Ayahs 21:68–75آیت نمبر 68 تا 75
ترجمہ : کہنے لگے اسے یعنی ابراہیم کو جلا دو اور اس کو جلا کر اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو ان کی مدد کرنی ہی ہے چناچہ ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے بہت ساری لکڑیاں جمع کیں اور ان تمام لکڑیوں میں آگ جلا دی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسیوں میں مضبوط باندھا اور ان کو ایک گوپھن میں رکھ کر آگ میں پھینک دیا ہم نے آگ کو حکم دے کر کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم کے لئے سلامتی کی چیز بن جا، چناچہ آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بندھنوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا اور آگ کی حدت ختم ہو کر صرف اس کی روشنی باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ کے سلاماً کہنے کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ٹھنڈ کی وجہ سے مرنے سے محفوظ رہے اور ان لوگوں نے تو ابراہیم کے ساتھ بدخواہی کا ارادہ کیا تھا اور وہ جلانا تھا چناچہ ہم نے ان کو ان کے مقصد میں ناکام کردیا اور ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو جو کہ ان کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے سر زمین عراق سے ایسی زمین (ملک) کی جانب نکال کر بچا لیا جس میں ہم نے دنیا والوں کے لئے برکتیں رکھیں ہیں انہار و اشجار کی کثرت کے ذریعہ اور وہ سر زمین شام ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین میں فروکش ہوئے، اور لوط (علیہ السلام) موتفکہ میں اور ان دونوں مقاموں کے درمیان ایک دن کی مسافت تھی اور ہم نے ان کو یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو، حال یہ ہے کہ اس نے ایک لڑکے کی دعا کی تھی، جیسا کہ سورة صافات میں ذکر کیا گیا ہے، اسحٰق دیا اور یعقوب مزید برآں یعنی مطلوب سے زائد یا نافلۃ سے مراد ولد الولد (پوتا) ہے اور ہم نے ان سب (کو یعنی) ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے اور پوتے کو صالحین یعنی انبیاء میں شامل کیا اور ہم نے ان سب کو پیشوا بنایا اَئمۃ دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو یا سے بدل کر، کہ ان کی خیر میں اقتداء کی جائے، تاکہ ہمارے حکم سے لوگوں کی ہمارے دین کی جانب رہبری کریں اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نماز قائم رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی یعنی یہ تینوں اعمال عمل خیر، عمل صلوٰۃ، عمل زکوٰۃ کو یہ حضرات بھی انجام دیں اور ان کے متبعین بھی انجام دیں، اور اقامۃ کی ہاء تخفیفاً حذف کردی گئی ہے اور وہ سب ہماری ہی بندگی کرنے والے بندے تھے اور ہم نے لوط کو (بھی) مخاصمین کے درمیان فیصلہ کرنے کیلئے حکم دیا اور علم عطا کیا، اور ہم نے اس کو اس بستی یعنی اس بستی والوں سے جو گندے کام کرتے تھے یعنی لواطت اور (راہ گیروں) کو ڈھیلے مارنا اور مرغ بازی کرنا وغیرہ وغیرہ اور تھے بھی وہ برے فاسق لوگ سوءٌ مصدر ہے ساء ہٗ سرہٗ کی نقیض ہے اور ہم نے لوط کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا اس طریقہ سے کہ ہم نے اس کو اس کی قوم سے نجات دی بیشک وہ نیکو کار لوگوں میں سے تھا۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
ان کنتم فاعلین نصر تھا کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ فاعلین کا مفعول محذوف ہے، ان کنتم یہ شرط ہے جو کہ جزاء سے مستغنی ہے ما قبل پر اعتماد کرتے ہوئے کونی بردًا ای ذات برد سلاماً فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے ای سلمنا سلاما اور سلاما سے پہلے بھی مضاف محذوف ہوسکتا ہے ای ذات سلامٍ ، بردا وسلامًا میں مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو ان کے قائم مقام کردیا۔
قولہ : من العراق اخرج فعل محذوف کے متعلق ہے نافلۃ بروزن عافیۃ مصدر ہے یہ یعقوب سے حال ہے اور وھبنا فعل کا مفعول مطلق بغیر لفظہ بھی ہوسکتا ہے ائمۃ ثانی ہمزہ میں جمہور کے نزدیک تسہیل ہے گوابدال بھی جائز ہے، مفسر علام نے فعل الخیرات کی تفسیر ان تفعل وغیرہ سے کرکے اشارہ کردیا کہ اصل ترکیب أن تفعل الخیرات وأن تقام الصلوٰۃ وأن توتی الزکوۃ ہے اس لئے کہ موحی (ما أمر بہ) صیغہ امر کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ مصدر کے ذریعہ اقام الصلوٰۃ اقامۃ الصلوٰۃ کے بجائے اقام الصلوٰۃ فرمایا تاء مدورہ کو تخفیفاً حذف کردیا ہے۔ قولہ : لوطاً فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے اور ما اضمر عاملہ علی التفسیر کے قبیل سے ہے تقدیر عبارت یہ ہے آتینا لوطاً آتیناہ من القریۃ اس قریہ کا نام سدوم تھا جو کہ موتفکہ میں بڑی آبادی تھی۔
تفسیر و تشریح
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب حجت تمام کردی اور ان کی ضلالت و گمراہی کو ایسے طریقہ سے ان پر واضح کردیا کہ وہ لاجواب ہوگئے تو چونکہ وہ توفیق و ہدایت سے محروم تھے اور کفر و شرک نے ان کے دلوں کو بےنور کردیا تھا، اس لئے بجائے اس کے کہ وہ شرک سے تائب ہوتے الٹا ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف سخت اقدام پر آمادہ ہوگئے اور اپنے معبودوں کی دہائی دیتے ہوئے انہیں آگ میں جھونک دینے کی تیاری شروع کردی، تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری قوم اور نمرود نے متفق ہو کر یہ فیصلہ کرلیا کہ ان کو آگ میں جلا دیا جائے چناچہ شہر کے تمام لوگ لکڑی وغیرہ جمع کرنے کے کام میں ایک مہینہ تک لگے رہے اور پھر اس میں آگ سلگا کر ایک ہفتہ تک اس کو دھونکتے رہے یہاں تک کہ اس کے شعلہ فضاء آسمانی میں اتنے بلند ہوگئے کہ اگر کوئی پرندہ اس پر گزرے تو جل جائے، اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا پروگرام بنایا گیا مگر کس طرح ڈالا جائے ؟ اتنے بڑے الاؤ میں ڈالنا تو دور کی بات تھی اس کے قریب جانا بھی آسان نہیں تھا، چناچہ شیطان نے ان کو منجنیق (گوپیا) میں رکھ کر پھینکنے کی تدبیر بتائی، جس وقت اللہ کے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے سمندر میں پھینکنے جا رہے تھے تو تمام فرشتے بلکہ زمین آسمان اور ان کی تمام مخلوق چیخ اٹھی کہ یا رب آپ کے خلیل پر کیا گزر رہی ہے ؟ حق تعالیٰ نے ان سب کو ابراہیم (علیہ السلام) کی مدد کرنے کی اجازت دیدی فرشتوں نے مدد کرنے کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دریافت کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے وہ میرا حال دیکھ رہا ہے جبرائیل امین نے عرض کیا کہ آپ کو میری کسی مدد کی ضرورت ہے تو میں خدمت انجام دینے کے لئے تیار ہوں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ حاجت تو ہے مگر آپ کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔
قلنا یانار کونی بردا سلامًا علیٰ ابراھیم آگ کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر بردوسلام ہونے کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ آگ آگ ہی نہ رہی ہو بلکہ ہوا میں تبدیل ہوگئی ہو مگر ظاہر یہ ہے کہ آگ اپنی حقیقت میں آگ ہی رہی ہو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آس پاس کے علاوہ دوسری چیزوں کو جلاتی رہی بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جن رسیوں میں باندھ کر آگ میں ڈالا گیا تھا ان رسیوں کو بھی آگ ہی نے جلا کر ختم کیا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بدن مبارک تک کوئی آنچ نہیں آئی۔
اخرج ابن جریر عن معتمر ابن سلیمان عن بعض اصحابہ قالٗ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کے لئے باندھ کر تیار کردیا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا یا ابراھیم ألک حاجۃ اے ابراہیم کیا تم کو کچھ حاجت ہے ؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا أما الیک فلا ابن ابی شیبہ اور ابن جریر اور ابن منذر نے کعب سے نقل کیا ہے مَا احرقت النار من ابراھیم الا وثاقۃ یعنی آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بندھنوں کے علاوہ کسی شئ کو نہیں جلایا۔
احمد و ابن ماجہ وابن حبان وغیرہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو گرگٹ کے علاوہ کوئی جانور ایسا نہیں تھا کہ جس نے آگ بجھانے کی کوشش نہ کی ہو، گرگٹ ہی ایک ایسا جانور تھا کہ جو آگ کو بھڑکانے کے لئے پھونک مار رہا تھا، فامر رسول اللہ ﷺ بقتلہٖ تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کرنے کا حکم فرمایا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب آگ میں ڈالا گیا تو سب سے پہلا کلمہ جو ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے نکلا وہ حسبنا اللہ ونعم الوکیل تھا، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے لو لم یتبع بردھا سلامًا لمات ابراھیم من بردھا یعنی اگر بردًا کے ساتھ سلاماً نہ کہا جاتا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سردی سے مرجاتے۔
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آگ میں سات روز رہے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عمر بھر ایسی راحت نہیں ملی جتنی ان سات دنوں میں حاصل تھی۔ (مظہری)
ونجینہ ولوطًا الی الارض التی الخ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ لوط (علیہ السلام) کو ہم نے اس زمین سے جس پر نمرود کا غلبہ تھا (یعنی عراق) نجات دیکر ایک ایسی سرزمین میں پہنچا دیا جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت رکھی ہے مراد اس سے ملک شام کی سرزمین ہے کہ وہ اپنی ظاہری اور باطنی حیثیت سے تیری برکتوں کا مجموعہ ہے، باطنی برکت تو یہ ہے کہ یہ سر زمین مرکز انبیاء ہے، اور ظاہری برکت آب و ہوا کا اعتدال۔
ووھبنا لہ اسحاق و یعقوب نافلۃً یعنی ہم نے ابراہیم کو بیٹا اسحٰق ان کی دعا کے مطابق دیا اور اس پر مزید پوتا دیا، یعقوب علیہ
السلام یعنی دعا تو صرف بیٹے کی تھی مگر ہم نے مزید برآں پوتا بھی دیدیا اسی وجہ سے اس کو نافلہ فرمایا ہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کو جس بستی سے نجات دینے کا ذکر آیات میں آیا ہے اس بستی کا نام سدوم تھا اس کے تابع سات بستیاں اور تھیں جن کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے الٹ کر تہ وبالا کردیا تھا صرف ایک بستی جس میں حضرت لوط (علیہ السلام) رہتے تھے باقی چھوڑ دی تھی۔ (قالہ ابن عباس ؓ
تعمل الخبائث خبائث خبیثہ کی جمع ہے بہت سے گندی اور خبیث عادتوں کو خبائث کہا جاتا ہے، یہاں ان کی سب سے خبیث اور گندی عادت جس سے جنگلی جانور بھی پرہیز کرتے ہیں لواطت تھی اور یہاں اسی ایک عادت کو اس کے بڑا جرم ہونے کی وجہ خبائث کہا گیا ہو تو یہ بھی بعید نہیں اور اس کے علاوہ بھی دوسری خبیث عادتوں کا ان میں ہونا روایات میں مذکور ہے، اس لحاظ سے بھی خبائث کہنا ظاہر ہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زادے (بھتیجے) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے اور ان کے ساتھ عراق سے ہجرت کرکے شام جانے والوں میں سے تھے اللہ نے ان کو بھی علم و حکمت یعنی نبوت سے نوازا تھا یہ جس علاقہ میں نبی بنا کر بھیجے گئے تھے اور اس کو عمورہ اور سدوم کہا جاتا ہے، یہ فلسطین کے بحر مردار سے متصل بجانب اردن ایک شاداب علاقہ تھا جس کا بڑا حصہ بحیرۂ مردار کا جز ہے ان کی قوم لواطت جیسے فعل شنیع، گزرگاہوں پر بیٹھ کر آنے جانے والوں پر آوازے کسنا اور انہیں تنگ کرنا کنکریاں پھینکنا وغیرہ میں ممتاز تھی جسے اللہ نے یہاں خبائث سے تعبیر کیا ہے، بالآخر حضرت لوط (علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں داخل کرکے یعنی انہیں اور ان کے متبعین کو بچا کر قوم کو تباہ کردیا گیا۔
Ayahs 21:76–82آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور یاد کیجئے نوح (علیہ السلام) کے اس وقت کو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) سے پہلے اپنے قول رب لاتذر الخ کے ذریعہ بددعاء فرمائی تو ہم نے ان کی دعا قبول کی تو ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو جو کہ اس کی کشتی میں (سوار) ہوئے کرب عظیم یعنی غرق ہونے سے اور اس کی قوم کے اس کی تکذیب کرنے سے نجات دی اور ہم نے اس کی مدد کی یعنی اس کی حفاظت کی اس قوم سے جس نے ہماری ان آیتوں کی تکذیب کی جو اس کی رسالت پر دلالت کرتی تھیں تاکہ برائی کے ساتھ اس تک رسائی نہ ہوسکے یقیناً وہ برے لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا اور داؤد اور سلیمان یعنی ان کے قصہ کا ذکر کیجئے اور واذکر داؤد اور سلیمان سے اذ یحکمان فی الحرث بدل ہے، جبکہ وہ کھیتی کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے وہ کھیتی یا تو غلہ کی تھی یا انگور کی جبکہ ایک قوم کی بکریاں اس میں جا گھسیں تھیں یعنی چروا ہے کے بغیر رات کو چر گئیں تھیں اس طریقہ سے کہ اس میں پھیل گئیں تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کو دیکھ رہے تھے اس میں دو کے لئے جمع کی ضمیر کا استعمال ہوا ہے، داؤد (علیہ السلام) نے کھیتی والے کے لئے (نقصان) کے عوض بکریوں کا فیصلہ کیا، اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کھیتی والا بکریوں کے دودھ اور ان کی نسل اور ان کی اون سے فائدہ اٹھائے یہاں تک کہ کھیتی بکریوں والے کی اصلاح سے اپنی سابقہ حالت پر لوٹ آئے تو کھیتی کا مالک بکریاں بکریوں کے مالک کو واپس کر دے، تو ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو فیصلہ کی سمجھ عطا فرمائی اور دونوں کا فیصلہ اجتہاد سے تھا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کی طرف رجوع فرمایا اور کہا گیا ہے کہ دونوں کے فیصلے وحی کے ذریعہ تھے لیکن ثانی فیصلہ اول کے لئے ناسخ ہے، اور ہم نے دونوں کو حکم یعنی نبوت اور امور دین کا علم عطا کیا تھا اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد (علیہ السلام) کے تابع کردیا تھا کہ وہ تسبیح کیا کرتے تھے اور اسی طرح پرندوں کو بھی تسبیح کے لئے داؤد (علیہ السلام) کے تابع کردیا تھا یعنی ان کے حکم کے تابع کردیا تھا کہ جب وہ سستی محسوس کرتے تھے تو ان کی تسبیح کا حکم دیتے تھے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ دونوں کی تسبیح خوانی کو مسخر کرنے والے ہم ہی تھے، اگرچہ داؤد (علیہ السلام) کے حکم پر (ان دونوں کا) لبیک کہنا تمہارے نزدیک عجیب تھا اور ہم نے تمہارے نفع کے لئے مجنملہ دیگر لوگوں کے داؤد (علیہ السلام) کو مخصوص لباس سازی کا ہنر سکھایا اور وہ زرہ تھی (اس کو لبوس کہا جاتا ہے) اس لئے کہ وہ پہنی جاتی ہے، حضرت داؤد (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے زرہ بنائی اور اس سے قبل لوہے کی پلیٹوں کا رواج تھا تاکہ ہم تم کو دشمن کے ساتھ جنگ میں ایک دوسرے کی زد سے بچائیں لنحصنکم اگر نون کے ساتھ ہو تو لنحصنکم کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہوگی اور یائے تحتانیہ کے ساتھ ہو تو ضمیر حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرف راجع ہوگی اور اگر تائے فوقانیہ کے ساتھ ہو تو ضمیر لبوس کی طرف راجع ہوگی، تو اے اہل مکہ کیا تم میری نعمتوں کا رسولوں کی تصدیق کرکے شکر گزار بنو گے یعنی رسولوں کی تصدیق کرکے میرا شکر ادا کرو اور ہم نے تابع کردیا سلیمان (علیہ السلام) کے تیز ہوا کو اور دوسری آیت میں رخاء ہے یعنی نرم ہوا کو یعنی تیز رفتار اور سست رفتار (دونوں قسم کو تابع کردیا) ان کے ارادہ کے مطابق وہ ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور وہ شام ہے اور ہم پر چیز سے باخبر ہیں اور ان تمام چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ علم بھی ہے کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) کو جو کچھ عطا کر رہا ہے وہ سلیمان (علیہ السلام) کو اپنے رب کے حضور خشوع و خضوع کی دعوت دے گا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے مقتضائے علم کے مطابق عمل کیا اور ہم نے بعض ایسے شیاطین کو تابع کردیا تھا کہ جو سلیمان کے لئے دریا میں گوطہ لگاتے تھے اور دریا سے سلیمان کے لئے جواہرات نکالتے تھے اور اس کے یعنی غوطہ خوری کے علاوہ تعمیر وغیرہ کا کام بھی کرتے تھے اور ان کی نگرانی کرنے والے ہم ہی تھے اس بات سے کہ جو کچھ وہ تیار کریں اس کو خراب نہ کردیں، اس لئے کہ ان کا یہ معمول تھا کہ جب وہ رات آنے سے پہلے کام سے فارغ ہوجاتے تھے تو اگر ان کو دوسرے کام میں مشغول نہ کیا جاتا تو جو کچھ کیا ہوا کام ہوتا تھا اس کو خراب کردیتے تھے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : نوحا اس کے منصوب ہونے کی دو وجہ ہوسکتی ہیں (1) اس کا عطف لوطاً پر ہو اس صورت میں اس کا عامل ناصب وہی ہوگا جو لوطاً کا ہے اور وہ آتینا محذوف ہے جس کی تفسیر آتینہٗ مذکور کر رہا ہے اور اسی طرح داؤد و سلیمان میں بھی ہوگا اور تقدیر عبارت یہ ہوگی ونوحاً آتیناہ حکما وداؤد و سلیمان آتیناھُما حکمًا اس صورت میں اذ نادیٰ نوحًا سے بدل الاشتمال ہوگا (2) اذکر فعل محذوف اس کا ناصب ہو، جیسا کہ صاحب جلالین نے اشارہ کیا ہے نوحًا سے پہلے مضاف محذوف ہے ای اذکر قصتہٗ اس صورت میں اذ نادیٰ مضاف محذوف کی وجہ سے منصوب ہوگا ای خبرھم الواقع فی وقت کان کیت وکیت۔ وقولہ : من قبل ای قیل ھؤلاء المذکورین، حضرت نوح (علیہ السلام) چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے اور ساڑھے نو سو سال تک قوم کو تبلیغ کی اور طوفان کے بعد ساٹھ سال بقید حیات رہے، اس حساب سے آپ کی عمر مبارک ایک ہزار پچاس سال ہوئی اذا نادیٰ نوحا سے بدل الاشتمال ہے نادیٰ کی تفسیر دعا علی قومہ سے کرکے اشارہ کردیا کہ نادیٰ بمعنی دعا علیہ ہے جو کہ بددعاء کے لئے مستعمل ہے۔
قولہ : ونصرناہٗ کی تفسیر منعناہٗ سے کرکے اشارہ کردیا کہ نَصَرَ مَنَعَ کو متضمن ہے جس کی وجہ سے اس کا صلہ من لانا درست ہے ورنہ تو نصر کا صلہ علیٰ آتا ہے۔ قولہ : أن لایصل الیہ ای لئلا یصل الیہ بسوء یہ منعناہ کی علت ہے واذکر داؤد و سلیمان حضرت داؤد (علیہ السلام) سو سال بقید حیات رہے، حضرت داؤد اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان پانچ سو انہتر سال کا وقفہ ہے، اور حضرت سلیمان پانچ سو انسٹھ سال بقید حیات رہے اور حضرت سلیمان اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان ایک ہزار سات سو سال کا فاصلہ ہے (جمل)
قولہ : زرع غلہ کی کھیتی کرم انگور کی کھیتی۔ قولہ : نفشت النفش الرعی باللیل بلا راعٍ بغیر چروا ہے کے بکریوں کا رات میں کھیتی کو چر کر خراب کردینا بابہ (ض، ن، س) اور ھمل کہتے ہیں دن میں بغیر چروا ہے کے کھیتی کو چر کر خراب کردینا، لحکمھم میں تثنیہ کے بجائے جع کی ضمیر یا تو مجازاً استعمال ہوتی ہے یا اقل جمع کے طور پر رقاب الغنم ای عوضاً عمافات من حرثہ۔ قولہ : یسبحن، الجبال سے حال ہے ای مسبحۃ اور بعض حضرات نے جملہ مستانفہ بھی کہا ہے گویا کہ کسی سائل نے سوال کیا کیف سخرھن ؟ فقال یسبحن۔ قولہ : والطیر الجبال پر عطف کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتا ہے اور مفعول معہ کی وجہ سے بھی، بعض قرأتوں میں والطیرُ مرفوع بھی ہے، اس صورت میں یا تو یہ مبتداء ہوگا اور اس کی خبر محذوف ہوگی ای والطیر مسخرات ایضًا یا یسبحن کی ضمیر پر عطف ہوگا لیکن اس صورت میں ضمیر منفصل کے ذریعہ تاکید یا فصل ضروری ہوگا مگر یہ بصریین کے نزدیک ہے کو فیین کے نزدیک ضروری نہیں ہے۔
قولہ : لامرہٖ بہٖ مصدر اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے اور مفعول محذوف ہے ای لامر داؤد لھما بہٖ ای بالتسبیح اذا وجد داؤد فترۃً یعنی داؤد (علیہ السلام) جب ذکر و تسبیح میں سستی محسوس کرتے تھے تو پہاڑوں اور پرندوں کو تسبیح کرنے کا حکم فرماتے تھے تاکہ ذکر و تسبیح کی فضا قائم ہو کر نشاط پیدا ہوجائے اور سستی ختم ہوجائے صفائح جمع صفیحۃ ہر چوڑی چیز، پتھر کی ہو یا لوہے کی لکم علمنا کے متعلق ہے اور کائن محذوف سے متعلق ہو کر لبوس کی صفت بھی ہوسکتی ہے ای لبوسٌ کائنٌ لکم پہلی صورت میں لام تعلیل کے لئے ہوگا ای علمناہ لاجلکم اور لیحصنکم اعادہ جار کے ساتھ بدل ہوگا ای لکم لاحصانکم اور دوسری صورت میں علمنا سے متعلق ہوگا۔
قولہ : فی جملۃ الناس ای مع جملۃ الناس من جملۃ الناس سے اس شبہ کا جواب ہے کہ لکم کے مخاطب اہل مکہ ہیں حالانکہ اہل مکہ حضرت داؤد کے زمانہ میں موجود بھی نہیں تھے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایسی نعمت ہے کہ جو بعد میں منجملہ دیگر لوگوں کے اہل مکہ کو بھی پہنچی۔ قولہ : بحسب ارادتہٖ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے سوال یہ ہے کہ یہاں ریح کی صفت عاصفۃ لائی گئی ہے جس کے معنی ہیں تیز ہوا اور دوسری آیت میں رخاء کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں نرم ہوا، دونوں میں تنافی اور تضاد معلوم ہوتا ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہوا کی شدت اور رخاءت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ارادہ کے مطابق ہوتی تھی جیسا حکم فرماتے ہوا ویسی ہی چلتی تھی۔ قولہ : من ذٰلک علمہ تعالیٰ یہ خبر مقدم ہے اور علمہ بأن ما یعطیہ الخ مبتداء مؤخر ہے۔ قولہ : من یغوضون لہ من موصولہ اور موصوفہ دونوں ہوسکتا ہے اور الریح پر عطف ہونے کی وجہ سے جملہ ہو کر محلا منصوب ہوگا ای سخرنا لہ الریح عاصفۃ ومن یغوصون لہ اور یغوصون کو جمع لانا من کے معنی کی رعایت کی وجہ سے ہے۔
تفسیر و تشریح
ونوحا اذنادی من قبل، من قبل سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) سے پہلے ہونا مراد ہے، اس آیت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی نداء (بددعاء) کا ذکر مجملاً واشارۃً آیا ہے، اس کا بیان سورة نوح میں صراحتاً اور تفصیلاً آیا ہے، اور وہ یہ ہے رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیاراً یعنی اے میرے پروردگار روئے زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو نہ چھوڑ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا اس طرح قبول فرمائی، کہ پوری قوم کو غرق طوفان کردیا، کرب عظیم سے مراد کیا ہے، کرب عظیم سے یا تو وہ عمومی طوفان مراد ہے جس میں پوری قوم غرق ہوئی اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات ملی یا کرب عظیم سے وہ ایذائیں مراد ہیں جو طوفان سے پہلے ان کی قوم ان کو اور ان کے مومن ساتھیوں کو پہنچاتے تھے، اسی کو اللہ تعالیٰ نے فاستجبنا لہٗ فنجینہ وأھلہ من الکرب العظیم سے بیان فرمایا ہے۔
واذکر داؤد و سلیمان حضرات مفسرین نے یہ قصہ اس طرح بیان کیا ہے کہ ایک شخص کی بکریاں دوسرے شخص کے کھیت میں رات کے وقت جاگھسیں اور اس کی کھیتی کو چر کر صاف کردیا حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس اپنا مقدمہ لیکر آئے حضرت داؤد (علیہ السلام) جو کہ پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ حکمراں بھی تھے، یہ فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والے کے حوالہ کردی جائیں تاکہ اس کے نقصان کی تلافی ہوجائے، غالبا بکریوں کی قیمت کھیت کے نقصان کے برابر تھی، یہ دونوں مدعی اور مدعیٰ علیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی عدالت سے واپس ہوئے تو داؤد (علیہ السلام) کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ملاقات ہوگئی، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دریافت فرمایا کہ تمہارے مقدمہ کا کیا فیصلہ ہوا ؟ ان لوگوں نے فیصلہ سنایا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میں اس مقدمہ کا فیصلہ کرتا تو کچھ اور ہوتا جو فریقین کے لئے زیادہ نافع اور مفید ہوتا جب حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ بات معلوم ہوئی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے معلوم کیا کہ وہ فیصلہ کیا ہے جو دونوں فریق کے لئے اس فیصلہ سے بہتر ہے ؟ تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ تمام بکریاں کھیت والے کو دیدیں کہ وہ ان کے دودھ اور اون وغیرہ سے فائدہ اٹھائے اور کھیت بکریوں والے کے حوالہ فرما دیں کہ وہ کھیت میں کاشت کرکے کھیت کی اصلاح کرے اور جب کھیت اپنی سابقہ حالت پر آجائے تو کھیت، کھیت والے کو اور بکریاں بکریوں والے کو دلوا دیں، حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ فیصلہ پسند آیا اور فرمایا بس اب فیصلہ یہی رہنا چاہیے۔
امام تفسیر مجاہد (رح) کا قول یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) دونوں کے فیصلے اپنی جگہ درست ہیں، حقیقت اس کی یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے جو فیصلہ فرمایا تھا وہ ضابطہ کا فیصلہ تھا، اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو فرمایا وہ درحقیقت مقدمہ کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ فریقین میں صلح کرانے کا ایک طریقہ تھا، اور قرآن میں والصلح خیر کا ارشاد وارد ہوا ہے، اس لئے یہ دوسری صورت اللہ کے نزدیک پسندیدہ ٹھہری۔ (مظہری)
حضرت عمر ؓ نے اپنے قاضیوں کو ہدایت دے رکھی تھی کہ جب آپ کے پاس دونوں فریقوں کا مقدمہ آئے تو پہلے ان دونوں میں رضا مندی کے ساتھ صلح کرانے کی کوشش کریں اگر یہ ناممکن ہوجائے تو اپنا شرعی فیصلہ جاری کریں، اور حکمت اسکی یہ ارشاد فرمائی کہ حاکمانہ عدالتی فیصلے سے وہ شخص جس کے خلاف فیصلہ ہوا ہو رب تو جاتا ہے مگر ان دونوں کے درمیان بغض و عداوت کا بیج قائم ہوجاتا ہے جو دو مسلمانوں میں نہیں ہونا چاہیے، بخلاف مصالحت کی صورت کے کہ اس سے دلوں کی منافرت بھی دور ہوجاتی ہے۔ (از معین الاسلام بحوالہ معارف القرآن)
فیصلہ کرنے کے بعد قاضی کا فیصلہ بدلا جاسکتا ہے یا نہیں، یا کسی کے جانور دوسرے آدمی کی جان یا مال کو نقصان پہنچا دیں تو فیصلہ کیا ہونا چاہیے ؟ ان سب مسائل فقہیہ کی تفصیل کیلئے قرطبی یا معارف القرآن کی طرف رجوع کریں۔
وسخرنا مع داؤد الجبال الآیۃ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کے تسبیح پڑھنے کا یہ مقصد نہیں کہ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) تسبیح پڑھتے تو اس کی آواز بازگشت پہاڑوں سے سنائی دیتی تھی اس لئے کہ یہ بات تو ہر شخص کے ساتھ ہوسکتی ہے پھر داؤد (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت رہی ؟ حالانکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی اس صفت کو قرآن کریم نے بطور خاص ذکر کیا ہے اور بطور معجزہ کے بتایا ہے اور معجزہ کے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ پرندوں اور پہاڑوں میں حیات و شعور ہو بلکہ بطور معجزہ ہر غیر ذی شعور میں بھی شعور پیدا ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ تحقیق بھی ہے کہ پہاڑوں اور پتھروں میں بھی ان کی حیثیت کے بقدر شعور موجود ہے۔
انا کنا فاعلین یعنی یہ تفہیم، ایتائے حکم اور تسخیران سب کے کرنے والے ہم ہی تھے اس لئے ان میں کسی کو تعجب یا انکار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں۔
وعلمناہٗ صنعۃ لبوس الآیۃ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زرہ سازی کی صنعت سکھانے کا سبب یہ ہوا کہ ایک روز حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس سے دو فرشتے انسانی شکل میں گزرے ایک نے دوسرے سے کہا، داؤد کیا ہی خوب شخص تھا اگر بیت المال سے اپنا خرچ نہ لیتا، تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ یا الٰہ العالمین تو مجھے کوئی ایسی صنعت سکھا دے جس کے ذریعہ میں اپنی روزی کما سکوں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اپنی پسندیدہ لوہے کی صنعت سکھائی اور ان کے لئے لوہے کو موم کے مانند نرم کردیا وہ بغیر گرم کئے جس طرح چاہتے لوہے کو موڑ لیتے تھے، حلقہ اور کڑیوں دروازہ سب سے اول حضرت داؤد (علیہ السلام) ہی نے بنائی اگرچہ پلیٹ اور تختوں کی شکل میں زرہ کا استعمال پہلے سے بھی تھا۔
و سلیمان الریح عاصفۃ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جہادی گھوڑوں کے معائنہ میں مشغول ہونے کی وجہ سے عصر کی نماز قضا ہوگئی تو ان کو بہت غم و غصہ ہوا اور چونکہ بظاہر گھوڑے قضاء صلوٰۃ کا سبب ہوئے تھے، جس کی وجہ سے آپ کو الغضب للہ کے قاعدہ سے گھوڑوں پر غصہ آیا جس کی وجہ سے آپ نے گھوڑوں کو ذبح کردیا، اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کے بجائے ان سے بھی تیز رفتار ہوا کو آپ کے حکم کے تابع کردیا، یعنی جس طرح پہاڑ اور پرندے ان کے والد حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لئے مسخر کر دئیے گئے تھے اسی طرح ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا گیا تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے اعیان سلطنت سمیت تخت پر بیٹھ کر جہاں چاہتے مہینوں کی مسافت ساعتوں اور لمحوں میں طے کرکے وہاں پہنچ جاتے، ہوا آپ کے تخت کو اڑا کرلے جاتی۔
وَمِنَ الشیطٰین الآیۃ یعنی جنات بھی حضرت سلیمان کے تابع تھے جو ان کے حکم سے سمندروں میں غوطے لگاتے اور موتی اور جواہرات نکال لاتے اسی طرح دیگر عمارتی کام بھی انجام دیتے جو آپ چاہتے تھے۔
وکنالھم حافظین مفسرین نے اس کے دو مطلب بیان فرمائے ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ کے ضمن میں بیان ہوا ہے اور جس کی مفسر علام نے بھی صراحت کی ہے وہ یہ کہ رات آنے سے پہلے اگر وہ کام سے فارغ ہوجاتے تو کیا ہوا کام خراب کردیتے تھے، اس کے لئے یہ ضروری ہوتا تھا کہ اگر رات آنے سے پہلے وہ مفوضہ کام سے فارغ ہوجائیں تو ان کو دوسرا کام سپرد کردیا جائے، دوسرا مطلب مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ باوجود یکہ جنات میں سرکشی اور نافرمانی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے جس کا مقتضیٰ تھا کہ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نافرمانی کریں یا خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی کو گزند پہنچائیں مگر ہم ہی ان کو قابو میں کئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ حکم عدولی و گزند پہنچانے پر قادر نہیں ہوتے تھے۔