18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 18:21–26

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ بھی شک نہیں۔ اس وقت لوگ انکے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنادو ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے، جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے۔

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

(بعض لوگ) لوگ بظاہر کچھ کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتا تھا اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا (اور بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملہ) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو اور نہ ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا۔

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا۔

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر (انشاء اللہ کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے۔

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ چتنی مدت وہ رہے اسے خدا ہی خوب جانتا ہے اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں معلوم ہیں وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے اس کے سوا انکا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے

آیت نمبر 21 تا 26 ترجمہ : اور ہم نے اسی جس طرح کہ ان کو بیدار کیا، ان کے حالات پر ان کی قوم کو اور مومنین کو مطلع کردیا تاکہ ان کی قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کا بعث بعد الموت کا وعدہ حق ہے، اس طریقہ پر کہ جو ذات اصحاب کہف کو ایک طویل زمانہ قیامت میں کوئی شک نہیں ہے اِذ، اَعْثَرنَا کا معمول ہے اور جبکہ مومنین اور کفار آپس میں ان نوجوانوں کے لئے (یاد گار کے طور) عمارت کے بنانے میں اختلاف کر رہے تھے، چناچہ کفار نے کہا ان کے اردگرد کوئی یادگاری عمارت بنادو کہ جو ان کو مستور کر دے ان کا رب ان کے احوال سے خوب واقف ہے (آخر کار) ان لوگوں نے جواب نوجوانوں کے معاملہ میں غالب رہے اور وہ مومنین تھے کہ کہا ہم تو ان کے قریب ایک مسجد تعمیر کرائیں گے تاکہ اس میں نماز پڑھی جائے، چناچہ غار کے دہانے پر مسجد بنوا دی گئی، نوجوانوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف کرنے والوں کا قصہ جب آپ کے زمانہ میں (لوگوں) کو سنایا جائے گا تو ان میں سے بعض لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور بعض کہیں گے پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا اور یہ دونوں قول نجران کے نصاریٰ کے ہیں اور یہ لوگ بلا تحقیق اٹکل سے ہانک رہے تھے (یعنی) ان کے بارے میں اندازے سے کہہ رہے ہیں اور رجماً بالغیب کا تعلق مذکورہ دونوں قولوں سے ہے، اور رجماً کا نصب مفعول لہ ہونے کی وجہ سے ہے ای نَظُنُّھُمْ لذٰلِکَ اور مومن کہیں گے ساتھ تھے آٹھواں ان کا کتا تھا جملہ مبتداء اور خبر سے مل کر واؤ کی زیادتی کے ساتھ سبعۃ کی (بلا لحاظ تاکید) صفت ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ واؤ زائدہ ہے تاکیدی معنی کے ساتھ، صفت کے موصوف کے ساتھ لاحق ہونے پر دلالت کرتا ہے اور اول دونوں قولوں کا رجم بالغیب کے ساتھ متصف ہونا نہ کہ تیسرے کا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تیسرا قول ہی پسندیدہ اور صحیح ہے (تاکیدًا اَوْ دلالۃً میں اَوْ بمعنی مع ہے) آپ فرما دیجئے کہ میرا رب ان کی تعداد کو بخوبی جانتا ہے اور ان کی صحیح تعداد بہت کم لوگ جانتے ہیں، ابن عباس ؓ نے فرمایا میں ان کم لوگوں میں سے ہوں اور فرمایا کہ وہ سات ہیں لہٰذا آپ اس معاملہ میں بجز سرسری بحث کے زیادہ بحث نہ کیجئے جو آپ پر نازل کی گئی ہے اور آپ اصحاب کہف کے معاملہ میں ان میں سے کسی سے یعنی اہل مکہ نے اصحاف کہف کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا اس کے بارے میں کل جواب دوں گا مگر آپ ﷺ نے انشاء اللہ نہیں کہا تھا تو اس بارے میں آئندہ آیات نازل ہوئیں اور آپ کسی کام کی نسبت ہرگز یوں نہ کہا کیجئے کہ میں اس کو کل کر دوں گا یعنی زمانہ آئندہ میں کسی بھی کام کے بارے میں (نہ کہا کریں کہ کل کردوں گا) مگر یہ کہ آپ انشاء اللہ کہہ لیا کریں یعنی انشاء اللہ کہتے ہوئے اللہ کی مشیت کو شامل فرما لیا کریں اور اگر آپ انشاء اللہ کہنا بھول جائیں تو آپ اپنے رب کو یعنی اس کی مشیت کو یاد کرلیا کریں اس طریقہ پر کہ وعدہ کو مشیت سے معلق کردیا کریں اور نسیان کے بعد یہ انشاء اللہ کہہ لینا اس کے بروقت (انشاء اللہ) کہنے کے مانند ہوگا، حضرت حسن وغیرہ نے فرمایا کہ یہ اس وقت صحیح ہوگا کہ (قائل) اسی مجلس میں موجود ہو (یعنی مجلس نہ بدلی ہو) اور آپ کہہ دیں کہ مجھ کو امید ہے کہ میرا پروردگار اس سے بھی زیادہ (نبوت پر دلالت کرنے والی) دلیل کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا، یعنی اصحاب کہف کی خبر سے بھی زیادہ میری نبوت پر دلالت کرنے والی اور اللہ تعالیٰ نے ایسا کر (بھی) دیا اور وہ لوگ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے، مأۃٍ تنوین کے ساتھ ہے سنین ثلاث مأۃٍکا بیان ہے اور یہ تین سو سال اہل کتاب کے نزدیک شمسی حساب سے ہیں اور تین سو نوسال قمری حساب سے ہیں آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قیام کی مدت کو خوب جانتا ہے یعنی ان لوگوں سے جو ان کی تعداد میں اختلاف کر رہے ہیں، اس کا ذکر سابق میں ہوچکا ہے اسی کو آسمانوں اور زمین کے پوشیدہ راز معلوم ہیں وہ ان مغیبات کے علم کو کیسا کچھ دیکھنے والا اور کیا کچھ جاننے والا ہے اَبْصِرْبِہٖ ای باللہِ (بہ میں با فاعل پر داخل ہے) یہ صیغہ تعجب ہے اور اَسمِع بہ بھی صیغہ تعجب ہے اور معنی میں ما ابصرہ اور ما اسمعہ کے ہے اور ان دونوں صیغوں کا استعمال باری تعالیٰ کے لئے بطور مجاز ہے اور مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سمع وبصر (یعنی علم ازلی) سے کوئی بات بات پوشیدہ نہیں ہے اور لوگوں کے لئے یعنی اھل الارض والسماء کے لئے اس کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے اس لئے کہ وہ شریک سے مستغنی ہے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد قولہ اَعْثَرْنَا اِعْثَارًا (افعال) واقف کرنا، مطلع کرنا قولہ قومَھُم والمومنون یہ اَعْثرنا کا مفعول بہ محذوف ہے قولہ لِیَعلَمُوْا اعثَرْنَا کے متعلق ہے وان السَّاعۃَ کا عطف، اَنَّ وَعَدَ اللہ پر ہے قولہ یَسْترھم جملہ ہو کر بنیاناً کی صفت ہے ثلثۃ ھُمْ مبتداء محذوف کی خبر ہے، کما اشارہ الیہ الشارح وقولھم رابِعُھُمْ کلبُھُمْ مبتداء خبر سے مل کر ثلٰثۃ کی صفت ہے ایسی ہی ترکیب بعد میں آنے والے دونوں جملوں میں ہوگی، قولہ رجمًا بالغیب یَرْمُوْنَ کا مفعول مطلق ہے ای یَرْمُوْنَ رَمْیًا حال بھی ہوسکتا ہے ای راجمین بالغیب قولہ رابِعْھُمْ کلبھم حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے ای حال کون کلبھم جاعِلھُمْ اربعۃً بانضمامہٖ الیھم و ثَامِنُھُمْ واؤ زائدہ ہے تاکیدی معنی کا لحاظ کئے بغیر، یا تاکیدی معنی کا لحاظ کرتے ہوئے، یعنی اتصاف موصوف بالصفت کی تاکید کے لئے یعنی دلالت کے لئے ہے، اس لئے کہ موصوف جب صفت کے ساتھ متصف ہوگا تو موصوف کا وجود لازمی ہوگا کیونکہ صفت موصوف کے بغیر موجود نہیں ہوسکتی، مطلب یہ ہوا کہ اصحاب کہف کتے کے ساتھ مل کر آٹھ ہوگئے یعنی وہ سات تھے کتا آٹھواں ہوا قولہ اَوْ دلالۃً میں او عاطفہ تفسیریہ (بمعنی) ای ہے، یعنی تاکید بمعنی دلالۃً ہے تا کید یعنی دلالۃ علی الصوق الصفۃ بالموصوف پر دلالت کرنے کے لئے (لہٰذا یہ دو قول ہوئے) قولہ ربی اعلم بہ یہ درمیان میں جملہ معترضہ ہے قولہ فی الدلالۃ، اَقْرَبُ سے متعلق ہے رَشَدًا، لَیَھْدِیَنِ کا مفعول مطلق بغیر لفظہٖ ہے اور اقرَبُ سے تمیز واقع ہونا بھی صحیح ہے ای لِاَقرَبَ ھدایَۃ مِن ھٰذا مأۃ کی تمیز عام طور پر مفرد مجرور ہوتی ہے ایک قرأۃ میں ماۃ سنین اضافت کے ساتھ ہے اس صورت میں سنین، مأۃ کی تمیز ہوگی اور جمع محل میں مفرد کے ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول بالأخسرین اعمالاً میں۔ تفسیر تشریح ان آیات پر اصحاب کہف کا قصہ ختم ہو رہا ہے ان آیات میں پانچ باتیں بتائی گئی ہیں جو اختصار کے ساتھ حسب ذیل ہیں ملاحظہ فرمائیں : (1) عرصہ دراز کے بعد اصحاب کہف کے بیدار ہونے میں اور لوگوں کو ان کا حال معلوم ہونے میں کیا حکمت تھی ؟ (2) لوگوں میں اصحاب کہف کے بارے میں بعض باتوں میں اختلاف رونما ہوا ایک فریق غار پر ایک یادگاری عمارت بنانا چاہتا تھا اور دوسرا مسجد، دوسرا فریق غالب آیا اور مسجد تعمیر کردی۔ (3) اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں اختلاف رونما ہوا، اس سلسلہ میں مختلف اقوال ذکر کر کے صحیح تعداد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (4) آخر میں یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ اصحاب کہف کا جس قدر واقعہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے اسی پر اکتفا کیا جائے، مزید بحث نہ کی جائے، نیز اس سلسلہ میں دوسروں سے قطعاً معلومات حاصل نہ کی جائیں اور اگر ان کی کوئی بات آئندہ بتانے کا وعدہ کیا جائے تو انشاء اللہ کہہ لیا جائے۔ (5) اصحاب کہف کتنی مدت تک سوتے رہے ؟ وکذٰلکَ اَعْثرنا علیھم یعنی جس طرح ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے اصحاب کہف کو سالہا سال سلایا اور بیدار کیا اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حالات سے مطلع بھی کردیا۔ اصحاب کہف کو سالہا سال تک سلانے اور پھر بیدار کرنے میں حکمت کیا تھی ؟ اصحاب کہف کا راز اہل شہر پر اس لئے منکشف کیا گیا تھا کہ ان کا عقیدہ آخرت مضبوط ہو اور یقین آجائے کہ مرنے کے بعد قیامت کے روز سب کو دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اصحاب کہف کا بیدار ہونا : تفسیر قرطبی میں اس کا مختصر قصہ اس طرح لکھا ہے : جس بادشاہ کے عہد میں اصحاب کہف شہر سے نکلے تھے اس کا نام دقیانوس تھا اور ظالم اور مشرک تھا وہ مرچکا تھا اور اس پر صدیاں گذر گئیں تھیں اور جس زمانہ میں اصحاب کہف بیدار ہوئے تھے شہر پر اہل حق کا قبضہ تھا اور ان کا بادشاہ ایک نیک صالح آدمی تھا جس کا نام بیدوسیس تھا (مظہری) قیامت کے بارے میں اور مردوں کو زندہ ہونے کے بارے میں شدید اختلاف چل رہا تھا ایک فرقہ اس بات کا قطعاً منکر تھا کہ جسم کے گلنے سڑنے اور ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہوجائے گا، بادشاہ ان گمراہ لوگوں کے بارے میں بہت فکر مند تھا کہ کس طرح ان کے شکوک و شبہات دور کئے جائیں جب کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو اس نے ٹاٹ کے کپڑے پہن کر اور راکھ کے ڈھیر پر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ التجا کی کہ خدایا آپ ہی کوئی ایسی صورت پیدا فرما دیں کہ ان لوگوں کا عقیدہ درست ہوجائے اور یہ راہ راست پر آجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ اصحاب کہف بیدار ہوئے، بیدار ہونے کے بعد ان میں یہ بحث چھڑ گئی کہ ہم کتنی مدت سوئے ہیں ؟ کوئی کہتا تھا کہ ایک دن سوئے ہوں گے دوسرا کہنا کہ ایک دن سے بھی کم سوئے ہوں گے، بحث نے جب طول پکڑا تو ان میں سے ایک شخص نے کہا اس فضول بحث کو چھوڑو اور کام کی بات کرو بھوک لگ رہی ہے لہٰذا کچھ کھانے پینے کی بات کرو، چناچہ انہوں نے اپنے ایک شخص کو جس کا نام تملیخا بتایا جاتا ہے بازار میں کھانا لانے کے لئے بھیج دیا، اور یہ تاکید کردی کہ ہو شیاری اور بیدار مغزی سے کام لے، اور کسی کو ہماری خبر نہ ہونے دے اور اس بات کا بھی خیال رکھے کہ کھانا حلال اور پاکیزہ ہو اس لئے کہ اہل شہر کی اکثریت بت پرستوں کی ہے ایسا نہ ہو کہ غیر شرعی طور پر ذبح کیا ہو، چناچہ تملیخا نے ایک دکان سے کھانا خرید کر تین سو سال پہلے کا سکہ نکال کر دکاندار کو دیا تو دکاندار حیران رہ گیا کہ یہ سکہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ؟ بازار کے دیگر دکانداروں کو بھی دکھلایا سب نے یہ کہا کہ اس شخص کو کہیں سے پرانا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے، اس شخص نے انکار کیا کہ مجھے کوئی خزانہ نہیں ملا بلکہ یہ روپیہ میرا ہے، بات بڑھ گئی بازار والوں نے اس کو بادشاہ کے سامنے پیش کردیا، یہ بادشاہ جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ نیک صالح اور اللہ والا تھا اور اس نے سلطنت کے خزانہ میں وہ تختی بھی دیکھی تھی کہ جس میں اصحاب کہف کے نام اور ان کے فرار ہونے کا واقعہ لکھا ہوا تھا بادشاہ نے اس تختی کی روشنی میں حالات کی تحقیق کی تو اس کو اطمینان ہوگیا کہ یہ انہی لوگوں میں سے ہے، بادشاہ نے کہا میں تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا تھا کہ مجھے لوگوں سے ملا دے جو قیانوس کے زمانہ میں اپنے ایمان بچا کر بھاگے تھے، بادشاہ اس سے بہت خوش ہوا اور کہا شاید اللہ تعالیٰ نے میری دعاء قبول فرما لی ہے، اور اس شخص سے کہا کہ ہم کو اس غار پر لے چلو جہاں سے تم آئے ہو، بادشاہ ایک بڑے مجمع کے ساتھ غار پر پہنچا اور جب غار قریب آیا تو تملیخا نے کہا کہ آپ ذرا ٹھہریں میں جا کر اپنے ساتھیوں کو حقیقت حال سے باخبر کر دوں تاکہ وہ گھبرا نہ جائیں، اس کے بعد روایات میں اختلاف ہے، ایک روایت میں یہ ہے کہ تملیخا نے غار میں جا کر ساتھیوں کو تمام حالات سنائے کہ اب بادشاہ مسلمان ہے اور قوم بھی مسلمان ہے وہ سب ملاقات کے لئے آئے ہیں، اصحاب کہف اس خبر سے بہت خوش ہوئے اور بادشاہ کا استقبال کیا پھر وہ اپنے غار میں واپس چلے گئے، اکثر روایات میں یہ ہے کہ جس وقت اس ساتھی نے غار میں پہنچ کر باقی حضرات کو یہ پورا واقعہ سنایا اسی وقت سب کی وفات ہوگئی بادشاہ سے ملاقات نہ ہوسکی، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ملاقات کے بعد اصحاب کہف نے بادشاہ اور اہل شہر سے کہا اب ہم آپ سے رخصت چاہتے ہیں اور غار کے اندر چلے گئے اسی وقت اللہ نے ان کو وفات دے دی، واللہ اعلم بالصواب۔ (قرطبی بحوالہ معارف القرآن ملخصًا) بہر حال جب اہل شہر کے سامنے قدرت الٰہی کا یہ عجیب واقعہ ظاہر ہوگیا تو سب کو یقین ہوگیا کہ جس ذات کی قدرت میں یہ داخل ہے کہ تین سو سال تک انسانوں کو بغیر غذا اور دیگر سامان زندگی کے زندہ رکھ سکتا ہے اور طویل عرصہ تک سلانے کے بعد پھر صحیح سالم قوی اور تندرست اٹھا سکتا ہے تو اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ مرنے کے بعد بھی ان کو مع اجسام کے زندہ کر دے، اس واقعہ سے ان کے انکار کا سبب دور ہوگیا کہ حشر اجساد کو مستبعد اور خارج از قدرت سمجھتے تھے اب معلوم ہوا کہ مالک الملکوت کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کرنا خود جہالت ہے، اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا لِیَعْلَمُوْا أنَّ وَعْدَ اللہِ حق وَأنَّ السَّاعَۃَ لاَ رَیْبَ فیہِ ۔ اس واقعہ کے بعد شہر والے اصحاب کہف کی بزرگی اور تقدس کے قائل ہوگئے تھے، اب ان میں اس بات میں اختلاف ہوا کہ ان کی یادگار کے طور پر غار پر کیا بنایا جائے ؟ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ غار کے پاس کوئی یادگاری عمارت تعمیر کردی جائے کہ جو لوگوں کے لئے تفریح گاہ بھی ہو اور ان بزرگوں کے لئے یادگار بھی، اور کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ایک مسجد تعمیر کردی جائے تاکہ زائرین کے لئے سہولت ہو اور ان اہل اللہ کو اجر بھی پہنچے۔ مسئلہ : اگر کسی نیک آدمی کی قبر پر زائرین بکثرت آتے ہوں تو ان کے قیام اور نماز نیز دیگر سہولتوں کے لئے قریب میں مسجد بنانا جائز ہے بشرطیکہ وقف قبرستان میں نہ بنائی جائے اور جن احادیث میں انبیاء کی قبروں پر مسجد بنانے پر لعنت آئی ہے ان سے مراد خود قبروں کو سجدہ گاہ بنانا ہے جو بالاتفاق شرک اور حرام ہے۔ مسئلہ : کسی مسجد کے پاس یا کسی مکان میں میں کسی کی تدفین جائز نہیں مردوں کی تدفین قبرستانوں ہی میں ہونی چاہیے، حدیث شریف میں ہے صَلُوْا فِی بُیُوْتِکُمْ ولاَ تَتَّخِذ ُ وْھَا قبُوْرًا (ترمذی شریف، ج 1، ص 60) یعنی اپنے گھروں میں نماز پڑھو، ان کو قبریں نہ بناؤ، آپ ﷺ کی تدفین جو مکان میں ہوئی یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔ اصحاب کہف کی تعداد کیا تھی ؟ سیقولون ثلٰثۃ رابعھم کلبھم اصحاب کہف کی تعداد میں اختلاف کرنے والوں میں دو احتمال ہیں، اول یہ کہ یہ وہی لوگ ہوں جن کا اختلاف اصحاب کہف کے زمانہ میں ان کے نام ونسب کے بارے میں ہوا تھا جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں آیا ہے (کمافی البحر) اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ سیقولون کی ضمیر نصاریٰ نجران کی طرف راجع ہو جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں مناظرہ کیا تھا ان کے تین فرقے تھے ایک فرقہ ملکانیہ کے نام سے موسوم تھا اس نے تعداد کے متعلق پہلا قول کیا یعنی تین کا عدد بتایا، اور دوسرا فرقہ یعقوبیہ تھا اس نے دو سرا قول یعنی پانچ ہونا بتایا، تیسرا فرقہ نسطوریہ تھا اس نے تیسرا قول یعنی سات ہونا اختیار کیا، بعض حضرات جن میں مفسر علام بھی شامل ہیں اس بات کے قائل ہیں کہ تیسرا قول مسلمانوں کا تھا اور پہلے دونوں نصاریٰ نجران کے، رسول اللہ ﷺ کی حدیث اور قرآن کریم کے اشارہ سے تیسرے قول کا صحیح ہونا معلوم ہوتا ہے۔ (بحر محیط) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں ان کم لوگوں میں سے ہوں کہ جن کو اصحاب کہف کی صحیح تعداد معلوم ہے، اصحاب کہف ساتھ تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے دونوں قول رجماً بالغیب فرما کر رد کر دئیے ہیں اور تیسرے قول کی تردید نہیں فرمائی۔ وثامنھم کلبھم قرآن کریم نے اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں تین قول نقل کئے ہیں، تین، پانچ، سات، اور ہر ایک کے بعد کتے کو شمار کیا گیا ہے لیکن پہلے دو قول میں ان کی تعداد اور کتے کے شمار میں واؤ عاطفہ نہیں لایا گیا، ثلثۃ رابعھم کلبھم، خمسۃ سادسھم کلبھم یہ دونوں قول بلا واؤ عاطفہ کے آئے ہیں اور تیسرا قول سبعۃ وثامنھم قلبھم واؤ کے ساتھ لایا گیا ہے، اس کی وجہ حضرات مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ عرب کے لوگوں میں عدد کی پہلی گرہ سات کی ہوتی تھی، سات کے بعد جو عدد آئے وہ الگ شمار ہوتا تھا، قرآن کریم میں بھی اس کا استعمال جگہ ہوا، کما فی قولہ تعالیٰ وفتحت ابوابھا وقولہ تعالیٰ ثیبات وابکارا، جیسا کہ آج کل نو کا عدد اس کے قائم مقام ہے کہ جب تک اکائی ہے اور دس سے دہائی شروع ہوتی ہے گویا کہ یہ دونوں الگ الگ عدد ہیں اس لئے تین سے سات تک واؤ عاطفہ کے ساتھ الگ کر کے بتلاتے تھے اور اسی لئے اس واؤ کو واؤ ثمان کا لقب دیا تھا یہ واؤ محض زائدہ بھی ہوسکتا ہے اور زائدہ مع التاکید بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ یہ واؤ الصاق موصوف بالصفت اور تاکید پر دلالت کرتا ہے بایں طور کہ جب کسی موصوف کو یقین کے ساتھ متصف بالصفت کیا جائے تو موصوف کا وجود یقینی ہوگا اس لئے کہ صفت موصوف کے بغیر موجود نہیں ہوسکتی ثامنھم یہ سبعۃ کی صفت ہے یعنی وہ سات کہ جن کو آٹھ کرنے والا کتا ہے یعنی اصحاب کہف سات ہیں اور ان کو آٹھ کرنے والا کتا ہے، ثامنھم کلبھم واؤ کے ساتھ مستقل جملہ کی صورت میں ذکر کرنا یہ عزم اور پختگی کو ظاہر کرتا ہے یعنی آٹھواں کتا ہونا یقینی ہے تو اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اصحاب کہف سات تھے، مفسر کے قول وَقِیلَ تاکیدًا اَوْ دلالۃً علیٰ لصُوقِ الصفۃِ بالموصوفِ میں اَوْ عاطفہ تفسیریہ ہے یعنی معطوف علیہ اور معطوف کا مفہوم ایک ہی ہے۔ اصحاب کہف کے اسماء : کسی صحیح حدیث سے اصحاب کہف کے نام صحیح صحیح ثابت نہیں ہیں تفسیری اور تاریخی روایات میں نام مختلف بیان کئے گئے ہیں ان میں اقرب وہ روایت ہے جس کو طبرانی نے معجم اوسط میں بسند صحیح حضرت عبداللہ عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ان کے نام یہ ہیں : (1) مُکْسَلْمِیْنَا (2) تَمْلِیْخَا (3) مَرْطُوْنَسْ (4) سَنُوْنَسْ (5) سَارِیْنُوتَسْ (6) ذُو نَوَاس (7) کَعَسْطَطْیُوْنَس۔ اسماء اصحاب کہف بعض حضرات نے یہ بتائے ہیں، جیسا کہ صاوی و حاشیہ علی الجلالین میں مذکور ہیں : (1) مَکْسَلْمِیْنَا (2) تَمْلِیخَا (3) مَرْطونَسْ (4) نَیْنُوْنَسْ (5) سَارْبُولَسْ (6) ذُونواس (7) فَلْیَسْتطیُونَسْ ، یہ آخری شخص چرواہا تھا جو کہ راستہ سے ساتھ ہوگیا تھا اس کے ساتھ ایک کتا بھی تھا جس کا نام قطمیر بتایا گیا ہے، نیشا پوری نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے حاشیہ جلالین پر اصحاب کہف کے نو فوائد درج کئے ہیں نیز حاشیہ صاوی پر بھی درج ہیں طلب وہرب (بھاگنے) کے لئے آگ بجھانے کے لئے، اگر کسی کاغذ وغیرہ پر لکھ کر آگ میں ڈال دیا جائے تو اللہ کے حکم سے وہ آگ بجھ جائے گی، بچوں کے رونے کے لئے اور تیسرے دن کے بخار کے لئے اور درد سر کے لئے دائیں بازو پر باندھیں، اور ام صبیان اور دریائی یا خشکی کے سفر اور مال و پھلوں کی حفاظت کے لئے اور ترقی ذہن کے لئے اور قتل سے نجات کے لئے حاشیہ جلالین پر استعمال کی مندرجہ ذیل ترکیب لکھی ہے، بچہ کے رونے کے لئے تکیہ کے نیچے رکھا جائے اور کھیتی کی حفاظت کے لئے کسی کاغذ وغیرہ پر لکھ کر کھیت کے درمیان کسی اونچی لکڑی پر آویزاں کردیا جائے، شدید درد، تیسرے دن کے بخار سر کے درد اور حاکم یا سلاطین کے پاس جانے کے وقت دائیں ران پر باندھا جائے اور عسر ولادت کے لئے بائیں رات پر باندھا جائے۔ فلا تمار اِلا مراء ظاھر الخ سے آپ ﷺ کو اور امت کو ان دونوں جملوں سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف پیش آئے تو جس قدر ضروری بات ہے اس کو واضح کر کے بیان کردیا جائے اس کے بعد بھی لوگ غیر ضروری بحث میں الجھیں تو ان کے ساتھ سر سری گفتگو کر کے بات ختم کردیا جائے اپنے دعویٰ کے اثبات اور ان کی بات کی تردید میں بہت زور لگانے سے گریز کیا جائے اور وقت کو ضائع نہ کیا جائے، اس لئے کہ اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا، اس سے باہم تلخی پیدا ہونے کا بھی خطر ہے، دوسرے جملہ میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وحی الٰہی کے ذریعہ قصہ اصحاب کہف کی جتنی معلومات آپ کو دے دی گئی ہیں ان پر قناعت فرمائیں کہ وہ بالکل کافی ہیں زائد کی تحقیق اول لوگوں سے سوال وغیرہ کے چکر میں نہ پڑیں۔ قولہ تعالیٰ ولا تقولن لشائ الخ ای لِاَجل شئ تعذم علیہ فیما یستقبل من الزمان، فعبّر۔۔۔۔ لاجل شئ کے اضافہ کا مقصد یہ ہے کہ کہیں مخاطب غدًا سے محض غد ہی نہ سمجھ لے جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوجائے کہ بعد الغد کے لئے بغیر انشاء اللہ کے کہہ سکتا ہے، لاجل شئ کا مطلب ہے لمدت شئ فی المستقبل۔ اگر لوگ آپ سے کوئی بات قابل جواب دریافت کریں اور آپ جواب کا وعدہ فرمائیں تو اس کے ساتھ انشاء اللہ اس کے ہم معنی کوئی لفظ ضرور ملا لیا کریں اور وعدہ کی بھی کوئی تخصیص نہیں بلکہ ہر کام میں اس کا لحاظ رکھئے، اور آئندہ ایسا ہو جیسا اس واقعہ میں پیش آیا کہ آپ سے لوگوں نے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے بغیر انشاء اللہ کے ان سے کل جواب دینے کا وعدہ کرلیا پھر پندرہ روز تک وحی نازل نہیں ہوئی اور آپ کو بڑا غم ہوا، اس ہدایت اور تنبیہ کے ساتھ لوگوں کے سوالوں کا جواب بھی نازل ہوا۔ (کذا فی الباب عن ابن عباس ؓ اور اگر آپ اتفاقاً انشاء اللہ کہنا بھول جائیں پھر کبھی یاد آئے تو اسی وقت انشاء اللہ کہہ کر اپنے رب کو یاد کرلیا کیجئے، اور ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھ کو نبوت کی دلیل بننے کے اعتبار سے اس واقعہ سے بھی نزدیک (واضح تر) بات بتلا دے، مطلب یہ ہے کہ تم نے میری نبوت کا امتحان لینے کے لئے اصحاب کہف وغیرہ کے قصے دریافت کئے جو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے بتلا کر تمہارا اطمینان کردیا مگر اصل بات یہ ہے کہ ان قصوں کے سوال و جواب اثبات نبوت کے لئے کوئی بہت بڑی دلیل نہیں ہوسکتی یہ کام تو غیر نبی بھی جو تاریخ عالم سے بخوبی واقف ہو کرسکتا ہے، مگر مجھے تو اللہ تعالیٰ نے میری نبوت کے اثبات کے لئے اس سے بڑے اور قطعی دلائل اور معجزات عطا فرمائے ہیں جن میں سب سے بڑی دلیل خود قرآن ہے جس کی ایک آیت کی بھی ساری دنیا مل کے نقل نہ اتار سکی، اس کے علاوہ حضرت آدم سے لے کر قیامت تک کے وہ واقعات بذریعہ وحی مجھے بتلا دئیے گئے جو زمانہ کے اعتبار سے بھی بہ نسبت واقعہ اصحاب کہف اور ذوالقرنین زیادہ بعید ہیں اور ان کا علم بھی کسی کو بجز وحی کے ممکن نہیں، خلاصہ یہ کہ تم نے تو اصحاب کہف اور ذوالقرنین زیادہ بعید ہیں اور ان کا علم بھی کسی کو بجز وحی کے ممکن نہیں، خلاصہ یہ کہ تم نے تو اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے واقعات کو سب سے زیادہ عجیب سمجھ کر اسی کو امتحان نبوت کے طور پیش کیا مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بھی زیادہ عجیب عجیب چیزوں کے علوم عطا فرمائے ہیں، اور جیسا اختلاف اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں ہے ایسا ہی اختلاف ان کے سونے کی مدت میں بھی ہے ہم اس میں صحیح بات بتلاتے ہیں : اصحاب کہف کے غار میں سونے کی مدت : وَلَبِثُوْا فِی کھفِھِمْ ثَلٰثَ مأۃٍ سِنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا اصحاب کہف غار میں تین سال مزید براں نو سال رہے، قرآن کے ظاہر نسق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب کہف کے تین سو سال سونے کی مدت کا بیان حق تعالیٰ کی طرف سے ہے، ابن کثیر نے اسی کو جمہور سلف وخلف کا قول قرار دیا ہے، مگر حضرت ابو قتادہ وغیرہ سے اس میں ایک دوسرا قول یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ یہ تین سو نوسال کا قول بھی انہیں اختلاف کرنے والوں میں سے بعض کا قول ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول صرف وہ ہے جو بعد میں فرمایا یعنی (اَللہُ اعلم بِمَا لَبِثُوْا) مگر جمہور مفسرین نے فرمایا کہ یہ دونوں جملے حق تعالیٰ کا کلام ہیں پہلے میں حقیقت واقعہ کا بیان ہے اور دوسرے میں اس سے اختلاف کرنے والوں کو تنبیہ ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مدت کا بیان آگیا تو اب اس کو تسلیم کرنا لازم ہے وہی جاننے والا ہے محض تخمینوں اور اندازوں سے اس کی مخالفت بےعقلی ہے۔ ایک سوال : یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم بیان مدت میں پہلے تین سو سال بیان کئے اس کے بعد فرمایا ان تین سو پر نو اور زیادہ ہوگئے عام دستور کے مطابق پہلے ہی تین سو نو نہیں فرمایا، اس کا جواب حضرات مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ یہود و نصاریٰ میں چونکہ شمسی سال کا رواج تھا اس حساب سے تین سو سال ہی ہوئے ہیں اور اسلام میں قمری سال کا ہے اور قمری حساب سے ایک سال میں دس دن اور ہر تین سال میں ایک ماہ اور ہر چھتیس سال میں ایک سال کا اضافہ ہوجاتا ہے، اس حساب سے ہر سال میں تقریباً تین سال کا اضافہ ہوجاتا ہے، اس حساب سے تین سو سال شمسی کے تقریباً 309 سال قمری ہوں گے، یہ حساب تقریبی ہے یعنی کسر کو ترک کردیا گیا ہے اس لئے کہ بڑی گنتی میں عام طور پر کسر کو چھوڑ دیتے ہیں، شمسی اور قمری حسابوں میں امتیاز بتانے کے لئے تعبیر کا مذکورہ عنوان اختیار کیا گیا ہے، حکیم الامت حضرت مولانا اشرت علی تھانوی نے بیان القرآن میں تفسیر حقانی کے حوالہ سے اصحاب کہف کا مقام اور مقام کی تاریخی تحقیق یہ نقل کی ہے کہ یہ ظالم بادشاہ کہ جس کے خوف سے بھاگ کر اصحاب کہف نے غار میں پناہ لی تھی اس کا زمانہ 250 ء تھا پھر تین سو سال تک یہ لوگ سوتے رہے تو مجموعہ 550 ء ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ کی ولادت مبارک 570 ء میں ہوئی اس لئے حضور ﷺ کی ولادت سے بیس سال پہلے ان کے بیدار ہونے کا یہ واقعہ پیش آیا اور تفسیر حقانی میں بھی ان کا نام شہر افسوس یا طرسوس کو قرار دیا ہے جو ایشائے کو چک میں واقع ہے اب بھی اس کھنڈرات موجود ہیں۔
Ayahs 18:27–31

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو اسکی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسکی خوشنودی کے طالب ہیں ان کے ساتھ صبر کرتے رہو اور تمہاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائش زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انکو گھیر رہی ہوں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے انکی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) من ہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی انکو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے

آیت نمبر 27 تا 31 ترجمہ : اور آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعہ آئی ہے آپ اس کو تلاوت کیا کیجئے، اس کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، اور آپ خدا کے سوا کہیں جائے پناہ نہ پائیں گے، اور آپ خود کو ان لوگوں کے ساتھ پابند مقید رکھا کیجئے جو صبح وشام (ہمہ وقت) اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی عبادت کا مقصد محض اپنے رب کی خوشنودی ہے ان کی دنیوی کوئی غرض نہیں ہے، اور وہ فقراء ہیں، اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (توجہ) ان سے ہٹنے نہ پائیں عین بول کر صاحب عین مراد ہے اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے یعنی قرآن سے، اور وہ عینیہ بن حصن اور اس کے ساتھ ہیں اور وہ شرک میں اپنی نفسانی خواہشات پر چلتا ہے اور اس کا یہ حال حد سے گذر گیا ہے یعنی حد سے تجاوز کر گیا ہے اور آپ اس سے اور اس کے ساتھیوں سے (صاف صاف) کہہ دیجئے کہ یہ قرآن تمہارے رب کی جانب سے حق ہے سو جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کافر رہے، بلاشبہ ہم نے ظالموں کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے کہ اس آگ کی قناتیں اس کو گھیرے ہوئے ہوں گی، وہ قناتیں کہ جن کے ذریعہ احاطہ کیا جائے گا اور اگر وہ (پیاس کی شدت) سے فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی کہ جو تیل کی تلچھٹ کے مانند ہوگا وہ پانی جب ان کے چہروں کے قریب کیا جائے گا تو اپنی حرارت کی وجہ سے چہروں کو بھون ڈالے گا اور کیا ہی برا پانی ہے وہ اور وہ آگ بھی کیا ہی بری آرام کی جگہ ہوگی مُرْتَفَقًا تمییز ہے جو فاعل سے منقول ہوئی ہے، ای قَبُحَ مُرْتَفَقُھا یعنی اس کا آرام نہایت ہی برا ہے اور یہ قول جنت کے بارے میں آنے والے قول حَسُنَتْ مُرْتَفَقَا کے بالمقابل لایا گیا ہے ورنہ تو آگ میں کونسا آرام ہے ؟ بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو ایسے نیک عمل کرنے والوں کا ہم اجر ضائع نہ کریں گے جملہ یعنی (اِنَّا لاَ نُضِیْعُ الخ) اِنَّ الَّذِیْنَ امنُوْا کی خبر ہے اور جملہ خبریہ میں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر لایا گیا ہے اور اصل عبارت اَجْرُھُمْ ہے یعنی ہم ان کو اجر عطا فرمائیں گے ایسا اجر کہ وہ مذکورہ آراموں کو شامل ہوگا ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے قیام کرنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے کہا گیا ہے کہ من زائدہ ہے اور بعض مفسرین نے من کو تبعیضیہ کہا ہے، اَسَاوِرُ اَسْوِرَۃٌکی جمع ہے اور اَسْوِرَۃٌ سِوَارٌ کی جمع ہے، یعنی اساورُ سِوَارٌ کی جمع الجمع ہے، اور ریشم کا باریک سبز رنگ کا لباس اور موٹے ریشم کا لباس پہنیں گے، اور سورة رحمٰن کی آیت میں بطائنھا من استبرق ہے (یعنی ان کا استر موٹے ریشم کا ہوگا) اور وہاں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اَرَائِک اَرِیْکَۃٌ کی جمع ہے سریر کو اریکۃ اس وقت کہتے ہیں جب وہ حجلہ میں ہو اور حجلہ اس مکان کو کہتے ہیں جس کو دلہن کے لئے کپڑوں اور پردوں وغیرہ سے آراستہ کیا جاتا ہے جنت کیا ہی اچھا صلہ ہے اور کیا آرام دہ جگہ ہے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد قولہ واتل کو تلاوت کر (ن) تلاوۃٌ تلاوت کرنا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ تِلْوٌ سے مشتق ہو اس کے معنی اتباع کرنا پیچھے پیچھے چلنا مِن الکتاب من بیانیہ ہے ما موصولہ کا بیان ہے مُلْتحدًا (اسم ظرف، مصدر میمی ہے) (افتعال) پناہ گاہ یا پناہ لینا، قولہ مِنْ کتاب رَبِّکَ ، مَا اُوحِیَ اِلَیْکَ کا بیان ہے قولہ لا تَعْدُ واحد مؤنث غائب حرف نہی کی وجہ سے آخر سے حرف علت واؤ ساقط ہوگیا (ن) عَدْوًا کسی چیز سے تجاوز کرنا، دوڑنا، عیْناکَ ، لا تَعْدُ کا فاعل ہے اور جملہ تُریدُ الخ عیناکَ کے کاف مضاف الیہ سے حال ہے اگر مضاف الیہ سے حال واقع ہونا درست ہے، یا اس لئے کہ عین سے صاحب عین مراد ہے، لہٰذا فعل کی اسناد اگرچہ بظاہر مضاف الیہ کی طرف ہے مگر حقیقت میں مضاف ہی کی طرف ہے فُرُطًا (ن) حد سے تجاوز کرنا فَرَطَ فی الامر کوتاہی کرنا، قولہ الحق یہ مبتداء محذوف ھٰذا القرآن کی خبر ہے جیسا کہ مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے اور الحق فعل محذوف کا فاعل بھی ہوسکتا ہے ای جاء الحق ، مِنْ رَّبِّکُمْ یا تو الحقّ سے حال ہے ای کا ئتاً من رَّبِّکم یا ھذا القرآن مبتداء محذوف کی خبر ثانی ہے ای کائن من رَّبکم اِنَّا اَعْتَدْنَا یہ لف ونشر غیر مرتب ہے یعنی اِنَّ اَعْتدنَا کا تعلق وَمَنْ شاءَ فلیکفر سے ہے اور اِنَّ الذین آمنوا کا تعلق فمن شاء فلیومن سے ہے اَحَاطَ بِھِمْ سرادقُھَا، نارًا کی صفت ہے، سرَادق کی جمع سَرَادِقات ہے سرادق ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہو، خواہ چہار دیواری ہو یا شامیانہ اور قناتیں قولہ یَسْتَغِیْثُوْا مصدر اغاثۃ ً مدد طلب کرنا یَسْتَغِیْثُوْا اصل میں یَسْتَغْوِثُوْا تھا، واؤ کا کسرہ ماقبل کو دے دیا گیا، اور واؤ کو ی سے بدل دیا یَسْتَغِیْثُوْا ہوگیا قولہ اَلمُھلُ (اسم) تلچھٹ، پیپ، کچلہو جملہ یشوِی، ماء کی صفت بھی ہوسکتا ہے اور المھل سے حال بھی، عَکر گاد، تلچھٹ الشراب بئس کا فاعل ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے اور وہ ھُوَ ہے جس کا مرجع مستغاث بہ ہے، مُرْتفقًا نسبت سے تمییز ہے جو کہ فاعل سے منقول ہے ای قَبُحَ مُرْتَفَقُھَا المرتفق ظرف مکان، آرام کی جگہ، دوزخیوں کے لئے اس کا استعمال استہزاءً ہوا ہے یا مشاکلت کے طور پر بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ جنتیوں کے لئے حَسُنَتْ مُرتفقاً فرمایا گیا ہے قولہ اِنَّا، اِنَّ حرف مشبہ بالفعل اس کے اندر ضمیر وہ اس کا اسم لا نضیع اجر مَنْ اَحْسَنَ عَمَلاً جملہ ہو کر اِنَّ اپنے اسم وخبر سے مل کر خبر ہوئی اِنَّ اول کی، اِنَّ اول اپنے اسم وخبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا اُولٰئکَ لھُمْ جنّٰتُ عدنٍ لھُمْ خبر مقدم ہے اور جنت عدن مبتداء مؤخر ہے پھر جملہ ہو کر اُوْلٰئکَ مبتدا کی خبر ہے قولہ مِن اَسَاوِرَ من ابتدائیہ ہے یا مفعول بہ پر زائدہ ہے اور مِنْ ذھبٍ میں من بیانیہ ہے اور کائنۃ یا مصنوعۃ کے متعلق ہو کر اَسَاوِرَ کی صفت ہے اَسَاوِرُ سوار کی جمع ہے بمعنی کنگن متکئین فعل محذوف یجلسون کی ضمیر سے حال ہے فی الحجلۃ کائنًا کے متعلق ہو کر السریر سے حال ہے۔ تفسیر وتشریح اور آپ کا کام صرف اس قدر ہے کہ آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعہ آتی ہے وہ لوگوں کو پڑھ کر سنا دیا کیجئے، آپ کا فرض منصبی صرف اتنا ہی ہے آپ اپنے فرض منصبی کے انجام دہی میں مشغول رہئے، آپ اس فکر میں نہ پڑئیے کہ دنیا کے بڑے لوگ اگر اسلام کی مخالفت کرتے رہے تو دین کو ترقی کس طرح ہوگی ؟ کیونکہ اس کا اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ فرما لیا ہے، اس کے وعدوں کو بدلا نہیں جاسکتا یعنی اگر پوری دنیا بھی مل کر اللہ کو وعدہ پورا کرنے سے روکنا چاہے تو روک نہیں سکتی اور اگر آپ نے ان بڑے لوگوں کی دل جوئی اس طرح کی کہ جس سے احکام الٰہی ترک ہوجائیں تو پھر آپ خدا کے سوا کسی کو پناہ گاہ نہ پائیں گے اگرچہ آپ ﷺ سے احکام شرعیہ کا ترک بدلائل شرعیہ محال ہے مگر مبالغۃً اور تاکیداً بفرض محال یہ کہا گیا ہے۔ وَاصْبِرْ نَفْسَکَ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو فقراء صحابہ کی رعایت رکھنے اور ان ہی کے ساتھ بود وباش رکھنے اور خود کو ان کے ساتھ پابند رکھنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ شان نزول : اس آیت کے شان نزول میں مختلف واقعات مذکور ہیں ممکن ہے کہ سب ہی واقعات نزول کا سبب ہوئے ہوں، سورة انعام میں بھی آپ ﷺ کو فقراء مومنین کو اپنے پاس سے جدا کرنے کی ممانعت مذکور ہے کما قال اللہ تعالیٰ (ولا تطرد الذین یدعُوْنَ ربھم) پہلا واقعہ : بغوی نے نقل کیا ہے کہ مکہ کا رئیس عینیہ بن حِصْن فزاری آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے پاس چند فقراء صحابہ بیٹھے ہوئے تھے ان کا لباس خستہ اور ہیئت فقیرانہ تھی عینیہ نے کہا کہ ہمیں آپ کے پاس آنے اور آپ کی بات سننے سے یہی لوگ مانع ہیں ایسے خستہ حال لوگوں کے پاس ہم نہیں بیٹھ سکتے آپ ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیں یا کم از کم ہمارے لئے علیحدہ مجلس رکھیں۔ دوسرا واقعہ : ابن مردویہ نے بروایت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ امیہ بن خلف جمحی نے رسول اللہ ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ غریب فقیر شکستہ حال مسلمانوں کو آپ اپنے پاس نہ رکھیں بلکہ قریش کے سرداروں کو ساتھ لگائیں اگر یہ لوگ آپ کا دین قبول کرلیں گے تو دین کو ترقی ہوگی اس طرح کے واقعات پر وَاصْبِرْ نَفْسَکَ آیت نازل ہوئی، جس میں ان لوگوں کے مشورہ کو قبول کرنے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے اور صرف یہی نہیں کہ ان فقراء کو اپنی مجلس سے ہٹانے سے منع فرمایا گیا ہے بلکہ یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ باندھ کر رکھیں، مطلب یہ ہے کہ خصوصی توجہات کے ذریعہ آپ ان فقراء کے ساتھ وابستہ رہئے، معاملات میں انہی سے مشورہ لیں اور انہی کی امداد و اعانت سے کام کریں، اور اس کی وجہ اور حکمت ان الفاظ سے بتلا دی گئی ہے کہ یہ لوگ صبح وشام یعنی ہرحال میں اللہ کو پکارتے اور اسی کا ذکر کرتے ہیں ان کا جو عمل ہے وہ خالص اللہ کی رضا جوئی کے لئے ہے اور یہ سب حالات وہ ہیں کہ جو اللہ کی امداد اور نصرت کو کھینچ کر لاتے ہیں اور رؤ سا قریش کا مشورہ قبول نہ کیجئے اس لئے کہ ان کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہیں اور ان کے سب کام نفسانی خواہشات کے تابع ہیں اور یہ حالات اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نصرت سے ان کو دور کرنے والے ہیں۔ ایک سوال : یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ مشورہ تو قابل عمل تھا کہ ان کے لئے ایک مجلس الگ کردی جاتی مگر اس طرح کی تقسیم میں سرکش مالداروں کا ایک خاص قسم کا اعزاز تھا جس سے غریب مسلمانوں کی دل شکنی ہوسکتی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو گوارہ نہ فرمایا اور اصول دعوت و تبلیغ یہی قرار دیا کہ اس میں کسی کا کوئی امتیاز نہ ہونا چاہیے۔ وقل الحق من ربکم فمن شاء الخ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ حق آچکا ہے اور اللہ کی حجت نام ہوچکی ہے اب لوگوں کی مرضی ہے کہ مانیں یا نہ مانیں اللہ تعالیٰ کو کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی کوئی پرواہ نہیں جو کچھ نفع و نقصان ہوگا لوگوں کا خود اپنا ہوگا، ارشاد فرمایا اب جس کا دل چاہے مان لے اور جس کا دل چاہے انکار کرے یہ تخییر نہیں ہے بلکہ تہدید ہے یعنی اب جو نہ مانے گا وہ سن لے ہم نے ظالموں کے لئے آتش دوزخ تیار کر رکھی ہے اس کی ہولناکی، خدا کی پناہ ! اور اگر لوگ فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی ایسے پانی سے فریاد رسی کی جائے گی جو (صورۃً ) تیل کی تلچھٹ کی طرح ہے، جو ان منہ بھون ڈالے گا، یعنی جہنم میں جب گرمی کی شدت سے دوزخیوں کو پیاس لگے گی اور وہ فریاد کریں گے اور پانی پانی چلائیں گے تب تیل کی تلچھٹ یا پگھلی ہوئی دھات یا پیپ کی طرح کا پانی دیا جائے گا جو اس قدر گرم ہوگا کہ منہ کو بھون ڈالے گا، کیا برا مشروب ہے اور کیسی بری آرام گاہ ہے ؟ اِنَّ الذین آمنوا بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے بیشک ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہ کریں گے جو عمل کے اعتبار سے اچھے ہیں یعنی ان کی ادنیٰ نیکی بھی ضائع نہ کی جائے گی بلکہ ہم ان کے ہر اس عمل کا ثواب عطا کریں گے جو ثواب کے لائق ہوگا ایسے ہی لوگوں کے لئے دائمی جنت ہے، قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے کہ جب مشرکین وکافرین کے لئے عذاب کا ذکر کرتا ہے تو وہی تقابل کے طور پر مومنین و مخلصین کے اجرو ثواب کا بھی ذکر کرتا ہے اسی لئے فریقین کی جزاء و سزاء کا ذکر کیا ہے یُحَلَّوْنَ فیھا اس آیت میں جنتی مردوں کو بھی سونے کے کنگن پہنانے کا ذکر ہے اس پر سوال ہوسکتا ہے کہ مردوں کے لئے زیور پہننا نہ زیبا ہے اور نہ زینت، جواب، جمال وزینت عرف و علاقہ کے تابع ہے، ایک علاقہ میں جو چیز جمال وزینت سمجھی جاتی ہے دو سرے علاقوں میں بسا اوقات قابل نفرت قرار دی جاتی ہے جنت میں مردوں کے لئے بھی زیور اور ریشمی کپڑے جمال وزینت قرار دئیے جائیں گے دنیا میں شریعت کا قانون یہ ہے کہ مردوں کے لئے سونے کا کوئی زیور یہاں تک کہ انگوٹھی اور گھڑی کی چین بھی جائز نہیں ہے، اسی طرح ریشمی کپڑے بھی جہاد کے علاوہ جائز نہیں ہیں، ہاں البتہ ساڑھے چار گرام تک چاندی کی انگوٹھی جائز ہے اللہ تعالیٰ نے زیورات کے لئے یُحَلَّوْنَ مجہول صیغہ اور کپڑوں کے لئے یلبسون معروف کا صیغہ استعمال فرمایا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر عادت یہی ہے کہ زیور دوسرے پہناتے ہیں اور لباس آدمی خود پہنتا ہے وہ وہاں مسہریوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے یعنی نہایت عزت اور احترام کے ساتھ مسہریوں پر گاؤ تکیے لگائے بیٹھے آپس میں باتیں کرتے ہوں گے، کیسا اچھا صلہ ہے اور کیسی اچھی آرام گاہ ہے، اللہ تعالیٰ ہر مومن کو یہ نعمتیں نصیب فرمائے۔ (آمین)
Ayahs 18:32–38

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کیے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور (اس طرح) اس (شخص) کو (انکی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جبکہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور (ایسی شیخیوں سے) اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہوگا

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

آیت نمبر 32 تا 38 ترجمہ : اور حال بیان کیجئے ان کافروں اور مومنوں کے لئے ان دو شخصوں کا رجلین مثلاً سے بدل ہے رجُلَین اور اس کا مابعد مثلاً کی تفسیر ہے ان دو میں سے ایک کو جو کافر تھا انگور کے دو باغ دئیے تھے اور ہم نے دونوں باغوں کا کھجوروں کے درختوں کے ذریعہ احاطہ کردیا تھا اور ان کے بیچ بیچ میں کھیتی بھی اگائی تھی جس کے ذریعہ غذا حاصل کی جاتی تھی دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اس میں بالکل کمی نہیں کرتے تھے کِلتَا لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے (مگر معنی کے اعتبار سے) تثنیہ پر دلالت کرتا ہے اور کلتا مبتدا ہے اور آتت اس کی خبر ہے اور ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان نہریں جاری کر رکھی تھیں اور اس شخص کے لئے دو باغوں کے علاوہ اور بھی اموال تھے ثمَر ثا اور میم دونوں کے فتحہ کے ساتھ اور دونوں کے ضمہ کے ساتھ ثُمُرٌ اور اول کے ضمہ اور ثانی کے سکون کے ساتھ ثُمْرً اور ثَمَرٌ ثَمَرَۃٌ کی جمع ہے جیسے شَجَرٌ شَجَرَۃٌ کی جمع ہے اور خُشُبٌ خَشَبَۃٌ کی جمع ہے اور بُدنٌ بَدَنۃٌ کی جمع ہے (تینوں میں مفرد ایک ہی وزن پر ہے البتہ تینوں کی جمع مختلف ہے) (ایک روز) اس کافر نے اپنے مومن ساتھی سے فخریہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور افراد خاندان میں بھی اور اپنے ساتھ کو گھماتا ہوا اور باغ کے پھلوں کو دکھاتا ہوا ساتھ لے کر اپنے باغ میں داخل ہوا حال یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا تھا کفر کے ذریعہ، اور اس موقع پر جَنَّتَیہِ نہیں کہا یا تو اس لئے کہ جنت سے مراد روضہ ہے (جو کہ دونوں باغوں پر مشتمل ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے ایک باغ ہی دکھانے پر اکتفاء کیا تھا اور کہنے لگا میں تو نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہوگا اور نہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ قیامت آئے گی اور اگر تیرے خیال کے مطابق ( قیامت آبھی گئی) اور میں اپنے رب کے پاس پہنچا دیا گیا تو ضرور اس باغ سے بھی بہتر جگہ مجھے ملے گی اس کے (مومن) ساتھی نے اس کی (ان کفریہ) باتوں کے جواب میں کہا کہ کیا تو اس ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھ کو مٹی سے پیدا کیا ؟ اس لئے کہ آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کئے گئے تھے پھر تجھ کو نطفہ منی سے پیدا کیا اور پھر تجھ کو صحیح سالم یعنی (تجھ کو معتدل الاعضاء) مرد بنایا لکِنَّا اس کی اصل لکِنْ اَنَا تھی ہمزہ کی حرکت نون کو دے دی اور ہمزہ کو حذف کردیا پھر نون کو نون میں ادغام کردیا ھُوَ ضمیر شان ہے اس کے بعد کا جملہ اس کی تفسیر کر رہا ہے اور معنی یہ ہیں کہ میں کہتا ہوں (یعنی عقیدہ رکھتا ہوں) کہ میرا رب تو اللہ ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد ضَرَبَ کا استعمال جب مثل کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کے دو مفعول ہوتے ہیں، یہاں ایک مفعول مثلاً ہے اور دوسرا رَجُلَیْنِ دونوں مفعول درحقیقت ایک ہی ہیں اور رجلین حذف مضاف کے ساتھ مثلاً سے بدل بھی ہوسکتا اَیْ مثلاً مثل الرجلین قولہ من اَعْنَابٍ میں من بیانیہ ہے، ما فی الجنتین مبین ہے مِن اعنابٍ بیان ہے قولہ حَفَفْنَا حَفَّ سے ماضی جمع متکلم (ن) حفًّا گھیرنا کلتا چونکہ لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے اسی کا اعتبار کرتے ہوئے اٰتَتْ کو مفرد لائے ہیں اور خلالھُمَا خبر ہے معنی کے اعتبار سے تثنیہ لائی گئی ہے کلتا الجنتینِ مرکب ہو کر مبتداء ہے اور جملہ اٰتَتْ خبر قولہ ثَمَرٌ سے باغات کے علاوہ دیگر اموال مراد ہیں خواہ وہ نقود کی شکل میں ہوں یا مویشیوں کی شکل میں قولہ یحاورُ (مفاعلۃ) مُحَاوَرَۃٌ وحِوَارًا گفتگو کرنا، جواب دینا، یُحَاوِرُ کی تفسیر یُفَاخِرُ سے قرینہ مقام کی وجہ سے ہے، قولہ مالاً ونفرًا یہ نسبت سے تمیز ہیں، قولہ اثمارَھا بعض نسخوں میں اثمارھا کے بجائے آثارھا ہے بمعنی رونق وشادابی قولہ أن تَبِیْدَ بتاویل مصدر ہو کر اَظنّ کا مفعول ہے قولہ سَوَّاکَ تسوِیۃ برابر کرنا، متناسب الاعضاء بنانا، یہ سَوَّیٰ جَعَلَ اور صَیَّرَ کے معنی میں ہے، جعل کا مفعول اول اور رجلاً مفعول ثانی ہے، لٰکِنَّا اصل میں لکن اَنا تھا، اَنَا کے ہمزہ کو خلاف قیاس حذف کر کے نون کا نون میں ادغام کردیا گیا ہے قولہ لٰکِنَّا میں لکن غیر عامل ہے، اس کے اندر ضمیر مبتداء اول ہے اور ھُوَ مبتداء ثانی ہے اور اللہ مبتدا ثالث ہے، رَبِّی خبر ہے۔ تفسیر وتشریح مذکورہ آیات میں جن دو شخصوں کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے مفسرین کا اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں شخص فرضی ہیں اور بطور تمثیل ان کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے یا حقیقی اور واقعی ہیں، جو حضرات واقعی ہونے کے قائل ہیں ان کے درمیان ان کی تعیین میں اختلاف ہے بعض حضرات نے کہا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے دو بھائی تھے اور بعض کا قول ہے کہ وہ دونوں مکہ کے مخزومی قبیلہ کے دو بھائی تھے ان میں سے ایک کا نام عبداللہ عبد الاسود تھا اور وہ مومن تھا اور دوسرا اسود ابن عبد الاسود تھا یہ کافر تھا اور بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ وہی دو شخص ہیں کہ جن کا ذکر سورة الصافات میں اللہ تعالیٰ کے قول قال قائل منھم انی کان لی قرین میں ہے، مذکورہ دونوں بھائیوں کے واقعہ کو ذکر کرنے کا مقصد دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی پائیداری کو بیان کرنا ہے، آپ ﷺ ان دو شخصوں کا جن کے درمیان دوستی یا قرابت کا تعلق تھا، بیان کیجئے عطاء خراسانی کے بیان کے مطابق ان کا قصہ اس طرح تھا، دو شریک یا دو بھائی تھے ان میں سے ایک مومن اور دوسرا کافر تھا ان دونوں کے پاس آٹھ ہزار دینار مشترکہ تھے بعض حضرات نے کہا ہے کہ ان کے والد کے ترکہ سے آٹھ ہزار دینار ان کے حصہ میں آئے تھے، چار چار ہزار دونوں نے تقسیم کر لئے تھے ان میں سے کافر بھائی نے ایک ہزار دینار کی زمین خریدی جب مومن بھائی کو اس کا علم ہوا تو اس نے کہا یا اللہ میرے بھائی نے ہزار دینار کی زمین خریدی ہے اور میں تجھ سے ہزار دینار کے بدلے جنت میں زمین خریدتا ہوں اور یہ کہہ کر ایک ہزار دینار راہ خدا میں صرف کر دئیے، پھر کافر بھائی نے شادی کی اور اس پر اس نے ہزار دینار خرچ کئے جب اس مومن بھائی کو معلوم ہوا تو اس نے کہا یا اللہ میرے بھائی نے ہزار دینار صرف کر کے ایک عورت سے شادی کی ہے میں بھی ایک ہزار دینار کے عوض جنت کی حور سے شادی کرتا ہوں اور یہ کہہ کر اس نے ہزار دینار راہ خدا میں خرچ کر دئیے پھر اس کے کافر بھائی نے ایک ہزار دینار کے عوض کچھ غلام اور گھریلو سامان خریدا جب اس مومن بھائی کو معلوم ہوا تو اس نے کہا یا اللہ میں بھی ایک ہزار دینار کے عوض تجھ سے جنت میں خدام اور سامانِ راحت خریدتا ہوں یہ کہ کر اس نے ایک ہزار دینار راہ خدا میں صدقہ کر دئیے اب اس کے پاس کچھ باقی نہ رہا اور شدید حاجت مند ہوگیا، اس نے سوچا اگر میں اپنے بھائی کے پاس جاؤں اور اس سے اپنی حاجت کا سوال کروں تو وہ ضرور میری مدد کرے گا، چناچہ وہ ایک روز اس راستہ پر جا کر بیٹھ گیا جہاں سے اس کے بھائی کی آمدورفت تھی جب اس کا بھائی بڑی شان و شوکت کے ساتھ وہاں سے گذرا تو اپنے اس غریب مومن بھائی کو دیکھ کر پہچان لیا اور کہا فلاں ؟ اس نے کہا ہاں، اس نے حالت دیکھ کر کہا تیرا یہ کیا حال ہے ؟ تو مومن بھائی نے جواب دیا مجھے حاجت شدیدہ پیش آگئی ہے مدد کے لئے تیرے پاس آیا ہوں، کافر بھائی نے معلوم کیا تیرا وہ مال کیا ہوا جو تیرے حصہ میں آیا تھا ؟ تو اس مومن بھائی نے پوری صورت حال بیان کی تو اس کے کافر بھائی نے کہا میں کچھ نہ دوں گا تو تو بڑا سخی ہے پھر کافر بھائی نے مومن بھائی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے باغوں میں گھمایا تو ان کے بارے میں آیت واضرب لھم مثلاً نازل ہوئی۔