20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsروح القرآن

Ayah 20:1

طٰهٰۚ Open ayah 20:1 in the Quran reader

طٰـہٰ (یہ سورت طا ھا ہے۔ )

طٰـہٰ ۔ (طٰـہٰ : 1) (یہ سورت طٰہٰ ہے۔ ) طٰـہٰ کا مفہوم (طٰہٰ … حروفِ مقطعات میں سے ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں علمائے تفسیر کے اقوال بہت ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ قبیلہ عکل اور قبیلہ عکّ کے نزدیک اس کا معنی ہے یارجل، یعنی اے شخص۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو ( رض) سے روایت ہے۔ آپ ( رض) نے فرمایا کہ قبیلہ عکّ میں طٰہٰ بمعنی یاحبیبی، یعنی اے میرے حبیب استعمال ہوتا ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ بعض روایاتِ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ طٰہٰ اور یٰسین آنحضرت ﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ہیں، لیکن بےغبار بات جو اس سلسلے میں کہی جاسکتی ہے وہ وہی ہے جو حضرت صدیق اکبر ( رض) اور جمہور علماء نے فرمائی ہے۔ کہ جس طرح قرآن کریم کی بہت سی سورتوں کے ابتدا میں آئے ہوئے حروفِ مقطعات مثلاً الف لام میم وغیرہ متشابہات میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، لفظ طٰـہٰ بھی انھیں میں داخل ہے اور حروفِ مقطعات کی وضاحت ہم کسی حد تک سورة بقرہ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔
Ayahs 20:2–3

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

ہم نے آپ ﷺ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ آپ ﷺ مشقت میں پڑیں۔

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

یہ تو بس نصیحت ہے، اس کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔

مَآاَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی۔ اِلاَّ تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی۔ (طٰـہٰ : 2، 3) (ہم نے آپ ﷺ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ آپ ﷺ مشقت میں پڑیں۔ یہ تو بس نصیحت ہے، اس کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ ) اس آیت کی مختلف پہلوئوں سے وضاحت اس آیت کی تفسیر مفسرین نے مختلف پہلوئوں سے کی ہے۔ 1 قرآن کریم کی دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ پر جو عظیم ذمہ داری ڈالی گئی، آپ ﷺ نے اس کی عظمت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ اس میں صرف کر ڈالا اور اپنی صلاحیتیں اس میں نچوڑ ڈالیں، لیکن جب آپ نے اس قدر محنت و ریاضت کے بعد بھی لوگوں میں اس کی طلب محسوس نہ کی بلکہ مخالفت میں زبانیں دراز ہونے لگیں اور ہر قیمت پر مخالفین نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو آپ ﷺ کی بےکلی اور بےچینی انتہا کو پہنچ گئی۔ آپ ﷺ سوچنے لگے کہ لوگوں کے قرآن کریم کی دعوت کو قبول نہ کرنا شاید یہ معنی رکھتا ہے کہ میری مساعی میں کوئی کمی ہے۔ مجھے اس کے لیے جو محنت کرنی چاہیے شاید میں اس میں کوتاہی کررہا ہوں۔ تو آپ ﷺ نے اگر ایک طرف اپنی مساعی میں اضافہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ سے تائید و نصرت اور توفیق کے لیے مسلسل دعائوں میں اضافہ کیا تو دوسری طرف جب مخالفین کے رویئے میں کوئی مثبت تبدیلی نہ دیکھی تو دل کی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا اور آپ ﷺ بیمار رہنے لگے۔ چناچہ اس صورتحال کے پیش نظر پروردگار نے نہایت دلنواز انداز میں آنحضرت ﷺ کو اس آیت کریمہ میں سمجھایا ہے کہ آپ ﷺ پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ﷺ لوگوں سے اسے منوا کے چھوڑیں۔ آپ ﷺ کا کام تبلیغ و دعوت ہے، لوگوں کو صاحب ایمان بنانا نہیں۔ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور حق شناسی کی رمق ہوگی وہ یقینا آپ ﷺ کی تبلیغ و دعوت سے ایمان قبول کرے گا، لیکن جو لوگ ان صلاحیتوں سے عاری ہیں اور حق شناسی کا کوئی جذبہ ان میں موجود نہیں تو آپ ﷺ زبردستی ان کے دلوں میں ایمان اتار دینے کے مکلف نہیں بنائے گے۔ چناچہ جہاں تک تبلیغ و دعوت کا تعلق ہے آپ ﷺ بفضلہ تعالیٰ اس میں کوئی کمی نہیں کررہے۔ لیکن جہاں تک لوگوں کا اسے قبول کرنے کا تعلق ہے اس کی آپ ﷺ پر کوئی ذمہ داری نہیں، وہ مانتے ہیں تو اپنی عاقبت سنواریں گے اور انکار کرتے ہیں تو اپنی ہی عاقبت بگاڑیں گے۔ آپ ﷺ اس سے اتنا اثر کیوں لیتے ہیں کہ آپ ﷺ کے لیے یہ قرآن کسی مشکل کا باعث بن جائے۔ اس سے آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی دی گئی اور آپ ﷺ کی ذمہ داری کی ایک حد بھی معین کردی گئی۔ اور یہ بھی اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی دعوت و تبلیغ سے بھی صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے اندر حق شناسی اور اثرپذیری کی قوت ہو۔ 2 بعض اہل تفسیر کا خیال یہ ہے کہ عہدنبوت کے ابتدائی ایام میں آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی پیروی میں مسلمان قیام لیل میں بڑی مشقت اٹھاتے تھے۔ بعض دفعہ آنحضرت ﷺ ساری ساری رات نماز میں کھڑے رہتے اور قرآن کریم پڑھتے رہتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ اس پر پروردگار کی رحمت جوش میں آئی اور اس آیت کریمہ کے ذریعے حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا گیا اور نہ نبوت آپ ﷺ کو اس لیے دی گئی ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہمت سے بڑھ کر مشقت کریں اور ساری ساری رات اس طرح قیام میں گزار دیں کہ قدم مبارک پر ورم آجائے۔ آپ ﷺ کو اس قدر محنت نہیں کرنی چاہیے بلکہ آپ ﷺ اسی قدر قیام کریں اور قرآن کریم کی تلاوت جاری رکھیں جس سے آپ ﷺ کو تھکاوٹ نہ ہو اور آپ ﷺ کا جسم جسے برداشت کرسکے۔ 3 تَشْقٰٓی…بعض اہل علم کے نزدیک شقاوت سے ہے، جو سعادت کی ضد ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن ابوجہل اور نضربن حارث آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے اِنَّکَ شَقِیٌّ لِاَنَّکَ تَرَکْتَ دِیْنَ آبَائِکَ ” آپ ﷺ شقی ہیں، کیونکہ آپ ﷺ نے اپنے آباء کا دین چھوڑ دیا ہے۔ “ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ پہلے سارا شہر آپ ﷺ کی عزت کرتا تھا، لوگ آپ ﷺ کے راستے میں پلکیں بچھاتے تھے، اب آپ ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں اور برا بھلا کہا جاتا ہے اور آپ ﷺ بالکل بےیارومددگار ہو کر رہ گئے ہیں، تو شقی وہی ہوتا ہے جس کا یہ حال ہو۔ اس کے جواب میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور یہ بتایا گیا کہ قرآن بدبخت بنانے کے لیے نازل نہیں ہوا، یہ تو بدبخت کو اوج سعادت تک پہنچانے کے لیے آیا ہے۔ یہ ابوجہل و نضر جسے شقاوت سمجھ رہے ہیں وہ تو عین سعادت اور کمال سعادت تک پہنچنے کا زینہ اور ہر سعادت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ تَذْکِرَۃً …بعض اہل علم کے نزدیک اس کا معنی یاددہانی ہے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ یاددہانی اس چیز کی کرائی جاتی ہے جو پہلے سے انسان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ خارج کی کسی چیز کی یاددہانی نہیں کرائی جاتی، صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات اپنے اندر رکھتے ہوئے بھول چکا ہوتا ہے۔ یاددہانی سے اسے مستحضر کردیا جاتا ہے۔ قرآن کریم بھی ایک یاددہانی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیں کوئی اوپری اور انوکھی چیز نہیں سکھاتا بلکہ انھیں حقائق کی یاددہانی کرتا ہے جو خود ہماری فطرت کے اندر موجود ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہیں۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ ان حقائق کی یاددہانی کے لیے وہ جو دلائل استعمال کرتا ہے وہ بھی ہماری دیکھی بھالی چیزوں سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ کبھی وہ دلائلِ آفاق سے کام لیتا ہے اور کبھی دلائلِ انفس سے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی ہمارے لیے اجنبی نہیں، بلکہ بعض دفعہ قرآن کریم پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جسے غالب نے شعر کا جامہ پہنایا ہے : دیکھئے تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے اسی سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ مُذکرِّ کی حیثیت سے تشریف لائے تھے۔ آپ ﷺ کو مصیطر یعنی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ آپ ﷺ لوگوں کو ان حقائق کی یاددہانی کے لیے تشریف لائے تھے جن کی حیثیت متاع گم گشتہ کی ہے یعنی وہ انسانیت کی متاع اور انسان کی بندگی کا اثاثہ ہیں لیکن انسان اپنی خودفراموشی اور خدا فراموشی سے انھیں بھی بھلا چکا ہے۔
Ayah 20:4

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اتارا گیا ہے، اس ذات کی طرف سے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔

تَنْزِیْلاً مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی۔ (طٰـہٰ : 4) (یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اتارا گیا ہے، اس ذات کی طرف سے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ ) قرآن کریم کی عظمت تَنْزِیْل … مصدر ہے، یہاں مفعول کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نزول اور تنزیل میں فرق یہ ہے کہ تنزیل میں ایک اہتمام اور تدریج کا معنی پایا جاتا ہے۔ یہاں بھی یہ لفظ لا کر اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نہایت عظیم الشان کتاب ہے اور اسے نہایت اہتمام اور ترتیب و تدریج کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اسے لے کر اترتے ہیں جو تمام فرشتوں کے سردار اور مطاع ہیں اور جب وہ اترتے ہیں تو فرشتوں کی فوجیں ان کے ہمرکاب ہوتی ہیں۔ یہ اہتمام اس کی حفاظت کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ کسی شیطانی قوت کو قرآن کریم کے نزول میں دخل اندازی کی جرأت نہ ہوسکے۔ اور پھر یہ قرآن کریم دفعۃً ایک ہی دفعہ نازل نہیں کیا گیا بلکہ تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت ایک تدریج کے ساتھ نازل فرمایا گیا تاکہ اسے سمجھنے، یاد کرنے اور پھر اس پر عمل کرنے میں آسانی ہو۔ اور اسے یاددہانی بنایا گیا تاکہ اس کے ذریعہ سے انسان کی فکری گم گشتہ متاع کو ازسرنو زندہ کیا جائے اور چونکہ نسیان انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے اس لیے بار بار اس کے سمجھانے بجھانے کا انتظام کیا گیا تاکہ قرآن کریم کی کوئی بات نظرانداز نہ ہوسکے۔ اور مزید یہ فرمایا کہ اس قرآن کریم کی عظمت یہ ہے کہ یہ اس ذات ذوالجلال کا کلام ہے جو زمین اور بلند آسمانوں کا خالق ہے۔ یہ کسی ذہنی اپچ کا نتیجہ، فکری آوارگی کا شاخسانہ اور سنی سنائی بات نہیں بلکہ اس کا کلام ہے جس کے کرم اور فیض سے ہر مخلوق کو وجود ملا ہے۔ جس کلام کی نسبت ایسے عظیم متکلم سے ہو اس کے بارے میں یہ گمان بھی نہیں کی جاسکتا کہ اسے رد کردینے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ ایک طرف قرآن کریم کے مخاطبوں کو یہ توجہ دلانا مقصود ہے کہ خالق کائنات کے کلام کو نظرانداز کرنے بلکہ اس کی مخالفت کرنے کا انجام بہت برا ہوگا اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ ﷺ خالقِ ارض و سماء کے سفیر اور پیامبر ہیں۔ آپ ﷺ کا کام یہ نہیں کہ آپ ﷺ ایک سائل کی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام ان کے سامنے پیش کریں بلکہ آپ ﷺ کی شان یہ ہے کہ آپ ﷺ نہایت ہمدردی اور ذمہ داری سے اللہ تعالیٰ کا کلام اس شان سے ان تک پہنچائیں کہ انھیں اندازہ ہوسکے کہ اس کا رد کرنا ہمارے لیے آسان نہیں۔
Ayah 20:5

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ رحمن ہے جو عرش حکومت پر متمکن ہے۔

اَلرَّحْمٰنُ عَلیَ الْعَرْشِ اسْتَوٰی۔ (طٰـہٰ : 5) (وہ رحمن ہے جو عرش حکومت پر متمکن ہے۔ ) قرآن کریم رحمت کا اظہار اور اس کا انکار خطرناک ہے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ساری عظمتوں کے باوجود رحمن بھی ہے۔ اس کی صفت رحمت کا یہ تقاضا ہوا کہ وہ انسانوں کو پیدا کرکے یونہی نہ چھوڑ دے بلکہ جس طرح انسانوں کے لیے ان کی جسمانی ضرورتیں فراہم کرے اسی طرح ان کی معنوی قوتوں کو بھی مہیا کرے جس سے وہ اپنے زندگی کے نصب العین اور مقصد کے مطابق زندگی گزارنے کی رہنمائی پاسکیں۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس نے اپنا آخری رسول مبعوث کیا اور اس پر آخری کتاب اتاری اور ساتھ ہی اس غلط فہمی کو دور کیا کہ پیغمبر کا آنا محض رسمی کارروائی نہیں اور نہ کتاب کا اترنا صرف تبرک کے لیے ہے کہ تم اسے مانو یا نہ مانو تمہاری زندگی اور آخرت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ جس عظیم ذات نے رحمن ہونے کی وجہ سے تمہاری ہدایت کا انتظام کیا ہے وہ اپنے عرش حکومت پر متمکن بھی ہے۔ تم اس کی حکومت کی گرفت میں ہو۔ اس نے اگرچہ تمہیں زندگی گزارنے کا طریقہ اور رہنمائی دے کر فی الجملہ آزاد چھوڑ دیا ہے لیکن وہ برابر تمہاری نگرانی کر رہا ہے۔ تمہارا ایک ایک عمل محفوظ رکھا جارہا ہے اور پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ جب وہ تمہارے ایمان و عمل کے بارے میں تم سے بازپرس کرے گا۔ سیاقِ کلام سے ” عَلیَ الْعَرْشِ اسْتَوٰی “ کا جو مفہوم نمایاں ہوتا ہے اسے ہم نے عرض کردیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں جو بےغبار بات کہی جاسکتی ہے وہ وہی ہے جسے ہمارے سلف صالحین نے نقل فرمایا ہے کہ اس کا معنی تو معلوم ہے لیکن اس کی کیفیت مجہول ہے اور اس کے بارے میں قیل و قال اور جرح و قدح کرنا جہالت ہے کیونکہ یہ مشتبہات میں سے ہے جس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayah 20:6

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

اسی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے۔

لَـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی۔ (طٰـہٰ : 6) (اسی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کی وسعت پروردگار جس حکومت کے تخت پر متمکن ہے اس کی وسعتیں انسانی دل و دماغ میں نہیں سما سکتیں۔ انسان صرف آسمانوں کو دیکھتا ہے اگرچہ اسے حدِنگاہ سمجھتا ہے۔ لیکن آسمانوں کی حقیقت سے واقف نہیں تو وہ اس کی وسعتوں کو کو کیا جان سکتا ہے۔ زمین سب سے چھوٹا کُرّہ ہے۔ انسان آج تک اس کے مَالَہٗ وَمَا عَلَیْہِسے واقف نہیں ہوسکا۔ اس کے پہاڑوں کی بلندیاں اور اس کے سمندروں کی پہنائیاں ابھی تک اس کی صلاحیتوں کو چیلنج کررہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ زمین کا قطر تین ہزار میل ہے لیکن انسان نے اپنے جدید ترین آلات سے اسے چھیدنے کی کوشش کی ہے تو 600 میل سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ زمین اور آسمان کے اندر قدرت نے کیا کیا پیدا کر رکھا ہے اور کیسے کیسے خزانے اس میں مدفون ہیں آج تک انسان اس کا ایک حصہ بھی دریافت نہیں کرسکا۔ حیرانی کی بات ہے کہ جو پروردگار اس قدر عظیم مملکت کا مالک اور ایسی مہیب قوتوں کا حاکم ہے۔ کوئی مخلوق اس کی شریک کیسے ہوسکتی ہے یا اس کے اختیارات میں حصہ دار کیسے بن سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کی گرفت سے بچا سکتی ہے تو اسے پروردگار کی حکومت کی وسعتوں کو دیکھتے ہوئے اس کی قدرتوں کا مراقبہ کرنا چاہیے۔ جس طرح اس کی ذات غیرمحدود ہے اسی طرح اس کی قدرتیں بھی بےپناہ ہیں اور دنیا کی کوئی چیز اس کی خدائی سے باہر نہیں۔ بعض نادان یہ سمجھتے تھے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا مالک اور حکمران ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ وہ نہ جانے کن بلندیوں پر فائز ہے۔ ہم پستیوں میں رہنے والے لوگ ان بلندیوں تک رسائی کیسے پاسکتے ہیں اور ہماری فریادوں کو وہاں تک جانے کا موقع کیسے مل سکتا ہے۔ ہم چیختے رہیں ہماری چیخیں وہاں تک کیسے پہنچ سکتی ہیں۔ ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا :
Ayahs 20:7–8

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اگر تم زور سے بات کرو (یا چپکے سے) تو وہ جانتا ہے (علانیہ کو بھی) پوشیدہ کو بھی اور بہت زیادہ مخفی کو بھی۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

(اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے ہیں تمام اچھے نام۔

وَاِنْ تَجْھَرْبِالْقَوْلِ فَاِنَّـہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی۔ (طٰـہٰ : 7) (اگر تم زور سے بات کرو (یا چپکے سے) تو وہ جانتا ہے (علانیہ کو بھی) پوشیدہ کو بھی اور بہت زیادہ مخفی کو بھی۔ ) پروردگار کی وسعت علم تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری فریادیں اور تمہاری چیخیں اس حاکم الحاکمین تک کیسے پہنچ سکتی ہیں کیونکہ وہ کائنات کی ان بلندیوں پر براجمان ہے جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے حالانکہ اس کے علم اور خبر کا عالم یہ ہے کہ وہ تمہاری ان باتوں کو بھی جانتا ہے جنھیں تم علانیہ کہتے ہو، اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو تم چپکے سے کہتے ہو۔ وہ تمہارے ہر پوشیدہ عمل کو بھی دیکھتا ہے اور ان باتوں سے بھی آگاہ ہے جو تمہارے نہاں خانہ دماغ میں ابھی پرورش پا رہی ہیں۔ جو بات تم نے تنہائی میں اپنے کسی عزیز سے کہی ہے اسے اس کی بھی اطلاع ہے۔ اور جو تم کسی سے کہنے کا ارادہ رکھتے ہو لیکن ابھی کہنے کی نوبت نہیں آئی، وہ اس سے بھی واقف ہے۔ ” سِر “ پوشیدہ بات کو کہتے ہیں اور ” اخفیٰ “ اس خیال کو کہتے ہیں جو ابھی دل یا دماغ میں مچل رہا ہے یا جسے ابھی دماغ میں پیدا ہونا ہے۔ دوسرا مفہوم اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ کے دشمن آپ ﷺ کی مخالفت میں جو کچھ کر رہے ہیں ہم اس سے بیخبر نہیں۔ آپ ﷺ جن مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں ہم انھیں برابر دیکھ رہے ہیں۔ آپ ﷺ کوئی بات اپنے پروردگار سے صبر کی زبان میں کہتے ہیں، ہم اسے بھی جانتے ہیں اور کوئی دعا یا مناجات فرماتے ہیں تو ہم اس سے بھی بیخبر نہیں۔ آپ ﷺ کی کوئی بات زبان پر آئے یا دل کے مخفی گوشوں میں رہے آپ ﷺ کا رب اس سے بھی ہرحال میں آگاہ رہتا ہے۔ کوئی مخفی سے مخفی بھید ایسا نہیں جو اس علیم وخبیر کی نگاہ سے پوشیدہ ہو۔ اگر کسی وقت آپ ﷺ کو کہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تاخیر کا خیال ہوتا ہے تو اس میں بھی یقینا کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی بیخبر ی کے باعث یہ تاخیر ہوئی ہے۔ آپ ﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہیں اور آپ ﷺ کا خدا ہر وقت اور ہر حالت میں آپ ﷺ کو دیکھتا ہے۔ فصیح عربی زبان کا ایک اسلوب ہے کہ مقابل کے الفاظ بربنائے قرینہ عام طور پر حذف کردیئے جاتے ہیں۔ یہاں بھی اسی اسلوب کے تحت مقابل الفاظ چھوڑ دیئے گئے ہیں کیونکہ ذہین قاری خودبخود ان الفاظ کو محسوس کرلیتا ہے۔ اس آیت میں اگر ان محذوفات کو کھول دیا جائے تو عبارت اس طرح ہوگی وَاِنْ تَجْھَرْبِالْقَوْلِ اَوْتُخَافِتْ بِـہٖ فَاِنَّـہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَالْسِّرَّ وَاَخْفٰی اَللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ط لَـہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی۔ (طٰـہٰ : 8) (اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے ہیں تمام اچھے نام۔ ) پروردگار کا تعارف پروردگار کی چند صفات بیان کرنے کے بعد وہ بات فرمائی گئی ہے جو پروردگار کا اصل تعارف، اس بحث کا حاصل اور تمام حقائق کا نچوڑ ہے۔ اس کے تعارف میں جو کچھ بھی کہا جائے اس کی آخری بات یہی ہے اور اس کی جس قدر بھی صفات بیان کی جائیں اس کا ثمر بھی یہی ہے۔ اس کی یہی چند صفات نہیں بلکہ اس کی صفات لامحدود ہیں کیونکہ ہم جس طرح اس کی ذات کی وسعتوں سے ناواقف ہیں اسی طرح اس کی صفات کا استقصاء کرنے سے بھی معذور ہیں۔ نہ اس کی ذات کی کوئی انتہا ہے، نہ اس کی صفات کی انتہا ہے۔ مختصر بات یہ ہے کہ جتنے بھی اچھے اور خوبصورت نام ہوسکتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تمام اہل علم کے نزدیک اسماء سے مراد اس کی صفات ہیں۔ ان آیات میں اگرچہ اس نے صرف اپنی خالقیت، اپنی رحمانیت، اپنی حاکمیت، اپنی مملکت کی وسعت اور اپنے علم کی بےپناہی کا ذکر فرمایا ہے جن کا تصور کرکے کوئی عقل مند آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے سوا کوئی اور اِلٰہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ اس کی صفات یہی تو نہیں ہیں تمام اچھی صفات اس کی صفات ہیں اور اس کی کوئی انتہا نہیں۔ جس طرح متذکرہ بالا صفات شرک کی تردید کے لیے کافی ہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ کے اطمینان اور تسلی کے لیے بھی ان صفات کا ذکر کفایت کرتا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی قدرومنزلت کا کیا کہنا کہ آپ ﷺ پر سایہ جس طرح ان صفات کا ہے اسی طرح تمام صفات آپ ﷺ کی طرف متوجہ رہتی ہیں اور آپ ﷺ گویا اللہ تعالیٰ کی صفاتِ عالیہ کے حصار میں رہتے ہیں : یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے
Ayah 20:9

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

کیا آئی ہے آپ کے پاس موسیٰ کی سرگزشت۔

وَھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 9) (کیا آئی ہے آپ کے پاس موسیٰ کی سرگزشت۔ ) ھَلْکا مفہوم ھَلْ …استفہام کے لیے آتا ہے۔ یہ استفہام کبھی تقریری ہوتا ہے اور کبھی انکاری۔ یہاں یہ استفہام تقریری ہے اور جہاں تک اس کے موقع استعمال کا تعلق ہے اسے دو موقعوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی تہدید و وعید کے لیے اور کبھی ترغیب و تشویق کے لیے۔ یہاں اس کا استعمال ترغیب و تشویق کے لیے ہے۔ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے دل میں تشویق پیدا کی جارہی ہے تاکہ وہ شوق سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت سنیں۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں اچانک بغیر کسی مناسبت کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر شروع کردیا گیا ہے حالانکہ ایسا نہیں۔ ہم سورت کے تعارف میں یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ اہل کتاب تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا رسول سمجھتے ہی تھے عرب بھی انھیں اہل کتاب کے اثر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا رسول مانتے تھے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور تعلیم کے حوالے سے جو کچھ اعتراض کرتے تھے کسی پیغمبر کی زندگی کے واقعات سے ان اعتراضات کا جواب دیا جاتا۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت سے ان تمام اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے اور اس تعلیم کی جھلک دکھائی گئی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی اور جو بعینہ وہی ہے جو نبی کریم ﷺ پیش فرما رہے تھے۔ اور آنحضرت ﷺ جس صورتحال سے دوچار تھے اور جس طرح آپ ﷺ کی مخالفت کی جارہی تھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے تقابل سے اس کے ایک ایک منظر کی تائید کی جارہی ہے۔ چناچہ آغاز اس بات سے کیا جارہا ہے کہ دشمنوں کی سازشوں کی وجہ سے آپ ( علیہ السلام) مصر چھوڑ کر ناگفتہ بہ حالات میں مدین پہنچے تھے، وہاں اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کی دستگیری فرمائی وہاں آپ ( علیہ السلام) کو ایک ایسی جائے پناہ ملی جس نے آپ ( علیہ السلام) کے تمام غموں کا مداوا کردیا۔ وعدے کے مطابق آٹھ یا دس سال گزارنے کے بعد وہاں سے آپ ( علیہ السلام) مصر جانے کے ارادے سے نکلے لیکن راستہ بھول گئے۔
Ayah 20:10

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جبکہ موسیٰ نے ایک آگ دیکھی تو اپنے اہل خانہ سے کہا کہ تم لوگ یہاں ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے تاکہ میں اس سے ایک انگارہ لے آئوں یا ممکن ہے مجھے وہاں کوئی راستہ دکھانے والا مل جائے۔

اِذْرَاٰنَارًا فَقَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْٓا اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِنْھَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ھُدًی۔ (طٰـہٰ : 10) (جبکہ موسیٰ نے ایک آگ دیکھی تو اپنے اہل خانہ سے کہا کہ تم لوگ یہاں ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے تاکہ میں اس سے ایک ان گیا ری لے آئوں یا ممکن ہے مجھے وہاں کوئی راستہ دکھانے والا مل جائے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو راستے میں پیش آنے والے واقعات آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کی اہلیہ محترمہ بھی یقینا آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ تھیں۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی خادم بھی ہو۔ روایات میں کہا گیا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ بکریوں کا ایک ریوڑ بھی تھا۔ آپ ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ آپ ( علیہ السلام) کی اہلیہ جاڑوں کے موسم اور سخت سردی کی وجہ سے کانپ رہی ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) اس پریشانی میں مبتلا ہوگئے کہ اب کیا کیا جائے۔ آپ ( علیہ السلام) نے چقماق رگڑ کر آگ نکالنے کی کوشش کی لیکن سردی کی شدت کی وجہ سے آگ نہ نکلی۔ آپ ( علیہ السلام) نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو دور سے ایک آگ دکھائی دی تو آپ ( علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو مجھے ایک آگ دکھائی دی ہے، میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے وہاں کوئی راستہ دکھانے والا مل جائے یا میں وہاں سے آگ کی چنگاری لے آئوں تاکہ آپ اسے تاپ سکیں۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ اٰنَسْتُکے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو آگ دیکھی تھی وہ کوئی آگ کا الائو نہ تھا بلکہ ایک شعلہ مستعجل تھا جو چمکا اور بجھ گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ” اٰنَسْتُ ، رَأَیْتُ “ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور تفسیر مظہری کے مطابق ایناسایسی چیز دیکھنا ہے جس کے دیکھنے سے دل میں انس و طمانیت پیدا ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک شعلہ نہیں بلکہ آگ تھی اور آگ بھی ایسی جسے دیکھ کر اس کی طرف لپکنے کو جی چاہتا تھا۔ ویسے بھی ایک معمولی عقل بھی یہ بات سمجھتی ہے کہ پہاڑوں کے ہجوم میں ایک شعلہ جلا اور بجھ گیا تو اس سے یہ کیسے معلوم ہوسکتا تھا کہ آگ کہاں تھی، اس کا راستہ کہاں ہے اور ڈھونڈنے والے کو کہاں پہنچنا ہے ؟ اس کے لیے تو ضروری تھا کہ ایک نمایاں آگ ہوتی جو ماحول کو روشن کردیتی تاکہ راستہ بھولنے والا اس کو دیکھ کر وہاں پہنچ جاتا۔ اس لیے جن روایات میں یہ بات کہی گئی ہے وہ بےاصل نہیں معلوم ہوتی کہ یہ عجیب قسم کی آگ تھی جو اپنے اندر دلکشی اور دلآویزی رکھتی تھی۔ اس نے ایک سرسبز و شاداب درخت کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا اور اس کے جلنے سے ہر آن اس درخت کی شادابی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
Ayahs 20:11–12

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے، آواز آئی، اے موسیٰ ۔

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

یہ میں تمہارا رب ہوں، پس تم اپنے جوتے اتار دو ، کیونکہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔

فَلَمَّـآ اَتٰـھَا نُوْدِیَ یٰـمُوْسٰی۔ اِنِّیْٓ اَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ ج اِنَّـکَ بِالْوَادِالْمُقَدَّسِ طْوًی۔ (طٰـہٰ : 11، 12) (جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے، آواز آئی، اے موسیٰ ۔ یہ میں تمہارا رب ہوں، پس تم اپنے جوتے اتار دو ، کیونکہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔ ) آگ کی جگہ کے قریب اللہ تعالیٰ کا حکم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جہاں آگ دیکھی تھی جب اس کے قریب پہنچے تو مسند احمد وغیرہ میں وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کی طرف چلے اور اس کے قریب پہنچے تو ایک عجیب حیرت انگیز منظر دیکھا کہ ایک بڑی آگ ہے جو ایک ہرے بھرے درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے مگر حیرت یہ ہے کہ اس درخت کی کوئی شاخ یا پتا جلتا نہیں بلکہ آگ نے درخت کے حسن اور تری و تازگی اور رونق میں اور زیادتی کردی ہے۔ یہ حیرت انگیز منظر کچھ دیر تک اس انتظار میں دیکھتے رہے کہ شاید کوئی چنگاری آگ کی زمین پر گرے تو یہ اٹھا لیں۔ جب دیر تک ایسا نہ ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے گھاس وغیرہ کے کچھ تنکے جمع کرکے اس آگ کے قریب کیا کہ ان میں آگ لگ جائے گی تو ان کا کام ہوجائے گا مگر جب یہ گھاس پھونس آگ کے قریب کیے تو آگ پیچھے ہٹ گئی اور بعض روایات میں یہ ہے کہ آگ ان کی طرف بڑھی یہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گئے۔ بہرحال آگ حاصل کرنے کا مطلب پورا نہ ہوا۔ یہ عجیب و غریب آگ سے حیرت کے عالم میں تھے کہ ایک غیبی آواز آئی (روح) یہ واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہاڑ کے دامن میں پیش آیا جو ان کی داہنی جانب تھا اور جس کا نام طویٰ تھا۔ نُوْدِیَ یٰـمُوْسٰی۔ اِنِّیْٓ اَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ بحرمحیط، روح المعانی وغیرہ میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ آواز اس طرح سنی کہ ہر جانب سے یکساں آرہی تھی۔ اس کی کوئی جہت متعین نہیں تھی اور سننا بھی ایک عجیب انداز سے ہوا کہ صرف کانوں سے نہیں بلکہ اعضاء بدن سے سنا گیا جو ایک معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آواز کا حاصل یہ تھا کہ جس چیز کو آپ ( علیہ السلام) آگ سمجھ رہے ہیں وہ آگ نہیں اللہ تعالیٰ کی ایک تجلی ہے اور اس میں فرمایا کہ میں ہی آپ ( علیہ السلام) کا رب ہوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس آواز کے متعلق یہ یقین کس طرح ہوا کہ حق تعالیٰ ہی کی آواز ہے۔ اس کا اصل جواب تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کے قلب کو اس پر مطمئن کردیا کہ وہ یقین کرلیں کہ یہ آواز حق تعالیٰ ہی کی ہے۔ دوسری اس آگ کے حیرت انگیز حالات کہ درخت کو جلانے کے بجائے اس کی تازگی اور حسن بڑھا رہی ہے اور آواز بھی عام لوگوں کی آواز کی طرح نہیں کہ ایک سمت سے آئے بلکہ ہر طرف سے یہ آواز یکساں سنی جارہی ہے۔ دوسرے صرف کانوں نے نہیں بلکہ ہاتھ پائوں اور دوسرے اعضاء جو سننے کے لیے وضع نہیں ہوئے سب اس کی سماعت میں شریک تھے۔ اس سے بھی سمجھا گیا کہ حق تعالیٰ کی طرف سے یہ آواز ہے۔ حق تعالیٰ کا کلام لفظی بلاواسطہ سنا روح المعانی میں بحوالہ مسند احمد وہب کی روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ندا ” یاموسیٰ “ کے لفظ سے دی گئی تو انھوں نے لبیک کہہ کر جواب دیا اور عرض کیا کہ میں آواز سن رہا ہوں مگر آواز دینے والے کی جگہ معلوم نہیں، آپ کہاں ہیں تو جواب آیا کہ میں تیرے اوپر، سامنے، پیچھے اور تیرے ساتھ ہوں۔ پھر عرض کیا کہ میں یہ کلام خود آپ کا سن رہا ہوں یا آپ کے بھیجے ہوئے کسی فرشتہ کا، تو جواب آیا کہ میں خود ہی آپ سے کلام کررہا ہوں۔ اس پر صاحب روح فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ کلام لفظی بلاواسطہ فرشتہ کے خود سنا ہے جیسا کہ اہل السنۃ والجماعت میں سے ایک جماعت کا مسلک یہی ہے کہ کلام لفظی بھی قدیم ہونے کے باوجود سنا جاسکتا ہے۔ اس پر جو شبہ حدوث کا کیا جاتا ہے اس کا جواب ان کی طرف سے یہ ہے کہ کلام لفظی اس وقت حادث ہوتا ہے جبکہ وہ مادی زبان سے ادا کیا جائے جس کے لیے جسم، سمت، جہت شرط ہے نیز سننے کے لیے صرف کان مخصوص ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جس طرح سنا کہ نہ آواز کی کوئی جہت و سمت تھی اور نہ سننے کے لیے صرف کان مخصوص تھے بلکہ سارے اعضاء سن رہے تھے۔ ظاہر ہے یہ صورت احتمال حدوث سے پاک ہے۔ واللہ اعلم۔ (معارف القرآن) پروردگار کا تعارف اس آواز نے سب سے پہلے یہ غلط فہمی دور کی کہ اے موسیٰ تم جسے آگ سمجھ کے آئے ہو وہ آگ نہیں بلکہ میں تمہارا رب ہوں۔ تو تم اس وقت اپنے رب کے دربار اور اس کے حضور میں ہو۔ اس کا دربار چونکہ نہایت ادب کی جگہ ہے اس لیے اپنے جوتے اتار دو ۔ تم بظاہر تو طور کی وادی میں ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی تجلیات کا مرکز بنا کر اپنے قرب کی جگہ بنادیا ہے۔ اس لیے یہ جگہ کوہ سینا کے دامن میں ہونے کے باوجود ایک مقدس وادی بن گئی ہے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس وادی کے تقدس کے پیش نظر ضروری ہے کہ تم اپنے جوتے اتار دو ۔ زمین کی مٹی کو اگرچہ اللہ تعالیٰ نے طاہر اور مطہر بنایا ہے، اس کی وجہ سے جوتے کی ناپاکی بھی دور ہوجاتی ہے لیکن وہ جگہ جو اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا مرکز بن جائے وہاں انسان صرف پاکیزگی لیے ہی حاضر نہیں ہوتا بلکہ وہاں کی حاضری کے لیے ادب اور تواضع کا اہتمام بھی کرنا پڑتا ہے۔ اسلام میں ابتدائی زمانے میں اگرچہ مسجدوں میں جوتے سمیت جانے اور نماز پڑھنے کی اجازت تھی کیونکہ اس وقت پیش نظر صرف یہ تھا کہ یہود نے احکام کے ظاہر کو جس طرح اس کی روح پر غالب کردیا ہے اس کی مخالفت کی جائے اور ساتھ ہی ساتھ صرف صفائی اور پاکیزگی کے تصور کو پختہ کرنے کا اہتمام کیا جائے، لیکن بعد میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے معمول سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو مسجد میں نہایت تواضع اور ادب کے ساتھ داخلے اور نماز پڑھنے کی ترغیب دی گئی۔ آج بھی نماز جنازہ وغیرہ چونکہ عام طور پر کھلے میدانوں میں ادا کی جاتی ہے تو اسے جوتے سمیت ادا کرنے میں کوئی ہرج نہیں، لیکن مسجدوں میں جوتا پہن کر داخل ہونا یقینا تواضع اور ادب کے خلاف ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بشیر بن خصاصیہ کو قبروں کے درمیان جوتے پہن کر چلتے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اس مکان سے گزرو جس کا احترام مقصود ہے تو اپنے جوتے اتار دو ۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں میں بھی جوتا اتارنے کی حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم طویٰ کی پاک وادی میں ہو۔
Ayah 20:13

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

میں نے تجھ کو چن لیا ہے تو جو وحی کی جارہی ہے اسے غور سے سنو۔

وَاَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی۔ (طٰـہٰ : 13) (میں نے تجھ کو چن لیا ہے تو جو وحی کی جارہی ہے اسے غور سے سنو۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر آپ ( علیہ السلام) کی حیثیت کا انکشاف پروردگار نے سابقہ آیت کریمہ میں اپنا تعارف کرایا، پھر اس جگہ کی شناخت بتائی جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے تھے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیثیت واضح کی گئی ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کا اس جگہ حاضر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے مشرف ہونا ایک عام آدمی کی حیثیت سے نہیں بلکہ یہ عنایات اس وجہ سے ہورہی ہیں کہ آپ ( علیہ السلام) کو پروردگار نے چن لیا اور برگزیدہ کرلیا ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو نبوت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب آپ ( علیہ السلام) اسی لمحے یقین کرلیجئے کہ آپ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور نبی چونکہ وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی وحی اترتی ہے تو اب آپ ( علیہ السلام) پر وحی کی جارہی ہے، اسے غور سے سنو، کیونکہ کلام الٰہی سننے کا ایک ادب ہے، اسے دوسرے کلام کی طرح لاپرواہی اور بےنیازی سے نہیں سنا جاسکتا۔ استماع کا لفظ لا کر جہاں کلام الٰہی کے سننے کے ادب کی طرف اشارہ ہے وہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف پوری طرح متوجہ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو عزت اور عظمت عطا فرمائی جارہی ہے اس کا اظہار بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ آپ ( علیہ السلام) کو جو نبوت کا عظیم منصب سونپا گیا ہے اس کی ذمہ داری کی طرف اشارہ بھی ہے۔ بعض روایات میں کہا گیا ہے ( اگرچہ ان کی ثقاہت محل نظر ہے) کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آیت کو سن کر اس طرح ادب کی تصویر بن کر کھڑے ہوگئے کہ دونوں ہاتھ اپنے عصا پر رکھ لیے اور ٹھوڑی اپنے ہاتھوں پر ٹکا لی اور سراپا ادب بن کر کلام الٰہی کی طرف متوجہ ہوگئے۔
Ayah 20:14

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی بندگی کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔

اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ لا وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ ۔ (طٰـہٰ : 14) (بےشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی بندگی کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی جانے والی اولیں تعلیم یہ اولین تعلیم ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی اور یہی تعلیم ہمیشہ تمام انبیائے کرام کو دی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ 1 سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اے موسیٰ ، تم جس آواز کو سن رہے ہو، یہ آواز تمہارے خدا کی آواز ہے۔ میں ہی اللہ ہوں جو تم سے مخاطب ہوں۔ دنیا نے اگرچہ ہمیشہ مجھے تسلیم کیا ہے لیکن جہاں تک میرے اِلٰہ ہونے کا تعلق ہے اس میں انھوں نے ہمیشہ ٹھوکریں کھائی ہیں۔ ہر قوم نے اپنے اپنے حالات اور بگاڑ کے مطابق مختلف قوتوں کو میرا شریک بنایا ہے۔ ان کی پوجا پاٹ بھی کی ہے اور ان سے استمداد بھی کی ہے۔ لیکن تمہیں اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ میرے سوا کوئی اِلٰہ نہیں۔ جس طرح میں کائنات کا خالق ہوں اور میری تخلیق میں کسی کا کوئی دخل نہیں اسی طرح میں اس کائنات کا مالک اور آقا بھی ہوں۔ میں ہی اس کائنات کا حاکم مطلق ہوں۔ میں جس طرح غیرمشروط پرستش کرانے کا حق رکھتا ہوں اسی طرح میں مطاع مطلق بھی ہوں۔ میں رب ہونے کی وجہ سے جس طرح مخلوقات کو پالتا ہوں اور ان کی جسمانی ضروریات کی کفالت کرتا ہوں اسی طرح میں نے جن و انس کی معنوی اور روحانی تربیت کی ذمہ داری بھی لے رکھی ہے۔ 2 جس ذات کی یہ صفات ہوں اسی ذات کو زیبا ہے کہ اس کی عبادت اور بندگی کی جائے۔ اس لیے تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ تم صرف میری بندگی کرو اور مجھے ہی معبود مانو اور اس بندگی میں کسی اور کو شریک مت کرو۔ عبادت ایک وسیع لفظ ہے۔ جس طرح اس کے مفہوم میں پرستش داخل ہے اسی طرح اطاعت بھی اس کا حصہ ہے۔ اس لیے جس طرح میرے سوا کسی اور کی پوجا پاٹ نہیں ہوسکتی، کسی اور سے دل آباد نہیں کیے جاسکتے، کسی اور پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، کسی اور سے خوف نہیں کھایا جاسکتا، اسی طرح کسی اور کی غیرمشروط اطاعت بھی نہیں ہوسکتی۔ نہ اس کی پرستش میں کسی کو شریک کیا جاسکتا ہے نہ اس کی اطاعتِ مطلقہ میں کسی کو ساجھی بنایا جاسکتا ہے۔ پرستش اور اطاعت دونوں مل کر وفاداری اور غلامی کے جس مفہوم کو مکمل کرتی ہیں، وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے شایانِ شان ہے۔ 3 توحید اور عبادت کے تصور کو کامل اور راسخ کرنے کے لیے نماز قائم کرنے کا حکم دیا۔ اقامت کے لفظ سے اہتمام کی طرف اشارہ کیا کہ نماز خاموشی اور تنہائی میں پڑھنے سے مناجات کا حق تو ادا کیا جاسکتا ہے اور یقینا اخلاص کو بھی اس سے جلا ملتی ہے، لیکن اس سے اقامت کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اجتماعی طور پر انفرادی اور اجتماعی پابندی کے ساتھ اس طرح نماز ادا کی جائے کہ پہلے اس کے بلاوے کے لیے اذان گونجے، پھر لوگ کشاں کشاں مسجد کی طرف بڑھیں، لوگوں کا امام آگے بڑھے اور انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ صفیں سیدھی ہوں، امام بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کرے اور پھر اس کا کلام پڑھ کر سنائے اور لوگ پیچھے ہاتھ اٹھا کر یعنی پوری دنیا کو پیچھے پھینک کر نہایت آمادگی کے ساتھ غلام کی طرح ہاتھ باندھ کر غلاموں کی تصویر بن کر غلامی کے اظہار کے لیے کھڑے ہوں پھر اسی غلامی کی تکمیل کے لیے کبھی رکوع میں جھکیں، کبھی سجدے میں زمین پر سر رکھ دیں، کبھی قیام میں تن کر کھڑے ہوجائیں۔ اور مقصود اس سے صرف یہ ہو کہ دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے معمور ہوں، زبانیں اس کے ذکر سے زمزمہ سنج ہوں اور ماحول اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی تصویر بن جائے۔ چناچہ یہی وہ نماز ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی سب سے بڑی محافظ ہے اور تمام انبیائے کرام کو توحید کی تعلیم کے بعد سب سے پہلے اسی کی ہدایت ہوئی اور اسی کے ذریعے سے بندہ اپنے عہدبندگی کو بار بار اس طرح یاد کرتا ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ کی یاد اس سے الگ نہیں ہوتی اور وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے نماز کو قائم رکھا، اس نے پورے دین کو قائم رکھا اور جس نے نماز کو ضائع کردیا، اس نے پورے دین کو ضائع کردیا۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ نماز قائم کر، تاکہ میں تجھے یاد کروں۔ جس طرح دوسری جگہ فرمایا گیا ہیفَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ ” تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز جس طرح اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کا نہایت موثر ذریعہ ہے، اسی طرح ایک بہت بڑی سعادت بھی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نماز قائم کرنے والوں کو یاد رکھتا ہے۔ اس شخص کی عظمت کا کیا کہنا جسے اس کا مالک یاد کرتا ہو کیونکہ اس کی یاد نہ صرف زندگی کی ضامن بلکہ دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی کا ذریعہ ہے۔
Ayah 20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے، میں اسے مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔

اِنَّ السَّاعَۃَ اٰ تِیَۃٌ اَکَادُ اُخْفِیْہَا لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا تَسْعٰی۔ (طٰـہٰ : 15) (بےشک قیامت ضرور آنے والی ہے، میں اسے مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ ) توحید اور نماز کے بعد قیامت کی تلقین توحید، عبادت اور نماز کے بعد اب قیامت کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ اس میں سب سے پہلیاٰ تِیَۃٌ کا لفظ لا کر ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، وہ یہ کہ ایسے لوگ بہت کم گزرے ہیں اور آج بھی کچھ زیادہ نہیں جو قیامت کے سرے سے منکر ہوں۔ عرب کھل کر قیامت کا انکار نہیں کرتے تھے البتہ ! انھیں اس کے آنے کا یقین نہیں تھا۔ آج کا انسان بھی قیامت کا اقرار کرتا ہے لیکن اس کے اندر اس کے آنے کا یقین پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے سب سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ قیامت کا آنا حتمی اور یقینی ہے۔ کیونکہ اٰ تِیَۃٌ اسم فاعل ہے۔ اس کے اندر زور اور تاکید ہے۔ اس کا معنی صرف یہ نہیں کہ قیامت آئے گی بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شدنی اور اٹل ہے۔ اس کے بعد اس کے آنے کا مقصد بیان کیا گیا ہے یعنی قیامت صرف اس لیے نہیں آئے گی کہ کائنات کی بساط لپیٹ دی جائے بلکہ اس لیے آئے گی کہ ہر فرد کو اس کے اعمال کی جزاء یا سزا ملے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا ہر عمل محفوظ رکھا جائے گا۔ اس کی ذہنی کاوشیں مجسم حالت میں سامنے لائی جائیں گی۔ اسے مخفی اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ لوگوں کو ہمیشہ اس کے آنے کا کھٹکا لگا رہے۔ اگر اس کے آنے کو کھول دیا جاتا، تاریخ بتادی جاتی، وقت طے ہوجاتا تو جو لوگ اس کی آمد سے بہت فاصلے پر ہوتے وہ لاپراہی کا شکار ہوجاتے۔ اور جو اس کے قریب زمانے میں ہوتے، ان کی آزمائش ادھوری رہتی۔ اس لیے صرف یہ بتایا گیا کہ وہ کسی وقت بھی آسکتی ہے اور یہ بھی فرمایا گیا کہ اس کی تیاری کے لیے انسان کی زندگی مہلت عمل بنائی گئی ہے۔ موت کے آجانے کے بعد تیاری کا ہر عمل رک جائے گا۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس کی موت آگئی اس کی قیامت تو قائم ہوگئی۔ اس لیے اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ قیامت کب آئے گی، وہ کسی وقت بھی آئے ہر شخص کی زندگی ہی تیاری کا موقع ہے اس میں قیامت کی تعجیل یا تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ اگر ذہنوں میں یہ بات تازہ رہے کہ قیامت کسی وقت بھی آسکتی ہے ہوسکتا ہے وہ ہماری زندگی میں آجائے تو پھر کوئی شخص بھی آخرت کی تیاری سے غافل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے زور دے کر فرمایا گیا کہ قیامت آکے رہے گی اور اس کا آنا اس لیے ضروری ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ انسان کو آزمایا جائے کہ وہ اپنی زندگی کو حُسنِ عمل سے آراستہ کرتا ہے یا خواہشات کی تکمیل میں صرف کردیتا ہے۔ اَکَادُ اُخْفِیْہَا … کے الفاظ جملہ معترضہ کے طور پر آئے ہیں۔ اکثر مفسرین نے اَکَادُ کو اُرِیْدُ کے معنی میں لیا ہے جس سے شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں قیامت کو چھپا کے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ لوگوں کو ہر وقت اس کے آنے کا اندیشہ رہے اور وہ عمل کے لیے کوشاں رہیں، لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اَکَادُسے جملہ کے اندر ایک نیا مضمون پیدا ہوگیا ہے کہ میں اگرچہ قیامت کو چھپائے رکھنا چاہتا ہوں اور ابھی یہ پردہ میں ڈالے رکھوں گا لیکن خود قیامت کا حال یہ ہے کہ وہ بےنقاب ہوجانے کے لیے بےقرار ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الاعراف میں بھی گزر چکا ہے۔ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لاَ تَاتِیْکُمْ اِلاَّبَغْتَۃٌ ” آسمان و زمین دونوں اس کے بوجھ سے گراں بار ہیں، وہ تمہارے اوپر بس اچانک ہی آدھمکے گی۔ “
Ayah 20:16

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

پس نہ روکے تمہیں اس سے وہ شخص جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے کہ تم ہلاک ہو کر رہ جائو۔

فَلاَ یَصُدَّنَّکَ عَنْھَا مَنْ لاَّیُؤْمِنُ بِھَا وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ فَتَرْدٰی۔ (طٰـہٰ : 16) (پس نہ روکے تمہیں اس سے وہ شخص جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے کہ تم ہلاک ہو کر رہ جاؤ۔ ) عَنْھَا اور بِھَا کی ضمیروں کا مرجع مفسرین نے عَنْھَا اور بِھَا کی ضمیروں کے مرجع میں اختلاف کیا ہے۔ جمہور مفسرین کا خیال تو یہ ہے کہ دونوں ضمیروں کا مرجع السَّاعَۃَہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سابقہ آیت کریمہ میں السَّاعَۃَ کا لفظ گزرا ہے۔ قریب ہونے کی وجہ سے اسی کو دونوں ضمیروں کا مرجع ہونا چاہیے۔ جو شخص بھی دونوں آیتوں کو پڑھے گا وہ سیاق کلام سے خودبخود سمجھ جائے گا کہ یہاں السَّاعَۃَ ہی ضمیروں کا مرجع ہے اور اسی پر زور دینا بھی مقصود ہے کیونکہ مذہب کی تاریخ اور انسانی فطرت دونوں اس بات پر شاہد ہیں کہ انسان جب بھی بگڑا ہے قیامت اور آخرت کے تصور سے بیگانہ ہو کر بگڑا ہے۔ جب کسی شخص کو اس بات کا یقین نہیں رہتا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب قیامت کا صور پھونکا جائے گا۔ محشر بپا ہوگا، اللہ تعالیٰ کی عدالت سجے گی اور تمام لوگ اپنے زندگی بھر کے افکار و اعمال کا حساب دینے کے لیے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے کیے جائیں گے۔ اسی حساب اور جوابدہی کے نتیجے میں جزاء اور سزا کا ترتب ہوگا۔ یہ تصور جب تک یقین بنا رہتا ہے انسان آخرت کی تیاری سے غافل نہیں ہوتا اور جوابدہی کا احساس ہمیشہ اسے راہ راست پر رہنے کی تلقین کرتا رہتا ہے۔ اور جب یہ تصور یقین کی قوت سے محروم ہوجاتا ہے تو پھر اس کی زندگی غیرذمہ داری اور غیرسنجیدگی کا ایسا نمونہ بن جاتی ہے کہ جس میں انسانی قدریں ختم ہوجاتی ہیں، اخلاق تباہ ہوجاتے ہیں اور انسان حیوانی زندگی اختیار کرلیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام انبیائے کرام کو جس تعلیم و تربیت کے منصب پر فائز کیا اس میں سب سے زیادہ زور آخرت کی یاددہانی پر تھا۔ بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ اور جن کی تعداد زیادہ نہیں کہ عَنْھَا کی ضمیر کا مرجع الصلوۃ یعنی نماز ہے۔ اور بِھَا کی ضمیر کا مرجع السَّاعَۃَیعنی قیامت ہے۔ اس میں اگرچہ انتشارِ ضمائر لازم آتا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انتشارِ ضمائر اس وقت کلام میں عیب ہوتا ہے جب اس پر کوئی قرینہ موجود نہ ہو اور یہاں قرینہ بالکل واضح ہے۔ اس آیت میں دو فعل استعمال ہوئے ہیں یَصُدَّنَّاور دوسرا یُؤْمِنُاور زبان کا ذوق رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ روکنے کا تعلق نماز سے ہے اور ایمان لانے کا تعلق قیامت سے۔ اس لیے یہاں مرجع کے تعین میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ یہ دوسری رائے بھی قابل احترام ہے لیکن آیت کریمہ کا مفاد اگر سامنے رکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیش نظر آیت اور سابقہ آیت میں تمام تر زور قیامت پر یقین پیدا کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ نماز کی یقینا بےحد اہمیت ہے اور اس کا ذکر گزشتہ سے پیوستہ آیت میں ہوچکا ہے۔ کلام چونکہ ایک ترتیب سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس ترتیب کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں آیتوں کو قیامت کے عقیدے کے لیے ہی مخصوص سمجھا جائے۔ وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ … یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کی شناخت یہ ہے کہ وہ خواہشِ نفس کی پیروی کرنے لگتا ہے۔ چونکہ اسے اپنے اعمال کی جوابدہی کا کوئی کھٹکا نہیں رہتا اس لیے اسے سارے کھیت میں چرنے سے عار نہیں ہوتا۔ وہ ہر طرح کے مال اور ہر طرح کے مفادات کو خوان یغما سمجھتا ہے۔ حصول زر کا ہر ذریعہ اس کے لیے جائز ٹھہرتا ہے اور مال و دولت اور زندگی کی راحتوں کی اس کے نزدیک کوئی حد نہیں ہوتی۔ اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد صرف یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ دنیا جمع کروں اور زیادہ سے زیادہ راحت و آرام اپنے لیے حاصل کروں۔ دولت، عزت اور اقتدار اس کے ایسے دیوتا ہیں جن کی وہ ہمیشہ پوجا کرتا رہتا ہے۔ کوئی اخلاقی وعظ اور کوئی حرف دانش اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ نتیجہ آخر یہ ہوتا ہے کہ وہ ہلاک ہوجاتا ہے اور اپنے ساتھ نہ جانے کس کس کو لے کر ڈوبتا ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت فیصلہ تیرا، ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم
Ayah 20:17

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟

وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْـنِکَ یٰـمُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 17) (اور اے موسیٰ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ ) عربی زبان میں ہماری زبان کی طرح یمین و یسار یعنی دایاں اور بایاں دونوں ہاتھوں کے لیے بولے جاتے ہیں، لیکن کبھی یمین کا لفظ اس تقسیم سے مجرد ہو کر بھی صرف ہاتھ کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے اور یہاں صرف ہاتھ ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دین کے بنیادی حقائق کا علم دینے اور بعض ضروری اخلاقی صداقتوں پر توجہ دلانے کے بعد نہایت اپنائیت سے سوال کیا کہ اے موسیٰ ! آپ کے ہاتھ میں کیا ہے ؟ آپ کے ہاتھ میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو ایک ہی نظر میں دیکھنے سے معلوم نہ ہوتی۔ ایک لاٹھی تھی جو اکثر آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ اس لیے سرسری نظر میں بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پروردگار کا یہ سوال کسی تحقیق کے لیے نہیں بلکہ اظہارِ التفات و نوازش کے لیے تھا۔ جس طرح باپ بعض دفعہ اپنے بیٹے کو ازراہِ محبت ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے جس کو وہ بیٹے سے زیادہ جانتا ہے۔ اسی طرح پروردگار نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا۔ اور اس سے شاید یہ مقصود بھی ہو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اچھی طرح یہ بات ذہن میں تازہ کرلیں کہ ان کے ہاتھ میں ایک سادہ سی لاٹھی ہے جس سے چھوٹے موٹے کام لیے جاسکتے ہیں، اس میں کوئی غیرمعمولی صلاحیت نہیں۔
Ayah 20:18

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

عرض کی یہ میرا عصا ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے چھاڑتا ہوں اور میرے لیے اس میں کئی اور فائدے بھی ہیں۔

قَالَ ھِیَ عَصَایَ ج اَتَوَکَّؤْا عَلَیْھَا وَاَھُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیْ وَلِیَ فِیْھَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی۔ (طٰـہٰ : 18) (عرض کی یہ میرا عصا ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے چھاڑتا ہوں اور میرے لیے اس میں کئی اور فائدے بھی ہیں۔ ) اَتَوَکَّؤْا…ٹیک لگانا، سہارا لینا۔ اَھُشُّ … درختوں کے پتے جھاڑنا۔ مَاٰرِبُ …اس کا واحد مَأرُبَۃٌ، مَأرِبَۃٌ، مَأرَبَۃٌ اس کا معنی ہے حوائج۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب سوال کا جواب صرف اتنا بھی ہوسکتا تھا کہ یہ میری لٹھیا ہے کیونکہ اس قدر جواب کفایت کرتا ہے۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ ( علیہ السلام) نے عرض کیا کہ یہ میری وہ لاٹھی ہے کہ جب میں تھک جاتا ہوں تو اس پر ٹیک لگا لیتا ہوں یا ایسی ہی کوئی اور ضرورت لاحق ہوتی ہے تو تب بھی اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اسی لاٹھی کے ذریعے میں اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں کیونکہ میرا کام بکریوں کو چرانا ہے، شاخیں بلند ہونے کی وجہ سے جب بکریاں خود پتوں تک نہیں پہنچ سکتیں تو میں اپنی لاٹھی سے ان کے کھانے کے لیے پتے جھاڑتا ہوں۔ اسی طرح اور بھی کئی کام میں اس سے لیتا ہوں۔ اس تفصیل کو صرف سوال کا جواب کہنا تو مشکل ہے، اس میں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ میں اپنے خالق ومالک اور اپنے آقا سے ہمکلام ہوں۔ یہ ایسا شرف ہے جو کبھی کسی انسان کو میسر نہیں آیا اور میں بھی نہیں جانتا کہ یہ لمحہ پھر کبھی لوٹ کے آئے گا یا نہیں۔ تو مجھے ان لمحات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے جواب کو طویل کرنا چاہیے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی عنایات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکوں اور لطف کلام سے دیر تک حظ اٹھاسکوں۔ اور کیا عجب کہ میرے جواب کی طوالت سے مزید سوال و جواب کی راہ کھلے اور مجھے مزید شرف ہم کلامی سے بہرہ ور ہونے کا موقع ملے۔ یہ تو انسانی فطرت ہے کہ جس ذات سے کوئی شخص دل و جان سے محبت کرتا ہے اور اسے اپنی رسائی سے بہت بلند سمجھتا ہے تو اگر کبھی ایسے محبوب کے آستانے پر حاضری کا موقع ملے تو وہ یقینا ہزار بہانوں سے اسے طویل تر کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایسی ہی کچھ کیفیت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تھی۔ اس لیے انھوں نے اپنی معروضات میں کسی حد تک تفصیل سے کام لیا۔ لذیذ بود حکایت درازتر گفتم
Ayahs 20:19–20

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

پروردگار نے فرمایا، اس کو زمین پر ڈال دو ،

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

اے موسیٰ ۔ حضرت موسیٰ نے اسے ڈال دیا تو دفعتاً وہ ایک رینگتا ہوا سانپ بن گیا۔

قَالَ اَلْقِھَا یٰـمُوْسٰی۔ فَاَلْقٰھَا فَاِذَا ھِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی۔ (طٰـہٰ : 19، 20) (پروردگار نے فرمایا، اس کو زمین پر ڈال دو ، اے موسیٰ ۔ حضرت موسیٰ نے اسے ڈال دیا تو دفعتاً وہ ایک رینگتا ہوا سانپ بن گیا۔ ) عصائے موسیٰ ایک معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے عصا کے جو فوائد بیان فرمائے اور اس کی جن صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا ان میں سے کوئی بات بھی غیرمعمولی نہ تھی۔ ہر چرواہے کے ہاتھ میں ایسی ہی لاٹھی ہوتی ہے اور وہ اس سے ایسے ہی کام لیتا ہے، لیکن پروردگار نے حکم دیا کہ اے موسیٰ ! اسے زمین پر ڈال دو اور پھر قدرت خداوندی کا کرشمہ دیکھو۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اسے زمین پر ڈال دیا۔ ڈالنے کی دیر تھی وہ تو ایک سانپ بن گیا۔ اس آیت میں تو اس سانپ کے لیے حَیَّۃٌ کا لفظ آیا ہے۔ جو عام سانپ کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے اور اس کا اطلاق چھوٹے اور بڑے اور مذکر اور مونث ہر طرح کے سانپ پر ہوتا ہے اور سورة الاعراف آیت 107 میں اسے ثعبان مبین کہا گیا ہے۔ اس کا معنی بہت بڑا سانپ یا اژدھا ہے۔ اور سورة النمل آیت 10 میں اسے جَآنٌّسے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا اطلاق باریک سانپ پر کیا جاتا ہے۔ ان تینوں آیات کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں تو ایک اژدھا تھا، لیکن جب وہ دوڑتا تھا تو باریک سانپ کی طرح تیزی سے دوڑتا تھا۔ کیونکہ بڑے تن و توش والا سانپ کبھی بھی تیز نہیں دوڑ سکتا اور اس کے جسم میں پھرتیلا پن نہیں ہوتا۔ وہ اپنے جسم کو بڑی مشکل سے حرکت دیتا ہے۔ لیکن یہ عجیب طرح کا سانپ تھا کہ دیکھنے والا اژدھا سمجھ کر اس سے خوف کھاتا تھا۔ لیکن جب وہ حرکت میں آتا تھا تو اس کی تیزی کے مقابلے میں کوئی سانپ ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ اور یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پہلی دفعہ جب اس معجزے کا ظہور ہوا تو آپ ( علیہ السلام) کی لاٹھی ایک عام سانپ کی طرح آپ ( علیہ السلام) کے سامنے بل کھانے اور دوڑنے لگی۔ اس سے تو صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ ہم نے اس لاٹھی میں سانپ بننے کی صلاحیت رکھی ہے تو آپ ( علیہ السلام) جب بھی اس سے کام لینا چاہیں گے یہ آپ ( علیہ السلام) کے لیے سانپ بن جائے گی لیکن جب آپ ( علیہ السلام) کو فرعون کے سامنے تبلیغ و دعوت کے لیے جانا پڑا اور آپ ( علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے نمائندے کے طور پر اس کے سامنے پیش کیا تو آپ ( علیہ السلام) نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ میں واقعی اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوں، اسے کوئی نشانی دکھانا چاہی تو آپ ( علیہ السلام) نے عصا اس کے سامنے پھینکا تو اس وقت وہ عام سے سانپ کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا بلکہ وہ اژدھا بن گیا تاکہ فرعون اور اس کے مصاحبین یہ دیکھ کر سہم جائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ لوگ خوف زدہ ہوگئے اور آپ ( علیہ السلام) کیخلاف کوئی بڑا اقدام کرنے کی کبھی جرأت نہ کرسکے۔
Ayah 20:21

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرو نہیں، ہم اس کو پھر اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔

قَالَ خُذْھَا وَلاَ تَخَفْ وقفۃ سَنُعِیْدُھَا سِیْرَتَھَا الْاُوْلٰی۔ (طٰـہٰ : 21) (اللہ نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرو نہیں، ہم اس کو پھر اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ ) جیسے ہی آپ ( علیہ السلام) کا عصا سانپ کی صورت میں ظاہر ہوا تو آپ ( علیہ السلام) اسے دیکھ کر ڈر گئے کیونکہ سانپ کو دیکھ کر ڈرنا ایک امرطبعی ہے۔ ہر انسان اچانک سانپ کو دیکھے تو ڈر جاتا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تو خواب و خیال میں بھی نہ ہوگا کہ میری لاٹھی اچانک سانپ بن جائے گی۔ وہ جس لاٹھی کے بارے میں یہ خیال کرتے تھے کہ اسے سانپ مارنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے تو وہ خود سانپ بن گئی، تو آپ ( علیہ السلام) کا اس سے خوف کھانا کوئی تعجب کی بات نہ تھی۔ ہاں اگر آپ ( علیہ السلام) اسے دیکھ کر بالکل نہ ڈرتے تو یہ خلاف فطرت بات ہوتی اور اس سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کو شاید پہلے سے معلوم تھا کہ میری لاٹھی سانپ بن جائے گی۔ چناچہ جیسے ہی آپ ( علیہ السلام) اسے دیکھ کے ڈرے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے موسیٰ ، اسے پکڑ لو۔ ہم اسے دوبارہ پہلی حالت پر لوٹا دیں گے یعنی جیسے یہ پہلے لاٹھی تھی ویسی ہی لاٹھی بن جائے گی۔