19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 19:26–40

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اس (بچے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تو نے برا کام کیا

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بد اطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں ؟

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

(بچے نے کہا) میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام و رحمت ہے

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ٰ ہیں (اور یہ) سچ بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک خدا ہی میرا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا سو جو لوگ کافر ہوئے ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

اور وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا

آیت نمبر 26 تا 40 ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ رکھ لیا ہے اور سکوت کا روزہ رکھنے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول فَلَنْ اُکِلِّمَ الیَوْمَ اِنْسِیًّا ہے یعنی میں یہ خبر دینے کے بعد کسی انسان سے کلام نہ کروں گی تو اس بچہ کو لئے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں تَحْمِلُہٗ ، اَتَتْ کی ضمیر سے حال ہے جب قوم نے بچہ کو دیکھا تو کہا اے مریم تو نے تو بڑا غضب کردیا کہ بغیر باپ کے بچہ کو جنم دیا اے ہارون کی بہن وہ تو ایک صالح شخص تھا اور تو عفت میں اس جیسی ہے تیرا باپ (تو) بدکار زانی شخص نہیں تھا اور نہ تیری ماں بدکارہ زانیہ تھی تو پھر تیرے یہ بچہ کیسے پیدا ہوا، تو حضرت مریم (علیہ السلام) نے ان کے لئے بچہ کی طرف اشارہ کردیا کہ اس سے معلوم کرو، تو کہنے لگے ہم گود کے بچہ سے کیونکر بات کریں تو وہ بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب انجیل دی اور مجھے نبی بنایا اور اس نے مجھے بابرکت یعنی لوگوں کے لئے نفع رساں بنایا ہے میں جہاں کہیں بھی رہوں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں جو مقدر ہوچکا ہے یہ اس کی خبر ہے اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کا تاکیدی حکم فرمایا ہے اوصانی بمعنی امرنی ہے جب تک میں زندہ رہوں اور مجھے اپنی والدہ کا خدمت گذار بنایا ہے بَرًّا جعَلَنِیْ مقدر کی وجہ سے منصوب ہے اور مجھے سرکش متکبر اور بدبخت اپنے رب کا نافرمان نہیں بنایا اور اللہ کا میرے اوپر سلام ہو جس دن میں پیدا ہوا اور جس روز میں مروں گا اور جس روز میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا ان تینوں مقامات کی تفسیر میں وہی بات کہی جائے گی جو حضرت سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہی گئی تھی یہ ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم قول ابن مریم قول حق ہے جس کے بارے میں لوگ شک کر رہے ہیں قول اگر رفع کے ساتھ ہوگا تو مبتداء محذوف کی خبر ہوگا ای قول ابن مریم قول الحقَِّ اور اگر قول پر نصب ہو تو اس صورت میں قلت فعل مقدر ہوگا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا، اور (قول الحق کے معنی) القول الحق ہوں گے (یعنی اضافت موصوف الی الصفت کے قبیل سے ہے) یمترون مِرْیَۃ ٌ سے مشتق ہے اور یمترون کے معنی یبشُکُون کے ہیں (اور یہ شک کرنے والے) نصاریٰ ہیں جنہوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں جو بالکل جھوٹ ہے اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ (کسی کو) اولاد بنائے وہ اولاد رکھنے سے بالکل پاک ذات ہے اس کی پاکی بیان کرتا ہوں وہ تو جب کسی کے کرنے (پیدا کرنے کا) ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے یکون کا اگر رفع پڑھیں تو رفع ھُوَ کی تقدیر کی وجہ سے ہوگا اور اگر نصب پڑھیں تو اَن کی تقدیر کی وجہ سے ہوگا اور اسی (کُنْ فَیَکُوْنُ ) کے قبیل سے بغیر باپ کے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی ہے، بلاشبہ میرا اور تمہارا پروردگار صرف اللہ ہے سو اسی کی عبادت کرو اگر اَنَّ فتح کے ساتھ ہو تو اَنَّ سے پہلے اذکر مقدر ہوگا اور اگر ان کسرہ کے ساتھ ہو تو اِنَّ سے پہلے قُلْ مقدر ماننا ہوگا اور قُلْ مقدر ماننے کی دلیل خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول ہے مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلاَّ مَا اَمَرْتَنِیْ بِہٖ یہ مذکور صراط مستقیم ہے جو جنت تک پہنچانے والی ہے پھر یہ فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگے یعنی نصاریٰ کے (ایک فریق) نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہا کہ وہ ابن اللہ ہے اور (دوسرے فریق) نے کہا کہ وہ خدا کے ساتھ دوسرا خدا ہے (اور تیسرے) نے کہا کہ وہ تین میں کا تیسرا ہے پس کافروں کے لئے مذکورہ وغیرہ (عقائد) کی وجہ سے بڑے دن کی حاضری کا سخت عذاب ہے یعنی قیامت کے دن حاضری اور اس دن کی ہولناکی کا، اَسْمِعْ بِھِمْ وَاَبْصِرْبِھِمْ دونوں تعجب کے صیغے ہیں معنی یہ ہیں کیا خوب سننے والے اور کیا خوب دیکھنے والے ہوں گے جس دن آخرت میں ہمارے سامنے حاضر ہوں گے لیکن آج دنیا میں یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو رکھا گیا ہے، مُبِیْن بمعنی بَیّن ہے، اسی گمراہی کی وجہ سے (دنیا میں) حق بات سننے سے بہرے اور حق دیکھنے سے اندھے رہے، یعنی اے مخاطب تو آخرت میں ان کی شنوائی اور بینائی کی تیزی سے تعجب کرے گا حالانکہ یہ لوگ دنیا میں بہرے اندھے تھے اور اے محمد ﷺ آپ مکہ کے کافروں کو حسرت کے دن سے ڈرائیے اور وہ قیامت کا دن ہوگا جس دن بدکار دنیا میں نیکی نہ کرنے پر حسرت کرے گا جبکہ آخری فیصلہ کردیا جائے گا یعنی ان لوگوں کے لئے ان دن عذاب کا فیصلہ کردیا جائے گا حالانکہ یہ لوگ اس دن سے غافل ہیں اور یہ اس دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ہم ہی زمین کے اور جو کچھ اس پر ذوالعقول اور غیر ذوالعقول ہیں وارث ہوں گے ان کو ہلاک کر کے اور اس دن میں جزاء کے لئے ہمارے پاس لوٹائے جائیں گے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد قَرِّیْ بروزن فَرِّی واحد مؤنث حاضر تو ٹھنڈی کر یہ قُرّ سے مشتق ہے اس کے معنی ہیں خنکی عَیْنَا تمییز ہے فاعل سے محول ہے اَیْ لتَقَرَّ عَیْنُک بہٖ رُوْبَۃِ اِرَائۃً سے واحد مؤنث سے واحد مؤنث حاضر بانون تاکید ثقیلہ تو دیکھے فرِیًّا یہ فَرِیٌ فعیل بمعنی مفعول ہے گھڑنا، تراشنا، جلد کاٹنا وقیل معناہ عظیمٌ، عجیبٌ مَنْ کان میں کَان تامہ ہے صَبِیًّا کان کی ضمیر سے حال ہے اور اگر کان ناقصہ ہو تو صَبِیًّا اس کی خبر ہوگی ذٰلکَ عیسیٰ ابنُ مریَمَ قولُ الحقِ ذلِکَ کا مشارٌ الیہ مذکورہ اقرار عبدیت وغیرہ اوصاف کی حامل شخصیت عیسیٰ السلام ہیں ذلِکَ مبتداء عیسیٰ موصوف ابن مریم بترکیب اضافی صفت موصوف صفت سے مل کر ذلِکَ مبتداء کی خبر قَولُ الحقِّ بترکیب اضافی مبتداء محذوف کی خبر ای قولُہٗ قولُ الحقِ ، قولُ الحق میں اضافت موصوف الی الصفت ہے یعنی قول الحقِّ معنی میں القولُ الحقُّ کے ہے، اور اگر قَوْلُ الحق منصوب پڑھا جائے تو اقول فعل محذوف کا مفعول ہوگا دونوں قرأتوں کی صورت میں قَوْلُ الحقِّ اضافت موصوف الی الصفت ہوگی قولہ فی المھد مہد سے مراد گہوارہ بھی ہوسکتا ہے اور اس سے ماں کی گود بھی مراد ہوسکتی ہے یَمْتَرُوْن اِمتراء سے مجرد مریۃ (افتعال) جمع مذکر غائب وہ شک کرتے ہیں اَلَّذِیْ فِیہِ یَمْتَرُوْنَ مبتداء محذوف کی خبر ہے، ای عیسیٰ ابن مریم الذی فیہ یمترون ای یَتَرَدَّدُوْنَ ویَتَحَیَّرُوْنَ ، أن یَّتَّخِذَ بتاویل مصدر ہو کر کان کا اسم ای مَا کان اِتِّخَاذُ الوَلَدِ مِنْ صفتِہٖ بَل ھُوَ مَحَالٌ عن ذٰلِکَ ای عن اِتِّخَاذ الولد، مِنْ ولدٍ میں من زائدہ تاکید کے لئے ہے قولہ مِنْ خَلْقُ عِیسٰی اور کُنْ فَیَکُوْن کے قبیل سے بغیر باپ کے عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق بھی ہے سُبْحَانَہٗ مصدر ہے فعل کو حذف کر کے اس کے قائم مقام کردیا گیا ہے اَیْ اُسَبِّحُہٗ سُبْحَانًا یہ جملہ معترضہ ہے قُل مقدر ماننے کی صورت میں اِنَّ اللہَ رَبِّی وَرَبُّکم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہوگا اور دلیل اس کی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلاَّ مَا اَمَرْتَنِی بِہٖ الخ تقدیر عبارت یہ ہے ھٰذا مِن کلاَم عِیسٰی بدلیلِ مَا قُلْتُ لَھُمْ الخ بہرحال اَنَّ دونوں قرأتوں کی صورت میں اَنَّ اللہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہٗ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے قولہ تَرَیِنَّ اصل میں تَرْأیِیْنَ تھا اس میں را فا کلمہ ہے اور ہمزہ عین کلمہ ہے اور یائے مک سورة لام کلمہ ہے اور دوسری یائے ساکنہ یائے ضمیر ہے اور آخر میں نون اعرابی ہے یائے اولیٰ متحرکہ اپنے ما قبل ہمزہ مفتوحہ ہونے کی وجہ سے الف ہوگئی، اب الف اور یاء ضمیر ساکنہ کے درمیان التقاء ساکنین ہوا تو ہمزہ ساقط ہوگیا نون اعرابی کے جازم کی وجہ سے ساقط ہونے اور نون تاکید ثقیلہ کے داخل ہونے کے بعد التقاء ساکنین ہوا یاء ضمیر اور نون تاکید ثقیلہ کے نون اولیٰ کے ساتھ لہٰذا یاء ضمیر کو کسرہ دے دیا۔ خلاصہ : خلاصہ یہ کہ تَرْأیِیْنَ کی تعلیل میں چھ عمل ہوئے (1) ی کو الف سے بدلا (2) الف کو حذف کیا (3) ہمزہ کی حرکت را کو دی (4) ہمزہ کو حذف کیا (5) ان شرطیہ کی وجہ سے نون اعرابی ساقط ہوا (6) یائے ضمیر کو کسرہ دیا قولہ اَناسِیْ یا تو اِنِسِیِّ کی جمع ہے یا انسان کی، اَناسی اصل میں اناسین تھا نون کو یا کیا اور یا کو یا میں ادغام کردیا اناسی ہوگیا قولہ تحملہ، اتت کی ضمیر سے حال ہے، بہٖ کی ضمیر سے بھی حال ہوسکتا ہے قولہ من مشھد یوم عظیم فویل سے متعلق ہے ای من شھود یومٍ عظیمٍ اس صورت میں مشھد مصدر کے معنی میں ہوگا یا وقت شہود اور مکان شہود کے معنی میں ہوگا اس صورت میں مشھد ظرف زمان ومکان کے معنی میں ہوگا قولہ لکِن الظّٰلِمون مشرکین کی قباحت وشناعت کو بیان کرنے کے لئے اسم ضمیر لکنَھُمْ کے بجائے اسم ظاہر ظالمون فرمایا تاکہ ان کے اعمال قبیحہ شنیعہ پر دلالت ہوجائے۔ تفسیری فوائد : قولہ ای بعد ذلک اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس اعتراض کا جواب ہے کہ کلام میں تناقض ہے اس لئے کہ اوپر کہا گیا ہے انی نذرت للرحمٰن صومًا اس جملہ سے کلام نہ کرنے کی نذر ہوگئی اس کے بعد حضرت مریم (علیہ السلام) نے کہا فلم اکلم الیوم انسیًّا یہ کلام ہے، جواب یہ ہے کہ میں اس کے بعد کسی سے کلام نہ کروں گی، کان کی تفسیر وَجَدَ سے کر کے اشارہ کردیا کہ کان تامہ ہے اور کان زائدہ بھی ہوسکتا ہے، اور صَبِیًّا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای کیف نکلم مَن فی المھد حال صباہ قولہ اخبارًا بما کتب لہ سے جعلنی کی تفسیر کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جعلنی گو ماضی کا صیغہ ہے مگر مراد استقبال ہے۔ تفسیر وتشریح فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ الخ یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ حضرت مریم کی تسلی کے اسباب ذکر کرنے کے وقت تو پہلے پانی کا ذکر فرمایا پھر کھانے کی چیز کھجور کا، اور جب استعمال کا ذکر آیا تو ترتیب بدل کر پہلے کھانے کا حکم فرمایا پھر پانی پینے کا یعنی کلی واشربی فرمایا، وجہ غالباً یہ ہے کہ انسان کی فطری عادت ہے کہ پانی کا اہتمام کھانے سے پہلے کرتا ہے مگر استعمال کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ پہلے غذا کھاتا ہے پھر پانی پیتا ہے۔ (روح المعانی) اللہ تعالیٰ نے بطور کرامت اور خرق عادت حضرت مریم (علیہ السلام) کے پاؤں تلے پینے کے لئے پانی کا اور کھانے کے لئے ایک سوکھے ہوئے درخت سے پکی تازہ کھجوروں کا انتظام فرما دیا، ندا دینے والے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھے جنہوں نے وادی کے نیچے سے آواز دی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سَرِی کے معنی سردار کے ہیں اور سردار سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور انہی نے نیچے سے حضرت مریم (علیہ السلام) کو آواز دی تھی، یعنی کھجور کھا اور چشمہ کا پانی پی (چشمہ کا پانی اور تازہ کھجوریں زچہ کے لئے طبی اعتبار سے نہایت مفید غذا ہے) اور بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر قَرِّی قَرٌّ سے مشتق ہے بمعنی ٹھنڈک کرنا اور آنکھوں کو ٹھنڈا کرنا یہ کنایہ ہے خوش ہونے سے اس لئے کہ رنج وغم اور دکھ تکلیف کی وجہ سے جو آنسو نکلتے ہیں وہ گرم ہوتے ہیں اور خوشی ومسرت کے وقت جو آنسو نکلتے ہیں وہ ٹھنڈے ہوتے ہیں، لہٰذا آنکھوں کو ٹھنڈا کرنا یہ کنایہ ہے خوش ہونے سے جیسا کہ باکرہ سے اگر باپ نکاح کی اجازت طلب کرے اور لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آجائیں تو فقہاء فرماتے ہیں کہ روز خوشی اور رنج دونوں وجہ سے ہوسکتا ہے لہٰذا دیکھا جائے کہ اگر آنسو ٹھنڈے ہیں تو وہ خوشی کے ہیں اور اجازت پر دلالت کرتے ہیں اور اگر گرم ہیں تو یہ رنج وغم کی وجہ سے ہیں جو عدم اجازت پر دلالت کرتے ہیں۔ یا اخت ہارون سے کیا مراد ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون مراد نہیں ہوسکتے اس لئے کہ ان کا زمانہ حضرت مریم (علیہ السلام) سے سینکڑوں سال پہلے ہے یہ بات اس حدیث سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو نجران کے نصاریٰ کے پاس بھیجا تھا تو انہوں نے سوال کیا تھا کہ تمہارے قرآن میں حضرت مریم کو اخت ہارون کہا گیا ہے حالانکہ ہارون (علیہ السلام) ان سے صدیوں پہلے گذرے ہیں چونکہ حضرت مغیرہ ؓ کو اس کا جواب معلوم نہیں تھا اس لئے خاموش رہے، واپسی پر آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ان سے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ اہل ایمان کی عادت یہ ہے کہ تبرکا انبیاء کے ناموں پر نام رکھتے ہیں اور ان کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ (رواہ احمد ومسلم والترمذی والنسائی) اس حدیث کے مطلب میں دو احتمال ہیں (1) حضرت مریم (علیہ السلام) کی نسبت اس لئے کردی گئی ہے کہ وہ ان کی نسل سے تھیں اگرچہ زمانہ کتنا ہی بعید کیوں نہ گذر گیا ہو جیسا کہ عرب کی عادت ہے کہ تمیم کے قبیلہ کے آدمی کو اخاتمیم کہتے ہیں، اور عرب کے آدمی کو اخاعرب کہتے ہیں (2) یہ کہ یہاں ہارون (علیہ السلام) سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی مراد نہیں ہیں بلکہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے اپنے بھائی کا نام ہارون تھا اسی وجہ سے حضرت مریم (علیہ السلام) کو اخت ہارون کہا اس وقت معنی حقیقی مراد ہوں گے اور ایک تیسرا احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہارون نام کا کوئی نہایت ہی نیک اور صالح شخص ہو اور حضرت مریم (علیہ السلام) تو عابدہ زاہدہ نیکی میں مشہور و معروف تھیں ہی ایسی صورت میں اخت ہارون کہنا تشبیہ کے طور پر ہوگا کہ تو تو زہد و عبادت میں ہارون کے مثل ہے تو نے یہ کیا حرکت کر ڈالی، مفسر علام نے یہی تیسرے معنی مراد لئے ہیں۔ مَا کَانَ اَبُوکِ امْرَأ سَوْءٍ نہ تو تیرا باپ عمران برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں حنَّہ بدکار تھی تو کہاں سے ایسی پیدا ہوگئی، قرآن کے ان الفاظ سے اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ جو شخص اولیاء اللہ اور صالحین کی اولاد سے ہو پھر وہ کوئی برا کام کرتا ہے تو عام لوگوں کی بہ نسبت اس کو زیادہ برا سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے اس کے بڑوں کی بدنامی اور رسوائی ہوتی ہے، اس لئے صالحین کی اولاد کو اعمال صالحہ اور تقویٰ کی زیادہ فکر رکھنی چاہیے۔ حضرت مریم (علیہ السلام) نے بچہ کی طرف اشارہ کردیا کہ جو کچھ معلوم کرنا ہے اس سے معلوم کرو جھنجھلا کر کہنے لگے بھلا ہم گود کے بچہ سے کیسے باتیں کریں، چناچہ شیر خوار ایک دن کا یا چالیس دن کا بچہ بول اٹھا اِنِّی عبدُ اللہِ الخ ایک روایت میں ہے کہ جس وقت خاندان کے لوگوں نے حضرت مریم (علیہ السلام) کو ملامت کرنی شروع کی تو اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی ماں کا دودھ پی رہے تھے جب انہوں نے اہل خاندان کی ملامت کو سنا تو دودھ چھوڑ دیا اور اپنی کروٹ پر سہارا لے کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انگشت شہادت سے اشارہ کرتے ہوئے یہ الفاظ فرمائے اِنّی عبدُ اللہ الخ یعنی میں اللہ کا بندہ ہوں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے ہی کلمہ میں اس غلط فہمی کا ازالہ کردیا کہ اگرچہ میری پیدائش معجزانہ انداز سے ہوتی ہے مگر میں خدا نہیں خدا کا بندہ ہوں تاکہ لوگ میری بندگی میں مبتلا نہ ہوجائیں جیسا کہ نصاریٰ کی ایک جماعت مبتلا ہوگئی، یَوْمَ یُبْعَثُ تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے آتٰنِیَ الکتاب وجَعَلَنِی نَبِیًّا ان الفاظ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی شیر خوارگی کے زمانہ میں اللہ کی طرف سے نبوت اور کتاب ملنے کی خبر دی، حالانکہ کسی نبی کو چالیس سال کی عمر سے پہلے نبوت نہیں ملی، اس لئے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرما دیا ہے کہ مجھے اپنے وقت پر نبوت اور کتاب عطا فرمائیں گے اور بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے نبوت اس وقت دی گئی تھی جب کہ آدم (علیہ السلام) ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ ﷺ سے اعطاء نبوت کا وعدہ قطعی اور حتمی تھا اسی حتمی وعدہ کو ماضی سے تعبیر کردیا گیا۔ او صانی بالصلوٰۃ والزَّکٰوۃِ جب کسی حکم کو زیادہ تاکید کے ساتھ کرنا مقصود ہوتا ہے تو اس کو لفظ وصیت سے تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس موقعہ پر فرمایا نماز اور زکوٰۃ ایسی عبادتیں ہیں کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ تک ہر نبی کی امت پر فرض رہی ہیں البتہ ہر نبی اور رسول کی شریعت میں ان کی تفصیلات اور جزئیات مختلف رہی ہیں رہا عیسیٰ (علیہ السلام) پر زکوٰۃ کی فرضیت کا مسئلہ تو یہ حکم بھی نماز کی طرح عام ہے مگر جب کہ مال ہو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کبھی مال کے مالک نہیں ہوئے حتی کہ آپ نے نہ مکان بنایا اور نہ شادی کی۔ مَا دُمْتُ حیًّا حیات سے مراد زمینی حیات ہے کیونکہ یہ اعمال اسی زمین پر ہوسکتے ہیں، آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد سے نزول کے زمانہ تک رخصت کا زمانہ ہے (روح) بَرَّا بِوَالِدَتِی اس جگہ صرف والدہ کا ذکر کیا والدین نہیں کہا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میرا وجود معجزانہ طور پر والد کے بغیر ہوا ہے اور بچپن کا یہ معجزانہ کلام اس کے لئے کافی شہادت ہے، ورنہ تو حضرت یحییٰ کی طرح برًا بوالدیہ کہتے۔ ذٰلِکَ عیسیٰ ابن مَرْیمَ یہاں سے اللہ تعالیٰ کا کلام شروع ہے، سابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام تھا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق یہود و نصاریٰ کے بیہودہ خیالات میں افراط وتفریط کا یہ عالم تھا کہ نصاریٰ نے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعظیم میں اتنا غلو کیا کہ ان کو خدا یا خدا کا بیٹا بنادیا، اور یہود نے ان کی یہاں تک تذلیل و توہین کی کہ ان کو ولد الزنا یوسف نجار کا بیٹا کہہ دیا حق تعالیٰ نے دونوں فریقوں کی غلطی واضح کر کے صحیح حقیقت ان آیات میں بتادی۔ البلاغۃ : صیغۃ التعجب أسمَعُ ، وأبصَرْ ۔
Ayahs 19:41–50

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں ؟

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو میرے ساتھ ہوجائیے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلادوں گا

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابا شیطان کی پرستش نہ کیجیے بیشک شیطان خدا کا نافرمان ہے

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے ؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

(ابراہیم نے) سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق) کو یعقوب بخشے اور سب کو پیغمبر بنایا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : آپ کفار مکہ کو کتاب میں مذکور ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ سنائیے یعنی اس کی خبر بیان کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے یعنی نہایت سچے نبی تھے اور اِذ قال لابیہ خبْرَہ سے بدل ہے (یعنی اس وقت کا قصہ بیان کیجئے) جب انہوں نے اپنے والد آزر سے عرض کیا تھا یَا اَبَتِ اے ابا جان، تایائے اضافت کے عوض میں ہے (عوض اور معوض) دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اور آزر بت پرستی کرتا تھا آپ ان (بتوں) کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہیں ؟ جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں یعنی نہ کفایت کرسکیں، نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان کو دفع کرسکیں اے میرے مہربان باپ میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا لہٰذا آپ میری بات مانیں میں آپ کو صراط مستقیم یعنی سیدھا راستہ دکھاؤں گا اے ابا جان آپ شیطان کی پرستش نہ کریں بت پرستی میں اس کی اطاعت کر کے بیشک شیطان تو (حضرت) رحمان کا بڑا ہی نافرمان ہے یعنی بکثرت نافرمانی کرنے والا ہے اے ابا جان مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں آپ پر عذاب الٰہی نہ آپڑے کہ کہیں آپ شیطان کے ساتھی نہ بن جائیں، یعنی معاون اور جہنم میں ساتھی نہ بن جائیں (یہ سن کر) باپ نے جواب دیا اے ابراہیم کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے ؟ جس کی وجہ تو ان پر نکتہ چینی کرتا ہے (کان کھول کر سن لے) اگر تو ان کی چھیڑ چھاڑ سے باز نہ آیا تو میں تجھ کو پتھروں سے کچل دوں گا یا تیرے ساتھ گالی گلوچ سے پیش آؤں گا جا ایک طویل زمانہ تک مجھ سے دور رہ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اچھا تو میرا سلام لو یعنی میں آپ کو تکلیف پہنچانا نہیں چاہتا میں اپنے رب سے آپ کی مغفرت کے لئے درخواست کروں گا، بلاشبہ وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے حَفِیَّا، حَفِی سے مشتق ہے اس کے معنی ہیں احسان کرنے والا، لہٰذا وہ میری درخواست کو شرف قبولیت بخشے گا، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے اس وعدہ کو اپنے اس قول سے پورا فرمایا جو سورة شعراء میں مذکور ہے واغفِرْ لِاَبِیْ اور یہ دعاء کرنا اس وقت کی بات ہے جب تک یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ وہ دشمن خدا ہے، جیسا کہ سورة برأۃ میں مذکور ہے میں تو تم سے بھی اور ان (بتوں) سے بھی کنارہ کشی اختیار کر رہا ہوں جن کی تم خدا کو چھوڑ کر بندگی کرتے ہو میں تو اپنے رب کی بندگی کرتا رہوں گا مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی کر کے محروم نہ رہوں گا جیسا کہ تم بتوں کی بندگی کر کے محروم رہے ہو چناچہ جب ابراہیم (علیہ السلام) ان کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ کر علیحدہ ہوگئے تو ہم نے ان کو دو بیٹے جن سے وہ انس حاصل کرے اسحٰق اور یعقوب عطا کئے اور ان کو نبی بنایا اور ہم نے ان تینوں کو اپنی رحمت سے مال واولاد عطا کی اور ہم نے ان کو اعلیٰ درجہ کا ذکر جمیل عطا کیا اور وہ تمام اہل ادیان میں ان کی اچھی تعریف ہے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد واذکر فی الکتاب ابراھیم کا عطف واذکر فی الکتاب مریم پر ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا عطف وانذرھم یوم الحسرۃ پر ہو، قولہ خبرہٗ کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ابراہیم کے پہلے مضاف محذوف ہے اس لئے کہ خبر احوال کی ہوتی ہے نہ کہ ذات کی قولہ صِدِّیْقًا مبالغہ کا صیغہ ہے بہت راست گو، نبی اور صدیق کے درمیان عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے ہر نبی صدیق ہوتا ہے مگر ہر صدیق کا نبی ہونا ضروری نہیں اسی طرح ولی اور صدیق میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے ہر صدیق ولی ہوتا ہے مگر ہر ولی کا صدیق ہونا ضروری نہیں مقام صدیقیت مقام کے اعتبار سے مقام نبوت سے نیچا ہے قولہ اِذ قال لِاَبیہ خبرہ سے بدل الاشتمال ہے قولہ اِنَّہٗ کان صدِّیقا نبیا ما قبل کی علت ہے اور بدل اور مبدل منہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے صدیقاً کان کی خبر اول ہے اور نبیًّا خبر ثانی ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی والد ہیں قرآن کے طرز بیان سے یہی راجح معلوم ہوتا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ آزر آپ کے چچا ہیں عرف کے اعتبار سے مجازاً اَبْ کہہ دیا گیا ہے، ان کے والد کا نام تارخ ہے قولہ اراغب مبتدا ہے اور اَنْتَ قائم مقام فاعل خبر ہے، استفہام تعجبی ہے، چونکہ اراغب استفہام پر اعتماد کئے ہوئے، لہٰذا نکرہ کا مبتداء بنانا صحیح ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ أراغبٌ خبر مقدم اور انت مبتدا مؤخر ہو قولہ لئن اس میں لام قسم ہے ای واللہ لئن لم تنتہ قولہ العصی والعاصی دونوں کے ایک ہی معنی ہیں عَصِیٌّ اصل میں عَصُویٌ تھا، واؤ کو یا کیا اور یا کو تا میں ادغام کردیا پھر یا کی مناسبت سے صاد کو کسرہ دے دیا، عِصیَّ ہوگیا قولہ واھْجُرْنِیْ ملیا کا عطف واحذرنی محذوف پر ہے جس پر لا رجمنک دلالت کرر ہا ہے تاکہ دونوں جملے انشائیہ ہوجائیں، معطوف اور معطوف علیہ میں موافقت سیبویہ کے یہاں ضروری ہے ملیًا طویل زمانہ، ایک معنی اس کے صحیح سالم کے بھی ہیں، مطلب یہ کہ زمانہ دراز کے لئے تو میری نظروں کے سامنے سے ٹل جا، دوسرے معنی کے اعتبار سے ترجمہ یہ ہوگا کہ تو مجھے میری حالت پر چھوڑ دے مجھ سے چھیڑ چھاڑ نہ کر، ورنہ کہیں مجھ سے اپنے ہاتھ پیر نہ توڑ والینا، ملیًا ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جیسا کہ مفسر علام نے دھرًا طویلاً مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے، واھجرنی کی ضمیر فاعل سے حال بھی ہوسکتا ہے قولہ ناصرًا وقرینًا مناسب تھا کہ مفسر علام قرینًا پر اکتفاء کرتے اس لئے کہ دخول نار کے بعد کوئی کسی کا معاون نہیں ہوگا قولہ فتکون للشیطان ولیًا آیت کا ظاہر مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کے ساتھ ولایت مس عذاب پر مرتب ہے، یعنی مس عذاب کی وجہ سے شیطان کے ساتھ ولایت ہوگی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان سے ولایت کی وجہ سے مس عذاب ہوگا، اس شبہ کا جواب مفسر علام نے قریناً فی النار کا اضافہ کر کے دے دیا قولہ حَفِیّ صفت مشبہ ہے بڑا مہربان، اکرام میں مبالغہ کرنے والا قولہ کُلاَّ جعلنا کا مفعول اول ہے تخصیص کے لئے فعل پر مقدم کردیا گیا ہے۔ تفسیر و تشریح واذکُرْ فی الکتابِ ابراھیم اس سورة میں مذکور قصوں میں سے یہ تیسرا قصہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کا خلاصہ : تورات اور تاریخی روایات کے اعتبار سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نسب نو پشتوں کے واسطوں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے صاحبزادے سام سے ملتا ہے۔ حضرت ابراہیم کے والد کا نام : علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا کیا نام ہے ؟ توریت اور تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والد صاحب کا نام تارخ ہے مگر قرآن عزیز نے آپ کے والد کا نام آزر بتایا ہے وَاِذْ قَالَ اِبْرَاھِیْمُ لِاَبِیْہِ آزَرَ اَتَتَّخِذ اَصْنَامًا آلِھَۃ ً بعض مفسرین نے اس اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ دونوں نام ایک ہی شخصیت کے ہیں تارخ علم اسمی ہے اور آزر علم وصفی ہے ان میں سے بعض حضرات تطبیق اس طرح دیتے ہیں کہ آزر عبری زبان میں محبّ صنم کو کہتے ہیں اور چونکہ تارخ میں بت پرستی اور بت تراشی دونوں وصف موجود تھے اس لئے آزر کے لقب سے مشہور ہوا، اور بعض کا خیال ہے کہ آزر کے معنی اَعْوَج (کم فہم) یا خفیف العقل کے ہیں اور چونکہ تارخ میں یہ بات موجود تھی اس لئے اس کو اس وصف سے موصوف کیا گیا، قرآن عزیز نے اسی وصفی نام کو بیان کیا ہے۔ اور دوسرے علماء کی تحقیق یہ ہے کہ آزر اس بت کا نام ہے، تارخ جس کا پجاری اور مہنت تھا مجاہد ؓ سے روایت ہے کہ قرآن عزیز کی مسطورہ بالا آیت کا مطلب یہ ہے کہ اَتَتَّخِذ آزَرَ اِلھا ای اتتخذ اصناماً آلِھَۃ ً کیا تو آزر کو خدا مانتا ہے یعنی بتوں کو خدا مانتا ہے غرضیکہ ان کے نزدیک آزر ابیہ کا بدل نہیں ہے بلکہ ایک بت کا نام ہے اس طرح قرآن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام مذکور نہیں ہے، ایک مشہور قول یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ تھا اور چچا کا نام آزر اور چونکہ آزر ہی نے ان کی تربیت کی تھی اور بمنزلہ اولاد کے پالا تھا اس لئے قرآن عزیز میں آزر کو باپ کہہ کر پکارا گیا ہے جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے العم صِنو ابیہ چچا باپ ہی کی طرح ہوتا ہے، عبد الوہاب نجار کی رائے یہ ہے کہ کہ ان اقوال میں سے مجاہد (رح) کا قول قرین قیاس ہے اس لئے کہ مصریوں کے قدیم دیوتاؤں میں ایک کا نام اَزَوْرِیس بھی آتا ہے جس کے معنی خدائے قوی اور معین کے ہیں اور اصنام پرست اقوام کا شروع سے یہ دستور رہا ہے کہ قدیم دیوتاؤں کے نام پر ہی جدید دیوتاؤں کے نام رکھ لیا کرتے تھے اس لئے اس دیوتا کا نام بھی قدیم مصری دیوتا کے نام پر آزر رکھا گیا ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ تھا۔ ہمارے نزدیک یہ تمام تکلفات باردہ ہیں اس لئے کہ قرآن عزیز نے جب صراحت کے ساتھ آزر کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ کہا ہے تو پھر علماء کو انساب اور بائبل کے تخمینی قیاسات سے متاثر ہو کر قرآن عزیز کی یقینی تعبیر کو مجاز کہنے یا اس سے بھی آگے بڑھ کر خواہ مخواہ قرآن عزیز میں نحوی مقدرات ماننے پر کونسی شرعی اور حقیقی ضرورت مجبور کرتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آدار کالدی زبان میں بڑے پجاری کو کہتے ہیں اور عربی زبان میں یہی آزر کہلایا، تارخ چونکہ بت تراش اور سب سے بڑا پجاری تھا اس لئے آزر ہی کے نام سے مشہور ہوگیا حالانکہ یہ نام نہ تھا بلکہ لقب تھا اور جب لقب نے نام کی جگہ لے لی تو قرآن عزیز نے بھی اسی نام سے پکارا۔ (ماخوذ از قصص القرآن ج 1، ص 151) وَاذْکُرْ فِی الکِتابِ اِبْرَاھِیْمَ اے محمد ﷺ آپ ﷺ اہل مکہ کو ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ سنائیے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ہم ان کی نسبی اولاد ہیں شاید ان کو اپنے جد امجد کے بت شکنی اور بت بیزاری کے حالات سن کر توحید و رسالت کا مسئلہ سمجھ میں آجائے وہ اپنے ہر قول وفعل میں بڑے راستی والے پیغمبر تھے اور ان کا جو قصہ ہم بیان کرنا چاہتے ہیں وہ اس وقت پیش آیا تھا جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے جو کہ مشرک تھا کہا تھا اے میرے ابا جان آپ ایسی چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو کہ جو نہ کچھ سنے اور نہ کچھ دیکھے اور نہ وہ تمہارے کچھ کام آسکیں، اے میرے ابا جان میرے پاس ایسا علم پہنچا ہے جو آپ کے پاس نہیں پہنچا، تم میرے کہنے پر چلو میں تم کو سیدھا راستہ بتلاؤں گا اور اے ابا جان آپ شیطان کی پرستش نہ کریں یعنی اس کو اور اس کی بندگی کو خود تم بھی ناپسند کرتے ہو اور بت پرستی میں شیطان پرستی یقیناً لازم ہے اس لئے کہ وہی یہ حرکت کراتا ہے اسی کا نام شیطان پرستی ہے، بیشک شیطان رحمان کا بڑا نافرمان ہے وہ اطاعت کے لائق کیسے ہوسکتا ہے، اے ابا جان مجھے قوی اندیشہ ہے کہ کہیں تم پر رحمان کی طرف سے عذاب نہ آپڑے پھر تم عذاب میں شیطان کے ساتھ مبتلا ہوجاؤ، اپنے صاحبزادے کی مذکورہ تمام باتیں سن کر کہنے لگا کیا تم میرے معبودوں سے پھرے ہوئے ہو اگر تم ان بتوں کی مذمت اور مجھے ان کی عبادت سے منع کرنے سے باز نہ آئے تو میں تم کو ضرور بالضرور پتھروں سے مار مار کر سنگسار کردوں گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کے ادب واحترام کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت ہی شفقت اور پیار کے لہجے میں ابا جان کو توحید کا وعظ سنایا لیکن توحید کا سبق کتنے ہی شیریں اور نرم لہجے میں بیان کیا جائے مشرک کے لئے ناقابل برداشت ہی ہوتا ہے چناچہ مشرک باپ نے اس نرمی اور پیار کے جواب میں نہایت ہی درشتی اور تلخی کے ساتھ موحد بیٹے سے کہا اگر تو میرے معبودوں سے روگردانی کرنے سے باز نہ آیا میں تجھے سنگسار کر دوں گا ورنہ تو میری نظروں کے سامنے سے ٹل جا (دوسرا ترجمہ) ملیاً کے ایک معنی صحیح سالم کے بھی ہیں اس وقت ترجمہ یہ ہوگا یعنی مجھے میرے حال پر چھوڑ دے اور مجھے توحید کا سبق سکھانے سے باز آجا اگر تو باز نہ آیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تو مجھ سے اپنے ہاتھ پیر تڑوا بیٹھے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا (بہتر) میرا سلام لو اب تم سے کہنا سننا بےسود ہے اب میں تمہارے لئے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا کہ وہ تم کو ہدایت کرے بیشک وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے، جب تم میری حق بات کو نہیں مانتے تو تم میں میرا رہنا بھی فضول ہے اس لئے میں تم سے اور جن کی تم پوجا کرتے ہو کنارہ کشی اختیار کرتا ہوں کہیں جا کر اطمینان سے اپنے رب کی بندگی کروں گا غرضیکہ اس گفتگو کے بعد ان سے اس طرح علیحدہ ہوئے کہ ملک شام کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے اور ہم نے ان کو اسحٰق بیٹا اور یعقوب پوتا عطا کیا، اسماعیل (علیہ السلام) چونکہ پہلے پیدا ہوچکے تھے اس لئے ان کا اس جگہ ذکر نہیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا ذکر مستقلاً عنقریب ان کے اوصاف کے ساتھ آرہا ہے اس وجہ سے یہاں ترک کردیا گیا۔ صدیق کی تعریف : صدیق کے اصطلاحی معنی میں علماء کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ جس شخص نے عمر میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو وہ صدیق ہے، اور بعض نے فرمایا کہ جو شخص اعتقاد اور قول وفعل ہر چیز میں صادق ہو اور جو دل میں ہو وہی زبان پر ہو ایسا شخص صدیق، روح المعانی اور مظہری میں اسی آخری قول کو اختیار کیا گیا ہے۔ صدیقیت کے درجات : صدیقیت کے درجات مختلف ومتفاوت ہیں اصل صدیق تو رسول اور نبی ہی ہوسکتا ہے اور ہر نبی اور رسول کے لئے صدیقیت وصف لازم ہے مگر اس کا عکس لازم نہیں کہ جو صدیق ہو اس کا نبی ہونا ضروری ہو بلکہ غیر نبی بھی صدیق ہوسکتا ہے، حضرت مریم (علیہ السلام) کو خود قرآن کریم نے اُمُّہٗ صَدِّیقۃ کا خطاب دیا ہے حالانکہ جمہور امت کے نزدیک وہ نبی نہیں ہیں اور کوئی عورت نبی نہیں ہوسکتی۔ بڑوں کو نصیحت کرنے کے آداب اور طریقے : یَا اَبَتِ عربی لغت کے اعتبار سے یہ لفظ باپ کی تعظیم و محبت کا خطاب ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام جامعیت اوصاف و کمالات کا عطا فرمایا تھا ان کی یہ تقریر اپنے والد کے سامنے ہو رہی ہے، اعتدال مزاج اور رعایت اضداد کی ایک بےنظیر تقریر ہے ایک طرف باپ کو شرک وکفر اور کھلی گمراہی میں نہ صرف مبتلا بلکہ اس کا داعی دیکھ رہے ہیں، جس کے مٹانے ہی کے لئے خلیل اللہ پیدا کئے گئے ہیں، دوسری طرف باپ کا ادب اور عظمت اور محبت ہے اور ان دونوں ضدوں کو خلیل اللہ نے کس طرح جمع فرمایا، اول تو یا اَبَتِ کا لفظ جو باپ کی مہربانی اور محبت کا داعی ہے ہر جملہ کے شروع میں اس لفظ سے خطاب کیا، پھر کسی جملہ میں باپ کی طرف کوئی لفظ ایسا منسوب نہیں کیا جس سے اس کی توہین یا دل آزادی ہو کہ اس کو گمراہ یا کافر کہتے بلکہ حکمت پیغمبرانہ کے ساتھ صرف ان بتوں کی بےبسی اور بےحسی کا اظہار فرمایا کہ ان کو خود اپنی غلط روش کی طرف توجہ ہوجائے، دوسرے جملہ میں اپنی اس نعمت کا اظہار فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو علوم نبوت کی عطا فرمائی تھی تیسرے اور چوتھے جملہ میں انجام بد سے ڈرایا جو اس کفروشرک کے نتیجے میں آنے والا تھا، اس پر بھی باپ نے بجائے کسی غورو فکر کے ان کی فرزند انہ گذارش پر کچھ نرمی کا پہلو اختیار کرتے۔۔۔۔ پورے تشدد کے ساتھ خطاب کیا انہوں نے تو خطاب یا ابت کے پیارے لفظ سے کیا جس کا جواب عرف میں یَا بُنَیَّ کے لفظ سے ہونا چاہیے تھا مگر آزر نے ان کا نام لے کر یا ابراہیم سے خطاب کیا اور ان کو سنگسار کر کے قتل کرنے کی دھمکی اور گھر سے نکل جانے کا حکم دیا اس کا جواب خلیل اللہ کی طرف سے کیا ملتا ہے وہ سنئے، فرمایا : سَلاَمٌ عَلَیْکَ یہاں لفظ سلام دو معنی کے لئے ہوسکتا ہے اول یہ کہ سلام مقاطعہ ہو، یعنی کسی سے شریفانہ اور مہذب طریقہ سے قطع تعلق کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بات کا جواب دینے کے بجائے لفظ سلام کہہ کر علیحدہ ہوجائے جیسا کہ قرآن کریم نے اپنے مقبول اور صالح بندوں کی صفت میں بیان فرمایا وَاِذَا خَاطَبَھُمْ الجَاھِلُوْنَ قالُوْا سلاماً یعنی جب جاہل لوگ ان سے جاہلانہ خطاب کرتے ہیں تو یہ ان کے دو بدو ہونے کے بجائے لفظ سلام کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ باوجود مخالفت کے میں تمہیں کوئی گزند اور تکلیف نہ پہنچاؤں گا، اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہاں سلام عرفی سلام ہی کے معنی میں لیا جائے، اس میں فقہی اشکال ہوتا ہے جس کی تفصیل سابق میں گذر چکی ہے۔ ساَسْتَغْثِرلَکَ رَبِّی یہاں بھی ایک اعتراض ہوتا ہے اعتراض یہ ہے کہ کسی کافر کے لئے استغفار کرنا شرعاً ممنوع ہے آنحضرت ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا تھا کہ وَاللہِ لاَ سْتغْفِرَنَّ لَکَ مَالَمْ انہ عنہ بخدا میں آپ کے لئے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے منع نہ کردیا جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی مَا کَانَ لِنَبِیٍّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا ان یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمشرکِینَ یعنی نبی اور ایمان والوں کے لئے جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے استغفار کریں اس آیت کے نازل ہونے پر آپ نے چچا کے لئے استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ اشکال کا جواب : یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ سے وعدہ کرنا کہ میں آپ کے لئے استغفار کروں گا یہ ممانعت سے پہلے کا واقعہ ہے اس کے بعد ممانعت کردی گئی، سورة ممتحنہ میں حق تعالیٰ نے خود اس واقعہ کا بطور استثناء ذکر فرما کر اس کی اطلاع دے دی ہے اِلاَّ قَوْلَ اِبراھِیمَ لِاَبِیْہِ لَا َسْتَغْفِرَنَّ لَکَ اور اس سے زیادہ واضح سورة توبہ میں آیت مذکورہ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا أ نْ یَّسْتَغْفِرُوْا کے بعد دوسری آیت میں فرمایا مَا کَان استغفار اِبْرَھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلاَّ عَنْ مَوْعدۃٍ وَعَدَھَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ اَنَّہٗ عَدُوّ لِّللہِ تَبَرَّ أ مِنْہٗ جس سے معلوم ہوا کہ یہ استغفار اور اس کا وعدہ باپ کے کفر پر جمے رہنے اور خدا کا دشمن ثابت ہونے سے پہلے کا تھا جب باپ کے عدو اللہ ہونے کی حقیقت معلوم ہوگئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی برأت کا اعلان فرمادیا۔ البلاغۃ : الکنایَۃ اللَّطیفۃ : “ لِسان صدق ” کنایۃ عن الذکر الحسن والثناء الجمیل باللسان لِأن الثناء یکون باللسان کما یکنٰی عن العطاء بالید۔
Ayahs 19:51–59

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو بیشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مرسل تھے

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے انکو ان کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور کتاب میں اسمعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدہ کے سچے اور (ہمارے) بھیجے ہوئے نبی تھے

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اونچی جگہ اٹھا لیا تھا

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے پیغمبروں میں سے فضل کیا (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گرپڑتے اور روتے رہتے تھے

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشنیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گو یا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی

آیت نمبر 51 تا 59 ترجمہ : کتاب میں مذکور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے وہ بلاشبہ بڑے مخلص منتخب بندے تھے کسرہ لام اور فتحہ لام کے ساتھ مخلص مَنْ اَخْلَصَ فِی عِبَادَتِہٖ کو کہتے ہیں اور مخلص مَن اَخْلَصَہٗ اللہ مِنَ الدنَس کو کہتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کردیا) اور وہ نبی مرسل تھے اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کی داہنی جانب سے یا موسیٰ اِنّی اَنَا اللہ کہہ کر پکارا طور ایک پہاڑ کا نام ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی اس جانب سے (پکارا) جو مدین سے آتے ہوئے داہنی جانب پڑتی ہے اور ہم نے اس کو رازدارانہ گفتگو کے لئے اپنا مقرب بنایا، اس طریقہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنا کلام سنایا اور ہم نے اس کو اپنی رحمت نعمت کے سبب سے اس کا بھائی ہارون نبی بنا کر عطا کیا ہارون (اخاہ) سے بدل یا عطف بیان ہے نبِیًّا (ہارون) سے حال ہے اور وَھَبْنَا سے عطاء نبوت ہی مراد ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے کہ اس کے ساتھ اس کے بھائی (ہارون) کو نبی بنا دیجئے اور ہارون (علیہ السلام) موسیٰ سے بڑے تھے۔ اور کتاب میں مذکور اسماعیل (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجئے بلاشبہ وہ وعدے کے بڑے سچے تھے انہوں نے کوئی وعدہ نہیں کیا کہ اس کو پورا نہ کیا ہو اور جس شخص سے (انتظار) کا وعدہ کیا تھا اس کا تین دن یا ایک سال تک (اسی جگہ) انتظار کیا تاآنکہ وہ شخص کہ جس سے انتظار کا وعدہ کیا تھا آپ کے انتظار کی جگہ واپس آیا اور وہ جرہم کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے اور وہ اپنے اہل یعنی اپنی قوم کو (برابر) نماز کا اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور وہ اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے مَرضِیٌّ کی اصل مَرضُوْؤ تھی، دونوں واؤی سے بدل گئے اور ضمہ کسرہ سے بدل گیا، اور اس کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کیجئے وہ نوح (علیہ السلام) کے والد کے دادا تھے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے اور ہم نے ان کو بلند مقام تک پہنچا دیا، وہ چوتھے یا چھٹے یا ساتویں آسمان یا جنت میں زندہ ہیں اور ان کو موت کا مزا چکھانے کے بعد جنت میں داخل کردیا گیا اور زندہ کردیا گیا اور وہ جنت سے نہیں نکلے اُوْلٰئِکَ مبتداء ہے یہی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے (خاص) انعام فرمایا الذین انعم اللہ علَیْھِمْ ، اوْلٰئِکَ (موصوف) کی صفت ہے اور مِنَ النبیین الذین کا بیان ہے اور یہ بیان صفت کے معنی میں ہے اور من النبیین سے لے کر جملہ شرطیہ تک نبیین کی صفت ہے (اور یہ مُنْعَمْ علیھم) آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں یعنی ادریس (علیہ السلام) اور ان میں سے بعض ان لوگوں کی نسل سے ہیں جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا یعنی ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی نسل سے ہیں اور بعض ان میں سے ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں یعنی اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب (علیہم السلام) بعض اسرائیل کی نسل سے ہیں اور وہ یعقوب (علیہ السلام) ہیں موسیٰ اور ہارون اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) ہیں اور یہ سب (حضرات) ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت فرمائی اور مقبول بنایا یعنی منجملہ ہدایت یافتہ مقبول لوگوں میں سے ہیں اور اُوْلٰئِکَ کی خبر اِذَا تُتْلیٰ عَلَیْھم الخ سے سُجّد ساجد کی اور بُکِیًّا باکٍ کی جمع ہے (ان حضرات کی یہ کیفیت تھی کہ) جب ان کے سامنے (حضرت) رحمٰن کے آیتیں پڑھی جاتی تھی تو سجدہ کرتے ہوئے روتے ہوئے (زمین) پر گرجاتے تھے لہٰذا اے (اہل مکہ) تم بھی ان کے جیسے ہوجاؤ اور بُکِیٌّ کی اصل بُکْویٌ تھی واؤ ی سے اور ضمہ کسرہ سے بدل گیا پھر ان کے بعد کچھ ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز کو ترک کر کے ضائع کردیا جیسا کہ یہود اور نصاریٰ اور معصیت میں خواہشات کی اتباع کی تو یہ لوگ عنقریب خرابی دیکھیں گے (غیًّا) جہنم میں ایک وادی ہے یعنی اس میں پڑیں گے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد قولہ واذکر فی الکتاب موسیٰ کا عطف فی الکتاب مریم پر عطف قصہ علی القصہ ہے، سورة مریم میں دس انبیاء (علیہم السلام) کے اسماء مذکور ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے کچھ اوصاف ومنافقب بیان فرمائے ہیں اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی توقیر و تعظیم لازم ہے، اسماء مذکورہ یہ ہیں (1) زکریا (علیہ السلام) (2) یحییٰ (علیہ السلام) (3) ابراہیم (علیہ السلام) (4) عیسیٰ (علیہ السلام) (5) اسحٰق (علیہ السلام) (6) یعقوب (علیہ السلام) (7) اسماعیل (علیہ السلام) (8) موسیٰ (علیہ السلام) (9) ہارون (علیہ السلام) (10) ادریس علیہ السلام، مخلِصًا ای موَحِّدًا اَخْلَصَ عبادتہٗ عن الشرک (افعال) سے اسم فاعل یا اسم مفعول کا صیغہ ہے ای اَخْلَصَہٗ اللہ تعالیٰ واختارَہٗ وجعلہٗ مختارًا قولہ الدنس میل (ج) ادناس وکان رسولاً نبیًّا رسولاً کان کی خبر اول ہے اور نبیًّا خبر ثانی، رسول کے لغوی معنی مراد ہیں اور نبی کے اصطلاحی، رسولاً نبیًا میں مناسب یہ تھا کہ عام کو مقدم اور خاص کو مؤخر ذکر کرتے مگر فواصل کی رعایت کی وجہ سے عکس کردیا، جیسا کہ سورة طٔہ میں رب ہارون و موسیٰ ہیں، اور بعض حضرات نے رسول کے اصطلاحی معنی اور نبی کے لغوی معنی مراد لئے ہیں یعنی عالی مرتبہ رسول، اس وقت نبی نبوۃ سے مشتق ہوگا جس کے معنی رفعت اور بلندی کے ہیں قولہ الطور مدین اور مصر کے درمیان مشہور پہاڑ ہے جس کا نام جبل زبیر بھی ہے قولہ ایمن اگر یمین سے مشتق ہے تو اس کے معنی ہیں دایاں قولہ نجیًّا قرّبنا کے مفعول یا فاعل کی ضمیر سے حال ہے اور اَلاَیمن جانب کی صفت ہے اسی وجہ سے اعراب میں اس کے تابع ہے بعض حضرات نے کہا ہے کہ الایمن یُمنٌ سے مشتق ہے تو اس صورت میں طور کی صفت واقع ہوسکتا ہے یعنی مبارک پہاڑ کی جانب سے موسیٰ (علیہ السلام) کو ندا دی وَھَبْنَا (ف) عطا کیا، قولہ من رحمتنا من تعلیلیہ ہے ای من اجل رحمتنا اخاہ اس صورت میں وھبناہ کا مفعول بہ ہوگا، اور ہارون اخاہ سے یا بدل ہوگا یا عطف بیان یا اعنی محذوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا نبیًّا ہارون سے حال ہے جرہم یمن کا ایک قبیلہ تھا جو پانی کی سہولت دیکھ کر وادی مکہ میں حضرت ہاجرہ کے پاس مقیم ہوگیا تھا، اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے جوان ہو کر اسی قبیلہ میں شادی کرلی تھی، ادریس (علیہ السلام) کا نام اخنوخ ہے اور یہ نوح (علیہ السلام) کے جد امجد ہیں قولہ رَفَعْنا بعض مفسرین نے کہا ہے کہ رفع سے مراد شرف نبوت کی وجہ سے رفع مرتبہ ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ رفع آسمانی مراد ہے جیسا کہ مفسر علام کی یہی رائے ہے قولہ خلْف سکون لام کے ساتھ ناخلف (نالائق) کے لئے اور فتحہ لام کے ساتھ لائق اخلاف کے لئے استعمال ہوتا ہے قولہ یَلْقَوْن مضارع جمع مذکر غائب (س) پڑیں گے، ملاقات کریں گے قولہ غیًّا اسم فعل، گمراہی، عذاب۔ تفسیر وتشریح وَاذْکُرْ فِی الکِتابِ مُوْسٰی اس سورت میں مذکور قصوں میں سے یہ چوتھا قصہ ہے، اور ذکر کرنے سے مراد سنانا ہے، اس لئے کہ ذکر کرنے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں مُخْلَصًا بفتح اللام وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے خاص کرلیا ہو یعنی جس کو غیر اللہ کی طرف التفات نہ ہو یہ شان خصوصی طور پر انبیاء (علیہم السلام) کی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے اِنَّا اَخْلَصْنَاھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّار یعنی ہم نے ان کو مخصوص کردیا ہے ایک خاص کام یعنی دار آخرت کی یاد کے لئے، امت میں جو حضرات کاملین انبیاء (علیہ السلام) کے نقش قدم پر ہوں ان کو بھی اس مقام کا ایک درجہ ملتا ہے اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ قدرتی طور پر گناہوں سے بچا دئیے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی حفاظت ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ مِنْ جابِبِ الطُّورِ یہ مشہور پہاڑ ملک شام میں مصر اور مدین کے درمیان واقع ہے آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ الاَیمن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دائیں جانب مراد ہے اس لئے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے چل کر جب طور کے بالمقابل پہنچے تو طور ان کی دائیں جانب تھا نَجِیًّا سے سرگوشی مراد ہے موسیٰ (علیہ السلام) سے ہم کلامی کو راز اس لئے کہا گیا ہے کہ کلام کے وقت وہاں کوئی انسان موجود نہیں تھا گو بعد میں وہ گفتگو اور کلام سب کو معلوم ہوگیا وَوَھَبْنَالَہٗ مِنْ رَّحْمَتِنَا اَخَاہٗ ھارُوْنَ یہاں ہبہ سے مراد حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نبوت عطا کر کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معاون و مددگار بنانا ہے اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ میرے بھائی کو میرا معاون و مددگار بنا دیجئے چناچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور نبوت عطا کردی اسی کو ہبہ سے تعبیر کیا گیا ورنہ تو حضرت ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) سے عمر میں بڑے ہیں بڑا چھوٹے کو ہدیہ نہیں کیا جاسکتا۔ واذْکُرْ فِی الکتابِ اِسماعِیْلَ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر ان کے والد ابراہیم اور بھائی اسحٰق کے ساتھ نہیں کیا بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا درمیان میں ذکر آنے کے بعد ان کا ذکر فرمایا شاید اس سے مقصود ان کے ذکر کا خاص اہتمام ہو کہ ضمناً ذکر کرنے کے بعد مستقلاً ذکر فرما دیا، یہاں جتنے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا ہے ان کے درمیان زمانہ بعثت کی ترتیب نہیں رکھی گئی کیونکہ ادریس (علیہ السلام) جن کا ذکر سب کے بعد آرہا ہے وہ زمانہ کے لحاظ سے سب سے مقدم ہیں۔ کَان صَادِقَ الوَعْدِ ایفاء وعدہ ایک ایسا خلق حسن ہے کہ ہر شریف انسان اس ضروری سمجھتا ہے اور اس کے خلاف کرنے کو ایک رذیل حرکت قرار دیتا ہے حدیث میں وعدہ خلافی کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا ہے اس لئے ہر نبی صادق الوعد ہوتا ہے، مگر اس سلسلہ کلام میں خاص خاص انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کوئی خاص وصف بھی ذکر کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ وصف دوسروں میں نہیں بلکہ اشارہ اس طرف ہے کہ ان میں یہ وصف خاص امتیازی شان رکھتا ہے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مخلص ہونا ذکر فرمایا گیا حالانکہ یہ صفت بھی تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عام ہے مگر چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس میں ایک خاص امتیاز حاصل تھا اس لئے ان کے ذکر میں خصوصیت سے اس وصف کا ذکر کردیا گیا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا صادق الوعد امتیازی وصف اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے جس چیز کا وعدہ اللہ سے یا کسی بندے سے کیا اس کو بڑی مضبوطی اور اہتمام سے پورا کیا انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ میں خود کو ذبح ہونے کے لئے پیش کر دوں گا اور اس پر صبر کروں گا، اس وعدہ میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پورے اترے، ایک مرتبہ ایک شخص سے ایک جگہ ملنے کا وعدہ کیا تھا وہ وقت پر نہ آیا تو اس کے انتظار میں تین دن اور بعض روایات میں ایک سال تک اس کا انتظار کرتے رہے۔ (مظہری) آنحضرت ﷺ سے بھی ترمذی میں بروایت عبداللہ ابن ابی الخمساء سے ایسا ہی واقعہ وعدہ کر کے تین دن تک اسی جگہ انتظار کرنے کا منقول ہے۔ (قرطبی) کَانَ یَاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلوٰۃِ والزَّکٰوۃِ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے خصوصی اوصاف میں ایک وصف یہ بھی مذکور ہے کہ وہ اپنے اہل کو نماز و زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے یہ وصف اگرچہ ہر نبی میں مشترک ہے مگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اس کے اہتمام میں امتیازی کوشش کرتے تھے۔ وَاذْکُرْ فِی الکِتابِ ادریس حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) سے ایک ہزار سال قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کے اجداد میں سے ہیں۔ (روح المعانی) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے نبی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے تیس صحیفے نازل فرمائے، اور ادریس (علیہ السلام) سب سے پہلے انسان ہیں جن کو علم نجوم اور علم حساب بطور معجزہ دیا گیا تھا (بحر محیط) اور سب سے پہلے انسان ہیں کہ جنہوں نے قلم سے لکھنا اور کپڑا سینا ایجاد کیا، اور انہیں نے ناپ تول کے طریقہ بھی ایجاد کئے، اور آپ ہی نے اسلحہ ایجاد کر کے بنو قابیل سے جہاد کیا۔ (بحر محیط قرطبی، مظہری، روح) وَرَفَعْنَاہٗ مکاناً عَلِیًّا مکان رفیع سے مراد مرتبہ کی بلندی ہے یعنی نبوت و رسالت اور قرب خداوندی کا خاص مقام عطا فرمایا گیا، بعض روایات میں جو آسمانوں پر رفع جسمانی منقول ہے اس کے متعلق ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے : ھٰذا مِنْ اَخْبَارِ کعْبِ الاَحْبَارِ من الاسرائیلیات وفی بَعْضِہٖ نکَارَۃ یہ کعب احبار کی اسرائیلی روایات میں سے ہے اور ان میں سے بعض میں نکارت ہے۔ اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْھِمْ منَ النَّبِیِّیْنَ مِنْ ذُرِّیَّۃِ آدَم اس سے مراد صرف حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں اور ومِن ذریۃ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نوح اس سے مراد صرف ابراہیم (علیہ السلام) ہیں وَمِنْ ذُرِّیَّۃِ ابرَاھیمِ اس سے مراد اسماعیل واسحٰق و یعقوب (علیہم السلام) ہیں وَاسرائِیل اس سے مراد حضرت موسیٰ و ہارون اور حضرت زکریا ویحییٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) ہیں۔ وَاِذَا تُتْلیٰ عَلَیْھِمْ آیٰتُ الرَّحمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُکِیًّا سابقہ آیات میں چند اکابر انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ان کی عظمت شان کو بیان کیا گیا ہے چونکہ انبیاء (علیہم السلام) کی عظمت میں عوام سے غلو کرنے کا خطرہ تھا جیسے یہود نے حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا ہی بنادیا اس لئے اس مجموعہ کے بعد ان سب کا اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونا اور خوف و خشیت سے بھر پور رہنا اس آیت میں ذکر فرمایا ہے تاکہ افراط وتفریط کے درمیان رہیں۔ (معارف القرآن)