18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 18:79–82

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

(کہ وہ جو) کشتی تھی، غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گزارہ) کرتے تھے اور انکے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ (بڑا ہو کر بد کردار ہوگا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی اور محبت میں زیادہ قریب ہو

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار تھی دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا، اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپناخزانہ نکالیں یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیے یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

آیت نمبر 79 تا 82 بہرحال وہ کشتی چند یعنی دس غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں اس کشتی کو کرایہ پر چلا کر روزی کماتے تھے میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور اس کے آگے ایک کافر بادشاہ تھا جو ہر صحیح سالم کشتی کو غصب کرلیتا تھا غصبًا کا نصب اَنِ مصدریۃ کی بنا پر ہے جو کہ بیان نوعیت کے لئے ہے بہرحال لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے پس ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا ان دونوں پر سرکشی اور کفر سے چھا جائے گا مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ وہ لڑکا فطرت کفر پر پیدا کیا گیا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو یقیناً وہ اپنے والدین پر غالب آجاتا اور وہ اس سے محبت کی وجہ سے کفر میں اس کی اتباع کرتے، اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کے بدلے میں پاکیزگی صلاح وتقویٰ کے اعتبار سے اس سے بہتر اور محبت و شفقت میں اس سے بڑھ کر عطا فرمائے یُبَدِّ لَھُمَا دال کی تشدید اور تخفیف دونوں ہیں رُحْمًا میں ح کا سکون اور ضمہ دونوں ہیں بمعنی رحمت والدین کی اطاعت و فرمانبرداری ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو لڑکے کے بدلے میں ایک لڑکی عطا فرمائی جس نے ایک نبی سے شادی کی تو اس سے ایک نبی پیدا ہوئے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک امت کو ہدایت نصیب فرمائی۔ اب رہی دیوار تو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس شہر میں رہتے تھے اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ سونے چاندی کی قسم کا مال مدفون تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا چناچہ اس کے صلاح وتقویٰ کی وجہ سے ان کی جان ومال محفوظ رہے اس لئے آپ کے پروردگار نے چاہا کہ دونوں بچے جوان ہوجائیں یعنی کمال قوت کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں آپ کے رب کی مہربانی سے رحمۃً مفعول لہ ہے اس کا عامل اراد ہے اور میں نے یہ کام جو ماقبل میں مذکور ہوئے یعنی کشتی کو توڑنے غلام کو قتل کرنے اور دیوار کو درست کرنے کے اپنے اختیار سے نہیں کئے بلکہ منجانب اللہ الہام کے ذریعہ کئے تھے یہ ہے حقیقت ان کاموں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا اسْطَاعَ اور اِسْتَطَاعَ اَطاقَ کے معنی میں مستعمل ہے اس میں اور ماقبل میں دونوں لغتوں کا اجتماع ہے اور اَرَدت وَاَرَادَ و اَرَدْنَا میں تیرے رب نے عبارت میں تنوع اختیار کیا ہے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد قولہ السفینۃ (ج) سَفِیْنٌ وسَفَائِنٌ قولہ وَرَاءَھُمْ یہ اضداد میں سے ہے اس کے معنی آگے اور پیچھے کے ہیں یہ دراصل مصدر ہے اس کے معنی ہیں آڑ، حد فاصل، اضمار قد کے ساتھ جملہ حالیہ ہے قولہ غَصَبًا یاخذ کا مفعول مطلق بیان نوع کے لئے ہے یاخُذُ چونکہ غصب کے معنی کو متضمن ہے لہٰذا تقدیر عبارت اس طرح ہوگی غَصَبَ غَصْبًا وراءھم کی تفسیر رجعوا اور امَامَھُم سے کر کے اشارہ کردیا کہ وراء اضداد میں سے ہے یہ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے قولہ سفینۃ اس کی صفت صالحۃ محذوف ہے ای کلَّ سفینۃٍ صالحۃٍ حضرت ابی اور ابن عباس ؓ کی قرأت میں صالحتہ کا لفظ موجود ہے قولہ فخشینا ان یُرھِقَھُمَا ای یرھق الغلامُ اَبْوَیْہِ یقالُ رَھِقَہٗ ای غشِیَہ طغیانا، یُرھقھما کا مفعول ہے، اور کفراً کا عطف طغیاناً پر ہے رُحْمًا مصدر ہے بمعنی شفقت مہربانی (س) رحمۃً ورُحْمًا مہربان ہونا زکوٰۃ اور رُحمًا خیرًا سے تمیز واقع ہیں، خیرًا یہاں اسم تفضیل کے معنی میں نہیں ہے قولہ رحمۃ یا تو یبْلُغَا اور یستخر جا کا مفعول لہ ہے یا فعل محذوف فعلتہ کا مفعول بہ ہے قولہ اسطاعَ یسطیعُ حذف تا کے ساتھ استطاعَ یَسْتَطِیْعُ میں دوسری لغت ہے۔ تفسیر وتشریح اماّ السفینۃ یعنی وہ کشتی جس کو توڑ دیا تھا چند نادار اور غریب آدمیوں کی تھی اور وہ کشتی جدھر جا رہی تھی اس طرف ایک ظالم کافر بادشاہ کی عملداری تھی جو ہر صحیح سالم کشتی کو غصب کرلیتا تھا اور ان غریبوں کا یہ کشتی ہی ذریعہ معاش تھی جس کے کرایہ کی آمدنی سے اپنا گذارہ کرتے تھے اگر میں اس کشتی میں سوراخ کر کے عیب دار نہ کرتا تو وہ بادشاہ اسے بھی چھین لیتا جس کی وجہ سے یہ بیچارے ذریعہ معاش سے بھی محروم ہوجاتے۔ مولانا رومی نے اس مضمون کو اس طرح ادا کیا ہے : خضر در بحر کشتی را شکبست صد درستی در شکست خضر ہست ترجمہ : اگر خضرعلیہ السلام نے دریا میں کشتی توڑ دی تو کیا برا کیا، خضر (علیہ السلام) کے کشتی توڑنے میں سینکڑوں مصلحتیں ہیں۔ اس ظالم بادشاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غسانی تھا اور اس کا نام جیسور تھا۔ فائدہ : مسکین اور فقیر میں کیا فرق ہے ؟ مسکین کی حالت زیادہ ابتر ہوتی ہے یا فقیر کی ؟ امام شافعی (رح) کے نزدیک فقیر، مسکین کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہوتا ہے اس لئے کہ مسکین اس کو کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو اور اَمّا السفینۃ فکانت لمساکین سے استدلال کرتے ہیں اس لئے کہ ان کے پاس کشتی ہونے کے باوجود ان کو مسکین کہا گیا ہے، امام صاحب (رح) فرماتے ہیں عرف میں مسکین فقیر کی نسبت زیادہ خستہ حال سمجھا جاتا ہے، اس لئے کہ مسکین وہ شخص جس کے پاس کچھ نہ ہو اور فقیر وہ شخص جس کے پاس گذارہ کے قابل نہ ہو، سورة بلد آیت نمبر 16 میں اَوْ مِسْکِیْنًا ذا مَتْرَبَّۃٍ خاک نشین مسکین یعنی جس کے پاس بچھونا تک نہ ہو زمین پر پڑا رہتا ہو، رہا فَکَانَتْ لِمَسَاکِیْنَ سے استدلال تو اس کا، جواب یہ ہے کہ یہ نسبت ادنیٰ تعلق کی وجہ سے مجازاً ہے جیسا کہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ کشتی ان کی ملک نہ تھی بلکہ کسی اور کی تھی ان کے پاس کرایہ یا رعایت پر تھی اسی وجہ سے کشتی کی نسبت ان کی طرف کردی ہے (شامی کتاب الزکوٰۃ باب المصرف) بحوالہ ہدایت القرآن۔ دوسرا واقعہ لڑکے کو قتل کرنے کا ہے حضرت خضر (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی معلوم ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرشت اور جبلت کے اعتبار سے کافر تھا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر اپنے والدین کے لئے فتنہ بنے گا، والدین اپنی طبعی محبت کی وجہ سے بےدینی میں بھی اس کا ساتھ دیں گے، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس کو قتل کردیا، اور یہ قتل اس کے والدین کے حق میں رحمت اور ان کے دین کی حفاظت کا ذریعہ بن گیا اور طبعی طور پر ان کو جو صدمہ پہنچا تھا حق تعالیٰ نے اس کی تلافی ایسی اولاد سے کردی جو پاکیزگی میں مقتول لڑکے سے بہتر تھی اور ماں باپ پر شفقت اور مہربانی میں بڑھ کر تھی، کہتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک لڑکی گی جو ایک نبی سے منسوب ہوئی اور ایک نبی اس سے پیدا ہوئے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک امت کو ہدایت دی۔ (فوائد عثمانی) بعض حضرات نے کہا ہے کہ اب صالح بلا واسطہ اب تھا اور بعض نے کہا کہ اب ساتویں پشت میں دادا تھا کہتے ہیں کہ اس کا نام کاشحا اور اس کی والدہ کا نام دنیا تھا، اس واقعہ سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اصول کا تقویٰ فروع کے لئے نافع ہوتا ہے۔ (صاوی) فائدہ : یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں : پہلا سوال : یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ وہ لڑکا بڑا ہو کر کافر ہوگا اور اپنے والدین کو بھی گمراہ کرے گا تو پھر علم الٰہی کے مطابق ایسا ہونا ضروری تھا اس لئے کہ علم الٰہی کے خلاف کوئی چیز نہیں ہوسکتی پھر وہ کیسے قتل کیا گیا اللہ تعالیٰ کے علم کے خلاف یہ واقعہ کیونکر رونما ہوا ؟ دوسرا سوال : یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو اس کے والدین کو ایمان پر قائم رکھنا مقصود تھا اور اسی وجہ سے حکمت الہٰیہ مقتضی ہوئی کہ پیش آنے والی رکاوٹ کو دور کردیا جائے اور خضر (علیہ السلام) کو حکم دے کر اس لڑکے کو قتل کرا دیا تو اس سے بہتر تو یہ تھا کہ اس لڑکے کو پیدا ہی نہ کرتے یا کرتے تو اس کو کافر نہ ہونے دیتے یا جہاں لاکھوں کافر دنیا میں موجود ہیں اس کے والدین کو ہی کافر بن جانے دیتے دونوں سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں : سوال اول کا جواب : یہ کہ علم ہمیشہ معلوم کے تابع ہوتا ہے نہ کہ معلوم علم کے، مثلاً کسی شخص نے دارالعلوم دیو بند کی مسجد رشید دیکھی، مسجد کو دیکھ کر اس کو ایک علم حاصل ہوا تو یہ علم معلوم یعنی مسجد کے تابع ہوگا یعنی جیسی مسجد ہے ویسا ہی اس کو علم حاصل ہوا ہے اور علم واقعہ کے مطابق ہے اور اگر کوئی شخص اپنے ذہن میں مسجد رشید کی خیالی صورت بنا لے تو یہ ضروری نہیں کہ وہ واقعی مسجد رشید کے مطابق ہو کیونکہ معلوم کبھی بھی علم کے تابع نہیں ہوتا بلکہ اس علم ہی کو خلاف واقعہ کہا جائے گا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ علم الٰہی اور علم مخلوق میں یہ فرق تو بہرحال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم حضوری ہے یعنی معلوم کے وجود کا محتاج نہیں اور بندوں کا علم کسبی ہے یعنی معلومات کے وجود کا محتاج ہے، اگرچہ وہ وجود وجود ذہنی ہی کیوں نہ ہو مگر جہاں تک تبعیت کا تعلق ہے دونوں کا معاملہ یکساں ہے، لہٰذا سائل کی یہ تعبیر ہی صحیح نہیں ہے کہ اس لڑکے کا علم الٰہی کے مطابق کافر ہونا ضروری تھا یہ تعبیر تو اس وقت صحیح ہوسکتی تھی کہ جب معلوم علم کے تابع ہوتا بلکہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ازل سے جانتے ہیں کیونکہ اس کا علم حضوری ہے معلومات کے وجود سے پہلے بھی اس کو معلومات کا علم حاصل ہے مگر ازل میں اللہ تعالیٰ کے جاننے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ویسا ہی ہوجائے کیونکہ معلوم علم کے تابع نہیں ہوتا ہاں یہ بات ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل میں وہی بات جانے جو ہونے والی ہے کیونکہ اس کا علم خلاف واقعہ نہیں ہوسکتا ورنہ صفت علم میں کذب (خلاف واقعہ) لازم آئے گا جو محال ہے۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ ازل میں اللہ تعالیٰ کے علم میں صرف یہی بات نہیں تھی کہ وہ لڑکا بڑا ہو کر کافر ہوگا اور اس کے والدین اس کے فتنہ میں مبتلا ہوں گے بلکہ علم الٰہی میں پوری تفصیل موجود تھی کہ اگر وہ لڑکا بالغ ہوتا تو کافر ہوتا اور اپنے والدین کے لئے خطرہ بنتا مگر چونکہ وہ سن بلوغ سے پہلے ہی مرجائے گا اس لئے نہ وہ کافر ہوگا اور نہ اس کے والدین اس کے فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ یہ درحقیقت تقدیر کا مسئلہ ہے تقدیر کا حاصل یہ ہے کہ بندے جو نیک وبدکام کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ازل سے جانتے ہیں مگر اس جاننے سے انسان ویسا کرنے پر مجبور نہیں ہوجاتا اس لئے کہ معلوم علم کے تابع نہیں ہوتا بلکہ بندہ اپنے ارادہ اور مرضی سے جو نیک وبد کرنے و الا ہے ان کو اللہ تعالیٰ ازل سے جانتا ہے اور یہ جاننا مطابق واقعہ ہے کیونکہ علم معلوم ہی سے ماخوذ ہوتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے علم کے خلاف اس لئے نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ وہی جانتا ہے جو ہونے والا ہے اگر اس کے خلاف ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا علم واقعہ کے مطابق نہیں تھا۔ (تعالی اللہ عن ذٰلک علوًا کبیرًا) اس مضمون کی تعبیر اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ تقدیر کے معنی ہیں پلاننگ کرنا، اللہ تعالیٰ نے ازل میں کائنات کے لئے جو اندازہ مقرر کیا ہے اس میں انسان کے لئے ایک جزوی اختیار رکھنے والی مخلوق ہونا طے کیا گیا ہے، لہٰذا انسان اپنی مرضی سے جو کام کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ ازل سے جانتے ہیں، اس کے برخلاف نہیں جانتے، علم الٰہی کے خلاف ہوسکنے یا نہ ہوسکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرے سوال کا جواب : یہ ہے کہ تکوینیات کے بارے میں انسان کا علم نہ ہونے کے برابر ہے، حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس سے تو پردہ اٹھایا کہ اس لڑکے کو مار ڈالنے میں یہ حکمت تھی مگر یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ اس کو پیدا کرنے میں کیا حکمت تھی مثلاً انسان کے بدن میں کئی جگہ بال اگتے ہیں ناخون بڑھتے ہیں شریعت کا حکم یہ ہے کہ ان کو صاف کیا جائے اور یہ نظافت کا تقاضہ ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان کو کاٹنا ضروری ہے تو آخر اللہ تعالیٰ ان بالوں کو پیدا ہی کیوں فرماتے ہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ اس کی حکمت اللہ ہی بہتر جانتے ہیں ہم نہیں جانتے البتہ ہم اجمالاً یہ بات جانتے ہیں کہ ان بالوں کو پیدا کرنے میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہے اسی طرح اس لڑکے کے پیدا کرنے میں کوئی مصلحت ضرور ہوگی جو ہم نہیں جانتے، خضر (علیہ السلام) نے بھی اس راز سر بستہ کو نہیں کھولا، اس لئے عقل انسانی کے لئے بجز اعتراف عجز و قصور کے کوئی راہ نہیں، ہمیں تو بس یہ قاعدہ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں جو چیزیں بظاہر خراب مہلک اور بری مضر اور نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں ان میں بھی مجموعہ عالم کے لحاظ سے بیشمار فوائد ہیں۔ (ہدایت القرآن) وَاَمّا الجدار فکان اب تیسرے اور آخری واقعہ کی حقیقت سنئے ارشاد ہے، دیوار کے واقعہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے رہتے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے، ان کا باپ بڑا نیک اور صالح شخص تھا تو تیرے رب کی مرضی یہ تھی کہ دونوں یتیم بچے جوان ہوجائیں اور اپنا خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں، میں نے اپنی رائے و اجتہاد سے کوئی کام نہیں کیا، یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی۔ حضرت ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے کہ اس دیوار کے نیچے سونے چاندی کا ذخیرہ تھا ( رواہ الترمذی والحاکم) جو ان کو ان کے باپ سے میراث میں پہنچا تھا، اگر دیوار گر جاتی تو وہ دفینہ ظاہر ہوجاتا اور بدنیت لوگ اس کو لے جاتے بچوں کا باپ چونکہ نیک آدمی تھا اس لئے اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس کے مال کو اس کی اولاد کے لئے محفوظ رکھا اور حضرت خضر (علیہ السلام) کے ذریعہ دیوار کی مرمت کرادی جس کی وجہ سے مال محفوظ ہوگیا اور یہ سب رحمت خداوندی تھی اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا دیوار کو درست کرنا یہ بامر خداوندی تھا، اور جو کام امر خداوندی سے کرنا ضروری ہو اس پر اجرت لینا درست نہیں، یہیں سے یہ ضابطہ بنا ہے کہ طاعت مقصودہ پر اجرت لینا باطل ہے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم کو صبر نہ ہوسکا، لہٰذا الوداع۔۔۔ فائدہ : دنیا میں ہر کام خواہ اچھا ہو یا برا اللہ کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے خیر وشر سب اسی کی مخلوق ہے مگر ادب کا تقاضا یہ ہے کہ شر اور حقیر و ذلیل چیزوں کی تخلیق کی نسبت اس کی طرف نہ کی جائے مثلاً یوں نہ کہا جائے، اے خالق الشریا اے خالق البعوضہ والذباب چناچہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے جب کشتی توڑنے کا ذکر کیا تو چونکہ وہ کام بظاہر ایک برا کام تھا اس لئے اس کے ارادہ کی نسبت اپنی طرف کی اور اردت فرمایا اسی طرح لڑکے کو قتل کرنے اور اس کے بدلے میں اس سے بہتر اولاد دینے کا ذکر کیا تو اس کا قتل چونکہ برائی تھی اور بہتر اولاد دینا ایک بھلائی تھی اس لئے امر مشترک ہونے کی وجہ سے جمع متکلم کا صیغہ استعمال کیا تاکہ جتنا بظاہر شر ہے وہ اپنی طرف اور جو خیر ہے وہ اللہ کی طرف منسوب ہوجائے اور تیسرے واقعہ میں دیوار کو درست کر کے یتیموں کا مال محفوظ کردینا سراسر خیر ہی خیر تھا، اس لئے اس کی پوری نسبت اللہ کی طرف کرتے ہوئے فاراد ربک فرمایا۔ (معارف القرآن)
Ayahs 18:83–91

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو اس نے سفر کا ایک سامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچے تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈدوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی ہم نے کہا ذوالقرنین ! تم کو ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں) کی تم کو قدرت ہے

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

(ذوالقرنین) نے کہا کہ جو (کفر و بدکاری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے برا عذاب دے گا

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان سفر کا کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

حقیقت الحال یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو اس کی خبر تھی

آیت نمبر 83 تا 91 ترجمہ : یہود آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کرتے ہیں اس کا نام اسکندر ہے اور وہ نبی نہیں تھا آپ کہہ دیجئے میں تم کو اس کا کچھ حال سناتا ہوں زمین میں سفر آسان کر کے ہم نے اس کو زمین میں قدرت عطا فرمائی تھی اور ہم نے اس کو ہر قسم کے وسائل جن کی (بادشاہوں) کو ضرورت ہوتی ہے بخشے تھے ایسے وسائل کہ جن کے ذریعہ اس کو اپنے مقصد تک رسائی حاصل ہو سکے، چناچہ وہ مغرب کی جانب ایک راستہ پر ہو لیا، یہاں تک کہ جب وہ انتہائے مغرب میں پہنچ گیا، تو اس کو آفتاب ایک گدلے چشمہ میں ڈوبتا ہوا نظر آیا، کالی مٹی والے چشمہ میں، حمأۃ کالی مٹی اور آفتاب کا چشمہ میں غروب ہونا یہ دیکھنے والے کی نظر میں (محسوس ہوتا) تھا ورنہ آفتاب تو دنیا سے بہت بڑا ہے اور اس کو وہاں چشمہ کے پاس ایک کافر قوم ملی ہم نے بذریعہ الہام اس سے کہا یا تو تم اس قوم کو قتل کے ذریعہ سزا دو یا قید کر کے ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو تو کہا جو شخص شرک کر کے ظلم کرے گا تو اس کو قتل کی سزا دیں گے پھر وہ اپنے رب کی جانب لوٹا یا جائے گا پس وہ اس کو اور بھی سخت سزا دے گا نُکْرًا کاف کے سکون اور ضمہ دونوں کے ساتھ ہے یعنی آگ کا شدید عذاب اور جو ایمان لائے گا اور نیک اعمال کرے گا تو اس کے لئے بدلے میں بھلائی ہوگی یعنی جنت اور اضافت بیانیہ ہے اور ایک قرأت میں جزاءً کے نصب اور تنوین کے ساتھ ہے، اور فرّا نے کہا ہے اس کا نصب جہت نسبت کی تفسیر کی وجہ ہے اور ہم اسے اپنے کام میں بھی آسانی کا حکم دیں گے یعنی ایسی باتوں کا جو اس کے لئے آسان ہوں گی پھر وہ مشرق کی جانب (دوسرے) راستہ پر چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ مطلع شمس یعنی طلوع آفتاب کے مقام (انتہائے مشرق) پر پہنچا تو اس نے آفتاب کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا اور وہ زنجی قوم تھی کہ ہم نے ان کے لئے آفتاب سے بچاؤ کی کوئی آڑ جیسے لباس چھت وغیرہ نہیں رکھی تھی اس لئے کہ ان کی زمین عمارت کی متحمل نہیں تھی اور ان کے لئے بھٹ تھے جن میں وہ طلوع آفتاب کے وقت چھپ جاتے تھے اور غروب کے وقت نکلتے تھے بات ایسی ہی ہے جیسا کہ ہم نے کہا اور ہم نے اس کی یعنی ذوالقرنین کی تمام چیزوں کا علمی احاطہ کر رکھا ہے خواہ وہ آلات حرب کے قبیل سے ہوں یا لشکر وغیرہ کے قبیل سے۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد قولہ سأتلوا سین محض تاکید کے لئے ہے استقبال کے لئے نہیں ہے اس لئے کہ پورا کلام مسلسل نازل ہوا ہے قولہ منہ میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ من تبعیضیہ ہے اور ضمیر ذوالقرنین کی طرف راجع ہے اور مضاف محذوف ہے ای من اخبارہ جار مجرور درحقیقت ذکرًا کی صفت ہیں مگر مقدم ہونے کی وجہ سے حال واقع ہیں، دوسرا احتمال یہ ہے کہ منہٗ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہو اور من ابتدائیہ ہو یعنی میں اللہ کی طرف سے یہ احوال پڑھ کر سناتا ہوں، مگر یہ احتمال ضعیف ہے، ذِکْرًا پہلی صورت میں نبأ کے معنی میں ہوگا اور دوسری صورت میں قرآن کے معنی میں ہوگا منہٗ کی تفسیر من حالہ سے کرنے کا مقصد مضاف محذوف کی طرف اشارہ کرنا ہے اس لئے کہ سوال احوال سے ہوتا ہے نہ کہ ذات سے قولہ مَکَّنَّا تمکین سے قدرت دینا، قدم جمانا قولہ سَبَبٌ رسی، ذریعہ، وسیلہ (ج) اسباب قولہ وَجَدَ بمعنی رأی دیکھا، محسوس کیا حمِئَۃً حَمِیَ (س) سے صفت مشبہ حَمْئًا حمَأ الماءُ پانی گدلا ہوگیا اَلحَمِئَۃ کالی مٹی قولہ اِمّا یہ اِنْ اور ما سے مرکب ہے اور یہ حرف تفصیل ہے اور أن تُعَذ ِّبَ میں أن مصدریہ ہے اور جملہ بتاویل مصدر ہو کر یا تو مبتداء ہے اور خبر محذوف ہے ای اِمَّا تُوقِعُ تَعْذِیْبَکَ اور اِمَّا تتخذ میں بھی یہی احتمالات ہیں قولہ ہیں قولہ فی رأی العین کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وَجَدَا پنے حقیقی معنی میں نہیں ہے بلکہ نظر آنے یا محسوس کرنے کے معنی میں ہے اس لئے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ آفتاب زمین کے کسی چشمے میں غروب ہو اس لئے کہ آفتاب تیرہ لاکھ زمینوں کے مساوی ہے اور اس کا قطر چھیاسی لاکھ پینسٹھ ہزار (8665000) میل ہے، (فلکیات جدیدہ) آفتاب کا چشمے میں غروب ہوتا نظر آنا ایسا ہی ہے جیسا کہ دیکھنے والے کو آسمان چاروں طرف افک سے متصل معلوم ہوتا ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اسی طرح اگر آپ ریل کی لائن پر کھڑے ہو کر لائن کو دور دیکھیں تو آپ کو دونوں لائینیں آپس میں ایک دوسرے سے قریب ہوتی نظر آئیں گی حتی کہ آخر میں ملی ہوئی محسوس ہوں گی حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ قولہ حُسْنًا اس کا مضاف محذوف ہے ای ذَا حسنٍ یا مصدر کا حمل مبالغۃ ہے قولہ اَمَّا مَنْ ظلم اَمّا حرف تفصیل ہے مگر اس میں شرط کے معنی بھی ہیں اسی لئے اس کے جواب پر فا کا لانا ضروری ہے قولہ فَلَہٗ جزاء، لہٗ خبر مقدم ہے اور الحسنیٰ مبتداء مؤخر ہے، جزاء حال ہے یا تمیز ہے ای لہٗ الحسنیٰ جزاءً کما یقال لک ھٰذا الثوبُ ھبۃً قولہ یُسْرًا کا مضاف محذوف ہے ای ذَا یُسْرٍ یا پھر مصدر کا حمل مبالغۃ ہے قولہ لم نجعل قوم کی صفت ہے قولہ کذٰلک مبتداء محذوف کی صفت ہے ای الامر کذٰلک قولہ اَحَطْنَا کے لئے سورة کہف کی آیت 68 دیکھئے اَحَطْنَا جملہ مستانفہ ہے خُبْرًا خَبُرَ کا مصدر ہے (ک ف) خبُرَ الشیٔ وبہ حقیقت حال سے واقف ہونا قولہ بالھام سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذوالقرنین نبی نہیں تھے بلکہ ایک صالح بادشاہ تھے قولہ سَنَقُولُ کی تفسیر نامرہٗ سے کرنے کا مقصد تعیین معنی ہے اس لئے کہ قول مختلف معنی میں مستعمل ہے۔ تفسیر وتشریح ویَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی القَرْنَیْنِ آغاز واقعہ : آپ ﷺ کی بعثت کے بعد جب اسلام کی روشنی کی کرن نمودار ہوئی اور کفر کی ظلمت کے دبیز پردے چاک ہونے لگے تو کفر کے ظلمت کدہ مکہ میں ہنگامہ برپا ہوگیا اس بات کی متفقہ کوشش ہونے لگی کہ بہرصورت اس روشنی کو گل کردیا جائے، مگر اس روشنی کا گل کرنے کی جس قدر زیادہ کوشش ہونے لگی روشنی اتنی ہی تیزی سے پھیلنے لگی، حتی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مکہ کا کوئی گھر خالی نہ رہا کہ جہاں اس روشنی کی کرن نہ پہنچی ہو، جس کی وجہ سے ہر گھر میں کفر واسلام کا معرکہ بپا نہ ہوا ہو، گھر میں اگر باپ کافر ہے تو بیٹا مسلمان، ماں مسلمان ہے تو بیٹی کافرہ، اگر ایک بھائی مسلمان ہے تو دوسرا کافر، غرضیکہ کوئی گھر ایسا نہ تھا کہ جہاں کفر واسلام کی محاذ آرائی نہ ہو، آخر مجبور ہو کر اہل مکہ نے یہ سوچا کہ محمد ﷺ کے دعوئے نبوت کے بارے میں اہل کتاب سے معلوم کیا جائے کہ اس کی کیا حقیقت ہے، آیا محمد ﷺ اپنے دعوئے نبوت میں سچے ہیں یا یہ کوئی مکرو فریب ہے، چناچہ قریش نے ایک وفد تشکیل دیا جس میں نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کو علماء یہود کے پاس مدینہ یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کے پاس انبیاء سابقین کا علم ہے اور آئندہ آنے والے انبیاء کے بارے میں پیشین گوئیاں ہیں لہٰذا محمد ﷺ کے بارے میں یہ بتاؤ کہ ان کے دعوہ نبوت کے بارے میں آپ کی کتابوں میں کوئی تذکرہ ہے یا نہیں ؟ علماء یہود نے جواب دیا کہ تم ان باتوں کو تو چھوڑو ہم تم کو تین سوال بتاتے ہیں اگر وہ ان کا جواب صحیح دے دیں تو سمجھ لینا کہ وہ اپنے دعوہ نبوت میں برحق ہیں اور اگر جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لینا کہ وہ دعوہ نبوت میں کاذب ومفتری ہیں (1) روح کی حقیقت کیا ہے ؟ (2) اصحاب کہف کون تھے ؟ (3) سکندر ذوالقرنین کون تھا ؟ یہ قریشی وفد خوش وخرم مکہ واپس ہوگیا اور مکہ والوں سے جا کر کہا ہم ایک فیصلہ کن بات لے کر آئے ہیں اور مذکورہ تینوں سوالات ان کو بتائے چناچہ مکہ کے سرداروں کا ایک نمائندہ وفد ان سوالوں کو لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کے سامنے مذکورہ تینوں سوالات رکھے، آپ نے فرمایا ان کا جواب میں کل دوں گا، دو کا ذکر سابق میں گذر چکا ہے روح کے بارے میں سورة بنی اسرائیل کے آخر میں اور اصحاب کہف کے بارے میں سورة کہف میں آپ نے پڑھا یہاں سے تیسرے سوال کے جواب کا آغاز ہوتا ہے، یہ یہود آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں سوال کی نسبت علامہ جلال الدین نے یہود کی جانب کی ہے حالانکہ سوال کرنے والے اہل مکہ تھے مگر چونکہ اہل مکہ نے سوالات یہود کے سکھانے سے کئے تھے اور اصل سائل یہود ہی تھے اس لئے یہود کی جانب نسبت کی ہے۔ اسکندر نام اور ذوالقرنین لقب کے کئی بادشاہ دنیا میں گذرے ہیں، ذوالقرنین کے معنی ہیں دو سینگوں والا، یہ لقب کیوں پڑا اس میں بہت اختلاف ہے جس کا ذکر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گذر چکا ہے، یہ لقب قرآن کریم کا دیا ہوا نہیں ہے بلکہ پہلے سے مشہور چلا آرہا تھا، چناچہ یہود نے اسی نام سے سوال کیا، اس نام اور لقب کے دو بادشاہ زیادہ مشہور گذرے ہیں، ایک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معاصر ہے جو نمرود کے بعد ہوا ہے یہ بادشاہ موحد اور دین حق کا پیرو تھا، حضرت ابراہیم پر ایمان لایا تھا اور تعمیر کعبہ کے بعد حضرت ابراہیم کے ساتھ حج بھی کیا تھا یہ بادشاہ 2000 قبل مسیح میں گذرا ہے، بعض حضرات اس کو یونانی کہتے ہیں مگر صحیح یہ ہے کہ یہ فارسی ہے اس کو یونانی زبان میں سائرس اور عربی زبان میں کیخسر و اور فارسی میں گورش کہتے ہیں اور یہود اس کو خورس کہتے ہیں یہ نہایت خدا ترس اور عادل بادشاہ تھا۔ دوسرا بادشاہ سکندر رومی ہے جو سکندر یونانی، مقدونی، رومی کے لقب سے مشہور ہے، یہ تقریباً تین سو سال قبل مسیح گذرا ہے اس کا وزیر اور استاد ارسطو تھا جو کہ مشرک تھا اور یہ اسکندر بھی مشرک اور ظالم تھا بلکہ خود کو ایک دیوتا کا مظہر کہتا تھا یہی وہ سکندر ہے جس نے دارا کو شکست دی تھی، بعض حضرات نے اس کو بھی قرآنی ذوالقرنین کہہ دیا ہے جو سراسر غلط ہے، اس لئے کہ یہ شخص آتش پرست تھا اور قرآن حکیم نے جس ذوالقرنین کا ذکر کیا ہے اس کے نبی ہونے میں تو علماء کا اختلاف ہے مگر مومن، صالح ہونے میں سب کا اتفاق ہے۔ قرآنی ذوالقرنین نے بہت طویل پائی ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے اسرائیلی نبی دانیال (علیہ السلام) کے زمانہ تک زندہ رہے، اسی نے بخت نصر کو شکست دے کر بنی اسرائیل کو اس کی قید سے آزاد کرایا، اور بیت المقدس کا جو سامان بخت نصر لوٹ کرلے گیا تھا اور بیت المقدس مسمار کر گیا تھا سامان واپس دلایا اور بیت المقدس کو دوبارہ آباد کیا، گویا کہ یہی ذوالقرنین بنی اسرائیل کا نجات دہندہ ہے اور اسی مناسبت سے یہودیوں نے سوال کے لئے اس کو منتخب کیا تھا، اس واقعہ کی طرف قرآن میں بھی سورة بنی اسرائیل میں جو دو مرتبہ بنی اسرائیل کے فساد میں مبتلا ہونے اور دونوں مرتبہ کی سزا کا تفصیل سے ذکر آیا ہے اس میں بنی اسرائیل کے پہلے فساد کے موقع پر خود قرآن کریم نے فرمایا ہے بَعَثْنَا عَلَیکُمْ عِبَادًا لنا اولی باسٍ شدیدٍ فجاسوا خِلٰل الدیار یعنی تمہارے فساد کی سزا میں ہم تم پر اپنے کچھ ایسے بندے مسلط کردیں گے جو بڑی قوت اور شوکت والے ہوں گے وہ تمہارے گھروں میں گھس پڑیں گے اس میں یہ قوت اور شوکت والے لوگ بخت نصر اور اس کے اعوان ہیں جنہوں نے بیت المقدس میں چالیس ہزار اور بعض روایات میں ستر ہزار بنی اسرائیل کو قتل کیا اور ایک لاکھ سے زیادہ بنی اسرائیل کو قید کر کے بھیڑ بکریوں کی طرح ہنکا کر بابل لے گیا اور اس کے بعد قرآن کریم نے فرمایا ثم رَدَد نَا لکُم الکرۃ علَیْھِم (یعنی ہم نے پھر لوٹا دیا تمہارے غلبہ کو) یہ واقعہ اسی کیخسر و بادشاہ کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوا، یہ مومن صالح تھا اس نے بخت نصر کا مقابلہ کر کے اسکے قیدی بنی اسرائیل کو اس کے قبضہ سے نکالا اور ان کو دوبارہ فلسطین میں آباد کیا اور بیت المقدس کو بھی جسکو ویران کردیا تھا دوبارہ آباد کیا اور بیت المقدس کے خزائن و سامان ان کو جو بخت نصر لے گیا تھا وہ سب واپس بنی اسرائیل کے قبضہ میں دئے اس لئے یہ شخص بنی اسرائیل کا نجات دہندہ ثابت ہوا۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ یہود مدینہ نے امتحان نبوت کے لئے قریش مکہ کے واسطہ سے جو سوالات متعین کئے ان میں ذوالقرنین کے سوال کو یہ خصوصیت بھی حاصل تھی کہ یہود اس کو اپنا نجات دہندہ مان کر اس کی تعظیم و تکریم کرتے تھے، مولانا حفظ الرحمٰن صاحب نے اپنی اس تحقیق پر موجودہ تورات کے حوالہ سے انبیاء بنی اسرائیل کی پیشین گوئیوں اور تاریخی روایات سے اس پر کافی شواہد پیش کئے ہیں، اس کی مزید تفصیل مولانا کی معرکۃ الاآراء کتاب قصص القرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔ (معارف القرآن) قدیم مفسرین نے اس کا مصداق اسکندر رومی کو قرار دیا ہے جس کی فتوحات کا دائرہ مشرق ومغرب تک پھیلا ہوا تھا لیکن جدید مفسرین تاریخی معلومات کی روشنی میں اس سے اتفاق نہیں کرتے بالخصوص مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم نے اس کی تحقیق وتفتیش میں جو داد تحقیق دی ہے وہ نہایت ہی قابل قدر ہے ان کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ اس ذوالقرنین کی بابت قرآن نے صراحت کی ہے کہ وہ ایسا حکمراں تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اسباب و وسائل کی فراوانی سے نوازا تھا وہ مشرقی و مغربی ممالک فتح کرتا ہوا ایک ایسے پہاڑی درے پر پہنچا جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے، اس نے وہاں یا جوج وماجوج کا راستہ بند کرنے کے لئے ایک نہایت ہی محکم بند تعمیر کیا وہ عادل، اللہ کو ماننے والا اور آخرت پر ایمان رکھنے والا تھا وہ نفس پرست اور مال و دولت کا حریص نہیں تھا مولانا مرحوم فرماتے ہیں کہ ان خصوصیات کا حامل صرف فارس کا وہ عظیم حکمراں ہے جسے یونانی سائرس، عبرانی خورس اور عرب کیخسر و کے نام سے پکارتے ہیں اس کا دور حکمرانی 539 قبل مسیح ہے نیز فرماتے ہیں 1838 میں سائرس کے ایک مجسمے کا بھی انکشاف ہوا جس میں سائرس کا جسم اس طرح دکھایا گیا ہے کہ اس کی دونوں جانب عقاب کی طرح دو بازو نکلے ہوئے ہیں اور سر پر مینڈھے کی طرح دو سینگ ہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر ترجمان القرآن) قُل سأتْلُوْا علیْکُمْ منہ ذِکرًا اس میں یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن کریم نے اس جگہ ذکرہ کا مختصر لفظ چھوڑ کر منہ ذکرًا کے دو کلمہ کیوں اختیار کئے ؟ آپ غور کریں گے تو ان دو کلموں میں اشارہ اس طرف کیا گیا ہے کہ قرآن نے ذوالقرنین کا پورا قصہ اور اس کی تاریخ ذکر کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک حصہ کو بیان کرنے کا وعدہ فرمایا جس پر حرف مِنْ اور ذِکْرًا کی تنوین بقواعد عربیت شاہد ہے اوپر جو تاریخی بحث ذوالقرنین کے نام ونسب اور زمانہ وغیرہ کی لکھی گئی ہے قرآن کریم نے اس کو غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ دینے کا پہلے ہی اظہار کردیا ہے۔ ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا حتّٰی اِذَا بلغ مَطْلَعِ الشَّمسِ وَجَدَھَا یعنی مغربی مہم سے فارغ ہونے کے بعد مشرقی جانب مہم پر روانہ ہوا حتی کہ جب مشرقی جانب منتہائے آبادی پر پہنچ گیا (اسی کو قرآن نے مطلع شمس کہا ہے) جہاں ایسی قوم آباد تھی کہ جس کا حال یہ تھا کہ اس کے پاس دھوپ وغیرہ سے بچنے کے لئے بھی کوئی معقول سامان نہیں تھا نہ ان کے مکانات تھے اور نہ خیمے وغیرہ اور لباس کے طور پر وہ جانوروں کی کھال استعمال کرتے تھے، قرآن کریم نے ان کے مذہب و اعمال کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ یہ ذکر کیا کہ ذوالقرنین نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا، ظاہر یہی ہے کہ یہ قوم بھی کافر تھی اور ذوالقرنین نے ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو مغربی قوم کے ساتھ اوپر گذر چکا ہے، ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس قوم کے حالات کو بھی پچھلی قوم کے حالات پر قیاس کر کے ان کا بھی حال معلو ہوسکتا ہے۔ (کذا فی بحر المحیط عن ابن عطیہ )
Ayahs 18:92–98

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیاں پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے دریمان ایک دیوار کھینچ دیں ؟

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

(ذوالقرنین نے) کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنادوں گا

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کردیا اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو یہاں تک کہ جب اسکو (دھونک دھونک کر) آگ کردیا گیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس (تانبا) لاؤ کہ میں اس پر پگھلا کر ڈال دوں

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

آیت نمبر 92 تا 98 ترجمہ : پھر اس نے ایک اور سفر کی تیاری شروع کی یہاں تک کہ جب وہ ایسے مقام پر پہنچا کہ جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا سین کا فتح اور ضمہ دونوں ہیں، یہاں بھی اور بعد میں بھی، بلاد ترک کے اختتام پر دو پہاڑ ہیں سکندر نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو بند کردیا تھا جیسا کہ عنقریب (اس کا ذکر) آرہا ہے، تو ان دونوں پہاڑوں کے اس پار یعنی ان کے سامنے ایک ایسی قوم کو پایا جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی یعنی بڑی دیر کے بعد (اشارہ وغیرہ سے) ایک قرأت میں ضمہ ی اور کسرہ کاف کے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یأجوج ومأجوج ہمزہ اور بدون ہمزہ دونوں قرأتیں ہیں یہ دو عجمی قبیلوں کے نام ہیں اسی وجہ (یعنی عجمہ اور علم ہونے کی وجہ) سے غیر منصرف ہیں، ہماری اس سرزمین میں آکر قتل وغارتگری کرتے ہیں فساد مچاتے ہیں کیا ہم آپ کے لئے کچھ خرچ کا انتظام کردیں یعنی چندے کے طور پر مال جمع کردیں اور ایک قرأ میں خَراجًا ہے اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں یعنی ایک آڑ جس کی وجہ سے وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں ذوالقرنین نے جواب دیا میری (قدرت) واختیار میرے پروردگار نے جو مال وغیرہ دے رکھا ہے اس مال سے جسے تم میرے لئے جمع کرو گے بہت بہتر (کہیں زیادہ) ہے لہٰذا مجھے تمہارے مال وغیرہ کی ضرورت نہیں میں یوں ہی (بلا معاوضہ) تمہارے لئے دیوار بنا دوں گا مکَّنَنِیْ میں ایک قرأت دونونوں کے ساتھ بغیر ادغام کے یعنی مَکَّنِّیْ بھی ہے البتہ تم طاقت ( محنت مزدوری) سے میری مدد کرو جب میں تم سے مطالبہ کروں، تو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک دیوار یعنی ایک مضبوط آڑ کھڑی کر دوں گا (اچھا تو) تم میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ جن سے دیوار بنائی جاسکے، چناچہ (ذوالقرنین) نے لوہے کے ٹکڑوں کے درمیان لکڑیاں اور کوئلہ رکھ دیا یہاں تک کہ جب اس دیوار کے ردّے دونوں پہاڑوں کے برابر کر دئیے (صدفین میں کئی قرأتیں ہیں ( 1) صاد اور فا دونوں کے ضمہ کے ساتھ (2) دونوں کے فتحہ کے ساتھ ( 3) صاد کے ضمہ اور فا کے سکون کے ساتھ یعنی دونوں پہاڑوں کے درمیان کے خلافء کو تعمیر کر کے پر کردیا اور اس کے اردگرد دم کشوں اور آگ کا نظم کردیا، تو حکم دیا دھونکو چناچہ لوگوں نے دھونکا حتی کہ جب اس لوہے کو آگ کے مانند سرخ کردیا تو حکم دیا اب میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ تاکہ میں اس کو (گرم لوہے) پر ڈال دوں قطر پگھلا ہوا تانبا قطرًا میں دو فعلوں نے تنازع کیا ہے فعل ثانی کو عمل دینے کی وجہ سے اول فعل کا (مفعول قطراً ) حذف کردیا ہے، چناچہ پگھلاہوا تانبا گرم لوہے پر ڈال دیا تو وہ لوہے کے تختوں کے درمیان داخل ہو کر شیٔ واحد ہوگیا، چناچہ یا جوج ماجوج اس دیوار پر اس کی بلندی اور چکناہٹ کی وجہ سے نہ چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے اس کی سختی اور مضبوطی کی وجہ سے ذوالقرنین نے کہا یہ دیوار یعنی اس کے بنانے پر قدرت دینا میرے رب کی رحمت یعنی نعمت ہے اس لئے کہ یہ ان کے خروج کے لئے مانع ہوگی چناچہ جب میرے رب کا وعدہ یعنی قرب قیامت ان کے خروج کا وقت آئے گا تو میرا رب اس دیوار کو ریزہ ریزہ کر کے برابر کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ ان کے خروج وغیرہ کا حق ہے جو ہو کر رہے گا۔ تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد سَدٌّ مصدر (ن) بند کرنا قولہ بین السدین بلغ کا مفعول ہے بَیْنٌ چونکہ بان کا مصدر ہے اس لئے ظروف متصرفہ میں سے ہے یاجوج وما جوج یہ دونوں عجمی لفظ ہیں اور دو قبیلوں کے اجداد کے نام ہیں یہ دونوں قومیں حضرت نوح (علیہ السلام) کے صاحبزادے یافث کی نسل سے ہیں عجمہ اور علم ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہیں خرج محصول بعض حضرات نے خَرج اور خراج میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ خرج زرفدیہ کو کہتے ہیں اور خراج عام ہے جس میں زر فدیہ، ٹیکس، محصول وغیرہ سب شامل ہیں قولہ مَکَّنِّی یہ دراصل مَکَّنَ نِی تھا، ماضی واحد مذکر غائب مصدر تمکین بااختیار وبااقتدار بنانا نِی میں نون وقایہ اوری ضمیر متکلم مفعول بہ پھر لام کلمہ نون کو ساکن کر کے نون وقایہ میں ادغام کردیا رَدْمٌ موٹی اور مضبوط دیوار ردم (ض) مصدر ہے سوراخ بند کرنا مگر یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول ہے صدف پہاڑ کی چوٹی قولہ استطاعوا اصل میں استطاعوا تھا تا اور طا قریب المخرج ہونے کی وجہ سے تخفیف کے لئے تا کو حذف کردیا قولہ الوعد وقت یا مصدر بمعنی موعود ای القیامۃ قولہ آتونی تم میرے پاس لاؤ زُبُرٌ زُبُرَۃٌ کی جمع ہے جیسے غُرَفٌ غُرْفَۃٌ کی جمع ہے لوہے کی پلیٹ قولہ آتونی اُفرِغُ تنازع فعلان کے قبیل سے ہے قطرًا اُفرغ کا مفعول اول ہے آتونی کا مفعول محذوف ہے قولہ یظْھَرُوہُ بتاویل مصدر ہو کر ما اسطاعوا کا مفعول ہے، قولہ ای السَّدْ ای الاقدار علیہ سے اول ھٰذا کا مشار الیہ متعین کیا پھر یہ بتادیا کہ دیوار سے مراد دیوار بنانے کی توفیق ہے جو درحقیقت رحمت خداوندی ہے، مطلب یہ ہے کہ دیوار تو اس قوم کے حق میں رحمت خداوندی ہے اور اس دیوار کے بنانے کی توفیق ذوالقرنین کے حق میں رحمت خداوندی ہے قولہ بخروجھم مفسر علام نے بخروجھم کا اضافہ کر کے وعدہ کا مصداق متعین کردیا کہ وعدہ قرب قیامت میں ان کا خروج ہے، بعض حضرات نے وعدہ سے مراد اس دیوار کے شکست وریخت ہونے کا وقت مراد لیا ہے قولہ یموجُ ترکنا کا مفعول ثانی ہے اور بعضھم مفعول اول ہے اور ترکنا بمعنی جعلنا ہے یَوْمئِذٍ ، یموج سے متعلق ہے۔ تفسیر وتشریح ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا یہ ذوالقرنین کے تیسرے سفر کا بیان ہے، ذوالقرنین نے مغرب ومشرق کے سفر سے فارغ ہونے کے بعد تیسرے سفر کی تیار شروع کی، یہ تیسرا سفر کس جانب تھا اس بارے میں روایات مختلف ہیں مگر راجح یہ ہے کہ یہ سفر جانبِ شمال تھا۔ فائدہ : آیات کی مندر جہ ذیل تفسیر امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری (رح) نے عقیدۃ الاسلام صفحہ 201 میں کی ہے، یہ بات ملحوظ رہے کہ ھٰذا رحمۃ ٌ من ربِّی جعلہٗ دَکَّاءَ وکَانَ وعدُ رَبِّی حقًّا یہ ذوالقرنین کا اپنا قول ہے، اور کوئی قرینہ سیاق وسباق میں ایسا نہیں ہے جس سے دیوار کے ٹوٹنے کو علامات قیامت میں شمار کیا جائے بلکہ ذوالقرنین کا مقصد وَعْدُ رَبِّی سے صرف اس دیوار کا کسی وقت میں ٹوٹ پھوٹ جانا ہے پس اس صورت میں ارشاد باری (وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض) استمرار تجددی پر دلالت کرتا ہے یعنی ایسا برابر ہوتے رہے گا کہ ان میں سے بعض قبائل بعض پر حملہ آور ہوتے رہیں یہاں تک کہ قیامت کا وقت آجائے گا، البتہ وہ ارشاد جو سورة انبیاء میں آیا ہے یعنی (حتی اذا فتحت یاجوج وماجوج وھم من کل حدب ینسلون) تو یہ بلاشبہ علامات قیامت میں سے ہے مگر اس میں دیوار کا قطعا کوئی ذکر نہیں ہے لہٰذا اس فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے یعنی سورة انبیاء کی آیت میں فتح سے عروج وخروج مراد ہے دیوار کا ٹوٹنا اور یا جوج وماجوج کا نکلنا مراد نہیں ہے اس لئے کہ اس آیت میں دیوار کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ فائدہ : سکندر ذوالقرنین نے جن دو پہاڑوں کے درمیان کے درہ کو بند کیا تھا وہ کون سے پہاڑ تھے اور وہ قوم کون سی تھی جن کی حفاظت کے لئے یہ دیوار بنائی گئی تھی اور ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی تھی وہ اب تک باقی ہے یا ٹوٹ پھوٹ گئی یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کے جوابات قرآن میں نہیں ہیں، اس لئے یقین کے ساتھ کوئی بات کہنا مشکل ہے، دنیا میں ایسی دیواریں وحشی لوگوں سے حفاظت کے لئے مختلف مقامات پر بنائی گئی ہیں جن میں سے بعض کے خرابات و نشانات آج بھی باقی ہیں، مؤرخین کے بیان کے مطابق وہ دیوار جس کا قرآن میں ذکر ہے وہ ایران سے جانب شمال بحر کا سپین (Causpian Sea) یعنی بحر قزوین اور بحر اسود کے درمیان جو سلسلہ کوہ ہے جس کو جبال کا کیشیا (چیچنیاں کے دامن میں) (Caucasus) جبال قَفْقَاز، کَفْقاس، اور تَفْلیس کہتے ہیں ان پہاڑوں میں ایک درّہ درّہ داریال کے نام سے ہے، ذوالقرنین نے وہاں دیوار بنائی تھی ان پہاڑوں کے مشرق میں بحر قزوین واقع ہے اور مغرب میں بحر اسود اور بیچ میں سلسلہ کوہ ہے اور گذرنے کا کوئی راستہ اس درہ کے علاوہ نہیں ہے، ذوالقرنین نے دیوار بنا کر اس کو بند کردیا تھا، اور جن قبائل کی حفاظت کا یہ سامان کیا گیا تھا وہ ترک قبائل تھے اور یہ بات بھی خیال رہے کہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار اب باقی نہیں ہے البتہ سیاحوں نے اب وہاں آثار دیکھے ہیں اور ممکن ہے کہ اب بھی موجود ہوں، قرآن و حدیث میں کوئی صحیح اور صریح بات ایسی نہیں ہے جس سے قیامت سے کچھ پہلے تک اس دیوار کا بحالہ باقی رہنا ثابت ہوتا ہو۔ یاجوج ماجوج کون ہیں ؟ اکثر علماء کی رائے یہ ہے وہ عام انسانوں کی طرح آدم کی اولاد ہیں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی ذریت میں سے ہیں، علامہ ابن کثیر (رح) نے البدایہ والنہایہ ج 2/ص 110 میں لکھا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ عام بنی آدم کی طرح ہیں اور انسانوں ہی کی طرح شکل و صورت اور اوصاف رکھتے ہیں اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری ( ج 6، ص 386) میں تحریر فرمایا ہے کہ یا جوج ماجوج یافث بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے دو قبیلے ہیں، حضرت قتادہ سے بھی یہی بات مروی ہے اور روح المعانی میں ہے کہ یا جوج وماجوج یافث بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے دو قبیلے ہیں اور یہی رائے ہے، بائبل کتاب پیدائش باب 10 آیت 2 میں بھی یافث کے ایک لڑکے کا نام یا جوج آیا ہے اور ماجوج کے بارے میں بائبل کا بیان مختلف ہے۔ غرضیکہ یاجوج ماجوج کوئی عجوبہ روزگار مخلوق نہیں ہیں اور نہ برزخی مخلوق ہیں اس قسم کی جو روایات ہیں ان کا اسلامی روایات سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے یہ سب اسرائیلیات کے بےسروپا ذخیرہ ہے، علامہ یاقوت حمونی نے معجم البلدان میں ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اور مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمٰن (رح) نے قصص القرآن میں جلد سوم میں ان روایات کی تغلیط کی ہے اور سمجھنے کی بات ہے کہ یا جوج وماجوج جب بنی آدم اور نوح (علیہ السلام) کی ذریت میں سے ہیں تو پھر وہ دیگر انسانوں سے اتنے مختلف کیوں ہیں جتنا ان روایات میں مذکور ہے مثلاً (1) یاجود ماجوج بالشت، ڈیڑھ بالشت یا زیادہ سے زیادہ ایک ہاتھ کا قد رکھتے ہیں اور بعض غیر معمولی طویل القامت ہیں۔ (2) ان کے کان اتنے بڑے ہیں کہ ایک کان کو اوڑھ لیتے ہیں اور ایک کو بچھا لیتے ہیں۔ (3) ان کی غذا کے لئے قدرت سال بھر میں دو مرتبہ سمندر سے ایسی مچھلیاں پھینک دیتی ہے جن کے سر اور دم کا فاصل اس قدر طویل ہوتا ہے کہ دس رات دن اگر کوئی شخص چلتا رہے تب اس فاصلہ کو طے کرسکتا ہے۔ (4) وہ ایک برزخی مخلوق ہے جو آدم (علیہ السلام) کی پشت سے تو ہیں مگر حوّا ؓ کے بطن سے نہیں ہیں کیونکہ وہ آدم کے ایسے نطفہ سے پیدا ہوئے ہیں کہ جو احتلام کی حالت میں نکلا تھا اور مٹی میں رل مل گیا تھا۔ (العیاذ باللہ) اس قسم کی تمام باتیں قطعاً بےدلیل وبے بنیاد ہیں اسلامی روایات سے ان کا دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ فائدہ : دنیا کی موجودہ اقوام میں سے یاجوج وماجوج کون ہیں ؟ اس کا جواب بھی یقین کے ساتھ دینا مشکل ہے اس لئے کہ یا جوج وماجوج بہت قدیم نام ہیں اور مرور ایام کے ساتھ نام بدل جاتے ہیں آج دنیا میں کوئی قوم ان ناموں سے معروف نہیں ہے اس لئے اس کی تعیین دشوار ہے، تاہم علماء کی رائے یہ ہے کہ یاجوج وماجوج منگولیا (تاتار) کے ان وحشی قبایل کو کہا جاتا ہے جو یورپ امریکہ اور روس کی اقوام کے منبع اور منشاء ہیں ان کے دو بڑے قبیلے موگ اور یوجی کہلاتے تھے جو عربی زبان میں یا جوج وماجوج بن گئے۔ (واللہ اعلم) فائدہ : یاجوج ماجوج کے بارے میں اس قدر بےسروپا روایتیں کیوں مشہور ہوئیں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یا جوج ماجوج کا تذکرہ یہودیوں کی کتابوں میں بھی ہے، حزقی ایل باب 38 / 39 میں بھی ان کا تذکرہ آیا ہے اسی وجہ سے یہودیوں نے حسب فطرت یاجوج ماجوج کے بارے میں بعید از عقل کہانیاں تصنیف کرلیں اور کعب احبار کے ذریعہ جو یہودی النسل تھے اور ان کی کتابوں کے بڑے عالم تھے وہ سب کہانیاں مسلمانوں میں پھیل گئیں، مولانا حفظ الرحمٰن صاحب نے لکھا ہے کہ وہ اسلام لانے کے بعد یا تو تفریح کے طور پر ان کو سنایا کرتے تھے یا اس لئے کہ اس رطب ویابس میں سے جو دوراز کار باتیں ہوں وہ رد کردی جائیں اور جن کی قرآن اور احادیث نبوی سے تائید ہوتی ہو ان کو ایک تاریخی حیثیت میں لے لیا جائے مگر نقل کرنے والوں نے اس حقیقت پر نظر نہ رکھتے ہوئے اس پورے طومار کو اسی طرح نقل کرنا شروع کردیا جس طرح حدیثی روایات کو نقل کیا جاتا ہے۔ (قصص القرآن جلد 3/ص 195) فائدہ : یاجوج ماجوج کا خروج و عروج بھی دجال کے ظہور کی طرح علامات قیامت میں سے ہے، سورة الانبیاء کی آیت 96 میں اس کا تذکرہ ہے، ارشاد ہے حَتّٰی اِذا فُتحت یاجوج وماجوج مِن کلِّ حدبٍ ینسِلُون واقتَرَبَ الوعدُ الحق اس کا مطلب یہ ہے کہ نفخ صور سے پہلے قیامت کی علامات میں سے ایک نشانی یہ پیش آئے گی کہ یا جوج وماجوج کے تمام قبیلے ایک ساتھ امنڈ آئیں گے اور دنیا میں عام غارت گری شروع کردیں گے اور اپنی مقامی بلندیوں سے تیزی کے ساتھ اترتے ہوئے زمین کے گوشہ گوشہ میں پھیل جائیں گے، غرض آیت میں فتح سے مراد ان کا یکبارگی دھاوا بولنا ہے دیوار توڑ کر نکلنا مراد نہیں ہے۔ فائدہ : یا جوج وماجوج کے بارے میں ایک مشہور حدیث یہ ہے کہ وہ روزانہ سد سکندر کو کھودتے ہیں شام کو دیوار جب اتنی پتلی رہ جاتی ہے کہ سورج کی کرنیں نظر آنے کے قریب ہوجاتی ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے کہ اب کام ختم کرو کل اس کام کو پورا کردیں گے مگر اگلے روز جب کام پر واپس آتے ہیں تو دیوار پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور مستحکم پاتے ہیں پھر وہ کھودنا شروع کردیتے ہیں یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا تاآنکہ مقررہ مدت آجائے گی اور جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا کہ وہ انسانی دنیا پر چھا جائیں تو ان کا سردار کہے گا اب واپس چلو کل انشاء اللہ اس کو کھود ڈالو گے چناچہ دوسرے دن اسی حالت میں ملے گی، اور وہ اس کو کھود ڈالیں گے اور لوگوں پر نکل پڑیں گے الخ یہ روایت ابوہریرہ ؓ کا مضمون ہے اور کعب احبار سے مروی روایت میں یہ ہے کہ وہ روزانہ دیوار چاٹتے رہتے ہیں (یلحسونہ) اور یہی روایت لوگوں میں مشہور ہے کعب احبار کی روایت عام کتابوں میں نہیں ہے، حافظ ابن حجر (رح) نے عبد بن حمید کی سند کا حوالہ دیا ہے کہ کعب احبار کی روایت اس میں ہے اور ابوہریرہ ؓ کی حدیث ترمذی شریف، ابن ماجہ، مسند احمد، صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم وغیرہ کتابوں میں ہے اور سب کی ایک ہی سند ہے یعنی قتادہ عن ابی رافع عن ابی ہریرہ عن رسول اللہ ﷺ پھر قتادہ کے نیچے اس کی متعدد سندیں ہیں اس حدیث کی ایک دوسری سند عاصم عن ابی صالح عن ابی ہریرہ بھی ہے مگر یہ روایت موقوف ہے مرفوع نہیں ہے، یہ سند عبد بن حمید کی کتاب میں ہے کما ذکرہ الحافظ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو عام طور پر صحیح سمجھا جاتا ہے البانی نے بھی اس کو سلسلہ احادیث صحیحہ میں نمبر 735 پر ذکر کیا ہے مگر ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس پر سخت تنقید کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند اگرچہ عمدہ ہے مگر آنحضرت ﷺ کی طرف اس کی نسبت غلط ہے سندہ جید ولکن متنہ فی رفعہ نکارۃ نیز وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس قسم کی ایک اسرائیلی کہانی کعب احبار سے بھی مروی ہے اور ابوہریرہ ؓ اکثر کعب احبار کے پاس بیٹھا کرتے تھے اس لئے ممکن ہے کہ ابوہریرہ نے یہ مضمون کعب احبار سے سنا ہو اور ایک کہانی کے طور پر بیان کردیا ہو مگر نیچے کے کسی راوی نے غلط فہمی سے اس کو مرفوع کردیا ہو۔ اس کے علاوہ ابن کثیر نے درایۃ بھی اس پر دو اعتراض کئے ہیں ایک یہ کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے اور دوسرا یہ کہ یہ صحیح حدیث کے خلاف ہے، تفصیل کے لئے ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں، مزید غور کیا جائے تو اس کی سند میں مندرجہ ذیل دو خرابیاں ہیں (1) قتادہ مدلس ہیں حافظ فرماتے ہیں کہ ابن مردویہ کی روایت میں قتادہ اور ابو رافع کے درمیان ایک راوی کا واسطہ ہے۔ (فتح الباری، ج 13، ص 109) ۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ قتادہ نے ابو رافع سے کوئی حدیث نہیں سنی۔ (قال ابو داؤد بذل المجہود ج 20، ص 128، بحوالہ ہدایت القرآن ملخصاً )