20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 20:25–42

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا کام آسان کر دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے گھروالوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

(یعنی) میرے بھائی ہارون کو

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری وقت کو مضبوط فرما

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اسے میرے کام میں شریک کر

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تجھے کثرت سے یاد کریں

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہم کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا اور (موسی) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لیے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اسکو پالے تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آپہنچے

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لیے بنایا

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

آیت نمبر 25 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی کار رسالت میں میرا شریک کر دے اور دونوں فعل (یعنی اُشْدُدْ اور اَشْرِکْہُ ) امر کے صیغہ بھی ہوسکتے ہیں، اور مضارع مجزوم کے بھی، اور مضارع جواب امر (ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے) تاکہ ہم دونوں کثرت سے تیری تسبیح بیان کریں اور تیرا کثرت سے ذکر کریں بیشک آپ ہمارے حالات سے بخوبی واقف ہیں یہی وجہ ہے کہ تو نے رسول بنا کر انعام فرمایا ارشاد فرمایا اے موسیٰ تجھ پر احسان کرتے ہوئے ہم نے تیری درخواست کو قبول فرما لیا اور اے موسیٰ اس کے علاوہ بھی ہم تجھ پر احسان کرچکے ہیں اِذ تعلیلیہ ہے جبکہ ہم نے تیری ماں کو خواب میں یا الہام کے ذریعہ تیرے بارے میں وہ بات بتادی جو بذریعہ الہام بتانے کے لائق تھی جب کہ تیری ماں نے تجھ کو جنا تھا اور اس کو یہ خوف ہوا تھا کہ فرعون منجملہ (دیگر نو مولود) بچوں کے تجھ کو قتل کر دے گا اور اَن اقْذِفِیْہِ فِی التابوت، مَایُوْحیٰ سے بدل ہے وہ یہ کہ ان کو تابوت میں بند کرکے دریائے نیل میں ڈالدے، پھر دریا ان کو ساحل پر ڈال دے گا یعنی اپنے کنارے پر اور (فَلْیُلقَہٖ ) امر بمعنی خبر ہے، آخر کار اس کو ایسا شخص پکڑے لے گا جو کہ میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی اور وہ فرعون ہے، اور بعد اس کے کہ ان لوگوں نے تجھ کو پکڑ لیا میں نے تجھ پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی تاکہ تو لوگوں کے نزدیک محبوب ہوجائے اور پھر فرعون اور ہر وہ شخص جو تجھ کو دیکھے گا تجھ سے محبت کرنے لگے اور تاکہ تم میری نگرانی رعایت و حفاظت میں پرورش پاؤ اذ تعلیلیہ ہے (یہ اس وقت کی بات ہے) جب تیری بہن مریم تیری خبر گیری کے لئے چل رہی تھی اور ان لوگوں نے بہت سی دودھ پلانے والیوں کو بلایا تھا اور تو ان میں سے کسی کی پستانوں کو قبول نہیں کرتا تھا تو (مریم) کہنے لگی کیا میں تم لوگوں کو ایسا شخص بتادوں جو اس کی کفالت کرے ؟ چناچہ اس کی بات منظور کرلی گئی بعد ازاں وہ اس کی ماں کو بلا لائی اور اس نے اس کی پستانوں کو قبول کرلیا، پھر ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں تیری ملاقات سے ٹھنڈی ہوں اور ان کو اس وقت کوئی غم نہ رہے (ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے) یعنی تو نے اپنی ماں کا دودھ قبول کرلیا تو ان تجھ کو کوئی غم نہ ہونا چاہیے، اور تو نے ایک قبطی شخص کو مصر میں قتل کردیا تھا اور اس کے قتل کی وجہ سے تو فرعون کی طرف سے مغموم تھا پھر ہم نے تم کو اس غم سے نجات دی پھر ہم نے تم کو مختلف قسم کی آزمائشوں میں ڈالا (یعنی) اس کے علاوہ بھی ہم نے تم کو آزمائشوں میں مبتلا کیا اور پھر ان سے تجھ کو خلاصی دی پھر اہل مدین میں تم کئی (دس) سال رہے مصر سے مدین آنے کے بعد شعیب (علیہ السلام) کے پاس اور تم نے اس کی بیٹی سے نکاح کیا پھر تم ایک خاص عمر کو پہنچے جو کہ میرے علم میں رسالت کے لئے مقدر تھی اور وہ تیری عمر کے چالیس سال تھے اے موسیٰ میں نے تم کو اپنی رسالت کے لئے منتخب کرلیا لہٰذا (اب) تم اور تمہارے بھائی میری نو نشانیاں لیکر لوگوں کے پاس جاؤ اور میری یادگاری میں کوتاہی سستی سے کام نہ لینا (یعنی) تسبیح وغیرہ میں۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد یفقھوا جواب دعاء ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، وزیرًا وزرٌ سے صیغہ صفت ہے، مددگار، ناصر، معین، بقول مفسر علام وزیرًا اجعل کا مفعول اول ہے اور ہارون مفعول ثانی ہے، اس کا عکس اولیٰ ہے اس لئے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جب دو مفعول جمع ہوں ان میں ایک معرفہ ہو اور دوسرا نکرہ، تو معرفہ کو مفعول اول بناتے ہیں اس لئے کہ مفعول اول مبتداء ہوتا ہے جس کو معرفہ ہونا چاہیے اور مفعول ثانی خبر ثانی ہوتی ہے جس کے لئے نکرہ ہونا مناسب ہے اور یہاں ہارون معرفہ اور وزیرًا نکرہ ہے مقصود بالعنایت اور اہم ہونے کی وجہ سے مفعول ثانی کو مقدم کردیا گیا ہے۔ دوسری ترکیب : وزیرًا مفعول اول ہو اور لِیْ مفعول ثانی اور ہارون بدل یا عطف بیان ہو اشدُدْ ، اشرِکْ یہ دونوں صیغے جب مضارع واحد متکلم ہوں گے تو اُشْدُدْ میں ہمزہ کا فتحہ ہوگا اور اُشْرِکْہٗ میں ہمزہ کا ضمہ ہوگا اور جواب دعاء ہونے کی وجہ سے دال ثانی اور کاف ساکن ہوں گے اس صورت میں دونوں فعلوں کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہوگی مطلب یہ ہوگا تاکہ میں اس کے ذریعہ اپنی پیٹھ مضبوط کروں اور اس کو اپنا شریک کار بناؤں اور اگر دونوں امر کے صیغہ ہوں تو اُشْدد ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ ہوگا (ن، ض) اور اَشْرِکْ ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہوگا اس صورت میں دونوں فعلوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگی یعنی اے اللہ تو میرے بھائی کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دے اور اس کو میرا شریک کار بنا دے اُشدُدْ کا جب اَخِی کے ساتھ وصل کریں گے تو ہمزہ ساقط ہوجائے گا اَزرِیْ الاَزر قوت، پشت سُؤْلَکَ سُؤلٌ بروزن فُعْلٌ جیسا کہ خُبْزٌ بمعنی مَخْبُوزٌ فُعْلٌ بمعنی مَفْعُوْلٌ ہے کاف کی طرف مضاف ہے بمعنی درخواست، تمنا، خواہش اِذ اَوْحَینَا مَنَنَّا کا ظرف ہے اور اِذ اَوْحینا مَرَّۃ سے بدل بھی ہوسکتا ہے اور اِذ تعلیلیہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ مفسر (رح) نے صراحت کی ہے مفسر (رح) کا مناماً اور الھامًا کا اضافہ کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ وحی رسالت نہیں تھی بلکہ وحی لغوی تھی اِقْذِفِیْ قَذْفٌ (ض) واحد مؤنث حاضر اس کے آخر میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب مفعول ہے (تو اس کو ڈال دے، رکھ دے) یُلْقِہٖ اِلقاءٌ سے امر کا واحد مذکر غائب بمعنی خبر ہے ضمیر مفعولی ہے، اس کو ڈال دے، پھینک دے اَلْیَمُّ البحر مراد دریائے نیل ہے یَاْخُذْہٗ جواب امر ہے مِنِّی اَلْقَیْتُ کے متعلق ہے اور کائنۃً محذوف کے متعلق ہو کر مُحَبۃً کی صفت بھی ہوسکتی ہے۔ قولہ : لِتُحَبَّ یہ الْقَیْتُ کی علت ہے اس کو محذوف اس لئے مانا کہ لِتُصْنعَ کا عطف درست ہوجائے ای لِتُحَبَّ وتصْنَعْ اِذتمشیْ کا تعلق مذکور دونوں فعلوں میں سے کسی ایک سے ہوسکتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اذا اولیٰ سے بدل ہو، اس لئے کہ بہن کا ساتھ ساتھ چلنا بھی احسان ہی تھا اور اذکر محذوف مان کر تقدیر عبارت یہ بھی ہوسکتی ہے اذکر اِذ تمشی۔ قولہ : مَرَاضِعَ مُرْضِعَۃٌ کی جمع ہے دودھ پلانے والی کو کہتے ہیں فُتُوْنًا مفعول مطلق ہے ای اِبْتَلَیْنَاکَ اِبْتَلاءً اور فِتْنَۃٌ کی جمع بھی ہوسکتی ہے جیسے بَدْرۃ کی جمع بدورٌ ای فتنّاکَ بِفُتُوْنٍ کثیرَۃ مفسر علام نے فاجیبت کو محذوف مانا ہے تاکہ فرجعناک کا عطف درست ہوجائے اِصْطَنَعْتُکَ (افتعال) اِصْطِناعٌ درستگی میں مبالغہ کرنا، منتخب کرنا تَیِنَا وَنٰی یَنِیْ وَیْیًا سستی کرنا (ض) تثنیہ مذکر حاضر لاَتَنِیَا سستی نہ کرو الی الناس یہاں فرعون کو آئندہ پر قیاس کرتے ہوئے حذف کردیا گیا ہے جس طرح کہ وہاں آیاتی کو اس پر قیاس کرکے حذف کردیا گیا ہے اس کو صنعت احتباک کہتے ہیں یعنی نظیر کو نظیر پر قیاس کرتے ہوئے حذف کردینا۔ قولہ : التِّسعُ مفسر علام التسع کے بجائے العصا والید فرماتے تو مناسب ہوتا، اس لئے کہ ابتداءً صرف یہی دو معجزے عطا کیے گئے تھے باقی مدت کے دوران عطا کیے گئے اب رہا یہ سوال کہ وہ معجزوں پر جمع کا اطلاق کیونکر درست ہے ؟ جواب : یہ دونوں معجزے چونکہ متعدد معجزات پر مشتمل تھے اس لئے جمع سے تعبیر کرنا درست ہے۔ تفسیر و تشریح قال رب اشرح لی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب کلام الٰہی کا شرف خاص حاصل ہوا اور منصب نبوت و رسالت عطا ہوا تو اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کے بجائے حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوگئے اس وقت پانچ دعائیں مانگیں رب اشرح لی صدری اے میرے رب میرا سینہ کشادہ فرما دے یعنی اس میں ایسی وسعت عطا فرما دے کہ جو علوم نبوت کا متحمل ہو سکے اور دعوت و تبلیغ کے کام میں جو شدائد و مصائب پیش آتے ہیں ان کو برداشت کرسکے۔ دوسری دعاء : ویسرلی امری یعنی میرا یہ کام آسان کر دے اس لئے کہ کسی کام کا آسان یا دشوار ہونا سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اگر وہ چاہے تو آسان کو مشکل اور مشکل کو آسان کر دے۔ تیسری دعاء : وَاحْلُلْ عقدۃ من لسانی الخ یعنی میری زبان کی بندش کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھنے لگیں، اس بندش کا واقعہ یہ ہے کہ ایک روز ایسا ہوا فرعوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی گود میں لئے ہوئے تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک ہاتھ سے فرعون کی ڈاڑھی پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے اس کے گام پر طمانچہ رسید کردیا، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کھیل رہے تھے ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے وہ کھیل رہے تھے اچانک فرعون کے سر پر ماردی فرعون کو غصہ آیا اور اس کے قتل کرنے کا ارادہ کرلیا، غالباً فرعون کو یہ شک ہوگیا کہ ہوسکتا ہے یہ وہی اسرائیلی بچہ ہو جس کے ذریعہ میری سلطنت کا خاتمہ نجومیوں نے بتایا ہے، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم نے کہا شاہا آپ بچہ کی بات کا خیال کرتے ہیں جس کو کسی چیز کمی عقل وتمیز نہیں، اور اگر آپ چاہیں تو تجربہ کرلیں چناچہ ایک طشت میں انگارے اور دوسرے میں جواہر پارے لاکر موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے رکھ دئے خیال یہ تھا کہ انگارے چونکہ جواہرات کے مقابلہ میں زیادہ روشن اور چمکدار ہوتے ہیں لہٰذا بچوں کی عادت کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی انگاروں کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے جس سے فرعون کو یقین آجائے گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ کیا وہ بچپن کی نادانی کی وجہ سے کیا ہے مگر اتفاق کی بات کہ حضرت موسیٰ نھے ہاتھ جواہرات کی طرف بڑھایا مگر جبرائیل امین نے ان کا ہاتھ آگ کے انگاروں کی طرف کردیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بچوں کی عادت کے مطابق ایک چنگاری ہاتھ میں اٹھا کر منہ میں رکھ لی جس کی وجہ سے زبان جل گئی، فرعون کو اس بات کا یقین آگیا کہ موسیٰ کا یہ عمل کسی شرارت کا نتیجہ نہیں بلکہ بچپن کی نادانی کا نتیجہ ہے، آگ کی وجہ سے زبان کے جل جانے کو قرآن میں عقدۃ کہا گیا ہے اور اسی کو کھولنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا مانگی تھی، جو کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے قبول فرمائی مگر قیلیل مقدار میں بستگی کا اثر باقی رہ گیا تھا یہ قبولیت دعا کے منافی نہیں ہے۔ چوتھی دعاء : واجعل وزیرا من اھلی میرا یک معاون میرے خاندان سے عطا فرما جو میرا شریک ہو کر میرا ہاتھ بٹاسکے، چناچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور ہارون (علیہ السلام) کو ان کا شریک کار بنادیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت مصر میں تھے اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کے ذریعہ ان کی نبوت کی اطلاع دیدی۔ پانچویں دعاء : واشرکہُ فی اَمْری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کو اپن وزیر اور معاون بنانا چاہا یہ اختیات تو اس کو خود صاصل تھا صرف تبرکاً اس کام کی اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی مگر ساتھ ہی یہ بھی چاہتے تھے کہ نبوت اور رسالت میں شریک کردیں یہ اختیار کسی رسول یا نبی کو خود نہیں ہوتا، اس لئے اس کی جدا گانہ مستقل دعاء کی، حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے اور تین ہی سال قبل وفات پائی۔ ولقد مننا علیک مرۃ اخری اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ان نعمتوں کو یاد دلا رہے ہیں جو شروع پیدائش سے اب تک زندگی کے ہر دور میں آپ پر مبذول ہوتی رہیں، اور مسلسل آزمائشوں کے درمیان قدرت حق نے کن حیرت انگیز طریقوں سے ان کی حفاظت فرمائی، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نعمتوں کو یاد دلانے کے لئے مرۃ اخریٰ کا لفظ استعمال فرمایا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ نعمتیں بعد کی ہیں اور اس سے پہلے جو نعمتیں شمار کرائی ہیں وہ پہلی ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اخریٰ کا لفظ کبھی مطلقاً دوسری کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (روح المعانی) اذ اوحینا الی امک یعنی جب وحی بھیجی ہم نے آپ کی والدہ کے پاس ایک ایسے معاملہ میں کہ جو صرف وحی ہی سے معلوم ہوسکتا تھا وہ یہ کہ فرعونی سپاہی جو کہ اسرائیلی لڑکوں کو قتل کرنے پر مامور تھے ان سے بچانے کے لئے آپ کی والدہ کو بذریعہ وحی بتلایا گیا کہ ان کو ایک تابوت میں بند کرکے دریا میں ڈال دیں اور ان کے ہلاک ہونے کا اندیشہ نہ کریں، ہم ان کی حفاظت کریں گے اور پھر آپ کے پاس ہی واپس پہنچا دیں گے ظاہر ہے کہ یہ باتیں عقل و قیاس کی نہیں ہیں اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور ان کی حفاظت کا ناقابل قیاس انتظام صرف اسی کی طرف سے بتلانے پر ہی معلوم ہوسکتا ہے۔ (معارف القرآن) کیا وحی غیرنبی و رسول کی طرف بھی آسکتی ہے ؟ صحیح بات یہ ہے کہ لفظ وحی کے لغوی معنی ایسے خفیہ کلام کے ہیں کہ جو صرف مخاطب کو معلوم ہو دوسرے اس پر مطلع نہ ہوں اس لغوی معنی کے اعتبار سے وحی کسی کے لئے مخصوص نہیں، نبی اور رسول بلکہ جانور تک اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اَوْحٰی رَبُّکَ الیٰ النَّحْلِ میں شہد کی مکھی کو بذریعہ وحی تلقین وتعلیم کرنے کا ذکر اسی معنی کے اعتبار سے ہے اور اَوْحَیْنَا الیٰ اُمِکَ بھی اس معنی لغوی کے اعتبار سے ہے اس سے ان کا نبی یا رسول ہونا لازم نہیں آتا جیسے مریم کو ارشادات ربانی پہنچے باوجودیکہ باتفاق جمہور امت وہ نبی یا رسول نہیں تھیں، اس طرح کی لغوی وحی عموماً اولیاء اللہ کو اس قسم کے الہامات ہوتے رہتے ہیں، بلکہ ابو حیان اور بعض دوسرے علماء نے کہا ہے کہ اس طرح کی وحی بعض اوقات کسی فرشتہ کے واسطہ سے بھی ہوسکتی ہے جیسے حضرت مریم کے واقعہ میں اس کی تصریح ہے کہ جبرائیل امین نے بشکل انسان متشکل ہو کر ان کو تلقین فرمائی مگر اس کا تعلق صرف اس کی ذات سے ہوتا ہے جس کو یہ وحی الہام کی جاتی ہے اصلاح خلق اور تبلیغ دعوت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، بخلاف وحی نبوت کے کہ اس کا منشا ہی مخلوق کی اصلاح ہے اس کو وحی رسالت اور وحی نبوت کہتے ہیں، اس پر صاحب وحی کو خود بھی ایمان لانا ضروری ہے اور دوسروں کو بھی اپنی وحی پر ایمان لانے کا حکم کرے۔ وحی الہامی یعنی وحی لغوی کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا اور وحی نبوت حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ پر ختم ہوچکی ہے بعض بزرگوں کے کلام میں اس کو وحی تشریعی اور غیر تشریعی سے تعبیر کیا گیا ہے جس کو مدعی نبوت قادیانی نے شیخ محی الدین ابن عربی کی بعض عبادتوں کے حوالہ سے اپنے دعوائے نبوت کے جواز کی دلیل بنایا ہے جو خود ابن عربی کی تصریحات سے باطل ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا نام : روح المعانی میں ہے کہ ان کا مشہور نام یوحانِذ ہے اور اتقان میں ان کا نام لَحْیَانَہ بنت یصمد بن الاوی لکھا ہے اور بعض لوگوں نے ان کا نام بارخا اور بعض نے بازخت بتلایا ہے، تعویذ گنڈے والے ان کے نام کی عجیب و غریب خصوصیات بیان کرتے ہیں، صاحب روح المعانی نے فرمایا کہ ہمیں اس کی کوئی بنیاد معلوم نہیں ہوئی اور غالب یہ ہے کہ خرافات میں سے ہے۔ فلیلقہ الیم بالساحل، یمٌّ بمعنی دریا ہے اور دریا سے بحر نیل مراد ہے آیت میں ایک حکم تو موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کو دیا گیا ہے کہ اس بچہ کو صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دے اور دوسرا حکم بصیغہ امر دریا کے نام ہے کہ وہ اس تابوت کو دریا کے کنارے پر ڈال دیے دریا چونکہ بظاہر بےحس اور بےشعور ہے اس کو حکم دینے کا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا اسی لئے بعض حضرات نے یہ قرار دیا کہ اگرچہ یہاں صیغہ امر بمعنی الحکم استعمال ہوا ہے مگر مراد اس سے حکم نہیں ہے بلکہ خبر دنیا ہے کہ دریا اس کو کنارے پر ڈال دے گا مگر محقیقین علماء کے نزدیک یہ امر اپنے ظاہر پر امر اور حکم ہی ہے اور دریا ہی اس کا مخاطب ہے کیونکہ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی شئ حتی کہ درخت اور پتھر بےشعور نہیں بلکہ سب میں عقل و ادراک موجود ہے، اور یہی عقل و ادراک ل ہے جس کے سبب یہ سب چیزیں حسب تصریح قرآن تسبیح میں مشغول ہیں، البتہ جنوں اور انسانوں کے علاوہ کسی میں عقل و شعور اتنا مکمل نہیں جن کو حلال و حرام کا مکلف بنایا جاسکے۔ یاخذہ عدولی وعدولہ یعنی اس بچہ کو ایسا شخص اٹھالے گا جو میرا دشمن ہے اور موسیٰ کا بھی، مراد فرعون ہے، فرعون کا دشمن خدا ہوتا تو اس کے کفر کی وجہ سے ظاہر ہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن کہنا اس لئے محل غور ہے کہ اس وقت تو فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن نہیں تھا بلکہ ان کی پرورش پر زرکثیر خرط کر رہا تھا پھر اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن فرمانا یا تو انجام کے اعتبار سے ہے کہ بالآخر فرعون اس کا دشمن ہوجائے گا کیونکہ فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن ہوجانا اللہ کے علم میں تھا، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جہاں تک فرعون کی ذات کا تعلق ہے وہ فی نفسہٖ اس وقت بھی دشمن ہی تھا اس نے حضرت موسیٰ کی تربیت صرف بیوی کی خاطر گواروہ کی تھی، اور جب اس میں بھی اس کو شبہ ہوا تو اسی وقت قتل کا حکم دے دیا تھا جو حضرت آسیہ کی تدبیر اور دانشمندی کے ذریعہ ختم ہوا۔ (روح ومظہری) والقیت علیک محبۃ منی اس جگہ لفظ محبت مصدر بمعنی محبوب محبوبیت ہے اور مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی عنایت اور رحمت سے آپ کے وجود میں ایک محبوبیت کی شان رکھ دی تھی کہ جو آپ کو دیکھے گا آپ سے محبت کرنے لگے گا حضرت ابن عباس ؓ اور عکرمہ سے یہی تفسیر منقول ہے۔ ولیصنع علیٰ عینی لفظ صنعت سے یہاں عمدہ تربیت مراد ہے جیسا کہ عرب میں صَنَعتُ فَرْسِی کا محاورہ اسی معنی میں معروف ہے کہ میں نے اپنے گھوڑے کی اچھی تربیت کی اور علیٰ عَیْنِیْ سے مراد علیٰ حفظی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہترین تربیت براہ راست حق تعالیٰ کی نگرانی میں ہو اس لئے مصر کی سب سے بڑی ہستی یعنی فرعون کے ہاتھوں ہی اس کے گھر میں یہ کام اس طرح لیا گیا کہ وہ اس سے بیخبر تھا کہ میں اپنے ہاتھوں اپنے دشمن کو پال رہا ہوں۔ (مظہری) اذ تمشی اختک موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کا اس تابوت کے تعاقب میں جانا اور اس کے بعد کا قصہ جس کا اجمال اس آیت میں آیا ہے جس کے آخر میں وَفَتَنّٰکَ فُتُوْنًا یعنی ہم نے آپ کے آزمائش کی بار بار (قالہ ابن عباس ؓ یا آپ کو مبتلاء آزمائش کیا بار بار (قالہ صحاک (رح) ) اس کی پوری تفصیل سنن نسائی کی ایک طویل حدیث میں بروایت ابن عباس ؓ آئی ہے۔ (قصہ کی تفصیل کے لئے معارف القرآن جلد ششم کی طرف رجوع کریں) ۔
Ayahs 20:43–54

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ وہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھتا ہوں

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

(اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجئے اور انھیں عذاب نہ کیجئے ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہے

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

(غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے ؟

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال ہے ؟

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا کہ انکا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے) میرا پروردگار نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے انواع واقسام کی مختلف روئیدگیاں پیدا کیں

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی بھی چراؤ بیشک ان باتوں میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

آیت نمبر 43 تا 54 ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم دونوں کے ساتھ ہوں جو کچھ وہ کہے گا اس کو میں سنوں گا اور جو کچھ وہ کرے گا میں اس کو دیکھوں گا اب اس کے پاس جاؤ اور کہو ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں لہٰذا بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ شام کی طرف جانے دے اور ان کو تکلیف مت پہنچا یعنی مشقت کے کاموں میں ان کا استعمال بند کر دے، جیسا کہ کھدائی کا کام اور معماری کا کام اور بار برداری کا کام ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی یعنی دعوئے رسالت کی صداقت پر دلیل لیکر آئے ہیں اور ایسے شخص کے لئے سلامتی ہے جس نے ہدایت کا اتباع کیا یعنی ایسے شخص کے لئے عذاب سے سلامتی ہے ہمارے پاس وحی بھیجی گئی ہے کہ عذاب اس شخص پر ہوگا جس نے ہماری لائی ہوئی شئ کی تکذیب کی اور اس سے اعراض کیا چناچہ دونوں بھائی اس کے پاس گئے اور جو کچھ مذکور ہوا سب کہہ دیا تو وہ کہنے لگا اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ (خطاب میں) موسیٰ (علیہ السلام) پر اقتصار کیا اس لئے کہ موسیٰ ہی (رسالت) میں اصل تھے اور فرعون موسیٰ پر تربیت کا احسان جتانا چاہتا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شئ کو مخلوق میں سے اس کے مناسب صورت عطا فرمائی جس کی وجہ سے وہ غیر سے ممتاز ہے پھر ہر شئ میں سے حیوان کو اس کے کھانے پینے اور جفتی کرنے وغیرہ کی سمجھ عطا فرمائی فرعون نے کہا کہ اچھا تو پہلی امتوں کا کیا حال ہوا، جیسا کہ قوم نوح اور ہود اور صالح ان کے بتوں کی عبادت کرنے کی وجہ سے، موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ان کا یعنی ان کے حال کا علم میرے رب کے پاس کتاب لوح محفوظ میں محفوظ ہے قیامت کے دن ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا، نہ تو میرا رب کسی شئ کے بارے میں غلطی کرتا ہے اور نہ کسی شئ کو بھولتا ہے وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے منجملہ مخلوق کے زمین کو فرش بنایا اور زمین میں تمہارے لئے راستے بنائے اور آسمان سے پانی بارش برسائی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کو پورا کرنے کے لئے اہل مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف نباتات کی مختلف قسمیں پیدا کیں (من نباتِ شتّٰی) ازواجًا کی صفت ہے یعنی مختلف رنگوں اور ذائقے وغیرہ کی، اور شتّٰی شتیت کی جمع ہے جیسا کہ مرضیٰ مریض کی جمع ہے اور یہ شتَّی الامر بمعنی تفرق سے (ماخوذ ہے) اس میں سے خود بھی کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی کھلاؤ (انعام) نَعْمٌ کی جمع ہے اور وہ اونٹ اور گائیں اور بکریاں ہیں بولا جاتا ہے جانور چرگئے اور میں نے ان کو چرایا، صیغہ امر اباحت اور تذکیر نعمت کے لئے ہے اور جملہ اخرجنا کی ضمیر سے حال ہے یعنی حال یہ کہ ہم تمہارے لئے کھانا، اور جانوروں کو چرانا مباح کرنے والے ہیں، یہاں مذکور تمام چیزوں میں عبرت آمیز نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے یعنی نُھٰی نُھْیَۃٌ کی جمع ہے جیسا کہ غُرَفٌ غرفۃٌ کی جمع ہے بعض حضرات نے نُھٰی کو مفرد بھی کہا ہے عقل کا نام نُھٰی اس لئے رکھا گیا ہے کہ عقل، عقلمند کو قبائح کے ارتکاب سے روکتی ہے، نُھٰی اصل میں نُھَیٌ تھا۔ تحقیق، ترکیب و تفسیر فوائد سوال : اِذْھَبَا فِرعَوْنَ دونوں کو ایک صیغہ میں جمع کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ جبکہ خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے بلکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) تو اس وقت وہاں موجود بھی نہیں تھے بلکہ مصر میں تھے۔ جواب : نمبر 1 حاضر کو غائب پر ترجیح دینے کی وجہ سے ایسا کیا گیا ہے۔ نمبر 2 اللہ تبارک و تعالیٰ نے حجاب منکشف فرما دیا تھا جس کی وجہ سے ہارون (علیہ السلام) نے وہی کلام ربانی سنا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سنا تھا، لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے کلام ربانی بلاواسطہ سنا تھا اور ہارون (علیہ السلام) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے واسطہ سے سنا تھا۔ قولہ : فی رجوعہٖ عن ذٰلک ای رجوع الفرعون عن اِدّعاءِ الربوبیۃ۔ قولہ : فیرجِعَ جواب ترجی کی وجہ سے منصوب ہے والترجی بالنسبۃ الیھما یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے کلمہ ترجی (شک کا کلمہ) کیوں استعمال فرمایا ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں فرعون کا ایمان نہ لانا متعین تھا۔ جواب : کلمہ ترجی کا استعمال موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) کے اعتبار سے ہے نہ کہ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ یَفرُطَ (ن) فَرْطًا جلدی کرنا، پیش دستی کرنا، پوری بات سنے بغیر سزا میں جلدی کرنا (روح) فاتیاہ اس کا عطف لاتخافا پر ہے اَسمَعُ واریٰ اِنَّنی معکما کی تاکید ہے، قولہ : بِعَوْنِی کا اضافہ کرکے معیت جسمانی کو باطل کردیا ہے، یہاں معیت سے مراد اعانت اور نصرت ہے فَاْتِیَاہٗ تم بذات خود اس کے پاس جاؤ، نہ یہ کہ کسی کے ذریعہ پیغام پہنچا دو ۔ قولہ : فأَتَیاہٗ وقال لہٗ جمیعَ مَاذُکِرَ کو مقدر مان کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ فرعون کا قول قَالَ مَنْ رَّبُّکُمَا میں ہارون اور موسیٰ دونوں سے خطاب ہے اور یا موسیٰ میں نداء صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو ہے، مفسر علام نے اس کے دو جواب دئے ہیں، اول جواب یہ ہے کہ ان دونوں حضرات میں اصل حضرت موسیٰ ہی ہیں حضرت ہارون تو معاون اور تابع ہیں لہٰذا اصل کو ندا کے لئے منتخب کیا، دوسرا جواب لإدلالہٖ سے دیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے موسیٰ بچپن میں تیری پرورش تو میں نے کی ہے لہٰذا تیرا رب تو میں ہوں تو میرا رب کس کو قرار دیتا ہے گویا کہ احسان جتانے اور عار دلانے کے لئے خاص طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو ندا دی کہ تیرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تو میرا رب کسی اور کو قرار دے جبکہ خود تیرا رب میں ہوں بخلاف ہارون (علیہ السلام) کے ان پر فرعون کا کوئی احسان نہیں تھا۔ قولہ : اِدّلالٌ احسان جتانا، ناز و نخرے کرنا رَبُّنا الذی اعطیٰ الخ ربنا مبتداء اور الذی الخ اس کی خبر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھُوَ مبتداء محذوف ہو اور ربنا اس کی خبر مبتداء خبر سے مل کر موصوف اور الذی الخ اس کی صفت موصوف صفت سے مل کر مقولہ اَعْطٰی کُلُّ شئ خَلْقَہ کُلَّ شئ اعطٰی کا مفعول اول ہے اور خَلْقَہٗ مفعول ثانی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خَلْقَہٗ مفعول اول ہو اور کُلَّ شئٍ مفعول ثانی، اہتمام کے لئے مفعول ثانی کو مقدم کردیا گیا ہے ای اَعْطٰی خَلْقَہٗ کُلَّ شئٍ قال فرعَوْن فمَا بالُ الخ جب فرعون پر موسیٰ (علیہ السلام) کا حق پر اور خود کا باطل پر ہونا ظاہر ہوگیا تو ایسی باتیں کرکے کہ جن کا رسالت سے کوئی تعلق نہیں تھا بات کا رخ موڑنے کی کوشش کی تاکہ اس کی ریاست خطرہ میں نہ پڑجائے، موسیٰ (علیہ السلام) اس کی چالبازی کو سمجھ گئے اور بہت مختصر سا جواب دے کر اصل موضوع پر جمے رہے اور فرعون کو بھی موضوع سے نہ ہٹنے دیا اس لئے کہ ایک مناظر کی خوبی یہ ہے کہ مخالف کو موضوع سے ہٹنے نہ دے اس لئے کہ مخالف کے پاس جب کوئی دلیل نہیں رہتی تو وہ موضوع سے ہٹنے کی کوشش کرتا اور غیر متعلق باتیں کرنی شروع کردیتا ہے۔ قولہ : اَلَّذِیْ جَعَلَ لکمُ الارضَ یہ فرعون کے سوال اول کے جواب ہی سے متعلق ہے۔ قولہ : لایَضِلُّ ای لایُخْطِیْ ابتداءً یعنی کوئی شئ اس سے چھوٹتی نہیں ہے۔ قولہ : ولا یَنسٰی یعنی علم کے بعد ذہول و نسیان نہیں ہوتا اَلَّذِیْ جَعَلَ لکم الارضَ مھدًا اور ثم ھدی کے درمیان مابال قرون الاولیٰ الخ جملہ معترضہ ہے علمھا عِند ربی فی الکتاب۔ قولہ : ای علم حالھم محفوظ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ھا ضمیر مضاف الیہ سے پہلے حال مضاف محذوف ہے اس لئے کہ کسی کے علم سے مراد اس شئ کے حالات کا علم ہوتا ہے نہ کہ ذات شئ کا، اور محفوظ کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ علمھا مبتداء خبر محذوف ہے علمھا بترکیب اضافی مبتداء ہے اور عند ربی خبر اول اور فی الکتاب خبر ثانی اور یہ بھی جائز ہے کہ ھٰذا حُلُوٌّ حامِضٌ کے مانند دونوں ایک ہی خبر ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عند ربی خبر ہو اور فی الکتاب ظرف کی ضمیر مستتر سے حال ہو۔ قال تعالیٰ تتمِیْمًا لِمَا وَصَفَہٗ الخ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فاخرَجْنا بِہٖ الخ یہ بطور حکایت ہے، موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس سے موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام وانزلنا من السماء ماءً کو مکمل کرکے اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ سے خطاب کیا ہے اور ان پر اپنے احسانات جتاتے ہوئے انعامات کو شمار کرایا ہے اور یہ کلام تارۃً اخُریٰ پر ختم ہوا ہے۔ قولہ : شَتّٰی یہ فعل ہے اس کا الف علامت تانیث ہے شَتّٰی شتِیْتٌ کی جمع ہے جیسے مریض کی جمع مرضٰی اور ازواجًا کی صفت ہے نبات کی صفت بھی ہوسکتی ہے کُلُوا وَارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ یہ تقدیر مبیحین کے ساتھ اَخْرَجْنَا کی ضمیر سے حال ہے ای اَخْرَجْنَا اَصنافَ النبات مبیحین لکم الاکلَ ورَعْیَ الانعام مبیحین کے بجائے قائلین بھی مقدر مان سکتے ہیں۔ قولہ : رَعَتِ الاَنْعَامُ وَرَعَیْتُھَا کے اضافہ کا مقصد یہ بتاتا ہے کہ رَعٰی لازم اور متعدی دونوں مستعمل ہے۔ تفسیر و تشریح اذھبا الیٰ فرعون تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ دعوئے ربوبیت کرکے حد سے تجاوز کر گیا ہے اور اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا تاکہ وہ نصیحت قبول کرلے اور اس حرکت سے بخوشی باز آجائے یا عذاب الٰہی سے ڈر کر ہی دعوئے ربوبیت سے باز آجائے، اس آیت میں داعیان دین کے لئے ایک اہم اور ضروری اصول بیان کیا گیا ہے فرعون جو کہ خدائی کا دعویدار ظالم و جابر اور اپنی حفاظت کے لئے ہزار ہا بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا مجرم تھا، اس کے پاس جب اپنے خاص پیغمبروں کو بھیجا تو یہ ہدایت دیکر بھیجا کہ اس سے نرم گفتگو کریں تاکہ اس کو غور و فکر کا موقعہ ملے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ فرعون اپنی سرکشی اور گمراہی سے باز آنے والا نہیں ہے، مگر اپنے پیغمبروں کو اس اصول کا پابند کرنا تھا جس کے ذریعہ خلق خدا سوچنے سمجھنے پر مجبور ہو کر خدا کی طرف راجع ہوجائے فرعون کو ہدایت ہو یا نہ ہو مگر اصول وہ ہونا چاہیے جو ہدایت و اصلاح کا ذریعہ بن سکے، آج کل جو بہت سے اہل علم اپنے اختلافات میں ایک دوسرے کے خلاف زبان درازی اور الزام تراشی کو اسلام کی خدمت سمجھ بیٹھے ہیں، انہیں اس پر بہت غور کرنا چاہیے۔ قالا ربنا اننا نخاف الخ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابتداء کلام میں جب موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب نبوت پر سرفراز فرمایا گیا تھا تو اطمینان دلایا گیا تھا کہ ہم تم کو تقویت عطا کریں گے اور تم کو غلبہ عطا کریں گے وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کے بعد پھر یہ خوف ہراس کیسا ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ پہلا وعدہ کہ ہم تم کو غلبہ عطا کریں گے اور وہ لوگ آپ تک رسائی حاصل نہ کرسکیں گے یہ ایک مبہم اور مجمل وعدہ تھا اس لئے کہ غلبہ سے مراد حجت و دلیل کا غلبہ بھی ہوسکتا ہے اور مادی غلبہ بھی، نیز یہ خیال بھی ہوسکتا ہے کہ ان پر غلبہ تو جب حاصل ہوگا تب وہ دلائل سنیں گے اور معجزات دیکھیں گے مگر خطرہ یہ ہے کہ وہ بات سننے سے پہلے ہی ان پر حملہ کر بیٹھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ خوف کی چیزوں سے طبعی خوف تو تمام انسانوں کی فطرت ہے انبیاء بھی اس میں شامل ہیں نیز طبعی خوف نبوت کے منافی بھی نہیں ہے، یہ ہر نبی کو پیش آتا ہے، خود موسیٰ (علیہ السلام) اپنی ہی لاٹھی کے سانپ بن جانے کے بعد اس کے پکڑنے سے ڈرنے لگے تو حق تعالیٰ نے فرمایا لاَتَخَفْ ڈرو نہیں، غزوۂ احزاب میں بھی طبعی خوف سے بچنے کے لئے خندق کھودی گئی حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ نصرت و غلبہ بار بار آچکا تھا اس سے معلوم ہوا کہ طبعی خوف نبوت کے منافی نہیں ہوتا۔ اِننی معکما الخ مدد اور نصرت سے میں تمہارے ساتھ ہوں اور تم فرعون سے جا کر جو کہو گے اور اس کے جواب میں وہ جو کچھ کہے گا میں اس کو سنتا اور تمہارے اور اس کے طرز عمل کو دیکھتا رہوں گا اس کے مطابق میں تمہاری مدد اور اس کی چالوں کو ناکام کروں گا اس لئے تم بےخوف و خطر اس کے پاس جاؤ تردد کی کوئی ضرورت نہیں، اور اس سے کہنا کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے، ان حضرات کو فرعون کے پاس جانے کے وقت اس سے چھ باتیں کہنے کا حکم فرمایا نمبر 1 اَنا رسولُ ربِّکَ نمبر 2 فاَرْسِلْ معَنَا بنی اسرائیل نمبر 3 ولا تعذِّبھُمْ نمبر 4 قد جئناکَ بآیۃٍ من رَّبکَ نمبر 5 سلام علی مَنْ اتبعَ الھدیٰ نمبر 6 انا قد اوحِیَ الینا اَنَّ العذابَ علیٰ مَنْ کَذَّبَ وتَوَلّٰی ان مذکورہ چھ باتوں سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) جس طرح خلق خدا کو ہدایت ایمان دینے کا منصب رکھتے ہیں اسی طرح اپنی امت کو دنیوی اور معاشی مسائب سے آزاد کرانا بھی ان کے فرض منصبی میں شامل ہوتا ہے اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت فرعون میں دونوں چیزیں شامل ہیں۔ قال ربنا الذی اعطی کل شئ خلقہ ثم ھدیٰ ایک ہدایت خاصہ ہوتی ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کا وظیفہ اور فرض منصبی ہے اس کے مخاطب انسان اور جنات ہوتے ہیں ایک دوسری ہدایت تکوینی ہوتی ہے یہ ہدایت ہر مخلوق کے لئے عام ہوتی ہے اللہ تبارک تعالیٰ نے ہر شئ کو کم و بیش ادراک و شعور عطا فرمایا ہے، جنات اور انسانوں کو کامل شعور عطا فرمایا ہے جس کی وجہ سے یہ احکام کے مکلف قرار دئے گئے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر شئ کو اس کے ادراک و شعور کے مطابق ہدایت کردی کہ تو کس کام کے لئے پیدا کی گئی ہے اسی تکوینی ہدایت کے تابع زمین و آسمان اور ان کی تمام مخلوقات اپنے اپنے کام میں لگی ہوئی ہے، غرضیکہ چاند سورج اور دیگر سیارے و ثوابت اپنے کام میں اس طرح لگے ہوئے ہیں کہ سرمو بھی اس سے انحراف نہیں کرتے اور نہ ایک سکنڈ اپنے وقت سے مقدم و مؤخر ہوتے ہیں، ہر شئ اپنی منشائے پیدائش میں لگے ہوئے ہے، عام مخلوق کی ہدایت اجباری اور غیر اختیاری ہے اس پر ان کو کوئی اجر وثواب نہیں، اور اہل عقول کو جو ہدایت ہوتی ہے وہ اختیاری ہوتی ہے، اسی اختیار کے نتیجہ میں اس پر ثواب یا عذاب مرتب ہوتا ہے اَعطٰی کل شئ خَلْقہٗ ثمَّ ھدیٰ میں پہلی قسم کی ہدایت مذکور ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو سب سے پہلے رب العالمین کا وہ کام بتلایا جو ساری مخلوق پر حاوی ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام ہم نے یا کسی دوسرے انسان نے کیا ہے، فرعون اس کا تو کوئی جواب نہ دے سکا، تو ادھر ادھر کی غیر متعلق باتیں کرنے لگا تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اصل موضوع سے ہٹایا جاسکے، اسی مقصد کے پیش نظر فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک سوال کا ڈالا جس کا مقصد لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرنا تھا، فرعون نے کہا اے موسیٰ یہ بتاؤ کہ پچھلے دور کی تمام امتیں اور اقوام عالم جو بتوں کی پرستش کرتے رہے آپ کے نزدیک ان کا کیا حکم ہے ؟ ان کا کیا انجام ہوا ؟ مقصد یہ تھا کہ اس سوال کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ وہ سب گمراہ اور جہنمی ہیں تو مجھے یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ یہ تو ساری دنیا ہی کو گمراہ اور جہنمی سمجھتے ہیں اور لوگ یہ سن کر بدظن ہوں گے تو ہمارا مقصد پورا ہوجائے گا مگر پیغمبر خدا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا ایسا حکیمانہ جواب دیا کہ جس سے اس کا منصوبہ ناکام ہوگیا وہ حکیمانہ جواب ایسا تھا کہ بات بھی پوری ہوگئی اور فرعون کو بہکانے کا موقع بھی نہ ملا، آپ نے فرمایا اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے کہ ان کا کیا انجام ہوگا ؟ میرا رب نہ بہکتا ہے اور نہ بھولتا ہے بہکنے اور غلطی کرنے کا مطلب یہ کہ کرنا کچھ چاہیے اور کچھ ہوجائے اور بھولنے کا مقصد واضح ہے، یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر پوری ہوگئی، آگے اللہ تعالیٰ اپنی شان ربوبیت کی کچھ تفصیل بیان فرماتے ہیں جس کا ذکر اجمالاً موسیٰ (علیہ السلام) کے اس کلام میں تھا رَبُّنَا الذی اَعْطٰی الخ آگے اللہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کی تکمیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں فَاَخرَجْنَا بِہٖ اَزْوَاجًا مِن بنَاتٍ شَتّٰی الخ پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ اقسام مختلفہ کی نباتات پیدا کیں اور تم کو اجازت دی کہ خود بھی اس نے خشک زمین سے پانی کے ذریعہ مختلف اقسام کی نباتات پیدا فرمائیں، اسی طرح وہ تمام مخلوق کو قیامت کے دن زمین سے نکالے گا۔