20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 20:55–70

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین میں سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھلائیں مگر وہ تکذیب اور انکار ہی کرتا رہا

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ہم پھر تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو نہ تو ہم اس کے خلاف کریں گے اور نہ تم (اور یہ مقابلہ) ایک ہموار میدان میں (ہوگا)

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ آپ کے لئے یوم زینت کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

تو فرعون لوٹ گیا اور اپنا سامان جمع کر کے پھر آیا

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے ان (جادوگروں سے کہا) ہائے تمہاری کمبختی خدا پر جھوٹ افترا نہ کرو کہ وہ تمہیں عذاب دے فنا کر دے گا اور جس نے افترا کیا وہ نامراد رہا

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے شائشسہ مذہب کو نابود کردیں

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

تو تم (جادو کا) سامان اکٹھا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ اور آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

بولے کہ موسیٰ یا تو تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم اپنی چیزیں پہلے ڈالتے ہیں

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا نہیں تم ہی ڈالو (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسیٰ کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان میں) ادھر ادھر دوڑ رہی ہیں

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

(اس وقت) موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی غالب ہو

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں اور جادوگر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

(القصہ یونہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لائے

آیت نمبر 55 تا 70 ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟ اچھا تو اب ہم بھی تیرے مقابلہ میں ایسا ہی جادو لائیں گے جو اس کا مقابلہ کرے گا، سو ہمارے اور اپنے درمیان اس کے لئے وقت مقرر کرلے جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں اور نہ تم کرو ایک ہموار میدان میں مکاناً منصوب ہے حرف جار فی کے حذف کرنے کی وجہ سے سُوًی سین کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ ہے یعنی درمیان میں کہ طرفین سے آنے والے کی مسافت برابر ہو تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وعدہ تمہارے جشن کا دن ہے جو کہ ان کی عید کا دن ہے اس دن میں وہ زینت کرتے ہیں اور جمع ہوتے ہیں اور یہ کہ لوگ یعنی شہر والے دن چڑھے جمع ہوجائیں (یعنی) ضحیٰ کے وقت، جو کچھ اس وقت ہوا اس کو دیکھنے کے لئے چناچہ فرعون (اپنی جگہ) واپس چلا گیا اور اس نے اپنے ہتھکنڈوں (مکر) کو یعنی مکار جادو گروں کو جمع کرلیا پھر ان کو لیکر وقت مقرر پر آگیا تو (اس وقت) موسیٰ (علیہ السلام) نے ان (جادوگروں) سے کہا اور رہ بہتر ہزار تھے اور ہر ایک کے پاس رسیاں اور لکڑکیاں تھیں ارے کمبختی کے مارو یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ہلاکت لازم کردی ہے اللہ پر بہتان نہ لگاؤ، کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہرا کر کہ وہ تم کو اپنے مخصوص عذاب سے نیست و نابود کر دے فیُسْحِتَکُمْ یا کے ضمہ اور حا کے کسرہ اور دونوں کے فتح کے ساتھ ہے یعنی تم کو ہلاک کر دے اور یاد رکھو وہ شخص ناکام ہوا خسارہ میں رہا جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا چناچہ وہ لوگ موسیٰ اور ان کے بھائی کے بارے میں اپنے مشوروں میں مختلف الرائے ہوگئے اور ان دونوں کے بارے میں خفیہ گفتگو کرنے لگے آپس میں کہنے لگے یہ دونوں یقیناً جادو گر ہیں ھٰذَیْن ابو عمر کے نزدیک ہے اور دوسروں کے نزدیک ھٰذان ہے اور یہ ان کی لغت کے مطابق ہے جو تثنیہ میں تینوں حالتوں میں الف لاتے ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ تم کو اپنے جادو کے زور سے تمہاری سرزمین سے نکال باہر کریں، اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کردیں (دوسرا ترجمہ) تمہارے اشراف کو اپنی طرف مائل کرلیں۔ مُثلیٰ اَمْثل کا مؤنث ہے اس کے معنی اشرف کے ہیں، یعنی تمہارئ شرفاء کو اپنے فیور میں کرلیں، ان کے ان دونوں کی طرف مائل ہوجانے کی وجہ سے ان دونوں کے غلبہ کی بدولت لہٰذا تم بھی اپنی تدبیروں یعنی جادو کو یکجا کرلو فاجمَعُوْا ہمزۂ وصل اور فتحہ میم کے ساتھ جَمَعَ سے ماخوذ ہے بمعنی لَمَّ (ای جَمَعَ ) اور ہمزہ قطعی اور میم کے کسرہ کے ساتھ بھی ہے (اس صورت میں) اَجْمَعَ سے ماخوذ ہوگا اور معنی میں اَحْکَمَ کے ہوگا (یعنی اپنی تدبیروں کو مضبوط کرلو) اور پھر تم صف بستہ ہو کر (مقابلہ میں) آجاؤ صَفًّا حال ہے مُصْطَفِّیْنَ کے معنی میں ہے آج وہی بازی لے گیا جو غالب آگیا اِسْتَعْلٰی بمعنی غَلَبَ ان لوگوں نے کہا اے موسیٰ تم کو اختیار ہے چاہو تو تم اپنے عصا کو پہلے ڈالو یا ہم اپنے عصا کو پہلے ڈالنے والے بن جائیں (حضرت موسیٰ نے) فرمایا نہیں بلکہ تم ہی پہلے ڈالو چناچہ انہوں نے ڈالا، پھر یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کی وجہ سے ان کے خیال میں ایسی محسوس ہونے لگیں کہ وہ لاٹھیاں اپنے پیٹ کے بل دوڑتے ہوئے سانپ ہیں عِصِیٌّ اصل میں عُصُوْوٌ تھا، دونوں واؤ، دریاؤں سے بدل گئے اور عین اور صاد کو کسرہ دیدیا گیا (عِصِیٌّ ہوگیا) سو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں قدرے خوف محسوس کیا یعنی اس وجہ سے خوف محسوس کیا کہ ان کا سحر ان کے معجزے کی جنس کا ہے (ایسا نہ ہو) کہ اس کا معاملہ لوگوں پر مشتبہ ہوجائے اور پھر وہ اس (موسیٰ ) پر ایمان نہ لائیں ہم نے اس سے کہا ڈرو نہیں تم ہی ان پر غلبہ کے ذریعہ یقیناً سربلند رہو گے، اور جو تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اور وہ اس کی لاٹھی تھی ڈال دو ، جو کچھ ان (جادوگروں) نے کاری گری کی ہے اس کو یہ نگل جائے گا چٹ کر جائے گا اور جو کچھ ان جادو گروں نے بنایا ہے بلاشبہ یہ جادوگر کا کرتب (یعنی ہاتھ کی صفائی) ہے جو کہ دیگر جادوگروں کی جنس کا ہے جادوگر کہیں سے بھی آئے (اور جو بھی کرے) کامیاب نہیں ہوتا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈال دیا تو وہ ان کے سب دھندے کو نگل گیا اب سب جادو گر سجدہ میں گرپڑے یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گرپڑے اور پکارا اٹھے کہ ہم تو موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد ولقد اریناہ الخ سے اس شبہ کا ازالہ ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ابتداءً صرف دو معجزے عصاء اور یدبیضاء عطا ہوئے تھے تو جاتے ہی نو معجزے کیسے دکھا دئیے، مذکورہ جملہ سے اس کا جواب ہوگیا کہ پوری مدت دعوت میں نو معجزے دکھائے اس لئے کہ لَقَدْ اَرَیّنَاہٗ آیَاتِنَا کُلَّھَا یہ جملہ خبر یہ ہے مقصد اس کا یہ ہے کہ مدت دعوت میں ہم نے فرعون کو تمام معجزے دکھا دئیے، لہٰذا شبہ ختم ہوگیا اَرَیْنَا کی تفسیر اَبْصَرْنَا سے کرکے اشارہ کردیا کہ رویت سے رویت بصری مراد ہے فَلَنَاتِیَنَّکَ میں لام جواب قسم پر داخل ہے اور قسم محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے وعزتی وکبریائی فَلنَاتینَک بسِحْرٍ مِثْلِہٖ ، بسحر فلناتِینّکَ کے متعلق ہے فاترتیب مابعد علی ما قبل کے لئے ہے۔ قولہ : مَوْعِدًا ظرف زمان ہے اجعل کا مفعول اول مؤخر ہے اور بَیْنَنَا وبَیْنَکم مفعول ثانی مقدم ہے سُوًی دونوں قرأتیں ہیں مَوْعِدُکم مبتداء اور یوم الزینۃ اس کی خبر ہے۔ قولہ : اَی ذوی کیدہٖ سے اشارہ کردیا کہ کلام حذف مضاف کے ساتھ ہے اور ساحر مراد ہیں۔ قولہ : وَاَن یُّحْشَرَ النَّاسُ یہ جملہ محل کے اعتبار سے مجرور اور مرفوع دونوں ہوسکتا ہے اگر الزِّیْنَۃُ پر عطف ہو تو مجرور ہوگا اور اگر یَوْمُ الزِّیْنَۃِ پر عطف ہو تو مرفوع ہوگا، اور تقدیر عبارت یہ ہوگی مَوْعِدُکم یَوْمُ الزِّیْنَۃِ وَمَوْعِدُکم اَنْ یُّحْشَرَ النَّاس ای حشرھم۔ قولہ : ویلکم کی تفسیر اَلْزَمَکُمْ اللہُ الوَیْلَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ وَیْلَکُمْ عامل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : بَاشْرَافِکُمْ ، طَریْقَتِکم کی تفسیر ہے، طریقۃ کے متعدد معانی آتے ہیں ایک معنی اشراف قوم کے بھی ہیں۔ قولہ : اِنَّ ھٰذَیْن لَسٰحِرَان جادو گروں کا یہ قول اَسَرُّوا النجوی کا نتیجہ ہے یعنی کافی بحث و مباحثہ کے بعد یہ طے ہوا کہ بالیقین یہ دونوں جادوگر ہیں ھٰذَیْنِ اِنَّ کا اسم اور لَسٰحِرَانِ اس کی خبر ہے اور ایک قرأت میں ھٰذانِ ہے بلحارث بن کعب کی زبان میں ھٰذان اِنّ کا اسما ہے یہ لوگ تثنیہ کا تینوں حالتوں میں الف کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اعراب کو تقدیری مانتے ہیں اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اِنَّ کا اسم ضمیر شان محذوف ہے اَیْ اِنّہٗ اور ھٰذانِ لَسٰحِرانِ اِنَّ کی خبر ہیں، فَاجْمَعُوْا ہمزہ وصل اور میم کے فتح کے ساتھ ہو تو مطلب ہوگا تم اپنی تدبیروں کو جمع کرلو، اور اگر فاَجْمِعُوْا ہمزہ قطعی اور میم کے کسرہ کے ساتھ ہو تو مطلب ہوگا تم اپنی تدبیروں کو مضبوط اور مستحکم کرلو۔ قولہ : صَفًّا یہ اِیْتُوْا کی ضمیر سے حال ہے صَفًّا چونکہ مصدر ہے لہٰذا ضمیر جمع سے حال واقع ہونا صحیح ہے اور معنی میں مُصْطفین کے ہے۔ قولہ : اِخْتَر محذوف مان کر مفسر علام نے اشارہ کردیا کہ اَنَّ مع اپنے مابعد کے بتاویل مفرد ہو کر اِخْتَرْ فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے فَاِذَا حِبَالَھُمْ وَعِصِیَّھُمْ یہاں کلام میں حذف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے فَاَلْقَوْا فَاِذَا حِبَالُھُمْ فا فصیحہ اور اذا مفاجاتیہ ہے یُخیَّلُ ایک قرأت میں تخیَّلُ بھی ہے اس لئے کہ عصا اور حبال مؤنث ہیں یخیل مبنی للفاعل بھی پڑھا گیا ہے مخیل کید کو قرار دیا ہے، عِصِیٌّ اصل میں عُصُورٗ بروزن فلوسٌ اولا واؤ ثانیہ کو ی سے بدلا واو اوری جمع ہوئے اول واؤ کو بھی ی سے بدل دیا پھر یا کو یا میں ادغام کردیا اس کے بعد صاد اور عین کے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا حبالھم وعصیھم مبتداء ہے اور یُخَیّلْ اِلیہ اس کی خبر ہے فاذا مفاجاتیہ خبر مقدم اور حِبَالُھم وعِصِیُّھم مبتدا مؤخر، اس صورت میں یخیل حال ہوگا یخیل ی کے ساتھ اس کی اسناد تَسْعٰی کی طرف ہوگی، اور یہ بھی جائز ہے کہ حِبَال کی ضمیر کی جانب مسند ہو حبال چونکہ مؤنث غیر حقیقی ہے اس لیے فعل کا مذکر لانا صحیح ہے یا یُخَیّل المُلقٰی کی تاویل میں ہو کر اسناد ہوگی انھا تسعیٰ یہ یخیل سے بدل الاشتمال ہے۔ قولہ : اَیْ ضافَ مِنْ جِھۃِ الخ یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ مناجات کے وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے عصا اور یدبیضاء جیسے معجزات باہرہ دکھائے تھے اور ہر طرح سے حفاظت اور مدد کا وعدہ فرمایا تھا تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) مقابلہ کے وقت کیوں خوف زدہ ہوئے ؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ خوف اور اندیشہ سانپوں سے نہیں تھا بلکہ اندیشہ اس بات کا تھا کہ جادوگروں کا جادو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے کی جنس کا تھا جادوگروں نے بھی اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو بظاہر سانپ بنادیا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا بھی سانپ کی شکل اختیار کرلیتا تھا ایسی صورت میں اندیشہ یہ ہوا کہ کہیں حاضرین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کو بھی جادو نہ سمجھ بیٹھیں اور ایمان نہ لائیں اِنّ ما صَنَعُوْا کَیدُ ساحر عام قرأت کید کے رفع کے ساتھ ہے اس بنا پر کہ اِنّ کی خبر ہے اور مَا موصولہ ہے اور صَنَعُوْا اس کا صلہ ہے اور عائد محذوف ہے تقدیر یہ ہے اِنّ الذی صنعوہٗ کیدُ ساحر اور اگر اَن مصدریہ مانیں تو عائد کی ضرورت نہ ہوگی اور اعراب علیٰ حالہٖ باقی رہے گا ولا یفلح الساحر (سوال) اللہ تعالیٰ نے لا یَفْلَحُ السَحَرۃُ جمع کے صیغہ کے ساتھ کیوں نہیں فرمایا فرمایا جبکہ مقابلہ میں آنے والے بہت سے ساحر تھے نہ کہ ایک، مفسر علام نے ساحرٌ کی تفسیر جنسہٖ سے کرکے اسی اعتراض کے دفعیہ کی طرف اشارہ کردیا، مراد یہ ہے کہ ساحر سے ایک ساحر مراد نہیں ہے بلکہ جنس ساحر مراد ہے اگر جمع کا صیغہ لاتے تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ عدد مراد ہے جنس ساحر نہیں فَاُلْقِیَ اِلقَاءٌ سے ماضی مجہول کا واحد مذکر غائب ہے وہ ڈالا گیا فافصیحۃ یعنی طرفین سے لاٹھیاں و رسیاں وغیرہ ڈالنے کا عمل ہوا اور جو کچھ ہوا حاضرین نے دیکھا اس کے بعد جادوگر سجدہ میں گرگئے سُجَدًا بمعنی ساجدین، آمَنّا بربِّ ھارُونَ و مُوسیٰ ہارون کی تقدیم فواصل کی رعایت کی وجہ سے ہے۔ تفسیر و تشریح ومنھا خلقنکم الخ یہ سابقہ مضمون ہی کا تتمہ ہے یعنی جس طرح ہم نباتات وغیرہ کو زمین سے نکالتے ہیں اسی طرح ہم نے تم کو بھی اسی زمین سے پیدا کیا ہے چناچہ دادا آدم (علیہ السلام) کی مٹی سے بنائے گئے، لہٰذا ان کے واسطہ سے تمام انسانوں کا مادہ بعیدہ خاک ہی ہے، اور اسی زمین میں تم کو لوٹا دیں گے چناچہ کوئی مردہ کسی حالت میں ہو انجام کار اس کو مٹی ہونا ہے، اور اگر دیکھا جائے کہ انسان تو نطفہ سے پیدا ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان نطفہ سے اور نطفہ غذا سے پیدا ہوتا ہے اور غذا مٹی سے پیدا ہوتی ہے لہٰذا یہی کہا جائے گا کہ انسان مٹی سے پیدا ہوتا ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والے انسان پر رحم مادر میں اس جگہ کی مٹی کا کچھ جز شامل کیا جاتا ہے جس جگہ اس کا دفن ہونا اللہ کے علم میں مقدر ہے، یہ حدیث ابونعیم نے ابن سیرین کے تذکرہ میں روایت کرکے فرمایا ھٰذا حدیث غریبٌ اسی مضمون کی ایک روایت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے بھی منقول ہے تفسیر مظہری میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پیدا ہونے والے ہر بچہ کی ناف میں ایک جز مٹی کا ڈالا جاتا ہے اور جب مرتا ہے تو اسی زمین میں دفن ہوتا ہے، جہاں کی مٹی اس کی خمیر میں ڈالی گئی ہے اور فرمایا کہ میں اور ابوبکر و عمر ایک ہی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں اور اسی میں دفن ہوں گے، یہ روایت خطیب نے نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ حدیث غریب ہے اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے مگر شیخ محدث مرزا محمد وارثی بدخشی نے فرمایا کہ اس حدیث کے بہت سے شواہد حضرت ابن عمر ؓ ، ابن عباس ؓ ، ابو سعید ( علیہ السلام) ‍ ؓ ، ابوہریرہ ؓ سے منقول ہیں جن سے ان کی روایت کو تقویت حاصل ہوتی ہے اس لئے یہ حدیث حسن لغیرہٖ کے درجہ سے کم نہیں۔ (مظہری بحوالہ معارف) مکانًا سُوًی فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگروں کے مقابلہ کے لئے یہ خود تجویز کیا کہ ایسے مقام پر ہونا چاہیے کہ جو فریقین کے لئے مسافت کے اعتبار سے برابر ہوتا کہ کسی فریق کو وہاں آنے میں زیادہ زحمت نہ ہو، اور صاف ہو نیز نشیب و فراز سے خالی ہوتا کہ لوگ بخوبی مقابلہ کا منظر دیکھ سکیں اور اس بات کا فیصلہ کہ کون ہارا اور کون جیتا علی وجہ البصیرت کرسکیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو قبول کرکے دن اور وقت کی تعیین اس طرح کردی مَوْعِدُکُم یَوْم الزینۃ وَاَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضبحًی یعنی یہ مقابلہ تمہارے (قومی) جشن کے دن ہو اور دن چڑھے ہو، تاکہ حاضرین ہار جیت کو روز روشن میں کھلی آنکھوں سے دیکھ سکیں یہ جشن اور عید کا دن کونسا تھا ؟ اس میں اختلاف ہے، بعض نے کہا کہ وہ نیروز کا دن تھا، کسی نے کہا یوم السَّبْت تھا، بعض حضرات نے یوم عاشوراء بھی کہا ہے۔ جادو کی حقیقت اور اس کی اقسام اور شرعی احکام : یہ مضمون سورة بقرہ ہاروت و ماروت کے قصہ میں معارف القرآن کی جلد اول میں 217 سے 223 تک بیان ہوا ہے، تفصیل کے لئے رجوع کریں، اور علامہ طنطاوی کی تفسیر جواہر الفقہ میں بھی اس مضمون کو بہت خوبی سے بیان کیا گیا ہے۔ فتولی فرعون دن اور وقت طے کرنے کے بعد مجلس برخاست ہوگئی اور فرعون بھی دوبارہ سے اٹھ کر چلا گیا اور مقابلہ کی تیاری میں لگ گیا۔ چناچہ اس نے جادوگروں کو ملک کے کونے کونے سے بلایا اور جادو میں آنے والے اسباب بھی جمع کر لئے اور بڑے تزک و احتشام کے ساتھ جادوگروں کے ہمراہ وقت موعود پر میدان میں پہنچا حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں جادوگروں کی تعداد بہتر مذکور ہے بعض روایتوں میں جادو گروں کی تعداد بہت زیادہ مذکور ہے، جو دل کو نہیں لگتی ایک رایت میں نو لاکھ تک کی تعداد بتائی گئی ہے۔ ادھر فرعون جادوگروں کو مقابلہ کی ترغیب دے رہا تھا اور ان کو انعامات اور قرب خصوصی سے نوازنے کا وعدہ کر رہا تھا دھر موسیٰ (علیہ السلام) بھی جادوگروں کو وعظ فرما رہے تھے اور ان کے موجودہ رویے پر ان کو عذاب الٰہی سے ڈرا رہے تھے، الفاظ یہ تھے وَیْلَکم لاَتَفْتَرُوْا عَلَی اللہِ کَذْبًا فیُسْحِتَکُمْ بعَذَاب وَقَدْ خَابَ مَن اِفْتَریٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وعظ و نصیحت کا جادو گروں پر یہ اثر ہوا کہ یہ اثر ہوا کہ ان میں باہم کچھ اختلاف ہوگیا اور بعض دبی زبان سے کہنے لگے کہ کہیں یہ اللہ کا نبی ہی نہ ہو، اس کی گفتگو تو جادو گروں جیسی نہیں ہے بلکہ پیغمبرانہ معلوم ہوتی ہے، بعض نے اس کے برعکس رائے کا اظہار کیا فَتَنَازَعُوْا اَمْرھم بَیْنَھُمْ کا یہی مطلب ہے، پھر اس باہمی اختلاف کو دور کرنے اور کسی متفقہ رائے پر پہنچنے کے لئے خفیہ مشورے ہونے لگے، اسی کو وَاَسَرُّوْا النَّجْویٰ سے بیان فرمایا ہے آخر کار اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ ان کا مقابلہ ہونا چاہیے اس لئے کہ بلاشبہ یہ جادو گرہی ہیں اور اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرکے اپنا قبضہ جمانا چاہتے ہیں اور یہ کہ تمہارا طریقہ جو سب سے بہتر ہے اس کو مٹا دینا چاہتے ہیں مُثْلیٰ اَمَثَلُ کا مؤنث ہے جس کے معنی افضل اور اعلیٰ کے ہیں۔ ویذھبا بطریقتکم المثلیٰ کی ایک تفسیر حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تمہاری قوم کے سرداروں اور باعزت لوگوں کو ختم کردیں اس لئے تم ان کا پوری طاقت سے مقابلہ کرو، تیسری تفسیر یہ بھی منقول ہے کہ اگر دونوں بھائی اپنے جادو کے زور سے غالب آگئے تو سادات اور اشراف ان کی طرف مائل ہوجائیں گے، جس سے ہمارا اقتدار خطرے میں پڑجائے گا اور ان کے اقتدار کا امکان بڑھ جائے گا۔ فاجمعوا کیدکم لہٰذا اپنی تدبیروں کو یکجا اور منظم کرلو یا یہ کہ مضبوط اور مستحکم کرلو اور صف بنا کر مقابلہ کے لئے نکلو تاکہ مخالف پر تمہارا رعب پڑے اور کوئی کسر اٹھا نہ رکھو اس لئے کہ آج جو غالب آگیا وہی بازی لے گیا۔ قالوا یاموسی اما ان تلقی الخ جادوگروں نے اپنی بےفکر اور بےپرواہی کا مظاہرہ کرنے کے لئے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی سے کہا پہل آپ کرتے ہیں یا ہم کریں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا بَلْ اَلْقُوْا تم ہی پہل کرو، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں پہلے اپنا کرتب دکھانے کے لئے اس لئے کہا کہ ان پر یہ واضح ہوجائے کہ وہ جادو گروں کی اتنی بڑی تعداد سے اور ان کے ساحرانہ کمال اور کرتبوں سے خوف زدہ نہیں ہیں، دوسرے ان کی ساحرانہ شعبدے بازیاں جب معجزے الٰہی سے چشم زدن میں ھَبَاءً منثوراً ہوجائیں گی تو اس کا بہت اچھا اثر پڑے گا اور جادو گر یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ یہ جادو نہیں، واقعی اسے اللہ کی تائید حاصل ہے کہ آن واحد میں ان کی ایک لاٹھی ہمارے سارے کرتبوں کو نگل گئی۔ جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق اپنا کام شروع کردیا اور لاٹھیاں اور رسیاں جو بڑی تعداد میں تھیں بیک وقت زمین پر ڈال دیں یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں، جس کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے دل میں خوف محسوس کیا، یعنی یہ صورت حال دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) پر خوف طاری ہوا جس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں چھپائے رکھا یہ خوف اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی جان کی وجہ سے ہوا تو مقتضائے بشریت سے ایسا ہونا نبوت کے منافی نہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ خوف اپنی جان کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ خوف اس بات کا تھا کہ اگر اس مجمع کے سامنے ساحروں کا غلبہ محسوس کیا گیا تو دعوت کا جو مقصد ہے وہ پورا نہ ہوسکے گے آپ ہی کو فتح اور غلبہ حاصل ہوگا، یُخَیَّلُ کے قرآنی الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسیاں اور لاٹھیاں حقیقۃً سانپ نہیں بنی تھیں بلکہ جادو کے زور سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے مسمر یزم کے ذریعہ نظر بندی کردی جاتی ہے، بڑے سے بڑا جادو بھی شئ کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح انبیاء کو دیگر انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں، اسی طرح وہ جادو سے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، جس طرح آنحضرت ﷺ پر بھی یہودیوں نے جادو کیا تھا جس کے کچھ اثرات آپ محسوس کرتے تھے اس سے بھی منصب نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا، کیونکہ اس سے کار نبوت متاثر نہیں ہوتا فَاُلْقِیَ السِّحْرَۃُ پھر گرپڑے جادو گر یعنی جادو گروں نے جب یہ فعل فوق السحر دیکھا تو سمجھ گئے کہ بیشک یہ معجزہ ہے اور فوراً ہی اللہ کے لئے سجدہ میں گرگئے، اور پکاراٹھے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے، اس آیت میں ہارون کی تقدیم باوجود یکہ وہ تابع ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تاخیر باوجودیکہ وہ اصل ہیں فواصل کی رعایت کی وجہ سے ہے۔
Ayahs 20:71–76

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے ؟ بیشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کجھور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ جو دلائل ہماے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دیجیے اور آپ جو حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور (اسے بھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا اور خدا بہتر اور باقی رہنے والا ہے

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا نہ جئے گا

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس شخص کا بدلہ ہوگا جو پاک ہوا

آیت نمبر 71 تا 76 ترجمہ : فرعون نے کہا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے ءَاٰمَنْتُمْ دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کو الف سے بدل کر بلاشبہ وہ تمہارا بڑا گرو ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے میں تم سب کے ہاتھ پیر جانب مخالف سے کٹواتا ہوں خلاف حال ہے معنی میں مختلفۃ کے ہے یعنی داہنے ہاتھوں کو اور بائیں پیروں کو اور تم سب کو کھجوروں کے تنوں پر لٹکوا دوں گا فی جُذُوعِ النخل ای عَلَیھَا اور تم کو پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں یعنی مجھ میں اور موسیٰ کے رب میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے، یعنی کس کی مخالفت شدید ہے اور دیرپا ہے ان لوگوں نے صاف جواب دیدیا کہ ہم تجھ کو کبھی ترجیح نہ دیں گے اختیار نہ کریں گے بمقابلہ ان دلائل کے جو موسیٰ کی صداقت پر دلالت کرنے والے ہم کو ملے ہیں اور بمقابلہ اس ذات کے جس نے ہم کو پیدا کیا واو قسمیہ ہے یا ما جاءنا پر عطف ہے سو تیرا جو جی چاہے کہ یعنی جو تو نے کہا ہے کر ڈال اور تو بجز اس کے کہ کچھ کرسکتا ہے وہ اسی دنیا میں کرسکتا ہے اور (الحیوۃ کا) نصب توسع کے طور پر ہے ای فیھا اور (اللہ) اس پر آخرت میں جزاء دے گا ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ ہماری شرک وغیرہ کی خطاؤں کو معاف کردے اور اس سحر کو بھی معاف کر دے کہ جس کے سیکھنے اور عملی طور پر موسیٰ کا مقابلہ کرنے کے لئے تو نے ہم کو مجبور کیا ہے اور اللہ بہتر ہے تجھ سے اجر کے اعتبار سے جب اس کی اطاعت کی جائے اور زیادہ باقی رہنے والا ہے تجھ سے عذاب کے اعتبار سے جب اس کی نافرمانی کی جائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے بات یہ ہے کہ جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم یعنی کافر ہو کر آئے گا جیسا کہ فرعون تو بیشک اس کے لئے جہنم ہے نہ اس میں مرے گا کہ راحت پائے گا اور نہ زندہ رہے گا ایسی زندگی کہ جس سے اس کو نفع ہو اور جو شخص اس کے پاس مومن ہو کر حاضر ہوگا اور اس نے نیک اعمال یعنی فرائض و نوافل کئے ہوں گے تو یہی ہیں وہ لوگ جن کے لئے اونچے درجات ہیں عُلیٰ علیا کی جمع ہے اور اعلیٰ کا مؤنث ہے یعنی ہمیشہ رہنے کے یعنی اقامت کے قابل باغات ہیں جنّٰتُ عدن دَرَجٰتِ العُلیٰ کا بیان ہے کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے یہ انعام ہے اس شخص کا جو گناہوں سے پاک ہوا۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد أ آمَنْتُمْ لَہٗ ہمزہ استفہام انکاری توبیخ کے لئے ہے، اور حفص کے نزدیک آمَنْتُمْ جملہ خبر یہ کے طور پر استعال ہوا ہے ءَآمَنْتُمْ کا صلہ لام لایا گیا ہے اس لئے کہ آمَنْتُمْ اِتَّبَعْتُمْ کی معنی کو متضمن ہے، دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ پہلا استفہامیہ ہے اور ثانی فا کلمہ ہے جمع مذکر حاضر ءَأمّنْتُمْ بروزن اَکْرَمْتُمْ دوسرے ہمزہ کو قاعدہ کے مطابق الف سے بدلا پھر اس پر ہمزہ استفہام داخل کیا گیا، اب کلمہ میں دو ہمزے غیر منقلبہ ہوگئے، اب خواہ تحقیق ہمزتین کے ساتھ پڑھیں یا ہمزہ استفہام کے حذف کے ساتھ پڑھیں مفسر علام کا وابدال الثانیہ الفًا کہنا غیر ظاہر ہے اس لئے کہ ثانیہ تو قرأت میں بغیر ابدال کے باقی ہے، البتہ ابدال الثالثۃ درست ہے قولہ : مِنْ خِلاَفٍ مِنْ ابتدائیہ ہے اور خلاف مختلفہ کے معنی میں ہو کر حال ہے ای اَقْطَعُھَا مختلِفَاتٍ ۔ قولہ : فِی جذوع النَّخْلِ ای علیھا اس میں اشارہ ہے کہ فِی بمعنی علی ہے وَلَتَعْلَمُنَّ میں لام قسمیہ ہے اَیُّنَا مبتداء اَشَدُّ وَاَبْقٰی معطوف ومعطوف علیہ سے مل کر خبر اور مبتداء خبر سے مل کر لتعلمُنَّ کا مفعول قائم مقام دو مفعولوں کے علی مخالفتہٖ کا تعلق اشدُوَا بقٰی دونوں سے ہے وَالَّذی فطَرَنا واو اگر قسمیہ ہو تو موصول صلہ سے مل کر قسم اور لانؤثرکَ علی الحق جواب قسم محذوف ای وحق الذی فطرنا لانؤثرک علی الحق اور اگر واو عاطفہ ہو تو معطود علیہ مَا جاءنا ہوگا ای لَنْ نُؤثِرَکَ علی الذی جاءنا ولا الذی فَطَرَنا فاَقْضِ مَا اَنْتَ قاضٍ یہ جواب تہدید ہے ھذہ الحیوۃ الدنیا ھٰذہٖ مبدل منہ الحیوۃ بدل یہ حذف حرف جر کی وجہ سے اتساعًا منصوب ہے تقدیر عبارت یہ اِنَّمَا تقضی فِی ھٰذہٖ الحیوٰۃ الدنیا فِی کو حذف کردیا جس کی وجہ سے منصوب ہوگیا۔ قولہ : اِنَّمَا مَا میں دو وجہ جائز ہیں اول وجہ یہ کہ مافعل پع اِنّ کے دخول کو جائز کرنے کے لئے ہے اور الحیوٰۃ والدنیا تقضی کا ظرف ہے اور تقضی کا مفعول محذوف ہے ای تقضی غرضک دوسری وجہ یہ کہ ما مصدر یہ اسم اِنّ ہو اور ظرف خبر ہو، تقدیر عبارت یہ ہوگی اِنّ قَضَاءَکَ فی ھذہ الحیوٰۃ والدنیا تیسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مَا بمعنی الذی موصول اسم اِنّ تقضیہ اس کا صلہ عائد محذوف ای اِنّ الّذی تقضیہ کائنٌ فی الحیوۃ الدنیا (جمل) وَمَا اَکْرَھْتَنَا کا عطف خطا یانا پر ہے، تاکہ ہماری خطاؤں اور اس عمل سحر کو معاف کر دے جس پر تو نے ہم کو مجبور کیا مِنَ السِّحر علَیہِ کی ضمیر سے یا موصولہ سے حال ہوسکتا ہے، مِنْ بیان جنس کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ قولہ : قال تعالیٰ سے اشارہ کردیا کہ اِنّہٗ مَنْ یَاْتِ ربَہٗ جملہ مستانفہ ہے اس کے ماقبل ساحروں کا کلام تھا اور یہ اللہ سبحانہ کا کلام ہے خَالدِیْنَ مَنْ کے معنی کی رعایت سے جمع لایا گیا ہے۔ تفسیر و تشریح قال آمنتم لہٗ جب جادوگروں نے دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا حقیقت میں اژدہا بن کر ان کے خیالی سانپوں کو نگل گیا، تو چونکہ یہ جادو کے ماہر اور جادو کی حقیقت سے واقف تھے تو ان کو یقین ہوگیا کہ یہ کام جادو کے ذریعہ نہیں ہوسکتا بلاشبہ خدائی معجزہ ہے اس لئے جادو گر سجدہ میں گرگئے اور برسر عام اعلان کردیا کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ جادوگروں نے اس وقت تک سجدہ سے سر نہیں اٹھایا جب تک اللہ تعالیٰ نے جنت میں ان کا مقام نہ دکھا دیا، اس واقعہ سے فرعون کی برسرعام بہت رسوائی ہوئی تو اس نے اپنی خفت کو کم کرنے کے لئے تہدید آمیز لہجے میں کہا کہ تم میری اجازت کے بغیر موسیٰ اور اس کے رب پر ایمان لے آئے اس جملہ سے لوگوں کو یہ تاثر بھی دینا مقصود تھا کہ میری اجازت کے بغیر کسی کے قول و فعل کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اور لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے اور اصل حقیقت سے توجہ ہٹانے کے لئے ان جادوگروں پر یہ الزام بھی لگا دیا کہ اب معلوم ہوا کہ تم موسیٰ کے شاگرد ہو اور وہ تم سب کا بڑا استاذ ہے اسی نے تم کو جادو سکھایا ہے اور استاد شاگردوں نے مل کر سازش کی ہے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق شاگردوں نے اپنی ہار مان لی ہے کبیرٌ بمعنی معلم بھی لغت عرب میں مستعمل ہے، کسائی نے کہا ہے کہ جب بچہ اپنے معلم (استاذ) کے پاس سے آتا تو کہتا ہے جنتُ من عند کبیری فرعون نے یہ جملہ انہ لکبیرکم الذی علَّمَکُمْ السحرَ باوجودیکہ فرعون کو بھی معلوم تھا کہ ان کے درمیان استادی و شاگردی کا کوئی تعلق نہیں ہے مگر پھر بھی لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے اور لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے سے روکنے کے لئے یہ بات قصداً کہی۔ فلاقطعن یہ قسم محذوف کا جواب ہے تقدیر عبارت یہ ہے وعزتی وکبریائی لاَفْعَلَنَّ بکم ذٰلکَ فرعون نے قسم کھا کر حاکمانہ انداز میں سخت سزا کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں تم سب کے جانب مخالف سے ہاتھ پیر کاٹ دوں گا تاکہ تم دوسروں کے لئے عبرت کا نمونہ بن جاؤ، اور کوئی دوسرا موسیٰ پر ایمان لانے کی جسارت نہ کرسکے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ تم کو اسی حالت میں کھجور کے تنوں پر لٹکا دوں گا تاکہ بھوکے پیاسے تمہاری جان نکل جائے فی جذوع النخل میں فی بمعنی علیٰ ہے اور علیٰ کے بجائے فی کے استعمال میں یہ مصلحت ہے کہ استقراء اور دوام کا ظاہر کرنا ہے یعنی تم اسی حالت میں ایک مدت تک لٹکے رہو گے، جیسا کہ مظروف کا استقرار ظرف میں ہوتا ہے۔ قالوا لن نؤثرک علیٰ ما جاءنا الخ جادوگروں نے فرعون کی دھمکی سن کر اپنے ایمان پر بڑی پختگی کا ثبوت دیا کہنے لگے ہم تجھے یا تیرے کسی قول کو ان بینات و معجزات پر ترجیح نہیں دے سکتے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ ہمارے سامنے آچکے ہیں نیز خالق کائنات کو چھوڑ کر تجھے اپنا رب نہیں مان سکتے حضرت عکرمہ کی روایت کے مطابق بینات سے مراد جنت کے وہ مقامات علیہ اور نعم غالیہ بھی ہوسکتی ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے جادوگروں کو سجدہ کی حالت میں مشاہدہ کرایا تھا، اور ساتھ ہی جادو گروں نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تو نے ہمیں سزا دی بھی تو وہ سزا اسی چند روزہ زندگی تک محدود رہے گی مرنے کے بعد تو تیرا ہمارے اوپر کوئی قبضہ نہیں رہے گا بخلاف حق تعالیٰ کے کہ اس کا قبضہ مرنے سے پہلے بھی ہے اور مرنے کے بعد بھی لہٰذا اسی کی سزا کی فکر مقدم ہے۔ انا آمنا بربنا لیغفرلنا خطایانا موسیٰ (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لانے کی غرض بیان کرتے ہوئے جادوگروں نے کہا ہم اس لئے ایمان لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے سابقہ گناہوں کو معاف فرما دے اور جادو کے ذریعہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے عمل کو بھی معاف فرما دے جس پر تو نے ہم کو مجبور کیا ہے، یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ جادوگر تو موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے کے لئے خوشی خوشی آئے تھے حتی کہ فرعون سے انعام و اکرام کے بارے میں سودے بازی بھی کی تھی کہ اگر ہم موسیٰ کے مقابلہ میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں کیا انعام ملے گا فرعون نے انعام و اکرام سے نوازنے نیز مزید براں اپنے مصاحبین میں شامل کرنے کا وعدہ بھی کرلیا تھا پھر جادوگروں کا یہ کہنا تو نے ہمیں موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے کے لئے مجبور کیا تھا کہاں تک درست ہوسکتا ہے اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ جادو گر ابتداءً تو برضا ورغبت اپنی خوشی سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے سے کترانے لگے چناچہ جب جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشورہ کیا تو یہ لوگ مختلف الرائے ہوگئے، بعض ان کو جادوگر کہتے تھے اور بعض انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کی باتیں پیغمبرانہ معلوم ہوتی ہیں لہٰذا ان کا مقابلہ کرنا درست نہیں ہے فرعون کو جب ان کے تذبذب کا علم ہوا تو ان کو مجبور کیا اور مزید لالچ بھی دیا جس کی وجہ سے وہ مقابلہ کے لئے آمادہ ہوگئے۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ فرعون کو کاہنوں کے ذریعہ جب یہ معلوم ہوا کہ ایک اسرائیلی لڑکے کے ہاتھ پر تیری حکومت ختم ہوجائے گی اور اس نوعیت کے اس کے پاس علوم اور معجزات ہوں گے تو فرعون نے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے ملک میں جادو کی تعلیم کو جبری اور لازمی قرار دیدیا تھا جس کی وجہ سے جادوگروں کا یہ کہنا کہ تو نے ہمیں جادو پر مجبور کیا ہے صحیح اور درست ہے، (روح) آسیہ فرعون کی بیوی کا ایمان : تفسیر قرطبی میں ہے کہ حق و باطل کے اس معرکہ کے وقت فرعون کی بیوی آسیہ برابر خبر رکھتی رہیں کہ انجام کیا ہوا جب اس کو یہ معلوم ہوا کہ موسیٰ اور ہارون غالب آگئے تو فوراً ہی اس نے بھی اعلان کردیا کہ میں بھی موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتی ہوں، فرعون کو جب اپنی بیوی آسیہ کے ایمان کا علم ہوا تو حکم دیا کہ ایک بھاری پتھر اس کے اوپر گرا دیا جائے، آسیہ نے جب یہ دیکھا تو آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور اللہ سے فریاد کی حق تعالیٰ نے پتھر اس کے اپور گرنے سے پہلی ہی اس کی روح قبض کرلی اور پتھر مردہ جسم پر گرا۔
Ayahs 20:77–85

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہماے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک راستہ بنادو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آ پکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا ڈر)

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا کی (موجوں) نے ان پر چڑھ کر انھیں ڈھانک لیا (یعنی ڈبو دیا)

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے آل یعقوب ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور (تورات دینے کے لئے) تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

(اور حکم دیا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ اور اس میں حد سے نہ نکلنا ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر سیدھے راستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں) کیوں جلدی کی ؟

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے

آیت نمبر 77 تا 85 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا حال یہ کہ وہ خود بھی ان کے ساتھ تھا، چناچہ دریا ان پر چھا گیا جیسا کہ چھانے کو تھا پھر ان کو غرق کردیا، اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا ان کو اپنی عبادت کی دعوت دیکر اور ان کو سیدھی راہ نہ دکھائی بلکہ ان کو ہلاکت میں ڈال دیا اپنے قوم وَمَا اَھْدِیکم اِلاَّ سبیلَ الرَّشَاد کے برخلاف اے بنی اسرائیل ہم نے تم کو تمہارے دشمن فرعون سے اس کو غرق کرکے نجات دی اور ہم نے تم سے طور کی دائیں جانب آنے کا وعدہ کیا کہ ہم موسیٰ کو تورات دیں گے اس پر عمل کرنے کے لئے اور ہم نے تمہارے لئے مَنّ اور سلویٰ نازل کیا اور وہ ترنجبین اور بٹیر ہیں سمانی میم کی تخفیف اور قصر کے ساتھ ہے اور (یا بنی اسرائیل) میں منادیٰ وہ یہود ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے اور وہی ان نعمتوں کے مخاطب ہیں جو ان یہود پر کی گئیں تھیں جو سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں تھے اللہ تعالیٰ کے قول کُلُوْا مِنَ الطَّیبٰتَ الخ کی تمہید کے لئے ہم نے جو پاکیزہ چیزیں تم کو دی ہیں ان سے کھاؤ یعنی ان چیزوں کو جو بطور انعام تم کو دی گئی ہیں اور اس میں حد (شرعی) سے تجاوز نہ کرو اس طریقہ سے کہ منعم کی ناشکری کرنے لگو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا غضب تمہارے اوپر واقع ہوجائے حا کے کسرہ کے ساتھ یعنی لازم ہوجائے اور حا کے ضمہ کے ساتھ یعنی نازل ہوجائے اور جس پر میرا غضب نازل ہوجائے یَحْلِلْ لام کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ ہے تو بلاشبہ وہ آگ میں گرگیا اور بیشک میں ایسے لوگوں کے لئے بڑا بخشنے والا ہوں جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی اور اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے عمل صالح فرض اور نفل دونوں پر صادق آتا ہے (یا) (فرض اور نفل کے ذریعہ (ایمان کی) تصدیق کرتا ہے اس وقت یُصَدِّق پڑھا جائے گا) اور پھر مذکورہ چیزوں پر موت تک قائم بھی رہے (اللہ نے کہا) اے موسیٰ اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی آنے کا کیا سبب ہوا ؟ تورات لینے کے وقت کے آجانے کی وجہ سے حضرت موسیٰ نے جواب دیا وہ یہ رہے میرے پیچھے یعنی میرے قریب ہی آرہے ہیں اور اے میرے پروردگار میں آپ کے پاس جلدی چلا آیا کہ آپ مجھ سے زیادہ خوش ہوں گے یعنی تیری زیادہ رضا مندی حاصل کرنے کے لئے اور جواب سے پہلے اپنے گمان کے اعتبار سے عذر بیان کردیا اور گمان خلاف واقعہ ثابت ہوا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری قوم کو تو ہم نے تمہارے ان کو چھوڑ کر چلے آنے کے بعد ایک فتنہ میں مبتلا کردیا اور ان کو تو سامری نے گمراہ کردیا جس کی وجہ سے وہ گائے پرستی میں مبتلا ہوگئے غرض موسیٰ (علیہ السلام) ان کی وجہ سے غصہ اور سخت رنج میں بھرے ہوئے واپس آئے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد ولقد اوحینا الخ یہ عطف قصہ علی القصہ کے قبیل سے ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاً موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس رسول بنا کر بھیجنے کا قصہ معہ معجزات کے بیان فرمایا اور ثانیاً فرعون اور اس کے لشکر کے عبرت ناک انجام کا قصہ بیان فرمایا اس طرح یہ عطف قصہ علی القصہ ہے۔ قولہ : طریقاً اِضرب کا مفعول یہ ہے اس لئے کہ اضرب اجعل کے معنی کو متضمن ہے جیسا کہ مفسر نے اشارہ کردیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اضرب کا مفعول بہٖ محذوف ہو تقدیر یہ ہوگی اضربْ موضعَ طریق اس صورت میں اضرب کی نسبت طریق کی جانب مجازاً ہوگی موضع کو حذف کرکے طریق کو اس کے قائم مقام کردیا اِضْرِبْ لھُم طریقاً ہوگیا طریق سے مراد جنس طریق ہے اس لئے کہ بنی اسرائیل کے قبیلوں کی تعداد کے اعتبار سے بارہ راستے بنائے تھے یَبَسًا مصدر ہے مصدر کا حمل طریق پر مبالغۃً ہے یا مصدر سے پہلے لفظ ذات محذوف ہے ای ذات یَبَس اور اگر با کے سکون کے ساتھ یَبْسًا ہو تو صیغہ صفت کا ہوگا ای یابسًا لا تخافُ رفع کے سات حمزہ (رح) کے علاوہ تمام قراء کی یہی قرأت ہے اس صورت میں یہ جملہ مستانفہ ہوگا اس وقت اس کا کوئی محل اعراب نہ ہوگا، یا اِضرِبْ کی ضمیر فاعل سے حال ہے، ای اضرب لھُمْ طریقاً حَالَ کَوْنِکَ غَیرَ حائفٍ اور حمزہ (رح) نے جزم کے ساتھ پڑھا ہے اس وجہ سے کہ لا ناھیہ ہے تَخَفْ اس کی وجہ سے مجزوم ہے۔ وقولہ : ولا تخشیٰ یہ باتفاق قراء الف کے ساتھ ہے رفع کی صورت میں لاتخافُ پر عطف ظاہر ہے اور جزم کی صورت میں لاتخشیٰ کا عطف لاَتَخَفْ پر ہوگا اور علامت جزام لاتخشیٰ میں حذف الف ہوگی اور موجودہ الف اشباع کا ہوگا فواصل کی رعایت کے لئے لایا گیا ہے۔ قولہ : بجُبُودِہٖ یہ موضع حال میں ہے اور مفعول ثانی محذوف ہے ای فَاَتْبَعَھُمْ فرعونُ عِقابَہٗ ومعہ جنودہٗ اور یہ بھی کہا گیا کہ اَتْبَعَ بمعنی اِتَّبَعَ ہے اس صورت میں بجُنُودَہٖ کی با تعدیہ کے لئے ہوگی۔ قولہ : وَھُوَ مَعَھُمْ کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جار اَتْبَعَھُمْ کا صلہ نہیں ہے بلکہ موضع حال میں ہے اور اَتْبَعَھُمْ کا مفعول ثانی محذوف ہے اور معنی یہ ہیں اَتْبَعَھُمْ فرعون نفسہٗ مع جنودہٖ اور بیضاوی میں ہے والمعنی فاَتْبَعَھُمْ فرعون نفسہ ومعہ جنُوْدُہٗ فَحُذِفَ مفعول ثانی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجنودہ میں بازائدہ ہے ای اَتَبَعَھُمْ جنودہٗ وھو معھم فَغَشِیَّھُمْ مِنَ الیَمِّ ما غَشِیَھُمْ ای غرقھم من الیَمِّ ماغرقھم سمندر کی موجودں کی ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لئے ابہام رکھا گیا ہے یعنی وہ موجیں ہولناکی میں ایسی تھی کہ ان کی ہولناکی کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ قولہ : فنؤتی موسیٰ التورٰۃ للعمل بھا کے اضافہ کا مقصد اس سوال کا جواب ہے کہ وعدہ تو موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا نہ کہ قوم سے تو پھر وواعدناکم میں وعدہ کی نسبت قوم کی طرف کی گئی ہے ؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ موسیٰ کی تورات دینے کا وعدہ قوم ہی کے عمل کے لئے اور ان ہی کی بیہودی کے لئے تھا اس لئے قوم کی طرف ادنیٰ ملابست کی وجہ سے نسبت درست ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بھی حکم تھا کہ اپنی قوم کے ستر سرداروں کو بھی کوہ طور پر ساتھ لے آئیں اس طریقہ سے بھی قوم کی طرف وعدہ کی نسبت صحیح ہے۔ قولہ : اَلْمَنُّ اسم ہے شبنمی گوند ہے جو حلوے کی شکل کا تھا جو وادی تیہ میں بھٹکنے والے اسرائیلیوں کے کھانے کے لئے روزانہ درختوں کے پتوں پر اللہ تعالیٰ جما دیتا تھا سلویٰ ایک قسم کا پرندہ ہے جس کا بٹیر کہتے ہیں قاموس میں اس کا واحد سَلْوَۃٌ مرقوم ہے اخفش سے منقول ہے کہ اس کا واحد نہیں سنا گیا ھَوَیٰ ماضی واحد مذکر حاضر (ض) مصدر ھَوِیٌ گرپڑنا۔ قولہ : وَمَن یَحْلِلْ یہاں بھی کسرہ حا اور ضمہ حا دونوں صورتیں ہیں ثم اھتدیٰ کی تفسیر باستمرارہ علی ما ذکر الی موتہٖ سے کرکے اس سوال کا جواب دینا مقصود ہے کہ اھتدیٰ کے ذکر سے کیا فائدہ ہے جب کہ آمَن کے عموم میں اھتدیٰ بھی داخل ہے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں ایمان پر استمرار اور دوام مراد ہے اس لئے کہ نجات تامہ اسی ایمان اور اعمال صالحہ پر موقوف ہے جو مرتے دم تک باقی رہے۔ قولہ : وَمَا اَعْجَلَکَ عن قَوْمِکَ ما استفہامیہ مبتداء ہے اور اَعْجَلَکَ اس کی خبر ہے یہاں استفہام استفادۂ علم کے لئے نہیں ہے اس لئے کہ خدا کو اس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ بات بتانے کے لئے ہے کہ تم جلد بازی کرکے اپنی قوم کو چھوڑ کر یہاں چلے آئے ہم نے تمہاری قوم کو ایک فتنہ میں مبتلا کردیا۔ قولہ : ھُمْ اولاء ھُمْ مبتدا ہے اُوْلاء بمعنی الذی ہے اور علی أثرِی اس کا صلہ ہے۔ قولہ : زیادۃٌ علیٰ رضاکَ کے اضافہ کا مقصد یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سبقت کرنے کی وجہ زیادتی رضا تھی نہ کہ نفس رضا اس لئے نفس رضا تو نبی کو حاصل ہوتی ہے البتہ زیادتی مطلوب ہوتی ہے۔ قولہ : وقبل الجواب اَتٰی بالاعتَذارِ الخ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ما اَعْجَلَکَ کا جواب عَجِلْتُ الیکَ ربِّ لِتَرضٰی ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے اصل جواب دینے سے پہلے ھُمْ اُوْلاءِ علی اَثَرِی کہہ کر یہ عذر بیان کردیا کہ میں نے ان کو چھوڑا نہیں ہے بلکہ وہ قریب ہی میرے ساتھ ہیں اور یہ عذر اس خیال سے بیان کردیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) یہ سمجھے ہوئے تھے کہ واقعۃً وہ میرے پیچھے پیچھے آرہے ہیں حالانکہ وہ وہیں رک گئے تھے جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا گمان خلاف واقعہ تھا اور گمان کا خلاف واقعہ ہونا اس وقت معلوم ہوا جب اللہ تعالیٰ نے فَانَّا قَدْ فَتَنَّا قومَکَ منْ بَعْدِکَ فرمایا لِمَا میں لام تعلیلیہ ہے گویا کہ یہ خلاف مظنون ہونے کی علت ہے۔ قولہ : السامری بنی اسرائیل کے قبیلہ سامرہ کی طرف منسوب ہے بعض نے کہا ہے کہ سامرہ یہود میں ایک فرقہ ہے جو بعض باتوں میں بقیہ یہود سے مختلف ہے، بعض کہتے ہیں کہ کرمان کا ایک دہقانی کافر تھا اس کا نام موسیٰ بن ظفر ہے، یہ منافق تھا اس کی قوم گائے کی پوجا کرتی تھی موسیٰ سامری کی پرورش جبرائیل (علیہ السلام) نے کی تھی اس لئے کہ اس کو بھی اس کی والدہ نے ذبح کے خوف سے ایک غار میں چھپا دیا تھا، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کو اپنی انگلیاں چساتے تھے ایک سے دودھ اور دوسری سے شہد اور تیسری سے گھی نکلتا تھا، شعر : موسٰٰ الذی ربّاہٗ فرعون مرسَلُ ۔ موسیٰ الذی رباہٗ جبرائیل کافر قرطبی کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ سامری ہندوستان کا رہنے والا تھا جو کہ گائے کی پوجا کرتا تھا (مزید تفصیل کے لئے لغات القرآن جلد سوم تالیف مولانا عبد الرشید نعمانی کی طرف رجوع کریں) موسیٰ علم معرفہ ہے بنی اسرائیل کے مشہور پیغمبر ہیں ان کی والدہ کا نام یوحانث تھا، اور والد کا نام عمران تھا، کہا جاتا ہے کہ عبرانی زبان میں مُوْ پانی کو کہتے ہیں اور شٰی درخت کو کہتے ہیں عربی میں شین کو سین سے بدل دیا ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدائش کے بعد چونکہ لکڑی کے ایک تابوت میں بند کرکے سمندر میں ڈال دیا گیا تھا اس لئے موسیٰ نام ہوگیا۔ تفسیر و تشریح ولقد اوحینا الی موسیٰ أن اسر بعبادی جب فرعون اور فرعونیوں کو حق و باطل کے معرکہ میں شکست فاش ہوگئی اور بنو اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں جمع ہوگئے تو اب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہاں سے ہجرت کا حکم دیا چونکہ فرعون کو غرق کرنا تھا اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کی جانب کا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا تاکہ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تعاقب کرے اور غرق دریا ہو، حالانکہ شام ہو کہ فلسطین کا خشکی کا بھی راستہ تھا، موسیٰ بنی اسرائیل کو لیکر شام کی جانب سے بھی جاسکتے تھے مگر مصلحت دریا کی طرف سے تھی اسی لئے یہ راستہ تھا، موسیٰ بنی اسرائیل کو لیکر شام کی جانب سے بھی جاسکتے تھے مگر مصلحت دریا کی طرف سے تھی اسی لئے یہ راستہ اختیار کیا، چونکہ فرعون کے تعاقب اور دریا میں غرق ہونے کا خطرہ تھا اس لئے دونوں خطروں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مطمئن کردیا گیا۔ اس آیت کے تحت میں مفسرین حضرات نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے یہ بات بھی لکھی ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ جب تم مصر سے جانے لگو تو میرا تابوت بھی ساتھ لیجانا، جب بنو اسرائیل ہجرت کرنے لگے تو خیال آیا کہ حضرت موسیٰ کے تابوت کو ساتھ لے لیں مگر کسی کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مدفن معلوم نہیں تھا، البتہ ایک بڑھیا کو معلوم تھا، اس سے معلوم کرکے تابوت ہمراہ لے لیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بڑھیا سے کہا کہ جو تجھے مانگنا ہے، مانگ لے، بڑھیا نے کہا میں چاہتی ہوں کہ جنت میں آپ کے ساتھ رہوں، جب دیکھا کہ فرعون نہ تو ایمان لاتا ہے اور نہ بنی اسرائیل کو آزاد کرنے پر آمادہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خاموشی سے لیکر نکل جانے کا حکم فرمایا۔ تفسیر روح المعانی میں یہ تفصیل بھی ہے، کہ اسرائیلیوں نے ہجرت سے پہلے یہ شہرت کردی تھی کہ کل ہماری عید ہے ہم عید منانے کے لئے باہر جائیں گے اور اس بہانے سے قبطیوں سے کچھ زیورات عاریتاً لے لئے تھے کہ آکر واپس کردیں گے بنی اسرائیل کی اس وقت کتنی تعداد تھی روایات مختلف ہیں چھ اور سات لاکھ تک بیان کی گئی ہے، چونکہ یہ سب اسرائیلی روایات ہیں ہوسکتا ہے کہ ان میں کچھ مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا ہو، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیلیوں کی تعداد لاکھوں سے کم نہیں تھی، اس لئے کہ ان کے بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلہ میں بڑی تعداد میں افراد تھے، موسیٰ (علیہ السلام) رات کے ابتدائی حصہ میں اپنی قوم بنی اسرائیل کو لیکر دریائے قلزم کی طرف نکل گئے۔ فرعون کو جب اسرائیلیوں کے اس طرح سے نکل جانے کی اطلاع ملی تو اس نے فوجوں کو جمع کیا جن میں ستر ہزار سیاہ گھوڑے تھے اور صرف مقدمۃ الجیش میں سات لاکھ سوار تھے، جب بنی اسرائیل نے آگے دریا اور پیچھے فوجی سیلاب دیکھا تو گھبرا اٹھے، اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے انا لمدرکون ہم تو پکڑے گئے موسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا اِنّ معی ربی سَیَھْدِین کہ میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور راستہ دے گا پھر بحکم ربانی دریا پر اپنا عصا مارا جس کی وجہ سے دریا میں خشک بارہ راستے بن گئے بنی اسرائیل کے چونکہ بارہ قبیلے تھے ہر قبیلہ ایک راستہ سے بخیر و خوبی و اطمینان کے ساتھ نکل گیا، جب فرعون اور اس کا لشکر دریا کے کنارے پہنچا تو یہ حیرت انگیز منظر دیکھ کر سہم گیا کہ اسرائیلیوں کے لئے کس طرح دریا میں راستے بن گئے مگر فرعون نے لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے کہا کہ یہ سب کچھ میری ہیبت کا کرشمہ ہے مگر دل ہی دل میں گھبرا رہا تھا اور دریائی راستوں میں داخل ہونے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا اس وقت فرعون ایک گھوڑے پر سوار تھا، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ایک گھوڑی پر سوار ہو کر فرعون کے گھوڑے کے سامنے آئے گھوڑا بےقابو ہوگیا اور فرعون کو لیکر دریا میں داخل ہوگیا اس کے پیچھے فرعونی لشکر بھی دریا میں داخل ہوگیا جب اسرائیلی دریا پار ہوگئے اور فرعونی پورا لشکر دریا میں داخل ہوگیا تو حق تعالیٰ نے دریا کو روانی کا حکم دیدیا جس کی وجہ سے سب غرق دریا ہوگئے، یہی مطلب ہے فغشیَّھُمْ مِنَ الیمِّ مَا غشیَّھُمْ کا۔ وواعدنکم جانب الطور الایمن فرعون سے نجات اور دریا میں پار ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اور ان کے واسطہ سے تمام بنی اسرائیل سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ کوہ طور پر داہنی جانب چلے آئیں تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا کی جائے اور بنی اسرائیل خود بھی اس شرف ہم کلامی کا مشاہدہ کرلیں۔ ونزلنا علیکم المنَّ والسلوٰی یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل عبور دریا کرکے آگے بڑھے اور ایک مقدس شہر میں داخل ہونے کا حکم ملا، انہوں نے خلاف ورزی کی اس کی یہ سزا دی گئی کہ اسی وادی میں جس کو وادی تیہ کہتے ہیں قید کر دئے گئے اور چالیس سال تک اسی وادی میں بھٹکتے رہے اس سزا کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برکت سے ان پر قید کے زمانہ میں بھی طرح طرح کے انعامات ہوتے رہے انہی میں سے من وسلویٰ کا انعام تھا۔ قولہ : والمنادی مَن وُجِدَ الخ یا بنی اسرائیل میں منادیٰ ہر وہ یہودی ہے جو آپ ﷺ کے زمانہ میں تھا اور ذکر ان نعمتوں کا کیا گیا ہے جو آپ ﷺ کے زمانہ میں موجود یہودیوں کے آباء و اجداد پر جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں موجود تھے گویا کہ یہ تمہید ہے اللہ تعالیٰ کے قول کُلُوا من طیبٰتِ ما رَزَقنٰکُمْ الخ کی اس لئے کہ اگر حقیقت میں منادیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے یہودہوں اور حقیقت میں بھی روئے سخن ان کی طرف ہو تو کلوا من طیبٰت ما رزقنکم الخ کہنا صحیح نہیں رہے گا، اسلئے کہ جو لوگ صدیوں سال پہلے مرچکے ہیں ان کو کھانے پینے کا حکم کرنا اور ان کو سرکشی سے ممانعت کرنا غیر معقول بات ہے وما اعجلک عن قومک جب بنی اسرائیل دریا میں اور فرعون سے نجات پانے کے بعد آگے بڑھے تو ان کا بت پرستوں کی ایک بستی پر گزر ہوا تو ان کی عبادت کا طریقہ ان کو بہت پسند آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہمارے لئے بھی کوئی محسوس خدا بنا دیجئے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے احمقانہ سوال کے جواب میں فرمایا کہ تم بڑے جاہل ہو یہ بت پرست تو سب ہلاک ہونے والے ہیں ان کا طریقہ باطل ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ فرمایا کہ اپنی قوم کے ساتھ کوہ طور پر آجائیے تو ہم آپ کو اپنی کتاب تورات عطا کریں گے جو آپ کے اور آپ کی قوم کے لئے دستور العمل ہوگی، مگر عطائے تورات سے پہلے آپ مسلسل تیس دن کے روزے رکھیں، اور پھر اس مقدار میں دس دن کا اضافہ کرکے چالیس کر دئیے گئے، اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور کی طرف روانہ ہوگئے اور شوق کی زیادتی کی وجہ سے اپنی قوم کو یہ تاکیدی وصیت کرکے کہ تم میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ میں آگے جاکر عبادت اور روزوں میں مشغول ہوتا ہوں، جس کی مقدار مجھے تیس روزے بتلائی گئی ہے، میری غیبت میں ہارون میرے نائب اور خلیفہ ہوں گے، حضرت ہارون اور بنی اسرائیل اپنی رفتار سے چلتے رہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جلدی کرکے آگے چلے گئے اور خیال یہ تھا کہ قوم کے لوگ بھی کوہ طور کے قریب ہی پہنچ گئے ہوں گے مگر وہاں سامری کا فتنہ گوسالہ پرستی پیش آگیا جس کی وجہ سے پیچھے پیچھے آنے کا معاملہ رک گیا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا وَمَا اَعْجَلَکَ عن قومِکَ ، مقصد استفہام نہیں ہے گو صیغہ استفہام کا ہے بلکہ اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ آپ کے منصب رسالت کا تقاضہ یہ تھا کہ آپ قوم کے ساتھ رہتے اور ان پر نظر رکھتے، آپ کی عجلت کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ قوم کو سامری نے گمراہ کردیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے اس سوال کا جواب سابق میں گزر چکا ہے۔