20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsروح القرآن

Ayah 20:111

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

لوگوں کے چہرے اس حیّ وقیوم کے آگے جھک جائیں گے اور نامراد ہوا وہ شخص جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔

وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَـیُّـوْمِ ط وَقَدْخَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا۔ (طٰـہٰ : 111) (لوگوں کے چہرے اس حیی قیوم کے آگے جھک جائیں گے اور نامراد ہوا وہ شخص جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ سفارش کرنے والا دوسرا کام یہ کرتا ہے کہ وہ اپنا اثر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سزا دینے والے افسر کو یہ احساس دلاتا ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان ایک گہرا رشتہ ہے اگر تم نے میری سفارش قبول نہ کی تو یہ رشتہ ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ اور پھر تم یہ بھی جانتے ہو کہ جس طرح میں ایک کام کے لیے تمہارے پاس آیا ہوں ایسے ہی کئی کام تمہیں بھی میرے ساتھ پیش آسکتے ہیں۔ کیونکہ میں بھی ایک موثر مسند پر فائز ہوں اور ایک خاص حیثیت کا مالک ہوں۔ اگر تم نے میری بات کو قبول نہ کیا تو تم اپنا نقصان کرو گے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سفارش کے لیے حاضر ہونے والا کوئی شخص بھی ایسی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کے سب مقبول بندے اور اس کے یہاں بڑا تقرب رکھنے والے اس کے سامنے ادنیٰ بندوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ جس قدر کوئی معرفتِ حق سے بہرہ ور ہے اتنا ہی وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کے قلب و نگاہ میں بسی رہتی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ تم جن لوگوں کی شفاعت پر بھروسہ کرکے یہ سمجھتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اثرانداز ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ بڑی حیثیتوں کے مالک ہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ سب لوگوں کے چہرے اور سب لوگوں کی شخصیتیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکی ہوئی ہیں اور سب اس کے سامنے سجدہ ریز رہتے ہیں اور اسی سے پناہ مانگتے رہتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ تم نے پروردگار کے بارے میں یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس نے اپنے سارے اختیارات ان قوتوں کو دے رکھے ہیں جنھیں تم اپنی ضرورتوں کے لیے پکارتے ہو اور خود وہ عضو معطل بن کر کائنات کے کسی گوشے میں آرام کررہا ہے اور یا فلاسفہ کے نزدیک اس کی حیثیت علۃ العلل کی ہے جو ایک دفعہ کائنات کو حرکت دے کر اب تماشا دیکھ رہا ہے۔ جس طرح ایک بوڑھا آدمی اپنے بڑھاپے کے باعث گھر میں بیکار چیز ہو کر رہ جاتا ہے مشرکین نے بھی پروردگار کو ایسا ہی سمجھ رکھا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ ہ حیی اور قیوم ہے۔ وہ زندہ خدا ہے اور باقی ہر زندہ مخلوق کی زندگی اس کے حکم سے بندھی ہوئی ہے۔ بیشمار کُرّے آسمان کی وسعتوں میں محو پرواز ہیں لیکن یہ آپس میں کبھی متصادم نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس قیوم ذات نے انھیں سنبھالا ہوا ہے۔ کائنات کا ہر گوشہ اس کے حکم سے زندہ اور اپنے فرائض ادا کررہا ہے اور کوئی چیز اس کی نگرانی کی نگاہ سے باہر نہیں۔ کوئی چیز اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ ہر مخلوق اس کے تکوینی نظام میں بندھی ہوئی ہے۔ جو ذات اس قدر قوتوں کی مالک اور اس قدر عظمتوں کی حامل ہے تم اس کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ جو شخص چاہے گا وہ منہ اٹھائے اس کے پاس شفاعت کے لیے پہنچ جائے گا۔ مزید فرمایا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یوں تو اللہ تعالیٰ کی ہر نافرمانی بہت بڑا جرم ہے لیکن شرک اس کے نزدیک ایسا جرم ہے جس کی کوئی تلافی نہیں اور جسے پروردگار کبھی معاف نہیں فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا کہ جس شخص نے ظلم کا بار اپنے سر پر اٹھا لیا، وہ نامراد ہوگیا اور قرآن کریم کی وضاحت کے مطابق شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ اس لیے قرآن کریم جب عقیدے کے حوالے سے ظلم کا لفظ بولتا ہے یا زندگی کے مجموعی رویئے کو اس لفظ سے تعبیر کرتا ہے تو اس سے مراد شرک ہوتا ہے۔
Ayah 20:112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو شخص نیک عمل کرتا ہے اور وہ صاحب ایمان بھی ہے تو اسے اندیشہ نہیں ہوگا کسی حق تلفی یا تعدی کا۔

وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَھُوَ مُـؤْمِنٌ فَلاَّ یَخٰفُ ظُلْمًا وَّلاَ ھَضْمًا۔ (طٰـہٰ : 112) (اور جو شخص نیک عمل کرتا ہے اور وہ صاحب ایمان بھی ہے تو اسے اندیشہ نہیں ہوگا کسی حق تلفی یا تعدی کا۔ ) نجات پانے والے اللہ تعالیٰ کے یہاں نجات کا راستہ وہ نہیں جو مشرکین نے سمجھ رکھا ہے کہ ساری زندگی عیش و عشرت اور اتباعِ ہوا میں گزار کر یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے ان کی شفاعت ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے گی۔ یہ تصور عقل کے لحاظ سے بھی کس قدر مہمل ہے کیونکہ زندگی اور پھر اس میں حواس اور عقل جیسی نعمت اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتیں اس لیے تو نہیں دی گئیں کہ انسان خواہشات کے اتباع میں زندگی گزار کر یہاں سے رخصت ہوجائے اور زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے تو پھر تو یہ کہنا پڑے گا کہ انسان جو کائنات کا گل سرسبد ہے اس کی تخلیق فعلِ عبث کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ وہ عبث کام کرے۔ یقینا اس زندگی اور ان بےپایاں نعمتوں کا کوئی مقصد ہے جس کے حوالے سے کل کو بازپرس ہونے والی ہے۔ اس لیے نجات یا عدم نجات کا تعلق اگر کسی چیز سے ہوسکتا ہے تو وہ صرف اس زندگی اور ان نعمتوں کے حوالے سے ہے جن سے انسان کو بہرہ ور کیا گیا ہے۔ اس لیے یہاں نہایت اصولی بات فرمائی گئی کہ اس شخص کی نامرادی میں کوئی شبہ نہیں جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کو پہچاننے کی بجائے شرک کا رویہ اختیار کیا۔ اور بندگانِ خدا سے بہتر تعلقات رکھنے کی بجائے ظلم کا طریقہ اپنایا۔ البتہ نجات صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری۔ یعنی انھوں نے مقصد زندگی کو سمجھا، اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی، اس کے احکام کو جانا اور اپنے آپ کو اس پر قربان کردیا۔ یہی وہ میرٹ ہے جس پر آخرت میں کامیابی کا دارومدار ہے۔ یہاں اسی میرٹ کو بیان فرمایا گیا کہ آخرت میں ہر طرح کی حق تلفی اور ہر طرح کی تعدی اور زیادتی کے اندیشے سے صرف وہ شخص محفوظ ہوگا جس نے ایمان کی دولت پائی اور عمل صالح سے اسے پروان چڑھایا۔ اور اعمال کیے تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس کا محتسب جانا اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو رہنما بنایا۔ ایسے لوگوں کا یقینا یہ حق ہے کہ وہ دنیا میں حیات طیبہ سے نوازے جائیں اور آخرت میں انھیں وہ فوزوفلاح نصیب ہو جس کی امید پر انھوں نے زندگی میں تلخیاں برداشت کی تھیں۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن کی صورت میں اتارا اور اس میں ہم نے اپنی وعید گوناگوں پہلوئوں سے واضح کردی تاکہ یہ لوگ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ان کے اندر کچھ سوجھ بوجھ پیدا کریں۔

وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّصَرَّفْنَا فِیْہِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّھُمْ یَتَّـقُوْنَ اَوْیُحْدِثُ لَھُمْ ذِکْرًا۔ (طٰـہٰ : 113) (اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن کی صورت میں اتارا اور اس میں ہم نے اپنی وعید گوناگوں پہلوئوں سے واضح کردی تاکہ یہ لوگ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ان کے اندر کچھ سوجھ بوجھ پیدا کریں۔ ) قرآن عربی کا مفہوم اس سے پہلے آیت 99۔ 100 میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو اپنی طرف سے ایک ذکر عطا کیا ہے جو اس سے اعراض کریں گے وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ کا عطف انہی آیتوں پر ہے۔ اس آیت کریمہ میں اسی مضمون پر اضافہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے جو قرآن کریم نازل کیا ہے اور جس پر تمام انسانوں کی نجات کا دارومدار ہے ہم نے اس میں دو صفات ایسی رکھی ہیں جو سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ یہ خطاب براہ راست اہل مکہ سے ہورہا ہے اور ان کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو عربی زبان بولتے ہیں۔ تو قرآن کریم کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے اس کا فہم اور ادراک ان کے لیے آسان ہوگیا ہے اور مزید یہ کہ اسے نازل بھی اس عربی زبان میں کیا گیا ہے جو قریش کی زبان ہے۔ اس کے محاورات، اس کی تلمیحات حتیٰ کہ اس کا روز مرہ وہی ہے جسے قریش پہلے سے جانتے ہیں۔ اس کی آیات رحمت اور آیات عذاب کے مدلولات کو سمجھنا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ اس کے باہمی ربط و ضبط اور اس کے اسالیب کا صحیح ادراک ان کے لیے سامنے کی بات ہے۔ اب یہ لوگ یہ عذر نہیں کرسکتے کہ ہم قرآن کریم کی دعوت سے اس لیے فائدہ نہ اٹھا سکے کہ وہ ایک ایسی زبان میں تھا جسے ہم نہیں سمجھ سکتے تھے۔ قرآن کریم کا عربی زبان میں نازل ہونا جس طرح عربوں کے لیے سہولت کا باعث تھا اسی طرح یہ اتمامِ حجت کا ذریعہ بھی تھا۔ جس طرح آخری رسول کا ان کی طرف مبعوث ہونا اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے لیکن ساتھ ساتھ اتمامِ حجت بھی ہے اسی طرح قرآن کریم کا عربی زبان میں آنارحمت ہونے کے ساتھ ساتھ اتمامِ حجت بھی ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کے لیے عربوں کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہے گا۔ تصریفِ وعید کا مفہوم دوسری صفت یہ ہے کہ ہم نے عربی قرآن کی صورت میں جس طرح اپنی دعوت کو ان کے ذہنوں کے قریب اور ان کے لیے آسان کردیا اسی طرح ہم نے گوناگوں انداز میں مختلف پیرایہ ہائے بیان بدل کر انھیں تنبیہات بھی کیں۔ مختلف معذب قوموں کے تذکروں سے انھیں جھنجھوڑا گیا اور زندگی کے مختلف نمونوں سے ان کی زندگیوں میں ارتعاش پیدا کرنے کوشش کی تاکہ ان کے اندر اپنی ڈگر سے ہٹ کر نئے طریقے سے سوچنے کی امنگ پیدا ہو۔ یہ اپنی زندگی کے غیرسنجیدہ رویئے کو بدلنے پر آمادہ ہوسکیں اور یہ تاریخ کے آئینہ میں اپنی زندگیوں کے حسن و قبح اور اپنے ہولناک انجام کی تصویر دیکھ سکیں۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

پس، بہت برتر ہے اللہ بادشاہِ حقیقی، پس آپ ﷺ قرآن کے اخذ میں جلدی نہ کریں اس سے پہلے کہ آپ ﷺ کی طرف اس کی وحی پوری ہوجائے، اور دعا مانگا کیجیے، میرے رب ! (اور) زیادہ کر میرے علم کو۔

فَـتَعٰـلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ج وَلاَ تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّـقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗ ز وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔ (طٰـہٰ : 114) (پس، بہت برتر ہے اللہ بادشاہِ حقیقی، پس آپ ﷺ قرآن کے اخذ میں جلدی نہ کریں اس سے پہلے کہ آپ ﷺ کی طرف اس کی وحی پوری ہوجائے، اور دعا مانگا کیجیے، میرے رب ! (اور) زیادہ کر میرے علم کو۔ ) اللہ تعالیٰ بہت بزرگ و برتر ہے، وہ انسانوں کی پرستش اور بندگی کی حاجت نہیں رکھتا۔ سارے انسان بھی گمراہ ہوجائیں، اس کی الوہیت اور حاکمیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود اگر وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے اس قدر رحمت کا سلوک فرماتا ہے جیسا کہ متذکرہ بالا آیت میں گزر چکا، تو یہ سراسر اس کا کرم اور اس کی عنایت ہے۔ آنحضرت ﷺ کو ہدایت وہ ذات اس قدر عظیم اور بلند ہے کہ انسان براہ راست اس سے ہدایت اخذ نہیں کرسکتا۔ انسانی صلاحیتیں اس کی روئیت اور اس کے سماع پر دسترس نہیں رکھتیں۔ اس لیے اس نے انسانوں کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے اپنے پیغمبر بھیجے اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے ان کے دلوں پر اپنا کلام اتارا۔ پیغمبر بھی انسان ہی ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ انھیں غیرمعمولی صلاحیتوں سے نوازتا ہے اور ان کو ایسا حوصلہ عطا فرماتا ہے کہ وہ اس کے کلام کا جو وحی کی صورت میں ان پر نازل ہوتا ہے تحمل کرسکیں۔ آنحضرت ﷺ پر بھی اسی طرح قرآن کریم نازل کیا گیا۔ چناچہ جب قرآن کریم حضرت جبرائیل (علیہ السلام) لے کر نازل ہوتے تھے تو کلام خداوندی سے غائت درجہ شوق، شغف اور محبت کے باعث آنحضرت ﷺ پر ایک بیتابی کی کیفیت طاری ہوتی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ ﷺ کو اس بات کا شدید احساس رہتا کہ جیسی کامل توجہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے سماع میں ہونی چاہیے اس میں کمی نہ آنے پائے۔ اور پھر اس کے یاد کرنے میں بھی کوئی کمزوری نہ رہ جائے۔ ایک طرف کلام خداوندی کا جلال اور اس پیغام کی عظمت، دوسری طرف آنحضرت ﷺ کا شوق اور شغف اور ساتھ ہی ساتھ یہ احساس بھی کہ کہیں کوئی لفظ میرے حافظے میں محفوظ ہونے سے نہ رہ جائے اس سے ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی جو آنحضرت ﷺ پر بہت شاق گزرتی اور بڑی گرانی کا باعث بنتی۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت محبت سے مزید کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب جبرائیل ہمارا کلام لے کر اتریں تو آپ ﷺ نہایت اطمینان سے اسے سنیں۔ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔ کیونکہ اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا اور پھر اس کا بیان کرانا یہ سب ہماری ذمہ داری ہے۔ آپ ﷺ اس خیال میں مبتلا نہ ہوں کہ کوئی آیت آپ ﷺ کے حافظے میں پیوست ہونے سے رہ جائے گی۔ یہ وہ بات ہے جو سورة قیامہ میں فرمائی گئی تھی۔ اب اسی کا اعادہ کرتے ہوئے پھر یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ آپ ﷺ قرآن کریم کے اخذ کرنے میں شوق و اضطراب کا غیرمعمولی اظہار نہ کریں بلکہ وحی کے ختم ہونے کا انتظار کریں۔ اس کے بعد آپ ﷺ دیکھیں گے کہ جو کچھ وحی کیا گیا ہے، وہ سب کچھ آپ ﷺ کے حافظے میں محفوظ ہے۔ البتہ آپ ﷺ کے شوق و اضطراب کے لیے یہ بات کفایت کرتی ہے کہ آپ ﷺ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اپنے علم میں افزونی کے لیے دعا کرتے رہیں۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک حکم دیا تھا، سو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔

وَلَقَدْ عَھِدْنَـآ اِلٰٓی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَـنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْلَـہٗ عَزْمًا۔ (طٰـہٰ : 115) (ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک حکم دیا تھا، سو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔ ) ربطِ کلام سابقہ آیات کریمہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان کرنے کے بعد یہ بتلایا گیا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل اور اہل مصر کی ہدایت کے لیے رسول بنا کر بھیجا اور پھر انھیں تورات دینے کے لیے کوہ طور پر بلایا اور وہ جاتے ہوئے اپنی قوم کو بتا کر گئے کہ میں تمہارے لیے ایک ہدایت نامہ لینے کے لیے جارہا ہوں جس سے ہمیشہ تم رہنمائی حاصل کرسکو گے۔ لیکن قوم نے اس ہدایت نامہ کا انتظار کرنے کی بجائے عجل پرستی میں مبتلا ہو کر ایک ایسی گمراہی کا راستہ کھولا جس کیخلاف برسوں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انھیں تیار کررہے تھے۔ اس کے بعد ان واقعات کے اختتام پر آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ میں نے آپ ﷺ کو اپنی طرف سے قرآن کریم کی شکل میں ایک نصیحت اور یاددہانی سے نوازا ہے تاکہ آپ ﷺ کی قوم اور باقی اہل دنیا اس گمراہی میں مبتلا نہ ہوں جس میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے تھے۔ مزید یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نازل ہونے والے ذکر پر آئندہ دنیا کی زندگی کی کامیابی کا انحصار ہے۔ اگر وہ اس پر عمل کریں گے تو یہاں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے۔ لیکن اگر انھوں نے اس ذکر سے اعراض کیا اور ہَوائے نفس کی پیروی کی تو پھر یہاں بھی انھیں برے انجام سے واسطہ پڑے گا اور آخرت میں ان کا بارگناہ ان کے لیے ایک ایسا وبال بن جائے گا جس سے وہ کبھی نجات نہ پاسکیں گے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں یہ یاد دلایا جارہا ہے کہ ہم اس وقت جو نصیحت آپ کے واسطے سے آپ کی قوم کو کر رہے ہیں کہ تمہاری کامیابی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت کے اتباع میں ہے۔ یہ بات کوئی نئی نہیں، ہم نے تخلیقِ آدم کے فوراً بعد انھیں یہی بات بتلائی تھی اور ان کے واسطے سے ان کی اولاد کو اس کا پابند بنایا گیا تھا، لیکن حضرت ِ آدم (علیہ السلام) جس طرح ایک حکم کی اطاعت میں نسیان کا شکار ہوئے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اولادِ آدم نے اگر ان کمزوریوں پر قابو نہ پایا تو وہ بھی بار بار اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کے سلسلے میں نسیان کا شکار ہوں گے، جس کا انجام بہت خطرناک ہے۔ ابلیس کی بات ماننے کا سبب حضرتِ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے بنایا تھا، پھر انھیں ان علوم و معارف سے آگاہ کیا تھا جس سے فرشتے بھی بیخبر تھے۔ انھیں اس حد تک قدرومنزلت سے نوازا گیا کہ جنت ان کا مسکن ٹھہری اور ان کا دل بہلانے کے لیے حضرت حوا کو ان کے ساتھ رکھا گیا۔ البتہ ! یہ بات ضرور ہے کہ وہ ایک انتہائی پاکیزہ ماحول اور گناہ کی ہر آلودگی سے دور جنت میں رہنے کے باعث گناہ کے کسی محرک سے ہرگز آگاہ نہ تھے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ خدع و فریب کیا ہوتا ہے اور کس طرح اس کے حملوں سے بچا جاسکتا ہے۔ بنابریں اپنی تمام تر قدرومنزلت کے باوجود جب شیطان نے انھیں بہکانے کے لیے تزویر کے آلات سے ان پر حملہ کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو یاد نہ رکھ سکے جو انھیں ایک درخت کے پھل سے اجتناب کا دیا گیا تھا، حالانکہ اچھی طرح بتادیا گیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے وہ کسی وقت بھی تم پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔ لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی معصومیت کے باعث ان پیشگی تنبیہات کو دل و دماغ کا اس طرح حصہ نہ بنا سکے جو ان کے اندر ایک مضبوط ارادے کی شکل اختیار کرلیتا۔ اور اپنی معصومیت کے باعث دجل و فریب کی گہرائی تک اترنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس سے اولادِ آدم کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ تم تو دنیا میں رہ کر فریب کی وارداتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہَوائے نفس کے حملے بڑے شدید ہوتے ہیں اور تمہیں یہ بھی خبر ہے کہ عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے۔ اس لیے تمہارے بچائو کی یہی ایک صورت ہے کہ تم شیطانی وارداتوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول کی رہنمائی کی پناہ میں آجاؤ اور اپنے اندر وہ یقین و ایمان اور جذبہ اطاعت پیدا کرو جو عزم صمیم بن کر شیطنت کے ہر حملے کا مقابلہ کرسکے۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) کی فروگزاشت اور ابلیس کی نافرمانی میں فرق مزید یہ بات بھی بتلائی گئی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے یقینا ایک قصور سرزد ہوا۔ آپ ( علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا آپ ( علیہ السلام) اسے بھلا بیٹھے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوگیا۔ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جیسے ہی آپ ( علیہ السلام) کو تنبہ ہوا تو آپ ( علیہ السلام) کے دل و دماغ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی، کمر بار ندامت سے جھک گئی، شدت غم سے دل پھٹنے لگا اور فرطِ حیاء سے آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کی ہمت نہ ہورہی تھی۔ چناچہ قدرت نے دستگیری فرمائی۔ آگے بڑھ کر آپ کو ٹوٹنے سے بچا لیا اور گرنے سے تھام لیا، کیونکہ آپ کی پشیمانی نے یہ واضح کردیا کہ مجھ سے گناہ ضرور سرزد ہوا ہے لیکن میں گنہگار نہیں ہوں، مجھ سے نافرمانی کا ظہور ہوا ہے لیکن میں نافرمان نہیں ہوں۔ میں اپنی لغزش اور فروگزاشت پر دل کی تمام گہرائیوں سے نادم ہوں اور مغفرت کا طلبگار ہوں اور ایک دوسری نافرمانی ابلیس کی بھی تھی۔ اس نے نہ صرف اپنی نافرمانی پر اصرار کیا بلکہ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگ کر سرکشی اور تمرد کا راستہ اختیار کرلیا۔ اولادِ آدم کو یہ بتانا مقصود ہے کہ اولاً تو اپنے باپ کی طرح گناہ کے قریب نہ جانا کیونکہ تمہارے پاس گناہ کی پہچان کے تمام ذرائع موجود ہیں۔ لیکن اگر تم ہَوائے نفس سے مغلوب ہوکر کبھی گناہ کر ہی بیٹھو تو پھر اپنے جدِامجد کے طریقے کو اختیار کرنا، شیطان کے راستے پر نہ جانا۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح ندامت کا اظہار کرنا اور گریہ وزاری سے مغفرت طلب کرنا کہ خود اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آجائے۔
Ayah 20:116

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

(اور جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے انکار کردیا۔

وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلآَّ اِبْلِیْسَ ط اَبٰی۔ (طٰـہٰ : 116) (اور جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے انکار کردیا۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں نہایت اجمال سے حضرت آدم کے جس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اب اس کی کسی حد تک تفصیل بیان کی جارہی ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا قالب تیار کیے جانے کے بعد جب ان میں روح پھونکی گئی تو تمام فرشتوں کو سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا گیا۔ اس سے پہلے سورة البقرہ اور سورة الاعراف میں ہم یہ تفصیل عرض کرچکے ہیں کہ یہ حکم صرف ملائکہ کے لیے ہی تھا یا اس میں جنات بھی شامل تھے ؟ اور فرشتوں کے جس سجدے کا حکم دیا گیا تھا، کیا یہ وہی سجدہ تھا جسے ہم سجدہ عبادت کہتے ہیں یا اس سجدہ کی نوعیت کچھ اور تھی ؟ اور مزید یہ بات کہ ابلیس نے انکار کے بعد کیا رویہ اختیار کیا اور کس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کی تحقیر کرتے ہوئے اپنے آپ کو ان سے برتر بتایا اور پھر یہ چیلنج کیا کہ مجھے جس طرح یہاں سے نکالا جارہا ہے، یہ چونکہ سب کچھ آدم کی وجہ سے ہوا ہے تو میں اسے اور اس کی اولاد کو راستی پر چلنے کا موقع نہیں دوں گا۔ میں ہر ممکن طریقے سے انھیں گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ حضرتِ آدم کا یہ واقعہ ساتویں دفعہ یہاں بیان ہورہا ہے اور ہر دفعہ تخلیقِ آدم کا وہ حصہ ذکر کیا جاتا ہے جو موقع کے مطابق ہوتا ہے اور اگر کہیں پہلے کہی ہوئی بات کے تکرار کی نوبت آتی ہے تو پیرایہ بیان بدل جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب تک قرآن کریم کے وہ تمام مقامات جہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا ہے جمع کرکے نہ دیکھ لیے جائیں، اس وقت تک اس واقعہ کی (جو مختلف ضمنی واقعات پر مشتمل ہے) تفصیلات دستیاب نہیں ہوتیں۔ اور ان واقعات کی صحیح گہرائی اور گیرائی کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اور مزید یہ بات بھی کہ ان واقعات کے بار بار ذکر ہونے کے باوجود کہیں بھی اس بات کا احساس نہیں ہونے پاتا کہ ہم یہ بات پہلے پڑھ چکے ہیں۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دفعہ یہ بات ہمارے علم میں آرہی ہے اور اگر یہ پہلے سے ذہن میں موجود بھی تھی تو اس کے بعض گوشے ایسے ہیں جو اب ہماری آنکھوں کے سامنے آرہے ہیں۔
Ayah 20:117

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

تو ہم نے کہا، اے آدم ! یہ تمہارا بھی دشمن ہے اور تمہاری بیوی کا بھی، سو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے اور پھر تم مصیبت میں پڑ جائو۔

فَقُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّلَّـکَ وَلِزَوْجِکَ فَلاَ یُخْرِجَنَّـکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَـتَشْقٰی۔ (طٰـہٰ : 117) (تو ہم نے کہا، اے آدم ! یہ تمہارا بھی دشمن ہے اور تمہاری بیوی کا بھی، سو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے اور پھر تم مصیبت میں پڑجاؤ۔ ) حضرت آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی دشمنی سے آگاہی حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ٹھہراتے ہوئے پروردگار نے آگاہ کردیا تھا کہ یہ ابلیس تمہارا دشمن ہے۔ آیت کریمہ میں ” ھذا “ کا لفظ یہ اشارہ کر رہا ہے کہ حضرت آدم ابلیس کو جانتے پہچانتے تھے۔ اس نے سب کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اور اس کی دشمنی سے بھی واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم کو مٹی سے۔ آگ سے پیدا ہونے والی مخلوق مٹی سے بننے سے والی مخلوق کے سامنے کیسے سجدہ کرسکتی ہے۔ اور پھر وہ اس بات سے بھی واقف ہوں گے کہ اس نے آدم کے خلاف صرف حسد کا اظہار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ سے مہلت بھی مانگی ہے کہ مجھے اپنی فضیلت اور آدم کی نااہلی ثابت کرنے کا موقع دیا جائے۔ میں اس کی اولاد کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر پروردگار نے حضرت آدم کو متنبہ کیا کہ یہ تمہارا دشمن ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں بہکا کر کوئی ایسا کام کرا دے جس کے بعد تم جنت میں نہ رہ سکو۔ اور ان نعمتوں اور عنایات سے محروم ہوجاؤ جن سے تم جنت میں بہرہ ور ہو اور جو راحت و آرام اور عیش کی زندگی تمہیں جنت میں حاصل ہے وہ تم سے چھن جائے اور ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاؤ جو دکھوں سے مامور ہے اور جس میں اپنی روٹی کمانے کے لیے ہزار پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ فَـتَشْقٰی … شقاء سے ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ یہاں شقاء سے مراد وہ کلفت اور تھکن ہے جو کسب معاش کے باعث انسان محسوس کرتا ہے۔ یہاں تشقیٰ کا لفظ شقاوت اور بدبختی کے معنی میں مستعمل نہیں ہوا۔
Ayahs 20:118–119

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

اس میں تم کو یہ مقام حاصل ہے کہ تم اس میں نہ بھوکے رہو گے اور نہ ننگے رہو گے۔

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور نہ تم کو اس میں پیاس لگے گی اور نہ دھوپ ستائے گی۔

اِنَّ لَـکَ اَلاَّ تَجُوْعَ فِیْھَا وَلاَ تَعْرٰی۔ وَاَنَّـکَ لاَ تَظْمَؤُا فِیْھَا وَلاَ تَضْحٰی۔ (طٰـہٰ : 118، 119) (اس میں تم کو یہ مقام حاصل ہے کہ تم اس میں نہ بھوکے رہو گے اور نہ ننگے رہو گے۔ اور نہ تم کو اس میں پیاس لگے گی اور نہ دھوپ ستائے گی۔ ) اب جبکہ اس جنت میں تمہیں بغیر کسی کسب اور مشقت کے بنیادی ضرورتیں میسر ہیں لیکن اگر تمہیں جنت سے ابلیس نے نکلوا دیا تو تم کسب معاش کی کلفتیں برداشت کرنے کے لیے چھوڑ دیئے جاؤ گے۔ جنت کی تعریف جنت میں اہل جنت کو ملنے والی نعمتیں حد شمار سے باہر ہیں۔ آج ان کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے۔ قرآن کریم میں معجزانہ انداز میں ایک بات کہہ کر جنت کی منظرکشی کو ناممکن بنادیا ہے کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جس کی تمہارے نفس خواہش کریں گے۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جو عام آدمی تو کیا بڑے سے بڑا دولت مند اور بڑے سے بڑا حکمران بھی اس حالت کو کبھی حاصل نہیں کرسکتا۔ ہر آدمی کے ہزاروں ارمان ہیں اور جتنا کوئی شخص بڑا ہے اس کے ارمان بھی اتنے ہی بڑے ہیں اور یہ ارمان کبھی پورے نہیں ہوتے۔ حکومتیں ہمیشہ تزلزل کا شکار رہتی ہیں۔ دولت ڈھلتی چھائوں ہے۔ ہمیشہ جینے کی آرزو کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔ حوادث و مصائب سے نہ محکوم محفوظ ہے نہ حاکم۔ جبکہ ہر نفس یہ چاہتا ہے کہ میں زندگی میں کوئی غم نہ دیکھوں۔ اس طرح اندازہ ہوسکتا ہے کہ جنت کس قدر انمول نعمتوں اور ناممکن عنایات کی امین ہے، تو بجائے ان نعمتوں کو ذکر کرنے کے یہاں بنیادی ضرورتوں کو ذکر فرمایا گیا ہے جن کا حاصل کرنا ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔ پہلی بات یہ فرمائی کہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ فکرِمعاش اور پیٹ کا بھرنا ہے۔ اس لیے حضرت آدم کو فرمایا جارہا ہے کہ جنت میں تمہیں کبھی بھوک نہیں لگے گی۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہیں غذا کی حاجت نہیں ہوگی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ نعمتوں کی اس طرح فراوانی ہوگی کہ کبھی بھوک کو ستانے کا موقع نہیں ملے گا۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ تم کبھی ننگے نہیں ہوگے۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ تمہیں لباس میسر نہ آئے۔ تمہیں ہمیشہ حلہ جنت میں ملبوس رکھا جائے گا۔ خلعتِ فاخرہ سے نوازا جائے گا۔ روٹی اور کپڑے کے بعد تیسری بنیادی ضرورت پانی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ وہاں تمہیں کبھی پیاس تنگ نہیں کرے گی کیونکہ ہر طرف چشمے ابل رہے ہوں گے اور نیچے نہریں رواں دواں ہوں گی اور چوتھی یہ بات کہ تمہیں ایسے محلات دیئے جائیں گے جس میں تمہیں کبھی دھوپ پریشان نہیں کرے گی، لیکن اگر تمہیں اس جنت سے شیطان نکلوانے میں کامیاب ہوگیا تو سوچ لو کہ ان میں سے ایک ایک نعمت جو تمہیں بےمزد اور بغیر کسی مشقت کے میسر تھی چھن جائے گی۔ اب تمہیں اپنی روٹی، کپڑا، پانی اور مکان اور دیگر آسائشوں کے لیے ہاتھ پائوں مارنے پڑیں گے اور اپنی جان کھپانی پڑے گی۔ بعض دفعہ ان چیزوں کے حصول کے لیے کبھی پسینہ بہانہ پڑے گا، اور کبھی اپنی ایک ایک قوت اس راستے میں نچوڑ دینی پڑے گی۔
Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

تو شیطان نے آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا، کہا کہ اے آدم ! کیا میں تمہیں ہمیشگی کے درخت اور ایسی بادشاہی کا سراغ دوں جس پر کبھی کہنگی نہ آئے۔

فَوَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰٓـاٰدَمُ ھَلْ اَدُلُّـکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَ مُلْکٍ لاَّیَبْلٰی۔ (طٰـہٰ : 120) (تو شیطان نے آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا، کہا کہ اے آدم ! کیا میں تمہیں ہمیشگی کے درخت اور ایسی بادشاہی کا سراغ دوں جس پر کبھی کہنگی نہ آئے۔ ) ابلیس کی تزویر اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم ابھی جنت میں تھے اور اللہ تعالیٰ کی سکیم کے مطابق خلافت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ابھی زمین پر تشریف نہیں لائے تھے کہ شیطان جس نے اللہ تعالیٰ سے حضرت آدم اور ان کی ذُرِّیت کو گمراہ کرنے کے لیے مہلت حاصل کرلی تھی اپنے کام کا آغاز کرچکا تھا۔ وہ نہ جانے کب تک اس بات کا سراغ لگانے میں لگا رہا کہ میں حضرت آدم کو کس طرح بہکا سکتا ہوں۔ آخرکار اس نے انسانی فطرت کے گہرے مطالعہ سے یہ نکتہ اخذ کیا کہ انسان کے اندر یہ کمزوری رکھی گئی ہے کہ وہ جس چیز سے محبت کرتا اور شب و روز اس میں اضافے کی فکر میں رہتا ہے، وہی اس کی اصل کمزوری ہے۔ اگر اسے کسی طرح یقین دلا دیا جائے کہ فلاں کام کرنے سے تمہاری یہ مطلوب اور محبوب چیز بہتر انداز میں تمہیں مل سکتی ہے تو وہ آگے بڑھ کر اس کے قبول کرنے کے لیے مستعد ہوجاتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ابلیس جنت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے ممکن ذرائع مہیا فرما چکا تھا۔ اس نے حضرت آدم سے نہ جانے کیسے ملاقات کا وقت لیا اور کس طرح اپنی گزشتہ دشمنی پر معذرت کرتے ہوئے آئندہ کے لیے خیرخواہی کا یقین دلایا اور کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کو زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ سے محبت کے سوا کسی اور چیز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اور یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ جنت ان لوگوں کا مسکن ہے جو اللہ تعالیٰ سے پیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے پیار کرتا ہے۔ میں آپ کا خیرخواہ ہونے کی وجہ سے آپ کی خدمت میں یہ بتانے کے لیے حاضر ہوا ہوں کہ جس درخت کا پھل کھانے سے آپ کو روکا گیا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو شخص بھی اس کا پھل کھا لیتا ہے اسے بقائے دوام حاصل ہوجاتی ہے، اسے کبھی موت نہیں آتی اور کبھی جنت سے اسے نکالا نہیں جاتا۔ آپ اگر ہمیشہ کی بادشاہت چاہتے ہیں اور ایسا ملک جس کو کبھی زوال نہ آئے ظاہر ہے کہ وہ جنت ہے تو اس کا یہی طریقہ ہے کہ آپ اس درخت کا پھل کھا لیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں تو ہمیشگی کا درخت اور لازوال سلطنت کا حوالہ دیا گیا ہے جبکہ سورة الاعراف میں دونوں کے فرشتے بن جانے کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے یہ دونوں مختلف باتیں ہیں۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ قرآن کریم کے بیان میں یہ اختلاف پیدا ہوا ہو۔ اس لیے لوگوں نے اس کی مختلف توجیہات کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ بالکل سامنے کی بات یہ ہے کہ ابلیس حضرت آدم کو ورغلانے کے لیے صرف ایک دفعہ ہی جنت میں نہیں گیا بلکہ وہ مختلف وقتوں میں مختلف طریقوں سے اور مختلف پیشکشیں لے کر حاضر ہوتا رہا ہے۔ کبھی اس نے لازوال سلطنت کی بات کی، کبھی حیات دوام کی اور کبھی فرشتے بن جانے کی۔ نہ جانے اسے اس طریقے سے کتنے پاپڑ بیلنے پڑے۔ غرور اور فریب دہی کے جتنے طریقے ممکن ہوسکتے ہیں وہ سب اس نے حضرت آدم کو اپنے دام میں لانے کے لیے صرف کر ڈالے۔ میرا گمان یہ ہے وہ ان میں سے کسی طریقے سے کامیاب نہیں ہوسکا۔ تب اس نے آخری وار کیا۔ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ میں آپ کا خیرخواہ ہوں، صرف آپ کی حیات دوام کے لیے یہ کوشش کررہا ہوں۔ حضرت آدم اس کی دشمنی سے واقف تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ میں اس کے بہکاوے میں آکر جنت سے نکل بھی سکتا ہوں، لیکن جب اس نے اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھائی اور پھر آپ کے سامنے وہ بات پیش کی جو آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھی، یعنی جنت میں ہمیشہ کا قیام اور اللہ تعالیٰ کی دائمی رضا اور اس کی محبت کا حصول۔ تو وہ اس سے انکار نہ کرسکے۔ ان کے جذبہ محبت نے انھیں مجبور کیا کہ ابلیس دشمن ہی سہی لیکن اللہ تعالیٰ کا نام لے کر تو کوئی دشمن بھی جھوٹ نہیں بول سکتا اور وہ بھی جنت میں ؟ اس لیے آپ کو اس پر یقین کرلینا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی جس محبت نے آپ کو اسیر بنا رکھا ہے اسے حاصل کرنے میں تأمل نہیں کرنا چاہیے۔
Ayah 20:121

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

پس ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان کی شرمگاہیں ان پر عریاں ہوگئیں تو وہ اپنے اوپر جنت کے پتیّ گانٹھنے گونتھنے لگے اور آدم نے اپنے رب کی حکم عدولی کی، سو وہ بھٹک گئے۔

فَاَکَلاَ مِنْھَا فَبَدَتْ لَھُمَا سَوْاٰ تُھُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ ز وَعَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی۔ (طٰـہٰ : 121) (پس ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان کی شرمگاہیں ان پر عریاں ہوگئیں تو وہ اپنے اوپر جنت کے پتیّ گانٹھنے، گونتھنے لگے اور آدم نے اپنے رب کی حکم عدولی کی، سو وہ بھٹک گئے۔ ) ابلیس کے فریب کا اثر آخر ابلیس کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور حضرت آدم اور حضرت حوا شجرہ ممنوعہ کا پھل کھا بیٹھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنت کا جو خلعت انھیں پہنایا گیا تھا، وہ اس سے محروم کردیئے گئے۔ جیسے ہی انھوں نے اپنے آپ کو برہنہ دیکھا تو شرم و حیاء کے شدید تأثر کے تحت ادھر ادھر سے جنت کے درختوں کے پتے کھینچ کر اپنے اوپر چپکانے لگے۔ جنت کی جو اور نعمتیں انھیں عطا فرمائی گئی تھیں وہ تو اس وقت تک باقی رہیں جب تک انھیں جنت سے نکلنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ لیکن سرکاری پوشاک ان سے فوراً اتروا لی گئی۔ اس سے ایک بات جو سمجھ میں آتی ہے اور جو نہایت اذیتناک بھی ہے وہ یہ ہے کہ شیطان جب بھی انسانی سیرت و کردار پر حملہ کرتا ہے اور اس کو بدعملی پر اکساتا ہے تو اس کا سب سے پہلا حملہ انسان کی شرم و حیاء پر ہوتا ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ میں اسے اس جوہر سے محروم کردوں۔ چناچہ جیسے جیسے اس کے شرم و حیاء کا لباس اترتا جاتا ہے، ویسے ویسے وہ سفلی جذبات کا اسیر ہوتا جاتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بےحیائی میں کتے بلیوں کی سطح تک اتر جاتا ہے لیکن اسے اپنے اس بگاڑ کا کبھی احساس نہیں ہوتا۔ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم بھی اس کے اندر یہ جوہر پیدا کرنے میں ناکام رہتی ہے بلکہ آج کی تعلیم جس کا نصاب لارڈ میکالے نے مرتب کیا تھا اس کا تو اصل ہدف ہی یہ ہے کہ لڑکیوں کو نسوانیت کے زیور سے محروم کردیا جائے اور مردوں کو مردانگی کے جوہر سے، اور دونوں کو اس حد تک آزادانہ اختلاط کے نتیجے میں بےحیا کردیا جائے کہ وہ بےحیائی کو تہذیب سمجھیں اور شرم و حیا کی ہر بات کو رجعت پسندی قرار دیں۔ عَصٰٓی، غَوٰیکا مفہوم وَعَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّـہٗ فَغَوٰی… اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی، سو وہ بھٹک گیا۔ عَصٰٓیکا مصدر عصیان ہے۔ یہ فعل ماضی معروف ہے۔ اس کا معنی ہے ” اور آدم نے نافرمانی کی۔ “ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت آدم ابلیس کے وسوسوں سے اس قدر متأثر ہوئے کہ وہ یہ بھول گئے کہ ابلیس میرا دشمن ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھانے سے اس فریب میں مبتلا ہوگئے کہ کوئی شخص قسم کھا کر جھوٹ کیسے بول سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیشہ کے تقرب کی خواہش میں آپ ( علیہ السلام) وہ کام کر بیٹھے جس سے آپ ( علیہ السلام) کو روکا گیا تھا۔ اس پس منظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ ( علیہ السلام) نے حکم عدولی ضرور کی لیکن آپ ( علیہ السلام) کے اندر حکم عدولی کا جذبہ نہیں تھا۔ اس کا محرک یقینا اللہ تعالیٰ کے دائمی قرب کی خواہش تھی، لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ ( علیہ السلام) سے حکم عدولی ہوگئی جبکہ آپ ( علیہ السلام) حکم عدولی کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ ( علیہ السلام) بقائے دوام اور عیش دوام کے حصول کی کوشش میں ایک ایسا کام کر بیٹھے جس نے آپ ( علیہ السلام) کی زندگی کا عیش و آرام خاک میں ملا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ابن الاعرابی نے غَوٰی کا معنی فسد علیہ عیشہ کیا ہے۔ لیکن امام لغت اسماعیل بن حماد الجوہری نے الصحاح میں غَویٰ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غَوٰی کا معنی صرف گمراہ ہونا نہیں بلکہ اہل زبان اسے دو معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ (1) گمراہ ہونا (2) حصول مقصد میں ناکام ہونا۔ اس تحقیق کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت آدم نے جس مقصد کے لیے ابلیس کی بات مانی تھی، آپ ( علیہ السلام) وہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس لیے بعض مترجمین نیغَوٰی کا معنی کیا ہے، وہ نامراد ہوا۔ یعنی اپنے مقصد کو نہ پاسکا۔
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر اسے اس کے رب نے چن لیا، پھر اس کی توبہ قبول کی اور اس کو ہدایت بخشی۔

ثُمَّ اجْتَبٰـہُ رَبُّـہٗ فَتَابَ عَلَیْہِ وَھَدٰی۔ (طٰـہٰ : 122) (پھر اسے اس کے رب نے چن لیا، پھر اس کی توبہ قبول کی اور اس کو ہدایت بخشی۔ ) اجتباء کا مفہوم حضرتِ آدم (علیہ السلام) ابلیس کی کوششوں سے شجرِممنوعہ کا پھل تو کھا بیٹھے لیکن جیسے ہی انھیں تنبہ ہوا تو ان کی دنیا اندھیر ہوگئی، وہ سمجھ گئے کہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرچکا ہوں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انھیں ابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کہ اگر ایسا کوئی قصور سرزد ہوجائے تو اس کے بعد کیا کرنا چاہیے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا صدمہ اور دوسری اس بیخبر ی کی پریشانی، شب و روز رونے دھونے کے سوا کوئی کام نہ رہا اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم تھا کہ حضرت آدم نے نافرمانی ضرور کی ہے لیکن وہ نافرمان نہیں ہیں۔ اس لیے ان کی بےبسی اور بےکسی کو دیکھ کر رحمت کی نظر فرمائی اور ان کو گرنے سے سہارا دیا اور اپنے خصوصی فضل و کرم سے انھیں اپنے تقرب کے لیے چنتے ہوئے توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ پروردگار جب کسی کو نوازتا اور اپنا بناتا ہے تو اس پر سب سے پہلا کرم یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنی غلطیوں کا شعور ہوجاتا ہے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کے آستانے پر اس طرح ڈھیر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی اس کا سر اٹھاتی ہے۔ چناچہ یہاں اجتباء کے لفظ سے یہی توبہ کی توفیق مراد ہے۔ سورة بقرہ میں بھی اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ فَتَلَقَّیٰ اٰدَمُ مِن رِّبِّـہٖ کَلِمَاتٍ ” آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے۔ “ یہ وہی کلمات ہیں جن کے ذریعہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے توبہ کی۔ اور سورة الاعراف میں انھیں ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد پروردگار نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور مزید یہ کرم فرمایا کہ زندگی میں آنے والے مراحل کے لیے ہدایت عطا فرمائی کہ اب تمہیں زندگی کا سفر کس طرح طے کرنا ہے۔ اس آیت سے جہاں ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصل خوبی یہ نہیں کہ وہ فرشتوں کی طرح کبھی گناہ نہ کرے بلکہ اس کی اصل خوبی یہ ہے کہ گناہ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ لیکن اگر کبھی بشری تقاضوں سے کوئی گناہ ہوجائے تو ابلیس کی طرح اس پر اڑنے کی بجائے فوراً ندامت کے آنسوئوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک جائے۔ وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم سے اگر غلطی ہوئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی غلطی سے درگزر فرمایا بلکہ انھیں دوبارہ تقرب سے نوازا، انھیں توبہ کی توفیق بخشی اور پھر توبہ قبول فرمائی۔ اس قدر مکمل وضاحت کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ حضرت آدم دنیا میں اس طرح تشریف لائے کہ آپ ( علیہ السلام) کی پیشانی پر نافرمانی کا داغ تھا اور پھر آپ ( علیہ السلام) کی ذُرِّیت گناہ کا بار لے کر پیدا ہوتی رہی۔ عیسائیوں میں انسان کے ابدی گناہگار ہونے کا جو تصور ہے، اس وضاحت کے بعد اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم جس طرح نسل آدم کے جدِامجد ہیں، اسی طرح وہ نبی بھی ہیں کیونکہ قرآن کریم سے ہمیں زندگی کے لیے جو رہنمائی ملتی ہے اس کا تعلق صرف زمینی حالات ہی سے نہیں بلکہ اس کا غالب حصہ اس بات پر مشتمل ہے کہ ہم کوئی سا کام اللہ تعالیٰ کی رضا مندی سے ہٹ کر نہ کریں، اسی سے ہماری دنیوی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور یہی رویہ ہماری اخروی کامیابیوں کا ضامن ہوگا۔ اس اساسی تصور کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان زندگی کے ہر معاملے میں صرف حواس اور عقل سے رہنمائی حاصل کرے کیونکہ عقل یقینا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور اس کی ناراضگی کے اسباب کیا ہیں ؟ اس کے لیے ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی دی جائے جسے وحی الٰہی اور نبوت کہا جاتا ہے۔ بنابریں یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ جس طرح حضرت آدم ہمارے مورث اعلیٰ ہیں، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی بھی ہیں۔
Ayah 20:123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

حکم ہوا کہ تم سب یہاں سے اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے، پس اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ محروم رہے گا۔

قَالَ اھْبِطَا مِنْھَا جَمِیْعًا م بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج فَاِمَّا یَاْ تِیَنَّـکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی 5 لا فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلاَ یَضِلُّ وَلاَ یَشْقٰی۔ (طٰـہٰ : 123) (حکم ہوا کہ تم سب یہاں سے اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے، پس اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ محروم رہے گا۔ ) سورة البقرہ اور سورة الاعراف میں اس آیت کے تمام متعلقات پر گفتگو ہوچکی ہے۔ اس میں ہم یہ گزارش کرچکے ہیں کہ زمین پر حضرت آدم کا بھیجا جانا خلافتِ ارضی کی ذمہ داریوں کی بجاآوری کے لیے تھا اور اسی لیے نوع انسانی کی تخلیق کی جارہی تھی۔ اور جنت کے واقعہ نے یہ بات واضح کردی تھی کہ آئندہ بھی اصل کشمکش آدمیت اور شیطنت میں ہوگی۔ ابلیس ذُرِّیت آدم کو ہر ممکن طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ وہ ان کا حقیقی دشمن ہے اور ذُرِّیتِ آدم کا کام اس کی دشمنی کا مقابلہ کرنا اور اس ہدایت کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جائے گی زندگی گزارنا ہے۔ چناچہ اسی مقصد کے لیے حضرت آدم و حوا اور ابلیس کو زمین پر اتارا گیا۔ اس آیت میں تثنیہ کا صیغہ دیکھ کر بعض اہل علم کو یہ گمان گزرا ہے کہ اس سے مراد حضرت آدم اور حضرت حوا ہیں حالانکہ سورة البقرہ اور سورة الاعراف میں اترنے کا ذکر جمع کے صیغہ کے ساتھ کیا گیا ہے اور یہاں بھی جمیعاً کی قید ساتھ لگی ہوئی ہے۔ اور تثنیہ کا مفاد بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ آدم اور ابلیس کو دو گروہوں کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ابلیس اور آدم میں اصل تعلق ان دونوں کو اترنے کا حکم دے کر ان کے درمیان اصل تعلق کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوگے، یعنی ابلیس تمہارا دشمن ہوگا۔ وہ ہر ممکن طریقے سے تمہیں بہکائے گا اور تم اس کو دشمن سمجھ کر اس کے ہر راستے پر چلنے اور اس کے بہکاو وں میں آنے سے گریز کرو گے، بلکہ شیطنت کے مقابلے میں ہر ممکن طریقے سے چوکنا رہنے کی کوشش کروگے اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے سے مراد، یہ ہے کہ آدم و حوا ایک دوسرے کے دشمن ہیں تو ظاہر ہے کہ میاں بیوی میں تعلق محبت اور مودۃ کا ہے، دشمنی کا نہیں۔ ان میں دشمنی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ شیطانی وساوس اور اس کی وارداتوں سے لاپرواہ ہوجاتے ہیں۔ دشمنی کا حقیقی تعلق صرف ابلیس اور آدم میں ہے۔ اسی طرح دونوں کی ذُرِّیتیں بھی ہمیشہ ایک دوسرے سے نبردآزما رہیں گے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی حضرتِ آدم اور ذُرِّیتِ آدم کو شیطانی لشکر کا مقابلہ اور اپنا دفاع کرنے کے لیے جو دفاعی ہتھیار دیئے اسے ہدایت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی وحی اور اللہ تعالیٰ کے نبی کا اسوہ جس سے شریعت کے اصول و فروع وجود میں آتے ہیں مراد ہے۔ یہ ہدایت دے کر اولادِ آدم کو بہرہ ور کردیا گیا کہ اگر تم اپنی زندگی میں گمراہی سے اور آخرت میں محرومی سے بچنا چاہتے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پابندی کرو۔ یہی وہ ہتھیار ہے جس سے تم شیطانی حملوں سے اپنا دفاع کرسکو گے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر تم جنت کی نعمتوں تک پہنچ سکتے ہو۔
Ayahs 20:124–126

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا تو یقینا اس کی زندگی بہت تنگی میں گزرے گی اور قیامت کے دن اسے ہم اندھا اٹھائیں گے۔

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں دنیا میں دیکھنے والا تھا۔

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس میری نشانیاں آئی تھیں تو، تو نے ان کو نظرانداز کردیا تھا، اسی طرح آج تجھے بھی نظرانداز کردیا جائے گا۔

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَـہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی۔ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْٓ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا۔ قَالَ کَذٰلِکَ اَ تَتْکَ اٰیٰـتُنَا فَنَسِیْتَھَا ج وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی۔ (طٰـہٰ : 124 تا 126) (اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا تو یقینا اس کی زندگی بہت تنگی میں گزرے گی اور قیامت کے دن اسے ہم اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں دنیا میں دیکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس میری نشانیاں آئی تھیں تو، تو نے ان کو نظرانداز کردیا تھا، اسی طرح آج تجھے بھی نظرانداز کردیا جائے گا۔ ) ذکر… کا معنی ہے نصیحت، یاد دہانی، یاد، قرآن کریم۔ ضَنْکًا … مصدر ہے۔ آیت کریمہ میں یہ معیشت کی صفت واقع ہوا ہے اور جب مصدر صفت واقع ہو جیسے ” زَیْدٌعَدْلٌ“ تو مبالغہ پر دلالت کرتا ہے۔ اور مذکر اور مؤنث دونوں کی صفت واقع ہوسکتا ہے۔ ” مَعِیْشَۃٌ ضَنْکٌ“ کے معنی تنگ زندگی کے ہیں جو سکون، طمانیت اور فراغِ خاطر و شرح صدر کی نعمت سے محروم ہو۔ ذکر سے اعراض کا نتیجہ سابقہ آیت کریمہ میں حضرت آدم اور آپ کی اولاد سے کہا گیا ہے کہ تمہاری خوراک اور اس کے لوازمات تو زمین سے پیدا ہوں گے اور تمہاری مساعی سے بروئے کار آئیں گے، اور تمہاری عقل ان میں اضافے کرے گی لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی کون دے گا، زندگی کے مقاصد کون متعین کرے گا، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی درستی اور بہتری کے لیے احکام کون دے گا تو اس کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ رہنمائی اور ہدایت اور زندگی کا قانون اللہ تعالیٰ کی جانب سے آئے گا۔ اسی قانون کی پیروی اور انہی احکام کی اطاعت پر زندگی کی فوزوفلاح کا دارومدار ہوگا۔ اور اسی ہدایت پر عمل ہر طرح کی گمراہی اور محرومی سے تحفظ کی ضمانت ہوگا۔ اب اسی حقیقتِ ثابتہ کے منفی پہلو کو اس آیت کریمہ میں بیان کیا جارہا ہے اور اس کا دائرہ اثر تمام نوع انسانی اور قیامت تک تمام زمانوں تک پھیلاتے ہوئے اپنی آخری کتاب میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ جو شخص یا جو قوم میری یاد سے اعراض کرے گی یعنی میرے دیئے ہوئے قانون کی پابندی کو تسلیم نہیں کرے گی، میرے نازل کردہ احکام کو ماننے سے انکار کردے گی اور میرے دین کو اپنا رہنما بنانے کی بجائے اپنے وضعی قوانین اور اپنے رسم و رواج کو رہنما بنائے گی اور اگر اس کو لپیٹ کے کہا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ میری نازل کردہ آخری کتاب کی ہدایات اور اس کی توضیح و تشریح ہمارے آخری رسول ﷺ کی سنت کو نظرانداز کرے گی (کیونکہ ذکر میں یہ سب باتیں شامل ہیں) ، تو ہم اس کی معیشت کو تنگ کردیں گے۔ بعض اہل علم کے نزدیک معیشت کا معنی روزی ہے۔ تو اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم ان کی روزی کو تنگ کردیں گے۔ ان کے وسائلِ رزق میں کمی کردی جائے گی، پیداوار معیار سے گرجائے گی، آبادی رفتہ رفتہ بھوک کا شکار ہونے لگے گی۔ لیکن سلف صالحین نے عام طور پر اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ اور علامہ ابن کثیر نے جو کچھ فرمایا ہے، اس کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ ان کی زندگی تنگ کردی جائے گی، وہ سکون و طمانیت اور فراغِ خاطر سے محروم ہوجائیں گے اور شرح صدر کی نعمت ان سے چھن جائے گی۔ وہ اپنے پاس وسائل رکھتے ہوئے بھی بےاطمینانی کا شکار ہوں گے۔ دولت و ثروت کے انبار، جاہ و جلال کے بلند ترین مناصب اور متنوع اشیائے خوردونوش کے باوجود انھیں آسودگی نصیب نہیں ہوگی، وہ بیش قیمت لباس پہنیں گے لیکن ان کا دل اداس، روح بےچین اور طبیعت افسردہ رہے گی۔ بڑا وسیع کاروبار رکھتے ہوئے بھی حقیقی خوشی سے وہ کوسوں دور ہوں گے۔ خواب آور گولیوں کے بغیر سو نہیں سکیں گے۔ مختلف عوارض کا شکار ہو کر ادویہ کے محتاج ہو کر رہ جائیں گے۔ ان کی دولت و ثروت انھیں سکون دینے کی بجائے ان کی مصروفیت اور ان کی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بنے گی، خودکشی کی وارداتیں بڑھ جائیں گی، جان و مال غیرمحفوظ ہو کر رہ جائیں گے، انسان بےساختہ پکارے گا : دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو انسان ہزار انکار کرے لیکن یہ امرواقعہ ہے کہ انسان کے اندر ایک روح بھی موجود ہے۔ جسم کی اپنی طلب ہے اور روح کی اپنی طلب۔ جسم کو ضروریات، تلذذات، تکلفات اور تعیشات سے بہلایا جاسکتا ہے۔ لیکن روح کی طلب اپنی جگہ باقی رہتی ہے بلکہ جیسے جیسے جسم کی پوجا پاٹ بڑھتی جاتی ہے، روح کی بےقراری میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اسے اس وقت چین نصیب ہوتا اور آسودگی ملتی ہے جب آدمی اپنے اصل مالک یعنی پروردگار کو یاد کرتا ہے۔ اس کی طرف سے غفلت اور لاتعلقی آہستہ آہستہ اسے مار تو سکتی ہے لیکن انسان کو آسودہ نہیں کرسکتی۔ ضمیر کی آواز کو خاموش کردینے کے بعد بھی انسان یوں محسوس کرتا ہے کہ میں کسی چیز کو گم کر بیٹھا ہوں۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ جو لوگ ایمان و عمل کا دعویٰ رکھتے ہیں ہم نے انھیں بھی نہایت پریشان حال اور پراگندہ بال دیکھا ہے۔ وہ روح کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اس کے باوجود ان کی زندگی میں اضطراب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے برعکس کتنے ایسے لوگ ہیں جن کا مذہب سے واجبی سا رشتہ بھی نہیں۔ وہ خدا کے تصور کو محض ایک وہم سمجھتے ہیں لیکن ان کی زندگی نہایت آسودہ اور مطمئن دکھائی دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سراسر فریبِ نظر ہے۔ مذہب کا نام لینے والے ناآسودہ اس لیے ہیں کہ وہ مذہب کا نام لیتے ہیں لیکن اس کی حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے احکام سے حقیقی معنوں میں اتنے ہی دور ہیں جتنا اللہ تعالیٰ سے انکار کرنے والے۔ ایسے لوگ تو بعض دفعہ انکار کرنے والوں سے بھی زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ جب وہ کھل کھیلنا چاہتے ہیں تو نام نہاد مذہب کا بھرم انھیں کھلنے نہیں دیتا اور چونکہ اس کی حقیقت سے تہی دامن ہیں اس لیے اس کی برکات سے بھی محروم رہتے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ نہ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے رہتے ہیں۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے اور جہاں تک دوسرے لوگوں کا تعلق ہے ان کا بظاہر ٹھاٹ باٹ اور کروفر دیکھنے والوں کو غلط فہمی کا شکار کردیتا ہے۔ کاش کوئی ان کے سینوں میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرے تو اسے اندازہ ہوگا کہ ان کا اندر کا غم کتنا گہرا ہے اور انھوں نے کس چابکدستی سے اس پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ قیامت میں اعراض کا نتیجہ وَ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی … جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اعراض کریں گے، دنیا میں تو ان کی زندگی تنگ کردی جائے گی اور آخرت میں جب ان کو اٹھایا جائے گا تو وہ اندھے ہوں گے۔ سورة بنی اسرائیل آیت 97 میں یہی بات زیادہ سخت انداز میں فرمائی گئی ہے کہ (ہم انھیں قیامت کے دن ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے۔ اندھے، گونگے اور بہرے) کیونکہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا انکار کرتے اور اس کی کتاب کو رہنما بنانے کی بجائے اپنے وضعی علوم کو رہنما بناتے ہیں قرآن کریم انھیں اندھا بہرہ اور بےسمجھ قرار دیتا ہے۔ جو اپنی بےسمجھی اور انکار کے باعث جانوروں سے بڑھ کر ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام یقینا یہی ہونا چاہیے کہ انھیں قیامت کے دن بھی اندھا اٹھایا جائے۔ اور جب وہ حیران ہو کر یہ کہیں کہ ہم تو دنیا میں بینا اور آنکھیں رکھنے والے تھے، ہمیں اندھا کیوں اٹھایا گیا تو پروردگار ان کی اصل حیثیت سے انھیں آگاہ کرے گا کہ تم نے دنیا میں جس طرح میری ہدایت کے بارے میں اندھا اور بہرہ ہونے کا ثبوت دیا تھا یعنی ہم نے تمہیں آنکھیں دی تھیں لیکن تم نے حقیقت کو کبھی دیکھنے کی کوشش نہ کی۔ تمہیں کان دیئے تھے، تم نے کبھی کوئی نصیحت کی بات سن کے نہ دی، تمہیں دل دیا تھا لیکن وہ کبھی دین کی بات کو سمجھنے اور دینی احساس کے تحت دھڑکنے پر آمادہ نہ ہوا۔ تو تم نے جو رویہ اپنے لیے دنیا میں اختیار کیا تھا آج ہم نے اسی کے مطابق تمہیں اٹھایا ہے۔ تم نے دنیا میں ہمارے احکام سے نہ صرف روگردانی کی بلکہ انھیں نظرانداز کیا۔ آج ہم نے تمہیں نظرانداز کردیا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے قیامت میں مجرمین کی حالت کو مختلف انداز میں بیان فرمایا ہے مثلاً سورة ق آیت 32 میں تو یہ فرمایا ہے کہ ” اب ہم نے تیرے حجابات ہٹا دیئے ہیں، آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔ “ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تو جن حقائق کا انکار کرتا رہا ہے کیونکہ وہ تمہیں نظر نہیں آتے تھے تو تم نے اپنے نظر نہ آنے کو دلیل بنا کر انھیں حقائق کے وجود ہی سے انکار کردیا۔ آج ہم نے تیری نظر کو وہ قوت دے دی ہے کہ تم ان حقائق کو بچشم سر دیکھ سکتے ہو۔ اور کسی جگہ ان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ مثلاً سورة ابراہیم آیت 43 میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” اللہ تو انھیں ٹال رہا ہے اس دن کے لیے جب یہ حال ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے، نظریں اوپر جمی ہوں گی اور دل اڑے جاتے ہوں گے۔ “ اور پیش نظر آیت میں بھی اسی طرح کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ یہ تو قرآن کریم میں کھلا تضاد ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت میں ہر شخص کو مختلف کیفیتوں سے واسطہ پڑے گا۔ کہیں یہ دکھانے کے لیے کہ جن حقائق کا تم انکار کرتے تھے ان کی حقیقت کیا ہے۔ تو نہ صرف آنکھیں کھول دی جائیں گی بلکہ نگاہ تیز کردی جائے گی اور کہیں ان کا نامہ عمل دکھانے کے لیے انھیں اتنی بینائی دی جائے گی جس سے وہ اپنا نامہ عمل پڑھ سکیں اور کہیں ان کی ذلت کو آشکارا کرنے اور محرومی کو گہرا کرنے کے لیے ان کی بینائی چھین لی جائے گی تاکہ وہ اپنی قسمت کو روئیں اور پیٹیں۔ اس طرح سے جہنم کے مختلف مناظر اور مختلف ضرورتوں کے تحت مجرمین کی حالت میں تبدیلی آتی رہے گی۔ تو یہ بیان کا تضاد نہیں بلکہ حالات کا تضاد ہے جو واقعہ کے عین مطابق ہے۔