31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 31:1–5

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکو کاروں کے لئے ہدایت اور رحمت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

تفسیر۔ (1۔ 2۔ 3) ۔۔۔۔۔ ، الم تلک آیات الکتاب الحکیم ھدی ورحمۃ، حمزہ نے اس کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے۔ عبارت یوں ہوگی ، ھو ھدی ورحمۃ، دوسرے قراء نے اس کو منصوب پڑھا ہے حال ہونے کی وجہ سے ۔ ، للمحسنین، ،۔
Ayahs 31:6–9

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بےہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے راستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزا کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

لھو الحدیث کا مصداق 6، ومن الناس یشتری لھوا لحدیث مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول نضربن حارث کلدہ کے حق میں ہوا۔ نضر تجارت کرتا تھا حیرہ کو جاتا اور وہاں سے عجمیوں کے افسانے خرید کر لاتا اور قریش سے بیان کرتا اور کہتا کہ محمد ﷺ تم سے عادوثمود کے قصے بیان کرتے ہیں ، میں رستم اور اسفند یار کے قصے اور شاہان ایران کے قصے بیان کرتا ہوں۔ لوگ اس کی باتیں مزے لے لے کر سنتے تھے اور قرآن سننا چھوڑدیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مجاہد کا قول ہے کہ ، لھوا لحدیث، سے مراد ہیں گانے والی عورتیں اور مرداس صورت میں لھو سے پہلے مضاف محذوف ہوگا ۔ یعنی کچھ لوگ لھو والیاں اور لھو والے خرید تے ہیں۔ گانے والی عورت اور کتے کی قیمت حرام ہے حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا گانے والی عورتوں کو گانے کی تعلیم دینی جائز نہیں اور ان کی قیمت حرام ہے اور ایسے ہی شخص کے بارے میں آیت ، ومن الناس من یشتری لھو الحدیث ، نازل ہوئی۔ جو آدمی بھی گانے کے لیے آواز اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ دو شیطان اس پر مسلط کردیتا ہے ۔ ایک اس مونڈھے پر اور دوسرا اس مونڈھے پر بیٹھے اپنی لاتیں اس وقت تک اس پر مارتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ خود ہی خاموش نہ ہوجائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت اور بانسری اور بین کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔ مکحول کا قول ہے کہ جس نے گانے بجانے کی غرض سے کسی گانے بجانے والی باندی کو خریدا اور اس پر مرتے دم تک قائم رہا اس کے جنازے کی نماز نہیں پڑھوں گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ومن الناس من یشتری لھو الحدیث، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ حضرت ابن عباس ؓ حسن عکرمہ اور سعید بن جبیررحمہم اللہ کے نزدیک ، لھوالحدیث، سے گانا سننا مراد ہے اور غناہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ ابوالصہباء بکری کا بیان ہے کہ میں نے احضرت ابن مسعودؓ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا تو حضرت ابن عباس ؓ نے تین بار فرمایا قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ ، لھوالحدیث، غناء ہے۔ ابن جریج کے نزدیک ، لھوالحدیث، سے طبل (ڈھول طبلہ) مراد ہے ۔ ضحاک کا قول ہے کہ غناشرک ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ہر لھو اور لعب غنا ہے۔ گانادل میں نفاق پیدا کرتا ہے ابراہیم نخعی (رح) کا قول ہے کہ غناء دل میں نفاق کو پیدا کرتا ہے اور ہمارے اصحاب گلیوں میں گانے والوں کے منہ سے مزامیرچھین کر ان کو آگ لگادیتے تھے۔ ، لیضل عن سبیل اللہ بغیرعلم، یہ کام وہ محض جہالت کی بناء پر کرتے ہیں۔ قتاد کا قول ہے کہ یہ آدمی کی بڑی گمراہی ہے کہ حدیث حق کو چھوڑ کر وہ کلام باطل کو پسند کرے۔ ، ویتخذھا ھزوا، حمزہ کسائی اور یعقوب نے ، ویتخذھا، ذال کے نصب کیساتھ پڑھا ہے اس صورت میں اس کا عطف ، لیضل ، پر ہوگا۔ دوسرے حضراتے ذال کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں اس کا عطف ، یشتری پر ہوگا (اولئک لھم عذاب مھین) ۔
Ayah 31:10

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دئیے تاکہ تم کو ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے اور ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر (اس سے) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں

10، خلق السموات بغیر عمد ترونھا القی فی الارض رواسی ان تمید بکم،۔۔۔۔۔ ، وبث فیھا من کل دابۃ انزلنا من السماء ماء فانبتنا فیھامن کل زوج کریم، اس سے مراد ہر طرح کے عمد ہ اقسام اگائے۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

11، ھذا، ، یعنی جو کچھ تم کو دکھائی دے رہا ہے وہ تو خدا کا پیداکردہ ہے۔ ، خلق اللہ فارونی ما ذا خلق الذین من دونہ، پھر بتاؤکہ دوسرے معبودوں نے پیدا کیا کہ وہ مستحق عبادت قرار پائے۔ بل الظالمون فی ضلال مبین، ،
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ خدا کا شکر کرو اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے

حضرت لقمان نبی تھے یا حکیم تھے حکمت سے کیا مرادہے 12، ولقد اتینا لقمان الحکمۃ، حکمت سے مراد عقل علم عمل ہے اور تمام امور میں اصابت رائے ہے ۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ لقمان بن باعوربن ناخوربن تارخ تاریخ ہی کو آزرکہاجاتا ہے ۔ وہب بن منبہ نے کہا کہ لقمان حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بھانجے تھے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ خالہ کے بیٹے تھے ۔ واقدی کا بیان ہے کہ لقمان نبی اسرائیل کے قاضی تھے ۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ حکیم تھے نبی نہیں تھے مگر عکرمہ کا قول ہے فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان نبی تھے لیکن یہ اس قول میں متفرد ہیں۔ بعض حضرات نے کہا کہ حضرت لقمان (علیہ السلام) کو نبوت اور حکمت کے درمیان اختیار دیا گیا تھا تو انہوں نے حکمت کو اختیار کیا ۔ روایت میں آتا ہے کہ لقمان دوپہرکوسو رہے تھے خواب میں ہاتف نے ندادی۔ لقمان کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تم کو زمین میں اپنا خلیفہ بنادے اور لوگوں پر تم صحیح حکومت کرتے رہو خواب ہی میں لقمان نے ہاتف کو جواب دیا اگر میرے رب نے مجھے اختیاردیا ہے تو مجھے عافیت پسند ہے اور اگر یہ اللہ کا حکم قطعی ہے تو بسر وچشم کیوں کہ میں خوب جانتا ہوں کہ جب اللہ کا یہ قطعی حکم میرے لیے ہوگا تو وہی میرا فیصلہ کرنے میں میری مدد بھی کرے گا اور غلطی سے مجھے محفوظ رکھے گا۔ ہاتف نے پردہ غیب سے آوازدی لقمان ایساتم نے کیوں اختیار کیا ؟ لقمان نے کہا کہ سخت ترین اور الجھے ہوئے غیرواضح مقامات میں فیصلہ پر ہر طرف سے تاریکی چھائی ہوئی ہے ایسے مقام پر اگر لقمان کا فیصلہ صحیح پڑگیا تو وہ نجات کا مستحق ہے اور اگر اس سے فیصلہ میں غلطی ہوگئی تو جنت کا راستہ کھوگیا۔ دنیا میں نیچارہنا سردار ہونے سے بہت رہے جو شخص آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے اس کے ہاتھ سے دنیا بھی جاتی ہے اور آخرت بھی ہاتھ نہیں آتی ۔ ملائکہ کو لقمان کی خوش گفتاری پر تعجب ہوا۔ اس کے بعد لقمان کو کسی روز سوتے میں اللہ نے حکمت عطافرمادی اور بیدارہونے کے بعد آپ ہر بات پر حکمت کرنے لگے۔ حضرت داؤد کو اس کے بعد (عطاء حکمت یا اختیار حکمت کی ) غیبی ہاتف نے ندادی تو حضرت داؤد نے بلاشرط اس کو قبول کرلیا۔ اس کا نتیجہ ہوا کہ آپ کئی مرتبہ غلطی میں پڑگئے مگر ہر مرتبہ اللہ نے معاف فرمادیا ۔ حضرت لقمان اپنی حکمت سے حضرت داؤد کی مدد کرتے تھے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں حکمت سے مراد عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا نہیں ہے۔ خالد ربعی کا قول ہے کہ حضرت لقمان حبشی غلام تھے جو بڑھئی کا کام کرتے تھے ۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ یہ درزی تھے۔ بعض نے کہا کہ یہ بکریاں چرایا کرتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ ان کو ایک شخص ملا جو حکمت کی باتیں کیا کرتا تھا تو فرمایا کیا تو فلاں بکریاں چرانے والے کو جانتا ہے کہ وہ کیسے کیسے ہے ۔ اس کو یہ مقام کیسے ملا ؟ جواب دیا سچ بولنے اور امانت کی ادائیگی اور لا یعنی کو ترک کرنے کی وجہ سے۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ کالے غلام بڑے ہونٹوں والے تھے۔ ، ان اشکر اللہ ومن یشکر فانما یشکر لنفسہ ومن کفرفان اللہ غنی حمید، ،
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے

تفسیر۔ 13، واذ قال لقمان لابنہ، اس کا نام انعم تھا بعض نے کہا مشکم ہے۔ ، وھو یعظہ یا بنی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم، ابن کثیر نے پڑھا، یابنی لاتشرک باللہ ، یاء کے سکون کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ اور یاقیوں نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ، یابنی انھا، یاء کے فتحہ کے ساتھ حفص نے پڑھا ہے اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یابنی اقم الصلوۃ ، یاء کے فتحہ کے ساتھ ابن کثیر اور حفص نے یہی پڑھا اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کے آنا ہے

14، ووصینا الا انسان بوالدیہ حملتہ امہ وھنا علی وھن، ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا ہے ایک سختی کے بعد دوسری سختی ۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ ضعف پر ضعف سے کیا ہے۔ مجاہد نے اس کا ترجمہ مشقت پر مشقت سے کیا ہے۔ زجاج کا قول ہے کہ جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اس پر ضعف اور مشقت لاحق ہوجاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے حمل ضعف ہے اس کو اٹھانا بھی ضعف ہے اور وضع حمل بھی ضعف ہے۔ ، وفصالہ، اس کا پرورش پانا۔ ، فی عامین ان اشکرلی ولو الدیک الی المصیر، اس کی طرف لوٹنے والی۔ اس کی تفسیر میں سفیان بن عینیہ نے کہا کہ جس نے پانچوں نمازیں پڑھ لیں اس نے اللہ کا شکر ادا کردیا اور جس نے نمازوں کے بعد ماں باپ کے لیے دعائے خیر کی اس نے ماں باپ کا شکرادا کیا۔
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے راستے پر چلنا پھر تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

15، وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھماوصاحبھما فی الدنیا معروفا، اس سے مراد نیکی ہے صلہ رحمی اچھی معاشرت کا اختیار کرنا ہے۔ ، واتبع سبیل من اناب الی ، ، یعنی ایسادین جو اس کی اطاعت وفرماں برداری میں ہو اور نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اطاعت کرنا ہے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں کیو ن کہ جب یہ اسلام لائے تو حضرت عثمان حضرت طلحہ وزبیر سعید بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف ؓ بھی آپ ﷺ کے پاس آئے۔ جب ان سب نے کہا کہ اس شخص نے سچ کہا اور تم اس پر ایمان لاتے ہو ؟ فرمایا جی ہاں کہ یہ صادق ہیں تم بھی اس پر ایمان لے آؤ۔ پھر وہ سب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تبلیغ سے سب اسلام لے آئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ، واتبع سبیل من اناب الی ، اس سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ ، ثم الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون، بعض نے کہا کہ اس آیت کا تعلق تمام مخلوق سے ہے۔
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں خدا اس کو (قیامت کے دن) لا موجود کرے گا کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے

تفسیر 16۔ ، یابنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل، انھا کی ضمیر راجع ہے ، خطیئۃ، کی طرف کیونکہ حضرت لقمان کے بیٹے نے حضرت لقمان سے کہا تھا اے میرے باپ ! اگر میں چھپ کر کوئی گناہ کروں کہ کسی کو اطلاع نہ ہو تو اس کو خدا کیسے جان لے گا ؟ اس کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا (فتکن فی صخرۃ) قتاد ہ نے اس کا معنی ہے اگر چہ تو پہاڑ میں بھی کیوں نہ ہو۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صخرۃ سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتوں زمینوں کے نیچے ہے جس میں کافروں اور بدکاروں کے اعمال کا اندراج ہوتا ہے اور آسمان کی نیل گوئی اسی کے عکس کی وجہ سے ہے ۔ سدی کا قول ہے کہ اللہ نے زمین کو مچھلی کے اوپر پیدا کیا۔ مچھلی وہی نون ہے جو آیت ، والقلم وما یسطرون، میں مذکور ہے۔ یہ مچھلی پانی کے اندر پتھر کی ایک چٹان کے اوپر ہے اور چٹان فرشتے کی پشت پر رکھی ہوئی ہے اور فرشتہ ایک پتھر پر قائم ہے یہ وہی پتھر ہے جس کا ذکر حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرنے کے ذیل میں کیا ہے۔ یہ پتھر نہ آسمان میں ہے نہ زمین بلکہ ہواپر ہے۔ ، اوفی السموات اوفی الارض یات بھا اللہ ان اللہ لطیف، ان کے نکالنے میں ، خبیر، ان کی جگہ سے باخب رہے۔ حسن کا قول ہے کہ آیت میں ہر چھوٹی بڑی چیز کا کامل احاطہ مراد ہے ۔ کتابوں میں ذکرآیا ہے کہ حضرت لقمان کے یہ آخری الفاظ تھے ۔ اس جملہ کے زبان سے نکلتے ہی ان پرا یسی دہشت اور ہیبت طاری ہوئی کہ پتہ پھٹ گیا اور وفات پاگئے اللہ ان پر حمت فرمائے۔
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

17، یابنی اقم الصلوۃ وامر بالمعروف انہ عن المنکر واصبر علی مااصابک ، اذیت اور تکلیف سے۔ ، ان ذلک من عزم الامور، اس سے مراد امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اور ان اوامرکو بجالا نے میں جو مشقت اور تکلیف پہنچے اس پر صبر کریاوہ امور جن کا تم نے کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ہو ان کو بجالا نے میں کوئی مشقت آئے تو اس پر صبر کرو۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا

18، ولا تصعرخدک للناس ، ابن کثیر، ابن عامر عاصم ابوجعفر اور یعقوب نے عین کی تشدید کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ، تصاعر، پڑھا ہے الف کے ساتھ۔ جیسے کہا جاتا ہے ، صعروجھہ وصاعر، جب وہ اپنے چہرے کو دوسری جانب پھیر لے اور تکبر سے اعراض کرے جیسے کہاجاتا ہے ، رجل اصعر، اپنی گردن کو مائل کرنے والا ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے غرور نہ کر۔ دوسروں کو حقیرنہ سمجھ کہ وہ تجھ سے بات کریں اور تو ان کی طرف سے منہ پھیرلے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مرادوہ شخص ہے جس کے درمیان کوئی رنجش ہو جب وہ اس کو ملے تو اپنا چہرہ پھیر لے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کو کوئی سلام کرے تو وہ تکبر کی وجہ سے منہ پھیرلے۔ ربیع بن انس اور قتادہ کا قول ہے کہ فقراء کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھوکیون کہ فقر اور غنی اس کے نزدیک برابر ہے ۔ ، ولا تمش فی الارض مرحا، تکبر اور اتراکر نہ چل ۔ ، ان اللہ لا یحب کل مختال فخور، شیخی باز کو اللہ پسند کرتے ۔ ، فخور، جو لوگوں پر اپنی شیخی کرے۔
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی ہے

تفسیر 19۔ ، واقصد فی مشیک ، چاہیے کہ تو اپنی چال درمیانی رکھے نہ تو تکبر ہو اور نہ ہی تیزبھاگنا۔ عطاء کا قول کہ وقار اور سکینہ کے ساتھ چل۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، یمشون علی الارض ھونا،۔۔۔۔۔۔۔۔ واغضض من تک، مقاتل نے ، واغضض، کا ترجمہ کیا ہے پست رکھ۔ ، ان انکر الا صوات ، بری آوازوں میں ایک آواز۔ ، لصوت الحمیر، گدھے کی آواز ہے۔ اس کی ابتداء آواز زفیر اور اختتامی آواز شھیق ہوتی ہے اور یہ دونوں طرح کی آوازیں دوزخیوں کی ہوں گی ۔ موسیٰ بن اعین فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری سے سنا وہ اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں ، ان انکرالا صواب لصوت الحمیر، ہرچیز کی چیخ میں اللہ کی تسبیح ہے مگر گدھے کی چیخ تسبیح نہیں۔ جعفر صادق کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد چھینک کی دہشت ناک قبیح آواز ہے ۔ وہب کا بیان ہے کہ لقمان نے اپنے کلام میں حکمت کے بارہ ہزار دروازے کھول دیئے جن کو لوگوں نے اپنے کلام اور معاملات میں شامل کرلیا ہے۔ خالد ربعی کا قول ہے کہ لقمان حبشی غلام تھے بڑھئی کا کام کرتے تھے ایک بارآقانے ان کو حکم دیا کہ ایک بکری ذبح کرکے اس کی بہترین دوبوٹیاں لے آ۔ حضرت لقمان نے زبان اور دل لیجا کر حاضر کردیا کچھ دنوں کے بعد آقانے دوبارہ حکم دیا کہ ایک بکری کو ذبح کرکے اس کے دوبدترین پارچے لے آ۔ حضرت لقمان نے پھر زبان اور دل لاکر حاضر کردیئے ۔ آقانے اس کی وجہ دریافت کی تو حضرت لقمان نے فرمایا اگر یہ دونوں پاکیزہ رہیں تو سارے اعضاء سے بہتر ہیں اور اگر گندے ہوں تو سب سے زیادہ برے بھی یہی ہیں ۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ؟ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن

20، الم تروا ان اللہ سخرلکم مافی السموات ومافی الارض واسبغ علیکم ، اس نے اپنی نعمتیں تمہیں پوری دے رکھی ہیں ۔ ، نعمہ، قراء اہل مدینہ ابوعمرو حفص نے ، نعمہ، عین کے فتحہ اور ھاء کے ضمہ کے ساتھ جمع پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے اس کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورتحال میں یہ واحد ہوگا لیکن معنی جمع والاہوگا۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ ، وان تعدوانعمت اللہ لاتحصوھا، نعمت ظاہرہ اور باطنہ کی تفسیر ، ظاھرۃ وباطنۃ، عکرمہ نے ابن عباس ؓ کا قول کیا ہے کہ نعمت ظاہرہ سے مراد اسلام قرآن اور باطنۃ سے مراد جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے عیوب پر پر دہ ڈالا ہے اور اس پر جلدی پکڑ نہیں کرتا۔ ضحاک کا قول ہے کہ ظاہرہ سے مراد حسن الصورت ہے اور اعضاء کا برابر برابر ہونا اور باطنہ سے مراد معرفت حقیقی ہے ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ظاہرہ سے مراد مخلوق کے ساتھ برابری رزق اور اسلام ہے اور باطنہ سے مراد ایمان ہے ۔ ربیع کا قول ہے کہ ظاہرہ سے مراد جوارح اور باطنہ سے مراد قلب ہے۔ بعض نے کہا کہ ظاہرہ سے مراد اقرارباللسان اور باطنہ سے مراد اعتقاد بالقلب ہے۔ بعض نے کہا کہ ظاہرہ سے مراد تمام الرزق ہے اور باطنہ سے مراد حسن خلق ہے ۔ عطاء کا قول ہے کہ ظاہرہ سے مراد تخفیف الشرائع اور باطنہ سے مراد شفاعت ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ ظاہرہ سے مراد ہے ظہور اسلام اور دشمنوں پر مدد اور باطنہ سے مراد فرشتوں کا مدد کرنا ہے۔ بعض نے کہا کہ ظاہرہ سے مراد ملائکہ کی مدد اور باطنہ سے مراد کفار کے دلوں میں رعب ڈالنا۔ سہل بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ظاہرہ سے مراد اتباع الرسول اور باطنہ سے مراد آپ ﷺ کی محبت۔ ، ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم، اس آیت کا نزول نضربن حارث أبی بن خلف امیۃ بن خلف اور ان جیسے لوگوں کے متعلق ہواکیون کہ یہ آپ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق بغیر علم کے جھکڑتے تھے۔
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی ؟ )

تفسیر 21۔ ، واذاقیل لھم اتبعو ا ماانزل اللہ قالو ابل نتبع ماوجدنا علیہ آباء نااولوکان الشیطان یدعوھم الی عذاب السعیر، جواب لو مخدوف ہے اس کا معنی یہ ہے کہ تم اس کو پکارو اور اس کی اتباع کرو، یعنی شیطان کی پیروی کرو۔ اگرچہ شیطان تمہیں دعوت دیتا ہے بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف۔
Ayahs 31:22–23

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کر دے اور نیکو کار بھی ہو تو اس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمہیں غمناک نہ کر دے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو جتائیں گے بیشک خدا دلوں کی بات سے واقف ہے

22، ومن یسلم وجھہ الی اللہ ، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے دین کو خالص کرے اور اپنے تمام امور کو اسی کے سپرد کردے۔ ، وھو محسن ، اور وہ اپنے عمل میں محسن رہے ۔ محسن احسان کی خوبی یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو یعنی کامل حضور قلب کے ساتھ۔ ، فقد استمسک بالعروۃ الوثقی، یعنی اس نے مضبوط ترین قبضہ پکڑلیا اور ایسا محکم ذریعہ اپنی گرفت میں لے لیا جس کے ٹوٹنے کا احتمال نہ ہو۔ ، والی اللہ عاقبۃ الا مور،
Ayahs 31:24–26

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو بول اٹھیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے بیشک خدا بےپرواہ اور سزاوار حمد (و ثنا) ہے

24، نمتعھم قلیلا، ہم ان کو مہلت دیں گے تاکہ ان سے دنیا کی زندگی میں نعمت حاصل کریں تھوڑی سی اپنی مدت مقررہ پوری ہونے تک ۔ ، ثم نضطر ھم ، پھر ان سے ملیں گے اور آخرت کی طرف ان کو لوٹا دیں گے۔ ، الی عذاب غلیظ، اس سے مراد آگ کا عذاب ہے۔
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اسکے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہوجائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

آیت ولو ان مافی الارض کا شان نزول 27، ولوان مافی الارض من شجرۃ اقلام، مفسرین کا قول ہے کہ اس کا نزول مکہ میں ہوا کہ جب اہل کتاب (یہودیوں) نے رسول اللہ ﷺ سے روح کے متعلق دریافت کیا تو آیت، ویسئلوک نک عن الروح ، سے آخر آیت ، ومااوتیتم من العلم الا قلیلا، تک نازل ہوئی ۔ پس جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی یہود کے بڑے بڑے سردار آئے اور کہنے لگے اے محمد ! کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ایسا ایسا کہتے ہیں کہ ، وما اوتیتم من العلم الا قلیلا، کہ کیا اس سے مراد آپ کی قوم ہے یا ہماری ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب لوگ مراد ہیں ۔ تو وہ کہنے لگے کیا وہ کلام جو تمہارے پاس آیا ہے اس میں یہ بات نہیں ہے کہ ہم کو توریت دی گئی ؟ اور ہم وہ تلاوت نہیں کرتے جو ہم پر اتاری گئی اور اس میں ہرچیز کا علم موجود ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں قلیل ہے اور اللہ نے توریت میں تم کو اتنا ہی دیا ہے کہ جس پر تم عمل کرکے فائدہ اٹھا سکو۔ وہ کہنے لگے اے محمد ! (ﷺ) آپ کیا گمان کرتے ہوحالان کہ آپ یہ کہتے ہو، ومن یئوت الحکمۃ فقداوتی خیراکثیرا، اور جس کو حکمت عطا کردی گئی اس کو خیر کثیر عطاکردی گئی تو یہ علم قلیل اور خیرکثیر کیسے جمع ہوسکتا ہے اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ کا قول ہے کہ مشرکین یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اور جو کچھ محمد (ﷺ) لائے ہیں قریب ہے کہ وہ ختم ہوجائے یا منقطع ہوجائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ، ولو ان مافی الارض من شجرۃ اقلام، وہ سب قلمیں بن جائیں ۔ ، والبحریمدہ، ابوعمر و اور یعقوب نے ، والبحر، نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں عطف ماپر ہوگا اور باقی قراء نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے، اس صورت میں یہ جملہ مستانفہ ہوگا ، یمدہ کا معنی ہے اور زیادہ کردے۔ ، من بعدہ، اس کے پیچھے ، سبعۃ ابحرمانفدت کلمات اللہ ، اس آیت میں اختصا رہے۔ تقدیری عبارت یہ ہوگی ۔ ، ولوان مافی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعد سبعۃ ابحریکتب بھا کلام اللہ مانفدت کلمات اللہ ، ان اللہ عزیز حکیم ، عطاء بن یسار کے قول کے مطابق یہ آیت مدنی ہے اور دوسرے قول کے مطابق یہ مکی ہے۔ یہودیوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے روح کے متعلق دریافت کریں ، اس وقت تک حضور ﷺ نے مکہ نہیں چھوڑ اتھا۔
Ayahs 31:28–29

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اٹھانے) کی طرح ہے بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

تفسیر 28۔ ، ماخلقکم ولا بعشکم الاکنفس واحدۃ، یعنی تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے پیدا کیا اس پر کوئی چیز متعذ ر نہیں ۔ ، ان اللہ سمیع بصیر،
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

30، ذلک بان اللہ ھوالحق ، یہ جو کچھ ذکر کیا گیا یہ حق ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات برحق ہے ۔ ، وان ما یدعون من دونہ الباطل وان اللہ ھو العلی الکبیر،
Ayahs 31:31–32

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں

31، الم تران الفلک تجری فی البحر بنعمۃ اللہ، بیشک تمہارے اوپر اللہ کی نعمت ہے۔ ، لیریکم من آیاتہ، اس کے عجائب میں سے۔ ، ان فی ذلک لایات لکل صبار، اللہ کے حکم پر ، شکور ، اپنی نعمتوں پر شکر کرنے والے ہیں ۔ بادل ہیں ۔ ظل جمع ہے۔ ظلۃ، کی اس کو موج کے ساتھ تشبیہ دی کثرت اور بلندی کی وجہ سے ۔ موج کو واحد بنایا جیسے ظل کو جمع بنایا کیونکہ موج ایک کے بعد دوسری آتی ہے۔ ، دعوا اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجاھم الی البر فمنھم مقتصد، جب اللہ ان کو بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو انہوں نے سمندر میں اللہ سے جو وعدہ کیا ہوتا ہے توحید کا کہ وہ ایمان پر ثابت قدم رہیں گے۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے وقت حضرت عکرمہ بن ابوجہل مکہ سے بھاگ کر سمندر کے کنارے پہنچ گئے اور ایک کشتی میں سوار ہوگئے ۔ راستے میں طوفان آگیا ۔ حضرت عکرمہ نے کہا کہ اگر اللہ مجھے اس طوفان محفوظ رکھ کر کنارے پر پہنچادے گا تو میں اپناہاتھ محمد ﷺ کے ہاتھ میں جاکردے دوں گا۔ حضرت عکرمہ کے اس قول سے طوفان تھم گیا اور عکرمہ مکہ واپس آکر مسلمان ہوگئے ۔ مجاہدکاقول ہے کہ مقتصد قول میں ہوکلبی کا بیان ہے کہ مقتصد کا بیان یہ ہے کہ متوسط درجہ کا کافرکیون کہ بعض اپنے کفر میں بہت شدت اور غلواختیار کرتے تھے اور بعض دوسروں پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ ، وما یجحد بایاتناالا کل ختار کفور، ختارعہد شکن کو کہتے ہیں۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگوں اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے

تفسیر 33۔ ، یایھا الناس اتقواربکم واخشوایوما لایجزی ، نہ وہ فیصلہ کرے گا اور نہ ہی وہ اس سے بےپرواہ ہے۔ ، والدعن ولدہ ولا مولودہ ھوجاز، اس سے بھی وہ غنی ہوگا۔ ، عن والدہ شیئا، ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا :۔ ، ان وعد اللہ حق فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا ولا یغرنکم باللہ الغرور ، اس سے مراد شیطان ہے ۔ سعیدبن جبیر (رح) کا قول ہے کہ اس سے مرادیہ ہے کہ شیطان گناہ کا کام کرواتا ہے ، مغفرت کرنے کی تمنا کرواتا ہے ۔ (یعنی گناہ کرلے پھر بعد میں تو بہ کرلینا لیکن گناہ کرنے والے کو توبہ کی توفیق نہیں ہوتی) ۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کام کرے گا اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے

34، ان اللہ عندہ علم الساعۃ، اس آیت کا نزول حارث بن عمروبن حارثہ بن محارب بن حفصہ کے بارے میں ہوئی ۔ یہ دیہات میں سے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا اور یہ بھی کہا کہ ہماری زمین خشک ہوچکی ہے، بارش کب آئے گی ؟ اور اس شخص نے یہ بھی کہا کہ میری بیوی حاملہ ہے بتا یئے کیا پیدا ہوگا اور جس زمین پر میں پیدا ہوا تھا وہ تو مجھے معلوم ہے لیکن کس جگہ مروں گا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام وما تدری نفس ماذاتکسب غداوما تدری نفسی بای ارض تموت ، ابی بن کعب نے ، بایہ ارض ، پڑھا ہے ۔ مشہور، بای ارض ، ہے کیوں کہ زمین کی تانیث کی کوئی علامت نہیں ۔ بعض نے کہا کہ ارض سے مراد مکان ہے۔ حضرت سالم بن عبد اللہ اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ غیب کے خزانے پانچ ہیں جن سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا اور خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی ؟ خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اس کی موت کس سرزمین پر آئے گی ؟ دوسری روایت میں ہے کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت ، ان اللہ عندہ علم الساعۃ، سے بای ارض تموت ، تک تلاوت فرمائی ۔ ، ان اللہ علیم خبیر،