22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 22:1–10

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہ عظیم ہوگا

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گرپڑیں گے اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے بیشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا (کی شان) میں علم (و دانش) کے بغیر جھگڑتے ہیں اور ہر شیطان سرکش پیروی کرتے ہیں

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو وہ اسے گمراہ کر دے گا اور دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

لوگو ! اگر تم کو مرنے کے بعد جی اٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک معیاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو اور بعض (قبل از پیری) مرجاتے ہیں اور بعض (شیخ فانی ہوجاتے ہیں اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ شاداب ہوجاتی ہے اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اگاتی ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

ان قدرتوں سے ظاہر ہے کہ خدا ہی (قاد رمطلق ہے جو) برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ خدا سب لوگوں کو جو قبروں میں جلا اٹھائے گا

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو خدا (کی شان) میں بغیر علم (و دانش) کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے جھگڑتا ہے

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے راستے سے گمراہ کر دے اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

(اے سرکش) یہ اس (کفر) کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی سی حالت میں دیکھے گا حالانکہ وہ شراب کی وجہ سے نشہ میں نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا جس کی وجہ سے لوگ خوف زدہ ہوں گے، اور نضر بن حارث اور ایک جماعت کے بارے میں آئندہ آیت نازل ہوئی، اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں بےعلمی کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں (اور) کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور قرآن پچھلے لوگوں کے گھڑے ہوئے قصے ہیں، اور وہ بعث کے منکر ہیں، اور مٹی ہونے کے بعد زندہ ہونے کے منکر ہیں، اور اس جھگڑے میں ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں اور شیطان کی بابت یہ بات لکھی جا چکی ہے یعنی اس کے بارے میں فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ جو کوئی اس کی رفاقت کرے گا یعنی اس کی اتباع کرے گا تو وہ اس کو گمراہ کر دے گا، اور اس کو عذاب نار کی طرف لے جائے گا، اے مکہ کے لوگو اگر تم دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں ہو (تو ذرا غور کرو) ہم نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر آدم کی ذریت نطفہ منی اور پھر علقہ سے اور وہ خون بستہ ہے اور پھر لوتھڑے سے اور وہ چپائے جانے کی مقدار گوشت کا ٹکڑا ہے (بوٹی) کہ خلقت کے اعتبار سے پوری بھی ہوتی ہے اور ادھوری بھی ہوتی ہے تاکہ ہم تم پر اپنی کمال قدرت کو ظاہر کردیں تاکہ تم ابتداء تخلیق پر قدرت سے اعادہ تخلیق پر استدلال کرو ونقر جملہ مستانفہ ہے، اور ہم رحم مادر میں جس کو چاہتے ہیں ایک معین مدت یعنی پیدائش کے وقت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں اور طفلاً اطفالاً کے معنی میں ہے پھر تم کو عمر دیتے ہیں تاکہ تم بھرپور جوانی کو یعنی کمال اور قوت کو پہنچ جاؤ اور وہ تیس سے چالیس سال کے درمیان ہے اور بعض تم میں کے وہ بھی ہیں جو بالغ ہونے سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں اور بعض تم میں سے وہ ہیں جو نکمی عمر کو پہنچا دئے جاتے ہیں یعنی بڑھاپے کی وجہ سے عمر کے گھٹیا مرحلہ اور فساد عقل کی منزل کو پہنچ جاتے ہیں (جس کا اثر یہ ہوتا ہے) کہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد بیخبر ہوجاتے ہیں (حضرت) عکرمہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص قرآن خوانی کا شغف رکھتا ہے وہ اس حالت کو نہیں پہنچتا، اور اے مخاطب تو دیکھتا ہے زمین کو کہ خشک ہے اور جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ہلتی ہے یعنی حرکت کرتی ہے اور ابھرتی ہے مرتفع اور زیادہ ہوتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے یہ جو مذکور ہوا ابتداء آفرینش انسان سے احیاء ارض تک اس سبب سے ہے کہ اللہ ہی ثابت اور دائم ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور ہر شئ پر قادر ہے اور قیامت یقیناً آنے والی ہے اس میں ذرہ برابر شک نہیں اور اللہ تعالیٰ قبر والوں کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں بدون واقفیت اور بدون دلیل کے کہ جو اس کے پاس ہو اور بغیر کسی روشن کتاب کے جو اس کے لئے ہو اور اس کتاب کے ساتھ نور (وحی) ہو پہلو تہی کرتے ہوئے (یہ یجادل کی ضمیر سے) حال ہے، یعنی ایمان سے متکبرانہ طور پر گردن موڑتے ہوئے اور عطف دائیں یا بائیں جانب کو کہتے ہیں، لیضل یا کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ تاکہ اللہ کے راستہ یعنی اس کے دین سے بہکا دے ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی عذاب ہے چناچہ یوم بدر میں قتل کیا گیا اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جلنے یعنی آگ میں جلانے کا عذاب چکھائیں گے، اور یہ تیرے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے یعنی ان اعمال کا جو تو نے کئے شخص (ذات) کو ید سے تعبیر کیا ہے نہ کہ دیگر اعضاء سے اس لئے کہ اکثر اعمال کا صدور ہاتھوں ہی سے ہوتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے کہ ان کو بغیر کسی جرم کے سزا دے۔ تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : زلزلۃ الساعۃ قیامت کے دن کا زلزلہ اس میں اضافت الی الظرف کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ یا سارق اللیل میں، اور یہ اتساعاً ہے۔ قولہ : التی یکون بعدھا طلوع الشمس مفسر علام کا مقصد اس عبارت کے اضافہ سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ زلزلہ دنیا ہی میں ہوگا اور مغرب کی جانب سے سورج کا طلوع ہونے سے بعد ہوگا، اور اسی قول کی تائید اللہ تعالیٰ کے قول ” تذھل کل مرضعۃ عما ارضعت “ سے بھی ہوتی ہے۔ قولہ : بالفعل کا مطلب ہے دودھ پلانے کی حالت جب کہ ماں بچہ کی طرف پوری طرح متوجہ ہوتی ہے ایسی حالت میں اس شدید زلزلہ کو دیکھ کر اپنے بچہ سے غافل ہوجائے گی، عما ارضعت میں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ای عن ارضاعھا اور موصولہ بھی ہوسکتا ہے ای عن الذی ارضعتہ۔ قولہ : یوم ترونھا یوم کے نصب میں چند وجوہ ہیں (1) تذھل کی وجہ سے منصوب ہے (2) اذکر فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے (3) الساعۃ سے بدل ہے (4) عظیم کی وجہ سے منصوب ہے، قولہ : تذھل ترونھا کی ضمیر سے حال ہے اور رویت بصری مراد ہے، قولہ : ولکن عذاب اللہ شدید یہ محذوف سے استدراک ہے فھٰذہٖ الاحوال المذکورہ لیست بشدیدۃ ولکن عذاب اللہ شدید، لکن کا ما بعد ما قبل کے مخالف ہوا کرتا ہے۔ قولہ : وجماعۃ جماعت سے مراد ابوجہل اور ابی بن خلف وغیرہ ہیں۔ قولہ : کمال قدرتنا اس عبارت کو مقدر ماننے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ لنبین لکم کا مفعول محذوف ہے۔ قولہ : طفلاً یہ نکرجکم کی کم ضمیر سے حال ہے اور طفلا چوں کہ مصدر ہے جس کی وجہ سے معنی میں جمع کے ہے جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کردیا ہے۔ قولہ : ارذل العمر گھٹیا اور ناکارہ عمر، خرف دونوں کے فتحہ کے ساتھ، کبر سنی کی وجہ سے فساد عقل، جس کو اردو میں سٹھیانا کہتے ہیں۔ قولہ : لکیلا یعلم اس کا تعلق یرد سے ہے، قولہ : ھامدۃ یہ ھمدت النار سے مشتق ہے، اس کے معنی ہیں بجھ جانا۔ قولہ : ذٰلک بان اللہ اس میں تین وجہ اعراب ہوسکتی ہیں (1) ذٰلک مبتدا اور مابعد اس کی خبر اور مشار الیہ ما قبل میں تخلیق بنی آدم وغیرہ ہے، (2) ذٰلک مبتدا محذوف کی خبر ہے، ای الامر ذٰلک (3) ذٰلک فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے، ای فعلنا ذٰلک بسبب ان اللہ ھو الحق، قولہ : یجادل فی اللہ الخ یعنی یہ شخص اللہ کی ذات وصفات میں مجادلہ کرتا ہے حالانکہ نہ اس کے پاس علم ہے اور نہ دلیل اور نہ اس کے پاس کوئی روشن کتاب ہے، وأن الساعۃ آتیۃ، وأنہ یحییٰ الموتٰی کی تاکید ہے، ونزل فی ابی جھل اس کا ناعم عمر بن ہشام ہے اور ابو جہل کنیت ہے، اس کی ایک کنیت ابو الحکم بھی ہے، ومن یجادل فی اللہ کا عطف پہلے من یجادل فی اللہ بغیر علم پر ہے۔ قولہ : نورٌ معہٗ کا تعلق کتاب سے ہے ای ولا وحی کائن معہ، قولہ : حال ثانی عطفہ یجادل کی ضمیر سے ھال ہے اور لیضل کا تعلق یجادل سے ہے، قولہ : عذاب الحریق یہ اضافت موصوف الی الصفت کے قبیل سے ہے ای العذاب المحرق، قولہ : ای بذی ظلم یہ اشارہ ہے کہ ظلام جو کہ مبالغہ کا صیغہ ہے ذی ظلم (اس فاعل) کے معنی میں ہے۔ تفسیر و تشریح سابقہ سورة سے ربط : سورة انبیاء کے اختتام پر بعث بعد الموت کا ذکر تھا، اس سورة کو حق سبحانہ تعالیٰ نے قیامت اور اس کی ہولناکی کے بیان سے شروع فرمایا ہے، تاکہ انسان تقویٰ اختیار کرے جو کہ راہئ آخرت کے لئے بہترین زادراہ ہے، فرمایا یا ایھا الناس اتقوا ربکم۔ سورة حج کی خصوصیات : اس سورت کے مکی یا مدنی ہونے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے دونوں قسم کی روایتیں منقول ہیں، جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ سورة آیات مکیہ اور مدنیہ سے مخلوط ہے، قرطبی نے اسی کو راحج قرار دیا ہے۔ اس سورة کے عجائب میں سے یہ بات ہے کہ اس کی آیات کا نزول بعض کا رات میں بعض کا دن میں، بعض کا سفر میں اور بعض کا حضر میں اور بعض کا مکہ میں اور بعض کا مدینہ میں اور بعض کا حالت جنگ و جہاد میں اور بعض کا صلح و امن کی حالت میں ہوا ہے اور اس میں بعض آیات ناسخ ہیں اور اور بعض منسوخ اور بعض محکم ہیں اور بعض متشابہ۔ زلزلہ قیامت کب ہوگا ؟ قیامت قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد یا اس سے پہلے، بعض نے کہا ہے کہ یہ قیامت سے پہلے اسی دنیا میں ہوگا اور قیامت کی آخری علامت میں شمار ہوگا جس کا ذکر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ زلزلہ حشر و نشر برپا ہونے کے بعد ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، اس زلزلہ قیامت کی جو کیفیت آگے آیت میں ذکر کی گئی ہے کہ تمام حمل والی عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے اور دودھ پلاتی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی، اگر یہ زلزلہ اسی دنیا میں وقوع قیامت سے پہلے ہے تو ایسا واقعہ پیش آنے میں کوئی اشکال نہیں اور حشر و نشر کے بعد ہے تو اس کی توجیہ یہ ہوگی کہ جو عورتیں جس حالت میں مری ہوں گی، ان کا حشر اسی حالت میں ہوگا اور جن کا انتقال دودھ پلانے کی حالت میں ہوا ہوگا، وہ اسی بچہ کے ساتھ اٹھائی جائیں گی، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت میں مجاز مراد ہے حقیقت سے اس کا تعلق نہیں ہے یعنی جس طرح ” یوم یجعل الولدان شیباً “ میں دن کی درازی مراد ہے اسی طرح یہاں روز قیامت کی ہولناکی مراد ہے، اگر حقیقی معنی مراد لئے جائیں تب بھی کوئی استحالہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہر شئ پر قادر ہے۔ ومن الناس من یجادل فی اللہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بڑا جھگڑا لو تھا، فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں اور قرآن کو گزشتہ لوگوں کے افسانے کہا کرتا تھا اور بعث بعد الموت کا منکر تھا۔ انا خلقنکم من تراب ثم من نطفۃ اس آیت میں بطن مادر میں انسان کی تخلیق کے مختلق درجات کا ذکر ہے، اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے جو حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کا مادہ رحم مادر میں چالیس روز تک جمع رہتا ہے پھر چالیس روز کے بعد علقہ یعنی منجمد خون بن جاتا ہے پھر چالیس ہی دن میں وہ مضغہ یعنی گوشت بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے اور اس کے متعلق چار باتیں اسی وقت فرشتہ کو لکھوا دی جاتی ہیں (1) یہ کہ اس کی عمر کتنی ہے (2) یہ کہ رزق کتنا ہے (3) عمل کیا کرے گا (4) یہ کہ بدبخت ہوگا یا خوش بخت (قرطبی) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب نطفہ مختلف ادوار سے گزرنے کے بعد مضغہ بن جاتا ہے تو جو فرشتہ ہر انسان کی تخلیق پر مامور ہے اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے یا رب مخلقۃ او غیر مخلقۃ یعنی اس نطفہ سے آپ کا انسان کو پیدا کرنا مقدر ہے یا نہیں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جواب ملتا ہے کہ یہ غیر مخلقہ ہے تو رحم اس کو ساقط کردیتا ہے اور اگر حکم ہوتا ہے کہ یہ مخلقہ ہے تو پھر فرشتہ سوال کرتا ہے لڑکا ہے یا لڑکی ؟ اور شقی یا سعید ؟ اور اس کی عمر کیا ہے ؟ اور اس کا عمل کیسا ہے ؟ اور کہاں مرے گا ؟ یہ سب باتیں اسی وقت فرشتہ کو بتلا دی جاتی ہیں (ابن کثیر) ومنکم من یرد الی ارذل العمر یعنی وہ عمر کہ جس میں انسان کے عقل و شعور اور حواس میں خلل آنے لگے، نبی کریم ﷺ نے ایسی عمر سے پناہ مانگی ہے نسائی شریف میں بروایت سعد ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ حسب ذیل الفاظ پر مشتمل یہ دعا بکثرت تھے اور راوی حدیث حضرت سعدیہ دعا اپنی سب اولاد کو یاد کرا دیتے تھے، وہ دعا یہ ہے : اللھم انی اعوذبک من البخل واعوذبک من الجبن واعوذبک من ان ارد الی ارذل العمر واعوذبک من فتنۃ الدنیا و عذاب القبر۔ (قرطبی)
Ayahs 22:11–22

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے اگر اسکو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی یہی تو نقصان صریح ہے

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

یہ خدا کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ دے سکے یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

(بلکہ) ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدے سے زیادہ قریب ہے ایسا دوست بھی برا اور ایسا ہم صحبت بھی برا

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا انکو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں چل رہی ہیں کچھ شک نہیں کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اتارا ہے (جس کی تمام) باتیں کھلی ہوئی (ہیں) اور یہ (یاد رکھو) کہ جس کو خدا چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ مومن (یعنی مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور مشرک خدا ان (سب) میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا بیشک خدا ہر چیز سے باخبر ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں تو جو کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (اور) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اس سے ان کے پیٹ میں اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان (کے مارنے ٹھونکنے) کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب وہ چاہیں گے کہ اس رنج (و تکلیف کی وجہ) سے دوزخ سے نکل جائیں تو پھر اسی میں لوٹا دیے جائیں گے اور (کہا جائے گا کہ) جلنے کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا نقصان ہے اللہ کو چھوڑ کر بت کی بندگی کرتا ہے، اگر اس کی بندگی نہ کی جائے تو وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اگر اس کی بندگی کرے تو اس کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا یہ بندگی انتہا درجہ کی حق سے گمراہی ہے ایسے کی بندگی کر رہا ہے کہ اس کی عبادت کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے بالفرض اگر اس کے خیال کے مطابق نفع ہو، لمن میں لام زائدہ ہے، یقیناً ایسا مولیٰ یعنی ناصر برا ہے اور وہ برار رفیق ہے، شک کرنے والے کے نقصان کے ذکر کے بعد مومنین کے ثواب کا ذکر فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اور ان لوگوں کو جنہوں نے اعمال صالحہ فرائض و نوافل کے (قبیل) سے کئے ہوں گے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جس میں نہریں جاری ہوں گی اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کہ گزرتا ہے خواہ اس کی اطاعت کرنے والے کا اکرام ہو یا اس کے نافرمان کی اہانت ہو اور جو شخص یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ کی دنیا و آخرت میں مدد نہ کرے گا تو ایسے شخص کو چاہیے کہ اونچائی پر ایک رسہ باندھ لے، یعنی اپنے گھر کی چھت میں رسے کا (ایک سرا) باندھ لے اور (دوسرا) سرا اپنی گردن میں باندھ لے، پھر اس سے اپنا گلا گھونٹ لے خود کشی کرلے بایں طور کہ اپنا سانس دنیا سے منقطع کرلے (صحاح میں ایسا ہی) پھر غور کرے آیا اس کی یہ تدبیر خود کشی آپ ﷺ کی عدم نصرت کے بارے میں اس چیز کو ختم کرسکتی جس نے اس کو غصہ میں ڈال رکھا ہے، آیت کے معنی یہ ہیں اس کی وجہ سے خود کشی کرلینی چاہیے، اور محمد ﷺ کی نصرت ضروری ہے اور اسی طرح یعنی جس طرح آیات سابقہ کو ہم نے نازل کیا ہے باقی قرآن کو بھی نازل کیا ہے حال یہ ہے کہ واضح آیتیں ہیں آیات، انزلناہ کی ضمیر سے حال ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو ہدایت نصیب فرماتے ہیں اور ان اللہ یھدی الخ کا عطف انزلناہ کی ہ پر ہے (تقدیر عبارت یہ ہے انزلنا القرآن وانزلنا ان اللہ یھدی من یرید) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مومنین اور وہ لوگ جنہوں نے یہود یت اختیار کی اور وہ یہود ہیں اور صائبین جو کہ یہود ہی کی ایک جماعت ہے اور نصاریٰ اور مجوسی اور مشرکین اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان قیامت کے روز مومنین کو جنت اور غیر مومنین کو جہنم میں داخل کرکے فیصلہ کر دے گا بیشک اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے ہر چیز سے واقف ہے یعنی اس کو علم مشاہدہ حاصل ہے اے مخاطب کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سب عاجزی کرتے ہیں جو کہ آسمانوں میں ہیں اور زمینوں میں ہیں اور شمس و قمر ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے بھی یعنی ہر ایک اس کے حکم کے تابع ہے اس بات میں جو اس سے مطلوب ہے اور بہت سے آدمی بھی (عاجزی کرتے ہیں) اور وہ مومنین ہیں، سجدہ صلوٰۃ میں (عام) خضوع پر زیادتی کے ساتھ اور بہت سے ایسے ہیں کہ جن پر عذاب کا استحقاق ثابت ہوگیا ہے اور وہ کافر ہیں اس لئے کہ انہوں نے اس سجدہ کا انکار کردیا جو ایمان پر موقوف ہے، اور جس کو خدا ذلیل کرے شقی کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں یعنی سعید کرنے والا نہیں، اللہ اہانت اور اکرام سے جو چاہتا ہے کرتا ہے یہ دو فریق ہیں مومنین ایک فریق ہیں اور کفار خمسہ دوسرا فریق اور خصم کا اطلاق واحد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے، انہوں نے اپنے رب یعنی اس کے دین کے بارے میں جھگڑا کیا ہے سو کافروں کے لئے اگ کے کپڑے بیونت کر کاٹے جائیں گے اس کو پہنیں گے یعنی آگ ان کا احاطہ کرے گا اور ان کے سروں پر ماء حمیم یعنی نہایت شدید گرم پانی بہایا جائے جس سے ان کے پیٹ کی سب چیزیں پگھلا دی (گلا دی) جائیں گی چربی وغیرہ، اور کھالیں اس گرم پانی کی وجہ سے بھون دی جائیں گی، اور ان (کی سزا) کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہیں یعنی ان کے سروں پر مارنے کے لئے اور جب بھی اس آگ سے ان کو غم لاحق ہونے کی وجہ سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے ہتھوڑوں کے ذریعہ اسی میں لوٹا دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا جلنے کا عذاب چکھو یعنی جلانے کی انتہائی حد کو پہنچا ہوگا۔ تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : علیٰ حرفٍ یہ یعبد کی ضمیر فاعل سے حال ہے ای یعبد متزلزلاً ، قولہ : شبہ بالحال علی حرف جبلٍ فی عدم ثباتہٖ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آیت میں استعارہ تمثیلیہ ہے اور وہ یہ ہے کہ آیت میں اس کی حالت کو جو بغیر یقین و اعتقاد کے ساتھ اسلام میں داخل ہوا ہو تزلزل اور عدم ثبات میں اس شخص کے حال کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو کسی شئ کے کنارے پر گھڑا ہو ہر وقت اس کو بےاطمینانی کی کیفیت رہتی ہے، قولہ : ما أملہ یہ ماضی کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور امل بمعنی امید بھی ہوسکتا ہے، قولہ اللام زائدۃ لمن پر لام زائدہ ہے اور من یدعوا کا مفعول ہے ضرہ مبتداء ہے اور اقرب اپنے متعلق سے مل کر اس کی خبر ہے اور پھر جملہ ہو کر من موصولہ کا صلہ ہے اور موصول صلہ سے ملکر یدعوا کا مفعول بہ ہے، قولہ : بعبادتہ ای بسبب عبادتہ۔ قولہ : لبئس المولیٰ ھو، ھو مخصوص بالذم ہے، الناصر مولیٰ کی تفسیر ہے، اسی طرح الصاحب، العشیر کی تفسیر ہے اور ھو مخصوص بالذم ہے قول المفسر بالخسراب متلبسا محذوف سے متعلق ہو کر شاک سے ھال ہے وکذا یقال فیما بعدہ، قول المفسر بذکر المومنین عقب سے متعلق ہے قولہ تعالیٰ ان اللہ یدخل الذین الخ ذکر ثانی کی صفت ہے ای الذکر الکائن فی ھذہٖ الآیۃ، قول المفسر من اکرام میں یطیعہ الخ اس میں لف و نشر غیر مرتب ہے ینصرہٗ میں ضمیر محمد ﷺ کی طرف راجع ہے معہود فی الذہن ہونے کی وجہ سے، السماء سر کے اوپر جو شئ ہو اس کو سماء کہہ سکتے ہیں، مقولہ ہے کل ما ھو علیٰ رأسہٖ فھو سماء، قولہ : فلیمدد من کان میں من اگر شرطیہ ہو تو فلیمدد اس کی جزا ہوگی اور اگر من موصولہ ہو تو فا فلیمدد میں مشابہ جزاء ہونے کی وجہ سے ہوگی۔ قولہ : بان یقطع نفسہ نفسہ کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ لیقطع کا مفعول محذوف ہے من الارض ارض سے مراد حیات دنیوی ہے جب کہ نفسہٗ فا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا جائے اور اگر نفسہ فا کے سکون کے ساتھ ہو تو اس صورت میں نفس سے مراد خود اس کی ذات ہوگی، اور ارض سے مراد زمین ہوگی، مطلب یہ ہوگا کہ چھت وغیرہ میں رسی کا ایک سرا باندھ لے اور دوسرا سرا اپنی گردن میں باندھ لے اور کسی چیز پر کھڑے ہو کر زمین سے اپنا تعلق ختم کرلے تاکہ پھندے سے دم گھٹ کر اس کی موت واقع ہوجائے، ما یغیظ منھا، منھا، ما کا بیان ہے اور مراد اس سے نصرت ہے، ما یغیظ میں ما موصولہ بمعنی الذی ہے، یغیظ اس کا صلہ ہے عائد اس میں محذوف ہے، اور موصول صلہ سے مل کر یذھبن کا مفعول ہے تقدیر عبارت یہ ہے ھل یذھبن کیدہ الشئ الذی یغیظہ وھو نصرۃ النبی ﷺ ، یغیظہ میں ضمیر فاعل الذی اسم موصول کی طرف راجع ہے، اور ضمیر مفعول من کان، یظن کی طرف راجع ہے۔ قولہ : غیظا منھا ای من اجلھا، قولہ : فلابد منھا ای من النصرۃ تقدیر عبارت یہ ہے فلیحنتنق لانہ لابد من النصرۃ، قولہ : حال یعنی لفظ آیات انزلناہُ کی ضمیر سے حال ہے اور بینات آیات کا صفت ہے، قولہ : ھداہٗ کا اضافہ اشارہ ہے یرید کے مفعول محذوف کی طرف قولہ : وأن اللہ یھدی اس کا عطف انزلناہ کی ضمیر پر ہے، ای انزلناہ وانزلنا ان اللہ یھدی من یرید، قولہ : و کثیر من الناس کا عطف یسجد کے فاعل یعنی من فی السموات پر ہے، یعنی تکوینی اور اضطراری خضوع کے علاوہ بعض انسان اختیاری یعنی سجدہ وغیرہ کے ذریعہ بھی خضوع کرتے ہیں، قولہ : ھٰذان خصمان اوپر چھ فریقوں کا ذکر ہوا ہے ان میں ایک فریق مومن ہے اور بقیہ پانچ کافر ہیں، اس طریقہ سے کل دو نوع ہیں، ایک فریق مومن اور دوسرا کافر، اسی وجہ سے خصمان بصیغہ تثنیہ کہا گیا ہے، فریق مومن کے مقابل پانچ فریقوں کو خصم واحد کے صیغہ سے تعبیر کیا ہے اسلئے کہ خصم مصدر ہے اور مصدر کا اطلاق واحد اور جماعت دونوں پر ہوتا ہے۔ قولہ : اختصموا یہاں جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے اس لئے کہ فریق چند افراد پر مشتمل ہوتا ہے، لہٰذا فریق لفظ کے اعتبار سے واحد اور معنی کے اعتبار سے جمع ہے، جیسے قومٌ ورھطٌ۔ قولہ : فی دینہ یہ اشارہ ہے کہ مضاف محذوف ہے۔ قولہ : وتشویٰ بہٖ الجلودُ اس میں اشارہ ہے کہ جلود فعل محذوف کی وجہ سے مرفوع ہے، اس لئے کہ ما فی بطونھم پر عطف درست نہیں کیوں کہ جلد پگھلنے کی چیز نہیں ہے۔ قولہ : تعالیٰ ولَھم مقامع لھم کی ضمیر میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ الذین کفروا کی طرف راجع ہو اس صورت میں لام استحقاق کے لئے ہوگا اور دوسرا احتمال یہ کہ ھم ضمیر زبانیہ (دوزخ کے داروغہ) کی طرف راجع ہوگی اور یہ سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے، قولہ : المقامع جمع مقمعۃٍ ہتھوڑا۔ تفسیر و تشریح شان نزول : ومن الناس من یعبد اللہ علی حرفٍ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ بخاری اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کرے مدینہ طیبہ میں مقیم ہوگئے تو بعض ایسے لوگ بھی آکر مسلمان ہوجاتے تھے کہ جن کے دل میں ایمان کی پختگی نہیں ہوتی تھی، اگر اسلام لانے کے بعد اس کی اولاد و مال میں ترقی ہوگئی تو کہتا تھا کہ یہ دین اچھا ہے اور اگفر اس کے خلاف ہوا تو کہتا تھا کہ یہ برا دین ہے، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ایک کنارہ پر کھڑے ہوتے ہیں اگر ان کو ایمان کے بعد دنیوی راحت و سامان مل گیا تو اسلام پر جم گئے اور اگر وہ بطور آزمائش کسی تکلیف و پریشانی میں مبتلا ہوگئے تو دین سے پھرگئے۔ حرف کے معنی کنارہ کے ہیں، جس طرح کنارہ پر کھڑے ہونے والے کو قرار و ثبات نہیں ہوتا اسی طرح جو شخص دین کے بارے میں شک و ریب اور تذبذب کا شکار رہتا ہے اس کا حال بھی یہی ہے، ایسے شخص کو دین پر استقامت نصیب نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی نیت صرف دنیوی مفادات کی ہوتی ہے، حاصل ہوتے رہیں تو ٹھیک بصورت دیگر وہ پھر آبائی دین یعنی کفر و شرک کی طرف لوٹ جاتا ہے، اس کے برخلاف جو سچے مسلمان ہوتے ہیں اور ایمان و یقین سے سرشار ہوتے ہیں وہ عسر و یسر کی پرواہ کئے بغیر دین پر قائم رہتے ہیں، نعمتوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں تو شکر ادا کرتے ہیں اور اگر تکلیفوں سے دو چار ہوتے ہیں تو صبر کرتے ہیں۔ ومن کان یظن أن لن ینصر اللہ الآیۃ اس آیت کے دو مطلب بیان کئے گئے، ایک یہ کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہ کرے کیونکہ اس کے غلبہ اور فتح سے اس کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ اپنے گھر کی چھت میں رسی لٹکا کر اپنے گلے میں اس کا پھندا لیکر گلاگھونٹ لے، شاید یہ خود کشی اسے غیظ و غضب سے بچا لے جو محمد ﷺ کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو دیکھ کر اپنے دل میں پاتا ہے اس صورت میں سماء سے مراد گھر کی چھت ہوگی، دوسرے معنی یہ ہیں کہ ایسا شخص ایک رسہ لیکر آسمان پر چڑھ جائے اور آسمان سے جو مدد اور وحی آتی ہے اس کا سلسلہ ختم کر دے (اگر وہ کرسکتا ہے) اور دیکھے کہ کیا اس کے بعد اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا ؟ امام ابن کثیر (رح) نے پہلے مفہوم کو پسند کیا ہے اور شوکانی نے دوسرے مفہوم کو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ مذکورہ برحق اور باطل فرقوں کے درمیان قیامت کے دن عملی فیصلہ فرما دیں گے اور یہ فیصلہ حاکمانہ اختیارات کے زور پر نہیں ہوگا، بلکہ عدل و انصاف کے مطابق ہوگا، کیونکہ وہ باخبر ہستی ہے اسے ہر چیز کا علم ہے۔ الم تر ان اللہ یسجد لہ الآیۃ اس آیت میں تمام مخلوقات خواہ زندہ ذی روح ہوں یا جمادات و نباتات سب کا حق سبحانہ تعالیٰ کے لئے مطیع اور فرما نبردار ہونا بعنوان سجدہ بیان فرما کر بنی نوع انسان کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں، ایک مطیع و فرمانبردار سجدہ میں سب کے ساتھ شریک اور دوسری قسم سرکش و باغی سجدہ کرنے سے منحرف، اور تابع فرمان ہونے کو سجدہ کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کا ترجمہ عاجزی کرنے سے کیا ہے تاکہ مخلوق کی ہر نوع اور ہر قسم کو شامل ہوجائے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا سجدہ اس کے مناسب حال ہوتا ہے، انسان کا سجدہ زمین پر پیشانی رکھنے کا نام ہے، دوسری مخلوقات کا سجدہ اپنی اپنی خدمت جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے، اس کو انجام دینے کا نام ہے۔ تمام مخلوق کے فرمانبردار ہونے کی حقیقت : تمام کائنات کا اپنے خالق کے زیر حکم اور تابع مشیئت ہونا ایک تو تکوینی اور تقدیری طور پر غیر اختیاری ہے جس سے مخلوق کا کوئی فرد مومن ہو یا کافر نباتات میں سے ہو یا جمادات میں سے مستثنیٰ نہیں، اس حیثیت سے سب کے سب یکساں طور پر حق تعالیٰ کے زیر حکم و مشیئت ہیں، جہاں کا کوئی ذرہ یا پہاڑ اس کے اذن و مشیئت کے بغیر کوئی ادنیٰ حرکت نہیں کرسکتا۔ دوسری طاعت و فرمانبرداری اختیاری ہے کوئی مخلوق اپنے قصد و اختیار سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرے اس سے مومن و کافر فرق ہوتا ہے کہ مومن اطاعت شعار و فرمانبردار ہوتا ہے، کافر اس سے منحرف اور منکر ہوتا ہے یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس میں سجدہ اور اطاعت سے مراد صرف تکوینی و تقدیری اطاعت نہیں بلکہ اختیاری اور ارادی اطاعت ہے، کسی کو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اختیاری اور ارادی اطاعت تو صرف ذوی العقول یعنی جن و انسان وغیرہ میں ہوسکتی ہے، حیوانات، نباتات، جمادات میں عقل و شعور ہی نہیں ہوتا تو پھر قصد و ارادہ کہاں اور اطاعت اختیاری کیسی ؟ کیونکہ قرآن کریم کی بیشمار نصوص اور تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ عقل و شعور اور قصد و ارادہ سے کوئی مخلوق خالی نہیں، کمی بیشی کا فرق ہے، انسان اور جنات کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور کا کامل درجہ عطا فرمایا ہے اور اسی لئے ان کو امر و نواہی کا مکلف بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ باقی مخلوقات میں سے ہر نوع اور ہر صنف کو اس صنف کی ضرورت کے مطابق عقل و شعور دیا گیا ہے، انسان کے بعد سب سے زیادہ عقل و شعور حیوانات میں ہے، اس کے بعد نباتات میں، تیسرے درجہ میں جمادات میں، حیوانات کا عقل و شعور تو عام طور پر محسوس کیا جاتا ہے، نباتات کا عقل و شعور بھی ذرا سا غور کرنے سے پہچان لیا جاتا ہے لیکن جمادات کا عقل و شعور اتنا کم اور مخفی ہے کہ عام انسان اس کو نہیں پہچان سکتے، مگر ان کے خالق ومالک نے خبر دی ہے کہ وہ بھی عقل و شعور نیز قصد و ارادہ کے مالک ہیں۔ قرآن کریم نے آسمان اور زمین کے بارے میں فرمایا ہے ” قالتا اتینا طائعین “ یعنی جب اللہ نے آسمان اور زمین کو حکم دیا کہ تم کو ہمارے تابع فرمان رہنا ہے اپنی خوشی سے فرمانبردار اختیار کرو ورنہ جبراً و حکماً تابع رہنا ہی ہے تو آسمان اور زمین نے عرض کیا کہ ہم اپنے ارادے اور خوشی سے اطاعت اور فرمانبرداری قبول کرتے ہیں، اور دوسری جگہ کہ جو اللہ تعالیٰ کی خشیت اور خوف کے مارے اوپر سے نیچے لڑھک جاتے ہیں، اسی طرح احادیث کثیرہ میں پہاڑوں کی باہم گفتگو اور دوسری مخلوقات میں عقل و شعور کی شہادتیں بکثرت ملتی ہیں، اس لئے اس آیت میں فرمانبرداری کو سجدہ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اس سے اطاعت اختیاری وارادی مراد ہے، اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ نوع انسان کے علاوہ (جن کے ضمن میں جنات بھی داخل ہیں) باقی تمام مخلوقات اپنے قصد و ارادہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز یعنی تابع فرمان ہیں، صرف انسان اور جن ایسی مخلوق ہے جن میں دو حصے ہوگئے، ایک مومن و مطیع سجدہ گزار، دوسرے کافرو نافرمان، سجدہ سے منحرف جن کو اللہ نے ذلیل کردیا ہے ان کو سجدہ کی توفیق نہیں بخشی۔ ھذان خصمان جن کا ذکر اوپر آیت ” ان الذین آمنوا “ میں ہوا ہے، یہ دو فریق ہیں ایک مومن دوسرا کافر، پھر کافروں کی پانچ قسمیں ہیں یہود، نصاریٰ صائبین، مجوس، بت پرست۔ جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں باہم اختلاف کیا اس اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا، یہ دو فریق کن کا ذکر اس آیت میں ہے عام مومنین اور ان کے مقابلہ میں تمام گروہ کفار ہیں خواہ قرآن اول کے ہوں یا مابعد کے، البتہ اس آیت کا نزول دو فریقوں کے بارے میں ہوا ہے، جو میدان بدر کے مبارزہ میں ایک دوسرے کے مقابل بنرد آزما تھے، مسلمانوں میں سے حضرت علی و حمزہ و ابو عبیدہ ؓ اور کفار میں سے عتبہ ابن ربیعہ اور شیبہ ابن ربیعہ اور ولید ابن عتبہ تھے، جن میں سے کفار تو تینوں مارے گئے تھے اور مسلمانوں میں حضرت علی ؓ اور حضرت حمزہ ؓ صحیح وسالم واپس آئے اور ابو عبیدہ شدید زخمی ہو کر آئے، اور آنحضرت ﷺ کے قدموں میں پہنچ کر دم توڑ دیا، آیت کا نزول ان مبارزین کے بارے میں ہونا بخاری و مسلم کی احادیث سے ثابت ہے، لیکن یہ ظاہر ہے کہ یہ حکم ان کے ساتھ مخصوص نہیں پوری امت کے لئے عام ہے، خواہ کسی بھی زمانہ میں ہوں۔ (معارف)
Ayahs 22:23–25

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کر دے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور انکو پاکیزہ کلام کی ہدایت کی گئی اور (خدائے) حمید کی راہ بتائی گئی

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے اور مسجد محترم سے جسے ہم نے لوگوں کے لئے یکساں (عبادت گاہ) بنایا ہے روکتے ہیں خواہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے اور جو اس میں شرارت سے کجروی (وکفر) کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزا چکھائیں گے

آیت نمبر 23 تا 25 ترجمہ : اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ایسے باغات میں داخل کرے گا جس میں نہریں جاری ہوں گی، ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے، اور جنت میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا جس کا مردوں کے لئے دنیا میں پہننا حرام ہے، لؤلؤ جر کے ساتھ، یعنی کنگن سونے اور موتیوں سے بنے ہوں گے، اس طریقہ سے کہ موتی سونے میں جڑے ہوئے ہوں گے اور لؤ لؤ نصب کے ساتھ بھی ہے اساور کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے اور ان کو دنیا میں کلمہ طیب کی ہدایت کردی گئی تھی، اور وہ لا الٰہ الا اللہ ہے اور ان کو اس راستہ کی ہدایت کردی گئی تھی جو لائق تعریف ہے یعنی اللہ کا پسندیدہ راستہ اور اس کا دین ہے بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور اللہ کے راستہ سے یعنی اس کی اطاعت سے اور مجد حرام سے جس کو ہم نے قربان گاہ اور عبادت گاہ کردیا، تمام لوگوں کے لئے اس میں مقیم اور مسافر سب برابر ہیں، جو بھی وہاں ظلم کے ساتھ بےراہ روی اختیار کرے گا تو ہم اس شخص کو دردناک عذاب یعنی اس کا بعض حصہ چکھائیں گے، بالحاد میں با زائدہ ہے، بظلمٍ ای بسبب الظلم بایں طور کہ کسی غیر مشروع چیز کا ارتکاب کرے گا اگرچہ خادم کو سب وشتم ہی کیوں نہ ہو، اور اسی نُذِقہ کے لفظ سے انَّ کی خبر اخذ کی جائے گی ای نُذِقھم من عذاب الیم۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : من اساور من تبعیضیہ ہے ای بعض الاساور، من بیانیہ بھی ہوسکتا ہے اور زائدہ بھی، اور من، من ذھب میں بیان کے لئے ہے، قولہ : الا س اور اسورۃ کی جمع ہے، اور اسورۃ سوارٌ کی جمع ہے، بمعنی کنگن، سوار ضمہ اور فتحہ دونوں لغت ہیں، لؤ لؤ جر کے ساتھ اساور پر عطف ہوگا اور لؤ لؤ نصب کے ساتھ اساور کے محل پر عطف ہوگا ای یحلون لؤ لؤا چونکہ الف کے ساتھ لکھا ہے، لہٰذا نصب رسم الخط کے مقتضیٰ کے مطابق ہوگا۔ قولہ : ان الذین کفروا ویصدون، یصدون کے اعراب میں تین وجہ ہوسکتی ہیں (1) یصدون کا عطف کفروا پر ہو، اس صورت میں یہ اعتراض ہوگا کہ مضارع کا عطف ماضی پر درست نہیں ہے، اس کے تین جواب ہیں اول جواب مضارع سے بعض اوقات حال یا استقبال کے معنی مراد نہیں ہوتے بلکہ اس سے استمرار مراد ہوتا ہے، جس میں ماضی بھی شامل ہے، دوسرا جواب مضارع ماضی کی تاویل میں ہے، تیسرا جواب مضارع اپنے حال پر ہے، البتہ ماضی بمعنی مستقبل ہے، یصدون کے اعراب کی دوسری وجہ یصدون کفروا کی ضمیر فاعل سے حال ہے، مگر یہ ظاہر البطلان ہے، اس لئے کہ مضارع مثبت اگر حال واقع ہو تو اس پر واؤ داخل نہیں ہوتا حالانکہ یہاں واؤ موجود ہے، یصدون کے اعراب کی تیسری وجہ، ویصدون میں ان کی خبر پر واؤ زائدہ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ان الذین کفروا یصدون اور واؤ کی زیارتی کو فیین کا مذہب ہے۔ قولہ : منسکا یہ جعلناہ کے مفعول زمانی کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : سواء جعلنا کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہوسکتا ہے، جمہور نے سواء کو مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع پڑھا ہے، اس کی خبر عاکف ہے یا اس کا عکس ہے، قولہ : ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم یرد کا مفعول تعمیم کی غرض سے محذوف ہے تقدیر یہ ہے، ومن یرد فیہ مرادا، الحاد لغت میں عدول اور میلان عن الحق کو کہتے ہیں، قولہ : من ھذا ای نذقہ یعنی نذقہٗ کے لفظ سے ان کی خبر محذوف کو سمجھا جاسکتا ہے اور وہ نذقھم من عذاب الیم ہے تفسیر و تشریح سابقہ آیات میں جہنمیوں کا ذکر تھا، ان اللہ یدخل الذین آمنوا سے مقابلہ کے طور پر جنتیوں کا اور ان نعمتوں کا تذکرہ ہے جو اہل ایمان کے لئے مہیا کی جائیں گی، یحلون فیھا من اساور الخ جنتیوں کو کنگن پہنائے جائیں گے، یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ کنگن پہننا عورتوں کا کام اور ان کی زیبائش ہے، مردوں کے لئے نہ صرف یہ کہ زیبائش اور آرائش نہیں ہے بلکہ معیوب بھی سمجھا جاتا ہے، جواب یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کی یہ امتیازی شان رہی ہے کہ سر پر تاج اور ہاتھوں میں کنگن رکھتے تھے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک کو جبکہ وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور سفر ہجرت میں آپ ﷺ کو گرفتار کرنے کے لئے نکلے تھے جب ان کا گھوڑا باذن خداوندی زمین میں دھنس گیا اور سراقہ نے توبہ کی تو آنحضرت ﷺ کی دعا سے گھوڑا نکل گیا، اس سراقہ بن مالک سے وعدہ فرمایا تھا کہ کسریٰ شاہ فارس کے کنگن مال غنیمت میں مسلمانوں کے پاس آئیں گے اور جب فاروق اعظم کے زمانہ میں ملک فارس فتح ہوا اور شاہ کسریٰ کے یہ سر پر تاج پہننا عام مردوں کا رواج نہیں شاہی اعزاز ہے اسی طرح ہاتھوں میں کنگن بھی شاہی اعزاز سمجھے جاتے ہیں، اس لئے اہل جنت کو کنگن پہنائے جائیں گے یہ کنگن سونے، چاندی اور موتی تینوں قسم کے بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سونے چاندی کے کنگنوں میں موتی جڑے ہوئے ہوں۔ مردوں کے لئے ریشم کے کپڑوں کا حکم آیت مذکورہ میں ہے کہ جنت میں جنتیوں کا لباس حریر (ریشم) کا ہوگا، مطلب یہ ہے کہ ان کے تمام ملبوسات اور فرش اور پردے وغیرہ ریشم کے ہوں گے جو دنیا میں سب سے بہتر لباس سمجھا جاتا ہے اور جنت کا ریشم ظاہر ہے کہ دنیا کے ریشم سے صرف نام کی شرکت رکھتا ہے ورنہ اس کی عمدگی اور بہتری کو دنیوی ریشم سے کوئی نسبت نہیں، ضرورت شرعی (مثلاً حالت جنگ میں یا بطور علاج کسی ماہر طبیب کے تجویز کرنے کی وجہ سے) کے علاوہ اگر مرد ریشمی کپڑا پہنے گا تو اس کے لئے احادیث میں وعیدین وارد ہوئی ہیں، تفسیر کی کتابوں کی طرف رجوع کریں، مثلاً تفسیر مظہری، قرطبی وغیرہ۔ امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں ریشمی لباس پہنے گا وہ آخرت میں محروم رہے گا، اور جو دنیا میں شراب پئے گا وہ آخرت کی شراب سے محروم رہے گا اور جو دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں کھائے پئے گا وہ آخرت میں سونے چاندی کے برتنوں میں نہ کھائے گا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تینوں چیزیں اہل جنت کے لئے مخصوص ہیں۔ (قرطبی بحوالہ نسائی) مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے دنیا میں یہ کام کئے اور توبہ نہیں کی وہ جنت کی ان تینوں چیزوں سے محروم رہیگا اگرچہ جنت میں داخل بھی ہوجائے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے دنیا میں شراب پی، پھر اس نے توبہ نہیں کی وہ آخرت میں جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ (قرطبی) شبہ : یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ جب ایک شخص جنت میں داخل کرلیا گیا پھر اگر وہ کسی چیز سے محروم کیا گیا تو اس کو حسرت اور افسوس رہے گا اور جنت اس کی جگہ نہیں، وہاں کسی شخص کو کسی شئ کا غم اور افسوس نہ ہونا چاہیے، اور اگر یہ حسرت اور افسوس نہ ہو تو پھر اس محرومی کا کوئی فائدہ نہیں رہتا، اس کا جواب قرطبی نے اچھا دیا ہے کہ اہل جنت کے جس طرح مقامات اور درجات مختلف متفاوت اعلیٰ اور ادنیٰ ہوں گے ان کے تفاوت کا احساس بھی سب کو ہوگا مگر اس کے ساتھ ہی حق سبحانہ تعالیٰ اہل جنت کے قلوب ایسے بنا دے گا کہ ان میں حسرت و افسوس کسی چیز کا نہ ہوگا۔ وھدوآ الی الطیب من القول حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد کلمہ طیبہ الا الہٰ الا اللہ ہے، بعض نے فرمایا قرآن مراد ہے (قرطبی) صحیح یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اس میں داخل ہیں۔ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ سبیل اللہ سے مراد اسلام ہے، معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ خود تو اسلام سے دور ہیں ہی دوسروں کو بھی اسلام سے روکتے ہیں والمسجد الحرام یہ ان کا دوسرا گناہ ہے کہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، مسجد حرام دراصل اس مسجد کا نام ہے بیت اللہ کے گرد بنی ہوئی ہے اور یہ حرم مکہ کا ایک اہم جز ہے، لیکن بعض مرتبہ مسجد حرام بول کر پورا حرم بھی مراد لیا جاتا ہے، جیسا کہ خود ایسی واقعہ یعنی مسلمانوں کو عمرہ کے لئے حرم میں داخل ہونے سے روکنے کی جو صورت پیش آئی وہ یہی تھی کہ کفار مکہ نے آپ کو صرف مسجد میں جانے سے نہیں بلکہ حدود حرم میں داخل ہونے سے روک دیا تھا جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور قرآن کریم نے اس واقعہ میں مسجد حرام کا لفظ بمعنی مطلق حرم استعمال فرمایا ہے ” وصدوکم عن المسجد الحرام “۔ حرم مکہ میں تمام مسلمانوں کے مساوی حق کا مطلب : اس بات پر پوری امت اور فقہاء کا اتفاق ہے کہ مسجد حرام اور حرم شریف کے وہ تمام حصے جن سے افعال حج کا تعلق ہے جیسے صفا مروہ اور ان کے درمیان کا میدان جس میں سعی ہوتی ہے اسی طرح منیٰ کا پورا میدان، عرفات کا پورا میدان اور میدان مزدلفہ یہ زمینیں پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے وقف ہیں کسی شخص کی ذاتی ملکیت ان پر نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ مکہ مکرمہ کے عام مکانات اور باقی حرم کی زمینیں ان کے متعلق بھی بعض ائمہ فقہاء کا یہی قول ہے، کہ وہ بھی وقف عام ہیں، ان کا فروخت کرنا یا کرایہ پر دینا حرام ہے، ہر مسلمان ہر جگہ ٹھہر سکتا ہے، مگر دوسرے فقہاء کا مختار مسلک یہ ہے کہ مکہ کے مکانات ملک خاص ہوسکتے ہیں ان کی خریدو فروخت اور ان کو کرایہ پر دینا جائز ہے، حضرت عمر فاروق ؓ سے ثابت ہے کہ انہوں نے صفوان بن امیہ کا مکان مکہ مکرمہ میں خرید کر اس کو مجرموں کے لئے قید خانہ بنایا تھا، امام ابوحنیفہ (رح) سے اس میں دو روایتیں منقول ہیں ایک پہلے قول کے مطابق اور دوسری دوسرے قول کے مطابق اور فتویٰ دوسرے قول پر ہے (کذافی روح المعانی) مسجد حرام سے امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک خاص مسجد حرام مراد ہے، امام ابو یوسف (رح) کا بھی یہی قول ہے، امام مالک و ابوحنیفہ (رح) و ثوری (رح) و محمد (رح) کے نزدیک پورا حرم مراد ہے، اس کا قرینہ ” العاکف فیہ “ ہے اس لئے کہ قیام نفس مسجد میں نہیں ہوتا بلکہ منازل میں ہوتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ بھی پورے حرم کو مسجد ہی سمجھتے تھے، اسی وجہ سے مکہ کی زمین کو فروخت کرنا یا کرایہ پر دینا مکروہ سمجھتے تھے، امام صاحب سے بھی ایک روایت ایسی ہی منقول ہے، ایک قول امام صاحب کا اس کے برعکس بھی ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ ومن یرد فیہ بالحادٍ بظلم الحاد کے معنی لغت میں سیدھے راستہ سے ہٹ جانے کے ہیں اس جگہ الحاد سے مراد مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) کے نزدیک کفرو شرک ہے، مگر دوسرے مفسرین نے اس کو اپنے عام معنی میں قرار دیا ہے جس میں ہر گناہ اور ہر نافرمانی داخل ہے، جو چیزیں شریعت میں ممنوع اور حرام ہیں وہ سبھی جگہ گناہ اور موجب عذاب ہیں، حرم کی تخصیص اس بنا پر کی گئی ہے کہ جس طرح حرم مکہ میں نیکی کا ثواب بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اسی طرح گناہ کا عذاب بھی بڑھ جاتا ہے، اور عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اس کی ایک تفسیر یہ بھی منقول ہے کہ حرم کے علاوہ دوسری جگہوں میں محض گناہ کا ارادہ کرنے سے گناہ نہیں لکھا جاتا جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے اور حرم میں صرف پختہ ارادہ کرلینے پر بھی گناہ لکھا جاتا ہے، قرطبی نے بھی تفسیر ابن عمر ؓ سے یہی نقل کی ہے اور اس تفسیر کو صحیح کہا ہے۔