Ayahs 22:26–33آیت نمبر 26 تا 33
ترجمہ : اور اس واقعہ کا ذکر کیجئے جب ہم نے ابرا ہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کی نشا ند ہی کردی تاکہ اس کی تعمیر کریں اور بیت اللہ کو طوفان (نو ح) کے زما نہ میں اٹھا لیا گیا، اور ہم نے اس کو یہ حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو بتوں سے طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، رُکعٍ جمع راکعٍ اور سجود جمع ساجدٍ اور مراد تمام پڑھنے والے ہیں، اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) جبل ابی قبیس پر چڑھ کر اعلان فرمایا ” اے لوگو ! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہارے اوپر اس کا حج کرنا واجب کیا ہے لہٰذا تم اپنے رب کی ندا پر لبیک کہو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے چہرے کو دائیں بائیں اور شرقاً و غرباً گھمایا، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آواز پر مردوں کی پشت سے اور عورتوں کے ارحام سے ہر اس شخص نے لبیک کہا کہ جس کی قسمت میں حج لکھا ہوا تھا ” لبیک اللھم لبیک “ اور جواب امر ” یاتوک رجالا “ ہے رجالاً کے معنی پاپیادہ کے ہیں اور رجال رجل کی جمع ہے جیسے قائم کی جمع قیام ہے، چلے آئیں گے لوگ تیرے پاس پیدل اور سوار ہو کر دبلے اونٹوں پر، ضامر دبلے اونٹ کا کہتے ہیں اس کا اطلاق نر و مادہ دونوں پر ہوتا ہے آئیں گی وہ انٹنیاں دور و دراز راستہ سے یا تین بصیغہ جمع ضامر کے معنی کی رعایت کی وجہ سے لایا گیا ہے تاکہ تجارت کے ذریعہ اپنے دنیوی فوائد کے لئے یا اخروی فوائد یا دونوں فوائد کے لئے اپنے منافع کی جگہ حاضر ہوں یہ تین قول ہیں اور (اس لئے آویں) تاکہ ایام مقررہ یعنی عشرۂ ذی الحجہ یا یوم عرفہ یا یوم نحر میں ایام تشریق کے آخری دن تک، یہ تین قول ہیں، ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے ان کو دئیے ہیں وہ اونٹ اور گائے اور بکریاں ہیں جو کہ یوم نحر میں اور اس کے بعد ہدایا اور ضحایا میں سے ذبح کی جاتی ہیں پس تم خود بھی کھاؤ اگر وہ مستحب ہوں اور صاحب فقر کو یعنی شدید حاجت مند کو کھلاؤ پھر ان کو چاہیے کہ اپنا میل کچیل دور کرکے نذر پوری کریں والیوفوا فا کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، اور بیت عتیق کا طواف افاضہ (زیارت) کریں یعنی قدیم گھر کا، اس لئے کہ وہ پہلا گھر ہے جو بنایا گیا ذٰلک مبتداء محذوف کی خبر ہے (تقدیر عبارت یہ ہے) الامر ذٰلک المذکور یا الشان ذٰلک المذکور یعنی مذکورہ بات تو پوری ہوئی اور جو شخص اللہ کی محترم چیزوں کی تعظیم کرے گا اور وہی وہ چیزیں ہیں کہ جن کی بےحرمتی جائز نہیں تو ان کی تعظیم اس کے حق میں اس کے رب کے نزدیک آخرت میں بہتر ہے اور تمہارے لئے جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد حلال کردیا گیا ہے باستثناء ان جانوروں کے کہ جن کی حرمت تم کو حرمت علیکم المیتۃ (الآیۃ) میں بتادی گئی ہے سو یہ مستثنیٰ منقطع ہے اور اس کا مستثنیٰ متصل ہونا بھی جائز ہے اور حرمت موت وغیرہ کے لاحق ہونے کی وجہ سے ہے سو تم گندگی سے جو کہ وہ بت ہیں کنارہ کش رہو من بیانیہ ہے یعنی رجس جو کہ وہ بت ہیں اور جھوٹی بات سے بچتے رہو یعنی شرک فی التلبیہ سے اور جھوٹی گواہی سے بچتے رہو اس طور سے کہ اللہ کی طرف جھکے رہو تابع فرمان رہو، اس کے دین کے علاوہ ہر چیز سے اعراض کرتے رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ یہ ماقبل کی تاکید ہے اور یہ دونوں (حنفاء اور غیر مشرکین) اجتنبوا کے واؤ سے حال ہیں اور جس شخص نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا پھر یا تو پرندے اس کو اچک لیں گے یعنی جلدی سے اس کو پکڑ لیں گے یا ہوا اس کو دور دراز جگہ پر ڈالدے گی اور مکان بعید یہ ہے کہ اس کی خلاصی کو توقع نہیں کی جاسکتی، یہ سن لیا ذٰلک سے پہلے الامر مبتدا محذوف اور سنو جو شخص شعائر اللہ کی عزت و حرمت کرے گا بیشک ان کی تعظیم ان کی پرہیزگاری کی وجہ سے ہے اور وہ، وہ بدنے ہیں جو حرم کی جانب سے بطور ہدی بھیجے جاتے ہین، اور شعائر اللہ کی تعظیم کی صورت یہ ہے کہ ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے اور ان کو (کھلا پلا کر) فربہ کرے، اور ان (قربانی کے جانوروں) کو شعائر اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان کے کوئی ایسی علامت لگا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ پہچانے جاتے ہیں جیسا کہ ان کی گواہان میں نیزہ سے زخم لگا دینا اور تمہارے لئے ان میں وقت مقرر یعنی ذبح ہونے تک کچھ منافع ہیں، مثلاً ان پر سوار ہونا اور ان پر کسی ایسی چیز کا لادنا کہ جو ان کے لئے مضرت رساں نہ ہو پھر ان کے مقام یعنی ان کے قربان کرنے کی جگہ بیت اللہ کے قریب ہے اور مراد پورا حرم ہے۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : بعانا بوا تبویۃً سے ماضی جمع متکلم ہے، ہم نے جگہ دی ہے، زجاج نے کہا ہے بوانا کے معنی بینا لہ مکان البیت لیبنیہ ویکون مباءۃ لہٗ مفسر علام نے بوانا کی تفسیر بینا سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ لابراھیم میں لام زائدہ نہیں ہے بلکہ بطور صلہ تعدیہ کے لئے ہے اور اگر بوانا، انزلنا کے معنی میں ہو تو لام کو زائدہ ماننا پڑے گا اس لئے کہ بوأنا اس وقت متعدی بنفسہ ہے، قولہ : امرناہ کی تقدیر سے اشارہ کیا ہے کہ أن لا تشرک بہ محذوف کا معمول ہے اور اس محذوف کا عطف بوانا پر ہے، وطھر بیتی اس سے پہلے امرنا یا قلنا محذوف ہے۔
قولہ : یاتوک خطاب کا صیغہ یا تو اس وجہ سے استعمال فرمایا ہے کہ حجاج کی بیت اللہ میں حاضری حضرت ابراہیم ہی کے اعلان کے نتیجہ میں ہوتی ہے، یا پھر مضاف محذوف ہے ای یا تو بیتک اور بیت کی اضافت کاخطاب کی جانب تعمیر کی وجہ سے ہے،
قولہ : ضامر دبلا جس کی کمر پتلی ہو یہ ضمور سے مشتق ہے تضمیر کہتے ہیں گھوڑے کو فربہ کرنے کے بعد دوڑا کر دبلا کرنا تاکہ وہ تیز رفتار ہوجائے۔ قولہ : یاتین یہ جمع کا صیغہ ہے ضامر کی صفت ہے حالانکہ ضامر مفرد ہے، کل ضامر جمع کے معنی میں ہے معنی ہی کی رعایت کی وجہ سے یاتین بصیغہ جمع لایا گیا ہے ورنہ تو یاتی واحد مذکر غائب کا صیغہ لانا چاہیے تھا۔ قولہ : لیشھدوا اس کا تعلق اذن اور یاتوک دونوں سے ہوسکتا ہے ثانی ظاہر ہے۔ اذا کانت مستحبۃ امام شافعی (رح) کے یہاں چونکہ ضحایا واجبہ سے مالدار کے لئے کھانا درست نہیں ہے، اس لئے مفسر علام نے اذا کانت مستحبۃ کا اضافہ فرمایا امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک سوائے دم جنایت کے مالداروں کے لئے کھانا جائز ہے، جیسے دم تمتع اور دم قران۔
قولہ : طواف الافاضہ یہ طواف رکن ہے، اسی کو طواف زیارت بھی کہتے ہیں اس کو افاضہ اس لئے کہا کہ اس کا وقت عرفات سے فارغ ہونے کے بعد ہے۔ قولہ : البیت العتیق، عتیق دو معنی میں مستعمل ہے اول بمعنی قدیم چونکہ عبادت خانہ کے طور پر بیت اللہ کو سب سے اول بنایا گیا تھا، اس لئے اس کو عتیق یعنی قدیم کہنا درست ہے اور دوسرے معنی، آزاد کے ہیں یعنی عتیق بمعنی معتق حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے چونکہ اس کو جبابرہ کے تسلط سے آزاد کردیا ہے، اس لئے اس کو عتیق کہا گیا ہے، اب رہا حجاج بن یوسف کا تسلط تو وہ حضرت زبیر ؓ کو بیت اللہ سے نکالنے کے لئے تھا نہ کہ بیت اللہ کو منہدم کرنے کے ارادہ سے مقصد پورا ہونے کے بعد حجاج نے دوبارہ بیت اللہ کی تعبیر کرا دی تھی، اور بعض حضرات نے عتیق کے معنی کریم کے بھی بیان کئے ہیں، ای البیت الکریم (جمل)
قولہ : تحریمہ کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یتلیٰ کا نائب فاعل محذوف ہے، مفسر علام اگر تحریمہ محذوف ماننے کے بجائے آیت التحریم محذوف مانتے تو زیادہ بہتر ہوتا اس لئے کہ متلوآیۃ تحریم ہے نہ کہ تحریم۔ قولہ : فالاستثناء منقطع الا ما یتلیٰ علیکم یہ مستثنیٰ منقطع ہے اس لئے کہ مستثنیٰ جو کہ المیتۃُ والدمُ ولحم الخنزیر الآیۃ ہے مستثنیٰ منہ الانعام کی جنس سے نہیں ہے لہٰذا یہ مستثنیٰ منقطع ہے اور مستثنیٰ متصل بھی ہوسکتا ہے بایں طور کہ الا ما یتلیٰ علیکم میں ما سے مراد وہ مردار ہے جو عارض موت کی وجہ سے مرگیا ہو یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا، اس صورت میں چونکہ مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس سے ہے لہٰذا مستثنیٰ متصل ہوگا۔
قولہ : حنفاء یہ اجتنبوا کی ضمیر واؤ سے حال ہے۔ قولہ : شعائر اللہ اعمال حج کو کہتے ہیں اس کا واحد شعیرۃٌ یا شعارۃٌ ہے اور مشاعر مواضع المناسک کے معنی میں ہے۔ قولہ : ھی البدن سیاق پر حمل کرتے ہوئے شعائر کی تفسیر بُدُن سے کی ہے، بہتر یہ تھا کہ اس کو عام رکھتے جو دیگر شعائر کو بھی شامل ہوجاتا۔ قولہ : من تقوی القلوب منھم منہم کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ من یعظم میں من موصولہ ہے اور من تقوی القلوب جملہ ہو کر صلہ ہے جس میں عائد کا ہونا ضروری ہے اور وہ منھم ہے۔ قولہ : طعن نیزہ سے زخم لگانا سنام اونٹ کی کوہان کو کہتے ہیں۔ قولہ : کر کو بھا یہ امام شافعی (رح) کے نزدیک ہے احناف کے نزدیک بغیر حالت اضطراری کے سوار ہونا درست نہیں ہے۔
قولہ : المراد الحرم قرب شئ کو عین شئ کا حکم دیدیا گیا ہے، اس لئے کہ ہدی بیت اللہ میں ذبح نہیں کی جاتی بلکہ حدود حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے نہ کہ بیت اللہ یا مسجد حرام میں، امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ہدی کا حدود حرم میں ذبح ہونا ضروری ہے۔
قولہ : محلھا الی البیت العتیق یعنی ہدایا اور ضحایا کے ذبح کرنے کی جگہ بیت اللہ کے قریب ہے یعنی حدود حرم میں خواہ مکہ میں ہو یا منیٰ میں
تفسیر و تشریح
بناء بیت اللہ کی ابتداء : واذ بوانا لابراھیم اس سے پہلی آیت میں مسجد حرام اور حرم سے روکنے والوں کے لئے شدید عذاب اور وعید شدید آئی ہے، آگے کی آیت میں بیت اللہ کے فضائل اور عظمت کا بیان ہے بوءً لغت میں ٹھکانہ دینے کو کہتے ہیں، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے اسماعیل کو ملک شام سے ہجرت کراکر مکہ میں قیام پذیر کردیا، اور مقام بیت اللہ کی نشاندہی بھی فرما دی تاکہ ازسر نو اس کی تعمیر کی جاسکے، بیت اللہ کا وجود اگرچہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وجود کے ساتھ ساتھ ہوا تھا مگر طوفان نوح میں اس کو اٹھالیا گیا، اور مدتوں تک بےنشان رہا، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے قریب قیام پذیر ہوگئے اور بیت اللہ کی تعمیر کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ الٰہ العالمین تو مجھے مقام بیت اللہ کی نشاندہی فرما دے، کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک زور دار ہوا بھیجی جس کی وجہ سے بیت اللہ کی بنادیں ظاہر ہوگئیں، ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ بیت اللہ کے بقدر ایک بدلی آئی اور مقام بیت اللہ پر سایہ فگن ہوگئی اس میں ایک سر نمودار ہوا جو یہ نداء کرتا تھا، اے ابراہیم تم میری حدود کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر شروع کرو، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر فرمائی (جمل) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” سب سے پہلی مسجد جو روئے زمین پر تعمیر ہوئی وہ مسجد حرام (بیت اللہ) ہے اور اس کے چالیس سال بعد مسجد اقصیٰ تعمیر ہوئی “۔ (مسند احمد 5/150، 166، 167، و مسلم کتاب المساجد)
قولہ : أن لا تشرک بکی شیئاً یہ بناء بیت اللہ کی غرض کا بیان ہے، یعنی اس میں صرف میری عبادت کی جائے، مشرکین نے جو اس میں صدہا بت سجا رکھے ہیں جن کی وہ عبادت کرتے ہیں یہ ظلم عظیم ہے، قولہ : وطھر بیتی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا جا رہا ہے کہ میرے گھر کو آپ ظاہری اور باطنی ہر قسم کی نجاست سے پاک رکھئے، بیت اللہ چونکہ محض چہار دیواری کا نام نہیں ہے بلکہ اس قطعہ ارضی کا نام ہے جہاں بیت اللہ بنا ہوا ہے لہٰذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ بیت اللہ کی جگہ کو بھی پاک رکھئے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب اگرچہ حضرت خلیل (علیہ السلام) کو ہے مگر مراد آئندہ آنے والی امت ہو۔
واذن فی فی الناس بالحج ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ نے نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو فرضیت حج کے اعلان کا حکم ہوا تو حضرت ابراہیم نے عرض کیا، یہاں جنگل ہے جہاں آبادی ہے، وہاں میری آواز کس طرح پہنچے گی اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کی ذمہ داری صرف اعلان کرنے کی ہے پوری دنیا میں پہنچانے اور پھیلانے کی ذمہ داری ہماری ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مقام ابراہیم پر اور ایک روایت میں جبل ابی قبیس پر کھڑے ہو کر دونوں کانوں میں انگلیاں ڈال کر یمیناً وشمالاً ، شرقاً و غرباً ہر طرف یہ ندا دی کہ اے لوگو ! تمہارے رب نے اپنا گھر بنایا ہے اور تم پر اس کا حج فرض کیا تم سب اس کے حکم کی تعمیل کرو، اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ بطور معجزہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آواز پوری دنیا میں پہنچا دی بلکہ ان تک بھی پہنچا دی جو ابھی تک پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، بلکہ اصلاب آباء یا ارحام امہات میں تھے اور جس روح نے بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آواز پر لبیک کہا اور جتنی مرتبہ کہا وہ ضرور بیت اللہ حاضر ہوگا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نداء کی تاثیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آواز کو جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں تک جو پہنچایا تھا اس کی تاثیر قیامت تک کے لئے قائم ہوگئی اور وہ ” یأتوک رجالاً وعلیٰ کل ضامرٍ یاتین من کل فج عمیق “ یعنی اطراف عالم سے لوگ بیت اللہ کی طرف چلے آویں گے کوئی پیادہ تو کوئی سوار اور سواری سے آنے والے بھی دور دراز ملکوں سے آئیں گے، جس کی وجہ سے ان کی سواریاں بھی لاغر ہوجائیں گی چناچہ ہزار ہا سال گزر چکے ہیں مگر بیت اللہ کی طرف آنے والوں کی یہی کیفیت ہے
لیشھدوا منافع لھم یعنی ان کی یہ حاضری خود انہی کے منافع کے لئے ہے لفظ منافع کو نکرہ لانے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس میں دینی منافع تو بیشمار ہیں ہی دنیوی منافع بھی بیشمار ہیں، دوسرا فائدہ یہ بتلایا گیا ہے کہ ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلوماتٍ (الآیۃ) تاکہ وہ اللہ کے نام لیں ایام معلومات میں ان چوپایوں پر جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کئے ہیں، اس میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ قربانی کے گوشت اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد پر نظر نہ ہونی چاہیے بلکہ اصل چیز اللہ کا ذکر ہے جو ان دونوں میں جانور قربان کرنے کے وقت جانوروں پر لیا جاتا ہے اصل روح عبادت یہی ہے قربانی کا گوشت حلال کردیا گیا یہ مزید انعام ہے، ایام معلومات سے وہی ایام مراد ہیں جن میں قربانی جائز ہے یعنی ذی الحجہ کی دسویں، گیارہوں، بارہویں تاریخیں اور چونکہ مارزقھم من بھیمۃ الانعام کے الفاظ عام ہیں اس میں ہر طرح کی قربانی داخل ہے، خواہ واجب ہو یا مستحب۔
فکلوا منھا یہاں کلوا اگرچہ بصیغہ امر ایا ہے مگر مراد اس سے اباحت و جواز ہے جیسا کہ قرآن میں ” اذا حللتم فاصطادوا “ میں شکار کا حکم بمعنی اجازت ہے۔
مسئلہ : زمانہ حج میں مختلف وجوہ کی بنا پر جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان میں ایک قسم وہ ہے جو کسی جرم کی سزا کے طور پر واجب ہوتی ہے، مثلاً حرم کے خلاف یا احرام کے خلاف کوئی عمل کرلیا، اس کی جزاء میں کسی جانور کی قربانی واجب ہوتی ہے، جس کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے، اس قربانی کو اصطلاح فقہ میں دم جنایت کہتے ہیں، اس میں کچھ تفصیل ہے بعض ممنوعات کے کرلینے سے گائے یا اونٹ ہی کی قربانی کرنا ضروری ہوتی ہے اور بعض کے لئے بکرا دنبہ کافی ہوجاتا ہے، بعض میں صدقہ سے ہی کام چل جاتا ہے، یہ سب مسائل فقہ کی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں، جو قربانی دم جنایت کے طور پر واجب ہوتی ہے، وہ صرف فقراء و مساکین کا حق ہے، اس کا گوشت نہ خود کھانا درست ہے اور نہ مالداروں کے لئے، باقی قسمیں خواہ واجب ہوں یا نفل اس میں دم تمتع اور دم قران بھی داخل ہے، ان سب کا گوشت سب کے لئے کھانا درست ہے اس آیت میں اسی کا بیان ہے، اور کم از کم ایک تہائی حصہ فقراء و مساکین کو دیدیا جائے اسی امر مستحب کا بیان آیت کے اگلے جملہ میں اس طرح فرمایا ہے ” واطعموا البائس الفقیر “ مطلب یہ کہ قربانی کے گوشت میں سے فقیر اور تنگدست لوگوں کو بھی کھلانا اور دینا مستحب ہے۔
ثم لیقضوا تفثھم احرام باندھنے کے بعد سے چونکہ حجامت نہیں بنواتے اور نہ ناخن وغیرہ لیتے ہیں اور زیادہ مل ول کر غسل بھی نہیں کرسکتے، جس کی وجہ سے بدن پر میل کچیل جم جاتا ہے جو کہ عاشقانہ اور مستانہ ایک کیفیت ہے، اب دس تاریخ کو یہ تمام قصے تمام ہوجاتے ہیں، حجامت بنوا کر غسل کرکے سلے ہوئے کپڑے پہنتے ہیں اور طواف زیارت کو جاتے ہیں اور جس کو ذبح و قربانی کرنی ہوتی ہے وہ پہلے ہی کرلیتا ہے، اور منتیں پوری کرنے سے یہ مراد ہے کہ اللہ کے نام کی جو نذر مانی ہو اس کو پورا کرے اور اقرب الی الصواب نذر سے مراد مناسک حج ہیں۔
افعال حج میں ترتیب کا درجہ : افعال حج کی جو ترتیب قرآن اور حدیث میں آئی ہے اسی ترتیب سے حج کے ارکان ادا کرنا کم از کم سنت ضرور ہے، واجب ہونے میں اختلاف ہے، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک کے نزدیک واجب ہے جس کے خلاف کرنے سے دم واجب ہوتا ہے، امام شافعی (رح) کے نزدیک سنت ہے، اس لئے ان کے نزدیک ترتیب ماثور کے خلاف کرنے سے اجر وثواب میں کمی واقع ہوجاتی ہے مگر دم واجب نہیں ہوتا، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی حدیث میں ہے ” من قدم شیئاً من نسکہٖ او اخر فلیھرق دماً “ رواہ ابن ابکی شیبہ موقوفاً وھو فی حکم المرفوع (مظہری) یعنی جس شخص نے افعال حج میں سے کسی کو مقدم یا مؤخر کیا تو اس پر دم دینا لازم ہے، یہ روایت طحاوی نے بھی مختلف طرق سے نقل کی ہے۔
ولیطوفوا بالبیت العتیق اس سے طواف زیارت مراد ہے جو دسویں تاریخ کو رمی جمرہ اور قربانی سے فارغ ہونے کے بعد کیا جاتا ہے، یہ حج کا دوسرا رکن ہے پہلا رکن وقوف عرفہ ہے۔
احلت لکم الانعام الا ما یتلیٰ علیکم انعام سے مراد اونٹ، گائے، بکرا، مینڈھا، دنبہ وغیرہ ہیں، یہ جانور حالت احرام میں بھی حالت ہیں اور الا ما یتلیٰ سے جن جانوروں کو مستثنیٰ کرنے کا ذکر ہے ان کا بیان دوسری آیت میں آیا ہے، وہ مردار جانور اور موقوذہ اور جس پر اللہ کا نام قصداً ترک کردیا گیا ہو یا جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو یہ سب ہمیشہ کے لئے حرام ہیں حالت احرام ہو یا نہ ہو۔
Ayahs 22:34–38آیت نمبر 34 تا 38
ترجمہ : اور ہم نے ہر امت کے لئے یعنی مومن جماعت کے لئے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں قربانی کرنا اس لئے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپایوں پر بوقت ذبح اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے تھے منسکاً سین کے فتحہ کے ساتھ مصدر ہے اور کسرہ سین کے ساتھ اسم مکان ہے، یعنی بطور قربانی ذبح کرنا، یا مقام ذبح، سو تمہارا معبود ایک ہی خدا ہے سو اسی کے تابع فرمان رہو، اور آپ اطاعت کرنے والوں یعنی تواضع اختیار کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو ایسے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جو ان مصیبتوں پر کہ ان پر پڑتی ہیں صبر کرتے ہیں، اور جو نماز کی ان کے اوقات میں پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ خیرات کرتے ہیں اور بدن بدنۃٌ کی جمع ہے اور وہ اونٹ ہے اور بدنہ کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کے شعائر یعنی اس کے دین کی علامت بنادیا اور ان جانوروں میں تمہارے لئے خیر یعنی دنیوی نفع ہے جیسا کہ سابق میں گزر چکا اور اجر آخرت بھی ہے سو تم ان پر نحر کے وقت اللہ کا نام لیا کرو، حال یہ کہ وہ تین پیروں پر کھڑے ہوں اور بایاں ہاتھ بندھا ہوا ہو پس جب وہ اپنی کسی کروٹ گرپڑیں یعنی جب وہ نحر کے بعد زمین پر گرپڑیں (اور ان کی روح پرواز کر جائے) تو وہ وقت ان میں سے کھانے کا ہے ان میں سے کھاؤ اگر تم چاہو اور ایسے قانع کو بھی کھلاؤ کہ اس کو جو کچھ دیدیا جائے اس پر قناعت کرتا ہے اور نہ وہ سوال کرتا ہے اور نہ تعرض کرتا ہے اور معتر کو بھی کھلاؤ یعنی جو سوال کرتا ہو یا تعرض کرتا ہو اور اسی طرح یعنی تسخیر مذکور کے مانند ہم نے تمہارے لئے ان جانوروں کو مسخر کردیا بایں طور کہ (اے مخاطب) تو ان کو ذبح کرے اور ان پر سواری کرے ورنہ تو (یہ) تیرے بس کی بات نہیں تھی تاکہ تم اپنے اوپر میرے انعام کا شکر یہ ادا کرو، اللہ کے پاس ان جانوروں کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا یعنی یہ دونوں چیزیں اللہ تک نہیں پہنچائی جاتیں ہاں البتہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے یعنی ایمان کے ساتھ تمہارا نیک اور اللہ کے لئے خالص عمل اس تک پہنچتا ہے اور اسی طرح ان جانوروں کو تمہارے زیر حکم کردیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو، اس بات پر کہ تم کو توفیق عطا کی یعنی تم کو اپنے دین کے شعائر ادا کرنے اور اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کی توفیق فرمائی اور اے محمد ﷺ محسنین یعنی موحدین کو اس بات کی خوشخبری دیدو کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دفاع کرے گا، مشرکین کی مصیبت سے اللہ تعالیٰ کسی امانت میں خیانت کرنے والے اس کی نعمت کی ناشکری کرنے والے کو پسند نہیں کرتا اور وہ مشرک ہیں معنی یہ ہیں کہ وہ ان کو سزا دے گا۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : منسکا فتحہ سین کے ساتھ مصدر ہے، قربانی کرنا، اور سین کے کسرہ کے ساتھ اسم مکان ہے یعنی قربان گاہ، منسکا منسک اور نسبک عربی زبان میں کئی معنی میں بولا جاتا ہے (1) جانور کی قربانی (2) تمام افعال حج (3) مطلقاً عبادت، یہاں تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں، مجاہد وغیرہ نے اس جگہ منسک کو قربانی کے معنی میں لیا ہے، اس پر معنی یہ ہوں گے قربانی کا حکم جو اس امت کو دیا گیا ہے کوئی نیا حکم نہیں ہے، پہلی امتوں کو بھی یہ حکم دیا گیا تھا، قتادہ نے دوسرے معنی لئے ہیں اس صورت میں آیت کی مراد یہ ہوگی کہ افعال حج جس طرح اس امت پر عائد کئے گئے ہیں پچھلی امت پر بھی حج فرض تھا، ابن عرفہ نے تیسرے معنی مراد لئے ہیں اس صورت میں آیت کی مراد یہ ہوگی کہ ہم نے اللہ کی عبادت پچھلی تمام امتوں پر فرض کی تھی۔
قولہ : ذبحاً قرباناً یہ معنی مصدری کی وضاحت ہے اور قرباناً ذبحاً مصدر کا مفعول بہ ہے او مکانہٗ یہ دوسرے معنی یعنی اسم مکان کی وضاحت ہے۔ قولہ : المطیعین المتواضعین مطیعین مخبتین کے لازم معنی کا بیان ہے اور متواضعین اصل معنی کا بیان ہے، اس لئے کہ اخبات پست زمین میں اترنے کو کہتے ہیں، قولہ : وہی الابل یہ امام شافعی (رح) کا قول ہے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اہل اور بقر دونوں پر بدنہ کا اطلاق درست ہے اور یہی قول لغت اور شرع کے موافق ہے، قاموس میں ہے البدنۃ من الابل والبقر سنن ابی داؤد اور نسائی میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے تو اپ نے ہم کو ابل اور بقر میں سے ہر ایک بدنہ میں سات کے شریک ہونے کا حکم فرمایا اور صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ہم بدنہ کو سات کی طرف سے ذبح کرتے ہیں، سوال کیا گیا اور بقر (گائے) میں، تو فرمایا وہ بھی بدنہ ہی ہے۔ (حاشیہ جلالین اختصاراً ) ۔
قولہ : صواف جمع صافٍ بمعنی قائمات وجبت بمعنی سقطت، وحب الحائط سے مشتق ہے دیوار گرگئی، مراد ٹھنڈا ہوجانا۔ قولہ : فکلوا منھا ان شئتم ان شئتم ان شئتم کا اضافہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کلوا امرو جوب کے لئے نہیں ہے بلکہ اباحت اور بیان جواز کے لئے ہے۔ قولہ : گوائل، غوائل کو محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ یدافع کا مفعول محذوف ہے۔ قولہ : علیٰ ما ھداکم میں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ای علی ھدایتہٖ إیاکم اور موصولہ بھی ہوسکتا ہے، ای علیٰ ما ھداکم الیہ علیٰ کا تعلق لتکبروا اللہ سے ہے اور تکبروا تشکروا کے معنی کو متضمن ہے تاکہ اس کا صلہ علی کے ساتھ درست ہوجائے۔
تفسیر و تشریح
ولکل امۃٍ یعنی نیاز و عبادت کے طور پر جانور کی قربانی ہر آسمانی دین میں عبادت قرار دی گئی ہے اگر یہ عبادت غیر اللہ کی نیاز کے طور پر کرو گے تو مشرک ہوجاؤ گے، جس سے بہت پرہیز کرنا چاہیے، موحد کا کام یہ ہے کہ قربانی صرف اسی کے نام پر کرے جس کے نام پر کرے جس کے نام پر قربانی کرنے کا تمام شرائع میں حکم ہے اور ان لوگوں کو رضائے الٰہی کی بشارت سنا دیجئے جو صرف اسی ایک خدا کا حکم مانتے ہیں اسی کے سامنے جھکتے ہیں اسی پر ان کا دل جمتا ہے اور اسی کے جلال و جبروت سے ڈرتے رہتے ہیں، اور مصائب و شدائد کو صبر و استقلال سے برداشت کرتے ہیں اور کوئی بڑی سے بڑی مصیبت اور تکلیف ان کے قدموں کو راہ حق سے نہیں ڈگمگاتی۔
صواف تین پیروں پر کھڑا کرکے چوتھے کو باندھ کر یہ صورت صرف اونٹوں کے لئے مستحب ہے اونٹوں کو لٹا کر ذبح کرنا بھی درست ہے اور دیگر جانوروں کی لٹا کر ہی ذبح کرنا بہتر ہے، زمین پر پہلو کے بل گرنے کا مطلب ہے ان کا ٹھنڈا ہوجانا اس لئے کہ روح نکلنے سے پہلے مذبوح کا کوئی حصہ کاٹ کر کھانا درست نہیں ہے، حدیث شریف میں ہے ما قطع من البھیمۃ ھی حیۃ فھو میتۃ (ابو داؤد کتاب الصید، ترمذی شریف ابواب الصید) ان اللہ یدافع عن الذین آمنوا اس آیت کا ما قبل سے ربط یہ ہے کہ ما قبل میں ان افعال کا ذکر تھا جو حج میں کئے جاتے ہیں اور مشرکین نے آپ ﷺ کو حدیبیہ کے سال عمرہ سے روکدیا تھا اور جو مومنین مکہ میں تھے ان کو ایذا پہنچاتے تھے، یہ آیت مسلمانوں کی تسلی کے لئے نازل فرمائی ہے۔
Ayahs 22:39–48آیت نمبر 39 تا 48
ترجمہ : اجازت دیدی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے یعنی مومنین کو، یہ کہ وہ قتال کریں اور یہ پہلی آیت ہے جو (اجازت قتال) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سبب سے کہ وہ مظلوم ہوئے کافروں کے ان پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے یعنی ان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں تھی محض اتنی بات پر نکالے گئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رب اللہ وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ قول حق ہے اور اس کی وجہ سے نکالنا ناحق نکالنا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا، بعضھم الناس سے بدل البعض ہے تو راہبوں کے خلوت خانے لھدمت تشدید کے ساتھ ہے کثرت کو بیان کرنے کے لئے اور تخفیف کے ساتھ بھی ہے اور نصاریٰ کے عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے عبرانی میں صلوٰۃ عبادت خانہ کو کہتے ہیں اور مسلمانوں کی مسجدیں مسمار کردی جائیں جن میں یعنی مذکورہ مواضع میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے اور ان مقامات کے ویران ہوجانے کی وجہ سے عبادات منقطع ہوجاتیں، اور بیشک اللہ اس کی مدد کرے گا جو اس کی یعنی اس کے دین کی مدد کرے گا بلاشہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر قوی ہے اپنی سلطنت اور قدرت میں غالب ہے یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دیدیں ان کے دشمن پر ان کو غلبہ دے کر تو یہ لوگ خود بھی نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیکی کا حکم کریں اور برائی سے منع کریں، اور اقاموا الصلوٰۃ سے آخر تک جواب شرط ہے اور شرط اور جواب شرط مل کرموصول ہے الذین کا، اور الذین موصول اپنے صلہ سے مل کر، ھم مبتدا محذوف کی خبر ہے اور تمام کاموں کا انجام تو اللہ ہی ہے ہاتھ میں ہے یعنی آخرت میں وہ تمام امور کا مرجع ہے اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا ہے تو ان لوگوں سے پہلے قوم نوح قوم معنی کے اعتبار سے مؤنث تھی (اپنے اپنے نبیوں کی) تکذیب کرچکی ہیں، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کاذب قرار دیا گیا موسیٰ کی تکذیب قبطیوں نے کی نہ کہ ان کی قوم بنی اسرائیل نے، یعنی ان لوگوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی، لہٰذا آپن کے لئے ان انبیاء کے طریقہ میں نمونہ ہے تو میں نے ان کافروں کو مہلت دی یعنی ان کے عذاب کو مؤخر کرکے ان کو مہلت دی پھر میں نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تو میرا عذاب ان پر کیسا ہوا ان کی تکذیب کی وجہ سے ان کو ہلاک کرکے اور استفہام تقریر کے لئے ہے یعنی میرا عذاب برمحل و برموقعہ واقعہ ہوا، غرضیکہ کتنی ہی بستیاں ہیں کہ جن کو میں نے ہلاک کردیا اور ایک قرأت میں ہم نے ان کو ہلاک کردیا (یعنی ایک قرأۃ میں اھلک تھا ہے اور ایک قرأۃ میں اھلکناھا ہے، اور حال یہ ہے کہ وہ بستیاں ظالم تھیں یعنی ان بستیوں کے باشندے اپنے کفر کی وجہ سے ظالم تھے، اور اب وہ بستیاں اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے ہی بےکار کنویں یعنی بستی والوں کی ہلاکت کی وجہ سے متروک پڑے ہوئے ہیں اور کتنے ہی عالی شان محل خالی پڑے ہیں بستی والوں کے ہلاک ہوجانے کی وجہ سے، کیا یہ لوگ یعنی مکہ کے کافر ملک میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ ان کے قلوب ایسے ہوجائیں کہ انکے ذریعہ ان کی ہلاکت اور ان کے گھروں کی بربادی کی خبروں کو سنیں بعد ازاں عبرت حاصل کریں بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں بلکہ وہ قلوب اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں فی الصدور قلوب کی تاکید ہے، یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ عذاب نازل کرنے کے اپنے وعدہ کا خلاف نہ کرے گا، چناچہ یوم بدر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو پورا فرما دیا اور آپ کے رب کے پاس کا ایک دن آخرت کے دونوں میں سے عذاب کی وجہ سے ہزار سال کے برابر ہے تمہارے شمار کے اعتبار سے دنیا میں یعدون یاء اور تاء کے ساتھ ہے اور بہت سی بستیاں ہیں کہ جن کو میں نے مہلت دی تھی حال یہ ہے کہ وہ ظالم تھیں پھر میں نے ان بستیوں کو پکڑ لیا، اور مراد بستی سے بستی والے ہیں اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
اذن للذین یقاتلون اذن کا ماذون فیہ محذوف تھا مفسر علام نے أن یقاتلوا کہہ کر اس کو ظاہر کردیا اور حذف پر یقاتلون دلالت کر رہا ہے، آنحضرت ﷺ کو ستر سے کچھ زیادہ آیات میں جہاد سے منع کرنے کے بعد ہجرت کے بعد یہ پہلی آیت ہے جس میں جہاد کی اجازت دی گئی ہے، یہ دن صحابہ کے لئے گویا کہ عید کا دین تھا، ایک قرأۃ میں یقاتلون مبنی بھی ہے مومنین کو قبل القتال مقاتل یا تو مایؤل کے اعتبار سے کہا گیا ہے یا اس لئے کہ مومنین کا قتال کا ارادہ تھا، قولہ : بأنھم ظلموا میں با سببیہ ہے گویا کہ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مومنین کو قتال کی اجازت کی وجہ، ان پر ظلم کا کیا جانا ہے، امام رازی (رح) نے فرمایا ہے ان یقاتلوا کا مطلب ان یقاتلوا فی المستقبل ہے اس صورت میں یہ اعتراض ختم ہوجائے گا کہ یہ صورت مکی ہے اور جہاد کی اجازت مدینہ میں نازل ہوئی ہے، وان اللہ علیٰ نصرھم لقدیر یہ جملہ مستانفہ ہے اور اس آیت میں اشارہ کے طور پر نصرت کا وعدہ ہے
قولہ : ھم الذین اخرجوا مفسر علام نے ھم مقدر مان کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ اسم موصول مبتداء محذوف کی صفت ہے، اس کے علاوہ بھی چند اور وجوہ اعراب ہوسکتے ہیں (1) موصول اول کی صفت یا بیان یا بدل ہونے کہ وجہ سے محلا مجر ہوسکتا ہے (2) اعنی یا امدح وغیرہ محذوف کی وجہ سے جملہ ہو کر منصوب بھی ہوسکتا ہے، قولہ : الا أن یقولوا الآیہ مفسر علام نے ما اخرجوا محذوف مان کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ مستثنیٰ متصل ہے، ای ما اخرجوا بشئ من الاشیاء الا بقولھم ربنا اللہ یعنی مکہ سے مومنین کے نکالے جانے کا کوئی سبب نہیں تھا جو ان کو نکالنے کا موجب ہو سوائے اس کے کہ انہوں نے ربنا اللہ کہا، اور یہ سبب موجب اخراج نہیں بلکہ یہ تو سبب استقرار و تمکین ہے یہ دراصل مدح بما یشبہ الذم کے قبیل سے ہے یعنی جو شئی سبب مدح ہے وہ ان کے نزدیک سبب ذم ہے، جیسا کہ نابغہ کے قول میں ہے : ؎
لا عیب فیھم غیر ان سیوفھم بھن فلول من قراع الکتائب
مجھ میں ایک عیب ہے بڑا کہ وفا دار ہوں ہیں
الا ان یقولوا یہ مستثنیٰ منقطع بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ مستثنیٰ جو الا ان یقولوا ہے مستثنیٰ منہ جو کہ بغیر حق ہے کی جنس سے نہیں ہے، مگر مستثنیٰ منقطع ماننا درست نہیں ہے اس لئے کہ اگر یوں کہیں الذین اخرجوا من دیارھم الا ان یقولوا ربنا اللہ تو یہ درست نہیں ہے اسی وجہ سے مفسر علام نے عامل محذوف مان کر مستثنیٰ متصل بنادیا ہے ای ما اخرجوا بشئ من الاشیاء الا بقولھم ربنا اللہ اور مضارع بمعنی ماضی ہے مفسر علام نے ان یقولوا کی تفسیر بقولھم سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ان مصدریہ ہے اور ان یقولوا، قول کے معنی میں ہے اور بقولھم میں با سببیہ ہے۔
قولہ : ولا لا دفع اللہ الناس الآیۃ لو لا امتناعیہ ہے اور لھدمت جواب لولا ہے، دفع اللہ الناس بعضھم لبعضٍ مبتداء ہے موجود محذوف اس کی خبر ہے اور دفع اللہ میں اضافت مصدر الی الفاعل ہے تقدیر عبارت یہ ہے لولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض موجود لھدمت صوامع (الآیۃ) صوامع صومعۃ کی جمع ہے، خلوتخانہ جس میں راہب تنہائی میں ریاضت و عبادت کرتا ہے وبیع جمع بیعۃٍ نصاریٰ کے جماعت خانے جس میں اجتماعی طور پر عبادت کرتے ہیں، صلواٹ جمع صلوٰۃ، عبرانی زبان میں یہود کے عبادت خانوں کو صلوتا کہتے ہیں۔ قولہ : وتنقطع العبادات اس کا عطف لھدمت پر ہے۔ قولہ : الذین ان مکناھم فی الارض اس میں بھی وہ تمام صورتیں ممکن ہیں جو سابق موصول میں بیان ہوچکی ہیں مذکور صورتوں کے علاوہ اس میں یہ صورت بھی درست ہے کہ من ینصرہ سے بدل ہو ان مکناھم فی الارض شرط ہے اور اقاموا الصلوٰۃ مع اپنے معطوفات جزاء ہے، شرط اپنی جزاء سے مل کر الذین کا صلہ ہے، موصول اپنے صلہ سے مل کر ھم مبتداء محذوف کی خبر ہے اور ھم سے مراد ماذون لھم فی القتال ہیں اور وہ مہاجرین ہیں اور یہ آیت اخبار بالغیب کے قبیل سے ہے، اس لئے کہ اس آیت میں مہاجرین کے ان اوصاف کی خبر دی گئی ہے کہ جب پر وہ زمین پر قدرت اور حکومت دینے کے بعد ہوں گے، وکذب موسیٰ یہاں ما سبق کے برخلاف طرز بیان کو بدل دیا بایں طور کہ معروف کے صیغہ کے بجائے مجہول کا صیغہ اختیار فرمایا اس لئے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب ان کی قوم نے نہیں کی تھی بلکہ فرعون کی قوم قبط نے کی تھی بخلاف دیگر انبیاء مذکوریں کی تکذیب کے کہ خود ان کی قوم نے کی تھی۔
قولہ : فاملیت للکافرین اس میں ضمیر کہ جگہ اسم ظاہر اختیار فرمایا ہے تاکہ ان کی صفت کفر پر صراحت ہوجائے ورنہ تو فاملیتھم بھی کہا جاسکتا تھا، نکیر بمعنی عذاب مصدر بمعنی انکار ہے جیسے نذیر بمعنی انذار ہوتا ہے۔ قولہ : بتکذیبھم یہ انکاری کا مفعول ہے اور باھلاکھم انکاری سے متعلق ہے، اور استفہام تقریری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مخاطبوں کو میرے عذاب کے برمحل ہونے کا اقرار کرنا چاہیے۔ قولہ : فکاین این بمعنی کم خبر یہ مبتدا ہے اور من قریۃٍ تمیز ہے اور اھلک تھا اس کی خبر ہے، کاین دراصل کای تھا قرآنی رسم الخط میں تنوین کو بصورت نون لکھا گیا، کاین ہمیشہ خبری صورت میں استعمال ہوتا ہے یہ لفظ مبہم طور پر کثرت پر دلالت کرنے کے لئے آتا ہے ابہام کو دور کرنے کے لئے، اس کے بعد بطور تمیز کوئی لفظ ضرور مذکور ہوتا ہے عموماً اس کی تمیز من کے ساتھ آتی ہے، جیسے کاین من قریۃٍ کائن ہمیشہ آغاز کلام میں آتا ہے اس کی خبر ہمیشہ مرکب ہوتی ہے، بعض اوقات کائن استفہام کے لئے بھی آتا ہے، اور ایک قرأت میں اھلکنا ہے اور کائن محل نصب میں بھی ہوسکتا ہے اھلکنا کی دلالت کی وجہ سے، اور وھی ظالمۃ جملہ حالیہ ہے ای اھلھا محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ مضاف محذوف ہے۔
قولہ : وکم من بئرٍ معطۃٍ مفسر علام نے کم محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ بئر کا عطف قریۃ پر ہے أفلم یسیروا ہمزہ، محذوف پر داخل ہے اور فاعاطفہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے أغفلوا فلم یسیروا و کأین یہاں واؤ کے ساتھ لائے ہیں اور ماقبل میں فکاین فا کے ساتھ لائے ہیں اس لئے کہ ماقبل میں فالانا مناسب ہے، اس لئے کہ اس کے ماقبل فکیف کان میں فا ہے اور یہاں واؤ مناسب ہے اس لئے کہ ما قبل میں واؤ ہے ولن یخلف اللہ وعدہ۔
تفسیر و تشریح
کفار کے ساتھ جہاد کا پہلا حکم : مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کفار کے مظالم کا یہ حال تھا کہ کوئی دن کالی نہ جاتا تھا کہ کوئی مسلان دست ستم سے رخمی اور چوٹ کھایا ہوا نہ آتا ہو، قیام مکہ کے دور میں مسلمانوں کی تعداد بھی خاصی ہوچکی تھی وہ کفار کے ظلم و جور کی آپ سے شکایت کرتے اور ان سے قتال کی اجازت مانگتے تھے، رسول اللہ ﷺ جواب میں فرماتے صبر کرو مجھے ابھی قتال کی اجازت نہیں دی گئی، یہ سلسلہ دس سال تک اسی طرح جاری رہا۔ (قرطبی بحوالہ معارف)
جہاد کی اجازت کے اس آیت میں دو مقصد بیان کئے گئے ہیں مظلومیت کا خاتمہ اور اعلاء کلمۃ اللہ، اس لئے کہ اگر مظلومین کی مدد اور دادرسی نہ کی جائے تو پھر دنیا میں زور آور کمزوروں کو اور با وسائل بےوسیلوں کو جینے ہی نہ دیں، جس کی وجہ سے زمین میں فساد برپا ہوجائے، اسی طرح اعلاء کلمۃ اللہ کی کوشش کرکے باطل کی سرکوبی نہ کی جائے تو باطل کے غلبہ سے دنیا کا امن و سکون غارت ہوجائے اور اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لئے عبادت خانہ باقی نہ رہے۔ صوامع صومعۃ کی جمع ہے نصاریٰ کے تارک الدنیا راہبوں کی مخوص عبادت گاہ کو کہا جاتا ہے جس کو خلوت خانہ بھی کہہ سکتے ہیں اور بیع بیعۃ کی جمع ہے، بڑے کنیسہ کو کہتے ہیں جہاں نصاریٰ جمع ہوتے ہیں، اور صلوات صلوتٌ کی جمع ہے، یہودیوں کے عبادت خانہ کو کہتے ہیں، مساجد مسجد کی جمع ہے مسلمانوں کے عبادتخانہ کو کہتے ہیں۔
خلفاء راشدین کے حق میں قرآن کی پیشین گوئی اور اس کا ظہور : الذین ان مکنھم فی الارض اس آیت میں الذین ان لوگوں کی صفت ہے جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق کے عنوان سے آیا ہے، یعنی وہ لوگ کہ جن کو ان کے گھروں سے بلاوجہ نکالا گیا، ان لوگوں کے بارے میں آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان کو زمین میں اقتدار دیدیا جائے تو یہ لوگ اپنے اقتدار کو ان کاموں میں صرف کریں گے، کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور نیک کاموں کی طرف لوگوں کو دعوت دیں اور برے کاموں سے روکیں۔
یہ آیت ہجرت مدینہ کے فوراً بعد اس وقت نازل ہوئی کہ جب مسلمانوں کو کسی بھی زمین میں حکومت اور اقتدار حاصل نہیں تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں پہلی ہی یہ خبر دیدی کہ جب ان کو کسی زمین میں حکومت و اقتدار حاصل ہوگا تو یہ لوگ دین کی مذکورہ اہم خدمات انجام دیں گے، اسی لئے حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمایا ثناءً قبل البلاء یعنی عمل کے وجود میں آنے سے قبل ہی تعریف فرمائی ہے۔
قرآن کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف صادق آئی، اور اس کا دنیا میں وقوع اس طرح ہوا کہ چاروں خلفاء راشدین جو الذین اکرجوا من دیارھم کے مصداق صحیح تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو سب سے پہلے زمین کی مکنت اور قدرت یعنی حکومت اور سلطنت عطا فرمائی، اور قرآن کی پیشین گوئی کے مطابق ان کے اعمال و کردار اور کارناموں نے دنیا کو دکھلا دیا کہ انہوں نے اپنے اقتدار کو انہی کاموں میں استعمال کیا جن کی ان سے توقع تھی چناچہ نمازیں قائم کیں، زکوٰۃ کا نظام مضبوط کیا اچھے کاموں کو رواج دیا، برے کاموں کا راستہ بند کیا، اسی لئے علماء نے فرمایا کہ یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ خلفاء راشدین سب کے سب اسی بشارت کے مصداق ہیں اور جو نطام خلافت ان کے زمانہ میں قائم ہو اور حق اور صحیح اور عین اللہ تعالیٰ کے ارادے اور رضا اور پیشگی خبر کے مطابق ہے۔ (روح المعانی بحوالہ معارف)
یہ تو اس آیت کے شان نزول کا واقعاتی پہلو ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ الفاظ قرآن جب عام ہوں تو وہ کسی خاص واقعہ میں منحصر نہیں ہوتے ان کا حکم عام ہوتا ہے اسی لئے ائمہ تفسیر میں سے ضحاک نے فرمایا کہ اس آیت میں ان لوگوں کے لئے ہدایت بھی ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ حکومت و اقتدار عطا فرما دیں کہ وہ اپنے دور اقتدار میں یہ کام انجام دیں جو خلفاء راشدین نے اپنے وقت میں انجام دئے تھے۔ (قرطبی)