور ضحاک کا قول ہے کہ اس خط کو کریم اور معزز اس لیے کہا گیا کہ اس پر مہر لگی ہوئی تھی ابن جریر نیابن عباس ؓ عنہماکے حولے سے لکھا ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا خط کا معزز ہونا اس کی مہر کی وجہ سے تھا، قتادہ اور مقاتل کا قول ہے کہ کتاب کریم سے مراد ، حسن، ہے یعنی عمدہ اور اچھا، زجاج نے بھی اسی ترجمہ کو پسند کیا ہے۔ پھر بلقیس نے بتلایا کہ یہ خط کہاں سے آیا اور کس طرح آیا۔
Ayah 27:30

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

30۔ وہ کہنے لگی ، انہ من سلیمان ، اور خط کھول کر بیان کردیا، اور کہا، وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
Ayah 27:31

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(بعد اس کے یہ) کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع و منقاد ہو کر میرے پاس چلے آؤ

31۔ الاتعلواعلی، ، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے اس کا ترجمہ کیا کہ میرے سامنے تکبر نہ کرو اور بعض نے کہا کہ میری آواز سے اپنی آواز کو بلند نہ کرو، بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ میری بات کا جواب دینے سے انکار نہ کرنا، کیونکہ جواب کا ترک کردینا تکبر یا اپنے آپ کو بلند سمجھتے ہوئے ہوتا ہے۔ واتونی مسلمین، ، مجھ پر ایمان لانے اور میری فرمانبرداری کرنے والے بن جاؤ، بعض نے کہا کہ جس طرح میں اسلام نے اس خط کو تسلیم کیا ہ اسی طرح تم بھی تسلیم کرلو، بعض نے کہا کہ اس کا مطلب ہیے کہ جس طرح میں نے اسلام کو تسلیم کرلیا تم بھی کرلو۔
Ayah 27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(خط سنا کر) کہنے لگی کہ اہل دربار میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو جب تک تم حاضر نہ ہو (اور اصلاح نہ دو ) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں

32۔ قالت یا ایھا الملوء افتونی فی امری، ، میں نے جو کچھ تمہیں پیش کیا ہے اس کا مشورہ دو اور جواب دو ، ماکنت قاطعۃ، میں اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرپاتی۔ امراحتی تشھدون، جب تک حاضر کیا جائے یاس کے متعلق مجھے باخبر نہ کیا جائے۔
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم بڑے زور آور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے تو جو حکم کیجیے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجئے گا

33۔ قالوا، بلقیس کا جواب دیتے ہوئے کہنے لگے ، نحن اولواقوۃ، ہم قتال کرنے کے لیے مضبوط اور قوی ہیں۔ واولواباس شدید، اور جنگ کے وقت بھی زیادہ ہیں۔ مقاتل کا بیان ہے کہ قوۃ سے مراد تعدادی قوت اور کثرت اور باس سے مراد ہے شدت شجاعت۔ یہ قول بطور تعریض کے ذکر کیا گیا ہے اگر تم ہمیں قتال کا حکم کرو گی تو کبھی ہم پیچھے نہیں ہٹے گے اور کہنے لگے، والامر الیک، اے ملکہ بادشاہ، یہ امراب تمہارے ہاتھوں میں ہے چاہیں توقتال کا حکم دیں اور چاہیں توترک کردیں، فانظری، اپنی رائے پر غور کریں۔ ماذاتامرین، یا اپنے کام میں نظرثانی کرکے ہمیں حکم دیدیں۔
Ayah 27:34

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسکو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں عزت والوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے

34۔ قالت، ، بلقیس ان کو جواب دیتے ہوئے بولی ، ان الملکوک اذا دخلوا قریۃ، جبراداخل ہوتے ہیں ، افسدوھا، تو اس بستی کو ہلاک کردیتے ہیں ، وجعلوا اعزۃ اھلھا اذلہ، ، انکے شرفاء اور بزرگوں کو ہلاک کردیتے ہیں ان سب کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ ہم ان سے ڈریں اور ان کے شہر میں داخل ہوجائیں، اور اس خبر سے انکوروکا کہ کسی کونہ بتلائیں تو اللہ نے اس کے قول کی تصدیق کی اور کہا، وکذالک یفعلون، جیسا کہ تونے ہمیں حکم دیا ہے ہم ویسا ہی اس حکم کو بجالائیں گے۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں انکی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں

35۔ پھر وہ کہنے لگی ، وانی مرسلۃ الیھم بھدیہ، ہدیہ وہ چیز جو تحفہ اور عطیہ میں دی جائے۔ وہ عورت سیاست میں ماہر تھی بلقیس کے قوم کے سرداروں نے کہا ہم بلقیس کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں۔ سلیمان (علیہ السلام) اور اس کی قوم کی طرف ایک ہدیہ لے کر آئے ہیں۔ ہمیں خبر ملی ہے کہ وہ بادشاہ اور نبی ہیں۔ اگر وہ بادشاہ ہیں توہدیہ قبول کرلیں گے اور ہم واپس چلے جائیں گے اور اگر وہ نبی ہیں تو ہمارا ہدیہ قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ اسبات سے راضی ہوں گے کہ وہ ہماری تابعداری کریں ۔ فناظرۃ بم یرجع المرسلون، اس نے ہدیہ میں غلام اور باندیاں بھیجیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا سب کو ایک ہی طرح کالباس پہنادیا تاکہ شناخت نہ ہوسکے۔ خلاصہ یہ کہ آپ نے سب کو الگ الگ چھانٹ دیا پھر لائے ہوئے ہدیے واپس کردیے ۔ جیسا کہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تمام تفصیل بغوی نے بیان کی جو مختلف روایات سے ماخوذ ہے، بعض باتیں ابن ابی حاتم نے سدی کی روایت سے اور بعض باتیں ابن ابی حاتم اور ابن المنذر دونوں نے یزید بن رومان کی روایت سے بیان کی ہیں۔
Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہو گے

تفسیر۔ 36۔ فلماجاء سلیمان قال اتمدونن بمال، حمزہ اور یعقوب نے ، اتمدوننی، ذکر کیا، ایک نون کے ساتھ اور یاء کے ثابت کے ساتھ اور دوسرے قراء نے اس کو دونوں تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یاء کو باقی رکھا ہے اور دوسرے قراء نے اس کو حذف کے ساتھ ذکر کرکے پڑھا ہے۔ فمااتانی اللہ ، کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت دی حکمت اور بادشاہت عطا کی ہے۔ ” خیر “ وہ بہتر ہے افضل ہے۔ ممااتاکم بال انتم بھدیتکم تفرحون، یہ تو دنیاوی لوگوں کے لیے باعث فخر ہے۔ اور دنیاوالوں کے لیے اس میں کثرت ہے۔ اس وجہ سے وہ ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں۔ میں ان کی وجہ سے خوش نہیں ہوا اور نہ ہی دنیا میں مجھے ان چیزوں کی ضرورت ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دنیا میں کچھ دن ک لیے ٹھکانا دیا اور اس میں سے ضرورت کی اشیاء مجھے عطا کی ہے جو تم سے کسی کو بھی عطا نہیں کیا گئیں، اور اس کے علاوہ مجھے میرا اکرام بخشادیں اور نبوت کے ساتھ، پھر منذر بن عمرو نے جو وفد کا امیر تھا اس نے کہا،۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

اس کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی انکو طاقت نہ ہوگی اور انکو وہاں سے بےعزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے

37۔ ارجع الیھم، ہدیہ دے کر واپس لوٹ جاؤ، فلناتینھم بجنود لاقبل لھم، اس کی طاقت نہیں، بھاولنخرجنھم منھا، اور وہ تمہیں تمہارے شہر سبا سے تمہیں نکال دیں گے ۔ اذلۃ وھم صاغرون، وہ ذلیل ہیں اگر تم اسلام قبول نہیں کرو گے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہدایا اور واپس لوٹا دینا۔ وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ جب وفد یمن حضرت سلیمان کے پاس سے لوٹ کر بلقیس کے پاس پہنچا توبلقیس نے کہاو اللہ میں تو پہلے ہی پہچان چکی کہ وہ بادشاہ نہیں ہیں اور ان کے مقابلے کی ہم میں سکت نہیں ہے اس کے بعد بلقیس نے حضرت سلیمان کے پاس پیغام بھیجا کہ میں خود اپنی قوم کے سرداروں کے ساتھ آپ کے پاس آرہی ہوں اور دیکھوں گی کہ جس دین کی طرف آپ ہم کو بلا رہے ہیں وہ کیا ہے پھر بلقیس نے حکم دے کر اپنے تختہ کو تہ بہ تہ سات کمروں میں بند کر ا کے دروازوں کو مقفل کرادیا، سات محلوں کے اندر اس کو رکھوایا اور حفاظت کے لیے کچھ نگران مقرر کرلیے اور اپنے نائب سے کہا تم یہاں کے حالات کے نگران رہنا میرے تخت تک کوئی پہنچنے نہ پائے اور اس کو کوئی خراب نہ کرے پھر اعلان والے کو یہ حکم دیا کہ تمام ممالک محروسہ کے باشندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم کوچ کررہے ہیں، اس کے بعد یمن کے بارہ ہزار نوابوں کو لے کر روانہ ہوگئی ہرنوابت کے تحت ہزاروں سپاہی تھے۔ حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حضرت سلیمان اور بڑے وقار اور رعب والے آدمی تھے۔ اگر کسی سے کچھ دریافت کرتے تھے تو اس کی مجال نہ ہوتی کہ خود اپنی طرف سے جواب دے سکے بلکہ وہ آپ پر ہی آپ کے سوال کا جواب محول کردیتا ۔ ایک روز اپنے تخت حکومت سے باہرنکل کر تشریف فرما تھے کہ ایک غبار قریب ہی اڑتا نظر آیا اور دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ حاضرین نے عرض کیا بلقیس اس جگہ آکراتری ہے یہ مقام حضرت سلیمان کی مجلس سے ایک فرسخ پر تھا۔ حضرت سلیمان نے یہ بات سن کر اپنے لشکروں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

(سلیمان) نے کہا کہ اے دربار والو ! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اسکے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے

38۔ قال یا ایھا الملاء ایکم یاتینی ، ،، اس کے ایمان لانے سے پہلے۔ بلقیس کے تخت کو حاضر کرنے کا حکم۔ ابن عباس نے فرمایا ا س کی اطاعت کرنے سے پہلے حضرت سلیمان کی ارشاد کی وجہ سے آئمہ مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ انہوں نے بلقیس کے تخت کو حاضر کرنے کا کیوں حکم دیا ؟ اکثر مفسرین نے اس کا یہ جواب نقل کیا ہے حضرت سلیمان جانتے تھے کہ اس کے اسلام لانے کے بعد اس کے مال پر قبضہ نہیں کرسکتے اور اس کی رضامندی سے اس کا تخت لینا حضرت سلیمان کے لیے جائز نہیں، اس لیے ارادہ کیا اس کے اسلام لانے سے پہلے اس کو اپنے پاس حاضر کیا جائے۔ بعض نے یہ جواب دیا کہ تاکہ اس کے ذریعے سے اس کو اللہ کی قدرت کا مشاہدہ کروائیں، قتادہ کا قول ہے کہ ان کو اس کے اس تخت کی صفات عجیب معلوم ہوئیں۔ جب ہدہد نے ان کو تصیل بتلائی تھی حضرت سلیمان پسند کرتے تھے کہ اس کودیکھیں، ابن زید کا قول ہے کہ بلقیس کی عقل کی آزمائش تھی کہ کیا وہ اپنے تخت کو پہچان لے گی۔
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اسکے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اسکو پاس لا حاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں

39۔ قال عفریت من الجن، ، ایک قوی دیو نے کہا، وہب کا بیان ہے کہ اس کا نام کو ذی تھا، بعض نے کہا کہ اسکانام ذکوان ہے ۔ ابن عباس کا قول ہے یہ عفریت ایک پہاڑ کی طرح تھا، ضحاک کا قول ہے اس سے مراد خبیث دیو ہے۔ ربیع نے کہا کہ اس سے مراد غلیظ ہے ۔ فراء کا قول ہے کہ اس سے مراد سخت قسم کادیو ہے۔ ” انااتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک، ، اس جگہ سے جس جگہ آپ بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ حضرت سلیمان ہر صبح کو مجلس کرتے تھے جو دوپہر تک جاری رہتی تھی۔ وانی علیہ، اس کے اٹھانے کے لیے ، تقوی امین، یعنی جواہر سے وہ مرصع تھا ان میں کمی نہیں کروں گا، حضرت سلیمان نے فرمایا میں اس سے زیادہ جلد منگوانا چاہتا ہوں۔