Ayahs 20:86–89آیت نمبر 86 تا 89
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نھے کہا اسے میری قوم کیا تم سے میرے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ یعنی سچا وعدہ، یہ کہ وہ تم کو تورات عطا کرے گا، کیا تم پر میری جدائی کا زمانہ زیادہ طویل ہوگیا تھا ؟ یا تم کو یہ منظور ہوا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واجب ہوجائے، تمہارے بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے کہ تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی کہ تم نے میرے پیچھے پیچھے آنے کو ترک کردیا تو انہوں نے کہا ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی مَلْکِنَا کے میم میں تینوں حرکتیں درست ہیں، یعنی اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے (خلاف ورزی نہیں کی) لیکن قوم کے زیورات کا کا بوجھ جو ہم پر لاد دیا گیا تھا ہم نے اس کو آگ میں ڈال دیا یا حَمَلْنَا یعنی فرعون کی قوم (قبط) کے زیورات کو بوجھ جس کو بنی اسرائیل نے قبطیوں سے عید کے موقع پر عاریتاً لے لیا تھا پھر وہ انہی کے پاس رہ گیا، اور ہم نے ان زیورات کو سامری کے کہنے سے آگ میں ڈالدیا پس اسی طرح یعنی جس طرح ہم نے ڈالا تھا سامری نے بھی جو اس کے پاس ان کے زیورات تھے اور وہ مٹی جو اس نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے سم کے نیچے سے لے لی تھی (آئندہ) مذکور طریقہ کے مطابق ڈالدی پھر اس نے ان لوگوں کے لئے ایک بچھڑا بنایا یعنی زیورات کا قالب (ڈھانچہ) بنایا کہ اس کے لئے گوشت اور خون بھی تھا اور اس کی بیل کے مانند آواز تھی یعنی سنی جانے والی آواز اور یہ انقلاب اس مٹی کی وجہ سے ہوا جس کی تاثیر حیات تھی جس میں اس کو ڈال دیا جائے اور اس مٹی کو سامری نے قالب کو ڈھالنے کے بعد اس کے منہ میں ڈالدیا چناچہ سامری اور اس کے متبعین نے کہا یہ ہے تمہارا اور موسیٰ کا خدا موسیٰ تو اپنے خدا کو یہاں بھول گئے اور اس کو تلاش کرنے چلے گئے کیا وہ لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ وہ بچھڑا ان کی کسی بات کو نہیں لوٹا سکتا یعنی ان کی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا ألاَّ (یہ أنْ اور لا سے مرکب ہے أن مخففہ عن التقیلہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے یعنی أنَّہٗ اور نہ ان کے کسی ضرر کا مالک ہے کہ اس کو دفع کرسکے اور نہ نفع کا کہ اس کو حاصل کرسکے پھر کس طرح اس کو معبود بنایا جاسکتا ہے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
انہ یعطیکم التوراۃ یہ جملہ یَعِدُکم کا مفعول ثانی ہے اور کُم مفعول اول ہے اور وَعْدًا حَسَنًا مفعول مطلق ہے اَفَطَالَ عَلَیْکُمْ العَھْدُ گؤ پرستی اور میری مخالفت پر تم کو کس چیز نے آمادہ کیا ؟ یا تو طویل زمانہ تک میری مفارقت نے حالانکہ ایسا نہیں ہوا یا اس بات نے کہ تمہارا مقصد ہی غضب الٰہی کو دعوت دینا ہے ؟ یہ بھی نامناسب ہے اس لئے کسی عاقل کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ غضب الٰہی کو دعوت دے فَاَخْلَفْتُمْ مَوْعِدِی حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے یہ وعدہ لیا تھا کہ تم میرے پیچھے پیچھے کوہ طور پر آجاؤ گے مگر قوم نے وعدہ خلافی کی اور گؤپرستی میں مبتلا ہوگئی۔ قولہ : عَلٰی وَجْہِ الآتی اس جملہ کا تعلق ومِنَ التُّرَابِ سے ہے ای اَلْقی الترابَ علیٰ وَجْہِ الآتی اور وجہ آتی یہ ہے وَاَلْقٰی فیھا اَن آخذ قُبْضَۃً مِن تُرابٍ فَاَخْرَجَ اس کا عطف وَاَضَلَّھُمْ السامِری پر ہے یہ خدا کا کلام ہے۔
قولہ : جَسَدًا یہ العجل سے حال ہے ای اَخْرَجَ لھم صورۃَ عجلٍ حَالَ کَوْنِھَا جَسَدً ۔ قولہ : لَحْمًا ودَمًا کا اجافہ اس بات کو بتانے کے لئے کیا ہے کہ جَسَد کہتے ہیں اس کو جو گوشت پوست سے بنا ہوا خُوَارٌ بیل کی آواز کو کہتے ہیں یعنی یہ انقلاب ماہیت اس مٹی کے ڈالنے کی وجہ سے ہوئی، بسبب التراب ای بسبب وضع التراب مضاف محذوف ہے مفسر علام کا ووضعہٗ کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ سبب سے پہلے وضع مضاف محذوف ہے۔
قولہ : فَنَسِیَ اس کا فاعل موسیٰ بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ مفسر نے صراحت کردی ہے لہٰذا یہ سامری کا کلام ہوگا اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کو یہاں بھول گئے ہیں اور اس کو کوہ طور پر تلاش کرنے گئے ہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے نَسِیَ کا فاعل سامری ہو اس صورت میں یہ خدا کا کلام ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ سامری اپنے رب کو بھول گیا جس کی وجہ سے اس نے یہ حرکت کر ڈالی، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سامری اس بات پر استدلال کرنا بھول گیا کہ بچھڑا معبود نہیں ہوسکتا اور اس کی دلیل آئندہ آنے والا قول اَفَلاَ یَرَوْنَ اَلاَّ یَرْجِعُ اِلَیْھِمْ قولاً ہے اَلاَّ اصل میں اَنَّہٗ لایَرْجعُ تھا، اَنَّ کو مخفف کرکے اَنْ کیا اور ہٗ ضمیر اسم کو حذف کردیا اور نون کو لام میں ادغام کردیا اَلاَّ ہوگیا بعض حضرات نے یرجع نصب کے ساتھ پڑھا ہے مگر اس میں ضعف ہے اس لئے کہ اَن ناصبہ افعال یقین کے بعد واقع نہیں ہوتا اور رویتہٗ پہلی صورت میں علمیہ ہے اور دوسری صورت میں بصریہ فَفْعَہٗ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ مضاف محذوف ہے۔ قولہ : جَلْبَہٗ اس سے بھی مضاف محذوف کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ قولہ : لایملک لَھُمْ ضَرًّا وَّلا نَفْعًا اس کا عطف لایَرْجعُ پر ہے۔
تفسیر و تشریح
الم یعدکم ربکم وعدا حسنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رنج و غم کے عالم میں واپس آکر قوم سے خطاب کیا اولاً ان کو خدا کا وعدہ یاد دلایا جس کے لئے وہ قوم لیکر طور کی جانب ایمن کی طرف چلے تھے، کہ یہاں پہنچ کر اللہ اپنی کتاب ہدایت عطا فرمائیں گے جس کے ذریعہ دین و دنیا کے تمام مقاصد پورے ہوں گے۔
افطال علیکم العھد یعنی اللہ کے اس وعدہ پر کوئی بڑی مدت بھی نہیں گزری کہ جس میں تمہارے بھول جانے کا احتمال ہو یا زمانہ دراز تک وعدہ کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہوگئے ہوں اس لئے مجبوراً دوسرا طریقہ اختیار کرلیا ہو۔
ام اردتم أن یحل الخ یعنی بھول جانے یا انتظار سے تھک جانے کا کوئی احتمال نہیں تو اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ تم نے خود ہی اپنے قصد و اختیار سے اپنے رب کے غضب کو دعوت دی، اور مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کر بیٹھے قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا تھا وہ یا تو یہ تھا کہ ہم آپ کی واپسی تک اللہ کی عبادت اور اس کی طاعت پر قائم رہیں گے یا یہ وعدہ تھا کہ ہم آپ کے پیچھے پیچھے کوہ طور پر آرہے ہیں لیکن راستہ میں رک کر گوسالہ پرستی شروع کردی۔
قالوا ما اخلفنا الخ لفظ مَلْک دونوں کے معنی تقریباً ایک ہی ہیں، مطلب یہ ہے کہ ہم نے گوسالہ پرستی اپنے قصد و اختیار سے نہیں کی بلکہ سامری کے عمل کو دیکھ کر ہم مجبور ہوگئے، ظاہر ہے کہ ان کا یہ دعویٰ غلط اور بےبنیاد تھا وہ خود اپنے ارادہ اور اختیار ہی سے گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوئے تھے، سامری نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ موسیٰ تم سے تیس دن کا وعدہ کرکے گئے تھے اب ان کو زیادہ دن ہوگئے معلوم ہوتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) تم سے ناراض ہوگئے ہیں اور ناراضی کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تم جو قبطیوں کا زیور عاریتاً لیکر آئے ہو اور واپس نہیں کیا یہ ان کو پسند نہیں ہے اس لئے کہ تمہارے لئے یہ مال بالکل حرام ہے لہٰذا تم ایسا کرو کہ یہ مال تم مجھے دیدو میں اس کو جلا دوں گا چناچہ سب نے تمام زیورات سامری کو دیدئے اس نے وہ تمام زیورات ایک گڑھے میں ڈال کر پگھلا دئے اپنے پاس جو زیورات تھے وہ بھی اسی میں ڈال دئے اور ساتھ ہی وہ مٹی بھی ڈالدی جو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے پیر سے اٹھائی تھی جس کی وجہ سے وہ بچھڑا بولنے لگا اور اسرائیلیوں نے اس کی پرستش شروع کردی۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی میں تاخیر کی اصل یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اولاً تیس روزے کوہ طور پر آکر رکھنے کے لئے کہا تھا پھر ان میں دس دن کا اور اضافہ کردیا جس کی وجہ سے واپسی میں تاخیر ہوگئی۔
ولکنا حملنا۔۔۔ اَوْزار، وِزْرٌ کی جمع ہے جس کے معنی بوجھ کے ہیں انسان کے گناہ بھی قیامت کے روز اس پر بوجھ بنا کر لادے جائیں گے اس لئے گناہ کو وزر کہا گیا ہے اور زینۃٌ سے مراد زیور اور قوم سے مراد قبطی، ان زیورات کو اوزار (گناہ) اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ زیورات عاریتاً لئے گئے تھے ان کے مالکوں کو واپس کرنے چاہیے تھے چونکہ واپس نہیں کئے اس لئے ان کو وزر (گناہ) کہا گیا ہے، حدیث فتون میں ہے کہ ہارون (علیہ السلام) نے بھی لوگوں کو زیورات کے گناہ ہونے پر متنبہ کیا تھا، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سامری نے اپنا مقصد نکالنے کے لئے وہ ایک گڑھے میں ڈلوا دیا تھا تاکہ اس کو پگھلا کر بچھڑا بنا سکے۔
مسئلہ : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو کافر نہ مسلمانوں کا ذمی ہے اور نہ ان سے کوئی معاہدہ ہے جن کو فقہاء کی اصطلاح میں کافر حربی کہتے ہیں ان کے اموال تو مسلمانوں کے لئے مباح الاصل اشیاء کی طرف حلال ہیں پھر ہارون (علیہ السلام) نے ان کو وزر کیے قرار دیا ؟ اور ان کو گڑھے میں ڈالنے کا حکم کیسے دیا ؟ اس کا ایک جواب تو مشہور ہے جو عامۃ المفسرین نے لکھا ہے کہ کفار حربی کا مال لینا اگرچہ مسلمان کے لئے جائز ہے مگر وہ مال مال غنیمت کے حکم میں ہے اور مال غنیمت کا حکم شریعت اسلام سے پہلے یہ تھا کہ کافروں کے قبضہ سے نکال لینا تو جائز تھا مگر مسلمان کے لئے اس کا استعمال جائز نہیں تھا مگر اس مال کو جمع کرکے ٹیلہ وغیرہ پر رکھ دیا جاتا تھا اور آسمانی آگ اس کو آکر جلا جاتی تھی یہ ان کے جہاد کے مقبول ہونے کی علامت تھی، آنحضرت ﷺ کی شریعت میں مال غنیمت کو حلال کردیا گیا جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں صراحت موجود ہے۔
فائدۂ عظیمہ : فقہی نکتہ نظر سے اس مسئلہ کی تحقیق امام محمد (رح) کی کتاب سیر اور اس کی شرح سرخسی میں بیان کی گئی ہے وہ بہت اہم اور اقرب الی الصواب ہے وہ یہ کہ کافر حربی کا مال بھی ہرحال میں مال غنیمت نہیں ہوتا بلکہ اس کی شرط یہ ہے کہ باقاعدہ جہاد و قتال کے ذریعہ بزور شمشیر ان سے حاصل کیا جائے اسی لئے شرح سیر میں مغالبہ بالمحار بہ قرار دیا ہے اور اگر جہاد و قتال کے ذریعہ حاصل نہ ہو اس کو مال غنیمت نہیں کہیں گے بلکہ اس کو مال فئ کہتے ہیں مگر اس کے حلال ہونے میں ان کافروں کی رضا اور اجازت شرط ہے جیسے کوئی اسلامی حکومت ان پر کوئی ٹیکس عائد کر دے اور وہ راضی ہو کر یہ ٹیکس دیدیں تو یہ حلال ہوگا۔
مذکورہ صورت میں قبطیوں سے لئے ہوئے مال مذکورہ دونوں قسموں میں سے ایک قسم میں بھی داخل نہیں ہیں، کیونکہ یہ عاریتاً لئے گئے تھے اس لئے اسلامی شریعت کی رو سے بھی یہ مال ان کے لئے حلال نہ تھا۔
ہجرت کے موقع پر آپ ﷺ کے پاس اہل مکہ کی بہت سی امانتیں تھیں رسول اللہ ﷺ نے ان کی امانتوں کو واپس کرنے کے لئے حضرت علی ؓ کو مکہ میں چھوڑا تھا اور حکم دیا تھا کہ جس کی امانت ہے اس کو واپس کردی جائے، اس مال کو آپ ﷺ نے مال غنیمت کے تحت حلال قرار نہیں دیا۔
فقذفنٰھا یعنی ہم نے ان زیورات کو پھینک دیا، حدیث فتون کی رو سے یہ عمل حضرت ہارون (علیہ السلام) کے حکم سے کیا گیا اور بعض روایات میں ہے کہ سامری نے ان کو بہکا کر زیورات گڑھے میں ڈالوا دئیے، دونوں باتیں جمع ہوجائیں یہ بھی کوئی مستبعد نہیں
فکذلک القی السامری حدیث فتون میں مذکور عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے جب بنی اسرائیل کے سب زیورات گڑھے میں ڈلوا دئیے اور اس میں آگ جلوا دی تو سامری بھی مٹھی بند کئے ہوئے پہنچا اور حضرت ہارون (علیہ السلام) سے کہا میں بھی ڈالدوں، حضرت ہارون (علیہ السلام) نے یہ سمجھا کہ اس کے ہاتھ میں بھی کوئی زیور ہوگا فرمایا ڈال دو ، اس وقت سامری نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے کہا میں جب ڈالوں گا کہ جب آپ یہ دعا کردیں کہ جو کچھ میں چاہتا ہوں وہ پورا ہوجائے ہارون (علیہ السلام) کو اس کا کفر و نفاق معلوم نہیں تھا دعا کردی، اب جو اس نے اپنے ہاتھ سے ڈالا تو وہ زیور کے بجائے مٹی تھی جس کو اس نے جبرائیل امین کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے یہ حیرت انگیز واقعہ دیکھ کر اٹھا لیا تھا کہ جس جگہ اس کا قدم پڑتا ہے وہیں مٹی میں نشو و نما اور آثار حیات پیدا ہوجاتے ہیں جس سے اس نے یہ سمجھا کہ اس مٹی میں آثار حیات رکھے ہوئے ہیں شیطان نے اس کو اس پر آمادہ کردیا کہ اس کے ذریعہ ایک بچھڑا زندہ کرکے دکھلا دے، بہرحال مٹی کی یا حضرت ہارون (علیہ السلام) کی دعا کی تاثیر سے یہ بچھڑا بن کر بولنے لگا، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ سامری نے پگھلے ہوئے زیورات کا بچھڑے کا ایک ڈھانچہ بنادیا تھا اس کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی ڈالنے کی وجہ سے اس میں جان پیدا ہوگئی اور وہ بیلوں کی طرح بولنے لگا، یہ روایات قرطبی میں مذکور ہیں اور ظاہر ہے کہ اسرائیلی روایات ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا مگر ان کو غلط کہنے کی بھی دلیل موجود نہیں۔
Ayahs 20:90–104آیت نمبر 90 تا 104
ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا زائدہ ہے سو کیا تو نے میرے کہنے کے خلاف کیا ؟ غیر اللہ کی بندگی کرنے والوں میں مقیم رہ کر ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی میری ڈاڑھی نہ پکڑ یا ابن اُمِّ میم پر کسرہ اور فتحہ کے ساتھ ہے اور اُمِّ سے مقصد اُمِّی ہے (ی حذف کردی گئی ہے یعنی منادی مرخم ہے) اور یا اُمّ کا ذکر کرنا یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کو زیادہ مہربان کرنے والا ہے، نہ یہ کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ماں شریک (اخیافی) بھائی تھے اور (موسیٰ علیہ السلام) نے اپنے بائیں ہاتھ سے ڈاڑھی پکڑلی تھی اور نہ سر کے (بال) پکڑ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے غصہ میں اپنے داہنے ہاتھ سے ان کے سر کے بال پکڑ لئے تھے مجھے تو یہ اندیشہ ہوگیا تھا کہ اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو ضروری بات تھی کہ ایک جماعت جس نے گوسالہ پرستی نہیں کی تھی میرے ساتھ آئی تو آپ کہتے ہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا اور آپ مجھ پر غصہ ہوتے اور تو نے میری بات کا لحاظ نہ رکھا اس معاملہ میں جو تو نے دیکھا (یعنی میں اصلاح کے لئے کہہ کر گیا تھا اور تو نے قوم میں تفریق ڈالدی) (پھر موسیٰ (علیہ السلام) اصل مجرم) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے تو سامری نے جواب دیا مجھے وہ چیز نظر آئی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تَبْصُرُوْا یا اور تا کے ساتھ ہے یعنی جو بات میرے علم میں آئی دوسروں کے علم میں نہیں آئی پھر میں نے اس فرستادے (یعنی جبرائیل کے گھوڑے کے) نقش قدم سے ایک مٹھی (خاک) بھر لی پھر میں نے وہ مٹھی خاک اس ڈھلے ہوئے بچھڑے کے قالب میں ڈالدی اور میرے دل کو یہی بات پسند آئی اور میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ میں مذکورہ خاک میں سے ایک مٹھی خاک لوں اور اس ایک مٹھی خاک کو اگر بےجان چیز میں ڈالدوں تو اس میں جان پڑجائے گی اور میں نے تیری قوم کو دیکھا تھا کہ اس نے تجھ سے مطالبہ کیا تھا کہ تو ان کے لئے کوئی معبود بنا دے تو میرے دل نے مجھے سمجھایا کہ یہ بچھڑا ان کا معبود ہوسکتا ہے موسیٰ نے فرمایا تو ہمارے درمیان سے چلا جا دنیوی زندگی میں تیری یہ سزا ہے کہ تو زندگی بھر ہر اس شخص سے جس کو تو دیکھے گا کہے گا کہ مجھے نہ چھونا یعنی میرے قریب نہ آنا چناچہ وہ جنگلوں میں بھٹکتا پھرتا تھا اور جب وہ کسی کو چھو لیتا تھا یا اسے کوئی چھو لیتا تھا تو دونوں بخار میں مبتلا ہوجاتے تھے اور ایک وعدہ تیرے لئے عذاب کا اور ہے تو ہرگز نہ بچے گا تخلفہٗ لام کے کسرہ کے ساتھ یعنی تو اس سے نہ بچ سکے گا، اور فتحہ لام کے ساتھ یعنی تجھ کو اس عذاب تک ضرور پہنچایا جائے گا اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ کہ جس کی عبادت پر تو جما ہوا تھا ظَلْتَ اس کی اصل ظَلِلْتَ دو لاموں کے ساتھ تھی اول ان میں کا مکسور جس کو تخفیفاً حذف کردیا گیا اور معنی اس کے دُمْتَ کے ہیں یعنی تو اس کی بندگی میں ہمیشہ لگا رہا اس کو آگ میں جلا دیں گے اور پھر ہم اس کو ریزہ ریزہ کرکے دریا میں اڑا دیں گے یعنی اس کو ہم دریا کی فضا میں اڑا دیں گے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ذبح کرنے کے بعد ایسا ہی کیا پس تمہارا معبود (حقیقی) تو اللہ ہی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا علم ہر شئ کو حاوی ہے عِلْمًا تمیز ہے فاعل سے منقول ہوئی ہے (اور تقدیر عبارت یہ ہے) ای وَسِعَ علمُہٗ کلَّ شئٍ یعنی جس طرح ہم نے آپ کو یہ قصہ سنایا ہم اسی طرح آپ کو سابقہ امتوں کی خبریں بھی سناتے ہیں اور ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ یعنی قرآن دیا ہے اور جو شخص اس سے اعراض کرے گا اس پر ایمان نہ لائے گا تو وہ قیامت کے دن گناہوں کا بڑا بھاری بوجھ اٹھائے گا اور وہ گناہوں کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بوجھ ان کے لئے قیامت کے روز برا ہوگا حملاً تمیز ہے جو کہ ساء کی ضمیر کی تفسیر کر رہی ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے اس کی تقدیر وِزْرَھم ہے اور (لھم) میں لام بیانیہ ہے اور یَوْمَ یُنفَخُ فی الصُّورِ یومَ القیامَۃِ سے بدل ہے (اور صور سے مراد) سینگ ہے اور نفخ سے مراد نفخۂ ثانیہ ہے اور ہم اس روز مجرموں کافروں کو جمع کریں گے اس حال میں کہ وہ گربہ چشم ہوں گے یعنی ان کے چہروں کے سیاہ ہونے کے ساتھ ان کی آنکھیں بھی کنجی (نیلی) ہوں گی آپس میں خفیہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوں گے کہ تم لوگ دنیا میں صرف دس دن رات رہے ہوگے ہم خوب جانتے ہیں قیام کی اس (مدت) کو جس قیام کی مدت کے بارے میں یہ دس دن کی بات کہیں گے یعنی بات ایسی نہیں ہے جو یہ کہیں گے جبکہ ان میں کا اس معاملہ میں سب سے زیادہ صائب الرائے یوں کہے گا کہ تم تو صرف ایک ہی روز (قبر میں) رہے ہو یہ لوگ دنیا میں اپنے قیام کی مدت کو نہایت قلیل سمجھیں گے جب آخرت میں اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کریں گے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : ولقد قال لھم ہارون ولقد میں لام قسمیہ ہے ای وَاللہِ لَقَد نَصَحَ ہارون ونَبَّہ علی حقیقۃ الأمر من قبل رجوع موسیٰ اِلَیھِمْ ۔ قولہ اِنَّما فَتِنْتُمْ بہٖ یعنی تم بچھڑے کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا کر دئیے گئے ہو اِنّما کلمہ حصر سے جو حصر مستفاد ہو رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بچھڑا تمہارے فتنہ کا سبب بنا ہے، نہ کہ ہدایت کا، یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بچھڑے کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہوئے ہو نہ کسی اور وجہ سے رَبّکم الرحمٰن یہاں خاص طور پر رحمٰن کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لایا گیا کہ معلوم ہوجائے کہ اگر صدق دل سے توبہ کرلی جائے تو وہ توبہ قبول کرلیتا ہے اس لئے کہ وہ رحمٰن ہے۔
قولہ : اَنْ لاَّ تَتَّبِعَنِیْ لا زائدہ ہے جیسا کہ اَن لا تَسْجُدَ میں لا زائدہ ہے تاکید کے لئے ہے اَنْ لاّ تَتَّبَعَنِیْ ، مَنَعَ کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اور مَنَعَکَ میں کاف مفعول اول ہے اِذ رَأیْتَھُمْ منع کا ظرف ہے ای اَیُّ شئٍ مَنَعَکَ حِیْنَ رُوْیَتِکَ لِضَلاَلِھِمْ مِنْ اِتباعیِ ۔ قولہ : اَفَعَصَیْتَ میں ہمزہ استفہام انکاری توبیخ کے لئے ہے اور فاعاطفہ مقدر پر عطف کے لئے ہے۔ قولہ : وکان اَخَذَ شعرہٗ ای شعر راسِہٖ ولم ترقب کا عطف ان تقول پر ہے یعنی اس ڈر سے کہ تو کہے گا کہ میں نے قوم میں تفریق کردی اور اس ڈر سے کہ تو کہے گا کہ تو نے میری بات کا پاس لحاظ نہیں کیا۔
قولہ : بالیاء ای لم یبصُرُوْا ای بنواسرائیل وبالتاء ای اَنْتَ وقومکَ ۔ قولہ : المصاغ الاصح المصوغ کما فی بعض النسخ۔ قولہ : فَقَبَضْتُ قبضًا معنی مٹھی بھرنا، اور بعض نسخوں میں فَقَبْضتُ قبصًا صاد مہملہ کے ساتھ ہے ثٹ کی بھرنا۔ قولہ : من اثر الرسول ای من محل اثر حافر فرس الرسول یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے نقش قدم کی جگہ سے۔ قولہ : وَاُلقِیٰ فیھا اس کا سَوَّلَتْ لِیْ نفسیِ پر عطف تفسیری ہے یعنی میرے نفس نے مجھے یہ بات سمجھائی اور میرے قلب میں یہ بات ڈالی گئی کہ میں اس مٹی میں سے ایک چٹکی اس میں ڈال دوں تو اس بےجان میں جان پڑجائے گی۔
قولہ : لا مِسِاس یہ باب مفاعلہ کا مصدر منصوب ہے یعنی نہ کوئی تجھے چھوئے اور نہ تو کسی کو چھوئے۔ قولہ : وَاِنَّ لَکَ مَوْعِدًا مَوْعِدًا مصدر ہے اور معنی میں وَعْدًا کے ہے۔ قولہ : نَنْسِفَنَّہٗ جمع متکلم مضارع بانون تاکید ثقیلہ ہم اس کو ہوا میں ضرور اڑا دیں گے (ض) ۔ قولہ : اِنّما اِلٰھُکم اللہ الخ یہ جملہ مستانفہ ہے اور یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا اختتام ہے۔ قولہ : کذٰلِکَ نقص عَلَیکَ الخ یہ بھی جملہ مستانفہ ہے یہ حضور ﷺ کی تسلی اور تکثیر معجزات کے لئے ہے کَذٰلِکَ نقُصُ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے ای نقص قصصًا کذٰلک۔ قولہ : مَنْ اَعْرَضَ عنہٗ کی تفسیر فلم یومن بہٖ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں اعراض سے مراد انکار ہے۔
قولہ : فیہِ ای فِی عذاب الوزر اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : خالدین یحمل کی ضمیر سے حال ہے جو کہ مَن کی طرف لوٹ رہی ہے یحمل میں لفظ اور خالدین میں مَن کے معنی کی رعایت سے جمع کا صیغہ لایا گیا ہے قولہ : زُرْقًا یہ المجرمین سے حال ہے ازرق کی جمع ہے صفت مشبہ ہے اس کے معنی ہیں گربہ چشم جسے کنجا کہتے نیلی آنکھوں والا، یتخافتون زُرقًا کی ضمیر سے حال ہے۔ قولہ : اَعْدَلُھُمْ اَعْدَل سب سے زیادہ صحیح رائے رکھنے والا، یہ صحیح رائے اقرب الی الصواب کے اعتبار سے نہیں کہا ہے، بلکہ اقرب الی الہول کے اعتبار سے اَعْدَل کہا ہے یعنی اس کے قول میں اس دن کی ہولناکی کا زیادہ اظہار ہے۔
تفسیر و تشریح
ولقد قال لھم ہارون جب بنی اسرائیل گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوگئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خالفت و نیابت کا حق ادا کرتے ہوئے قوم کو بڑے حکیمانہ انداز سے سمجھایا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر تشریف لیجانے کے بعد قوم تین فرقوں میں تقسیم ہوگئی ایک فرقہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ رہا، گوسالہ پرستی کو گمراہی سمجھا ان کی تعداد بارہ ہزار بتلائی گئی ہے (کذافی القرطبی) باقی دو فرقے گوسالہ پرستی میں تو مبتلا ہوگئے مگر فرق اتنا رہا کہ ایک فرقہ نے کہا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) آکر منع کریں گے تو ہم باز آجائیں گے مگر تیسرا فرقہ گوسالہ پرستی پر اس قدر پختہ ہوگیا تھا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) بھی منع کریں گے تو ہم نہیں چھوڑیں گے بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی اسی گوسالہ کو اپنا معبود بنالیں گے ہارون (علیہ السلام) نے جب ان دونوں فرقوں کا یہ جواب سنا تو اپنے ہم عقیدہ بارہ ہزار لوگوں کو لیکر ان سے الگ تو ہوگئے مگر رہنے اور قیام کی جگہ وہی رہی گویا کہ تینوں فرقوں میں اشتراک مکانی باقی رہا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آکر اولاً تو بنی اسرائیل کو خطاب کیا جس کی تفصیل سابقہ آیات میں گزر چکی ہے پھر حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہو کر ان پر سخت ناراضی کا اظہار کیا حتی کہ ان کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ کر کھینچے اور فرمایا جب ان بنی اسرائیل کو تم نے دیکھ لیا کہ گمراہی اور شرک میں مبتلا ہوگئے تو تم نے میرا اتباع کیوں نہیں کیا ؟ اور میرے حکم کی خلاف ورزی کیوں کی ؟
ما منعک اذ رأیتھم الخ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس ارشاد کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اتباع سے مراد یہ کہ جب تم نے قوم کی حالت دیکھی تو تم کو کوہ طور پر میرے پاس آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اور بعض مفسرین نے اتباع سے یہ مراد لی ہے کہ جب بنی اسرائیل گمراہ ہوگئے تھے تو تم نے ان کا مقابلہ کیوں نہیں کیا اس لئے کہ اگر میں موجود ہوتا تو یقیناً ان سے جہاد کرتا جب تم میرے نائب اور خلیفہ تھے تو تم نے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ادب کی پوری رعایت رکھتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نرم کرنے کے لئے یا ابن اُمّ سے خطاب فرمایا اور کہا میں آپ کا بھائی ہی تو ہوں کوئی غیر یا دشمن تو نہیں ہوں اس لئے آپ پہلے میرا عذر سنیں اس کے بعد حضرت ہارون (علیہ السلام) نے عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا اِنِّی خَشِیْتُ اَنْ تقُوْلَ الخ مجھے خطرہ یہ ہوگیا کہ اگر آپ کی آمد سے پہلے ان لوگوں کے ساتھ مقابلہ و مقاتلہ کرنے پر اقدام کرتا یا ان کو چھوڑ کر بارہ ہزار ساتھیوں کو اپنے ساتھ لیکر آپ کے پاس آگیا ہوتا تو بنی اسرائیل میں تفرقہ پیدا ہو کر خانہ جنگی کی شکل پیدا ہوجاتی، اور آپ نے چلتے وقت مجھے یہ ہدایت فرمائی تھی اخلفنی فی قومی واصلح، میں اس اصلاح کا مقتضایہ سمجھا تھا کہ ان میں تفرقہ پیدا نہ ہونے دوں ممکن ہے کہ آپ کے واپس آنے کے بعد یہ سب سمجھ جائیں اور ایمان اور توحید پر واپس آجائیں، قرآن کریم میں دوسری جگہ سورة اعراف میں حضرت ہارون (علیہ السلام) کے عذر میں یہ قول بھی آیا ہے اِنّ القومَ استضعفونی وکادوا یقتلوننی یعنی بنی اسرائیل نے مجھے کمزور سمجھا اس لئے کہ میرے ساتھی دوسروں کے مقابلہ میں بہت کم تھے قریب تھے کہ مجھے قتل کردیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے اپنی ذمہ داری پوری طرح نبھائی اور قوم کو سمجھانے میں کسی مداہنت یا سستی سے کام نہیں لیا لیکن معاملہ کو اس حد تک نہیں جانے دیا کہ خانہ جنگی شروع ہوجائے، کیونکہ ہارون (علیہ السلام) کے قتل کا مطلب پھر ان کے حامیوں اور مخالفوں میں خونی تصادم ہوتا اور بنی اسرائیل دو گروہوں میں بٹ جاتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ خود موقعہ پر موجود نہیں تھے اس لئے صورت حال کی نزاکت ان کے سامنے نہیں تھی اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو سخت سست کہا لیکن پھر اصل دشمن کی طرف متوجہ ہوئے، مذکورہ دونوں عذر ایک ساتھ جمع ہوسکتے ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ عذر سنا تو ہارون (علیہ السلام) کو چھوڑ دیا اور اصل مجرم اور فساد کے بانی سامری کی طرف متوجہ ہوئے۔
قال فما خطبک یسامری اور فرمایا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے ؟ تو نے یہ حرکت کیوں کی ؟ تو سامری نے جواب دیا کہ میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی اس سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں، سامری حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو پہچانتا تھا اس لئے کہ سامری بھی اسی سال پیدا ہوا تھا جس سال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے اور وہ اسرائیلی لڑکوں کو قتل کرنے کا سال تھا، سامری کی والدہ نے جلادوں کے قتل کے ڈر سے پہاڑ کی ایک غار میں چھپا دیا تھا وہاں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کی پرورش فرمائی تھی جس کی وجہ سے سامری حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے مانوس تھا (کما فی روایت ابن عباس ؓ ملخصاً ) چناچہ جب جبرائیل (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے تو سامری نے پہچان لیا اور ان کے گھوڑے کے نقش قدم سے اس کی عجیب و غریب تاثیر دیکھ کر ایک مٹھی خاک اٹھالی اور اس کئ عجیب و غریب تاثیر سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ اگر اس کو بےجان شئ میں ڈالدیا جائے تو اس میں جان پڑجائے گی چناچہ بنی اسرائیل سے حاصل کردہ زیورات سے جو بچھڑے کا ایک ڈھانچہ (قالب) تیار کیا تھا اس کے منہ میں اس خاک میں سے ایک چٹکی خاک ڈالدی جس کی وجہ سے وہ بچھڑے کی طرح بولنے لگا، یہ پوری تفصیل روح المعانی سے ملخصاً ماخوذ ہے، اور اس تفسیر پر ظاہر پرستوں نے جو اعتراضات کئے ہیں ان سب کا جواب بھی مذکور ہے۔
فان لک فی الحیوۃ ان تقول لا مساس، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کے لئے دنیوی زندگی میں یہ سزا تجویز کی سب لوگ اس سے بائی کاٹ (مقاطعہ) کریں کوئی شخص بھی اس سے کسی قسم کا سروکار نہ رکھے، مذکورہ سزا ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے قانونی طور پر نافذ کی ہو جس کی پابندی ہر شخص پر ضروری ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعاء سے اس میں یہ کیفیت پیدا ہوگئی ہو کہ نہ وہ کسی کو چھو سکے اور نہ دوسرا اس کو چھو سکے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعاء سے اس میں یہ کیفیت پیدا ہوگئی تھی کہ اگر یہ کسی کو ہاتھ لگا دے یا کوئی دوسرا اس کو ہاتھ لگا دے تو دونوں کو بخار چڑھ جاتا تھا اس ڈر اور خوف کی وجہ سے وہ انسانوں سے دور جنگلوں میں مارا مارا پھرتا رہتا تھا جب وہ کسی شخص کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھتا تو دور ہی سے چلانے لگتا تھا لامِسَاسَ یعنی کوئی مجھے نہ چھوئے۔
لنخرقنہٗ یعنی ہم اس کو آگ میں جلا دیں گے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بچھڑا سونے چاندی کے زیورات کا ڈھلا ہوا تھا تو اس کو آگ میں جلانے کی کیا صورت ہوگی، جواب یہ ہے کہ اولاً تو خود اس بات میں اختلاف ہے کہ بچھڑے میں آثار حیات پیدا ہونے کے بعد بھی وہ چاندی سونے ہی کا رہا یا اس کی حقیقت تبدیل ہو کر گوشت پوست اور خون کا بن گیا (جیسا کہ مفسر علام کی رائے ہے) تب تو اس کے جلانے کا مطلب ظاہر ہے اور اگر وہ چاندی سونے ہی کا رہا تو اس کے جلانے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کو سوہان سے گھس کر ذرہ ذرہ کردیا جائے گا، یا کسی اکسیری (کیمیاوی) دوا کے ذریعہ اس کو خاکستر کردیا جائے گا جیسا کہ زمانہ قدیم سے سونے اور چاندی بلکہ ہر دھات کو کشتہ کرکے خاک کردی جاتی ہے۔
کذلک نقص علیک اس صورت میں اصل بیان توحید، رسالت اور آخرت کے مسائل کا ہے، انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات اسی سلسلہ میں بیان ہوئے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے اس کے ضمن میں آپ ﷺ کی رسالت کا اثبات بھی ہے اسی اثبات کا یہ حصہ بھی ہے، جو آئندہ آیات میں بیان ہوا ہے کہ ان واقعات اور قصص کا اظہار ایک نبی امی کی زبان سے خود دلیل نبوت و رسالت ہے جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کے گزرے ہوئے لوگوں کے قصے اور وارداتیں بیان فرما رہے ہیں تاکہ آپ لوگوں کو سنائیں اور وہ آپ کے لئے دلیل نبوت ثابت ہوں اسلئے کہ ہزار ہا سال پہلے کے واقعات کا علم صرف وحی الٰہی ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے خاص طور پر ایک امی شخص کو۔
Ayahs 20:105–115آیت نمبر 105 تا 115
ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی نہ ہوگی یعنی ان کی اتباع میں، مطلب یہ کہ کسی کو اتباع نہ کرنے پر قدرت نہ ہوگی اور تمام آوازیں رحمٰن کے سامنے پست ہوجائیں گئ تو تو بجز پاؤں کی آہٹ کے کچھ نہ سنے گا (یعنی) محشر کی جانب چلنے کی رگڑ کی آواز کے علاوہ جیسا کہ چلتے وقت اونٹوں کے قدموں کی آواز ہوتی ہے اس دن کسی کو سفارش فائدہ نہ دے گی، بجز اس شخص کے کہ جس کے لئے (سفارش) کی رحمٰن نے اجازت دی ہو اور اس کی بات کو پسند کیا ہوا اس طرح کہ وہ لا الٰہَ الا اللہ کہے وہ جانتا ہے آنے والے آخرت کے تمام امور کو اور دنیا کے گزرے ہوئے تمام امور کو اور اس کی معلومات کو ان کا علم احاطہ نہیں کرسکتا یعنی ذات خداوندی کا کوئی علمی احاطہ نہیں کرسکتا اور (اس دن) الحی القیوم یعنی اللہ کے سامنے تمام چہرے جھکے ہوئے ہوں گے، اور ایسا شخص تو (ہر طرح) ناکام رہے گا جو ظلم شرک لیکر آئے گا اور جس نے نیک اعمال کئے ہوں گے اور وہ مومن بھی ہوگا تو اس کو ظلم کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا بایں طور کہ اس کے گناہوں میں اضافہ کردیا جائے اور نہ نقصان کا بایں طور کہ اس کی نیکیوں میں کمی کردی جائے اور اسی طرح اس کا عطف کذٰلک نقصُّ پر ہے، یعنی ماسبق میں مذکور نازل کرنے کے مانند اس قرآن کو عربی کا قرآن نازل کیا اور اس میں ہم نے طرح طرح سے وعیدیں بیان کیں تاکہ وہ شرک سے ڈر جائیں یا یہ قرآن ان کے لئے گذشتہ قوموں کی ہلاکت سے نصیحت (کا سامان) پیدا کرے جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں سو اللہ تعالیٰ جو بادشاہ حقیقی ہے ان باتوں سے برتر ہے جو یہ مشرک کہتے ہیں اور آپ قرآن پڑھنے میں اس کے آپ پر مکمل ہونے سے پہلے جلدی نہ کیجئے یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کے نازل کرنے سے فراغت سے پہلے اور یہ دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار میرے علم میں اضافہ فرما دیجئے یعنی قرآن کے ذریعہ چناچہ جب بھی آپ پر قرآن کا کچھ حصہ نازل ہوتا ہے تو اس سے آپ کے علم میں اضافہ ہوتا اور ہم نے پہلے ہی یعنی کھانے سے پہلے آدم کو تاکیدی حکم دیا تھا کہ اس درخت سے نہ کھائیں تو آدم بھول گئے اور ہمارے عہد سے غفلت ہوگئی اور ہم نے ان کو پختہ ارادہ والانہ پایا یعنی جس چیز سے ہم نے ان کو روکا تھا (اس میں) پختہ اور صابر نہ پایا۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
نَسْفًا مصدر (ض) بکھیر کر اڑا دینا صَفْصَفًا چٹیل میدان، ہموار زمین (اسم) اَمْتًا ٹیلہ، نشیب و فراز۔ قولہ : ویسئلونک عنِ الجِبَال ای حال الجبال مضاف محذوف ہے، مفسر علام نے کیف تکون سے حذف مضاف کی طرف اشارہ کیا ہے اس لئے کہ سوال شئ سے نہیں بلکہ اس کے احوال سے ہوا کرتا ہے، بعض حضرات نے بطور استہزاء آپ ﷺ سے روز قیامت پہاڑوں کی حالت کے بارے میں سوال کیا تھا جیسا کہ ابن منذر اور ابن جریج نے کہا کہ بعض قریش نے آپ ﷺ سے معلوم کیا تھا کہ قیامت کے دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا ؟ تو اس کے جواب میں مذکورہ آیت نازل ہوئی فقل میں فاء شرط مقدر کے جواب میں ہے ای اِن سألوک فعل اس صورت میں کسی سائل کے سوال کا جواب نہ ہوگا فَیَذْرُھا کی ضمیر میں دو احتمال ہیں نمبر 1 یہ کہ جبال کی طرف راجع ہو اس صورت میں مضاف محذوف ہوگا ای ویَذَرُ مراکز الجبال نمبر 2 یہ کہ ھا ضمیر ارض کی طرف راجع ہو جو کہ صراحتاً ماقبل میں مذکور نہیں ہے مگر دلالت حال کی وجہ سے مقدر مان لیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ کے قول مَا تَرَکَ علیٰ ظھرِھَا من دابَّۃٍ قاعًا، یذرُھا کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور یَذَرُ تَصِیْرُ کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے متعدی بدومفعول ہوگا ھَا ضمیر مفعول اول ہے، قاعًا حال ہونے کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتا ہے اس صورت میں صفصفاً قاعًا کی صفت اول ہوگی اور لا تریٰ فیھا عِوَجًا قاعًا کی صفت ثانی ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔
قولہ : الداعی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی سے مراد حضرت اسرافیل ہیں جیسا کہ مفسر علام کی رائے ہے، اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہوں گے یہی قول راحج ہے البتہ نافخ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہوں گے لاَعِوَجًا لَہٗ ، لَہٗ کی ضمیر میں تین احتمال ہیں نمبر 1 مرجع اتباع مصدر محذوف ہے جو کہ یتبعون سے مفہوم ہے نمبر 2 ضمیر داعی کی طرف راجع ہے یعنی داعی کی دعوت میں کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ تمام مخلوق بآسانی سنے گی نمبر 3 کلام میں قلب ہے اور تقدیر عبارت یہ ہے لاعِوَج لھم عنہٗ ۔ قولہ : ھمسًا ھمس پست آواز۔ قولہ : اِلاَّ مَنْ اَذِنَ لَہٗ الرحمن اس میں تین صورتیں ہیں نمبر 1 مَنْ منصوب ہے تَنْفَعُ کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے نمبر 2 محل میں رفع کے ہے اور شفاعۃ سے بدل ہے اس صورت میں حذف مضاف ضروری ہوگا، تقدیر عبارت یہ ہوگی لاتنفع الشفاعۃ اِلا شفاعۃُ اَذِنَ لہٗ نمبر 3 شفاعۃ سے استثناء ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا اس صورت میں مستثنیٰ متصل اور منقطع دونوں ہوسکتا ہے۔ قولہ : لایَعلمون مفسر علام نے اس کلمہ سے اشارہ کردیا کہ علماً مفعول مطلق ہے اور یُحِیْطون یعلمون کے معنی میں ہے ای لا یعلمون علمًا اور اگر یحیطون اپنے معنی میں ہو تو علمًا نسبت سے تمیز بھی ہوسکتا ہے۔
قولہ : وَعَنَتْ (ن) عَنْوًا ذلیل ہونا پست ہونا۔ قولہ : وَقد خَابَ حال بھی ہوسکتا ہے اور جملہ مستانفہ بھی۔ قولہ : ھَضْمًا (ض) ھَضْمًا توڑنا، کم کرنا۔ قولہ : کذٰلک اَنْزَلناہٗ کاف مصدر محذوف کی صفت ہے اَیْ انزلناہٗ اِنْزَالاً مثلَ ذٰلِکَ ۔ قولہ : عَزْمًا ای جزمًا پختہ ارادہ عزماً ، نَجِدْ بمعنی نَعْلَمْ کا مفعول ہے۔ قولہ : لَہٗ یا تو عَزْمًا سے حال ہے یا نَجِدْ سے متعلق ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ آیت کے معنی لم نجد لہٗ قصداً کے ہیں، یعنی قصداً نہیں کھایا بلکہ نسیاناً کھایا۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات : سورة طہٓ میں اصل بیان توحید و رسالت کا ہے انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات اس سلسلہ میں بیان ہوئے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ تو بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے اور اس کے ضمن میں رسالت محمدیہ ﷺ کا اثبات بھی ہے، اسی اثبات رسالت محمدیہ ﷺ کا یہ حصہ ہے جو ان آیات میں بیان ہوا ہے اس لئے کہ ان واقعات اور قصص کا اظہار جو ہزار ہا سال پہلے ہوچکے ہیں ایک امی کی زبان سے دلیل نبوت نہیں تو اور کیا ہے ؟
ویسئلونک عن الجبال اے نبی بعض لوگ قیامت کا حال سن کر آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں اڑا دیگا یعنی جن پہاڑوں کو تم بہت زیادہ مضبوط اور مستحکم سمجھ رہے ہو میرے رب کی قدرت کے سامنے ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور زمین کو ایسا ہموار اور صاف کر دے گا کہ اس میں کہیں نشیب و فراز نہ رہے گا، اور خوف اور دہشت کے مارے لوگوں کی آوازیں دب جائیں گی اور قدموں کی آہٹ کے علاوہ سنائی نہیں دے گی، ایسے ہولناک وقت میں کسی کی شفاعت بھی کام نہ آئے گی ہاں البتہ اللہ تعالیٰ جس کو شفاعت کی اجازت دیدیں اور جس کے لئے دیدیں تو شفاعت سے فائدہ ہوسکتا ہے۔
ولا تعجل بالقرآن، صحیح حدیث میں حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ابتداء وحی میں جب جبرائیل امین کوئی آیت لیکر آتے تھے اور آپ ﷺ کو سناتے تو آپ ان کے ساتھ آیت کو پڑھنے کی کوشش کرتے کہیں ایسا نہ ہو کہ یاد سے نکل جائے اس میں آپ کو مشقت زیادہ ہوتی تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آپ کی سہولت کے لئے فرمایا آپ کو پڑھنے میں جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ زبان کو حرکت دینے کی ضرورت ہے یاد کرا دینا ہماری ذمہ داری ہے آپ تو صرف اطمینان سے سنا کیجئے اور یہ دعا کیا کیجئے کہ اے میرے پروردگار آپ میرے علم میں اضافہ فرما دیجئے، آپ ﷺ کی مخصوص دعاؤں میں سے ایک یہ بھی ہے اَللّٰھُمَّ اَنْفَعْنِیْ بِمَا عَلَّمْتَنِیْ وَعَلِّمْنِیْ بِمَا یَنْفَعُنِیْ وزِدْنِی عِلْمًا والحمدُ للہِ علیٰ کلِّ حالٍ (ابن ماجہ)
ولقد عھدنا الیٰ آدم یہاں عَھِدْنا اَمَرْنَا یا وَصَّیْنَا کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے آدم (علیہ السلام) کو تاکیدی طور پر بتادیا تھا کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے اور فرمایا دیکھو اس درخت کے قریب بھی مت جانا کھانا تو درکنار، باقی پوری جنت کے باغات اور نعمتیں تمہارے لئے کھلی پڑی ہیں ان کو جس طرح چاہو استعمال کرتے رہو، مگر آدم (علیہ السلام) بھول گئے، ان میں ارادہ کی پختگی نہ پائی گئی، یہاں نسیان سے مراد ترک ہے جو کہ نسیان کے لازم معنی ہیں اس لئے نسیان جس کو بھول کہتے ہیں اس پر مواخذہ نہیں ہوتا، آپ ﷺ نے بھی فرمایا ہے رُفِعَ عَنْ اُمتی الخطاءُ والنِّسْیان اور قرآن کریم میں بھی فرمایا گیا ہے لا یکلّفُ اللہُ نفسًا اِلاَّ وُسْعَھَا مگر یہاں نسیان سے یہ معروف نسیان مراد نہیں ہے بلکہ یہاں مراد بیداری مغزی سے کام نہ لینا اور ان اسباب کا اختیار نہ کرنا ہے جن کو اختیار کرکے انسان بھول اور خطاء سے بچ سکتا ہے، انبیاء (علیہم السلام) چونکہ حق تعالیٰ کے خاص مقربین ہوتے ہیں ان سے اتنی بات پر مواخذہ ہوسکتا ہے کہ ان اسباب اختیار یہ سے کیوں کام نہیں لیا جن کے ذریعہ اس بھول سے بچ سکتے تھے یہ بات اگرچہ کوئی جرم عظیم نہیں ہے مگر بقول حضرت جنید بغدادی (رح) حسنات الابرار سیئات المقربین صالحین اور نیک لوگوں کے بہت سے نیک اعمال مقربان بارگاہ الٰہی کے حق میں سیئات اور لغزش قرار دی جاتی ہے۔
آپ آدم (علیہ السلام) کا یہ واقعہ اول تو قبل نبوت کا ہے جس میں کسی گناہ کا صدور انبیاء سے بعض علماء اہل سنت کے نزدیک عصمت انبیاء کے خلاف نہیں دوسرے یہ درحقیقت بھول ہے جو گناہ نہیں مگر حضرت آدم (علیہ السلام) کے مقام بلند کے لحاظ سے اس کو بھی ان کے حق میں لغزش قرار دیا گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب بھی ہوا اور ان کو متنبہ کرنے کیلئے اس لغزش کو عصیان سے تعبیر کیا گیا جیسا کہ آئندہ آئے گا۔ دوسرا لفظ عزم ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَمْ نجد لہٗ عزماً عزم کے معنی پختہ ارادہ کے ہیں آدم (علیہ السلام) حکم ربانی پر عمل کرنے کا پختہ ارادہ کئے ہوئے تھے مگر شیطانی وسوسہ کی وجہ سے اس قصد کی مضبوطی میں فرق آگیا ان میں بغاوت اور سرکشی کا جذبہ نہیں تھا، یہ بھول اور ضعف ارادہ سے ہونے والی غلطی تھی جو کہ عصمت اور کمال نبوت کے منافی نہیں ہے اس لئے ایسی غلطی کے بعد انسان فوراٍ نادم اور شرمندہ ہو کر خدا کی طرف رجوع ہوجاتا ہے چناچہ حضرت آدم (علیہ السلام) جب متنبہ ہوئے تو فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور میں جھک گئے اور اس قدر ندامت کے آنسو بھائے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ معاف فرما دیا بلکہ نبوت و رسالت جیسے بلند مقام پر بھی فائز فرما دیا۔
فائدہ : حضرت علی ؓ نے فرمایا ہے کہ دس چیزیں نسیان پیدا کرتی ہیں نمبر 1 غم کی کثرت (2) گدی پر پچھنے لگوانا (3) ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا (4) کھٹے سیب کھانا (5) دنیا کا (بکثرت) استعمال (6) چوہے کا جھوٹا استعمال کرنا (7) قبر کے کتبات پڑھنا (8) مصلوب کو دیکھنا (9) تارکول لگے ہوئے دو اونٹوں کے درمیان چلنا (10) جوں کو زندہ چھوڑنا (تم کلام علی ؓ) واعلم مِن اشد اسباب النسیان العصیان فنسأل اللہ العصمۃ والحفظ (روح البیان)