32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 32:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے

تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔۔۔ ، الم تنزیل الکتاب لا ریب فیہ من رب العالمین ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس پر کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔
Ayahs 32:3–4

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ راستے پر چلیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا اس کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ؟

3، ام یقولون ، بلکہ وہ کہتے ہیں ، افتراہ ، بعض نے کہا میم صلہ کے لیے ہے کیا یہ جھوٹ گھڑتے ہیں ، استفہام تو بیخ ہے۔ بعض نے کہا ام بمعنی واؤہے وہ جھوٹ کہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ اس میں اضما رہے کیا وہ ایمان لائے ہیں یا وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ پھر فرمایا ، بل ھو، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، الحق من ربک لتنذرقوما ما اتاھم ، یہ رب کی طرف سے اتری ہوئی کتاب ہے یہ خود اس کتاب کو نہیں لائے۔ ، من قبلک قتادہ کا قول ہے کہ وہ امت امی ہے ان کے پاس آپ ﷺ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ ابن عباس ؓ اور مقاتل بیان ہے یہ فترت کے زمانے کی بات ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان کا زمانہ ہے ۔ ، لعلھم یھتدون،
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے پھر وہ ایک روز جس کا مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا

5، یدبرالامر، وہ امر کی تدبیر رتا ہے اور اپنا فیصلہ اور قداتارتا ہے۔ من السماء الی الارض ، وحی کو آسمان سے زمین کی طرف جبرئیل کے ہاتھ بھیجتا ہے ۔ ، ثم یعرج ، پھر واپس چڑ ھتے ہیں ۔ ، الیہ ، اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل ۔ ، فی یوم کان مقدار ہ الف سنۃ مما تعدون، دنیا کے ایام میں سے ایک دن کی مقدار اور اس کی مقدار مسافت پانچ سوبرس کے برابر ہوگی ۔ کہا جاتا ہے کہ بنی آدم میں سے کوئی آسمان سے زمین کی طرف گرجائے تو وہ ہزار سال کے بعد زمین تک پہنچے گا۔ اتنی مدت مسافت فرشتے ایک دن میں طے کرتے ہیں ۔ یہ وصف فرشتوں کا زمین سے آسمان کی طرف چڑھنے کا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ، تعرج الملائکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ، اس میں مدت مسافت زمین سے سدرۃ المنتہیٰ مراد ہے۔ یہی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا مقام ہے تو اس تفسیر پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جبرئیل (علیہ السلام) اپنے مقامی ساتھی ملائکہ کو ہمراہ لے کر سدرۃ المنتہیٰ کی مسافت تک کے بقدربہت ہی تھوڑے وقت میں طے کرلیتے ہیں جو تمہاری رفتار کی گنتی کے پچاس ہزار برس کے برابر ہوتا ہے لیکن اتنی بڑی مسافت جبرئیل (علیہ السلام) مع ملائکہ آن کی آن میں طے کرلیتے ہیں ۔ میرے نزدیک دونوں آیتوں میں زمین سے سدرۃ المنتہیٰ تک کی مراد ہوسکتی ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا یہ مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ دنیاوی امور کا انتظام سماوی اسباب یعنی ملائکہ وغیرہ کے ذریعے سے کرتا ہے جن کے آثارزمین تک آتے ہیں پھر جب دنیا فنا ہوجائے گی حاکموں کا حکم اور اقتداروالوں کا اقتدارختم ہوجائے گا تو ہر حکم و انتظام کا رجوع اللہ کی طرف ہوجائے گا اور یہ اس روز ہوگا جس کی مقدار ہزار برس کے برابر ہوگی ۔ دونوں حدیثوں کے درمیان تعارض کو ختم کرنے کے لیے کہا جائے گا کہ مدت کا اختلاف اشخاص کے تاثر کی وجہ سے ہے ۔ بعض لوگوں کے لیے وہ پچاس ہزار سال کا دن ہوگا اور بعض کے لیے ایک ہزار برس کا اور بعض لوگوں کے لیے دنیا کے اس دن سے بھی کم مدت محسوس ہوگی۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ مؤمن کے لے اس دن کی مقداراتنی ہوگی جتنی اس نے دنیا میں فرض نماز پڑھی ہوگی۔ ابراہیم تیمی کا قول ہے کہ مؤمنوں کے لیے قیامت کے دن کا طو ل اتنا ہوگا جنتی مدت ظہر اور عصر کے درمیان ہوتی ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا ہے کہ میں اور حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن فیروز حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس آیت اور، خمسین الف سنۃ، والی آیت کے بارے میں دریافت کیا ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جن ایام کا ذکر اللہ نے کیا ہے مجھے اس کی بابت کچھ معلوم نہیں اور بغیر جانے اللہ کے کلام کے متعلق کچھ کہنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب (اور) رحم والا (خدا) ہے

تفسیر 6۔ ، ذلک عالم الغیب والشھادۃ، اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ پیدا کیا ان سب کو جانتا ہے جو پوشیدہ ہیں ان کو بھی اور جو سامنے حاضر ہیں ان کو بھی جاننے والا ہے ۔ ، العزیزالرحیم،
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا

7، الذی احسن کل شیء خلقہ ، نافع اور اہل کوفہ نے ، خلقہ، لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے سکون کے ساتھ پڑھا ہے کہ اس نے جو چیز پیدا کی وہ خوب بنائی ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ احسن کا ترجمہ احکم و اتقن سے کیا ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو محکم بنایا ہے ۔ مقاتل نے احسن کا ترجمہ علم سے کیا ہے یعنی اللہ جانتا ہے کہ ہر چیز کو وہ کیسے پیدا کرتا ہے ۔ عرب والے کہتے ہیں ، فلان یحسن کذا، کہ فلاں شخص خوب جانتا ہے کہ ایسا کام کس طرح کرے گا۔ بعض نے کہا کہ حیوان کو اس کی صورت پر پیدا کیا اور بعض کو دوسرے کے ہم شکل نہیں بنا یا ، ہر حیوان کو اس کے کامل حسن کے ساتھ پیدا کیا اور اس کے اعضاء میں سے ہر ہر عضوکو اس کی مقدار کے بقدر پیدا کیا جس کی معاش میں صلاحیت میں اس کو ضرورت ہو۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اسکی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی

وبدا خلق الا نسان من طین، اس سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔ 8، ثم جعل نسلہ، پھر ان کی ذریت کو بنایا ۔ ، من سلالۃ ، نطفہ سے اس کو سلالۃ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ نطفہ انسان کے جسم سے کھینچ کر آتا ہے۔ ، من ماء مھین ، اور وہ کمزور ہے اس سے مراد مرد کا نطفہ ہے۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسکو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم بہت کم شکر کرتے ہو

9، ثم سواہ، پھر اس کی خلقت کو برابر کیا۔ ونفع فیہ من روحہ، پھر وہ ذریت کی طرف لوٹے گا اور کہا، وجعل لکم ، اس نطفے کے بعد تمہیں بنایا۔ ، السمع والا بصار والافئدقلیلا ماتشکرون، وہ اپنے رب کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اس کی توحید کا اقرار کم کرتے ہو اور اس کی عبادت کم کرتے ہو۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جب ہم زمین میں ملیا میٹ ہوجائیں گے تو کیا ازسر نو پیدا ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جانے ہی کے قائل نہیں

تفسیر 10، وقالوا، منکرین بعث کہنے لگے ، ء اذا ضللنا، کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے۔ ، فی الارض ، جب ہم مٹی مٹی ہوجائیں گے تو از سرنودوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ ، ضل الماء فی اللبن، یہ عرب کا محاورہ ہے یعنی دودھ میں پانی اس طرح مل کر کھوگیا کہ کوئی امتیاز باقی نہیں رہا۔ ، ء انا لفی خلق جدید استفہام انکاری ہے۔ ، بل ھم بلقاء ربھم کافرون، بعث بعد الموت کے منکر ہیں۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے

11، قل یتوفاکم ، تمہاری روحوں کو قبض کرلے گا۔ ، ملک الموت الذی وکل بکم موت کے فرشتے سے مراد حضرت عزرائیل (علیہ السلام) ہیں ۔ توفی استیفا عدد مضروب کو کہاجاتا ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ موت کا فرشتہ تمہاری جانوں کو پورا پورا لے لیگا، جان کا کوئی حصہ نہیں چھوڑے گا یا کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ روایت میں آتا ہے کہ ملک الموت کے لیے دنیا ایک ہتھیلی میں رکھ دی گئی ہے اس دنیا سے جس کو چاہتے ہیں بآسانی روح قبض کرلیتے ہیں۔ مخلوق میں سے کسی کو مشرق میں ہو یا مغرب میں وہ قبض کرلیتے ہیں ۔ ان کے ساتھ مددگار فرشتے بھی ہیں کچھ فرشتے رحمت والے اور کچھ فرشتے عذاب والے ۔ رحمت والے فرشتے مؤمنین کے لیے متعین ہیں اور عذاب کے فرشتے کافروں کے لیے ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ عزرائیل (علیہ السلام) کا ایک قدم مشرق اور مغرب کے درمیان میں ہوتا ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ حضرت عزرائیل (علیہ السلام) کے لیے زمین کو ایک طشت کی مانند کردیا، وہ جہاں سے چاہیں کسی نفس کی روح قبض کرلیں۔ بعض اخبار میں آیا ہے کہ ملک الموت آسمان و زمین کے درمیان موجود ہیں وہاں جس کی چاہیں روح کو قبض کرلیں ۔ جب ان کی روح اس کے گلے تک پہنچ جاتی ہے تو ملک الموت اس کی روح قبض کرلیتا ہے۔ خالد بن معدان حضرت معاذبن جبل ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ملک الموت کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے وہ مشرق ومغرب تک پہنچ جاتا ہے وہ گھر والوں کے ہر ایک کے چہرے کو مسح کرتا ہے اور یہ ہر دن دومرتبہ ہوتا ہے ۔ جب کسی انسان کی زندگی پوری ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس کے سرپروہ گرزمارتا ہے اور وہ اس وقت کہتا ہے کہ یہ اس کی موت کی حالت ہے۔ ، ثم الی ربکم ترجعون، پھر ہم تمہیں دوبارہ زندہ کریں گے اور تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیں گے۔
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور (تم تعجب کرو) جب دیکھو کہ گنہگار اپنے پروردگار کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں

12، ولو تری اذالمجرمون، اس سے مراد مشرکین ہیں۔ ، ناکسوارؤسھم، وہ اپنے سروں کو جھکائیں گے۔ ، عند ربھم ندامت اور غم کے مارے۔ ، ربنا، وہ یہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ، ابصرنا ، جو وعید ہمیں سنائی تھی ہم نے اس کی تکذیب کی تھی ۔ ، وسمعنا، اور تم نے اپنے پیغمبروں کی تصدیق کردی جن کو ہم جھوٹا کہتے تھے ہم نے آج تیری طرف سے تصدیق سن لی تھی۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بھی بیان کیا کہ ہم نے اپنے گناہ دیکھ لیے اور ہمارے متعلق جو کہا گیا ہم نے سن لیا۔ ، فارجعنا، ہمیں دنیا کی طرف دوبارہ لوٹا دے ۔ ، نعمل صالحا انا موقنون، جواب لو مضم رہے اس کی مجازی (تقدیری) عبارت یہ ہوگی جب وہ اس کو بطور تعجب کے دیکھ لیں گے۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

13، ولو شئنا لا تینا کل نفس ھداھا، اگر ہم چاہتے تو ہم اپنی تو فیق سے اس کے ایمان کے بقدر ہدایت دے دیتے ۔ ، ولکن حق، لیکن یہ بات طے ہوچکی ہے۔ ، القول منی لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین، یہ قول ابلیس کے لیے ہے کہ ، لا ملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین، پھر یہی دوزخیوں کو خطاب کیا جائے گا۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جب دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو ان کو دوزخ کے فرشتے کہیں گے۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے انکی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو

14، فذوقوابما نسیتم لقاء یومکم حذا، تم ایمان کو دنیا میں چھوڑدیا۔ ، انا نسینا کم ، ہم تمہیں چھوڑدیں گے۔ ، وذوقواعذاب الخلد بما کنتم تعملون، بسبب تمہارے کفر اور حق کو جھٹلانے کے ۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے

تفسیر 15۔ ، انما یئومن بایاتنا الذین اذا ذکروابھا، جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے۔ ، خرواسجدا، منہ کے بل گرپڑتے ہیں اللہ کے عذاب کے خوف سے ۔ ، وسبحوابحمد ربھم ، بعض کا قول ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم سے نماز پڑھتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ سبحان اللہ وبحمدہ کہیں گے۔ وھم لا یستکبرون، اور وہ ایمان و اطاعت سے غرور نہیں کرتے۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

16، تتجافی، دوررہتے ہیں ۔ ، جنوبھم عن المضاجع، مضاجع، مضجع کی جمع ہے وہ جگہ جہاں پر سوتے ہیں پھر وہ رات کے آخری پہر میں عبادت کرتے ہیں اور نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ تتجافی جنوبھم سے کون سے لوگ مراد ہیں اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی ، ہم مغرب کی نماز پڑھ کر گھروں کو نہیں لوٹتے تھے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کرتے تھے۔ حضرت انس ؓ ہی کی روایت ہے کہ اس آیت کا نزول کچھ صحابہ کے متعلق ہوا تھا جو مغرب کی نماز پڑھ کر عشاء کی نماز تک مسجد میں رہتے تھے۔ ابن ابی حازم اور منکدر کی روایت ہے کہ ان دونوں بزرگوں کا قول ہے کہ اس سے مراد صلوۃ اوابین ہے۔ ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ فرشتے ان لوگوں کی جماعت کو ڈھانپ لیتے ہیں جو مغرب اور عشاء پڑھ کر گھروں کو جاتے ہیں۔ (یعنی مغرب کی نماز کے بعد گھروں کو نہیں جاتے بلکہ صلوۃ اوابین پڑھتے رہتے ہیں، پھر عشاء کی نماز کا وقت جب آتا تو وہ عشاء پڑھ کرجاتے ۔ عطاء کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مغرب کے بعد سوتے نہیں ۔ یہاں تک کہ عشاء نہ پڑھ لیتے ۔ حضرت ابوالدرداء حضرت ابوذر اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ عشاء اور فجر کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جماعت سے پڑھتے تھے ۔ دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی اس نے آدھی رات نماز پڑھی اور جس نے فجر کی نماز جماعت سے پڑھی اس نے گویا پوری رات نماز میں گزاری۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا، اگر لوگ اذان دینے اور پہلی صف میں شریک ہونے کا ثواب جانتے اور پھر بغیر قرعہ اندازی اذان دینا اور پہلی صف میں شریک ہونا ان کو میسر نہ آتا تو وہ ضرورقرعہ اندازی کرتے اور اگر ظہر کی (باجماعت) نماز کا ثواب ان کو معلوم ہوجائے تو دوڑ تے ہوئے پہلے پہنچے کی کوشش کریں اور اگر باجماعت عشاء اور فجر کی نمازوں کے ثواب سے وہ واقف ہوجائیں تو سرینوں کے بل گھسیٹ کر بھی پہنچیں ۔ حضرت معاذ ؓ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے دوزخ سے دوررکھے ۔ فرمایا : تونے بڑی بات دریافت کی اور اللہ جس کو توفیق دے اس کے لیے دشوار بھی نہیں تو اللہ (ہی) کی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک قرار نہ دے نماز قائم کرزکٰوۃ اداکر رمضان کے روزے رکھ اور کعبہ کا حج کر۔ پھر فرمایاـ: کیا میں تجھے خیر کے دروازے نہ بتادوں ؟ (سن ! ) روزہ ڈھال ہے (گناہوں سے اور دوزخ سے بچا نے والا ، مترجم) خیرات گناہوں کو اس طرح بجھادیتی ہے جیسے پانی آگ کو اور وسط رات میں نماز پڑھنا بھی خیر (کا دروازہ) ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے آیت ، تتجافی جنوبھم۔۔۔۔۔۔۔۔ یعملون، تک تلاوت فرمائی ۔ پھر فرمایاـ: کیا میں تجھے امر (دین، مترجم) کا سر اور ستون اور کوہان کی چوٹی نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ۔ فرمایا : امر (دین) کا سراسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کے ہان کی چوٹی جہاد ہے ۔ اس کے بعد فرمایا : کیا میں تجھے اس سب کی جڑنہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ۔ حضور ﷺ نے اپنی زبان پکڑکر فرمایا : اس کو روکے رکھ ۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ رسول ! کیا زہان سے بات کرنے پر بھی ہماری پکڑہوگی ۔ فرمایا : معاذ ! تجھے تیری ماں روئے ! منہ کے بل یاناک کے بل لوگوں کو دوزخ میں ڈالے جانے کی وجہ سے زبانوں کے نتائج (یعنی الفاظ) ہی تو ہوں گے۔ حضرت ابی امامہ الباہلی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم رات کے قیام کو لازم پکڑکیون کہ یہ صالحین کا طریقہ رہا ہے اور تمہاراقرب ہے تمہارے رب کے ساتھ اور تمہارے گنا ہوں کا کفارہ ہے ۔ ان میں سے ایک گناہ بھی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ دو آدمیوں کو بہت پسند فرماتا ہے ایک تو وہ جو اپنے بستر الحاف میں سے نکل کر محبوب بیوی بچوں کو چھوڑ کر نماز کو اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔ اللہ ملائکہ سے فرماتا ہے میرے بندے کو دیکھو جو اپنے بسترولحاف کے اندر سے نکل کر محبوب بیوی بچوں کو چھوڑ کر میرے ثواب کا امید وار ہوکر اور میرے عذاب سے ڈرکر اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ دوسراوہ شخص جو اللہ کی راہ میں لڑتا ہے پھر شکست پاکر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوتا ہے پھر فرار کی حالت میں اس کو خیال آتا ہے کہ جہاد سے بھاگنا کتنا بڑاجرم ہے اور لوٹ کر جہاد میں شریک ہونا کتنی بڑی نیکی ہے ، یہ خیال کرتے ہی وہ لوٹ پڑتا ہے (جہاد میں جاکر شریک ہوتا ہے ) آخراس کا خون بہادیا جاتا ہے یعنی شہید ہوجاتا ہے ۔ اللہ ملائکہ سے فرماتا ہے کہ میر بندے کو دیکھو کہ کس طرح وہ میرے ثواب کی طلب میں اور میرے عذاب سے ڈرکر (جہاد کی طرف) لوٹ پڑا۔ یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ علیہ وسلم نے فرمایاــ: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے خدا کے مہینے یعنی محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔ (رواہ مسلم شریف) حضرت ابو مالک اشعری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت میں کچھ بالاخانے ایسے ہیں جن کا اندرون باہر سے اور بیرون اندر سے نظرآتا ہے ۔ اللہ نے یہ ان لوگوں کے لیے تیارکیے ہیں جو کلام میں نرمی اختیار کرتے ہیں، حاجت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں ، بلاناغہ روزے رکھتے ہیں اور رات میں ایسے وقت نمازیں پڑھتے ہیں جب دوسرے لوگ سوئے ہوتے ہیں ۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان ۔ ترمذی نے یہ حدیث اسی طرح حضرت علی ؓ کی روایت سے بیان کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حضرت عبداللہ ابن رواحہ (خزرجی انصاری صحابی ) کے یہ شعرنقل کیے ہیں : وفینا رسول اللہ یتلواکتابہ اذا انشق معروف من الفجر ساطع ارانا الھدی بعد العمی فقلوبنا بہ مئو قنات ان ماقال واقع یبیت یجافی جنبہ عن فراشہ اذا استثقلت بالکافرین المضاجع ، ہم میں میں اللہ کے رسول ﷺ ہیں کہ صبح کو پو پھٹنے کے وقت وہ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں ۔ ہمارے اندھے پن کے بعد انہوں نے ہمیں راستہ دکھایا۔ ہمارے دلوں کو یقین ہے کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ سچ ہے ۔ وہ رات کو اپنا پہلو بستر سے جدارکھتے ہیں جب کہ کافروں کے بستر کافروں (کے بار) سے بوجھل پڑے ہوتے ہیں۔ ، یوعون ربھم خوفا وطمعا، ابن عباس ؓ نے فرمایا آگ کے خوف سے اور رحمت وثواب وجنت کی امید رکھتے ہو ہوئے اس کا پکار تے ہیں ۔ ، ومما رزقنھم ینفقون ، اس سے مراد فرض صدقہ ہے۔ بعض نے کہا کہ واجب اور نوافل میں ۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے

تفسیر 17۔ ، فلا تعلم نفس ما اخفی لھم، حمزہ اور یعقوب نے ، ا (رح) (رح) خفی لھم ، یاء ساکنہ کے ساتھ پڑھی ہے۔ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں (نخفی لھم) نون کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ، من قرۃ اعین، اس میں ان کی آنکھوں کے لیے ٹھندک ہے۔ ، جزاء بما کانوایعملون ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کررکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نی دیکھیں نہ کسی کان نے اس کا ذکر سنانہ کسی دل میں ان کا تصور آیا ۔ اگر تم چاہتے ہو تو پڑھو۔ ، فلا تعلم نفس مااخفی لھم من قرۃ اعین ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا یہ وہ نعمت ہے جس کی کوئی تشریح نہیں بیان کی گئی۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ تم اپنے اعمال کو پوشیدہ رکھو اللہ بھی اس کے لیے تمہاراثواب پوشیدہ رکھے گا۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے

18، افمن کان مئومن کان فاسقا لایستون، اس آیت کا نزول علی بن ابی طالب ولیدبن عقبہ بن ابی معیط یہ حضرت عثمان ؓ کے ماں شریک بھائی تھے، ان کے درمیان کوئی جھگڑاتنازع تھا اور کسی چیز کے بارے میں باتیں ہورہی تھیں ۔ اس پر ولید بن عقبہ نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ آپ چپ ہوجاؤ۔ کیونکہ آپ بچے ہو اور خدا کی قسم میں تجھ سے زیادہ تیززبان اور لشکر ی پہلوان ہوں ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا چب رہ تو اللہ کانا فرمان ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ، لا یستو یان ، نہیں فرمایا کہ ایک مؤمن ایک فاسق کے برابر نہیں ہوسکتا بلکہ تمام مؤمنین تمام فاسقین برابر نہیں ہوسکتے۔
Ayahs 32:19–20

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے (رہنے کے) لئے باغ ہیں یہ مہمانی ان کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو

19، اماالذین امنواوعملوالصالحات فلھم جنات الماوی ، جس کی طر مؤمنین ٹھکانا حاصل کرتے ہیں ۔ ، نزلا بماکانو ایعملون،
Ayahs 32:21–22

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں

21، ولنذیقنھم من العذاب الا دنی دون عذاب الا کبر، سوائے بڑے عذاب کے ۔ ، لعلھم یرجعون ، حضرت ابی بن کعب ضحاک حسن اور ابراہیم نے کہا کہ عذاب الادنی سے مراد ہے دنیاوی مصائب اور بیماریاں ۔ والبی کی روایت میں ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول آیا ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ اس سے حدودمراد ہیں ۔ مقاتل نے کہا کہ اس سے مراد وہ ہفت سالہ قحط ہے جس میں اہل مکہ مبتلا کیے گئے تھے یہاں تک کہ مردار اور ہڈیاں اور کتوں تک کو کھاگئے ۔ ابن مسعودؓ کا قول ہے کہ بدر کے دن کافروں کا ماراجانا مراد ہے۔ قتادہ اور سدی کا بھی یہی قول مروی ہے۔ ، دون العذاب الا کبر، سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔ ، لعلم یرجعون ، تاکہ وہ ایمان کی طرف لوٹ جائیں یعنی جو بدر کی لڑائی سے قتل ہونے میں بچ گئے اور جو قحط سے بچ گئے۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو تم اس کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتاب) کو (یا موسیٰ کو) بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا

23، ولقد اتینا موسیٰ الکتاب فلا تکن فی مریۃ من لقائہ، کوئی اس بات میں شک نہ کرے کہ آپ ﷺ شب معراج میں موسیٰ (علیہ السلام) سے ملے تھے ۔ یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب معراج میں میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا، گندمی رنگ درازقامت گھنگھریا لے بال ، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ (قبیلہ ازد) شنوء کے ایک مرد ہیں ۔ میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی متوسط القامت سرخی سفیدی مائل رنگ اور سید ہے بالوں والا پایا اور میں نے دوزخ کے داروغہ مالک کو اور دجال کو بھی دیکھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مجھے آسمان کی سیر کرائی گئی تو میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں اور معراج والی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چھٹے آسمان پرد یکھا اور نماز کے معاملے میں باربار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آتے رہے ۔ سدی کا قول ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے توریت اپنی رضا مندی سے قبول کی تھی ۔ آپ کو اس بات میں شک نہیں کرنا چاہیے ۔ ، وجعلناہ، اس سے مراد کتاب ہے اور وہ تو ریت ہے۔ قتادہ نے کہا کہ اس سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہیں ۔ ، ھدی لنبی اسرائیل ۔
Ayahs 32:24–26

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو اس (امر) سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کردیا بیشک اس میں نشانیاں ہیں تو یہ سنتے کیوں نہیں ؟

24 وجعلنا منھم، اس سے مراد بنی اسرائیل ہے۔ ، آئمۃ، جن کی ہر بھلائی میں اقتدا کی جاتی ہے۔ (یعنی انبیاء اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کے پیشوا) ۔۔۔۔۔ ، یھدون وہ پکار تے ہیں ۔ بامرنا لما صبروا، حمزہ کسائی نے لام کے کسرہ کے ساتھ اور میم کی تخفیف کے ساتھ ۔ باقی قراء نے لام کے فتحہ اور میم کی تشدید کے ساتھ جب انہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور مصر میں دشمن کی اذتیوں پر صبر کیا۔ ، وکانو ابا یاتنا یوقنون،
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ بھی (کھاتے ہیں) تو یہ دیکھتے کیوں نہیں ؟

تفسیر 27، اولم یروا انا نسوق الماء الی الارض الجرز، وہ زمین جس کی سرسبزی کٹ گئی ہوجاتی رہی ہو۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ یمن کی سرزمین ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ ارض ابین ہے۔ ، فنخرج بہ زرعاتاکل منہ انعامھم ، گھاس اور تنکے پتے وغیرہ۔ ، وانفسھم ، غلہ اور پھل وغیرہ خود کھاتے ہیں۔ ، افلا یبصرون،
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

28، ویقولون متی ھذا الفتح ان کنتم صادقین ، بعض نے فتح کے دن سے مراد قیامت کا دن لیا ہے اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے۔ بعض نے کہا کہ کفار مکہ بطور استہزاء کے کہتے ہیں کہ تمہاری یہ فتح کب ہوگی۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ کا دن ہے اور سدی کا قول ہے اس سے مراد بدرکادن ہے کہ آپ ﷺ کے صحابہ ؓ یہ فرماتے تھے کہ اللہ ہمارا مددگار ہے اور ہم تم پر غالب آجائیں گے تو وہ کہتے کہ فتح کا دن کب آئے گا ؟
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

29، قل یوم الفتح ، قیامت کے دن، لا ینفع الذین کفروا ایمانھم ، جن حضرات نے اس کو فتح مکہ پر محمول کیا اور بدر کے دن پر ان کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس وقت ایمان نفع نہیں دے گا جب ان پر عذاب آجائے اور وہ قتل ہوجائیں گے۔ ، ولاھم ینظرون، ان کو اس وقت کوئی مہلت نہیں دی جائے گی تا کہ توبہ کرسکیں اور نہ ہی عذر کرسکیں گے۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو ان سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

30، فاعرض عنھم ، ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ جملہ منسوخ ہے آیت قتال سے اس کا حکم منسوخ کردیا۔ ، وانتظر انھم منتظرون، جس فتح کا ہم نے وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجئے وہ بھی منتظر ہیں کہ آپ حوادث زمانہ اور مصائب میں مبتلاہوجائیں ۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہمارے عذاب کا آپ انتظار کیجئے وہ بھی عذاب ہی کے منتظر ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ فجر کی نماز میں رسول اللہ ﷺ نے، الم تنزیل ، اور ھل اتی علی الا نسان ، پڑھتے تھے۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ سوتے نہ تھے جب تک ، الم تنزیل ، اور ، تبارک الذی بیدہ الملک، نہ پڑھ لیتے تھے۔