Ayahs 20:116–128آیت نمبر 116 تا 128
ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی ہوتی ہے اور یہاں تمہارے لئے یہ آرام ہے کہ یہاں تم نہ بھوکے ہوگے اور نہ ننگے اور نہ یہاں پیاسے ہوگے اَنَّکَ ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ اور اس کے کسرہ کے ساتھ اِنّ کے اسم اور اس کے جملہ پر عطف کرتے ہوئے اور نہ دھوپ میں تپوگے یعنی نہ دوپہر کو گرمی لاحق ہوگی اس لئے کہ جنت میں سورج نہیں ہوگا پھر شیطان نے آدم کو بہکایا اور کہا اے آدم ! میں تم کو ہمیشگی کا درخت نہ بتادوں یعنی ایسا درخت کہ جو اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا اور ایسی بادشاہی کہ کبھی اس میں ضعف نہ آئے گا یعنی فنا نہ ہوگی اور یہ خلود کے لازم (معنی) ہیں چناچہ آدم و حوّاء نے اس درخت سے کچھ کھالیا تو ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے یعنی دونوں میں سے ہر ایک کی قُبُل اور دُبُر ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوگئی، شرم گاہ کو سَوءٌ سے تعبیر کیا ہے اس لئے کہ شرم گاہ کا کھل جانا صاحب شرم گاہ کے لئے (تکلیف دہ اور) بری بات ہوتی ہے اور دونوں اپنے اوپر جنت کے (درختوں) کے پتے چپکانے لگے تاکہ دونوں اس کے ذریعہ ستر پوشی کریں اور آدم سے اپنے رب کی خطا ہوگئی درخت سے کچھ کھانے کی وجہ سے بہک گئے پھر اس کے رب نے اس کو منتخب کرلیا یعنی مقرب بنا لیا سو اس کی طرف متوجہ ہوئے یعنی ان کی توبہ قبول فرمالی اور ہدایت فرمائی یعنی توبہ پر ہمیشہ قائم رکھا (اللہ تعالیٰ ) نے ارشاد فرمایا تم دونوں یعنی آدم و حواء معہ تمہاری اس ذریت کے جن پر تم مشتمل ہو جنت سے نکل جاؤ تمہاری اولاد بعض بعض کی دشمن ہوگی بعض کے بعض پر ظلم کرنے کی وجہ سے فَاِمَّا اس میں اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا گیا ہے پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس کوئی ہدایت پہنچے تو (جو شخص) میری اس ہدایت یعنی قرآن کی اتباع کرے گا تو وہ نہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں شقی ہوگا اور جو شخص میری اس نصیحت سے اعراض کرے گا یعنی قرآن سے کہ اس پر ایمان نہ لائے گا تو اس کی زندگی تنگی میں رہے گی۔ ضَنْکًا تنوین کے ساتھ ضَیِّقَۃ کے معنی میں مصدر ہے اس کی تفسیر حدیث شریف میں عذاب قبر سے کی گئی ہے اور قیامت کے دن ہم اس قرآن سے اعراض کرنے والے کو اندھا اٹھائیں گے یعنی آنکھوں یا دل کا اندھا تو وہ کہے گا اے میرے رب آپ نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا ؟ میں تو آنکھوں والا تھا دنیا میں بھی اور بعث کے وقت بھی ارشاد ہوگا معاملہ ایسا ہی ہونا تھا ہماری آیات تیرے پاس پہنچی تھیں مگر تو نے ان کو بھلا دیا ترک کردیا اور ان پر ایمان نہیں لایا اور اسی طرح یعنی جس طرح تو نے ہماری آیتوں کو بھلا دیا آج تجھ کو بھلا دیا جائے گا یعنی جہنم میں چھوڑ دیا جائے گا اور اسی طرح یعنی اس شخص کی سزا کے مانند جس نے قرآن سے اعراض کیا (ہر) اس شخص کو سزا دیں گے جس نے (حد) سے تجاوز کیا شرک کرکے اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اور واقعی آخرت کا عذاب دنیا اور عذاب قبر سے بڑا سخت اور بڑا دیرپا ہے دائمی ہے کیا ان مکہ کے کافروں کو اس سے بھی ہدایت نہیں ہوتی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی گزشتہ امتوں کو رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کردیا کم خبر یہ ہے، اَھْلکنا کا مفعول ہے یعنی ہمارا ہلاک کرنا بکثرت واقع ہوا حال یہ ہے کہ ان کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ بھی شام وغیرہ کے سفر کے دوران چلتے پھرتے ہیں کہ اس سے عبرت حاصل کریں اَھْلَکنا مذکور سے بغیر کسی حرف مصدری کے اہلاک مصدر مراد لینا معنی کی رعایت کی وجہ سے ممنوع نہیں ہے اس (امر مذکور) میں عقلمندوں کے لئے عبرت کے واسطہ کافی دلائل ہیں۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا یہ قصہ قرآن کریم کی سات سورتوں میں مذکور ہے، اس قصہ کا عطف ماقبل پر عطف سبب علی المسبب کے قبیل سے ہے اس لئے کہ یہ قصہ ہی عداوت ابلیس کا سبب ہوا تھا۔ قولہ : الاَّ ابلیس مفسر علام کی یہ عادت ہے کہ جہاں مستثنیٰ منقطع ہوتا ہے وہاں اِلاَّ کی تفسیر لکن سے کرتے ہیں مگر یہاں چونکہ دونوں کا احتمال تھا اس لئے اِلاَّ کی تفسیر لکن سے نہیں کی اور کان یصحب الملائکۃ بڑھا کر اشارہ کردیا کہ یہ مستثنیٰ متصل بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ اب مطلب یہ ہوگا کہ حاضرین نے سجدہ کیا مگر حاضرین میں سے ابلیس نے نہیں کیا اور وھو ابو الجن کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ مستثنیٰ منقطع ہے اس لئے کہ جن ملائکہ میں داخل نہیں ہے۔
قولہ : اَبیٰ عن السجود یہ ما سبق کی تاکید کے لئے ہے اس لئے کہ ابلیس کا انکار استثنیٰ ہی سے سمجھ میں آرہا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جملہ استثنیٰ کی علت ہو یعنی سجدہ نہ کرنے کی وجہ ابلیس کا ستکبار واستتکاف تھا اس صورت میں ابیٰ کا مفعول محذوف ماننا جائز نہ ہوگا ورنہ تو تعلیل الشئ بنفسہٖ لازم آئے گی بلکہ اس صورت میں ابیٰ فعل لازم ہوگا اور معنی اَظْھَر الاِباءَ عن المطاوعۃِ ہوں گے۔ قولہ : فقلنا اس جملہ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای ادخلنا آدم الجنۃ فقلنا لہ یا آدم۔ قولہ : حَواء یہ اَحْویٰ صیغہ صفت کی مؤنث ہے سبزی یا سرخی مائل۔ قولہ : فتشقیٰ یہ جواب نہی ہے (س) شقاوۃ مصدر ہے جس کے معنی بدبختی کے ہیں یہ مضارع واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے شقاوت سعادت کی ضد ہے جس طرح سعادت کی دو قسمیں ہیں دنیوی و اخروی اسی طرح شقاوت کی بھی دو قسمیں ہیں شقاوت دنیوی و اخری، پھر دنیوی کی چند قسمیں ہیں ان میں سے یہاں مشقت اور تعب میں پڑنے کے معنی مراد ہیں جیسے بولا جاتا ہے شَقَیْتُ فی کذا مجھے اس میں بڑی مشقت اٹھانی پڑی۔
قولہ : اقتصر علیٰ شقاہ یہ ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ درخت کے قریب جانے سے دونوں کو منع فرمایا فلا تقربا ھذہٖ الشَّجرۃَ تو شقاوت اور محنت کا تعلق بھی دونوں سے ہونا چاہیے حالانکہ فَیَشْقٰی میں شقاوت کی نسبت آدم (علیہ السلام) کی طرف کی ہے ایک جواب تو یہ ہے چونکہ نان نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر ہوتی ہے نہ کہ بیوی کی، محنت مشقت کرکے کما کر لانا شوہر کی ذمہ داری ہے نہ کہ بیوی کی اس لئے شقاوت کی نسبت آدم کی طرف کی ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ فواصل کی رعایت کی وجہ سے ایسا کیا ہے مراد دونوں ہیں مگر تغیٰبًا عورت کو مرد کے تابع کردیا ہے۔ (روح البیان)
ضَنْکًا تنگ (ک) ضَنْکًا تنگ ہونا، ضَنْکًا مَعِیْشَۃً کی صفت ہے مبالغۃً مصدر کو صفت لایا گیا ہے۔
سوال : موصوف اور صفت میں مطابقت نہیں ہے ؟
جواب : ضَنْکًا چونکہ مصدر ہے اور مصدر میں تذکیر و تانیث برابر ہوتی ہے لہٰذا ضَنکَۃً کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
قولہ : عن القرآن مفسر علام عن القرآن کے بجائے عن الھدایۃ فرماتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔ قولہ : ونَحْشُرُہ جملہ مستانفہ ہے اور اگر را کے سکون کے ساتھ ہو تو قائم مقام جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوگی تَوَالی حرکات کی وجہ سے بھی را مجزوم ہوسکتی ہے اَعْمٰی حال ہے نحشرہ کی ضمیر سے۔ قولہ : اَفَلَمْ یَھْدِلَھُمْ ہمزہ محذوف پر داخل ہے فا عاطفہ ہے جس کے ذریعہ محذوف پر عطف کیا گیا ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَعَمُوْا فَلَمْ یَھْدِ لَھُمْ علامہ محلی نے یَھْدِ کی تفسیر یَتَبَیَّنَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یَھْدِ فعل لازم ہے اور معنی یہ ہیں أعَمُوْا فَلَمْ یَظْھَرُ لَھُمْ اِھْلاکُنَا کثیراً مِنْ قَبْلِھِمْ مِنَ القرونِ اور اَھْلَکْنَا کا مفعول بہ کَمْ مقدم ہے اور اس کم کی تمییز محذوف ہے اور من القرون تمییز کی صفت ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے ای کم اھلکنَا کائنًا من القرون۔ قولہ : یمشونَ علامہ محلی نے یمشون کو قبلھم کی ضمیر سے حال قرار دیا ہے اور بعض مفسرین نے اَھْلَکنا کی ھُمْ ضمیر سے حال قرار دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو ہلاک کردیا، حال یہ ہے کہ وہ اپنے مکانوں میں چلتے پھرتے تھے۔ قولہ : وما ذکِرَ مبتداء ہے اور مِنَ الاَخذِ اس کا بیان ہے اور لرعایۃ المعنی اخذ مذکور کی علت ہے اور لا مَانِعَ مِنہٗ مبتداء کی خبر ہے، مطلب یہ ہے کہ فعل مذکور (اَھلکنا) سے بغیر حرف مصدری کے معنی کی رعایت کی وجہ سے مصدر اخذ کرنے سے کوئی شئ مانع نہیں ہے۔
اسی بات کو سوال و جواب کی صورت میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں (سوال) اَھْلَکنا سے اھلاک مصدر مراد لینا کس طرح درست ہے، جبکہ فعل پر کوئی ایسا حرف بھی داخل نہیں ہے کہ اس کو مصدر کے معنی میں کرسکے ؟ (جواب) معنی کی رعایت کے لئے بغیر حرف مصدری کے بھی مصدر مراد لیا جاسکتا ہے۔ قولہ : فی ذلک ای فی الاھلاکِ ۔ قولہ : نُھٰی جمع نُھیۃٍ بمعنی عقل۔
تفسیر و تشریح
واذ قلنا للملئکۃ تخلیق آدم (علیہ السلام) کے بعد تمام فرشتوں کو اور ان کے ضمن میں ابلیس کو بھی، کیونکہ اس وقت ابلیس فرشتوں کے ساتھ جنت میں رہتا تھا یہ حکم دیا گیا کہ سب آدم کو سجدۂ تحیہ کریں، تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ابلیس نے انکار کردیا، جس کی وجہ دوسری آیت میں تکبر بیان کی گئی ہے خلقتنی مِن نارٍ وخلقتَہٗ مِنْ طینٍ اس تکبر کی وجہ سے ابلیس کو ملعون کرکے جنت سے نکال دیا گیا، حضرت آدم اور حواء کے لئے جنت کے سب باغات کے دروازے کھولدئیے گئے اور ہر چیز کے استعمال کی اجازت دیدی گئی، صرف ایک معین درخت کے لئے یہ ہدایت دیدی گئی کہ اس درخت کی کوئی چیز بھی نہ کھانا بلکہ اس کے قریب بھی نہ جانا، واقعہ کی پوری تفصیل سورة بقرہ اور اعراف کی آیتوں میں آچکی ہے، یہاں تو اللہ تعالیٰ نے اپنا وہ ارشاد ذکر فرمایا ہے جو اس عہد کو محفوظ رکھنے اور اس پر قائم رہنے کے سلسلہ میں فرمایا کہ دیکھو شیطان ابلیس تم دونوں کو دشمن ہے جیسا کہ واقعہ سجدہ کے وقت ظاہر ہوچکا ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی مکر و حیلہ سے تم سے اس عہد کی خلاف ورزی کرادے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم جنت سے نکالے جاؤ فَلا یخرجَنّکما من الجنۃِ فتشقٰی یعنی یہ شیطان کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے جس کی وجہ سے تم مصیبت میں اور مشقت میں پڑجاؤ لفظ تشقیٰ شقاوت سے مشتق ہے، یہ دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک شقاوتِ آخرت اور دوسرے شقاوتِ دنیا یعنی جسمانی مشقت و مصیبت اس جگہ یہی معنی مراد ہیں، اس لئے کہ پہلے معنی میں کسی پیغمبر کے لئے تو کیا کسی نیک مسلمان کے لئے بھی نہیں بولا جاسکتا، اسی لئے فراء نے اس شقاوت کی تفسیر یہ کی ہے کہ ھو یاکُلُ مِنْ کَدِّ یدیہ یعنی اپنے ہاتھوں کی محبت سے خوراک حاصل کرنا (قرطبی) مفسرین نے لکھا ہے کہ امام قرطبی نے اس جگہ یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) جب زمین پر تشریف لائے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے جنت سے کچھ دانے گندم، چاول وغیرہ کے لاکر دئیے کہ ان کو زمین میں کاشت کرو اور اس کے بعد جب کھیتی تیار ہوجائے تو اس کو کاٹو غلہ نکالو پھر اس کو پیسو غرضیکہ روٹی وغیرہ بنانے کی ترکیب بھی بتادی اس کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) نے روٹی تیار کی پہاڑ پر کھانے کے لئے روٹی لیکر بیٹھے تھے کہ روٹی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور پہاڑ سے لڑھک کر زمین پر گرگئی، آدم اس کے پیچھے چلے اور بڑی محنت سے اس کو واپس لائے تو اس وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا اے آدم ! آپ کا اور آپ کی اولاد کا رزق زمین پر اسی طرح محنت و مشقت سے حاصل ہوگا۔ (قرطبی)
بیوی کا نان نفقۂ ضروریہ شوہر کے ذمہ ہے : آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ شیطان تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے، مگر آخر آیت میں لفظ فتشقٰی کو مفرد استعمال فرمایا، بیوی کو اس میں شریک نہیں کیا ورنہ بمقتضائے مقام فتشقیا کہا جاتا، امام قرطبی نے اس سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ بیوی کی ضروریات زندگی شوہر کے ذمہ ہیں ان کے حصول میں جو محنت و مشقت ہو اس کا تنہا شوہر ذمہ دار ہے اسی لئے فتشقیٰ مفرد کا صیغہ لاکر اشارہ کردیا کہ زمین پر اترنے کے بعد حواء کی ضروریات زندگی کی تحصیل حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذمہ داری ہے، امام قرطبی نے فرمایا کہ آیت سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کا جو نفقہ مرد پر واجب ہے وہ صرف چار چیزیں ہیں کھانا پینا اور لباس و مسکن اس کے علاوہ جو کچھ شوہر خرچ کرتا ہے وہ تبرع ہے، اسی سے یہ بھی معلوم ہا کہ بیوی کے علاوہ جس کا بھی نفقہ کسی پر واجب ہوگا اس میں صرف یہی چار چیزیں ہیں۔
اھبطا منھا جمیعا یہ خطاب حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابلیس دونوں کو بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں بعضکم لبعض عدوٌّ کا مضمون واضح ہے اس لئے کہ دنیا میں جاکر بھی شیطان کی انسان دشمنی جاری رہے گی، اور اگر یہ کہا جائے کہ شیطان کو تو اس واقعہ سے پہلے ہی جنت سے نکال دیا گیا تھا اب اس کو اس خطاب میں شریک کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ مذکورہ خطاب حضرت آدم اور حواء ہی کو ہو، اس صورت میں باہمی عداوت سے مراد ابن آدم کے اندر باہمی اختلاف و عداوت مراد ہوگی، اولاد کے باہمی اختلاف و عداوت سے ماں باپ کی زندگی بھی تلخ ہوجاتی ہے۔
فان لہ معیشۃ ضنکًا الخ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس کی زندگی تنگ ہوگی اور قیامت میں ان کو اندھا کرکے اٹھایا جائے گا پہلا عذاب تو اس کو دنیا ہی میں مل جائے گا اور اندھا ہونے کا عذاب قیامت میں ہوگا۔
دنیا میں زندگی تلخ ہونے کا مطلب : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں معیشت کی تنگی تو کفار و فجار کیلئے مخصوص نہیں ہے مومنین اور صالحین کو بھی پیش آتی ہے بلکہ انبیاء کو سب سے زیادہ شدائد و مصائب اس دنیا میں اٹھانے پڑتے ہیں، صحیح بخاری اور تمام کتب حدیث میں بروایت سعد ؓ وغیرہ یہ حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی بلائیں اور مصیبتیں سب سے زیادہ انبیاء پر سخت ہوتی ہیں ان کے بعد جو جس درجہ کا صالح اور ولی ہے اسی کی مناسبت سے اس کو تکلیفیں پہنچتی ہیں اس کے بالمقابل عموماً کفار کو خوشحالی اور عیش و عشرت میں دیکھا جاتا ہے پھر قرآن کا یہ ارشاد کہ ان کی معیشت تنگ ہوگی آخرت کے لئے ہوسکتا ہے دنیا میں خلاف مشاہدہ معلوم ہوتا ہے، اس کا صاف اور بےغبار جواب تو یہ ہے کہ یہاں دنیا کے عذاب سے قبر کا عذاب مراد ہے، قبر (برزخ) میں ان کی زندگی تنگ کردی جائے گی خود قبر بھی ان کے لئے اس قدر تنگ کردی جائے گی کہ ان کی پسلیاں ٹوٹنے لگیں گی، حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث منقول ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے معیشۃً ضنکاً کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ اس سے مرادقبر کا عالم ہے۔ (یعنی عالم برزخ)
حضرت سعید بن جبیر نے تنگی کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ ان سے قناعت کا وصف سلب کرلیا جائے گا اور دنیا کی حرص بڑھا دی جائے گی (مظہری) جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے پاس کتنا ہی مال و دولت جمع ہوجائے اس کو کبھی قلبی سکون نصیب نہیں ہوگا، ہمیشہ مال بڑھانے کی فکر اور اس میں نقصان کا خطرہ اس کو بےچین رکھے گا، اور یہ بات عام مالداروں میں مشاہدہ اور معروف ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس سامان راحت تو بہت ہے مگر جس کا نام راحت ہے سکون قلبی ہے وہ نہیں ہے۔
افلم یھدلھم استفہام تفریع و توبیخ کے لئے ہے، جملہ ماقبل کی تاکید کے لئے مستانفہ ہے اور یَھْدِ کا فاعل بعد میں آنے والا جملہ ہے یعنی کم اَھْلکنا الخ اور اَھْلکنا کا مفعول محذوف ہے ای اَھْلکناھم صاحب جلالین نے اسی کو اختیار کیا ہے، مگر بصریین نے اس ترکیب کا انکار کیا ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک جملہ فاعل نہیں ہوتا مگر ان کے علاوہ نے جائز قرار دیا ہے۔
بعض حضرات نے یَھْدِ کی ضمیر فاعل کو ھُدیٰ کی طرف راجع کیا ہے جو کہ یَھْدِ کے ضمن میں مذکور ہے اور ھدی سے مراد قرآن یا رسول ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کیا قرآن یا رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کو یہ ہدایت نہیں دی اور اس سے باخبر نہیں کیا کہ تم سے پہلے کتنی امتیں اور جماعتیں اپنی نافرمانی کی وجہ سے عذاب خداوندی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوچکی ہیں جن کے گھروں اور زمینوں میں اب تم چلتے پھرتے ہو۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ ضمیر فاعل قرآن یا رسول کے بجائے اللہ کی طرف راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان
لوگوں کو ہدایت نہیں دی، بعض حضرات نے یمشون کو لَھُمْ کی ضمیر سے حال قرار دینے کے بجائے القرون سے حال قرار دیا ہے، مطلب یہ ہوگا کہ کیا کفار مکہ نے ہمارے امم سابقہ کو ہلاک کرنے سے بھی ہدایت نہیں کی حال یہ کہ وہ قومیں اپنے مکانوں میں چلتی پھرتی تھیں اور عیش و عشرت کے مزے لیتی تھیں۔
Ayahs 20:129–135آیت نمبر 129 تا 135
ترجمہ : اگر تیرے رب کی بات (حکم ازلی) یعنی ان سے عذاب کو قیامت تک مؤخر کرنے کی بات پہلے سے طے شدہ اور وقت معین نہ ہوتا تو ہلاکت دنیا ہی میں (فوری طور پر) آچمٹتی مُسَمًّی مضروب لہ کے معنی میں ہے (یعنی مقرر کردہ) اور اَجَلٌ مُسمَّی کا عطف کان کے اندر ضمیر مستتر پر ہے اور کان کی خبر کا فصل تاکید کے قائم مقام ہے، سو آپ ان باتوں پر صبر کیجئے یہ حکم آیت قتال سے منسوخ ہے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور نماز پڑھتے رہئے یعنی ایسی تسبیح کرتے رہئے کہ جو حمد پر مشتمل ہو طلوع شمس سے پہلے فجر کی نماز اور غروب شمس سے پہلے عصر کی نماز اور رات کے واقات میں تسبیح بیان کیجئے یعنی مغرب اور عشاء کی نماز پڑھئے اور دن کے اطراف میں اور اطراف النہار کا عطف من آناء اللیل کے محل پر ہے جو منصوب ہے یعنی ظہر کی نماز پڑھئے اس کا وقت زوال شمس سے داخل ہوتا ہے اور وہ (نہار) کے نصف اول کا (آخری) اور نصف ثانی کا (ابتدائی) کنارہ ہے تاکہ آپ عطا کردہ ثواب سے خوش ہوں اور آپ ہرگز ان چیزوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھئے جن سے ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کو ان کی آزمائش کے لئے متمتع کر رکھا ہے بایں طور کہ وہ سرکشی کریں یہ (محض) دنیوی زندگی کی زینت اور رونق ہے، اور جنت میں تیرے رب کا عطیہ اس سے جو ان کو دنیا میں دیا گیا ہے بدر جہا بہتر اور پائیدار ہے اور اپنے متعلقین کو نماز کا حکم کرتے رہئے اور کود بھی اس کے پابند رہئے اور ہم آپ سے معاش کا سوال نہیں کرتے یعنی ہم آپ کو اپنے لئے اور دوسروں کے لئے معاش کا مکلّف نہیں بناتے رزق تو آپ کو ہم دیں گے اور انجام یعنی جنت تو اہل تقویٰ کے لئے ہے اور مشرک کہتے ہیں کہ محمد ہمارے پاس اپنے رب کے پاس سے وہ نشانی کیوں نہیں لاتے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں اَوَلم یاتیھِمْ تا اور یا کے ساتھ ہے کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کا بیان نہیں پہنچا وہ (بیان) کہ قرآن اس پر مشتمل ہے اور وہ بیان امم ماضیہ کی خبریں اور رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ان کو ہلاک کرنے کی خبریں ہیں اور اگر ہم ان کو محمد ﷺ کی آمد سے پہلے کسی عذاب کے ذریعہ ہلاک کردیتے تو یہ لوگ قیامت کے دن یوں کہتے اے ہمارے رب آپ نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تھا ؟ کہ ہم اس کے لائے ہوئے آپ کے احکام پر چلتے قبل اس کے کہ ہم قیامت میں جہنم میں ذلیل اور رسوا ہوتے تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ ہم اور تم سب کے سب منتظر ہیں کہ انجام کیا ہوتا ہے ؟ اور انتظار کرلو عنقریب قیامت کے دن تم کو معلوم ہوجائے گا کہ راہ راستی والے کون ہیں ؟ اور ضلالت سے بچ کر کون ہدایت پر پہنچا ؟ ہم یا تم (یعنی ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو)
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : لَولاَ کلمۃ سَبَقَتْ الخ اگر اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں آپ ﷺ کے اکرام میں آپ کی امت سے عام عذاب کی تاخیر مقدر نہ ہوچکی ہوتی تو امم ماضیہ کے مانند اس امت پر بھی عام عذاب نازل ہوگیا ہوتا، لہٰذا یہ تاخیر امہال ہے نہ اہمال، تاکہ کفار بقیہ عمر میں گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کرسکیں۔
قولہ : معطوف علی الضمیر المستتر فی کان مطلب یہ ہے کہ واجلٌ مسمّٰی کا عطف کان کی ضمیر مستتر پر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وکان الاِھْلاک والاجل المعین لہٗ لزاماً اور لزامًا مصدر بمعنی لازمًا ہے۔
سوال : اِھْلاک اور اَجَلٌ مُّسَمّٰی دونوں کَانَ کے اسم ہیں تو اس کی خبر بھی تثنیہ ہونی چاہیے لہٰذا لِزَامًا کے بجائے لازمین ہونی چاہیے۔
جواب : لزامًا اگرچہ یہاں لازمًا کے معنی میں ہے اگر اصل میں مصدر ہے لہٰذا اس کا تثنیہ کے معنی میں استعمال درست ہے۔
قولہ : قام الفصل یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ جب ضمیر مرفوع متصل پر عطف ہوتا ہے تو ضمیر مرفوع کی تاکید ضمیر مرفوع منفصل کے ذریعہ ضروری ہوتی ہے، یہاں کان کی ضمیر مستتر اھلاک پر اجلٌ مسمّٰی کا عطف ہو رہا ہے حالانکہ یہاں ضمیر مستتر کی تاکید ضمیر مرفوع منفصل کے ذریعہ نہیں ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عطف کے جواز کی ایک صورت اور ہے اور وہ یہ ہے کہ ضمیر منفصل کے علاوہ اگر وہ کسی چیز کا فصل واقع ہوجائے تب بھی عطف درست ہوجاتا ہے، یہاں کان کی خبر لزامًا کا فصل آنے کی وجہ سے عطف درست ہوگیا ہے۔
قولہ : واَجَلٌ مسمّٰی اجلٌ کے مرفوع ہونے کی دو وجہ ہوسکتی ہیں ایک تو یہی کہ اَجَلٌ کا عطف کان کی ضمیر مستتر پر ہو، مفسر علام نے اسی کو اختیار کیا ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ اجلٌ کا عطف کلمۃً ٌپر ہو اور لولا کے تحت میں داخل ہو، تقدیر عبارت یہ ہوگی لولا کلمۃ واَجَلٌ مسمّٰی لکان العذاب لا زماً لھم۔ قولہ : فاصبر علیٰ ما یقولون فاصبر میں فاجزائیہ ہے شرط محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے ای اذا کان الامر علی ما ذکر من اَنّ تاخیر عذابھم لیس باھمال بل ھو امھال وھو لازم لھم البتۃ فاصبر علیٰ ما یقولون من کلمات الکفر من آناء اللیل آناء جمع اِنًا بمعنی وقت اور مِن بمعنی فی ای فی آناء اللیل۔
قولہ : واَطراف النھار ای صلّ اطراف النھار من آناء اللیل کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور من آناء اللیل یسبّح کی وجہ سے منصوب ہے وَلاَ تمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ کا عطف فاصبر پر ہے۔ قولہ : ازواجًا متَّعنَا کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور بہٖ کی ضمیر مجرور جو کہ ما کی طرف راجع ہے سے حال واقع ہونے کی وجہ سے بھی ازواجًا منصوب ہوسکتا ہے۔ قولہ : زھرۃَ الحیوٰۃِ الدنیا زھرۃً کے منصوب ہونے کی چند وجوہ ہوسکتی ہیں (1) مَتَّعْنَا کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے مفعول اول اَزْوَاجًا ہے اور مَتَّعْنَا چونکہ اعطینا کے معنی کو متضمن ہے اس لئے متعدی بدو مفعول ہوگا (2) ازواجًا سے بدل ہونے کی وجہ سے یا تو حذف مضاف کے ساتھ ای ذوی زھرۃٍ یا مبالغۃً (3) فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہو جس پر مَتَّعْنَا دلالت کر رہا ہے ای جعلنا زھَرَۃً (4) منصوب علی الذم ای اَذُمُّ زھرۃَ الحیوٰۃِ الدنیا ان کے علاوہ پانچ وجوہ نصب اور ہوسکتی ہیں اختصاراً ترک کردیا گیا۔
قولہ : بِاَنْ یَطْغَوْا باسببیہ ہے ای نَفْتِنَھُمْ بِسَبَبِ طُغْیَانِھِمْ بَھْجَۃ رونق خوبصورتی (س، ف، ک) یَقْتَرِحُوْنَہٗ اِقْتِرَاحٌ خواہش کرنا، تجویز پیش کرنا، مطالبہ کرنا۔ قولہ : اَوَلَمْ یَاْتِیْھِمْ ہمزہ محذوف پر داخل ہے اور واو عاطفہ ہے ای اَعَمُوْا وَلَمْ تَاتِیْھِمْ ۔ قولہ : وَلَوْ اَنَّا اَھْلَکْنٰھُمْ یہ جملہ مستانفہ ہے ماقبل کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ قولہ : فَنَتَّبِعَ لولا استفہامیہ کا جواب ہے اَن مقدر کی وجہ سے منصوب ہے ای فأنْ نَتَّبِعَ
قولہ : مَنْ اَصْحابُ الصراط مبتداء خبر ہیں، علامہ محلی نے مَنْ اھتَدیٰ کی تفسیر مِنَ الضلالَۃِ سے کرکے اصحٰب الصراط السویِّ اور مَنِ اھْتدیٰ میں فرق کی جانب اشارہ کردیا، اصحاب الصراط وہ لوگ ہیں جو شروع ہی سے ہدایت پر ہوں جیسے آپ ﷺ اور وہ لوگ جو اسلام کی حالت میں بالغ ہوئے جیسے حضرت علی ؓ وغیرہ۔ وَمَنِ اھْتدیٰ وہ لوگ جن پر کفر کا زمانہ گزرا اور بعد میں اسلام لائے ومَنِ اھتدیٰ میں مَنْ استفہامیہ ہے اور محل خبر میں بھی ہوسکتا ہے الصراط پر عطف کرتے ہوئے ای اصحاب من اھتدیٰ ۔
تفسیر و تشریح
لَوْلا کلمۃ سبقت یہ مشرکین و مکذبین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں جن کے یہ جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آتے جاتے ہیں، انہیں ہم اس تکذیب کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرتناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن یہ اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں، اگر اللہ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ اتمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے کسی کو ہلاک نہیں کرتا تو فوراً انہیں عذاب الٰہی آچمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے، مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود اگر ان پر اب تک عذاب نہیں آیا تو یہ نہ سمجھیں کہ آئندہ بھی نہیں آئے گا، بلکہ ابھی ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملی ہوئی ہے جیسا کہ وہ ہر قوم کو دیتا ہے، مدت مہلت ختم ہوجانے کے بعد ان کو عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔
فاصبر علی ما یقولون اہل مکہ جو ایمان سے بھاگنے کے طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو برے القاب سے یاد کرتے تھے کوئی ساحر کہتا تھا تو کوئی کاذب کہہ کر پکارتا تھا تو کوئی کاہن نام رکھتا تھا تو کوئی شاعر کے لقب سے نوازتا تھا جس سے آپ ﷺ کو فطری طور پر بڑی تکلیف ہوتی تھی، قرآن کریم نے ان اذیتوں کا علاج دو طریقہ سے تجویز فرمایا ہے اول یہ کہ ان کے کہنے کی طرف توجہ نہ دیں بلکہ صبر کریں، دوسری چیز اللہ کی عبادت میں مشغول رہیں، فسبح بحمد ربک میں اسی دوسرے علاج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
فسبح بحمد ربک تسبیح کے معنی اللہ کی پاکی بیان کرنے کے ہیں اور یہ عام ہے اس سے زبانی تسبیح وتحمید بھی مراد ہوسکتی ہے اور نماز بھی مراد ہوسکتی ہے اس لئے کہ نماز قولی اور فعلی دونوں قسم کی تسبیح پر مشتمل ہوتی ہے بعض مفسرین نے آئندہ آیت سے نماز کے پانچ اوقات مراد لئے ہیں، اور دیگر حضرات نے مطلقاً وقت مراد لیا ہے، یعنی ہر وقت ذکر لسانی میں مشغول رہنا مراد ہے۔
لا تمدن عینیک اس آیت میں اگرچہ خطاب آپ ﷺ کو ہے مگر مراد امت ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مالداروں اور سرمایہ داروں کو قسم قسم کی دنیوی رونق اور طرح طرح کی نعمتیں حاصل ہیں، آپ ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کیجئے، یہ سب نعمتیں فانی اور چند روزہ ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے ذریعہ مومنین کو عطا فرمائیں ہیں وہ کافروں کی ان چند روزہ رونق حیات سے بدرجہا بہتر ہیں۔
حدیث ایلاء میں آیا ہے کہ حضرت عمر ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے دیکھا کہ آپ ایک کھرّی چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور بےسروسامانی کا یہ عالم ہے کہ گھر میں چمڑے کی دو چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے، حضرت عمر ؓ کی آنکھوں میں بےاختیار آنسو آگئے، نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا عمر کیا بات ہے ؟ روتے کیوں ہو ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ! قیصر و کسریٰ کس طرح آرام و راحت کی زندگی گزار رہے ہیں اور آپ کا باوجود اس بات کے کہ آپ افضل الخلق ہیں یہ حال ؟ فرمایا عمر کیا تم اب تک شک میں ہو ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے آرام کی چیزیں دنیا ہی میں دیدی گئی ہیں یعنی آخرت میں ان کے لئے کچھ نہیں۔ (بخاری شریف سورة تحریم، مسلم باب الایلاء)
ابن ابی حاتم نے بروایت ابو سعید خدری ؓ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :
اِنَّ اخوَفَ ما اخافُ علیکم مَا یَفْتَحُ اللہ لکم من زھرۃ الدنیا۔ مجھے تم لوگوں کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف اور خطرہ ہے وہ دنیا کی دولت اور زینت ہے جو تم پر کھولدی جائے گی۔ (ابن کثیر)
کاشفی نے مذکورہ آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں ابو رافع سے ایک روایت نقل فرمائی ہے جس کا ما حصل حسب ذیل ہے، ابو رافع فرماتے ہیں کہ ایک روز ایک مہمان آپ ﷺ کے پاس آیا، اتفاق سے گھر میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں تھی کہ جس سے مہمان کی خاطر تواضع کی جاسکتی، حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ مجھے آپ ﷺ نے ایک یہودی کے پاس بھیجا، اور فرمایا کہ یہودی سے کہنا محمد ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہمارے گھر مہمان آیا ہے اور گھر میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ مہمان کی تواضع کی جاسکے، لہٰذا اتنی مقدار (دوصاع) آٹا ادھار فروخت کردو، ماہ رجب کے شروع میں قیمت ادا کردی جائے گی، ابو رافع فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کا پیغام یہودی کو پہنچا دیا، یہودی نے جواب دیا ہم ادھار نہیں کرتے ہاں البتہ کوئی چیز رہن رکھ دو تو دے سکتے ہیں، ابو رافع فرماتے ہیں کہ میں نے پوری صورت حال آپ ﷺ سے عرض کردی، آپ نے فرمایا وَاللہِ اِنی لَاَمِیْنٌ فی السماءِ واَمینٌ فِی الارضِ اگر وہ میرے ساتھ معاملہ کرتا تو میں اس کا حق ادا کردیتا چناچہ آپ ﷺ نے اپنی زرہ عنایت فرمائی اور میں نے وہ زرہ یہودی کے یہاں رہن رکھ کردو صاع آٹا لے لیا، اس پر یہ آیت آپ ﷺ کی تسلی کے لئے نازل ہوئی۔ (روح البیان)
وامر اھلک بالصلوٰۃ الخ اس آیت میں اہل سے مراد پوری امت ہے جس میں خاص اپنے اہل و عیال اور متعلقین بھی داخل ہیں، بظاہر اس آیت میں دو حکم ہیں ایک اپنے اہل و عیال کو نماز کی تاکید اور دوسرے خود پابندی، دراصل بات یہ ہے کہ انسان کی خود اپنی نماز کی پابندی کے لئے ضروری ہے کہ گھر کا ماحول دیندار ہو اور اہل خانہ اور متعلقین نماز کے پابند ہوں اس لئے کہ اگر ماحول اس کے خلاف ہو تو طبعی طور پر انسان خود بھی کوتاہی کا شکار ہوجاتا ہے، جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ
روزانہ صبح کو نماز کے وقت حضرت علی ؓ اور فاطمہ کے مکان پر جا کر آواز دیتے تھے ” الصلوٰۃ الصلوٰۃ “ (قرطبی)
قولہ : لانسئلک رِزْقًا یعنی ہم تم سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ تم اپنا اور اپنے اہل و عیال کا رزق اپنے زور علم و عمل سے پیدا کرو بلکہ یہ معاملہ ہم نے اپنے دست قدرت میں رکھا ہے، انسان زیادہ سے زیادہ کسب معاش کے اسباب کو اختیار کرسکتا ہے اس کے آگے کچھ نہیں کرسکتا، ایک کاشتکار زمین کو قابل کاشت بنا کر اس میں بیج ڈال دیتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا، آگے پورا کام قدرت کا ہے چاہے اس کو اگائے اور بار آور کرے یا زمین ہی میں سڑا کر مٹی کر دے، غرضیکہ روزی کا مسئلہ قدرت نے اپنے اختیار میں رکھا ہے البتہ جو شخص عبادت خداوندی میں مشغول ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے یہ بار محنت بھی آسان فرما دیتے ہیں۔ (ترمذی)
قولہ : فستعلمون الخ یعنی آج تو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو زبان دی ہوئی ہے ہر ایک اپنے طریقہ اور اپنے عمل کو بہتر اور صحیح ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے لیکن یہ دعویٰ کچھ کام آنے والا نہیں۔
بہتر اور صحیح طریقہ وہی ہوسکتا ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول اور صحیح ہو اور اس کا پتہ قیامت کے روز سب کو لگ جائیگا کہ کون غلطی اور گمراہی پر تھا اور کون صحیح اور سیدھے راستہ پر ؟