Ayahs 21:30–41آیت نمبر 30 تا 41
ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ بنائے تاکہ وہ مخلوق کو لیکر (اضطرابی) حرکت نہ کرے اور ہم نے ان میں یعنی پہاڑوں میں کشادہ راستے بنا دئیے سُبُلاً ، فجاجًا سے بدل ہے یعنی آرپار کشادہ راستے تاکہ لوگ سفر کے دوران اپنی منزل مقصود تک رسائی حاصل کرسکیں اور ہم نے آسمان کو زمین کے لئے گرنے سے محفوظ چھت بنادیا جیسا کہ گھر کی چھت ہوتی ہے اور یہ لوگ (آسمان میں موجود) شمس و قمر کی نشانیوں سے اعراض کئے ہوئے ہیں یعنی آسمان کی نشانیوں میں غور فکر نہیں کرتے تاکہ ان کو اس بات کی علم ہوجائے کہ اس کا خالق وہ ہے کہ جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ وہ ذات ہے کہ اس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے کّلٌّ کی تنوین مضاف الیہ یعنی شمس و قمر کے عوض میں ہے اور مضاف الیہ کے تابع کے عوض میں ہے اور وہ نجوم ہیں ان میں سے یر ایک فلک میں یعنی چکی کے مانند اپنے آسمانی مدار میں تیر رہا ہے۔ یعنی تیزی سے چل رہا ہے جیسا کہ تیرنے والا پانی میں تیزی سے چلتا ہے اور تیرنے والے کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ سے یَسْبَحُوْنَ واو نون کے ساتھ جمع لائے ہیں جو کہ ذُوِالعقول کے لئے ہے اور جب کافروں نے یہ کہا کہ محمد عنقریب مرجائیں گے تو وَمَا جَعَلْنَا لبشرٍ مِن قبلِکَ الخُلد نازل ہوئی یعنی ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کو دوام یعنی دنیا میں دائمی بقا عطا نہیں کی، پس اگر آپ کا انتقال ہوجائے تو کیا یہ لوگ دنیا میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے ؟ نہیں، جملہ اخیرہ (یعنی فَاِن متّ ) ہمزہ استفہام انکاری کے محل میں ہے ہر جاندار کو دنیا میں موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تم کو پرکھنے کے لئے بری اور اچھی حالت مثلاً فقر اور غنا اور مرض اور صحت سے آزمائیں گے فتنۃً مفعول لہ ہے یعنی تاکہ ہم دیکھیں کہ تم صبر و شکر کرتے ہو یا نہیں، اور تم ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے تو ہم تم کو بدلہ دیں گے اور یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں یعنی آپ کا مذاق بناتے ہیں، اور آپس میں کہتے ہیں کہ کیا یہی صاحب ہیں وہ جو تمہارے معبودوں کا ذکر برائی سے کیا کرتے ہیں ؟ اور یہ لوگ رحمان کے ذکر کے منکر ہیں جبکہ ان لوگوں نے کہا ہم رحمٰن کو نہیں جانتے اور ان کے عذاب کو جلدی طلب کرنے کے بارے میں آیت خُلِقَ الانسان مِنْ عجلٍ نازل ہوئی یعنی انسان اپنے احوال کے بارے میں عجلت پسندی کی وجہ سے گویا کہ انسان عجلت (کے مادہ) سے بنا ہوا ہے، ہم عنقریب آپ کو اپنی نشانیاں یعنی میری عذاب کے وعدے دکھائے دیتے ہیں لہٰذا اس بارے میں مجھ سے جلدی مت کرو چناچہ ان کو بدر میں قتل کا عذاب دکھا دیا اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ وہ قیامت کا وعدہ کب آئے گا، اگر تم عذاب کے وعدے میں سچے ہو، کاش کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی کہ جب یہ کافر آگ کو نہ اپنے آگے سے روک سکیں دفع کرسکیں گے اور نہ پیچھے سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی یعنی وہ قیامت کے دن عذاب سے نہیں بچائے جائیں گے اور لَوْ کا جواب ما قالوا ذٰلک ہے بلکہ قیامت ان کو ایک دم آلے گی سو ان کو بدحواس متحیر کر دے گی پھر نہ ان کو اس کے بٹانے کی قدرت ہوگی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی یعنی توبہ یا عذر خواہی کی مہلت نہ دی جائے گی آپ سے پہلے جو پیغمبر گزر چکے ہیں ان کے ساتھ بھی تمسخر کیا گیا اس میں آپ ﷺ کے لئے تسلی ہے، سو ہنسی کرنے والوں کو ہی اس چیز نے گھیر لیا (نازل ہوگئی) جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے اور وہ عذاب ہے لہٰذا اسی طریقہ سے (عذاب) ان لوگوں کو بھی آگھیرے گا جو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : اَوَلَمْ یَرَ ہمزہ فعل محذوف پر داخل ہے اور واو عاطفہ کے ذریعہ یَرَ کا محذوف پر عطف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اَوَلَمْ یَتَفَکَرُوْا وَلَمْ یَعْلَمُوْا اَنَّ السَّمٰوٰت والَارْضِ کانَتَا رَتَقًا کانتا تثنیہ کا صیغہ ہے حالانکہ اس کی ضمیر سمٰوٰت والارض کی طرف راجع ہے جو کہ جمع ہیں لہٰذا مرجع اور ضمیر میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب : دونوع یا دو جنس مراد ہیں، اس لئے آسمان ایک نوع ہے اور زمین دوسری نوع ہے اور رویتہ سے رویت قلبی مراد ہے، واو کے ساتھ اور ترک واو کے ساتھ دونوں قرأتیں ہیں، قولہ : رَتْقًا کانتَا کی خبر ہے مصدر ہونے کی وجہ سے مفرد استعمال ہوئی ہے، مبالغۃ حمل بھی درست ہے اور مضاف محذوف مان کر بھی حمل درست ہے ای ذوی رَتْقٍ ای کانتا شیئاً واحدًا مفسر علام نے بمعنی مسدودۃً مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے رَتْقًا (ن) مصدر ہے منہ بند، ملا ہوا، جڑا ہوا، یہاں مصدر اسم مفعول یا اسم فاعل کے معنی میں ہے فَتْقًا (ن، ض) پھاڑنا، گھولنا، الگ کرنا۔ قولہ : وَجَعَلْنَا مِنَ المَاءِ کُلَّ شَئٍ حَئٍ اگر جَعَلَ بمعنی صَیَّرَ ہو تو متعدی بدو مفعول ہوگا، اور جار مجرور اپنے متعلق محذوف ناشِیًا یا متسببًا سے متعلق ہو کر مفعول ثانی مقدم ہوگا اور کُلَّ شَئٍ مفعول اول مؤخر ہوگا تقدیر عبارت یہ ہوگی وجَعَلْنَا نَاشِیًا من الماءِ کُلّ شئٍ حَیّ اور اگر جعل بمعنی خَلَقَ ہو تو متعدی بیک مفعول ہوگا اور وہ کل شئٍ ہے اور من الماء جار مجرور سے مل کر جعلنا کے متعلق ہے۔
قولہ : رَوَاسِیَ رواسِیَ جمع راسیَۃٍ اور اسی بمعنی راسخ وثابت اور مختار میں ہے کہ جبال ثابت کو بھی راسیۃ کہتے ہیں، رَسَا الشّئَ سے ماخوذ ہے جبکہ شئ ثابت اور مستقر ہوجائے، مفسر علام نے، لاَ ، مقدر مانا ہے تاکہ ان تمید بِھَا کا علت بننا صحیح ہوجائے، اس لئے پہاڑوں کا قیام عدم تحرک کے لئے فِجَاجًا دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستہ فجاج کا واحد فَجَّ ہے جیسے سھام کا واحد سَھْمٌ ہے۔ قولہ : وللتشبیہ بہ اَتٰی بضمیر جمعٍ مَنْ یَعْقِل اس پوری عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے یَسْبَحُون کا فاعل شمس و قمر اور نجوم ہیں جو کہ غیر ذوالعقول ہیں ان کے لئے جمع مؤنث غائب کا صیغہ ہونا چاہیے نہ کہ جمع مذکر غائب کا اور واؤ نون کے ساتھ جمع تو ذوالعقول کی لائی جاتی ہے نہ کہ غیر ذوالعقول کی۔
جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ شمس و قمر کی طرف یَسْبَحُوْنَ کی نسبت کی گئی ہے اور سَبْحٌ یعنی تیرنا ذوالعقول کا فعل ہے تو اس مناسبت سے یَسْبَحُون کو واؤ نون کے ساتھ لایا گیا ہے، عدم الخلد کو بشر کے ساتھ خاص کیا حالانکہ دیگر ذی روح بلکہ کائنات کی کسی شئ کے لئے خلود فی الدنیا نہیں ہے، جواب یہ ہے کہ ان کا سوال بھی آپ ﷺ کے لئے موت کی توقع بشر ہونے کی حیثیت ہی سے تھی۔ قولہ : فالجملۃ الاخیرۃ محل الاستفھام الانکاری اس عبارت کا مقصد بھی ایک شبہ کا ازالہ ہے، شبہ یہ ہے کہ ہمزہ استفہام انکاری فاِن مُتَّ پر داخل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی موت کا بھی انکار ہے اور ان کے خلود کا بھی، حالانکہ مقصد ان کے خلود کا انکار ہے، جواب کا ماحصل یہ ہے کہ ہمزہ دراصل جملہ اخیرہ ہی پر داخل ہے مگر چونکہ ہمزہ صدارت کلام کو چاہتا ہے اس لئے اس کو جملہ کے شروع میں لایا گیا ہے ورنہ اصل تقدیر عبارت یہ ہے اَفَھم الخٰلِدُوْنَ اِن مُتَّ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ المَوتِ نفس سے مراد نفس ناطقہ ہے اور موت سے مراد قوت حیوانیہ کا زوال اور روح کا جسد سے انفصال ہے اور ذائقہ سے مراد یہاں ادراک بالقوۃ الذائقۃ نہیں ہے اس لئے کہ موت مطعومات کے قبیل نہیں ہے بلکہ مطلقًا ادراک مراد ہے، اور ادراک سے بھی موت کے مبادیات موت مثلاً آلام وغیرہ کا ادراک مراد ہے اس لئے کہ موت کا ادراک دخول فی الجسد سے پہلے ممکن نہیں ہے اور دخول کے بعد انسان مردہ ہوجاتا ہے اس وقت ادراک ممکن نہیں رہتا۔
قولہ : فِتنَۃً اس کے منصوب ہونے کی تین وجہ ہوسکتی ہیں (1) نَبْلُوَکم کا مفعول لہ ہونے کی وجہ سے (2) مصدر موضع حال میں واقع ہونے کی وجہ سے ای نَبْلُوَکم قانتینَ (3) نبلوکم کا مفعول مطلق بغیر لفظہٖ ہونے کی وجہ، اس لئے کہ نَبْلُو اور فتنَۃٌ دونوں متحد المعنی ہیں وَاِذَا رَآکَ الَّذِیْنَ کفرُوْا اس جملہ کا عطف ماسبق میں وَاَسَرُّوْا النَّجْوٰی پر ہے، اور شرط ہے أھٰذَا الَّذِیْ یذکر آلھَتَکم اس کی جزاء ہے جزاء سے پہلے یقولون مقدر ہے اور ان یتخذونک اِلاَّ ھُزُوًا شرط وجزاء کے درمیان جملہ معترضہ ہے اور ھُزُوًّا مصدر مفعول کے معنی میں ہے وھُمْ بِذِکرِ الرحمٰن ھُمْ کافِرُوْنَ اول، ھم مبتدا ہے ثانی ھم اس کی تاکید ہے کافرون اس کی خبر ہے اور بذکر الرحمٰن، کافرون سے متعلق ہے تقدیر عبارت یہ ہے ھم کافرون بذکر الرحمٰن اور وھم بذکر الرحمٰن الخ جملہ حالیہ ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے، مفسر علیہ الرحمۃ نے لھُمْ کا اضافہ کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا ذکر مصدر کی اضافت رحمٰن کی جانب یہ اضافت مصدر الی الفاعل ہے، اور بعض حضرات نے اضافت مصدر الی المفعول بھی کہا ہے اس وقت تقدیر عبارت و ذکرھم الرحمٰن بالتوحیدِ ہوگی (جمل) قولہ : خُلِقَ مِنْ عجلٍ ایسا ہی ہے جیسا کہ کہا جائے خُلِقَ مِنْ طِیْنٍ ہر انسان چونکہ فطرۃً ہر معاملہ میں جلد باز واقع ہوا ہے گویا کہ اس کی پیدائش عجلت کے خمیر سے ہے اسی لئے بطور مبالغہ خُلِقَ من عَجَل کہا گیا ہے۔ قولہ : لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ کفَرُوْا حِیْنَ لایَکُفُّوْنَ الآیۃ لو شرطیہ ہے اور جواب محذوف ہے جیسا کہ مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے ای لَوْ یعلم ما قالوا ذٰلک (ای متی ھٰذا الوعد) اور قولہ : حِینَ یعلم کا مفعول بہ ہے نہ ظرف، ترجمہ یہ ہوگا اگر یہ کافر اس وقت کو جان لیں کہ جب یہ عذاب دفع نہ کرسکیں گے۔ قولہ : ماکانوا بہ حَاقَ کا فاعل ہے اور ھو العذاب میں ھو کا مرجع ما ہے۔
تفسیر و تشریح
اولم یر الذین کفروا اس جگہ رویت سے مطلقاً علم مراد ہے خواہ وہ آنکھوں سے حاصل ہو یا استدلال اور عقل سے، اس لئے کہ آئندہ جو مضمون آرہا ہے اسمیں سے کچھ کا تعلق مشاہدہ سے ہے اور کچھ کا علم استدلالی سے، اس آیت میں رتق اور فتقَ کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، رتق کے معنی بند ہونے اور فتق کے معنی کھول دینے کے ہیں ان کے مجموعہ کو رتق و فتق کہتے ہیں، اس کا ایک مفہوم کسی کام کے انتظام اور اس کے پورے اختیار کے ہیں، رتق و فتق یعنی حل و عقد کا مختار ہونا، آیت کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے آسمان اور زمین بند تھے ہم نے ان کو کھول دیا، کھولنے اور بند ہونے سے کیا مراد ہے ؟ اس کی مراد میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں جمہور صحابہ اور جموہر مفسرین نے آسمان کے بند ہونے سے بارش کا نہ ہونا اور زمین کے بند ہونے سے پیداوار کا بند ہونا مراد لیا ہے اور کھولنے سے ان دونوں کا جاری ہونا مراد لیا ہے۔ بعض مفسرین نے رتق اور فتق کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ ابتداء میں زمین و آسمان ایک تھے دونوں باہم ملے ہوئے تھے ہم نے دونوں کو الگ کردیا، علامہ شبیر احمد عثمانی نے مذکورہ دونوں تفسیروں کو بڑی خوبی سے جمع کردیا ہے، فرماتے ہیں کہ رتق کے اصل معنی ملنے اور ایک دوسرے میں گھسنے کے ہیں ابتداءً زمین و آسمان دونوں ظلمت عدم میں ایک دوسرے سے غیر متمیز پڑے تھے پھر وجود کے ابتدائی مراحل میں دونوں خلط ملط رہے، بعدہٗ قدرت کے ہاتھ نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا اس تمیز کے بعد ہر ایک کے طبقات الگ الگ بنے اس پر بھی منہ بند تھے، نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی اور نہ زمین سے روئیدگی آخر خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے دونوں کے منہ کھول دئیے اوپر سے پانی کا دہانہ کھلا، نیچے سے زمین کے مسام کھل گئے اسی زمین سے حق تعالیٰ نے نہریں اور کانیں اور طرح طرح کے سبزے نکالے آسمان کو بیشمار ستاروں سے آراستہ کیا جن میں سے ہر ایک کا مدار اور چال جدا جدا ہیں، وَجَعَلنَا منَ الماءِ کل شئ حیّ اس جملہ سے پہلی تفسیر کا راجح ہونا معلوم ہوتا ہے، بحر محیط میں اسی کو اختیار کیا ہے، ہر جاندار کی تخلیق میں پانی کا دخل ضرور ہے، اور جاندار اور ذی روح اہل تحقیق کے نزدیک صرف حیوانات ہی نہیں ہیں بلکہ نباتات بلکہ جمادات میں بھی روح محققین کے نزدیک ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ پانی کو ان سب چیزوں کی تخلیق و ارتقاء میں بڑا دخل ہے۔
زمین کو جب ابتداءً پیدا کیا گیا تو اس میں اضطرابی حرکت تھی قرآن میں اس کے لئے تمید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، مَیْدٌ عربی میں اضطرابی حرکت کو کہتے ہیں، آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑوں کا بوجھ اس کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ڈال دیا ہے تاکہ اس کی لرزش اور اضطرابی حرکت موقوف ہوجائے اور حیوانوں کے لئے رہنے اور بسنے کے قابل ہوجائے۔ (مزید تفصیل کے لئے تفسیر کبیر کی طرف رجوع کریں)
کُلٌّ فی فَلَکٍ یَّسْبَحونَ فلک دراصل ہر دائرے اور گول چیز کو کہا جاتا ہے اسی وجہ سے چرغ میں جو گول چمڑا لگا رہتا ہے اس کو فلکۃ المِغزل کہتے ہیں (روح) اسی مناسبت سے آسمان کو فلک کہتے ہیں، یہاں شمس و قمر کے مدار مراد ہیں جن پر وہ حرکت کرتے ہیں، الفاظ قرآن میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ مدار آسمان کے اندر ہیں یا باہر فضاء میں، حالیہ تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ یہ مدار خلا میں آسمان سے بہت نیچے ہیں، تمام سیارے اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔
وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد سابقہ آیات میں کفار و مشرکین کے باطل دعو وں اور مشرکانہ عقیدوں کی جن میں حضرت مسیح و عزیز وغیرہ کو خدا کا شریک یا فرشتوں اور مسیح کو خدا کی اولاد کہا گیا ان گمراہ کن عقائد کی تردید واضح دلائل کے ساتھ آئی ہے جس کا مخالفین کے پاس کوئی جواب نہ تھا ایسے موقعہ پر جب مخالف حجت اور دلیل سے مغلوب ہوجاتا ہے تو جھنجلاہٹ میں بےتکی اور بےجوڑ باتیں کرنے لگتا ہے، اسی کا نتیجہ تھا کہ مشرکین مکہ اس کی تمنا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی جلد وفات ہوجائے جیسا کہ بعض روایات میں ہے، قرآن عزیز نے بھی ان کے اس مقولہ کو ذکر کیا ہے جس میں انہوں نے آپ کی موت کی تمنا اور خواہش کا اظہار کیا ہے، مذکورہ آیت میں حق تعالیٰ نے ان کی اس بیہودی تمنا اور آرزو کے دو جواب دئے ہیں وہ یہ کہ اگر ہمارے رسول ﷺ کی جلد ہی وفات ہوگئی تو تمہیں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ اگر تمہارا مقصد یہ ہے کہ جب ان کی موت ہوجائے گی تو ہم لوگوں کو بتلائیں گے کہ یہ نبی اور رسول نہیں تھے ورنہ تو موت نہ آتی تو اس کا یہ جواب دیا کہ جن انبیاء کی نبوت کو تم بھی مانتے ہو کیا ان کو موت نہیں آئی ؟ جب ان کی موت سے ان کی نبوت اور رسالت میں کوئی فرق نہیں آیا تو آپ ﷺ کی موت سے آپ کی نبوت کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ اور اگر تمہارا مقصد آپ ﷺ کی وفات سے اپنا غصہ ٹھنڈا کرنا ہے تو یاد رکھو کہ موت کا یہ مرحلہ تمہیں بھی درپیش ہے آخر تمہیں بھی مرنا ہے پھر کسی کی موت سے خوش ہونے کے لیا معنی ؟ ؎
گر بمرد جائے شادمانی نیست
زندگانی ما نیز جاودانی نیست (سعدی)
کل نفس ذائقۃ الموت یعنی ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، یہاں ہر نفس سے نفوس ارضیہ مراد ہیں یعنی زمینی جانداروں کو موت آنا لازمی ہے، نفوس ملائکہ اس میں داخل نہیں ہیں، قیامت کے دن فرشتوں کو بھی موت آئے گی یا نہیں اس میں اختلاف ہے، بعض حضرات نے فرمایا کہ ایک لحظہ کے لئے تو سب پر موت طاری ہوجائے گی خواہ انسان اور نفوس ارضیہ ہوں یا فرشتے اور نفوس سماویہ، بعض مفسرین نے کہا ہے فرشتے اور جنت کے حوروغلمان مستثنیٰ ہیں۔ (روح المعانی)
ذائقۃ الموت سے اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ ہر نفس موت کی خاص تکلیف محسوس کرے گا کیونکہ مزہ چکھنے کا محاورہ ایسے ہی موقعہ پر استعمال ہوتا ہے۔
ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃً یعنی خیر و شر کے ذریعہ ہم انسان کی آزمائش کرتے ہیں، شر سے مراد ہر خلاف طبع چیز ہے، جیسے بیماری رنج و غم اور فقر و فاقہ اور خیر سے اس کے بالمقابل ہر مرغوب طبع چیز ہے جیسے صحت و عافیت خوشی و راحت مذکورہ دونوں قسم کی چیزیں اس دنیا میں آزمائش کیلئے دی جاتی ہے یعنی اس بات کی آزمائش کرنا ہوتا ہے کہ خلاف طبع امور پر صبر کرکے اس کا حق ادا کرتا ہے یا نہیں اسی طرح مرغوب خاطر چیزوں پر شکر کرکے اس کا حق ادا کرتا ہے یا نہیں۔
خلق الانسان من عجل الخ یہ کفار کے مطالبہ عذاب کے جواب میں ہے، مطلب یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں جس طرح کچھ کمزوریاں ہیں ان میں سے ایک کمزوری عجلت کی بھی ہے اور جو چیز طبیعت اور جبلت میں داخل ہوتی ہے عرب اس کو اسی عنوان سے تعبیر کرتے ہیں یعنی یہ شخص اس چیز سے پیدا کیا گیا ہے جیسے اگر کسی کے مزاج میں غصہ غالب ہو تو کہا جائے گا کہ یہ غصہ کا بنا ہوا آدمی ہے، چناچہ کفار کی جلد بازی کا نتیجہ غزوۂ بدر وغیرہ میں کفار کو کھلی آنکھوں دکھا دیا۔
Ayahs 21:42–50آیت نمبر 42 تا 50
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان تمسخر کرنے والوں سے کہئے رحمان کے عذاب سے رات اور دن کون ہے جو تمہاری نگرانی حفاظت کرتا ہے اگر تم پر عذاب نازل ہونے لگے (اللہ کے سوا) ایسا کوئی نہیں کرتا، اور یہ مخاطبین عذاب الٰہی سے نہیں ڈرتے اس عذاب کے منکر ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر یعنی قرآنی سے اعراض کرتے ہیں یعنی اس میں غور و فکر نہیں کرتے اَمْ اس میں ہمزہ معنی انکاری کے لئے ہے کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ ایسے معبود ہیں جو ان کو (ان کی تکلیف) عذاب سے بچا سکیں ؟ یعنی کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ کوئی ایسی ذات ہے جو ان کو عذاب سے بچا سکے کوئی نہیں وہ معبود ان (باطلہ) خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتے تو وہ ان کی کیا حفاظت کرسکیں گے اور نہ وہ کفار ہمارے عذاب سے بچائے جائیں گے صَحِبَک اللہ بولا جاتا ہے یعنی اللہ تیری حفاظت کرے اور تجھ کو (آفات) سے بچائے ہم نے ان کو اور ان کے اباء و اجداد کو ان پر اپنی نعمتوں کے ذریعہ خوب سازوسامان عطا کئے یہاں تک کہ (اسی حالت) میں ان پر زمانہ دراز گزر گیا چناچہ اسی وجہ سے وہ دھوکے میں پڑگئے کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم ان کی زمین کا قصد کر رہے ہیں یعنی (ان کی) زمین کو چاروں طرف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں آپ ﷺ کو غلبہ عطا کرکے سو کیا یہ لوگ غالب آئیں گے نہیں بلکہ آپ ﷺ اور ان کے اصحاب (ہی غالب رہیں گے) آپ ان سے کہہ دیجئے میں تو تم کو اللہ کی جانب سے نہ کہ اپنی جانب سے وحی کے ذریعہ آگاہ کرتا ہوں اور یہ بہرے بات نہیں سنتے جب ان کو آگاہ کیا جاتا ہے دونوں ہمزوں کو محقق کرکے اور ثانی ہمزہ کی تسہیل کے ساتھ ہمزہ اوری کے درمیان یعنی بہرے کے مانند سنہ ہوئی تنبیہ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے (گویا کہ حقیقت میں یہ بہرے ہیں) اگر ان کو تیرے رب کے عذاب کا ایک ہلکا سا جھونکا لگ جائے تو پکار اٹھیں ہائے ہماری کمبختی یعنی ہماری ہلاکت واقعی ہم شرک اور محمد ﷺ کی تکذیب کی وجہ سے خطا وار تھے اور ہم قیامت کے دن درست میزان عدل قائم کریں گے تو کسی پر اصلا ظلم نہ کیا جائے گا نیکیوں کو کم کرکے یا گناہوں میں اضافہ کرکے اور اگر عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو تو بھی ہم اس کو یعنی موزون کو حاضر کردیں گے اور ہم ہر چیز کا حساب لینے والے کافی ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو تورات فرقان یعنی تورات حق و باطل اور حلال و حرام کے درمیان فرق کرنے والی اور ان پرہیز گاروں کے لئے نصیحت کی کتاب عطا فرمائی جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور وہ لوگ قیامت یعنی اس کی ہولناکیوں سے بھی ڈرتے ہیں اور یہ قرآن بھی کثیر الفائدہ نصیحت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے پھر بھی تم اس کے منکر ہو ؟ اس میں استفہام توبیخ کیلئے ہے۔
تحقیق، ترکیب تفسیر فوائد
یَکْلَئُکُمْ (ف، س) مضارع واحد مذکر غائب مصدر کَلْأٌ کِلَأ کِلَاءَۃً حفاظت کرنا آلِھَۃٌ تَمْنَعُھُمْ مِنْ دُوْنِنَا مِنْ دونِنا، آلِھۃ کی صفت ہے کلام میں تقدیم و تاخیر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے آلِھَۃٌ مِنْ دُوْنِنَا تَمْنَعُھُمْ ۔ قولہ : مِمّا یَسُوھم ان چیزوں سے جو ان کو تکلیف پہنچائیں لایُصْحَبُوْنَ (س) جمع مذکر غائب منفی مجہول، ان کا ساتھ نہیں دیا جائے گا، وہ بچائے نہیں جائیں گے۔ قولہ : الموازِیْنَ الق، سطَ موازین کو جمع، بیان عظمت کے لئے لائے ہیں ورنہ میزان ایک ہی ہوگی یا مایوزَنُ کے اعتبار سے جمع لائی گئی ہے یعنی چونکہ اعمال کثیرہ اور اعمال کے انواع کثیرہ تولے جائیں گے اس لئے جمع لایا گیا ہے قسط کو مفرد لایا گیا ہے حالانکہ موازین کی صفت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ القسط مصدر ہے اور مصدر کا اطلاق واحد اور جمع سب پر یکساں ہوتا ہے، مفسر علام نے لیوم القیامۃ کی تفسیر فیہ سے کرکے اشارہ کردیا کہ لام بمعنی فی ہے۔ قولہ : شیئاً یا مفعول ثانی ہے یا تظلم کے مفعول مطلق کی صفت ہے ای لاتظلم ظلمًا شیئًا۔ قولہ : واِن کان کے بعد العملُ کو مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ کان ناقصہ ہے اس کے اندر ضمیر ہے جو کان کا اسم ہے اور وہ عمل ہے اور مثقالَ اس کی خبر ہے اور نافع نے مثقالُ رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں کان تامہ ہوگا۔ قولہ : بالغیبِ یخشَون کی ضمیر سے حال ہے ای یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ غائبین عن الناس یعنی جب وہ تنہائی میں ہوتے ہیں تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں مِنَ الساعۃ کے بعد اَھْوَالِھَا مقدر
مان کر اشارہ کردیا کہ مضاف محذوف ہے اور قیامت سے ڈرنے کا مطلب اس کی ہولناکی سے ڈرنا ہے۔
تفسیر و تشریح
قل من یکلئکم الخ یعنی تمہارے جو کرتوت ہیں وہ تو ایسے ہیں کہ دن رات کی کسی بھی گھڑی میں تم پر عذاب آسکتا ہے، اس عذاب سے رات دن تمہاری کون حفاظت کرتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی اور ہے جو عذاب الٰہی سے تمہاری حفاظت کرسکے ؟ وَلاَ ھُمْ مِنّا یُصْحَبُوْنَ کے معنی ہیں ولاھم یُجَارُوْنَ من عذَابِنَا نہ وہ خود ہی ہمارے عذاب سے محفوظ ہیں، یعنی وہ خود اپنی مدد پر اور عذاب الٰہی سے بچنے پر قادر نہیں ہیں، پھر ان کی طرف سے ان کی مدد کیا ہوسکتی ہے اور وہ انہیں عذاب سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔
بل متعناھم الخ یعنی ان کی کلاءت اور حفاظت اور بتوں کا عجز اور بیچارگی ایسی چیز نہیں کہ جس کو یہ لوگ سمجھ نہ سکیں اصل بات یہ ہے کہ پشتہا پشت سے یہ لوگ بےفکری کی زندگی گزار رہے ہیں کوئی جھٹکا عذاب الٰہی کا نہیں لگا جس کی وجہ سے مغرور اور غفلت کے نشہ میں چور ہو کر حق تعالیٰ کے پیغام اور پیغمبروں کی نصیحت قبول کرنے سے منہ موڑ لیا ہے افَلاَ یَرَوْنَ یعنی عرب میں اسلام پھیلنے لگا ہے اور کفر گھٹنے لگا ہے آہستہ آہستہ وہاں کی زمین کافروں پر تنگ ہوتی جا رہی ہے ان کی حکومتیں اور سرداریاں ٹوٹتی جا رہی ہیں، کیا ایسے کھلے ہوئے آثار و قرائن دیکھ کر بھی انہیں اپنا انجام نظر نہیں آتا، کیا ان مشاہدات کے باوجود اس کے امیدوار ہیں کہ پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں پر غالب ہوں گے، اگر چشم عبرت ہے تو چاہیے کہ عقل سے کام لیں اور قرائن و احوال سے مستقبل کا اندازہ کریں، کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان کے گردوپیش کی بستیاں انبیاء کی تکذیب و عداوت کی سزا میں تباہ کی جا چکی ہیں وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا مَا حولَکُمْ مِنَ القُریٰ وَصَرَّفْنَا الآیَاتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ قُلْ اُنْذِرُکُمْ الخ یعنی ہمارا کام وحی الٰہی کے موافق نصیحت سنا دینا اور انجام سے آگاہ کردینا ہے، دل کے بہرے اگر اس پکار کو نہ سنیں تو ہمارا قصور نہیں وہ خود اپنے بہرے پن کا خمیازہ بھگتیں گے وَلَئِنْ مَّسَّتْھُمْ الخ یعنی یہ لوگ جو بہرے بنے ہوئے ہیں صرف اس وقت تک ہے کہ ذرا زور سے کھٹکھٹائے نہ جائیں اگر عذاب الٰہی کی ذرا سئ بھنک ان کے کان میں پڑگئی یا خڈا کے قہر و انتقام کی ادنیٰ سی بھاپ ان کو چھوگئی تو آنکھ کان سب کھل جائیں گے اس وقت بدحواس ہو کر چلائیں گے کہ بیشک ہم بھاری مجرم تھے جو ایسی کمبختی آئی۔
ونضع الموازین القسط الخ یعنی رائی کے دانہ کے برابر بھی کسی کا عمل ہو عدل و انصاف کی ترازو میں تلے گا ادھر ادھر ضائع نہ ہوگا، نہ کسی پر ظلم زیادتی کی جائے گی، رتی رتی کا حساب ہوگا (تنبیہ) موازین میزان کی جمع ہے ہوسکتا ہے کہ بہت سی ترازو ہوں جو مختلف قسم کے اعمال کو تولنے کے لئے الگ الگ قسم کی ہوں جیسا کہ دنیا میں ہر چیز کو تولنے اور ناپنے کی الگ قسم کی ترازو ہوتی ہے، سیال اشیاء کے لئے الگ اور جامد کے لئے الگ پھر سیال میں بھی مختلف چیزوں کے لئے الگ الگ ترازو ہوتی ہیں، یا ایک ہی ترازو ہو مگر مختلف قسم کے اعمال کو تولنے کا کام دے اس وجہ سے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہو کفیٰ بِنَا حَاسِبِیْنَ کا مطلب ہے کہ ہمارا حساب آخری اور فیصلہ کن ہوگا جس کے بعد کوئی دوسرا حساب لینے والا نہیں ہوگا۔
Ayahs 21:51–67آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی) مذاق کر رہے ہو ؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں، بلکہ تمہارا رب جو کہ مستحق عبادت ہے وہ رب مالک ہے زمین اور آسمانوں کا جس نے ان کو بغیر کسی سابق نمونے کے پیدا فرمایا اور میں تو اس بات پر جو میں نے کہی ہے گواہ ہوں (قائل ہوں) اور خدا کی قسم میں تمہارے بتوں کے ساتھ تمہارے چلے جانے کے بعد ضرور ایک چال چلوں گا تو ان کے اپنی عید کے دن اپنے میلے میں چلے جانے کے بعد ان بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جُذَاذًا جیم کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ، تبر سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا مگر ان میں کے بڑے کو (چھوڑ دیا) اور تبر اس کی گردن میں لٹکا دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ان کے (میلے) سے لوٹنے اور ان کے ساتھ جو حرکت کی گئی تھی اس کو دیکھنے کے بعد کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ شخص اس معاملہ میں ظالموں میں سے ہے تو ان لوگوں نے آپس میں کہا ہم نے ایک نوجوان کو جس کو ابراہیم کہا جاتا ہے ان بتوں کی تنقیص (برائی) کرتے سنا ہے تو وہ لوگ کہنے لگے تو اچھا اس کو سب کے سامنے برسر عام حاضر کرو تاکہ لوگ اس کے خلاف اس بات کی گواہی دیں کہ یہی ہے (یہ حرکت) کرنے والا شخص تو اس کے آنے کے بعد لوگوں نے اس سے معلوم کیا کہ کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے اے ابراہیم ؟ اپنے فعل سے سکوت اختیار کرتے ہوئے کہا نہیں بلکہ ان کے اس بڑے (گرو) نے کی ہے، یہ حرکت کرنے والے کے بارے میں ان ہی سے معلوم کرو اگر یہ بول سکتے ہوں ؟ اس میں جواب شرط مقدم ہے اور ماقبل میں مشرکین کیلئے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جت جن کا عاجز عن الفعل ہونا معلوم اور متعین ہے وہ معبود نہیں ہوسکتے، چناچہ یہ لوگ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر سن کر) سوچ میں پڑگئے اور اپنے دلوں میں کہنے لگے تم ہی درحقیقت ظالم ہو ایسی چیز کی بندگی کرکے جو بول بھی نہ سکے پھر ان کی کھوپڑی اوندھی ہوگئی (یعنی جہل وعناد کی طرف پلٹ گئے) یعنی اپنے کفر کی طرف پلٹ گئے، اور کہنے لگے واللہ (اے ابراہیم) تم تو جانتے ہی ہو کہ یہ بولنے پر قادر نہیں ہیں یعنی پھر تم ہم کو ان سے سوال کرنے کیلئے کیوں کہتے ہو ؟ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کیا خدا کو چھوڑ کر یعنی اس کے عوض ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو کہ جو تم کو رزق وغیرہ کا کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی اور اگر تم ان کی عبادت نہ کرو تو تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی تف ہے تم پر، فا کے فتحہ اور کسرہ کیساتھ مصدر کے معنی میں یعنی تبًّا وقُبْحًا (کے معنی میں) اور ان پر بھی جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو کیا تمہیں اتنی سی بھی عقل نہیں ؟ یعنی یہ بت عبادت کے مستحق نہیں اور نہ معبود بننے کی ان میں صلاحیت ہے عبادت کا مستحق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
ولقد آتینا ابراہیم واؤ قسمیہ ہے ای وَعِزَّتِنَا وَجَلالِنا ابراہیم رشدہ رشد صلاحیت، ہوشیاری، ہدایت، حسن تدبیر من قبل مضاف الیہ محذوف ہے ای قبل بلوغہ، قبلہٗ کی ضمیر حضرت موسیٰ و عیسیٰ و محمد ﷺ کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے، التماثیلُ جمع تمثال پتھر یا دھات وغیرہ کی مورتی عاکفون جمع عاکفٍ ملازم، معتکف، مجاور۔ قولہ : لھا عاکفون، عاکف کا صلہ علیٰ آتا ہے لیکن یہاں لام استعمال ہوا ہے مفسر علام نے اشارہ کردیا کہ لام بمعنی علیٰ ہے اور اگر عاکف متضمن بمعنی عابد لیا جائے تو اس وقت لام صلہ لانا درست ہوگا اور اگر لام تعدیہ کے بجائے اختصاص کے لئے لے لیا جائے تو صلہ لام لانا بھی صحیح ہوگا جیسا کہ قالوا وجدنا آبائنا لھا عابدین میں عابدین کا صلہ لام استعمال ہوا ہے۔
قولہ : فجعلھم من ھم ضمیر مذکر ذوالعقول کے لئے مشرکین کے گمان کے اعتبار سے استعمال ہوئی ہے۔ قولہ : جذاذا مصدر ہونے کی وجہ سے جمع نہیں لایا گیا اور بعض حضرات نے جذاذ کو جذاذۃ کی جمع کہا ہے جیسا کہ زجاج زجاجۃٌ کی جمع ہے، اور بعض حضرات نے جُذاذٌ مصدر بمعنی مجذوذ کے لیا ہے۔ قولہ : مَنْ فعل ھٰذا من مبتداء ہے اور فعل ھذا اس کی خبر ہے اور انہ لمن الظلمین جملہ مستانفہ ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ من موصولہ اپنے صلہ سے ملکر مبتداء اور انہ لمن الظلمین اس کی خبر۔ قولہ سمعنا فتی یذکر، سمعنا، چونکہ ایسی شئ پر داخل ہے کہ جو مسموع نہیں ہوسکتی اور وہ فتی ہے اس لئے کہ فتی دیکھنے کی چیز ہے نہ کہ سننے کی ایسی صورت میں سمع متعدی بدو مفعول ہوتا ہے، لہٰذا یہاں سمعنا متعدی بدو مفعول ہے مفعول اول فتی ہے اور یذکرھم جملہ ہو کر مفعول ثانی ہے، اور اگر سمع شئ مسموع پر داخل ہو تو متعدی بیک مفعول ہوتا ہے جیسا کہ تو کہے سمعت کلام زیدٍ ۔ قولہ : یقال لہ ابراہیم یہ فتی کی صفت ثانیہ ہے ابراہیم کے مرفوع ہونے کی چند وجوہ ہوسکتی ہیں اول، یقال کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے یقال لہ ابراہیم ای یسمی لہ ابراہیم اس صورت میں ابراہیم سے مراد لفظ ابراہیم ہوگا نہ کہ مسمی ابراہیم، دوسری وجہ یہ ہے کہ ابراہیم مبتدا محذوف کی خبر ہو ای یقال لہ ھذا ابراہیم، یا ابراہیم مبتداء ہو اور اس کی خبر محذوف ہو ای یقال لہ ابراھیم فاعل ذٰلک۔
قولہ : کبیرھم ھٰذا، ھذا کبیرھم سے بدل ہے یا صفت ہے۔ قولہ : نکسوا علی رؤسھم جمہور کی قرأت میں نکسوا مبنی للمفعول ہے یعنی ان کی کھوپڑی الٹ دی گئی اور الٹنے والا اللہ تعالیٰ ہے، مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر سے بتوں کا عاجز اور بےبس ہونا سمجھ میں آگیا تھا اور قریب تھا کہ حق کی طرف رجوع کریں مگر ان کی کھوپڑی پھر گئی جس کی وجہ سے کفر کی طرف پلٹ گئے، مفسر علام نے من اللہ کا اضافہ فرما کر اسی قرأت کی طرف اشارہ کیا ہے اور شاذ قرأت میں نکسوا نون کے فتحہ اور کاف کی تشدید کے ساتھ مبنی للفاعل بھی ہے اس صورت میں نکسوا کے فاعل خود مشرکین ہوں گے اور مطلب یہ ہوگا کہ مشرکین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدلل تقریر سن کر شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے سرجھکا لیا مگر کچھ دیر کے بعد کفر کی طرف پلٹ گئے۔ قولہ : قالوا واللہ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ لَقَد علمے قسم محذوف کا جواب ہے۔ قولہ : افلا تعقلون فا عاطفہ ہے معطوف علیہ فعل محذوف ہے جس پر ہمزہ داخل ہے تقدیر عبارت یہ ہے اجھلتم فلا تعقلون۔
تفسیر و تشریح
ولقد آتینا۔۔۔۔ قبل، من قبل سے مراد یا تو یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو رشد (ہدایت یا ہوشمندی) دینے کا واقعہ آپ ﷺ اور موسیٰ و ہارون و عیسیٰ (علیہم السلام) سے پہلے کا ہے یا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرنے سے پہلے ہی ہوشمندی عطا کردی گئی تھی، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ بلوغ سے پہلے ہی آپ کو ہوشمندی اور صلاحیت عطا کردی گئی تھی اور ہم اپنے علم ازلی کے اعتبار سے اس بات کو جانتے تھے کہ وہ اس رشد کا اہل ہے اور وہ اس کا صحیح استعمال کرے گا، جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ذرا ان کی اصلیت اور حقیقت کو بیان کرو آخر پتھر کی خودتراشیدہ مورتیاں خدا کس طرح بن گئیں قالوا وجدنا آباءنا الخ یعنی عقل اور فطرت اور نقل معتدبہ کی کوئی شہادت ہماری تائید میں نہیں ہے نہ سہی لیکن سب سے بڑی اور بھاری دلیل بت پرستی کے حق و صواب ہونے کی یہ ہے کہ اوپر سے ہمارے باپ دادا انہیں کی پوجا کرتے چلے ائے ہیں پھر ہم اپنے بڑوں کا طریقہ کیسے چھوڑ دیں۔
قال لقد کنتم انتم الخ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اس دلیل سے تمہاری حقانیت اور عقلمندی ثابت نہیں ہوئی البتہ یہ ثابت ہوا کہ تمہارے باپ دادا بھی تمہاری طرح گمراہ اور بیوقوف تھے جنکی کو رانہ تقلید میں تم گمراہ ہو رہے ہو۔
پوری قوم کے عقیدہ کے خلاف ابراہیم (علیہ السلام) کی ایسی سخت اور مدلل گفتگو سن کر ان میں ہلچل مچ گئی کہنے لگے کیا سچ مچ تیرا عقیدہ یہی ہے یا ہنسی اور دل لگی کرتا ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا، میرا عقیدہ ہی یہ ہے اور پورے یقین اور بصیرت کے ساتھ اس کی شہادت دیتا ہوں میرا تمہارا سب کا رب وہی ایک خدا ہے جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے۔
حضرت ابراہیم نے آہستہ سے کہا کہ تمہارے چلے جانے کے بعد تمہارے بتوں کا علاج کر دوں گا، یہ بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یا تو اپنے دل میں کہی یا کمزور قسم کے لوگوں کے سامنے آہستہ سے کہی، یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ زبانی نہی عن المنکر تو میں کرچکا اب نہی عن المنکر فعلی کروں گا، چناچہ جب قوم جش منانے کے لئے میلے میں باہر چلی گئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر سب بتوں کو توڑ پھوڑ کر دکھ دیا اور صرف بڑے بت کو جو جسم و جثہ کے اعتبار سے سب سے بڑا تھا چھوڑ دیا اور کلہاڑی اس کے گلے میں لٹکا دی، تاکہ وہ لوگ جب واپس آکر یہ صورت حال دیکھیں تو قدرتی طور پر ان کا خیال اس بڑے بت کی طرف ہو، یا الزاماً اس کی طرف رجوع کرایا جاسکے، چناچہ جب وہ لوگ میلے سے واپس آئے تو بڑا حیرت انگیز منظر دیکھا کہ سب بت ٹوٹے پڑے ہیں اور کلہاڑی بڑے بت کے گلے میں لٹکی ہوئی ہے تو کہنے لگے یہ گستاخی اور بےادبی کی حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ کس نے کی ہے ؟ یقیناً جس نے یہ حرکت کی ہے بڑا ظالم اور بےرحم ہے، چناچہ بعض لوگوں نے جنہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقولہ تاللہ لاکیدن اصنامکم سنا ہوگا کہنے لگے وہ نوجوان ابراہیم (علیہ السلام) ہے نا، وہ ہمارے بتوں کے خلاف باتیں کرتا ہے معلوم ہوتا ہے یہ اسی کی کارستانی ہے۔
پھر سب کہنے لگے اس کو مجمع عام کے سامنے لاؤ تاکہ سب لوگ دیکھیں چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مجمع عام میں لایا گیا اور ان سے معلوم کیا گیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہ کام تو اس بڑے بت نے کیا ہے اگر یہ (ٹوٹے ہوئے بت) بول سکتے ہیں تو انہیں سے معلوم کرو یہ خود ہی اپنے توڑنے والے کو بتادیں گے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات بطور تعریض و تبکیت کہی تاکہ لوگ یہ جان لیں کہ جو نہ بول سکتا ہو اور اپنی مصیبت کی فریاد بھی نہ کرسکتا ہو اور نہ خود اپنا دفاع کرسکتا ہو بلکہ پڑا پڑا مار کھا تا رہے وہ معبود نہیں ہوسکتا۔
ایک حدیث میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول بل فعلہ کبیرھم کو لفظ کذب سے تعبیر کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تین جھوٹ بولے دو اللہ کے لئے ایک انی سقیم اور دوسرا بل فعلہ کبیرھم ھذا اور تیسرا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا (صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب واتخذ اللہ ابراھیم خلیلاً ) زمانہ حال کے بعض مفسرین نے مرزا قادیانی اور کچھ دوسرے مستشرقین سے مغلوب مسلمانوں نے اس حدیث کو صحیح السند ہونے کے باوجود اس لئے غلط اور باطل کہہ دیا ہے کہ اس سے حضرت خلیل اللہ کی طرف جھوٹ کی نسبت ہوتی ہے اور سند کے تمام راویوں کو جھوٹا کہہ دینا اس سے بہتر ہے کہ خلیل اللہ کو جھوٹا قرار دیا جائے، کیونکہ وہ قرآن کے خلاف ہے لیکن ان کی یہ رائے صحیح نہیں ہے، یقیناً حقیقت کے اعتبار سے انہیں جھوٹ نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ توریہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا ذو معنیین لفظ بولا جائے کہ متکلم اس کا ایک معنی مراد لے اور مخاطب دوسرے معنی سمجھے، دینی ضرورت اور مصلحت کے لئے تو ریہ درست ہے، ظلم سے بچنے کے لئے باتفاق فقہاء بالکل جائز ہے۔
توریہ شیعوں کے تقیہ سے بالکل مختلف چیز ہے، تقیہ میں صریح جھوٹ بولا جاتا ہے اور اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے، توریہ میں صریح جھوٹ نہیں ہوتا بلکہ جس معنی سے متکلم بول رہا ہے وہ بالکل صحیح ہوتے ہیں، جیسے اسلامی رشتہ سے بیوی اور شوہر کا بھائی بہن ہونا، سفر ہجرت کے دوران جب کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی گرفتاری کے لئے سو اونٹ انعام رکھا ہوا تھا، ایک شخص کا راستہ میں ملنا اور حضرت ابوبکر صدیق سے آپ ﷺ کے بارے میں دریافت کرنا کہ یہ کون ہے ؟ حضرت ابوبکر صدیق کا رجل یھدینی السبیل توریہ کے طور پر فرمانا، یہ دینی السبیل کے دو معنی ہیں دینی رہنمائی کرنے والا اور سفر کے لئے رہبری کرنے والا، حضرت ابوبکر کا مقصد آخرت اور دینی رہبری تھی اور مخاطب سفر کی رہبری سمجھا اسی کو توریہ کہتے ہیں صحابہ اور اسلاف کی زندگی میں اس قسم کی صدہا مثالیں آپ کو مل سکتی ہیں۔
حدیث شریف میں بھی حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بارے میں کذبات ثلٰثہ کا ذکر ہے، ان کا پہلا کذب فعلہ کبیرھم ھٰذا ہے اس کی بہت سی توجیہات کی گئیں ہیں مگر ان میں سب سے صاف اور بےغبار توجیہ یہ ہے کہ یہ اسناد مجازی کے قبیل سے ہے، عربی میں اس کی بہت سی مثالیں مذکور ہیں مثلاً انبت الربیع البقل چونکہ موسم ربیع بقل کو اگانے کا بظاہر سبب ہے اس لئے انبات کی نسبت بقل کی جانب کردی گئی ہے، ورنہ حقیقت میں انبات اللہ تعالیٰ کا فعل ہے، دوسری مثال بنی الامیر المدینۃ ہے چونکہ امیر کے حکم سے مدینہ کی تعبیر ہوئی ہے اس لئے نباء کی نسبت امیر کی جانب کردی گئی ہے ورنہ بنانے والے تو درحقیقت معمار اور بنائین ہیں، اسی طرح فعلہٗ کبیرھم ھٰذا میں بھی اسناد مجازی ہے، چونکہ مشرکوں نے بڑے بت کو خدا کا درجہ دے رکھا تھا اور رات دن اس کی بندگی کرتے تھے تو گویا کہ بتوں کو توڑنے پر اس بڑے بت نے ہی آمادہ کیا گویا کہ بڑا بت ہی ان بتوں کو توڑنے کا سبب بنا اسی سببیت کی وجہ سے فعل کی نسبت بڑے بت کی طرف کردی گئ ہے، دوسرا انی سقیم ہے سقیم کے معنی جس طرح بیماری کے آتے ہیں اسی طرح دلی رنج وغم کے بھی آتے ہیں، اس میں شک کی کیا گنجائش ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اپنی قوم کی گمراہی کو دیکھ کر کس قدر رنجیدہ اور غم زدہ ہوں گے لہٰذا آپ کی انی سقیم کہنا اپنی جگہ درست اور بالکل صحیح تھا، تیسرا حضرت سارہ کو بہن بتانا تو یہ بھی کوئی خلاف واقعہ بات نہیں تھی اس لئے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت سارہ دونوں آپس میں دینی اور اسلامی بھائی بہن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی وضاحت بھی کردی تھی کہ میں نے ظالم بادشاہ کے سامنے تم کو اپنی بہن بتایا ہے لہٰذا تم بھی اس کے خلاف نہ کہنا اور ہم دونوں دینی اور اسلامی بھائی ہیں، ظالم بادشاہ کی دست درازی اور اس کے شل ہونے نیز حضرت سارہ کو صحیح سلامت رخصت کرنے کے واقعہ کے لئے تفسیر کی کتابوں کی طرف رجوع کریں۔
حدیث میں کذبات ثلٰثہ کا ذکر جس ضمن میں آیا ہے وہ بھی قابل غور ہے اور وہ ہے میدان محشر میں اللہ کے روبرو جاکر سفارش کرنے سے اس لئے گریز کرنا کہ ان سے دنیا میں تین موقعوں پر لغزش کا صدور ہوا ہے درآنحالیکہ وہ لغزشیں نہیں ہیں یعنی حقیقت اور مقصد کے اعتبار سے وہ جھوٹ نہیں ہے مگر اللہ کی عظمف اور جلال کی وجہ سے اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ یہ باتیں جھوٹ کے ساتھ ظاہری مماثلت کی وجہ سے قابل گرفت نظر آئیں گی گویا کہ حدیث کا مقصد حضرت ابراہیم کو جھوٹا ثابت کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کیفیت کا اظہار ہے جو قیامت کے دن خشیت الٰہی کی وجہ سے ان پر طاری ہوگی۔
علامہ شبیر احمد عثمانی نے فوائد عثمانی میں بل فعلہ کبیرھم ھذا کی توجیہ اس طرح فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے علیٰ سبیل الفرض فعلہ کبیرھم ھذا فرمایا تھا جیسا کہ مناظروں میں ہوتا ہے یعنی مجھ سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ فرض کرلیا جائے کہ اس بڑے گرو گھنٹال نے جو صحیح سالم کھڑا ہے اور توڑنے کا آلہ بھی اس کے پاس موجود ہے یہ کام کیا ہوگا، لیجئے بحث و تحقیق کے وقت بطور الزام و تبکیت میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ بڑے بت نے سب چھوٹوں کو توڑ ڈالا اب آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ ایسا نہیں ہوا کیا دنیا میں ایسا ہوتا نہیں ہے کہ بڑے سانپ چھوٹے سانپوں کو بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو نگل جاتی ہے، اور بڑے بادشاہ چھوٹی سلطنتوں کو تباہ کر ڈالتے ہیں، اس لئے فیصلہ کی بہتر صورت میرے اور تمہارے درمیان یہ ہے کہ تم خود اپنے معبودوں ہی سے دریافت کرلو کہ یہ ماجرا کس طرح ہوا گر یہ کچھ بول سکتے ہیں، تو کیا ایسے اہم معاملہ میں بول کر میرے جھوٹ سچ کا فیصلہ نہ کردیں گے، مذکورہ تقریر سے ظاہر ہوگیا کہ بل فعلہ کبیرھم ھذا کہنا خلاف واقعہ خبر دینے کے طور پر نہ تھا جسے حقیقۃً جھوٹ کہا جائے بلکہ ان کی تجہیل و تحمیق کے لئے ایک فرضی احتمال کو بصورت دعوی لیکر بطور تعریض والزام کلام کیا تھا جیسا کہ عموماً بحث و مناظرہ میں ہوتا ہے توڑ پھوڑ کر بڑے بت کی جانب منسوب کرنے میں ایک مصلحت دینی یہ تھی کہ شاید لوگوں کو اس طرف توجہ ہوجائے کہ شاید اس بڑے بت کو اس پر غصہ آگیا ہو کہ میرے ساتھ عبادت میں ان چھوٹے بتوں کو کیوں شریک کیا جاتا ہے اگر یہ خیال ان کے دلوں میں پیدا ہو تو توحید کا راستہ کھل جاتا ہے کہ جب ایک بڑا بت چھوٹے بتوں کی شرکت گوارا نہیں کرتا تو رب العالمین ان پتھروں کی شرکت اپنے ساتھ کیسے گوارہ کرے، اسی طرح بعض احادیث میں اس پر
لفظ کذب کا اطلاق صورتاً کیا گیا ہے، مفسرین نے اس کے علاوہ اس کی توجیہ میں اور بھی کئی محمل بیان کئے ہیں۔
فرجعوا الیٰ انفسھم پھر وہ سوچ میں پڑگئے، اور اپنے دل میں کہنے لگے کہ واقعتاً تم ہی ظاہم ہو ان بےزبان پتھروں کو پوجنے سے کیا حاصل ؟ جو مصیبت کے وقت خود اپنی مدد بھی کرسکیں اور پڑے ہوئے اپنے ہاتھ پیر توڑ واتے رہیں جو خود اپنی مدد نہ کرسکے، وہ دوسروں کی کیا مدد کرسکتا ہے گویا کہ حق کی ایک کرن ان کے دل میں روشن ہوئی مگر پھر تسویل شیطانی کی وجہ سے پلٹ گئے اور کفر و ضلالت کو حق و ہدایت پر ترجیح دینے لگے، اور کہنے لگے کہ تو جان بوجھ کر ہم سے ایسی ناممکن بات کا مطالبہ کیوں کرتا ہے کہیں پتھر بھی بولتے ہیں ؟ جب مشرکوں نے اپنے بتوں کی بےبسی اور عاجزی کا اقرار کرلیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو گرفت کرنے اور الزام دینے کا موقعہ مل گیا، اور فرمایا پھر تو تم کو ڈوب مرنا چاہیے کہ جو بت اس قدر مجبور و بےبس ہوں کہ ایک لفظ نہ بول سکتے ہوں اور کسی آڑے وقت میں کچھ کام نہ آسکتے ہوں ایسے بےاختیار بتوں کو خدائی کا درجہ دینا کس قدر حماقت اور بےعقلی کی بات ہے، کیا تم اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔