29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 29:1–2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دئیے جائیں گے اور انکی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟

تفسیر۔ 1۔ 2۔ الم احسب الناس، ، لوگوں نے یہ گمان کیا کہ ، ان یترکوا، بغیر امتحان اور بغیر آزمائش کے ان کو چھوڑ دیاجائے گا، ان یقولوا، صرف اتنا کہہ دینے سے ، امنا وھم لایفتنون ، کہ ان کو ان کے اموال کی آزمائش مین اواران کے نفسوں کی آزمائش میں نہیں ڈالاجائے گا، ہرگز نہیں بلکہ ضرور بالضرور ا اور ان سے امتحان لیاجائے گا، تاکہ مخلص اور منافق کے درمیان جانچ پڑتال ہوجائے جھوٹے اور سچے انسان میں فرق واضح ہوجائے۔ آیت کے مختلف شان نزول۔ اس آیت کے سبب نزول میں مختلف اقوال ہیں۔ امام شعبی کا قول ہے کہ ہی آیت مکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ، مدنی صحابہ نے مکی مسلمانوں کو یہ آیت لکھ کر بھیج دی، اور کہا کہ تمہارا اسلام لانا اسوقت تک قابل قبول نہیں سمجھاجائے گا، جب تک کہ وہ ہجرت نہ کرلیں۔ مسلمانوں نے وہاں سے ہجرت کردی، راستے میں مشرکین سے جھڑپ ہوئی کچھ مسلمان شہید ہوگئے اور کچھ مسلمان بچ کر مدینہ پہنچ گئے۔ ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی، ابن عباس کا قول ہے کہ ، الناس سے مرا د مکہ میں رہ جانے والے مسلمان ہیں ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ربیعہ، ولید بن عبید، عمار بن یاسر، وغیرہ، ابن جریج کا قول ہے کہ س آیت کا نزول عمار بن یاسر کے متعلق ہوا آپ کو اللہ کی راہ میں سخت دکھ دیے جاتے تھے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام حضرت مہجع بن عبداللہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اس امت میں آپ پہلے شخص ہوں گے جن کو جنت کے دروازے کی طرف بلایاجائیگا۔ حضرت مہجع بدد میں سب سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی تھے۔ ان کے بارے میں نبی کریم نے ارشاد فرمایا، سید الشھداء مھجع بن عبداللہ، جب آپ کے والدین اور بی بی بےتابی کے ساتھ گریہ وزاری کرنے لگے تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض نے کہا وھم لایفتنون سے اوامر ونواہی مراد ہیں کہ شروع میں اللہ نے صرف ایمان کا حکم دیا تھا پھر نماز زکوۃ اور دوسرے قوانین کا حکم دیا۔ بعض لوگوں کو اس کی تعمیل میں دشواری ہوگئی اور ان پر یہ حکم شاق ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے انکو بھی آزمایا تھا (اور انکو بھی آزمائیں گے) سو خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

3۔ ولقد فتنا الذین من قبلھم، ، یعنی انبیاء اور مومنین کی سخت آزمائش ہم کرچکے ہیں۔ بعض انبیاء کو آروں سے چیرا گیا بعض کو قتل کیا گیا، بنی اسرائیل کو فرعون بدترین عذاب دیتارہا۔ فلیعمن اللہ الذین صدقوا، ، ان کے قول، امنا ، کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے وعدے میں سچے ہیں۔ ولیعلمن الکاذبین، ، اللہ انکے امتحان لینے سے پہلے ہی جانتا ہے آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ سچوں کو جھوٹوں سے الگ کرکے ظاہر کردے تاکہ اللہ کے ازلی علم کا فعلی ظہور ہوجائے۔ مقاتل نے علم کا ترجمہ دکھانا کیا ہے کہ اللہ دکھادے گا، بعض نے اس طرح معنی بیان کیے کہ اللہ ناپاک کو پاک سے الگ کردے گا۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ جو یہ خیال کرتے ہیں برا ہے

4۔ ام حسب الذین یعملون السیات، ، اس سے مراد شرک ہے۔ ان یسبقونا، کہ وہ ہمیں عاجز کردیں گے اور وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے اور ہم ان سے انتقام لینے پر قادر نہیں ہوں گے۔ ساء مایحکمون، ، برا ہے وہ جو فیصلہ کررہے ہیں ، اور جو انہوں نے گمان کرلیا۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص خدا کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

تفسیر۔ 5۔ من کان یرجوا لقاء اللہ، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ اس جگہ رجاء کا معنی ہے خوف یعنی جو شخص حشر نشر ، حساب فہمی اور عذاب خدا سے ڈرتا ہے سعید بن جبیر نے کہا کہ رجاء بمعن طمع کے ہے یعنی جو شخص ثواب کا خواہش مند ہے۔ فان اجل اللہ لات، یعنی جو اللہ نے ثواب اور عقاب کا وعدہ کیا ۔ مقاتل نے کہا کہ اس سے مراد ہے قیامت کا دن یعنی قیامت کا دن ضرور آئے گا، اس لیے آدمی پر لازم ہے کہ ایسے کاموں کی طرف پیش قدمی کرے جن سے ثواب کا حصول ہو۔ جس کی اس کو خواہش ہے۔ اور عذاب سے نجات مل جائے جس کا اس کو ڈر ہے۔ جیسا کہ دوسری آیات میں ہے، فمن کان یرجوالقاء ، ،، ، تا، ،، وھوالسمیع العلیم۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے

6۔ ومن جاھد فانما یجھاھد لنفسہ، ،، اس کے لیے ثواب ہے۔ جہاد کا معنی کیا ہے شدت اور سختی پر صبر کرنا اور یہ جنگ کے وقت ہوتا ہے اور کبھی کبھار مخالفت نفس پر بھی ہوتا ہے۔ ان اللہ لغنی عن العالمین، ، انکے اعمال اور ان کی عبادات سے لاپروا ہے۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

7۔ والذین آمنواوعملوالصالحات لنکفرن عنھم سیاتھم، ، نیکیوں کے ذریعے سے برائیون کو دور کردیں گے گویا کہ اس نے برائی کی ہی نہیں ہوگی تکفیر کہاجاتا ہے برائی کو نیکی کے ذریعے سے مٹانا۔ ” ولنجزینھم احسن الذی کانوایعملون، ،، احسن اعمالھم، سے مراد طاعت ہے۔ بعض نے کہا کہ ہم ان کے اعمال سے زیادہ جزاء ان کو دیں گے دس گنا سے سات سو گنا تک اور اس سے زائد جتنا اللہ چاہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ، من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیو تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے ہو میں تم کو بتلاؤں گا

8۔ ووصیناالانسان بوالدیہ حسنا، ، ان دونوں کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت فرمائی۔ معنی یہ ہوگا کہ ہم نے انسان کو یہ وصیت کی ہے کہ وہ والدین کے ساتھ وہی سلوک کرے جیسا کہ اس ک والدین نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ آیت ووصیناالانسان بوالدیہ، کا شان نزول۔ اس آیت کا نزول اور سو رہ لقمان کی آیت کا نزول اور احزاب کی آیت کا نزول سعد بن ابی وقاص سے بیان کیا گیا کہ سعد بن مالک اور ان کی ماں حمنہ بنت ابی سفیان بن عبدالشمس، نے کہا تونے یہ کیا نئی بات نکال رکھی ہے جب تک تو اس کا انکار نہیں کرے گا، اس وقت بخدا میں نہ کھانا کھاؤں گی اور نہ پانی پیوں گی، یہاں تک کہ یونہی مرجاؤں گی۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ جب تک اس مذہب سے جس پر تو قائم ہے لوٹ نہیں جائے گا، میں کچھ کھاؤں گی نہ پیوں گی، یونہی مرجاؤں گی پھر ہمیشہ تجھے لوگ اس کی عار دلاتے رہیں گے کہ یہ ماں کا قاتل ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک روایت میں اس طرح واقعہ لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت سعد کی ماں نے ایک دن رات یاتین دن رات بغیر کھائے پیے گزار دیے۔ سعد ماں ک پاس گئے اور کہا اماں اگر تیری سوجانیں ہوں اور ایک ایک جان نکل جائے تب بھی میں اپنامذہب نہیں چھوڑوں گا، تیرادل چاہے کھا اور نہ چاہے تو نہ کھا۔ جب ماں ناامید ہوگئی تو اس نے کھاناپیناشروع کردیا، اسی پر یہ آیت نازل ہوئی کہ والدین کے ساتھ نیکی اور ان دونوں کے ساتھ احسان کرو، ہاں شرک میں ان دونوں کی اطاعت نہ کرو۔ ” وان جاھداک لتشرک بی مالیس لک بہ علم فلاتطعمھا، ، حدیث شریف میں آتا ہے ، لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق، ، خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمانبرداری جائز نہیں۔ الی مرجعکم فانبئکم بماکنتم تعملون، ، تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دیں گے اور برے اعمال کا بدلہ بھی دیں گے اور نیک اعمال کا بدلہ نیکی سے دیں گے۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے

تفسیر۔ 9۔ والذین آمنواوعملوالصالحات لندخلنھم فی الصالحین، ، صالحین کے زمرہ میں داخل کردیں گے اور وہ انبیاء اولیاء ہیں یعنی ہم نیکوکار مومنوں کا انبیاء اولیائ، وغیرہ کیساتھ شامل کردیں گے بعض نے کہا کہ ان کے ساتھ ان کو جنت میں داخل کردیں گے اور جنت میں سب ساتھ ہوجائیں گے۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب ان کو خدا (کے راستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں ؟

10۔ ومن الناس من یقول امنابااللہ فاذا اوذی فی اللہ، لوگوں کی طرف سے ان کو بلا اور آزمائش پہنچی ۔ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ، کچھ لوگوں کو دکھ کافروں کی طرف سے پہنچتا ہے اور ان کو عذاب پہنچتا ہے۔ جیسا کہ آخرت میں عذاب دیاجاتا ہے یعنی یہ لوگ کافروں کی طرف سے دیے گئے عذاب پر صبر نہیں کرتے بلکہ جزع فزع کرتے ہیں اور اسلام کو چھوڑ دیتے ہیں، جس طرح کہ مسلمان اللہ کے عذاب آخرت کے خوف سے کفر و معصیت کو ترک کردیتے ہیں، یہ قول سدی اور ابن زید کا ہے یہ منافق کے بارے میں کہاجاتا ہے ، کب اسکوتھوری سی اذیت دی جاتی ہے تو وہ اسلام کو چھوڑ دیتا ہے اور کفر اختیار کرلیتا ہے۔ ” ولئن جاء نصر من ربک، ، جب مسلمانوں کو فتح اور مال غنیمت حاصل ہوتا ہے۔ لیقولن ، تو اس وقت یہ منافق کہتا ہے کہ ہم مومنین ہیں۔ اناکنامعکم، تمہارے دشمن کے مقابلے میں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم پکے مسلمان ہیں۔ ولیس اللہ باعلم بمافی صدور العالمین، ایمان اور نفاق سے۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا

11۔ ولیعلمن اللہ الذین امنوا، ، انہوں نے تصدیق کی اور اسلام پر ثابت قدم رہے، مصیبت کے وقت۔ ولیعلمن المنافقین، ، اور منافقین کو بھی جانتے ہیں۔ جنہوں نے مصیبت کے وقت اسلام کو ترک کردیا۔ اس آیت کے نزول کے بارے میں اختلاف ہے کہ مجاہد نے کہا کہ کفار مکہ نے یہ بات کہی تھی، دوسراقول ہے اس آیت کا نزول ان لوگوں کے متعلق ہوا کہ جو زبان سے ایمان لائے لیکن جب ان کو مصیبت پہنچی تو وہ اسلام سے پھرگئے۔ عکرمہ نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے مکہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تھے مگر وہ اپنے ایمان پوشیدہ رکھتے تھے بدر کی لڑائی میں مشرک ان کو اپنے ساتھ لے گئے ان میں سے کوئی مارا گیا، تو مسلمانوں نے رسول اللہ سے عرض کیا یہ لوگ تو مسلمان تھے مجبورا ناگواری کی حالت میں مشرکوں کے ساتھ آئے جو لوگ مارے گئے ان کے لیے دعائے مغفر ت کردیجئے۔ اس پر سو رہ نساء کی آیت، ان الذین توفھم الملائکۃ ظالمی انفسھم، آخر تک نازل ہوئی۔ قتادہ کا بیان ہے کہ یہ سورت ان مومنین کے حق میں نازل ہوئی جو مکہ سے ہجرت کرکے آرہے تھے انہیں مشرکین نے واپس مکہ لوٹنے پر مجبور کیا، شعبی کا بیان ہے کہ آغاز سورت سے یہاں تک دس آیات مدنی ہیں، اور اس سے آگے اخیرسورت تک ساری آیات مکی ہیں۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

12۔ وقال الذین کفروا للذین امنوا اتبعوا سبیلنا، ، مجاہد کا قول ہے کہ کفار مکہ نے یہ بات کہی تھی جو لوگ ایمان لائے تھے ان کو، کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ ابوسفیان نے مومنوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین پر اور ہمارے باپ دادا کے دین پرچلو، کفر کو اختیار کرنے کی جرات پیدا کرنے کے لیے انہوں نے ایسا کہا تھا، ولنحمل خطیاکم، تمہارا بوجھ بھی اپنے اوپرڈال دیں گے۔ فراء نے کہا کہ ولنحمل، کا لفظ کے اعتبار سے امرکاصیغہ ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جزاء ہے، یعنی اگر ہماری راہ پرچلو گے توہم تمہارے گناہ اپنے اوپراٹھالیں گے دوسری آیت میں بھی اسی طرح آیا ہے، فرمایا ہے ، فلیلقہ الیم بالساحل، پھر دریا کو چاہیے کہ اس کو ساحل پر پھینک دے یعنی دریا اس کی لاش کو ساحل پر پھینک دے گا بعض نے کہا یہ امر مجزوم ہے گویا کہ انہوں نے اپنے آپ کو کو حکم دیا، لیکن اللہ نے انکی تکذیب کی۔ وماھم بحاملین من خطایاھم من شئی انھم لکاذبون، ، یعنی جو اپنے گناہوں کے ساتھ دوسرے کے گناہوں کو اٹھانے کی خبر دے رہے ہیں یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی

تفسیر۔ 13۔ ولیحملن اثقالھم، یعنی دوسروں کو گمراہ کرنے کا بار مگر اس سے گمراہ ہونے والوں کا بار ہلکا نہ ہوسکے گا، ، واثقالا مع اثقالھم، یعنی وہ بوجھ جو دوسروں کا گمراہ کرنے کا تھا اور ان کو سیدھے راستے سے روکا، ساتھ ان کے بوجھوں کے اور اس کی مثال اللہ کا فرمان ہے ، لیحملوا اوزارھم کاملۃ یوم القیامہ، ومن اوزارالذین یضلونھم بغیرعلم، ولیسئلن یوم القیامۃ عماکانوا یفترون، یہ سوال بطور توبیخ اور تفریح کے لیے ہے۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

14۔ ولقدارسلنا نوحا الی قومہ فلبث فیھم الف سنہ، الاخمسین عاما فاخذھم الطوفان، ، طوفان نے ان کو غرق کرڈالا، وھم ظالمون، ابن عباس نے اس کا ترجمہ مشرکوں سے کیا ہے وہ مشرک تھے۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

15۔ فانجیناہ واصحاب السفینہ، غرق ہونے سے اصحاب سفینہ کو بچالیا۔ وجعلناھا، اور ہم نے بنایا اس کشتی کو ، ایہ، عبرت کے لیے نشانی ، للعالمین، تمام جہانوں کے لیے وہ کشتی دراز مدت تک جودی پہاڑ پر ٹھہری رہی اور بعض نے کہا کہ کشتی کو غرق ہونے والوں کے لیے عبرت کانشان بنائے رکھا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ چالیس سال کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ملی ، پھر ساڑے نوسوسال قوم کو ہدایت کرتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے جب لوگوں کی نسلیں بڑھ گئیں اور پھیل گئیں اور آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال ہوگئی تو آپ کو وفات ہوگئی۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

16۔ وابراھیم ، پھر ہم نے حضرت ابراہیم کوپیغمبربناکربھیجا، اذقال لقومہ اعبدواللہ واتقوہ، اس کی اطاعت کروا اس سے ڈرو۔ ذالکم خیرلکم ان کنتم تعلمون، ،،۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جاؤ گے

17۔ انماتعبدون من دون اللہ اوثانا، اس سے مراد بت ہیں۔ وتخلقون افکا، ، اور تم لوگ جھوٹ گھڑتے ہو۔ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ بتوں کو اپنے ہاتھوں سے تراشتے تھے پھر ان کو اپنے الہ کہلاتے تھے۔ ان الذین تعبدون من دون اللہ لایملکون لکم رزقا، ، وہ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ تمہیں رزق دیں فابتغوا، ، پس تم طلب کرو، عنداللہ الرزق واعبدوہ واشکرولہ الیہ ترجعون، ،۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

18۔ وان تکذبوا فقد کذب امم من قبلکم ، جیسے قوم عاد ، قوم ثمود وغیرہ نے انبیاء کو جھٹلایا اور پھر ان قوموں کو ہلاک کردیا گیا، وماعلی الرسول الالبلاغ المبین۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اسکو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے یہ خدا کو آسان ہے

تفسیر۔ 19۔ اولم یرواکیف یبدی اللہ الخلق، ،، کیسے اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کی ابتداء کی۔ شروع میں وہ نطفہ کی شکل مین ، پھر لوتھڑا ، پھر گوشت کا ٹکڑا، ، ثم یعیدہ پھر آخرت میں دوبارہ اس کو زندہ کیا جائے گا، ان ذالک علی اللہ یسیر۔
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ دا کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا پھر خدا ہی پچھلی پیدائش کرے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

20۔ قل سیروافی الارض فانطروا کیف بدالخلق، ، ان کے گھروں اور ان کے مکانات کو دیکھو اور دیکھو کہ اللہ نے انکوکیسا پیدا کیا، ثم اللہ ینشئی النشاۃ الاخرہ، ، پھر وہ ذات ان کو آخرت میں دوبارہ زندہ کرے گی موت کے بعد ، جیسا کہ اللہ کو پہلی مرتبہ پیداکرنامتعذر نہیں تھا، تو اسی طرح دوبارہ پیدا کرنا بھی متعذر نہیں ہوگا۔ یہ قرات ابن کثیر، ابوعمر کی ہے۔ النشاۃ ، شین کے فتحہ اور مد کے ساتھ اور دوسرے قراء نے شین کے سکون کے ساتھ۔ اس کی مثال ، الرافۃ والرافی، ہے ان اللہ علی کل شئی قدیر۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

21۔ یعذب من یشاء ویرحم من یشاء والیہ تقلبون، ، اور اس کی طف لوٹ کرجانا ہے۔
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم (اسکو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

22۔ وماانتم بمعجزین فی الارض ولافی السمائ، ،، سوال : کیا جائے کہ آیت میں فی الارض کی قید تو درست ہے لیکن فی السماء کی قیددرست نہیں کیونکہ خطاب تو صرف آدمیوں کوہ اور آدمیوں کاٹھکانازمین میں ہے نہ کہ آسمان ؟ جواب : فراء نے اسکایہ جواب دیا کہ ، ولافی السمائ، کا معنی ہے ، ولامن فی السمائ، یعنی اللہ کے ان ملائکہ کو بھی عاجز نہیں بناسکتے جو آسمان میں ہیں جیسا کہ حسان بن ثابت کا شعر ہے ، فمن یھجوا رسول اللہ منکم، ،، ،، ، ویمدحہ وینصرہ سواء ، ،۔ تم میں سے جو لوگ رسول اللہ کی ہجوکریں اور وہ لوگ رسول اللہ کی مدح اور مدد کریں دونوں فریق رسول اللہ کے سامنے برابر ہیں۔ مراد اس سے وہ شخص ہے جو آپ کی مدح کرے اور وہ شخص جو ہجو کرے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچاسکتا، معنی یہ ہوا کہ جو زمین والے زمین والوں کو عاجز نہیں کرسکتے وہ آسمان ولوں کو بھی عاجز نہیں کرسکتے۔ قطرب نے اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ تم اہل زمین والوں کو عاجز نہیں کرسکتے اور آسمانوں کو بھی عاجز نہیں کرسکتے ۔ اگر تم آسمان میں رہنے والوں میں سے ہو۔ ومالکم من دون اللہ من ولی ولانصیر، ،، نہ تو ان کا کوئی مددگار ہوگاجوان کو مجھ سے ور کے اور نہ ہی کوئی مددگار ہوگاجو میرے عذاب سے ان کی مدد کرے۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اسکے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

23۔ والذین کفروا بایات اللہ ولقائہ، اللہ کی آیات سے مراد قرآن پاک اور قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھنے پر یقین۔ او لئک یئسوا من رحمتی ، رحمت سے مراد جنت ہے۔ واولئک لھم عذاب الیم، ، یہ تمام آیات اہل مکہ کے تذکرہ پر ہیں اور ان کو ڈرانے کے لیے ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے جو حضرت ابراہیم کے کلام کے درمیان ذکر کردیا گیا اور اس کے بعد پھر حضرت ابراہیم کے قصہ کی طرف رجوع کیا، اللہ عزوجل شانہ کا ارشاد ہے :
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو انکی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو مگر خدا نے ان کو آگ (کی سوزش) سے بچا لیا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

24۔ فماکان جواب قومہ الاان قالوا اقتلوہ، ،، ، اور ہم نے اس آگ کو آپ پر ٹھنڈی کردیا اور سلامت والی بنادی ، ان فی ذالک لایات القوم یومنون۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم) نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کردو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا

تفسیر۔ 25۔ وقال، ، حضرت ابراہیم نے اپنی قوم سے کہا کہ ، انما اتخذتم من دون اللہ اوثانامودۃ بینکم، ابن کثیر اور کسائی نے ابوعمرو یعقوب نے ، مودۃ ، رفع کے ساتھ بغیر تنوین کے پڑھا ہے۔ بینککم، اضافت کے ساتھ معنی یہ ہوگا کہ جن لوگوں نے بتوں کو اپنا معبود بنارکھا ہے دنیاوی فائدے کے لیے ۔ فی الحیوۃ الدنیا، ، پھر یہ فائدے دنیا میں ختم ہوجائیں گے آخرت میں کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ حمزہ اور حفص نے ، مودہ نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور بغیرتنوین کے اضافت کی وجہ سے۔ دوسرے قراء نے منصوب تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس آیت کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے اپنے بتوں کو دنیاوی زندگی کی عیش و عشرت کے لیے معبود بنارکھا ہے ان پر عبادت کرنے کے لیے بار بار لوٹتے ہیں اور دنیا میں ان سے فوائد کی امید رکھتے ہیں۔ ثم یوم القیامۃ یکفر بعضکم ببعض ویلعن بعضکم بعضا، ، اس دن یہ بتوں کی عبادت کرنے سے برات اختیار کرلیں گے اور باہم ایک دوسرے کی اتباع کے مکر ہوجائیں گے اور ہر ایک دوسرے پر لعنت بھیجے گا، وماواکم ان سب کا ٹھکانا یعنی عبادت کرنے والوں کا اور معبودوں کا، النار ومالک من ناصرین۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ان پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

26۔ فامن لہ لوط، حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائے۔ یہ حضرت ابراہیم کے بھائی ہارون کے بیٹے تھے ۔ وقال، اور حضرت ابراہیم نے فرمایا، انی مھاجر الی ربی، یعنی اللہ نے مجھے جہاں چلے جانے کا حکم دیاوہاں چلاجاؤں گا، مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم نے کو ثی علاقہ کی طرف حران کی طرف ہجرت کی پھر حران سے شام کو چلے گئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ کی بیوی حضرت سارہ دونوں آپ کے ساتھ تھے حضرت ابراہیم پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے اپنے آبائی گاؤں سے ہجرت کی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے ہجرت کی تو اس وقت آپ کی عمر ، پچھترسال تھی۔ انہ ھوالعزیز الحکیم۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کردی اور انکو دنیا میں بھی اس کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

27۔ ووھبنالہ اسحاق و یعقوب وجعلنا فی ذرتیہ النبوۃ، والکتاب، ، کہاجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی ایسا نبی نہیں جو ابراہیم کے بعد انہی کی نسل میں سے نہ ہو۔ واتیناہ اجرہ فی الدنیا، ، وہ ہے اچھی تعریف، ، اس وجہ سے ہرادیان والے اپنے دین کو دین ابراہمی کی طرف موسوم کرتے ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد نیک اولاد ہے۔ بعض نے کہا کہ انہوں نے دنیا میں اپنامکان جنت کے اندر دیکھ لیا تھا، وانہ فی الاخرۃ لمن الصالحین، ، حضرت ابراہیم کا شمار اہل صلاح میں سے ہوگا، ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت آدم اور حضرت نوح کے ساتھ ان کا شمار ہوگا۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا

28۔ ولوطا اذقال لقومہ انکم، ابوعمرو حمزہ اور کسائی اور ابوبکر نے ، ا ء نکم ، استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے بغیراستفہام کے پڑھا ہے انہوں نے دوسرے استفہام پر قیاس کیا ۔ لتاتون الفاحشۃ، فاحشہ سے مراد مردوں کے پاس آنا برائی کے لیے۔ ماسبقکم بھامن احد من العالمین۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور (مسافروں کی) راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو ؟ تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خدا کا عذاب لے آؤ

29۔ ا ء نکم لتاتون الرجال وتقطعون السبیل، ، یہ اس وجہ سے کہ جو شخص بھی ان کے راستے سے گزرتا مسافرین میں سے پھر لوگوں نے وہاں سے گزرناترک کردیا۔ بعض نے کہا تقطعون السبیل ، سے مراد نسل کا قطع کرنا ہے کہ جب عورتوں کے پاس آنے کے بجائے مردوں کے پاس آئیں گے توتوالدتناسل نہیں ہوگا، تونسل قطع ہوجائے گی۔ وتاتون فی نادیکم المنکر، النادی ، والندی والمنتدی، اس مجلس کو کہتے ہیں جس میں اہل مجلس موجود ہوں۔ ابوصالح نے ام ہانی کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ام ہانی نے فرمایا مکہ میں نے رسول اللہ سے آیت وتاتون فی نادیکم المنکر، کے متعلق دریافت کیا اور عرض کیا، وہ بری بات کون سی تھی جو قوم لو ط والے اپنی مجلسوں میں کرتے تھے، فرمایا وہ لوگ آنے جانے والوں کے غلے مارتے تھے اور ان کا مذاق بناتے تھے ۔ روایات میں آتا ہے کہ قوم لوط والے اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے شخص کے پاس ایک پیالے میں کچھ پتھریاں ہوتی تھیں کوئی مسافر ادھر سے گزرتا تو وہ آپس میں کہتے تھے لوچنانچہ ہر شخص مسافر کو نشانہ بنا کر کنکری مارتا جس کی کنکری مسافر کو لگ جاتی وہی مسافر کا مستحق قرار پاتا پہلے اس کا سب سامان چھین لیتا پھر اس کے ساتھ بدفعلی کرتا تھا اور تین درہم اس کودے کر چلتا کردیتا تھا اور اس کا سربراہ تین درہم دینے کا فیصلہ کرتا تھا۔ قاسم بن محمد نے کہا وہ جلسوں میں بیٹھ کر آوا ز کے ساتھ ریاح خارج کرتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا ایک دوسرے پر تھوکتے تھے مکحول کا بیان ہے قوم لوط کی بری حرکتوں میں سے یہ باتیں بھی تھیں کہ وہ علک چباتے ، مہندی سے انگلیاں رنگتے ، لنگیاں کھول دیتے تھے ، سیٹیاں بجاتے ، کنکریاں مارتے اور بدفعلیاں کرتے تھے۔ فما کان جواب قومہ، جب حضرت لوط (علیہ السلام) کے منع کرنے کے باوجود ان بری حرکتوں سے نہ رکے۔ الاان قالوا تو وہ بطور استہزاء یہ کہنے لگے ، ائتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصادقین کہ ہم پر عذاب نازل کر اگر تو اپنی نبوت میں سچا ہے۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے کہا اے میرے پروردگار (ان) مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما

تفسیر۔ 30۔ قال “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو کہا، رب انصرنی علی القوم المفسدین، ، ان پر عذاب کا آنا یہ اس کے مستحق ہیں۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کردینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں

31۔ ولماجاء ت رلناابراہیم بالبشری، ، جب اللہ کی طرف سے ان کو خوش خبری دینے والے فرشتے آئے اور ان کو اسحاق اور یعقوب کی خوش خبری دی ، قالوا انامھلکوا اھل ھذہ القریہ، ، اور قریہ سدوم کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ان اھلھا کانواظالمین۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انکو اور انکے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

32۔ قال، ، حضرت ابراہیم نے فرشتوں سے کہا، ان فیھا لوطا، قالوا، ، فرشتوں نے جواب دیا، نح اعلم بمن فیھا لننجینہ، ، حمزہ، کسائی نے یعقوب نے اس کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ واھلہ الاامرتہ کانت من الغابرین، ، یہ لوگ عذاب سے بچ کر رہنے والے ہوں گے۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے (فرشتوں نے کہا) کچھ خوف نہ کیجئے اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

33۔ ولماجاء ت رسلنا لوطا، ، انہوں نے یہ گمان کیا کہ یہ انسان ہیں۔ سی بھم، ان کو دیکھ غمگین ہوگئے۔ وضاق بھم، اور ان کے آنے کی وجہ سے ان کے دل میں گھٹن پیدا ہوگئی ، درعا وقالوالاتخف، ، اپنی قوم سے ہمارے میں خوف نہ کھائیے، ولاتحزن، اور ہمارا انکو ہلاک کردینا تمہیں غمگین نہ کرے گا، انامنجوک واھلک الامرتک کانت من الغابرین، ، ابن کثیر ، حمزہ اور کسائی ، ابوبکر، یعقوب نے ، منجوک، تخفیف کے ساتھ پڑھاہے اور دوسرے قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

تفسیر۔ 34۔ انامنزلون ، ، ابن عامر نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ، علی اھل ھذاہ القریۃ ، رجزا اس سے مراد عذاب ہے من السماء مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے خسف اور خصب مراد ہے۔ بماکانوایفسقون،۔
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے والوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی

35۔ ولقد ترکنامنھا، ، حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں سے، ایہ بینۃ، ظاہری عبرت ، لقوم یعقلون، قرآن کی ایات کی تدبیر کرنے والی قوم ہی تدبیر کرسکتی ہے۔ جو ذوی العقول میں سے ہو، یعنی عقل و شعور والی ہو۔ ابن عباس کے نزدیک، ایہ بینہ، سے مراد ہے قوم لوط کی بستیوں کے ویران کھنڈر، قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے تھے اللہ نے وہ پتھر باقی رکھے اس امت کے ابتدائی دور تک وہ پتھر موجود تھے اور اگلے لوگوں نے انکودیکھا تھا، مجاہد کا قول ہے کہ زمین کے اندر سے سیاہ پانی برآمد کرنا، ایہ بینہ ، سے مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ ان کے قصہ کی شہرت مراد ہے یعنی ہم نے قوم لوط کی تباہی کا قصہ کو ایک نشانی کرکے چھوڑ دیا۔
Ayahs 29:36–37

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن (کے آنے) کی امید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے انکو جھوٹا سمجھا سو ان کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

36۔ والی مدین اخاھم شعیبا، ، اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا، فقال یقوم اعبداللہ وارجوالیوم الاخرہ، ، اور آخرت کے دن سے اللہ سے ڈرو۔ ولاتعثوا فی الارض مفسدین۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا) چناچہ ان کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کو آراستہ کر دکھائے اور انکو (سیدھے) راستے سے روک دیا حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

38۔ وعاداوثمود، ، اور ہم نے قوم عاد اور قوم ثمود کو ہلاک کردیا۔ وقد تبین لکم، اور اے اہل مکہ ہم نے تمہارے لیے سب کچھ کھول کر بیان کیا، من مساکنھم ان کے کچھ مقامات سکونت یا یہ مطلب ہے کہ جب ان کے ویران مقامات کی طرف جاتے اورادھر سے گزرتے ہیں تو ان کے کھنڈروں سے تم پر ان کو تباہ ہوجانا واضح ہوجاتا ہے۔ وزین لھم الشیطان ، سیدھے راستے سے۔ وکانوا مستبصرین، مقاتل قتادہ ک اورکلبی نے اس جملہ کی تشریح میں کہا کہ وہ لوگ اپنے مذہب کو اورحق سے گمراہ ہونے کو پسند کرتے تھے اور اپنے آپ کو راہ راست پر خیال کرتے تھے اس تشریح کی بناء پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنی نظر میں بڑے ہوشیار تھے ۔ فراء نے مستبصر ہونے کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ وہ لوگ اہل دانش اور ہوش تھے بصیرت مند تھے غور و فکر کرسکتے تھے لیکن انہوں نے غور و فکر سے کام نہیں لیا۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کردیا) اور انکے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور وہ (ہمارے) قابو سے نکل جانے والے نہ تھے

39۔ وقارون و فرعون وھامان، ، اور اسی طرح ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ ولقد جاء ھم موسیٰ بالبینات، ، واضح دلیلیں دے کر، فاستکبروا فی الارض وماکانوا سابقین، ، وہ ہمارے عذاب سے بچ نہ سکے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے سب کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کردیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

41۔ فکلااخذنا بذنبہ فمنھم من ارسلنا علیہ حاصبا، یہ قوم لوط تھی جن پر ہم نے پتھر برسائے حاصب اس ہوا کو کہتے ہیں جس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے پتھر بھی ہوں ، ومنھم من اخذتہ الصیحہ، اس سے مراد ثمود ہے ۔ ومنھم من خسفنا بہ الارض، ، قارون اور اس کے دوست و احباب، ومنھم من اغرقنا ، قوم نوح اور فرعون اور اس کی قوم ، وماکان اللہ لیظلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔