Ayah 20:127وَکَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَلَمْ یُؤْمِنْ م بِاٰ یٰتِ رَبِّہٖ ط وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَدُّوْ وَاَبْقٰی۔ (طٰـہٰ : 127)
(اسی طرح ہم اپنی حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بہت دیرپا ہے۔ )
اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے اپنی صلاحیتوں اور اپنے اختیارات کو اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ حدود میں استعمال کرنے کے بجائے ان کاموں میں استعمال کیا اور ان راہوں میں صرف کیا جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا تھا اور قدم قدم پر ان حدود سے تجاوز کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے سرے سے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کردیا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی سنت پر مبنی قانون کو نافذ کرنے کے پابند ٹھہرائے گئے ہو۔ یعنی تم صرف عبادات کے ہی مکلف نہیں ٹھہرائے گئے ہو بلکہ اس کے مکمل دین کو نافذ کرنے کے پابند ہو۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اقتدار بخشا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا دین نافذ کرنے کی بجائے ان وضعی قوانین کو نافذ کیا جنھیں غیرمسلم دنیا نے وضع کیا تھا یا ہماری پارلیمنٹ نے اللہ تعالیٰ کے دین سے آزاد ہوکرقانون سازی کی اور عدالتوں میں فیصلے اس قانون کے مطابق کیے گئے جس کا تعلق اسلامی شریعت سے زیادہ مغربی قانون اور تہذیب سے تھا۔ اس طرح سے عملی طور پر انھوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کردیا۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو ہم دنیا میں یہ سزا دیتے ہیں کہ ان کی زندگی تنگ کردی جاتی ہے، جس کی تفصیل گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے بیان کی ہے۔ لیکن یہ سزا سخت اور رسواکن ہونے کے باوجود اس عذاب کے مقابلے میں بڑی ہلکی ہے جو آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جانے والا ہے۔ وہ نہایت شدید بھی ہے اور ایسا باقی رہنے والا ہے کہ جس کی مدت کبھی ختم ہونے میں نہیں آئے گی۔
احساسِ زیاں
اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اور کچھ مخلص لوگوں کی قربانیوں کے نتیجے میں یہ ملک عطا کیا جو اسلامی دنیا میں سب سے بڑی اسلامی مملکت تھی اور جس کو حاصل کرتے ہوئے ہمارے سیاسی رہنمائوں نے بار بار اپنی قوم کو یقین دلایا اور اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ اسے اسلامی قوانین کی تجربہ گاہ بنایا جائے گا اور اس کے تعلیمی اداروں کو اسلامی علوم کا مرکز بنایا جائے گا۔ یہاں اسلامی قوانین اس طرح پڑھائے جائیں گے کہ وضعی قوانین پر ان کی برتری ثابت کی جائے گی اور تمام جدید علوم کو اسلامی علوم کے سانچے میں اس طرح ڈھال دیا جائے گا کہ جدید سے جدید علم اسلامی نگاہ سے دیکھا اور پڑھا جائے گا اور اسلامی رنگ میں آراستہ کرکے اسے پڑھایا جائے گا۔ یہاں سے پڑھ کر نکلنے والا ہر شخص ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور ادیب اور دانشور بعد میں ہوگا، مسلمان پہلے ہوگا۔ دین و دنیا کی دوئی ختم کردی جائے گی۔ ہمارا دین دنیا کی رہنمائی کرے گا اور ہماری دنیا دین کے تابع رہے گی۔ ہماری عدالتوں میں اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلے ہوں گے، ہماری پارلیمنٹ ہماری اجتماعی زندگی کی ضروریات کے لیے ان معاملات میں قانون سازی کرے گی جس میں اسلامی شریعت خاموش ہے۔ لیکن ان قوانین کا مزاج اسلام کے مزاج میں ڈھل کے تیار ہوگا۔ مملکت کا نام اسلامیہ ہوگا اور وہ اسلام کے احکام کی صرف نمائندہ ہی نہیں بلکہ اسے نافذ کرنے والی اور دنیا کے سامنے اس کو برتر ثابت کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ اس ملک کے رہنے والوں کی تہذیب اور ثقافت اسلام کی تجربہ گاہ سے تیار ہو کے نکلے گی۔ اس ملک کا ہر فرد اپنے آپ کو مسلمان کہنے میں فخر محسوس کرے گا۔ لیکن آج جب ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہم اپنی منزل سے دور، اپنے مقصد سے لاتعلق اور اپنے رخت سفر سے بےنیاز ہوچکے ہیں۔ ہمارے ملک کی سالمیت اور آزادی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ اسلام کی بنیادی اقدار اور اس کے اہداف ایک الزام بن کر رہ گئے ہیں۔ ہم آپس میں نرم اور کافروں کے معاملے میں سخت ہونے کی روایت رکھنے کے باوجود ہم اس کے برعکس حکومت کا مقصد طے کرچکے ہیں۔ ہماری تعلیم، ہماری تہذیب، ہماری ثقافت، ہمارا تمدن، ہمارا طرزحکومت، ہمارا تصور ریاست اور ہمارا مقصد زندگی ہر چیز تبدیل ہو کر رہ گئی ہے۔ اسی تبدیلی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری معیشت تنگ کردی گئی ہے۔ ہمارے وسائل روزبروز کم ہوتے جارہے ہیں۔ دنیا کی نظروں میں ہماری عزت خاک میں مل گئی ہے۔ غربت میں اس حد تک اضافہ ہوچکا ہے کہ ہماری بہت بڑی تعداد غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ امن وامان کا معاملہ مخدوش ہو کر رہ گیا ہے۔ اجتماعی زندگی کا کوئی گوشہ اپنی حالت برقرار نہیں رکھ سکا۔ لیکن سب سے بڑا صدمہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد احساسِ زیاں سے محروم ہوچکی ہے۔ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بہت بڑی حد تک غیرملکی تصورات قبول کرچکا ہے۔ ہمارے حکمران اسلام تو دور کی بات ہے مسلمانوں کے مفادات کی بجائے کفر کے مفادات کی خدمت بجا لا رہے ہیں۔ کاش ہم ان آیات کو غور سے پڑھیں اور اس کے آئینہ میں اپنی شکل پہچاننے کی کوشش کریں۔
Ayah 20:128اَفَلَمْ یَھْدِلَہُمْ کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـاُوْلِی النُّھٰی۔ (طٰـہٰ : 128)
(کیا ان کے لیے یہ چیز ہدایت دینے والی نہ بنی کہ کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہم نے ہلاک کردیا جن کی بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں، بیشک اس کے اندر اہل عقل کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ )
عربوں کے مطالبے کا جواب
اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے۔ وہ چونکہ آئے دن کسی نہ کسی نشانی یا عذاب کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، ممکن ہے اس میں ان کے مطالبے کا جواب بھی دیا گیا ہو۔ عرب چونکہ تجارت پیشہ لوگ تھے، مختلف ممالک کا سفر ان کی تجارتی ضرورت تھی۔ اثنائے سفر ان کا گزر ان اجڑی ہوئی بستیوں اور ویران کھنڈروں کے پاس سے بھی ہوتا تھا جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوچکی ہیں۔ ان میں قوم ثمود، قوم عاد اور قوم لوط کی بستیوں سے عرب خوب واقف تھے۔ ان بستیوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں اگر ہمارے رسول کی کوئی دلیل اپیل نہیں کرتی اور تم ان کی کوئی بات مان کے دینے کے لیے تیار نہیں ہو تو جن معذب قوموں کی بستیوں سے تم گزرتے ہو تو کیا ان کی تباہی اور بربادی بھی تمہیں سوچنے پر مجبور نہیں کرتی کہ کبھی ان بستیوں میں زندگی کی رنگینیاں آباد ہوں گی۔ یہاں کے رہنے والے کبھی عیش و عشرت میں زندگی گزارتے ہوں گے اور آج یہاں خاک اڑ رہی ہے۔ آخر ان پر ایسی کیا افتاد پڑی اور یہ لوگ تباہی کی نذر کیوں ہوگئے۔ لیکن تمہیں پوچھنے کی ضرورت نہیں، تم خود اس سے واقف ہو اور سینہ بسینہ روایت ہونے والی ان کی تاریخ تمہارے لیے اجنبی نہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ ان کی طرف بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، انھیں وہی دعوت دی گئی جو آج تمہیں دی جارہی ہے۔ لیکن جب ان کا انکار انتہا کو پہنچ گیا اور خیر کی قوتوں کو دشمن سمجھ کر انھیں ختم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور ان کا سب کچھ تباہ ہوگیا۔ کیا یہ تباہی اور ویرانی بھی تمہیں ہدایت دینے کے لیے کافی نہیں کہ تم اپنی حالت بدلنے اور اس تباہی سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لے آئو۔ ان بستیوں کی ایک ایک اینٹ اور ان کا ایک ایک ذرہ عقل والوں کے لیے اپنے اندر بڑی نشانیاں رکھتا ہے۔ تم اگر ان سے کچھ سیکھنا چاہو تو بہت کچھ سیکھ سکتے ہو۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ جب قومیں بگڑ جاتی ہیں، پھر ان کی نگاہیں بھی بگاڑ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ان کے دل ہر اچھی بات کے لیے بنجر ہوجاتے ہیں۔ وہ عبرت کی جگہوں سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے آج کی زبان میں کلچر تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔
شاعر نے انہی کا ماتم کرتے ہوئے ٹھیک کہا ؎
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے
Ayah 20:129وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسْمًّے۔ (طٰـہٰ : 129)
(اگر آپ کے رب کی جانب سے ایک فیصلہ پہلے طے نہ ہوچکا ہوتا اور ایک وقت مقرر نہ کردیا ہوتا تو عذاب مسلط ہو کے رہتا۔ )
عذاب میں تاخیر کا سبب
نبی کریم ﷺ جب قریش کو اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دیتے تو ان کی معاندانہ مخالفت پر تنبیہ کرتے ہوئے انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی ڈراتے، تو وہ بجائے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے کے نہایت ڈھٹائی سے آنحضرت ﷺ کا منہ چڑاتے اور بار بار مطالبہ کرتے کہ وہ عذاب کہاں رک گیا ہے، وہ آ کیوں نہیں پاتا۔ معلوم ہوتا ہے یہ محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس آیت کریمہ میں ان کی اس مہمل بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے جو پہلے سے طے ہوچکا ہے کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا جاتا ہے تو اس قوم کو ایمان لانے اور ہدایت قبول کرنے کے لیے ایک مہلت دی جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ جیسے ہی کوئی انکار کرے تو سزا میں دھر لیا جائے بلکہ انھیں زیادہ سے زیادہ موقع دیا جاتا ہے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور اچھی طرح اپنے انجام پر غور کرلیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو یہاں کلمہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ ان پر عذاب کب آئے گا اور یہ مہلت کب ختم ہوگی، اس کے لیے ایک اجل اور مدت معین کردی جاتی ہے۔ جب وہ معین مدت آپہنچتی ہے تو پھر عذاب کے آنے میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے اسی قانون اور فیصلے کے تحت اہل مکہ اور دوسرے عرب بھی جن تک یہ دعوت پہنچ چکی ہے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں اور اگر یہ فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے رویئے اور کرتوتوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان پر اب تک عذاب نازل ہوچکا ہوتا۔
قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے اس بات کا وعدہ کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرے گا جب تک آپ ﷺ ان میں موجود ہیں اور جب عذاب کی مدت قریب آجائے گی تو آپ ﷺ کو اس وقت ہجرت کا حکم دے دیا جائے گا۔ آپ ﷺ جیسے ہی ہجرت کرکے ان کے علاقے سے نکلیں گے تو پھر ان کی زندگیاں عذاب کے لیے مباح ہوجائیں گی۔ ہر امت دعوت کا آنے والے پیغمبر کے ساتھ وہی رشتہ ہوتا ہے جو جسم کا روح کے ساتھ۔ جسم اس وقت تک زندہ رہتا ہے جب تک روح اس میں باقی ہے اور جب روح نکل جاتی ہے تو پھر جسم کو اولاً تو اس کے اہل خانہ ہی جلد از جلد دفن کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر خدانخواستہ کوئی شخص ایسے حالات میں مرا جہاں کوئی پرسانِ حال نہ تھا تو اس کا جسم سڑنا اور ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح امتیں بھی اپنے نبیوں اور رسولوں کی موجودگی کے ساتھ زندہ ہوتی ہیں۔ ان کے نکل جانے کے بعد وہ ایک جسدِ بےروح کی مانند ہیں جن کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں۔
Ayah 20:130فَاصْبِرْعَلٰی مَایَقُوْلُوْنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا ج وَمِنْ اٰ نَـآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّھَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی۔ (طٰـہٰ : 130)
(پس آپ صبر کریں ان کی دل دکھانے والی باتوں پر اور آپ تسبیح کریں اپنے رب کی حمد کے ساتھ، سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کریں اور دن کے اطراف میں بھی، تاکہ آپ نہال ہوجائیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو صبر کی تلقین اور نماز کی تاکید
دنیا کا سب سے مشکل کام کسی انسان میں حقیقی تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ ایسی تبدیلی جس سے غلط افکار صحیح افکار میں ڈھل جائیں اور ہر فکری الجھائو صحیح سمت اختیار کرلے۔ اور سیرت و کردار کی تمام خرابیاں ایک ایک کرکے اصلاح پذیر ہوجائیں اور اگر اس مقصد کا ہدف کوئی ایک فرد نہیں بلکہ ایک ایسی قوم ہو جو فکری اور عملی خرابیوں میں تمام دنیا سے سبقت کرچکی ہو اور پھر اپنے خیالات اور اعتقادات میں اتنی راسخ اور جامد ہو کہ وہ تنقید کرنے والے اور ہمدردانہ رائے دینے والے کا منہ نوچ لینے سے بھی گریز نہ کرے اور اس کی کوشش یہ ہو کہ اس کے خیالات سے متصادم آواز حلق سے باہرنہ نکلنے پائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایسے اصلاح کام کرنے والے کو کس قدر دشواریوں، مخالفتوں، بدزبانیوں اور اذیتوں سے واسطہ پڑتا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ ایسی ہی صورتحال سے دوچار اور ایسے ہی مراحل سے گزرنے پر مجبور کردیئے گئے تھے۔ یہ تو ممکن نہیں تھا کہ اصلاح کے جس عمل کا آپ آغاز کرچکے تھے اور جس دین کی دعوت قوم کے سامنے پیش کررہے تھے اسے آپ کسی حد تک روک دیتے اور حالات میں بہتری کا انتظار کرتے۔ اس لیے کہ جس طرح چمگادڑوں کے احتجاج کے باوجود سورج اپنی کرنیں بکھیرنے سے رک نہیں سکتا، اسی طرح پیغمبر بھی اپنے وظیفہ نبوت میں کسی طرح کی تخفیف پسند نہیں کرتا۔ چناچہ ایسے ہی حالات میں آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ آپ اپنے دعوت کے کام کو جاری رکھئے۔ رہی ان لوگوں کی یا وہ گوئی اور بےہودہ طرز عمل، آپ اس پر صبر کیجیے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ صبر آسان کام نہیں۔ بدزبانی سے دل میں گھائو پڑجاتے ہیں اور حد سے بڑھی ہوئی مخالفت ارادوں کو مضمحل کردیتی ہے۔ اس لیے اس کے مقابلے کے لیے آپ نماز کو ذریعہ بنائیں کیونکہ بڑی سے بڑی مخالفت اور بڑی سے بڑی مصیبت کے مقابلے کے لیے قرآن کریم یہی مفید نسخہ تجویز کرتا ہے کہ صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو۔ نماز، نمازی میں وہ توانائی اور توکل علی اللہ کی وہ قوت اور دنیا کی بےثباتی کا وہ یقین اور اپنی صداقت و حقانیت پر وہ اعتماد پیدا کرتی ہے جس سے بگڑے ہوئے حالات کا سامنا کرنا اور ہر کمزوری کو صبر کی زنجیر پہنا دینا آسان ہوجاتا ہے۔ یہاں اگرچہ تسبیح اور تحمید کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس کے بعد تسبیح کے لیے اوقات کا ذکر فرما کر اشارہ فرمایا گیا ہے کہ مراد اس سے نماز ہے۔ تسبیح اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو ان تمام انتسابات سے پاک کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں۔ اسی کو تنزیہہ کہتے ہیں۔ اور تحمید اللہ تعالیٰ کی ذات کو ان تمام صفاتِ عالیہ سے متصف کرنا ہے جو اس کی شان کے لائق ہیں۔ اسی لیے یہاں تسبیح کو حمد کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے۔ مقصود اس سے اللہ تعالیٰ کی وہ یاد ہے جو علائق و وسائط کی تمام کمزوریوں سے پاک اور تمام ان اعلیٰ صفات سے متصف ہو جو انسانی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں اور ایسی یاد عملی شکل میں اگر کہیں متشکل ہوتی ہے تو وہ نماز ہے۔
اوقاتِ نماز کا تعین
نماز کے اوقات کا تعین کرتے ہوئے فرمایا گیا قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا ” سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے۔ “ اس سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں۔ بخاری شریف میں اس کی صراحت موجود ہے۔ اور سب سے پہلے ان دونوں نمازوں کا ذکر ان کی اہمیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
مزید فرمایا وَمِنْ اٰ نَـآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ ” رات کے وقتوں میں نماز پڑھو۔ “ اس سے مراد عشاء اور تہجد کی نمازیں ہیں۔ فَسَبِّحْ کو دوبارہ لا کر ان دونوں نمازوں کی تاکید کرنا مقصود ہے کیونکہ یہ دونوں نمازیں نفس پر بہت شاق گزرتی ہیں۔ دن بھر کا تھکا ہوا شخص جلدی سو جانا چاہتا ہے۔ اس لیے عشاء کی نماز اس کے لیے گراں ہوتی ہے اور تہجد کی نماز کا وقت گہری نیند کا وقت ہوتا ہے جس سے اٹھنا اور پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا نفس کو روندنے کے مترادف ہے۔
وَاَطْرَافَ النَّھَارِ ” اور دن کے کناروں میں نماز پڑھو۔ “ اس سے مراد ظہر، مغرب اور چاشت کی نمازیں ہیں۔ چاشت اور مغرب کا اطرافِ نہار میں ہونا تو واضح ہے۔ جہاں تک ظہر کا تعلق ہے اس کے سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دن دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ظہر کا وقت دن کے پہلے حصے کے آخری کنارے اور دوسرے حصے کے ابتدائی کنارے پر ہے۔
لَعَلَّکَ تَرْضٰی ” تاکہ آپ خوش ہوجائیں، یا شاید آپ راضی ہوجائیں۔ “
اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ پہلا مطلب یہ ہے کہ مخالفین کی بدزبانیوں اور اذیت رسانیوں سے یقینا آپ کو بہت تکلیف پہنچتی ہے۔ لیکن اگر آپ نے صبر کو بہمہ وجوہ اختیار کرلیا اور نماز کی گہرائیوں میں ڈوب گئے تو آپ کو یہ اطمینان ہوجائے گا کہ یہ تکلیفیں اس راستے کی لازمی سنتیں ہیں جنھیں اختیار کیے بغیر چارہ نہیں۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ تاریکی کے بعد سحر طلوع ہوتی ہے اور ہر تنگی کے بعد آسانی ہوتی ہے۔ آپ دعوت و تبلیغ کے جن جانگسل مراحل سے گزر رہے ہیں، یہ نہ سمجھئے کہ حالات ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت اپنا رنگ دکھائے گی اور بہت جلد انھیں تکلیفوں اور مشقتوں سے وہ مراحل جنم لیں گے جس میں ہر مرحلے کے بعد نئی سے نئی کامیابی کا سورج طلوع ہوگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسلام کا قافلہ آگے بڑھتا جائے گا اور یہ آج کے مخالف یا تو تحلیل ہوجائیں گے اور یا اسلام کی آغوش میں آجائیں گے۔ آج کے پریشان کرنے والے کل کو آپ کے راستے میں جانیں نچھاور کرنا اپنے لیے سعادت سمجھیں گے۔ اسلام ایک مضبوط قوت بن جائے گا حتیٰ کہ ایک وقت آئے گا کہ سارا جزیرہ عرب آپ کے قدموں میں ہوگا۔ مکہ جو مرکز اعصاب ہے، اس کے سقوط کے بعد قوت وہیبت آپ کے قدموں سے پھوٹے گی۔ جس طرح سورة والضحیٰ میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا دے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔ یہاں بھی یہ فرمایا جارہا ہے کہ اس وقت آپ اپنی کامیابیوں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو دیکھ کر نہال ہوجائیں گے۔
Ayah 20:131وَلاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَامَتَّعْنَا بِـہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا 5 لا لِنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ ط وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی۔ (طٰـہٰ : 131)
(آپ مشتاق نگاہوں سے نہ دیکھئے ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے کافروں کے چند گروہوں کو بہرہ مند کر رکھا ہے۔ یہ محض زیب وزینت ہے دنیوی زندگی کی تاکہ ہم انھیں ان سے آزمائیں اور آپ کے رب کی عطا بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ )
آیت کی ترکیب
آیت کی ترکیب : ایک صورت یہ ہے کہ اَزْوَاجًاکو مَتَّعْنَا کا مفعول بنایا جائے، تو مِنْھُمْ اس کی صفت ہوگی، ایسی صورت میں معنی ہوگا ” کافروں کے مختلف گروہ۔ “ دوسری صورت یہ ہے کہ اَزْوَاجًا حال ہو اور بِہٖ کی ضمیر ذوالْحَال۔ اس وقت مِنْھُمْ مَتَّعْنَا کا مفعول بِہٖ ہوگا اور مِنْ تبعیض کے لیے ہوگا۔ اس صورت میں تقدیرِ کلام یوں ہوگی ” مَتَّعْنَا بِہٖ بعضھم حال کون الممتنع بہ اصناف من المال “ اور زَہْرَۃُ الْحَیٰوۃ فعل محذوف اَعْطَیْنَاھُمْکا مفعول ہوگا اور اگر اس کو مَتَّعْنَاکا مفعول بنایا جائے تو اس وقت یہ ماننا پڑے گا کہ مَتَّعْنَا اَعْطَیْنَا کے معنی کو متضمن ہے۔ یعنی دنیا کی آرائش و رونق۔
آیت کے مختلف مفاہیم
اس آیت کریمہ کے مختلف مفاہیم ہوسکتے ہیں۔ ایک مفہوم تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا نبوت کے ابتدائی سالوں میں یہ طریقہ رہا کہ آپ ﷺ اشرافِ قریش کو اپنی دعوت کا ہدف بناتے تھے۔ آپ ﷺ کا دیگر انبیائے کرام کی طرح یہ خیال تھا کہ لوگ ہمیشہ اپنے حکمرانوں یا اپنے امراء کے پیچھے چلتے ہیں۔ اگر بڑے بڑے امراء اللہ تعالیٰ کا دین قبول کرلیں تو ان کا اثر و اقتدار دین کے کام آئے گا اور اس راستے کی بہت سی مشکلات دور ہوجائیں گی۔ اسی طرح انھیں جو دولت اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہے جب وہ اسلام کی حقیقت کو سمجھ لیں گے تو یہی دولت اسلامی کی نشرواشاعت اور غریب لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں صرف ہوگی۔ چناچہ آپ ﷺ حضرت صدیق اکبر ( رض) کو ساتھ لے کر حج کے ایام میں قبائل کے سرداروں سے ملتے۔ اور عام دنوں میں قریش کے روساء آپ ﷺ کی خصوصی توجہ کا مرکز بنتے اور شاید اسی خیال کے تحت آپ ﷺ نے طائف کا سفر فرمایا اور طائف کے تین بڑے سرداروں سے ملاقات کرکے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب آپ ﷺ کی کوششیں اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق بار بار ناکام ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو امرائے قریش اور سردارانِ قبائل کی طرف زیادہ متوجہ ہونے سے روک دیا، بلکہ بعض دفعہ توجہ دلائی کہ جو غریب لوگ آپ ﷺ کی وفاداری کا عہد کرچکے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لا چکے ہیں۔ یہی درحقیقت اسلام کا حقیقی اثاثہ ہیں۔ آپ انھیں پر زیادہ توجہ مبذول کریں۔
آپ ﷺ کا یہ خیال بالکل صحیح ہے کہ بڑے لوگوں کا اثر و رسوخ اور ان کی دولت اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ انھیں اسلام قبول کرکے ان نعمتوں کا حق ادا کرنا چاہیے۔ بڑے بدنصیب ہیں کہ قدرت نے انھیں نوازا ہے اور وہ ناشکری پر تلے ہوئے ہیں۔ قیامت میں یہ لوگ جہاں کفر کی پاداش میں پکڑے جائیں گے وہیں ناشکری کی سزا بھی پائیں گے۔ لیکن آپ ﷺ کو ان کے مال و دولت کی زیادہ پرواہ نہیں کرنی چاہیے کہ یہ اسلام کے کام آتی تو اچھا ہوتا اور کل کو یہ لوگ اسی جرم میں زیادہ سزا پائیں گے کیونکہ ہم نے انھیں یہ دولت اس لیے عطا فرمائی ہے کہ ہم اس کے ذریعے انھیں آزمانا چاہتے ہیں۔ تو اگر وہ اس آزمائش میں ناکام ہورہے ہیں تو آپ ﷺ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں۔
دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے، لیکن روئے سخن آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی طرف ہے۔ غریب لوگ جب دیکھتے تھے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت سے انکار کرتے اور قدم قدم پر آنحضرت ﷺ کی نہ صرف مخالفت کرتے ہیں بلکہ آپ ﷺ کو اور مسلمانوں کو اذیتیں پہنچاتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں دولت کے انبار دے رکھے ہیں۔ انھیں اقتدار اور رسوخ حاصل ہے اور وہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ رہے ہم لوگ، ہم اسلام کی خاطر تکلیفیں اٹھاتے اور دکھ جھیلتے ہیں لیکن ہمیں نان شبینہ تک نصیب نہیں ہوتا۔ یہ دنیادار لوگ ہمیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے منظورِ نظر ہوں اور اسی وجہ سے انھیں نوازا گیا ہو۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے گرے ہوئے لوگ ہوں اور اسی وجہ سے ہمیں دکھوں میں مبتلا کیا گیا ہو۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو آپ ﷺ سمجھتے ہیں کہ نوازا گیا ہے، وہ درحقیقت آزمائش میں مبتلا کیے گئے ہیں۔ لیکن وہ اپنی حماقت میں اپنی آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کی دلیل سمجھ رہے ہیں اور آپ بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں تقرب، عیش و عشرت اور کثرت دولت سے نہیں ملتا، وہاں تو صرف ایمان و عمل کی قدر کی جاتی ہے جس سے بفضلہ تعالیٰ آپ بہرہ ور ہیں۔ یہ تو قیامت کے دن معلوم ہوگا کہ یہ لوگ اپنی آزمائش میں ناکام ہونے کے بعد کس ہولناک سزا میں مبتلا کیے جائیں گے۔ آج یہ مچھلی کی طرح خودفریبی میں مبتلا ہیں جو شکاری کی کنڈی کو گوشت لگا ہوا دیکھ کر خوش ہوتی ہے کہ مجھے آج گوشت کھانے کو ملا ہے اور شوق سے اس پر منہ مارتی ہے لیکن شکاری اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب کانٹا اس کے حلق سے نیچے اترے اور میں اسے باہر کھینچوں، لیکن مچھلی کو احساس نہیں ہوتا کہ میں اپنے برے انجام کی طرف بڑھ رہی ہوں۔
مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پر شاد ہے
صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی
ان کا حال بھی اس سے مختلف نہیں، لیکن آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔
آنحضرت ﷺ کا بلند مرتبہ
وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی ” اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ “ آیت کے اس حصے میں نبی کریم ﷺ سے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ آپ اگرچہ دینی مصالح کے پیش نظر دولت مندوں کی طرف توجہ فرماتے ہیں اور یہ بھی پیش نظر ہوتا ہے کہ کاش ان کی دولت اسلام کے کام آتی۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے پروردگار نے آپ کے لیے جو عطا و بخشش، نور ہدایت، سعادتِ نبوت اور مراتبِ عالیہ کا جو رزق مقدر کیا ہے اس کے مقابلے میں دولت دنیا کی کیا حیثیت ہے۔ یہ دنیا کی بہار چند روزہ ہے جس پر کسی وقت بھی خزاں کا حملہ ہوسکتا ہے۔ یہاں کا عیش و عشرت اور یہاں کی مجالسِ طرب ہمیشہ قوموں کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جو کمالات آپ کو عطا فرمائے ہیں اور آپ کے دم سے دنیا میں جس بہار کے پھول کھلنے لگے ہیں اور انسانی زندگی پر جس طرح ایک پائیدار بہار آنے لگی ہے اور آپ کے فیضان سے جس طرح افکار و کردار کی کھیتی روز بروز بارآور ہورہی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی وہ عطا ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آئے گی۔ جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوگا، وہاں آپ کی منقبت کے قصیدے بھی پڑھے جائیں گے۔ آپ ﷺ کی عظمت کا پرچم تو قیامت کے دن بھی سرنگوں نہیں ہوگا بلکہ اس روز بھی آپ ﷺ امامتِ کبریٰ کے منصب پر فائز کیے جائیں گے۔
امت کے لیے درس
اور اگر یہ سمجھا جائے کہ اس جملے میں روئے سخن آنحضرت ﷺ کے واسطہ گرامی سے اس امت کی طرف بھی ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس امت کو دنیا کے خزف ریزوں کو اپنی چاہت بنانا زیب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قوموں کی قیادت کے لیے اٹھایا ہے۔ درہم و دینار کسی اور کا ہدف تو ہوسکتے ہیں لیکن جس امت کی ذمہ داری یہ ٹھہرائی گئی ہے کہ ہ اہل دنیا کو فکر کی بلندی، عمل کی پختگی، نیت کی صفائی، اخلاق کی وسعت، دل و دماغ کی طہارت، خلق خداوندی کے ساتھ رحمت و مؤدت، گمراہی سے نفرت، حق کے لیے غیرت و حمیت جیسی صفات عطا کرے اور اللہ تعالیٰ کی دھرتی کو اللہ تعالیٰ کے دین کا مورد بنا کر خلق خدا کو پرامن زندگی کی ضمانت دے۔ اس کے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ وہ دنیا کے خزف ریزوں کو تلاش کرتی پھرے۔ ضروریاتِ زندگی سے اسے بھی فارغ نہیں رکھا گیا لیکن اسے ضروریات کو مقصد بنانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جس طرح جانوروں میں ایک شاہین بھی ہے اسے زندگی کے جو اہداف دیئے گئے ہیں وہ باقی جانوروں سے بالکل مختلف ہیں۔ انسانوں میں امت مسلمہ کو شاہین صفت بنایا گیا ہے۔ یہ زندگی کی ضروریات کو شاہین ہی کی طرح حاصل کرتی ہے لیکن اس کے اہداف ہمیشہ اس پر حاوی رہتے ہیں۔ اقبال نے یہی بات واضح کرنے کے لیے شاہین کی زندگی کی تصویر کشی کی ہے۔
کیا میں نے اس خاکداں سے کنارہ
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
جھپٹنا پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب یہ پچھم چکوروں کی دنیا
مرا نیلگوں آسماں بےکرانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
Ayah 20:132وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰو ۃِ وَاصْطَبِرْعَلَیْھَا ط لاَ نَسْئَلُکَ رِزْقًا ط نَحْنُ نَرْزُقُکَ ط وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّـقْوٰی۔ (طٰـہٰ : 132)
(اور اپنے لوگوں کو نماز کا حکم دیجیے، اور خود بھی اس پر جمے رہئے، ہم آپ سے روزی کا سوال نہیں کرتے بلکہ ہم ہی آپ کو روزی دیں گے، اور اچھا انجام پرہیزگاری کا ہی ہوتا ہے۔ )
تربیت کے لیے نماز کی اہمیت
دعوت الی اللہ کے کام میں جس طرح مخالفین کی مخالفت اور معاندت اور ان کی بےہنگم زبان سے نکلنے والے شعلے اور ان کی عقربی فطرت سے ٹپکنے والا زہر رکاوٹ بنتا اور پریشان کرتا ہے، اسی طرح کبھی کبھی اپنی بےبسی اور غربت اور مخالفین کی فارغ البالی اور امارت و سطوت بھی سوچ کا عنوان بن جاتی ہے۔ ان دونوں قباحتوں اور رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے تسبیح وتحمید یعنی نماز کا حکم دیا گیا اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی گئی کہ زخارفِ دنیا کی طرف کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے گا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں تقرب کا ذریعہ نہیں بلکہ آزمائش ہے جس سے کسی قوم کو ٰآزمایا جاتا ہے۔ انسان کے پاس وہ چیز جس پر فخر کیا جاسکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے تعلق، دنیا سے بےرغبتی اور خلق خدا کی اصلاح کی فکرمندی کا جذبہ ہے۔ اسی سے انسانیت کا جوہر ہاتھ آتا ہے، اسی سے دل کی دردمندی، عفو و درگزر اور ہمدردی و خیرخواہی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اسی سے وہ مضبوط کردار جنم لیتا ہے جن سے انسانیت فروغ پاتی ہے۔ چناچہ اسی حقیقت کی اہمیت کے پیش نظر اس آیت کریمہ میں دوبارہ نماز کا حکم دیا گیا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ آیت میں بھی نماز کا حکم دیا گیا تھا لیکن اس کے مخاطب صرف آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی تھی۔ اس آیت میں آپ کے اہل کے لیے بھی نماز کی تاکید کی گئی ہے۔ اور خود آنحضرت ﷺ کو اس کی نگرانی اور اس کی پاسداری کا حکم دیا گیا ہے۔
اہل کا مفہوم
آیتِ کریمہ میں اہل کا لفظ استعمال ہوا ہے بعض لوگوں نے اس سے صرف اہل بیت کو مراد لیا ہے اور اہل بیت میں بھی نبی کریم ﷺ کے علاوہ صرف چار نفوسِ مقدسہ کو شامل کیا گیا ہے جبکہ اہل بیت لغت اور اصطلاح کے حوالے سے ہمیشہ بیوی بچوں کو کہا جاتا ہے اور اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ بیوی کی موجودگی کے باوجود اسے اہل بیت میں شامل نہ کیا جائے۔ لیکن عام آدمی کے اہل اور پیغمبر کے اہل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جب میں اپنے اہل کی بات کرتا ہوں تو اس سے مراد بیوی اور بچے ہوتے ہیں لیکن جب نبی کریم ﷺ اپنے اہل کی بات فرماتے ہیں اور پروردگار آپ کے اہل کے بارے میں کوئی حکم دیتا ہے تو اس سے مراد صرف بیوی بچے، آپ کے داماد اور نواسے ہی نہیں بلکہ تمام امت کے صاحب ایمان و عمل لوگ ہیں کیونکہ اہل لغت کے نزدیک اہل خصوصی تعلقات والوں کو کہا گیا ہے۔ لسان العرب میں ہے اہل الرجل اخص الناس بہ ” اہل الرجل سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس شخص سے خاص تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ اہل کل نبی امتہ ” نبی کے اہل سے اس کے امتی مراد ہوتے ہیں۔ “ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کل تقی نقی فہوا آلی ” ہر متقی اور پرہیزگار آدمی میری آل ہے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو ہدایت کی جارہی ہے کہ آپ کی امت کے وہ لوگ جو آپ کے قریب اور آپ کے زیرتربیت ہیں کو خصوصی طور پر نماز کا حکم دیں اور پوری امت کو عمومی طور پر آپ اس کی تاکید فرمائیں اور پھر خود بھی اس پر اصطبار اختیار کریں، یعنی آپ نماز کی پابندی بھی کریں اور اپنے زیر تربیت لوگوں سے اس کی پابندی کروائیں اور ان کی اس طرح دیکھ بھال اور نگرانی کریں جس طرح ایک کسان اپنے کھیت کی نگرانی کرتا ہے۔ کیونکہ نماز کی وجہ سے ہر شخص کا اللہ تعالیٰ سے وہ تعلق پیدا ہوگا جیسا ایک مسلمان کا ہونا چاہیے۔ اس سے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کے حاضر و ناظر ہونے، اس کے قادرمطلق ہونے اور اس کی کبریائی رگ و پے میں بس جانے، اسی کے سامنے دست سوال پھیلانے، اسی سے مشکل وقت میں استمداد کرنے اور اسی پر ہرحال میں بھروسہ رکھنے اور دشمنوں کی ہر طرح کی مخالفتوں کا سامنا کرنے کا وہ ذوق پیدا ہوگا جس سے سیرت و کردار میں پختگی آئے گی، اللہ تعالیٰ کے آستانے سے گہرا تعلق پیدا ہوگا اور زندگی کے ہر گوشے میں وہ چراغ روشن ہوں گے جس سے قلب و نگاہ کی ہر تاریکی دور ہوجائے گی۔ دنیا طلبی کا بحران سرد ہوجائے گا، اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب باقی ہر طرح کی طلب پر غالب آجائے گی۔
لاَ نَسْئَلُکَ رِزْقًا ط نَحْنُ نَرْزُقُک ” ہم آپ سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ آپ کو رزق ہم دیں گے۔ “ ہم آپ اور آپ کے متبعین کے لیے رزق کی ذمہ داری اور ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کا بار آپ پر نہیں ڈال رہے۔ آپ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمہ تن مصروف رہئے اور اپنے ماننے اور خصوصی تعلق رکھنے والوں کی نگرانی کیجیے کہ ان کے اندر کسی طرح کا تساہل نہ آنے پائے۔ اس عظیم اور کٹھن کام کی مصروفیات میں یقینا آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو کسب معیشت کے مواقع بہت کم ملیں گے۔ اس لیے ہم نے اس کی ذمہ داری خود قبول کرلی ہے تاکہ آپ دعوت الی اللہ اور دنیا کی اصلاح کے کام میں پوری طرح توجہ دے سکیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام کوئی بھگشوؤں یا راہبوں کے گروہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس نے ہر شخص پر اپنی اور بیوی بچوں کی ضروریات فراہم کرنے کا فرض عائد کیا ہے۔ لیکن جن حالات سے اس وقت مسلمان گزر رہے تھے اس میں اس فرض کی ادائیگی کا امکان بہت کم تھا اور مزید یہ بات بھی کہ اگر مسلمان ضروریات کی فراہمی میں لگ جاتے جبکہ وہ اسلام کا ہر اول دستہ تھے تو اسلام کی بالادستی، نشرواشاعت اور عمومی غلبے کا کام پوری طرح کبھی نہ ہوسکتا۔ اس لیے پروردگار نے اس کا انتظام فرمایا کہ جیسے جیسے اسلامی قافلہ آگے بڑھا، فتوحات کے دروازے کھل گئے اور مفتوح ملکوں کی دولت مسلمانوں کے قدموں میں ڈھیر ہونے لگی۔ بجائے اس کے کہ وہ دولت کو ڈھونڈتے، دولت انھیں ڈھونڈ کر ان کے گھروں تک آپہنچی۔
ایک قیمتی اشارہ
وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّـقْوٰی ” اور اچھا انجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔ “ اس میں اشارہ شاید اس طرف ہے کہ تمہیں اپنی ضروریات کی فراہمی کے لیے ضرور محنت کرنی چاہیے۔ دینے والا ہاتھ لینے والے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ لیکن باقی دنیا کی طرح تم ضروریاتِ زندگی کو زندگی کا مقصد کبھی نہ بنانا۔ تقویٰ جو تربیتِ نفس اور ایفائے عہد خداوندی اور دین کی بالادستی کا ایک جامع عنوان ہے اسے زندگی کا مقصد بھی ہونا چاہیے اور منزل بھی۔ انسان کی بنیادی ضروریات کوئی زیادہ نہیں اور ان کی فراہمی کے لیے بہت زیادہ محنت بھی نہیں کرنا پڑتی۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب زندگی میں تکلفات پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہ بڑھتے بڑھتے تعیشات تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب انسان ان تعیشات کا رسیا ہوجاتا ہے تو اسے ان کے حصول کے لیے زندگی کا ایک ایک لمحہ صرف کرنا اور صلاحیتوں کا ایک ایک قطرہ نچوڑ دینا ضروری ہوجاتا ہے۔ اسلام نے اسے تقویٰ کے خلاف کہا اور یہ ہدایت کی کہ تمہاری زندگی چیونٹی کی طرح خاک بسری میں نہیں گزرنی چاہیے بلکہ تمہارا اصل ہدف شاہین کی طرح آسمان کی وسعتوں میں بلند پروازی ہو۔ البتہ اس کے لیے جو بنیادی ضرورتیں چاہئیں اس کی فراہمی سے بھی دریغ نہیں ہونا چاہیے اور ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہے کہ اچھا انجام اللہ تعالیٰ نے صرف اہل تقویٰ کے لیے رکھا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد وفا کو کبھی شکست نہیں ہونے دیتے، کبھی اس کی نافرمانی ان کی زندگی میں درآنے کی جرأت نہیں کرسکتی اور ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبے اور بالادستی کے لیے صرف ہوتا ہے۔
Ayah 20:133وَقَالُوْا لَوْلاَ یَاْ تِیْنَا بِاٰیـَـۃٍ مِّنْ رِّبِہٖ ط اَوَلَمْ تَاْ تِہِمْ بَیِّنَـۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۔
(طٰـہٰ : 133)
(اور یہ کہتے ہیں کہ یہ اپنے رب کے پاس سے ہمارے لیے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے، کیا ان کے پاس وہ بینہ نہیں آئی جو پہلے صحیفوں میں ہے۔ )
نشانی کا مطالبہ کرنے والوں کو جواب
اہلِ مکہ اور اشرافِ قریش جب آنحضرت ﷺ کے دلائل کے سامنے بےبس ہوجاتے اور قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت ان کی زبانیں گنگ کردیتی تو وہ بجائے ہدایت قبول کرنے یا اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے کے آنحضرت ﷺ پر حملہ آور ہوتے اور اگر صحابہ کرام سے گفتگو ہوتی تو ان سے بھی یہی کہتے کہ یہ صاحب اگر اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو جیسے پہلے رسولانِ گرامی نے بڑے بڑے حسی معجزات دکھائے ہیں تو ایسا کوئی حسی معجزہ جس کے بعد انکار کرنا مشکل ہوجائے یہ کیوں نہیں دکھاتے۔ چونکہ اس طرح کے سوالات عموماً اہل مکہ اہل کتاب کی انگیخت سے کرتے تھے اس لیے اس آیت کریمہ میں انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم اس نبی کی صداقت اور حقانیت پر کوئی واضح دلیل یا نشانی مانگتے ہو تو کیا تمہارے پاس پہلے صحیفوں کی نشانی نہیں پہنچی، یعنی وہ تو تمہارے ہاتھوں میں ہے اور تم ان کتابوں میں پڑھتے بھی ہو کہ اس میں نبی آخرالزمان ﷺ کی صفات اور احوال کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور ہمارے یہ رسول انہی صفات کے مصداق، مصدق اور حامل بن کر آئے ہیں۔ ان کتابوں میں آج بھی نبی آخرالزمان ﷺ کے بارے میں جو تفصیلات موجود ہیں ان کا آنحضرت ﷺ کے حالات سے تقابل کرکے دیکھو، کیا ان میں کوئی فرق ہے۔
اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک جتنے صحیفے اور کتابیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف اوقات میں نازل ہوئی ہیں ان میں بیشتر تو تاریخ کی نذر ہوچکیں۔ البتہ ! تورات، زبور اور انجیل اب بھی اہل کتاب کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے اہل علم انھیں پڑھتے بھی ہیں۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ ان میں عقائد، احکام اور معروفات کی کیا تفصیلات دی گئی ہیں۔ آج جبکہ قرآن کریم نازل ہورہا ہے تو کیا وہ دیانتداری سے محسوس نہیں کرتے کہ قرآن کریم نے پہلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات کی روح کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ ان کے وہ احکام جو ابدی تھے وہ قرآن کریم میں اسی طرح یا مزید صحت مند اضافوں کے ساتھ ذکر دیئے گئے ہیں۔ اور کوئی ایسی بات جو انسانی فلاح و بقا کے لیے ضروری تھی اس میں تشنگی باقی نہیں رہنے دی گئی جبکہ سب جانتے ہیں کہ جس رسول اکرم ﷺ پر یہ کتاب اتری ہے وہ خود امی محض ہیں، اُمی ماحول میں پلے بڑھے جس میں علم کے ادنیٰ تقاضے بھی پورے نہیں ہوتے تھے۔ بایں ہمہ انھوں نے ایسی کتاب پیش کی ہے جس کے بارے میں سعدی نے ٹھیک کہا تھا :
یتیمے کہ ناکردہ قرآں درست
کتب خانہ چند ملت بشست
اس کتاب کی فصاحت و بلاغت، غیرمعمولی اندازِ بیان، اس کے دروبست کی پختگی اور اس میں پیش کردہ نظام زندگی میں باہمی حیران کن ربط، زندگی کے اہم معاملوں پر محاکمہ، انسانی عروج وزوال کے مسلمات، پہلی آسمانی کتابوں کی تحریفات کی اصلاح، سابقہ آسمانی کتابوں کی بعض ابتدائی ہدایات کی تکمیل اور قیامت تک انسانی ضرورتوں کے حوالے سے مکمل ضابطہ حیات ایسی صفات ہیں جس نے دنیائے علم کو اس کے سامنے سرنگوں کردیا ہے۔ کیا اہل کتاب کو اس دلیل کے علاوہ اور بھی کسی دلیل کی ضرورت ہے۔
Ayah 20:134وَلَوْ اَنَّـآ اَھْلَکْنٰـھُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلاً فَـنَـتَّبِعَ اٰیٰـتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی۔ (طٰـہٰ : 134)
اگر ہم ان کو اس سے پہلے ہی کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ کہتے، اے ہمارے رب ! تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے احکام کی پیروی کرتے۔ )
اس آیت کریمہ میں روئے سخن مشرکین کی جانب ہے کیونکہ سابقہ آیت کریمہ میں جو مطالبہ کیا گیا ہے اس کی انگیخت اگرچہ اہل کتاب کی طرف سے تھی لیکن پیش کرنے والے مشرکین تھے۔ اس لیے پہلے اہل کتاب کو اس کا جواب دیا گیا، اب مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ نادانو ! تم بار بار آیت عذاب کے نزول کا مطالبہ کرتے ہو اور اتنی بات نہیں سمجھتے کہ کیا عذاب آجانے کے بعد تمہیں اپنی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنے کی مہلت ملے گی۔ عذاب سے تو تمہاری جڑ کٹ جائے گی اور آخرت کا عذاب تمہاری اس جسارت کی وجہ سے اور زیادہ سخت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم فرمایا کہ تمہاری جسارتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بجائے عذاب بھیجنے کے تمہاری اصلاح کے لیے رسول بھیجا۔ اب کس قدر حماقت کی بات ہے کہ تم رسول پر ایمان لانے کی بجائے جو دنیا میں رحمت کا پیغامبر بن کر آیا ہے، اس سے عذاب کا مطالبہ کررہے ہو۔ عذاب تو ہم تمہاری خرمستیوں کی وجہ سے رسول کی بعثت سے پہلے بھی تم پر نازل کرسکتے تھے، لیکن پھر قیامت کے دن تم ضرور اپنے رب سے یہ کہتے کہ پروردگار تو نے کسی رسول کو بھیج کر ہمیں ہدایت دینے سے پہلے ہی سزا دے ڈالی، حالانکہ اگر ہماری طرف رسول بھیجا جاتا تو ہم ضرور اس کا اتباع کرتے۔ وہ تیرے احکام ہمیں سناتا تو ہم تیرے احکام کی اطاعت کرتے۔ لیکن تو نے بجائے رسول بھیجنے کے ہماری ذلت و رسوائی کا سامان کردیا۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے تمہارے اس اعتراض کی بنا پر تمہاری طرف رسول بھیجا تاکہ تمہیں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ ملے۔ اب بجائے اللہ تعالیٰ کے رسول کی ہدایت سے فائدہ اٹھانے کے تم عذاب کا مطالبہ کررہے ہو، سوچ لو اس کا انجام کیا ہوگا۔
ذلت اور خزی عام استعمال میں ہم معنی ہیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دونوں کو ایک ساتھ ذکر کیا جاتا ہے تو پھر ان دونوں میں خفیف سا فرق بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ذلت اس احساس کو کہتے ہیں جو ذلت میں مبتلا ہونے والا شخص محسوس کرتا ہے۔ اور خزی اس رسوائی کو کہتے ہیں جسے دوسرے دیکھ کر کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ چناچہ جب کسی بھی قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے تو وہ ان دونوں طرح کے احساسات سے گراں بار ہوتی ہے۔ دوسری قومیں انھیں دیکھ کر عبرت حاصل کرتی ہیں اور وہ اپنے تئیں ذلت کی تصویر بن جاتے ہیں۔
Ayah 20:135قُلْ کُلٌّ مُّتَرَبِّضٌ فَـتَرَبَّصُوْا ج فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَمَنِ اھْتَدٰی۔ (طٰـہٰ : 135)
(کہہ دیجیے ہر شخص انتظار کررہا ہے تو تم بھی انتظار کرو، تم عنقریب جان لو گے کہ سیدھی راہ والے کون ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں۔ )
آخری وارننگ
یہ اس سورة کی آخری آیت ہے۔ اہل مکہ کو تفہیم اور انذار کی حد تک جو کچھ کہنا تھا وہ مکمل ہوگیا۔ اب اس آیت میں آخری وارننگ دی جارہی ہے اور شدت عتاب کا عالم یہ ہے کہ اب براہ راست مشرکین سے خطاب فرمایا جارہا ہے۔ اب تک غائب کے صیغوں میں بات ہورہی تھی لیکن اب دھمکی اور وارننگ کے لیے تخاطب کا انداز اختیار کیا گیا۔ فرمایا گیا ہے کہ تم اگر کسی بھی معقول بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو، پیغمبر کی غیرمعمولی شخصیت اور اس کا بےعیب کردار اور قرآن کریم کا معجزانہ اسلوب بھی تمہیں اپیل نہیں کرتا تو پھر تم انتظار کرو۔ کیونکہ آج جس طرح مسلمان شب و روز کی مساعی کا پھل دیکھنا چاہتے ہیں اس طرح شیطانی قوتیں اپنی نامرادی کے انجام کو دیکھنے کی متمنی ہیں۔ وہ تو اپنے تئیں دعوت الی اللہ کے اس کام کو ناکام کرنے میں لگی ہوئی ہیں لیکن درحقیقت وہ اپنے برے انجام کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اب ان انتظار کرنے والوں کی نگاہوں میں آخری پیمانہ یہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش میں کون غالب آتا ہے اور کون اپنے برسرحق ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ تم بھی اسی پیمانے اور اسی زاویئے سے آنے والے حالات کا انتظار کرو۔ عنقریب تم دیکھ لو گے کہ یہ قافلہ حق جو وسائل کے اعتبار سے بالکل تہی دامن ہے اور جس کے افراد دہائیوں میں گنے جاسکتے ہیں کس طرح چند سالوں میں اس ملک کی غالب قوت بن کر ابھرتا ہے اور کس طرح جزیرہ عرب کی حد تک حق سربلند ہوتا ہے اور کس طرح غلط راستوں پر چلنے والے اور مخالفت کرنے والے اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ چناچہ چند ہی سالوں میں اس وارننگ نے حقیقت بن کر دکھایا۔ بےبس اور بےکس لوگوں کا یہ قافلہ ایک طاقت بن کر اٹھا اور 8 ہجری میں کفر کی قوتوں کا مرکز مکہ سرنگوں ہوگیا اور پھر دو ہی سالوں میں جزیرہ عرب کے ایک ایک گوشے میں اللہ تعالیٰ کا نام گونجنے لگا۔ ہر طرف سے کفر اور شرک کے آثار مٹا دیئے گئے اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور اسلام کی صداقت لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔