21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsروح القرآن

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

(قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے ان کے محاسبے کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 1) (قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے ان کے محاسبے کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ ) قریش کے رویئے پر تنبیہ قریش اور باقی دنیا کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب دنیا کے بارے میں ان کا غلط تصور تھا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس دنیا کو اس کے پیدا کرنے والے نے بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے۔ اور اگر اس کا کوئی مقصد ہے تو وہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ باقی مخلوقات کی طرح انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے تاکہ وہ زمین پہ اپنی مرضی کی زندگی گزاریں، کھائیں پییں عیش کریں، لڑیں بھڑیں غرضیکہ جو چاہیں سو کریں۔ اپنے اپنے وقت میں طبعی عمر گزار کر موت کا شکار ہوجائیں اس کے سوا ان کا اور کوئی مقصد نہیں۔ اسی غلط فہمی کی وجہ سے قریش کو ان کے غیرسنجیدہ رویئے پر بار بار توجہ دلانے کے باوجود ان پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔ وہ ہر بات کو ایک مذاق سمجھتے تھے اور یہ بات کہ ایک دن دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور ازاول تا آخر اس دنیا میں پیدا ہونے والے انسان زندہ کیے جائیں گے۔ ایک محشر بپا ہوگا، ہر شخص اپنا نامہ عمل لے کر پہنچے گا، ایک ایک عمل کا حساب ہوگا اور اسی حساب کے مطابق جزاء و سزا کا ترتب ہوگا۔ قریش یہ باتیں سن کر ازراہِ استہزاء یہ کہتے تھے کہ اربوں کھربوں مخلوق نہ جانے کہاں پیدا ہوئی اور کہاں مٹی میں مل دل گئی۔ اتنی بڑی تعداد میں مٹی بن جانے والے لوگوں کو دوبارہ زندگی کیسے مل سکتی ہے اور اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ ایک آدمی زندگی میں بیشمار اعمال انجام دیتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایک عمل کا ریکارڈ رکھا جائے اور پھر قیامت کے دن اسی ریکارڈ کو نامہ عمل کی صورت میں ایک ایک آدمی کے ہاتھ میں دے کر کہا جائے کہ خود اسے پڑھ کے دیکھو کہ تم دنیا میں کیسے زندگی گزار کے آئے ہو۔ یہ سراسر ایسی باتیں ہیں جن کی حیثیت خیالی تصورات سے زیادہ نہیں، ہم ان اوہام و تصورات کی بناء پر اپنے عیش کو کیسے مکدر کرلیں، اپنی زندگی کے رنگ میں بھنگ کیسے ڈال لیں۔ ان کے اسی رویئے پر تنبیہ کرنے کے لیے غیرمعمولی طرز بیان اختیار کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے غیرسنجیدہ رویئے پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ محاسبے کا مفہوم ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کے محاسبے کا وقت قریب آ لگا ہے اور ان بدنصیبوں کا حال یہ ہے کہ یہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ محاسبے کا وقت قریب آنے کا معنی و مفہوم کیا ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ قیامت کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب لوگوں کو اپنا حساب دینے کے لیے اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا۔ قریب آنے سے مراد وہ ہے جسے آنحضرت ﷺ نے اس طرح واضح فرمایا بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ ” میں ایسے وقت پر مبعوث کیا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں۔ “ آپ ﷺ نے دو انگلیاں کھڑی کرکے فرمایا کہ جس طرح دو انگلیوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں، میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ میں انسانوں کی ہدایت کے لیے آخری پیغمبر ہوں، جسے سنبھلنا ہے اس کے لیے یہی ایک موقع ہے، کیونکہ میرے بعد کوئی اور آنے والا نہیں۔ رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کو چودہ صدیاں گزر گئیں۔ اگر قیامت قریب ہوتی تو اب تک آچکی ہوتی۔ لیکن یہ محض قلت فکر کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ کائنات اور انسانی زندگی ایسی حقیقت نہیں جسے ہم اپنے حساب کے پیمانوں سے ناپیں۔ جس طرح کائنات کی وسعتیں آج تک علم کی پیمائش میں نہیں آسکیں، اسی طرح اس کا زمانہ بھی ہمارے اندازوں میں آنے والا نہیں۔ قریب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کا جو زمانہ گزر چکا وہ زیادہ ہے اور جو باقی ہے وہ تھوڑا ہے۔ اور اصلاح و ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلے کے مطابق بعثت انبیاء کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کے آخری رسول تشریف لا چکے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ باقی زمانہ کتنا رہ گیا ہوگا۔ رہا چودہ صدیوں کا گزر جانا تو ہم اپنے اندازوں میں اسے کتنا بھی زیادہ سمجھیں لیکن کائنات کے سفر میں یہ ایک مختصر زمانہ ہے۔ معراج کے سفر میں آنحضرت ﷺ کو دنیا ایک بڑھیا کی شکل میں دکھائی گئی تھی۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا تھا کہ حضور ﷺ آپ اس سے دنیا کی عمر کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ اس کا بچپن، لڑکپن، جوانی اور ڈھلتی عمر کا زمانہ گزر چکا ہے، اب یہ بڑھاپے میں ہے۔ ظاہر ہے کہ گزرے ہوئے زمانہ کی نسبت سے اب اس کا خاتمہ قریب ہے۔ عرب کہتے ہیں کُلُّ مَاہُوَ آتٍ قَرِیْبٌ ” ہر وہ چیز جس کا آنا یقینی ہو وہ قریب ہوتی ہے۔ “ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ قیامت بہت قریب ہے کیونکہ اس کا آنا بےحد یقینی ہے۔ محاسبہ کا وقت قریب آنے کا دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ہر شخص کی موت اس کے پائوں کے تسمے کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کسی وقت بھی آخری وقت آسکتا ہے۔ موت کے بعد قبر میں پہنچتے ہی ہر انسان کو ایک اجمالی محاسبے سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لیے اسے شخصی قیامت کہا گیا ہے آنحضرت ﷺ کا ارشادمبارک ہے مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ ” جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو قائم ہوگئی۔ “ اس مفہوم کے اعتبار سے تو حساب کا وقت قریب آنابالکل ہی واضح ہے کیونکہ ہر شخص کی موت خواہ عمر کتنی ہی ہو، کچھ دور نہیں اور جبکہ عمر کی انتہا معلوم نہیں تو ہر وقت آدمی کے سر پر موت کا خطرہ سوار رہتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا ایک اور مطلب سمجھا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ سورة طٰہٰ کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو وارننگ دی ہے کہ ہر باخبر شخص اس کشمکش کے نتیجے کے انتظار میں ہے جو مکہ معظمہ میں حق و باطل کے درمیان برپا ہے۔ تم بھی انتظار کرو، عنقریب دیکھ لو گے کہ صحیح راستے پر کون تھا۔ آنحضرت ﷺ تمہیں جس انجام سے ڈرا رہے تھے اور تمہارے لیے عافیت کا راستہ کھول رہے تھے ان کی بات صحیح تھی یا تمہارا غیرسنجیدہ رویہ صحیح تھا۔ اور تم بات بات پر ان سے آیت عذاب کا مطالبہ کررہے تھے۔ اب تمہارا مطالبہ پورا ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ یعنی اب وہ وقت دور نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعوت کامیابی کی منزلیں طے کرلے گی اور تم میدانِ بدر میں اس عذاب کی ایک جھلک دیکھو گے یعنی تمہاری قیادت کی پہلی صف ہلاک کردی جائے گی۔ اگر مکہ معظمہ میں میں قبول ایمان کا سلسلہ اندر ہی اندر دھیرے دھیرے جاری نہ رہتا تو پیغمبر کی ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق تمہیں تباہ کردیا جاتا۔ جب تک آنحضرت ﷺ نے ہجرت نہیں فرمائی تو ان کا وجود تمہاری خیریت کی ضمانت تھا اور جب وہ ہجرت گئے تو وہ مظلوم و مقہور لوگ جو قبولیتِ ایمان کے باعث تمہارے گھروں میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ان کا استغفار تمہاری خیریت کا باعث رہا ہے۔ لیکن اب فتح مکہ کا وقت قریب آرہا ہے، جب وہ انقلاب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوجائے گا جس کے لیے آنحضرت ﷺ تشریف لائے تھے اور تمہارا محاسبہ بھی تمہارے سر پر آپہنچے گا۔ اب وہ شخص بچے گا جو ایمان لے آئے گا یا ملک چھوڑ کر بھاگ جائے گا۔ اس آیت کریمہ میں ان اہل علم کے نزدیک اس محاسبے کی طرف اشارہ ہے۔ اس عاجز کی ناچیز رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان تینوں مطالب کی طرف اشارہ کررہی ہے کیونکہ ان تینوں میں آپس میں کوئی تضاد نہیں۔ اور ساتھ ہی نہایت تأسف سے فرمایا گیا ہے کہ کیسے بدنصیب ہیں یہ لوگ کہ نہایت خطرناک لمحہ ان کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ نہ صرف غفلت میں سر ڈبوئے ہوئے ہیں بلکہ اس دعوت سے اعراض کررہے ہیں جس کا پیغام ان کے لیے زندگی بخش ثابت ہوسکتا ہے۔
Ayah 21:2

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو تازہ نصیحت بھی آتی ہے اس کو بہ تکلف سنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں

مَایَاْیِتْھِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنْ رَّبِّھِمْ مُّحْدَثٍ اِلاَّ اسْتَمَعُوْہُ وَھُمْ یَلْعَبُوْنَ ۔ (الانبیاء : 2) (ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو تازہ نصیحت بھی آتی ہے اس کو بہ تکلف سنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں۔ ) اعراض کی کیفیت اس آیت کریمہ میں ان کے اعراض کی کیفیت بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کا وہ اعراض جس کے پس منظر میں ان کی غفلت اور ان کا غیرسنجیدہ رویہ کارفرما ہے اپنے اندر لا ابالی پن کے ساتھ سرمستی اور شرارت کا پہلو بھی رکھتا ہے۔ قرآن کریم انھیں بار بار ان کے غلط رویئے پر ٹوکتا ہے اور مختلف اسالیب سے انھیں تذکیر و تنبیہ کے ذریعے متوجہ کرتا ہے لیکن ان کا حال یہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے جو ان کے لیے نئی یاددہانی ہوتی ہے بجائے اس کی طرف متوجہ ہونے کے سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اگر سنیں گے تو نہایت تکلف سے اور ساتھ ہی ساتھ اس کا مذاق بھی اڑائیں گے۔ ظاہر ہے کہ جو بات اس قدر غیرسنجیدہ رویئے سے سنی جائے وہ کیسے موثر ہوسکتی ہے۔ یا یوں کہئے کہ سننے والا اس سے کوئی صحیح اثر قبول نہیں کرسکتا۔ آنحضرت ﷺ انتہائی ہمدردی، خیرخواہی اور فکرمندی کے جذبات کے ساتھ ان کے سامنے قرآن کریم کی آیات پڑھتے ہیں۔ انھیں زندگی کے مقاصد سے بہرہ ور کرنے کی کوشش فرماتے ہیں۔ انھیں آنے والی زندگی میں محاسبے سے آگاہ کرتے ہیں لیکن وہ ان باتوں کا اثر قبول کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور اپنی جہالت کا احساس کرنے کی بجائے ان باتوں کو نادانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اس کا سبب بالکل واضح ہے کہ انھوں نے زندگی کو بازیچہ اطفال سمجھ رکھا ہے۔ یہ دنیا محض ایک کھیل تماشا ہے اور ہم یہاں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق اس کھیل تماشے کا حصہ بننے کے لیے آئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر حماقت کی اور کیا بات ہوگی کہ ہم اس بات کو قبول کرلیں کہ ایک ایسی زندگی آنے والی ہے جس میں ہمارے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ چناچہ اس تأثر کے تحت وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت پر کان لگانے کو تیار نہیں ہوتے۔
Ayah 21:3

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل غفلت میں مدہوش ہیں اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے تو کیا تم آنکھوں دیکھتے جادو کے پھندے میں پھنس جائو گے۔

لاَھِیَۃً قُلُوْبُھُمْ ط وَاَسَرُّوا النَّجْوَیصلے ق الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا صلے ق ھَلْ ھٰذَآ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُم ج اَفَـتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 3) (ان کے دل غفلت میں مدہوش ہیں اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے تو کیا تم آنکھوں دیکھتے جادو کے پھندے میں پھنس جاؤ گے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح لاَھِیَۃً قُلُوْبُھُمْ ” یہ دوسرا حال ہے۔ “ وَاَسَرُّوا النَّجْوَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا کے فقرہ میں اَسَرُّوا فعل ہے نَجْوَی مفعول ہے اور الَّذِیْنَ فاعل ہے۔ نَحْو کا قاعدہ یہ ہے کہ فاعل اگر اسم ظاہر ہو تو فعل واحد ہوتا ہے۔ اس قاعدے کے مطابق اَسَرَّالنَّجْوَیہونا چاہیے تھا۔ فاعل ظاہر ہونے کے باوجود فعل کو جمع کیوں لایا گیا۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اَسَرُّوا میں وائو ضمیر جمع نہیں بلکہ علامتِ جمع ہے تاکہ اَسَرُّوا کا لفظ سنتے ہی سننے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا ایک فاعل نہیں بلکہ متعدد ہیں۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ” وائو ضمیر جمع “ فاعل ہے اور الَّذِیْنَ فاعل نہیں بلکہ وائو کا بدل ہے۔ اور وائو مبدل منہ ہے۔ قریش کے اعراض کا سبب اس آیت کریمہ کے پہلے جملے میں سابقہ آیت میں ان کے مذکور رویئے کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم جیسی موثر اور باوقار کتاب اور آنحضرت ﷺ جیسے دلآویز شخصیت کی دعوت کا بھی اس لیے مذاق اڑاتے ہیں کہ ان کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جس طرح ایک مدہوش اور مخمور شخص کسی بات کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے، اسی طرح یہ بھی نہ صرف اپنی قبولیت کی صلاحیت کھو چکے ہیں بلکہ ان کے سردار اور سربرآوردہ لوگ جب تنہا ہوتے ہیں تو اپنی مجلس میں سرگوشی کے انداز میں اس دعوت کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ اور چونکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اس دعوت کے اثرات آہستہ آہستہ لوگوں میں پھیل رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت لوگوں کے دلوں میں اتری جارہی ہے اور قرآن کریم کے الفاظ کی تاثیر ہزار کوششوں کے باوجود دلوں کے بند دروازوں کو کھول رہی ہے تو وہ آپس میں اس کا راستہ روکنے کے لیے نئی نئی تدبیریں سوچتے اور نئی نئی چالیں ایجاد کرتے ہیں تاکہ لوگوں میں اس دعوت کے پھیلائو کو روکا جاسکے۔ چناچہ اس کے لیے انھوں نے جو سازشیں تیار کیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ انھوں نے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ تم اس شخص کی باتوں سے متأثر ہونا شروع ہوگئے ہو، ذرا یہ تو سوچو کہ یہ شخص اپنے آپ کو نبی کہتا ہے، تو کیا ہم جیسا کوئی شخص نبوت کے عظیم مقام پر فائز ہوسکتا ہے۔ اس میں اور ہم میں آخر ایسا بنیادی فرق کیا ہے۔ یہ بھی ہم جیسا ایک انسان ہے، ہماری طرح کھاتا ہے پیتا ہے، بازاروں میں کاروبار کرتا ہے، گھومتا پھرتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے۔ آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جس کی وجہ سے ہم اس کو نبی تسلیم کرلیں۔ یہ صحیح ہے کہ اس کی باتوں میں بلا کی تاثیر ہے، اس کی شخصیت میں ناقابلِ انکار معصومیت اور دلآویزی ہے جو دوسرے لوگوں میں اثر کیے بغیر نہیں رہتی۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ جادو کا نتیجہ ہے جس نے اس کی شخصیت کو موثر بنادیا ہے اور اس کی باتوں میں اثر پیدا کردیا ہے کہ جو اس کے پاس جاتا ہے اس کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے بچائو کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم نہ اس کی بات سنیں اور نہ اس کے قریب جائیں تاکہ اس کا جادو ہم پر اثرانداز نہ ہوسکے۔ آنحضرت ﷺ کی دعوت کی تاثیر کی مثالیں ہمارے سیرت نگاروں نے آنحضرت ﷺ کی شخصیت اور آپ ﷺ کی دعوت کے موثر ہونے کی چند مثالیں ذکر کی ہیں جنھیں قریش جادو کا نتیجہ قرار دیتے تھے۔ جسے ہمارے قدیم ترین سیرت نگار محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ (ابوسفیان کے خسر ہند جگر خوار کے باپ) نے سردارانِ قریش سے کہا، اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جا کر محمد ﷺ سے ملوں اور اسے سمجھانے کی کوشش کروں۔ یہ حضرت حمزہ ( رض) کے اسلام لانے کے بعد کا واقعہ ہے جبکہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی تعداد روز بروز بڑھتی دیکھ کر اکابرِ قریش سخت پریشان ہورہے تھے۔ لوگوں نے کہا ! ابوالولید ! تم پر پورا اطمینان ہے، ضرور جا کر اس سے بات کرو۔ وہ حضور ﷺ کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ” بھتیجے، ہمارے ہاں تم کو جو عزت حاصل تھی، تم خود جانتے ہو اور نسب میں بھی تم ایک شریف ترین گھرانے کے فرد ہو۔ تم اپنی قوم پر یہ کیا مصیبت لے آئے ہو ؟ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ ساری قوم کو بیوقوف ٹھہرایا۔ اس کے دین اور اس کے معبودوں کی برائی کی۔ باپ دادا جو مرچکے ہیں ان سب کو تم نے گمراہ اور کافر بنایا۔ بھتیجے، اگر ان باتوں سے تمہارا مقصد دنیا میں اپنی بڑائی قائم کرنا ہے تو آئو ہم سب مل کر تم کو اتنا روپیہ دے دیتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ۔ سرداری چاہتے ہو تو ہم تمہیں سردار مانے لیتے ہیں۔ بادشاہی چاہتے ہو تو بادشاہ بنا دیتے ہیں اور اگر تمہیں کوئی بیماری ہوگئی ہے جس کی وجہ سے تم کو واقعی سوتے یا جاگتے میں کچھ نظر آنے لگا ہے تو ہم سب مل کر بہترین طبیبوں سے تمہارا علاج کرائے دیتے ہیں۔ “ یہ باتیں وہ کرتا رہا اور نبی کریم ﷺ خاموش سنتے رہے۔ جب وہ خوب بول چکا تو آپ نے فرمایا ” ابوالولید، جو کچھ آپ کہنا چاہتے تھے کہہ چکے ہیں، یا اور کچھ کہنا ہے ؟ “ اس نے کہا بس مجھے جو کچھ کہنا تھا میں نے کہہ دیا۔ آپ نے فرمایا اچھا اب میری سنو۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ ٰالرَّحِیْمِ ، حٰمٓ، تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ اس کے بعد کچھ دیر تک مسلسل آپ سورة حم السجدہ کی تلاوت فرماتے رہے اور عتبہ پیچھے زمین پر ہاتھ ٹیکے غور سے سنتا رہا۔ اڑتیسویں آیت پر پہنچ کر آپ نے سجدہ کیا اور پھر سر اٹھا کر عتبہ سے فرمایا، ” ابوالولید جو کچھ مجھے کہنا تھا وہ آپ نے سن لیا، اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔ “ عتبہ یہاں سے اٹھ کر سردارانِ قریش کی طرف پلٹا تو لوگوں نے دور سے ہی اس کو آتے دیکھ کر کہا ” خدا کی قسم، ابوالولید کا چہرا بدلا ہوا ہے۔ یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر وہ گیا تھا۔ “ اس کے پہنچتے ہی لوگوں نے سوال کیا ” کہو ابوالولید کیا کر آئے ہو ؟ “ اس نے کہا ” خدا کی قسم، آج میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ سنا تھا۔ واللہ یہ شعر نہیں ہے نہ سحر ہے اور نہ کہانت۔ اسے معشرقریش، میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ اس کی باتیں جو میں نے سنی ہیں رنگ لا کر رہیں گی۔ اگر عرب اس پر غالب آگئے تو اپنے بھائی کا خون تمہاری گردن پر نہ ہوگا، دوسرروں پر ہوگا۔ اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی اور اس کی عزت تمہاری عزت۔ “ لوگوں نے کہا ” واللہ، ابوالولید تم پر بھی اس کا جادو چل گیا۔ “ اس نے کہا ” یہ میری رائے ہے، اب تم جانو اور تمہارا کام۔ “ (ابن ہشام، جلد اول، ص 313۔ 314) بیہقی نے اس واقعہ کے متعلق جو روایات جمع کی ہیں ان میں سے ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب حضور ﷺ سورة حم السجدہ کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے کہ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْدَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدٍ تو عتبہ نے بےاختیار آگے بڑھ کر آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ خدا کے لیے اپنی قوم پر رحم کرو۔ دوسرا واقعہ ابن اسحاق نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ قبیلہ آراش کا ایک شخص کچھ اونٹ لے کر مکہ آیا۔ ابوجہل نے اس کے اونٹ خرید لیے اور جب اس نے قیمت طلب کی تو ٹال مٹول کرنے لگا۔ اراشی نے تنگ آکر ایک روز حرم کعبہ میں قریش کے سرداروں کو جا کر پکڑا اور مجمعِ عام میں فریاد شروع کردی۔ دوسری طرف حرم کے ایک گوشے میں نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے۔ سردارانِ قریش نے اس شخص سے کہا کہ ” ہم کچھ نہیں کرسکتے، دیکھو وہ صاحب جو اس کونے میں بیٹھے ہیں ان سے جا کر کہو، وہ تم کو تمہارا روپیہ دلوا دیں گے۔ “ اراشی نبی کریم ﷺ کی طرف چلا گیا اور قریش کے سرداروں نے آپس میں کہا ” آج لطف آئے گا۔ “ اراشی نے جا کر حضور ﷺ سے اپنی شکایت بیان کی۔ آپ ﷺ اسی وقت اٹھ کر کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر ابوجہل کے مکان کی طرف روانہ ہوگئے۔ سرداروں نے پیچھے ایک آدمی لگا دیا کہ جو کچھ گزرے اس کی خبر لا کر دے۔ نبی کریم ﷺ سیدھے ابوجہل کے دروازے پر پہنچے اور کنڈی کھٹکھٹائی۔ اس نے پوچھا ” کون ؟ “ آپ ﷺ نے جواب دیا ” محمد۔ “ ﷺ وہ حیران ہو کر باہر نکل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے کہا ” اس شخص کا حق ادا کردو۔ “ اس نے جواب میں کوئی چون و چرانہ نہ کی، اندر گیا اور اس کے اونٹوں کی قیمت لا کر اس کے ہاتھ میں دے دی۔ قریش کا مخبر یہ حال دیکھ کر حرم کی طرف دوڑا اور سرداروں کو سارا ماجرا سنا دیا اور کہنے لگا کہ واللہ آج وہ عجیب معاملہ دیکھا ہے جو کبھی نہ دیکھا تھا۔ ابوالحکم بن ہشام (ابوجہل) جب نکلا ہے تو محمد ﷺ کو دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہوگیا اور جب محمد ﷺ نے اس سے کہا کہ اس کا حق ادا کردو تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ابوالحکم بن ہشام کے جسم میں جان نہیں ہے۔ (ابن ہشام، جلد 2، ص 29۔ 30) یہ تھا شخصیت اور سیرت و کردار کا اثر اور وہ تھا کلام کا اثر، جس کو وہ لوگ جادو قرار دیتے تھے اور ناواقف لوگوں کو یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ اس شخص کے پاس نہ جانا ورنہ جادو کردے گا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

(آنحضرت ﷺ نے) فرمایا، میرا رب آسمان اور زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔

قٰـلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ز وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الانبیاء : 4) (آنحضرت ﷺ نے) فرمایا، میرا رب آسمان اور زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔ ) ایک داعی کا اعتماد علی اللّٰہ گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے دو باتیں پڑھی ہیں۔ ایک یہ بات کہ مشرکینِ مکہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں مختلف باتیں کہتے تھے۔ کبھی انھیں جادوگر قرار دیتے اور کبھی کسی اور نام سے پکارتے۔ اور دوسری یہ بات کہ ان کی شخصیت کے اثر اور قرآن پاک کی تاثیر سے پریشان ہو کر اپنی خفیہ مجالس میں اس کے توڑ کے لیے تدبیریں سوچتے اور چھپ چھپ کر منصوبہ بندی کرتے تھے۔ ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق وہ بات فرمائی جو اس آیت کریمہ میں ہمارے سامنے ہے۔ اس آیت کا لب و لہجہ اور اس کا اسلوب دیکھ کر حیرت ہونے لگتی ہے کیونکہ کفار مکہ تو آپ کی شخصیت کا اثر زائل کرنے اور آپ کی دعوت کی تاثیر کو کم کرنے کے لیے آپ کے بارے میں بہت ہلکی باتیں کہتے اور عجیب و غریب بدگمانیاں پیدا کرتے تھے۔ لیکن اس آیت کا لب و لہجہ اس قدر دھیما ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس ژاژخائی کا آپ پر کوئی اثر نہیں۔ اور آپ کو ان کی خفیہ منصوبہ بندیوں سے کوئی خوف نہیں۔ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ میرے اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں۔ اور مزید یہ بات کہ جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے اس وقت مسلمانوں میں ابھی وہ طاقت نہیں آئی تھی کہ وہ قوت سے کفار کا راستہ روک دیتے اور ان کی زبانیں بند کردیتے۔ مکی زندگی آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی مظلومیت کی زندگی ہے۔ ظالم ظلم توڑتے تھے اور آپ ﷺ انھیں برداشت کرتے تھے۔ اس لیے بجائے اس کے کہ آپ ﷺ ان کی باتوں کا منہ توڑ جواب دیتے آپ ﷺ نے ان باتوں کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کیا۔ جس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ایسی فضول باتوں کا جواب دینا میرے منصب سے بہت فروتر ہے اور دوسری یہ بات کہ میری دعوت نے اگرچہ تاحال اتنی طاقت حاصل نہیں کی کہ ہم تم سے طاقت کی زبان میں بات کرسکیں، لیکن ہماری پشت پر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کے علم اور قدرت کے سامنے ہر قوت اور ہر طاقت سرنگوں ہے۔ میں اس معاملے کو اسی کے سپرد کرتا ہوں کہ وہ تمہاری خفیہ تدبیروں سے بھی واقف ہے اور تمہیں سزا دینے پر بھی قادر ہے۔
Ayah 21:5

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ انھوں نے کہا یہ تو خواب پریشان ہیں بلکہ اس کو انھوں نے خود گھڑ لیا ہے بلکہ وہ ایک شاعر ہیں، پس یہ ہمارے پاس کوئی اس طرح کی نشانی لائیں جس طرح کی نشانیوں کے ساتھ پہلے رسول بھیجے گئے تھے۔

بَلْ قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ م بَلِ افْتَرٰہُ بَلْ ھُوَشَاعِرٌ صلے ج فَلْیَاْتِنَا بِاٰیـَۃٍ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 5) (بلکہ انھوں نے کہا یہ تو خواب پریشان ہیں بلکہ اس کو انھوں نے خود گھڑ لیا ہے بلکہ وہ ایک شاعر ہیں، پس یہ ہمارے پاس کوئی اس طرح کی نشانی لائیں جس طرح کی نشانیوں کے ساتھ پہلے رسول بھیجے گئے تھے۔ ) مشرکین کے اشکالات کی تعبیر ” اضغاثِ احلام “ کا مفہوم بَلْ … کلمہ استدراک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کہتا ہے۔ جب دیکھتا ہے کہ اس سے میرا مقصد پورا نہیں ہوا تو ایک قدم آگے بڑھ کر دوسری بات کہتا ہے۔ مشرکین مکہ کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے اتہامات کو کلمہ بَلْ سے ذکر فرمایا کیونکہ وہ کسی ایک بات پر جمنے کی بجائے آئے دن نئی بات اختراع کرتے تھے۔ پیش نظر صرف یہ تھا کہ کسی طرح آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اثرات کو بےاثر کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ انھوں نے سب سے پہلے آپ ﷺ کو بشر قرار دیا اور یہ کوئی تہمت یا الزام نہ تھا بلکہ ایک حقیقت تھی لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس کے لوازم کو خود اختراع کیا۔ ان کے نزدیک جو بشر ہوتا ہے، وہ نبی نہیں ہوسکتا اور جو نبی ہوتا ہے وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ ان کے اور عام لوگوں کے ذہن میں بھی یہ غلط بات پہلے سے بیٹھی ہوئی تھی کہ نبوت اور بشریت میں تضاد ہے۔ یہ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے، پھر دوسرا الزام لگایا کہ وہ جادوگر ہے اور اس کے کلام کی تاثیر دراصل اس کے جادو کا نتیجہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کے الزامات کو رد کرتے ہوئے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا کیونکہ وہ جس گھٹیا سطح پر اتر چکے تھے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ان کا تعاقب کرتے ہوئے وہاں تک نہیں جاسکتی تھی۔ اب اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے محسوس کیا کہ ہمارے لگائے ہوئے الزامات وہ اثر نہیں دکھا رہے جو ہم چاہتے ہیں تو اب انھوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر ایک اور بات کہی کہ تم اس پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے شخص کی زبان سے جو عالم غیب کی خبریں سنتے ہو اور جس طرح وہ جنت دوزخ کا ذکر کرتا، عالم برزخ کی تفصیلات بیان کرتا ہے، زندگی اور موت کے حقائق کو واضح کرتا اور ہماری فلاح وبقاء کے لیے نہایت اہم باتوں کو لازم ٹھہراتا ہے تو تم ان باتوں سے متأثر ہو کر اس کے قریب ہونے لگتے ہو حالانکہ ان باتوں کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خواب پریشاں ہیں، یعنی صرف خواب ہی نہیں بلکہ منتشر اور متضاد خواب۔ ایک تو خواب ہی کی کوئی حقیقت ضروری نہیں ہوتی اور پھر پریشان خواب تو معدے کی خرابی یا شخصیت کے انتشار کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ احلام خوابوں کو کہتے ہیں اور اضغاث، ضغث کی جمع ہے۔ ضغث گھاس کی اس مٹھی کو کہتے ہیں جو رطب و یابس اور خشک و تر دونوں کا مجموعہ ہو۔ اس لیے اس کا ترجمہ خواب پریشان کیا جاتا ہے۔ اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اس شخص کے دل میں کچھ خیالات بسے ہوئے ہیں۔ اس کی قوت واہمہ انھیں خیالات کو مختلف شکلوں میں اس کے خواب میں متشکل کردیتی ہیں اور وہ شاید اسے حقیقت سمجھ کر لوگوں سے کہنا شروع کردیتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ باتیں مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔ اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بارہا دنیا میں ایسا ہوچکا ہے کہ بعض لوگ اپنے ہی خیالات کو اپنے خواب کی صورت میں دیکھتے اور اسے ایک حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔ اور یہی وہ افترا ہے جس کی وجہ سے یہ سارا فساد پیدا ہوا ہے۔ یعنی خواب پریشاں دیکھنے والا شاید اس قدر ذمہ دار نہیں کیونکہ خواب پر کسی کا قابو نہیں ہوتا۔ لیکن اس سے من پسند نتائج نکالنا اور پھر کوئی دعویٰ کشید کرلینا یہ وہ گناہ ہے جو اس نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے سرزد ہورہا ہے۔ آنحضرت ﷺ پر شاعر ہونے کا الزام مشرکینِ مکہ کو ایک مشکل یہ پیش آرہی تھی کہ وہ قرآن کریم میں بیان کردہ حقائق کو تو خواب پریشاں کہہ کر لوگوں کو بدگمان کرنے میں شاید کامیاب ہوجاتے لیکن جب وہ یہ دیکھتے کہ قرآن کریم کے کلام میں جس طرح شیرینی ہے، اسی طرح ہیبت و شوکت بھی ہے۔ ایک وقار اور تمکنت بھی ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت کا جواب ممکن نہیں۔ اور مزید یہ کہ عام لوگ قرآن کریم کی انہی خصوصیات کے باعث جب اپنے سرداروں سے پوچھتے کہ اگر یہ شخص پیغمبر نہیں تو جو یہ کلام پڑھ کے سناتا ہے وہ غیرمعمولی کلام کیوں ہے۔ اس کی ہر بات انسانی کلام سے بہت ممتاز، بہت ارفع اور بالکل نرالی ہے، تو اس کا سبب کیا ہے۔ تو اس کا جواب دینے کے لیے اشرافِ قریش نے باہمی سرگوشیاں کیں۔ تو آخر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ لوگوں سے یہ کہا جائے کہ اس کلام میں یہ خصوصیات اس وجہ سے پیدا ہوئی ہیں کہ اس کا کہنے والا شاعر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں، محمد ﷺ کا کلام ہے۔ اور اس کلام میں شیرینی اور دلآویزی اس وجہ سے پیدا ہوگئی ہے کہ وہ ایک شاعر بھی ہے۔ اس کے کلام کی سحرآفرینی بالکل اسی نوعیت کی ہے جس نوعیت کی سحرآفرینی ہمارے بڑے بڑے شاعروں کے کلام میں پائی جاتی ہے۔ اور اس میں ان شاعروں کا کوئی کمال نہیں ہوتا، اصل میں ان کے ساتھ ایک جن ہوتا ہے جو ان کو شعر القا کرتا ہے۔ اہل عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر بڑے شاعر کے ساتھ ایک جن ہوتا ہے جو اس کے دل میں عجیب و غریب خیالات ڈالتا ہے اور بعض دفعہ بنے بنائے اشعار اس کے دل میں اتار دیتا ہے۔ اس طرح سے انھوں نے قرآن پاک کی تعلیمات اور اس کی غیرمعمولی خصوصیات کو بےاثر کرنے کا ایک راستہ نکالا اور آخری حربہ جس کو وہ نہایت موثر سمجھتے تھے یہ اختیار کیا کہ اگر یہ شخص واقعی پیغمبر ہے جیسے پہلے پیغمبر گزرے ہیں تو پھر ان کی طرح حسی معجزات کیوں نہیں دکھاتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھ عصائے موسیٰ اور یدبیضا لے کر آئے تھے۔ یہی حال باقی انبیاء کا بھی تھا، تو آخر یہ نبوت کا دعویٰ کرنے والا شخص ایسے محسوس معجزات ہمیں کیوں نہیں دکھاتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص شاعر ہے، ساحر ہے، پیغمبر نہیں۔ اگر پیغمبر ہوتا تو ہمیں بھی ایسے ہی معجزات دکھاتا۔ ایک خلجان کا ازالہ اس بات سے ذہن میں یہ خلجان نہیں پیدا ہونا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ سے شاید کبھی کوئی معجزہ ظہور پذیر نہیں ہوا۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ مختلف اوقات میں نبی کریم ﷺ سے خرق عادت واقعات ظہور پذیر ہوئے۔ شق القمر یعنی چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا، مٹھی میں کنکریوں کا کلمہ پڑھنا، آپ ﷺ کے ہاتھوں کی انگلیوں سے پانی کے چشموں کا رواں ہونا، آپ ﷺ کی دعا سے چند آدمیوں کا کھانا کئی سو آدمیوں کے لیے کافی ہوجانا، بعض جانوروں کا آپ ﷺ کے کان میں باتیں کہنا، قبروں میں اصحابِ قبر کو عذاب ہوتے ہوئے محسوس کرنا اور اس کے سبب کی خبردینا۔ ایسے بیشمار معجزات ہیں جسے لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے دیکھا، لیکن آپ ﷺ نے کبھی کسی مطلوبہ معجزے کو دکھانا پسند نہیں فرمایا۔ جس طرح مثلاً قوم صالح نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ آپ ( علیہ السلام) ہمیں پہاڑ سے اونٹنی نکال کردکھائیں تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، پہاڑ پھٹا اور اونٹنی نکل آئی۔ لیکن وہی اونٹنی بالآخر ان کی تباہی کا باعث ہوئی۔ مشرکینِ مکہ بھی اس طرح کے معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے اس طرح کے کسی مطالبے کو پذیرائی نہیں بخشی، اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب کوئی قوم کوئی مخصوص معجزہ مانگتی ہے اور اپنے ایمان کو اس کے ساتھ مشروط کردیتی ہے تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اگر وہ مخصوص معجزہ اس کو دکھا دیں اور وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب اسے تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی دعائوں سے اور آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ سے یہ وعدہ کرچکے تھے کہ جب تک آپ ﷺ ان میں ہیں، ہم انھیں عذاب نہیں دیں گے۔ اور جب تک ان میں استغفار کرنے والے موجود ہیں اس وقت تک ان پر عذاب نازل نہیں ہوگا۔ اب اگر ان کا کوئی مخصوص مطالبہ جو ایمان کے ساتھ مشروط ہوتا ہے پورا کردیا جاتا اور وہ اس کے بعد بھی ایمان نہ لاتے تو اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ان پر عذاب نازل ہوجاتا جبکہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ یہ قوم عذاب میں مبتلا ہو کیونکہ آپ ﷺ کی موجودگی میں عذاب نہ بھیجنے کا پروردگار وعدہ فرما چکے تھے اور مزید یہ بات کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہ تھا جس سے اصلاح کا سلسلہ باقی رہتا۔ آنحضرت ﷺ کو اٹھا لیا جاتا اور کفار عذاب کی نذر ہوجاتے تو پھر قیامت تک آنے والے انسانوں کو دین کہاں سے ملتا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اب نوع انسانی ارتقا کے آخری مراحل کی طرف بڑھ رہی تھی اور نبی آخرالزماں ﷺ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ہدایت کا سامان لے کر آئے تھے۔ حسی معجزات وقتی طور پر متأثر تو کرسکتے ہیں لیکن آنے والے دور میں ان سے دل و دماغ کو متأثر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی تھی کہ آخری پیغمبر کی دعوت کا دارومدار معجزات پر نہیں بلکہ آفاق وانفس اور عقل و بصیرت کے دلائل پر رکھا جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قرآن کریم جیسا معجزہ عطا فرمایا جو قیامت تک آنے والے انسانوں کو رہنمائی فراہم کرتا رہے گا۔ اس میں دماغوں اور عقلوں کو جلا دینے کا سامان بھی ہے، دلوں کو تسکین دینے کی قوت بھی ہے اور وہ ضابطہ حیات بھی ہے جس کے نتیجے میں انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ اور سابقہ امتوں کا یہ تجربہ بھی ہے کہ ان کے مطلوب معجزات انھیں مہیا کردیئے گئے، اس کے باوجود وہ ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے حالانکہ انھوں نے ان معجزات کے ظہور کو ایمان کے ساتھ مشروط کیا تھا۔ لیکن جب معجزات ظہورپذیر ہوگئے تو اسے انھوں نے جادو یا شعبدہ بازی قرار دینا شروع کردیا۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ افکار کی تبدیلی اور کردار کی تعمیر ایسی تعلیم سے ممکن ہوتی ہے جس کی بنیاد آفاق وانفس کے دلائل اور عقل و فطرت کے داعیات پر ہو۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کا مدار چونکہ ایسے ہی دلائل پر رکھا گیا تھا، اس لیے اس کے نتیجے میں جو انقلاب برپا ہوا اس کی نمود اس سے پہلے انسان نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ صرف 23 سال کے عرصے میں ایک ایسی صالح جماعت تیار ہوگئی جس نے ایک محدود عرصے میں معلوم زمین کے زیادہ حصے پر اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کردیا۔ وہ جہاں بھی گئے لوگوں کے دکھ سمٹتے گئے اور خوشیوں کی بہار آتی گئی۔ ان کے سامنے صرف سر ہی نہیں جھکے بلکہ دل بھی جھکتے چلے گئے اور وہ لوگ جو پہلے ہر بھلی بات کے دشمن تھے، اب وہ خدا کے دین کے مناد، مبلغ اور منفذ بن کر دنیا میں پھیل گئے۔
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے کسی بستی کے لوگ بھی، جن کو ہم نے ہلاک کیا، ایمان لانے والے نہ بنے، تو کیا یہ لوگ ایمان لانے والے بنیں گے۔

مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْیَـۃٍ اَھْلَکْـنٰـھَا ج اَفَھُمْ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانبیاء : 6) (ان سے پہلے کسی بستی کے لوگ بھی، جن کو ہم نے ہلاک کیا، ایمان لانے والے نہ بنے، تو کیا یہ لوگ ایمان لانے والے بنیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اگر پیغمبر کی صداقت کا یہی معیار ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے مطلوب معجزات دکھائے تو پھر وہ امتیں جنھوں نے اپنے نبیوں سے اس شرط پر کوئی مخصوص معجزہ طلب کیا تھا کہ اگر یہ معجزہ دکھا دیا گیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، تو آخر وہ ایمان کیوں نہ لائے۔ حتیٰ کہ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور وہ تباہ و برباد کردیئے گئے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں معجزات کی طلب یہ سمجھ کر کرتی ہیں کہ پیغمبر ایسا کر نہیں سکے گا تو ہم اس کی تکذیب کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ لیکن جب وہ معجزہ دکھا دیتا ہے تو چونکہ وہ کسی طرح بھی ایمان لانے والے نہیں تھے اس لیے وہ پھر بھی ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ اس تاریخ کا حوالہ دے کر پروردگار آنحضرت ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے پریشان نہ ہوں، معجزے سے کبھی کوئی مومن نہیں ہوا۔ ان لوگوں کو بھی اگر ایسے معجزات دکھا دیئے جائیں تو یہ بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ البتہ ! یہ ضرور ہوگا کہ مطلوب معجزے کے دکھائے جانے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں یہ عذاب کے مستحق ضرور ہوجائیں گے۔ لیکن آپ ﷺ کی موجودگی میں اور آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کی وجہ سے ہم اس قوم کو ختم کرنا نہیں چاہتے۔ اس لیے آپ ﷺ نہایت استقامت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں۔ ایک وقت آئے گا جب یہ لوگ اسلام کی آغوش میں آجائیں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اہل طائف نے جو کچھ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے لیکن جب پہاڑوں کا فرشتہ آپ ﷺ کے پاس بھیجا گیا اور اس نے گزارش کی کہ اگر آپ ﷺ پسند کریں تو جن دو پہاڑوں کے درمیان طائف واقع ہے میں انھیں آپس میں ملا دوں تاکہ یہ سب کے سب تباہ ہوجائیں، تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں دنیا کی تباہی کے لیے نہیں آیا، میں امید رکھتا ہوں کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو ان کی نسلوں سے صاحب ایمان اٹھیں گے۔
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور آپ ﷺ سے پہلے ہم نے رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر مردوں کو، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، تو تم اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الانبیاء : 7) (اور آپ ﷺ سے پہلے ہم نے رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر مردوں کو، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، تو تم اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔ ) آپ ﷺ کے بشر ہونے میں حکمت اوپر آیت نمبر 3 میں مخالفین کا یہ اعتراض نقل کیا گیا ہے کہ یہ شخص جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے یہ تو تمہاری طرح ایک بشر ہے، بشر نبی نہیں ہوسکتا تو یہ کیسے نبی ہوگیا۔ اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ ہم نے اس سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب انسان، بشر بلکہ مرد تھے۔ کسی اور مخلوق میں سے ہم نے کبھی کوئی رسول نہیں بھیجا، کیونکہ ہر صاحب عقل جانتا ہے کہ افادہ اور استفادہ صرف ہم جنس سے ہوسکتا ہے، غیرجنس سے نہیں۔ فرشتے کو نہ بھوک لگتی ہے نہ پیاس، نہ وہ بیمار پڑتا ہے نہ زخمی ہوتا ہے، نہ اس کے اندر احساسات ہیں نہ انفعالات، نہ اس کی خواہشات ہیں نہ عزائم، جبکہ انسان ان تمام قوتوں کا مرقع ہے تو اگر فرشتہ نبی بن کر آتا تو اس کی زندگی سے انسانی زندگی کو کیا فائدہ پہنچتا اور وہ انسانوں کے لیے کیسے اسوہ ثابت ہوتا۔ اس لیے اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں، یہ خلاف عقل بھی ہے اور خلاف نقل بھی۔ تاریخی حوالے کے طور پر یہ فرمایا گیا کہ اے اہل مکہ ! اگر تم ان دلائل سے مطمئن نہیں ہوتے ہو تو پھر تم ان لوگوں سے پوچھ لو جو اس وقت اسلام دشمنی میں تمہارے پشت پناہ بنے ہوئے ہیں، یعنی اہل کتاب۔ اور مدینے میں جو مکہ سے بہت دور نہیں تھا چونکہ صرف یہود ہی آباد تھے اس لیے یہاں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف اشارہ ہے کہ تم ان کی پٹی پڑھانے سے آنحضرت ﷺ پر اعتراضات کرتے ہو۔ اس لحاظ سے وہ تمہارے معین اور مددگار ہیں۔ انھیں اہل ذکر اس لیے فرمایا گیا کہ وہ ہزار کوتاہیوں کے باوجود اپنے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب رکھتے تھے۔ ان کا ایمان و عمل چاہے کیسے ہی بگاڑ کا شکار ہوا ہو کتاب کی موجودگی کی وجہ سے وہ دین کی بنیادی باتوں سے واقف تھے۔ انبیاء کی تاریخ ان کے سامنے تھی بالخصوص بنی اسرائیل میں آنے والے مشہور انبیاء کو وہ خوب جانتے تھے۔ اس لیے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم امی ہونے کی وجہ سے اگر ان باتوں کو نہیں جانتے ہو تو ان جاننے والوں اور علم رکھنے والوں سے پوچھ لو کہ اس سے پہلے جو نبی آئے ہیں کیا وہ بشر تھے یا کچھ اور تھے۔ ان سے پوچھو کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کیا تھے حضرت دائود اور حضرت سلیمان کس جنس سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اسلام دشمنی کے باوجود اتنے گئے گزرے تو نہیں کہ تاریخ دشمنی پر اتر آئیں۔ وہ یقینا تمہیں بتائیں گے کہ وہ سب بشر تھے۔ تو پھر آنحضرت ﷺ کے بشر ہونے پر تمہیں اعتراض کیوں ہے۔
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔

وَمَا جَعَلْنٰـھُمْ جَسَدًا لاَّ یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 8) (اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ ) انبیائے کرام انسانی احتیاجات سے ماورا نہیں ہوتے کفارِ مکہ کو آنحضرت ﷺ پر یہ اعتراض بھی تھا کہ یہ شخص کیسے رسول ہوسکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں گھومتا یعنی کاروبار کرتا ہے قَالُوْا مَالِھٰذَاالرَّسُوْلِ یَاکُلُ الْطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ” انھوں نے کہا، یہ کیسا رسول ہے کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ “ اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے کوئی ایسا جسم تخلیق نہیں فرمایا جو کھانے پینے سے مبرا ہو۔ ہر جسم کی زندگی غذا کی محتاج ہے۔ انبیائے کرام چونکہ بشر ہوتے ہیں اور بشر ایک جسم رکھتا ہے۔ ظاہر ہے وہ کھائے پیئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا تو انبیائے کرام بھی ضرورت کے تحت کھاتے پیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی زندگی کھانے پینے کے لیے نہیں ہوتی البتہ ! کھانا پینا زندگی کے لیے ہوتا ہے وہ اس لیے زندہ نہیں رہتے کہ اکل و شرب کے مزے لوٹیں بلکہ اکل و شرب صرف ان کی ضرورت ہوتے ہیں، زندگی ان کی اس مقصد کے لیے وقف ہوتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ انھیں مبعوث فرماتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے ہر سطح پر انسانی ذہن کے افق کو روشن کیا ہے اور اسے وہ بلندی عطا کی ہے جس سے پہلے وہ بالکل بیخبر تھا۔ لوگوں کے یہاں خدا رسیدہ ہونے اور گناہوں سے محفوظ زندگی گزارنے کے لیے ضروری تھا کہ علائق دنیوی سے وہ زندگی یکسر بےنیاز ہو۔ ایک کھانے کمانے والا، کاروبار کرنے والا اور دنیوی معاملات کو خوش اسلوبی سے ادا کرنے والا ان کے نزدیک کچھ اور تو ہوسکتا ہے لیکن بزرگ، ولی یا خدا رسیدہ نہیں ہوسکتا۔ دنیا ان کے نزدیک ایک ایسا داغ ہے جو کسی اللہ والے کے دامن پر زیب نہیں دیتا۔ چناچہ آج تک دوسری قوموں کے زیراثر مسلمانوں میں بھی اس کے آثار باقی ہیں۔ آج جب بھی کسی اللہ کے ولی کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کی ایسی صفات بیان کی جاتی ہیں جو کسی فرشتے کی صفات تو ہوسکتی ہیں، انسان کی ہرگز نہیں۔ یعنی انھوں نے برسوں کا روزہ رکھا، شادی نہیں کی، ایک تہہ خانے میں محبوس رہے اور لوگوں کو کبھی منہ نہ دکھاتے تھے۔ اسلام کی نگاہ میں ان میں سے کوئی بات بھی تقرب الٰہی کی علامت نہیں۔ بلکہ اس سے رہبانیت کی بو آتی ہے۔ اقبال نے شاید اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا : تیرے دیر و حرم سے آرہی ہے بوئے رہبانی یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری اسلام نے ایک مومن کو ہر دور کا امام بنایا ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں دنیوی فرائض کو اس طرح ادا کرکے دکھاتا ہے جس سے یہ بات واضح ہوسکے کہ دین کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہوتا ہے۔ وہ تجارت کرتا ہے، مزدوری کرتا ہے، ملازمت کرتا ہے، نکاح کرتا ہے، بچوں کی تربیت کرتا ہے، لوگوں سے میل جول رکھتا ہے، ہر طرح کے اجتماعی معاملے میں شریک ہوتا ہے، لیکن اس کا کوئی کام بھی اپنی مرضی اور اپنے طریقے کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ ہر کام کرنے سے پہلے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو دیکھتا ہے اور شریعت کے طریقے کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، پھر اس کے مطابق اپنا کام انجام دیتا ہے۔ وہ دنیا کو اس طرح برت کے دکھاتا ہے جس سے یہ بات مبرہن ہوجاتی ہے کہ دنیوی معاملات میں ایک مومن اور کافر میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی دنیا کو یہی سکھانے کے لیے آتے ہیں اور وہ اس کے لیے سب سے مکمل اسوہ اور نمونہ ہوتے ہیں لیکن اہل مکہ چونکہ اس بارے میں اپنا مخصوص طرز فکر رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے آنحضرت ﷺ کے معمولات کو جو نبوت کا عکس تھے دنیاداری سمجھ کر نبوت کے برعکس قرار دیا اور صاف کہا کہ آپ ﷺ تو ہماری طرح ایک دنیادار آدمی ہیں آپ ﷺ پیغمبر کیسے ہوسکتے ہیں۔ آپ ﷺ تو اسی طرح کھاتے پیتے ہیں جس طرح ہم کھاتے پیتے ہیں۔ چناچہ اسی کے جواب میں ایک ایسی بات فرمائی گئی جو عقل کو اپیل کرتی ہے کہ پیغمبر بھی جسم رکھتے ہیں تو ہر جسم جو اپنے خصائص رکھتا ہے وہی خصائص پیغمبروں کے اجسام کے بھی ہوتے ہیں۔ نبی حیات جاوداں لے کر نہیں آتے دوسری بات ارشاد فرمائی کہ وہ ہمیشہ رہنے والے نہیں ہوتے۔ انھیں بھی باقی انسانوں کی طرح موت آتی ہے۔ ہمیشہ زندہ رہنا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اس میں کفار مکہ کے اس عقیدہ کا رد ہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کبھی موت سے ہمکنار نہیں ہوتے اور محمد ﷺ چونکہ ہماری ہی طرح ایک بشر ہیں اس لیے یقینا موت سے ہمکنار ہوں گے تو وہ پیغمبر کیسے ہوسکتے ہیں۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ بھی کفار کے اس عقیدے کا ذکر کیا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر کو کبھی موت نہیں آتی۔ وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدِ ” ہم نے آپ ﷺ سے پہلے کسی بشر کو ہمیشگی اور دوام نہیں بخشا۔ “ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ ” ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ “ امیرمینائی نے ٹھیک کہا : جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کو اور جن کو ہم چاہتے ہیں نجات دی اور حدود سے تجاوز کر جانے والوں کو ہلاک کردیا۔

ثُمَّ صَدَقْـنٰـہُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْـنٰـھُمْ وَمَنْ نَّشَآئُ وَاَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِیَنَ ۔ (الانبیاء : 9) (پھر ہم نے ان سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کو اور جن کو ہم چاہتے ہیں نجات دی اور حدود سے تجاوز کر جانے والوں کو ہلاک کردیا۔ ) رسول کی تکذیب ہلاکت کا باعث ہے اللہ تعالیٰ جب بھی کسی رسول کو کسی قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث فرماتا ہے تو اس رسول کو اپنی قوم کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ جان و تن بھی خطرے میں پڑجاتے ہیں۔ بگڑی ہوئی قوم ہدایت کی دعوت دینے والی زبان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردینے پر تل جاتی ہے۔ پیغمبر پر ایسے نازک لمحات بھی آتے ہیں جب حوصلے شکست ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت نازل ہوتی ہے اور اپنے پیغمبر کو یقین دلایا جاتا ہے کہ حق آپ کے ساتھ ہے، باطل آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جیسے ہی آپ کی قوم حد سے گزرنے لگے گی تو ہم آپ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو بچالیں گے اور آپ کی قوم پر عذاب نازل کردیں گے۔ یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے ہر رسول کے ساتھ کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اپنی ذات میں ایک بشر ہوتا ہے۔ لیکن اپنے تعلق اور وابستگی میں دوسرے انسانوں سے بہت بلند ہوتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی وحی اترتی ہے جبکہ دوسرے انسان وحی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پروردگار اس کی دعوت کی بقا اور زندگی کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے جبکہ باقی تمام مخلوقات اس کے تکوینی اور طبعی نظام کے تحت زندگی اور موت کا شکار ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ براہ راست کسی انسان سے کوئی وعدہ نہیں کرتا لیکن انبیائے کرام کے تقرب اور وابستگی کا عالم یہ ہے کہ پروردگار براہ راست ان سے وعدہ کرتا ہے اور پھر وعدے کو ایفا کرتا ہے۔ ان کی زندگی کو ان کی قوم کی زندگی کے لیے ضمانت بنا دیتا ہے۔ وہ اپنی قوم کے جسد میں روح کے مانند ہوتے ہیں کہ جس طرح روح نکلنے سے جسد بیکار ہوجاتا ہے، اسی طرح پیغمبر کی ہجرت کر جانے سے قوم غیرمحفوظ ہوجاتی ہے۔ اب اس کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں رہتی اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ متذکرہ بالا اللہ تعالیٰ کی سنت کو اس آیت میں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ امتوں کی طرف رسول آتے رہے ہیں، اسی طرح آنحضرت ﷺ اہل عرب کی طرف خصوصاً اور باقی دنیا کی طرف عموماً رسول بن کر تشریف لائے ہیں۔ آپ ﷺ کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا وہی وعدہ ہے جو باقی رسولوں کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔ قریش مکہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ان کی زندگی اور بقا کا انحصار آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے پر ہے۔ اگر انھوں نے اس دعوت کو قبول نہ کیا اور آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوت کے بارے میں حد سے گزر گئے اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت اور سرکشی میں تمام حدود پامال کردیں تو پھر جس طرح پہلی امتوں کو ہلاک کیا گیا ہے یہ بھی اس ہلاکت سے بچ نہیں سکیں گے، کیونکہ باغیوں اور سرکشوں کو کبھی بھی زندہ نہیں چھوڑا جاتا۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا ذکر ہے، تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟

لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِـتٰـبًا فِیْہِ ذِکْرُ کُمْ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 10) (اور ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا ذکر ہے، تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟ ) ذکر کا ایک معنی ہے یاد دہانی۔ اور دوسرا ہے یاد، تذکرہ اور سرگزشت۔ آیت کے مختلف مفاہیم پہلے معنی کے اعتبار سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہم نے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے اور وہ قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمارے پاس تو کوئی انذار اور تبشیر کرنے والا نہیں آیا تھا ورنہ ہم دوسروں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور صالح ہوتے۔ اس بیخبر ی میں ہمیں آخر کیسے پکڑا جاسکتا ہے لیکن رسول کے آجانے اور کتاب کے نازل ہوجانے کے بعد وہ یہ عذر پیش کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے جواب طلبی کرے گا اور اپنے جواب کے مطابق وہ اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ اسی طرح اے اہل عرب ہم نے تمہاری طرف یاد دہانی کے لیے بھی اپنا آخری رسول بھیجا اور آخری کتاب اتاری۔ اب تمہارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو پہلی امتوں کے ساتھ رسول کی دعوت اور کتاب کی ہدایت کے حوالے سے ہوتا رہا ہے۔ جن امتوں نے اسے قبول کیا وہ سرفراز ہوئیں اور جنھوں نے انکار کیا وہ اس کی پاداش میں عذاب کا شکار ہوئیں۔ اے اہل عرب ! آج تمہارے سامنے بھی ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے کہ تم اس دعوت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔ اگر تم نے خدانخواستہ اسے رد کردیا اور اپنی مخالفت کا رویہ نہ بدلا تو تمہیں اس لیے معاف نہیں کردیا جائے گا کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور بیت اللہ کے متولی ہو اور حرم کے رہنے والے یا بیت اللہ کا حج کرنے والے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہاں قانون کی عملداری میں دو عملی نہیں۔ وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت کسی کے لیے نہیں بدلتی۔ اس کے قانون میں کسی کے لیے کوئی ڈھیل نہیں۔ اس لیے تمہیں اس آئینہ میں اپنی شکل پہچان کر اپنے انجام کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ چناچہ اس سخت تہدید و وعید کے بعد فرمایا گیا ہے کہ کیا تم اس سیدھے اور صاف معاملے پر غور نہیں کرتے کہ تم کس راستے پر چل پڑے ہو اور کس خطرناک انجام کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہو۔ دوسرے معنی کے اعتبار سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اہل مکہ سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم ہمارے پیغمبر کو کبھی شاعر کہتے ہو اور کبھی کاہن ٹھہراتے ہو اور جس کتاب کو وہ تمہارے پاس لے کے آیا ہے اسے کبھی شاعری، کبھی ساحری اور کبھی پراگندہ خواب سے تعبیر کرتے ہو۔ تم نے اس کتاب میں آخر ایسی کون سی عجیب بات دیکھی ہے جو تمہاری سمجھ میں آنے والی نہیں ؟ اگر تم اسے غور سے پڑھو تو دیکھو گے کہ اس میں جو عقائد بیان کیے گئے ہیں وہ تمہاری کامیابی کی اساس ہیں، جو ضابطہ حیات دیا گیا ہے وہ تمہاری کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔ اس میں انسان کی فطرت اور ساخت اور اس کے آغاز و انجام پر جو گفتگو ہوئی ہے ظاہر ہے وہ تمہاری ہی کہانی ہے اور تم جو کچھ اس دعوت کے حوالے سے کررہے ہو تمہیں ان غلطیوں پر متنبہ کیا گیا ہے اور سابقہ امتوں کے احوال سے استشہاد کرتے ہوئے تمہیں تنبیہ کی گئی ہے۔ پھر تمہارے سامنے اچھے اور برے انسانوں کے اخلاق و اوصاف کو کھول کر بیان کردیا گیا ہے تاکہ تم فضائلِ اخلاق سے اپنے آپ کو مزین کرو اور قبائح سے اجتناب کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمہارے لیے کامیابی کا راستہ کیا ہے اور ناکامی کس راستے کا انجام ہے۔ ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں جو تم سے تعلق نہ رکھتی ہو اور جسے اجنبی اور بیگانہ سمجھ کر تم اس سے وحشت اختیار کرو۔ فرق صرف یہ ہے کہ تم ان باتوں پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے ہو۔ تیری ہر ادا میں بل ہے، تیری ہر نگہ میں الجھن میری آرزو میں لیکن کوئی پیچ ہے نہ خم ہے متذکرہ بالا دونوں مفاہیم اس حوالے سے بیان کیے گئے ہیں کہ خطاب قریش یا اہل عرب سے ہے۔ لیکن ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ خطاب مسلمانوں سے ہو۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں اے مسلمانو ! تمہاری اپنی سرگزشت ہے۔ تمہارے لیے زندگی کے مختلف نمونوں کو زیر بحث لایا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا ہے کہ اس میں کون سا وہ نمونہ ہے جو تمہارے لیے تجویز کیا گیا ہے اور گزشتہ امتوں کی تاریخ سے ان باتوں کو بیان کیا گیا ہے جن سے تمہیں بچنا ہے اور گزشتہ انبیائے کرام کے واقعات کو بیان کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کے نقوش قدم تمہارے انتظار میں ہیں کیونکہ اب قیامت تک اس روشنی کے تم امین بنائے گئے ہو تاکہ تم غور و فکر سے اس کتاب کے آئینہ میں اپنی شکل پہچاننے اور اس کے حسن و قبح کو دیکھنے کی کوشش کرو۔ حضرت احنف بن قیس ایک مشہور تابعی گزرے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اتنے بڑے قبیلے کے سردار اور اس قدر ہر دلعزیز تھے کہ اگر انھیں غصہ آجاتا تو کئی ہزار تلواریں بےنیام ہوجاتیں۔ ایک دفعہ ان کے سامنے یہ آیت کریمہ پڑھی گئی۔ سن کے کہنے لگے کہ ذرا قرآن کریم تو لائو، میں بھی دیکھوں کہ اس میں میرا ذکر کہاں ہے ؟ اس میں اگر ہم سب کی سرگزشت بیان کی گئی ہے اور سب کا ذکر کیا گیا ہے تو یقینا اس میں میرا بھی ذکر ہوگا۔ انھوں نے سب سے پہلے شخصیات کے حوالے سے عبادوزہاد کو دیکھا، ان کے احوال کو پڑھا، انبیاء کے حالات دیکھے، تاریخ کے مختلف ادوار میں اللہ تعالیٰ کے جن مقرب بندوں نے راہ حق میں قربانیاں دی ہیں ان کو پڑھا۔ اس کے شکرگزار بندوں اور صبر کرنے والوں کے حالات دیکھے تو پکار اٹھے کہ یا اللہ مجھ پر تیرا بےحد کرم ہے لیکن میں ایسا خوش نصیب نہیں کہ میں اپنے آپ کو ان عظیم لوگوں میں شمار کرسکوں۔ پھر انھوں نے ان لوگوں کے حالات پڑھنے شروع کیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنے یا جن کے بارے میں پروردگار نے ناخوشی کا اظہار فرمایا۔ ان میں فراعنہ اور نماردہ بھی ہیں، ہامان اور قارون بھی ہیں، اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے قاتل اور اپنی ذات کی سربلندی کے لیے جان دینے والے بھی ہیں۔ ان میں فساق و فجار کے گروہ بھی ہیں اور منافقین کے ٹولے بھی۔ ایک ایک کو پڑھتے گئے آخر چیخ اٹھے کہ پروردگار میں ایسا گیا گزرا بھی نہیں کہ ان میں اپنے آپ کو شامل کرلوں، تو آخر میں کہاں ہوں ؟ تیرا ارشاد تو یہ ہے کہ اس کتاب میں سب کا ذکر ہے۔ آخر جب وہ اس آیت پر پہنچے وَآخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِہِمْ خَلَطُوْا عَمَلاً صَالِحًا وَّآخَرَسَیِّئًا… الخ ” اور کچھ ایسے لوگ ہیں جنھوں نے ملے جلے اعمال کیے، کچھ نیک اور کچھ برے، انھیں اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کی نظر فرمائے گا، بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ “ پڑھتے ہی جھوم اٹھے کہ میں اپنے اللہ کے قربان جاؤں، اس نے مجھے بھلایا نہیں، یہ ہے میری تصویر، مجھے اپنے بارے میں نہ خوش فہمی ہے نہ غلط فہمی۔ اس کی توفیق سے بہت سی نیکیاں کرنے کا بھی موقع ملا ہے اور بہت سی کو تاہیاں بھی ہوئی ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میری کوتاہیوں سے درگزر فرمائے گا۔ احنف اپنے رب کے پاس چلے گئے لیکن اس آیت کے فہم کا ایک راستہ کھول گئے۔ اقبال نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے کہا : محمد بھی ترا، جبریل بھی، قرآن بھی تیرا مگر یہ حرف شیریں، ترجماں تیرا ہے یا میرا