18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سُورۃُ الکَھْفِ مکِّیَّۃ اِلاَّوَاصْبِرْ نَفْسَکَ الآیۃ مائۃ وعشر آیاتاو خمس عشرۃ آیۃ سورة کہف مکی ہے، سوائے وَاصْبِرْ نفْسَکَ (الآیہ) کے ایک سو دس یا ایک سو پندرہ آیات ہیں آیت نمبر 1 ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، حمد صفات کمالیہ بیان کرنے کو کہتے ہیں، ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے، اَیا جملہ خبریہ کے استعمال سے ثبوت حمد پر ایمان کی خبر دینا مقصود ہے یا (انشاء) ثناء مقصود ہے یا دونوں مقصود ہیں یہ کل تین احتمالات ہیں، ان میں تیسرا احتمال زیادہ مفید ہے جس نے اپنے بندے محمد ﷺ پر کتاب قرآن نازل فرمائی اور اس میں کسی قسم کی کجی یعنی لفظی اختلاف اور معنوی تناقض نہیں رکھا، اور جملہ لَمْ یَجْعَلْ لَہٗ ، کتابٌ سے حال ہے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد عِوَجٌ بالکسر فساد فی المعانی اور بالفتح فساد فی الاجسام یعنی َعَوَج ایسی کجی جو جوارح سے محسوس ہو، اور عِوَج ایسی کجی جو عقل سے محسوس ہو، مگر یہ قاعدہ اکثری ہے کلیہ نہیں۔ وَھَل المراد الاعلامُ بذلک اس سوالیہ جملہ سے شارح علام کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جملہ خبریہ کے ذریعہ جو ثبوت حمد کی خبر دی گئی ہے اس سے تین مرادیں ہوسکتی ہیں (1) یا تو اس بات کی خبر دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوصاف کمالیہ ازلی وابدی ہیں، اس صورت میں جملہ لفظاً اور معناً خبریہ ہوگا، اور خبر دینے کے لئے ثابت محذوف نکال کر جملہ اسمیہ اختیار کرنے مقصد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندوں کے لئے ضروری ہے کہ خداوند قدوس کے لئے کمالات کے ازلی وابدی ہونے کا اعتقاد رکھیں (2) یا مقصد انشاء حمد ہے اسی کو مفسر علام نے او الثناء بہ سے تعبیر کیا ہے، اس صورت میں جملہ لفظاً خبریہ اور معناً انشائیہ ہوگا، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَحْمدُ واُنثی حمدًا لِنَفْسِیْ لعجز خلقی من کنہ حمدی (3) یا دونوں مقصود ہیں اس کی طرف اپنے قول اوھما سے اشارہ فرمایا ہے، یعنی اخبار حمد اور انشاء حمد دونوں مقصود ہوں گے، اس صورت میں جملہ کا استعمال خبر اور انشاء دونوں میں ہوگا، اور یہ حقیقت ومجاز کے اجتماع کے طور پر ہوگا، مگر خبر میں حقیقت اور انشاء میں مجاز ہوگا، اور مقصد ثبوت حمد پر ایمان کی خبر دینا اور انشاء حمد کرنا ہوگا۔ اَفْیَدُھَا ثالث شارح علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ تینوں صورتوں میں تیسری صورت زیادہ مفید اور بہتر ہے، اس لئے کہ اس صورت میں اخبار اور انشاء دونوں مقصود بالذات ہوجاتے ہیں، بخلاف پہلی دونوں صورتوں کے کہ ان میں ایک مقصود بالذات اور دوسرا مقصود بالتبع ہوتا ہے، اگر تو اعتراض کرے کہ انشاءِ ثناء اخبار بالثناء کو مستلزم ہے، بایں طور کہ انشاء حمد کرنے والا بھی حمد کرنے والا ہوتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ مقصود بالذات اور مقصود بالتبع میں فرق ہوتا ہے، مثلاً اگر جملہ کو فقط خبریہ قرار دیا جائے تو اس صورت میں اخبار بالحمد قصداً ہوگی مگر انشاء ثناء تبعاً ہوگی اور اگر جملہ کو فقط انشائیہ قرار دیا جائے تو اس صورت میں انشاء حمد تو قصداً ہوگی مگر اخبار بالحمد ضمناً اور تبعاً ہوگی، اور اگر دونوں یعنی جملہ خبریہ اور انشائیہ قرار دیا جائے تو اخبار اور انشاء دونوں قصداً ہوں گے قولہ اَلّذِیْ اَنْزَلَ (الآیہ) ثبوت حمد کے لئے علت کے قائم مقام ہے اس لئے کہ موصول، صلہ سے مل کر جب صفت واقع ہو اور صلہ مشتق ہو تو ایسی صفت موصوف کے لئے ثبوت حکم کی علت ہوا کرتی ہے، اسی قاعدہ کے مطابق الذی انزَلَ ، الحمد ثابت للہ کے لئے علت ہوگی، یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے حمد اس لئے ہے کہ اس نے قرآن نازل فرمایا۔ الحمد کے بعد ھو الوصف بالجمیل کے اضافہ کا مقصد حمد کے معنی کو بیان کرنا ہے اور ثابت مقدر مان کر یہ بتانا ہے کہ الحمد مبتداء ہے اور للہ ثابت مقدر کے متعلق ہو کر مبتدا کی خبر ہے۔ سوال : ثَبَتَ کے بعد بجائے ثابت اسم فاعل کا صیغہ محذوف ماننے میں کیا فائدہ ہے ؟ جواب : ثابت اسم فاعل استمرار اور دوام پر دلالت کرتا ہے اس سے اشارہ کردیا کہ باری تعالیٰ کے لئے ثبوت حمد دائمی اور ازلی ہے، بخلاف ثَبَتَ کے کہ یہ تجدد اور حدوث پر دلالت کرتا ہے قولہ تناقضاً حذف مضاف کے ساتھ اختلافاً کی صفت ہے تقدیر عبارت یہ ہے اختلافاً ذَا تناقضٍ ، لہ کی تفسیر فیہ سے کر کے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لام بمعنی فی ہے۔ تفسیر وتشریح سورة کہف کے فضائل : اس سورت کے پڑھنے سے گھر میں سکینت و برکت نازل ہوتی ہے، ایک مرتبہ ایک صحابی نے سورة کہف پڑھی گھر میں ایک جانور بھی تھا وہ بدکنا شروع ہوگیا اور کودنے لگا، تو انہوں نے غور سے دیکھا کہ کیا بات ہے ؟ تو انہیں ایک بادل نظر آیا جس نے انہیں ڈھانپ رکھا تھا، صحابی مذکورہ نے اس واقعہ کا ذکر آپ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے پڑھا کرو، اس کے پڑھتے وقت سکینت نازل ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری فضل سورة الکہف) تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن نازل کیا اور اس میں کسی قسم کی کمی باقی نہ چھوڑی۔
Ayahs 18:2–5

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

(بلکہ) سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ (لوگوں کو) عذاب سخت سے جو اسکی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لیے (ان کے کاموں کا) نیک بدلہ (یعنی بہشت) ہے

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ابد الآباد رہیں گے۔

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے۔

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں کہ) یہ جو کچھ کہتے ہیں محض جھوٹ ہے۔

آیت نمبر 2 تا 5 ترجمہ : اور حال یہ ہے کہ وہ بالکل سیدھی مستقیم ہے قَیّمًا کتاب سے حال ثانیہ ہے اور جملہ حالیہ کی تاکید ہے، تاکہ ڈرائے (اللہ) کتاب کے ذریعہ کافروں کو اپنے سخت عذاب سے، جو کہ اس کی طرف سے ہے اور تاکہ ان مومنین کو خوشخبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں یہ کہ ان کے لئے اجر حسن ہے حال یہ ہے کہ وہ اس اجر حسن میں کہ وہ جنت ہے ہمیشہ رہیں گے، اور منجملہ کافروں سے ان کافروں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے اس قول کی نہ ان کے پاس کوئی سند ہے اور نہ ان کے آباء کے پاس جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں اور وہ بھی اسی بات کے قائل تھے اور یہ بات جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے بڑی بھاری ہے، کلمۃً تمیز ہے جو کہ کَبُرَتْ کی ھِیَ ضمیر مبہم کی تفسیر کر رہی ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے اور وہ ان کا قول مذکور (اِتَّخَذَ اللہ ولدًا ہے) اور وہ اس بارے میں جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بکتے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیر فوائد قَیّمًا صیغہ صفت ہے، اس کے دو معنی ہیں (1) درست، مستقیم، جیسے ذلک دین القَیِّمَۃ یہی طریقہ درست ہے (2) درست کرنے والا یعنی ایسی کتاب جو انسانوں کے دنیوی اور اخروی تمام معاملات کو درست کرنے والی ہے، اس صورت میں قیمًا مقوّم کے معنی میں ہوگا قَیّماً یہ الکتاب سے حال ثانی ہے اس صورت میں حال مترادفہ ہوگا، پہلا حال جملہ وَلَمْ یَجْعَل لَّہٗ عِوَجًا ہے، لَہٗ کی ضمیر سے حال ہوگا اس صورت میں حال متداخلہ ہوگا، اور یہ حال مؤکدہ کہلائے گا اس لئے کہ دوسرا حال پہلے حال کے مفہوم کی تاکید کرتا ہے، فعل محذوف کا مفعول ثانی بھی ہوسکتا ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی جَعَلَہٗ قَیّمًا، قولہ لِیُنْذِرَ میں لام تعلیل یا عاقبت کا ہے اور اَنْزَلَ سے متعلق ہے اور لِیُنْذِرَ کا مفعول اول یعنی الکافرین محذوف ہے اور بأسًا شدیدًا مفعول ثانی ہے، اور مِنْ لَدُنْہٗ کائنًا محذوف کے متعلق ہو کر جملہ ہو کر بأسًا کی صفت ثانی ہے، ای باسًا شدیدًا کائنًا منہ یُبَشِّرُ کا عطف یُنْذِرَ پر ہے اور لام کے تحت ہے، المومنین یُبَشِّرُ کا مفعول ہے، اور الذین یعملون الخ المومنین کی صفت ہے أنَّ لَھُمْ کے پہلے ب حرف جار محذوف ہے۔ قولہ ما کِثِیْنَ ، لَھُمْ کی ضمیر سے حال ہے اور فیہِ کی ضمیر کا مرجع اجرً ہے دوسرے ینذر کا عطف لِیُنْذِرَ پر ہے یہ عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے اور اس کا مفعول ثانی محذوف ہے، ای بأسًا شدیدًا، مالھُمْ جملہ مستانفہ ہے اور لَھُمْ خبر مقدم ہے منْ علم مبتداء مؤخر ہے اور من زائدہ ہے اور لا لِآبَائِھِمْ کا خبر پر عطف ہے اور بہ کی ضمیر کا مرجع قول ہے کَبُرَتْ فعل ماضی انشاء ذم کے لئے ہے اس میں ضمیرھی فاعل ہے جو کہ مقالتھم کی طرف راجع ہے کلمۃً تمیز ہے تخرج جملہ ہو کر کلمۃ کی صفت ہے اور مقالتُھُمْ المذکورۃ مخصوص بالذم ہے۔ تفسیری فوائد : قیمًا کے بعد مستقیمًا کا اضافہ تعیین معنی کے لئے ہے اس لئے کہ قیمًا دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک مستقیم سیدھا اور دوسرے مقوّم سیدھا کرنے والا، بعض نسخوں میں بالکتاب کے بجائے یُخَوِّفُ الکتابُ ہے اس صورت میں یُنذِرُ کا فاعل کتاب ہوگی، پیش نظر نسخہ میں بالکتاب ہے لہٰذا یُنذِرُ کا فاعل اللہ ہوگا یا پھر محمد ﷺ ہوں گے، مِنْ قبل اللہ کے اضافہ کا مقصد مِن کے ابتدائیہ ہونے کی طرف اشارہ ہے اور ھو الجنۃ کے اضافہ کا مقصد فیہ کی ضمیر کا مصداق متعین کرنا ہے، اس لئے کہ ہٖ ضمیر اجر کی طرف راجع ہے، مَنْ قَبْلَھُمْ یہ لِآبَائِھِمْ کا بیان ہے اور مراد وہ آباء ہیں جو خدا کے لئے اولاد کے قائل تھے، الاَّ کے بعد مقولاً کا اضافہ کر کے بتادیا کہ کِذبًا کا موصوف مقولاً محذوف ہے۔ تفسیر وتشریح اس سورت کی ابتدائی آیتوں میں چار باتیں بیان کی گئی ہیں (1) حمد باری اور قرآن کریم کی عظمت (2) نزول قرآن کے تین مقاصد (3) حامل قرآن کی ذمہ داری کس قدر ہے ؟ (4) اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات کس مقصد کے لئے پید افرمائی، اور اس کائنات کا انجام کیا ہوگا ؟ اجمال کی تفصیل : تمام تعریفیں اس ذات پاک کے لئے ہیں جس نے اپنے خاص بندے محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل فرمائی، یعنی وہ ذات جس نے کتاب نازل فرمائی تمام خوبیوں پر ہے، اور تمام تعریفوں کے لائق اور بہتر سے بہتر شکر کی مستحق ہے، اور تمام عیوب ونقائص اور کمزوریوں سے منزہ ہے،۔۔۔۔ وحدہ لا شریک ہے، اور اس کتاب میں ذرا بھی کجی نہیں باقی رکھی، نہ لفظی، کہ فصاحت و بلاغت کے خلاف ہو اور نہ معنوی، کہ اس کا کوئی حکم حکمت کے خلاف ہو، اور نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ کافروں کو اپنے سخت عذاب سے ڈرائے، اور اہل ایمان کو جو اعمال صالح بھی کرتے ہیں آخرت میں اچھے انجام یعنی اجر حسن کی خوشخبری سنائے، اور کافروں میں سے بالخصوص ان لوگوں کو ڈرائے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کا عقیدہ رکھتے ہیں، اولاد کا عقیدہ رکھنے والے کافروں کا عام کافروں سے الگ ذکر اس لئے کیا ہے کہ اس باطل عقیدہ میں عرب کے عام لوگ اور یہود و نصاریٰ سب مبتلا تھے، نہ اس کی کوئی دلیل ان کے پاس ہے اور نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس تھی عقیدۂ اولاد کے بارے میں جو بات ان کی زبان سے نکلتی ہے یہ بہت بھاری بات ہے ادنیٰ عقل رکھنے والا شخص بھی اس کا قائل نہیں ہوسکتا۔ لَمْ یجعل لہ عوجًا سے جس مفہوم کو منفی انداز میں بیان کیا گیا ہے اسی مضمون کو قَیّمًا کے ذریعہ مثبت انداز میں بیان کیا گیا ہے، اس لئے کہ مستقیم وہی شئی ہوتی ہے جس میں کجی نہیں ہوتی۔
Ayahs 18:6–8

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم ان کے پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے۔

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کر کے) بنجر میدان کردیں گے۔

آیت نمبر 6 تا 8 ترجمہ : شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ قرآن پر ایمان نہ لائے تو خود کو افسوس کی وجہ سے غم وغصہ میں ہلاک کرلیں گے یعنی ان کے آپ سے اعراض کرنے کے بعد آپ کے ان کے ایمان پر حریص ہونے کی وجہ سے، اور اَسَفًا مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے بیشک ہم نے زمین پر جو کچھ ہے حیوانات اور نباتات اور اشجار وانہار وغیرہ کو زمین کے لئے زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان لوگوں کو آزمائیں۔۔۔ ان لوگوں کو آزمائیں جو اس کی طرف مائل ہیں، کہ ان میں سے کون ما علی الارض کے بارے میں عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے، یعنی ان میں سے کون دنیا سے زیادہ بےرخی کرنے والا ہے اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو چینل میدان کردیں گے یعنی خشک سپاٹ میدان بنادیں گے جو زراعت کے لائق نہ ہو۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد مُھْلِکٌ کا اضافہ بیان معنی کے لئے ہے قولہ بَعْدَھم یہ آثار کی تفسیر ہے اور بَعْدَ تولیھم تفسیر کی تفسیر ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر اتنا غم نہ کیجئے کہ خود کو ہلاک کر ڈالیں لَعَلَّ ترجی اور اشفاق کے لئے آتا ہے، مگر یہاں نہی کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی آپ کو اس قدر زیادہ غم کرنے سے منع کرنے کے لئے آثار اَثَرً کی جمع ہے، ان کے پیچھے یعنی ان کی فکر میں آپ خود کو ہلاک نہ کریں قولہ اِنْ لَمْ یومنوا اس کی دو ترکیبیں ہوسکتی ہیں (1) انْ لم یومنوا شرط ہے اور ما قبل پر اعتماد کرتے ہوئے جزاء محذوف ہے یعنی فلا تھلک نفسک سَک (2) اِنْ لمْ یومِنُوْا شرط مؤخر اور فَلَعَلُّکَ باء۔۔۔۔ اء مقدم قولہ اَسَفًا باخع کا مفعول لہ ہے یا باخع کی ضمیر۔ حال ہے قولہ لحرصکَ یہ علۃ العلۃ ہے یعنی آپ کو اتنا زیادہ غم کیوں ہے اس لئے کہ آپ ان کے ایمان پر حریص ہیں قولہ اناجعلنا یہ جملہ مستانفہ ہے اگر جَعَلَ صَبَّرَ کے معنی میں ہو تو زینۃً اس کا مفعول ثانی ہوگا، لَھَا کا لام زینۃً سے متعلق ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کائنۃً سے متعلق ہو کر زینۃً کی صفت ہو، ما علی الارض مفعول اول ہے اور اگر جَعَلَ بمعنی خَلَقَ ہو تو زینۃً یا تو حال ہوگا یا پھر مفعول لہ قولہ ناظرین الی ذلک یہ مِن الناس سے حال ہے قولہ جُرُزًا صعیداً کی صفت ہے اس میں اسناد مجازی ہے اس لئے کہ جُرُز کے اصل معنی ایسی زمین کے ہیں جس کی گھاس کاٹ دی گئی ہو یہ ما علی الارض کا وصف قرار دیا ہے حالانکہ یہ ارض کا وصف ہے لہٰذا علاقہ مجاورت کی وجہ سے اسناد مجازی ہوگی۔ قولہ اَیُّھُمْ بترکیب اضافی مبتداء ہے اور اَحْسَنُ اس کی خبر اور عملاً تمیز ہے جملہ ہو کر نبلوْا کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے فیہ کی ضمیر کا مرجع ما علی الارض ہے مراد دنیا ومافیہا ہے قولہ اَزَھَدُ لہٗ یہ اَحْسَنُ عملاً کی تفسیر ہے قولہ اَسَفًا کی تفسیر غیضاً وحُزْنًا سے کرنے کا مقصد تعیین معنی ہے اس لئے کہ اَسَفًا متعدد معنی کے لئے آتا ہے قولہ من الحیوان والنبات یہ ما علی الارض کا بیان ہے قولہ ناظرین الی ذلک سے اشارہ ہے کہ ھُمْ ذوالحال ہے اور ناظرین اس سے حال ہے۔ تفسیر وتشریح کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر غم نہ کریں کہ خود کو ہلاک ہی کر ڈالیں، اس آیت میں نفس حزن سے منع نہیں کیا گیا اس لئے کہ کفر پر نفس حزن تو ایمان کی علامت ہے، آپ کو حد سے زیادہ غم کرنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ دنیا عالم امتحان ہے اس میں کفر و ایمان، خیر و شر دونوں رہیں گے اسی امتحان کے لئے ہم نے زمین کی چیزوں کو زمین کے لئے رونق بنایا ہے، تاکہ ہم اس کے ذریعہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں سے زیادہ اچھا عمل کون کرتا ہے یعنی کون دنیا سے اعراض کرتا ہے اور کون اس دنیا کی زینت اور رونق پر مفتون ہو کر آخرت سے غافل ہوجاتا ہے، غرضیلہ یہ عالم ابتلا ہے تکوینی طور پر کوئی مومن رہے گا اور کوئی کافر پھر حد سے زیادہ غم کرنا بیکار ہے، آپ تبلیغ و رسالت کا اپنا کام کرتے رہئے اور باقی معاملہ ہمارے اوپر چھوڑ دیجئے، چناچہ ایک دن ایسا آئے گا کہ ہم زمین کو چٹیل میدان کردیں گے۔
Ayahs 18:9–12

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے ؟

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کام میں درستی (کے سامان) مہیا کر۔

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) کا پردہ ڈالے (یعنی ان کو سلائے) رکھا۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ان کو جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے۔

آیت نمبر 9 تا 12 ترجمہ : کیا آپ خیال کرتے ہیں یعنی گمان کرتے ہیں کہ غار والے اور رقیم والے کہف پہاڑ کے غار کو کہتے ہیں اور رقیم وہ تختی تھی جس میں اصحاب کہف کے نام اور ان کے اسماء کندہ تھے، اور رسول اللہ ﷺ سے ان کا قصہ معلوم کیا گیا تھا، کہ وہ اپنے قصہ کے اعتبار سے ہماری آیات (قدرت) میں کچھ زیادہ عجیب تھے عجبًا کان کی خبر ہے اور اس کا ماقبل (یعنی من آیاتنا) کانوا کی ضمیر سے حال ہے یعنی وہ آیات قدرت میں عجیب تھے نہ کہ باقی آیات، یا عجائبات میں زیادہ عجیب تھے۔ حقیقت حال ایسی نہیں ہے، اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب چند نوجوانوں نے ایک غار میں پناہ لی تھی فِتیۃً فَتِیٌّ کی جمع ہے یعنی کامل نوجوان جب کہ وہ اپنے ایمان کے بارے میں اندیشہ کرتے ہوئے اپنی کافر قوم کے پاس سے نکلے تھے تو اس وقت انہوں نے یہ دعا کی اے ہمارے پروردگار تو ہم اپنے پاس سے یعنی اپنی خصوصی عنایت سے رحمت عطا فرما اور ہمارے معاملہ کو درست فرما تو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر سالہا سال کے لئے پردہ ڈال دیا یعنی ان کو گہری نیند سلا دیا پھر ہم نے ان کو اٹھا یا یعنی بیدار کیا تاکہ ہم علم مشاہدہ کے طور پر معلوم کرلیں کہ ان کی مدت قیام میں اختلاف کرنے والے دو فریقوں میں سے کس نے ان کے قیام کی مدت کو یاد رکھا ؟ اِحضٰی فعل ماضی ہے ضَبَطَ کے معنی میں لِمَا لَبِثُوْا اپنے ما بعد سے متعلق ہے اور امَدًا بمعنی غایت ہے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد اَمْ حَسِبْتَ میں اَم منقطعہ بمغنی استفہام انکاری ہے، یعنی اے محمد ﷺ آپ کو یہ خیال نہ کرنا چاہیے قولہ انَّ اَصْحَابَ الکھفِ جملہ ہو کر حسِبْتَ کا مفعول بہ ہے، اور کانوا مِن آیاتِنَا عَجَبَا جملہ ہو کر انَّ کی خبر ہے اور عجبًا (آیۃ) محذوف کی صفت ہو کر انَّ کی خبر ہے، اور اصحاب الکھف أنَّ کی خبر ہے، اور اصحاب الکھف انّ کا اسم ہے کہف مفرد ہے جمع کھوف واکَھُفٌ ہے بمعنی غار، کہف اور غار میں فرق یہ ہے کہ غار تنگ اور چھوٹی ہوتی ہے اور کہف کشادہ اور بڑی ہوتی ہے رقیم بمعنی مرقوم، لکھا ہوا، نوشتہ، رقیم کے بارے میں مفسرین کے چھ قول ہیں (1) اس بستی کا نام جہاں سے اصحاب کہف نکلے تھے (2) اس پہاڑ کا نام ہے جس میں وہ غار ہے (3) اصحاب کہف کے کتے کا نام ہے (4) اس میدان کا نام ہے جو اس غار کے دامن میں واقع ہے (5) وہ تختی جس میں اصحاب کہف کے نام ونسب و حالات لکھے ہوئے ہیں اور غار کے دہانے پر نصب تھی (6) سیسہ کی وہ لوح جس پر اصحاب کہف کے نام کندہ کر کے شاہی خزانہ میں محفوظ کردی گئی تھی، امام بخاری (رح) نے اس قول کو اپنی صحیح میں تعلیقاً ذکر کیا ہے، حافظ ابن حجر نے اس کی سند کو بخاری کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے ھَیَّئ ھَیَّئ تَھیئۃُ سے فعل امر، اصلاح کرنا، درست کرنا، مہیا کرنا اَحصٰی باب افعال کا فعل ماضی ہے نہ کہ اسم تفصیل اس لئے کہ ثلاثی مزید سے اسم تفضیل افعل کے وزن پر نہیں آتا اَیُّ الحزبین بترک اضافی مبتداء احصٰی ہو کر خبر، احصیٰ کی ضمیر کا مرجع کل واحد من الحزبین ہے، لِمَا لَبِثُوْا بواسطہ حرف جر احصیٰ کا مفعول بہ ہے اور اَمَدًا تمیز ہے قولہ ضَرَبْنَا علیٰ آذانِھِمْ ضرَبْنَاکا مفعول حجاباً محذوف ہے، کلام میں مجاز ہے اس لئے کہ القاء نوم کو ضرب حجاب سے تشبیہ دی ہے اور ضَرَبْنَا بمعنی انَمْنا ہے قولہ عدَدًا بمعنی معدودًا سنین کی صفت ہے۔ تفسیر وتشریح مذکورہ آیات میں اصحاب کہف کے واقعہ کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ اجمال کے بعد تفصیل جاننے کا شوق پیدا ہو، کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور رقیم والے ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے کچھ زیادہ عجیب چیز تھے یا ہمارے عجائبات قدرت میں سب سے زیادہ عجیب چیز تھے، یعنی عجائبات قدرت اور حیرت انگیز نشانیاں تو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں یہ بےستونوں والا آسمان اور یہ عظیم کرہ ارض اور یہ فلک بوس پہاڑ اور ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا اور سمندر کیا کچھ کم عجائبات قدرت ہیں جو تم غار والوں اور رقیم والوں کی داستان پوچھتے ہو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے نزدیک اس واقعہ سے زیادہ کوئی حیرت زا، بات نہیں ہے، حالانکہ یہ واقعہ تو واقعات قدرت میں سے ایک معمولی واقعہ۔ فائدہ : اصحاب کہف کے بعد، الرقیم اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اصحاب کہف متعدد ہیں (1) ضحاک فرماتے ہیں کہ روم کے ایک شہر میں ایک غار ہے جس میں اکیس آدمی لیٹے ہوئے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سو رہے ہیں (2) ابن عطیہ نے ملک شام میں ایک غار کا ذکر کیا ہے جس میں کچھ مردہ لاشیں ہیں اور اس غار کے پاس ایک مسجد بھی ہے (3) ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ساحل عقبہ کے پاس فلسطین سے نیچے ایلہ کے قریب ایک غار ہے (4) ایک واقعہ افسوس شہر کا بیان کیا گیا ہے جس کا اسلامی نام طرطوس ہے، یہ شہر ایشیائے کو چک کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔ غرض کہ اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے غار میں پناہ لینے کے متعدد واقعات ہوئے ہیں، قرآن کریم نے ان واقعات میں سے اصحاب کہف کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جن کے نام اور حالات سیسے کی لوح پر کندہ کر کے شاہی خزانہ میں رکھ لئے گئے تھے، چونکہ یہ نوجوان اونچے خاندان کے چشم وچراغ تھے ان کی اچانک گمشدگی ان کے اہل خاندان اور خود حکومت کے لئے تشویش کا باعث تھی، یہ چند نوجوان زمانہ کی چیرہ دستیوں سے تنگ آکر اور کافر حکمرانوں کے ظلم وستم سے بھاگ کر دین کی حفاظت کے لئے شہر سے نکل گئے تھے اور جنگل میں ایک غار میں پناہ لی تھی، وہاں انہوں نے بارگاہ ایزدی میں گڑ گڑا کر دعاء کی، خدایا تو اپنی خاص مہربانی سے ہم کو نواز دے اور ہمارے دین کی حفاظت فرما اس لئے کہ ہم آپ کی مدد کے بغیر راہ راست پر قائم نہیں رہ سکتے، مخالفت کی آندھیوں کے جھکڑ چل رہے ہیں دشمن ہاتھ دھو کر ہمارے قتل کے پیچھے پڑا ہوا ہے، اپنی جان کا تو ہمیں فکر نہیں کہیں دین کی رسی ہمارے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے، اللہ تعالیٰ نے ان شکستہ دل بندوں کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ان کی حفاظت کا بہترین انتظام فرما دیا۔
Ayahs 18:13–17

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کے حالات تم کو صحیح صحیح بیان کرتے ہیں وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی۔

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا جب وہ (اٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی۔

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سواء اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے پر) کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سواء عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کر دے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا۔

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے۔ جس کو خدا ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کردے تو تم اسکے لیے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔

آیت نمبر 13 تا 17 ترجمہ : ہم آپ کو ان کا صحیح قصہ سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی اور ہم نے ان کے دل قوی کر دئیے تھے یعنی حق بات کہنے کے لئے قوی کر دئیے تھے جب وہ اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس بادشاہ نے ان کو بتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے ہم اس کو چھوڑ کر کسی غیر کی ہرگز بندگی نہ کریں گے اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کی یعنی حد سے گزری ہوئی حرکت کی یعنی بالفرض اگر ہم نے اللہ کے علاوہ کسی غیر کی بندگی کی تو ہم کفر میں حد سے تجاوز کرنے والے ہوں گے یہ ہماری قوم ہے جس نے معبود حقیقی کو چھوڑ کر دوسرے معبود ٹھہرائے ہیں ھٰؤلاء مبتداء ہے قومنا عطف بیان ہے وہ ان پر یعنی ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ یعنی کوئی کھلی دلیل، اس سے بڑا ظالم کون ہوگا یعنی اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں، جو اس کی طرف شریک کی نسبت کر کے اللہ پر بہتان باندھے، نوجوانوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا جب تم نے ان عابدین کو اور اللہ کے علاوہ ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا ہے تو اب کسی غار میں پناہ لو، تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں سہولت مہیا کر دے گا، مرفقًا میم کے کسرہ اور فاء کے فتحہ کے ساتھ ہے اور اس کا عکس بھی، وہ صبح وشام کا کھانا کہ جس سے تم فائدہ اٹھاؤ گے اور جب سورج ہوتا ہے تو (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ ان کی غار کی دائیں جانب کتراتا ہوا نکل جاتا ہے تَذ اؤ ر تشدید اور بلاتشدید دونوں (درست ہے) اور جب ڈھلتا ہے تو ان سے بائیں جانب بچ کر نکل جاتا ہے یعنی ان کو چھوڑ کر کترا کر نکل جاتا ہے، جس کی وجہ سے یقیناً ان پر دھوپ نہیں پڑتی، حال یہ ہے کہ وہ غار کے کشادہ مقام میں ہیں کہ جہاں ان کو ٹھنڈی ہوا اور باد نسیم پہنچتی رہتی ہے یہ یعنی مذکور حالات اس کی نشانیاں یعنی اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں، وہ جس کی چاہے رہبری فرمائے وہ راست پر ہے اور وہ جسے گمراہ کر دے ناممکن ہے کہ آپ اس کا کوئی کارساز اور رہنما پاسکیں۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد فِتْیَۃ ٌ کی جمع ہے جیسا کہ صِبْیَۃ ٌ صَبِیّ کی جمع۔ نوجوان قولہ بالحق متلبسأ کے متعلق ہو کر یا تو نَقُصُّ کے فاعل سے حال ہے یا نَبَاَ مفعول سے حال ہے اِنَّھُمْ فِتْیَۃ ٌ جملہ مستانفہ ہے یعنی ما ھو الخبر الصادق کا جواب ہے آمنوا بِرَبِّھِمْ جملہ ہو کر فتیۃ کی صفت ہے قولہ ربطنا (ن) ربطًا باندھنا، قوی کرنا لَنْ نَدْعُوْا فعل مضارع منصوب بلن جمع متکلم آخر میں واؤ جمع کا نہیں ہے بلکہ لام کلمہ ہے واو جمع کے مشابہ ہونے کی وجہ سے رسم قرآنی کے مطابق اس کے آخر میں الف لکھا جاتا ہے مگر پڑھا نہیں جاتا اور نہ پڑھنے کی علامت کے طور پر اس کے اوپر ایک چھوٹا سا گول دائرہ بنادیا جاتا ہے (یعنی) ہرگز نہیں پکاریں گے قولہ شَطَطًا (ن، ض) شطًّا حد سے تجاوز کرنا حق سے بعید ہونا اِذْقَامُوْا، رَبَطْنَا کا ظرف ہے فَأؤا میں فا جرائیہ ہے اور اِذِا اعْتَذَلْتُمُوْھُمٌ الخ شرط ہے واؤ اشباع کا ہے قولہ قولاً ذا شطط کا اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کیا ہے کہ شططاً حذف مضاف کے ساتھ مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا موصوف قولاً محذوف ہے اور اگر ذَا محذوف نہ مانیں تو مصدر کا حمل مبالغۃ ً ہوگا جیسا کہ زید ٌ عدلٌ میں ہے قولہ فرضًا، فرضًا کا اضافہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غیر اللہ کی بندگی کرنے کا کسی قسم کا امکان نہیں ہے نہ عقلی نہ شرعی اور نہ اخلاقی اگر بفرض المحال ایسا ہو بھی جائے تو یہ بڑی بےجا بات ہوگی قولہ ھٰؤلاء مبتداء ہے اور اِتَّخَذ ُ وْا من دون اللہ اس کی خبر ہے لو لا کی تفسیر ھَلاً سے کر کے اشارہ کردیا کہ لَوْلاَ تحضیضیہ ہے قَومَنَا، ھٰؤلائ سے عطف بیان ہے نیز بدل بھی ہوسکتا ہے قولہ تَذ َا وَرُ اصل میں تَتَز َاوَرُ تھا ایک تا حذف کردی گئی (فعل مضارع واحد مؤنث غائب) قوم کا آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنا اور اگر اس کا صلہ عن ہو تو انحراف کرنا اور اگر اصل تَذ َاوَرُ ہو تو ایک تا کو زا کیا اور زا کو زا میں ادغام کردیا تَقْرِضُھُمْ مضارع واحد مؤنث غائب، قرضاً کاٹنا، کترانا، بچ کر نکل جانا ذَاتَ ذو کا مؤنث ہے، آیت میں ذات کا لفظ زائدہ ہے زینت کلام کیلئے ہے قولہ ذات الیمین وذات الشِّمال تَذ َاوَرُ کا ظرف مکان ہے قولہ ناحیتَہٗ اس کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذات الیمین اور ذات الشمال ظرف مکان ہیں، ای جھت الیمین وجھت الشمال وھم فی فجوۃٍ جملہ حالیہ ہے قولہ مَنْ یھد اللہ فھو المھتد یہ جملہ درمیان قصہ میں معترضہ ہے، مقصد آپ کو تسلی دینا ہے۔ تفسیر و تشریح اولاً اصحاب کہف کا قصہ اجمالاً بیان فرمایا اب نحن نقُصُّ سے تفصیلاً بیان فرماتے ہیں، ارشاد فرمایا ہم آپ سے اصحاب کہف کا قصہ صحیح صحیح بیان کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ قرآنی بیان میں کوئی بات خلاف واقعہ نہیں ہے، اور ہو بھی کیسے سکتی ہے قرآن تو خالق کا ئنات کا کلام ہے جو کائنات کے ہر ذرہ سے واقف ہے البتہ لوگوں میں اصحاب کہف کا واقعہ مختلف طریقوں سے مشہور ہے ان میں صحیح وہ ہے جو ہم بیان کر رہے ہیں، وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی بخشی تھی، یہ چند نوجوان ایک ظالم بادشاہ دقیانوس کے زمانہ میں تھے، بادشاہ غالی متعصب اور بت پرست تھا، اور جبروا کراہ کے ذریعہ بت پرستی کی اشاعت کرتا تھا ان نوجوانوں نے سچادین قبول کرلیا تھا، ان نوجوانوں کا تعلق اونچے گھرانوں اور عمائدین سلطنت سے تھا، حق تعالیٰ نے ان کو ایمان کی دولت سے نوازا تھا، یہ نوجوان کس مذہب پر تھے ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ دین مسیحی پر تھے، لیکن علامہ ابن کثیرنے مختلف قرائن سے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اصحاب کہف کا قصہ مسیح (علیہ السلام) سے پہلے کا ہے مگر صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ یہ واقعہ پہلی صدی عیسوی کا ہے۔ (مزید تحقیق کے لئے قصص القرآن کی طرف رجوع کریں) ۔ غرض کہ ان نوجوانوں کو شاہی دربار میں طلب کیا گیا ان نوجوانوں نے بےجھجک بغیر کسی خوف وہراس کے ظالم بادشاہ کے روبرو اپنے ایمان کا اعلان کردیا، اور اپنی ایمانی جرأت سے لوگوں کو حیرت زدہ کردیا، ارشاد ربانی ہے " اور ہم نے ان کے دل اس وقت مضبوط کر دئیے جب وہ دربار میں بادشاہ کے روبرو جواب دہی یا دعوت دین دینے کے لئے کھڑے ہوئے تھے، تو انہوں نے اپنے پروردگار سے یوں دعا کی، اے ہمارے پروردگار تو ہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے ہم تجھ کو چھوڑ کر کسی غیر کی بندگی نہ کریں گے، اور اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً بہت بےجا بات کرنے والے ہوں گے۔ یہ ہماری قوم جو معبود حقیقی کو چھوڑ کر دوسرے فرضی معبودوں کو اختیار کئے ہوئے ہے یہ ان کے معبود حقیقی ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں پیش نہیں کرتی ؟ لہٰذا اس سے بڑا ظالم کوئی ہو ہی نہیں سکتا جو اللہ پر بہتان باندھے نوجوانوں کی یہ بات سن کر بادشاہ کو ان کی نوجوانی پر کچھ رحم آیا اور کچھ دیگر مشاغل مانع ہوئے اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ عمائدین سلطنت اور بڑے گھرانوں کے چشم چراغ تھے اس لئے یک لخت ان پر ہاتھ ڈالنا مصلحت کے خلاف تھا اس لئے ان کو چند روز کی مہلت دے دی، تاکہ وہ اپنے معاملہ میں غور کرلیں۔ ادھر یہ نوجوان دربار سے نکل کر مشورہ کے لئے بیٹھ گئے، اور یہ طے کیا کہ اب اس شہر میں قیام خطرہ سے خالی نہیں، مناسب یہ ہے کہ کسی قریبی غار میں روپوش ہوجائیں، اور واپسی کے لئے کسی مناسب وقت کا انتظار کریں۔
Ayahs 18:18–20

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ تو سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے۔

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تم اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کونسا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔

آیت نمبر 18 تا 20 ترجمہ : اور اگر آپ ان کو دیکھیں تو بیدار محسوس کریں یعنی بیدار سمجھیں گے اس لئے کہ آنکھیں ان کی کھلی ہوئی ہیں (اَیقاظ) یُقِظ بکسر قاف کی جمع ہے حالانکہ وہ سو رہے ہیں رقود راقد کی جمع ہے اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بدلتے رہتے ہیں تاکہ زمین ان کے گوشت کو نہ کھاجائے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھا ہے یعنی غار کے صحن میں اور جب اصحاب کہف کروٹ لیتے ہیں تو وہ بھی کروٹ لیتا ہے، یعنی نیند اور بیداری میں وہ کتا انہیں کے مانند ہے اور اگر آپ ان کو جھانک کر دیکھیں تو وہاں سے الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوں اور آپ کے اوپر دہشت غالب آجائے (لملئتَ ) لام کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے (رُعْبًا) عین کے سکون اور ضمہ کے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ نے رعب کے ذریعہ ان کی حفاظت فرمائی ہے تاکہ ان کے پاس کوئی داخل نہ ہو سکے اور اسی طرح یعنی جس طرح ہم نے ان کے ساتھ مذکورہ معاملات کئے اسی طرح ہم نے ان کو بیدار کردیا تاکہ وہ اپنے احوال کے بارے میں اور غار میں قیام کی مدت کے بارے میں آپس میں پوچھ تاچھ کریں ان میں سے ایک سوال کرنے والے نے سوال کیا کہ تم (غار میں) کتنی مدت ٹھہرے ہو گے، تو وہ کہنے لگے کہ ہم ایک دن یا اس سے بھی کم ٹھہرے ہوں گے اس لئے کہ وہ غار میں طلوع شمس کے وقت داخل ہوئے تھے، اور غروب کے وقت بیدار ہوئے تو وہ سمجھے کہ یہ دخول ہی کے دن کا غروب ہے، پھر کچھ غور کرنے کے بعد بولے تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے، اب کسی کو یہ چاندی کا روپیہ (سکہ) دے کر شہر بھیجو (بِوَرِقِکُمْ ) میں راء کے سکون اور کسرہ دونوں درست ہیں، کہا جاتا ہے کہ اب اس شہر کو طرطوس فتحہ را کے ساتھ کہتے ہیں اور وہ اس بات کا خیال رکھے کہ کون سا کھانا ستھرا ہے یعنی شہر کا کونسا کھانا حلال ہے پھر اس میں سے وہ تمہارے لئے کچھ کھانا لے آئے اور اس کو چاہیے کہ بیدار مغزی سے کام لے اور ہرگز کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے اگر وہ تمہاری خبر پالیں گے تو یقیناً وہ تم کو سنگسار کردیں گے یا اپنے دھرم میں واپس لے جائیں گے اور اس صورت میں تم ہرگز کامیاب نہ ہو گے، یعنی اگر تم ان کے دھرم میں چلے گئے تو تم کبھی کامیاب نہ ہو گے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد الوَصِیْدُ دہلیز، آستانہ، چوکھٹ، شارح نے کشادہ جگہ یا صحن کے معنی مراد لئے ہیں، باسط ذراعیہ، حکایت حال ماضیہ ہے اس لئے کہ اسم فاعل اگر ماضی کے معنی میں ہو تو عمل نہیں کرتا، بالوصید باسط سے متعلق ہے اور ذِراعَیْہ باسط کا مفعول بہ ہے فِرَارًا وَلَّیْتَ کا مفعول ثانی ہے کَمَا فَعَلْنَا کے اضافہ کا مقصد کذٰلک کے مرجع کو ظاہر کرنا ہے قولہ بَعَثْنَا کی تفسیر اَیْقَظْنَا سے تعیین معنی کے لئے ہے اس لئے کہ بعثنا مختلف معنی میں مستعمل ہے یہاں بیدار ہونے کے معنی مراد ہیں لِیَتَسَاءَلُوْا میں لام عاقبۃ یا سببیہ کا ہے کَمْ ظرفیت کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اس کا ممیز محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے کَمْ مدۃً لبثتم قال قائل منھم، لیتساء لوا کا بیان ہے قولہ اَیُّھَا ازکٰی ایُّھَا مرکب اضافی مبتداء ہے ازکٰی اس کی خبر ہے طعاماً تمیز ہے مضاف الیہ سے منقول ہے ای ازکٰی الطعام پھر جملہ ہو کر یَنْظُرُ کا مفعول بہ ہے اور اَیُّھَا میں ہا ضمیر کا مرجع مدینہ کو قرار دیا جائے اس صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی ای ینظر ایُّ اَھْلِھَا اَطْیَبُ طعَاماً شہر کے باشندوں میں سے کھانے کے معاملہ میں کون پاکیزہ لوگ ہیں (فتح القدیر شو کانی) ۔ قولہ اِذًا کے بعد اِنْ عُدتُمْ نکال کر اشارہ کردیا کہ اِذًا متضمن بمعنی شرط ہے اور لن تفلحوا اس کا جواب ہے۔ تفسیر وتشریح اور اگر آپ ﷺ یا کوئی بھی شخص ان کو دیکھتا تو بیدار محسوس کرتا حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے، کیونکہ اللہ نے قدرت سے ان کو نیند کے آثار و علامات سے محفوظ رکھا تھا، اور وہ اس نیند کی مدت میں ہر چھ ماہ میں کروٹ لیتے تھے، اسی طرح ان کا کتا جو کہ ان کے ساتھ آگیا تھا ہر چھ ماہ میں کروٹ بدلتا تھا، اور وہ دہلیز یا فناء غار میں ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا، اصحاف کہف کے خداداد اور رعب و جلال کی یہ حالت تھی کہ اگر کوئی ان کو جھانک کر دیکھتا تو مارے خوف کے ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا اور اس کے اندر دہشت سما جاتی، اور یہ تمام سامان حق تعالیٰ نے ان کی حفاظت کے لئے جمع کر دئیے تھے۔ فائدہ : حدیث کی رو سے بلاضرورت کتا پالنا ممنوع ہے، البتہ ضرورت مثلاً شکار کے لئے یا گھر اور جانوروں کی حفاظت کے لئے کتا پالا جاسکتا ہے ورنہ اس کے ثواب میں دو قیراط یومیہ کمی ہوجائے گی، اصحاب کہف کا کتا از خود ساتھ ہوگیا تھا، یا ہوسکتا ہے اصحاب کہف کی شریعت میں مطقاً کتا پالنا جائز ہو۔