Ayahs 19:1–6آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے کھیٰعص اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی خوب جانتا ہے یہ (متلو) اپنے بندے زکریا پر تیرے رب کی رحمت کا تذکرہ ہے عبدہٗ رحمت کا مفعول ہے زکریا، عبدہ کا بیان ہے جبکہ اس نے اپنے رب کو مخفی طور پر پکارا اِذْ رحمۃً سے متعلق ہے، یعنی ایسا پکارنا کہ جو راز داری پر مشتمل تھا رات کے درمیان حصہ میں اس لئے کہ یہ (طریقہ) سریع القبول ہے عرض کیا اے میرے پروردگار میری تمام ہڈیاں کمزور ہوگئیں ہیں اور میرے سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے شیباً فاعل سے منقول ہو کر تمیز ہے یعنی جس طرح لکڑیوں میں آگ پھیل جاتی ہے اسی طرح سفیدی میرے سر کے بالوں میں پھیل گئی (اس کے باوجود) میں آپ سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں (اور اس سے قبل بھی) میں آپ سے اے میرے رب درخواست کر کے کبھی محروم نہیں رہا ہوں یعنی میں آپ سے اپنی دعاء میں زمانہ گذشتہ میں بھی (ناکام نہیں رہا ہوں) لہٰذا آئندہ بھی مجھے محروم نہ فرمائیں اور مجھے میرے قریبی رشتہ داروں کی طرف سے یعنی ان لوگوں کی طرف سے کہ جو میرے نسبی رشتہ دار ہیں جیسا کہ چچا زاد بھائی وغیرہ دین کے معاملہ میں اندیشہ ہے کہ میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد دین کو ضائع کردیں گے جیسا کہ میں بنی اسرائیل میں مشاہدہ کرچکا ہوں اور میری بیوی بھی بانجھ ہے جس سے کوئی اولاد نہیں سو (اس صورت میں) آپ مجھ کو خاص اپنے پاس سے یعنی اپنی خصوصی رحمت سے (اسباب عادیہ کے مفقود ہونے کے باوجود) ایک وارث یعنی ایسا بیٹا دے دیجئے جو میرا اور میرے دادا یعقوب کے خاندان کے علم ونبوت کا وارث بنے یَرِثُنِیْ میں جواب امر ہونے کی وجہ سے جزم اور (جملہ ہو کر) ولیًا کی صفت ہونے کی وجہ سے رفع ہے اور یَرِثُ میں بھی مذکورہ دونوں صورتیں جائز ہیں اور اے میرے پروردگار اس کو پسندیدہ یعنی اپنے نزدیک مقبول بنا دیجئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) سے اجابت دعاء کی وجہ سے بطور رحمت حاصل ہونے والے بیٹے کی درخواست کے جواب میں فرمایا یا زکریا الخ۔
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
قولہ کھیٰعص یہ متشابہات میں سے ہے جس کا واقعی علم اللہ اور اس کے رسول ہی کو ہے بندوں کے لئے اس کی تفتیش و جستجو بھی اچھی نہیں بعض اسلاف نے اس کی مراد بیان کی ہے، مگر وہ تخمینی ہے کہ تحقیقی ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ اسماء الہٰیہ میں سے ایک اسم ہے اور قتادہ (رح) نے فرمایا یہ قرآن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ اسم اعظم ہے وغیرہ وغیرہ ذکر رحمت ربِّکَ عبدَہُ ، عبدَہٗ رحمت کا مفعول بہ ہے اور بعض حضرات نے ذکر کا مفعول بہ کہا ہے زکریا عبدہ سے بدل یا عطف بیان ہے ذکر رحمۃِ میں ذکر مصدر اپنے مفعول کی جانب مضاف ہے اور مصدر کا فاعل محذوف ہے ای ذکر اللہ رحمتہ اور رحمۃ مصدر کی اضافت رب کی جانب مصدر کی اضافت فاعل کی طرف ہے اور جملہ ہو کر ھٰذا مبتدا محذوف کی خبر ہے جیسا کہ مفسر علام نے ھٰذا محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے ای ھٰذا المتلو ذکر رحمۃ ربک اور ایک ترکیب یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ذکر رَحْمَۃِ ربِّکَ الخ مبتداء ہے اور اس۔۔۔ خبر مقدم محذوف ہے ای فیما یتلیٰ علَیْکَ ذکرُ رحمۃِ ربِّکَ اور ذکر رحمت کا مطلب رحمت کا معاملہ کرنا ہے نہ وہ ذکر جو نسیان کے مقابلہ میں ہے اِذ نادیٰ ، رحمۃ کا ظرف ہے اور بعض حضرات نے ذکر کا ظرف قرار دیا ہے مفسر علام نے اِذ کے بعد متعلِّق بِرَحْمَۃٍ کے اضافہ سے یہ بتادیا کہ اِذْ نادیٰ اگرچہ ذکر کا بھی ظرف ہوسکتا ہے مگر مفسر کے نزدیک رحمۃ کا ظرف بنانا بہتر ہے ای رحمۃ اللہِ اِیَّاہ وقتَ اَنْ ناداہٗ قولہ وَھَنَ (س ض) وَھْنًا کمزور ہونا، ضعیف ہونا، حضرت زکریا (علیہ السلام) نے وَھَنَ العَظْمُ مِنِّیْ فرمایا حالانکہ وَھَنَ عظمی زیادہ مختصر ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : وَھَنَ العظم منی میں تفصیل بعد الاجمال ہے اس لئے کہ العظم منی جنسیۃ مقصودہ پر واضح الدلالۃ ہے، اس لئے کہ وَھَنَ العظم مطلق ہے جس میں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور ان کے غیر کی ہڈیاں شامل ہیں منی کہہ کر خود کو دوبارہ شامل کرلیا اس طرح مِنّی، العظم کی تاکید ہوئی (روح) قولہ قال رَبِّی یہ جملہ نادیٰ رَبَّہٗ کی تفسیر ہے، العظم میں الف لام استغراق جنسی کے لئے ہے مراد تمام ہڈیاں ہیں، العظم کو مفرد لایا گیا ہے نہ کہ جمع اس لئے کہ جمع کا اطلاق اس صورت میں بھی درست ہے جبکہ بعض ہڈیاں کمزور ہوگئیں ہوں قولہ اشتعال اصل میں انتشارُ شعاع النارِ فی الحطب کو کہتے ہیں، شیباً بوجہ تمییز منصوب ہے اور فاعل سے منقول ہے تقدیر عبارت یہ ہے انتشر الشیبُ فی شعرہٖ (ض) شیباً بوڑھا ہونا، بالوں کا سفید ہونا، بعض حضرات نے شیباً کو مصدریت کی وجہ سے منصوب کہا ہے، بایں طور کہ اِشتَعَلَ الرأسُ شَابَ کے معنی میں ہے لہٰذا اب عبارت ہوگی شاب شیباً اور بعض حضرات نے حال ہونے کی وجہ سے منصوب کہا ہے اور شیباً بمعنی شائباً کہا ہے (روح) مگر یہ دونوں قول مرجوح ہیں رأس کے بعد مِنِّی کو ماقبل پر اعتماد کرتے ہوئے ترک کردیا قولہ الموالی جمع مولیٰ ، قریبی رشتہ دار، بنی عم وغیرہ عاقراً بانجھ عاقر کے آخر سے ۃ حذف کردی گئی ہے جیسا کہ حائض سے، حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بیوی کا نام اشاع بنت فاقور ہے اور اشاع کی بہن کا نام حنہ ہے اشاع کے یحییٰ پیدا ہوئے اور حنہ کے مریم اور مریم کے عیسیٰ علیہ السلام، اس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) یحییٰ (علیہ السلام) کے خالہ زاد بھانجے ہوئے قولہ رضیاً مصدر بمعنی مفعول پسندیدہ قولہ بدعائک کی تفسیر بدعائی سے کر کے اشارہ کردیا کہ دعاء مصدر ہے اور اپنے مفعول کی جانب مضاف ہے اور اس کا فاعل ی ضمیر متکلم محذوف ہے قولہ العلم والنبوۃ سے اشارہ کردیا کہ انبیاء کی میراث علم ہے نہ کہ مال و دولت۔
تفسیر و تشریح
نِداءً خفِیًّا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعاء آہستہ اور خفیہ طور پر کرنا افضل ہے حضرت سعد بن وقاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اِنَّ خیرَ الذکر الخفی وخیر الرزق ما یکفی یعنی بہترین ذکر خفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو کافی ہوجائے (ضرورت سے نہ گھٹے اور نہ بڑھے) ذکر خفی کے افضل ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ذکر خفی میں تضرع وانابت اور خشوع و خضوع زیادہ ہوتا ہے، ریا ونمود سے دور ہوتا ہے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے خفیہ طور پر بیٹے کی دعاء میں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ لوگ ان کو بیوقوف قرار نہ دیں کہ بڈھا اب بڑھاپے میں اولاد مانگ رہا ہے جبکہ اولاد کے ظاہری تمام امکانات ختم ہوچکے ہیں۔
اِنِّی وَھَنَ العظْمُ مِنّی الخ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنی کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ہڈیوں کی کمزوری کا ذکر فرمایا ہے اس لئے کہ ہڈیاں ہی عمود بدن ہوتی ہیں جب ہڈیاں ہی کمزور ہوگئیں تو بقیہ چیزوں کے کمزور نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دعاء میں اپنی حاجت مندی کا اظہار مستحب ہے : حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا سے پہلے اپنی کمزوری اور ضعف کا ذکر فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرتے وقت اپنی بدحالی نیز ضعف اور کمزوری نیز حاجت مندی کا ذکر کرنا قبولیت کے لئے اقرب ہے اسی لئے علماء نے فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی حاجت مندی کا ذکر ہے۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) کے اپنے ضعف اور کمزوری کا ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اولاد پیدا ہونے کے تمام ظاہری اسباب مفقود ہیں اب تو ہم دونوں بوڑھے ہوچکے ہیں جب دونوں جوان تھے اور اولاد کے ظاہری اسباب بھی موجود تھے اس وقت کچھ نہ ہوا تو اب تو ظاہری اسباب بھی مفقود ہوچکے ہیں، اس بات کا تقاضہ تو یہ تھا کہ میں آپ سے اولاد کی دعا نہ کروں مگر چونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے قریبی عزیزوقریب دین پر قائم نہ رہ سکیں خود ہی گمراہ ہوجائیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں، اس ضرورت اور مصلحت کی وجہ سے ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود میں آپ سے ایک بیٹے کی درخواست کرتا ہوں کہ جو میرے اور خاندان یعقوب (علیہ السلام) کے علمی اور نبوی ورثہ کا وارث ہو سکے۔
وَاِشْتَعَلَ الرَّأسُ شَیْبًا اور میرا پورا سر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہوچکا ہے اس سے بھی ضعف وکبرسنی کا اظہار مقصود ہے، بالوں کی سفیدی کو آگ کی روشنی سے تشبیہ دے کر اس کا پورے سر پر پھیل جانا مقصود ہے۔
البَلاغۃ : (1) اَلْکِنَایَۃ (وَھَنَ العظم منی) کنایۃ عن ذھاب القوۃ وضعف الجسم (2) اَلاستعارۃ (اشتعل الرأس شیباً ) شَبَّہَ اِتشارَ الشیب وکثرتہٖ باشتعال بمعنی اِنْتَشَرَ ففیہ استعارۃٌ تَبْعِیَّۃ ٌ۔
یَرِثنی وَیَرِث مِنْ ءَالِ یعقوب الخ باتفاق جمہور علماء اس آیت میں وراثت سے وراثت مالی مراد نہیں ہے قال البیضاوی المراد وِرَاثۃ الشرع والعلم فاِن الانبیاء لا یورثون المال 14/2، اول حضرت زکریا (علیہ السلام) کے پاس کوئی بڑی دولت ہونا ثابت نہیں کہ جس کی فکر ہو کہ اس کا وارث کون ہوگا ؟ اور ایک پیغمبر کی شان سے بھی ایسی فکر کرنا بعید ہے اس کے علاوہ وہ صحیح حدیث جس پر صحابہ کرام کا اجماع ثابت ہے اس میں ہے :
العلماءُ ورثۃ الاَنبِیاءِ واَنَّ الاَنْبِیَاءَ لم یُوَرِّثُوْا دِینارًا ولا دِرْھَمًا اِنَّما ورِّثوا العلمَ فمن اَخَذَہ اَخَذ بحظٍّ وافِرٍ (رواہ احمد و ابوداؤد وابن ماجہ والترمذی)
“ بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء علماء انبیاء کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء دینار و درہم کی وراثت نہیں چھوڑتے بلکہ ان کی وراثت علم ہوتا ہے جس نے علم حاصل کرلیا اس نے بڑی دولت حاصل کرلی ”
یہ حدیث کلینی کی اصول کافی وغیرہ میں بھی موجود ہے اور صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
لاَ نُوَرِّثُ وَمَا نُوَرِّثُ صَدَقَۃ ٌ : ہم انبیاء کی مالی وراثت کسی کو نہیں ملتی ہم جو مال چھوڑتے ہیں وہ سب صدقہ ہے۔
اور خود اس آیت میں یَرِثُنِیْ کے بعد وَیَرِثُ مِنْ آل یَعْقوْبَ کا اضافہ اس کی دلیل ہے کہ وراثت سے وراثت مالی مراد نہیں ہے کیوں کہ جس لڑکے کی پیدائش کی دعا کی جا رہی ہے اس کا آل یعقوب کے لئے مالی وارث بننا بظاہر ممکن نہیں اس لئے کہ آل یعقوب کے ورثاء ان کے عصاب قریبہ ہوں گے اور وہ وہی موالی ہیں جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے وہ بلاشبہ قرابت اور عصوبت میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے اقرب ہیں اقرب کے ہوتے ہوئے عصبہ بعید کو وراثت ملنا اصول وراثت کے خلاف ہے۔
روح المعانی میں کتب شیعہ سے یہ نقل کیا گیا ہے :
رَوَی الکلینی فی الکافی عن ابی البختری عن ابی عبداللہ قال اِنّ سلیمان وَرِثَ داؤد وأن محمدًا ﷺ ورث سلیمان۔
سلیمان (علیہ السلام) داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور محمد ﷺ سلیمان (علیہ السلام) کے وارث ہوئے۔
یہ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مالی وراثت ملنے کا کوئی احتمال وامکان ہی نہیں اس سے مراد علوم نبوت کی وراثت ہے اس سے معلوم ہوا کہ وَرِثَ سلیمان داؤد میں بھی وراثت مالی مراد نہیں وَاَجْعَلْہٗ رَبِّ رَضِیًّا اے پروردگار تو اس کو اپنے نزدیک مقبول اور پسندیدہ بنا اس سے معلوم ہوا کہ والدین کو اپنے بچوں کے لئے نیک صالح خوش اخلاق وخوش اطوار بننے کی دعاء کرنا طریقہ انبیاء ہے۔
سوال : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا یَرِثُنِیْ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیدا ہونے والا لڑکا حضرت زکریا (علیہ السلام) کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے اور اس لئے کہ وارث بننے کا عام طور پر یہی مطلب ہوتا ہے حالانکہ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت زکریا (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں قتل کر دئیے گئے تھے۔
جواب : (1) بقاء عام ہے بقاء ذات اور بقاء آثار کو لہٰذا اگر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ذات باقی نہیں رہی تو ان کے آثار باقی رہے (2) یا فاستجبنا دعاء کے بعض اجزاء کے اعتبار سے ہے (3) حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے قصہ قتل کی تقدیم ثابت نہ ہو۔ (بیان القرآن)
Ayahs 19:7–15آیت نمبر 7 تا 15
ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جو تیری درخواست کے مطابق وارث ہوگا اس کا نام یحییٰ ہوگا اس کا ہمنام پہلے ہم نے کسی کو نہیں کیا یعنی یحییٰ کا ہم نام تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں عِیِّیًّا عَتَا سے ماخوذ ہے بمعنی یَبِسَ یعنی عمر کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہوں جو ایک بیس سال ہے اور میری بیوی 98 سال کی ہوچکی ہے عِتِیٌ اصل عُتُوْوٌ بروزن قُعُوْدٌ تخفیف کے لئے تا کو کسرہ دے دیا اور اول واو کو کسرہ کی مناسبت سے ی سے بدل دیا اور پھر دوسرے واو کو بھی ی سے بدل کر یا کو یا میں ادغام کردیا پھر عین کلمہ کے ضمہ کو بھی تا کی موافقت کے لئے کسرہ سے بدل دیا عِتِیًّا ہوگیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں سے لڑکے کی پیدائش کا معاملہ اسی (موجودہ) حالت میں ہوگا تیرے رب کا فرمان ہے کہ یہ (امر) میرے لئے آسان ہے یعنی یہ کہ میں تجھ میں قوت جماع لوٹا دوں اور استقرار حمل کے لئے تیری بیوی کے رحم کو کھول دوں اور میں نے تم کو پیدا کیا حالانکہ تمہارا اپنی پیدائش سے پہلے وجود بھی نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی اسی قدرت عظیمہ کے اظہار کے لئے (بچے) کے سوال کا خیال حضرت زکریا (علیہ السلام) کے دل میں ڈالا تاکہ اس کے جواب میں ایسا معاملہ کرے جو اس کی قدرت پر دلالت کرے، اور جب زکریا (علیہ السلام) کا دل بعجلت مبشربہ (فرزند) کے لئے مشتاق ہوا تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دیجئے یعنی میری بیوی کے حاملہ ہونے کی کوئی نشانی (بتا دیجئے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا حاملہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تم لوگوں سے کلام نہ کرسکو گے یعنی تم تین دن اور تین راتوں تک لوگوں سے کلام کرنے پر سوائے ذکر اللہ کے صحیح سالم ہونے کے باوجود کلام کرنے پر قادر نہ ہوگی، جیسا کہ آل عمران میں ثلٰثۃ ایام کی (صراحت) موجود ہے سَوِیًّا تُکَلِّمُ کے فاعل سے حال ہے یعنی بلا کسی مرض کے (کلام نہ کرسکو گے) پس حجرے سے اپنی قوم کے روبروبرآمد ہوئے یعنی مسجد سے اور لوگ مسجد کے کھلنے کے منتظر تھے تاکہ حسب معمول ان کے حکم کے مطابق اس میں عبادت کی جاسکے، اور لوگوں سے اشارہ سے کہا کہ تم لوگ صبح وشام خدا کی پاکی بیان کیا کرو نماز پڑھا کرو، یعنی حسب معمول دن کے اول اور آخری حصہ میں اس کی بندگی کیا کرو چناچہ لوگوں سے کلام نہ کرسکنے کی وجہ سے حضرت زکریا کو اپنی بیوی کے یحییٰ کے ساتھ حاملہ ہونے کا علم ہوگیا یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے دو سال بعد اللہ تعالیٰ نے یحییٰ سے فرمایا اے یحییٰ کتاب یعنی تورات کو مضبوطی سے تھام لو اور ہم نے ان کو لڑکپن ہی میں حکمت نبوت عطا کی یعنی تین سال کی عمر میں اور خاص اپنے پاس سے لوگوں کے لئے رحم دلی عطا کی اور ان کو لوگوں کے لئے وقف کردیا اور وہ (فطری طور پر) پرہیزگار تھے، اور روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے کبھی جرم کا ارتکاب نہیں کیا اور نہ کبھی جرم کا قصد کیا اور اپنے والدین کے خدمت گذار تھے یعنی ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے تھے سرکش متکبر اور نافرمان نہیں تھے یعنی اپنے رب کی خلاف ورزی کرنے والے نہیں تھے اور اس پر ہماری طرف سے سلام پہنچے جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن ان کی وفات ہوگی اور جس دن ان کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا، یعنی ان تینوں ہولناک دنوں میں کہ جن میں (انسان) وہ چیزیں دیکھتا ہے جو اس سے پہلے نہیں دیکھی ہوتیں (یعنی ان تینوں دنوں میں ایسی چیزوں سے سابقہ پڑتا ہے کہ اس سے پہلے نہیں پڑا ہوتا)
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
یَحْییٰ (س) حَیَاۃ مضارع مثبت واحد مذکر غائب بمعنی جیتا رہے یحییٰ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے صاحبزادے کا نام ہے چونکہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے ان کی والدہ کا رحم زندہ ہوگیا (یعنی بانجھ پن ختم ہوگیا) اسی لئے ان کا نام یحییٰ (علیہ السلام) رکھا، یحییٰ (علیہ السلام) کی علمیت اور عجمہ کی وجہ سے غیر منصرف ہے قولہ اسمہ یحییٰ غلام کی صفت ہے لم نَجْعَلْہٗ لہ الخ یا تو غلام کی صفت ثانی ہے یا پھر غلام سے حال ہے قولہ عِتِیًّا یہ عَتَا یَعْتُوْ کا مصدر ہے، اس کے معنی اکڑ جانا، نہایت بوڑھا ہونا جوڑوں اور ہڈیوں میں خشکی کا پیدا ہوجانا (1) عِتِیَّا بلغتُ کا مفعول بہ ہے (2) بلغتُ کے معنی کے لئے مصدر مؤکد ہو اس لئے کہ بُلُوْغُ الکِبَرِ عِتِیّا کے معنی میں ہے (3) عِتِیَّا مصدر موقع میں بلغت کے فاعل سے حال واقع ہے، ای بلغت عَاتِیًا (4) تمیز ہونے کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتا ہے قولہ ھَیّنٌ ھَوْنٌ سے صفت مشبہ بمعنی آسان أنّی بمعنی کیف یہ حصول دلد کی کیفیت سے سوال ہے نہ کہ بعید اور محال سمجھنے کی وجہ سے، اور استفہام تعجبی بھی ہوسکتا ہے قولہ عِتِیًّا کی تفسیر نھایۃ السن سے تفسیر بالازم ہے قولہ ثلٰث لیال کے بعد باَیَّامِھا کے اضافہ کا مقصد اس آیت اور آل عمران کی آیت میں تطبیق دینا ہے اس لئے کہ وہاں ایام کا ذکر ہے اور یہاں لیال کا ذکر ہے قولہ تاقت (ن) توقًا تُؤقًا وتَوْقَا ناً مشتاق ہونا قولہ وقد خَلَقْتُکَ غلیّ کی ضمیر سے حال ہے، ولم تکُ خلقتکَ کے کاف سے حال ہے سَوِیًّا لا تکَلِّمُ کی ضمیر سے حال ہے قولہ المحراب مسجد، شیطان سے لڑنے کی جگہ قولہ حَنَانًا اس کا عطف الحکم پر ہے حنان بمعنی رحمت، رقتِ قلب قولہ بعد ودلادتِہٖ الخ کے مقدر ماننے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یا یحییٰ محذوف پر مرتب ہے اس لئے کہ یحییٰ کے علوق کی خوشخبری دینے کے بعد فوراً ہی یحییٰ کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا گیا ہے حالانکہ وہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تو معلوم ہوا کہ کلام میں حذف ہے جس کو مفسر علام نے بعد ولادتہٖ سے ظاہر کردیا۔
یٰذَکَرِیَّا اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلاَمٍ الآیۃ یہ خوشخبری ملائکہ کے ذریعہ دی تھی جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا فَنَادَتْہٗ المَلاَئِکَۃ وَھُوَ قَائِم یُصَلِّیْ فِی المِحْرَابِ أنَّ اللہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیٰی اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ ولادت فرزند کی خوشخبری سنائی بلکہ اس کا نام بھی خود ہی تجویز
کردیا اور نام بھی ایسا نرالہ کہ ماضی میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔
نکتہ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یکتا اور نرالا نام رکھنا محمود ہے بشرطیکہ اس کے معنی نامناسب نہ ہوں اس لئے کہ یہاں نام کی یکتائی کو مقام مدح میں بیان کیا گیا ہے سَمِیًّا کے دوسرے معنی مثل اور مشابہ کے بھی آتے ہیں اگر دوسرے معنی مراد لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ بعض صفات اور حالات ان کے ایسے ہیں جو انبیاء سابقین میں سے کسی کے نہیں تھے ان صفات خاصہ میں وہ بےمثیل تھے مثلاً ان کا حصور ہونا اس لئے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) تمام انبیاء سابقین سے افضل ہوں کیونکہ ان میں حضرت خلیل اللہ اور حضرت کلیم اللہ کا ان سے افضل ہونا مسلم اور معروف ہے (مظہری) اس لئے کہ جزئی فضیلت سے کلی فضیلت لازم نہیں آتی۔
قَالَ رَبِّ اَنّٰی یکونُ لِی غُلامٌ یہ استفہامِ تعجب و سرور ہے، یا حصول ولد کی کیفیت معلوم کرنے کے لئے ہے یعنی میرے فرزند ہونے کی صورت کیا ہوگی آیا ہم دونوں کی جوانی لوٹا دی جائے گی یا مجھے نکاح ثانی کرنا ہوگا یا بحالت موجودہ ہی اولاد ہوگی حالانکہ ظاہری تمام اسباب مفقود ہیں اس کے بعد حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنی بیوی کے بانجھ ہونے اور اپنے ضعف اور پیری کا ذکر فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا قَالَ کَذٰلِکَ یعنی موجودہ حالت ہی میں اولاد ہوگی میری قدرت کے لئے اسباب عادیہ کی ضرورت نہیں ہے میری قدرت اسباب عادیہ سے وراء الوراء ہے، میرے لئے بغیر اسباب عادیہ کے فرزند عطا کردینا بالکل آسان ہے، اور اسباب عادیہ کے ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ لوٹا دینا بھی میرے لئے آسان ہے۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بیوی یعنی حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا نام اشاع ہے جو کہ حضرت عمران کی صاحبزادی ہیں حضرت عمران کی دوسری صاحبزادی کا نام مریم ہے جو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ہیں اس طرح حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) خالہ زاد بھائی ہوتے ہیں اور حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خالو ہوتے ہیں، یہ قول زیادہ راجح ہے گو اس کے علاوہ بھی ایک قول خالہ زاد بھانجہ ہونے کا ماسبق میں گذر چکا ہے مگر وہ مرجوح ہے۔
قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِیْ آیَۃ ً اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتہ کے ذریعہ فرزند کی خوشخبری سن کر حضرت زکریا (علیہ السلام) مارے خوشی اور مسرت کے بیتاب ہوگئے تو سوال کر بیٹھے کہ اس کی علامت اور نشانی بتا دیجئے تاکہ اس علامت کو دیکھ کر میں سمجھ سکوں کہ اب فرزند کی ولادت کا وقت قریب آگیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم ٹھیک ٹھاک ہونے کے باوجود لوگوں سے تین دن اور تین رات گفتگو نہ کرسکو گے اور یہ کیفیت کسی مرض کی وجہ سے نہ ہوگی بلکہ یہ حالت معجزہ اور نشانی کے طور پر ہوگی یہی وجہ ہے کہ تم ذکر و تسبیح بلا کسی رکاوٹ کے کرسکو گے۔
چناچہ جب مذکورہ علامت ظاہر ہوئی تو سمجھ گئے کہ اب فرزند کی ولادت کا زمانہ قریب ہے تو اپنے حجرے سے نکلے اور لوگ نماز پڑھنے کے لئے حجرے کا دروازہ کھلنے کے منتظر تھے، حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اشارہ سے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ حسب معمول صبح وشام یعنی فجر اور عصر کی نماز پڑھتے رہو (ان پر یہی دو نمازیں فرض تھیں)
یَا یَحْیٰی خُذِ الکِتَابَ بِقُوَّۃٍ یہ محذوف پر مرتب ہے جیسا کہ مفسر علام نے تقدیر عبارت کی جانب اشارہ کردیا ہے یعنی حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی وہ بڑے ہوئے اور ان کے اندر مخاطب بننے کی صلاحیت نمودار ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یَا یَحْیٰی خُذِ الکِتَابَ بِقُوَّۃٍ کتاب سے مراد تو رات ہے اور قوت سے پکڑنے کا مطلب اس پر عمل کے لئے پوری کوشش کرنا ہے۔
وَآتَیْنَاہٗ الحُکْمَ صَبِیَّا اور ہم نے اس کو بچپن ہی میں نبوت عطا فرما دی مفسر علام نے اعطاء نبوت کے وقت تین سال کی عمر بیان فرمائی ہے، حکم سے کیا مراد ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا حکم سے مراد نبوت ہے، اور بعض حضرات نے فہم کتاب مراد لیا ہے اور بعض نے حکمت اب رہا یہ سوال کہ صرف تین سال کی عمر میں فہم کتاب اور علم حکمت کی باتیں کس طرح ممکن ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصلاّ نبوت کا معاملہ ہی خرق عادت کے طور پر ہے لہٰذا صغر سنی، نبوت اور فہم کتاب کے لئے مانع نہ ہوگی، اور ہم نے ان کو اپنے والدین کے لئے اور دیگر لوگوں کے لئے مشفق اور رقیق القلب بنایا اور یہ سب کچھ ہمارے خصوصی فضل سے ہوا اور ہم نے اس کو نفس کی آلائشوں اور گناہوں کی نجاستوں سے پاکیزگی اور طہارت عطا فرمائی، اور وہ اپنے والدین کا فرمانبردار اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا تھا اور نہ تو وہ لوگوں کے لئے جبار اور متکبر تھا اور نہ اپنے پروردگار کا نافرمان وہ متقی اور صالح شخص تھا، حتی کہ اس کے پاکیزہ قلب میں معصیت اور نافرمانی کے وہم کا بھی گذر نہیں ہوا، تین مواقع انسان کے لئے سخت وحشتناک ہوتے ہیں (1) جب انسان رحم مادر سے باہر آتا ہے (2) جب موت کا شکنجہ اسے اپنی گرفت میں لیتا ہے (3) جب اپنی قبر سے زندہ کر کے اٹھا یا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان تینوں موقعوں میں ہماری طرف سے اس کے لئے سلامتی اور امان ہے بعض اہل بدعت اس آیت سے عید میلاد کا جواز ثابت کرتے ہیں اگر بالفرض اس آیت سے عید میلاد ثابت ہوتی ہے تو پھر عید وفات بھی ثابت ہوتی ہے یہ کیسی بات ہے کہ آیت کے ایک جز پر تو عمل کریں اور دوسرے جز کو نظر انداز کردیں اَفَتُو ْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الکِتابِ وتکفُرُوْنَ بِبَعْض۔
فائدہ : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بشارت کا ظہور بشارت کے تیرہ سال بعد ہوا تھا، اس لئے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے پاس جو کہ ابھی بچی تھیں اور حضرت زکریا (علیہ السلام) کی پرورش میں تھیں، بےموسمی پھل دیکھے تو ان کو ہمت ہوئی کہ اگرچہ ہمارے اولاد ہونے کا موسم اور زمانہ ختم ہوگیا ہے مگر خدا کی قدرت سے بعید نہیں کہ مجھے بھی بےموسم لڑکا عطا فرمادے چناچہ بارگاہ خداوندی میں دعا کی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت دی، حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے چھ ماہ چھوٹے ہیں۔
Ayahs 19:16–25آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں مریم کا یعنی ان کے واقعہ کا ذکر کیجئے جب کہ وہ اپنے اہل خانہ سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو شرقی جانب تھا چلی گئیں یعنی دار (بیت المقدس) کے مشرقی جانب کسی جگہ تنہائی میں چلی گئیں اور اہل خانہ کی جانب سے پردہ ڈال لیا، یعنی پردہ لٹکا لیا تاکہ آڑ ہوسکے (اور) اپنے سریا کپڑوں میں جوں دیکھ سکے یا حیض سے طہارت کے لئے غسل کرسکے تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا تو وہ ان کے سامنے کپڑے پہننے کے بعد مکمل مرد بن کر نمودار ہوا حضرت مریم کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ طلب کرتی ہوں اگر تجھے کچھ بھی خوف خدا ہے تو تو یہاں سے میرے پناہ طلب کی وجہ سے ہٹ جائے گا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے جواب دیا میں تیرے رب کا قاصد ہوں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں اور اس کی پاکیزگی نبوت کی وجہ سے ہے تو حضرت مریم (علیہ السلام) کہنے لگیں بھلا میرے بچہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ مجھے کسی بشر نے ہاتھ تک نہیں لگایا نکاح کر کے اور نہ میں بدکار زانیہ ہوں فرشتہ نے کہا امر تو ایسا ہی ہے کہ تجھ سے باپ کے بغیر لڑکا پیدا ہو تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ یہ میرے لئے بہت آسان ہے اس طریقہ پر کہ جبرائیل تجھ میں میرے حکم سے پھونک ماردیں گے پھر تو اس کی وجہ سے حاملہ ہوجائے گی، مذکور (یعنی ھو علیّ ھیّن) چونکہ علت کے معنی میں ہے لہٰذا اس پر لِنَجْعَلَہ کا عطف کیا گیا ہے اور تاکہ اس کو میں اپنی قدرت پر لوگوں کے لئے نشانی بناؤں اس شخص کے لئے جو ہماری کمال قدرت پر یقین رکھتا ہو اور اس (ولد) کی تخلیق طے شدہ بات ہے میرے علم میں، چناچہ حضرت جبرائیل نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی قمیص کے گریبان میں پھونک مار دی چناچہ حضرت مریم (علیہ السلام) نے اپنے پیٹ میں (حمل) متشکل محسوس کیا چناچہ حضرت مریم (علیہ السلام) فرزند سے حاملہ ہوگئیں اور اسی وجہ سے یکسو ہو کر اپنے اہل خانہ سے دور ایک مقام پر چلی گئیں پھر دردزہ اس کو ایک کھجور کے تنے کے پاس لے آیا تاکہ اس سے ٹیک لگائے پھر اس نے (بچہ) جنا اور یہ حمل اور تشکل اور ولادت (سب کچھ) ایک ساعت میں ہوگیا کہنے لگیں کاش میں اس واقعہ سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور میں ایسی بھولی بسری متروک شئ ہوگئی ہوتی کہ نہ کوئی مجھے پہچانتا اور نہ میرا تذکرہ کرتا اتنے میں اسے نیچے کی جانب سے جبرائیل (علیہ السلام) نے جو کہ مریم سے بائیں جانب تھے آواز دی کہ تو آزردہ خاطر نہ ہو تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے یعنی ایسی نہر کو (جاری کردیا) جس کا پانی خشک ہوگیا تھا اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا حالانکہ وہ درخت خوشک تھا بجذع میں باء زائدہ ہے تیرے سامنے تروتازہ پکی کھجوریں گرادے گا رَطَبًا تمیز ہے اور جَنِیّا اس کی صفت ہے تَسَّاقَطَ اس کی اصل دو تاؤں کے ساتھ ہے دوسری تاسین سے بدل دی گئی اور سین کو سین میں ادغام کردیا گیا اور ایک قرأۃ میں ترک تا کے ساتھ بھی ہے۔ (ای تساقَطٌ)
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
قولہ واذکر فی الکتاب مریم اس کا عطف کلام سابق کے مضمون پر ہے تقدیر عبارت یہ ہے اعلم ذکر رحمۃِ ربِّکَ عبدہٗ زکریا واذکر فی الکتاب مریم قص تھا اذکر فی الکتاب مریم ای قصتہ مریم مضاف محذوف ہے مریَمْ بمعنی عابدہ، زاہدہ، اور خادمۃ الرب کے ہیں الکتاب میں الف لام عہد کا ہے مراد قرآن کریم ہے قولہ اِذ انتبذت مضاف محذوف کا ظرف ہے جس کو مفسر علام نے خبرھا کہہ کر ظاہر کردیا مریم سے بدل الکل یا بدل الاشتمال بھی ہوسکتا ہے (مظہری) قولہ مکاناً شرقیاً موصوف صفت سے ملکر یا تو انتبذت کا ظرف ہے یا اس کا مفعول بہ ہے اس لئے کہ انتبذت اَتَتْ کے معنی کو مشتمل ہے ای اَتَتْ مکاناً اِنْتَبَذَتْ ای ابتعدت وتنحت ایک طرف ہونا بعید ہونا قولہ بعد لبسِھَا ثیابًا یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ جس گھر میں عورت کھلے سر ہو اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے تو مریم اس جگہ برہنہ تھیں، کیسے داخل ہوگئے جواب دَخَلَ بعد لبسھا قولہ لتفلِیْ مضارع واحد مؤنث غائب، تاکہ وہ جوں دیکھے قولہ روحَنَا ای جبرائیل قولہ لَمْ اَکُ بَغیًا بغیۃ نہیں فرمایا حالانکہ موقع بغیۃ کا تھا اس لئے کہ یہ صفت عام طور پر عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے تو یہ حائض اور عاقر کے قبیل سے ہونے کی وجہ سے تا کی ضرورت نہیں ہے قولہ قال ربک ھو علَیَّ ھَیِّنٌ قال کذلک کی علت کے قائم مقام ہے، یعنی اسی طرح ہوگا، اس لئے کہ یہ ہمارے لئے آسان ہے، دراصل یہ ایک اعتراض کا جواب ہے، اعتراج یہ ہے کہ یہاں جملہ تعلیلیہ کا عطف غیر تعلیلیہ پر ہو رہا ہے جو جائز نہیں ہے، جواب یہ ہے کہ معطوف علیہ بھی جملہ تعلیلیہ ہے لہٰذا لنجعلہ آیۃ للناس کا اس پر عطف درست ہوگا، قولہ رحمۃ کا عطف آیۃ پر ہے قولہ المخاض دردزہ (س) قولہ فتنتھی محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ اِنْ کنتَ تقیَّا کا جواب شرط فتنتھی محذوف ہے قولہ بتزوجٍ مفسر علام نے بتزوجٍ کا اضافہ کر کے ایک سوال کا جواب دیا ہے، سوال جواب دیا ہے، سوال یہ ہے کہ لَمْ یَمْسَسْنِیْ یہ عدم جماع سے کنایہ ہے لہٰذا یہ جماع حلال اور حرام دونوں کو شامل ہے اس صورت میں لَمْ اَکُ بغیاً کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔
جواب : کا خلاصہ یہ ہے کہ عرف میں مس وطی حلال ہی کو شامل ہے وطی حرام عرفاً اس سے خارج ہے وطی حرام اور حلال دونوں کی نفی کرنے کے لئے لمْ اکُ بَغِیَّا کا اضافہ فرمایا قولہ اَجَاءَھَا کی تفسیر جاءَ بھَا سے کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ جاء اور اجاء دونوں ایک ہی معنی میں ہیں یعنی دونوں متعدی بیک مفعول ہیں بظاہر یہ شبہ تھا کہ جب جاء کے شروع میں ہمزہ کا اضافہ کردیا تو شاید متعدی بدو مفعول ہوگیا ہو اس شبہ کو مفسر علام نے اَجَاءَھَا کی تفسیر جاءَبِھا سے کر کے دفع کردیا، دوسرا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اجاءَ اَلْجَاَ کے معنی میں ہے اور جب استعمال بدل گیا تو متعدی بیک مفعول ہوگیا۔ (جمل)
تفسیر وتشریح
وَاذْکرُ فی الکتاب مریم اس سورة میں مذکور قصوں میں سے یہ دوسرا واقعہ ہے، اے محمد ﷺ آپ قرآن کے اس حصہ میں حضرت مریم کا قصہ بھی ذکر کیجئے یہ قصہ حضرت یحییٰ علیہ السلالم کی ولادت کے قصہ سے بھی زیادہ عجیب ہے اس لئے بغیر مرد کے بچہ پیدا ہونا، بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا لوگوں کے لئے عجیب ضرور ہے مگر بغیر شوہر کے بچہ کی پیدا ئش ہماری کمال قدرت پر اس سے بھی زیادہ دلالت کرنے والا ہے، اور یہ قصہ اس وقت واقع ہوا جب کہ وہ گھر سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو کہ مشرق کی جانب تھا چلی گئیں یہ تنہائی یا تو غسل حیض کے لئے تھی یا عبادت میں یکسوئی کے لئے تاکہ گوشہ تنہائی میں یکسوئی اور دل جمعی کے ساتھ خدا کی بندگی کرسکیں، لوگوں کی نظر پڑنے سے بچنے کے لئے ایک پردہ بھی ڈال لیا تاکہ اس کی آڑ میں غسل کرسکیں اور اپنے سر وغیرہ میں جوئیں دیکھ سکیں تو اس حالت میں ہم نے ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ان کے سامنے نہایت حسین و جمیل امر جوان کی شکل میں ظاہر ہوئے اور ابو مسلم نے کہا ہے کہ روحنا سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں، لقولہ تعالیٰ وَرُوْحٌ مِّنْہٗ (روح المعانی)
کیا عورت نبی ہوسکتی ہے ؟ علماء اور مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ حضرت مریم نبیہ تھیں یا نہیں، یا عورت نبی ہوسکتی ہے یا نہیں،
بعض حضرات اسی آیت سے عورت کے نبی ہونے پر استدلال کرتے ہیں، علماء جمہور فرماتے ہیں کہ مطلق وحی تو عورت کی جانب بھی آسکتی ہے البتہ وحی رسالت مردوں کے ساتھ خاص ہے حضرت مریم (علیہ السلام) کی طرف جو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ وحی بھیجی تھی وہ وحی بشارت تھی نہ کہ وحی رسالت۔
جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ایک خوبصورت اور رعنا امرد نوجوان کی شکل میں حضرت مریم کے سامنے ظاہر ہوئے تو وہ گھبرا گئیں، گھبرا کے کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے ذرا بھی خوف خدا ہے تو تو یہاں سے ہٹ جا اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں کہ اگر تو متقی نہیں ہے تو میں تجھ سے پناہ نہیں مانگتی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ متقی ہونے کی صورت میں پناہ طلب کی تو غیر متقی ہونے کی صورت میں تو بطریق اولیٰ پناہ طلب کرتی ہوں، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ جبرائیل امین نے جب یہ کلمہ سنا تو اللہ کے نام کی تعظیم کے لئے کچھ پیچھے ہٹ گئے، اور کہا میں بشر نہیں ہوں کہ تم مجھ سے ڈرتی ہو، بلکہ میں تو تمہارے رب کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں میں اس لئے آیا ہوں کہ تم کو باذن خدا ایک پاکیزہ بچہ دوں لِاَھَبَ میں ہبہ کی نسبت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنی طرف کی ہے یہ نسبت مجازی ہے اور اضافت الشی ٔ الی السبب کے قبیل سے ہے چونکہ اعطاء ولد کا ظاہری سبب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھے اس لئے اپنی جانب نسبت کردی ورنہ درحقیقت اعطاء ولد اللہ کا فعل ہے، یا حکایت حال کے طور پر جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنی طرف نسبت کردی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ مریم سے کہہ دو کہ میں تم کو ایک پاکیزہ فرزند دینے والا ہوں، بعض قراءتوں میں لِاَھَبَ کے بجائے لِیَھَبَ ہے اس صورت میں کوئی اشکال ہی نہیں ہے اس لئے کہ اس قرأ ت کے مطابق اعطاء ولد کی نسبت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے بعض حضرات لِاَھَبَ سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول بخش اور پیر بخش وغیرہ نام رکھنا درست ہے یہ نہایت نادانی اور نادانی اور ناسمجھی کی بات ہے۔
قال کذٰلک الخ فرشتہ نے جواب دیا یہ بات صحیح ہے کہ تجھے مرد سے مقاربت کا کوئی موقع نہیں ملا ہے نہ جائز طریقہ سے اور نہ ناجائز طریقہ سے، جب کہ حمل کے لئے عادتاً یہ ضروری ہے، مگر تیرے رب کا فرمان ہے کہ میں اسباب عادیہ کا محتاج نہیں ہوں میرے لئے یہ بالکل آسان ہے اور میں اسے (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو) اپنی قدرت تخلیق کے لئے ایک نشانی اور لوگوں کے لئے رحمت بنانا چاہتا ہوں اس سے قبل ہم نے تمہارے دادا آدم (علیہ السلام) کو مرد اور عورت کے بغیر اور تمہاری دادی حوا کو صرف مرد سے عورت کے بغیر پیدا کیا اور اب عیسیٰ (علیہ السلام) کو چوتھی شکل یعنی بغیر باپ کے محض بطن مادر سے پیدا کر کے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم تخلیق کی چاروں قسموں پر قادر ہیں اسی طرح ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کر کے لوگوں کے لئے اپنی رحمت کی نشانی بھی بنانا چاہتے ہیں کیونکہ نبی اپنی امت کے لئے رحمت ہوتا ہے۔
وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیَّا یہ کلام سابق کا تتمہ ہے یعنی یہ اعجازی تخلیق تو اللہ کے علم اور اس کی قدرت میں مقدر ہوچکی ہے اس میں تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا، اس گفتگو کے بعد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے مریم کے گریبان یا منہ میں پھونک مار دی جس کے نیتجے میں حضرت مریم کو حمل رہ گیا پھر حضرت مریم (علیہ السلام) اس حمل کو لئے ہوئے شرم کے مارے اپنے گھر والوں سے کہیں دور مقام پر چلی گئیں، اور اس خیال سے کہ بچہ کے معاملہ میں لوگوں کو کس طرح مطمئن کرسکوں گی جب کہ میری بات کی تصدیق کرنے کے لئے کوئی تیار ہی نہیں ہوگا اور ساتھ ہی یہ تصور بھی روح فرسا تھا کہ کہاں میری شہرت ایک عابدہ اور زاہدہ کے طور پر اور اس کے بعد لوگوں کی نظر میں بدکار ٹھہروں گی، اس خیال سے مغلوب الحال ہو کر موت کی آرزو کر ڈالی۔
تمنائے موت کا حکم : اگر یہ تمنائے موت غم دنیا سے تھی تب تو غلبہ حال کو اس کا عذر کہا جائے گا جس میں انسان من کل الوجوہ مکلّف نہیں رہتا، اور اگر غم دین سے تھا کہ لوگ بدنام کریں گے اور شاید مجھ سے اس پر صبر نہ ہوسکے تو بےصبر کی معصیت میں ابتلاء ہوگا موت کے ذریعہ معصیت سے حفاظت رہے گی تو ایسی تمنا ممنوع نہیں ہے۔
جب حضرت مریم (علیہا السلام) غلبہ حال کی وجہ سے موت کی تمنا کر رہی تھیں تو زیریں جانب سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل نے پکار کر کہا کہ اے مریم تو بےسروسامانی یا خوف بدنامی کی وجہ سے مغموم مت ہو کیونکہ بےسروسامانی کا تو یہ انتظام ہوگیا ہے کہ تمہارے رب نے تمہارے پائیں (زیریں جانب) ایک نہر پیدا فرما دی ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنا پیر زمین پر مارا جس کی وجہ سے شیریں پانی کا ایک چشمہ جاری ہوگیا، اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ تم اس کھجور کے تنے کو ہلاؤ یہ تیرے سامنے پکی تروتازہ کھجوریں گرائے گا یعنی خرق عادت اور کرامت کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے پائیں جانب پینے کے لئے پانی اور کھانے کے لئے ایک سوکھے ہوئے کھجور کے درخت سے پکی اور تازہ کھجوروں کا انتظام فرما دیا۔
البلاغۃ : ولم یمسَسْنی بشَرً کنایۃ عن المعاشرۃ الزوجیہ بالجماع۔