Ayahs 18:60–65آیت نمبر 60 تا 65
اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کہ عمران کے بیٹے ہیں اپنے خادم یوشع بن نون سے جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت کے ساتھ ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) سے تحصیل علم بھی کرتے تھے کہا کہ میں چلتا ہی رہوں گا سفر موقوف نہ کروں گا تاآنکہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یعنی مشرقی جانب سے بحرروم اور بحر فارس کے ملنے کی جگہ اور اگر میں منزل مقصود کو نہ پاؤں تو ایک وقت یعنی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا چناچہ جب یہ دونوں حضرات دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو یہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے یوشع روانگی کے وقت مچھلی اٹھانا بھول گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) یوشع کو یاد دلانا بھول گئے تو مچھلی نے دریا میں سرنگ نما راہ بنائی یعنی مچھلی نے قدرت خداوندی سے ایسا کیا سرنگ نما راستہ ایسا لمبا سوراخ تھا جو آرپار نہیں تھا اور یہ اس سبب سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی رہ گذر سے پانی کا بہاؤ روک دیا جس کی وجہ سے پانی مچھلی کی راہ سے منقطع ہوگیا اس طریقہ سے وہ سوراخ طاق نما ہوگیا اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی تک بند نہیں ہوا اور مچھلی جہاں سے گذرتی تھی پانی منجمد ہوجاتا تھا (جس کی وجہ سے رہ گذر سوراخ کی شکل اختیار کرلیتی تھی) چناچہ جب یہ دونوں حضرات اس مقام موعود سے آگے بڑھ گئے اور دوسرے دن ناشتہ کے وقت تک سفر کرتے رہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا ہمارا ناشتہ لاؤ غدا اس کھانے کو کہتے ہیں جو بوقت صبح کھایا جاتا ہے آج کے سفر میں تو ہم تھک گئے نَصَبٌ بمعنی تعبٌ ہے اور تکان منزل مقصود سے آگے بڑھنے کے بعد محسوس ہوئی تو یوشع نے کہا دیکھئے سنئے (میں آپ کو اس مچھلی کا واقعہ سنتا ہوں) جب ہم نے اس چٹان کے پاس قیام کیا تھا تو میں اس مچھلی کو بھول گیا تھا اور اس کی یاد مجھے شیطان نے بھلا دی تھی (أن أذکرہ) اَنسانیہِ کی ضمیر مفعول ہٗ سے بدل اشتمال ہے یعنی مجھے اس کا یاد رکھنا بھلا دیا اور اس مچھلی نے دریا میں عجیب طریقہ سے اپنی راہ بنا لی عَجَبًا اِتَّخَذَ کا مفعول ثانی ہے، اس واقعہ سے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے خادم تعجب میں پڑگئے، جیسا کہ واقعہ سابق میں بیان ہوچکا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مچھلی کے گم ہونے کا ہی وہ موقع ہے جس کی ہم کو تلاش تھی اور ہمارے مطلوب کے وجود کی علامت ہے چناچہ دونوں حضرات اپنے نقش قدم کو تلاش کرتے ہوئے واپس لوٹے حتی کہ اس چٹان کے پاس پہنچے پس ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے خضر کو پایا جس کو ہم نے اپنی خصوصی رحمت سے نوازا تھا یعنی ایک قول کے مطابق نبوت اور دوسرے قول کے مطابق ولایت سے اور اس دوسرے قول کے اکثر علماء قائل ہیں اور ہم نے اس کو ہماری جانب سے خاص علم دیا تھا عِلمًا، عَلَّمْنَاہٗ کا مفعول ثانی ہے یعنی مغیبات کی معلومات کا علم دیا تھا، امام بخاری نے ایک حدیث روایت کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے ایک روز موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل میں خطبہ دیا تو ان سے سوال کیا گیا کہ انسانوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا میں ہوں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جواب کی وجہ سے ان پر عتاب فرمایا اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مسئلہ کو (واللہ اعلم) کہہ کر اللہ کے حوالہ نہیں کیا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اطلاع دی کہ میرا ایک بندہ ہے جو مجمع البحرین کے پاس ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی یا الٰہ العالمین اس بندہ تک رسائی کی میرے لئے کیا صورت ہوسکتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی لو اور اس کو تھیلے میں رکھ لو اور جہاں کہیں وہ مچھلی گم ہوجائے (تو سمجھ لو) کہ وہ بندہ وہیں ہے، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مچھلی لی اور اس کو تھیلے میں رکھ لیا اور سفر پر روانہ ہوگئے اور ان کے ساتھ ان کے خادم یوشع بن نون بھی روانہ ہوئے حتی کہ یہ دونوں حضرات ایک چٹان کے پاس پہنچے اور وہاں لیٹنے کے بعد سو گئے اور مچھلی نے تھیلے میں حرکت کی اور تھیلے سے نکل کر دریا میں جا پڑی اور اس نے دریا میں سرنگ نما اپنا راستہ بنا لیا، اور اللہ تعالیٰ نے اس مچھلی کی رہ گزرہ سے پانی سے کا سیلان روک دیا چناچہ وہ رہ گذر طاق کے مانند ہوگئی جب موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم یوشع بیدار ہوئے تو مچھلی کا واقعہ حضرت موسیٰ کو بتانا بھول گئے اور بقیہ دن اور رات چلتے رہے یہاں تک کہ دوسرے دن جب ناشتہ کا وقت آیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا ہمارا ناشتہ لاؤ الیٰ قولہ واتخذ سبیلہ فی البحر عجبًا محمد ﷺ نے (اس آیت کی تفسیر میں) فرمایا کان للحوت سرَبًا ولموسیٰ ولفتاہ عجَبًا الخ (یعنی مچھلی کا پانی میں اس طرح جانا مچھلی کے لئے تو سرنگ تھی اور موسیٰ اور یوشع کے لئے تعجب خیز بات تھی)
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
فتٰی نواجوان، خادم، غلام (ج) فِتْیَۃ ً ، مفسرین نے یہاں عام طور پر خادم مراد لیا ہے لاَ اَبْرَحُ فعل ناقص بمعنی لاَ اَزَالُ اس کا اسم أنا اس میں وجوباً مستتر ہے اس کی خبر حتی ابلغ کے قرینہ کی وجہ سے محذوف ہے اَیْ اَسِیْرُ اور اگر اس کو فعل تام مانا جائے تو اس کو خبر کی ضرورت نہیں مفسر علام نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تفسیر ابن عمران سے کر کے بعض لوگوں کے اس قول کی تردید کردی جو کہتے ہیں کہ موسیٰ سے مراد موسیٰ ابن عمران نہیں ہیں بلکہ موسیٰ بن میشیٰ بن یوسف بن یعقوب ہیں قولہ لاَ اَبْرَحُ کی تفسیر لاَ اَزَالُ اسِیْرُ سے کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ اَبْرَحُ فعل ناقص ہے اور اس کی خبر اسیر محذوف ہے اور حذف پر قرینہ حتیّٰ ابلغَ ہے ای لا اَبْرَحُ سَائِرًا حُقُبًا حقب زمانہ دراز کو کہتے ہیں، ایک مقررہ مدت کو بھی کہتے ہیں، بعض حضرات نے ستر سال اور بعض نے اسّی سال، اور ایک قول تیس ہزار سال کا بھی ہے یہاں مجازاً مدت دراز مراد ہے سَرَب سرنگ، نالی، سوراخ سرَبًا اتخذَ کا مفعول ثانی ہے اور سبیلہ مفعول اول ہے نَصَبًا اسم ہے بمعنی تکان، کوفت، تکلیف، نصَبًا لَقِیْنًا کا مفعول بہ ہے اَرَاَیْتَ میں ہمزہ استفہامیہ تعجیبیہ ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ایسا واقعہ جو کہ عجیب ہونے کی وجہ سے ناقابل فراموش تھا مگر میں اس کو بھول گیا، أرأیت کا مفعول محذوف ہے أی أرأیت ما نا بنی فی ذلک الوقت محاورہ میں اخبرنی کے معنی میں مستعمل ہے جیسے اردو محاورے میں بولتے ہیں (بھلا بتلائے) چونکہ یہاں کوئی دریافت طلب بات نہیں ہے اس لئے محض اظہار تعجب کے لئے ہے اَوَینَا ماضی جمع متکلم اَویٰ یاوی (ض) اَوِیًّا واِوَاءً ٹھکانہ لینا، اترنا، اس لفظ کی پوری تحقیق سورة کہف کی آیت 16 میں گذر چکی ہے اَنْسَانیہِ اَنْسَا یُنْسِیٔ اِنسَاءًبھلا دینا نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم مفعول اول ہٗ ضمیر واحد مذکر غائب مفعول ثانی ہٗ میں اصل یہ ہے کہ وہ مضموم ہو مگر جب اس کے ماقبل ی ساکنہ یا کسرہ آتا ہے تو ہ کو بھی کسرہ دیتے ہیں جیسے عَلَیہِ فیہِ بہٖ مگر دو جگہ امام حفص نے اصل کے مطابق پڑھا ہے ایک یہاں اور دوسرے سورة الفتح آیت 10 میں عَلَیہُ اللہ جس کو ملا علی قاری نے شاطبیہ کی شرح میں تفصیل سے لکھا ہے ص 320، اَن اذکرہٗ میں اَنْ مصدریہ ہے جملہ اذکر بتاویل مصدر ہو کر انسانیہ کے مفعول ثانی سے بدل اشتمال ہے ای ما انسانی ذکرہٗ الا الشیطان، ذکرٌ، دل میں یاد کرنا اور کسی کے سامنے ذکر کرنے کے لئے ذَکَرَ لہٗ استعمال ہوتا ہے عَجَبًا اتخذ کا مفعول ثانی بھی ہوسکتا ہے اور مفعول مطلق بھی اس صورت میں موصوف محذوف ہوگا ای اتخاذًا عجبًا اور فی البحر بنا بر حال منصوب ہے ای کائنًا فی البحر اور اِتَّخذ سے متعلق بھی ہوسکتا تھا نَبْغِ اصل میں نَبْغِیْ تھا ی قرآنی رسم الخط میں یہاں حذف کردی گئی ہے اور سورة یوسف آیت 65 میں لکھی گئی ہے، ی کا حذف اسماء میں تو شائع ذائع ہے جیسے قاضی میں، مگر افعال میں میں شاذ اور خلاف قیاس ہے قصصًا یا تو مصدر ہے (ن) قَصَصًا پیروی کرنا ای نَقُصُّ قَصَصًا یا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای قاصِّینَ قصصًا مِن عندنا محذوف سے متعلق ہو کر رحمۃً کا حال ہے اور من لدنا بھی محذوف سے متعلق ہو کر علمًا سے حال ہے رعایت فو اصل کی وجہ سے مقدم کیا گیا ہے۔
تفسیر وتشریح
سورة کہف میں موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر کے قصہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے یہود مدینہ کے سکھانے سے آنحضرت ﷺ سے تین سوال کئے تھے اور یہ کہہ دیا تھا کہ اگر ان سوالوں کو جواب دے دیں تو نبی ہیں اور اگر لا علمی کا اظہار کریں تو سمجھنا کہ ان کا دعوہ نبوت جھوٹا ہے، گویا کہ بعض باتوں کے عدم علم کو عدم نبوۃ کی دلیل قرار دیا تھا، حضرت موسیٰ وخضر (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ موسیٰ جن کو تم بھی نبی مانتے ہو ان کو بھی تمام چیزوں کا علم نہیں تھا بلکہ ان کو بعض چیزوں کا علم حاصل کرنے کے لئے غیر نبی (خضرعلیہ السلام) کے پاس جانا پڑا تھا، اگر محمد ﷺ بعض باتوں کا فوری جواب نہ دے سکیں تو یہ کوئی نقص کی بات نہیں ہے حتی کہ غیر نبی کو نبی پر جزوی فضیلت حاصل بھی ہو تو اس سے کلی فضیلت کی نفی نہیں ہوتی جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی بعض باتوں کا علم نہیں تھا جن کے حصول کے لئے خضر کے پاس جانا پڑا، موسیٰ وخضر (علیہ السلام) کے دلچسپ واقعہ کو سنانے سے مذکورہ مقصد کے علاوہ اور متعدد مقاصد کے پیش نظر یہ قصہ سنایا گیا ہے دراصل یہ قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلیمی سفر نامہ ہے جو کہ علوم و معارف کا خزینہ ہے، جب یہ واقعہ پورا ہوا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کاش موسیٰ کچھ اور صبر فرما لیتے تو دونوں کی اور خبریں معلوم ہوتیں۔
واقعہ کا آغاز : بخاری ومسلم کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل کے سامنے وعظ کہا جس میں حاضرین کی آنکھیں نم ہوگئیں، اور دل نرم ہوگئے، لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا میں ہوں، اللہ تعالیٰ کو یہ جواب ناپسند آیا، اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو چاہیے تھا (واللہ اعلم) کہتے، یہ جواب واقع میں صحیح تھا ظاہر ہے کہ ان کے زمانہ میں اسرار شرعیہ کا علم ان سے زیادہ کس کو ہوسکتا تھا ؟ لیکن حق تعالیٰ کو ان کے الفاظ پسند نہ آئے (اس جواب پر تنبیہ کرنے کے لئے وحی آئی) ہمارا ایک بندہ مجمع البحرین میں رہتا ہے وہ آپ سے زیادہ علم رکھتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا خدایا مجھے اس کا پتہ، نشان بتادیا جائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی تل کر اپنے تھیلے میں رکھ لو اور مجمع البحرین کی طرف سفر کرو جس جگہ مچھلی گم ہوجائے سمجھ لینا کہ اسی جگہ ہمارا وہ بندہ ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے حسب ہدایت سفر شروع کیا اور اپنے خادم یوشع بن نون کو اپنے ہمراہ لے لیا اور مچھلی والا تھیلا دے کر فرمایا مچھلی کا خیال رکھنا اور فرمایا کہ مجمع البحرین پہنچنے تک برابر سفر کرتا رہوں گا اگرچہ منزل مقصود تک پہنچنے میں ایک طویل زمانہ ہی کیوں نہ گذر جائے، مطلب یہ کہ میں منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لوں گا۔
فائدہ : یہ ہے طلب صادق اور حصول علم کی سچی لگن، موسیٰ (علیہ السلام) کے اس مختصر ارشاد میں طالب علموں کے لئے بڑا سبق ہے علم کبھی سچی طلب کے بغیر حاصل نہیں ہوتا اور طلب علم کے لئے ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرنا سنت انبیاء ہے۔
مجمع البحرین کی تعیین یقین کے ساتھ تو مشکل ہے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ سفر قیام مصر کے دوران پیش آیا تھا تو ملک سوڈان کے شہر خرطوم کے پاس جہاں دریائے نیل کی دو شاخیں ملتی ہیں وہ جگہ مراد ہوسکتی ہے، جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ وادیٔ سینا میں اسارت کے زمانہ کا ہے اگر ایسا ہے تو بحر قلزم کے شمال میں دو شاخوں کے اتصال کی جگہ مراد ہے یعنی جہاں خلیج عقبہ اور خلیج سویز ملتی ہیں، صاحب فتح القدیر نے بحر فارس اور بحر روم مراد لیا ہے مگر یہ دونوں دریا ملتے نہیں ہیں، ملنے سے دونوں کا قرب مراد ہوسکتا ہے (فوائد عثمانی) اور بحراردن اور بحر قلزم کا احتمال بھی پیش کیا ہے۔
جب دونوں حضرات دریاؤں کے سنگم پر پہنچے وہاں ایک بڑا بھاری پتھر تھا اور اس کے نیچے چشمہ آب حیات جاری تھا، اس کے قریب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سو گئے تو حضرت یوشع نے دیکھا کہ مچھلی باذن اللہ زندہ ہو کر تھیلے سے نکل کر جلدی اور عجیب طریقہ سے دریا میں سرنگ بناتی چلی گئی، حضرت یوشع کو اس واقعہ اور مچھلی کے پانی میں سرنگ سی بنانے کی کیفیت سے بڑا تعجب ہو اور سوچا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بیدار ہوں گے تو پورا واقعہ سناؤں گا، جب موسیٰ (علیہ السلام) بیدار ہوئے تو فوراً ہی چل کھڑے ہوئے اور یوشع واقعہ سنانا بھول گئے، روایات میں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یوشع سے کہا تھا کہ مچھلی کا خیال رکھنا تو ان کی زبان سے نکلا تھا کہ یہ کوئی بڑا کام نہیں، لہٰذا مچھلی کی گمشدگی کے واقعہ کو بھلا کر اللہ تعالیٰ نے متنبہ کردیا کہ چھوٹے سے چھوٹے کام کے بارے میں بھی اپنے اوپر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، ہر چھوٹے بڑے کام میں اللہ ہی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
خلاصہ یہ کہ یہ دونوں حضرات آگے کے لئے سفر پر روانہ ہوگئے اور یوشع مچھلی والا تھیلا اٹھا نا اور مچھلی کا واقعہ سنانا بھول گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلانا بھول گئے اور باقی دن اور رات سفر کرتے رہے دوسرے روز موسیٰ (علیہ السلام) نے خادم سے ناشتہ مانگا اور یہ بھی فرمایا آج ہم بہت تھک گئے ہیں، اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو تھکان محسوس نہیں ہوئی، اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کے علم میں یہ بات نہیں تھی کہ اب وہ بےمقصد سفر کر رہے ہیں مگر نفس الامری واقعات کا قلب نبوت پر انعکاس ہوا اور طبیعت نے اس کا اثر قبول کیا جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تھکان محسوس ہوئی، آپ ﷺ کی زندگی میں ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ نفس الامری واقعہ کا آپ کے قلب مبارک پر انعکاس ہوا ہے ایک مرتبہ کھانا کھایا جا رہا تھا آپ نے بھی ایک بوٹی لی مگر وہ چبی نہیں آپ نے پھینک دی اور فرمایا یہ گوشت مجھ سے کہہ رہا ہے کہ وہ مالک کی اجازت کے بغیر لیا گیا ہے، ایک مرتبہ آپ ﷺ نے جہری نماز کے بعد مقتدیوں سے دریافت فرمایا کہ کیا کسی نے میرے پیچھے قرأت کی ؟ ایک صاحب نے عرض کیا جی ہاں، میں نے قرأت کی، تو آپ نے فرمایا میں سوچ رہا تھا کہ قرآن پڑھنے میں مجھ سے جھگڑا کیوں کیا جا رہا ہے ؟ یعنی امر منکر کا قلب نبوت پر اثر پڑا اور آپ کے لئے قرأ ت دشوار ہوگئی۔
فائدہ : موسیٰ (علیہ السلام) کے اس ارشاد سے کہ ہم آج تھک گے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ اپنی تکلیفوں کا اظہار جائز ہے یہ کمال کے منافی نہیں ہے البتہ بےصبری اور شکوہ و شکایت ممنوع ہے۔ (جصاص )
فائدہ : موسیٰ (علیہ السلام) کے ناشتہ طلب کرنے سے معلوم ہوا کہ نبیوں کو بھی بھوک پیاس لگتی ہے، زادہ راہ بھی ساتھ رکھتے ہیں اور تھکن بھی محسوس کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی چیز نبوت وولایت کے منافی نہیں ہے جو خوش عقیدہ مرید بزرگوں کی جانب بھوک پیاس اور دیگر بشری ضرورتوں کے انتساب کو بےادبی سمجھتے ہیں ان کے لئے اس میں بڑا سبق ہے (تفسیر ماجدی) القصہ دونوں حضرات اگلی صبح تک چلتے رہے اور اس پورے سفر میں مچھلی والے تھیلے کا دونوں میں سے کسی کو بھی خیال تک نہ آیا یہاں تک کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ناشتہ مانگا تو خادم کو احساس ہوا کہ وہ مچھلی والا تھیلا تو میں وہیں بھول آیا ہوں اس وقت خادم ہی ہوتا ہے مگر مخدوم کی بھی کچھ ذمہ داری ہوتی ہے اسی لئے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے، اور ساتھ ہی خادم نے یہ بھی کہہ دیا کہ شیطان نے مجھے بھلا دیا، شریعت کی اصطلاح میں ہر بری بات کا انتساب شیطان اور نفس کی طرف کیا جاتا ہے کیونکہ شیطان نے مجھے بھلا دیا، شریعت کی اصطلاح میں ہر بری بات کا انتساب شیطان اور نفس کی طرف کیا جاتا ہے کیونکہ شیطان ہی تمام برائیوں کا سرچشمہ ہے اور نفس ہی اس کے فریب میں آتا ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اس موقعہ کی تو ہم کو تلاش تھی سو دونوں اپنے نشان قدم کو دیکھتے ہوئے واپس پلٹے اور اس چٹان کے پاس پہنچے وہاں ہمارے ایک خاص بندے سے ملاقات ہوئی، یہ بندہ کون تھا ؟ اس کا نام کیا تھا ؟ یہ انسان تھے یا فرشتے اور اگر فرشتے تھے تو علوی یا سفلی اور اگر انسان تھے تو نبی تھے یا ولی ؟ اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا دشوار ہے، آراء مختلف ہیں علامہ عثمانی کی رائے یہ ہے کہ یہ نبی ہیں صحیح احادیث میں ان کو خضر کہا گیا ہے یہ ان کا وصفی نام ہے حدیث میں اس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ایک بار حضرت خضر (علیہ السلام) ایک سوکھی سفید زمین پر بیٹھے ہوئے تھے وہ یکایک سبزہ زار ہوگئی اسی وجہ سے ان کا لقب خضر (سبزہ) ہوگیا ( رواہ البخاری والترمذی) اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر کو خصوصی رحمت سے نوازا تھا اور اسرار کو نیہ سے وافر مقدار میں حصہ عطا فرمایا تھا، جو حضرات انسان ہونے کے قائل ہیں ان میں سے بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ وہ نبی ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ وہ ولی ہیں، اور جو حضرات ان کو ملائکہ میں شمار کرتے ہیں وہ ملائکہ سفلی میں شمار کرتے ہیں جن کو اصطلاح میں رجال الغیب کہا جاتا ہے، بعض محققین کی رائے یہ بھی ہے کہ خضر ایک عہدہ ہے جس پر یکے بعد دیگرے فائز ہونے والے کو خضر کہا جاتا ہے۔
Ayahs 18:66–71آیت نمبر 66 تا 71
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر سے کہا کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ آپ اس علم مفید سے سکھائیں جس علم کی آپ کو تعلیم دی گئی ہے ؟ رَشَدًا ای صواباً جس کے ذریعہ میں درستگی حاصل کروں، اور ایک قرأۃ میں راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر سے (علم کا) اس لئے سوال کیا کہ علم میں زیادتی مطلوب ہے اس بندے نے جواب دیا آپ میرے ساتھ قطعاً صبر نہیں کرسکتے، اور ایسی باتوں پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جن کی حقیقت سے آپ پوری طرح واقف نہیں ؟ سابق میں مذکورہ حدیث میں اس آیت کے بعد یہ بھی ہے کہ اے موسیٰ اللہ نے مجھے ایک ایسا علم دیا ہے جس کو آپ نہیں جانتے اور اللہ نے آپ کو ایک ایسا علم عطا فرمایا ہے کہ جس سے میں ناواقف ہوں اور اللہ تعالیٰ کا قول خُبْرًا مصدر سے اور لَمْ تُحِطْ ، لَمْ تُخْبِرْ حقیقتہٗ کے معنی میں ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے، اور میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا یعنی آپ جو حکم فرمائیں گے میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا، موسیٰ (علیہ السلام) نے (اپنے وعدے) کو مشیت خداوندی کے ساتھ مقید کردیا، اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے اوپر لازم کردہ پابندی کے بارے میں اعتماد نہیں تھا، اور یہ انبیاء اور اولیاء کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے نفس پر پل بھر کے لئے بھی بھروسہ نہیں کرتے اس بندے خضر نے کہا اچھا اگر آپ میرے ساتھ چلنا ہی چاہتے ہیں تو آپ مجھ سے کسی بات کے بارے میں جس کو تم اپنے علم کے اعتبار سے منکر سمجھو سوال نہ کریں اور صبر کریں تاآنکہ میں خود ہی آپ کے سامنے بیان کردوں یعنی آپ کے سامنے اس کی علت میں خود ہی بیان نہ کردوں، ایک قرأت میں لام کے فتحہ اور نون کی تشدید کے ساتھ (تسألَنِّیْ ) ہے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک متعلم کے مانند معلم کے ساتھ ادب کی رعایت کرتے ہوئے ان کی شرط قبول کرلی بعد ازاں یہ دونوں حضرات ساحل بحر پر چل پڑے یہاں تک جب دونوں حضرات کشتی میں سوار ہوئے جو ان کے پاس سے گذری تو اس کشتی کو خضر نے پھاڑ دیا اس طریقہ پر کہ جب کشتی بیچ منجدھار میں پہنچی تو خضر (علیہ السلام) نے دریا کی جانب سے کلہاڑے کے ذریعے ایک یا دو تختے نکالدئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردیں آپ نے یقیناً بڑی نامناسب حرکت کر ڈالی یعنی بڑی بھاری ناپسندیدہ حرکت کر ڈالی، روایت کیا گیا ہے کہ اس پانی اس کشتی میں داخل نہیں ہوا۔
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
قولہ علیٰ أنْ تُعلِّمَن الخ اَتُّبِعَکَ کے کاف سے حال ہے ای حال کونک مُعَلِّمًا لی، رَشَدًا تُعَلِّمَنِ کا مفعول ثانی ہے ای تعلمنِ علماً ذا رشدٍ ، أن تعلِّمَنِ میں أن مصدریہ اور آخر میں نون وقایہ ہے اور یا متکلم کی محذوف ہے نون کا کسرہ حذف یا کی علامت ہے، رَشَدًا ورُشُدًا (ن) ہدایت پانا قولہ لَمْ تُحِطْ اَحَاطَ بہٖ گھیرنا، اَحَاطَ بہ عِلمًا پوری طرح جاننا خُبْرًا یا تو فاعل سے منقول ہو کر نسبت سے تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یا مفعول مطلق برائے تاکید ہے اس لئے کہ لَمْ تُحِطْ بمعنی لَمْ تُخْبِرْ ہے اور خُبرٌ بمعنی علم ہے، ای لَمْ تعلم عِلْماً قولہ لاَ اَعْصِی لَکَ اس کا عطف صابرًا پر ہے اور لا بمعنی غیر ہے قولہ وَ غَیْرغاصٍ سے مفسر علام نے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ لا بمعنی غیر ہے اور اس کا عطف صابراً پر ہے قولہ تامرنی سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امر اً ، تامُرُ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے امراً عجیب بات وہ بات جو خلاف شرع اور خلاف عقل سلیم ہو فاسٌ کلہاڑا (ج) فؤوس قولہ اصبر، اصبر محذوف مان کر اس بات کی اشارہ کردیا کہ حتی أحّدِث لَک مغیا محذوف کی جزء ہے اور مغیا اصبر ہے۔
تفسیر و تشریح : قال لہٗ موسیٰ ھَلْ اَتَّبِعکَ الخ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اگر اجازت ہو تو میں چند روز آپ کے ساتھ رہ کر اس مخصوص علم کا کچھ حصہ حاصل کروں جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) باوجودیکہ جلیل القدر پیغمبر ہیں ان بزرگ سے درخواست کر رہے ہیں کہ اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ رہ کر آپ سے اس مخصوص علم میں سے کچھ حاصل کروں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے اس طلب اجازت میں کس قدر فروتنی اور حسن ادب ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ متعلم فضیلت و فوقیت کے باوجود معلم کے تابع ہوتا ہے اور جزوی فضیلت سے کلی فضیلت لازم نہیں آتی اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فاضل بھی مفضول سے وہ علم حاصل کرسکتا ہے جو اس کے پاس نہ ہو، موسیٰ (علیہ السلام) کا علم شرعی احکام کا علم تھا اور خضر کو بعض مغیبات کا علم اور بواطن کی معرفت حاصل تھی۔
خضر (علیہ السلام) نے کہا آپ قطعاً میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے، اس لئے کہ جب آپ میرے کاموں کو ظاہر شریعت کے خلاف پائیں گے تو ان پر آپ ضرور روک ٹوک کریں گے، حضرت خضر (علیہ السلام) نے اندازہ کرلیا تھا کہ میرے ساتھ ان کا نباہ نہ ہوسکے گا اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جن علوم شرعیہ کے حامل تھے ان کا تعلق ظاہری تشریعی قوانین سے تھا اور خضر (علیہ السلام) مامور تھے کہ واقعات کو نیہ کے علم کے مطابق عمل کریں اور وہ علم تکوینی کے مطابق عمل کریں گے تو بظاہر علم تشریعی کے خلاف ہوگا جس پر موسیٰ روک ٹوک کئے بغیر نہ رہ سکیں گے جو کہ نبی کا فرض منصبی ہے انہی وجوہات کے بنا پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا اور ایسی باتوں پر آپ صبر کیسے کرسکتے ہیں جن کی حقیقت سے آپ پوری طرح واقف نہ ہوں، ایسے موقع پر خاموشی اختیار کرنا شان پیغمبری سے بعید اور فرض منصبی کے خلاف ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائی گے غرضیکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے شرائط کو قبول کرتے ہوئے صبر کرنے اور سکوت اختیار کرنے کا وعدہ کرلیا مگر وعدہ کرتے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ ایسے مقرب اور مقبول بندے سے کوئی ایسی حرکت دیکھنے میں آئے گی جو علانیہ ان کی شریعت بلکہ عام شرائع واخلاق کے بھی خلاف ہوگی اور وہ نکیر کرنے پر مجبور ہوں گے یہ تو غنیمت ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کہہ لیا تھا ورنہ قطعی وعدہ کی خلاف ورزی کرنا لازم آتا جو پیغمبر کی شایان شان نہ ہوتا۔
قال فان اتبعنِی فَلاَ تَسْئَلْنِی عَنْ شئ یعنی اگر مجھ سے کوئی بات مجھ سے بظاہر نامناسب اور ناحق معلوم ہو تو مجھ سے فوراً باز پرس نہ کریں جب تک کہ میں کسی مناسب وقت پر اپنے کام کی حقیقت اور علت خود ہی بیان نہ کردوں اگر یہ بات منظور ہے تو اجازت ہے میرے ساتھ چلئے چناچہ دونوں بزرگ چل دئیے اس واقعہ پر قرآن کریم نے حضرت یوشع کا ذکر نہیں کیا یا تو اس لئے کہ عام طور پر ایسے موقع پر متبوع کا ذکر کیا جاتا ہے نہ کہ تابع کا، کشتی کی تلاش میں ساحل سمندر پر چلے رہے تھے تو ایک کشتی نظر پڑی، کشتی والوں سے سوار ہونے کی درخواست کی اول تو کشتی والوں نے سوار کرنے سے انکار کردیا، چونکہ ان کے پاس کوئی سامان سفر وغیرہ نہیں تھا اس لئے ان کو چور ڈاکو سمجھا مگر ملاحوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پہچان لیا اور شکل و صورت سے بھی بھلے آدمی معلوم ہوئے تو بغیر کرایہ کے ان کو سوار کرلیا، جب یہ حضرات کشتی میں سوار ہوگئے تو خضر (علیہ السلام) نے وہ کشتی نمایاں جگہ سے توڑ دی تاکہ عیب دار ہوجائے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ نازیبا حرکت دیکھ کر نہ رہا گیا تو فرمایا آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ کشتی میں سوار لوگوں کو غرق کردیں آپ کی یہ حرکت شرعی واخلاقی طور پر کسی طرح مناسب نہیں ہے آپ نے یہ بہت ہی ناپسندیدہ حرکت کر ڈالی۔
Ayahs 18:72–78آیت نمبر 72 تا 78
ترجمہ : حضرت خضر نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکو گے تو موسیٰ نے کہا میری بھول چوک پر مجھ سے مواخذہ نہ فرمائیں یعنی مجھ سے آپ کی فرمانبرداری میں اور آپ پر اعتراض کو ترک کرنے میں غفلت ہوگئی اور آپ مجھ پر میرے معاملہ میں تنگی نہ ڈالیں یعنی کلفت میں مبتلا نہ کریں اور آپ اپنے ساتھ میری مصاحبت کے معاملہ میں دشواری پیدا نہ کیجئے یعنی میرے ساتھ درگذر اور سہولت کا معاملہ کیجئے پھر دونوں کشتی سے اترنے کے بعد پا پیادہ چلے یہاں تک کہ جب دونوں کی ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی جو کہ ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچا تھا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور ان میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا تو خضر نے اس لڑکے کو مار ڈالا، یا تو زمین پر لٹا کر چھری سے ذبح کردیا یا ہاتھوں سے پکڑ کر سر اکھاڑ ڈالا یا اس کے سر کو دیوار سے ٹکرا دیا، یہ تین قول ہیں فقتلہ میں فا تعقیبیہ عاطفہ کا استعمال اس لئے ہوا ہے کہ قتل ملاقات کے بعد واقع ہوا تھا اور اذا کا جواب قال لہ موسیٰ أ قَتَلتَ نفسًا زکیَّۃ ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر سے کہا تم نے ایک بےگناہ شخص کو قتل کردیا یعنی ایسے معصوم نفس کو جو کہ ابھی حد تکلیف (یعنی سن بلوغت کو بھی نہیں پہنچا) اور ایک قرأت میں زکِیَّۃ ً ی کی تشدید اور بغیر الف کے ہے جس نے کسی کا خون نہیں کیا یعنی وہ کسی نفس کا قاتل نہیں ہے (کہ اسے قصاصاً قتل کیا جائے) بلاشبہ تم نے بہت ہی برا کام کیا نُکْرًا سکون کاف اور ضمہ گاکے ساتھ دونوں قرأتیں ہیں یعنی ناپسندیدہ حرکت خضر نے کہا کیا میں نے آپ سے کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے یہاں لَکَ کا اضافہ کیا بخلاف سابق کے اس لئے کہ وہاں موسیٰ (علیہ السلام) نے سہو ونسیان کا عذر پیش نہیں کیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں (اعتراض کروں) تو مجھے آپ اپنے ساتھ نہ رکھیں یعنی اپنے ساتھ رہنے کی اجازت نہ دیں یقیناً آپ نے میرے لئے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا لَدُنّی نون کی تشدید اور تخفیف دونوں قرأتیں ہیں مِنْ لَّدُنّی کے معنی مِنْ قِبَلِی کے ہیں یعنی آپ مجھے اپنے سے جدا کرنے کے معاملہ میں معذور ہیں پھر یہ دونوں حضرات چلے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس پہنچے وہ بستی انطاکیہ تھی بستی والوں سے ان حضرات نے کھانا طلب کیا یعنی ضیافت کے طور پر ان سے کھانا طلب کیا مگر بستی والوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کردیا پھر ان دونوں حضرات نے اس بستی میں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی اور اس کی اونچائی سو ذراع تھی یعنی جھکاؤ کی وجہ سے گرنے کے قریب تھی تو خضر نے اس دیوار کو ہاتھ لگا کر درست کردیا موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت یعنی مزدوری لے لیتے ایک قرأ ت میں لاَتَّخَذْتَ ہے اس لئے باوجودیکہ ہم کھانے کے حاجتمند تھے ان لوگوں نے ہماری میزبانی نہیں کی خضر نے کہا بس یہ (اعتراض) میرے اور تیرے درمیان جدائی کرنے والا یعنی جدائی کا سبب ہے فراق مصدر بمعنی اسم فاعل تفریق ہے اس میں بَیْنَ کی اضافت غیر متعدد کی طرف ہے جس کی گنجائش واؤ عاطفہ کے ذریعہ بَیْن کی تکرار کی وجہ سے ہے، میں ان باتوں کی حقیقت تم کو جدا کرنے سے پہلے بتادیتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔
تحقیق، ترکیب وتفسیری فوائد
قولہ لَنْ تَسْتَطِیْعَ استطاعت سے مضارع واحد مذکر حاضر، تو ہرگز نہ کرسکے گا قولہ بِمَا نَسِیْتُ ما موصولہ ہے جار مجرور لا تُؤاخذنی سے متعلق ہے عائد محذوف ہے ای لا تاخذنی بامر الذی نسیتہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ نسیت بمعنی ترکت ہے جو کہ نسیت کے لازم معنی ہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ ما مصدریہ ہو ای لا تاخذنی بنسیانی، نَسِیْتُ کی تفسیر غفلت سے کر کے اشارہ کردیا کہ یہاں نسیت کے لغوی معنی مراد نہیں ہیں بلکہ لازم معنی جو کہ غفلت اور ترک کے ہیں مراد ہیں اس لئے کہ نسیان کے لئے ترک لازم ہے قولہ لا ترھقنی مِنْ امر عُسرًا، عسرًا لا ترھقنی کا مفعول ثانی ہے اور ترھقنی میں یا مفعول اول ہے یقال اَرْھَقہ عُسرًا اس کو تکلیف میں ڈالا، اس کے ساتھ تنگی کا معاملہ کیا قولہ زاکیۃ وہ نفس جس نے ابھی تم گناہ نہ کیا ہو اور زکیۃ وہ نفس جس نے گناہ کرنے کے بعد توبہ کرلی ہو، کسائی نے کہا ہے کہ دونوں ہم معنی ہیں قولہ بغیر نفسٍ اس میں تین وجوہ اعراب ہیں (1) قتلت کے متعلق ہے (2) محذوف سے متعلق ہے اور فاعل یا مفعول سے حال ہے ای قتلتہ ظالمًا او مظلومًا بغیر نفسٍ (3) مصدر محذوف کی صفت ہو ای قتلت قتلاً مُتَلَبِّسًا بغیر نفسٍ قولہ لَمْ یبلغ الحنثَ میں مضاف محذوف ہے، ای وقت الحنثِ غلام کی تفسیر لم یبلغ الحنث سے کرنے کا مقصد تعیین معنی ہیں اس سے کہ غلام کے مختلف معنی آتے ہیں مگر یہاں نابالغ لڑکا مراد ہے قولہ ھذا فراق یعنی ترک اجرت پر اعتراض فراق سے یعنی وقت فراق ہے قولہ بینی وبینک میں بین کی اضافت غیر متعدد کی طرف ہے حالانکہ بین کی اضافت متعدد کی طرف ضروری ہوتی ہے، جیسے بیننا وبینکم میں اضافت متعدد کی طرف ہے قولہ وَاَتٰی ھُن۔ ا بالفاء العاطفۃ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس بات کا جواب ہے یہاں یعنی فقتلَہ پر فا داخل ہے مگر سابق میں خَرَقَھَا پر فا داخل نہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ غلام کا قتل چونکہ کشتی سے اترنے کے بعد واقع ہوا تھا اس لئے اس کے مناسب فا تعقیبیہ لائے، بخلاف خرقَھَا کے کہ وہاں کشتی میں سواری کے دوران خرق واقع ہوا تھا اس لئے وہاں خرقھا کہا نہ کہ فخرقَھَا قولہ لَمْ تقتل نفسًا کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ بغیر نفس یعنی مضاف محذوف ہے ای بغیر قتل نفس قولہ منکرًا کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ نکرًا مصدر منکرًا مفعول کے معنی میں ہے، سابق میں چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی غلطی کم تھی اس لئے وہاں لَکَ نہیں کہا، یہاں چونکہ غلطی زیادہ ہے اس لئے لَکَ کے ذریعہ خطاب کیا قولہ یُرِیْدُ کی تفسیر یَقْربُ سے کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یُرِیدُ کی جدار کی طرف نسبت اسناد مجازی ہے اس لئے کہ جدار ذوارادہ اشیاء میں سے نہیں ہے لَمْ تَسْتَطِعْ اصل میں تستطیع تھا، لم داخل ہونے کی وجہ سے آخر میں عین ساکن ہوگئی، التقائ ساکنین ہوا ی اور عین میں ی ساقط ہوگئی تستطع ہوگیا۔
تفسیر وتشریح
قالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّکَ الخ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کیا میں نے کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے اس لئے کہ ایسے حالات اور واقعات دیکھنے میں آئیں گے جن پر آپ خاموشی کے ساتھ صبر نہ کرسکو گے سو دیکھئے آخر وہی ہوا، اس صبر نہ کرنے اور نباہ نہ ہونے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی منقصت نہیں بلکہ منقبت نکلتی ہے اس لئے کہ آپ کا خضر (علیہ السلام) کو بظاہر خلاف شرع حرکات پر بار بار ٹوکنا عین منصب نبوت اور غیرت ایمانی کی وجہ سے خاموش نہ رہ سکے مفسر علام نے ثانی معنی مراد لئے ہیں، فانطلقا حتی لقیا غلامًا فقتل عہد معاہدہ کرنے کے بعد جب یہ دونوں حضرات آگے چلے تو ایک بستی میں پہنچے اس بستی کے قریب چند لڑکے کھیل رہے تھے ان میں ایک لڑکے کو جس کا نام جیسور بتایا جاتا ہے جو نہایت ہی خوبصورت اور عقلمند تھا قتل کر ڈالا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ نے ایک بےگناہ شخص کو قتل کردیا جو کسی کا قاتل بھی نہیں، وہ لڑکا بالغ تھا یا نابالغ دونوں قسم کے اقوال ہیں غلام کا اطلاق دونوں ہی پر ہوتا ہے، اکثر مفسرین اس کو نابالغ ہی بیان کرتے ہیں، مفسر علام کی بھی یہی رائے ہے، لفظ زکیّۃ ً سے نابالغی کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے، اگرچہ اس میں تاویل کی گنجائش ہے جیسا کہ تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گذر چکا ہے بغیر نفسٍ یعنی اول تو نابالغ قصاص میں بھی قتل نہیں کیا جاسکتا، یہاں تو قصاص کا بھی کوئی قصہ نہیں تھا پھر اس سے بڑھ کرنا معقول بات کونسی ہوسکتی ہے یعنی آپ کی پہلی حرکت ہی نازیبا تھی مگر اس بار تو آپ نے غضب ہی کردیا کشتی کے نقصان کا تدارک تو کسی حد تک ممکن بھی تھا یہ تو جان کا معاملہ اس کی تلافی کی تو کوئی صورت ہی نہیں حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے آپ سے کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے اس مرتبہ خفگی بڑھ گئی اسی لئے خطاب کرتے وقت لَکَ کا لفظ بڑھا دیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مرتبہ بھول سے نہیں بلکہ قصداً اعتراض کیا تھا اس لئے کہ احکام شریعت کی خلاف ورزی پر تحمل عام صالحین سے نہیں ہوسکتا تو موسیٰ (علیہ السلام) تو پیغمبر تھے وہ بھلا امر منکر پر خاموش کیسے رہ سکتے تھے اسی لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مرتبہ سہو ونسیان کا عذر بھی پیش نہیں کیا، بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اس کے بعد اگر میں آپ کی بات پر اعتراض کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں یقیناً میرے لئے آپ نے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا، یعنی اب کی بار اور درگذر کیجئے، ایک موقع اور دیجئے آئندہ اگر اعتراض کروں تو مجھے ساتھ رکھیں آپ اس حد کو پہنچ جائیں گے کہ مجھے اپنے جدا کرنے میں معذور سمجھے جائیں گے۔
حضرت خضر (علیہ السلام) نے وہ بات در گذر کردی، اور یہ دونوں حضرات آگے چلے اور ایک بستی میں پہنچے اور لوگوں سے ملے اور چاہا کہ بستی والے مسافر سمجھ کر مہمان نوازی کریں قدیم زمانہ میں چونکہ سراؤں اور مسافر خانوں کا رواج نہیں تھا نہ ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکان کا سلسلہ تھا، مسافر بستی والوں پر اپنا حق سمجھتے تھے کہ بستی والے ان کی میزبانی کے فرائض انجام دیں اور ہر بستی والے بھی مہمان نوازی کو اپنا فرض سمجھتے تھے اس لئے کہ ہر شخص کو سفر کرنا پڑتا تھا اور ہر شخص کی یہ خواہش اور تمنا ہوتی ہے کہ اہل بستی ہماری میزبانی کے فرائض انجام دیں اور عموماً ہر بستی والے بڑی خوش دلی سے یہ فریضہ انجام دیتے تھے، مگر یہ سعادت اس بستی والوں کی قسمت میں نہیں تھی ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) جیسے مقربین کی مہمان نوازی سے انکار کردیا، یہ معاملہ دیکھ کر چاہیے تھا ایسے تنگ دل اور بےمروت لوگوں پر غصہ آتا مگر حضرت خضر (علیہ السلام) نے غصہ کے بجائے ان پر احسان کیا، بستی میں ایک دیوار تھی جو اس قدر جھکی ہوئی تھی کہ گرنے کے قریب تھی، لوگ اس کے پاس سے گذرتے ہوئے ڈرتے تھے، حضرت خضر (علیہ السلام) نے معجزانہ طور پر اس دیوار پر ہاتھ لگا کر سیدھا کردیا، اس موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے یعنی جس بستی والوں نے مسافروں کی مہمان نوازی کا حق ادا نہیں کیا ایسے لوگوں کی دیوار مفت درست کردینے کی کیا ضرورت تھی، اگر کچھ معاوضہ لے کر دیوار درست کرتے تو ہمارا بھی کھانے پینے کا کام چلتا، اور ان تنگ دل بخیلوں کو تنبیہ بھی ہوجاتی، اس کے جواب میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا بس اب میرا اور آپ کا ساتھ ختم اب میں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے یعنی حسب وعدہ آپ مجھ سے جدا ہوجائے آپ کا نباہ میرے ساتھ نہیں ہوسکتا لیکن جدا ہونے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ ان واقعات کے پوشیدہ اسرار ظاہر کردوں جن کو دیکھ کر آپ سے صبروضبط نہ ہوسکا۔
حکمت : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وخضر (علیہ السلام) کے درمیان مذکورہ تین واقعات کے پیش آنے میں حکمت موسیٰ (علیہ السلام) کو تین باتوں پر تنبیہ مقصود تھی، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے کشتی توڑنے پر اعتراض کیا اور دریا میں غرق ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا اور ظاہری اسباب کو اہمیت دی تو ندا آئی اے موسیٰ تیری تدبیر اس وقت کہاں تھی کہ تجھے ایک تابوت میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا گیا تھا اور جب قتل غلام پر اعتراض کیا تو ندا آئی کہ تیرا اعتراض اس وقت کہاں تھا کہ جب تو نے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا اور جب دیوار کو مفت درست کرنے پر اعتراض کیا تو ندا آئی اس وقت تیرا اعتراض کہاں گیا تھا جب کہ تو نے پتھر ہٹا کر شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیوں کی بکریوں کو بلا اجرت پانی پلایا تھا۔ (صاوی)