21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 21:83–93

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے ولا ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا، بلاشبہ وہ نیکوکار تھے۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور ذو النون کو (یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑو اور تو سب سے بہتر وارث ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کو ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

آیت نمبر 83 تا 93 ترجمہ : اور یاد کرو ایوب (علیہ السلام) کی حالت کو اذ نادیٰ ربہ ایوب سے بدل ہے، جبکہ ان کو ان کے تمام مال و اولاد کو ہلاک کرکے اور ان کے جسم کو پارہ پارہ کرکے اور ان کی بیوی کے علاوہ تمام لوگوں کے ان کو تین سالوں یا سات سالوں یا اٹھارہ سالوں تک چھوڑ دینے اور ان کو تنگ زندگی کے ذریعہ آزمایا گیا انی ہمزہ کے فتحہ اور با کی تقدیر کے ساتھ ہے، یعنی اس وقت کو یاد کرو جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف لاحق ہوگئی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو ان کے اہل یعنی اولاد ذکور اور اناث عطا کئے اس طریقہ سے کہ وہ زندہ کر دئیے دونوں جنسیں (مذکرو مؤنث) تین تین تھے یا سات سات اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی ان کی بیوی سے اور ان کی بیوی پر شباب لوٹا دیا گیا، اور ان کا ایک کھلیان گندم کا تھا اور ایک جو کا، تو اللہ تعالیٰ نے دو بدلیاں بھیجیں ایک بدلی نے گندم کے کھلیان پر سونا برسایا اور دوسری نے جو کے کھلیان پر چاندی برسائی یہاں تک کہ بہہ پڑے اپنی خصوصی رحمت کی وجہ سے رحمۃ آتینہ کا مفعول لہ ہے اور من عندنا (کائنۃً ) سے متعلق ہو کر رحمۃً کی صفت ہے اور بندگی کرنے والوں کی نصیحت کے لئے تاکہ صبر کریں پس ان کو ثواب عطا کیا جائے، اور اسماعیل و ادریس وذوالکفل (علیہ السلام) کا تذکرہ کیجئے یہ سب صابرین میں سے تھے اللہ کی اطاعت پر اور اس کی معصیت سے باز رہنے پر اور ہم نے ان سب حضرات کو اپنی رحمت یعنی نبوت میں داخل کرلیا تھا اور ان میں اس (نبوت) کی صلاحیت تھی اور ذوالکفل کا ذوالکفل اس وجہ سے نام رکھا گیا کہ انہوں نے دن میں روزہ رکھنے کو اور پوری رات نماز پڑھنے کو اور اس بات کو کہ لوگوں کے درمیان مقدمات کا فیصلہ کریں گے اور غصہ نہ کریں گے لازم کرلیا تھا چناچہ انہوں نے اس ذمہ داری کو خوب نبھایا، کہا گیا ہے کہ ذوالکفل نبی نہیں تھے اور ذوالنون یعنی مچھلی والے کا تذکرہ کیجئے اور وہ یونس بن متی ہیں اور اذ ذھب مغاضبا ذوالنون سے بدل ہے یعنی اس وقت کو یاد کرو کہ جب مچھلی والا اپنی قوم سے ان کی طرف سے تکلیف اٹھانے کی وجہ سے ناراض ہو کر چل دیا حالانکہ اس کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی تو اس نے یہ سمجھا کہ ہم بغیر اجازت چلے جانے پر کچھ داروگیر نہ کریں گے یعنی مچھلی کے پیٹ میں قید کرنے کا جو فیصلہ ہم نے کرلیا ہے وہ نہ کریں گے، یا اس کی وجہ سے ہم اس پر تنگی نہ کریں گے آخر کار وہ اندھیروں میں پکار اٹھا یعنی رات کی ظلمت اور دریا کی ظلمت اور مچھلی کے پیٹ کی ظلمت سے کہ اے الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں سے ہوگیا بغیر اجازت قوم کے درمیان سے چلے جانے کی وجہ سے تو ہم نے اس کی دعا سن لی اور مذکورہ کلمات دعاء کی بدولت اس کو غم سے نجات دیدی اور جس طرح اس کو بچا لیا اسی طرح ہم ایمان والوں کو ان کے کرب سے بچا لیا کرتے ہیں جب وہ ہم سے دعا کرتے ہوئے فریاد کرتے ہیں اور زکریا کا تذکرہ کرو اذ نادیٰ ربہ زکریا سے بدل واقع ہے، جب اس نے اپنے رب کو رب لاتذرنی فردا کے الفاظ سے پکارا یعنی اے میرے پروردگار تو مجھے تنہا یعنی بلاولد کے جو میرا وارث ہو نہ چھوڑئیے اور تو سب سے بہتر وارث ہے یعنی تیری تمام مخلوق کے فنا ہونے کے بعد تو ہی باقی رہنے والا ہے تو ہم نے اس کی دعا کو قبول کرلیا اور ہم نے اس کو یحییٰ لڑکا عطا کیا اور ہم نے اس کے لئے اس کی بیوی کو درست کردیا اور نابجھ رہنے کے بعد اس نے بچہ جنا اور بیشک وہ لوگ یعنی وہ انبیاء جن کا ذکر ہوا نیک کاموں یعنی طاعتوں میں جلدی سبقت کرتے تھے اور وہ ہم کو امید و بیم یعنی ہماری رحمت کی امید اور ہمارے عذاب کے خوف کے ساتھ ہم کو پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے یعنی اپنی عبادت میں خشوع و خضوع کرنے والے تھے اور بی بی مریم کا بھی تذکرہ کیجئے جس نے اپنی ناموس کی حفاظت کی یعنی اس تک رسائی دینے سے اس کی حفاظت کی اور ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اس طریقہ سے کہ اس کے گریبان میں پھونک ماردی چناچہ بی بی مریم عیسیٰ (علیہ السلام) سے حاملہ ہوگئیں اور ہم نے خود ان کو اور ان کے بیٹے کو عالم والوں یعنی انسانوں اور جناتوں اور فرشتوں کے لئے نشانی بنادیا اس لئے کہ انہوں نے مرد کے بغیر بچہ جنا بیشک یہ یعنی ملت اسلامیہ اے مخاطبو ! تمہاری ایک ہی ملت ہے تمہارے لئے ضروری ہے کہ اس پر قائم رہو امۃً واحدۃً حال لازمہ ہے اور میں تم سب کا رب ہوں لہٰذا میری ہی بندگی کرو یعنی میری توحید کے قائل ہوجاؤ مگر بعض مخاطبین آپس میں اپنے دین میں فرقہ بندیاں کرلیں یعنی اپنے دینی معاملہ میں اختلاف کرنے کی وجہ سے متفرق ہوگئے اور وہ یہود و نصاریٰ کے گروہ تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سب کے سب ہماری طرف لوٹنے والے ہیں یعنی ہم ان میں سے ہر ایک کے عمل کا بدلہ دیں گے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد واذکر ایوب ویبدل منہ اذ نادی ربہ اذ نادیٰ ربہ ایوب یعنی اس کے مضاف محذوف سے بدل ہے ای خیر ایوب سے۔ قولہ : لما ابتلی نادیٰ کے متعلق ہے۔ قولہ : وضیق عیشہ اور ضیق مبنی للمفعول پڑھا جائے تو ابتلیٰ پر عطف ہوگا، اور ضیق مصدر پڑھا جائے تو فقد پر عطف ہوگا اور با کے تحت ہوگا ای ابتلی بضیق عیشہ۔ قولہ : سنین ثلاثاً یہ ابتلی کا ظرف ہے۔ قولہ : اندر بروزن بندر کھلیان (ج) انادرٌ اہل شام کی زبان بیدر بروزن خیبر کہتے ہیں موضع الذی ید اس فیہ الطعام۔ قولہ : رحمۃ یہ آتیناہ کا مفعول لہ ہے، اور فعل مقدر کا مفعول مطلق بھی ہوسکتا ہے ای رحمناہ رحمۃ (والاول اظہر) ۔ قولہ : من عندنا رحمۃً کی صفت ہے ای رحمۃً کائنۃً من عندنا اور ذکریٰ للعابدین میں عابدین کی تخصیص اس لئے ہے کہ اس قسم کے واقعات سے عابدین ہی منتفع ہوتے ہیں۔ قولہ : لیصبروا ای کما صبر ایوب فاثیب۔ قولہ : واذخلنھم کا عطف فعل مقدر پر ہے ای فاعطیناھم ثواب الصابرین وادخلنھم فی رحمتنا۔ قولہ : وذا الکفل ان کا نام بشر ابن ایوب (علیہ السلام) ہے اور ذوالکفل ان کا لقب ہے ذوالنون یہ لقب ذوالنون ہوگیا۔ قولہ : مغاضبًا یہ ذھب کی ضمیر سے حال اور باب مفاعلہ سے ہے جو اکثر مشارکت کے لئے آتا ہے مگر یہاں مشارکت کے لئے نہیں ہے بلکہ عاقبت اللص کے قبیل سے ہے یعنی وہ قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے مفسر علام نے ای غضبان کا اضافہ اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مشارکت کے لئے ہو یعنی یہ اپنی قوم سے ناراض ہوئے اور قوم ان سے ناراض تھی اس لئے کہ ابتداء امر میں قوم ایمان نہیں لائی تھی۔ قولہ نقضی علیہ الخ کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ لن نقدِرَ علیہ قَدْرٌ سے مشتق ہے نہ قدرۃ سے قدرٌ کے معنی فیصلہ کرنے یا تنگی کرنے کے ہیں، لہٰذا لن نقدر علیہ کے معنی یا تو لن نقضی علیہ کے ہوں گے یعنی جو ہم فیصلہ کرچکے ہیں اس کا نفاذ نہ کریں گے، یا معنی یہ ہوں گے کہ ان پر تنگی نہ کریں گے، اور قدرۃ سے مشتق مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس پر قدرت نہیں رکھتے یہ کفر یہ عقیدہ ہے ایک عام مسلمان بھی ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتا چہ جائیکہ نبی، قولہ : أن لا الٰہ الا انت اس کی دو ترکیبین ہوسکتی ہیں (1) أن مخففہ عن المثقلہ ہو اور اس کا اسم محذوف ہو ای انہٗ اور اس کے بعد واقع ہونے والا جملہ منفیہ اس کی خبر ہو (2) أن تفسیر یہ ہو اس لئے کہ ان تفسیر یہ قول یا قول کے ہم معنی کے بعد واقع ہوتا ہے اور اس سے پہلے نادیٰ واقع ہے جو کہ قول کے ہم معنی ہے لہٰذا ان کا تفسیر یہ ہونا درست ہے۔ قولہ : یرثنی ای ارث نبوۃٍ وعلم وحکمۃٍ ۔ قولہ : وانت خیر الوارثین یہ مقدر پر معطوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے فارزقنی وارثا وانت خیر الوارثین۔ قولہ : عقم ای انسداد الرحم عن الولادۃ بالضمۃ والفتحۃ عقیم بانجھ جس میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہ ہو۔ قولہ : انھم کانوا یسارعون فی الخیرات یہ محذوف کی علت ہے ای نالوا ما نالوا لانھم کانوا یسارعون فی الخیرات یعنی ان حضرات کو جو فضائل و مراتب حاصل ہوئے اس کی علت تمام وجوہ خیرات کی طرف سبقت کرنا تھا اصل خیرات میں ثبات و استقرار کے ساتھ ساتھ، یسارعون کا صلہ الیٰ کے بجائے فی لانے میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : رغبا ورھبا یدعون کے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہوسکتے ہیں اور مصدر موقع حال میں واقع ہونے کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتے ہیں ای یدعون راغبین وراھبین۔ قولہ : احصنت فرجھا یہ موصوف محذوف کی صفت ہے جو کہ فعل محذوف اذکر کا معمول ہے جیسا کہ مفسر علام نے وضاحت کردی ہے ای اذکر مریم التی الخ۔ قولہ : آیۃ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آیتین کہنا چاہیے تھا مگر چونکہ والدہ اور ولد دونوں مل کر آیت تھے اس لئے آیۃ کو واحد لایا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک پر قیاس کرکے دوسرے کو حذف کردیا ہو اصل میں وجعلنھا آیۃ وابنھا آیۃ تھا، پہلی آیۃ کو ثانی پر قیاس کرتے ہوئے حذف کردیا۔ قولہ : امتکم اگر رفع کے ساتھ ہو تو انّ کی خبر ہوگی اور اگر نصب کے ساتھ ہو تو بدل یا عطف بیان۔ قولہ : امۃ واحدۃ یہ امتکم سے حال لازمہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اس لئے کہ امت کے اندر خود وحدت اور جمعیت کے معنی موجود ہیں اور امۃ واحدۃ سے بھی یہی سمجھ میں آرہا ہے گویا کہ امۃ واحدۃ امتکم کے لئے معنی کے اعتبار سے لازم ہے۔ قولہ : وھم طوائف الیھود والنصاریٰ اس کی تخصیص کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ مسلمانوں میں بھی تہتر فرقے ہوں گے۔ قولہ : وتقطعوا امرھم تقطعوا قطعوا کے معنی میں ہے اور امرھم اس کا مفعول بہ ہے اور امرھم کے معنی فی امرھم کے ہیں۔ تفسیر و تشریح حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ : حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصہ میں اسرائیلی روایات بڑی طویل ہیں، ان میں سے جن کو محدثین نے تاریخی درجہ میں قابل اعتماد سمجھا ہے وہ نقل کی جاتی ہیں، قرآن مجید سے تو صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کو کوئی شدید مرض لاحق ہوگیا تھا جس پر وہ صبر کرتے رہے بالآخر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس مرض سے نجات ملی اور یہ کہ اس بیماری کے زمانہ میں ان کی اولاد و احباب سب غائب ہوگئے خواہ موت کی وجہ سے یا اور کسی دوسری وجہ سے پھر حق تعالیٰ نے ان کو صحت و عافیت عطا فرمائی اور جتنی اولاد تھی وہ سب ان کو دیدی بلکہ اتنی ہی اور بھی دیدی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصہ کے بعض اجزاء تو مستند احادیث میں موجود ہیں، زیادہ تر تاریخی روایات ہیں، خازن نے کہا ہے کہ ایوب (علیہ السلام) روم کے باشندہ تھے اور ان کا نسب عیص بن اسحٰق (علیہ السلام) سے ملتا ہے ان کی والدہ لوط بن ہاران کی اولاد میں سے تھیں جو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زادہ تھے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے ابتداء میں ہر قسم کے مال و دولت زمین جائداد مکانات اور سواریوں نیز اولاد و حشم و خدم سے نوازا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے پیغمبرانہ آزمائش میں مبتلا کیا جس کی وجہ سے یہ سب چیزیں ختم ہوگئیں اور جسم میں بھی کوئی شدید قسم کی بیماری لگ گئی جس کی وجہ سے زبان اور قلب کے سوا کوئی حصہ صحیح سالم نہیں بچا اس حالت میں بھی زبان و قلب کو اللہ کی یاد میں مشغول رکھتے تھے اور اس کا شکر ادا کرتے رہتے تھے، اس شدید بیماری کی وجہ سے عزیزوں اور دوستوں اور پڑوسیوں نے ان کو الگ کرکے آبادی سے باہر ڈالدیا ان کے پاس ان کی بیوی جن کا نام رحمت بنت افراثیم بن یوسف بن یعقوب تھا کہ سوا کوئی نہیں جاتا تھا، بعض حضرات نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کا نام لیّا بنت منشا بن یوسف بتایا ہے، وہی ان کی خبر گیری کرتی تھی، حضرت ایوب (علیہ السلام) آبادی سے دور کوڑے کچرے کی جگہ سات سال اور چند ماہ پڑے رہے، بعض مفسرین نے اٹھارہ سال بیان کئے ہیں کبھی جزع فزع یا حرف شکایت زبان پر نہیں آیا، نیک بیوی نے عرض بھی کیا کہ آپ کی تکلیف بہت بڑھ گئی ہے، اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ تکلیف دور ہوجائے تو فرمایا کہ میں نے ستر سال صحیح تندرست اللہ کی بیشمار نعمت و دولت میں گزارے ہیں کیا اس کے مقابلہ میں سات سال بھی مصیبت کے گزارنے مشکل ہیں، پیغمبرانہ عزم و ضبط اور صبر و ثبات کا یہ عالم تھا کہ دعا کرنے کی بھی ہمت نہیں کرتے تھے کہ کہیں صبر کے خلاف نہ ہوجائے، بالآخر کوئی سبب پیش آیا کہ جس نے ان کو دعا کرنے پر مجبور کردیا اور یہ دعا صرف دعا ہی تھی کوئی بےصبری نہیں تھی حق تعالیٰ نے ان کے کمال صبر پر اپنے کلام میں مہر ثبت فرما دی ہے، فرمایا انا وجدناہ صابرا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب ایوب (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور ان کو حکم ہوا کہ زمین پر ایڑھ لگائیے یہاں سے صاف پانی کا چشمہ پھوٹے گا اس سے غسل کیجئے اور اس کا پانی پیجئے تو یہ تمام مرض ختم ہوجائے گا، حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اس کے مطابق کیا تو پورا بدن یکایک اپنی سابقہ اصلی حالت پر آگیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کا لباس بھیج دیا وہ زیب تن فرمایا، اور اس کوڑے کچرے سے الگ ہو کر ایک طرف بیٹھ گئے زوجہ محترمہ حسب عادت ان کی خبر گیری کے لئے آئیں تو ان کو اپنی جگہ نہ پاکر رونے لگیں، ایوب (علیہ السلام) جو ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے ان کو نہیں پہچانا اس لئے کہ حالت بدل چکی تھی، انہیں سے پوچھا کہ اے خدا کے بندے کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ بیمار جو یہاں پڑا رہتا تھا کہاں چلا گیا ؟ کیا کتوں اور بھیڑیوں نے اسے کھالیا، یہ سب سنکر حضرت ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں ہی ایوب ہوں مگر زوجہ محترمہ نے اب بھی نہیں پہچانا اور کہا اللہ کے بندے کیا آپ مجھ سے تمسخر کرتے ہیں تو ایوب (علیہ السلام) نے پھر فرمایا غور سے دیکھو میں وہی ایوب ہوں اللہ نے میری دعا قبول فرمائی اور میرا بدن درست فرما دیا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کا مال و دولت بھی ان کو واپس دیدیا اور اولاد بھی اور اولاد کی تعداد کے برابر مزید اولاد بھی دیدی۔ (ابن کثیر مع الحذف ) ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ لڑکے اور سات لڑکیاں تھیں اس ابتلا کے زمانہ میں یہ سب فوت ہوگئے تھے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت عطا فرما دی ان کو بھی دوبارہ زندہ کردیا اور ان کی اہلیہ سے اتنی ہی اور اولاد پیدا ہوگئی جس کو قرآن کریم نے ومثلہٗ معہٗ فرمایا ہے، ثعلبی نے کہا ہے یہ قول ظاہر آیت قرآن کے ساتھ اقرب ہے (قرطبی) واذکر اسمعیل وادریس حق سبحانہ و تعالیٰ نے صبر ایوب کا تذکرہ فرمایا اس کے ساتھ ان حضرات کے صبر کا بھی تذکرہ فرما دیا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا خود کو ذبح کے لئے بخوشی پیش کردینا ایک عظیم ابتلاء و آزمائش تھی جس میں آپ کامیاب رہے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ایک سو تیس سال بقید حیات رہے جس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا انتقال ہوا اس وقت اسماعیل (علیہ السلام) کی عمر 83 سال تھی اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے برادر خورد اسحٰق آپ سے چودہ سال چھوٹے تھے اور 180 سال کی عمر پائی۔ (جمل) ذا الکفل یہ لقب ہے اصل نام بشر ہے کہا گیا ہے کہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے ہیں، چونکہ انہوں نے دن میں روزہ رکھنا اور رات کو قیام کرنا اور کسی پر غصہ نہ کرنے کو اپنے ذمہ لازم کرلیا تھا اسی مناسبت سے ان کا لقب ذوالکفل ہوگیا، کہا گیا ہے کہ ذوالکفل نبی نہیں تھے بلکہ عبد صالح تھے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ نبی تھے اور قرآن کے اسلوب سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ قرآن کریم نے انبیاء کو شمار کراتے ہوئے درمیان میں ان کا ذکر بھی کیا ہے اس کے علاوہ اس سورت کا نام ہی سورة الانبیاء ہے، مگر بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی نہیں تھے بلکہ مرد صالح تھے (امام تفسیر) ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے کہ حضرت یسع کا بنی ہونا قرآن کریم سے ثابت ہے حضرت یسع جب بوڑھے اور ضعیف ہوگئے تو چاہا کہ کسی کو اپنا خلیفہ بنادیں جو دینی امور میں ان کی نیابت کا کام انجام دے۔ اس مقصد کے لئے حضرت یسع نے اپنے تمام اصحاب کو جمع کیا کہ اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں مگر اس کے لئے تین شرطین ہیں جو شخص ان شرائط کا جامع ہوگا اس کو خلیفہ بناؤں گا، وہ تین شرطیں یہ ہیں وہ ہمیشہ روزہ رکھتا ہو رات کو عبادت کے لئے بیدار رہتا ہو اور کبھی غصہ نہ کرتا ہو، مجمع میں سے ایک ایسا غیر معروف شخص کھڑا ہوا جس کو لوگ حقیر سمجھتے تھے اور کہا کہ میں اس کام کے لئے حاضر ہوں حضرت یسع (علیہ السلام) نے دریافت کیا کہ تم یہ تینوں کام کرتے ہو جواب دیا میں ان تینوں کاموں کا عامل ہوں، غالباً حضرت یسع (علیہ السلام) کو اس کی بات کا یقین نہ آیا پھر دوسرے روز اسی طرح مجمع سے خطاب فرمایا مگر سب حاضرین خاموش رہے اور وہی شخص پھر کھڑا ہوگیا تو مجبوراً حضرت یسع (علیہ السلام) نے ان کو اپنا خلیفہ نام زد کردیا، جب شیطان نے دیکھا کہ ذوالکفل اس میں کامیاب ہوگئے تو اپنے اعوان شیطین سے کہا کہ جاؤ کسی طرح اس شخص پر اثر ڈالو کہ یہ کوئی ایسا کام کر بیٹھے کہ جس کی وجہ سے اس کا یہ منصب سلب ہوجائے، اعوان شیطان نے عذر کردیا کہ وہ ہمارے قابو میں آنے والا نہیں ہے، شیطان نے کہا اچھا تم اس کو میرے اوپر چھوڑ دو اس سے میں خود نمٹ لوں گا، ذوالکفل اپنی عادت کے مطابق دن کو روزہ رکھتے اور رات بھر بندگی خدا میں جاگتے رہتے تھے صرف دوپہر کو تھوڑی دیر آرام کرتے تھے، ایک روز شیطان دوپہر کو ان کے قیلولہ کے وقت آیا اور دروازہ پر دستک دی یہ بیدار ہوگئے اور فرمایا کون ہے ؟ شیطان نے کہا میں ایک بوڑھا مظلوم ہوں ذوالکفل نے دروازہ کھول دیا شیطان نے اندر پہنچ کر ایک طویل داستان بیان کرنی شروع کردی اور ایک شخص کے ساتھ اپنے نزاع کا تفصیل سے ذکر کیا، یہاں تک کہ آرام کا وقت ختم ہوگیا، حضرت ذوالکفل نے فرمایا جب میں کچہری میں بیٹھوں تو میرے پاس آنا میں تمہارا حق دلوا دوں گا، جب ذوالکفل باہر تشریف لائے تو عدالت میں اس کا انتظار کرتے رہے مگر اس کو نہیں پایا، جب دوپہر کو قیلولہ کے لئے گھر تشریف لے گئے اور آرام کے لئے ابھی لیٹے ہی تھے کہ یہ شخص آیا اور دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا، معلوم کیا کون ہے ؟ جواب دیا ایک مظلوم بوڑھا شخص ہے انہوں نے پھر دروازہ کھول دیا اور فرمایا کہ کیا میں نے کل تم سے نہیں کہا تھا کہ کچہری میں آنا، بوڑھے نے جواب دیا حضرت میرے مخالف بڑے خبیث لوگ ہیں جب انہوں نے دیکھا کہ آپ فیصلہ کے لئے اپنی مجلس میں بیٹھے ہیں اور میں حاضر ہوں تو آپ ان کو میرا حق دینے پر مجبور کردیں گے، تو اس وقت ان لوگوں نے اقرار کرلیا کہ ہم تیرا حق دیتے ہیں پھر جب آپ مجلس سے اٹھ گئے تو انکار کردیا، حضرت ذوالکفل نے پھر اس سے یہی فرمایا کہ اب جاؤ اور جب میں مجلس عدالت میں بیٹھوں تو آناآج بھی دوپہر کا سارا وقت ختم ہوگیا اور آرام کا موقعہ بہ ملا جب باہر مجلس عدالت میں تشریف لے گئے تو اس بوڑھے کا انتظار کرتے رہے مگر بوڑھا شخص نہ آیا، اس طرح دوپہر کو آرام کئے بغیر دو روز گزر گئے جب تیسرا روز ہوا تو نیند کا بہت زیادہ غلبہ تھا اپنے اہل خانہ سے کہہ دیا کہ آج کسی کو اندر نہ آنے دینا، یہ بوڑھا پھر تیسرے روز اسی طرح آیا اور دروازہ پر دستک دینا چاہا تو لوگوں نے منع کردیا تو ایک روشندان کے ذریعہ اندر داخل ہوگیا اور اندر پہنچ کر دروازہ بجانا شروع کردیا، تیسرے روز بھی ذوالکفل کی نیند خراب ہوگئی اور دیکھا کہ ایک شخص گھر کے اندر ہے اور دروازہ بدستور بند ہے، اس سے معلوم کیا تو کس طرح اندر آگیا اس وقت ذوالکفل نے پہچان لیا کہ یہ شیطان ہے اور فرمایا کیا تو خدا کا دشمن ابلیس ہے ؟ اس نے اقرار کرلیا اور کہنے لگا کہ تو نے مجھے ہر تدبیر میں ناکام کردیا کبھی میرے جال میں نہیں آیا، اب میں نے یہ کوشش کی کہ کسی طرح تجھے غصہ دلادوں تاکہ تو اپنے اقرار میں جھوٹا ہوجائے جو یسع نبی کے ساتھ کیا ہے اس لئے میں نے یہ سب حرکتیں کیں، اسی واقعہ کی وجہ سے ان کو ذوالکفل کا خطاب دیا گیا کیونکہ ذوالکفل کے معنی ہیں ایسا شخص جو اپنے عہد اور ذمہ داری کو پورا کرے۔ (ابن کثیر بحوالہ معارف القرآن) واذکر ذوالنون ذوالنون اور صاحب الحوت یہ دونوں حضرت یونس (علیہ السلام) کے لقب ہیں اس کے معنی ہیں مچھلی والا، حضرت یونس (علیہ السلام) کو چونکہ چند روز مچھلی کے پیٹ میں رہنا پڑا تھا اس لئے ان کا لقب ذوالنون یا صاحب الحوت پڑگیا، اصل نام یونس ہے اور والد صاحب کا نام متّٰی بن شتّٰی ہے بعض حضرات نے متّٰی ان کی والدہ کا نام بتایا ہے، جیسا کہ ابن کثیر نے فرمایا ہے اس صورت میں ان کی نسبت ماں کی طرف ہوگی جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت ان کی والدہ مریم کی طرف ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کو موصل کی ایک بستی نینوا کی طرف لوگوں کو ہدایت کے لئے بھیجا گیا تھا، حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایمان اور عمل صالح، کی دعوت دی مگر قوم تمرد اور سرکشی پر اتر آئی اور ایمان لانے سے صاف انکار کردیا حضرت یونس (علیہ السلام) اپنی قوم سے ناراض ہو کر اور تین دن کے اندر اندر عذاب آنے کی دھمکی دیکر بستی سے نکل گئے اب قوم کو فکر ہوئی کہ اب عذاب آہی جائے گا، اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کے بعض آثار نمایاں بھی ہوگئے تھے، تو قوم نے اپنے شرک و کفر سے توبہ کی اور تمام مرد اور عورت جانور اور بچے تو بہ استغفار کے لئے جنگل میں نکل گئے اور حق تعالیٰ کے حضور خوب گریہ وزاری کی اور عذاب سے پناہ بھی طلب کی اللہ تعالیٰ نے ان کی الحاح وزاری کو دیکھ کر ان کی توبہ کو قبول کرلیا اور عذاب بھی ٹال دیا۔ جب حضرت یونس (علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ قوم صحیح سلامت ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ٹال دیا ہے تو ان کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ میں تین روز کے اندر اندر عذاب کی دھمکی دے کر آیا ہوں اور عذاب آیا نہیں ہے لہٰذا لوگ مجھے جھوٹا خیال کریں گے جس کی وجہ سے اب میری دعوت ان پر اثر نہ کرے گی بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم میں جھوٹے کی سزا قتل تھی لہٰذا حضرت یونس (علیہ السلام) کو اندیشہ ہوا کہ قوم مجھے قتل کر دے گی اسی اندیشہ کے پیش نظر حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں واپس جانے کے بجائے دوسری جگہ ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا راستہ میں ایک دریا پڑتا تھا دریا عبور کرنے کے لئے کشتی میں سوار ہوگئے اتفاق سے کشتی گرداب میں پھنس گئی، ملاحوں نے اپنے تجزبہ کی بنیادی پر کہا کہ کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو اپنے مولیٰ سے فرار ہو کر آیا ہے، ملاحوں نے مفرور شخص کو متعین کرنے کے لئے قرعہ اندازی کی با ربار قرعہ اندازی کرنے کے باوجود قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام ہی نکلا ملاحوں نے مجبور ہو کر حضرت یونس (علیہ السلام) کو دریا میں ڈال دیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک مچھلی کو حکم دیا کہ یونس کو فوراً اپنے پیٹ میں رکھ لے اور فرمایا کہ وہ اس کی غذا نہیں ہے، بلکہ چند روز کے لئے قید خانہ ہے حضرت یونس (علیہ السلام) باختلاف روایات تین دن، سات دن، بیس دن، چالیس دن مچھلی کی پیٹ میں رہے، اسکے بعد مچھلی کو حکم ہوا کہ دریا کے کنارے پر ڈالدے، چناچہ مچھلی نے کنارے پر ڈالدیا ادھر اللہ تعالیٰ نے ان کی غذا کا یہ انتظام کیا کہ ایک پہاڑی بکری کو حکم دیا کہ دونوں وقت ان کو دودھ پلادیا کرے چناچہ بکری حکم کے مطابق دونوں وقت دودھ پلاتی رہی یہاں تک کہ آپ تندرست ہوگئے۔ (ملخصاً من الجلال فی سورة الصافات بحوالہ جمل) وکذلک ننجی المومنین یعنی جس طرح یونس (علیہ السلام) کو غم اور مصیبت سے نجات دی، اسی طرح ہم سب مومنین کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتے ہیں جبکہ وہ صدق واخلاق کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوں، ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ذوالنون کی وہ دعا جو انہوں نے بطن ماہی میں کی تھی یعنی لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین جو مسلمان اپنے کسی مقصد کیلئے ان کلمات کے ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائیں گے۔ (رواہ احمد والترمذی والحاکم، مظہری واذکر زکریا حضرت زکریا (علیہ السلام) کا بڑھاپے میں اولاد کے لئے دعا کرنا اور اللہ کی طرف سے اس کا عطا کیا جانا، اس کی ضروری تفصیل سورة طٓہٰ میں گزر چکی ہے، یہاں بھی اس کی طرف اشارہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے، حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بیوی بانجھ تھیں ہم نے اس کے اس نقص کا ازالہ کرکے اسے ایک نیک بچہ عطا فرمایا، اور اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے کہ ان باتوں کا اہتمام کیا جائے جن کا بطور خاص یہاں ذکر کیا گیا ہے مثلاً الحاح وازری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا و مناجات، نیکی کے کاموں میں سبقت، امید و بیم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ رب کو پکارنا اور اس کے سامنے عاجزی اور خشوع کا اظہار۔ یہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ امۃ سے یہاں دین یا ملت مراد ہے یعنی تمہارا دین یا ملت ایک ہی ہے اور وہ دین دین توحید ہے جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی ہے اور ملت ملت اسلام ہے جو تمام انبیاء کی ملت رہی ہے۔
Ayahs 21:94–112

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور وہ کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ ہم (اپنے حق میں) ظالم تھے

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(کافر اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہونگے (اور) تم (سب) اس میں داخل ہو کر رہوگے

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں ان کو چلانا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے، اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی ہر طرح کے عیش اور لطف میں) ہمیشہ رہیں گے

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا، اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے، ہم ایسا ضرور کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکو کار بندے ملک کے وارث ہوں گے

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور (اے محمد ! ) ہم نے تم کو تمام جہاں کے لئے رحمت (بناکر) بھیجا ہے

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آئی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے، تو تم کو چاہئے کہ فرمانبردار ہوجاؤ

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم سب کو یکساں (احکام الہی) سے آگاہ کردیا ہے اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (عن) قریب (آنیوالی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(پیغمبر نے کہا) کہ اے میرے پروردگار ! حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے، اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے۔

آیت نمبر 94 تا 112 ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے قبل مضاف محذوف ہے ای سدھما اور یہ قرب قیامت میں ہوگا اور وہ ہر بلندی یعنی ٹیلے سے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے آئیں گے اور سچا وعدہ یعنی قیامت کا دن آلگا ہوگا شان یہ ہے کہ اس وقت کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور سخت دن میں کہیں گے ہائے افسوس (ہماری ہلاکت) ہم تو دنیا میں اس دن سے غفلت میں تھے بلکہ رسولوں کی تکذیب کرکے ہم ظالم تھے اے اہل مکہ تم اور خدا کے علاوہ بت وغیرہ جن کی تم بندگی کرتے ہو جہنم کا ایندھم بنو گے اور تم سب اس (جہنم) میں وارد داخل ہوگے اگر یہ بت (حقیقی) معبود ہوتے جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور عابدین و معبودین سب جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور ان عابدین کے لئے جہنم میں چیخ پکار ہوگی اور وہ جہنم میں اس کی شدت جوش کی وجہ سے کچھ نہ سن سکیں گے، اور نازل ہوئی (آئندہ) آیت جب کہ زبعریٰ نے کہا تھا کہ عزیز اور مسیح اور ملائکہ (علیہم السلام) کی (بھی) بندگی کی گئی ہے لہٰذا ماسبق کے بیان کے مطابق وہ بھی جہنم میں ہوں گے البتہ وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے درجات عالیہ مقدر ہوچکے ہیں اور انہیں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر کیا گیا وہ لوگ جہنم سے دور رکھے جائیں گے وہ تو جہنم کی آہٹ (آواز) تک نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ اپنی من پسند نعمتوں میں ہوں گے اور ان کو بڑی گھبراہٹ بھی غم زدہ نہ کرسکے گی اور وہ اس وقت ہوگی جب بندہ کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا، اور فرشتے ان سے ملاقات کریں گے یعنی قبروں سے نکلتے وقت ان کا استقبال کریں گے اور اس سے کہیں گے یہی ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا تھا یوم سے پہلے اذکر مقدر کی وجہ سے یوم منصوب ہے، اور وہ دن بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح سجل نامی فرشتہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال نامہ کو لپیٹ دیتا ہے للکتاب میں لام زائدہ ہے یا سجل سے مراد صحیفہ ہے اور کتاب مکتوب بہ کے معنی میں ہے اور لام بمعنی علیٰ ہے یعنی جس طرح کاغذ کو مکتوب جانب سے لپیٹ دیا جاتا ہے اور ایک قرأت الکتب ہے جمع کے ساتھ، جیسے ہم اول دفعہ عدم سے وجود میں لائے اس کو معدوم کرنے کے بعد اس کا ارادہ کریں گے کاف نعید سے متعلق ہے اور اس کی ضمیر اول کی طرف راجع ہے اور ما مصدریہ ہے (یہ) ہمارے ذمہ وعدہ ہے ہم اپنے وعدہ کو ضرور (پورا) کریں گے وعدًا اپنے ما قبل وعدنا محذوف کی وجہ سے منصوب ہے اور یہ اپنے ماقبل کے مضمون کی تاکید کرنے والا ہے، اور ہم زبور یعنی (مطلق) آسمانی کتابوں میں ذکر یعنی لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد جو کہ اللہ کے پاس ہے لکھ چکے ہیں کہ اس سرزمین جنت کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے اور یہ خوشخبری ہر نیک بندے کے بارے میں ہے بلاشبہ اس قرآن میں جنت میں داخل ہونے کے لئے کافی نصیحت ہے عابدین یعنی اس پر عمل کرنے والوں کے لئے اور اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ کو تمام جہان والوں یعنی جن اور انس کے لئے رحمت بنا کر یعنی رحمت کے لئے بھیجا ہے آپ کہہ دیجئے میرے پاس تو یہ وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے یعنی الوہیۃ کے معاملہ میں میرے پاس تو وحدانیت الٰہ کی وحی بھیجی جاتی ہے سو کیا تم سر تسلیم خم کرنے والے یعنی اس کی وحدانیت کی وحی جو میری طرف کی جاتی ہے کیا تم اس کے تابع فرمان ہو ؟ استفہام بمعنی امر ہے پھر بھی اگر یہ لوگ اس سے سرتابی کریں تو آپ فرما دیجئے کہ میں تم کو واضح طور پر عذاب سے خبردار کرچکا ہوں علیٰ سواءٍ فاعل اور مفعول دونوں سے حال ہے یعنی اس کے علم کے بارے میں دونوں برابر ہیں نہ یہ کہ تنہا میں ہی واقف ہوں تم نہیں تاکہ تم تیاری کرو اور میں یہ نہیں جانتا کہ جس عذاب یا قیامت کا جو عذاب پر مشتمل ہوگی تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہی آگئی ہے یا ابھی دور ہے اس بات کو تو اللہ ہی جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو تمہاری اور دوسروں کے ظاہر اور قول و فعل سے واقف ہے اور ان رازوں سے بھی واقف ہے جن کو تم اور دیگر لوگ چھپاتے ہو اور مجھے اس بات کا بھی علم نہیں یعنی جس بات کی میں نے تم کو خبر دی اور اس کا وقت نہیں بتایا گیا ممکن ہے کہ تمہارے لئے آزمائش ہو تاکہ وہ دیکھے کہ تمہارے اعمال کیسے ہیں اور ایک محدود یعنی موت تک فائدہ پہنچانا ہو اور یہ (یعنی متاع الیٰ حین) اول یعنی جس کی لعل سے ترجی کی گئی ہے (اور وہ لعلہ فتنۃ ہے) کے بالمقابل ہے اور ثانی ترجی کا محل نہیں ہے، قل اور ایک قرأۃ میں قال ہے کہئے اے میرے پروردگار میرے اور میری تکذیب کرنے والوں کے درمیان حق یعنی ان کے عذاب کا یا ان پر غلبہ کا فیصلہ کر دے چناچہ بدر اور احد اور احزاب اور حنین و خندق میں عذاب میں مبتلا کئے گئے اور ان پر غلبہ عطا کیا گیا اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے ان باتوں کے مقابلہ میں جن کو تم بنایا کرتے ہو اور وہ اللہ پر تمہارا بہتان ہے تمہارے قول اتخذ ولداً میں، اور مجھ پر (بہتان) ہے تمہارے قول ساحرٌ میں، اور قرآن پر بہتان ہے تمہارے قول شعرٌ میں۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : فمن یعمل من الصلحت من زائدہ یا تبعیضیہ ہوسکتا ہے۔ کفران مصدر ہے بمعنی کفر۔ قولہ : لہ ای للسعی ہٗ کا مرجع سعی ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ لہٗ کی ضمیر من کی طرف راجع ہے۔ قولہ : حرام خبر مقدم ہے اور انھم لا یرجعون مبتداء مؤخر ہے، مطلب یہ ہے کہ جس بستی والوں کو ہم نے ہلاک رک دیا ہے ان کے لئے دوبارہ دنیا میں لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور بعض حضرات نے یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ ان کا ایمان کی طرف رجوع کرنا ممتنع ہے اس لئے کہ ان کے لئے شقاوت کا فیصلہ ہوچکا ہے لازائدہ ہے اور اگر حرام بمعنی واجبٌ لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ان کا دنیا میں نہ لوٹنا واجب ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں ہماری طرف جزاء کے لئے عدم رجوع ممتنع ہے۔ قولہ : حتیٰ یہ عدم رجوع یعنی لا یرجعون کی غایت یعنی قیامت تک ان کا رجوع ممتنع رہے گا اور حتی ابتدائیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں جملہ مستانفہ ہوگا فاذا ھِیَ ، اذا فُتحت کی جزاء ہے، فتحت میں اسناد مجازی ہے اسلئے کہ حقیقتاً مفتوح سدیا جوج ماجوج ہے نہ کہ یاجوج ماجوج۔ قولہ : یاجوج وما جوج یہ الگ الگ دو گروہ ہیں یہ دونوں عجمی لفظ ہیں بقول ضحاک ترکوں کی نسل سے ہیں تمام اہل تاریخ نے ان کو یافث بن نوح کی نسل سے مانا ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تاتاری ترک ہیں تورات کتاب پیدائش باب 2:10 میں یافث کے ایک بٰتے کا نام ماغوغ آیا ہے عبری زبان میں غین کا تلفظ گاسے کرتے ہیں اس لئے ماغوغ کا ماگوگ ہوگیا اور عربی میں گاکو جیم سے بدل لیتے ہیں لہٰذا ماگوگ کا ماجوج ہوگیا۔ (لغات القرآن) یاجوج وما جوج کے کھولنے سے مراد سد سنکدری کا کھولنا ہے۔ قولہ : حدب بمعنی ٹیلہ جمع احداب۔ قولہ : واقترب الوعد اس کا عطف فتحت پر ہے یا ویلنا سے پہلے یقولون محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے حصب ما یحصب بہ ای یرمیٰ بہٖ ایندھن، قولہ : وانتم لھا وارددون جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور حصب جہنم سے بدل بھی، قولہ : فی الزبور فی الزبور میں الف لام جنس کا ہے ای کتب اللہ لکھ کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زبور سے مراد مطلقاً آسمانی کتاب ہے نہ کہ وہ کتاب جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی زبور کی جمع زبُر، للکتب یہ یا السجل سے حال ہے ای السجل کائناً للکتب یا صفت ہے ای السجل الکائن للکتب۔ قولہ : کما بدانا تقدیر کلام یہ ہے کہ کما بدانا کل شئ فی اول خلقہ کذٰلک نعید کل شئ، کل شئ بدانا کا مفعول مقدر ہے اور اول خلقٍ ظرف ہے اور نعید کی ضمیر کل شئ کی طرف راجع ہے قولہ : للرحمۃ اس کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ رحمۃ مفعول لہ ہے اور رحمۃً مبالغۃ حال ہونے کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتا ہے۔ قولہ : والخندق خندق سہواً لکھا گیا ہے اس لئے کہ احزاب اور خندق ایک ہی ہے۔ تفسیر و تشریح ان لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کرلیا مگر اس کی سزا ضرور بھگتی پڑے گی لہٰذا سزا بھگتنے کے لئے ہمارے پاس ضرور آئیں گے آنے کے بعد ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ضرور ملے گا، لہٰذا جو شخص نیک عمل کرتا ہوگا اور ایمان والا بھی ہوگا تو اس کی محنت اکارت جانے والی نہیں اور ہم اس کو لکھ بھی لیتے ہیں۔ اور ہم نے جو کُل الینا راجعون کہا ہے اس میں منکرین کو اس لئے شبہ ہے کہ اب تک کسی کو زندہ کرکے حساب کتاب نہیں لیا گیا تو یہ شبہ بالکل واہی ہے کیونکہ رجوع موعود کے لئے ہم نے ایک خاص وقت معین کر رکھا ہے لہٰذا جب تک وہ وقت نہیں آتا اس وقت تک تو یہ بات ہے کہ جن بستیوں کو ہم فنا کرچکے ہیں ان کے لئے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ دنیا میں حساب کتاب کے لئے لوٹ کر آجائیں مگر یہ عدم رجوع ابدی نہیں ہے جیسا کہ منکرین سمجھتے ہیں بلکہ صرف اس وقت موعود کے نہ آنے تک ہے یہاں تک کہ جب وہ وقت موعود آپہنچے گا جس کی ابتدائی علامت یہ ہوگی یاجوج ماجوج جواب سد سکندری میں بند ہیں کھول دئیے جائیں گے اور وہ غایت کثرت کی وجہ سے ہر بلندی سے اترتے ہوئے معلوم ہوں گے یعنی جدھر دیکھو وہی نظر آئیں گے اور وہ رجوع اور بعث کا سچا وعدہ قریب ہی آپہنچا ہوگا تو بس اس کے واقع ہوتے ہی یہ قصہ ہوگا کہ منکرین کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ یوں کہتے نظر آئیں گے کہ ہائے ہماری کمبختی ہم اس حالت سے غفلت میں تھے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ رسول کی تکذیب کرکے ہم ہی قصور وار تھے۔ انکم وما تعبدون من دون اللہ الآیۃ یعنی تم اور تمہارے معبود بجز اللہ کے جن کی دنیا میں ناجائز عبادت ہوئی ہوگی سب کے سب جہنم کا ایندھن بنیں گے، اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ناجائز عبادت تو حضرت مسیح اور عزیر اور فرشتوں کی بھی کی گئی ہے تو سب کے سب جہنم میں جانے کا کیا مطلب ہوگا ؟ اس کا جواب حضرت ابن عباس ؓ نے دیا ہے، ایک روز حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن کی ایک آیت ایسی ہے جس میں لوگ شبہات کرتے ہیں مگر عجیب اتفاق ہے کہ اس کے متعلق لوگ مجھ سے سوال نہیں کرتے معلوم نہیں کہ شبہات کا جواب ان لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے اس لئے سوال نہیں کرتے یا انہیں شبہ اور جواب کی طرف التفات ہی نہیں ہوا لوگوں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ آیت انکم وما تعبدون الآیۃ ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفار قریش کو سخت ناگواری ہوئی تو کہنے لگے اس میں تو ہمارے معبودوں کی سخت توہین کی گئی ہے، یہ لوگ (اہل کتاب کے ایک عالم) ابن الزبعریٰ کے پاس گئے اور اس سے شکایت کی اس نے کہا کہ اگر میں وہاں موجود ہوتا تو ان کو اس کا جواب دیتا ان لوگوں نے دریافت کیا آپ کیا جواب دیتے ؟ اس نے کہا میں ان سے کہتا کہ نصاریٰ حضرت مسیح کی اور یہود حضرت عزیز (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے کیا نعوذ باللہ وہ جہنم میں جائیں گے، کفار قریش یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ واقعی یہ بات تو ایسی ہے کہ محمد ﷺ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جو آگے آتی ہے ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون یعنی جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے وہ جہنم سے دور رہیں گے اور اسی ابن زبعریٰ کے متعلق قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی ہے ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون یعنی جب ابن زبعریٰ نے حضرت ابن مریم کی مثال پیش کی تو آپ کی قوم کے لوگ قریش خوشی سے شور مچانے لگے۔ ولا یحزنھم الفزع الاکبر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ فزع اکبر سے مراد صور کا نفخۂ ثانیہ ہے جس سے سب مردے زندہ ہو کر حساب کے لئے کھڑے ہوں گے بعض حضرات نے نفخۂ اولیٰ کو فزع اکبر کہا ہے، ابن عربی کا قول یہ ہے کہ نفخات تین ہوں گے پہلا نفخۂ فزع ہوگا جس سے ساری دنیا کے لوگ گھبرا اٹھیں گے اسی کو یہاں فزع اکبر کہا گیا ہے، دوسرا نفخۂ صعق ہوگا جس سے سب مرجائیں گے اور فنا ہوجائیں گے، تیسرا نفخۂ بعث ہوگا جس سے سب مردے زندہ ہوجائیں گے اس کی شہادت میں سند ابو یعلیٰ اور بیہقی، عبد بن حمید، ابن جریر طبری وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک حدیث نقل کی ہے۔ (مظہری، معارف القرآن) یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب یعنی جس طرح کاتب لکھنے کے بعد اوراق یا رجسٹر لپیٹ کر رکھ دیتا ہے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (والسموٰات مطویات بیمینہٖ ) (الزمر) آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، سجل کے معنی صحیفہ یا رجسٹر کے ہیں، للکتب میں لام بمعنی علیٰ اور کتاب بمعنی مکتوب، مطلب یہ ہے کہ کاتب کے لئے لکھے ہوئے کاغذات کو لپیٹ لینا جس طرح آسان ہے اسی طرح اللہ کے لئے آسمان کی وسعتوں کو اپنے ہاتھ میں سمیٹ لینا کوئی مشکل نہیں۔ زبور سے مراد یا تو زبور ہی ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اور ذکر سے مراد پندو نصیحت، یا پھر زبور سے مراد گذشتہ آسمانی کتابیں مراد ہیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے، یعنی پہلے تو لوح محفوظ میں یہ بات درج ہے اس کے بعد آسمانی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی جاتی رہی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہوں گے، زمین سے بعض مفسرین کے نزدیک ارض جنت مراد ہے، اور بعض کے نزدیک ارض کفار مراد ہے، یعنی اللہ کے نیک بندے زمین میں اقتدار کے مالک ہوں گے، اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان جب تک اللہ کے نیک بندے رہے وہ دنیا میں با اقتدار اور سرخرو رہے اور آئندہ بھی جب کبھی وہ اس صفت کے حامل ہوں گے اس وعدہ الٰہی کے مطابق زمین کا اقتدار انہی کے پاس ہوگا اس لئے مسلمانوں کی محرومی اقتدار کی موجودہ صورت کسی اشکال کا باعث نہ ہونی چاہیے، یہ وعدہ صالحیت عباد کے ساتھ مشروط ہے۔ (اذا فات الشرط فات المشروط) کے مطابق مسلمان جب اس صفت سے محروم ہوں گے تو اقتدار سے بھی محروم ہوں گے۔ (واللہ اعلم بالصواب)