Ayahs 20:77–78وَلَقَدْ اَوْحَیْنَـآ اِلٰی مُـوْسٰٓی 5 لا اَنْ اَسْرِبِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا لا لاَّ تَخٰفُ دَرَکًا وَّلاَ تَخْشٰی۔ فَاَ تْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَاغَشِیَہُمْ ۔ (طٰـہٰ : 77، 78)
(ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ اور ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بنا لو، تمہیں کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ تمہیں اندیشہ ہو (ڈوب جانے کا) ۔ پس فرعون نے اپنی فوجوں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا اور سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ )
فَاضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقًا …صاحبِ کشاف کے نزدیک ضرب طریق کا معنی راستہ بنا لینے کے ہیں۔
مقابلے کے اثرات
جادوگروں سے مقابلے میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی فتح نے حسب توقع اہل مصر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ فرعون نے اگرچہ سیاسی شعبدہ بازیوں سے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن دلوں میں اس مقابلے کے اثرات کو روکنے کی کوئی تدبیر وہ نہ کرسکا۔ اس مقابلے کا پہلا اثر تو یہ ہوا کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی نبوت کے بارے میں یکسو ہوگئے اور آہستہ آہستہ ان کے اندر یہ یقین پختہ ہوتا چلا گیا کہ فرعون کی حکومت کفر کی حکومت ہے اور ہم لوگ مسلمان ہیں، ہمیں بہر صورت کفر کی اس حکومت سے نجات حاصل کرنی ہے ورنہ جس شخص کی نظر بھی قوموں کے عروج وزوال کے اسباب پر ہے وہ جانتا ہے کہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم کسی اجتماعی فیصلے کے ہرگز قابل نہیں ہوتی۔ وہ خطرات کو برداشت کرنے کی بجائے اپنی غلامی پر قانع رہنا پسند کرتی ہے۔ ان کی طبیعتوں میں خطرپسندی کا گزر دور دور تک نہیں ہوتا۔ اس لیے ملک چھوڑ دینے اور ایک نئی تاریخ کے راستے پر پڑجانے کا حوصلہ یہ بات بتانے کے لیے کافی ہے کہ بنی اسرائیل ذہنی تربیت کے اعتبار سے بہت سے مراحل طے کرچکے تھے اور اس کا آغاز یقینا جادوگروں کے ساتھ اسی معرکے سے ہوا۔ انھوں نے جب اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید دیکھی تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہوگئے۔
جہاں تک عام اہل مصر کا تعلق ہے ان میں اگرچہ ہم کسی بڑی تبدیلی کے آثار نہیں دیکھتے لیکن ایک بات واضح ہے کہ جادوگربنی اسرائیل میں سے نہیں بلکہ اہل مصر کی کسی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے جس طرح حق کو قبول کیا اور پھر اس راستے میں ہر قربانی دینے کا عزم بالجزم کیا اس کا یقینا یہ نتیجہ ہوا ہوگا کہ بہت بڑی تعداد نہ سہی ایک محدود تعداد ان کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہوگئی ہوگی، شاید یہی وجہ ہے کہ پیش نظر آیت کریمہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ آپ ( علیہ السلام) راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں بلکہ یہ فرمایا گیا کہ میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ۔ یہاں بنی اسرائیل کی بجائے عبادی کا لفظ اشارہ کررہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلنے والے لوگ بنی اسرائیل کے علاوہ دوسرے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بھی تھے۔
واقعہ ہجرت اور اس کا پس منظر
حاصل کلام یہ کہ جادوگروں سے مقابلے کے بعد عام بیداری کی جو لہر اٹھی فرعون نے اسے روکنے کے لیے داروگیر میں مزید سختی کردی۔ کمزور لوگوں کی مشکلات میں اور اضافہ ہوگیا، بنی اسرائیل پر ہونے والے مظالم میں تیزی آگئی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ و دعوت کے ذریعے عام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلایا اور فرعون سے بھی بار بار ملاقاتیں کیں اور اسے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید و نصرت کے لیے مزید معجزات عطا فرمائے جو فرعون اور آل فرعون بلکہ تمام اہل مصر کے لیے ایک عذاب سے کم نہ تھے۔ سورة الاعراف میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ چناچہ جب کوئی مصیبت مصر پر نازل ہوتی تو فرعون گھبرا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتا کہ آپ ( علیہ السلام) دعا کریں کہ یہ مصیبت ٹل جائیں، ہم آپ ( علیہ السلام) سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم بنی اسرائیل کو آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ بھیج دیں گے، کیونکہ اب دعوت الی اللہ کی صورت یہ ہوگئی تھی کہ جب فرعون اور اس کے زیراثر لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں دل سخت کرلیے بلکہ اس طرح ہراس پیدا کردیا کہ کسی کے لیے بھی اس دعوت پر لبیک کہنا آسان نہ رہا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ کہا کہ تم بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو ۔ اگر تمہیں ایمان اور اہل ایمان کا وجود گوارا نہیں تو ہم تمہارا ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) کے پیش نظر غالباً یہ تھا کہ بنی اسرائیل اگرچہ اپنے دلوں میں ایمان رکھتے ہیں لیکن اگر وہ اسی طرح مصریوں کے ساتھ رہیں گے تو ان کے اندر ایمان کے برگ و بار کبھی پھوٹنے نہیں پائیں گے اور ان کی اسلامی شریعت کے مطابق کبھی بھی تربیت نہیں ہوپائے گی۔ اگرچہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مکمل طور پر بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں مانگی تھی بلکہ صرف یہ چاہا تھا کہ ہمیں شہر سے باہر بیابان میں تین دن عید منانے کی اجازت دی جائے جہاں ہم اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانیاں دے سکیں۔ اور اسی سلسلے میں بعض اہل علم کا یہ بھی خیال ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مکہ معظمہ لے جانا چاہتے تھے لیکن قرآن کریم سے تو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے فرعون سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو تاکہ وہ تمہارے کفر اور غلامی کے اثرات سے آزاد ہو کر اپنے اندر اسلامی زندگی کی خوبو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اسی سلسلے میں فرعون اور آل فرعون کو تنبیہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار مختلف قسم کی آزمائشیں نازل ہوتی رہیں۔ کبھی بارشیں روک دی گئیں، کبھی پانی کو خون بنادیا گیا، کبھی مینڈکوں کی تعداد میں بےپناہ اضافہ کردیا گیا، کبھی ہر جگہ کھٹمل اور جوئیں پیدا کردی گئیں۔ چناچہ جب بھی ایسی کوئی آزمائش نازل ہوتی تو فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑی عاجزی سے وعدہ کرتا کہ آپ ( علیہ السلام) دعا کریں، یہ مصیبت جاتی رہے، تو ہم بنی اسرائیل کو آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ بھیج دیں گے۔ لیکن جب کئی سالوں تک اس نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر طرح سے اس پر اتمامِ حجت کرچکے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا کہ آپ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرجائیں۔ چناچہ اس کے لیے ایک رات مقرر کردی گئی، وقت طے ہوگیا اور جگہ کا بھی تعین کرلیا گیا جہاں سے اکٹھے ہو کر سب کو نکلنا تھا۔ چناچہ نہایت خاموشی اور نظم و ضبط کے ساتھ رات کی تاریکی میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکلے۔ اس زمانے میں نہر سویز موجود نہ تھی، بحر احمر سے بحر روم تک کا پورا علاقہ کھلا ہوا تھا مگر اس علاقے کے تمام راستوں پر فوجی چھائونیاں تھیں جن سے بچ کر گزرنا محال تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بحراحمر کی شمالی خلیج کی طرف نکلنے کا ارادہ کیا۔ غالباً ان کا خیال یہ تھا کہ اس طرح سمندر کے کنارے کنارے چل کر جزیرہ نمائے سینا کی طرف نکل جائیں۔ ادھر فرعون کو کسی طرح معلوم ہوگیا کہ بنی اسرائیل شہر سے نکل گئے ہیں تو وہ اپنی فوجوں کو ساتھ لے کر تعاقب کرتا ہوا ٹھیک ان کے سروں پر آپہنچا جبکہ یہ قافلہ ابھی سمندر کے ساحل ہی پر تھا۔ بنی اسرائیل نے جب دیکھا کہ سامنے سمندر کی موجیں پوری طغیانی میں ہیں اور پیچھے فرعون کی فوجیں چلی آرہی ہیں تو وہ چیخ اٹھے۔ اِنَّالَمُدْرَکُوْن ” ہم تو پکڑ لیے گئے “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت جلال سے فرمایا کَلاَّ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْن ” ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے ضرور راستہ دے گا۔ “ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ عصا مارنے کی دیر تھی، قرآن کریم کہتا ہے فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالْطَّوْدِالْعَظِیْم ” سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک بڑے ٹیلے کی طرح کھڑا ہوگیا۔ “ اور اس طرح سے صرف یہی نہیں کہ پانی رک جانے کے باعث راستہ بن گیا بلکہ پیش نظر آیت کریمہ کے مطابق بیچ کا تمام حصہ سوکھ کر سڑک بن گیا۔
اس واقعہ کے مطابق تورات میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ قرآن کریم کی دی ہوئی تفصیل کے قریب قریب ہے۔ تورات کی کتاب خروج باب 14 میں منقول ہے، (اور خدا وند نے موسیٰ سے کہا کہ تو کیوں مجھ سے فریاد کررہا ہے، بنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ آگے بڑھیں اور تو اپنی لاٹھی اٹھا کر اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا اور اس کو دو حصے کر اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل جائیں گے… پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تند پوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر ایک خشک زمین بنادیا اور پانی دو حصے ہوگیا اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور ان کے داہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا اور مصریوں نے تعاقب کیا۔ ) آپ قرآن کریم اور تورات کے الفاظ پر غور کیجیے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک صریح معجزہ ہے جس میں طبعی زمینی عوامل کا کوئی دخل نہیں۔ اس سے ان لوگوں کے خیالات کی اصلاح ہوجانی چاہیے جو کہتے ہیں کہ ہوا کے طوفان یا جوار بھاٹے کی وجہ سے سمندر ہٹ گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اولاً تو اتنے بڑے جوار بھاٹے کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں اور اگر فرض کرلیں کہ یہ جوار بھاٹا ہی تھا تو کیا جوار بھاٹے میں یا ہوا کے طوفان کی وجہ سے کبھی اس طرح بھی پانی ہٹا ہے کہ دونوں طرف ٹیلوں کی طرح پانی کھڑا ہوجائے اور بیچ کا حصہ سوکھ کر سڑک بن جائے۔
دوسری آیت میں فرعون کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس نے جب ساحل سمندر پر پہنچ کر دیکھا کہ سمندر کا پانی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے اور درمیان میں ایک راستہ بن گیا ہے جس سے بنی اسرائیل نہایت اطمینان سے سمندر کے دوسرے پار پہنچ گئے ہیں تو اس نے بھی اپنا گھوڑا سمندر میں اتار دیا تو اس کی پیروی میں تمام فوج سمندر میں اترگئی۔ جب فرعون اور اس کی فوج عین سمندر کے بیچ میں پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو مل جانے کا حکم دے دیا۔ چناچہ پانی کے ملتے ہی فرعون اپنی فوجوں سمیت پانی میں غرق ہوگیا۔
آیت کا دوسرا جملہ فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَاغَشِیَہُمْ ” پھر سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ “ یہ عربی زبان کا ایک ایسا اسلوب ہے جس میں انتہائی ہیبت پائی جاتی ہے۔ اس میں شاید اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جب سمندر کا پانی آپس میں ملا اور اس میں فرعون اور اس کے فوجی گھر گئے تو کچھ نہ پوچھئے کہ سمندر کی بپھری ہوئی موجوں نے ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ پانی میں ڈوبنا بجائے خود بڑی اذیت کی بات ہے لیکن سمندر کی موجوں کے تھپیڑوں کا ہدف بن جانا اور پھر پانی کا ڈوبنے والے کو اٹھا اٹھا کر پھینکنا اور پٹخنا یہ وہ اذیت ہے جس کا تصور بھی ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔
دو عبرت انگیز مناظر
فرعون اور آل فرعون اپنے انجام کو پہنچ گئے لیکن اس میں دو منظر ایسے ہیں جو نہایت عبرت خیز ہیں۔ پہلا منظر یہ ہے کہ فرعون اور آل فرعون یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے برسوں تک بنی اسرائیل کو مظالم کی چکی میں پیسا تھا۔ کوئی اذیت ایسی نہیں جو انھیں نہ پہنچائی ہو اور کوئی ذلت ایسی نہیں جس کا انھیں نشانہ نہ بنایا ہو۔ وہ ان کے ہاتھ میں بےبس کھلونوں کی مانند تھے۔ لیکن آج عجیب منظر یہ تھا کہ انھیں موجیں اٹھا اٹھا کر پٹخ رہی تھیں اور ان کی چیخیں آسمانوں تک پہنچ رہی تھیں اور وہی مقہور و مجبور سمندر کے دوسرے کنارے پر کھڑے انھیں ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ ڈوبنے والوں کو شاید اس کا ہوش نہ ہو کہ کن لوگوں کی نظریں ہم پر پڑ رہی ہیں لیکن بنی اسرائیل بقائمی ہوش و حواس اپنے سابقہ ظالم آقائوں کے پانی میں غرق ہونے کا نظارہ کر رہے تھے اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس وقت ان کے احساسات کیا تھے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی مظلوم قوم جب ظالموں کو حالات کی گرفت میں دیکھتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا بےحد شکر بجا لاتی ہے اور اس کے دل کو ایک سکون ملتا ہے۔ اسی لیے سورة بقرہ آیت 50 میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑنے کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے بطور خاص یہ بات فرمائی کہ تم اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
اب دوسرا منظر بھی اس سے کم عبرت انگیز نہیں کہ فرعون کی ساری فوجیں پانی میں ڈوب گئیں اور ان میں سے کسی کو سر اٹھانے کا موقع نہ ملا، لیکن سورة یونس آیات 90۔ 92 میں فرمایا گیا ہے کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو وہ پکارا آمَنْتُ اَنَّـہٗ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّالَّذِیْ آمَنَتْ بِہِ بَنُوْاِسْرَائِیْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْن ” میں مان گیا کہ کوئی خدا نہیں ہے اس خدا کے سوا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی مسلمانوں میں سے ہوں۔ “ مگر اس آخری لمحے کے ایمان کو قبول نہ کیا گیا اور جواب ملا اَلْئٰنَ وَقَدْعَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْن، فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَـۃً ” اب ایمان لاتا ہے ؟ اور پہلے یہ حال تھا کہ نافرمانی کرتا رہا اور فساد کیے چلا گیا، اچھا آج ہم تیری لاش کو بچائے لیتے ہیں تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنا رہے۔ “
Ayah 20:79وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَمَا ھَدٰی۔ (طٰـہٰ : 79)
(فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی۔ )
قائد اور رعایا کی ذمہ داری
آلِ فرعون اور مصر پر جو مصیبت آئی اور وہ جس برے انجام کو پہنچے اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو صحیح رہنمائی دینے کی بجائے گمراہ کیا۔ وہ ایسا برخودغلط تھا کہ وہ اپنی ہر بات کو حرف آخر سمجھتا تھا۔ وہ حکمران کی حیثیت سے صرف حکم دینا جانتا تھا وہ یہ بات نہیں سمجھتا تھا کہ اس کی حیثیت ایک راعی کی ہے جس طرح ایک چرواہا اپنے گلے کی حفاظت کرتا اور اسے ہر طرح کے نقصان سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح میری بھی ذمہ داری ہے کہ میں اپنی رعایا کو صحیح رہنمائی مہیا کروں اور انھیں ایسے راستوں پر چلنے سے روکوں جو تباہی کی طرف لے جانے والے ہیں۔
اسی طرح رعایا کی بھی ذمہ داری ہے۔ وہ جب یہ دیکھے کہ ہمارا حکمران راعی نہیں بلکہ محض بادشاہ ہے جسے اپنے احکام اور خواہشات کی تعمیل عزیز ہے۔ رعایا کی تربیت اور ان کی صحیح رہنمائی سے اسے کوئی سروکار نہیں، تو پھر انھیں فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہمیں ایسے حکمران کو برداشت کرنا چاہیے یا نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح فرعون نے اپنا فرض انجام نہیں دیا اسی طرح رعایا نے بھی اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں تباہ ہوگئے۔
اس سے مشرکینِ مکہ کو شاید یہ سمجھانا مقصود ہے کہ تمہارے سردار اور لیڈر تم کو اسی راستے پر لیے جارہے ہیں جس پر فرعون اپنی قوم کو لے جارہا تھا اور تم بھی آنکھیں بند کرکے فرعون کی قوم کی طرح ان کے پیچھے چلے جارہے ہو۔ اگر تم میں کچھ بھی عقل ہے تو فرعون اور اس کی قوم کے انجام سے سبق سیکھو اور صحیح فیصلہ کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ کے رسول تمہارے درمیان موجود ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی کتاب نازل ہورہی ہے لیکن کس قدر بدنصیبی کی بات ہے کہ تم آب حیات سے منہ پھیر کر آب سموم پینے پر اصرار کررہے ہو۔
اس قصے کے خاتمے پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بائیبل کے بیانات کا بھی جائزہ لے لیا جائے تاکہ ان لوگوں کے جھوٹ کی حقیقت کھل جائے جو کہتے ہیں کہ قرآن میں یہ قصے بنی اسرائیل سے نقل کرلیے گئے ہیں۔ بائبل کی کتاب خروج (Exodus) میں اس قصے کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان کے حسب ذیل اجزاء قابل توجہ ہیں :
1 باب 4، آیت 2۔ 5 میں بتایا گیا ہے کہ عصا کا معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا اور آیت 17 میں انہی کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ” تو اس لاٹھی کو اپنے ہاتھ میں لیے جا اور اسی سے ان معجزوں کو دکھانا۔ “ مگر آگے جا کر نہ معلوم یہ لاٹھی کس طرح حضرت ہارون (علیہ السلام) کے قبضے میں چلی گئی اور وہی اس سے معجزے دکھانے لگے۔ باب 7 سے لے کر بعد کے ابواب میں مسلسل ہم کو حضرت ہارون (علیہ السلام) ہی لاٹھی کے معجزے دکھاتے نظر آتے ہیں۔
2 باب 5 میں فرعون سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی ملاقات کا حاصل بیان کیا گیا ہے، اور اس میں سرے سے اس بحث کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ربوبیت کے مسئلہ پر ان کے اور فرعون کے درمیان ہوئی تھی۔ فرعون کہتا ہے کہ ” خداوند کون ہے کہ میں اس کی بات مانوں اور بنی اسرائیل کو جانے دوں ؟ میں خداوند کو نہیں جانتا۔ “ مگر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) اس کے سوا کوئی جواب نہیں دیتے کہ ” عبرانیوں کا خدا ہم سے ملا ہے۔ “ (باب 5۔ آیت 2۔ 3)
3 جادوگروں سے مقابلے کی پوری داستان بس ان چند فقروں میں سمیٹ دی گئی ہے :
” اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ جب فرعون تم کو کہے کہ اپنا معجزہ دکھائو تو ہارون سے کہنا کہ اپنی لاٹھی کو لے کر فرعون کے سامنے ڈال دے تاکہ وہ سانپ بن جائے اور موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے اور انھوں نے خداوند کے حکم کے مطابق کیا اور ہارون نے اپنی لاٹھی فرعون اور ان کے خادموں کے سامنے ڈال دی اور وہ سانپ بن گئی۔ تب فرعون نے بھی دانائوں اور جادوگروں کو بلوایا اور مصر کے جادوگروں نے بھی اپنے جادو سے ایسا ہی کیا کیونکہ انھوں نے بھی اپنی اپنی لاٹھی سامنے ڈالی اور وہ سانپ بن گئیں لیکن ہارون کی لاٹھی ان کی لاٹھیوں کو نگل گئی۔ “ (باب 7، آیت 8۔ 12)
اس بیان کا مقابلہ قرآن کے بیان سے کرکے دیکھ لیا جائے کہ قصے کی ساری روح یہاں کس بری طرح فنا کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جشن کے دن کھلے میدان میں باقاعدہ چیلنج کے بعد مقابلہ ہونا، اور پھر شکست کے بعد جادوگروں کا ایمان لانا جو قصے کی اصل جان تھا، سرے سے یہاں مذکور ہی نہیں ہے۔
4 قرآن کہتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مطالبہ بنی اسرائیل کی رہائی اور آزادی کا تھا۔ بائبل کا بیان ہے کہ مطالبہ صرف یہ تھا ” ہم کو اجازت دے کہ ہم تین دن کی منزل بیابان میں جا کر خداوند اپنے خدا کے لیے قربانی کریں۔ “
(باب 5، آیت 3)
5 مصر سے نکلنے اور فرعون کے غرق ہونے کا مفصل حال باب 11 سے 14 تک بیان کیا گیا ہے۔ اس میں بہت سی مفید معلومات اور قرآن کے اجمال کی تفصیلات بھی ہمیں ملتی ہیں اور ان کے ساتھ متعدد عجیب باتیں بھی مثلاً باب 14 کی آیات 15، 16 میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا جاتا ہے کہ ” تو اپنی لاٹھی (جی ہاں اب لاٹھی حضرت ہارون سے لے کر پھر حضرت موسیٰ کو دے دی گئی ہے) اٹھا کر اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا اور اسے دو حصے کر اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل جائیں گے۔ “ لیکن آگے چل کر آیت 21، 22 میں کہا جاتا ہے کہ ” پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تند پوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اسے خشک زمین بنادیا اور پانی دو حصے ہوگیا اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور ان کے داہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا۔ “ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ آیا یہ معجزہ تھا یا طبعی واقعہ ؟ اگر معجزہ تھا تو عصا کی ضرب سے ہی رونما ہوگیا ہوگا، جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اور اگر طبعی واقعہ تھا تو یہ عجیب صورت ہے کہ مشرقی آندھی نے سمندر کو بیچ میں سے پھاڑ کر پانی کو دونوں طرف دیوار کی طرح کھڑا کردیا اور بیچ میں سے خشک راستہ بنادیا۔ کیا فطری طریقے سے ہوا کبھی ایسے کرشمے دکھاتی ہے ؟
تلمود کا بیان نسبۃًبائبل سے مختلف اور قرآن سے قریب تر ہے، مگر دونوں کا مقابلہ کرنے سے صاف محسوس ہوجاتا ہے کہ ایک جگہ براہ راست علم وحی کی بنا پر واقعات بیان کیے جارہے ہیں اور دوسری جگہ صدیوں کی سینہ بسینہ روایات میں واقعات کی صورت اچھی خاصی مسخ ہوگئی ہے۔
ملاحظہ ہو : The Talmud Selections, H. Polano, pp. 150-54 (تفہیم القرآن)
Ayahs 20:80–82یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ قَدْاَنْجَیْنٰـکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ وَوٰعَدْنٰـکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِالْاَیْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی۔ کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰـکُمْ وَلاَ تَطْغَوْا فِیْہِ فَیَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْج وَمَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَـقَدْ ھَوٰی۔ وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی۔ (طٰـہٰ : 80، 81، 82)
(اے بنی اسرائیل ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر ہم نے من وسلویٰ اتارا۔ ہماری بخشی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھائو اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب اترتا ہے تو یقینا وہ گر کر رہتا ہے۔ اور میں ان لوگوں کے لیے بڑا ہی غفار ہوں جو توبہ کریں، ایمان لائیں اور عمل صالح کریں پھر ہدایت کی روش اختیار کریں۔ )
احسانات یاد دلا کر بنی اسرائیل کو تنبیہ
بنی اسرائیل سمندر کو عبور کرنے کے بعد کن مراحل سے گزرے اس کا ذکر سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ کسی موقع پر پروردگار نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں کی یاد دلا کر ان کی ذمہ داریاں یا ددلائیں تو اس سلسلے میں بطور خاص جن نعمتوں اور احسانات کا ذکر کیا گیا وہ متذکرہ بالا آیات میں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات جس کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل ! تم پر اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ تم فرعون جیسے بدترین دشمن کے آہنی پنجے میں گرفتار تھے، وہ تمہاری نسل کشی کا فیصلہ کرچکا تھا اور جو لوگ اس وقت زندہ تھے ان کی زندگی موت سے بدتر تھی۔ عزت اور راحت عرصہ دراز سے تمہارے گھروں سے رخصت ہوچکی تھی اور قومی افتخار سے تم بری طرح محروم کردیئے گئے تھے۔ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا۔ اس نے تمہارے دلوں میں جذبات کی دنیا پیدا کی، تمہارا ٹوٹا ہوا رشتہ اللہ تعالیٰ سے جوڑا اور تمہیں فرعون کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے جب وہ رات کی تاریکی میں ہجرت کے ارادے سے نکلا تو سامنے سمندر نے تمہارا راستہ روک دیا اور پیچھے سے فرعون تعاقب کرتا ہوا پہنچ گیا۔ اب تمہارے سامنے موت کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم اور اپنی قدرت سے تمہیں سمندر کے پار اتارا اور فرعون اور اس کی فوجوں کو سمندر میں غرق کردیا۔ اس طرح تمہاری زندگیوں کی بقاء کا سامان کیا گیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تمہیں نئی زندگی عطا کی گئی لیکن تمہاری وہ کمزوریاں جو غلامی نے تمہارے اندر پیدا کردی تھیں اور تمہاری وہ گمراہیاں جو فرعون کے زیرسایہ تمہارے اندر پروان چڑھ چکی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ تم قبطیوں کی طرح بتوں کو پوجنے لگے تھے۔ چناچہ جیسے ہی صحرائے سینا میں تمہارا گزر ایک مندر پر ہوا تو وہاں ایستادہ بتوں کو دیکھ کر تمہیں بھی شوق چرایا اور تم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بےجھجک مطالبہ کردیا کہ آپ ( علیہ السلام) بھی ہمارے لیے ایک بت بنا دیجیے تاکہ ہم اسے خدا کی طرح پوجا کریں تو تب اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ کیا کہ تم طور کے مشرقی دامن میں پہنچو جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی تو وہاں تمہاری زندگی کی رہنمائی کے لیے تمہیں تورات عطا کی جائے گی، لیکن اس پر بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے جو کردار دکھایا اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ مزید اپنے احسانات کو یاد دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم پر من وسلویٰ اتارا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرائیل دشت سین میں ایلیم اور سینا کے درمیان گزر رہے تھے اور خوراک کے ذخیرے ختم ہو کر فاقوں کی نوبت آگئی تھی، اس وقت من وسلویٰ کا نزول شروع ہوا اور فلسطین کے آباد علاقے میں پہنچنے تک پورے چالیس سال یہ سلسلہ جاری رہا۔
(خروج باب 16، گنتی باب 11، آیت 7۔ 9 یشوع باب 5 آیت 12)
کتاب خروج میں من وسلویٰ کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے۔
” اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ گاہ کو ڈھانک لیا اور صبح کو خیمہ گاہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی اور جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گول چیز، ایسی چھوٹی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں، زمین پر پڑی ہے۔ بنی اسرائیل اسے دیکھ کر آپس میں کہنے لگے من ؟ کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے۔ “ (باب 16، آیت 13۔ 15)
” اور بنی اسرائیل نے اس کا نام من رکھا اور وہ دھنئے کے بیج کی طرح سفید اور اس کا مزہ شہد کے بنے ہوئے پوئے کی طرح تھا۔ “ (آیت 31)
گنتی میں اس کی مزید تشریح یہ ملتی ہے (لوگ ادھر ادھر جا کر اسے جمع کرتے اور اسے چکی میں پیستے، اوکھلی میں کوٹ لیتے تھے، پھر اسے ہانڈیوں میں ڈال کر روٹیاں بناتے تھے، اس کا مزہ تازہ تیل کا سا تھا۔ اور رات کو جب لشکر گاہ میں اوس پڑتی تو اس کے ساتھ من بھی گرتا تھا۔ “ (باب 11، آیت 8۔ 9)
” من وسلویٰ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے کے طور پر بنی اسرائیل کو عطا فرمائے تھے کیونکہ اس وقت بنی اسرائیل کے پاس خوراک کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ یہ خوراک چالیس سال تک انھیں میسر رہی، لیکن جب انھیں خوراک کے ذرائع میسر آگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کو ختم کردیا۔ چناچہ آج نہ وہاں بٹیروں کی کثرت نظر آتی ہے اور نہ کہیں من پایا جاتا ہے۔ تلاش اور تجسس کے شوقین لوگ وہاں جا کر کوشش کرتے ہیں کہ کہیں ان چیزوں کا سراغ ملے۔ لیکن من کا خاص طور پر کہیں سراغ نہیں ملتا۔
اگلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے تمہیں یہ نعمتیں عطا کی ہیں تم انھیں شوق سے کھائو، یہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا پاکیزہ رزق ہے، لیکن یاد رکھو کہ نعمت کی فراوانی تمہارے اندر طغیان یا سرکشی پیدا نہ کرے، نعمت پر شکر ادا نہ کرنا، اس کے تقاضوں کے مطابق طرز عمل نہ اپنانا، اسراف کا راستہ اختیار کرنا یا کسی بھی نعمت کی فراوانی کو اپنی ذاتی محنت کا نتیجہ سمجھنا، یہ سب چیزیں طغیان میں شامل ہیں۔
جس طرح شکر سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اس طرح سرکشی اور ناشکری سے اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے اور جس پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے وہ بلندی کی کسی سطح پر بھی ہو وہاں سے گر کر رہتا ہے۔ عزت کا تخت چھن جاتا ہے اور ذلت کی اتھاہ گہرائی مقدر بن جاتی ہے۔ فرعون کو اسی طغیانی نے تباہ کیا کہ وہ بندگی کو بھول کر خدائی کا صور پھونکنے لگا۔ نتیجہ کیا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوگیا۔
اگلی آیت میں فرمایا کہ کوئی شخص کتنا بھی بگڑ جائے اور گمراہی کی کسی حد کو بھی پہنچ جائے وہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اللہ تعالیٰ کو غفار پائے گا، یعنی وہ صرف بخشنے والا نہیں بلکہ بہت بخشنے والا ہے۔ البتہ ضرورت چار چیزوں کی ہے۔ 1 کہ وہ سرکشی کی ہر قسم سے توبہ کرے۔ 2 اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول، اس کی کتاب اور آخرت کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرے۔ 3 اللہ تعالیٰ اور رسول کی ہدایات کے مطابق اور دل کے اخلاص کے ساتھ عمل کرے۔ 4 زندگی بھر راہ راست پر استقامت اختیار کرے، نہ کبھی ڈولے نہ کبھی ٹھٹھکے۔
Ayahs 20:83–84وَمَــآ اَعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یٰـمُوْسٰی۔ قَالَ ھُمْ اُوْلَآئِ عَلٰٓی اَثَرِیْ وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی۔ (طٰـہٰ : 83، 84)
(اور کیوں جلدی کی تم نے اپنی قوم سے اے موسیٰ ۔ عرض کی، وہ یہ ہیں میرے پیچھے، اور میں، اے میرے رب ! تیری خوشنودی کے لیے جلدی چلا آیا۔ )
آیت کا پس منظر
جب بنی اسرائیل بحر احمر کو عبور کرکے سینا کے بیابان میں پہنچے تو وہاں ان کا گزر ایک بت پرست قوم پر ہوا۔ ان کی عبادت و پرستش کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے کہا کہ جس طرح انھوں نے موجود اور محسوس چیزوں یعنی بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے ہمارے لیے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے احمقانہ سوال پر انھیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا : اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْن، اِنَّ ھٰؤْلاَئِ مُتَـبَّـرٌمَّاھُمْ فِیْہِ وَبَاطِلٌ مَّاکَانُوْا یَعْمَلُوْن ” تم ایک جاہل قوم ہو، بیشک تباہ ہونے والا ہے جس پر یہ ہیں اور جو کچھ وہ کررہے ہیں سب باطل ہے۔ “ اس وقت پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واسطے سے بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا کہ تم کوہ طور کی دائیں جانب جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی تھی پہنچ جاؤ تو ہم تمہیں ایک کتاب عطا کریں گے جو تمہاری زندگیوں کے لیے دستورالعمل ہوگی۔ سورة الاعراف میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا : وَوَاعَدْنَا مُـوْسٰی ثَلاَ ثِیْنَ لَیْلَۃً وَاَتْمَمْنَاہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِـہٖ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَـۃً ج وَقَالَ مُـوْسٰی لِاَخِیْہٖ ہَارُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قُوْمِیْ وَاَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ (آیت 142، الاعراف)
” اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا مزید دس راتوں سے۔ تو اس کے رب کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور اصلاح کرتے رہنا اور فساد کرنے والوں کی روش کی پیروی نہ کرنا۔ “
اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تورات عطا کیے جانے سے پہلے تیس شب و روز کا اعتکاف کرنا ہوگا، لیکن حکمت تربیت کے تحت اس اعتکاف میں دس راتوں کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوہ طور پر آپ ( علیہ السلام) کا قیام ایک دو روز کا نہیں بلکہ تیس اور پھر چالیس روز کا تھا۔ آپ ( علیہ السلام) نے اپنے ساتھ ستر سربرآوردہ لوگوں کو لیا اور کوہ طور پر حاضری کے لیے مستعد ہوئے لیکن جانے سے پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا جانشین بنایا اور انھیں ہدایت کی کہ آپ ( علیہ السلام) کا کام بنی اسرائیل کی نگرانی کرنا اور ہر ممکن طریقے سے ان کے حالات کی اصلاح کرنا ہے اور ساتھ ہی اشارہ بھی کردیا کہ بنی اسرائیل میں مفسدین کا ایک گروہ موجود ہے ممکن ہے میری غیرحاضری میں وہ کوئی مسئلہ پیدا کریں، تو آپ ( علیہ السلام) کا کام یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) ان پر نظر رکھیں اور ان مفسدین کے راستے پر چلنے کی بجائے لوگوں کو ان کے راستے پر چلنے سے روکیں۔ ان ہدایات کے بعد آپ ( علیہ السلام) کوہ طور کے لیے روانہ ہوگئے۔ لیکن اپنے ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے جانے کی بجائے ان کو راستے میں چھوڑا اور انھیں انتظار کرنے کا حکم دے کر خود تیزی سے آگے بڑھ گئے۔ جب اس مقام مقررہ پر پہنچے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے آپ ( علیہ السلام) کی حضوری کی جگہ تھی تو پروردگار نے پوچھا کہ موسیٰ تم نے اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر تنہا آنے میں جلدی کیوں کی ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرے ساتھی بھی پیچھے چلے آرہے ہیں اور وہ بھی پہنچنے ہی والے ہوں گے، میں فرطِ شوق میں اس لیے جلدی چلا آیا ہوں تاکہ تو مجھ سے راضی ہوجائے۔
پروردگار کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کہ آپ ( علیہ السلام) اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر جلدی کیوں چلے آئے، اس کا ایک محمل تو یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کے پیچھے جو کچھ آپ ( علیہ السلام) کی قوم نے کیا اس سے آپ ( علیہ السلام) کو آگاہ کرنا تھا۔ لیکن دوسرا محمل یہ ہے ( جسے روح المعانی میں ذکر کیا گیا ہے) کہ اس سوال کی وجہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی تربیت کے متعلق ایک خاص ہدایت دینا اور ان کی عجلت پر تنبیہ کرنا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کے منصب رسالت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ ( علیہ السلام) قوم کے ساتھ رہتے، ان کو اپنی نگاہوں میں رکھتے اور اپنی نگرانی میں ساتھ لاتے۔ آپ ( علیہ السلام) کی عجلت کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ سامری نے قوم کو گمراہ کردیا ہے۔
انبیائے کرام سے سرزد ہونے والی لغزشوں کا مفہوم
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیائے کرام معصوم ہوتے ہیں، ان سے کبھی کوئی لغزش صادر نہیں ہوتی۔ لیکن اس سے وہ لغزش مراد ہے جو اتباعِ ہوا کے نتیجے میں سرزد ہوتی ہے۔ وہ کبھی بھی ہَوائے نفس سے مغلوب ہو کر راہ راست سے متجاوز نہیں ہوتے۔ البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا عشق اور اس کے دین کی سربلندی کی فکر دوسرے لوگوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے وہ ایک ایک شخص کی ہدایت کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے جب کبھی معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عشق اور وارفتگی کا ہو یا انسانوں کو راہ ہدایت کی طرف لانے کا تو وہ بعض دفعہ حد مطلوب سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔ یہ تجاوز ایسا ہے جسے محمود ہی کہنا چاہیے۔ اس لیے کہ عشق و محبت میں حدود کا تعین نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نبی چونکہ میزانِ حق ہوتے ہیں اور ان کا ہر قول و فعل دوسروں کے لیے نمونہ ہوتا ہے اس لیے تبلیغ و دعوت، شوقِ خداوندی یا رضا طلبی کی راہ میں جب کبھی اللہ تعالیٰ کے نبی کا قدم حد مطلوب سے آگے بڑھنے لگتا ہے تو پروردگار اس پر تنبیہ فرماتا ہے۔ یہ تنبیہ بھی اسی نوعیت کی معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 20:85قَالَ فَاِنَّا قَدْفَـتَـنَّا قَوْمَکَ مِنْ م بَعْدِکَ وَاَضَلَّھُمُ السَّامِرِیُّ ۔ (طٰـہٰ : 85)
(ارشاد ہوا تو ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے پیچھے ایک فتنہ میں ڈال دیا اور سامری نے ان کو گمراہ کر ڈالا۔ )
بنی اسرائیل کی آزمائش
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ ہم نے تمہاری قوم کو فتنہ میں مبتلا کردیا ہے۔ اس کا مطلب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جس طرح گوسالہ پرستی کی لعنت میں مبتلا ہوئے۔ اس لعنت میں مبتلا انھیں خدا کی طرف سے کیا گیا تھا، لیکن حقیقت میں اس کا مطلب یہ نہیں بلکہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ افراد اور قوموں کو کسی نہ کسی آزمائش میں ڈال کے آزماتا ہے۔ آزمائش میں ناکام ہونے والے اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں اور کامیاب ہونے والوں کے لیے یہ آزمائش تربیت کا سامان ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل گزشتہ کئی سالوں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ظاہر ہونے والے معجزات کی صورت میں اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھتے چلے آرہے تھے۔ ان کی نظروں کے سامنے کئی دفعہ مصر میں وبائیں پھوٹیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعائوں سے ان کا ازالہ ہوا۔ اب کچھ ہی عرصہ پہلے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کتنا بڑا منظر دیکھا کہ بحرقلزم ان کے لیے روک دیا گیا اور خشک راستے بنا دیئے گئے۔ یہ سب لوگ خراماں خراماں دوسرے کنارے جا پہنچے لیکن فرعون اور اس کی فوج ان کی آنکھوں کے سامنے غرقاب ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اتنے واضح مناظر کو دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات پر یقین میں کوئی کمی باقی نہیں رہ سکتی لیکن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایمان و یقین کی آزمائش کے لیے گوسالہ پرستی کا ایک موقع پیدا کیا تاکہ اندازہ ہوسکے کہ یہ لوگ توحید پرستی میں کہاں تک مخلص اور ثابت قدم ہیں، لیکن جیسے ہی سامری جیسے شعبدہ باز نے ان کے لیے شرک کا ایک راستہ کھولا تو بنی اسرائیل کی اکثریت اس میں مبتلا ہوگئی۔
سامری کا فتنہ
اس کی صورت یہ ہوئی کہ سامری نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ تم اپنے زیورات میرے حوالے کردو، میں انھیں بھٹی میں گلا کر اینٹوں یا سلاخوں کی شکل میں ڈھال دوں گا تاکہ سفر کی رواروی میں اس سونے اور چاندی کو سنبھالنا آسان ہوجائے، لیکن جب اس نے اس ڈھالی ہوئی چیز کو بھٹی سے باہر نکالا تو وہ ایک بچھڑے کا دھڑ تھا۔ یعنی ایک ایسا بچھڑا جسے سونے سے ڈھالا گیا تھا لیکن اس میں جان نہیں تھی۔ لیکن جب اس سے ہوا گزرتی تھی تو اس کے اندر سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل مصر میں رہ کر چونکہ گوسالہ پرستی کے مرض میں مبتلا رہ چکے تھے۔ چناچہ جیسے ہی ان کے سامنے ایک سنہری رنگ کا بولتا ہوا گوسالہ آیا اور پھر سامری نے نہایت ہوشیاری سے ان کو یہ باور کرایا کہ اصل میں یہی تمہارا خدا ہے جو تمہیں مصر سے نکال لایا ہے، موسیٰ تو نہ جانے بھول کر کہاں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اسے تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ تو بنی اسرائیل اس کے سامنے جھک گئے اور اس کے سامنے قربان گاہ بنا کر قربانیاں بھی پیش کرنے لگے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر جب پروردگار نے اس کی خبر دی تو انھیں نہایت دکھ ہوا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ میری سالہا سال کی محنت لٹ گئی اور سارا بنابنایا کھیل چوپٹ ہوگیا۔
آگے بڑھنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سامری کی شناخت سے متعلق چند ضروری باتیں عرض کردی جائیں۔ مولانا مودودی تفہیم القرآن میں اس کے متعلق لکھتے ہیں :
سامری کی حقیقت
یہ اس شخص کا نام نہیں ہے بلکہ یائے نسبتی کی صریح علامت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہرحال کوئی نہ کوئی نسبت ہی ہے خواہ قبیلے کی طرف ہو یا نسل کی طرف یا مقام کی طرف۔ پھر قرآن جس طرح السامریکہہ کر اس کا ذکر کررہا ہے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سامری قبیلے یا نسل یا مقام کے بہت سے لوگ موجود تھے جن میں سے ایک خاص سامری وہ شخص تھا جس نے بنی اسرائیل میں سنہری بچھڑے کی پرستش پھیلائی۔ اس سے زیادہ کوئی تشریح قرآن کے اس مقام کی تفسیر کے لیے فی الحقیقت درکار نہیں ہے لیکن یہ مقام ان اہم مقامات میں سے ہے جہاں عیسائی مشنریوں اور خصوصاً مغربی مستشرقین نے قرآن پر حرف گیری کی حد کردی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ، معاذاللہ، قرآن کے مصنف کی جہالت کا صریح ثبوت ہے۔ اس لیے کہ دولت اسرائیل کا درالسلطنت ” سامریہ “ اس واقعہ کے کئی صدی بعد 925 ق م کے قریب زمانے میں تعمیر ہوا، پھر اس کے بھی کئی صدی بعد اسرائیلیوں اور غیر اسرائیلیوں کی وہ مخلوط نسل پیدا ہوئی جس نے ” سامریوں “ کے نام سے شہرت پائی۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ان سامریوں میں چونکہ دوسری مشرکانہ بدعات کے ساتھ ساتھ سنہری بچھڑے کی پرستش کا رواج بھی تھا اور یہودیوں کے ذریعہ سے حضرت محمد ﷺ نے اس بات کی سن گن پا لی ہوگی، اس لیے انھوں نے لے جا کر اس کا تعلق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد سے جوڑ دیا اور یہ قصہ تصنیف کر ڈالا کہ وہاں سنہری بچھڑے کی پرستش رائج کرنے والا ایک سامری شخص تھا۔ اسی طرح کی باتیں ان لوگوں نے ہامان کے معاملہ میں بنائی ہیں جسے قرآن فرعون کے وزیر کی حیثیت سے پیش کرتا ہے اور عیسائی مشنری اور مستشرقین اسے اخسویرس (شاہ ایران) کے درباری امیر ” ہامان “ سے لے جا کر ملا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن کے مصنف کی جہالت کا ایک ثبوت ہے۔ شاید ان مدعیانِ علم و تحقیق کا گمان یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایک نام کا ایک ہی شخص یا قبیلہ یا مقام ہوا کرتا تھا اور ایک نام کے دو یا زائد اشخاص یا قبیلہ و مقام ہونے کا قطعاً کوئی امکان نہ تھا حالانکہ سمیری قدیم تاریخ کی ایک نہایت مشہور قوم تھی جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دور میں عراق اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر چھائی ہوئی تھی اور اس بات کا بہت امکان ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں اس قوم کے یا اس کی کسی شاخ کے لوگ مصر میں سامری کہلاتے ہوں۔ پھر خود اس سامریہ کی اصل کو بھی دیکھ لیجئے جس کی نسبت سے شمالی فلسطین کے لوگ بعد میں سامری کہلانے لگے۔ بائیبل کا بیان ہے کہ دولت اسرائیل کے فرمانروا عمری نے ایک شخص ” سمر “ نامی سے وہ پہاڑ خریدا تھا جس پر اس نے بعد میں اپنا دارالسلطنت تعمیر کیا اور چونکہ پہاڑ کے سابق مالک کا نام سمر تھا اس لیے اس شہر کا نام سامریہ رکھا گیا (سلاطین 1، باب 16۔ آیت 24) اس سے صاف ظاہر ہے کہ سامریہ کے وجود میں آنے سے پہلے ” سمر “ نام کے اشخاص پائے جاتے تھے اور ان سے نسبت پا کر ان کی نسل یا قبیلے کا نام سامری اور مقامات کا نام سامریہ ہونا کم از کم ممکن ضرور تھا۔
مولانا ابوالکلام آزادنے ترجمان القرآن میں سامری کے متعلق تحقیق کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے وہ متذکرہ بالا تحقیق سے ملتا جلتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں (قیاس کہتا ہے کہ یہاں سامری سے مقصود سمیری قوم کا فرد ہے کیونکہ جس قوم کو ہم نے سمیری کے نام سے پکارنا شروع کردیا ہے عربی میں اس کا نام قدیم سے سامری آرہا ہے اور اب بھی عراق میں ان کا بقایا اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہاں قرآن کا السامری کہہ کر اسے پکارنا صاف کہہ رہا ہے کہ یہ نام نہیں، اس کی قومیت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی وہ شخص اسرائیلی نہ تھا، سامری تھا۔ )
اس سے چند سطور آگے چل کر مولانا آزاد لکھتے ہیں (بہرحال سمیری قبائل کا اصل وطن عراق تھا، مگر یہ دور دور تک پھیل گئے تھے۔ مصر سے ان کے تعلقات کا سراغ ایک ہزار سال قبل مسیح تک روشنی میں آچکا ہے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ اسی قوم کا ایک فرد حضرت موسیٰ کا بھی معتقد ہوگیا تھا اور جب بنی اسرائیل نکلے تو یہ بھی ان کے ساتھ نکل آیا۔ اسی کو قرآن کریم نے السامری کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ ) (ترجمان القرآن جلد دوم، ص 464، 465)
مولانا عبدالماجد دریا بادی کی تحقیق یہ ہے (بعض جدید محققین کا خیال ہے کہ قدیم مصری زبان میں سمر کہتے ہیں پردیسی، غیرملکی، بیرونی کو۔ سامری سے مراد ہے کوئی شخص جو غیر اسرائیلی تھا اور مصر سے اسرائیلی کے ساتھ ہوگیا تھا۔ )
(تفسیر ماجدی، سورة طٰـہٰ )
بعض اہل لغت کا خیال ہے کہ السامرۃ بنی اسرائیل کے قبائل میں سے ایک قبیلہ ہے۔ سامری اسی قبیلے کا فرد تھا۔
Ayah 20:86فَرَجَعَ مُـوْسٰٓی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًا 5 ج قَالَ یٰـقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ وَعْدًا حَسَنًا 5 ط اَفَطَالَ عَلَیْکُمُ الْعَھْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّـوْعِدِیْ ۔
(طٰـہٰ : 86)
(پس موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف غضبناک اور افسردہ خاطر لوٹے اور فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم سے تمہارے رب نے نہایت اچھا وعدہ نہیں کیا تھا۔ تو کیا طویل مدت گزر گئی اس وعدے پر (اور تم اس کے ایفا سے مایوس ہوگئے) یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو۔ اس لیے تم نے میری ٹھہرائی ہوئی میعاد کی خلاف ورزی کر ڈالی۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی اور قوم پر ان کا عتاب
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کے گوسالہ پرستی میں مبتلا ہونے کی خبر ملی تو آپ ( علیہ السلام) پر اس کا وہی اثر ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ آپ ( علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ میری سالہا سال کی محنت معرض خطر میں ہے۔ میری جان جوکھوں کی کمائی ترازو کے پلڑے میں ہے۔ آپ ( علیہ السلام) نہایت افسردہ لیکن غصے سے بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے۔ تو آپ ( علیہ السلام) نے نہایت برہمی سے اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں سے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا تمہارے رب نے تم سے بہترین وعدہ نہیں کیا تھا ؟ یعنی میں نے تمہیں اپنے اللہ کی طرف سے یہ نوید سنائی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری رہنمائی کے لیے کتاب عطا فرمانے والا ہے۔ اسی کی روشنی میں تم اپنی زندگی کو بنائو گے اور ہمیشہ کے لیے تمہارے اور تمہاری نسلوں کے لیے یہ کتاب مینارہ نور ہوگی لیکن تم بجائے اس وعدے کے مطابق کتاب کا انتظار کرنے کے ایک ایسی معصیت میں مبتلا ہوگئے جس کا تصور بھی کسی صاحب ایمان قوم سے نہیں کیا جاسکتا۔ کیا تم نے یہ گمان کرلیا تھا کہ موسیٰ کو گئے ہوئے اتنا طویل عرصہ ہوگیا ہے کہ اب وہ لوٹ کے نہیں آئیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے جو کتاب دینے کا وعدہ کیا تھا وہ کیسے پورا ہوسکے گا۔ مراد یہ ہے کہ اس وعدے پر کوئی طویل وقت نہیں گزرا تھا، میں تیس راتوں کا بتا کر گیا تھا اس پر صرف دس راتوں کا اضافہ ہوا کہ تم نے ایمان کو کفر سے بدل ڈالا یا تم اپنی بدنصیبی سے یہ فیصلہ کرچکے ہو کہ تم ایسے کرتوت کرو گے جن کی وجہ سے تم پر خدا کا غضب بھڑکے گا۔ اس وجہ سے تم نے مجھ سے کیے ہوئے وعدے کی پرواہ نہ کی اور اس کی خلاف ورزی کر ڈالی حالانکہ میں جاتے ہوئے تم سے یہ وعدہ لے کر گیا تھا کہ ایمان پر قائم رہنا، میرے بھائی ہارون کی پیروی کرنا۔ لیکن تم نے ہر وعدے کو فراموش کردیا۔
Ayah 20:87قَالُوْا مَـآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَکَ بِمَلْکِنَا وَلٰـکِنَّا حُمِّلْنَـآ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَۃِ الْـقَوْمِ فَـقَذَفْـنٰـھَا فَکَذٰلِکَ اَلْقَی السَّامِرِیُّ ۔ (طٰـہٰ : 87)
(انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ ( علیہ السلام) سے کیے ہوئے عہد کی خلاف ورزی اپنی مرضی سے نہیں کی بلکہ قوم کے زیورات کا بوجھ جو ہمارے حوالے کیا گیا تھا ہم نے اس کو پھینک دیا، پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا۔ )
قوم کے بزرگوں کی معذرت
بنی اسرائیل کے سربرآوردہ لوگوں سے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب طلبی کی کہ میں نے تم سے جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اطاعت پر قائم رہنے کا عہد لیا تھا تم نے اسے کیوں توڑا اور ان کی ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے تم نے گوسالہ پرستی شروع کردی، تو انھوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا آپ ( علیہ السلام) ہم سے ناراض نہ ہوں ہم نے ہرگز آپ ( علیہ السلام) سے کیے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی۔ حالات ہی ایسے ہوگئے تھے کہ ہم اس میں بالکل بےاختیار تھے۔ قوم کے لوگوں نے سامری کے اکسانے پر ہم سے اپنے زیورات کا مطالبہ اس شدت سے کیا کہ ہم ہزار خواہش کے باوجود اس کا انکار نہ کرسکے۔ سامری نے انھیں بہکایا کہ تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے انتظار میں ہو لیکن وہ اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک تم اپنے زیورات اتار کر پھینک نہیں دو گے، لیکن لوگ چونکہ اپنے زیورات حفاظت کے نقطہء نظر سے اپنے سرداروں کے پاس جمع کرا چکے تھے انھوں نے ان سے مطالبہ شروع کردیا کہ آپ ہمارے زیورات ہمیں واپس کریں اور پھر وہ زیورات لے کر انھوں نے سامری کے حوالے کیے۔ سامری نے انھیں بھٹی میں ڈال کر پگھلایا اور چونکہ وہ ایک ماہر بت گر تھا، اس نے نہایت مہارت سے ایک بچھڑے کی صورت تیار کی۔
زِیْنَۃِ الْـقَوْمِ سے مراد
اس میں سب سے پہلے یہ بحث اٹھائی گئی ہے کہ یہاں زِیْنَۃِ الْـقَوْمِ سے مراد زیورات ہیں، لیکن قوم سے مراد کیا ہے ؟ ہمارے اکثر مفسرین نے اس سے قوم فرعون مراد لی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے پاس یہ زیورات اپنے نہیں بلکہ قوم فرعون کے تھے اور اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر یہ زیورات بنی اسرائیل کے اپنے ہوتے تو پھر آیت کریمہ میں زِیْنَۃِ الْـقَوْمِ کی بجائے زِیْنَـتُـنَا کا لفظ ہوتا حالانکہ قوم کا لفظ جس طرح دوسروں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی طرح اپنے لوگوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جبکہ سورة الاعراف آیت 145 میں مِنْ حُلِیَھِمْ کا لفظ آیا ہے۔ اس میں ضمیر کا مرجع قوم موسیٰ ہے۔ اس کا صاف معنی یہ ہے کہ قوم موسیٰ نے اپنے زیورات سے بچھڑا بنایا۔ جو لوگ اس سے قوم فرعون مراد لیتے ہیں ان کے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قوم فرعون کے زیورات بنی اسرائیل کے ہاتھ کیسے لگے۔ اس کا عام طور پر وہی جواب دیا جاتا ہے جس کا ذکر تورات میں ہے۔ چناچہ بائیبل کتاب الخروج میں ذکر ہے (پھر خدا نے موسیٰ سے یہ بھی کہا کہ تم بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ خداوند تمہارے باپ دادا کے خدا، ابراہام کے خدا اور اسحاق کے خدا اور یعقوب کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ جا کر … اسرائیلی بزرگوں کو ایک جگہ جمع کر… اور یوں ہوگا جب تم نکلو گے تو خالی ہاتھ نہ نکلو گے بلکہ تمہاری ایک ایک عورت اپنی اپنی پڑوسن سے اور اپنے اپنے گھر کے مہمان سے سونے چاندی کے زیور اور لباس مانگ لے گی۔ ان کو تم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پہنائو گے اور مصریوں کو لوٹ لو گے۔ ) (باب 3، آیت 15 تا 22)
دوسرے مقام پر مرقوم ہے :
(سو اب تو لوگوں کے کان میں یہ بات ڈال دے کہ ان میں سے ہر شخص اپنے پڑوسی اور ہر عورت اپنی پڑوسن سے سونے چاندی کے زیور لے۔ ) (باب 11، آیت 2۔ 3)
غور فرمائیے کہ بنی اسرائیل کو عاریت کے نام سے دھوکہ دہی کی ترغیب دی جارہی ہے اور اس طریقے سے نیت ان کی لوٹنے کی ہے۔ اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اس دھوکہ بازی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جارہی ہے۔ کون صاحب ایمان ایسی گھٹیا حرکت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرسکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سابقہ آسمانی کتابوں میں کس دیدہ دلیری سے تحریف کی گئی ہے۔
بعض مفسرین نے اس توجیہ کو رد کرکے ایک دوسری توجیہ اختیار کی ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ جب فر عون اور اس کا لشکر بحر قلزم میں غرق کردیا گیا تو کچھ وقت گزرنے کے بعد سمندر کی لہروں نے ان کی لاشوں کو اٹھا کر ساحل پر پھینک دیا۔ چونکہ اس زمانے میں روساء، جرنیل اور اعیانِ مملکت زیور پہنا کرتے تھے۔ تو یہ فرعونی بھی زیوروں سے آراستہ تھے۔ بنی اسرائیل نے جب ان مردہ لاشوں کو زیوروں سے مزین دیکھا تو انھوں نے ان کے زیور اتار لیے۔ اس طرح سے قوم فرعون کا بےانداز سونا ان کے ہاتھ آیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کے پاس جو زیور تھے یہ وہ تھے جو فرعونیوں کی لاشوں سے اتارے گئے تھے۔ علامہ قرطبی نے اس توجیہ کو ” قِیْلَ “ کہہ کر نقل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ قول کوئی وزن نہیں رکھتا۔ لیکن جن لوگوں نے اس توجیہ کو اختیار کیا ہے وہ اس کو بہترین توجیہ سمجھتے ہیں اور پھر اس سے پیدا ہونے والے مال غنیمت کے مسائل پر تفصیلی بحث بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم سورة یونس میں پڑھ چکے ہیں کہ فرعون جب ڈوبنے لگا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ لیکن اس کا یہ ایمان اس لیے قبول نہ کیا گیا کہ وقت مرگ ایمان لانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے اس اعلان کی یہ قدر ضرور کی گئی کہ پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ آج ہم تیرے جسم کو نجات دے دیں گے تاکہ تو بعد کے آنے والوں کے لیے عبرت بنا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سمندر کی موجوں نے صرف ایک ہی لاش کو باہر پھینکا تھا جو فرعون کی لاش تھی، باقی تمام فوج سمندر کا لقمہ ہو کر رہ گئی حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو حق کی دشمنی میں فرعون سے پیچھے نہ تھے اور بنی اسرائیل کو اذیت پہنچانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ لیکن تاریخ نے کسی کے بارے میں خبر نہیں دی کہ کسی کی لاش باہر پھینکی گئی ہو اور اگر پھینکی گئی ہوتی تو اس بات کا بہت امکان تھا کہ فرعون کے مصاحبین کی لاشوں کو حنوط کرکے اس کے ساتھ محفوظ کردیا جاتا۔ اس لیے قرین قیاس یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ زینت القوم سے مراد بنی اسرائیل کی عورتوں کے اپنے زیور ہیں، قوم فرعون کے نہیں۔
یہی وہ زیور تھے جو بنی اسرائیل کے سرداروں نے بنی اسرائیل کے اصرار پر ان کے سامنے پھینک دیئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی اس ذمہ داری سے گراں بار تھے اور یہ گراں باری ذمہ داری کے احساس کی وجہ سے تھی۔ اس وجہ سے نہ تھی کہ وہ ان زیوروں کو قوم فرعون کے زیور سمجھ کر انھیں محفوظ رکھنا ناجائز سمجھتے تھے۔ چناچہ یہی زیور اس بھٹی میں ڈالے گئے۔
اَلْقَی السَّامِرِیُّ کا مفہوم
فَکَذٰلِکَ اَلْقَی السَّامِرِیُّاس کا ایک ترجمہ تو یہ ہے کہ ” اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا۔ “ یعنی جہاں باقی زیور ڈالے گئے وہاں سامری نے بھی اپنا حصہ لا کر ڈالا۔ وہ شاید ظاہر یہ کرنا چاہتا تھا کہ میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ تمام زیورات کو گلا کر اینٹوں یا سلاخوں کی شکل دے دی جائے۔ لیکن ہمارے اکثر مفسرین نے اس کا جو مطلب لیا ہے اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ لیکن بعض اہل علم کے نزدیک اس کا ترجمہ یہ ہے ” اور اس طرح سامری نے ڈھال کر پیش کردیا۔ “ ان کا کہنا یہ ہے کہ ” القاء “ کا لفظ عربی میں وسیع معنوں میں آتا ہے۔ یہ جس طرح زمین پر کسی چیز کے ڈال دینے یا پھینک دینے کے معنی میں آتا ہے، اسی طرح پانسہ پھینکنے، کوئی ہنر دکھانے یا کوئی کرتب دکھانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سامری نے اپنا کرتب دکھایا۔ اور اس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں ہے۔