Ayahs 28:1–3تفسیر۔
3۔ نتلو علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق، حق سے مراد صدق ہے ۔ لقوم یومنون، اور وہ قرآن کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 28:44۔ ان فرعون علا، اس نے تکبر کیا مغرور ہوگیا، اور ظالم بن گیا۔ فی الارض، مصر کی زمین میں ، وجعل اھلھا شیعا، فرقے فرقے کہ سب فرعون کے تابع تھے، فرعون جو کام لیناچاہتا تھا وہ کرتے تھے۔ یستضعف طائفۃ منھم، طائفہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ پھر استضعاف کی وضاحت کردی اور فرمایا ، یذبح ابناء ھم ویستحی نساء ھم، ان کو استضعاف اس لیے فرمایا کیو کہ یہ اس سے عاجز تھے یا اپنے آپ سے اس ظلم کو دور کرنے سے عاجز تھے ، انہ کان من المفسدین ۔
Ayah 28:55۔ ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض، اس سے مراد بنی اسرائیل ہے۔ ونجعلھم ائمۃ، جو نیک راستے پرچلنے والے اور ان کی اقتداء کرنے والے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد والیا ن ملک اور بادشاہ مراد ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے متعلق اور آیت میں فرمایا، وجعلم ملوکا، مجاہد کے نزدیک دینی پیشوا اور داعیان خیرمراد ہیں۔ ونجعلھم الوارثین، یعنی فرعون اور اس کی قوم کے گھروں اور ملک ومالک کے وارث بنادیں گے۔
Ayah 28:66۔ ونمکن الھم فی الارض، ا اور تمہیں ارض مصر اور شام میں ٹھکانہ عطا کردیں گے۔ اور تمہارے لی مکان بنائیں گے جس میں تم ٹھہرو گے۔ ونری فرعون، اعمش، حمزہ کسائی نے یر ی کی یاء کے ساتھ مفتوح پڑھا ہے۔ وھامان وجنودھما، ان سب کو مرفوع پڑھا ہے کیونکہ یہ ان کے لیے فعل ہے۔ دوسرے قراء نے نون کے ساتھ مضموم پڑھا ہے۔ راء کے کسرہ کے ساتھ یاء کے نصب کے ساتھ اور اس کے مابعد کو بھی نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ منھم ماکانوا یحذرون حذرکامعنی ہے ضرر سے بچنا کیونکہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو (نجومیوں سے) اطلاع ملی تھی کہ بنی اسرایئل میں سے ایک آدمی کے ہاتھوں سے اس کی تباہی ہوگی اس لیے ان کو بنی اسرائیل کی طرف سے اندیشہ لگارہتا تھا لیکن اللہ ان کے سامنے وہی بات لے آیاجس سے وہ بچاؤ کرنا چاہتے تھے۔
Ayah 28:77۔ واوحینا الی ام موسی، ، یہاں پر وحی سے مراد الہام ہے ۔ نبوت والی وحی نہیں جو وحی انبیاء کرام پر نازل ہوا کرتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہم نے ان کے دل پر ڈال لی، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا نام یوحابذ بنت لاوی بن یعقوب ہے۔ ان ارضعیہ ، ،
حضرت موسیٰ کی والدہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتناعرصہ دودھ پلایا۔
دودھ پلانے کی مدت رضاعت میں ائمہ مفسرین کرام کا اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ آٹھ ماہ اور بعض نے کہا چار ماہ اور بعض نے تین ماہ ۔ موسیٰ کی والدہ موسیٰ کی گود میں لیے دودھ پلاتی رہتی تھیں اور نہ وہ روتے تھے اور یہ حرکت کرتے تھے۔ فاذاخفت علیہ، اور جب اس کی طرف سے جاسوسوں کے مطلع ہونے کا خوف ہوا اندیشہ ہوا کہ کہیں فرعون کے کارندے حضرت موسیٰ کو ذبح ہی نہ کر ڈالیں۔ فالقیہ فی الیم، سے مراد سمندر ہے۔ یہاں اس سے مشہور دریادریائے نیل ہے۔ ولاتخافی ، اور اس کے غرق ہونے سے نہ ڈریں۔ بعض نے کہا کہ اس کے ضائع ہونے سے نہ گھبرائیں۔ ولاتحزنی ، اور اس کی جدائی کی وجہ سے غمگین نہ ہوں۔
” انارادوہ الیک، وجاعلوہ من المرسلین، عطاء اور ضحاک سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا مصر میں جب بنی اسرائیل کی تعداد زیادہ ہوگئی اور لوگوں پر انہوں نے دراز دستی شروع کردی اللہ کی نافرمانیاں کرنے لگے نہ بھلائی کا کسی کو حکم دیتے اور نہ گناہ سے روکتے تھے آخر اللہ نے ان پر قبطیوں کو مسلط کردیا، قبطیوں نے ان کا زور توڑ دیا اور بہت زیادہ کمزور بنادیا۔ بالاآخر اللہ نے اپنے نبی موسیٰ کے ذریعے قبطیوں کے تسلط سے ان کو رہا کردیا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن میں فرعون ک پاس کیسے پہنچے۔
حضرتابن عباس ؓ عنہماکابیان ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا زمانہ قریب آیا توموسی کی والدہ نے ایک دایہ کو بلایا اور یہ دایہ انہیں دایوں میں سے تھھی جو فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کی حاملہ عورتوں کے لیے مقر ر تھی لیکن موسیٰ کی والدہ کی دوست تھی دردزہ ہوئی تو اس کو بلوایا وہ آگئی اس سے کہا میری جو حالت ہے تجھے معلوم ہے آج تیری دوستی سے فائدہ حاصل کرنا ہے دائی اپنے کام میں لگ گئی ، جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور دائی کے ہاتھوں میں آگئے توموسی کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے نکلتا ہوانور دیکھ کردائی حیرت زدہ ہوگئی۔ اس کا ہر جوڑ لرز اٹھا، پورے بدن میں سنسی پیدا ہوگئی اور حضرت موسیٰ کی محبت اس کے دل میں جم گئی۔ موسیٰ کی والدہ سے کہنے لگی تونے جب بلوایا تھا اور تیرے پاس آئی تھی اس وقت میرے پیچھے تیرے بیٹے کو قتل کرنے والے تھے۔ (میرا ارادہ تھا کہ تیرے بیٹے کو قتل کرنے والوں کے حوالے کردوں گی۔ ) لیکن اب میرے دل میں تیرے بیٹے کی محبت ایسی معلوم ہوتی ہے کہ ایسی محبت میں نے کسی کی نہیں اس لیے میں کہتی ہون کہ اپنے بیٹے کی حفاظت رکھنا، پھر دائی کو موسیٰ کی ماں کے گھر سے نکلتے کسی جاسوس نے دیکھ لیا، فورا سب دروازے پر آگئے اور اندر گھسناچا ہے، حضرت موسیٰ کی بہن دوڑی ہوئی آئی اور کہنے لی امان دروازہ پر سپاہی آگئے فورا موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بہن نے تنور میں ڈال دیا، تنور میں آگ روشن تھی لیکن ان کے اوسان خطا ہوگئے اس کو پتہ بھی نہ چلا کہ میں کیا کررہی ہوں سپاہی اندر آگئے تنور بھڑ ک رہا تھا اور حضرت موسیٰ کی والدہ کے چہرے پر کوئی تغیر نہیں تھا، نہ چہرے کے رنگ میں فرق تھا نہ دودھ اترا تھا کہنے لگی دائی یہاں کیوں آئی تھی ؟ حضرت موسیٰ کی والدہ نے کہا کہ وہ میری دوست ہے ملاقات کے لیے آئی تھی غرض وہ لوگ واپس چلے گئے۔
اب حضرت موسیٰ کی والدہ کو یاد آیا اور موسیٰ کی بہن سے پوچھا بچہ کہاں ہے ؟ موسیٰ کی بہن نے کہا مجھے معلوم نہیں اتنے میں تنور سے بچہ کے رونی کی آواز آئی ماں نے جاکر دیکھا کہ تنور کی آگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ٹھنڈی ہوچکی ہے اور ٹھنڈی بھی اتنی جو باعث سلامتی ہے۔ ماں نے حضرت موسیٰ کو اٹھایا پھر مدت کے بعد موسیٰ کی والدہ نے دیکھا کہ فرعون کو لڑکوں کی بےحد تلاش ہے ان کو اپنے بچہ کا خطرہ محسوس ہوا تو اللہ نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ایک صندوق لے کرموسی کو اس میں رکھ کردریا میں ڈال دے۔ اس خیال کے آتے ہی ایک بڑھی کے پاس آئیں اور اس سے صندوق خریدا۔ بعض کا خیال ہے کہ ایک صدوقچہ لیا جس کے اندر تارکول کی پالش کردی اور خالی جگہیں تارکول سے پر کردیں، اور اس کے اندر بچھونا بچھادیا اور موسیٰ کو اندر رکھ کر صندوقچہ بند کرکے رات کو دریا میں ڈال دیا۔
چنانچہ دوسرا دن دوشنبہ کا تھا ، فرعون نے نیل کے کنارے اپنے بیٹھنے کی جگہ تیار کروائی ہوئی تھی اور اس دن جاکر بیٹھ گیا، اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم بھی تھی فرعون کی ایک لڑکی تھی جس کو برص لاحق تھا وہ بھی ساتھ تھی اچانک نیل میں بہتا ہوا سامنے سے ایک صندوق نظر آیا لہریں طمانچے مار مار کر اس کو لارہی تھیں ، فرعون نے کہا نیل مین یہ چیز درخت سے آگئی ہے اس کو لاؤ، ہر طرف سے کشتیوں نے جاکر اس کو گھیر لیا، اور لاکرفرعون کے ساتھ رکھ دیا، لوگوں نے ہرچند اس کو کھولنے کی تدبیر کی نہ کھلا، آخرآسیہ قریب آئی اور اس نے صندوق کے اندر ایک دیکھاجو کسی نے نہیں دیکھا کوشش کرکے اس نے صندوق کو کھول دیا اندر ایک چھوٹا سابچہ بچھونے پر لیٹا ہوا تھا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور تھا، اور اللہ نے اس کا رزق دونوں انگھوٹوں میں پیدا کردیا، جن کے اندر سے دودھ چوس رہا تھا، اللہ نے بچہ کی محبت آسیہ کے دل میں ڈال دی فرعون بھی اس سے محبت کرنے لگے اور دل سے مہربان ہوگیا۔ فرعون کی لڑکی بھی آگئی اور اس نے بچہ کے منہ کالعاب لے کر اپنے داغوں پر ملافورا اچھی ہوگیئ۔ لڑکی نے بچہ کو چوم لیا اور سینہ سے چمٹالیا۔ جادگروں نے کہا اے بادشاہ ہمارا خیال ہے کہ یہ وہی بچہ ہے جس سے تجھے خطرہ ہے۔ یہ بنی اسرائیل کا بچہ ہے تیرے خوف سے اس کو دریا میں ڈال دیا، فرعون نے بچہ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا توآسیہ نے کہا، قرۃ عین لی ولک لاتقتلوہ عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا، ، یہ میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ا سکوقتل نہ کرو۔ امید ہے کہ یہ میرے کام آئے گا، یا ہم اس کو بیٹا بنالیں گے۔ آسیہ کی کوئی اولاد نہیں تھی ، فرعون نے آسیہ سے کہا کہ موسیٰ کو مجھے دے دو فرعون نے آسی کو موسیٰ (علیہ السلام) ہبہ کردیا اور کہنے لگا کہ مجھے اپنے لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اگر اس روز فرعون کہہ دیتا یہ جیسے تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ویسے ہی میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک تو اللہ تعالیٰ جس طرح آسیہ کو ہدایت یاب کردیا اسی طرح فرعون کو بھی ہدایت یاب کردیتا آسیہ سے کہا گیا کہ اس کا کچھ نام رکھو، آسیہ نے اس کا نام موسیٰ رکھ دیا کیونکہ ہم نے اس کو پانی اور درختوں ک ے درمیان پایا تھا۔
Ayah 28:8تفسیر۔
8۔ فالتقطہ آل فرعون، ، التقاط کہتے ہیں کہ چیز کو بغیر طلب کے حاصل ہوجانا۔ لیکون لھم عدوا وحزنا، لام عاقبت کا ہے یالام صیرورۃ، کا ہے کیو کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کو اس لی سمندر سے نہیں اٹھایا تھا کہ وہ ان کے دشمن بنیں یا ان کو غمزدہ کریں لیکن انجام ان کا یہی ہونا تھا، حمزہ اور کسائی نے حزنا حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور زاء کے سکون کے ساتھ۔ دوسرے قراء نے حاء کے فتحۃ کے ساتھ اور زاء کے فتحہ کے ساتھ اس میں دونوں لغات صحیح ہیں۔ ان فرعون وھامان وجنودھما کانوا خاطئین، نافرمان گنہاگارہوں گے۔
Ayah 28:99۔ وقالت امراۃ فرعون قرۃ عین لی ولک، وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ جب فرعون کے سامنے صندوقچہ رکھا گیا اور لوگوں نے اس کو کھولا اور اس کے اندر موسیٰ (علیہ السلام) برآمد ہوئے فرعون نے ان کو دیکھ کر کہا یہ توعبرانی ہے دشمنوں میں سے ہے، موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر اس کو غصہ آیا اور کہنے لگایہ لڑکا کیسے بچ گیا، فرعون نے ایک اسرائیلی عورت سے شادی کرلی تھی جس کو آسیہ بنت مزاحم کہاجاتا تھا اس نے فرعون سے کہا یہ لڑکا ایک سال سے زائد کا ہے اور آپ کا حکم اس سال کے لڑکوں کو قتل کرنے کا ہے اس لیے اس کو چھوڑ دیجئے یہ میری اور تمہاری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک بنے گا۔
” لاتقلتلوہ، ، روایت میں آتا ہے کہ آسیہ نے کہا کہ یہ دوسرے شہر سے آیا ہے بنی اسرائیل میں سے نہیں آیا۔ عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا وھم لایشعرون، ، ان کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی ہلاکت حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ہی سے ہوگی فرعون نے ان کو زندہ رکھا اور انکی محبت انکے دل میں ڈال دی اور اس کی بیوی نے کہا کہ شاید یہ ہمیں نفع دے تو فرعون نے کہا کہ مجھے اس سے نفع کی امید نہیں ہے۔
وہب کا بیان ہے کہ ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اللہ کا دشمن آسیہ کی طرح موسیٰ کی بابت ، عسی ان ینفعنا کہہہ دیتاتو اللہ اسکو بھی فائدہ پہنچادیتا لیکن اللہ نے اس کے لیے بدبختی لکھ دی تھی وہی بدنصیبی آگئی اور اس نے انکار کردیا۔
Ayah 28:1010۔ واصبح فواد ام موسیٰ فارغا، ان کا دل ہرچیز کے خوف سے خالی ہوگیا صرف حضرت موسیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتیں، اکثر مفسرین نے اس کا قول یہ نقل کیا ہے کہ حضرت حسن کا قول ہے کہ اس کا دل خالی ہوگیا اور وہ اس الہام کو بھول گئی جو اللہ نے ان کے دل میں پیدا کردیا تھا، کہ موسیٰ کو دریا میں ڈال دینا اور کچھ خوف وغم نہ کرنا، ہم ضروری اس کو لوٹا کر تیرے پاس لوٹا دیں گے اور اس کو پیغمبر بنائی گے مگر شیطان نے اس سے آکرکہا کیا تجھے یہ بات پسند نہیں کہ فرعون تیرے بچے کو قتل کردے اور تجھے اس کا اجروثواب ملے اور تو خود بچہ کو قتل کرنے کے درپے ہورہی ہے اور اس کو دریا میں غرق کررہی ہے۔ جب اس کو اطلاع ملی کہ فرعون نے نیل میں حضرت موسیٰ کو پالیا تو اس مصیبت نے اس کو اللہ کا وعدہ فراموش کرادیا۔
ابوعبیدہ کا قول ہے کہ اس کا دل غم سے خالی ہوگی اکیون کہ وہ جانتی تھی کہ اللہ کا وعدہ سچا ضرور ہے۔ قتیبی نے کہا کہ ابوعبیدہ کی یہ تاویل غلط ہے کیونکہ اللہ نے آگے فرمایا ہے۔ ان کا دت لتبدی بہ لولاان ربطنا علی قلبھا، پہلاقول راجح ہے۔ ان کا دت لتبدی بہ، ھاضمیر موسیٰ کی طرف راجع ہے قریب تھا کہ وہ ظاہر کردیتی جب انہوں نے اس کو دیکھا شدت کی وجہ سے ،۔ عکرمہ نیابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے اس سے بھی تائید ہوتی ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ قریب تھا کہ وہ کہہ دیتی ہائے بیٹا۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جب اس نے صندوق کو دیکھا کہ دریا کی لہریں اس کو اوپراٹھا کر پھرنیچے پٹک رہی ہیں اور وہ لہروں میں پھنسا ہوا ہے تو اس کو ڈوب جانے کا خطرہ اتنا ہوا کہ قریب تھا کہ وہ چیخ پڑے۔ کلبی کا بیان ہے کہ جوان ہونے کے بعد جب حضرت موسیٰ کو فرعون کا بیٹا کہاجانے لگا تو آپ کی والدہ نے بھی یہ بات سنی تو اس کو یہ بات اتنی شاق گزری کہ قریب تھا کہ وہ ظاہر کردیتی کہ موسیٰ (علیہ السلام) میرابیٹا ہے۔
” لولا ان ربطنا علی قلبھا، ، ہم اس کے دل کو محفوط کرلیتے صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ، لتکون من المومنین، تاکہ تم اللہ کے وعدے کی تصدیق کرنے والے ہوجاؤ، اس وقت کو بھی یاد رکھو جس وقت ہم نے کہا تھا، انارادوہ الیک۔
Ayah 28:1111۔ وقالت لاختہ، حضرت مریم جو حضرت موسیٰ کی بہن تھی، قصیہ، ، اس کے پیچھے پیچھے چلی جا تاکہ تجھے اس کا علم ہوجائے۔ فبصرت بہ عن جنب ، اس کو دور سے دیکھتی رہے قصہ میں آتا ہے کہ مریم الگ الگ جارہی تھی اور نظر چرا کردیکھتی جاتی تھی تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ وہ موسیٰ کو دیکھ رہی ہے ۔ وھم لایشعرون، کہ یہ اس کی بہن ہے اور اس کے تعاقب میں جارہی ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ فرعون کی بیوی چاہتی تھی کہ کس طرح کس دودھ پلانے والی کادودھ موسیٰ پی لیں۔ چناچہ ایک کے بعد ایک دودھ پلانے والیاں آئیں مگر موسیٰ نے کسی کا دودھ نہیں پیا، موسیٰ کی بہن دور کھڑی یہ کیفیت دیکھ رہی تھی آٹھ راتیں یوں ہی گزرگئیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی دودھ پلانے والی کادودھ نہیں پیا اور چلاتے رہے۔
Ayah 28:1212۔ وحرمنا علیہ المراضع، تحریم سے مراد بندش کرنا، مراضع جمع مرضع کی۔ من قبل، حضرت موسیٰ کی والدہ کے آنے سے پہلے جب موسیٰ کی بہن نے دیکھا کہ موسیٰ کی والدہ کو ڈھونڈنے کے لیے سپاہیوں کو بھیج رہے تھے تو انہوں نے کہا، ھل ادلکم ، کیا مین تمہیں اس پر دلالت نہ کروں، فقالت ، موسیٰ کی بہن نے کہا، ھل ادلکم علی اھل بیت یکفلونہ، جو اس کو اپنے ساتھ چمٹائے اور لکم اس کو دودھ پلائے وہ ایسی عورت ہے جس کے بچے کو قتل کردیا گیا اور وہ چاہتی ہے کہ چھوٹا بچہ اس کو ملے تو وہ اس کو دودھ پلائے۔ وھم لہ ناصحون، نصح کھوٹ کی ضد ہے یعنی کسی کام کو بگاڑا اور خرابی کی آمیزش سے پاک صاف رکھنے کو نصح کہتے ہیں۔
وھم لہ ناصحون کی تفسیر۔
ابن جریج اور سدی کا قول ہے کہ ، ھم لہ ناصحون، کا مطلب یہ بیان کیا گیا کہ وہ لوگ بادشاہ کے خیرخواہ ہیں۔ موسیٰ کی بہن نے وھم لہ ناصحون ، کہاتولوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تو اس کے گھروالوں کو جانتی ہے بتاوہ کون ہے ؟ موسیٰ کی بہن نے کہا مجھے تو اس کے گھروالے معلوم نہیں میں نے یہ کہا تھا کہ وہ لوگ بادشاہ کے خیرخواہ ہیں بعض روایات میں آتا ہے کہ موسیٰ کی بہن سے جب باز پرس ہوئی تو اس نے کہا میں یہ بات بادشاہ کی خوشی کے لیے کہہ رہی تھی اور اس بات کو ظاہر کرنا تھا کہ ہمارا تعلق بادشاہ ہے بعض روایات میں آتا ہے جب حضرت موسیٰ کی بہن نے ھل ادلکم، کہاتولوگوں نے کہا ایسا کون ہے ؟ اس نے کہامیری ماں ہے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیا تیری ماں کا کوئی لڑکا ہے ہمیشرہ موسیٰ نے کہا ہارون ہے۔ لوگوں نے کہا کہ تونے ٹھیک کہا اس کو ہمارے پاس لے آ۔ لڑکی نے اپنی ماں سے جاکرپوری بات کہہ دی اور اس کو اپنے ساتھ لے آئی۔ موسیٰ نے جو اپنی ماں کی خوشبو سونگھی توپستان کو منہ لگادیا اور پینے لگا، اور اتناپیا کہ دونوح کھوکھیں بھر گئیں۔ سدی کا قول ہے کہ روز کی اجرت موسیٰ کی والدہ کو ایک دینار ملتی تھی اور وہ اس لیے لے لیتی تھیں کہ وہ حربی کافر کا مال تھا۔
Ayah 28:13تفسیر۔
13۔ فرددناہ الی امہ کی تقرعینھا، ، موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھیں۔ ولاتحزن تاکہ تو اس پر غمزدہ نہ ہو۔ ولتعلم ان وعداللہ حق، حضرت موسیٰ کو واپس لوٹانے کا وعدہ حق ہے۔ ولکن اکثرھم لایعلمون ، اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ کیا تھا کہ وہ ضرور اس کو آپ کی طرف لوٹائیں گے۔
Ayah 28:1414۔ ولمابلغ اشدہ، ، کلبی کا بیان ہے کہ اشد کہتے ہیں کہ 18 سے 30 سال کی عمر تک مجاہد وغیرہ کا قول ہے کہ اس سے مراد 33 سال کی عمر اشدہ ہے۔ واستوی ، جب ان کی عمر چالیس سال کی ہوگئی۔ یہی سعید بن جبیرابن عباس ؓ عنہماکے حوالے سے نقل کرتے ہیں، بعض حضرات کے نزدیک استوی کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جوانی کی انتہاء کو پہنچ گئے۔ اتیناہ حکما وعلما، اس سے مراد سمجھ ، عقل و دانش اور دین کا علم ہے ، وکذالک نجزی المحسنین۔
Ayah 28:1515۔ ودخل المدینۃ، حضرت موسیٰ شہر میں داخل ہوئے۔ سدی کا قول ہے کہ شہر سے مراد مدین کا شہر ہے جو حدود مصر میں تھا۔ مقاتل کا بیا ن ہے کہ اس سے حابین کا قصہ مراد ہے۔ جو مصر سے دو فرسخ پر تھا، بعض نے کہا کہ مدینہ الشمس مراد ہے ۔ علی حین غفلۃ من اھلھا، قیلولے کے وقت میں عین دوپہر کے وقت۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ مغرب و عشاء کا درمیانی وقت مراد ہے۔ اس وقت شہر میں داخل ہونے کے سبب متلعق آئمہ مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ سدی کا بیان ہے کہ چونکہ موسیٰ کو فرعون کابیٹاکہاجاتا تھا، آپ کی سواری فرعون کی سواری کی طرح ہوتی تھی ، اور لباس بھی شاہانہ، تھا ایک روز فرعون سوار ہوکرنکلا موسیٰ اس وقت موجود نہیں تھے جب واپس تو فرعون جاچکا تھا، آپ اس کے پیچھے سوار ہوکر روانہ ہوگئے۔ منف میں پہنچے تودوپہر کا وقت ہوگیا۔ اس وقت راستوں میں کوئی نہ تھا، اللہ کا فرمان ہے ودخل المدینۃ علی حین غفلۃ من اھلھا، محمد بن اسحاق نے کہا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ موسیٰ کے پیرو تھے۔ آپ کی نصیحتیں سنتے اور ان پرچلتے تھے جب آپ کی حق پرستی ظاہر ہوگئی تو آپ نے فرعون اور اس کے قوم کے مذہب کی مخالفت کی۔ اس کا ذکر فرعون سے بھی کیا گیا، لوگوں نے حضرت موسیٰ کو ڈرایا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ جس بستی میں جاتے توچھپتے چھپاتے اور ڈرتے ڈرتے جاتے۔ ایک روز جو شہر میں گے گئے تو ایسی حال ت میں گئے کہ لوگ بیخبر تھے عید کا دن تھا لوگ کھیل کود اور تفریح میں مشغول تھے۔
ابن زید کا قول ہے کہ موسیٰ نے بچپن میں جب فرعون کے اوپرلاٹھی اٹھائی تو فرعون نے حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس کی بیوی نے کہا وہ چھوٹا ہے اس کو قتل کرنے سے چھوڑ دیا اور موسیٰ کو شہر سے نکالنے کا حکم دیا، جب موسیٰ بڑے ہوگئے اور جوانی کی عمر تک پہنچ گئے تو اپنے اہل والوں کی غفلت سے شہر کی طرف نکل پڑے یعنی موسیٰ کو حکم دینے کے بعد وہ بھول گئے تھے یا ان کے حکم کو کئی دن گزر گئے تھے حضرت علی نے ، حین غفلۃ کے متعلق روایت کیا ہے کہ یہ ان کے لیے عید کا دن تھا وہ لوگ اپنے لہولعب میں مشغول تھے۔
قبطی کے قتل کا واقعہ۔
فوجدا فیھا رجلان یقتلان، ، کہ وہ جھگڑتے اور لڑتے ہیں۔ ھذامن شیعتہ، ، ان میں سے ایک بنی اسرائیل میں سے تھا، وھذامن عدوہ، وہ قبطی تھا، بعض نے کہا کہ جو بنی اسرائیل میں سے تھا اس کا نام سامری تھا اور وہ موسیٰ کے دشمنوں میں سے تھا، بعض نے کہاوہ فرعون کا ب اورچی تھا اس کا نام فاتون تھا، بعض نے کہا کہ ھذا من شیعتہ، وھذا من عدوہ، سے مراد مومن اور کافر ہے۔ قبطی بنی اسرائیل کو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھا کر مبطخ کی طرف لے جا۔
سعید بن جبیر نیابن عباس ؓ عنہماکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ بڑے ہوگئے تو بنی اسرائیلیوں کو بالکل کسی سے چھٹکارا نہیں دلواسکتا تھا۔ لیکن جب موسیٰ (علیہ السلام) بڑے ہوئے تو لوگوں کو ظلم سے بچاتے تھے اور ان کو معلوم ہوجاتا تھا کہ یہ بنی اسرائیلیوں میں سے اور فلاں قبطیوں میں سے ۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ نے دوآدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ان میں سے ایک بنی اسرائیلیوں میں سے تھا اور دوسرا فرعون کی قوم سے تھا۔ فاستغاثہ الذین من شیعتہ علی الذی من عدوہ، ، اسرائیلی نے فرعونی کے مقابلے میں مدد طلب کی ، استغاثہ کہتے ہیں کہ مدد کے لیے کسی کو پکارنا، موسیٰ کو غصہ آیا اور بہت شدید ہوگیا۔ قبطی ا اسرائیلی کو پکڑے ہوئے تھا، اور وہ اتنی بات جانتا تھا کہ موسیٰ بنی اسرائیل کی نظر میں محترم ہیں اور موسیٰ بھی اس کی پاسداری کرتے ہوئے اور عام لوگ اتنا ہی جانتے تھے کہ موسیٰ کو ایک اسرائیلی عورت نے دودھ پلایا ہے اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیلیوں کا لحاظ رکھتے ہیں۔
آپ نے فرعون کے آدمی سے کہا کہ اس کو چھوڑ دیجئے۔ اس نے کہا ہم تو اس کو اس لیے پکڑ رہے ہیں کہ یہ لکڑیاں اٹھاکر آپ کے والد کے باورچی خانے کی طرف پہنچادے۔ موسیٰ اس سے جھگڑنے لگے فرعونی بولا اب تو میں نے یہ ارادہ کرلیا ہے کہ لکڑیاں تیرے اوپر لاد کر پہنچاؤں گا، حضرت موسیٰ قدآور بھی تھے اور بہت زیادہ طاقت والے بھی، آپ نے اس کو ایک ہی مکامارا وہ مرگیا۔ فوکزہ موسیٰ ، ،،
ابن مسعود نے ، فلکزہ موسی، پڑھا ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہی ہے پورے دونوں ہاتھوں سے مارنا، بعض نے کہا کہ وکز کہاجاتا ہے ، سینے پر مارنے کو، اور لکز کہاجاتا ہے پیٹھ پر مارنے کو۔ فراء کا قول ہے کہ ان دو ونں کا ایک ہی معنی ہے دور کرنا۔
ابوعبیدہ کا قول ہے کہ وکز کا معنی ہے انگلیوں کے سروں سے دھکادینا بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے تراسی کا عقد بناکرقبطی کے سینے پر ضرب رسید کی۔ فقضی علیہ، اور اس کو قتل کردیا اور اس کے کام سے فارغ ہوگئے۔ ہر وہ چیز جس سے فراغت حاصل کی جائے اس کے لیے قضیت علیہ بولاجاتا ہے اس پر حضڑت موسیٰ (علیہ السلام) کو ندامت ہوئی کیونکہ موسیٰ نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا، پھر اس کو ریت میں دفن کردیا ۔ قال ھذا من عمل الشیطان انہ عدومضل مبین۔ کھلی گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔
Ayah 28:16تفسیر۔
16۔ قال رب انی ظلمت نفسی ، ، قبطی کو قتل کرنے کی وجہ سے اس کو میراقتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا، فاغفرلی فغرلہ ، ،، الرحیم۔
Ayah 28:1717۔ قال رب بماانعمت علی، مغفرۃ کے ساتھ مجھ پر انعام فرما۔ فلن اکون ظھیرا، ، مددگار، للمجرمین ، ، ابنعباس نے فرمایا المجرمین سے مراد کافر ہیں۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا تھا وہ کافر تھا، مقاتل کا یہی قول ہے کہ قتادہ نے کہا کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ آئندہ میں کسی مجرم کا مددگارنہ بنوں گا،۔
Ayah 28:1818۔ فاصبح فی المدینہ، ، اس شہر میں جس شہر میں قبطی کو قتل کیا۔ خائفا، ، قبطی کو قتل کرنے کی وجہ سے وہ خوف زدہ تھے۔ یترقب ، وہ مقتول کے وارثوں کی طرف سے انتقام کا اندیشہ کررہے تھے۔ ترقب کہتے ہیں کہ ناپسندیدہ کام کی انتظار کرنا۔ کلبی کا بیان ہے کہ وہ منتظر تھے کہ ان کو کس وقت گرفتار کیا جائے گا۔
” فاذالذی استصرہ بالامس یستصرخہ، اور اگلی صبح کے بعد وہی شخص فریاد کررہا ہے مدد مانگ رہا ہے ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ لوگ فرعون کے پاس آئے اور کہا کہ بنی اسرائیل نے ہمارا ایک آدمی مارڈالا، ہمیں حق دلوائیے، فرعون نے کہا کہ قاتل کو تلاش کیا جائے اور گواہوں کو پیش کیا جائے۔ بغیر شہادت کے تو فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، لوگ تلاش میں گھومنے لگے لیکن کوئی شہادت یقینی نہ مل سکی، اتفاقا دوسرے روز موسیٰ جارہے تھے کہ کل والے اسرائیلی کو کسی فرعونی سے لڑتے ہوئے دیکھا، اسرائیلی نے فریاد کی اور فرعونی کے خلاف موسیٰ سے مددمانگی، ، موسیٰ کل کے فعل پر نادم تھے کہ ان کے ہاتھ سے ایک قبطی مارا گیا تھا، اسرائیلی سے کہاتوہی کج راہ ہے۔ تیری کج راہی کھلی ہوئی ہے کل ایک شخص کے مارے جانے کا تو ہی سبب بنا اور آج کے دن اور ایک آدمی سے لڑرہا ہے اور مجھ سے مدد مانگ رہا ہے۔ قال لہ موسی، ، موسیٰ نے اسرائیلی سے کہا، انک لغوی مبین، بعض نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونی سے کہا کہ تو کھلی کج روی کا سبب بنا ہے ۔ پہلازیادہ صحیح ہے کہ وہ ایک شخص فرعونی نہیں تھا اسرائیلی تھا۔
Ayah 28:1919۔ فلمااراد ان یبطش بالذی ھوعدولھما، ، جب حضرت موسیٰ نے اسرائیلی کو کمزوری اور آہ بکا سنا تواپناہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اس کی مدد کروں اور فرعونی کو پکڑوں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کا ہاتھ بڑھتا دیکھ کر خیال کیا کہ موسیٰ مجھے پکڑناچاہتے ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ کا وہ غصہ دیکھ چکے تھے اور آپ کا یہ قول انک لغوی مبین، بھی سن چکا تھا۔ قال یاموسی اترید ان تقتلنی کماقتلت نفسا بالامس ان ترید، آپ ارادہ کرتے ہو ، الاان تکوب جبارافی الارض، شدت غضب کی وجہ سے بڑاقاتل۔
” وماترید ان تکون من المصلحین، ، جب قطبی نے اسرائیلی کی بات سنی تو اس کو معلوم ہوگیا کہ کل فرعونی کو جس نے قتل کیا تھا وہ یہی تھا وہ بھاگتا ہوا فرعون کے پاس پہنچا اور اس کو خبر دے اور فرعون موسیٰ کو قتل کردیں۔ جب فرعون نے موسیٰ کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تو انہوں نے تمام راستوں پر فوج بھیج دی۔
Ayah 28:2020۔ وجاء رجل، موسیٰ کی جماعت سے ، من اقصی المدینہ، شہر کے آخری حصہ کا رہنے والااکثر اہل تفسیر نے اس کا حزقیل بتایا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا نام شمعون تھا۔ بعض نے کہا اس کا نام سمعان تھا، یسعی، وہ چلنے مین تیری کے ساتھ آیا اور اس نے قریب والاراستہ اختیار کیا۔ یہاں تک کہ وہ ان سے پہلے موسیٰ کے پاس پہنچ گیا اور ان کو خبر دی کہ اور کہا کہ آپ فورا یہاں سے نکل جائیں اور کوئی راستہ اختیار کرلیں۔
” قال یاموسی ان الملاء یاتمرون بک، ، کہ فرعون کے درباری آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کررہے ہیں۔ لیقتلوک، زجاج کا قول ہے کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے کا حکم دے رہیں ہیں۔ فاخرج، شہر سے نکل جائیے۔ انی لک من الناصحین، ، نکلنے کا حکم دینے میں خیرخواہ ہوں۔
Ayah 28:2121۔ فخرج منھا، موسیٰ نے کہا ، خائفا یترقب، ، ٹوہ لگاتے ہوئے نکلے کہ کوئی ان ک پیچھے تو نہیں آرہا، قال رب نجنی من القوم الظالمین۔ اس سے مراد کافر ہیں قصہ میں آتا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کی طلب میں ہر راستے پر سپاہی بھیج دیے اور کہا کہ تمام راستوں پر چلے جاؤ کیونکہ موسیٰ کسی راستے سے واقف نہیں۔
Ayah 28:2222۔ ولماتوجہ تلقاء مدین، جب حضر ت موسیٰ مدین کی طرف جانے کا ارادہ کیا، زجاج کا قول ہے کہ اس راستے پر چل پڑے جو مدین پر پہنچتا تھا۔ مدین ایک بستی کا نام تھا جو حضرت ابراہیم کے صاحبزادے مدین کے نام پر آباد ہوئی تھی، موسیٰ پیدل نکل پڑے نہ سواری تھی اور نہ کھانے پینے کا سامان تھا مدین مصر سے آٹھ منزل کے فاصلے پر تھا اور فرعون کی حکومت سے خارج تھا۔
مدین کے سفر میں حضرت موسیٰ کا درختوں کے سبز پتے نوش کرنے کا واقعہ۔
قال عسی ربی ان یھدینی سواء السبیل۔ مدین کے راستے کا ارادہ کیا تھا لیکن راستے سے واقف نہیں تھے یہ اسوجہ سے کہا کہ وہ مدین جانے کا راستہ پتا نہیں تھا۔ جب موسیٰ نے یہ الفاظ کہے کہ ایک فرشتہ بصورت انسانی ہاتھ میں چھوٹا برچھا لیے نمودار ہوا اور موسیٰ کو لے چلا، مفسرین نے لکھا ہے کہ موسیٰ جب مصر سے نکلے تو کھانے کے لیے آپ کو صرف درختوں کے پتے اور سبزیاں ہی ملیں۔ انہی کو کھاتے کھاتے آپ کو حاجت بھی سبز ہونے لگی۔ جب مدین پہنچے توناخن گر چکے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ اللہ کی طرف سے موسیٰ کی یہ پہلی آزمائش تھی۔
Ayah 28:23موسیٰ (علیہ السلام) کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریوں کو کنویں سے پانی پلانے کا واقعہ۔
تفسیر۔
23۔ ولم اور دماء مدین، ، اور یہ ایساکنواں تھا جس سے وہ اپنے جانوروں کو پانی پلاتے تھے۔ وجد علیہ امہ، اس پر ایک جماعت تھی۔ من الناس یسقون ، جو اپنے جانوروں کو پانی پلاتی تھی۔ ووجد من دونھم، اس جماعت کے علاوہ دوسرے لوگ تھے۔ امراتین تذودان، وہ رکی ہوئی کھڑی تھیں تاکہ لوگ پانی پلاکر فارغ ہوجائیں اور کنواں فارغ ہوجائے تو وہ اپنے مویشیوں کو پانی پلائیں۔ حسن کا قول ہے کہ وہ پانے بھیڑوں کو روکے ہوئے تھیں، ان کی بھیڑیں لوگوں کی بھیڑوں سے نہ مل جائیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ اپنی بکریوں بھیڑوں کو روکے ہوئے تھیں تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں پہلاقول زیادہ راجح ہے اور صحیح ہے۔
قال، موسیٰ (علیہ السلام) نے ان دونوں عورتوں سے کہا، ماخطبکما، تمہارا کیا واقعہ ہے کیا وجہ ہے کہ تم اپنے مویشیوں کو پانی سے روک رہی ہو اور مویشیوں کو لوگو کیساتھ پانی کو کیوں نہیں پلاتی۔ قالتالاتسقی، ہم اپنے مویشیوں کو پانی نہیں پلاتیں جب تک ، حتی یصدر الرعا، ابوجعفر اور ابوعمر اور ابن عامر ، یصدر، یاء کے فتحہ کے دال کے ضمہ کے ساتھ۔ جب تک کہ چرواہے کنویں سے نہ چلے جائیں۔ رعا جمع راع، جیسے تاجر اور تجار ہیں۔ آیت کا معنی ہے کہ ہم اس وقت تک اپنے مویشیوں کو پانی نہیں پلاتیں جب تک یہ چرواہے یہاں سے چلے نہ جائیں۔ کیونکہ ہم عورتیں طاقت نہیں رکھتی کہ ہم اس رش میں پانی پلائیں اور نہ ہی ہمیں اتنی طاقت ہے کہ ہم لوگوں کو ہٹا سکیں تو جب وہ چلے جائیں گے توبچا کھچا پانی ہم اپنے مویشیوں کو پلادیں گے۔
” وابونا شیخ کبیر، ، وہ بوڑھے ہیں اس کی قدرت نہیں رکھتے کہ وہ آکر ہمارے مویشیوں کو پانی پلاسکیں۔ اس لیے ہم خود ان مویشیوں کو پانی پلانے کے لیے آتی ہیں۔ ان کے والد کے نام کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔
مجاہد ، ضحاک، سدی، اور حسن ، کا قول ہے کہ ان کے والد کا نام حضرت شعیب تھا، وہب بن منبہ و سعید بن جبیر کے نزدیک ان کے والد کا نام بیرون بی اخی شعیب ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی وفات تو اس واقعہ سے پہلے نابینا ہونے کی حالت میں ہوچکی تھی۔ اور آپ کو مقام ابراہیم اور زمزم کے درمیان دفن کردیا گیا تھا۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ ایک مرد مومن تھا جو حضرت شعیب پر ایمان لے آیا تھا، جب حضرت موسیٰ نے ان دونوں کے کلام کوسنا تو ان دونوں پر رحم آیا۔ وہاں قریب ہی دوسرے کنوے پر ایک بڑی چٹان تھی جس کو اٹھانے کی کسی شخص میں طاقت نہ تھی، کہ اس کے پتھر کو اکھاڑ کر الگ کردیا، یہ کنواں پہلے کنویں سے برابر تھا، اور اس پتھر کو ایک جماعت اٹھاتی تھی۔ بعض نے لوگوں نے کہا کہ دس آدمی اس کو اٹھاتے تھے حضرت موسیٰ نے وہ پتھر اکیلے اٹھاکر ایک طرف کردیا، اور دونوں عورتوں کی بکریاں کو پانی پلایا، اور کہا گیا کہ انہوں نے اتنے بڑے ڈول کو اکیلے کھینچا اور ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ اس پانی سے ان کی تمام بکریاں سیر ہوگئیں۔
Ayah 28:2424۔ فسقی لھما، ثم توالی الی الظل، ، پھر حضرت موسیٰ شدت گرمی کی وجہ سے درخت کے سایہ کے نیچے میں جاکربیٹھ گئے۔ فقال رب انی لماانزلت الی خیر، ، خیر سے مراد کھانا ہے۔ فقیر، اہل لغت میں لام بمعنی الی کے ہے ، جیسے کہاجاتا ہے، ھوفقیر لہ و فقیر الیہ۔ یعنی آپ میرے لیے خیرنازل فرمائیں جس کا میں سخت حاجت مند ہوں یعنی فقیر محتاج ہوں۔ حضرت موسیٰ سخت بھوک کی وجہ سے کھانا طلب کیا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے ایک لقمہ طلب کیا جس سے اپنی کمر سیدھی کرسکیں۔
امام باقر علیہ الرحمہ، نے فرمایا موسیٰ اس وقت چھوہارے کے ایک ٹکڑے کے محتاج تھے۔ سعید بن جبیر نیابن عباس ؓ عنہماکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تحقیق موسیٰ نے ارشاد فرمایا، رب انی لماانزلت الی من خیر فقیر، اور وہ اپنی مخلوق پر مہربان تھے اور وہ کھجور کے ایک حصہ کے محتاج تھے۔
مجاہد کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ نے خیر کا ہی سوال کیا۔ جب وہ دونوں اپنے والد کے پاس پہنچیں جلدی سے اور لوگ ابھی نہیں پہنچے تھے تو انہوں نے بکریوں کو باندھ دیا، تو ان دونوں سے پوچھا کہ آج کے دن آپ دونوں جلدی کیسے آگئی، وہ دونوں کہنے لگیں کہ ہماری آج ایک نیک شخص سے ملاقات ہوئی اس نے ہم پر رحم کیا اور ہماری بھیڑوں کو پانی پلادیا، انہوں نے ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ اس کو بلاکرلائے۔
Ayah 28:2525۔ فجاء تہ احداھما تمشی علی الستحیائ، ، حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ وہ عورت بےباک نہیں تھی کہ بےجھجھک مردوں میں گھستی پھرتی بلکہ موسیٰ کے پاس دبتی ، لجتی، کرتے کی آستین منہ میں ڈالے شرماتی ہوئی آئی، قالت ان ابی یدعوک لیجزیک اجرماسقیت لنا، ابوحازم سلمہ بن دینار کا بیان ہے کہ موسیٰ نے جب یہ بات سنی تو جانے کا ارادہ نہیں کیا، لیکن بھوک لگی ہوئی تھی مجبورا جاناپڑا، عوت آگے آگے چلی اور موسیٰ اس کے پیچھے پیچھے ہوا کے جھونکے سے عورت کی پنڈلی سے کپڑا ہٹ جاتا تھا، اور پنڈلی کھل جاتی تھی، موسیٰ کو یہ بات بری محسوس ہوئی آپ نے عورت سے کہا کہ تم میرے پیچھے چلو اگر راستے سے ہٹ جاؤں توبتلادینا، عورت نے ایسا ہی کیا۔ حضرت شعیب کے پاس پہنچے تواسوقت شام کے کھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ حضرت موسیٰ سے کہا جوان بیٹھو اور کھانا کھاؤ، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ شعیب (علیہ السلام) نے کہا کیوں کیا بھوک نہیں لگی ہے ؟ موسیٰ نے کہا کیوں نہیں مگر مجھے اندیشہ ہے کہ یہ کھانا اس نیکی کی مزدوری ہے جو میں نے عورتوں پر مویشیوں کو پانی پلانے کے لیے کی تھی۔ اور میں ایسے خاندان سے ہوں جو آخر ت والے اعمال میں سے کسی عمل کے کرنے سے دنیا میں اس کا بدلہ نہیں طلب کرتے۔ حضرت شعیب نے کہا نہیں جوان ، بخدا یہ بات نہیں ہے بلکہ میرے اور میرے باپ دادا کا معمول ہی یہ ہے کہ ہم مہمان کی میزبانی کرتے اور کھانا کھلاتے ہیں موسیٰ بیٹھ کر کھانے لگے۔
” فلماجاء وہ وقص علیہ القصص، ، جو پورا واقعہ ان کے ساتھ پیش آیا تھا وہ سارابیان کیا، قبطی کا قتل ہونا، پھر فرعون کا انکے قتل کے درپے ہونا، قال لاتخف، نجوت من القوم الظالمین۔ فرعون اور اس کی قوم ، یہ اسوجہ سے فرمایا کہ فرعون کی حکومت اہل مدین پر نہیں تھی۔
Ayah 28:2626۔ قالت احداھما، یا ابت استاجرہ، ، ان کو اجیر رکھ دیں تاکہ یہ ہمارے مویشیوں کو چرائے۔ ان خیر من استاجرت القوی الامین، یعنی جس کو آپ کام پر رکھیں اس کا کام پورا کرنے کی طاقت رکھنا اور امانت دار ہوناضروری ہے۔ اس لڑکی سے اس کے باپ نے پوچھا کہ تجھے اس کی قوت و امانت کا حال کیسے معلوم ہوا۔ لڑکی نے کہا کنویں کے منہ سے اتنا بھاری پتھراٹھا کر جس کو دس آدمیوں سے کم یا چالیس سے کم نہیں اٹھاتے تھے یہ تو اس کی طاقت تھی اور امین ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس نے مجھ سے پیچھے پیچھے رہنے کو کہا تھا تاکہ ہوا کی وجہ سے میری کھلی پنڈلی پر اس کی نظر نہ پڑے۔
Ayah 28:27حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیوں کے نام کے متعلق مختلف اقوال۔
27۔ قال، ، ان کے پاس حضر ت شعیب نے ارشاد فرمایا، انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھاتین، ، ان دونوں میں سے ایک کا نام صفوراء ہے اور دوسری کا نام لیا، ہے ۔ شعیب جبائی کا قول ہے کہ ابن اسحاق نے صفورہ اور شرقا نام ذکرکیے ہیں۔ بعضنے کہا بڑی صفراء اور چھوٹی صفیراء تھی۔ بعض نے کہا کہ بڑی حضرت موسیٰ کے نکاح مین آئی اور اکثر مفسرین کے نزدیک چھوٹی سے آپ کا نکاح ہوا۔ اور اس کا نام صفوراء تھا، یہ وہ عورت تھی جو حضرت موسیٰ کو گھربلانے کے لیے گئی تھی۔ علی ان تاجرنی ثمانی حجج، یہ کہ آپ آٹھ سال ہماری ملازمت کریں۔ فراء کا قول ہے کہ نکاح کے عوض تم آٹھ سال میراکام کرو، یعنی اس نکاح کے عوض آٹھ سال تم میری بکریاں چراؤ۔
حجج سالوں کو کہتے ہیں اس کا واحد حجۃ، ہے۔ فان اتممت عشرا فمن عندک، اور اگر تم اس کے بعد دس سال تک پورے کردو گے تو یہ تمہاری طرف سے تبرع حسن سلوک ہوگا۔ البتہ یہ دو سال آپ پر لازم نہیں۔ وماارید ان اشق علیک، اور تم پر دس سال پورے کرنا لازم نہیں مگر یہ کہ وہ تبرع ہے۔ ستجدنی ان شاء اللہ من الصالحین، ، عمر ؓ نے کہا یعنی حق صحبت کی نگہداشت اور قول کے وفا میں تم مجھے صالح پاؤ گے۔
Ayah 28:28تفسیر۔
بکریاں چرانے کو نکاح کا مہر مقررکرنا۔
28۔ قال، ، موسیٰ نے کہا، ذالک بینی وبینک، ، یہ ہمارے اور آپ کے درمیان معاملہ طے پایا۔ جو حق آپ نے مقرر کیا ہے وہ میں ادا کروں گا، اور جو میراحق ہے آپ نے مقرر کیا ہے وہ آپ ادا کریں گے۔ پھر فرمایا، ایما الاجلین قضیت۔ ماصلہ ہے یعنی پوراکرنا۔ ان دونوں مدتوں میں سے کوئی ایک مدت پوری کردوں۔ فلاعدوان علی، جب یہ مد ت پوری ہوجائے تو اس سے زائد مدت کام کرنے پر مجھے مجبور نہ کیا جائیگا۔ واللہ علی مانقول وکیل۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ وہ ہمارے درمیان گواہ ہے اور بعض نے کہا کہ وہ ہماری حفاظت کرنے والا ہے۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے اہل الحیرہ سے پوچھا کہ موسیٰ نے ان دونوں مدتوں میں سے کون سی مدت پوری کی انہوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں۔ حبرالعرب کے پاس جو عرب کے بڑے عالم ہیں ان سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ ان کے پاس آئے اور اس کے متعلق پوچھا وہابن عباس ؓ تھے اور اس کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ انہوں نے اکثر مدت اچھی طرح پوری کی۔
حضرت شعیب کا حضرت موسیٰ کو لاٹھی عطا کرنا۔
حضرت شداد بن اوس سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ شعیب (علیہ السلام) اتناروئے کہ بینائی جاتی رہی، اللہ نے دوبارہ بینائی عطا فرمائی پھر بھی اتناروئے کہ آنکھیں جاتی رہیں۔ اللہ نے پھر بینائی عطا کی اور فرمایا کہ اس رونے کی کیا وجہ ہے ؟ کیا جنت کے شوق میں روتے ہو یا دوزخ کے خوف سے۔ شعیب نے عرض کیا نہیں اے میرے رب بلکہ تیرے دیدار کے شوق میں روتا ہوں اللہ نے وحی بھیجی کہ اگر یہ بات ہے تومیرادیدار تم کو مبارک ہو۔ اے شعیب میں نے تمہارے کام کے لیے موسیٰ کو تمہاراخادم بنادیا ہے۔
حضرت موسیٰ کو کچھ بکریاں عنایت کرنا۔
اس کے بعد جب موسیٰ نے مدت مقرر ہ پوری کردی اور حضرت شعیب نے اپنی لڑکی ان کودے دی تو حضرت موسیٰ نے بی بی سے کہا کہ تم اپنے والد سے کہو کہ کچھ بکریاں ہم کودے دیں۔ بیوی نے جاکر اپنے باپ سے بکریاں طلب کیں حضرت شعیب نے فرمایا، اس سال جو دورنگا بچہ ہوگا وہ تم دونوں کو دوں گا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو حسن خدمات کا بدلہ دیناچاہتے تھے اور اپنی لڑکی پر بتقاضاء خون مرحمت کرنے کے خواہش مند تھے۔ اسی لیے اپنے لڑکی سے فرمایا اس سال جو نرمادہ چت کبری، بچے پیدا ہوں گے وہ میں نے تم کودیے۔ اللہ نے موسیٰ کو خواب میں بتادیا کہ بکریوں کے پانی پینے کی جگہ پر لاٹھی ماریں۔ حضرت موسیٰ نے بیدارہوکر پانی میں لاٹھی ماری پھر بکریوں کو وہی پانی پلایا جس جس بکری نے وہ پانی پیا اس کا بچہ ابلق، ہی پیدا ہوا۔ حضرت شعیب سمجھ گئے کہ یہ خداداد نصیب ہے۔ اللہ نے موسیٰ کے لیے یہ رزق بھیجا ہے۔ چناچہ آپ نے اپناقول پورا کیا، اور سب ابلق بچے حضرت موسیٰ کودے دیے۔
Ayah 28:29تفسیر۔
29۔ فلماقضی موسیٰ الاجل، ، جب موسیٰ نے مقررہ مدت پوری کی اور اپنی مزدوری سے فارغ ہوئے ، وسار باھلہ، مجاہد کا بیان ہے کہ جب وہ مدت پوری ہوگئی تو اس کے بعد اپنے سسر کے پاس دس سال اور قیام پذیر رہے رکل بیس سال رہے اس کے بعد مصر کو واپس جانے کی اجازت طلب کی ، حضرت شعیب نے اجازت دے دی اور آپ روانہ ہوگئے۔
” انس، انہوں نے دیکھا، من جانب الطور نارا، اور رات تاریک گھی اور سردیوں کی راتیں تھیں، شدید سردی تھی، قال لاھلہ امکثوا انی انست نارا لعلی اتیکم منھابخبر، ، تاکہ راستہ معلوم کروں کیونکہ وہ راستہ بھول چکے تھے۔ اوجذوۃ من لنار، ، کوئی آگ کا ٹکڑا یا آگ کا شعلہ اس میں تینوں لغات درست ہیں۔ جذوۃ، جیم کے فتحہ کے ساتھ حمزہ نے ، جذوۃ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ جذوۃ ، اس جلتی لکڑی کو کہتے ہیں جس کا کچھ حصہ جل چکا ہو، اس کی جمع جذی، آتی ہے۔ لعلکم تصطلون، تاکہ تم اس سے گرمی حاصل کرسکو۔
Ayah 28:3030۔ فلمااتاھانودی من شاطی الوادی الایمن، اس وادی کی جانب جو حضرت موسیٰ کے دائیں جانب تھی، فی البقعۃ المبارکہ، موسیٰ کے لیے بری مبارک جگہ ہے۔ یہیں موسیٰ کے ساتھ اللہ نے کلام کیا اور اسی جگہ پیغمبرعطا کی۔ عطا کا قول ہے کہ مبارکہ سے مراد مقدس ہے۔ من الشجرۃ ، درخت وادی کے کنارے پر ہے۔ ابن مسعود نے کہایہ ایک سرسبز درخت تھا جو چمک رہاتھاقتادہ کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ یہ عوجہ کا درخت تھا، وہب کا بیان ہے کہ یہ علیق کا درخت تھا، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہایہ عذب کا درخت تھا، ان یاموسی انی انا اللہ رب العالمین۔
Ayah 28:31تفسیر۔
31۔ وان الق عصاک، فلماراھاتھتز، وہ حرکت میں آگیا۔ کانھاجان، ، گویا کہ وہ چھوٹا ساسانپ ہے جو سریع الحرکت ہے ولی مدبرا، س سے خوف کھاکر بھاگ گئے۔ ولم یعقب، وہ نہیں لوٹے یہاں تک کہ ان کو آوا ز دی گئی، یاموسی ولاتخف انک من الامنین۔
Ayah 28:3232۔ اسلک، ، داخل کیجئے۔ یدک فی جیبک تخرج بیضاء من غیرسوئ، بغیر کسی بیماری کے یعنی کوئی برص وغیرہ کی بیماری نہیں ہوگی اور وہ چمکتا ہوئے سورج کی طرح ہوگا۔ واضمم یدک الیک جناحک من الرھب، اہل کوفہ شام نے راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ھاء کے سکون کے ساتھ اور راء کے فتحہ کے ساتھ حضص نے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ان دونوں کے فتحہ کیس اتھ پڑھا ہے۔ ان تمام لغات میں اس کا معنی خوف ہی آتا ہے یہ ایک نشانی ہے۔ جب آپ اپنے بازو کی چمک دیکھیں اور اس کو واپس اپنی حالت پر جب لاناچا ہیں تو دوبارہ بغل میں داخل کیجئے، تو وہ اپنی حالت پر آجائے گا، جناح کا لفظ پورے ہاتھ پر بولاجاتا ہے۔
” واخفض لھما جناح الذل من الرحمہ، ، اس سے مراد نرمی ہے اور ان کافرمان،” واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین۔ انکے ساتھ نرمی اختیار کرو اور ان کے لیے پہلوکوجھکالو۔ فراء کا قول ہے کہ جناح سے مراد عصا ہے یعنی اپنی لاٹھی کو اپنے پاس جمع کرلو۔ بعض اہل لغت نے کہا قبائل حمیر کے محاورہ میں وہب کا معنی آستین ہے۔ اصمعی کا بیان ہے کہ میں نے بعض عربوں سے سنا ہے کہ اعطنی مافی رھبک، جو کچھ تمہاری آستین میں ہے مجھے دے دو ۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ آستین سے ہاتھ نکال کر اپنے بدن سے چمٹا لوکیون کہ حضرت موسیٰ اس وقت آستین میں ہاتھ ڈالے اور ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے تھے۔ فذانک، یہ دونوں نشانیاں عصا اور یدبیضا، برھان ، دونوں نشانیاں ہیں۔ من ربک الی فرعون وملائہ انھم کانواقومافاسقین۔
Ayahs 28:33–3434۔ واخی ہارون ھوافصح منی لسانا، ، یہ اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے کہا تھا کہ بچپن میں انہوں نے جلتا ہوا انگارہ منہ میں رکھ لیا تھا، فارسلہ معنی رداء بمعنی مددگار ۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے رداتہ ای اعنتہ میں نے اس کی مدد کی ، رداء دال کے فتحہ کے ساتھ تخفیف کے ساتھ۔ باقی قراء نے دال کے سکون کے ساتھ ۔ یصدقنی ابن عمر عامر حمزہ نے رفع کے ساتھ قاف پر حال ہونے کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے مجزوم پڑھا ہے جواب الدعا ہے حضرت ہارون کی تمام باتوں میں تصدیق کی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ، یصدقنی ، کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ کہ اگر تو میرے ساتھ ہارون کو پیغمبر بناکربھیج دے انی خاف ان یکذبون، یعنی فرعون اور اس کی قوم۔
Ayah 28:3535۔ قال سنشد عضدک باخیک۔ اور ہم آپ کو مضبوط کردیں گے۔ آپ کے بھائی کے ساتھ اور اس وقت آپ کے بھائی ہارون مصر میں تھے۔ ونجعل لکما سلطانا، حجت اور برہان، فلایصلون الیکما بایاتنا، ونجعل لکم سلطانابایاتنا بمانعطیکما من المعجزات فلایصلون الیکما ، فرعون اور اس کی قوم والے تم دونوں کو ضرر نہیں پہنچاسکیں گے۔
Ayah 28:3636۔ فلما جاء ھم موسیٰ بایاتنا، بینات۔ واضح دلائل ، قالوا ماھذا الاسحر مفتری، گھڑا ہوا تراشیدہ وماسمعنا بھذاجس کو تم پکارتے ہو ، فی اباء ناالاولین۔
Ayah 28:3737۔ وقال موسی، ، مکی نے بغیر واؤ کے پڑھا ہے۔ اسی طرح ان کے مصاحف میں بھی مذکور ہے۔ ربی اعلم بمن جاء بالھدی من عندہ، ، وہی جانتا ہے کہ میں حق پر ہوں اور تم لوگ باطل پرست۔ ومن تکون لہ عاقبۃ الدار۔ آخرت میں اچھا گھر، انہ لایفلح الظالمون، ظالم سے مراد کافر ہیں۔
Ayah 28:3838۔ وقال فرعون یا ایھا الملاء ماعلمت لکم، ،، ،، ، اس مٹی کی میرے لیے اینٹیں بنواؤ بعضنے کہا کہ سب سے پہلے جس نے اینٹیں پکوائیں وہ فرعون ہی تھا۔ فاجعل لی صرحا، بلند محل محض نے کہ امنارہ تیارکرائیں۔ اہل تفسیر کا قول ہے کہ جب فرعون نے حکم دیا کہ اپنے وزیر ہامان کو میرے لیے محل تیار کرواؤ ہامان نے بکثرت راجوں اور مزدوروں کو جمع کیا یہاں تک کہ مزدوروں کے علاوہ پچاس ہزار معمار اکٹھے ہوگئے۔ اینٹیں پکارنے والے چونہ تیار کرنے والے ، لکڑی کا کام کرنے والے کیلیں بنانے والے اور دوسرے کارگزار انکے علاوہ چناچہ سب نے مل کر اتنی مضبوط اور اونچی عمارت بنائی کہ کسی شخص کی عمارت اتنی اونچی نہیں تھی اللہ ان لوگوں کی آزمائش کرنا چاہتا تھا، عمارت سے فارغ ہوکر فرعون اور اس کے ساتھی اوپر چڑھ گئے۔ فرعون نے اوپر پہنچ کرتیراندازوں کو حکم دیا کہ اوپر کی طرف تیر برسائیں۔ تیراندازوں نے اوپر کی طرف تیر پھینکے توتیرخون آلود ہوکرواپس لوٹے فرعون بولا کہ میں نے موسیٰ کے خدا کو قتل کردیا۔ (نعوذ باللہ) ۔ فرعون کو خچر پر سوا کرکے اوپرچڑھایا گیا اللہ نے غروب آفتاب کے وقت جبرائیل کو بھیجا اپنا ایک پرخچر پر مار کر اس کے تین ٹکڑے کردیے ایک ٹکڑا فرعون کے لشکر میں گراجس سے لاکھوں آدمی مارے گئے ایک ٹکڑا سمندر میں گرا اور ایک ٹکڑا مغرب میں جن جن لوگوں نے عمارت بنانے میں کچھ کام کیا تھا سب ہی ہلاک ہوگئے۔ لعلی الطلع الی الہ موسی، اس کی طرف نظر کریں کہ وہ کیسے ہیں۔ وانی لاظنہ ، موسیٰ (علیہ السلام) ، من الکاذبین، ان کے گمان کے مطابق ، زمین میں سچے نہیں یعنی اس کا دعوی جھوٹا کہ آسمان و زمین میں ایک خالق ہے اور یہ اس کا رسول ہے۔
Ayah 28:3939۔ واستکبراھو و جنودہ فی الارض بغیر الحق، ،، ، نافع، حمزہ، کسائی، یعقوب نے یاء پر فتحہ پڑھا ہے۔ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ اور باقی قراء نے ضمہ کے ساتھ اور جیم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 28:40تفسیر۔
40۔ فاخذناہ و جنودہ فنبذناھم ، ، پس ہم نے ان کو ڈال دیا ، فی الیم فانظر کیف کان عاقبۃ الظالمین۔