Ayahs 18:39–44آیت نمبر 39 تا 44
ترجمہ : اور جب تو باغ میں داخل ہوا تھا تو تو نے اس باغ پر تعجب (پسندیدگی) کے وقت کیوں نہ کہا کہ یہ وہی ہے جو اللہ نے چاہا خدا کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں اور حدیث شریف میں ہے کہ جس کو بہترین مال یا اولاد عطا کیا گیا ہو اور اس نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہہ لیا تو اس مال میں اس کو ناپسندیدہ حالت پیش نہیں آئے گی اور اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم ہوں کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھ کو تیرے باغ سے اچھا باغ دے دے ( اَنا) دو مفعولوں کے درمیان ضمیر فصل ہے اور فعسیٰ جواب شرط ہے اور اس (تیرے باغ) پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے حُسْبَان حُسْبَانَۃ کی جمع ہے (یعنی) بجلیاں تو وہ باغ دفعتاً ایک صاف (چٹیل) میدان ہو کر رہ جائے، ایسی چکنی سپاٹ زمین کر دے کہ اس پر قدم نہ ٹھہر سکے یا اس کا پانی بالکل اتر جائے غوراً (مصدر) بمعنی غائر ہے یُرْسِلَ پر عطف ہے نہ کہ تصبِحَ پر اس لئے کہ پانی کے اترنے کا سبب صواعق (بجلیاں) نہیں ہوتیں پھر تو اس کو حاصل کرنے کی کوشش بھی نہ کرسکے یعنی کوئی ایسی تدبیر بھی تیرے بس میں نہ رہے کہ جس کے ذریعہ تو (پانی) دوبارہ حاصل کرسکے اور اس شخص کے مال کو تو آفت نے آگھیرا مع اس کے باغ کے ہلاک ہوگیا ثمر میں سابق میں مذکور، تینوں قرأتیں ہیں، تو حسرت اور ندامت سے ہاتھ ملتا رہ گیا اس پر جو اس نے باغ پر (یعنی اس کی شجر کاری پر) خرچ کیا تھا اور وہ باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا ہوا پڑا تھا یعنی انگوروں کے لئے (نصب کردہ) ٹٹیوں پر بایں طور کہ وہ ٹٹیاں گرگئیں (ان پر) انگور کی بیلیں گرپڑیں اور کہنے لگا کیا خوب ہوتا کہ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا، یا تنبیہ کے لئے ہے اور لَمْ یَکن میں یا اور تا دونوں قرأتیں ہیں اور نہ ہوئی اس کے لئے کوئی جماعت کہ جو ہلاکت کے وقت اس کی مدد کرتی اللہ کے سوا اور وہ خود بھی ہلاکت کے وقت اپنی مدد نہ کرسکا، اور وہاں یعنی قیامت کے دن حکومت اللہ برحق کے لئے ہوگی ولایۃ واؤ کے فتح کے ساتھ بمعنی نصرف اور واؤ کے کسرہ کے ساتھ بمعنی حکومت الحق رفع کے ساتھ ہو تو ولایۃٌ کی صفت ہوگی اور اگر جر کے ساتھ ہو تو لفظ اللہ کی صفت ہوگی وہی ثواب دینے کے اعتبار سے بہتر ہے دوسروں کے اجر سے، بالفرض اگر دوسرے اجر دینے والے ہوں اور (مومنین کے لئے) انجام کے اعتبار سے بہتر ہے۔۔۔۔ قاف کے ضمہ کے ساتھ اور سکون قاف دونوں درست ہیں اور اس کا نصب تمیز کی وجہ سے ہے۔
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
قولہ لَوْلاَ تخصیضیہ ہے آمادہ کرنے، ورغلانے کے لئے ہے اِذْ ، دَخَلْتَ کا ظرف مقدم ہے ما شاء اللہ موصول صلہ سے مل کر، مبتداء محذوف کی خبر ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَلأمرُ ماشاء اللہ یا ما شاء اللہ مبتداء ہے، اور اس کی خبر کائنٌ محذوف ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ ما شرطیہ ہو اور جواب شرط محذوف ہو ای ایُّ شیٔ ماشاء اللہ کانَ ، باللہ محذوف سے متعلق ہو کر لائے نفی جنس کی خبر ہے قولہ اِنْ تَرَن اِنْ حرف شرط تَرَنِ مضارع مجزوم واحد مذکر حاضر، نون سے پہلے ی لام کلمہ محذوف ہے نون وقایہ ی ضمیر متکلم مفعول اول محذوف ہے نون کا کسرہ اس کی علامت ہے اور رویت سے رویت قلبی مراد ہے اَنَا دو مفعولوں کے درمیان ضمیر فصل برائے تاکید ہے اَقَلَّ مفعول ثانی ہے مالاً اور ولداً تمیز ہیں، فعسٰی جواب شرط ہے اور اگر تَرَن، سے رویت بصری مراد ہو تو اَقَلَّ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا قولہ یُوْتِیَنِ اس کے آخر میں ی ضمیر متکلم محذوف ہے آتٰی یُوْتِیْ اِیْتَاءً سے فعل مضارع واحد مذکر غائب بمعنی دینا قولہ حُسْبانٌ گرم ہوا کا بگولہ، عذاب حسبان (ن) سے بروزن غفران مصدر ہے بمعنی حساب ای مقدارٌ قدّرہ اللہ تعالیٰ علیھا اس کا واحد حسبانۃ ہے قول تُصْبِحَ فعل ناقص ھِیَ اس میں ضمیر اس کا اسم صعیدًا زلَقًا موصوف صفت سے مل کر خبر قولہ او یُصْبِح کا عطف جملہ سابقہ یُرْسلَ پر ہے نہ کہ تُصبِحَ صعیدًا زَلَقًا پر، اگر حسبان کی تفسیر مطلق عذاب سے کی جائے تو اس صورت میں یُصْبِحَ کا عطف فَتُصْبِحَ پر بھی درست ہوگا، اس لئے کہ عذاب الٰہی باغ کو چٹیل میدان کرنے اور پانی کو گہرائی میں چلے جانے کا سبب ہوسکتا ہے غورًا بمعنی غائر ہے تاکہ حمل درست ہو سکے، ورنہ تو مبالغۃً زید عدل کے مانند حمل ہوگا قولہ علیٰ ما، یقلِّب کے متعلق ہے قولہ باوجُہ الضبط السابقۃ کا مطلب یہ ہے کہ ماسبق میں مذکور ثمرٌ میں جو تین قرأتیں ہیں وہ یہاں بھی ہیں قولہ نَدَمًا وتحَسُّرًا کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یقلب کا صلہ علیٰ اس لئے درست ہے کہ یقلِّبُ ندماً وتحَسُّرًا کے معنی میں ہے ورنہ تو یقلب کا صلہ علیٰ مستعمل نہیں ہے، تحسُّرًا یقلِّبُ کی ضمیر سے حال ہے خاویَۃ اسم فاعل بمعنی اسم مفعول گری ہوئی چیز عُرُوش عَرْشٌ کی جمع ہے ٹٹی، شاخوں کی چھت، دعائم دعامۃ کی جمع ہے ٹیکی، ستون قولہ ینصرونہ جملہ ہو کر فیئۃ کی صفت اول ہے اور من دون اللہ کائنۃ کے متعلق ہو کر صفت ثانی ہے، قولہ ھُنَالک خبر مقدم الولایۃ مبتدا موخر، للہ خبر ثانی الحقُّ ، الولایۃُ کی صفت ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اگر الحق پر کسرہ پڑھا جائے تو اللہ کی صفت ہوگی، عقبًا تمیز ہے عقب بمعنی بدلہ ثواب۔
تفسیر وتشریح
اور جب تو باغ میں داخل ہوا تھا اور باغ کی سرسبزی اور شادابی نے تجھ کو تعجب میں ڈالدیا تو تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ اللہ کو جو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے بغیر اللہ کی مدد کے کسی کو نہ کوئی طاقت اور نہ قوت ؟ یعنی مال اللہ کی بڑی نعمت ہوتی ہے شکر گذاری سے اس کی پائیداری ہوتی ہے اور ناشکری سے آفت آتی ہے، حدیث شریف میں یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ جس شخص کو بہترین مال اور اولاد عطا کئے جائیں تو اگر وہ شخص ماشاء اللہ ولاقوۃ الا باللہ کہہ لے تو وہ مال اور اولاد آفت پہنچنے سے محفوظ رہتا ہے۔
اگرچہ تو مال اور اولاد میں مجھے اپنے سے کمترپاتا ہے مگر کچھ بعید نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر دنیا ہی میں دے دے آخرت میں تو انشاء اللہ عطا کرے ہی گا اور تیرے باغ پر کوئی ایسی آسمانی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف چٹیل میدان ہو کر رہ جائے یا اس آفت سے اس کا پانی اتنا گہرا اتر جائے کہ پھر تو اسے کسی تدبیر سے نہ نکال سکے، یہاں یہ شبہ نہ ہو کہ مومن شخص نے باغ پر فخر کرنے کا جواب تو دیا مگر اولاد پر فخر کرنے کا جواب نہیں دیا حالانکہ کافر بھائی نے مال اور اولاد دونوں پر فخر کیا تھا، اس لئے کہ اولاد کی کثرت جب ہی اچھی معلوم ہوتی ہے جب مال و دولت خوب ہو ورنہ تو کثرت اولاد وبال جان معلوم ہوتی ہے۔
تو اس کا سارا سامان عیش مع اس کے باغ کے تباہ و برباد ہوگیا اور باغ کی آبادکاری پر لگائی ہوئی لاگت کے ضائع ہونے پر کف افسوس ملتا رہ گیا اور جس طرح مکان کی چھت گرجاتی ہے اور پھر اس پر دیواریں بھی گرجاتی ہیں تو وہ مکان بالکل برباد ہوجاتا ہے اسی طرح اس کا باغ بھی گر کر تباہ و برباد ہوگیا اور کہنے لگا کیا خوب ہوتا کہ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرتا یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس شخص کی یہ ندامت اور حسرت دنیوی نقصان پر تھی توبہ اور رجوع الی اللہ یا عقیدہ کفر یہ پر ندامت کی وجہ سے نہیں تھی اس لئے اس کے اس قول کی وجہ سے اس کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ اس کی نجات کے لئے کافی ہے۔
اور اس کے پاس اس کے معاونین کی کوئی ایسی جماعت نہ ہوئی کہ جو خدا کے سوا اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود ہم سے بدلہ لے سکا ایسے موقع پر مدد کرنا خدائے برحق ہی کا کام ہے اور آخرت میں بھی اسی کا اجر سب سے بہتر ہے اور دنیا میں بھی اسی کا نتیجہ اچھا ہے۔
Ayahs 18:45–46آیت نمبر 45 تا 46
ترجمہ : آپ اپنی قوم کے لئے دنیوی زندگی کی مثال بیان کیجئے، مَثَلَ (اِضرب بمعنی صیَّر) کا مفعول اول ہے کماءٍ مفعول ثانی ہے
(دنیاوی زندگی کی مثال ایسی ہے) جیسے ہم نے بادلوں سے پانی برسایا اس (پانی) کی وجہ سے زمین کا سبزہ (آپس) میں اس پانی برسنے کی وجہ سے گتھ گیا اور سبزہ پانی کی وجہ سے رل مل گیا اور سرسبز وبارونق ہوگیا پھر وہ سبزہ سوکھ کر ایسا چورا چورا ہوگیا کہ اس کے ذرّے متفرق ہوگئے جن کو ہوا اڑائے پھرتی ہے یعنی ریزہ ریزہ کر کے ہوا اس کو اڑائے پھرتی ہے حتی کہ اس کا نام ونشان مٹا دیا، مطلب یہ ہے کہ آپ دنیا کو ایسے خوشنما سبزے سے تشبیہ دیجئے جو آخر کار خشک ہو کر چورا ہوگیا ہو اور پھر ہوا نے اس کو منتشر کردیا ہو اور ایک قرأت میں الریاح کے بجائے الریح ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں مال اور اولاد دنیوی زندگی کی رونق ہے دنیا میں ان دونوں سے زینت حاصل کی جاتی ہے اور باقی رہنے والے اعمال صالحہ ہیں وہ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ہیں اور بعض حضرات نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا اضافہ کیا ہے یہ اعمال تیرے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی یعنی جس چیز کی انسان آس اور امید رکھتا ہے، اللہ کے پاس ہے۔
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
کماءٍ میں کاف بمعنی مثل ہے اور اضرب کا مفعول ثانی ہے اور مَثَل الحیوۃ الدنیا مفعول اول ہے اور اضرب معنی میں صیّر کے ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کماءٍ ھی مبتداء محذوف کی خبر ہو، اور انزلناہ جملہ ہو کر ماء کی صفت ہو قولہ الھشیم (ض) ھشْمًا ریزہ ریزہ کرنا ھَشِیْمٌ بمعنی مَھْشّوم رَوِی (س) رِوًا تروتازہ ہونا، خوش منظر ہونا وتَفَرَّقَہ میں عطف تفسیری ہے شَبِّہ فعل امر ہے اس کا فاعل اپ ﷺ ہیں زینۃ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، جس میں واحد تثنیہ جمع سب برابر ہیں اسی وجہ سے زینَۃ، المال اور البنون دونوں کی خبر واقع ہوئی ہے۔
اِضْرب کی تفسیر صَیِّرْ سے کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اضرب کا استعمال جب مثل کے ساتھ ہوتا ہے تو متعدی بدو مفعول ہوتا ہے اس مثال میں دنیوی زندگی کی ابتداء اور انتہاء کو بارش میں اگنے والی گھاس کے آغاز اور انجام سے تشبیہ دی گئی ہے قولہ المال والبنون ایسا قیاس ہے کہ جس کا کبریٰ اور نتیجہ محذوف ہے قیاس کی ترتیب یہ ہے : المال والبنون زینۃ الحیوٰۃ الدنیا، وکل ما ھُوَ زینتھا فھو ھالک فالمال والبنون ھالکان پھر کہا جائے گا، کل ما ھُوَ ھالک لا یُفَتخر بہ، فالمال والبنون لا یفتخر بھما۔
قولہ الباقیات صفت ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے اور وہ الکلمات یا الاعمال ہے خیرٌ اسم تفصیل ہے مگر اپنے حقیقی معنی میں مستعمل نہیں ہے شارح نے بسبب النزول کہہ کر اشارہ کردیا کہ بہٖ میں با سببیہ ہے قولہ اِمْتَزَجَ الماء سے اختلطَ کی دوسری تفسیر کی طرف اشارہ ہے اور امتزاج چونکہ جانبین سے ہوتا ہے لہٰذا امتزاج کی نسبت پانی کے بجائے نبات کی طرف کرنا درست ہے، اگرچہ عرف اور استعمال اس کا عکس ہے عرف اور لغت میں با کثیر غیر طاری پر داخل ہوتی ہے جیسا کہ امتزجَ الماء باللبن پانی دودھ میں مل گیا، نہ کہ دودھ پانی میں مل گیا، اور یہاں کثیر طاری پر باداخل ہے، یہ پانی کی کثرت میں مبالغہ کرنے کے لئے ہے اگر دودھ کم اور پانی زیادہ ہو تو کہیں گے امتزج اللبن بالماء دودھ پانی میں مل گیا، اسی طرح مذکورہ مثال میں یہ بتانا مقصود ہے کہ پانی اتنا زیادہ ہے کہ گویا وہ ہی اصل ہے قولہ اَمَلاً امَلاً کی تفسیر ما یاملہ سے کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ اَمَلاً مصدر بمعنی اسم مفعول مال کے معنی میں ہے
تفسیر تشریح
پہلی مثال میں دنیوی زندگی اور اس کے سامان کی ناپائیداری ایک شخصی اور جزوی مثال سے بیان فرمائی تھی اس میں بھی یہی مضمون، عام اور کلی مثال سے واضح فرمایا ہے، ارشاد ربانی ہے کہ آپ سرکشان قریش سے دنیوی زندگی کی حالت بیان فرمائیے کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا ہو پھر اس پانی سے زمینی بناتات خوب گنجان ہوگئی ہوں اور چند ہی دن کے بعد خشک ہو کر ریزہ ریزہ ہوجائے کہ اس کو ہوا اڑائے پھرتی ہو بس یہی حال دنیا کا ہے کہ آج بڑی شاداب اور خوشنما معلوم ہوتی ہے کل اس کا نام ونشان بھی نہ رہے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں کہ جب چاہیں ایجاد کریں اور جب چاہیں فنا کریں اور جب پوری دنیا کا یہ حال ہے تو مال اور اولاد بھی جو کہ دنیا کا ایک جز ہے دنیوی زندگی کی ایک رونق ہے ان دونوں کے ذریعہ دنیا میں زینت حاصل کی جاتی ہے اس لئے یہ بھی سریع الزوال ہے اور اعمال صالحہ باقی رہنے والے ہیں اور وہ اعمال سبحان اللہ والحمد للہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ہیں، اور بعض حضرات نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا بھی اضافہ کیا ہے وہ باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر اور امید کے اعتبار سے بھی بہتر ہے یعنی اعمال صالحہ سے جو امیدیں وابستہ ہوئی ہیں وہ آخرت میں ضرور پوری ہوں گی اور اس کی امید سے بھی ثواب زیادہ ملے گا بخلاف متاع دنیا کے کہ اس سے دنیا میں بھی انسانی امیدیں پوری نہیں ہوتیں اور آخرت میں تو کوئی سوال ہی نہیں۔
فائدہ : اس آیت میں مال اور اولاد کو دنیوی زندگی کی زیب وزینت کہا گیا ہے یہ حکم فی نفسہ محض مال اور اولاد ہونے کے اعتبار سے ہے لیکن اگر انہی کو خدا پرستی اور دین طلبی کا ذریعہ بنا لیا جائے اور ان سے طاعت الٰہی اور خدمت دین کا کام لیا جائے تو یہی مال واولاد مقصود اور مطلوب بن جاتے ہیں اور ان کا شمار بھی باقیات الصالحات میں ہونے لگتا ہے حدیث شریف میں ہے کہ جب انسان کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے مگر تین عمل ایسے ہیں کہ ان کے ثواب کا سلسلہ جاری رہتا ہے : (1) صدقہ جاریہ (2) وہ علم کہ جس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہو (3) نیک اولاد جو مرنے والے کے لئے دعا کرے (رواہ مسلم) تفسیر قرطبی میں عبید کا قول نقل کیا گیا ہے کہ باقیات صالحات نیک لڑکیاں ہیں وہ اپنے والدین کے لئے سب سے بڑا ذخیرہ ہیں اور دلیل میں حضرت عائشہ ؓ کی یہ روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنی امت کے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کو جہنم میں لے جانے کا حکم دے دیا گیا تو اس کی نیک لڑکیاں اس کو چمٹ گئیں اور رونے چلانے لگیں اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے لگیں کہ یا اللہ انہوں نے دنیا میں ہم پر بڑا احسان کیا ہے اور ہماری پرورش میں بڑی محنت اٹھائی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرما کر بخش دیا۔
Ayahs 18:47–49آیات نمبر 47 تا 49
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ وہ (اللہ) چلا دے گا پہاڑوں کو یعنی اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو روئے زمین سے اکھاڑ دیں گے اور پہاڑ پراگندہ غبار ہوجائیں گے اور ایک قرأت میں نُسَیِّرُ نون اوری کے کسرہ اور جبال کے نصب کے ساتھ ہے اور اے مخاطب تو زمین کو دیکھے گا کہ ایک کھلا میدان ہے کہ اس پر پہاڑ وغیرہ کچھ نہ رہیں گے اور ہم تمام انسانوں کو خواہ مومن ہوں یا کافر سب کو جمع کریں گے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے اور سب کے سب تیرے رب کے رو برو صف بستہ حاضر کئے جائیں گے صفًّا حال ہے (اور معنی میں) مصطفین کے ہے ہر امت کی ایک صف ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو آخر کار تم ہمارے پاس آئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا یعنی تن تنہا یا برہنہ پا، ننگے دھڑ نگے غیر مختون اور منکرین بعث سے کہا جائے گا تم یہ سمجھتے رہے تھے کہ ہم تمہارے بعث کیلئے کوئی وقت موعود نہ لائیں گے اَنَّ مخففہ عن المثقلہ ہے یعنی أنَّہ اور نامہ عمل سامنے رکھ دیا جائے گا یعنی ہر شخص کا نامہ عمل، اگر مومن ہوگا تو دائیں ہاتھ میں اور اگر کافر ہوگا تو بائیں ہاتھ میں دے دیا جائے گا تو اے مخاطب تو دیکھے گا مجرموں کافروں کو کہ اس تحریر سے جو اس میں ہوگی خوف زدہ ہو رہے ہوں گے اور اس (نامہ اعمال) میں لکھی ہوئی بداعمالیوں کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہماری بدنصیبی وَیْلَتَنَا، ھَلَکَتْنَا کے معنی میں ہے اور ویل ایسا مصدر ہے کہ اس کا فعل (اس مادہ) سے مستعمل نہیں ہے یہ (نامہ عمل) کیسی عجیب کتاب ہے کہ جس نے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا اور نہ بڑا جس کا احاطہ نہ کیا ہو ؟ یعنی ہر گناہ کو شمار کر کے قلمبند کرلیا اور مجرمین نامہ اعمال کی اس کیفیت سے تعجب کریں گے اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا موجود پائیں گے یعنی اپنے اعمال ناموں میں لکھا ہوا پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا یعنی نا کردہ گناہ کی سزا نہ دے گا اور نہ کسی مومن کا اجر کم کرے گا
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
قولہ تعالیٰ حَشَرْنَا وعُرِ ضُوْا ووُضِعَ مذکورہ تینوں افعال ماضی کے صیغہ ہیں مگر معنی میں استقبال کے ہیں، وقوع یقینی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ماضی لایا گیا ہے لَمْ نُغادِر کا عطف حَشَرْنَا پر ہے اس لئے کہ لم نغادر لَمْ کی وجہ سے ماضی منفی کے معنی میں ہے قولہ صَفًّا عُرضُوْا کی ضمیر سے حال سے مصدر ہونے کی وجہ سے معنی میں جمع کے ہے یُسَیِّرُ کی تفسیر یذھَبُ بھا سے کرنے میں اشارہ ہے کہ یُسَیِّرُ متعدی بالباء ہے اور الجبالَ اس کا مفعول اول ہے قولہ نغادرُ کی تفسیر نَتْرُکُ سے کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نُغَادرُ باب مفاعلہ اگرچہ طرفین سے فعل کا تقاضہ کرتا ہے مگر یہاں طرفین سے فعل مراد نہیں ہے بلکہ غَادَرَ بمعنی غَدَرَ ہے، ای نترک اور عاقبتُ اللصَ کے قبیل سے ہے قولہ مصطفین سے اشارہ کردیا کہ صفًّا اگرچہ مفرد ہے مگر مصدر ہونے کی وجہ سے معنی میں جمع کے ہے قولہ کماءٍ یا تو مفعول مطلق ہے یا ضمیر مرفوع سے حال ہے، پہلی صورت میں کماء مصدر محذوف کی صفت ہوگا ای فَجِئْنَا کائنًا کماءٍ الخ قولہ أنْ مخففہ عن المثقلہ ہے اس کا اسم، ضمیرِ شان محذوف ہے ای اَنَّہ اور جملہ لَن نَجْعَلَ اس کی خبر ہے دوسرا کلمہ لَنْ حرف ناصب ہے اَنْ کانون لَنْ کے لام میں مدغم کردیا گیا ہے اور قرآنی رسم الخط میں نون کو حذف کردیا گیا لَکُمْ نجعل کا مفعول ثانی ہے اور موعدًا مفعول اول ہے قولہ کتاب کلّ امریٔ مفسر علام نے الکتاب کی تفسیر کتاب کل امریٔ سے کر کے اشارہ کردیا کہ الکتاب کا الف لام مضاف الیہ کے عوض میں ہے قولہ مشفقین کی تفسیر خائفین سے کرنے کا مقصد تعیین معنی ہیں اس لئے کہ مشفقین مختلف معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں خوف کے معنی مراد ہیں، حسن اور ابن کثیر اور ابو عمر نے تُسَیِّرُ الجبالُ مجہول پڑھا ہے اور الجبالُ کو نائب فاعل قرار دیا ہے اور ابن محیص (رح) نے تُسِیْرُ الجبالُ پڑھا ہے اور الجبالُ کو فاعل قرار دیا ہے، اور امام باقون نے نُسَیِّرُ الجبالَ پڑھا ہے اور جبال کو مفعول قرار دیا ہے، اور فاعل اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے یاد رہے کہ نُسَیِّرُ ، فعل محذوف اذکر کا ظرف ہے قولہ مال ھٰذا الکتاب میں ما استفہامیہ مبتدا ہے یہ استفہام تو بیخی ہے لام جارہ ہے ھٰذا اسم اشارہ الکتاب مشار الیہ لھٰذا کا لام یہاں پر رسم الخط قرآنی کے مطابق ھٰذا سے الگ لکھا جاتا ہے مصحف عثمانی میں اسی طرح لکھا ہوا ہے قولہ صغیرۃ وکبیرۃ کا موصوف ھَنُۃ ً یا فعلۃً محذوف ہے معصیۃ بھی مقدر مان سکتے ہیں۔
تفسیر وتشریح
وَاِنَّ نُسَیِّرُ الجبال سے اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کو بیان فرما رہے ہیں اور یہ بتا رہے ہیں کہ یہ باغ و بہار زندگی اور سرسبز و شاداب زمین کس طرح ویران ہوجائے گی اور آخرت کی گھڑی کافروں کے لئے کس قدر حسرت ناک ہوگی ارشاد فرمایا اس دن کو یاد کرو کہ جس دن ہم پہاڑوں کو چلتا کردیں گے اور یہ پہاڑ دھنی ہوئی روئی اور بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے سورة النمل آیت 88 میں فرمایا کہ تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ بڑی مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں مگر وہ اس طرح چلیں گے جس طرح بادل چلتے ہیں اور آپ اے محمد باہر مخاطب زمین کو ایک کھلا میدان دیکھے گا اس دن پہاڑ، دریا اور ٹیلے، عمارتیں، درخت غرضیکہ ہر چیز ناپید ہوجائے گی اور کہیں کوئی نشیب و فراز نہ رہے گا سورة طٰہٰ میں ارشاد فرمایا لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں معلوم کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ میرا پروردگار ان کو بالکل اڑا دے گا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام انسانوں کو سفید بھوری زمین پر جمع کیا جائے گا جو میدے کی روٹی کی طرح ہوگی اس میں کسی بھی انسان کی کوئی علامت باقی نہیں رہے گی اور ہم سب انسانوں کو جمع کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے یعنی اولین و آخرین چھوٹے بڑے کافر مومن سب کو جمع کریں گے کوئی زمین کی تہہ میں یا کسی گوشے میں پڑا نہ رہ جائے گا اور نہ قبر سے نکل کر کہیں چھپ سکے گا صفًّا کے معنی کھڑے ہونے کی حالت میں بھی ہوسکتے ہیں یعنی بارگاہ خداوندی میں سب کی حاضری حالت قیام میں ہوگی کوئی بیٹھا ہوا نہ ہوگا اور صفًّا کے معنی صفوفًا کے بھی ہیں یعنی قطار در قطار کے بھی ہوسکتے ہیں، حدیث شریف میں ہے کہ اہل محشر کی 120 صفیں ہوں گی جن میں سے اسّی صفیں اس امت کی ہوں گی اور جو لوگ قیامت کا انکار کرتے تھے ان سے کہا جائے گا کہ لو دیکھ لو آگئے نا تم ہمارے پاس اسی طرح کہ جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا یعنی جان ومال، آل واولاد اور اپنی ہر اس چیز سے خالی ہاتھ ہو کر جس پر تم دنیا میں ناز کیا کرتے تھے ننگ دھڑنگ ہماری بارگاہ میں حاضر ہوگئے بخاری شریف اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم قیامت میں اپنے رب کے سامنے ننگے پاؤں ننگے بدن اور غیر مختون حالت میں جمع کئے جاؤ گے، پھر آپ ﷺ نے سورة انبیاء کی آیت 104 تلاوت فرمائی اور قیامت میں سب سے اول جس کو لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے (متفق علیہ عن ابن عباس) ایک دوسری روایت میں ہے کہ مذکورہ حدیث سن کر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ کیا سب مردوزن ننگے ہوں گے اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے، آپ نے فرمایا اس وقت معاملہ اس سے زیادہ سنگین ہوگا کہ کوئی کسی کو دیکھے یعنی اس روز ہر ایک کو ایسی فکر دامن گیر ہوگی کہ کسی کو کسی طرف دیکھنے کا ہوش ہی نہ ہوگا سب کی نظریں اوپر کو اٹھی ہوئی ہوں گی اور منکرین قیامت سے یہ بھی کہا جائے گا بلکہ تم نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدہ کا وقت مقرر نہیں کیا بتاؤ تم دوبارہ پیدا ہوگئے یا نہیں ؟ اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا پھر آپ دیکھیں گے کہ مجرم لوگ اس کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اپنے گناہوں کی فہرست پڑھ کر خوف کھا رہے ہوں گے اور سوچ رہے ہوں گے کہ دیکھئے اب کیسی سزا ملتی ہے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کمبختی یہ کیسی عجیب کتاب ہے کہ اس نے نہ ہماری چھوٹی بات چھوڑی اور نہ بڑی مگر اس نے سب احاطہ کرلیا ہے یعنی کوئی بات ایسی نہیں رہی کہ جو اس میں درج نہ ہوگئی ہو اور جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کیا تھا وہ سب موجود پائیں گے اور آپ کا پروردگار کسی پر ظلم نہ کرے گا، اس کا مفہوم عام طور پر حضرات مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ اپنے کئے ہوئے اعمال کی جزاء کو موجود پائیں گے اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیری (رح) فرماتے تھے کہ اس تاویل کی ضرورت نہیں بیشمار روایات حدیث اس بات پر شاہد ہیں کہ یہی اعمال آخرت کی جزاء سزاء بن جائیں گے ان اعمال کی شکلیں وہاں بدل جائیں گی نیک اعمال جنت کی نعمتوں کی شکل اختیار کرلیں گے اور برے اعمال جہنم کی آگ اور سانپ اور بچھوؤں کی شکل اختیار کرلیں گے، اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کا مال قبر میں ایک بڑے سانپ کی شکل میں آکر اس کو ڈسے گا، اور کہے گا اَنا مالک (میں تیرا مال ہوں) اور نیک اعمال ایک حسین عورت کی شکل میں انسان کی قبر کی تنہائی میں وحشت دور کرنے کے لئے آئیں گے وغیرہ وغیرہ، ان تمام روایات کو عموماً مجاز پر محمول کیا جاتا ہے اور اگر مذکورہ تحقیق کو لیا جائے تو پھر مجاز کی ضرورت نہیں رہتی۔
قرآن کریم نے یتیم کے مال کو ناجائز طریقہ سے کھانے کو آگ فرمایا (اِنَّمَا یَاکُلُوْنَ فِی بطُوْنِھِمْ نَارًا) مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت بھی آگ ہے مگر اس کے آثار محسوس کرنے کے لئے اس دنیا سے گذرنا شرط ہے جیسے کہ کوئی ماچس کے بکس کو آگ کہے تو صحیح ہے مگر اس کے آگ ہونے کے لئے رگڑنا شرط ہے، خلاصہ یہ کہ انسان جو کچھ نیک یا بد عمل دنیا میں کرتا ہے یہ عمل ہی آخرت میں جزاء یا سزاء کی شکل اختیار کرے گا، اس وقت اس کے آثار و علامات اس دنیا میں مختلف ہوں گے۔
Ayahs 18:50–53آیت نمبر 50 تا 53
ترجمہ : وَاِذْ قلنا یہ اذکر فعل محذوف کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو یعنی آدم کی تعظیم کے لئے تم اس کے سامنے جھکو نہ یہ کہ زمین پر پیشانی رکھو چناچہ ابلیس کے علاوہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا کیونکہ (ابلیس) جنات میں سے تھا، کہا گیا ہے کہ جنات ملائکہ کی اقسام میں سے ایک قسم ہیں، تو اس صورت میں مستثنیٰ متصل ہوگا اور (یہ بھی) کہا گیا ہے کہ اِلاَّ ابلیس مستثنیٰ منقطع ہے اور ابلیس جنات کا جد اعلیٰ ہے اس کی ذریت بھی ہے جس کا ذکر بعد والی آیت میں آرہا ہے، اور ملائکہ کی ذریت نہیں ہوتی اسی سبب (یعنی جنی ہونے کے سبب سے) اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی یعنی ترک سجدہ کر کے اپنے رب کی اطاعت سے خارج ہوگیا کیا تم پھر بھی اس کو اور اس کی ذریت کو (یہ) خطاب آدم اور ان کی ذریت کو ہے مجھے چھوڑ کر دوست بناتے ہو یعنی ان کی اطاعت کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں عدُوًّ بمعنی اَعْداءً ہے اور حال یہ ہے کہ (یہ) ظالموں کے لئے بہت برا بدل ہے یعنی ابلیس اور اس کی ذریت کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے بجائے نہایت برا بدل ہے، اور میں نے ان کو یعنی ابلیس اور اس کی ذریت کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت اور خود ان کی تخلیق کے وقت حاضر نہیں رکھا یعنی خود ان میں سے بعض کی تخلیق کے وقت ان میں سے کسی کو حاضر نہیں رکھا اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا نہیں یعنی تخلیق میں اپنا معاون بنانے والا نہیں تو پھر ان کی اطاعت کیوں کرتے ہو ؟ اور یوم اذکر (محذوف) کی وجہ سے منصوب ہے یقول ی اور ن کے ساتھ ہے اور جس دن وہ کہے گا کہ تمہارے خیال میں جو میرے شریک تھے (یعنی بت) ان کو پکاروتا کہ تمہارے خیال کے مطابق وہ تمہاری شفاعت کریں چناچہ یہ ان کو پکاریں گے لیکن ان میں سے کوئی بھی جواب نہ دے گا اور ان کے یعنی بتوں اور ان کے عابدین کے درمیان جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی متعین کردیں گے تو وہ سب اس میں ہلاک ہوجائیں گے مَوْبِقًا وَبَقَ بالفتح سے مشتق ہے بمعنی ھَلَکَ اور مجرم جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے (یقین کرلیں گے) کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں یعنی اس میں داخل ہوں گے اور اس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیر فوائد
قولہ تحیۃً لہ یہ اسجدوا کا معمول ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ کان بمعنی صار ہے ای صار من الجن، کان من الجن جملہ مستانفہ ہے اور لم یسجد کی علت ہے قولہ فَفَسَقَ عن امر ربِّہ فا تعلیلیہ اور سببیہ دونوں ہوسکتی ہے فَسَقَ بمعنی خَرَجَ ہے عرب بولتے ہیں فَسَقَتِ الرطبۃ عن قشرھا جبکہ کھجور اپنے چھلکے سے نکل جائے اسی طرح یہ بھی بولتے ہیں فَسَقَتِ الفَارۃ من حُجُرِھَا چوہا اپنے بل سے نکل گیا (ض ن ک) اس کے اصطلاحی معنی ہیں حق وصلاح کے راستے سے ہٹ جانا، نافرمان ہوجانا، حدود شریعت سے نکل جانا، قولہ ھم نوع من الملائکۃ یہ مستثنیٰ متصل کی توجیہ ہے اور ابلیس ابو الجن یہ مستثنیٰ منقطع کی توجیہ ہے افتخذونہٗ میں ہمزہ انکار اور اظہار حیرت کے لئے ہے اور فا تعقیب کے لئے ہے ذریتہٗ کا عطف تتخذونہ کی ضمیر پر ہے مجاہد نے کہا ہے کہ ابلیس کی ذریت میں لاقس اور ولھان ہیں ان دونوں کا کام طہارت میں وسوسہ ڈالنا ہے قولہ ذریّۃ یہ ابو الجن پر تفریع ہے فَسَقَ کی تفسیر خرج سے کر کے لغوی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے اور عن طاعتہٖ بترک السجود کا اضافہ کر کے اصطلاحی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قولہ اَفَتتخذونَہ ہمزہ محذوف پر داخل ہے فا عاطفہ ہے معطوف علیہ فعل محذوف ہے، استفہام توبیخی ہے تقدیر عبارت یہ ہے أبَعْدَمَا حَصَلَ منہ ما حصَلَ من الاباء والفسق یلیق منکم اتخاذہٗ اولیاء قولہ من دونی محذوف سے متعلق ہو کر اولیاء کی صفت ہے مِن دونی کا تعلق تتخذوا سے بھی ہوسکتا ہے وھم لکم عدُوّٗمفعول یا فاعل سے حال ہے عَدُوَّ مصدر ہونے کی وجہ سے معنی میں اعداء کے ہے للظالمین بدلاً سے متعلق ہے اور بدلاً بئس کے فاعل ضمیر مستتر ھو سے تمیز واقع ہے اور ابلیس وذریتہ مخصوص بالذم محذوف کا بیان ہے تقدیر عبارت یہ ہے بئس البدلُ بدلاً ھو ابلیس وذریتہ قولہ شرکائی شر کائی کے قرینہ سے زعمتمونی کے دونوں مفعول محذوف ہیں ای زعمتموھم شرکائی قولہ رَءَیَ کو فی رء یٰ کے آخر یا لکھتے ہیں بصری نہیں لکھتے، رآی کی اصل رَاَیَ ہے یا متحرک ما قبل مفتوح ہونے کی وجہ سے الف سے بدل گئی تو رآ ہوا عربی زبان میں کو فیوں کا رسم الخط رائج ہے لہٰذا را کے آخر میں یا لکھی گئی قولہ مُوَاقِعُوْا اسم فاعل جمع مذکر اصل میں مواقعُون تھا، اضافت کی وجہ سے نون گرگیا ، ایک دوسرے سے قریب ہونے والے، مصدر موقعۃً ہے، مصرف ظرف مکان ہے لوٹنے کی جگہ۔
تفسیر وتشریح
اور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو یعنی اس کی تعظیم بجا لاؤ تاکہ تمام مخلوق کا انقیاد ظاہر ہوجائے اور آدم خلافت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا یعنی ابلیس کے علاوہ سب نے آدم کی بڑائی کا اعتراف کیا مگر ابلیس نے نہ کیا اور گھمنڈ میں آکر کہنے لگا کہ میں آدم سے بہتر ہوں تو آدم کے سامنے کیوں جھکوں اس طرح وہ حکم خداوندی کا انکار کر کے کافروں میں شامل ہوگیا، اور وجہ اس کی یہ تھی کہ ابلیس جنات میں سے تھا فرشتہ نہ تھا ورنہ حکم عدولی نہ کرنا، اس صورت میں یہ اشکال ہوتا ہے کہ جب وہ فرشتہ نہیں تھا تو پھر وہ اللہ کے حکم کا مخاطب ہی نہیں تھا اس لئے کہ حکم کے مخاطب تو فرشتے تھے انہیں کو سجدہ کا حکم دیا گیا تھا صاحب روح المعانی نے کہا ہے کہ وہ فرشتہ یقیناً نہیں تھا لیکن وہ فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان ہی میں شمار ہوتا تھا اس لئے وہ حکم خداوندی کا مخاطب تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (مَا مَنَعَکَ اَلاَّ تَسْجُدَ اِذَا اَمَرْتُکَ ) واخرج ابن جریر ابن الانباری عنہ قال ما کان من الملائکۃ طرفۃ عینٍ واخرج ابن المنذر وابن ابی حاتم عن الحسن قال (قاتَلَ اللہُ اقواماً زَعَمُوْا اَنَّ ابلیسَ کانَ من الملائِکَۃِ وَاللہُ یقُولُ کانَ مِنَ الجِنِّ )
جنات، انسانوں ہی کی طرح با اختیار مخلوق ہیں، مگر جنات اور انسان فرشتوں کے مانند پیدائشی فرمانبردار مخلوق نہیں ہے بلکہ کفرو ایمان اطاعت و معصیت دونوں پر قدرت دی گئی ہے چناچہ ابلیس خود اپنے اختیار سے فسق وعصیان کی راہ اختیار کر کے حکم خداوندی کا منکر ہوگیا، فرشتوں کا یہ سجدہ ایک رمزی سجدہ، انقیاد و اطاعت کی علامت کے طور پر تھا اور اس قسم کا سجدہ امم سابقہ میں جائز تھا یہ سجدہ تحیۃ (سلامی کا سجدہ) تھا شریعت محمدیہ میں غیر اللہ کے لئے ہر قسم کا سجدہ حرام ہے، اور سجدہ کرنے کا حکم صرف جن وملائ کہ ہی کو نہیں تھا بلکہ تمام مخلوقات کو تھا اور روح المعانی میں ایک قول یہ لکھا ہے کہ صرف زمینی مخلوق کو تھا اور فرشتوں میں سے جو زمین پر رہتے تھے انہی کو تھا قرآن کریم میں یہ واقعہ متعدد جگہ آیا ہے مگر کسی جگہ کوئی لفظ ایسا نہیں ہے کہ جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ حکم صرف فرشتوں کے لئے تھا بکہ یہاں صراحت ہے کہ ابلیس کو بھی تھا اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سجدہ کا حکم ملائکہ کے علاوہ دیگر مخلوقات کو بھی دیا گیا تھا اور فرشتوں کا تذکرہ ہر جگہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اس وقت کی مخلوق میں سب سے بہتر مخلوق تھے اس لئے جب ان کو حکم ہوا تو دیگر مخلوقات کو بدرجہ اولیٰ حکم ہوگا، ابلیس کے بارے میں جو یہ بات مشہور ہے کہ وہ فرشتہ بلکہ فرشتوں کا استاد تھا یہ خیال اسرائیلی روایات کی پیداوار ہے اور (وکانَ مِنَ الجن) سے مقصد ابلیس کی اصل بتانا نہیں ہے بلکہ اس بات کی علت بیان کرنا ہے کہ ابلیس نے سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ اور وجہ یہ بتائی گئی ہے چونکہ وہ جنی تھا فرشتہ نہ تھا اس لئے اطاعت سے باہر ہوجانا اس کے لئے ممکن ہوا اگر فرشتہ ہوتا تو یہ بات ممکن نہ ہوتی اس لئے کہ فرشتے فطرہ مطیع اور معصوم ہوتے ہیں۔ (دیکھئے سورة تحریم)
وذُِّیَّتُہ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کے اولاد ہے تو الدوتناسل کا سلسلہ جس طرح انسانوں میں ہے اسی طرح جنات میں بھی البتہ فرشتوں میں یہ سلسلہ نہیں ہے اس لئے یہ بات تو طے ہے کہ ابلیس کی بھی اولاد ہے مگر یہ معلوم نہیں کہ ان میں توالد و تناسل کی کیا صورت ہے، ایک صحیح حدیث جس کو حمیدی نے کتاب الحج میں حضرت سلمان فارسی سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو نصیحت فرمائی کہ تم ان لوگوں میں سے نہ بنو جو سب سے پہلے بازار میں داخل ہوتے ہیں یا سب آخر میں بازار سے نکلتے ہیں کیونکہ بازار ایسی جگہ ہے کہ جہاں سب سے پہلے بازار میں داخل ہوتے ہیں یا سب سے آخر میں بازار سے نکلتے ہیں کیونکہ بازار ایسی جگہ ہے کہ جہاں شیطان نے انڈے بچے دے رکھے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کی ذریت انڈوں بچوں سے پھیلتی ہے اور بعض حضرات نے اس جگہ ذریت سے مراد اس کے معاون و مددگار مراد لئے ہیں خواہ جن ہوں یا انس۔
ابلیس چونکہ کی جنات میں سے تھا اس لئے اس نے اپنے پروردگار کی حکم عدولی کی کیا پھر بھی تم مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی ذریت کو اپنا کارساز بناتے ہو ؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں یہ شیاطین کا رساز تو کیا ہوتے میں نے آسمان اور زمین پیدا کرتے وقت ان کو دکھلایا بھی نہیں، کیونکہ زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت یہ موجود ہی نہیں تھے اور نہ خود ان کی تخلیق ان کو دکھلائی گئی یعنی ان میں سے ایک کی تخلیق دوسرے کو نہیں دکھلائی گئی تھی اور میں ایسا نہیں کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو بناؤں اور اس دن کو یاد کرو جب حق تعالیٰ فرمائیں گے پکاروان کو جن کو تم میرا شریک مانتے تھے لہٰذا وہ پکاریں گے تو وہ ان کو جواب ہی نہ دیں گے یعنی وہ ان کی کچھ مدد نہ کرسکیں گے اور ہم ان (عابدین ومعبودین) کے درمیان ہلاکت کی جگہ حائل کردیں گے یعنی دونوں کے درمیان آگ کی وسیع خلیج حائل کردی جائے گی جس کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب بھی نہ آسکیں گے کام آنا تو درکنار اور مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ کافر چالیس سالہ مسافت کے جہنم کو دیکھ لیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ انہیں ضرور اس میں گرنا ہے یعنی ان کے لئے فرار کی کوئی راہ نہ ہوگی
Ayahs 18:54–59آیت نمبر 54 تا 59
ترجمہ : اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کے عمدہ مضامین مختلف انداز سے بیان کئے ہیں من کل مثلٍ موصوف محذوف مثلاً کی صفت ہے یعنی ہر قسم کی مثالیں تاکہ نصیحت حاصل کریں، اور کافر انسان بڑا جھگڑالو ہے یعنی خصومت میں باطل طریقہ اختیار کرتا ہے جَدَلاً کان کے اسم سے منقول ہو کر تمیز ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وکان جَدَلُ الانسان اکثر شئ فیہ اور لوگوں کو یعنی کفار مکہ کو ایمان لانے اور اپنے پروردگار سے معافی طلب کرنے سے ان کے پاس ہدایت قرآن پہنچنے کے بعد صرف اس انتظار نے روکا کہ ان کو بھی پہلی امتوں جیسا معاملہ پیش آجائے یا یہ کہ عذاب ان کے روبرو آکھڑا ہو، سنۃُ الاولین تاتِیَھُمْ کا فاعل ہے یعنی جو ہمارا قانون قدرت ان کے بارے میں ہے، اور وہ، وہ ہلاکت ہے جو ان کے حق میں مقدر ہوچکی ہے اَنْ یُؤمنوا (منع کا) مفعول ثانی ہے قِبَلاً بمعنی روبرو نظروں کے سامنے اور وہ (عذاب) یوم بدر میں قتل کی شکل میں پیش آیا، اور ایک قرأ ت میں قُبُلاً قاف اور فاء کے ضمہ کے ساتھ ہے جو کہ قبیل کی جمع ہے، انواع کے معنی میں اور ہم نے رسولوں کو مومنین کو بشارت دینے والے اور کافروں کو ڈرانے والے بنا کر بھیجا، اور کافر ایسی باتیں کہہ کر کہ کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ ناحق جھگڑے کھڑے کرتے ہیں تاکہ وہ اس (باطل) طریقہ سے حق قرآن کو زیر کردیں اور انہوں نے میری آیتوں قرآن اور اس عذاب نارکا جس سے ان کو ڈرایا گیا تھا مذاق اڑایا اور اس سے بڑا ظالم کون ہے کہ جس کو اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے منہ پھیرلیا ؟ اور وہ ان کرتوتوں کو بھول گیا جو اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکا ہے یعنی وہ کفرو معصیت کے اعمال جن کو وہ کرچکا ہے بلاشبہ ہم نے ان کے قلوب پر پردے ڈال دئیے ہیں، اس بات سے کہ وہ قرآن کو سمجھیں اس وجہ سے وہ قرآن کو نہیں سمجھ سکتے اور ان کے کانوں کو بہرا کردیا ہے جس کی وجہ سے وہ قرآن کو سنتے نہیں ہیں اور اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ اس وقت ہرگز راہ راست پر نہ آئیں گے یعنی جعل مذکور کی وجہ سے اور وہ قلوب پر پردے اور کانوں میں ثقل (بہرا پن) ہے اور آپ کے پروردگار بڑے ہی درگذر کرنے والے رحم کرنے والے ہیں اور اگر وہ دنیا میں ان کے کرتوتوں کے سبب مؤاخذہ کرنے لگے تو فوراً ہی ان پر دنیا ہی میں عذاب بھیج دے بلکہ ان کے لئے ایک وعدہ ہے اور وہ قیامت کا دن ہے اور وہ اس کے علاوہ کوئی پناہ گاہ ٹھکانہ نہ پائیں گے اور ہم نے ان بستیوں یعنی ان کے باشندوں مثلاً عاد وثمود وغیرہ کو اس وقت ہلاک کردیا جب انہوں نے ناانصافی کی (کفر کیا) اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا یعنی ان کو ہلاک کرنے کیئے اور ایک قرأت میں میم کے فتحہ کے ساتھ ہے یعنی ان کی ہلاکت کیلئے۔
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
قولہ لقد صَرَّفْنَا صَرَّفَ تصریفًا مختلف طریقوں سے بیان کرنا اور مختلف انداز سے سمجھانا، مِنْ کُلِّ مثلٍ میں مِنْ زائدہ ہے، مِنْ کلِّ مثلٍ ، مثلاً محذوف کی صفت ہو کر صرّفنا کا مفعول بہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے صرَّفْنَا فی ھٰذا القرآن مثلاً کائنًا من کلِّ مثلٍ قولہ جَدَلاً اکثرَ شئ کی نسبت سے تمیز ہے، کان کے اسم سے منقول ہے، ای کان جدال الانسان اکثر شئ فیہ ای جدالہ اکثر من کل مجادلٍ مَنَعَ فعل ماضی (ف) الناس مفعول اول اور ان یومنوا جملہ بتاویل مصدر ہو کر مفعول ثانی ان سے پہلے مِنْ محذوف ہے قولہ اذ جاء ھم یومنوا کا ظرف ہے یستغفروا کا عطف یومنوا پر ہے قولہ اَنْ تأتِیَھم بتاویل مصدر ہو کر مَنَعَ کا فاعل ہے انتظار مضاف محذوف ہے اور أن تاتِیَھُمْ مضاف الیہ ہے جو کہ مضاف کے قائم مقام ہے اور یاتِیَھم کا عطف تاتیھُمْ پر ہے قولہ قِبَلاً ، العذابَ سے حال ہے بمعنی سامنے، روبرو اور ایک قرأ ت میں قُبُلاً ہے جو قبیل کی جمع ہے اس کے معنی انواع و اقسام کے ہیں جیسے سُبُلٌ سبیلٌ کی جمع ہے بمعنی انواع قولہ مبشرین ومنذرین مرسلین سے حال ہیں یجادل کا مفعول المرسلین محذوف ہے لِیُدْحِضُوْا یجادل سے متعلق ہے ادحاض (افعال) پھسلانا، ٹلانا، قولہ ما اُنْذِرُوْا میں ما موصولہ ہے اور اُنْذِرُوْا میں ما موصولہ ہے اور اُنذِرُوْا جملہ ہو کر صلہ بہٖ عائد محذوف ہے یا ما مصدریہ ہے انذارھم کے معنی میں اُنذِرُوا جملہ عاطفہ ہو کر اتخذوا کا مفعول اول ہے قولہ مَنْ لفظاً مفرد ہے اور معناً جمع ہے لہٰذا اس کی طرف واحد اور جمع دونوں قسم کی ضمیریں لوٹ سکتی ہیں جیسا کہ آئندہ پانچ ضمیریں مفرد اور پانچ جمع کی مَن کی طرف لوٹ رہی ہیں قولہ اَکِنَّۃ ٌ یہ کِنانٌ کی جمع ہے بمعنی پردہ یہ جملہ اعراض اور نسیان کی علت ہے قولہ بالجعل المذکور اس جملہ کا اضافہ اذًا کے مفہوم کی تعیین کے لئے ہے قولہ رَبُّکَ مبتداء الغفور خبر اول ذوالرحمۃ خبر ثانی قولہ مَوْئل ظرف ہے بمعنی جائے پناہ (ض) والَ یئیلُ والاَّ ، وال الیہ، پناہ لی قولہ تلک القریٰ مبتداء اَھْلکناھُمْ خبر تلک القریٰ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں باب اشتغال سے ہوگا تقدیر عبارت یہ ہوگی اھلکنا تلک القریٰ اَھلکنَاھُمْ قولہ مَھْلک مصدر میمی ہے، ہلاک کرنا یا ظرف زمان ہے ہلاک ہونے کا وقت جمع مھالک، مھلک میں تین قرأتیں ہیں (1) میم کا ضمہ اور لام کا فتحہ مُھْلَک (2) میم اور لام دونوں کا فتحہ مَھْلَکَ (3) میم کا فتحہ اور لام مکسور مَھلِک۔
تفسیر وتشریح
ولَقَدْ صَرَّفْنَا فِی ھٰذا القرآن الخ اللہ تبارک وتعالیٰ نے گمراہ لوگوں کی ہدایت کے لئے قرآن پاک میں کیسے کیسے قیمتی مضامین بیان فرمائے اور مختلف قسم کی مثالوں اور عبرت آموز واقعات کے مضامین کو ذہن نشین کرانے کی کوشش فرمائی مگر جن لوگوں کی مت ہی ماری گئی ہو ان کا کیا علاج ؟ وہ ہر خیر خواہی کو بدخواہی سمجھتے ہیں کفار کے رویہ سے ان کی ہٹ دھرمی اور ضد روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے ورنہ جہاں تک دلیل کا تعلق ہے قرآن کریم نے حق واضح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر کفار ٹس سے مس نہ ہوئے، غالبًا اب صرف انہیں عذاب الٰہی کا ہی انتظار ہے جیسا کہ عذاب الٰہی نے پہلی قوموں کو بالکل تباہ و برباد کر ڈالا، مذکورہ آیات میں تین باتوں کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے (1) انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے وہ جھوٹے جھگڑے کھڑا کرنے میں طاق ہے اللہ کی وعیدوں کا مذاق اڑاتا ہے مگر یاد رکھو حجت تام کردی گئی ہے، موثر انداز اور بہتر طریقہ سے بات پیش کی جا چکی ہے اب بس عذاب کا کوڑا برسنا باقی ہے، (2) کفار کی حق بیزاری اور دین دشمنی کی وجہ سے ان سے حق بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سلب کرلی گئی ہے لہٰذا اب ان کے ایمان لانے کی امید نہ رکھی جائے۔ (3) اللہ تعالیٰ انسانوں کی حرکتوں پر فوراً گرفت نہیں کرتے ڈھیل پر ڈھیل دیتے ہیں تاکہ انسان راہ راست پر آجائے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے امہال کا قانون مقرر کر رکھا ہے مگر جب عذاب کا وقت موعود آئے گا تو اس وقت کوئی راہ فرار نہ ملے گی، ارشاد خداوندی ہے : اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کے عمدہ مضامین مختلف طریقوں سے بیان کئے ہیں قرآن کریم میں مختلف عنوانوں سے اور قسم قسم کے دلائل و شواہد سے سچی باتیں سمجھائی گئی ہیں، فہمائش کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی مگر سرکش اور نافرمان انسان ماننے کے لئے تیار اور انسان بڑا جھگڑالو ہے کتنی ہی صاف اور سیدھے بات ہو وہ کٹ حجتی کے بغیر نہیں رہتا جب دلائل کا جواب نہیں بن پڑتا تو بےہودہ اور مہمل باتیں شروع کردیتا ہے، حدیث میں ایک جھگڑالو آدمی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرے گا، اسے بارگاہ خداوندی میں پیش کیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ ہم نے جو رسول بھیجے تھے ان کے ساتھ تیرا کیا طرز عمل رہا ؟ وہ کہے گا اے پروردگار میں آپ پر بھی ایمان لایا اور آپ کے رسول پر بھی اور عمل میں بھی اس کی اطاعت کی، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ تیرا اعمال نامہ ہے اس میں تو کچھ بھی نہیں ہے وہ کہے گا میں اس اعمال نامہ کو نہیں مانتا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہمارے یہ فرشتے جو تیری نگرانی کرتے تھے تیرے خلاف گواہی دیتے ہیں وہ کہے گا میں ان کی شہادت بھی نہیں مانتا اور نہ ان کو پہنچانتا ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو یہ لوح محفوظ ہے اس میں بھی تیرا یہی حال لکھا ہے وہ کہے گا کہ اے پروردگار کیا آپ نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بیشک تو ظلم سے ہماری پناہ میں ہے تب وہ کہے گا کہ اے میرے رب میں ایسی بن دیکھی شہادتوں کو کیسے مان لوں ؟ میں ایسے شہادت کو مان سکتا ہوں جو میرے اندر سے ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا اب ہم تیرے خلاف تیری ہی ذات میں سے گواہ کھڑا کرتے ہیں وہ سوچ میں پڑجائے گا کہ اس کی ذات میں سے اس کے خلاف کون گواہی دے گا ؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگادی جائے گی (اور اس کی قوت گویائی اس کے اعضاء کی طرف منتقل کردی جائے گی) اس کے ہاتھ پیر اس کے کفر وشرک کی گواہی دیں گے پھر اس کی مہر توڑ دی جائے گی اور اس کو جہنم رسید کردیا جائے گا اس کا بعض حصہ بعض پر لعنت کرے گا، وہ اپنے اعضاء سے کہے گا تمہارا بیڑا غرق ہو میں تو تمہارے ہی لئے جھگڑا کر رہا تھا اس کے اعضاء جواب دیں گے تجھ پر خدا کی مار ہو کیا تو سمجھتا تھا کہ خدا سے کوئی بات چھپائی جاسکتی ہے ؟ یہ روایت قرطبی سے لی ہے اور اس کا آخری حصہ مسلم شریف میں بروایت حضرت انس ؓ مروی ہے۔ (ماخوذ از ہدایت القرآن )
وَمَا مَنَعَ الناس ان یُومِنُوْا یعنی ہدایت پہنچ جانے کے بعد ایمان نہ لانے اور توبہ نہ کرنے کا کوئی معقول عذر ان کے پاس نہیں ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بس اب ان کو اس بات کا انتظار ہے کہ گذشتہ اقوام کی طرح عام تباہی ان پر ڈال دی جائے یا وہ زندہ رہیں اور مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کر دئیے جائیں اور وہ ان عذابوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔
وَمَا نُرْسِلُ المرسلین یعنی رسولوں کی بعثت کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو فرمانبرداری کے اچھے نتائج اور نافرمانی کے برے انجام سے خبردار کردیں ان کے پاس کوئی کوڑا نہیں ہوتا کہ وہ زبردستی لوگوں سے منوالیں اور نہ عذاب لے کر آنا ان کے اختیار میں ہے کہ جب مانگو عذاب لا کھڑا کریں، اور یہ کفار جھوٹے جھگڑے کھڑے کر کے اور کٹ حجتی کر کے چاہتے ہیں کہ حق کی آواز کو زیر کردیں اور جھوٹ کے زور سے سچائی کا قدم ڈگمگادیں مگر ایسا کبھی نہ ہوگا، آیات الٰہی اور تنبیہات خداوندی کے ساتھ ان کا برتاؤ دیکھئے، اور انہوں نے میری آیتوں کا اور اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا گیا تھا مذاق اڑایا یعنی تذکیر بالعذاب کا مقتضیٰ تو یہ تھا کہ ان کے دل دہل جاتے اور بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا اور اپنی غلط روش ترک کردیتے مگر اس کے بر عکس سنگ دل منکروں نے الٹا اسی عذاب کا مذاق اڑایا اور تمسخر کے انداز میں کہنے لگے کہ خدایا اگر واقعی یہ قرآن آپ کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا ہم پر کوئی درد ناک عذاب ڈال دے (انفال آیت 32) اور ان ظالموں سے ان کی بداعمالیوں کے سبب سے توفیق حق سلب کرلی گئی ہے اس لئے کہ ان کے ایمان سے اب مایوسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جس کو اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے اعراض کیا اور وہ اپنے ان کرتوتوں کو بھول گیا جن کو وہ اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکا ہے یعنی سب سے بڑا ظالم اور ناانصاف وہ شخص ہے جس کو اللہ کا کلام سنایا گیا اور مختلف طریقوں سے اسے نصیحت کی گئی مگر پھر بھی بات پر کان نہ دھرا اور اونٹ کی طرح سر اٹھا کر چلدیا اس کو اس بات کا خیال تک نہ آیا کہ وہ کیسی کیسی حرکتیں کر رہا ہے، آخرت میں اسے کیسی کچھ سزا بھگتنی ہوگی، اس لئے کہ بندہ جب اپنے اختیار سے عرصہ تک حق کی مخالفت کرتا رہتا ہے اور خیر خواہانہ نصیحت کے مقابلہ پر جھگڑوں پر تل جاتا ہے اور حق کا مقابلہ مکروفریب سے کرنے لگتا ہے تو اس سے حق کو سمجھنے اور سننے کی توفیق سلب کرلی جاتی ہے دلوں پر پردے ڈالدئے جاتے ہیں اور کانوں میں ڈاٹ ٹھوک دی جاتی ہے۔
اور اب چونکہ ان کے کان اور دل ان کی ضد کی وجہ سے قبول حق کی استعداد کھو چکے ہیں تو اب ان بدبختوں کے راہ راست پر آنے کی کبھی توقع نہیں اس لئے آپ ان کا زیادہ غم نہ کریں۔
اور آپ ان کی فوری گرفت نہ کرنے سے یہ نہ سمجھیں کہ یہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں گے بلکہ بات یہ ہے کہ مجرموں کی فوری گرفت ہماری سنت نہیں ہے ہم مجرموں کو سنبھلنے کی کافی مہلت دیتے ہیں، ارشاد ہے : اور آپ کے پروردگار بڑے ہی درگذر کرنے والے ہیں رحم فرمانے والے ہیں اگر وہ ان کی حرکتوں پر فور گرفت کرنے لگیں تو فوراً ہی (دنیا میں) عذاب بھیج دیں یعنی حرکتیں تو ان کی ایسی ہیں کہ عذاب بھیجنے میں لمحہ بھر کی بھی تاخیر نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جہاں کسی نے قصور کیا فوراً ہی سزا دے دی بلکہ وہ اپنی صفت غفار اور ستاری اور شان رحیمی سے مجرموں کو سنبھلنے کا خوب موقعہ دیتا ہے اور ان کے لئے عذاب کا وقت موعود ہے اس سے کوئی ہرگز بچنے کی جگہ نہ پائے گا کہ اس میں چھپ چھپا کر خود کو محفوظ کرلے۔
اور ہم نے عاد وثمود کی بستیوں کو اس وقت ہلاک کیا جب انہوں نے ناانصافی کی اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک میعاد مقرر کر رکھی تھی اے کفار مکہ تمہیں اس سے سبق لینا چاہیے اگر تم بھی ان کے نقش قدم پر چلتے رہے تو وقت مقررہ پر تمہیں بھی عذاب الٰہی آگھیرے گا اور اس وقت تمہارے لئے بھی کوئی راہ فرار نہ ہوگی۔