Ayah 20:88فَاَخْرَجَ لَھُمْ عِجْلاً جَسَدًا لَّـہٗ خُوَارٌ فَـقَالُوْا ھٰذَآ اِلٰـھُکُمْ وَاِلٰـہُ مُـوْسٰی 5 فَـنَسِیَ ۔
(طٰـہٰ : 88)
(پس اس نے ان کے لیے ایک بچھڑے کا ڈھانچہ برآمد کردیا جس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی۔ پس انھوں نے کہا یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے، لیکن موسیٰ بھول گئے۔ )
سامری کی شعبدہ بازی
جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ سامری نے ان سادہ لوگوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ اگر تم اپنے سارے زیورات اس بھٹی میں ڈال دو اور انھیں گلا کر انھیں کوئی دوسری شکل دے دو تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے آئیں گے۔ تو وہ اپنی سادگی سے اپنے اپنے زیور لا کر اس میں پھینکتے رہے حتیٰ کہ سامری نے اپنے اخلاص کا یقین دلانے کے لیے اپنے زیور بھی پھینکے اور پھر نہایت عیاری سے ان کے پگھلانے کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ چونکہ یہ ایک ماہر بت گر تھا اس لیے سونے سے ایک بچھڑے کی شکل بنادینا اس کے لیے کوئی مشکل نہ تھا۔ چناچہ لوگ تو اس انتظار میں تھے کہ زیورات پگھل کر کوئی ایسی صورت اختیار کرلیں گے جس سے ان کا ساتھ رکھنا آسان ہوجائے گا۔ لیکن اس نے اچانک ایک ایسا بچھڑا نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا جو گائے کی طرح بھاں بھاں کی آوازیں نکالتا تھا۔ ایک ماہر بت گر اور ذہین آدمی کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ وہ ایک ایسا دھڑ جو اندر سے خالی ہو اس میں دو سوراخ اس طرح رکھے کہ جب صحرا کی ہوا اس سے گزرے تو وہ آواز پیدا کرے۔ یہی کام سامری نے کیا۔ اور نہایت معصوم بن کر یہ کہا کہ میں تو زیورات پگھلا رہا تھا، یہ اچانک اس سے بچھڑا برآمد ہوا ہے اور پھر یہ بولتا بھی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمہارا اور موسیٰ کا خدا ہے، لیکن موسیٰ بھول کر اسے کوہ طور کی چوٹیوں پر تلاش کررہے ہیں۔
Ayah 20:89اَفَـلاَ یَرَوْنَ اَلاَّیَرْجِعُ اِلَیْھِمْ قَوْلاً 5 لا وَّلاَ یَمْلِکُ لَھُمْ ضَرًّاوَّ لاَ نَفْعًا۔ (طٰـہٰ : 89)
(کیا یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ یہ بچھڑا ان کی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ وہ اختیار رکھتا ہے ان کے لیے کسی ضرر کا اور نہ نفع کا۔ )
لوگوں کی سادگی پر تعجب
یہ ان لوگوں کی سادہ لوحی پر تعجب کا اظہار بھی ہے اور دکھ کا اظہار بھی، کہ ان احمقوں نے اسے بھاں بھاں کرتے دیکھ کر خدا سمجھ لیا لیکن وہ یہ نہ دیکھ سکے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ اس میں یہ طاقت ہے کہ کسی کا کچھ نقصان کرسکے، کسی کو تکلیف دے سکے یا کسی کو فائدہ پہنچا سکے۔ اللہ تعالیٰ تو کائنات کا خالق ومالک ہے۔ کائنات کی ہر مخلوق کی زندگی اور موت اس کے ہاتھ میں ہے۔ وہ سب کا روزی رساں ہے۔ وہ اگر سننے اور دیکھنے سے محروم ہے اور نفع و ضرر پر اختیار نہیں رکھتا تو اس کی خدائی کا کائنات کو کیا فائدہ۔ یہ سامری نے جو کچھ بنایا اس کی حیثیت ایک کھلونے کی ہے جو آواز نکالتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ خدا کھلونا نہیں ہوتا، وہ کائنات کا کارساز ہوتا ہے۔
Ayahs 20:90–91وَلَقَدْ قَالَ لَھُمْ ھٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰـقَوْمِ اِنَّمَا فُـتـِنْـتُم بِہٖ ج وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ فَا تَّبِعُوْنِیْ وَاَطِیْعُوْٓا اَمْرِیْ ۔ (طٰـہٰ : 90)
(اور ہارون ان سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ اے لوگو ! تم اس کے ذریعہ سے فتنے میں ڈال دیئے گئے ہو، تمہارا رب تو رحمن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔ )
حضرت ہارون (علیہ السلام) کی فتنہ سے بریت
اس آیت کریمہ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی غلط فہمی کا ازالہ کرنا مقصود ہو جسے علمی زبان میں دفع دخل مقدر کہتے ہیں۔ بائبل کو دیکھ کر اس عقدہ کا راز کھلتا ہے۔ وہ اس طرح کہ قرآن کریم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکا ہے کہ بنی اسرائیل کو عجل پرستی کی گمراہی میں سامری نے مبتلا کیا تھا، لیکن بائیبل یہ بتاتی ہے کہ یہ گناہ عظیم کا ارتکاب کرنے والے حضرت ہارون (علیہ السلام) تھے، سامری نہیں۔ اس کی عبارت یہ ہے (اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اترنے میں دیر لگائی تو وہ ہارون کے پاس جمع ہو کر اس سے کہنے لگے کہ اٹھ ہمارے لیے دیوتا بنا دے جو ہمارے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے اس مرد موسیٰ کو جو ہم کو ملک مصر سے نکال کر لایا کیا ہوگیا ؟ ہارون نے ان سے کہا، تمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں ان کو اتار کر میرے پاس لے آئو۔ چناچہ سب لوگ ان کے کانوں سے سونے کی بالیاں اتار اتار کر ہارون کے پاس لے آئے اور اس نے ان کو ان کے ہاتھوں سے لے کر ایک ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا جس کی صورت چھینی سے ٹھیک کی، تب وہ کہنے لگے، اے اسرائیل یہی تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملک مصر سے نکال کر لایا۔ یہ دیکھ کر ہارون نے اس کے آگے قربان گاہ بنائی اور اس نے اعلان کردیا کہ کل خداوند کے لیے عید ہوگی۔ ) (خروج باب 32، آیت 1۔ 5)
اس آیت کو غور سے پڑھئے، یہ تورات کی آیت ہے جسے ہم آسمانی کتاب سمجھتے ہیں۔ حیرانی ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کے یہاں نہ جانے نبوت کا کیا تصور ہے، وہ نبی کی حیثیت کیا سمجھتے ہیں۔ اور اگر واقعی ان کے نزدیک نبی دنیا میں توحید کی تبلیغ کے لیے آتے ہیں تو پھر متذکرہ بالا عبارت میں حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نبی سمجھتے ہوئے جس طرح شرک کا داعی ثابت کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل کو بت پرستی کی تعلیم دیتا ہے تو آخر اس کی کیا حقیقت ہے۔ قرآن کریم نے اس بات کو الزام قرار دیتے ہوئے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اس آیت میں بریت فرمائی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل جس طرح گمراہ ہوئے اور انھوں نے عجل پرستی کے گناہ عظیم کا ارتکاب کیا اس کی ذمہ داری حضرت ہارون (علیہ السلام) پر نہیں بلکہ سامری پر ہے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) تو پہلے ہی انھیں سمجھا چکے تھے کہ تمہیں سامری نے ایک فتنے میں مبتلا کردیا ہے، میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جانشین ہوں، تمہیں بہرصورت میرا اتباع کرنا چاہیے۔ تمہارا خدا، خدائے رحمن ہے۔ یہ گائے کا بچھڑا خدا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اس گمراہی میں پڑنے سے اجتناب کرو۔
اہلِ کلیسا کی ہٹ دھرمی
قرآن کریم کی اس وضاحت کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عیسائی دنیا قرآن کریم کی ممنون ہوتی اور مسلمانوں کی شکرگزار ہوتی کہ اس نے ہمارے پیغمبر کا دامن ایک بہت بڑے الزام سے پاک کردیا ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ عیسائی مشنری اور مغربی مستشرقین اس بات پر مصر ہیں کہ بائبل میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ البتہ قرآن کریم نے غلطی کی ہے۔ اس سے ان کی ہٹ دھرمی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے حالانکہ اسی باب میں چند سطر آگے چل کر بائیبل میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے اس جھوٹ کا راز فاش ہوجاتا ہے۔ اس باب کی آخری دس آیتوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی لاوی کو جمع کیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم سنایا کہ جن لوگوں نے شرک کا یہ گناہ عظیم کیا ہے انھیں قتل کیا جائے اور ہر ایک مومن خود اپنے ہاتھ سے اپنے اس بھائی اور ساتھی اور پڑوسی کو قتل کرے جو گوسالہ پرستی کا مرتکب ہوا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت ہارون (علیہ السلام) نہ صرف اس گناہ کے مرتکب ہوئے تھے بلکہ بائیبل کے مطابق وہی اس کے سرغنہ تھے تو پھر انھیں قتل کیوں نہ کیا گیا ؟ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ بائیبل میں جو کچھ کہا گیا ہے یہ ایجادِ بندہ اور کھلی تحریف ہے اور تحریف کرنے والے اگلے آیتوں تک پہنچتے ہوئے بھول گئے کہ ہم اس سے پہلے کیا لکھ چکے ہیں۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد حضرت ہارون (علیہ السلام) کی عزت اور حیثیت میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ آگے چل کر ان کی اولاد کو بنی اسرائیل میں بنی لاوی کی سرداری اور مقدس کی کہانت سے سرفراز کیا گیا۔
قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْہِ عٰکِفِیْنَ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُـوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 91)
(وہ بولے کہ ہم تو اب اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ واپس نہ آجائے۔ )
حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ساری کوششوں کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے آپ ( علیہ السلام) کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ آخری بات انھوں نے یہ کہی کہ ہم اس عجل پرستی میں راہ راست پر ہیں یا فتنے میں مبتلا کردیئے گئے ہیں، اس کا فیصلہ اب اس وقت ہوگا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئیں گے۔ ان کے آنے تک ہم اپنی اس روش کو بدلنے کے لیے تیار نہیں، ہم تو برابر عجل پرستی میں لگے رہیں گے۔
Ayahs 20:92–94قَالَ یٰـھٰرُوْنُ مَامَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَھُمْ ضَلُّوْٓا۔ اَلاَّ تَتَّبِعَنِ ط اَفَـعَصَیْتَ اَمْرِیْ ۔ قَالَ یَبْنَـؤُمَّ لاَ تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَلاَ بِرَاْسِیْ ج اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَاَئِ یْلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ ۔ (طٰـہٰ : 92، 93، 94)
(حضرت موسیٰ نے کہا : اے ہارون ! تمہیں کس چیز نے روکا تھا جب تم نے دیکھا کہ وہ گمراہ ہورہے ہیں۔ کہ تم میری پیروی نہ کرو، کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ حضرت ہارون نے جواب دیا، اے میرے ماں جائے ! میری ڈاڑھی نہ پکڑ نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا آپ ( علیہ السلام) یہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا۔ )
حضرت ہارون (علیہ السلام) سے پرسش اور ان کا جواب
ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے نہایت غضبناک اور افسردہ حالت میں واپس تشریف لائے اور قوم کو عجل پرستی میں مبتلا دیکھ کر نہایت برہم ہوئے۔ سب سے پہلے ان سربرآوردہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے جو اپنے اپنے قبیلوں کی اصلاح کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے بعد حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف توجہ کی جن پر قوم کی اصلاح کی اصل ذمہ داری تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یقینا یہ خیال رہا ہوگا کہ حضرت ہارون اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں، وہ کسی حالت میں بھی کسی برائی سے سازگاری پیدا نہیں کرسکتے، لیکن ان کے سامنے جس طرح ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب ہوا ہے یقینا ان سے کوئی فروگزاشت ہوئی ہے۔ انھیں جتنی قوت سے انھیں روکنا چاہیے تھا، شاید وہ قوت بروئے کار نہیں لاسکے۔ اس لیے جواب طلبی کرتے ہوئے اس قدر برافروختہ ہوئے کہ آپ ( علیہ السلام) کی ڈاڑھی پکڑ ی اور سر کے بال کھینچے کہ تمہاری موجودگی میں یہ کیا غضب ہوگیا کہ جس قوم کو توحید کی علمبردار بنایا جارہا تھا، وہ شرک کے دلدل میں دھنس گئی۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) چونکہ آپ ( علیہ السلام) کے بھائی بھی تھے اور آپ ( علیہ السلام) کو ان سے غائت درجہ محبت بھی تھی اس وجہ سے اس برہمی میں صرف غضبناکی ہی نہیں دکھائی دیتی بلکہ ایک دکھ اور کرب بھی جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ آپ ( علیہ السلام) نے کہا کہ اے ہارون جب تم نے یہ دیکھا کہ قوم گمراہی کے راستے پر چل پڑی ہے تو تم نے میری پیروی کیوں نہ کی۔ کیا تم نے میرے حکم کی نافرمانی کی ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ حضرت ہارون کو کوہ طور جاتے ہوئے اپنا جانشین بنا کر اور یہ حکم دے کر گئے تھے کہ مفسدین کے طریقے کی پیروی نہ کرنا۔ یعنی بنی اسرائیل میں مفسدین کا ایک گروہ موجود ہے۔ انھیں سر اٹھانے کا موقع نہ دینا۔ لیکن حضرت ہارون نے اپنا عذر بیان کرتے ہوئے جو کچھ کہا اس کی معنویت بھی توجہ کے قابل ہے اور آپ ( علیہ السلام) نے جو انداز اختیار کیا اس میں صورت حالات کے بارے میں گہرے دکھ کا اظہار بھی ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے غائت درجہ تعلق کا حوالہ بھی۔ آپ نے کہا کہ ہم نے ایک ہی ماں کا دودھ پیا ہے، جس کرب سے تم گزر رہے ہو، میں اس کی شدت کو سمجھتا ہوں، لیکن اس کے لیے آپ ( علیہ السلام) مجھ سے جو سختی کررہے ہیں اس میں آپ ( علیہ السلام) کو یہ خیال رہنا چاہیے کہ بنی اسرائیل میں ہمارے دشمن بھی ہیں، وہ ہم پر ہنسیں گے، آپ ( علیہ السلام) ان کو شماتت کا موقع نہ دیں۔ سورة الاعراف میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ رہی یہ بات کہ میں نے اپنے فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے آپ ( علیہ السلام) کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ میرے ساتھ اتنے تھوڑے لوگ رہ گئے تھے اور سامری نے اتنا بڑا گروہ مہیا کرلیا تھا کہ میں اگر حکمت اور درگزر سے کام نہ لیتا تو اندیشہ تھا کہ یہ لوگ مجھے قتل کر ڈالتے، کیونکہ ان کے ارادے نیک معلوم نہیں ہوتے تھے۔ اور اگر میں اپنے پاس موجود قوت کو ساتھ لے کر ان سے قتال کرتا تو بنی اسرائیل میں اس طرح دو مستقل گروہ بن جاتے کہ پھر شاید ان کو ایک کرنا مشکل ہوتا۔ آپ ( علیہ السلام) کی وجاہت اور معاملہ فہمی سے امید رکھتے ہوئے میں نے خاموشی اختیار کرلی کہ چند دنوں کی بات ہے جب آپ ( علیہ السلام) آجائیں گے تو آپ ( علیہ السلام) ضرور کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیں گے اور ویسے بھی آپ ( علیہ السلام) کی ہیبت کے سامنے یہ لوگ سر اٹھانے کی جرأت نہیں کریں گے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
بعض لوگوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے جواب سے استدلال کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ قوم کا اجتماع ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ قوم میں تفرقہ اور اختلاف سے اگر حق کی قیمت پر بھی بچا جاسکتا ہو تو یہ کوئی بڑی قیمت نہیں۔ ان کے نزدیک قوم کا شیرازہ اور ان کا اجتماع حق پرستی سے بڑھ کر ہے۔ اگر ان کی اس بات کو قبول کرلیا جائے تو پھر تو تمام انبیائے کرام کی تبلیغی کوششیں اور تمام مصلحین کی اصلاحی کاوشیں نہ صرف بیکار دکھائی دیتی ہیں بلکہ جرم قرار دی جاسکتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ پر بھی قریش بار بار یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ ﷺ کی دعوت نے قوم میں تفریق پیدا کردی ہے۔ ہماری اجتماعی قوت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انھوں نے اپنی شیرازہ بندی کو باقی رکھنے کے لیے یہاں تک پیشکش کر ڈالی کہ ہفتے میں تین دن ہم تمہارے خدا کی پوجا کریں گے اور تین دن تم ہمارے بتوں کی پوجا کرو۔ اس طرح ایک وحدت کی شکل پیدا ہوسکتی ہے اور قوم تفریق سے بچ سکتی ہے، لیکن نبی کریم ﷺ نے اس تجویز پر غور کرنے سے بھی انکار کردیا کیونکہ :
باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
Ayahs 20:95–96قَالَ فَمَا خَطْبُکَ یٰسَامِرِیُّ ۔ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِہٖ فَـقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِالرَّسُوْلِ فَـنَبَذْتُھَا وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ ۔ (طٰـہٰ : 96)
اے سامری ! (اس فتنہ انگیزی) سے تیری غرض کیا تھی ؟ اس نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں نے نہ دیکھی تو میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی اور پھر اس کو ڈال دیا اور اس طرح میرے نفس نے آراستہ کردی میرے لیے یہ بات (اور اسی طرح میرے نفس نے مجھے سجھایا)
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف
اس آیت کے مفہوم میں علماء تفسیر میں خاصا اضطراب پایا جاتا ہے۔ ہمارے قدیم مفسرینِ کرام کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ سامری نے جوابدہی کرتے ہوئے یہ کہا کہ جب ہم بحر احمر کو عبور کررہے تھے تو وہاں میں نے حضرت جبرائیل امین کو گزرتے ہوئے دیکھا جو ایک گھوڑے پر سوار تھے تو گھوڑے کا قدم جہاں پڑتا تھا، وہاں سبز گھاس اگ آتی تھی۔ میں نے یہ سمجھا کہ اس خاک قدم میں حیات بخش اثر ہے۔ چناچہ میں نے وہاں سے مٹی کی ایک مٹھی بھر لی اور حفاظت سے اپنے پاس رکھ لی۔ جب آپ ( علیہ السلام) کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو مجھے یہ خیال سوجھا کہ زیورات کو گلا کر ایک بچھڑے کا ڈھانچہ بنایا جائے اور اس میں یہ مٹی ڈالی جائے۔ چناچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ اس سونے کے ڈھانچے میں مٹی ڈالنے سے زندگی کے آثار نمایاں ہوگئے اور وہ بولنے لگا۔
قدیم مفسرین ہی میں سے ایک گروہ اس کا ایک دوسرا مفہوم بیان کرتا ہے۔ اس مفہوم کے اصل پیش کرنے والے تو ابومسلم اصفہانی ہیں، لیکن امام رازی نے بھی اپنی تفسیر میں اس کا ذکر کیا اور اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کئی دلائل دیئے۔ علامہ ابی حیّان اندلسی نے اس قول کو بحرمحیط میں ذکر کیا اور اس کی تردید نہیں کی۔ اسی طرح علامہ نیشا پوری نے بھی اپنی تفسیر میں اسے نقل کیا اور اس پر خاموشی اختیار کی۔ ابومسلم اس آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِہٖکا مفہوم یہ ہے کہ ” سامری یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں نے آپ ( علیہ السلام) کی تعلیمات پر غور کیا، مجھے اس میں وہ کمزوریاں دکھائی دیں جو دوسرے لوگوں کو دکھائی نہیں دیں۔ اس لیے میں ان کی تصدیق نہ کرسکا۔ “ فَـقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِالرَّسُوْلِ کا مطلب یہ ہے کہ ” پھر میں آپ ( علیہ السلام) کی صحبت میں رہا تو آپ ( علیہ السلام) کی صحبت کے اثر کی وجہ سے میں نے ان میں سے کچھ باتوں کو قبول کرلیا، لیکن جب میں نے ان باتوں پر مزید غور کیا فَـنَبَذْتُھَاتو میں نے ان باتوں کو پھینک دیا یعنی انھیں بھی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو کچھ میں نے کیا یہ میرے نفس نے سجھایا، کسی اور نے مجھے نہیں اکسایا۔
اس تفسیر میں اور تو کوئی خرابی نہیں لیکن الفاظ سے جس طرح اسے کشید کیا گیا ہے، اسے نرم سے نرم الفاظ میں سخن سازی کی ایک مثال کہا جاسکتا ہے۔ ایک کتاب جو عربی مبین میں نازل ہوئی ہے اس میں ایسے معموں اور پہیلیوں کی گنجائش تو نہیں ہوسکتی۔
بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ سامری نے جو کچھ کہا وہ محض حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی گرفت سے بچنے کی ایک کوشش تھی۔ اس کے لیے اس نے ایک خوبصورت بہانہ تراشا اور اسے اپنے کشفی مشاہدے کے طور پر پیش کیا۔ اور اس سے یہ تأثر دینے کی کوشش کی کہ میرے اندر کچھ ایسی صلاحیتیں بھی ہیں جو دوسروں میں نہیں۔ میں صرف حواس خمسہ اور عقل سے ہی کام نہیں لیتا بلکہ بعض دفعہ کشف کی نگاہ سے بھی دیکھتا ہوں، لیکن ساتھ ہی اس نے اعتراف بھی کرلیا کہ اب مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ یہ محض میرے نفس کا فریب تھا جس کی وجہ سے میں نے فتنہ کھڑا کردیا اور میں غلطی سے فریب کو کشف سمجھ بیٹھا۔
مزید کچھ علماء کی رائے یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے وہ دراصل سامری کے قول کی روایت ہے، لیکن مفسرین اسے امرواقعی اور قرآن کی بیان کردہ حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں، اسی سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی۔
حقیقت یہ ہے جو شخص بھی اس سلسلہ کلام میں اس آیت کو پڑھے گا وہ آسانی کے ساتھ یہ سمجھ لے گا کہ سامری ایک فتنہ پرداز شخص تھا جس نے خوب سوچ سمجھ کر ایک زبردست مکروفریب کی سکیم تیار کی تھی۔ اس نے صرف یہی نہیں کیا کہ سونے کا بچھڑا بنا کر اس میں کسی تدبیر سے بچھڑے کی سی آواز پیدا کردی اور ساری قوم کے جاہل و نادان لوگوں کو دھوکے میں ڈال دیا بلکہ اس پر مزید یہ جسارت بھی کی کہ خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے ایک پرفریب داستان گھڑ کر رکھ دی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ مجھے وہ کچھ نظر آیا جو دوسروں کو نظر نہ آتا تھا اور ساتھ ساتھ یہ افسانہ بھی گھڑ دیا کہ رسول کے نقش قدم کی ایک مٹھی بھر مٹی سے یہ کرامت صادر ہوئی ہے۔ رسول سے مراد ممکن ہے کہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہی ہوں جیسا کہ قدیم مفسرین نے سمجھا ہے لیکن اگر یہ سمجھا جائے کہ اس نے رسول کا لفظ خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے استعمال کیا تھا تو یہ اس کی ایک اور مکاری تھی۔ وہ اس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذہنی رشوت دینا چاہتا تھا تاکہ وہ اسے اپنے نقش قدم کی مٹی کا کرشمہ سمجھ کر پھول جائیں اور اپنی مزید کرامتوں کا اشتہار دینے کے لیے سامری کی خدمات مستقل طور پر حاصل کرلیں۔ قرآن کریم اس سارے معاملے کو سامری کے فریب ہی کی حیثیت سے پیش کررہا ہے، اپنی طرف سے بطور واقعہ بیان نہیں کررہا ہے کہ اس سے کوئی قباحت لازم آتی ہو اور لغت کی کتابوں سے مدد لے کر خواہ مخواہ کی سخن سازی کرنی پڑے بلکہ بعد کے فقرے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جس طرح اس کو پھٹکارا ہے اور اس کے لیے سزا تجویز کی ہے اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ اس کے گھڑے ہوئے اس پرفریب افسانے کو سنتے ہی انھوں نے اس کے منہ پر مار دیا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 20:97قَالَ فَاذْھَبْ فَاِنَّ لَکَ فِی الْحَیٰوۃِ اَنْ تَقُوْلَ لاَ مِسَاسَ ص وَاِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَہٗ ج وَانْظُرْ اِلٰٓی اِلٰھِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا ط لَـنُحَرِّقَـنَّـہٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَـنَّـہٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا۔ (طٰـہٰ : 97)
(موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا چل دور ہو، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا اور تیرے لیے ایک اور وقت موعود بھی ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو ریجھا ہوا تھا، اب ہم اس کو جلائیں گے، پھر اس کو سمندر میں بکھیر دیں گے۔ )
سامری کے لیے سزا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کی بات سے اندازہ کرلیا کہ وہ ایک مکار اور فریبی شخص ہے اور ساتھ ہی ساتھ منافق بھی۔ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور جو اس نے حرکت کی ہے اس کا سبب یہ نہیں کہ اس نے نقش رسول میں زندگی کے آثار دیکھ لیے تھے بلکہ اس کا سبب اس کا نفاق ہے۔ یہ مصر میں ان لوگوں میں شامل رہا ہوگا جو گائے کی پوجا کرتے تھے۔ اب اسی کے زیر اثر اس نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور ان لوگوں کو اپنا آلہ کار بنایا جو بنی اسرائیل کی صفوں میں پہلے سے موجود تھے اور اپنی شعبدہ بازی سے ان کو اس حد تک متأثر کیا کہ خالق حقیقی کی پرستش سے ہٹا کر گوسالہ پرستی پر لگا دیا۔ تو آپ ( علیہ السلام) نے اس کی حقیقت کو سمجھ کر اسے ڈانٹ پلائی اور فرمایا کہ تم اس معاشرے سے نکل جاؤ، یعنی تمہاری سزا یہ ہے کہ تم بنی اسرائیل کے معاشرے میں نہیں رہ سکتے۔ تمہارا جرم اس قدر مکروہ ہے کہ اس کے بعد تمہیں انسانوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تم اب انسانی آبادی میں نہیں بلکہ جنگلی جانوروں کی طرح جنگل میں زندگی گزارو گے اور جب کسی انسان سے سامنا ہو تو یہ بھی تمہاری سزا کا حصہ ہے کہ تم اسے دیکھتے ہی چیخنا شروع کردو کہ میرے قریب نہ آنا، مجھے ہاتھ نہ لگانا، میں انسانوں سے ملنے کے لائق نہیں۔ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے قانونی طور پر یہ سزا دی گئی اور اس کی ذمہ داری ٹھہرائی گئی کہ وہ انسانوں سے دور رہے اور اگر کوئی انسان سامنے آئے تو خود اسے یہ بتائے کہ میں سزایافتہ اور راندہ ہوا شخص ہوں۔ اس لیے مجھے تم سے ملنے کی اجازت نہیں، تم میرے قریب نہ آنا۔
دوسری صورت یہ بھی ممکن ہے کہ اسے کوڑھ کے مرض میں مبتلا کردیا گیا ہو اور کوڑھی کے بارے میں بائیبل کی کتاب احبار میں جو قواعد بیان کیے گئے ہیں ان میں سے ایک قاعدہ یہ ہے کہ جو کوڑھی اس بلا میں مبتلا ہو اس کے کپڑے پھٹے اور اس کے سر کے بال بکھرے رہیں اور وہ اپنے اوپر کے ہونٹ کو ڈھانکے اور چلا چلا کر کہے ” ناپاک، ناپاک “ جتنے دنوں تک وہ اس بلا میں مبتلا رہے وہ ناپاک رہے گا اور وہ ہے بھی ناپاک۔ بس وہ اکیلا رہا کرے، اس کا مکان لشکرگاہ کے باہر ہو۔ (باب 13، آیت 45۔ 46)
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر کوئی ایسی بیماری پیدا کردی ہو کہ اگر کوئی شخص اسے چھوئے تو اسے بھی بخار ہوجائے اور اسے بھی۔ اسی بیماری کے پیش نظر وہ ہر شخص کو دیکھ کر چلانے لگتا کہ میں ایک نامراد شخص ہوں جس کو ملنے والا بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس لیے تم مجھے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تم بھی بخار کا شکار ہوجاؤ گے اور میں بھی بخار میں پھنکنے لگوں گا۔
ایک اشکال کا جواب
ممکن ہے کسی ذہن میں یہ خیال آئے کہ تورات اور قرآن کریم دونوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے عجل پرستی کا جرم کیا تھا، انھیں قتل کی سزا دی گئی تھی اور سامری تو اس فتنے کا سرغنہ تھا۔ اس کی وجہ سے لوگ اس شرک میں مبتلا ہوئے، تو اسے قتل کی سزا کیوں نہ دی گئی ؟ حقیقت یہ ہے کہ قتل کی تکلیف چند لمحوں کی ہے، لیکن اسے جو سزا دی گئی وہ تو زندگی بھر کے لیے ہے۔ کسی شخص کو اس سے بڑھ کر سزا نہیں دی جاسکتی کہ وہ ایک ایسی اذیت ناک بیماری میں مبتلا ہوجائے جس کا کوئی مداویٰ نہ ہو، اور اسے انسانوں کے لیے جائے نفرت بنادیا جائے۔ اور مزید یہ کہ وہ اپنے قابل نفرت ہونے کا خود اعلان بھی کرے۔ کوڑھیوں کو بھی اگرچہ آبادی سے باہر رکھا جاتا تھا اور ان کی زندگی بھی نہایت المناک ہوتی تھی لیکن ان کی یہ حالت اس وقت تک رہتی تھی جب تک وہ بیماری سے شفایاب نہیں ہوجاتے تھے۔ لیکن سامری کو دی جانے والی سزا کسی معین مدت کے لیے نہیں بلکہ زندگی کی آخری سانس تک کے لیے تھی۔
مزید یہ فرمایا گیا کہ تمہاری یہ سزا تمہاری زندگی میں ہے اور اس سزا کی اندوہنا کی اور اس کا قابل نفرت ہونا بجائے خود بہت بڑا عبرت کا سامان ہے لیکن یہ سزا آخری نہیں، تمہارے لیے ایک دن مقرر ہے، یعنی قیامت کا دن، اس دن تم سے اصل جواب طلبی ہوگی اور وہاں کی سزا ابدی سزا ہوگی جس سے تمہیں کبھی رستگاری نہیں ہوگی۔
عجل کا انجام
اصل بنائے فساد وہ بچھڑا تھا جو سامری نے سونے سے ڈھالا تھا، اس کے بارے میں فرمایا کہ دیکھو جسے تم نے خدا بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اور تم آج تک اس پر اعتکاف کیے بیٹھے ہو اور مسلسل لوگوں کو یہ تصور دے رہے ہو کہ تمہارا اصل خدا یہی ہے۔ اب دیکھو تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے اس خدا کا کیا حشر کرتے ہیں، اسے ہم جلائیں گے اور پھر اس کو ریزہ ریزہ کرکے پانی میں بہا دیں گے۔ اگر یہ واقعی خدا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے اس عبرتناک انجام کو روک دے اور تمہیں بھی اس سزا سے بچا لے جس کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ تمہارے اس خدا کے ساتھ اس لیے کیا جائے گا تاکہ ان بیوقوف لوگوں کو اندازہ ہوجائے جو تمہارے فریب کی وجہ سے اس عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں کہ یہ ان کا خدا نہیں، محض فریبِ نظر ہے۔
Ayah 20:98اِنَّمَآ اِلٰـھُکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ط وَسِعَ کُلَّ شَیْ ئٍ عِلْمًا۔ (طٰـہٰ : 98)
(اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ )
اِلٰہ صرف اللہ ہے، اس پر دلیل
اس سے بڑی جہالت اور کیا ہوگی کہ انسان مخلوقات کا گل سرسبد ہونے کے باوجود اسے اپنا معبود بنا لے جسے اس کی خوراک اور ضرورت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ گائے انسان کو دودھ مہیا کرتی ہے اور گائے کے بچھڑے انسان کی خوراک کے کام آتے ہیں اور بعض دفعہ باربرداری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ وہ انسان جو ان تمام مخلوقات کا مخدوم بنایا گیا اور جسے اللہ تعالیٰ نے عقل اور شعور سے نوازا وہ بیل کی طرح آوازیں نکالنے والے ایک بچھڑے کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے۔ اس حماقت اور جہالت کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا معبود اور تمہارا اِلٰہ وہ اللہ ہے جسے ہر دور میں ہر قوم نے پہچانا۔ اللہ اسم ذات ہے۔ عموماً عبرانی اور سریانی قوموں نے اسی سے ملتے جلتے الفاظ کو اپنے معبود کا نام ٹھہرایا۔ اِلٰہیا، الوہیا، الوہ اِلٰہ ہی سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں اور اسی کو الف لام تعریف نے اللہ بنادیا ہے۔ تو وہی اللہ ہے جو تمام مخلوقات کا معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ تمام مخلوقات کے نظام زندگی کو بناتا، سنوارتا اور اس کی نگرانی کرتا ہے۔ جہاں تہاں اس کی مخلوقات آباد ہیں چاہے وہ زمین کے اوپر ہوں یا زمین کے نیچے۔ آسمانوں میں ہوں یا فضا میں۔ کوئی مخلوق اس کی نگرانی کی نگاہ سے اوجھل نہیں۔ وہ ہر ایک کو دیکھتا اور جانتا ہے، ہر ایک کی ضروریات کو پہچانتا ہے۔ وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ ضروریات کی تبدیلی تک کا لحاظ کرتا ہے۔ تو جس ذات کا علم اتنا وسیع ہے وہ اس کی اجازت کیونکر دے سکتا ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو۔ حکمران اپنے اقتدار میں دوسروں کو اس لیے شریک کرتے ہیں کہ وہ اپنی مملکت کی وسعتوں کو جان نہیں سکتے۔ ایک ایک جگہ اور ایک ایک چیز ان کی نگاہوں میں نہیں ہوتی۔ دور دراز علاقوں کی رعایا کی حالت سے وہ بیخبر رہتے ہیں۔ اس لیے انھیں ضرورت پڑتی ہے کہ مختلف علاقوں میں اپنے ماتحتوں کو پھیلا دیں اور انھیں اختیارات دے دیں کہ وہ اپنی زیرنگرانی رعایا کو ضروریات مہیا کریں۔ بڑے سے بڑا بادشاہ اپنی مملکت کی وسعتوں سے کبھی آگاہ نہیں ہوتا اور اپنی تمام رعایا کی خبر اسے کسی صورت میں نہیں ہوسکتی۔ اِلاَّ یہ کہ اس کے تمام عمال جو خود اس نے جگہ جگہ مقرر کر رکھے ہیں وہ رعایا کی اطلاع اسے پہنچائیں اور اس کی اجازت سے سب کی احتیاجات کو پورا کریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔ اس کی ایسی مخلوقات بھی ہیں جو انسان کی حدود علم سے ماورا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف انھیں جانتا ہے بلکہ انھیں روزی بھی مہیا کرتا ہے۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اپنے ایسے عالم کل اور قادرمطلق معبود کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنایا جائے۔
Ayah 20:99کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِ مَا قَدْسَبَقَ ج وَقَدْ اٰ تَیْنٰـکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا۔ (طٰـہٰ : 99)
(اے پیغمبر ! اسی طرح ہم آپ کو گزرے ہوئے حالات کی خبریں سناتے ہیں اور خاص اپنے پاس سے ہم نے آپ کو ایک ذکر عطا کیا ہے۔ )
سورت کے آغاز اور پیش نظر آیات میں ربط
پیشِ نظر آیت اور اس سے پیوستہ آیت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس سورت کا آغاز جس موضوع سے ہوا تھا اسی پر اس کا اختتام کیا جارہا ہے۔ سورت کے آغاز میں یہ بتایا گیا تھا کہ ہم نے یہ قرآن کریم آپ ﷺ پر اس لیے نازل نہیں کیا تھا کہ آپ ﷺ کسی مشکل میں پڑجائیں بلکہ اس کے نزول کا سبب تو یہ ہے کہ بگڑی ہوئی نوع انسانی کے لیے یہ ایک یاددہانی اور نصیحت ہے لیکن اس کا فائدہ صرف وہ اٹھا سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہو۔ پھر اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کو بیان کیا گیا اور اس میں یہ دکھایا گیا کہ حضرت موسیٰ کو جب اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی تو اس کے بعد ان کو ایک کتاب بھی دی گئی جسے انسانی زندگی کی رہنما بنایا گیا۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وہ لوگ ایمان لائے اور اس کتاب سے ان لوگوں نے فائدہ اٹھایا جن کے دلوں میں خشیت الٰہی تھی۔ جادوگروں کے دل میں جب خشیت الٰہی کا نور جگمگا اٹھا تو فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک گئے لیکن فرعون اور آل فرعون اپنی نامرادی کے باعث اللہ تعالیٰ کی خشیت سے دور رہے تو وہ نہ صرف ایمان کی دولت سے محروم رہے بلکہ انھوں نے نبی کی نبوت کو ناکام کرنے بلکہ اسے بنی اسرائیل سمیت تباہ کرنے کے لیے بحرقلزم تک اس کا تعاقب کیا۔ لیکن انجام کیا ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے کامیاب و کامران ٹھہرے اور فرعون اور اس کی قوم اپنی حکومت، وجاہت اور دولت کے باوجود بحرقلزم کا شکار ہوئے۔ قریش کو اچھی طرح اس بات کو سوچ لینا چاہیے کہ یہ آیات ان کے لیے آئینہ ہیں۔ ان سے ان کو اپنے انجام کو جاننے میں مدد مل سکتی ہے اور انھیں معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کامیابی نبی کریم ﷺ اور ان پر ایمان لانے والوں کے انتظار میں ہے کیونکہ قریش کا وہی رویہ ہے جو فرعون اور اس کی قوم کا تھا اور نبی کریم ﷺ وہی دعوت پیش کررہے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کی تھی۔
Ayahs 20:100–104مَنْ اَعْرَضَ عَنْہُ فَاِنَّـہٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وِزْرًا۔ خٰلِدِیْنَ فِیْہِ ط وَسَآئَ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ حِمْلاً ۔ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَنَحْشُرُالْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًا۔ یَّـتَـخَافَـتُـوْنَ بَیْنَہُمْ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ عَشْرًا۔ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُھُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ یَوْمًا۔ (طٰـہٰ : 100 تا 104)
(جو اس سے اعراض کریں گے، وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ اسی کے وبال میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بہت بھاری بوجھ ہوگا۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو اس دن ہم اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ خوف کے مارے ان کی آنکھیں نیلی پڑی ہوں گی۔ وہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ دنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے۔ ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے جبکہ ان میں جو سب سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ بس زیادہ سے زیادہ ایک دن تم ٹھہرے ہو گے۔ )
قرآن کریم سے اعراض کا انجام
جب اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول آتا ہے تو پھر اس پر ایمان لانے اور اس پر نازل ہونے والی کتاب کی رہنمائی کے قبول کرنے یا نہ کرنے پر لوگوں کی قسمتوں کا انحصار ہوتا ہے اگر وہ قبول کرلیں تو بچ جاتے ہیں، انکار کردیں اور تمرد اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاتے ہیں۔
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے آخری رسول پر نازل ہونے والی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی رسالت قیامت تک کے لیے ہے۔ اسی طرح قرآن کریم کی رہنمائی بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ جو شخص اور جو قوم اس کی رہنمائی قبول کرنے سے اعراض کرتی ہے اولاً تو وہ دنیا ہی میں مختلف مصائب کا شکار ہوتی ہے ورنہ جہاں تک قیامت کا تعلق ہے اس دن قرآن و سنت سے پہلوتہی اور اعراض ان کے لیے ایک بہت برے بوجھ کا باعث بنے گا۔ یہ ایک ایسا بارگناہ ہوگا جس کے وبال سے کبھی انھیں خلاصی نہیں ہوگی اور قیامت کے دن بدترین سزا کا باعث بنے گا۔
قیامت کا منظر
قیامت کو معمولی بات نہ سمجھا جائے، یہ ایک ایسی ہمہ گیر جوابدہی کا دن ہے جس میں تمام نوع انسانی کے افراد صور پھونکے جانے کے بعد اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے اور کشاں کشاں میدانِ حشر میں پہنچیں گے۔ بعض لوگوں کو فرشتے ہانکتے اور پیٹتے ہوئے میدانِ حشر میں لے جائیں گے۔ اس دن کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ خوف کے مارے ان کے سارے جسم نیلے پڑجائیں گے، کیونکہ جب خوف کی وجہ سے خون سکڑ جاتا ہے تو جسم نیلا پڑنے لگتا ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک ” زُرق “ ازرق کی جمع ہے اس سے مراد نیلی آنکھیں ہوتی ہیں یا نیلی آنکھوں والا۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ خوف کی وجہ سے ان کی آنکھیں نیلی اور بےنور ہوجائیں گی، جیسے موت کے وقت پتلیاں نیلی پڑجاتی ہیں۔ اس لیے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی اور ان کے چہرے پر خوف کے گہرے اثرات ہوں گے کیونکہ عرب نیلی اور کرنجی آنکھ کو بدنما سمجھتے تھے۔
قیامت کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ جب لوگ میدانِ حشر میں نہایت بےبسی کے ساتھ خوف کی حالت میں گرفتار ہوں گے تو ایک دوسرے سے آہستہ آہستہ کہیں گے کہ دنیا کی زندگی یا بزرخ کا دور ہم جو گزار کے آئے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ دس دن کی مدت ہوگی۔ یعنی یا تو اس ہیبت ناک منظر کی وجہ سے دنیا میں قیام کا تصور ان کی نگاہوں میں سمٹ جائے گا اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے جس حال میں زندگی کا آخری سانس لیا انھیں صرف وہ یاد ہوگا برزخ کے تصور سے بالکل بےبہرہ ہوجائیں گے۔ وہ محسوس کریں گے کہ جان کنی کے بعد جو ہم پر حالت گزری ہے اس کی مدت زیادہ سے زیادہ دس دن ہوگی۔ لیکن یہ باتیں وہ سرگوشی کے انداز میں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کی سرگوشیوں کو بھی جانتے ہیں۔ اس لیے ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کہیں گے اور ان کی کیا حالت ہوگی۔ اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ ان کا محتاط ترین آدمی جو نہایت سوچ سمجھ کر بات کرنے کا عادی ہے اور یا ان کا بوجھ بجھکڑ جس کو یہ لوگ اپنا دانشور سمجھتے تھے وہ یہ کہے گا کہ دس دن کی مدت تو بہت ہوتی ہے۔ تم تو بصد مشکل دنیا میں ایک دن گزار کے آئے ہو۔
کس قدر تعجب کی بات ہے کہ وہ زندگی جو ابدی اور ہمیشہ رہنے والی ہے اور جس کے مقابلے میں دنیا اور برزخ کی زندگی ایک دن کے بھی برابر نہیں، ہم اس ابدی زندگی کے تصور سے بالکل بیخبر اور بےفکر ہیں، لیکن دنیا کے بارے میں نہایت فکرمند، نہایت حساس اور ہر وقت اس کی تیاری میں کھوئے رہتے ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جو سفر لمبا ہو اس کے لیے تیاری زیادہ کی جائے کیونکہ :
مسافر شب سے اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے
لیکن ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
Ayahs 20:105–107وَیَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُھَا رَبِّیْ نَسْفًا۔ فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا۔ لاَّ تَرٰی فِیْھَا عِوَجًاوَّلَآ اَمْتًا۔ (طٰـہٰ : 105 تا 107)
(اور وہ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب انھیں جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک دے گا۔ پس اس زمین کو چٹیل میدان بنا دے گا۔ کہ تم اس میں کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح :۔ نَسْفًااس کا معنی ہے جڑ سے اکھیڑ دینا، پیس کر رکھ دینا، چھاج میں ڈال کر پھٹکنا۔ آیت میں یہ لفظ جس طرح وارد ہوا ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے ابن الاعرابی نے لکھا ہے :
یقلعھا قلعا من اصولھا ثم یسیرھا رملا یسیل سیلا ثم یسیرھا کالصوف المنقوش تطیرھا الریاح ھکذا وھکذا
” انھیں جڑوں سے اکھیڑ کر ریت کی طرح پیس کر رکھ دے گا۔ پھر دھنی ہوئی اون کے گالوں کی طرح ہَوائیں انھیں اڑا کرلے جائیں گی اور ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گا۔ “
قَاعًا… ہموار میدان۔ صَفْصَفًا… چٹیل میدان، جس میں کوئی چیز اگی ہوئی نہ ہو۔ عِوَجًا … کجی، موڑ، بَل، اَمْتًا … چھوٹا ٹیلہ، سلوٹ۔
اعتراض کا جواب
مشرکینِ مکہ میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے تھے۔ ایک تو وہ تھے جو بالکل قیامت کے منکر تھے اور دوسرے وہ تھے جو اگرچہ قیامت آنے کا یقین نہیں رکھتے تھے لیکن انکار بھی نہیں کرتے تھے۔ البتہ قیامت کے وقوع پر قسم قسم کے اعتراضات کرتے تھے اور اسے خلاف عقل سمجھتے تھے۔ انھیں اعتراضوں میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کہتے ہیں کہ قیامت کا پہلا مرحلہ یہ ہوگا جو نفخہ اولیٰ سے شروع ہوگا کہ ہر چیز تباہ و برباد ہوجائے گی، زمین بھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور کوئی چیز اپنی جگہ سلامت نہیں رہے گی۔ حالانکہ پہاڑ ایسے مستحکم گڑے ہوئے ہیں کہ انھیں کوئی اکھیڑ نہیں سکتا اور بعض اہل علم کے نزدیک عرب پہاڑوں کو غیرفانی سمجھتے تھے۔ تو ان کی موجودگی اور ایستادگی کے باوجود زمین کیسے ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ بالخصوص شہر مکہ کو وہ جب دیکھتے تھے کہ پیالے کی مانند چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے تو وہ پوری زمین کو پہاڑوں میں گھرا ہوا محسوس کرتے تھے۔ اس لیے جب بھی زمین کی شکست و ریخت کی بات ہوتی تو سب سے پہلے ان کے ذہن میں پہاڑوں کا سوال پیدا ہوتا تھا۔ اس کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ تم پہاڑوں کو ایسا جما ہوا سمجھتے ہو کہ کوئی انھیں اکھیڑ نہیں سکتا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ کوئی بعید نہیں کہ وہ انھیں اس طرح تباہ و برباد کرے کہ کوٹ پیٹ کر انھیں ریزہ ریزہ کردے۔ اور پھر دھنی ہوئی اون کے گالوں کی مانند ہوا میں اڑتے پھریں اور زمین کو بالکل سپاٹ اور ہموار میدان بنادیا جائے کہ اس میں نہ کوئی نشیب رہے اور نہ فراز۔ نہ کوئی بَل باقی رہے نہ کوئی سلوٹ۔ کہیں کوئی موڑ دکھائی نہ دے اور کوئی ٹیلہ نظر نہ آئے۔
عالم آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے۔ سورة انشقاق میں فرمایا اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ” زمین پھیلا دی جائے گی۔ “ سورة انفطار میں فرمایا اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ” سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے۔ “ جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اتر جائے گا۔ سورة تکویر میں فرمایا اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ” سمندر بھر دیئے جائیں گے یا پاٹ دیئے جائیں گے۔ “ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کردی جائے گی۔ اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں یہ پورا کرہ زمین سمندروں کو پاٹ کر، پہاڑوں کو توڑ کر، نشیب و فراز کو ہموار اور جنگلوں کو صاف کرکے بالکل ایک گیند کی طرح بنادیا جائے گا۔ یہی وہ شکل ہے جس کے متعلق سورة ابراہیم آیت 48 میں فرمایا یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَالْاَرْضِ ” وہ دن جبکہ زمین بدل کر کچھ سے کچھ کردی جائے گی۔ “ اور یہی زمین کی وہ شکل ہوگی جس پر حشر قائم ہوگا اور اللہ تعالیٰ عدالت فرمائے گا۔ پھر اس کی آخری اور دائمی شکل وہ بنادی جائے گی جس کو سورة زمر آیت 74 میں یوں بیان فرمایا گیا : وَقَالُوا الْحَمْدُالِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآئُ ، فَنِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِیْنَیعنی متقی لوگ ” کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنے وعدے پورے کیے اور ہم کو زمین کا وارث بنادیا، ہم اس جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ آخرکار یہ پورا کرہ جنت بنادیا جائے گا اور خدا کے صالح و متقی بندے اس کے وارث ہوں گے۔ اس وقت پوری زمین ایک ملک ہوگی۔ پہاڑ، سمندر، دریا، صحرا، جو آج زمین کو بیشمار ملکوں اور وطنوں میں تقسیم کررہے ہیں اور ساتھ ساتھ انسانیت کو بھی بانٹے دے رہے ہیں، سرے سے موجود ہی نہ ہوں گے۔ (واضح رہے کہ صحابہ وتابعین میں سے ابن عباس ( رض) اور قتادہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جنت اسی زمین پر ہوگی اور سورة نجم کی آیت عِنْدَسِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی، عِنْدَھَا جَنَّـۃُ الْمَاوٰیکی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جنت ہے جس میں اب شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں) ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 20:108یَوْمَئِذٍ یَّـتَّـبِـعُـوْنَ الدَّاعِیَ لاَ عِوَجَ لَـہٗ ج وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلاَ تَسْمَعُ اِلَّا ہَمْسًا۔ (طٰـہٰ : 108)
(اس روز سب لوگ پکارنے والے کے پیچھے پیچھے چلیں گے، کوئی روگردانی نہیں کرسکے گا اور آوازیں رحمن کے خوف سے خاموش ہوجائیں گی، پس تم نہ سنو گے مگر مدھم سے آہٹ۔ )
ہَمْسًا … مدھم آواز، پائوں کی آہٹ کو بھی کہتے ہیں۔ چپکے چپکے بولنے کی آواز۔
خودسروں کا انجام
آنحضرت ﷺ جب مکہ کے لوگوں کے سامنے قرآن پڑھتے تو وہ اس قدر شور مچاتے کہ قرآن کی آواز دب جاتی اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم چونکہ اپنے اندر بےپناہ تاثیر رکھتا ہے، اگر یہ کانوں میں پڑے گا تو اثر کیے بغیر نہ رہے گا۔ اس کی تاثیر سے بچنے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور مچائو تاکہ اس کی آواز کانوں میں نہ آنے پائے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ جب قریش کے سامنے دین کی دعوت پیش کرتے تو وہ سیدھے منہ بات سننے کے روادار نہ ہوتے۔ الٹے سیدھے سوالات کرتے اور پھبتیاں کستے اور ان کی گردنیں بجائے جھکنے کے اور اکڑتی چلی جاتیں۔ اس آیت کریمہ میں اس صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آج ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ ان کی سرکشی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے لیکن قیامت کے روز جب انھیں پکارنے والا میدانِ حشر کی طرف نکلنے کی ندا دے گا تو یہ نہایت خاموشی سے اور سر جھکا کر اس کی پیروی کریں گے۔ کیا مجال ہے جو کوئی ان میں روگردانی کرسکے یا کجی دکھا سکے۔ اس روز ان کی ہر طرح کی سرکشی قصہ پارینہ بن جائے گی اور ان کی زبانیں اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے خاموش ہوجائیں گی۔ بیشمار مخلوقات کی موجودگی کے باوجود ہیبت اور خوف کا عالم یہ ہوگا کہ کسی طرف سے کوئی آواز سنائی نہ دے گی اور اگر کوئی آواز کانوں میں پڑے گی بھی تو وہ صرف چلنے والوں کے قدموں کی آواز ہوگی، اس کے علاوہ کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ منہ سے کوئی لفظ نکال سکے۔
Ayah 20:109یَوْمَئِذٍ لاَّ تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلاَّ مَنْ اَذِنَ لَـہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَـہٗ قَوْلاً ۔ (طٰـہٰ : 109)
(اس دن کوئی سفارش نفع نہیں دے گی، بجز اس آدمی کے کہ اسے رحمن اجازت دے اور اس کے قول کو پسند فرمائے۔ )
شفاعت کا صحیح تصور
قیامت کے حوالے سے عربوں میں جو گمراہیاں پائی جاتی تھیں اور جن کی وجہ سے انھیں قیامت کی پرواہ تک نہ تھی ان میں سے ایک گمراہی یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر واقعی قیامت آہی گئی تو ہمیں اس کی کیا پرواہ ہے کیونکہ جن قوتوں کو ہم نے آج تک اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک سمجھ کر پکارا ہے اور ہمیشہ ان کی پوجا کی ہے وہ قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گی اور ان کی سفارش ہمارے لیے نجات کی ضامن ہوگی۔ عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر پوجتے تھے اور ان کا گمان یہ تھا کہ بیٹیاں عام طور پر اپنے باپ کو ضد کرکے منا لیا کرتی ہیں۔ اگر پروردگار نے ہمیں عذاب دینے کا ارادہ کیا تو یہ بیٹیاں اللہ تعالیٰ سے ضد کرکے ہمیں چھڑا لیں گی۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے پروردگار نے فرمایا کہ تم نے نہ جانے اپنے پروردگار کو کیا سمجھ رکھا ہے۔ اس کی ذات اتنی عظیم ہے کہ کسی بڑے سے بڑے آدمی کو اس کے دربار میں دم مارنے کی مجال نہیں ہوگی۔ فرشتے ہوں یا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے وہ قیامت کے دن دست بستہ اور لب بستہ کھڑے ہوں گے۔ ان کے چاہنے والے انھیں اپنی طرف متوجہ کریں گے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت نہیں کریں گے۔ کسی کی یہ ہرگز مجال نہیں ہوگی کہ وہ اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کرنا شروع کردے۔ سفارش کرنے کی سعادت صرف اسے حاصل ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے اذن دیا ہوگا۔ اور دوسری یہ بات کہ جن عظیم شخصیتوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لب کشائی کی اجازت ملے گی وہ بھی صرف ان لوگوں کی شفاعت کرسکیں گے جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اذن دیا جائے گا اور جن کے لیے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا کہ ان کی شفاعت کی جائے۔ اور وہ جو کہنا چاہیں گے اللہ تعالیٰ وہ سننا پسند بھی فرمائے اور بعض اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ قول سے مراد کلمہ شہادت ہے یعنی جس شخص کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے لیے سفارش کی اجازت مرحمت فرمائیں گے۔ اس لیے حدیث میں آتا ہے کہ بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے جو جہنم میں جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے لیکن ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہوگا تو کبھی نہ کبھی ایسا وقت آئے گا کہ نبی کریم ﷺ ان کی شفاعت فرمائیں گے تو انھیں حوض کوثر پر لا کر ڈال دیا جائے گا۔ آپ ﷺ ان پر حوض کوثر سے جام بھر بھر کر ڈالنا شروع کریں گے تو وہ آہستہ آہستہ اس طرح زندگی سے آشنا ہوں گے جیسے برسات کے دنوں میں جھلسی ہوئی زمین اور مرا ہوا غلہ زندگی سے ہمکنار ہوتا ہے۔
شفاعت کی بنیاد ایمان و عمل پر ہے۔ ان دونوں میں کمی اور نقصان کے باعث نجات کا معاملہ ملتوی ہوجاتا ہے۔ جس شخص کے عمل میں کچھ کمی رہی ہوگی، شفاعت اس کمی کی تلافی کرے گی اور اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائیں گے۔ لیکن جس شخص نے شفاعت کے غلط تصور پر بھروسہ کرتے ہوئے نہ ایمان کی تفصیلات کو جانا اور نہ عمل سے اس کی آبیاری کی، اسے کوئی شفاعت میسر نہیں آئے گی۔
Ayah 20:110یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا۔ (طٰـہٰ : 110)
(وہ جانتا ہے لوگوں کے آنے والے حالات کو اور گزرے ہوئے واقعات کو، اور لوگ اس کا اپنے علم سے احاطہ نہیں کرسکتے۔ )
شفاعت کے صحیح تصور پر دلیل
اس آیت کریمہ میں شفاعت کی علی الاطلاق اجازت نہ دینے کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کسی افسر کی جانب سے سزا ملتی ہے تو وہ افسر کے جاننے والوں بلکہ اس پر اثر رکھنے والوں کو تلاش کرتا ہے اور جب کوئی ایسا شخص مل جاتا ہے تو وہ اسے درخواست کرتا ہے کہ آپ براہ کریم میری سفارش کرکے میری سزا معاف کرا دیں۔ سفارش کرنے والا سزا دینے والے افسر کے پاس جا کردو کام کرتا ہے۔ ایک تو یہ کہ اسے یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ آپ کے پاس سزا پانے والے شخص کی جو اطلاعات پہنچی ہیں وہ مبنی برحقیقت نہیں۔ لوگوں نے آپ کو غلط معلومات پہنچائی ہیں اور یا سنی سنائی باتیں کہہ دی گئی ہیں۔ آپ چونکہ براہ راست مذکورہ شخص سے آگاہ نہیں ہیں اور اس کے حالات سے کما حقہ واقف نہیں ہیں اس لیے آپ نے موجود اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اسے سزا دے دی ہے۔ میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ میں آپ کو یقین دلائوں کہ میں اس کے حالات کو خوب جانتا ہوں۔ میں اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر یہ سفارش کر رہا ہوں کہ وہ شخص بےگناہ ہے، آپ سے معاف کردیں۔ سزا دینے والا افسر چونکہ حالات سے براہ راست واقف نہیں ہوتا اس لیے وہ ایسی سفارشوں کی بنیاد پر بعض دفعہ اپنا فیصلہ واپس لے لیتا ہے اور یہی انصاف کا تقاضا بھی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کے بارے میں بھی بالواسطہ معلومات کا محتاج نہیں۔ اس کا علم سہاروں سے بےنیاز ہے۔ جنگل میں کوئی پتّا بھی گرتا ہے تو وہ اس سے بھی واقف ہے اور سمندر کی گہرائی میں کوئی مچھلی حرکت کرتی ہے تو وہ اسے بھی دیکھتا ہے۔ کوئی شخص ہزار تنہائیوں اور تاریکیوں میں چھپ کر کوئی کام کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہوتا۔ وہ ہرحال میں اسے دیکھتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔ ایسی صورت میں کوئی شخص اس کے پاس جا کر یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا کہ آپ کی معلومات بالواسطہ ہیں، آپ براہ راست حالات سے واقف نہیں اور میں آپ کے پاس صحیح حالات کا علم لے کر آیا ہوں۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اگلے اور پچھلے حالات سے واقف ہے۔ اور کوئی دوسرا شخص اس طرح کسی کے حالات سے واقف نہیں ہوسکتا۔ تو پھر کوئی سفارش کی جرأت کرے تو کیوں کر ؟ ایسی صورتحال میں ایک ہی شکل باقی رہ جاتی ہے کہ جو شخص بھی شفاعت کرے وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے کرے۔ اور وہ بات کہے جو حقیقت پر مبنی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے سننا پسند بھی فرمائے۔ اور یہ شفاعت اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ حالات سے آگاہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے لیے ایک اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا جائے گا۔