Ayahs 30:1–2فارس اور رومیوں کے درمیان جنگ کا واقعہ۔
تفسیر۔ فارس اور روم میں جنگ تھی۔ مشرک دل سے چاہتے تھے کہ اہل فارس رومیوں پر غالب آجائیں کیونکہ فارس والے مجوسی تھے ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی فتح یاب ہوجائیں کیونکہ رومی اہل کتاب تھے ۔ کسری پرویزبن ہرمزبن نوشیرواں نے ایک لشکر روم کی طرف بھیجا جس کی قیادت شہرزاد کے سپرد کی اور قیصر نے ایک لشکر یحسیس کی زیرسرکردگی روانہ کیا ۔ دونوں فوجوں کا مقابلہ اذرعات علاقہ شام وبصری کے مقام پر ہوا۔ (یہ شامی علاقہ ارض عرب کے بہت قریب تھا اور عجم سے بھی قریب تھا) آخر میں فارس والے رومیوں پر غالب آگئے۔ مسلمانوں کو مکہ میں اس کی اطلاع پہنچی تو ان کو بڑارنج ہوا اور کفار مکہ اس خبرکوسن کر بہت خوش ہوئے اور مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم بھی اہل کتاب ہو اور عیسائی بھی اہل کتاب ہیں اور ہم امی (یعنی بےکتاب) ہیں ہمارے فارسی بھائی تمہارے رومی بھائیوں پر غالب آجائیں گے۔ اگر تم ہم سے لڑوگے تو ہم بھی تم پر غالب آگئے۔ اس وقت آیت کا نزول ہوا۔
ابوبکر صدیق ؓ کا ابی بن خلف کے ساتھ شرط لگانا
نزول آیت کے بعد حضرت ابوبکر کفار کے پاس گئے اور فرمایا اب تو تم اپنے بھائیوں کے غالب آجانے سے بہت خوش ہو لیکن اللہ ! عنقریب رومی فارسیوں پر غالب آجائیں گے ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہم کو اس کی اطلاع دے دی ہے۔ ابی بن خلف جمحی بولا : تم جھوٹے ہو۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایاـ: دشمن خدا تو بڑا جھوٹا ہے۔ ابی نے کہا ہمارے درمیان ایک معین مدت کی شرط کرلو میں دس اونٹنیوں کی شرط باندھتاہوں ۔ اگر رومی فارس والوں پر غالب آگئے تو میں تاوان (یعنی دس اونٹنیاں ) تم کو دوں گا اور اگر فارس والے رومیوں پر غالب رہے تو تم کو تاوان اداکرنا ہوگا۔ شرط طے ہوگئی اور تین سال کی میعادمقررکردی گئی۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے خدمت گرامی ( ﷺ) میں حاضر ہوکریہ واقعہ عرض کردیا۔ (یہ عاقعہ قمار کی حرمت سے پہلے کا ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تو یہ نہیں بیان کیا تھا بضع تو تین سے نوتک ہوتا ہے ۔ اب تم مال کی مقدار میں اضافہ کردو اور میعاد بڑھادو۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ خدمت گرامی سے واپس آئے ابی سامنے دکھائی دیا ۔ ابی نے کہا اب تو شاید تم کو پشیمانی ہوئی ۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے فرمایا پشیمانی نہیں بلکہ میں تو مال کی مقدار بڑھانا اور میعاد مقر رہ میں تو سیع کرنا چاہتا ہوں ۔ چناچہ سوسواونٹنیوں کی شرط ہوگئی اور نوسال کی مدت مقررہوئی۔ بعض روایات میں سات سال کی میعاد آئی ہے۔ ابی نے کہا میں نے مان لیا۔ کچھ مدت کے بعد ابی بن خلف کو جب یہ اند یشہ ہوا کہ ابوبکر مکہ سے چلے جائیں گے تو آکر آپ سے چمٹ گیا اور بولا مجھے اندیشہ ہے کہ تم مکہ سے چلے جاؤ گے اس لیے اپنا کوئی ضامن دو کہ جب میں شرط جیت جاؤں تو اس سے مال شرط وصول کرلوں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو ضامن بنادیا۔ حضرت عبد اللہ ضامن ہوگئے۔
اس کے بعد ابی بن خلف مسلمانوں کے مقابل احد کی جنگ میں گیا اور مقابلہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے زخمی ہو کرم کہ میں آکرمرگیا۔ ادھر حدیبیہ کے دن رومی فارس پر غالب آگئے ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ بدر کے دن رومیوں کا فارسیوں پر غلبہ ہوا۔ یہ واقعہ یوم شرط سے ساتویں سال کے سرے پر پیش آیا۔ شعبی نے لکھا ہے کہ یہ مقررہ مدت گزرنے نہیں پائی تھی کہ رومی فارس والوں پر غالب آگئے اور اپنے گھوڑے مدائن (ایرانیوں کی عراقی راجد ھانی) میں لے جاکر باندھ دیئے ۔ حرمت قمار سے پہلے کا یہ قصہ ہے حضرت ابوبکر بھی ابی ابن خلف سے جیت گئے اور ابی بن خلف کے وارثوں سے آپ نے شرط کا مال وصول کرلیا اور خدمت گرامی ﷺ میں لے کر حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس کو خیرات کردو۔ ترمذی نے بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی روایت سے ایساہی نقل کیا ہے ۔
رومیوں کا فارس والوں پر غالب آنے کا واقعہ
حسب بیان عکرمہ رومیوں کی فارس والوں پر غالب آنے کی صورت یہ ہوئی کہ شہرزاددرومیوں پر غالب آیا اور ان کے شہروں کو روندتا اجاڑتا ہواخلیج تک پہنچ گیا ۔ ایک روزشہرزاد کا بھائی فرخان شہرزاد کے تخت پر بیٹھا شراب پی رہا تھا کہ مستی کی حالت میں اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں کسری کے تخت پر بیٹھنے والا ہوں ۔ یہ بات کسری تک پہنچ گئی۔ کسری نے شہرزاد کو لکھا کہ جس وقت میری یہ تحریر تم کو پہنچے فورا فرخان کا سرکاٹ کر میرے پاس بھیج دو ۔ شہرزاد نے جواب میں لکھا بادشاہ سلامت ! فرخان کے بڑے کارنامے ہیں اور دشمنوں پر اس کی دھاک ہے آپ کو ایسا شخص نہیں ملے گا۔ کسری نے دوبارہ لکھا فارس میں اور بہت سے لوگ ہیں جو اس سے بہتر ہیں اور فورا میرے پاس کا سربھیج دو ۔ شہرزاد نے اس کا بھی ایساہی جواب لکھ دیاجس کسری غضب ناک ہوگیا اور پھر کچھ نہیں لکھ بلکہ فوج کے پاس ڈاک سے یہ حکم بھیج دیا کہ میں نے شہرزاد کو ہٹا کر اس کی جگہ تمہارا آفیسر فرخان کو بنادیا پھر ایک چھوٹا ساپر چہ ڈاک لے جانے والے کو الگ سے دے دیا جس میں شہرز ادکوقتل کردینے کا حکم لکھا ہوا تھا اور ڈاک والے سے کہا کہ جب فرخان حکومت کا چارج لے لے اور اس کا بھائی اس کی اطاعت کرلے تو اس وقت یہ پرچہ فرخان کودے دینا۔ غرض شاہی حکم ملنے کے بعد شہرزادنے بسروچشم اس کو قبول کیا اور تخت سے اترآیا اس کی جگہ فرخان بیٹھ گیا۔ اس وقت ڈاک والے نے یہ پرچہ فرخان کو دیا فرخان نے فوراشہرزاد کو بلوانے کا حکم دیا اور گردن ماردینے کے لیے پیشی میں طلب کیا ۔
شہر زاد نے کہا جلدی سے کام نہ لیجئے مجھے اتنی مہلت دیجئے کہ میں وصیب نامہ لکھ دوں ۔ فرخان نے کہا اچھا ۔ شہرزاد نے بستہ منگوایا اور اس میں سے تین تحریریں نکال کردکھائیں اور فرخان سے کہا میں نے آپ کے سلسلے میں کسری سے یہ ساری مراسلت کی تھی اور آپ صرف ایک تحریر ملنے پر مجھے قتل کرانا چاہتے ہیں ۔ فرخان نے فورا اقتدارحکومت شہرزاد کو واپس کردیا ۔
اس کے بعد شہرزادنے قیصر روم کو لکھا مجھے آپ سے کام ہے لیکن وہ نہ پیام رساں کی معرفت زبانی کہلوایا جاسکتا ہے نہ تحریر ا اس کو پہنچایا جاسکتا ہے ملاقات ہی ضروری ہے ۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ پچاس رومیوں کو ساتھ لے کر مجھ سے ملئے میرے ساتھ بھی اس وقت صرف پچاس ایرانی ہوں گے ۔ قیصر نے بات مان لی اور پچاس رومیوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگیا لیکن اس کو اندیشہ لگا ہوا تھا شاید شہرزادنے کوئی فریب کیا ہو اس لیے اپنے آگے آگے اس نے کچھ جاسوس بھیج دیئے تاکہ صحیح اطلاع بہم پہنچائیں ۔ جاسوسوں نے آکر کہا کہ شہرزاد کے ساتھ بھی صرف پچاس آدمی ہیں۔ قیصر روم شہرزاد کی جانب چل دیا۔ پھر دونوں کے لئے ایک ریشمی خیمہ لگوایا گیا اور دونوں کی ملاقات اس طرح ہوئی کہ ہر ایک کے پاس خنجر تھا اور دونوں کے درمیان ترجمان تھا ۔ شہرزاد نے کہا آپ کے شہرجن لوگوں نے ویران کیے وہ میں اور میرا بھائی ہیں ۔ ہم نے ہی اپنی تدبیر اور بہادری سے آپ کا ملک اجاڑا اس سے کسری کو ہم پر حسد ہوگیا اور اس نے میرے بھائی کو میرے ہاتھ سے قتل کرادینا چاہا میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو کسری نے میرے بھائی کو حکم دیا کہ وہ مجھے قتل کردے ۔ ہم دونوں ساتھ پیدا ہوئے ہیں اس لیے ایک کے قتل ہوجانے سے دوسرا مرہی جائے گا اب ہم آپ کے ساتھ مل کر کسری سے لڑنا چاہتے ہیں ۔ قیصر نے کہا تم نے ٹھیک کہا ۔ پھر ایک نے دوسرے سے اشارہ کہا کہ رازدوآدمیوں کے درمیان رہتا ہے جب دو سے آگے بڑھتا ہے تو پھیل جاتا ہے۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے خنجروں سے ترجمانوں کو قتل کردیا اس وقت سے رومیوں کا فارسیوں پر غلبہ ہوگیا اور ڈھونڈکررومیوں نے ایرانیوں کو قتل کردیا۔ کسری بھی مرگیا اور رسو (رح) ل اللہ ﷺ کے پاس اس کی اطلاع صلح حدیبیہ کے روز پہنچی جس کو سن کر مسلمان اور خودخضور ﷺ خوش ہوئے ۔ اسی قصہ کی طرف غلبت الروم فی ادنی الا رض الایۃ میں اشارہ کیا گیا ہے۔
الم غلبت الروم فی ادلی الارض یعنی ارض شام جوار ض فارس کے قریب ہے ۔ عکرمہ نے کہا ادلی الا رض سے اذرعات اور کسکرمراد ہے۔ یہ دونوں علاقے شام کے تھے مجاہد کا قول ہے کہ ارض جزیرہ مراد ہے ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ یہ اردن اور فلسطین کا علاقہ مراد ہے ۔ وھم من بعدغلبھم روم فارس کے غلبہ پانے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ والغلب والغلبۃ دونوں الغات ہیں ۔ سیغلبوفارس مراد ہیں۔
Ayahs 30:3–4تفسیر۔ 4۔ فی بضع سنین بضع کا اطلاق تین سے سات تک ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ تین سے لے کرنوتک ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ تین سے لے کردس تک ہوتا ہے ۔ عبد اللہ بن عمر وابو سعید خدری حسن بصری عیسیٰ بن عمر ونے غلبت غین کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔” سیغلبون “ یاء کے ضمہ اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ نے روم اور فارس کے غلبہ کی خبردی ۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ روم فارس پر غالب آگئے قریب ترین زمین میں اور ان کے غلبہ کے بعد عنقریب ہم مسلمانوں کو چند سالوں میں ان پر غالب کردیں گے ۔ اس مدت کے پورا ہونے پر مسلمانوں نے رومیوں کے ساتھ جہاد کیا۔ پہلاقول زیادہ صحیح ہے ۔ للہ الامرمن قبل ومن بعد “ رومیوں کے غالب آنے سے پہلے اورا ن کے غالب آنے کے بعد بہرحال اللہ ہی کا حکم چلتا ہے کوئی بات اس کے فیصلے اور اندازے کے بغیر نہیں ہوتی ۔” ویومنذیفرح المؤمنون “
Ayah 30:55” بنصر اللہ “ روم کو فارس پر غلبہ دے دیا۔ سدی کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی خوشی ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں مسلمان مشرکوں پر غالب آئے اورا ہل کتاب کو ان لوگوں پر غلبہ حاصل ہواجو کتابی نہیں ہیں ۔” ینصرمن یشاء وھوالعزیز “ اور وہ غالب ہے ۔” الرحیم “ اور مؤمنوں پر رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 30:66” وعداللہ “ مصدر کی بناء پر منصوب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ کیا کہ مغلوب ہونے کے بعد رومی غالب آجائیں گے۔” لا یخلف اللہ وعدہ ولکن اکثرالناس لا یعلمون “
Ayah 30:77” یعلمون ظاھرامن الحیوۃ الدنیا “ وہ امور معاشی سے واقف ہیں کہ کیسے کمائی کریں کیسے تجارت کریں ، کیسے کھیتی باڑی کریں اور کیسے اس کو کاٹیں اور کیسے عمارتیں تعمیر کریں اور کیسے زندگی بسرکریں ؟ حسن کا قول ہے کہ تم میں سے کوئی ایک اپنے ناخن کے کنارے سے درہم کو کھرچتا ہے پھر اس کا وزن بیان کرتا ہے اور وہ اس میں غلطی نہیں کھاتا حالانکہ یہ احسن نہیں سمجھتے کہ نماز پڑھیں ۔” وھم عن الاخرۃ ھم غافلون “ وہ اس سے بھولے ہوئے ہیں وہ اس پر غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اس پر عمل کرتے ہیں ۔
Ayah 30:8تفسیر 8” اولم یتفکروافی انفسھم ماخلق اللہ السموات والارض ومابینھماالا بالحق “ یعنی برحق بعض نے کہا حق کے قیام کے لئے۔” واجل مسمی معلوم وقت میں ان کی بقاء ہے پھر جب قیامت برپا ہوجائے گی۔” وان کثیرامن الناس بلقاء ربھم لکافرون “
Ayah 30:99” اولم یسیروافی الارض فینظرواکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم “ کیا وہ زمین پر چل پھر کر نہیں دیکھ سکتے کہ ان سے پہلے والی قوموں کا انجام کیا ہوا اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں ۔ کانو اشدمنھم قوۃ و آثارا الارض “ وہ لوگ قوت کے اعتبار سے بہت زیادہ مضبوط تھے۔ انہوں نے زمین کو الٹ کرکے رکھ دیا اور ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا تھا۔ زمین کو الٹنے کا مطلب یہ ہے کہ پانی نکالنے معاون برآمد کرنے اور کھیتی باڑی کرنے کے لئے انہوں نے زمین کو کھودا تھا۔” وعمروھا اکثرمما عمروھا “ اور تعمیرات کے حوالے سے اہل مکہ نے کثرت سے تعمیریں کی ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اہل مکہ کو خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کہ اہل مکہ کھیتی باڑی نہیں کرتے تھے۔” وجاء تھم رسلھم بالبینات “ انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کو جھوٹا قراردیا۔ آخر اللہ نے ان سب کو ہلاک کردیا۔” فما کان اللہ لیظلمھم “ ان کے حقوق کے توڑنے کے باعث ” ولکن کانوا انفسھم یظلمون لیکن انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔ اپنے حقوق کو ضائع کرنے کے ساتھ۔
Ayah 30:1010۔” ثم کان عاقبۃ الذین اساء وا “ انہوں نے برے عمل کیے ۔” السؤای “ اس سے مرادآگ ہے ۔ بعض نے کہا کہ سوء جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسے جنت کے ناموں میں سے حسنی ایک نام ہے ۔” ان کذبو “ اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا۔ بعض نے کہا کہ سوء کی تفسیر اگلے جملہ میں آرہی ہے ۔” ان کذبوا “ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان بدکاروں کا انجام برا ہوا۔ انہوں نے اللہ کے احکام کی تکذیب کی یعنی بدکاریوں نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اللہ کے احکام کے منکرہوگئے۔
” بایات اللہ وکانو ابھا یستھزؤن “ اہل حجاز اور بصرہ نے یہی پڑھا ہے۔” عاقبۃ “ رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اس صورت میں یہ کان کی خبرہوگی ۔ تقدیری عبارت یوں ہوگی ” ثم کان السوء عاقبۃ الذین اساء وا “
Ayah 30:1111۔” اللہ بیداء الخلق ثم یعیدہ “ ان کو ابتداء پیدا کیا۔ پھر بعد الموت ان کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا صرف ” یعیدھم “ نہیں فرمایا۔ اس صورت میں یہ مخلوق کی طرف لوٹے گی۔” ثم الیہ ترجعون “ پھر ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ۔ ابوعمروابوب کرنے یرجعون یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ۔
Ayah 30:1212۔ ویوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون “ قتادہ اور کلبی کا بیان ہے کہ وہ بھلائی سے ناامید ہوں گے ۔ فراء کا قول ہے کہ ان کا کلام اور عذر منقطع ہوجائے گا۔ مجاہد کا قول ہے کہ وہ رسواہوں گے ۔
Ayah 30:1313۔” ولم یکن لھم من شرکائھم شفعاء وکانوابشرکائھم کافرین “ وہ منکرہوجائیں گے اور اپنے اعمال سے برأت اختیار کرلیں گے۔
Ayah 30:1414۔ ویوم تقوم الساعۃ یومئذیتفرقون “ یعنی اہل جنت کو اہل نار سے ممتاز کردیں گے۔ مقاتل کا بیان ہے وہ حساب وکتاب کے بعد جنت وجہنم کی طرف جداکیے جائیں گے۔ پھر وہ کبھی بھی آپس میں جمع نہیں ہوں گے۔
Ayah 30:15تفسیر 15۔” فاما الذین آمنواوعملوا الصالحات فھم فی روضۃ “ یعنی جنت کے چمن میں جہاں نہریں بہتی ہوں گی اور پھول کھلے ہوں گے۔” یحبرو و “ کا ترجمہ ابن عباس ؓ نے یہ کیا ہے کہ ان کی عزت کی جائے گی۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ وہ عیش میں ہوں گے۔ ابوعیدہ نے کہا کہ وہ خوش ہوں گے حبرہ کا معنی ہے خوشی یہ بھی کہا گیا ہے کہ حبرہ ہر اچھی نعمت کو کہتے ہیں اور تحبیرکا معنی یہ ہے کہ خوبصورت بنادینا۔
امام اوزاعی (رح) نے یحییٰ بن کثیر کا قول نقل کیا ہے کہ یحبرون جنت کے آسمان کا نام ہے ۔ اوزاعی کا بیان ہے کہ اسرافیل نہایت خوش آواز تھے ۔ جب وہ گانا شروع کرتا ہے تو ساتوں آسمانوں کے رہنے والوں کی نماز اور تسبیح ختم ہوجاتی ہے ۔ ایک روایت میں ہے تو جنت کا کوئی درخت بغیر سرسبز ہوئے نہیں رہتا ۔
Ayah 30:1616” واما الذین کفروا وکذبوا بایاتنا والقاء الا خرۃ “ آخرت سے مراد قبروں سے زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہونا۔” فاولنک فی العذاب محضرون “۔
Ayah 30:1717۔” فسبحان اللہ “ اللہ کی پاکی بیان کرو معنی اس کا یہ ہے کہ اللہ کے لیے نماز اداکرو۔” حین تمسون “ جب تم شام کے وقت میں داخل ہو اور اس سے مراد نماز مغرب اور نماز عشاء ہے۔” وحین تصبحون “ یعنی تم داخل ہوجاؤصبح کے وقت اس سے مراد صبح کی نماز ہے۔
Ayah 30:1818۔ـ” ولہ الحمد فی السموات والارض “ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ تمام باشندگان ارض وسماء اللہ کی حمد کرتے اور اسی کی عبادت کرتے ہیں ۔” وعشیا “ اور پچھلے پہر آخرنہار اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔” وحین تظھرون “ اور جب وہ دوپہر کے وقت میں داخل ہوتے ہوں یعنی سورج کی گرمی کا غلبہ ہوتا ہے یہ ظہرکا وقت ہے ۔ نافع بن ازرق نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کیا پانچوں نمازوں کا ذکر قرآن مجید میں کہیں ہے ؟ فرمایا ہاں۔ پھر یہی دونوں آیتیں پڑھ دیں اور فرمایا یہ آیت پانچوں نمازیں اور ان کے اوقات کو حاوی ہیں ۔
حضرت بوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے سبحان اللہ وبحمدہ دن کے اول حصے میں اور آخرحصے میں سو بار پڑھا اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ اگر چہ سمندر کے جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سیروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے صبح اور شام کے وقت سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا تو قیامت کے دن ان سے بڑھ کر کوئی عمل اور کوئی نہ لائے گا سوائے اس شخص کے جس شخص نے اسی کی طرح پڑھا ہو یا اس سے زائد پڑھاہو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دوکلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ، میزان میں بھاری ہوں گے رحمن کو پیارے ہیں ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ جویریہ بنت الحارث بن ابی الضرار سے روایت کرتے ہیں ۔ حضرت جویریہ بنت الحارث جن کا نام برۃ تھا مسجد میں تھیں ۔ رسول ﷺ ان کے پاس سے ایک صبح کو اٹھ کر مسجد سے باہرچلے گئے۔ پھر دن چڑھے واپس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ جب سے میں یہاں سے گیا ہوں اس وقت سے اب تک تم یہیں بیٹھی وظیفہ پڑھ رہی ہو۔ حضرت جویریہ نے کہاں جی ہاں ! فرمایا میں نے تو تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار کلمے تین بار پڑھے تھے اگر تمہارے وظیفہ کے الفاظ سے ان کا موازنہ کیا جائے تو وہ بھاری پڑیں گے چار کلمے یہ ہیں سبحان اللہ وبحمدہ عدد خلقہ و رضاء نفسہ وزنۃ عرشہ ومداد کلماتہ “۔
Ayah 30:19تفسیر۔ 19۔ یخرج الحی من ا لمیت ویخرج المیت من الحی ویحی الا رض بعد موتھا وکذلک تخرجون “ حمزہ اور کسائی نے تخر جون پڑھا ہے تاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ اور باقی قراء نے تاء کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 30:2020۔ ومن آیا تہ ان خلقکم من تراب “ یعنی تمہاری اصل حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ ثم اذا انتم بشرتنتشرون “ پھر ان سب مخلوق کو زمین پر پھیلادیا۔
Ayah 30:2121۔” ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا “ بعض نے کہا کہ تمہاری جنس سے یعنی نبی آدم سے ۔ بعض نے کہا کہ حضرت حواء علیہماالسلام کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا۔” لتسکنوالیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ “ پھر ان جوڑے جوڑے کے اندر آپس میں محبت پیداکردی تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت اور شفقت سے پیش آئیں ۔ کوئی بھی چیز دوسری سے زیادہ محبوب اور انس اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک آپس میں محبت رحم پیدانہ ہوجائے ۔” ان فی ذلک لابات لقوم یتفکرون “ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت پر۔
Ayah 30:2222۔” ومن آیاتہ خلق السموات والارض واختلاف السنتکم “ اس سے مراد بولیاں ‘ زبان ‘ عربی وعجمی اور دوسری لغات میں اختلاف مراد ہے۔” والوانکم اور تمہارے رنگوں میں اختلاف ہے ۔ کوئی سفید ہے تو کوئی کالا اور کوئی سرخ۔ ان فی ذلک لایات للعالمین حفص نے للعالمین لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 30:23تفسیر 23۔” ومن آیاتہ منامکم باللیل والنھار وابتغاء کم من فضلہ “ یعنی تم رات کو سوتے ہو اور دن کو ذریعہ معاش تلاش کرتے ہو یعنی وہ تمہیں پھیردیتا ہے۔ معیشت کے طلب کرنے میں ۔” ان فی ذ(رح) لک لایات لقوم یسمعون “ غور و فکر اور اعتبار روالا سماع۔
Ayah 30:2424” ومن آیاتہ یریکم البرق خوفا “ بچلی گرنے کا ڈرہوتا ہے جب کہ سفر کی حالت میں ہو۔ وطمعا اور بارش کی امید ہوتی ہے جب کہ اپنے اپنے گھروں میں ہو۔ وینزل من السماء ماء فیحی بہ “ آسمان سے بارش برستی ہے ۔ الارض بعد موتھا اس زمین کے خشک ہونے کے بعد بارش کا پانی اس میں جذب ہوجاتا ہے ۔ ان فی ذلک لایات لقوم یعقلون “۔
Ayah 30:2525۔” ومن آیاتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ “ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بغیر ستون کے کھڑا کیا۔ بعض نے کہا کہ وہ اللہ کے حکم سے چکر لگاتا ہے۔ ثم اذا دعاکم دعوۃ من الارض ابن عباس ؓ عنہمانے اس کا ترجمہ کیا ہے قبروں سے ۔” اذا انتم تخرجون “ پھر تمہیں پکار اجائے گا جب تم اپنی اپنی قبروں سے برآمدہوجاؤگے ۔
Ayah 30:2626۔” ولہ من فی السموات والارض کل لہ قانتون “ اس سے مراد فرمانبردار مطیع ہیں ۔ کلبی کا بیان ہے کہ آیت میں صرف وہ اہل عقل مراد ہیں جو اللہ کے اطاعت گزار اورفرماں بردار ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہر ایک پیدا ہونے جینے مرنے اور قیامت کے دن اٹھنے میں حکم کا بندہ ہے خواہ حکم عبادت سے سرکشی کرتاہو۔
Ayah 30:2727” وھوالذی یبدٔاالخلق ثم یعیدہ “ پہلے ان کو پیدا کیا پھرا ن کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔” وھو اھون علیہ “ ربیع خیثم حسن قتادہ اور کلبی نے کہا کہ اھون سے اس جگہ معین مراد ہے کیونکہ اللہ کے لیے کوئی امردشوار ہی نہیں ہے۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ عنہماکایہی قول آیا ہے۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا کہ اس جگہ اھون کا استعمال بطور ضرب المشل بیان کیا ہے یعنی دوبارہ پیداکرنا پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہوتا ہے جیسا کہ تم جانتے ہو۔ یہ بات تمہاری عقل کے بھی مطابق ہے۔
بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تمہارے نزدیک اعادہ ابتداء سے زیادہ آسان ہوتا ہے ۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ مخلوق کے لیے دوبارہ پیدا ہوجانا پہلی مرتبہ پیدا ہوجانے سے سہل ہوگا کیونکہ وہ صرف ایک آواز سے اٹھ کر نکل آئیں گے۔ پہلی پیدائش دشوار تھی نطفہ بنا پھر جماہواخون ہواپھر گوشت کالوتھڑا پھر مردیا عورت بنی پھر پیدا ہوا۔” ولہ المثل لاا علیٰ “ اور اس کی اعلیٰ شان ہے ۔” فی السموات والارض “ ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ وہ ایسی ذات ہے کہ اس کا کوئی مثل نہیں ۔ قتادہ کا قول ہے کہ مثل الاعلیٰ لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ وھوالعزیز ملکیت اور خلاقیت میں الحکیم وہ حکمت والا ہے۔
Ayah 30:28تفسیر 28” ضرب لکم مثلا من انفسکم “ تمہارے ہی حالات بیان کرتا ہے اور یہ حالات تمہارے ہی حالات سے اخذکیے گئے ہیں۔ پھر آگے یہ مثال قائم کی ہے ۔” ھل لکم من ماملکت ایمانکم تمہارے غلام ہوں یاباندیاں ۔” من شرکاء فیما رزقناکم “ یعنی تمہارے دیئے ہوئے مال میں ” فانتم “ اور وہ فیہ سواء کہ تم سب ملکیت اور تصرف میں برابر ہو وہ بھی تمہاری طرح تصرف کرتے ہوں ۔
” تخافونھم کخیفتکم انفسکم “ جیسے تم کو اپنے لوگوں کا اندیشہ رہتا ہے اور وہ تمہاری طرح آزاد ہیں استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوتا اس کو تم عارسمجھتے ہو۔ باوجودیہ کہ تم سب آدمی ہو۔ پھر بھی غلاموں کے ساتھ مالی شرکت اور مساویانہ تصرف گوارہ نہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ تم ان کے اس طرح وارث بن جاؤگے جیسے وہ ایک دوسرے کے وارث بنے رہے۔ جب تم ان کے مالک بننے سے ڈرتے ہو اور تم اپنے لیے راضی نہیں ہوتے ہو تو پھر تم کیسے راضی ہوگے کہ تم جن کی عبادت کرتے ہو، ان کے ساتھ شریک ٹھہرایاجائے۔ انفسکم یعنی تمہارے مثل آزاد لوگوں میں سے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ظنالمؤمنون والمؤمنات بانفسکم خیرا کذلک نفصل الایات لقوم یعقلون وہ ان دلائل کو اپنے عقول کے ساتھ کیوں نہیں دیکھتے۔
Ayah 30:2929۔” بل اتبع الذین ظلموا “ انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک کیا ۔ اھواء ھم شرک کرنے پر ۔ بغیرعلم جہالت کی وجہ سے ان کاموں کو جوان پر واجب تھے۔” فمن یھدی من اضل اللہ “ یعنی اللہ اس کو گمراہ کرے گا۔” ومالھم من نصرین “ اور کوئی ان سے عذاب کو روکنے والا نہیں ہے۔
Ayah 30:3030۔” فاقم وجھک للدین “ جب وہ اپنا سیدھارخ اللہ کے دین کی طرف کرلیں۔ سعید بن جبیر کا قول ہے یعنی اپنے چہرے کو خالص اللہ کے دین کی طرف پھیرلینا ۔ وجہہ کہتے ہیں جس کی طرف انسان متوجہ ہوتا ہے دین کے اعتبار سے اور عمل کے اعتبار سے ۔” حنیفا “ وہ سیدھا اسی کی طرف مائل ہو۔ فطرۃ اللہ اس سے مراد اللہ کا دین ہے۔ منصوب ہے اغراء کی وجہ سے یعنی لازم پکڑ اللہ کی فطرت کو۔ التی فطرالناس علیھا جس فطرت پر انہوں نے لوگوں کو پیدا کیا۔ ابن عباس ؓ اور مفسرین کی ایک جماعت نے اس کا مطلب فطرۃ الدین یعنی اسلام لیا ہے اور بعض لوگ اس کی طرف گئے ہیں کہ اس سے خاص مؤمنین مراد ہیں جو فطرت اسلام پر ہیں ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنالیتے ہیں جیسے چوپائے سے چوپایہ سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم کو پیدائشی نکٹاپوجاپاتے ہو۔ پھر حضور ﷺ نے آیت فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ تلاوت فرمائی۔
لا تبدیل لخلق اللہ کی تفسیر
جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس سے مراد بعض نے وہ عہدلیا ہے جو عہد الست میں لیا گیا تھا۔ الست بربکم قالو ابلی جو بچہ بھی اس عالم میں پیدا ہوتا ہے وہ اس اقرار پر پیدا ہوتا ہے اور یہ اقراردین حنیف پر مستدل ہے ۔ اگرچہ وہ کسی اور کی عبادت کرے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ولثن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ پھر وہ کہتے ہیں مانعبدھم الا لیقوبونا الی اللہ زلفی “۔
لیکن احکام دنیاوی میں فطری ایمان کا اعتبار نہیں بلکہ اعتبار ایمان شرعی کا ہے جو کسب اور ارادہ سے وجود میں آتا ہے ۔ اس حدیث میں کہا گیا کہ اس بچے کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی بنالیتے ہیں ۔ دیکھئے یہاں پر ایمان فطری موجود ہے محکوم لہ میں ۔ کافرین کے ماں باپ کے حکم میں۔ اس آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا لیکن شیطان نے اس کو دین سے ہٹالیا۔ عبد اللہ بن مبارک کا قول ہے کہ انہوں نے کہا کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والے بچے کو اس کی فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جس جبلت پر پیدا کیا اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے خواہ وہ سعادت ہو یا شقاوت۔
لہٰذا ان میں سے ہر ایک کا آخرت میں محاسبہ ہوگا کہ یہ دنیا میں جس فطرت پر رہا۔ اگر اس نے دنیا میں اس پر اس کے والدین نے بدبختی ڈال کہ اس بچہ کو یہودی یا نصرانی بنادیا گیا تو اس کی بدبختی کا بوجھ اس کے والدین اٹھائیں گے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہر مولود خلقتا فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے یعنی سالم سرشت اور اس کی طبیعت قبول حق کے لیے تیارہوتی ہے لیکن اس پر بیرونی اثرنہ ڈالا جائے تو وہ اپنی سلامتی پر قائم رہتی ہے کیونکہ سادہ عقل اور سالم فہم کے اندردین اسلام مرکوز ہے ۔ اب کسی بیرونی وجہ سے مثلا والدین کی پیروی یا کسی دوسرے سبب سے تبدیلی آتی ہے تو اس کی سلامتی زائل ہوجاتی ہے ۔ لا تبدیل لخلق اللہ جن حضرات نے ان کو فطرت دین پر محمول کیا ان کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے دین کو تبدیل نہ کرو۔ یہ خبر بمعنی نہی کے ہے۔ یعنی اللہ کے دین کو تبدلی نہ کرو ۔ مجاہد اور ابراہیم کا قول ہے کہ آیت کا معنی ہے کہ اللہ کی فطرت کو لازم پکڑو۔ یعنی اللہ کے دین کو اور اس کی پیروی کرو اور توحید کو شرک کے ساتھ نہ بدلو۔ ذلک الدین القیم اس سے مراد سید ھاراستہ ہے ۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون بعض نے کہا کہ لا تبدیل لخلق اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جبلت میں جو کچھ لکھ دیا گیا ہے وہ اس کو بدل نہیں سکتا۔ اگر وہ بدبخت ہے تو وہ سعید نہیں ہوسکتا اور اگر وہ سعید ہے تو شقی نہیں ہوسکتا۔ عکرمہ اور مجاہدنے پوری آیت کا مطلب یہ لکھا ہے کہ تخلیق خداوندی کو مست بدلو یعنی جانوروں کو خصی نہ کرو۔
Ayah 30:31تفسیر 31۔” منیبین “ کہ آپ اپنا چہرہ اس دین حنیف کی طرف متوجہ کریں اور آپ کی امت بھی اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے یا سب کو چھوڑکر اللہ ہی کی طرف لو ٹتے ہوئے۔ یہ خطاب تو نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن آپ کے ساتھ اس میں امت بھی شامل ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یایھا النبی اذا طلقتم النساء الیہ یعنی لوٹنے والے توبہ کی طرف اور طاعت کو قبول کرنے والے ۔ واتقوہ واقیموا الصلوۃ ولاتکونو امن المشرکین “
Ayah 30:3232۔” من الذین فرقوادینھم وکانو اشیعا “ وہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے یعنی کوئی یہودی بن گئے اور کوئی نصرانی۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراداس امت کے بدعتی لوگ ہیں ۔ کل حزب بمالدیھم فرحون جو ان کے پاس موجود ہے وہ اس پر راضی ہیں۔
Ayah 30:3333۔” واذا مس الناس ضر “ تنگی اور قحط مراد ہے ۔ دعواربھم منیبینالیہ ان کی طرف سے ان کی دعاؤں کو قبول کردیا جائے گا۔ ثم اذا اذاقھم منہ رحمۃ رحمت سے مراد نعمت ہے۔
Ayah 30:34تفسیر 34۔” لیکفروابما اتیناھم “ پھر یہاں سے ان لوگوں کی طرف خطاب فرمایا جنہوں نے یہ فعل کیا ۔ یہ خطاب بطور تہدید کے بھی ہے۔ ، فتمتعوافسوف تعلمون، آخرت میں ان کا حال جانتے ہیں ۔
Ayah 30:3535۔ ، ام انزلنا علیھم سلطانا، حضرت ابن عباس ؓ نے ، سلطانا، کا ترجمہ کیا ہے دلیل اور عذر۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد کتاب ہے۔ ، فھویتکلم، وہ زبان سے کہہ رہے ہوں یا دلالت حال سے ۔ ، بماکانو ابہ بشرکون، یعنی شرکت اور صحت شرک کی شہادت دے رہی ہے۔
Ayah 30:3636۔ ، واذا قنا الناس رحمۃ، جب ان پر تیز ہوا اور تیز بارش پہنچتی ہے۔ ، فرحوابھا، وہ اس سے خوش ہوجاتے ہیں ۔ ، وان تصبھم سینۃ، ان پر تنگی آجائے ، خشکی قحط اور خوف وغیرہ۔ ، بماقلمت ایدیھم، برائیوں سے ۔ اذاھم یقنطون، وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں ۔ یہ مؤمنین کے اوصاف کے برخلاف ہے کیونکہ مؤمن کی خصلت تو یہ کہ نعمت کے وقت اللہ کا شکر اداکرے اور شدۃ اور سختی کے وقت اللہ سے امیدرکھے۔
Ayahs 30:37–3838۔ ، فات ذالقربی حقہ، نیکی اور صلہ رحمی ۔ ، والمسکین، اس کا حق یہ ہے کہ اس پر صدقہ کرے ۔ ، وابن السبیل ، اس سے مراد مساف رہے۔ اس سے مراد مساف رہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد بوڑھا ہے۔ ، ذلک خیرللذین یریدون وجہ اللہ ، وہ اللہ کے ثواب کے طلبگار ہیں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ ، واولئک ھم المفلحون،
Ayah 30:3939۔ ، ومااتیتم من ربا، ابن کثیر نے ، اتیتم، مقصور پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے مد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم عطاکرو اور جو اس کو قصر کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس کا معنی یہ بیان کرتے ہیں جو تم لاؤگے زیادتی اور یہ لانا بطور عطا کے ہوگا۔ ، لیربوافی اموال الناس، اہل مدینہ اور یعقوب نے، لتربوا، تاء کے ساتھ پڑھا ہے ضمہ کے ساتھ اور واؤ کے سکون کے ساتھ۔ اس صورت میں یہ خطاب ہوگا تاکہ تم اس میں زیادتی کرو اور یہ لوگوں کے مال کی زیادتی کا سبب بنے۔
دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ اور فتحہ سے پڑھا ہے اور واؤمنصوب ہے۔ ، فلا یربواعند اللہ ، لوگوں کے اموال میں اللہ کے نزدیک اس طرح برکت نہیں ہوتی ، اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا نہیں ۔ اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔
سعید بن جبیر مجاہد، طاؤس، قتادہ اور اکثر اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جو شخص کسی کو کچھ عطیہ اس لالچ میں دیتا ہے کہ وہ لوٹا کر اس سے زیادہ دیدے تو گویہ فعل شرعا جائز ہے لیکن ایسا دینے والے کو قیامت کے دن کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ، لایربواعند اللہ، کا یہی معنی ہے ۔ آپ ﷺ کے لیے یہ عمل بھی جائز نہیں تھا کیونکہ خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا تھا۔ ، ولا تمنن تستکثر، کہ آپ کس کو عطا کرکے اس سے زیادہ کے طلبگار نہ ہوں ۔
امام نخعی (رح) کا قول ہے کہ اس سے مرادوہ شخص ہے جو اپنے دوست اور قریبی ساتھی کو کوئی چیز عطاکردے تاکہ وہ اس کے مال سے زیادہ وصول کرے اور اس سے اللہ کی رضا مقصود نہیں ہوتی۔ شعبی نے کہا کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے آدمی کے ساتھ چمٹارہتا ہے ۔ اس کی خدمت کرتا ہے اور سفر میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے ۔ وہ آدمی اپنی تجارت کے نفع میں اس کا کوئی حصہ مقرر کردیتا ہے تا کہ وہ کام میں مالک کا ہاتھ بٹاتا رہے ، ایسے دینے کا آخرت میں کوئی حاصل نہیں کیونکہ اس میں رب کی رضا مطلوب نہیں ہے۔ ، ومااتیتم من زکوۃ، یعنی زکوۃ دوگے یا خیرات اللہ کی رضا کے لیے ۔ ، تریدون وجہ اللہ فاولئک ھم المضعفون، اس کو ثواب ڈبل دیاجائے گا اس کو دس گنا نیکیاں عطاکی جائیں گی ۔ مضعف چند گنا ثواب والے۔