Ayahs 22:49–57آیت نمبر 49 تا 57
ترجمہ : آپ اعلان کر دیجئے کہ اے لوگو یعنی مکہ والو میں تم کو واضح طور ڈرانے والا ہوں یعنی کھلے طور پر آگاہ کرنے والا ہوں اور میں مومنین کو خوشخبری دینے والا ہوں، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے (سابقہ) گناہوں کی بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے وہ جنت ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیات میں یعنی قرآنی آیات کے ابطال کے روپے رہتے ہیں عاجز کرنے کے لئے ان لوگوں کو جنہوں نے اتباع کی ہے نبی ﷺ کی یعنی ان کی طرف عاجز ہونے کی نسبت کرنے کے لئے، اور روکتے ہیں ان کو ایمان سے یا ہم کو عاجز گمان کرتے ہوئے ان کی گرفت سے، اور ایک قرأۃ میں معاجزین بمعنی مسابقین ہے یعنی ہمارے بارے میں یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ (ہماری گرفت سے) بعث و عقاب کا انکار کرکے نکل بھاگیں گے، یہی ہیں دوزخی اور ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول، رسول وہ نبی ہوتا ہے جس کو تبلیغ کا حکم دیا گیا ہو اور کوئی نبی یعنی جس کو تبلیغ کا حکم نہ دیا گیا ایسا نہیں بھیجا کہ جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب بھی اس نے کچھ پڑھا ہو اور شیطان نے اس کے پڑھنے میں ایسی چیز (شبہ) نہ ڈالی ہو کہ جو قرآن نہیں ہے اور وہ ایسا شبہ ہو کہ جس سے مرسل الیہم خوش ہوں، اور رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم میں قریش کی مجلس میں افرایتم اللات والعزی ومنات الثلثۃ الاخری کے بعد لاعلمی میں آپ کی زبان پر القاء شیطانی کی وجہ سے تلک الغرانیق العلیٰ وان شفاعتھن لترتجی پڑھا (ترجمہ) یہ اونچے درجہ کی دیویاں ہیں، ان کی شفاعت کی یقیناً امید کی جاتی (مشرکین مکہ) اس سے بہت خوش ہوئے، پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی جو شیطان نے آپ کی زبان مبارک پر القاء کردیا تھا، تو آپ رنجیدہ ہوئے تو آپ کو آئندہ آیت کے ذریعہ تسلی دی گئی تاکہ آپ مطمئن ہوجائیں اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو نیست و نابود کو دیتا ہے پھر اپنی آیات کو زیادہ مضبوط کردیتا ہے اللہ تعالیٰ القاء شیطانی سے بخوبی واقف ہے جس کا ماسبق میں ذکر ہوچکا ہے، اور اللہ حکیم ہے اپنی طرف سے شیطان کو قدرت دینے میں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ القاء شیطانی کو ان لوگوں کے لئے آزمائش بنا دے جن کے قلوب میں شک و نفاق کا مرض اور ان کے قلوب سخت ہیں یعنی مشرکین کے قلوب قبول حق کے بارے میں سخت ہیں اور واقعی یہ ظالم کافر لوگ بڑی گمراہی میں ہیں یعنی نبی اور مونین کے ساتھ طویل گمراہی میں ہیں اس لئے کہ آپ کی زبان مبارک پر ان کے معبودوں کا ایسا ذکر جاری ہوگیا جس نے ان کو خوش کردیا، پھر اس ذکر کو باطل قرار دیدیا اور تاکہ وہ لوگ کہ جن کو توحید اور قرآن کا علم دیا گیا ہے جان لیں کہ وہ یعنی قرآن تیرے رب کی جانب سے حق ہے تو اس پر ایمان لے آئیں پھر ان کے قلوب اس پر مطمئن ہوجائیں اور واقعی ایمان والوں کو اللہ راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے یعنی دین اسلام کی جانب اور کافر لوگ قرآن کے بارے میں ہمیشہ شک میں مبتلا رہیں گے، اس شبہ کی وجہ سے کہ شیطان نے آپ ﷺ کی زبان پر القاء کیا پھر اس کو (اللہ نے) باطل کردیا، یہاں تک کہ ان پر دفعتاً قیامت آجائے یعنی موت کی گھڑی یا (واقعی) قیامت اچانک آجائے، یا ان پر کسی منحوس دن کا عذاب آجائے اور وہ بدر کا دن تھا کہ جس میں کافروں کے لئے کوئی خیر نہیں تھی، جیسا کہ ریح عقیم کوئی خیر نہیں لاتی یا یوم عقیم سے مراد قیامت کا دن ہے کہ اس کے لئے رات نہیں ہوگی اور بادشاہی اس دن یعنی قیامت کے دن صرف اللہ کے لئے ہوگی اور جو لفظ استقر کے معنی کو متضمن ہے وہی ظرف (یومئذ) کا ناصب ہوگا اور وہ ان کے یعنی مومنین اور کافرین کے درمیان اس کے ذریعہ فیصلہ کر دے گا جس کو بعد میں بیان کیا ہے، سو جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور نیک عمل کئے ہوں گے تو وہ اللہ کے فضل سے نعمتوں کی جنت میں ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی ہوگی تو ان لوگوں کے لئے ان کے کفر کے سبب شدید ذلت کا عذاب ہوگا۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
قل یا ایھا الناس اے محمد ﷺ آپ ان طلب عذاب کے بارے میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجئے کہ میں تو صاف صاف ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں تعجیل یا تاخیر عذاب میں میرا کوئی دخل نہیں ہے۔ قولہ : بابطالھا کے اضافہ کا مقصد حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے ای سعوا فی ابطال آیاتنا، بابطالھا میں با بمعنی فی ہے معجزین یہ سعوا کی ضمیر سے حال ہے اور من اتبع النبی، معجزین کا مفعول ہے، یا معجزین کا مفعول اللہ ہے ای معجزین اللہ مطلب یہ ہے کہ ہماری آیات کے ابطال میں سعی کرتے ہیں ہم کو اپنی گرفت سے عاجز مان کر، اور ایک قرأۃ میں معاجزین ہے بمعنی سابقین (مفاعلہ) یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ ہماری پکڑ سے نکل بھاگیں گے، اور مسابقت کا مطلب یہ ہے کافر اللہ کے عذاب سے فرار کی سعی کرتے ہیں ہم کو اپنی گرفت سے عاجز مان کر، اور ایک قرأۃ میں معاجزین ہے بمعنی سابقین (مفاعلہ) یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ ہماری پکڑ سے نکل بھاگیں گے، اور مسابقت کا مطلب یہ ہے کہ کافر اللہ کے عذاب سے فرار کی سعی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کرنے، نہ بھاگنے دینے میں مسابقت کرتا ہے۔
قولہ : وما ارسلنا من (الآیۃ) وان یکذبوک کے بعد یہ آپ ﷺ کو دوسری تسلی ہے من قبلک میں من ابتداء غایت کے لئے ہے اور من رسولٍ میں من زائدہ ہے، قولہ : اذا تمنی القی الشیطن، اذا تمنی شرط ہے اور القی الشیطان فی امنیتہٖ اس کی جزاء ہے، اور جملہ شرطیہ ہو کر نبی سے حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے وما ارسلنا نبیا الا حالہٗ ھٰذہ اور مستثنیٰ منقطع ہونے کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتا ہے۔
قولہ : الغرانیق اس کا واحد غرنوق بروزن فردوس ہے اور بعض نے غرنوق بروزن عصفور کہا ہے، مرغ آبی کو کہتے ہیں فینسخ اللہ نسخ سے نسخ لغوی مراد ہے نہ کہ اصطلاحی، نسخ کے معنی زائل کرنے اور مٹانے کے ہیں۔ قولہ : لیجعل کے لام میں ظاہر یہ ہے کہ یہ یحکم کے متعلق ہے ای ثم یحکم اللہ آیاتہ لیجعل اور واللہ علیم حکیم جملہ معترضہ ہے، یہ بھی احتمال ہے کہ لیجعل ینسخ کے متعلق ہو، قولہ : والقاسیۃ بمعنی القسوۃ سخت دل، القاسیۃ میں الف لام موصول کا ہے اور اس کا عطف الذین فی قلوبھم پر ہے۔ قولہ : وان الظلمین اسم ظاہر کو یہاں زیادتی قباحت کو بیان کرنے کے لئے اسم ضمیر کی جگہ رکھا گیا ہے اصل میں انھم یومئذٍ کا عامل ناصب استقر یا اس کے ہم معنی فعل محذوف ہے۔ قولہ : یحکم بینھم جملہ مستانفہ ہے یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے ما ذا یصنع بھم ؟ فقیل یحکم بینھم اور جملہ حالیہ بھی ہوسکتا ہے۔
قولہ : بما بین بعدہ ای فالذین آمنوا وعملوا الصلحات مبتدا ہے فی جنت نعیم اس کی خبر ہے ای مستقرون فیھا اسی طرح والذین کفروا وکذبوا بآیتنا مبتدا ہے اور فاولئک لھم عذاب مھین جملہ ہو کر اس کی خبر ہے، اول خبر پر فانہ داخل کرنا اور ثانی خبر پر فا کا داخل کرنا یہ بتانے کے لئے ہے کہ جنت میں داخل اعمال کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے ہوگا، اسی بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے مفسر علام نے فضلا من اللہ کا اضافہ کیا ہے، بخلاف عذاب جہنم کے اس کا ترتیب اعمال ہی پر ہوگا اسی لئے فاولئک پر فاجزائیہ داخل کی گئی۔ (جمل)
تفسیر و تشریح
قل یا ایھا الناس قرآن کریم میں عام طور پر یایھا الناس سے مشرکین مکہ کو خطاب ہوتا ہے، چناچہ یہاں بھی مشرکین مکہ میں سے وہ لوگ مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ سے عذاب کئ جلدی آنے کا مطالبہ کرتے تھے، چونکہ مشرکین مکہ نزول عذاب کے منکر تھے اس لئے نزول عذاب کی وعید کو محض ذراوا سمجھتے تھے اسی لئے وہ آپ ﷺ سے عذاب کے جلدی لانے کا بار بار تقاضا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ میں تو واضح طور پر ڈرانے والا ہوں میرا کام آگاہ اور ہوشیار کردینا ہے، عذاب لے آنا میرے قبضہ میں نہیں ہے، یہ تو خدا ہی کے قبضہ کی بات ہے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو جزاء اور بدکاروں کا سزا دیں گے۔
وما ارسلنا من قبلہ من رسول ولا نبی ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور نبی دونوں کا مفہوم الگ الگ ہے، دونوں میں فرق کیا ہے ؟ اس میں اقوال مختلف ہیں مشہور اور واضح بات یہ ہے کہ نبی تو اس کو کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت قوم کی اصلاح کے لئے عطا کیا گیا ہو اور اس کو تبلیغ رسالت کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہو اور اس کے پاس اللہ کی طرف سے وغی آئی ہو خواہ اس کو کوئی مستقل کتاب یا شریعت دی گئی ہو یا کسی پہلے نبی ہی کی کتاب یا شریعت کی تبلیغ کے لئے مامور ہو، پہلے کی مثال حضرت موسیٰ و عیسیٰ اور خاتم الانبیاء محمد ﷺ ہیں اور دوسرے کی مثال حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب اور شریعت کی تبلیغ وتعلیم پر مامور تھے، اور رسول وہ ہے کہ جسے مستقل شریعت اور کتاب ملی ہو، اس سے معلوم ہوا کہ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے مگر ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں، اب رہا فرشتہ کو رسول کہنا تو یہ اصطلاحی معنی میں نہیں ہے بلکہ لغوی معنی میں ہے لہٰذا وہ اس کے منافی نہیں ہے۔
اذا تمنی القی الشیطن فی امنیتہ، تمنیٰ اس جگہ قرأ کے معنی میں ہے اور أمنیۃ کے معنی قرأت کے ہیں، ابو حیان نے بحر محیط میں اور بہت سے دوسرے حضرات نے اسی کو اختیار کیا ہے، کتب حدیث میں اس جگہ ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے جو واقعہ غرانیق کے نام سے معروف ہے یہ واقعہ جمہور محدیثین کے نزدیک ثابت نہیں ہے، بعض حضرات نے اس کو موضوع، ملحدین و زنادقہ کی ایجاد قرار دیا ہے اور جن حضرات نے اس واقعہ کو کچھ معتبر مانا ہے تو اس کے ظاہری الفاظ سے جو شبہات قرآن و سنت کی قطعیت پر عائد ہوتے ہیں ان کے مختلف جوابات دئیے ہیں، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس آیت کی تفسیر اس واقعی پر موقوف نہیں ہے۔
مفسرین کی ایک جماعت نے مذکورہ آیت کے شان نزول میں واقعہ غرانیق بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک روز آپ ﷺ مشرکین مکہ کی ایک مجلس میں تشریف فرماں تھے، آپ پر سورة نجم کا نزول ہوا، آپ ﷺ نے سورة نجم پڑھنی شروع کی، جب آپ افرأیتم اللات والعزی ومنات الثلثۃ الاخری پر پہنچے تو القاء شیطانی سے آپ کی زبان مبارک پر تلک الغرانیق العلیٰ وان شفاعتھین لترتجی جاری ہوگیا جب قریش نے یہ کلمات سنے تو بہت خوش ہوئے اور آپ ﷺ نے قرأت جاری رکھی حتی کہ سورة کے ختم تک تلاوت فرمائی اور جب آخر میں آپ نے سجدہ کیا تو مجلس کے حاضرین نے بھی سجدہ کیا، اس واقعہ کے بعد مشرکین خوشی خوشی منتشر ہوگئے اور کہنے لگے کہ آج محمد ﷺ نے ہمارے معبودوں کی ستائش فرمائی، چناچہ جبرئیل تشریف لائے اور فرمایا آپ نے یہ کیا کیا ؟ آپ نے تو لوگوں کو وہ سنا دیا جو میں آپ کے پاس اللہ کی طرف سے لے کر نہیں آیا، آنحضرت ﷺ کو اس واقعہ سے سخت رنج ہوا اور شدید خوف زدہ بھی ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی کے لئے مذکورہ آیت نازل فرمائی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ معاملہ تنہا آپ کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ ہر رسول اور نبی کے ساتھ ہوا ہے لہٰذا رنجیدہ ہونے کی بات نہیں ہے، مگر وہ واقعہ کسی طرح بھی ثابت نہیں ہے بلکہ اس کا بطلان کتاب اللہ سے ثابت ہے قال اللہ تعالیٰ لو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعن منہ الوتین وقال اللہ تعالیٰ وما ینطق عن الھوٰی امام بیہقی (رح) نے اس قصہ کے بارے میں فرمایا ھٰذہ القصۃُ غیر ثابتۃٌ من جھۃ النقل امام ابن خزیمہ (رح) نے فرمایا اِن ھٰذہ القصۃ من وضع الزنادقۃ بعض مفسرین نے قصہ غرانیق کے ساتھ حبشہ سے مہاجرین کے واپس ہونے کا قصہ بھی لگا دیا ہے، جس کی مزید تفصیل سورة نجم میں انشاء اللہ ملاحظہ فرمائیں گے کہ تمنیٰ کے معنی قرأ کے ہیں اور معنی القی الشیطان فی أمنیتہٖ ای فی تلاوتہٖ وقرأتہٖ کے ہیں ابن جریر نے کہا کہ یہ قول تاویل کلام کے زیادہ مشابہ ہے، آیت کے حاصل معنی یہ ہیں کہ شیطان نے مشرکین کے کانوں میں بغیر اس کے کہ آپ ﷺ کی زبان مبارک پر مذکورہ کلمات جاری ہوں خود ہی مذکورہ کلمات ڈالدئیے۔ (فتح القدیر) اللہ تعالیٰ شیطان کے القاء کردہ کلمات کو مٹا دے گا، اور اپنی آیات کو محکم کر دے گا۔
Ayahs 22:58–64آیت نمبر 58 تا 64
ترجمہ : اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا یعنی اس کی طاعت میں مکہ سے مدینہ کی طرف (ہجرت کی) پھر وہ شہید کر دئیے گئے یا اپنی موت مرگئے اللہ تعالیٰ ان کو بہترین رزق عطا فرمائے گا، وہ جنت کا رزق ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے، یعنی عطا کرنے والوں میں بہتر عطا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا کہ کہ وہ اس کو پسند کریں گے اور وہ جنت میں مدخلاً میم کے ضمہ کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ، داخل کرنا یا داخل کرنے کی جگہ اور بیشک اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں سے واقف ہے ان کو سزا دینے کے معاملہ میں حلیم ہے، بات ایسی ہے جیسی کہ ہم نے تم کو سنائی، اور جس مومن نے بدلہ لیا (ظالم سے) اسی کے برابر جو (ظلم مشرکین کی جانب سے) اس کے ساتھ کیا گیا تھا، یعنی ان کے ساتھ اسی طرح قتال کیا جس طرح انہوں نے ماہ محرم میں مومنین کے ساتھ قتال کیا تھا، پھر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے مشرکین کی جانب سے یعنی اس کو اس کے گھر سے نکال کر اس پر ظلم کیا گیا، تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے گا، بیشک اللہ تعالیٰ مومنین کو بہت معاف کرنے والا اور درگذر کرنے والا ہے، شہر حرام میں ان کے قتال کرنے کو اور یہ مدر اس وجہ سے ہوگی کہ بیشک اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے یعنی ایک کو دوسرے میں داخل کردیتا ہے بایں طور کہ ہر ایک میں اضافہ کردیتا ہے اور یہ ایلاج اس کی قدرت کی دلیل ہے جسکے ذریعہ نصرت ہوتی ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ مومنین کی دعا کو سننے والا ہے اور ان کے احوال کو دیکھنے والا ہے اس طریقہ پر کہ ان کو مومن بنایا پھر ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور یہ نصرت بھی اس سبب سے ہے کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور بلاشبہ جس کو یہ لوگ یا تم لوگ اس کو چھوڑ کر پکارتے ہو اور وہ بت ہیں وہ باطل ہے زائل ہونے والا ہے اور بلاشبہ اللہ ہی ہر شئ پر عالی ہے اپنی قدرت کے اعتبار سے اور ایسا عظمت والا ہے کہ اس کے سوا اس کی عظمت کے سامنے ہر شئ ذلیل ہے کی اتو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بارش برسائی جس سے زمین نباتات کے ذریعہ سرسبز ہوگئی اور یہ اسکی قدرت کا اثر ہے، بیشک اللہ تعالیٰ پانی کے ذریعہ نباتات پیدا کرنے میں اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور بارش کی تاخیر کی صورت میں جو خیالات بندوں کے دلوں میں آتے ہیں ان سے باخبر ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کی ملک ہے اور بیشک اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کا محتاج نہیں اور اپنے اولیاء کی تعریف کا سزا وار ہے۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : والذین ھاجروا مبتدا ہے لیرزقنھم اللہ اس کی خبر ہے والذین ھاجروا اگرچہ الذین آمنوا میں داخل ہیں، مگر ان کی عظمت شان کی وجہ سے خاص طور پر ان کا ذکر کیا گیا ہے گویا کہ یہ تخصیص بعد العمیم کے قبیل سے ہے، لیرزقنھم قسم محذوف کا جواب ہے ای واللہ لیرزقنھم قسم اور جواب قسم مل کر جملہ ہو کر والذین ھاجروا کی خبر ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جملہ قسمیہ مبتداء کی خبر واقع ہوسکتا ہے رزقا حسناً لیرزقنھم کا مفعول ثانی ہے اور لیرزقنھم کا مفعول مطلق برائے تاکید بھی ہوسکتا ہے۔ قولہ : خیر الرازقین کے بعد افضل المعطین کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ خیرٌ اسم تفضیل اسم تفضیل ہی کے معنی میں ہے قرآن پاک میں عام طور پر اس تفضیل اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے مگر یہاں ایسا نہیں ہے، اول تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا رزق مخصوص ہے جس پر کوئی دوسرا قادر نہیں ہے، اور رزق میں یہی اصل ہے، دوسری بات یہ ہے کہ بظاہر غیر اللہ جو رزق دیتا ہے وہ اللہ ہی کے عطا کردہ رزق میں سے دیتا ہے، تیسری بات یہ ہے کہ غیر اللہ جو رزق دیتا ہے اس کا مقصد طلب عوض ہوتا ہے کم از کم اجر آکرت ہی سہی، اور اللہ تعالیٰ کا جو رزق ہوتا ہے وہ محض بطور احسان ہوتا ہے۔
قولہ : لیدخلنھم یہ لیرزقنھم سے بدل بھی ہوسکتا ہے اور جملہ مستانفہ بھی۔ قولہ : مدخلا یہ باب افعال کا مصدر ہے ای ادخالا ومدخلاً اس صورت میں یہ لیدخلنھم کا مفعول مطلق ہوگا اور اس کا مفعول بہ محذوف ہوگا ای لیدخلنھم الجنۃ ادخالا یرضونہ اور فتحہ میم کے ساتھ ظرف مکان ہوگا ای موضع دخول اس صورت میں مدخلاً ہی لیدخلنھم کا مفعول فیہ ہوگا ای لیدخلنھم مکاناً یرضونہ، قولہ : ذٰلک یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای الامر ذٰلک یعنی مومنین و کافرین سے جو وعدے ہیں وہ اپنی جگہ پر صحیح اور برحق ہیں، جب ایک کلام سے دوسرے کلام کی طرف انتقال مطلوب ہوتا ہے تو اس وقت الامر ذٰلک بولتے ہیں۔ قولہ : ومن عاقب یہ تعاقب سے ماخوذ ہے جس کے معنی مجئ الشئ بعد الشئ ای جاز۔
قولہ : ای قاتلھم کما قاتلواہ فی الشھر المحرم مفسر کے اس قول میں آیۃ کے شان نزول کی طرف اشارہ ہے، مقاتل (رح) نے کہا ہے کہ مذکورہ آیت مشرکین مکہ میں سے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ جس کی مڈ بھیڑ مسلمانوں کی ایک جماعت سے ہوگئی تھی، حالانکہ ابھی ماہ محرم کے ختم ہونے میں دور وز باقی تھے مشرکین نے یہ سمجھتے ہوئے کہ اصحاب محمد شہر حرام میں قتال کو ناپسند کرتے ہیں حملہ کردیا، مسلمانوں نے شہر حرام میں جنگ نہ کرنے کے لئے مشرکین کو قسم دی مگر انہوں نے ایک نہ سنی، مجبوراً مسلمان بھی ان کے مقابلہ میں ڈٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مشرکین پر غلبہ عطا فرمایا، شہر حرام میں قتال کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے دل میں ایک قسم کی خلش اور وسوسہ باقی تھا اگرچہ مسلمانوں نے بدرجہ مجبوری شہر حرام میں قتال کیا تھا، اسی وسوسہ کو زائل کرنے کے لئے مذکورہ آیت نازل ہوئی، ظلم کا بدلہ لینے کو عاقب کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، یہ مجازاً مشاکلت کے طور پر کیا گیا ہے، جیسے جزء السیئۃ سیئۃ میں کہا گیا ہے، یا یہ تسمیہ السبب باسم المسبب کے قبیل سے ہے، یعنی مشرکین کا ظلم ان سے انتقام لینے کا سبب بنا۔ قولہ : ومن عاقب مبتدا ہے لینصرنہ اس کی خبر ہے اور یہ اس صورت میں ہے کہ جب من موصولہ ہو اور یہ بھی صحیح ہے کہ من شرطیہ ہو اور لینصرنہ اس کی جزاء ہو۔
قولہ : ذٰلک النصر مبتدا ہے اور بأن اللہ یولج اللیل (الآیۃ) اس کی خبر ہے۔ قولہ : ذٰلک من أثر قدرتہِ یعنی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنا یہ اس کی قدرت کا اثر ہے، اسلئے کہ نصرت قدرت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ قولہ : فتصبح رفع کے ساتھ اس کا عطف انزل پر ہے۔ اس صورت میں بہ عائد محذوف ہوگا ای فتصبح بہٖ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فاسببیہ ہو نہ کہ عاطفہ اس صورت میں تقدیر عائد کی ضرورت نہ ہوگی۔
سوال : فتصبح جواب امر واقع ہے لہٰذا اس کو منصوب ہونا چاہیے حالانکہ فتصبح مرفوع ہے۔
جواب : یہ استفہام تقریری بمعنی خبر ہے یعنی الم تر قدرأیت کے معنی میں ہے اور استفہام بمعنی خبر امر کا جواب نہیں ہوتا۔
اب رہا یہ سوال کہ صیغہ ماضی کے بجائے مضارع کا صیغہ استعمال کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ یعنی فتصبح کے بجائے فاصبحت کیوں نہیں کہا ؟
جواب : یہ ہے کہ مضارع کا صیغہ بقاء اثر مطر پر دلالت کرتا ہے جو کہ مطلوب اور محمود ہے بخلاف ماضی کے صیغہ کے۔
تفسیر و تشریح
والذین ھاجزوا اس سے پہلے عام مؤمنین کے انجام کا ذکر تھا، اب یہاں ایک ممتاز جماعت کا خصوصی ذکر فرمایا یعنی جو لوگ خدا کے راستہ میں اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے خواہ وہ لڑائی میں شہید ہوں یا طبعی موت مریں دونوں صورتوں میں اللہ کے یہاں ان کی خاص مہمانی ہوگی، کھانا پینا رہنا سہنا سب ان کی مرضی کے موافق ہوگا، اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ وہ کس چیز سے راضی ہوں گے، اور کن لوگوں نے خالص اللہ کے لئے اپنا گھر بار ترک کیا ہے، ایسے مجاہدین و مہاجرین کی فروگذاشتوں پر حق تعالیٰ تحمل فرمائیں گے، اور شان عفو سے کام لیں گے، علیم و حلیم کی صفات اسی غرض کے لئے ذکر کی گئی ہیں۔
ومن عاقب بمثل ما عوقب یعنی مظلوم اگر ظالم سے واجبی بدلہ لے لے پھر از سر نو ظالم اس پر زیادتی کرے تو وہ پھر مظلوم باقی رہے گا، حق تعالیٰ پھر اس کی مدد فرمائیں گے جیسا کہ اس کا دستور ہے کہ وہ مظلوم کی حمایت کرتا ہے واتق دعوۃ المظلوم فانہٗ لیس بینھما وبین اللہ حجاب۔
بہ ترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعاء کردن
اجابت از در حق بہر استقبال می آید
ذلک بأن اللہ یولج اللیل فی النھار ما قبل کی آیت میں مظلوموں کی نصرت کا ذکر تھا اور نصرت وہی کرسکتا ہے جو نصرت پر قادر ہو اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ذکر فرما رہے ہیں، یعنی جو اللہ تعالیٰ اتنی بڑی قدرت والا ہے کہ رات دن کو الٹ پلٹ کرنا اور ان کو گھٹانا بڑھانا اسی کے ہاتھ میں ہے، اسی کے تصرف سے کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں، پھر کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ ایک مظلوم قوم یا شخص کی مدد کرسکے، بلکہ ظالموں پر غالب اور مسلط کر دے اس آیت میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ عنقریب حالات رات دن کی طرف پلنا کھانے والے ہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ رات کو دن میں تبدیل کردیتا ہے، اسی طرح کفر کی سرزمین کو اسلام کی آغوش میں داخل کر دے گا وأن اللہ سمیع بصیر یعنی مظلوم کی فریاد سنتا ہے اور ظالم کے کرتوت دیکھتا ہے ذٰلک النصر بأن اللہ ھو الحق یعنی ایسے عظیم الشان انقلابات معبود برحق کے سوا اور کس سے ہوسکتے ہیں واقع میں صحیح اور سچا خدا وہی ایک ہے باقی اس کو چھوڑ کر خدائی کے جو پاکھنڈ پھیلائے گئے ہیں سب غلط جھوٹ اور باطل ہیں، اسی کو خدا اور معبود بنانا چاہیے جو سب سے اوپر اور سب سے بڑا ہے اور یہ شان بالاتفاق اسی ایک اللہ کی ہے الم تر ان اللہ انزل جس طرح اللہ تعالیٰ خشک اور مردہ زمین کو آسمانی بارش سے سرسبز و شاداب کردیتے ہیں، اسی طرح کفر کی خشک اور ویران زمین کو اسلام کی بارش سے سبزہ زار بنا دے گا اور یہ کام اس کی قدرت کے لئے کوئی بڑا کام نہیں ان اللہ لطیف خبیر وہی جانتا ہے کہ بارش کے پانی سے کس طرح سبزہ اگ آتا ہے قدرت خداوندی اندر ہی اندر ایسی تدبیر و تصریف کرتی ہے کہ خشک زمین پانی کے اجزاء کو جذب کرکے سرسبز اور شاداب ہوجائے، اسی طرح وہ اپنی مہربانی، لطیف تدبیر و تربیت اور کمال خبر داری و آگاہی زمین و آسمان کہ تمام چیزیں جب اسی کی مملوک و مخلوق ہیں اور سب کو اسی کی احتیاج اور وہ کسی کا محتاج نہیں تو ان میں جس طرح چاہے تصرف اور ردو بدل کرے کوئی مانع اور مزاحم نہیں ہوسکتا، البتہ غنائے تام اور اقتداء کامل سے کرتا وہی ہے جو سراپا حکمت و مصلحت ہو اس کے تمام افعال محمود ہیں اور اس کی ذات تمام خوبیوں اور صفات حمیدہ کی جامع ہے۔
Ayahs 22:65–72آیت نمبر 65 تا 72
ترجمہ : (اے مخاطب) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کاموں میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو حیوانات میں سے اور کشتیوں کو کہ وہ دریا میں بار برداری اور سواری کے لئے اس کے حکم سے چلتی ہیں، اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے (یا تھامے ہوئے ہے تاکہ نہ گرے کہ سب ہلاک ہوجائیں) ہاں مگر یہ کہ گرنے کا حکم ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر تسخیر و امساک میں بڑی مشفقت اور رحمت فرمانے والا ہے وہ وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پیدا کرکے پھر تم کو موت دے گا تمہاری مدت عمر پوری ہونے کے بد پھر تم کو زندہ کرے گا بعث کے وقت واقعی مشرک انسان خدا کی نعمتوں کا اس کی توحید کو ترک کرکے بڑا ناشکرا ہے اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک طریقہ بندگی کا یعنی شریعت مقرر کردی ہے وہ اسی (طریقہ) شریعت پر عامل تھے منسکا سین کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے تو لوگوں کو چاہیے کہ ذبح کے معاملہ میں آپ سے نزاع نہ کریں اور فلا ینازعنک سے لا تنازعھم مراد ہے (یعنی) مضارع منفی سے نہی) اس لئے کہ انہوں نے کہا تھا کہ جس کو اللہ نے قتل کیا ہو وہ کھائے جانے کے زیادہ لائق ہے اس سے کہ جس کو خود تم نے قتل کیا ہے اور آپ اپنے رب یعنی اس کے دین کی طرف دعوت دیتے رہئے، بلاشبہ آپ صحیح دین پر ہیں اور اگر یہ لوگ دین کے معاملہ میں آپ سے جھگڑا کرتے رہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے وہ تم کو اس کی سزا ضرور دے گا، (عدم قتال کی) یہ ہدایت آپ کو جہاد کا حکم دینے سے پہلے کی ہے، اے مومنو اور کافرو ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اس بات کا فیصلہ کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے ہو اس طریقہ پر کہ دونوں فریقوں میں سے ہر فریق دوسرے فریق کے برخلاف کہتا ہے (کیا اے مخاطب) تو نہیں جانتا یہ استفہام تقریری ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب کو جانتا ہے یقیناً یہ جو کچھ مذکور ہوا لوح محفوظ میں محفوظ ہے بیشک یہ یعنی مذکور کا علم اللہ کے لئے آسان ہے اور مشرک اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسی چیزوں کی بندگی کرتے ہیں جن کے بارے میں اس نے کوئی حجت نازل نہیں کی وہ بت ہیں اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے کہ یہ معبود ہیں اور شرک کے ذریعہ ظلم کرنے والوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا کہ ان سے عذاب کو باز رکھ سکے اور جب ان لوگوں کو ہماری واضح قرآنی آیتیں سنائی جاتی ہیں بینات بمعنی ظاہرات حال ہے تو آپ ان کافروں کے چہروں پر ناگواری کے آثار دیکھتے ہیں یعنی ان آیتوں کے انکار (کے اثر کو) جو کہ وہ کراہت اور ترشروئی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں پر حملہ کردیں گے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں یعنی قریب ہے کہ سختی سے پکڑ کرلیں، آپ کہہ دیجئے کیا میں تم کو اس سے بھی زیادہ ناگوار چیز بتلا دوں ؟ یعنی تم کو قرآن سنانے سے بھی زیادہ ناگوار چیز، وہ دوزخ ہے اس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کیا ہوا ہے یہ کہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : الم تر تعلم ان اللہ سخر لکم تر اصل تریٰ تھا، یہ رویت سے مشتق ہے لم داخل ہونے کی وجہ سے آخر سے ی حرف علت ساقط ہوگئی تر کی تفسیر تعلم سے کرکے اشارہ کردیا کہ رویت سے رویت قلبی مراد ہے سخر یہ تسخیر سے ماضی کا صیغہ ہے بمعنی ذلل مسخر کرنا، کام میں لگانا، بس میں کرنا، زبردستی کسی خاص کام میں لاگ دینا۔ قولہ : والفلک ما فی الارض پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے۔
قولہ : تجری فلک سے حال ہے اللہ پر بھی عطف ہوسکتا ہے اس صورت میں الم تر ان الفلک تجری کے تحت میں ہوگا اور تجری فی البحر ان کی خبر ہوگی، اور فلک کا اطلاق واحد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے اگر تفل کے وزن پر مانیں تو واحد ہوگا اور اگر بدن یا اسدٌ کے وزن پر فرض کریں تو جمع ہوگا۔ قولہ : من (أن) اولئلاً (تقع) اس عبارت سے مفسر علام کا مقصد أن تقع کے اعراب کی طرف اشارہ کرنا ہے، ان تقع یا محل جر میں ہے اور حرف جر محذوف ہے ای من ان تقع اور تقع أن مصدریہ کی وجہ سے وقوع کے معنی میں ہے یا محل نصب میں ہے یا تو اس لئے کہ السماء سے بدل ہے بدل الاشتمال ای یمنع وقوعھا اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے بصریین کے نزدیک تقدیر عبارت یہ ہے یمسک السماء لئلا تقع مفسر علام نے احتمال اول اور ثالث کو ذکر کیا ہے
قولہ : الا باذنہ یہ مستثنیٰ مفرغ ہے عموم احوال سے مگر یہاں یہ شبہ ہوگا کہ مستثنیٰ مفرغ کلام موجب میں واقع نہیں ہوتا اور یہاں مستثنیٰ منہ جو کہ یمسک السماء ہے کلام موجب ہے، اس شبہ کا جواب یہ ہوگا کہ یمسک السماء ان تقع علی الارض قوت میں نفی کے ہے تقدیر عبارت یہ ہے لا یترکھا تقع فی حالۃ من الاحوالٍ الا فی حالہ کونھا متلبسۃً بمشیۃ اللہ تعالیٰ ، باذنہ میں با ملابسۃ کے لئے ہے،
قولہ : ھو الذی احیاکم قال الجنید قدس سرُّہٗ احیاکم بمعرفۃٍ ثم یمیتکم باوقات الغفلۃ والفترۃ ثم یحییکم بالجذب بعد الفترۃ۔ قولہ : لکُلِ امَّۃٍ جعلنا منسکاً یہاں امت سے وہ امت مراد ہے جس کے پاس ملت آسمانی اور کسی نبی کی شریعت ہو نہ کہ مشرکین و کفار، اس پر لفظ جعلنا دلالت کر رہا ہے مفسر علام نے منسک کی تفسیر شریعہ سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ ألنسیکۃ بمعنی عبادت سے ماخوذ ہے لہٰذا منسکاً کو موضع عبادت یا وقت عبادت پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور اسی معنی پر ناسِکُوہٗ دلالت کر رہا ہے اگر موضع یا وقت کے معنی مراد ہوتے تو ناسکون فیہ کہا جاتا، اس لئے کہ عامل ظرف کی ضمیر کی طرف متعدی ہوتا ہے۔
قولہ : لاینازعُنَّکَ کی تفسیر لاتنازعُھم سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقصد آپ ﷺ کو دیگر اہل ملل کے ساتھ منازعت سے منع کرنا ہے اور یہ بطور کنایہ ہے اس لئے کہ منازعت کا حکم کرنا ہے اور جب آپ کی باتوں کی طرف التفات نہ کریں گے تو منازعت خود ہی ختم ہوجائے گی، ایک فریق کو منع کرنا یہ کنایۃً فریق ثانی کو منع کرنا ہے۔ قولہ : فی الامر مفسر علام نے امر سے ذبیحہ مراد لیا ہے خطیب نے کہا ہے کہ یہ آیت بدیل بن ورقہ اور بشر بن سفیان اور یزید بن حنیس کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبا نہوں نے اصحاب رسول ﷺ سے کہا تھا مالکم تاکلون مما تقتلون ولا تاکلون مما قتلہ اللہ تعالیٰ یعنی تم خود مار کر رکھا جاتے ہو اور خدا کا مارا ہوا (مردار) نہیں کھاتے ہو مفسر علام کافی الامر کی تشریح ذبح سے کرنا مقام کے موافق نہیں ہے بلکہ یہاں مطلقاً احکام شریعہ مراد ہیں ورنہ تو اس سے لازم آئے گا کہ سابقہ امتوں میں مردار کھانا مشروع تھا۔
قولہ : ما لم ینزل بہ ما موصولہ ہے اور یعبدون کا مفعول بہ ہے۔ قولہ : یکاد یسطون یہ جملہ حالیہ ہے یا تو الذین سے مگر اس صورت میں یہ اعتراض ہوگا کہ الذین مضاف الیہ ہے اور مقصود مضاف ہوتا ہے تو مضاف الیہ سے حال واقع ہونا کس طرح درست ہوگا، جواب یہ ہے کہ مضاف چونکہ مضاف الیہ کا جز ہے لہٰذا مضاف الیہ سے حال واقع ہونا درست ہے یا پھر وجوہ سے حال ہے اور وجہ سے صاحب وجہ مراد ہوگا، مفسر علام نے یسطون کی تفسیر بطشٌ سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یسطون یبطشون کے معنی کو متضمن ہے، یہی وجہ ہے کہ یسطون کا صلہ یا درست ہے ورنہ تو یسطون کا صلہ علی آتا ہے۔ قولہ : ھو النار، النار ھو مبتدا محذوف کی خبر ہے، اس صورت میں وقف ذٰلکم پر ہوگا اور یہ بھی جائز ہے کہ النار مبتدا اور وعدھا اللہ اس کی خبر اس صورت میں وقف الذین کفروا پر ہوگا۔
تفسیر و تشریح
الم تر انَّ اللہَ (الآیۃ) یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہاری یا کسی کی کیا پرواہ تھی، مگر پھر بھی اس کی شفقت اور مہربانی دیکھو کہ کس طرح خشکی اور تری کی چیزوں کو تمہارے تابع کردیا پھر اس نے اپنے دست قدرت سے آسمان چاند سورج اور ستاروں کو اس فضاء ہوائی میں بغیر کسی ظاہری کھمبے یا ستون کے تھام رکھا ہے جو اپنے محور اور مدار سے ایک انچ نہیں ہٹ سکتے اور نہ ہٹیں گے جب تک کہ اس کا حکم نہ ہو إلا باذنہ کا استثناء محض اثبات قدرت کی تاکید کے لئے ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ واقعہ قیامت کی طرف اشارہ ہو۔
وھو الذی احیاکم اسی طرح جو قوم کفر و جہل کی وجہ سے روحانی موت مرچکی تھی اس کو ایمان اور معرفت کی روح سے زندہ کرے گا، قولہ : لکل امۃٍ جعلنا منسکاً یہاں امت سے ہر وہ امت مراد ہے جو ملت سماوی کے تابع ہو یعنی ہر امت کے لئے شریعت الگ الگ متعین کی گئی ہے جس امت کے لئے جو قانون شریعت متعین کیا گیا ہے اس کے لئے اسی پر عمل کرنا لازم ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے لیکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ایک امت ہے ان کی شریعت تو رات تھی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے انحضرت ﷺ تک ایک امت ہے ان کا قانون شریعت انجیل تھی آپ ﷺ کی بعثت کے بعد سے قیام قیامت تک ایک امت ہے، اس کے لئے قانون شریعت اور دستور العمل قرآن کریم ہے لہٰذا ان امتوں کو چاہیے کہ آپ سے احکام شریعت میں تنازع نہ کریں یہ خیال کرتے ہوئے کہ ان کی شریعت باقی ہے حالانکہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد سابقہ تمام شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں، تشریح مذکور کی روشنی میں مفسر علام کا فلا ینازعنک فی الامر کی تفسیر امر الذبیحہ الخ سے کرنا سابقہ تشریح سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لئے کہ اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ اکل مبتہ شرائع سابقہ کے مجنملہ احکام سے ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے بعض امتوں کے لئے مشروع کیا، حالانکہ بات یہ نہیں ہے لہٰذا آیت کی تشریح میں کی گئی ہے وہی مناسب معلوم ہوتی ہے۔ قولہ : وھذا قبل الامر بالقتال یعنی وان جادَلُوْکَ فقُلْ اللہُ اعلمُ بما تعملون منسوخ آیت قتال سے، یہ ایک قول ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ آیت محکم ہے (منسوخ نہیں ہے) اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ان کے ساتھ بحث و مباحثہ ترک کرو اور معاملہ کو اللہ اعلم کہہ کر اللہ کے حوالہ کرو۔
ویعبدون من دون اللہ سب سے بڑا ظلم اور ناانصافی یہ ہے کہ خدا کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے ایسا ظالموں اور نا انصافوں کو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے شرکاء مصیبت پڑنے پر ان کے کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ اور کوئی اس وقت مدد کرے گا۔
قولہ : وعدھا اللہ الذین کفروا وعد یہ متعدی بدو مفعول ہے ھا ضمیر مفعول ثانی مقدم ہے الذین کفروا مفعول اول مؤخر ہے، اس کا عکس بھی درست ہے، مفسر علام نے اپنے قول بأن مصیرھم الیھا سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اس لئے کہ جعل الذین کفروا کو موعودبہ اور النار کو موعود قرار دیا ہے۔
Ayahs 22:73–78آیت نمبر 73 تا 78
ترجمہ : اے لوگو ! یعنی مکہ والو ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو اور وہ بات یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو یعنی بندگی کرتے ہو غیر اللہ کی وہ بت ہیں وہ ایک مکھی کو تو پیدا کر ہی نہیں سکتے ذباب اسم جنس ہے اس کا واحد ذبابہ ہے اس کا اطلاق مذکر اور مؤنث دونوں پر ہوتا ہے گو اس تخلیق کے لئے سب کے سب جمع ہوجائیں اور اگر ان سے مکھی کچھ چھین لیجائے اس میں سے جو ان پر خوشبو اور زعفران لگی ہوئی ہے (جس میں وہ لتھڑے ہوئے ہوتے ہیں) تو اس کو وہ ان سے واپس نہیں لے سکتے ان کے عاجز ہونے کی وجہ سے، پھر کیوں بندگی کرتے ہیں (ان کی) اللہ کا شریک سمجھ کر یہ بات چونکہ عجیب ہے اسی لئے اس کو ضرب مثل سے تعبیر کیا گیا ہے ایسا طالب عابد بھی ضعیف اور مطلوب معبود بھی ضعیف ان لوگوں نے جیسی اللہ کی تعظیم کرنی چاہیے تھی ویسی نہ کی جب کہ اس کے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرایا کہ جو مکھی سے (اپنی) حفاظت نہیں کرسکتے اور نہ اس سے اپنا حق لے سکتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا سب پر غالب ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے جس کو چاہتا ہے پیغام رسانی کے لئے منتخب کرلیتا ہے (یہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب مشرکوں نے کہا کہ کیا ہم میں سے اسی پر ذکر (قرآن) نازل کیا گیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو سننے والا جاننے والا ہے اس کو کہ جس کو رسول بناتا ہے جیسا کہ (فرشتوں میں سے) جبرائیل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) کو (انسانوں میں سے) ابراہیم (علیہ السلام) اور محمد ﷺ وغیرہ کو وہ ان کی آئندہ اور گذشتہ حالتوں کو خوب جانتا ہے یعنی جو (اعمال) آگے بھیج چکے ہیں اور جو (اعمال) پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور جو اعمال کرچکے ہیں اور جو آئندہ کریں گے اور تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے اے لوگو رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو یعنی نماز پڑھا کرو اور اپنے رب کی بندگی کیا کرو یعنی اس کی توحید کا عقیدہ رکھو اور نیک کام کیا کرو جیسا کہ صلہ رحمی اور اچھے اخلاق امید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے یعنی جنت میں دائمی بقاء کے ساتھ کامیاب ہوجاؤ گے اور اللہ کے کام میں اس کے دین کے قیام کے لئے خوب کوشش کیا کرو، اپنی پوری کوشش کو اس میں صرف کرکے اور حق کا نصب مصدریۃ کی وجہ سے ہے اس نے تم کو اپنے دین کے لئے منتخب کیا ہے اور تم پر دین کے معاملہ میں کوئی تنگی نہیں رکھی اس طریقہ پر کہ ضرورت کے وقت دین کو آسان کردیا جیسا کہ قصر اور تیمم پر دین کے معاملہ میں کوئی تنگی نہیں رکھی اس طریقہ پر کہ ضرورت کے وقت دین کو آسان کردیا جیسا کہ قصر اور تیمم اور اکل میتہ اور مریض و مسافر کے لئے روزہ نہ رکھنے کی اجازت تمہارے باپ ابراہیم کی ملت کے مانند ملۃ حرف جرکاف کو حذف کرنے کی وجہ سے منصوب ہے ابراہیم ابیکم سے عطف بیان ہے اس نے یعنی اللہ نے تمہارا نام پہلے ہی سے (یعنی اس کتاب کے نزول) سے پہلے ہی مسلمان رکھا ہے اور اس میں بھی یعنی قرآن میں بھی تاکہ رسول تمہارے لئے قیامت کے دن گواہوں کہ اس نے تم کو پیغام پہنچا دیا اور تم لوگوں کے مقابلہ میں گواہ ہو کہ ان کے رسولوں نے (پیغام) ان کے پاس پہنچا دیا تم لوگ نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ ہی کو مضبوط پکڑو یعنی اسی پر بھروسہ کرو وہ تمہارا مولیٰ یعنی مددگار اور تمہارا کارساز ہے سو کیسا اچھا کارساز ہے وہ ؟ اور تمہارے لئے کیسا اچھا ناصر ہے ؟
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
یایھا الناسُ ای اھل مکۃ اس آیت کا تعلق ماقبل کی آیت ویعبدون من دون اللہ (الآیۃ) سے ہے، اس آیت میں خطاب اگرچہ اہل مکہ سے ہے مگر مراد ہر وہ شخص ہے جو غیر اللہ کی بندگی کرتا ہے، ضُرِبَ مثلاً ، مثلاً سے مراد امر عجیب ہے، اور وہ امر عجیب شرک و بت پرستی کی حماقت کو ایک واضح مثال سے بیان کرنا ہے کہ یہ بت جن کو تم اپنا کارساز سمجھتے ہو یہ تو ایسے بےکس اور بےبس ہیں کہ سب مل کر بھی ایک مکھی جیسی حقیر چیز پیدا نہیں کرسکتے اور پیدا کرنا تو بڑا کام ہے تم روزانہ ان کے سامنے مٹھائی اور کھانوں کے چڑھاوے چڑھاتے ہو اور مکھیاں ان کو کھا جاتی ہیں ان سے اتنا تو ہوتا نہیں کہ مکھیوں سے اپنی چیز ہی کو بچالیں یہ تمہیں کسی آفت سے کیا بچائیں گے اسی لئے آخرت میں ان کی اس جہالت اور بےوقوفی کو ان الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے ضعف الطالب والمطلوب۔ قولہ : ولو اجتمعوا لہ یہ جملہ محل حال میں واقع ہے، ای انتفیٰ خلقھم الذباب علی کل حال ولو فی حال اجتماعھم۔
قولہ : وان یسلبھُم الذبابُ شیئاً یسلب متعدی بدو مفعول ہے مفعول اول ھُم اور ثانی شیئاً ہے ملطخون یہ لطخ سے مشتق ہے آلودہ کرنا ملنا، لتھیڑنا ملطخون دراصل طیب والز عفران کی صفت سببی ہے لہٰذا ملطخون کے بجائے ملطخین ہونا چاہیے جیسا کہ ظاہر ہے (جمل)
قولہ : عبر عنہ بضرب مثلٍ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ ضرب مثل کے نام سے جو بیان کیا گیا وہ مثل نہیں ہے تو پھر اس کو مثل کیوں کیا گیا ہے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ واقعہ عجیبہ نیز عمدہ اور عجیب و غریب مصمون کو بھی مثل سے تعبیر کردیتے ہیں۔
قولہ : ومن الناس رسلاً ، رسلاً محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ آیت میں حذف ہے ثانی کو اول پر قیاس کرتے ہوئے رُسُلا کو حذف کردیا گیا ہے۔ قولہ : حق جھادہ اصل میں جھاداً حقاً ہے یہ اضافت صفت الی الموصوف کے قبیل سے ہے۔ قولہ : ھو ای اللہ سمکم المسلمین ھو کے مرجع میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ اس کا مرجع ابراہیم ہوں اور دوسرا یہ کہ اس کا مرجع اللہ ہو مفسر علام نے ھو کے بعد اللہ محذوف مان کر ثانی کو راجح قرار دیدیا اور قرینہ وفی ھذا القرآن ہے اس لئے کہ قرآن میں مسلمان نام رکھنا یہ اللہ کا کام ہے نہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا۔
تفسیر و تشریح
یایھا الناس ای اھل مکۃ یہ توحید کے مقابلہ میں شرک کی شناعت و قباحت ظاہر کرنے کے لئے مثال بیان فرمائی ہے جس کو کان لگا کر سننا اور سمجھنے کے لئے غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ ایسی ذلیل اور رکیک حرکت سے باز رہو، اور مثلاً سے یہاں مثل سائر مراد نہیں ہے بلکہ عمدہ اور عجیب و غریب مضمون بیان کرنا مراد ہے، مکھی جو کہ بہت ہی ادنیٰ اور حقیر جانور ہے جن چیزوں میں اتنی بھی قدرت نہیں کہ انفرادی طور پر تو کیا سب مل کر بھی اتنی قدرت نہیں رکھتے کہ ایک مکھی پیدا کرسکیں یا مکھی ان کے چڑھاوے وغیرہ میں سے کچھ لیجائے تو اس سے واپس لے سکیں ان کو خالق السموات والارضین کے ساتھ معبودیت اور خدائی کی کرسی پر بٹھا دینا کس قدر بےحیائی اور حماقت اور شرمناک گستاخی ہے، سچ تو یہ ہے کہ مکھی بھی کمزور اور مکھی سے زیادہ ان کے بت کمزور اور بتوں سے زیادہ ان کا پوجنے والا کمزور جس نے ایسی حقیر اور کمزور چیز کو اپنا معبود اور حاجت روا بنا لیا۔
سورة حج کا سجدہ تلاوت : یایھا الذین آمنوا (الآیہ) سورة حج میں ایک آیت تو پہلے گزر چکی ہے جس پر سجدہ تلاوت کرنا بالاتفاق واجب ہے اس آیت پر جو یہاں مذکور ہے سجدہ تلاوت کے وجوب میں ائمہ کا اختلاف ہے، امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، سفیان ثوری رحمہم اللہ کے نزدیک اس آیت پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے، کیونکہ اس آیت میں سجدہ کا ذکر رکوع وغیرہ کے ساتھ آیا ہے جس سے نماز کا سجدہ ہونا ظاہر ہے، جیسے واسجدی وارکعی مع الراکعین میں سب کا اتفاق ہے کہ سجدۂ نماز مراد ہے اسی طرح آیت مذکورہ پر بھی سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے، امام شافعی (رح) ، امام احمد (رح) وغیرہ کے نزدیک اس آیت پر بھی سجدہ تلاوت واجب ہے ان حضرات کی دلیل ایک حدیث ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ سورة حج کو دوسری سورتوں پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس میں دو سجدہ تلاوت ہیں، امام اعظم (رح) کے نزدیک اس روایت کے ثبوت میں کلام ہے۔
وجاھدُوا فی اللہ حق جھادہٖ جہاد اور مجاہدہ کسی مقصد کی تحصیل میں اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کرنے کو کہتے ہیں اس میں کفار کے ساتھ قتال میں اپنی امکانی طاقت صرف کرنا بھی شامل ہے اور دیگر دینی امور میں محنت و مشقت برداشت کرنا اور امکانی طاقت وقوۃ صرف کرنا بھی داخل ہے، اسی طرح خواہشات نفسانی کے مقابلہ میں کوشش کرنا بھی جہاد میں شامل ہے، امام بگوی وغیرہ نے اس قول کی تائید میں ایک حدیث بھی حضرت جابر بن عبد اللہ سے نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام کی ایک جماعت جو جہاد کفار کے لئے گئی ہوئی تھی واپس آئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا قدِمْتُم خیر مقدم مِن الجھاد الاصغر الی الجھاد الأکبر قال (ای الروای) مجاھدۃ العبد بھواہ رواہ البیھقی وقال ھٰذا اسناد فیہ ضعف یعنی تم لوگ خوب واپس آئے چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف یعنی اپنے نفس کی خواہشات بےجا کے مقابلہ کا جہاد اب بھی جاری ہے، اس روایت کو بیہقی نے روایت کیا ہے مگر کہا ہے کہ اس کی اسناد ضعیف ہے۔
وما جعل علیکم فی الدین من حرج یعنی اللہ تعالیٰ نے دین کے معاملہ میں تمہارے اوپر کوئی نہیں تنگی رکھی، بعض حضرات نے دین میں تنگی نہ ہونے کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اس دین میں ایسا کوئی گناہ نہیں کہ جو توبہ سے معاف نہ ہوسکے اور عذاب آخرت سے خلاصی کی کوئی صورت نہ نکل سکے، بخلاف پچھلی امتوں کے کہ ان میں بعض گناہ ایسے بھی تھے کہ جو توبہ کرنے سے معاف نہیں ہوتے تھے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تنگی سے مراد وہ سخت اور شدید احکام ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد کئے گئے تھے جن کو قرآن کریم میں اِصرَّ اور اغلال سے تعبیر کیا گیا ہے اس امت پر کوئی ایسا حکم فرض نہیں کیا گیا، بعض حضرات نے فرمایا کہ تنگی سے مراد وہ تنگی ہے کہ انسان جس کو برداشت نہ کرسکے اس دین میں کوئی حکم ایسا نہیں کہ جو فی نفسہٖ ناقابل برداشت ہو، باقی رہی
تھوڑی بہت مشقت تو وہ دنیا کے ہر کام میں ہوتی ہے۔
لیکون الرسول شھیداً علیکم (الآیۃ) یعنی آپ محشر میں گواہی دیں گے کہ میں نے اللہ کے احکام اس امت کو پہنچا دئیے تھے اور امت محمدیہ اس کو اقرار کرے گی مگر دوسرے انبیاء جب یہ کہیں گے تو ان کی امتیں مکر جائیں گی اس وقت امت محمدیہ شہادت دے گی کہ بیشک تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوم کو اللہ کے احکام پہنچا دئے تھے، دوسری امتوں کی طرف سے ان پر یہ جرح ہوگی، کہ ہمارے زمانہ میں تو تمہارا (یعنی امت محمدیہ) کا وجوہ بھی نہیں تھا تو یہ ہمارے معاملہ میں گواہ کیسے بن سکتے ہیں امت محمدیہ کا ان کی جرح کا جواب یہ ہوگا کہ بیشک ہم موجود نہیں تھے مگر ہم نے یہ بات اپنے رسول محمد ﷺ سے سنی ہے جن کی صداقت میں کوئی شک و شبہ نہیں اس لئے ہم یہ گواہی دے سکتے ہیں تو ان کی شہادت قبول کی جائے گی، یہ مضمون اس حدیث کا ہے جس کو بخاری وغیرہ نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے۔ (معارف)