Ayahs 20:1–14آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے کُبَرْ کُبْریٰ کی جمع ہے وہ رحمٰن ہے عرش پر قائم ہے ایسا قیام جو اس کی شایان شان ہے اور عرش لغت میں شاہی تخت کو کہتے ہیں اسی کی ملک ہے جو کچھ مخلوق آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہے اور جو چیزیں تحت الثریٰ ہیں ثریٰ نمناک مٹی ہے اور مراد ساتوں زمینیں ہیں اس لئے کہ نمناک مٹی کے نیچے ہیں اور اگر آپ ذکر و دعا جہراً کریں تو اللہ جہر سے مستغنی ہے اس لئے کہ وہ تو پوشیدہ سے پوشیدہ تر چیز کو (بخوبی) جانتا ہے یعنی آہستہ سے کہی بات کو اور ان خیالات کو (جو صرف) دل میں آئے ہیں اور (ابھی) زبان پر نہیں آئے جانتا ہے لہٰذا جہر کے ذریعہ اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالئے وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ننانویں اس کے بہترین نام ہیں جن کے بارے میں حدیث وارد ہوئی ہے اور حسنیٰ احسن کا مؤنث ہے اور کیا پہنچی ہے آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنی اہلیہ بیوی سے کہا تم یہوں ٹھہرو اور مدین سے مصر جانے کے وقت کا قصہ ہے مجھے آگ دکھائی دی ہے بہت ممکن ہے کہ میں آگ کا تمہارے پاس کسی لکڑی یا رسی کے سرے میں شعلہ (لگا کر) لاؤں یا آگ کے پاس کوئی راستہ بتانے والا پاؤں یعنی کوئی ایسا رہنما جو رہنمائی کرسکے اور (موسیٰ علیہ السلام) رات کی تاریکی کی وجہ سے راستہ بھول گئے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ممکن یا شاید کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا کہ ان کو ایفاء عہد کا پورا یقین نہیں تھا چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس پہنچے اور وہ جھڑ بیری کا درخت تھا تو آواز دی گئی اے موسیٰ اِنِیّ کے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ نُودِیَ کو قیل کی تاویل میں لیکر اور ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ بھی ہے اس صورت میں اَنِّی سے پہلے بامقدر ہوگئی (یعنی بِاَنِیْ اَنا یاء متکلم کی تاکید ہے بالیقین میں تیرا رب ہوں تو اپنے جوتے اتار دے کیونکہ تو مقدس پاک یا مبارک وادی طوی میں ہے طوی بدل ہے یا عطف بیان ہے تنوین اور بغیر تنوین دونوں (جائز ہے) طُوًی اگر مکان کے معنی میں ہو تو منصرف ہوگا اور غیر منصرف ہوگا جب کہ طوًی کو بُقْعۃٌ کے معنی میں لیکر مونث مانا جائے مع علمیۃ کے اور میں نے تجھ کو تیری قوم میں سے منتخب کرلیا ہے لہٰذا میری جانب سے تم کو جو وحی کی جا رہی ہے اس کو غور سے سن بےشک
میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں لہٰزا تو میری ہی عبادت کر اور نماز قائم کر نماز میں میرے ذکر کے لئے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : لتشقیٰ ای لتتعبَ معنی یہ ہیں کہ ہم نے قرآن کو اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ خود کو مشقت میں ڈالیں زیادتی غم کی وجہ سے قُبسٌ آگ کا شعلہ، چنگاری طُویٰ ایک وادی کا نام ہے شام میں، طٓہٰ مفسر علام نے اللہ اعلم بمرادہ بذٰلک کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہے اور اس کا حقیقی علم اللہ کے ساتھ خاص ہے، مفسر علام نے اِلاَّ کی تفسیر لکنّ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہ مستثنیٰ منقطع ہے ای لکن انزلناہ تذکرۃ اس لئے کہ تذکرۃً تشقیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس سے نہیں ہے تنزِیْلاً نزَّلْنَا فعل مقدر کا مصدر ہے جو کہ اس کا نصب ہے فعل کو حذف کرکے مصدر کو اس کے بدلے میں اس کی جگہ رکھ دیا گیا ہے اور یہ حذف واجب ہے اس لئے کہ مصدر معنی اور عمل میں فعل کی نیابت کرتا ہے یہاں بدل سے بدل اصطلاحی مراد نہیں ہے بلکہ بدل لغوی مراد ہے یعنی عوض بدل منَ اللفظ کا مطلب یہ ہے کہ تَنْزِیْلاً تلفظ اور نطق میں اپنے فعل ناصب نَزَّلْنَا محذوف کے قائم مقام ہے ممن خَلَقَ تنزِیْلاً کے متعلق ہے خلق الارض والسمٰوٰت العُلیٰ میں عطف جنس علی الجنس ہے نہ کہ جمع کا عطف مفرد پر اب خلاف اولیٰ کا اعتراض نہیں ہوسکتا ھُو کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ الرحمٰن ھُوَ مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے بھی مرفوع ہے۔
قولہ : وَھَلْ اَتَاکَ جملہ مستانفہ ہے خطاب آپ ﷺ کو ہے اور استفہام تشویق اور تقریر فی ذہن السامع کے لئے ہے اور ھل بمعنی قد ہے اِذْ رأیٰ ، حدیث موسیٰ کا ظرف ہے امکُثُوْا جمع اور مذکر کا صیغہ لایا گیا ہے حالانکہ مخاطب صرف آپ کی بیوی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ اَھَل کی رعایت سے جمع مذکر کا صیغہ لایا گیا ہے یا پھر تعظیماً جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے یا پھر خادم اور اولاد جو کہ ہمراہ تھے کی رعایت سے جمع کا صیغہ لایا گیا ہے آنَسْتُ کی تفسیر اَبْصَرْتُ سے کرکے اشارہ کردیا کہ اِیْنَاس کے معنی کسی طریقہ سے بھی محسوس کرنا ہے مگر یہاں بصر سے محسوس کرنے کے معنی مراد ہیں قَبَسٌ چنگاری، آگ کا شعلہ قَتِیٌلَۃ بتی، رسی وغیرہ ھُدًی ای ھادٍ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے عَوْسج کانٹے دار درخت، جنگلی بیری، بعض حضرات نے عناب اور بعض نے امربیل مراد لی ہے، جس کو ہندی میں آکاش بیل بھی کہتے ہیں، فارسی میں عشق پیچاں کہتے ہیں، طب میں اس کا اصطلاحی نام افتیمون ہے، اس کی زمین میں جڑ نہیں ہوتی ہے یہ اپنی خوراک درخت سے حاصل کرتی ہے اور جس درخت پر چھا جاتی ہے اس کو خشک کردیتی ہے طُوًی وادٍ سے بدل یا عطف بیان ہے اس کو منصرف اور غیر منصرف دونوں پڑھنا درست ہے اگر مکان کے معنی میں ہو تو منصرف ہوگا اور اگر بُفعۃ کے معنی میں ہو تو علمیۃ اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہوگا اِنَّنِیْ اَنا اللہ مِمَّا یُوحٰی سے بدل ہے فِیْھَا ای فی الصلوٰۃ، اَللہُ مبتداء محذوف کی خبر ہے ای المنعوت بما ذُکرَ منَ النعوت الجلیلۃ اللہ (یعنی وہ ذات جو مذکورہ صفات کمالیہ سے متصف ہے وہ اللہ ہے لفظ جلالہ (اللہ) مبتداء اور لا الٰہ اِلاَّ ھو اس کی خبر بھی ہوسکتی ہے۔
تفسیر و تشریح
طہ کی مراد کے سلسلہ میں مفسرین کے درمیان شدید اختلاف ہے بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ قرآن یا سورت کا نام ہے یا اسماء حسنیٰ میں سے ایک ہے، بعض حضرات کا قول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اسماء گرامی میں سے ایک ہے، حسن ؓ نے کہا ہے طَہٰ بروزن ھَبْ یہ امر ہے رسول اللہ ﷺ کو یعنی آپ اپنے دونوں قدم زمین پر رکھئے، یہ اس وقت کی بات ہے کہ آنحضرت ﷺ عبادت میں بیحد مشقت اٹھاتے تھے پوری پوری رات نماز پڑھتے اور جب تھک جاتے تو ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھ کر نماز ادا فرماتے حتی کہ آپ کے پائے مبارک ورم کر جاتے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا طَہٰ آپ دونوں قدم زمین پر رکھئے طَہْ اصل میں طَأ تھا وَطِیَ بَطَاُ سے آخری ہمزہ ھا سے بدل دیا طَہْ ہوگیا۔
ما انزلنا علیک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ مشقت اٹھائیں، اور قیام لیل میں اس قدر تلاوت فرمائیں کہ آپ کے قدم مبارک ورم کر جائیں، دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے قرآن کو اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ ان کافروں کے کفر پر اس قدر رنج و غم کریں کہ خود کو ہلاکت کے قریب کرلیں، جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے فَلَعَلَّکَ باخِعٌ نفسک علیٰ آثارھم ان لم یومنوا بھذا الحدیث اسفًا پس اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے، بلکہ ہم نے اس قرآن کو نصیحت اور یاد دہانی کے لئے اتارا ہے تاکہ ہر انسان کے تحت الشعور میں توحید کا جو جذبہ پوشیدہ ہے واضح اور نمایاں ہوجائے۔ (یہاں پر شقاءٌ، عناءٌ وتعبٌ کے معنی میں ہے) ۔
علی العرش استویٰ استواء علی العرش کے متعلق صحیح اور بےغبار بات وہی ہے جو جمہور سلف صالحین سے منقول ہے کہ اس کی حقیقت و کیفیت کسی کو معلوم نہیں متشابہات میں سے ہے اتنا عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ استواء علی العرش حق ہے اس کی کیفیت اللہ جل شانہ کی شان کے مطابق و مناسب ہوگی جس کا ادراک دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا۔
وما تحت الثریٰ ثریٰ نمناک مٹی کو کہتے ہیں، مخلوقات کا علم تو صرف ثریٰ پر ختم ہوجاتا ہے اس ثریٰ کے نیچے کیا ہے اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں، نئی تحقیق اور ریسرچ اور نئے نئے آلات اور سائنس کی انتہائی ترقی کے باوجود اب سے چند سال پہلے زمین کو برما کر اس پار سے اس پار نکل جانے کوشش مدتوں تک جاری رہی ان سب تحقیقات اور انتھک کوششوں کا نتیجہ اخبارات میں سب کے سامنے آچکا ہے کہ صرف چھ میل کی گہرائی تک یہ آلات کام کرسکے، آگے ایک ایسا حجری غلاف ثابت ہوا جہاں کھدائی کے تمام آلات اور سائنس جدید کے سب افکار عاجز ہوگئے، انسان صرف چھ میل تک کا علم حاصل کرسکا جب کہ زمین کا قطر استوائی 7926 میل اور بعض کے نزدیک 7927 میل ہے، اور قطبی قطر 7900 میل ہے (فلکیات جدیدہ، ص 73) اسلئے اس اقرار کے سوا چارہ نہیں کہ علم ماتحت الثریٰ حق تعالیٰ ہی کی مخصوص صفت ہے۔ (معارف القرآن)
یعلم السر واخفیٰ اس سے پہلی آیت میں عموم قدرت و تصرف کا بیان تھا اس آیت میں علم الٰہی کی وسعت کا تذکرہ ہے یعنی جو بات زور سے پکار کر کہی جائے وہ اس علام الغیوب سے کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہے جس کو ہر کھلی چھپی بلکہ پوشیدہ سے بھی پوشیدہ باتوں کی خبر تنہائی میں آہستہ کہی جائے اور جو دل میں گزرے مگر ابھی زبان پر نہ آئی ہو اور ابھی دل میں بھی نہیں گزری آئندہ گزرنے والی ہو حق تعالیٰ کا علم ان سب کو محیط ہے اسی لئے بلا ضرورت بہت زور سے چلا کر بہت زور سے ذکر کرنے کو بھی علماء شریعت نے منع فرمایا ہے۔
آیات بالا میں حق تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں یعنی اس کا خالق الکل، مالک علی الاطلاق اور صاحب علم محیط ہونا اس کا متقضٰی یہ ہے کہ صفت الوہیت بھی تنہا اسی کا خاصہ ہو اسی مضمون کو آئندہ آنے والی آیت اللہ لاَ الٰہَ اِلاَّ ھو میں بیان فرمایا ہے۔
وھل اتاک حدیث موسیٰ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بہت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ سامعین سمجھ جائیں کہ نبی کریم محمد ﷺ کی طرف وحی بھیجنا کوئی انوکھی یا انہونی بات نہیں ہے جس طرح پیشتر موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی مل چکی ہے آپ کو بھی ملی ہے، جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی وحی توحید وغیرہ کی تعلیم پر مشتمل تھی آپ ﷺ کی وحی میں بھی انہی اصولوں پر زور دیا گیا ہے، حضرت موسیٰ نے تبلیغ حق میں صعوبتیں اور تکالیف برداشت کیں آپ ﷺ کو بھی برداشت کرنی پڑیں گی اور جس طرح آخر کار ان کو کامیابی اور غلبہ نصیب ہوا اور دشمن مقہور و مخذول ہوئے، آپ بھی یقیناً غالب و منصور ہوں گے اور آپ کے دشمن تباہ و ذلیل کیے جائیں گے، چونکہ سورت کا آغاز انزال قرآن کے ذکر سے کیا گیا تھا اس کے مناسب نبوت موسوی کے آغاز کا قصہ بیان فرماتے ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے مختلف اجزاء ہیں مگر یہاں قصہ کا صرف وہ جز بیان کیا گیا ہے جو مدین سے مصر واپسی کے وقت پیش آیا تھا۔
مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی جس کا نام صفورا یا صفوریا ہے اور بعض حضرات نے صفوریہ بھی بتایا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوگیا تھا، کئی سال وہاں مقیم رہنے کے اور خدمت کی مدت پوری کرنے کے بعد جو کہ آٹھ سال یا دس سال تھی (غالب یہی ہے کہ ابعد الاجلین پوری کی ہوگی) اپنی والدہ اور دیگر اہل خانہ کی زیارت اور ملاقات کے لئے مصر جانے کی حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اجازت چاہی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بخوشی اجازت دیدی اور سامان نیز کچھ بکریاں بھی ہمراہ کردیں، حاملہ بیوی ساتھ ہے رات اندھیری ہے سردی کا شباب ہے، بکریوں کا بھی ساتھ ہے، اس حالت میں راستہ بھول جاتے ہیں بکریاں منتشر ہوجاتی ہیں، بیوی کو دردزہ شروع ہوجاتا ہے، سردی کی وجہ سے پریشان ہیں، سردی سے نچاؤ کے لئے آگ نہیں کہ تاپ سکیں چقماق رگڑ نے پر بھی آگ نہ نکلی، ان مصائب کی تاریکیوں میں دفعتاً ایک آگ نظر آئی وہ درحقیقت دنیوی آگ نہ تھی بلکہ اللہ کا نور جلال تھا، مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ظاہری آگ سمجھ کر اپنی اہلیہ سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میرے ساتھ آنے کی ضرورت نہیں ہے میں رسی وغیرہ میں لگا کر آگ کا شعلہ لاتا ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی راستہ بتانے والا مل جائے، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس پاک اور مقدس وادی طویٰ میں پہنچے تو عجیب و غریب نظارہ دیکھا ایک درخت میں زور شور سے آگ لگ رہی ہے اور آگ جس قدر زیادہ بھڑکتی ہے، درخت اسی قدر زیادہ سرسبز ہو کر لہلہاتا ہے اور جوں جوں درخت کی سرسبزی و شادابی جل کر گرے تو اٹھا لائیں لیکن موسیٰ (علیہ السلام) جس قدر آگ کے قریب جانے کا قصد کیا کہ درخت کی کوئی شاخ جل کر گرے تو اٹھا لائیں لیکن موسیٰ (علیہ السلام) جس قدر آگ کے قریب جاتے ہیں آگ دور بھاگتی چلی جاتی ہے اور جب گھبرا کر پیچھے ہٹتے ہیں تو وہ تعاقب کرتی ہے اسی حیرت اور دہشت کی حالت میں آواز آئی اِنی انَا اللہُ الخ امام احمد نے وہب سے نقل کیا ہے کہ موسیٰ نے جب یا موسیٰ (علیہ السلام) سنا تو کئی بار لبیک کہا اور عرض کیا کہ میں تیری آواز سنتا ہوں اور آہٹ پاتا ہوں مگر یہ نہیں دیکھتا کہ تو کہاں ہے ؟ آواز آئی میں تیرے اوپر ہوں، تیرے ساتھ ہوں، تیرے سامنے ہوں، تیرے پیچھے ہوں اور تیری جان سے زیادہ تجھ سے قریب ہوں، کہتے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہر جہت سے اور اپنے ایک ایک بال سے اللہ کا کلام سنتے تھے۔ (فوائد عثمانی)
فاخلع نعلیک ادب اور احترام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جوتے اتار دو بلاشبہ تم ایک مقدس اور پاکیزہ مقام پر ہو، اور جوتے اتار کر برہنہ پا ہونے میں عاجزی اور انکساری کا ظہور بھی ہے، یا اس لئے کہ مردار کی کھال کے تھے جیسا کہ بعض روایات میں ہے اور حضرت علی اور حسن بصری اور ابن جریج سے اول ہی منقول ہے اور جوتا اتارنے کی مصلحت یہ بتائی گئی ہے کہ آپ کے قدم اس مبارک وادی کی مٹی سے مس کرکے برکت حاصل کریں، اور وادی کی پاکیزگی کے اثرات کو پیرزیادہ جذب کرسکیں۔
انک بالواد المقدس طوی حق تعالیٰ نے زمین کے خاص خاص حصوں کو اپنی حکمت سے خاص امتیازات اور شرف بخشا ہے، جیسے بیت اللہ، مسجد اقصیٰ ، مسجد نبوی اور وادی طویٰ یہ وادی کوہ طور کے دامن میں واقع ہے، طُوْی ایک وادی کا نام ہے اسے بعض حضرات نے منصرف اور بعض نے غیر منصرف پڑھا ہے۔
وانا اخترتُکَ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر چالیس سال تھی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت اور رسالت کے لئے منتخب فرما لیا اور حکم دیا کہ جو وحی تمہاری جانب کی جا رہی ہے اس کو غور سے سنو، سب سے پہلا حکم تو یہ ہے کہ میری ہی بندگی کرو، میرے سوائے کوئی بندگی کے لائق نہیں، نماز اگرچہ بندگی میں داخل ہے مگر نماز کی اہمیت کے پیش نظر مستقل طور پر بھی نماز کا حکم دیا، اور یہ بھی بتادیا کہ نماز کا مقصد میری یادگاری ہے نماز سے غافل ہونا گویا کہ خدا کی یاد سے غافل ہونا ہے لِذِکری کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب بھی میں تجھے یاد آجاؤں نماز پڑھ لیا کر یعنی اگر کسی وقت غفلت ذہول، یا نیند کا غلبہ ہو تو اس کیفیت سے نکلتے ہی اور میری یاد آتے ہی نماز پڑھ لیا کر، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب بھی یاد آئے تو پڑھ لے۔ (بکاری شریف کتاب المواقیت)
Ayahs 20:15–24آیت نمبر 15 تا 24
ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر سہارا دیتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں یعنی اس کے ذریعہ درخت کے پتے گراتا ہوں تاکہ وہ اس کو کھائیں اور اس سے میں دیگر کام بھی لیتا ہوں مآرب ماربۃٌ کی جمع ہے را پر تینوں اعراب جائز ہیں مآرب بمعنی حوائج ہے مثلاً کھانا پانی لٹکا لینا اور موذی جانوروں کو دفع کرنا (وغیرہ) (مقدار) جواب میں بیان حاجت کا اضافہ فرمایا ارشاد ہوا اے موسیٰ اسی (عصاء) کو (زمین) پر ڈالدے چناچہ اس کو ڈالدیا تو یکایک وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا بڑا اژدہا وہ اپنے پیٹ کے بل چھوٹے سانت (سپولیے) کے مانند دوڑتا تھا جس کو دوسری آیت میں جان کہا گیا ہے ارشاد ہوا اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں ہم اس کو (پکڑتے ہی) اس کی پہلی صورت پر لوٹادیں گے سِیْرَتَھَا حرف جار کو حذف کرنے کی وجہ سے منصوب ہے ای الیٰ حالَتِھا الاُولیٰ چناچہ حضرت مو سٰی علیہ اسلام نے اپناہا تھ اس کے منہ میں داخل کردیا تو وہ عصاء بن گیا اور یہ بات ظاہر ہوگئی کہ (ہا تھ) داخل کرنے کی جگہ دونوں شاخوں کے درمیان پکڑ نے کی جگہ تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ سب کچھ اس لئے دکھا یا گیا تاکہ جب فرعون کے سامنے (یہ عصاء) سانث ( کی شکل) میں تبدیل ہوجائے تو ( موسیٰ ) خوف زدہ نہ ہوں اور تم اپنا داہنا ہاتھ یعنی ہتھیلی اینے بازئوں سے ملا لو، یعنی بائیں بغل میں بازو کے نیچے داخل کرلو اور (پھر) نکالو، اپنی پہلی گندمی حالت کے برخلاف بغیر کسی مرض مثلاً برص کے سورج کے مانند چمکدار ہو کر نکلے گا، جو آنکھوں کو چکا چوند (خیرہ) کر دے گا یہ دوسری نشانی ہوئی آیۃ اخریٰ اور بیضاء یہ دونوں تخرُجُ کی ضمیر سے حال ہیں، تاکہ ہم تم کو جب تم نشانی (معجزہ) کے اظہار کے لئے یہ سب کچھ کر چکو تو اپنی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی دکھا دیں یعنی تیری رسالت کی بڑی نشانی اور جب تم اس (ہاتھ) کو سابقہ حالت پر لوٹانا چاہو تو سابق کی طرح اس کو اپنے پہلو سے ملا لینا اور نکال لینا (اب) تم رسول بن کر فرعون اور ان لوگوں کے پاس جاؤ جو اس کے ساتھ ہیں بیشک وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے اپنے کفر میں دعوئ الوہیت کرکے حد سے تجاوز کر گیا ہے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
اکادُ اخفیھا ای ارید اخفاء وقتھا یہ عرب کے اس محاورہ کے مطابق ہے کہ عرب جب کسی بات کے اخفاء میں مبالغہ کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں (کتمہٗ حتی من نفسی) ای لم اطلع احَدًا لتجزیٰ یا تو اخفیھَا سے متعلق ہے یا آتِیَۃٌ سے متعلق ہے دوسری صورت میں متعلِّق اور متعلَّق کے درمیان اکاد اُخْفِیھا جملہ معترضہ ہوگا بہٖ کو مقدر ماننے کی وجہ یہ ہے کہ صلہ جب جملہ ہوتا ہے تو عائد کا ہونا ضروری ہوتا ہے اسی لئے مفسر نے بہٖ کو محذوف مانا ہے مِنْ خَیْر وشرّ میں مِنْ ، ما کا بیان ہے یَصُدَّنَّکَ واحد مذکر غائب نہی بانون ثقیلہ، مادہ صَدٌّ، ک ضمیر مفعول ہے تجھ کو باز نہ رکھنے پانئے فَتَرْدیٰ اصل میں فأن تردیٰ تھا فَتَرْدیٰ جواب نہی ہے وَمَا تِلکَ ما اسم استفہام مبتداء تلک اسم اشارہ خبر اور بیمینکَ کائنۃً مقدر کے متعلق ہو کر حال ہے اسم اشارہ بمعنی اشیر سے ما تلک میں ما استفہامیہ طلب فہم کے لئے نہیں ہے اس لئے کہ یہ ذات باری کے لئے محال ہے بلکہ تقریر شئ کے لئے ہے یعنی اچھی طرح دیکھ لو یہ کیا ہے تاکہ مغالطہ نہ ہو اس لئے کہ عنقریب اسی عصاء کا سانپ کی شکل میں معجزہ ظاہر ہونے والا ہے حَیَّۃٌ چھوٹے بڑے ہر قسم کے سانپ کو کہتے ہیں، اور جَانٌّ خاص طور پر چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں اور ثعبان بڑے سانپ کو جس کو اژدہا کہا جاتا ہے، کہیں جَانٌّ کہا گیا ہے اور کہیں ثعبانٌ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ جسم وجثہ کے اعتبار سے تو ثعبان تھا اور حرکت و سرعت کے اعتبار سے جان یا ابتداءً جان رہتا تھا اور بعد میں ثعبان ہوجاتا تھا فاِذَا ھِیَ تَسعیٰ اِذا مفاجاتیہ ہے ھِیَ مبتداء ہے حیۃ خبر اول ہے اور تسعیٰ خبر ثانی ہے، تسعیٰ جملہ ہو کر حیۃ سے حال بھی ہوسکتا ہے، اور صفت بھی سِیْرَتَھا اصل میں اِلیٰ سِیْرَتِھَا الاُولیٰ تھا حذف الیٰ کی وجہ سے منصوب ہوگیا سِیْرَتَھا الاُولیٰ یہ سَنُعِیْدُھا کی ضمیر مفعول سے بدل الاشتمال بھی ہوسکتا ہے ای ھیئتھا الاولیٰ بیضاء تخرجُ کی ضمیر سے حال ہے من غیر سُوءٍ تخرج کے متعلق ہے بمعنی الکف کا اضافہ اس شبہ کو زائل کرنے کے لئے کیا ہے کہ یدٌ عربی میں انگلیوں سے لیکر کندھے تک کو کہتے ہیں، اس کا بغل میں داخل کرنا ممکن نہیں ہے، جواب دیا کل بول کر جز مراد ہے یعنی صرف ہتھیلی الآیۃ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ الکبریٰ ، موصوف محذوف کی صفت ہے۔
تفسیر و تشریح
اکادُ اُخفِیھَا یعنی قیامت کے معاملہ کو میں تمام مخلوق سے مخفی رکھنا چاہتا ہوں حتی کہ انبیاء اور فرشتوں سے بھی اکاد سے اس طرف اشارہ ہے کہ اگر لوگوں کو قیامت اور آخرت کی فکر دلا کر ایمان و عمل صالح پر ابھارنا مقصود نہ ہوتا تو اتنی بات بھی ظاہر نہ کی جاتی کہ قیامت آنے والی ہے، البتہ قیامت کی علامات قریبہ اور بعیدہ بتادوں گا تاکہ بندوں کو وقوع قیامت کا علم ہوجائے، علامات بعیدہ میں آنحضرت ﷺ کی بعثت ہے، اور علامات قریبہ میں نزول عیسیٰ (علیہ السلام) ظہور مہدی (علیہ السلام) اور خروج دجال اور سورج کا مغرب سے نکلنا وغیرہ ہیں۔
لِتُجزیٰ الخ تاکہ ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا دی جائے اگر اس جملہ کا تعلق آتیۃٌ سے ہے تو معنی ظاہر ہیں کہ قیامت کے آنے کی حکمت و مصلحت یہ ہے کہ دنیا دار الجزاء نہیں بلکہ دار العمل ہے بعض اوقات دنیا میں بھی قدرے جزاء مل جاتی ہے مگر وہ جزاء کامل نہیں ہوتی بلکہ جزاء کا ایک نمونہ ہوتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے کہ جہاں ہر نیک و بد عمل کی کامل جزاء دی جائے ورنہ تو یہ انصاف کے تقاضہ کے خلاف ہوگا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا قیام عقلاً بھی ضروری ہے قیامت اور موت کے وقت کو مخفی رکھنے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیام قیامت اور احتضار کے وقت توبہ سے منع فرمایا ہے اگر لوگوں کو موت یا قیامت کا متعین وقت معلوم ہوجائے تو معصیت میں مبتلا رہیں گے پھر وقت سے کچھ پہلے توبہ و استغفار کرلیں گے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قیامت اور موت کے وقت کو مخفی رکھا ہے تاکہ بندہ ہمہ وقت ڈرتا رہے فَلاَ یَصُرَّنَّکَ اس میں خطاب گو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہے مگر سنانا مقصود امت کو ہے اس لئے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اس سے گناہ کبیرہ کا صدور نہیں ہوسکتا یا مقصد یہ ہے کہ اے موسیٰ جس طرح تم اب تک ایمان بالقیامۃ پر قائم رہے ہو آئندہ بھی اسی طرح قائم رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسا شخص جو قیامت پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے دوڑ رہا ہو آپ کو قیامت کے معاملہ میں غفلت میں ڈال دے اگر بالفرض ایسا ہوا تو تم بھی ہلاکت میں پڑجاؤ گے۔
وما تلک رب العالمین کی طرف سے یہ ایک دوستانہ انداز خطاب ہے تاکہ حیرت انگیز مناظر دیکھنے اور کلام ربانی سننے کے بعد جو ہیبت اور دہشت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر طاری ہوگئی تھی وہ اس بےتکلفانہ کلام سے دور ہوجائے، اس کے علاوہ اس سوال میں یہ حکمت بھی ہے آئندہ چل کر اس عصا کو جو ان کے ہاتھ میں تھا ایک سانپ بنانا تھا اس لئے پہلے ان کو متنبہ کردیا اور فرمایا اے موسیٰ کیا تیرے ہاتھ میں عصا نہیں ہے خوب اچھی طرح دیکھ لے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھ لیا کہ لکڑی کا عصا ہے تب اس کو سانپ بنانے کا معجزہ ظاہر کیا گیا ورنہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ مغالطہ اور احتمال ہوسکتا تھا کہ کہیں رات کی تاریکی میں عصا کی بجائے سردی سے ٹھٹرا ہوا سانپ نہ اٹھا لیا ہو اور اب گرمی پاکر حرکت کرنے لگا ہو۔
قَال ھِیَ عَصَایَ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صرف اتنا سوال ہوا تھا کہ اے موسیٰ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ اس کا اتنا جواب کافی تھا کہ لاٹھی ہے، مگر یہاں موسیٰ نے اصل جواب پر تین باتیں مزید فرمائیں جن کا جواب سے کوئی تعلق نہیں ہے، اول تو یہ کہ یہ میری لاٹھی ہے دوسرے یہ کہ اس سے بہت سے کام لیتا ہوں مثلاً یہ کہ میں اس سے نیک لگاتا ہوں، نیز اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیتا ہوں اس کے علاوہ بھی اس سے اور بہت سے کام لیتا ہوں مثلاً یہ کہ اگر کودنے کی ضرورت پڑجاتی ہے تو اس کے سہارے سے کود جاتا ہوں ضرورت کے وقت اس پر اپنا سامان بھی کندھے پر رکھ کر ٹانگ لیتا ہوں، موذی جانوروں کو دفع کرنے کا کام بھی اسی سے لیتا ہوں اور یہ عصا بکریاں ہانکنے کے کام بھی آتا ہے، اس طویل اور تفصیلی جواب میں عشق و محبت اور اس کے ساتھ رعایت ادب کی جامعیت کا کمال ظاہر ہوتا ہے، عشق و محبت کا تقاضا ہے کہ جب محبوب مہربان ہو کر متوجہ ہو تو موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بات دراز کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ہم کلامی کا شرف حاصل ہوسکے اور بےجا طوالت بھی نہ ہو جیسا کہ آخر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرما دیا وَلِیَ فیھا مآرب اخریٰ (معارف القرآن ملخصاً ) فرعون کے پاس بھیجنے سے پہلے عصاء کے سانپ بننے کا عملی تجربہ بھی کرا دیا تاکہ اچانک عصاء کے سانپ بننے کی وجہ سے بشری خوف غالب نہ آجائے، چناچہ عملی تجربہ کے وقت ایسا ہی ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس خوفناک منظر کو دیکھ کر خوف زدہ ہوگئے، اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑا، لا تَخَفْ سَنعیدُھا سیرتھا الاولیٰ ۔
اِذھب الی فرعون اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول کو دو عظیم معجزوں سے مسلح کرنے کے بعد حکم دیا کہ اب فرعون سرکش کو دعوت ایمان دینے کے لئے چلے جائیں۔