21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 21:1–10

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو ؟

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے، میرا پروردگار اسے جانتا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں (نہیں بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے (نہیں) بلکہ یہ شعر جو اس) شاعر (کا نتیجہ طبع) ہے تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لائی تھیں تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بناکر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانانہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ گے ؟ حالانکہ تم جانتے ہو کہ یہ سحر ہے پیغمبر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا رب ہر بات کو (خواہ) وہ آسمان میں ہو یا زمین میں جانتا ہے اور جس بات کو یہ چھپا رہے ہیں اس کو خوب سننے والا اور جاننے والا ہے بَلْ ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف انتقال کے لئے تینوں مقامات میں (یعنی جادو کہنے پر اکتفا نہیں کیا) بلکہ آپ جو قرآن لیکر آئے اس کے بارے میں کہا یہ پریشان خیالات ہیں یعنی خواب میں دیکھے ہوئے پراگندہ خیالات کا مجموعہ ہے بلکہ اس کو افتراء کیا ہے (یعنی) گھڑ لیا ہے بلکہ یہ تو شاعر ہے لہٰذا جو چیز یہ پیش کرتا ہے وہ شعر ہے لہٰذا (ان کو چاہیے) کہ ہمارے پاس کوئی بڑی نشانی لائیں جیسا کہ پہلے پیغمبر (نشانیاں دیکر) بھیجے گئے تھے مثلاً ناقہ اور عصاء اور یدبیضاء، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان سے پہلے جو بستی یعنی بستی والے ایمان نہیں لائے ہم نے ان کو ان آیات کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کردیا سو کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟ نہیں ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے جن کے پاس وحی بھیجی جاتی تھی اور ایک قرأت میں نون اور حا کے کسرہ کے ساتھ ہے (یعنی ہم وحی بھیجا کرتے تھے) نہ کہ فرشتوں کو اگر تم کو یہ بات معلوم نہ ہو تو اہل ذکر یعنی انجیل اور تورات کے علماء سے معلوم کرلو، اس لئے کہ وہ اس بات کو جانتے ہیں اور تم ان کی تصدیق کے زیادہ قریب ہو بہ نسبت محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں کے اور ہم نے ان رسولوں کے ایسے جسم نہیں بنائے کہ جو کھانا نہ کھاتے ہوں بلکہ کھاتے ہیں جسد بمعنی اجساد ہے اور یہ حضرات دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اس کو سچا کردیا یعنی پورا کردیا یعنی ہم نے ان کو اور ان کی تصدیق کرنے والوں میں سے جس کو چاہا نجات دی اور حد سے گزرنے والوں یعنی ان کی تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کردیا اے قریش کے لوگو ! ہم تمہارے پاس ایسی کتاب بھیج چکے ہیں جس میں تمہارے لئے نصیحت ہے اس لئے کہ وہ تمہاری زبان میں ہے پھر بھی تم نہیں سمجھتے کہ اس پر ایمان لے آؤ۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد اقترب قرب (س، ک) نزدیک آجانا اِقْتَرَبَ کی تفسیر قرب سے کرکے اشارہ کردیا ہے کہ اقتَرَبَ اور قَرُبَ دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ قولہ : للنَاسِ کی تفسیر اہل مکہ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہ اطلاق الجنس علی البعض کے قبیل سے ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ آئندہ جو صفات بیان کی جا رہی ہیں وہ مکہ کے مشرکوں پر صادق آرہی ہیں، ورنہ تو حساب ہر شخص کا قریب آگیا ہے۔ قولہ : حِسَابُھُمْ ای وقت حسابھم مضاف محذوف ہے۔ قولہ : وھم فی غفلۃٍ معرضونَ یہ جملہ حالیہ ہے ای قَرُبَ وقتُ حسابھم والحال اَنَّھم غافلون معرضون ھُمْ مبتداء معرضون اس کی خبر۔ قولہ : فی غفلۃ معرضون کی ضمیر سے حال بھی ہوسکتا ہے ای اعرضوا غافلین اور مبتداء کی خبر ثانی بھی ہوسکتی ہے۔ قولہ : تاھب اَھَّبَ وتَأھَّبَ بمعنی تیار ہونا، آمادہ ہونا۔ قولہ : مَا یأتِیھم من ذکر یہ ما قبل کی علت ہے مِنْ ذِکرٍ میں مِن فاعل پر زائدہ ہے۔ قولہ : لفظ القرآن مفسر علام نے لفظ القرآن کا اضافہ کرکے اس شبہ کو زائل کردیا کہ یہاں ذکر سے مراد قرآن ہے اور قرآن اللہ کا کلام اور اس کی خاص صفت ہے اور اللہ کی ذات کے مانند اس کی صفات بھی قدیم ہیں تو پھر اس کو محدثٍ کیوں کہا گیا ہے ؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن الفاظ منزلہ کے اعتبار سے حادث ہے اور اپنے مدلول و معنی کے اعتبار سے قدیم ہے۔ قولہ : وَاَسَرُّوْا النَّجویٰ الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے اور محل میں رفع کے ہے اور الذین ظلمو، ھم مبتداء محذوف کی خبر بھی ہوسکتی ہے ای ھم الذین ظلموا اور اگر اعنی مقدر مان لیا جائے تو الذین ظلموا محلاً منصوب ہوگا، ای اَعْنِیْ الذین ظلموا۔ قولہ : ھل ھٰذا الض یہ النجویٰ سے بدل ہے یعنی ان ظالموں کی خفیہ گفتگو یہ تھی کہ یہ ہمارے جیسا بشر ہی ہے ھَل ھٰذا اِلاَّ بشرٌ مثلکُمْ اَوانتٗمْ تبصرون تاتون کی ضمیر سے حال ہے علامہ محلی نے کائناً کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ فی السماء والارض اَلقَوْل سے حال ہے۔ قولہ : اَضغاثُ احلامٍ یہ ھٰذا یا ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے جیسا کہ علامہ محلی نے ھُوَ مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے اور جملہ ہو کر قالوا کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اَضْغَاثُ بمعنی اخلاط جمع ضغثٍ وہ پراگندہ خیالات جن کو انسان خواب میں دیکھتا ہے۔ قولہ : فَلْیَأتِنا بآیۃٍ یہ شرط محذوف کی جزاء ہے جو کہ سیاق وسباق سے مفہوم ہے ای کأنَّہٗ قیل وَاِن لم یکن کما قلنا بل کان رسولاً من عبد اللہ فَلْیَاتِنَا بآیَۃٍ ۔ وقولہ : کما اُرْسِلَ الاولون یہ آیۃٍ کی صفت ہے ای اِئتنا بآیۃٍ کائنۃٍ مثل الآیۃ التی ارسل بھا الاوَّلون۔ قولہ : اَھْلکنٰھا قَرْیَۃٍ کی صفت ہے اَفَھُمْ یومِنُونَ کے بعد لامقدر مان کر اشارہ کردیا کہ اَفَھُمْ میں ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ قولہ : یُوْحٰی بالیاء مبنی للمفعول اِلَیْھِمْ نائب فاعل وفی قرأۃٍ نُوْحِیْ بالنون وکسر الحاء اس صورت میں مفعول محذوف ہوگا ای نُوحِی اِلَیْھِم الاَمرَ والنَّھْیَ اِنْ کُنْتُمْ لاتعلمون یہ جملہ شرطیہ ہے اس کی جزاء فاسئلوھم محذوف ہے سابقہ جملہ حذف جزاء پر دلالت کر رہا ہے یعنی تم اہل کتاب کی بات کی تصدیق کو اولیت دو گے بخلاف ان لوگوں کی بات کی تصدیق کے جو محمد ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں اس لئے کہ اہل کتاب اسلام دشمنی میں تمہارے ہمنواء اور شریک ہیں۔ قولہ : اَقْرَبُ مِن تصدیق المومنین اصل میں مِن تصدیقکم المومنینَ بمحمدٍ صلی اللہ علیہِ وسلَّمَ ہے جَسَدًا بمعنی اَجْسَادًا یہ اشارہ ہے کہ جَسَدًا مفرد بمعنی اجسادًا ہے یا اس سے پہلے مضاف محذوف ہے ای ذوی جسَدٍ جسدًا یا تو اس وجہ سے منصوب ہے کہ جَعَلنا کا مفعول ثانی ہے اگر جعل بمعنی صیر اور اگر جَعَلَ بمعنی خلق ہو تو جعلناھم کی ضمیر ھم سے حال واقع ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا۔ قولہ : لا یاکلون الطعام ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ جسدًا کی صفت ہے دراصل یہ جملہ مشرکین کے اس قول کا رد ہے کہ وہ کہتے تھے مال ھٰذا الرسول یا کل الطعام۔ قولہ : لَقَدْ اَنْزَلْنَا لقد میں لام قسمیہ ہے ای واللہِ لقَدْ ۔ تفسیر و تشریح اقترب للناس حسابھم سورة انبیاء بالاتفاق مکی ہے اس میں ایک سو گیارہ یا بارہ آیتیں ہیں چونکہ اس سورت میں متعدد انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات مذکور ہوئے ہیں، اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورة الانبیاء رکھا گیا ہے، سورة کہف سورة مریم سورة طٓہٰ اور سورة انبیاء نزول کے اعتبار سے ابتدائی سورتوں میں سے ہیں، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہ میری قدیم دولت اور کمائی ہیں جن کی میں ہمیشہ حفاظت کرتا ہوں۔ حساب کے وقت کے قریب ہونے سے قیامت کا دن مراد ہے جو ہر گھڑی قریب سے قریب تر ہو رہا ہے، اور ہر وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہی ہوتی ہے ” کل ما ھو آتٍ فھو قریب “ اور ہر انسان کی موت بجائے خود اس کے لئے قیامت ہے اس لئے کہ ہر انسان کا حساب قبر ہی سے شروع ہوجاتا ہے، علاوہ ازیں گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے بھی قیامت قریب ہے، اس لئے کہ گزشتہ زمانہ کے اعتبار سے آئندہ زمانہ کم ہی ہے حدیث شریف میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ گزشتہ زمانہ کی مقدار باقی زمانہ کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسا کہ صبح سے لیکر عصر کے وقت تک اور بقیہ زمانہ کی مقدار ایسی ہے جیسا کہ عصر سے غروب تک کا وقت، مقصد اس آیت سے غفلت شعار لوگوں کو متنبہ کرنا ہے جس میں مومن اور کافر سب داخل ہیں کہ دنیا کی خواہشات میں مشغول ہو کر اس حساب کے دن کو نہ بھلائیں کیوں کہ اس کو بھلا دینا ہی تمام خرابیوں اور برائیوں کی جڑ ہے۔ مَا یاتِیھِمْ مِن ذکرٍ الخ یہ آخرت اور عذاب قبر سے غفلت کرنے والوں کا مزید بیان ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کی کوئی نئی آیت نازل ہوتی ہے اور ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے تو وہ اس کا استہزاء کرتے ہیں اور ہنسی مذاق میں اذا دیتے ہیں، آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن کی آیات سننے کے وقت یہ اپنے کھیل اور شغل میں اسی طرح لگے رہتے ہیں کہ قرآن کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نہ اس میں تدبیر و غور و فکر کرتے ہیں۔ اَفَتاتون السِّحْرَ وانتم تُبصِرون یعنی یہ لوگ آپس میں سرگوشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ شخص جو خود کو نبی اور رسول کہتا ہے یہ تو ہم جیسا انسان ہے کوئی فرشتہ تو ہے نہیں کہ ہم اس کی بات مان لیں، مطلب یہ کہ ان کو نبی کا بشر ہونا قابل قبول نہیں تھا جیسا کہ خود کو مسلمان کہلانے والے بعض فرقے بھی محمد ﷺ کی بشریت سے انکار کرتے ہیں۔ قرآن چونکہ اپنی حلاوت و بلاغت کے اعلیٰ مقام پر ہے جس کی تاثیر کا کوئی کافر بھی انکار نہیں کرسکتا تھا اس لئے کہ مشرکین مکہ کے سرداروں نے یہ صورت نکالی کہ اس کو سحر اور جادو قرار دیں اور پھر لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لئے یہ کہیں کہ جب تم سمجھ گئے کہ یہ جادو ہے اور اس کلام کا سنانے والا جادو گر ہے تو پھر اس کے پاس جانا اور اس کا کلام سننا دانشمندی کے خلاف ہے، شاید مشرکین مکہ نے رازدارانہ طور پر یہ گفتگو اس لئے کہ ہو کہ اگر مسلمان سن لیں گے تو ان کی احمقانہ تلبیس کا پول کھول دیں گے۔ اضغاث، صِغْثٍ کی جمع ہے مختلف قسم کی گھاس کا مٹھا اسی مناسبت سے اضغاث ان خوابوں کو کہتے ہیں جن میں کچھ نفسانی اور شیطانی خیالات شامل ہوجاتے ہیں یعنی ان منکرین نے اول تو قرآن کو جادو کہا پھر پریشان خیالات کہنے لگے پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر کہنے لگے کہ یہ تو خدا پر افتراء اور بہتان ہے، پھر کہنے لگے یہ کوئی شاعر شخص ہے اس کے کلام میں شاعرانہ خیالات ہیں، خدا کی پیغمبر محمد ﷺ نے جواب دیا میرا پروردگار ہر اس بات کو جو زمین اور آسمان میں ہے بخوبی جانتا ہے اور تمام بندوں کی گفتگو سنتا ہے اور ہر ایک کے عمل کو دیکھتا ہے، لہٰذا تم جو جھوٹ بک رہے ہو اسے وہ سن رہا ہے اور میری سچائی کو اور جو دعوت تمہیں دے رہا ہوں اس کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ فلمیاتنا بآیۃٍ تو مشرکین کہنے لگے اگر یہ واقعی نبی ہے تو ہمارے طلب کئے ہوئے معجزے دکھلائیں اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں اس کا بھی تجربہ اور مشاہدہ ہوچکا ہے کہ جس طرح کا معجزہ انہوں نے طلب کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھوں پر وہی معجزہ سامنے آگیا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے اور منہ مانگے معجزت کو دیکھنے کے بعد بھی جو قوم ایمان سے گریز کرے اس کے لئے اللہ کا قانون یہ ہے کہ دنیا ہی میں عذاب نازل کرکے ختم کردی جاتی ہے اور چونکہ امت مرحومہ کو حق تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے اعزاز میں دنیا کے عام عذاب سے محفوظ کردیا ہے اس لئے ان کے مطلوبہ معجزات دکھلانا مصلحت نہیں اَفَھُمْ یومنون کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ منہ مانگے معجزات دیکھ کر بھی یہ ایمان لے آئیں گے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی اس لئے مطلوبہ معجزہ نہیں دکھایا جاتا۔ وما ارسلنا قبلک یعنی جتنے بھہ ہم نے نبی اور رسول بھیجے وہ سب مرد اور انسان تھے نہ کوئی غیر انسان کبھی نبی آیا اور نہ غیر مرد، گویا کہ نبوت انسانوں کے ساتھ اور انسانوں میں سے مردوں کے ساتھ خاص رہی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کوئی عورت نبی نہیں ہوئی اس لئے کہ نبوت بھی ان فرائض میں سے ہے کہ جو عورت کے طبعی اور فطری دائرہ عمل سے خارج ہے۔ فاسئلوا اھل الذکر میں اہل ذکر سے اس جگہ علماء تورات اور علماء انجیل مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو پچھلے انبیاء کا بشر اور مرد ہونا معلوم نہیں ہے تو علماء توریت و انجیل سے معلوم کرلو۔ کتاباً فیہ ذکرکم کتاب سے مراد قرآن ہے اور ذکر سے مراد شرف، فضیلت و شہرت ہے یہ قرآن چونکہ عربی زبان میں ہے لہٰذا تمہارے لئے بڑی عزت اور دائمی شہرت کی چیز ہے اس کی تمہیں قدر کرنا چاہیے۔
Ayahs 21:11–23

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو سمتگار تھیں ہلاک کرمارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش و آسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ، شاید تم سے اس بارے میں دریافت کیا جائے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہو و لعب کے لئے پیدا نہیں کیا

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن و فرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہی ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اسکا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری خرابی ہے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اسی کے مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کتراتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ انکو (مرنے کے بعد) اٹھا کھڑا کریں گے ؟

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو (زمین و آسمان) درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرسش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرسش ہوگی

آیت نمبر 11 تا 23 ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے رہے اور انہی کلمات کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو حَصِیْد کردیا درانتی سے کٹی ہوئی کھیتی کے مانند کردیا اس لئے کہ وہ سب تہہ تیغ کر دئیے گئے اور بجھی ہوئی آگ کے مانند مردہ کردیا جیسا کہ آگ بجھ جاتی ہے جب اس کو گل کردیا جائے اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے کھیلتے ہوئے نہیں بنایا یعنی بےفائدہ کام کرنے والے کے مانند نہیں بنایا بلکہ اس انداز پر بنایا کہ ہماری قدرت پر دلالت کریں اور ہمارے بندوں کے لئے نافع ہوں اور اگر ہم کو کھیل تماشہ کے طور پر بنانا مقصود ہوتا یعنی (کھلونا) جس سے تفریح طبع مقصود ہو مثلاً بیوی اور بچہ تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے یعنی (اس مقصد کے لئے) اپنے پاس سے حور و ملائکہ کا انتخاب کرلیتے، اگر ہم کو ایسا کرنا ہوتا لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا لہٰذا اس کا ارادہ بھی نہیں کیا بلکہ ہم حق ایمان کو باطل یعنی کفر پر پھینک مارتے ہیں تو وہ بھیجہ نکال دیتا ہے (یعنی) نیست و نابود کردیتا ہے تو وہ دفعۃً دم توڑ دیتا ہے زاھقٌ بمعنی ذاھبٌ ہے اور دَمَعَہٗ کے (معنی) اصل میں دماغ پر ضرب لگانے کے ہیں (یعنی سرکوبی کرنے کے) حال یہ ہے کہ وہ ضرب مہلک ہو اور تمہارے لئے اے کفار مکہ ہلاکت (یعنی) عذاب شدید ہے ان باتوں کی وجہ سے کہ جن کے ساتھ تم اللہ کو متصف کرتے ہو (یعنی) بیوی یا بچہ اور زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کی ملک ہے اور جو فرشتے اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے مَن عندہٗ مبتداء ہے اور لایستکبرون اس کی خبر ہے اور نہ وہ تھکتے ہیں (بلکہ) شب و روز اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور تسبیح سے (ذرا بھی) سستی نہیں کرتے پس وہ تسبیح ان کے لئے، ہمارے لئے سانس کے مانند ہے کہ ہم کو اس سانس سے کوئی عمل نہیں روکتا کیا ان لوگوں نے زمین کی مخلوق مثلاً پتھر، سونا اور چاندی سے معبود بنا رکھے ہیں کیا وہ یعنی معبودان باطلہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں ؟ نہیں اور معبود وہی ہوسکتا ہے جو مردوں کو زندہ مشاہد سے نکل جاتے (یعنی درہم برہم ہوجاتے) ان کے درمیان ٹکراؤ کی وجہ سے عادت کے مطابق تعدد حکام کے وقت کسی شئ میں ٹکراؤ اور عدم اتفاق کی وجہ سے (یعنی دنیوی حکام میں بھی عادت اور دستور یہی ہے کہ جب مساوی حیثیت کے چند حکام جمع ہوجاتے ہیں تو ان کے درمیان کسی نہ کسی بات میں ضرور اختلاف ہوتا ہے جو ٹکراؤ کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور چونکہ کوئی کسی سے کم نہیں ہوتا اس لئے وہ شئ درہم برہم ہوجاتی ہے) پس اللہ عرش کرسی کا رب خالق ہے ہر اس چیز سے پاک جو یہ کافر بیان کرتے ہیں، یعنی کفار، شرک وغیرہ جن صفات سے اس کو متصف کرتے ہیں (پاک ہے) اور وہ اپنے کاموں کے لئے جواب دہ نہیں اور وہ اپنے افعال کے بارے میں جواب دو ہیں۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد کَمْ خبر یہ ہے اور قَصَمْنَا کا مفعول مقدم ہے مِنْ قَرْیَۃ کَمْ خبر یہ کی تمیز ہے قَصَمْنَا (ض) ماضی جمع متکلم معروف قَصْمًا توڑنا، ریزہ ریزہ کردینا، توڑ پھوڑ کر رکھ دینا، ہلاک کرنا قریہ سے یمن کا ایک قریہ مراد ہے جس کا نام حضور ا تھا اللہ تعالیٰ نے اس قریہ والوں کی طرف حضرت موسیٰ بن میشا بن یوسف بن یعقوب کو نبی بنا کر مبعوث کیا تھا اور بعض حضرات نے امم سابقہ مثلاً قوم نوح و لوط و صالح وغیرہ بھی مراد لی ہیں مگر اول قول راجح ہے۔ کانت ظالمۃ یہ قریۃ کی صفت ہے قولہ : اَحَسُّوْا ای ادرکوْا بالحواسِ ۔ قولہ : اِذَاھُمْ یَرْکُضُوْنَ اِذَا مفاجاتیہ ہے ھُمْ مبتداء یرکضون اسکی خبر ہے الرکض ضرب الدابۃ بالرجل (ایڑھ لگانا) یہاں مراد ہے تیزی سے بھاگنا اِذَا، یرکضون کا ظرف ہے قولہ : استھزاء اس لفظ سے ایک سوال مقدر کا جواب دیا ہے، سوال یہ ہے کہ ملائکہ کذب وغیرہ سے معصوم ہیں تو پھر انہوں نے خلاف واقعہ بات کیوں کہی ؟ کہ تم اپنے سامان آسودگی اور مکانوں کی طرف لوٹ آؤ حالانکہ ملائکہ کو معلوم تھا کہ ان میں سے ایک بھی بچنے والا نہیں ہے۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ انہوں نے استہزاء کہا جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ہے ذُقْ اِنّکَ اَنْتَ العزیز الکریم۔ قولہ : مَسَاکنِکم اس کا عطف ما پر ہے تلک الکلمات سے مراد ان کا قول یا وَیْلَنَا اِنَّا کنَّا ظالمینَ ہے۔ قولہ : لاَعِبِیْنَ یہ خلقنا کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔ قولہ : دَعْواھم ای دُعائُھم وندائھم، مناجِلْ جمع مِنْجَل کھیت کاٹنے کا آلہ (درانتی) حصیدًا مصدر بمعنی محصودکٹی ہوئی کھیتی، مصدر چونکہ واحد تثنیہ جمع سب پر بولا جاتا ہے اس لئے حصیدًا کو جمع نہیں لایا گیا۔ قولہ : خامدین جعلناھم کی ضمیر ھم سے حال ہے حصیدًا خامدین دونوں کا مجموعہ بمنزلہ مفعول واحد کے ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ جعل متعدی بسہ مفعول نہیں ہوتا اور یہاں متعدی بسہ مفعول ہے خامدین خَمَدَتِ النار سے مشتق ہے جبکہ آگ کی لپٹیں بجھ جائیں اسی سے خَمَدَتِ الحُمّٰی مشتق ہے جبکہ بخار کی تیزی کم ہوجائے اور ھَمَدَتِ النَّار اس وقت بولتے ہیں جبکہ آگ بالکل بجھ کر راکھ ہوجائے۔ قولہ : لاعبینَ ، ما خلَقْنَا میں مقصود نفی لاعبین ہے اس لئے کہ نفی جب مقید پر داخل ہوتی ہے تو قید کی نفی ہوتی ہے لہٰذا ما خلقنا میں تخلیق کی نفی مقصود نہیں ہے بلکہ لاعبین کی نفی مقصود ہے۔ قولہ : لَوْ اَرَدْنَا اَنْ نتّخِذَ لھوًا، تخذناہٗ منْ لدُنّا کا جواب ہے، تالی کی نقیض کا استثناء مقدم کی نقیض کا نتیجہ دیتا ہے لہٰذا عبارت اس طرح ہوگی لَو تَعَلَّقَتْ اِرَادتُنَا باتخاذ اللھوِ لاتخذناہٗ مِنْ عنِدنا لکنّا لم نتخذہٗ فلمْ تتعلق بہٖ ارادتنا۔ قولہ : اِنْ کُنَّا فاعلین ان شرطیہ ہے اور جواب شرط محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے ان کنّا فاعلین اَرَدْناہ مفسر علام نے اپنے قول لکنا لم نفعلہ سے نقیض تالی کی طرف اشارہ کیا ہے، اور فَلَمْ نُرِدْہٗ کا اضافہ کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ ان شرطیہ ہے، اِنْ کنّا فاعِلِیْنَ میں ان نافیہ بھی ہوسکتا ہے، ای ما کنا فاعلین۔ قولہ : مِمّا تصِفُوْنَ مفسر علام نے بہٖ کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ مِمّا میں مَا موصولہ ہے اور تصِفُون جملہ ہو کر اس کا صلہ ہے اور عائد بہٖ محذوف ہے، ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی ولکم الویل من اجل وصفکم ایاہ بما لایلیق مِمّا تصفُوْنَ استقر کے متعلق ہے ای استقر لکم الویل من اجل ما تصفون اللہ بہ مما لایلیق بعزتہٖ ۔ قولہ : مَنْ عِندہٗ ای مکرمٌ عندہٗ ۔ قولہ : لایَسْتحسِرونَ (استفعال) جمع مذکر غائب منفی، وہ نہیں تھکتے۔ قولہ : لایَفْتَرُوْنَ (ن) جمع مذکر غائب منفی، سستی نہیں کرتے اِتَّخذُوْا آلِھَۃ کائنۃً مِن الارض مفسر علام نے کائنۃ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ من الارض کائنۃ کے متعلق ہو کر آلِھَۃً کی صفت ہے اور اتخذوا کا مفعول ثانی بھی ہوسکتا ہے اور من الارض اتخذوا فعل کے متعلق بھی ہوسکتا ہے۔ قولہ : لَوْ کَانَ فِیْھِما آلِھَۃً لفَسَدَتَا لَوْ حرف شرط ہے اور کان تامہ ہے شرط ہے آلھۃ اس کا فاعل ہے اور فیھما کان کے متعلق ہے اور الا بمعنی غیر، آلھۃ کی صفت ہے اس کا اعراب مابعد میں ظاہر ہوا ہے۔ قولہ : لَفَسَدَتا جواب شرط ہے۔ فعل شرط کو مقدم اور جواب شرط کو تالی کہتے ہیں تالی کی نقیض کا استثنا مقدم کی نقیض کا نتیجہ دیتا ہے مطلب یہ ہوا لکنھما لم تَفْسُدَا فَلَمْ یکُنْ فیھِمَا آلِھَۃ غیر اللہ۔ تفسیر وتشریح وکم قصمنا من قریۃٍ ان آیات میں جن بستیوں کی تباہی کا ذکر ہے، بعض مفسرین نے قوم ثمود وقوم عاد کی بستیاں مراد لی ہیں، اور بع نے یمن کی حضور اء اور قلابہ بستیوں کو اس کا مصداق قرار دیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ایک رسول بھیجا تھا جس کے نام میں روایات مختلف ہیں بعض نے موسیٰ بن میشا اور بعض نے شعیب بیان کیا ہے مگر یہ شعیب (علیہ السلام) مدین والے شعیب (علیہ السلام) نہیں ہیں ان کے علاوہ کوئی اور ہیں ان بستی والوں نے اللہ کے رسول کو قتل کردیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک کافر بادشاہ بخت نصر کو مسلط کردیا جس نے پوری قوم کو تہہ تیغ کردیا، قرائن سے دوسرا قول راجح معلوم ہوتا ہے، اس لئے کہ قوم نوح اور قوم ثمود و عاد وغیرہ کو صاعقہ اور صیحہ وغیرہ کے عذاب کے ذریعہ ہلاک کیا گیا تھا اور ان بستی والوں کو عذاب کے سلسلہ میں قصمنا کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں کاٹ کر رکھ دینا اور یہ تلوار کے ذریعہ ہوگا، لہٰذا اس سے بخت نصر کا عذاب مراد ہے جس نے ان بستی والوں کو گاجر مولی کی طف کاٹ کر رکھ دیا۔ جب بستی والوں نے عذاب کے آثار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور بخت نصر کی آمد کا علم ہوا تو بستی چھوڑ کر بھاگنے لگے تو فرشتوں نے بطور استہزاء کہا تھا بھاگو نہیں اپنے مکانات اور جہاں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور جہاں تم نے عیش کیا تھا، مزے اڑائے تھے یعنی جب عذاب الٰہی سامنے آگیا تو چاہا کہ وہاں سے نکل بھاگیں اور بھاگ کر جان بچالیں، اس وقت تکوینی طور پر زبان حال سے یا فرشتوں نے کہا بھاگتے کہاں ہو ٹھہرو اور ادھر ہی واپس چلو جہاں عیش کیا کرتے تھے اور جہاں بہت سامان تنعم جمع کر رکھے تھے شاید وہاں کوئی تم سے پوچھے کہ جناب وہ مال و دولت اور زور و قوت کا نشہ کیا ہوا ؟ اور وہ سامان عیش کہاں گیا ؟ یا یہ کہ آپ بڑے آدمی تھے جن کو ہر موقعہ پر پوچھ ہوتی تھی اب بھی وہیں چلئے بھاگنے کی ضرورت نہیں تاکہ لوگ اپنے مہمات میں آپ سے مشورہ کرسکیں اور آپ کی رائے دریافت کرسکیں۔ (یہ سب باتیں تہکماً کہی گئیں ہیں) جب عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تب اپنے جرموں کا اعتراف کیا اور برابر یہی چلاتے رہے کہ بیشک ہم ظالم اور مجرم ہیں وہ کلمہ جس کی وہ رٹ لگا رہے تھے یا وَیْلَنَا اِنَّا کنَّا ظالمین تھا لیکن ؎ اب پچتائے کا ہوّ ت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت یہ وقت قبولیت توبہ کا نہ تھا، اعتراف اور ندامت سب بیکار ثابت ہوئیں، آخر اس طرح ختم کر دئیے گئے جیسے کھیتی ایک دم کاٹ کر ڈھیر کردی جاتی ہے یا آگ میں جلتی ہوئی لکڑی بجھ کر رکھ رہ جاتی ہے۔ (العیاذ باللہ) (فوائد عثمانی) وما خلقنا السماء والارض الخ یعنی ہم نے زمین و آسمان اور عالم کون و مکان کو یوں ہی عبث و بےفائدہ صرف تفریح طبع کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ اس کی تخلیق میں بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں ہیں، اسی طرح جن بستیوں کو تباہ و برباد کیا گیا ان کا تباہ کرنا بھی عین حکمت تھا۔ اگر ہم کو تفریحی طبع ہی مقصود ہوتی تو اپنے پاس سے ہی کچھ چیزیں بنا لیتے اور اپنا شوق پورا کرلیتے اتنی لمبی چوڑی کائنات بنانے کی کیا ضرورت تھی ؟ بل نقذف بالحق علی الباطل الخ یعنی تخلیق کائنات کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ یہاں حق و باطل کی جو معرکہ آرائی اور خیر و شر کے درمیان جو تصادم ہے اس میں ہم حق اور خیر کو غالب اور باطل اور شر کو مغلوب کریں، چناچہ ہم حق کو باطل پردے مارتے ہیں جس سے باطل کا سرپاش پاش ہو کر بھیجہ نکل جاتا ہے اور چشم زدن میں باطل بےنام و نشان نیست و نابود ہوجاتا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ دنیا محض کھیل تماشہ نہیں بلکہ میدان کا رزار ہے جہاں حق و باطل کی جنگ ہوتی ہے حق حملہ آور ہو کر باطل کے سر کو کچل ڈالتا ہے اور رب کی جانب جو بےسروپا باتیں منسوب کرتے ہو مثلاً یہ کہ یہ کائنات ایک کھیل ہے اور ایک کھلنڈرے کا فضول شوق ہے وغیرہ وغیرہ، یہ سب باتیں تمہاری ہلاکت کا باعث ہیں، اس لئے کہ اسے کھیل تماشہ اور عبث سمجھنے کی وجہ سے تم حق سے گریز اور باطل کو اختیار کرنے میں کوئی تامل اور خوف محسوس نہیں کرتے جس کا نتیجہ بالآخر تمہاری ہلاکت اور بربادی ہے۔ فرشتے باوجود مقربین بارگاہ ہونے کے شیخی اور تکبر نہیں کرتے، اپنے پروردگار کی بندگی اور غلامی پر فخر کرتے ہیں، وظائف عبودیت ادا کرنے میں کبھی سستی یا کاہلی کو راہ نہیں دیتے، شب و روز اس کی تسبیح اور یاد میں لگے رہتے ہیں نہ تھکتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں بلکہ تسبیح و ذکر ہی ان کی غذا ہے جس طرح ہم ہر وقت سانس لیتے ہیں اور دوسرے کام بھی کرتے رہتے ہیں، یہی کیفیت ان کے ذکر و تسبیح کی ہے۔ عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے کعب احبار سے پوچھا کہ فرشتوں کو تسبیح کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں، اگر ہے تو پھر دوسرے کاموں کے ساتھ ہر وقت تسبیح کیسے جاری رہتی ہے ؟ کعب نے فرمایا اے میرے بھتیجے کیا تمہارا کوئی کام اور مشغلہ سانس لینے سے روکتا ہے اور کام کرنے میں مخل اور مانع ہوتا ہے ؟ فرشتوں کے لئے تسبیح ایسی ہے جیسا کہ انسانوں کے لئے سانس۔ سوال : جو کام زبان کے علاوہ دیگر اعضاء سے ہوتے ہیں ان میں اور تسبیح لسانی میں کوئی تمانع اور تضاد نہیں ہے، مگر زبان سے بیک وقت دو قسم کے کام کیسے ہوسکتے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا جاعل الملائکۃ رُسُلاً ظاہر ہے کہ کار رسالت کی انجام دہی میں زبان کو استعمال کی بھی ضرورت پڑتی ہے تو اس وقت وہ تسبیح کا عمل کیسے جاری رکھ سکتے ہیں، دوسری جگہ فرمایا گیا ہے اُوْلٰئکَ عَلَیْھِمْ لعنَۃُ اللہِ والملائکۃِ ظاہر ہے کہ ملعونین پر اللہ اور فرشتوں کی لعنت کا تقاضہ یہ ہے کہ لعنت کرتے وقت تسبیح کا کام موقوف رہے۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتوں کے اعضاء متعدد ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں حضرت جبرائیل امین کے چھ سو بازو بتائے ہیں، اسی طرح فرشتوں کی زبانیں بھی ایک سے زیادہ ہوسکتی ہیں، لہٰذا اب کوئی تضاد باقی نہیں رہا۔ ام اتخذوا آلھۃ الخ یعنی یہ مشرکین کس قدر جاہل اور احمق ہیں کہ معبود بھی بنایا تو ایسی چیزوں کو کہ جن کے اندر نہ زندہ کرنے کی قدرت ہے اور نہ مارنے کی، حالانکہ معبود کے لئے اس قدرت کا نام ضروری ہے، معبود وہی ہوسکتا ہے کہ مخلوق کی موت وحیات اس کے قبضہ وقدرت میں ہو۔ لو کان فیھما آلھۃً یہ توحید کی دلیل عادی ہے جو عام عادات کے اعتبار پر مبنی ہے اور تعد الہٰ کی ابطال پر نہایت پختہ اور واضح دلیل ہے، اس کو یوں سمجھنا چاہیے کہ عبادت کا مل تذلل کا نام ہے، اور کامل تذلل صرف اسی ذات کے سامنے اختیار کیا جاسکتا جو اہنی ذات وصفات میں ہر طرح کامل ہے۔ اس دلیل عادی کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر زمین اور آسمان میں دو خدا ہوں اور دونوں مالک و مختار ہوں تو ظاہر یہ ہے کہ دونوں کے احکام پورے پورے زمین و آسمان میں نافذ ہونے چاہیے اور عادۃً یہ ممکن نہیں کہ جو حکم ایک دے دوسرا بھی وہی حکم دے یا جس چیز کو ایک پسند کرے دوسرا بھی وہی پسند کرے اس لئے کبھی نہ کبھی اختلاف رائے اور اختلاف احکام ہونا ناگزیر ہے، اور جب دو خداؤں کے احکام زمین و آسمان میں مختلف ہوئے تو نتیجہ ان دونوں کا فساد کے سوا کیا ہوگا ؟ مثلاً ایک خدا چاہے کہ اس وقت دن ہو اور دوسرا چاہے کہ رات ہو ایک چاہے کہ بارش ہو اور دوسرا کہ نہ ہو تو دونوں کے متضاد احکام کس طرح جاری ہوں گے، اور اگر ایک مغلوب ہوگیا تو وہ مالک و مختار نہ رہا خدا نہیں ہوسکتا، اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ دونوں مشورہ کر کے احکام جاری کیا کریں تو اس میں کیا بعد ہے ؟ اس کے جواب کے سلسہ میں یہاں صرف اتنا سمجھنا کافی ہے کہ اگر دونوں مشورہ کے پابند ہوئے کہ ایک دوسرے کے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہ کرسکے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ان میں سے ایک بھی مالک و مختار نہ ہو لہٰذا دونوں ناقص ہیں اور ناقص خدا نہیں ہوسکتا، غالباً اگلی آیت لا یُسْئَلُون عما یفعل وھم یُسْئَلُون میں اسی طرف اشارہ پایا جاتا ہے، جو کسی قانون کا پابند ہو اور جس کے اعمال و افعال پر کسی کو مواخذہ کرنے کا اختیار ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا، اگر دو خدا ہوں اور دونوں مشورہ کے پابند ہوں تو ہر ایک دوسرے سے سوال کرنے اور ترک مشورہ پر مواخذہ کرنے کا حق ہے جو خود منصب خدائی کے منافی ہے۔
Ayahs 21:24–29

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر معبود بنا لیے ہیں ؟ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں انکی کتابیں بھی ہیں بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان میں اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے منہ پھیر لیتے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے وہ پاک ہے (اسکے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے اور بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور جو پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اسکے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہوا اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے (اور) ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

آیت نمبر 24 تا 29 ترجمہ : کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ اس میں استفہام توبیخی ہے ان سے کہہ دو کہ لاؤ اس بات (یعنی اتخاذ اِلٰہ پر) اپنی دلیل پیش کرو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے (نہ عقلی نہ نقلی) یہ میرے ساتھیوں کی کتاب موجود ہے یعنی میری امت کی اور وہ قرآن ہے اور مجھ سے پہلی امتوں کی (کتابیں) موجود ہیں اور وہ تورات و انجیل وغیرہما ہیں اللہ کی کتابوں میں سے، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دیگر معبود ہیں جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، اللہ تو اس سے وراء الوراء ہے بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے یعنی اللہ کی توحید کو اسی وجہ سے حق تک پہنچانے والی دلیل سے اعراض کر رہے ہیں آپ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف بھی یہی وحی بھیجی گئی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا میری بندگی کرو یعنی میری توحید کا اقرار کرو، ایک قرأت میں یوحٰی کے بجائے نُوْحِیْ ہے نون کے ساتھ اور حاء کے کسرہ کے ساتھ یہ مشرک کہتے ہیں کہ رحمٰن نے فرشتوں میں سے اولاد بنا رکھی ہے اس کی ذات پاک ہے بلکہ وہ تو اس کے باعزت بندے ہیں اور عبودیت ولادت کے منافی ہے وہ اس سے بڑھ کر بات نہیں کرتے یعنی وہ ازخود کوئی بات نہیں کرتے مگر اجازت کے بعد اور وہ اس کے حکم کے بعد اس کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں وہ ان کے اگلے پچھلے تمام امور سے واقف ہے یعنی جو کرچکے ہیں اور جو آئندہ کریں گے اور وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے کہ جس کے لئے اللہ راضی ہو کہ اس کی سفارش کی جائے اور وہ خدا تعالیٰ کی ہیبت سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں یعنی خائف رہتے ہیں اگر ان میں سے کوئی بھی کہے کہ میں خدا کے سوا معبود ہوں وہ ابلیس ہے جس نے اپنی بندگی کی دعوت دی اور اپنی طاعت کا حکم دیا تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے ہم ایسی ہی جیسی کہ اس کو سزا دیں گے ظالموں یعنی مشرکوں کو بھی سزا دیں گے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد ام اتخذوا من دونہ ام استفہام توبیخی بمعنی بل ہے اور ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف انتقال کے لئے ہے، یعنی تعدد الٰہ کے بطلان کو ثابت کرنے کے بعد اتخاذ الٰہ متعدہ کے بطلان کو ظاہر فرما رہے ہیں۔ قولہ : ھٰذا ذِکْرُ من مَعِی وَذِکرُ مَنْ قَبْلِی ھٰذا اسم اشارہ مبتداء ہے مشار الیہ کتب سماویہ ہیں، ھٰذا مبتدا کی دو خبریں ہیں، خبر اول سے قرآن مراد ہے اور خبر ثانی سے قرآن کے علاوہ کتب سماویہ مراد ہیں، جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کیا ہے۔ قولہ : وَمَا اَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ یہ ماقبل کے مضمون کی تاکید ہے۔ قولہ : قالوا کی ضمیر فاعلی عرب کے بعض فرقوں کی طرف راجع ہے جو کہ ملائکہ کے بارے میں خدا کی بیٹیاں ہونے کے قائل تھے، ان میں مشہوریہ ہیں (1) خزاعہ (2) جہینۃ (3) بنو سلمہ (4) بنو ملیح۔ قولہ : یَعلم ما بین ایدِیْھم الخ یہ جملہ مستانفہ ہے ماقبل کی علت اور مابعد کی تمہید ہے۔ قولہ : ومَنْ یقل منھم، ملائکہ کا یہ قول بالفرض والتقدیر ہے ورنہ فرشتوں میں معصیت کی صلاحیت نہیں ہے، اور اگر یقل کا فاعل ابلیس کو قرار دیا جائے تو یہ خرابی لازم آئے گی کہ وہ درحقیقت ملائکہ میں سے نہیں ہے اور دوسری خرابی یہ لازم آئے گی کہ ابلیس نے کبھی الوہیۃ کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ وہ تو اعبد الملائکہ تھا البتہ رحمت خداوندی سے مایوس ہوگیا ہے وَاَمَرَ بطاعتھا کا مطلب یہ ہے کہ اس نے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ وہ اس کی بات مانیں اور توحید کو چھوڑ کر بت پرستی اختیار کریں، یہی اس کا اپنی بندگی اور اطاعت کی طرف بلانا ہے۔ قولہ : فذلک نجزیہ ذٰلک مبتدا ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے اور نَجْزیْہِ اس کی خبر ہے اور پورا جملہ جواب شرط ہونے کی وجہ سے محلاً مجزام ہے۔ تفسیر و تشریح ام اتخذوا من دونہ الخ ذکر من معی سے قرآن اور دوسرے ذکر سے سابقہ کتب سماویہ مراد ہیں، مطلب ہے کہ قرآن میں اور اس سے قبل کی دیگر کتابوں میں صرف ایک ہی معبود کی الوہیت و ربوبیت کا ذکر ملتا ہے لیکن یہ مشرکین حق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور بدستور توحید سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ خدا کے واحد اور معبود برحق ہونے کی میرے پاس عقلی اور نقلی اور واقعاتی دلیلیں موجود ہیں عقلی دلیل کی طرف لوکان فیھما آلِھَۃً لَفَسَدَتَا سے اشارہ کردیا اور نقلی دلیل کی طرف ھٰذا ذکر مَنْ معیَ الخ سے اشارہ کردیا، اور واقعاتی دلیل کی طرف ومَا اَرْسَلْنا من قبلک مِن رَّسولٍ اِلاَّ نوحی الیہ اَنْہ لا الٰہ اِلاَّ اَنا فاعبُدْن سے اشارہ کردیا یعنی واقعہ یہ ہے کہ آپ سے پہلے جتنے بھی ہم نے رسول بھیجے ہیں ان سب کا بھی یہی پیغام تھا کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں ہی بندگی کے لائق ہوں اور تمہارے پاس اگر کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو تو اس کو پیش کرو قُل ھَاتُوْا بُرھانَکم۔ لایسبقونہ بالقول الخ اس آیت سے مشرکین کے الملائکۃ بناتُ اللہِ کے دعوے کی تردید ہے، یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ کی اولاد تو کیا ہوتے وہ تو ایسے خائف اور مؤدب رہتے ہیں کہ نہ قول میں اللہ سے سبقت کرتے ہیں نہ عمل میں کبھی اس کا خلاف کرتے ہیں، قول میں سبقت نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک حق تعالیٰ ہی کی طرف سے اشارہ نہ ہو خود کوئی کلام نہیں کرتے، اس آیت میں چھوٹوں کے لئے بڑوں کے ادب کی تعلیم کی طرف بھی اشارہ ہے۔ ومن یقل منھم اگر مَنْ سے مراد ملائکہ کافرو مراد ہے تو علی سبیل الفرض ہوگا اس کا وقوع ضروری نہیں، مطلب یہ ہے کہ بالفرض اگر فرشتہ ایسی بات کہتے تو ہم اس کو بھی جہنم کی سزا دیں گے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ ابلیس مراد ہو اس لئے کہ وہ بھی فرشتوں میں شامل تھا مگر اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ ابلیس نے کبھی بھی الوہیت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ کبھی اپنی بندگی کی دعوت دی تو پھر مفسر علام کا یہ فرمانا کہ ابلیس نے اپنی عبادت کی طرف لوگوں کو بلایا تو اس کا جواب یہ ہے اپنی بندگی کی دعوت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اپنی اتباع اور بات ماننے کی دعوت دی تھی اسی کو شیطان کی عبادت سے تعبیر کردیا گیا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب سے کہا تھا یَا اَبَتِ لاتَعبد الشیطان حالانکہ آزر شیطان کی بندگی نہیں کرتا تھا بلکہ شیطان کے کہنے اور بہکانے سے بتوں کی بندگی کرتا تھا، بےچوں و چرا شیطان کی بات ماننے کو ہی شیطان کی بندگی کہا گیا ہے۔