19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 19:60–65

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو کوئی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) بیشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے اور ان کے لئے صبح وشام کھانا تیار ہوگا

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ ہم تمہارے پروردگار کے حکم کے سوا اتر نہیں سکتے جو کچھ ہمارے آگے اور جو پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

یعنی آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب پروردگار کا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو بھلا تم کوئی اسکا ہم نام جانتے ہو ؟

آیت نمبر 60 تا 65 ترجمہ : عنقریب خرابی دیکھیں گے ہاں مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کرنے لگا سو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا یعنی ان کے اجرو ثواب میں (ذرہ برابر) کمی نہ کی جائے گی جَنَّتُ عدْنٍ ہمیشہ قیام کی جنت جنّٰتُ عَدْنٍ ، الجنۃ سے بدل ہے وہ جنت کہ جس کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے بالغیب حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ ان بندوں نے اس جنت کو دیکھا نہیں ہے اور اس کے موعود (وعدہ کی ہوئی چیز) کو یہ لوگ ضرور جنت میں پہنچیں گے ماتِیًّا بمعنی آتیاً ہے اس کی اصل مَاتویٌ تھی یا اس کا موعود یہا، جنت ہے یعنی جنت کے مستحق اس میں داخل ہوں گے اور وہ لوگ جنت میں کوئی فضول بات نہ سنیں گے البتہ اپنے اوپر فرشتوں کا یا آپس میں ایک دوسرے کا سلام سنیں گے ان کو جنت میں صبح وشام کھانا ملا کرے گا یعنی دنیا میں عادت کے مطابق اور جنت میں لیل ونہار نہیں ہوں گے بلکہ ہمیشہ روشنی اور نور ہوگا یہ ایسی جنت ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کا ایسے شخص کو مالک بنائیں گے یعنی عطا کریں گے اور (اس میں) نازل کریں گے کہ جو متقی ہوگا اس کی طاعت کے ذریعہ اور جب وحی چند دن متاخر ہوگئی اور آنحضرت ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ کیا چیز مانع ہے اس بات سے کہ اس سے زیادہ ہماری ملاقات کرو جتنی تم کرتے ہو (فرمایا) ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر نہیں اتر سکتے ہمارے آگے امور آخرت اور پیچھے امور دنیا اور اس کے درمیان یعنی وہ امور جو اس وقت سے قیامت تک ہوں گے اسی کی ملک ہیں یعنی ان تمام امور کا اسی کو علم ہے اور تیرا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے نَسِیًّا بمعنی ناسیًا یعنی تاخیر وحی کی وجہ سے آپ کو چھوڑنے والا نہیں ہے وہ رب مالک ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور جو ان کے درمیان میں ہے لہٰذا آپ اسی کی بندگی کریں اور اسی کی عبادت پر جمے رہیں کیا آپ کے علم میں اس کا کوئی ہم نام ہے۔ (ہمسر) البلاغۃ : (1) الطباق (لہ مَا بَینَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وبَیْنَ بُکْرَۃً ۔۔۔۔۔ وعَشِیًّا) (2) السجع الحسن الرصیص (عَلِیًّا حَفِیًّ ونبِیًّا ) تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد قولہ لکِنّ اِلاَّ کی تفسیر لکِنَّ سے کر کے اشارہ کردیا کہ یہ مستثنیٰ منقطع ہے اس کہ مستثنیٰ ، مستثنیٰ منہ کی جنس سے نہیں ہے اس لئے کہ مستثنیٰ منہ کافرین ہیں اور مستثنیٰ مومنین ہیں کَانَ وَعَدُہٗ ای مَوعُوْدہ اور وہ موعود جنت ہے ای یَاتِیْہِ ویَدْخُلُہٗ مَنْ وُعِدَ لَہٗ بِھَا لا مَحَالَۃَ اس صورت میں مأتِیًا اتیان سے اسم مفعول ہوگا یا مَاتِیًّا بمعنی اسم فاعل ہے ای آتِیًّا البتہ وَعْدٌ اسم مصدر بھی ہے بمعنی وعدہ اور مصدر بھی ہے یعنی وعدہ کرنا مفسر علام نے اَوْ مَوْعُوْدُہٗ کا اضافہ کر کے دوسری تفسیر کی طرف اشارہ کیا ہے موعودہٗ سے مَا وُعِدَ بہٖ یعنی جنت مراد ہوگی اس صورت میں ماتِیًّا اپنی حالت پر رہے گا اور وَعْدٌ اپنے مصدری معنی میں ہو تو ماتیاً بمعنی آتیا ہوگا، پہلی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا جنت کے مستحقین جن سے رحمٰن نے وعدہ کیا ہے وہ جنت میں البتہ داخل ہوں گے اور دوسری صورت میں یہ ترجمہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور آکر رہے گا۔ تفسیر وتشریح سابق میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کا خاتمہ کفر پو ہوا، اب اِلاَّ مَنْ تابَ سے ان خوش نصیب حضرات کا ذکر ہے کہ جنہوں نے کفر وشرک سے توبہ کی اور اعمال صالحہ کئے، ایسے لوگ وعدہ خداوندی کی وجہ سے جنت عدن میں داخل ہوں گے جو کہ اعلیٰ قسم کی جنت ہے، اس میں بیہودہ اور باطل کلام نہ سنیں گے اور نہ ان کے کانوں میں کوئی ایسا کلمہ پڑے گا جو ان کی اذیت کا باعث ہو، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جنت سے بیہودہ کلام کا صدور نہ ہوگا بلکہ وہاں ایسا کلام سنیں گے کہ جو بھلائی اور خوشی میں اضافہ کرے گا، اصطلاحی سلام بھی اس میں داخل ہے کہ آپس میں اہل جنت اور اللہ کے فرشتے ان کو سلام کریں گے۔ وَلَھُمْ رزقُھُمْ فِیْھَا بُکْرَۃً وعَشِیًّا جنت میں یہ نظام شمسی اور طلوع و غروب یا لیل ونہار تو نہ ہوگا البتہ ایک قسم کی روشنی ہمہ وقت رہے گی مگر رات ودن اور صبح وشام کا پتہ کسی خاص انداز سے ہوگا مثلاً پردوں کے بند ہونے سے رات کا اندازہ ہوگا اور پردوں کے کھلنے سے دن کا اندازہ ہوگا اب رہا رزق کا صبح وشام ملنا تو یہ دنیوی زندگی کے عرف اور عادت کے طور پر ہوگا، ورنہ تو یہ بات ظاہر ہے کہ اہل جنت کو جس وقت جس چیز کی خواہش ہوگی وہ چیز اسی وقت بلاتا خیر مہیا ہوجائے گی، باری تعالیٰ کا فرمان ہے (وَلَھُمْ مَا یَشْتَھُوْنَ ) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ صبح وشام سے مراد عموم ہے جیسے رات دن بول کر ہمہ وقت مراد ہوتا ہے اور مشرق ومغرب بول کر پوری دنیا مراد ہوتی ہے۔ وَمَا نَتَنَز َّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ شان نزول : صحیح بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے یہ آرزو ظاہر فرمائی کہ آپ ذرا زیادہ آیا کریں اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر نہیں اتر سکتے ہمارے آگے پیچھے اور انکے درمیان کی کل چیزیں اسی کی ملک ہیں اور تیرا رب تجھ کو وحی میں تاخیر کر کے چھوڑنے والا نہیں ہے، سب کا رب وہی ہے تو اسی کی بندگی کر اور اس پر جما رہے اور عبادت کے سلسلہ میں اگر کوئی تکلیف پڑے تو اس کو صبر و سکون کے ساتھ برداشت کر، کیا تیرے علم میں اسکا ہم صفت اور ہم پلہ کوئی ہے ؟ اگر نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو پھر عبادت کے لائق بھی اسکے سوا کوئی نہیں ہے
Ayahs 19:66–72

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی تو پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا ؟

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھنٹوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو اس میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

آیت نمبر 66 تا 75 ترجمہ : اور انسان کہتا ہے جو بعث بعد الموت کا منکر ہے یعنی ابی بن خلف یا ولید بن مغیر جس کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے کہ کیا جب ثانی ہمزہ کی تحقیق اور اس کی تسہیل کے ساتھ اور ثانی (ہمزہ) اور پہلے ہمزہ کے درمیان الف داخل کر کے دونوں صورتوں میں (یعنی تسہیل اور تحقیق کی صورت میں) میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کر کے قبر سے نکالا جاؤں گا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں استفہام نفی کے معنی میں ہے (یعنی أئِذ َا میں استفہام انکاری ہے) یعنی میں مرنے کے بعد زندہ نہ کیا جاؤں گا مَا اور لام تاکید کے لئے زائدہ ہیں (اس انسان کافر کے قول کا جواب) اللہ تعالیٰ کے قول اَوَلاَ یَذَّکَّرُ (الآیۃ) سے دیا گیا ہے کیا یہ انسان اتنا بھی یاد نہیں رکھتا یَذَّکَّرُ اصل میں یَتَذَکَّرُ تھا ت کو ذال سے بدل دیا گیا اور ذال کو ذال میں ادغام کردیا گیا اور ایک قرأۃ ترک تا اور سکون ذال اور کاف کے ضمہ کے ساتھ بھی ہے کہ ہم نے اس کو اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں تھا کہ ابتداء سے اعادہ پر استدلال کرے تیرے پروردگار کی قسم کہ ہم ان کو یعنی منکرین بعث کو اور شیاطین کو البتہ ضرور جمع کریں گے یعنی ان میں سے ہر ایک کو اس کے شیطان کو ایک زنجیر میں جمع کریں گے پھر ہم ان کو جہنم کے گرد باہر سے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کریں گے پھر کافروں کے ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو جدا کریں گے جو رحمٰن کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ہیں سرکشی یعنی جرأۃ کے اعتبار سے پھر ہم ایسے لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہیں دخول کے اعتبار سے اور جلنے کے اعتبار سے یعنی جہنم کے زیادہ حقدار ہیں، سرکشی میں اشد اور غیر اشد سب کو خوب جانتے ہیں، لہٰذا ہم انہی (اشد) لوگوں سے ابتداء کریں گے اور صِلِیًّا اصل میں صَلُوْیٌ تھا یہ صَلِیَ بکسر اللام سے ماخوذ ہے اور تم میں کا کوئی ایسا نہیں کہ جس کا اس پر ورود نہ ہو یعنی داخل جہنم نہ ہو یہ تیرے پروردگار کے ذمہ قطعی فیصل شدہ امر ہے جس کو اس نے لازم کرلیا ہے اور اس کا فیصلہ کرلیا ہے اس کو ترک نہ کرے گا نُنْجِیْ جیم کی تشدید اور تخفیف دونوں کے ساتھ ہے پھر ہم شرک وکفر سے بچنے والوں کو بچا لیں گے اور نافرمانوں کو یعنی شرک وکفر کرنے والوں کو جہنم میں گھٹنوں کے بل پڑا چھوڑ دیں گے اور جب ان کو یعنی مومنین وکافرین کو ہماری قرآنی روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں دونوں فریقوں میں سے کونسا فریق مرتبہ یعنی منزل ومسکن کے اعتبار سے بہتر ہے ہمارا یا تمہارا اگر مَقَاماً فتح میم کے ساتھ ہو قَامَ سے مشتق ہوگا اور اگر ضمہ میم کے ساتھ ہو تو اقام سے مشتق ہوگا اور کس کی مجلس شاندار ہے نَدِیٌّ نادِیْ کے معنی میں ہے نادی چوپال (دارالمشورہ) کو کہتے ہیں جہاں لوگ جمع ہو کر باتیں کرتے ہیں (احسن نَدِیًّا) سے خود کو مراد لیتے ہیں لہٰذا ہم تم سے بہتر ہیں (اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں) اور ہم تو ان سے پہلے گذشتہ قوموں میں سے بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو سازوسامان اور نام نمود (شان و شوکت) کے اعتبار سے (ان سے) بہتر تھیں، جب ہم نے ان کو ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک کردیا تو ان کو بھی ہلاک کردیں گے آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ گمراہی میں پڑے ہیں (مَنْ کان) شرط ہے اور اس کا جواب فَلْیَمْدُدْ ہے (صیغہ امر ہے) معنی میں خبر کے ہے یعنی یَمُدُّ لہٗ کے معنی میں ہے یعنی رحمٰن اس کی رسی کو ڈھیلی کردیتا ہے یعنی دنیا میں اس کو خوب ڈھیل دیتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے یا تو عذاب، جیسا کہ قتل وقید، یا قیامت جو جہنم پر مشتمل ہوگی تو اس میں داخل ہوں گے، تو ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کس کا ٹھکانہ برا ہے، اور کس کے مددگار کمزور ہیں، وہ یا مومنین، اور ان کا لشکر شیطان ہے، اور ان کے مقابلہ میں مومنین کا لشکر، فرشتے ہیں۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد ویقول الانسان کی تفسیر المنکر للبعث سے کرکے اشارہ کردیا کہ انسان سے مخصوص شخص مراد ہے اور وہ ابی ابن خلف یا ولید بن مغیرہ ہے۔ قولہ : أنَذا ما مِتُّ ما رائدہ ہے مِتُّ واحد متکلم ماضی معروف ہے مصدر موت ہے حرف شرط کی وجہ سے مستقبل کے معنی میں ہے۔ قولہ : لَسَوْفْ میں لام زائدہ ہے الانسان میں الف لام عہد کا ہے، جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کردیا ہے۔ قولہ : اَئِذَا اخرج کا ظرف مقدم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ سوال : لام تاکید کا مابعد ما قبل میں عمل نہیں کرتا تو یہاں اُخْرَجُ کسی طرح عمل کرے گا۔ جواب : یہ قاعدہ لام ابتداء کے لئے ہے اور لام زائدہ ہے۔ سوال : جو لام مضارع پر داخل ہوتا ہے وہ مضارع کو حال کے معنی میں کردیتا ہے اور سوف مضارع کو استقبال کے معنی کے ساتھ خاص کردیتا ہے، دونوں کے مقتضیٰ میں تعارض ہے۔ جواب : یہ لام محض تاکید کے لئے ہے تخصیص مضارع للحال کے معنی سے مجرد ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔ (روح البیان) بعض مفسرین حضرات نے کہا ہے کہ اَئِذَا میں اُبْعثُ فعل محذوف عامل ہے جس پر اخرج دلالت کر رہا ہے اس لئے اخرجُ کا ظرف بنانا درست نہیں۔ قولہ : لَمْ یکُ اصل میں لَمْ یکن تھا نون کو کثرت استعمال کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ قولہ : شیعۃ فرقہ، جماعت، حمایتی، طرفدار (ج) شِیَعٌ اس میں واحد تثنیہ جمع سے برابر ہے۔ قولہ : جثیًّا یہ جاثٍ کی جمع ہے خوف کی وجہ سے گھٹنوں کے بل گرنے والا اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جثیا جثوَۃ کی جمع ہے، مفسر علام نے وارِدُھا کی تفسیر داخل جہنم سے کرکے اشارہ کردیا کہ وارد مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے بعض اس کے معنی حضور اور بعض نے عبور اور بعض نے دخول اور بعض نے مرور مراد لئے ہیں مفسر علام نے دخول کے معنی کو ترجیح دی ہے، لہٰذا یہ تفسیر تعیین معنی کیلئے ہے۔ قولہ : اَیُّھُمْ اسم موصول، اس کا صدر صلہ محذوف ہے ای ھو اَشدُّ اَیُّھُمْ اسم موصول بمعنی الذی یہ اضافت کی وجہ سے مبنی برضم ہے اس کا صدر صلہ محذوف ہے ای ھُوَ اَشَدُّ ھو مبتداء اشد اس کی خبر مبتدا خبر سے ملکر صلہ موصول کا، موصول صلہ سے ملکر مفعول نَنْزِعَنَّ کا غَیًّا تمییز منقول ہے مبتداء محذوف سے ای عُتُوُّہ اَشَدُّ ۔ قولہ : عِتِیًّا اکڑنا، سرکشی کرنا عتَا یَعْتُوْا کا مصدر ہے یہ دراصل عُتُوًّ تھا ضمہ کو کسرہ سے بدلا تو واؤ یا ہوگیا عُتیًّا پوا پھر عین کے ضمہ کو بھی کسرہ سے بدلاتا کہ تبدیلی کی مزید تاکید ہوجائے اس طرح عتیاً ہوگیا (لغات القرآن) اور بعض حضرات نے عِتیًّا کو عادتٍ کی جمع بنایا ہے یعنی سرکشی کرنے والے۔ قولہ : صِلِیًّا یہ صلیٰ یَصلِی کا مصدر سماعی ہے، دخل ہونا۔ قولہ : واردٌ پہنچنے والا، مراد پلصراط سے گزرنا ہے شارح مسلم علامہ نووی نے اسی کو ترجیح دی ہے نَذَرُ ای نترک ۔ تفسیر و تشریح وَیَقُوْلُ الاِنْسَانُ یہ منکر آخرت انسان استبعاد و انکار کے طور پر یوں کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا اور مٹی ہوجاؤں گا تو مجھے دوبارہ کس طرح زندہ کرکے قبر سے نکالا جائے گا ؟ اگرچہ انسان سے مراد جنس انسان ہے ہر منکر بعث کا یہی قول ہے مگر اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ایک روز ابی ابن خلف ایک بوسیدہ ہڈی لیکر آیا اور آنحضرت ﷺ کے سامنے اس ہڈی کو رگڑ کر ہوا میں اڑاتے ہوئے کہا کہ اے محمد یہ کیسے ممکن ہے کہ اس بوسیدہ ہڈی کو دوبارہ زندہ کردیا جائے۔ (روح البیان) لہٰذا میں اس کو تسلیم نہیں کرتا کہ میرے مرنے کے بعد مجھے زندہ کرکے دوبارہ قبر سے نکالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس شخص کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ جب پہلی مرتبہ بغیر نمونہ کے جب کہ کہیں اس کا نام و نشان نہیں تھا تو ہم نے انسان کو پیدا کردیا تو دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے کیونکر مشکل ہوگا ؟ بھلا اس سے پوچھو تو کہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے یا دوسری مرتبہ، انسان کتنا نادان اور خود فراموش ہے ؟ اسی خود فراموشی نے اس کو خدا فراموش بنادیا ہے۔ فواربِّک قسم ہے اے محمد ﷺ تیرے پروردگار کی کہ ہم دوبارہ صرف انہی کو نہیں بلکہ ان شیاطین کو بھی زندہ کریں گے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا یا جن کی وہ عبادت کرتے تھے پھر ہم ان کو اس حال میں جہنم کے گرد جمع کردیں گے یہ لوگ محشر کی ہولناکی اور حساب کے خود سے گھٹنوں کے بل پڑے ہوں گے۔ ابتداءً حشر کے وقت مومنین اور کفار، سعداء اور اشقیاء سب جہنم کے گرد جمع کیے جائیں گے اور سب پر ہیبت طاری ہوگی سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے پھر مومنین اور سعداء کو جہنم سے عبور کراکر جنت میں داخل کیا جائے گا تاکہ جہنم کے اس منظر کو دیکھنے کے بعد ان کو مکمل اور دائمی خوشی حاصل ہو، پھر ہم ہر گمراہ فرقہ کے بڑے بڑے سرکشوں اور لیڈروں کو الگ کرلیں گے اور ان کو جمع کر کے جہنم میں پھنک دیں گے کیونکہ یہ قائدین دوسرے جہنمیوں کے مقابلہ میں سزا کے زیادہ سزاوار ہیں۔ وان منکم الا واردھا یعنی کوئی انسان مومن ہو یا کافر ایسا نہ رہے گا کہ جس کا گذر جہنم پر نہ ہو، ورود سے مراد مرور اور عبور ہے جیسا کہ ابن مسعود ؓ کی ایک روایت میں لفظ مرور آیا ہے اور اگر دخول مراد لیا جائے تو مومنین متقیین کا دخول اس طرح ہوگا کہ جہنم ان کے لئے بردوسلام بن جائے گا جیسا کہ (ابو سَمیّہ) کی روایت میں بھی مضمون وارد ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی ورود سے مرور مراد لینے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم کے اوپر ایک پل بنایا جائے گا جس پر سے ہر مومن و کافر کو گزرنا ہوگا مومن تو اپنے اعمال کے مطابق جلد یا بدیر گزر جائیں گے کچھ تو پلک جھپکنے میں اور کچھ بجلی اور ہوا کی طرح کچھ پرندوں کی طرح اور کچھ عمدہ گھوڑوں اور دیگر سواریوں کی طرح گزر جائیں گے کچھ بالکل صحیح سالم اور کچھ زخمی تاہم کسی نہ کسی طرح پل کو عبور کرلیں کچھ جہنم میں گرپڑیں گے بعد میں شفاعت کے ذریعہ میں شفاعت کے ذریعہ نکال لیا جائے گا، لیکن کافر اس پل کو عبور کرنے میں کامیاب نہ ہوں گے اور سب جہنم رسید ہوجائیں گے، اس حدیث کے مضمون کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں فرمایا ہے کہ جس کے تین بچے بلوغت سے پہلے وفات پاگئے اس آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم حلال کرنے کے لئے۔ (بخاری کتاب الجنائز و مسلم کتاب البر) یہ قسم وہی ہے کہ جس کو اس آیت میں حتماً مقضیاً (قطعی فیصل شدہ امر کہا گیا ہے) یعنی ان کا ورود صرف گزرنے کی حد تک ہوگا۔
Ayahs 19:73–75

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں ؟

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیے جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

واذا تتلی علیھم آیتنا جب ان منکروں اور کافروں کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن میں مومنین کا حق پر ہونا مدلل اور معقول طریقہ سے ثابت کردیا جاتا ہے اور کافر کھسیانے اور لاجواب ہوجاتے ہیں تو (کھسیانی بلی کھمبا نوچے) کے مطابق اپنی کھسیاہٹ مٹانے کے لئے بےجوڑ اور بےتکی باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں یعنی قرآنی دعوت کا مقابلہ یہ کفار مکہ فقراء مسلمین اور اغنیاء اقریش اور ان کی مجلسوں اور مکانوں کے باہمی موازنے سے کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں عمار، بلال، صہیب ؓ جیسے لوگ ہیں ان کا دار المشورہ دار ارقم ہے جن کہ کافروں میں ابو جہل، نضر بن حارث، عتبہ، شیبہ جیسے رئیس اور ان کی عالی شان کوٹھیاں اور مکانات ہیں اور ان کا دار المشورہ (دار الندوہ) بہت عمدہ ہے، یعنی مال و دولت اور شان و شوکت میں ہم تم سے بڑھے ہوئے ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ ہم محبوب اور مقبول ہیں اور تم مغضوب و مخذول ہو، آگے اللہ تعالیٰ ان کی اس دلیل کے دو جواب دیتے ہیں ایک الزامی اور دوسرا تحقیقی، الزامی جواب کو اللہ تعالیٰ نے وَکَمْ اَھْلَکْنَا ھُمْ سے بیان فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں ایسی نہیں کہ ان پر فخر و ناز کیا جائے یا ان کو دیکھ کر حق و باطل کا فیصلہ کیا جائے یہ چیزیں تو تم سے پہلی امتوں کے پاس بھی تھیں، لیکن تکذیب حق کی پاداش میں انہیں ہلاک کردیا گیا دنیا کا یہ مال و اسباب انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ دوسرے تحقیقی جواب کو اللہ تعالیٰ اپنے قول قُلْ مَنْ کانَ فِی الضَّلٰلۃِ سے ارشاد فرماتے ہیں، اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ چیزیں گمراہوں کو مہلت اور ڈھیل کے طور پر ملتی ہیں اس لئے یہ کوئی حق و باطل کا معیار نہیں، اصل اچھے برے کا پتہ تو اس وقت چلے گا کہ جب مہلت عمل ختم ہوجائے گی، اور اللہ کا عذاب انہیں آگھیرے گا اور یا قیامت برپا ہوجائے گی، لیکن اس وقت کا علم کچھ فائدہ نہ دے گا، اس لئے کہ وہاں ازالے اور تدارک کی کوئی صورت نہیں رہے گی، وہاں جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ کر یہ کافر خود ہی فیصلہ کرلیں گے کہ برا مکان کس کا ہے ؟ اور جتھا کس کا کمزور ہے ؟
Ayahs 19:76–82

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا ؟

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے ؟ یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے ؟

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھے جاتے اور اس کے لیے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے (موجب عزت و) مدد ہوں

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ معبودان باطل انکی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (و مخالف) ہوں گے

آیت نمبر 76 تا 82 ترجمہ : اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان آیات کے ذریعہ جن کو ان پر نازل کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تو وہ وہ طاعات ہیں جو طاعت گزار کے لئے باقی رہتی ہیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں یعنی وہ ثواب اور اجر جو اس کو حاصل ہوگا وہ بہتر ہوگا بخلاف اعمال کفار کے اور یہاں (اسم تفضیل) خیر کا استعمال ان کے قول اَیُّ الفریقین خیرٌ مقامًا کے مقابلہ میں ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ؟ جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور وہ عاص ابن وائل ہے جس سے (حضرت) خباب ابن ارت نے کہا تھا کہ تو مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھایا جائے گا اور خباب ابن ارت کا عاص بن وائل کے ذمہ (کچھ) مالی مطالبہ تھا تو عاص ابن وائل نے (تقاضہ) کے جواب میں کہا کہ بعث بعد الموت کی صورت میں مجھے تو مال اور اولاد ضروردی جائے گی تو اس وقت میں تیرا مطالبہ ادا کر دوں گا، اللہ تعالیٰ نے (جواباً ) فرمایا کیا یہ (شخص) غیب پر مطلع ہوگیا ہے ؟ یا اس کو یہ بتادیا ہے کہ اس نے کہا ہے اس کو دیا جائے گا اور ہمزہ استفہام کی وجہ سے ہمزہ وصل کی ضرورت نہیں رہی لہٰذا حذف کردیا گیا، یا اس نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے یہ کہ جو اس نے کہا ہے اور اس کو دیا جائے گا ایسا ہرگز نہیں ہے یعنی یہ اس کو نہیں دیا جائے گا یہ جو بھی کہہ رہا ہے اس کو ضرور لکھ لیں گے یعنی (ملائکہ) کو اس کے لکھنے کا حکم کریں گے اور اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے یعنی ہم اس کے کفر کے عذاب پر اس کی (ان) باتوں کے عذاب کا اضافہ کردیں گے اور قیامت کے دن ہمارے پاس تن تنہا آئے گا نہ اس کے پاس مال ہوگا اور نہ اولاد اور ان کفار مکہ نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا ہے جن کی یہ بندگی کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزت ہوں یعنی وہ (بت) اللہ کے پاس سفارش کریں کہ ان کو عذاب نہ دیا جائے لیکن ہرگز ایس انہ ہوگا یعنی ان کو عذاب دینے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوگی وہ معبود ان (باطلہ) تو ان کی پوجا کے بھی منکر ہوجائیں گے یعنی ان کی پوجا کردیں گے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا مَا کاَنُوْا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ ” یہ لوگ ہماری پوجا کرتے ہی نہیں تھے “ اور (الٹے) ان کے مخالف اور دشمن ہوجائیں گے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد قولہ : وَیَزیدُکا عطف فَلْیَمْدُدْ پر ہے معنی کے اعتبار سے ای یَمُدُّ وَیَزِیْدُ اللہُ الَّذِیْنَ الخ جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اَفَرَایْتَ میں استفہام تعجبی ہے قولہ : العاص بن وائل عاص ابن وائل فاتح مصر حضرت عمر کے والد ہیں اور عمر بن عبداللہ کے والد ہیں جہ کہ مشہور عبادلہ اربعہ میں سے ایک ہیں ترتیب اس طرح ہے، عبد اللہ بن عمر بن عاص بن وائل خباب بن ارت بدری ہیں اور فقراء صحابہ میں سے ہیں اُوْتِیَنَّ اِیتاءٌ سے مضارع واحد متکلم مجہول بانون تاکید ثقیلہ ہے، مجھے ضرور ملے گا لام قسمیہ ہے ای واللہ لاُوْتِیَنَّ اَطَّلَعَ الغَیْبَ اصل میں أاَطَّلَعَ تھا ان میں اول ہمزہ استفہام اور دوسرا ہمزہ وصل ہے ہمزہ وصل کو تخفیفاً حذف کردیا گیا۔ قولہ : کَلاَّ نحویین کے اس میں چھ اقوال ہیں مگر راجح تر یہ ہے کہ یہ صرف زجر و ردع ہے قرآن میں اس کلمہ کا استعمال تینتیس مقام پر ہوا ہے اور یہ سب کے سب نصف ثانی میں ہیں سَنَکْتُبُ میں سین تاکید کے لئے ہے۔ قولہ : وَنَرِثَہٗ ما یقول ای نَسْلُبُہٗ وناخذہٗ منہ یعنی جس مال و اولاد پر فخر کر رہا ہے اس کو ہم سلب کرلیں گے اور دنیا سے وہ خالی ہاتھ جائے گا وَاتَّخَذُوْا اَلاَوْثانَ اتخذوا کا مفعول اول ہے اور آلِھَۃً مفعول ثانی ہے ضِدَّا بمعنی اضداداً ہے یا مصدر بمعنی جمع ہے۔ تفسیر و تشریح ویزید الظالمین اس میں ایک دوسرے اصول کا ذکر ہے کہ جس طرح جن کے دلوں میں کفر و شرک اور ضلالت کا روگ ہے قرآن کے ذریعہ ان کی شقاوت اور ضلالت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح اہل ایمان کے دل ایمان اور ہدایت میں اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ والبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ اس میں فقراء مسلمین کو تسلی ہے کہ کفار اور مشرکین جن مال و اسباب پر فخر کرتے ہیں وہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے اور تم جو نیک اعمال کرتے ہو یہ ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں جن کا اجر وثواب تمہیں اپنے رب کے یہاں ملے گا اور ان کا بہترین صلہ اور نفع تمہاری طرف لوٹے گا۔ والبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں جن کی تفصیل سورة کہف میں گزر چکی ہے مگر مختار مذہب یہی ہے کہ ان سے مراد تمام طاعات اور نیک کام ہیں۔ شان نزول : اَفَرَأیت الذی کفر بآیٰتِنَا ان آیات کے شان نزول میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عمر ؓ بن عاص کا والد عاص بن وائل جو اسلام کے شدید دشمنوں میں سے تھا اس کے ذمہ حضرت خباب ابن الارت کا قرضہ تھا جو آہنگری کا کام کرتے تھے حضرت خباب ؓ نے ایک روز عاص ابن وائل سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہ کرے گا میں تجھے تیری رقم نہیں دوں گا، حضرت خباب ابن الارت نے جواب دیا کہ یہ کام تو اگر تو مر کر دوبارہ زندہ بھی ہوجائے تب بھی نہ کروں گا، اس نے جواب دیا اچھا پھر ایسے ہی سہی، جب مجھے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا اور وہاں بھی مجھے مال اور اولاد سے نوازا جائے گا وہاں میں یہ رقم ادا کر دوں گا۔ (صحیح بخاری کتاب البیوع باب ذکر القبن والحداد) اَطَّلَعَ الغیبَ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو دعویٰ کر رہا ہے کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہاں بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہوگی ؟ یا اللہ سے اس کا کوئی عہد ہے ؟ ایسا ہرگز نہیں ہے یہ صرف تَعَلِّی اور آیات الٰہی کا استہزاء اور تمسخر ہے یہ جس مال اور اولاد کی بات کر رہا ہے اس کے وارث تو ہم ہیں یعنی مرنے کے ساتھ ہی انسے اس کا تعلق ختم ہوجائے گا اور ہماری بارگاہ میں یہ اکیلا آئے گا نہ مال ساتھ ہوگا اور نہ اولاد نہ کوئی جتھہ، البتہ عذاب ہوگا جو اس کے لئے اور ان جیسوں کے لئے ہم بڑھاتے رہتے ہیں۔ عِزًّا کا مطلب یہ ہے کہ یہ معبود ان کے لئے عزت کا باعث اور مددگار ہوں گے اور ضِدًّا کے معنی ہیں دشمن، جھٹلانے والے اور ان کے خلاف دوسروں کی مدد کرنے والے، یعنی یہ معبود ان کے گمان کے برعکس ان کے حمایتی ہونے کی بجائے ان کے دشمن ان کو جھٹلانے والے اور ان کے خلاف دوسروں کے مددگار یعنی ان کے گمان کے برعکس ان کے مددگار ہونے کے بجائے الٹے ان کے دشمن اور ان کے مخالف ہوں گے۔
Ayahs 19:83–98

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں ؟

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

تو تم ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کرو اور ہم تو ان کیلیے دن شمار کر رہے ہیں

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

(ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لاتے ہو

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

قریب ہے کہ اس (افترا) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گرپڑیں

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

اس نے ان (سب) کو (اپنے علم سے) گھیر رکھا اور (ایک ایک کو) شمار کر رکھا ہے

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے خدا انکی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کر دے گا

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچادو اور جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو ؟

آیت نمبر 83 تا 98 ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور اجازت سے مراد) شھادۃ ان لا الٰہ الاَّ اللہ ولا حول ولا قوۃ الاَّ باللہ کا اقرار ہے اور یہودو نصاریٰ نے اور ان لوگوں نے کہ جن کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں کہا کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے یقیناً بڑی بھاری یعنی بڑی ناپسندیدہ بات کہی ہے تکاد تا اور یا کے ساتھ ہے، قریب ہے کہ اس بات کی (نحوست) کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ہوجائے پھٹ کر اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گرجائیں یعنی ان کے اوپر گرجائیں اس وجہ سے کہ انہوں نے رحمٰن کے لئے اولاد قرار دی ہے یَنْفَطِرنَ نون کے ساتھ ہے اور ایک قرأت میں یَتَفَطَّرْنَ تا اور یا اور طا مشددہ کے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا شان رحمٰن کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے یعنی یہ اس کی شایان شان نہیں زمین و آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے سب کے سب اللہ کے سامنے بندے بن کر حاضر ہونے والے ہیں یعنی ذلیل خوار ہو کر قیامت کے دن اور انہیں میں سے عزیر (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ان سب کا اس نے احاطہ کر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح شمار کر رکھا ہے لہٰذا نہ تو اس سے ان کی مجموعی تعداد مخفی ہے اور نہ ان کا کوئی فرد اور یہ سب کے سب اس کے پاس قیامت کے دن تن تنہا حاضر ہوں کے مال اور مددگار کے بغیر جو اس کی حفاظت کرسکے بیشک جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اللہ تعالیٰ ان کے درمیان (باہمی) محبت پیدا کر دے گا وہ آپس میں مؤدت اور محبت رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت رکھیں گے ہم نے اس قرآن کو آپ کی عربی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ ایمان کی بدولت جہنم سے ڈرنے والوں کو خوشخبری سنائیں ایک نسخہ لِتُبشر بہٖ المتقین الجنۃ الفائزین بالایمان ” تاکہ آپ اس قرآن کی بدولت ایمان کے ذریعہ کامیاب ہونے والوں کو جنت کی خوشخبری سنائیں اور جھگڑنے والی قوم کو اس کے ذریعہ ڈرائیں لُدًّا اَلَدُّ کی جمع ہے یعنی باطل کے ذریعہ بہت زیادہ خصومت کرنے والے کو، اور وہ کفار مکہ ہیں اور ہم نے اس سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا ہے یعنی گذشتہ امتوں میں سے (بہت سی امتوں کو) رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے کیا ان میں سے آپ ایک کی بھی آہٹ پاتے ہیں یا ان کی آواز کی بھنک بھی آپ کے کان میں پڑتی ہے یعنی خفی آواز، نہیں، تو ہم نے جس طرح ان کو ہلاک کردیا ان کو بھی ہلاک کردیں گے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد تَؤُزُّ مضارع واحد مونث غائب (ن) اَزًّا ابھارنا اَزًّا تَؤُزُّ کا مفعول مطلق ہے اَلاَزْ فی الاصل الحرکۃ مع صوت متصل ماخوذ من آزیز القدر ای غلیانیہ والمراد تعجیب الرسول ﷺ من اقاویل الکفرۃ (روح البیان) ۔ قولہ : اَو الأنفاس یہ نَعُدُّلَھُمْ کی دوسری تفسیر ہے اِنَّمَا نَعُدُّ لَھُمَ فلا تعجل کی علت ہے عَدًّا نَعُدُّ کا مفعول مطلق ہے یوم نَحْشُرُ اذکر فعل محذوف کا ظرف ہے یَومَ نَحْشُرُ کا عامل لا یَمْلِکُوْنَ ہے اور نَعُدُّ بھی ہوسکتا ہے ورْدًا وارد کی اسم جمع ہے، پیاسا، گھاٹ پر آنے والا لا یَمْلِکُوْنَ المجرمِیْنَ سے جملہ ہو کر حال ہے اِلاَّ مَنِ اتَّخَذَ لا یَمْلِکُوْنَ کی ضمیر سے مستثنیٰ متصل ہے یَتَفَطَّرْنَ تَفَطَّرَ سے مضارع جمع مونث غائب، وہ پھٹ پڑیں ھذا تخِرُّ کا مفعول مطلقاً بغیر لفظہٖ ہے تَخِرُّ بمعنی تَھدّ ہے ای تَھُدُّ ھذا اور ھذا الجبالُ سے حال بھی ہوسکتا ہے مفسر علام نے من اجل مقدر مان کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ اَنْ دَعَوْ لِلرحمٰنِ وَلَدًا تَنْشَقُّ اور تَخِرُّ کا مفعول لہٗ ہے اور محل میں نصب کے ہے اَن سے پہلے لام محذوف مان کر جملہ محلاً مجرور بھی ہوسکتا ہے محلاً مرفوع بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اَنْ مصدریہ ہوگا، اور تقدیر عبارت یہ ہوگی الموجبُ لِذٰلک دعاءھم للرحمٰن ولَدًا اِن کل مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ والاَرْضِ میں مَنْ نکرہ موصوفہ ہے فی السموٰت اس کی صفت ہے، موصوف باصفت کل سے ملکر مبتداء الا آتیٍ اس کی خبر، آتیٍ کلُّ کے لفظ کی رعایت سے واحد لایا گیا ہے وُدًّا محبت، دوستی (س) لُدًّا اَلَدُّ کی جمع ہے جھگڑا کرنے والے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ قولہ : العربی کے اضافہ سے مقصد بتانا ہے کہ یہاں لسان سے مراد لغت عربی ہے نہ کہ زبان (یعنی آلہ) رِکْزًا اسم ہے بھٹک، آہٹ۔ تفسیر و تشریح الم تر انا ارسلنا الخ کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم کافروں کے پاس گمراہ کرنے اور بہکانے نیز معصیت میں مبتلا کرنے کے لئے شیاطین کو بھیجتے ہیں یہاں تک کہ وہ کافروں کو کفر و ضلال پر خوب ابھارتے ہیں، لہٰذا آپ ان کافروں کے لئے عذاب میں جلدی مبتلا ہونے کی درخواست نہ کریں ہم خود ہی ان کے شب و روز، اقوال و افعال حتی کہ انکے انفاس بھی شمار کر رہے ہیں جب ان کی تعداد پوری ہوجائے گی اور پانی سر سے گذر جائے گا اور پاپ کا گھڑا بھر جائے گا تو عذاب الٰہی اور قہر خداوندی میں مبتلا ہوجائیں گے۔ اذکر یوم نحشر المتقین اس دن کو یاد کرو کہ جس دن متقیوں کو اونٹوں گھوڑوں یا ان کی من پسند سواریوں پر سوار کرا کے مہمانوں کے مانند نہایت عزت و احترام سے جنت کی طرف لیجائیں گے اور اس کے برعکس مجرموں کو بھوکا پیاسا جہنم میں نہایت ذلت کے ساتھ ہانک دیں گے، اور وہاں ان کا کوئی حمایتی اور سفارشی بھی نہ ہوگا اس لئے کہ وہاں کسی کو کسی کی سفارش کرنے کا اختیار نہ ہوگا بجز اس کے کہ جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لے لی ہو اور اجازت بھی انبیاء اور صلحا کو ملے گی اور یہ حضرات سفارش بھی صرف مومنین کی کریں گے وقالوا اتخذ الرحمٰن ولَدًا یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار کر رکھی ہے یقیناً یہ عقیدہ ایسا خطرناک اور بھیانک ہے کہ بعید نہیں کہ اس قبیح اور مذموم عقیدہ کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑجائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں وما ینبغی للرحمٰن الخ جب اللہ کے غلام اور اس کے عاجز بندے ہیں تو پھر اس کو اولاد کی ضرورت ہی کیا ہے اور یہ اس کی شایان شان بھی نہیں ہے، اس نے سب کو احاطۂ قدرت میں لے رکھا ہے سب کے سب اس کے قابو اور گرفت میں ہیں اور سب کو اس نے شمار کر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ اس سے کوئی شئ مخفی نہیں ہے وکلھم آتیہٖ یوم القِیَامَۃ فردًا ہر شخص قیامت کے دن تن تنہا حاضر ہوگا نہ مال ساتھ آئے گا اور نہ حمایتی، جن کے بارے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ میرے حمایتی اور مددگارہوں گے وہاں سب غائب ہوجائیں گے یَومَ لا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلابنون۔ اِنَّ الَّذِیْں آمَنُوْا وعَمِلوا الصّٰلِحٰت الخ ماقبل کی آیات میں مومنین کی نعمتوں اور کافریں کی نقمتوں کا ذکر تھا، اب آخر میں مومنین صالحین کی ایک بڑی نعمت کا ذکر فرماتے ہیں، اس لئے کہ نعمت کا اصل مقصد راحت قلبی ہے اور محبت سے بھی دل کو سکون اور راحت حاصل ہوتی ہے جو کہ حاصل ہے تمام نعمتوں کا، اللہ تعالیٰ صالحین کی الفت اور محبت اہل دنیا کے دل میں اس کی نیکی اور پارسائی کی وجہ سے ڈال دیتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی نیک بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جبرائیل (علیہ السلام) سے فرماتے ہیں کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر پس جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر جبرائیل (علیہ السلام) آسمانوں میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتے ہیں تو تمام آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے قبولیت رکھ دی جاتی ہے، ” صحیح بخاری کتاب الادب باب المقت من اللہ تعالیٰ “ فَاِنَّمَا یَسَّرْنَاہ الخ قرآن کو آسان کرنے کا مطلب قرآن کو اس زبان میں نازل کرنا ہے جس کو پیغمبر جانتا ہو، نیز اس کے مضامین کا واضح اور کھلا ہوا ہونا، یہ مطلب نہیں ہے کہ قرآن اولاً مشکل تھا پھر اس کو آسان کردیا تاکہ آپ اس کے ذریعہ پرہیزگاروں اور متقیوں کو خوشخبری سنائیں اور جھگڑا لو یعنی کفار اور مشرکین کو عذاب آخرت سے ڈرائیں اوتَسْمَعُ لَہٗ رکزًا مطلب یہ ہے کہ سب حکومت و سلطنت نیز شان و شوکت اور قوت و طاقت والے جب اللہ کے عذاب میں پکڑے گئے تو ایسے ہوگئے کہ ان کی کوئی مخفی آواز اور حس و حرکت بھی سنائی نہیں دیتی۔ تم بحمد اللہ