21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsروح القرآن

Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

(کیا ان کفر کرنے والوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو الگ الگ کردیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا فرمائی۔ کیا وہ اب بھی ایمان نہیں لاتے۔

اَوَلَمْ یَرَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَارَتْقًا فَفَتَقْنٰـھُمَا ط وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَـآئِ کُلَّ شَیْ ئٍ حَیٍّ ط اَفَلاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانبیاء : 30) (کیا ان کفر کرنے والوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو الگ الگ کردیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا فرمائی۔ کیا وہ اب بھی ایمان نہیں لاتے۔ ) توحید اور معاد پر آفاق اور مشاہدات کی شہادت سابقہ آیات میں توحید اور معاد پر وہ دلیلیں قائم کی گئی ہیں جو عقل و فطرت اور صفاتِ الٰہی کے بدیہیات و مقتضیات پر مبنی تھیں۔ اب آفاق کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جو ہر روز انسان کے مشاہدے میں آتی ہیں۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ اس سورت کی آیت 5 میں مشرکینِ مکہ نے مزید نشانیوں کا مطالبہ کیا تھا۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ نشانیاں تو تمہارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر تم ان کھلی کھلی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات، اس کی توحید اور قیامت کو ماننے سے انکار کرتے ہو تو تم مزید کسی نشانی کو دیکھ کر کیا کرو گے۔ آیتِ کریمہ میں رتق اور فتق کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ رتق کے معنی ہیں یکجا ہونا، اکٹھا ہونا، ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہونا، متصل اور متلاصق ہونا اور بند ہونا۔ اور فتق کے معنی پھاڑنے اور جدا کرنے کے ہیں۔ ( تفصیل انشاء اللہ حم السجدہ میں آئے گی) مفسرین کے نزدیک اس کے دو مطلب مراد لیے جاسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ زمین و آسمان یعنی کائنات کی ابتدائی شکل ایک تودے کی طرح تھی۔ یہ سب آپس میں ایک دوسرے سے پیوست اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اس نے اس کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کردیا یعنی زمین اور دوسرے اجرامِ فلکی الگ الگ دنیائوں کی شکل میں بنائے گئے، پھر زمین موجودہ شکل میں کس طرح وجود میں آئی اور اجرامِ فلکی آہستہ آہستہ کس شکل میں متشکل ہوئے۔ اس طرح کی تفصیلی بحثیں ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے پیش نظر نہیں کیونکہ یہ کتاب ہدایت ہے، کتاب سائنس نہیں۔ قرطبی نے حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) اور ضحاک اور عطاء ( رض) اور قتادہ ( رض) سے جو کچھ نقل کیا ہے اس کا مفہوم اس کے قریب قریب ہے۔ رہی یہ بات کہ سائنسدانوں کا یہ کہنا کہ ابتداء میں آفتاب ایک بھڑکتا ہوا شعلہ تھا۔ اس کی حرکت بہت ہی تیز تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی حرکت کم ہوتی گئی اور وہ سکڑتا اور چھوٹا ہوتا گیا۔ اس کے مادے میں گاڑھا پن آگیا اور حرکت کی تیزی کے سبب یا دوسرے کسی کُرّے کی کشش ثقل کے باعث اس میں سے چند ٹکڑے ٹوٹ کر دور دور تک چلے گئے اور اسی کے گرد چکر لگانے لگے۔ اس وقت تک کہا جاتا ہے کہ آفتاب سے گیارہ ٹکڑے ٹوٹے ہوئے ہیں جن سے ہمارا نظام شمسی بنا اور زمین بھی اسی میں سے ایک ہے۔ اس میں اور قرآن کریم کے بیان میں اجمال و تفصیل کے فرق کے سوا اور کچھ نہیں۔ دوسرا مفہوم اس آیت کا یہ لیا جاسکتا ہے کہ آیت میں رتق کے معنی بند اور فتق کے معنی کھولنے کے ہیں۔ اس میں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ خزاں کے دنوں میں جب ہر طرف دھول اڑنی لگتی ہے، درختوں سے پتے جھڑ جاتے ہیں، بعض دفعہ دیر تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی شروع ہوجاتی ہے اور ہر طرف موت کی حکومت محسوس ہوتی ہے۔ آسمان اہل زمین کے لیے اپنا سینہ بند کرلیتا ہے اور زمین کی قوت روئیدگی کا ایک ایک ریشہ سکڑ کر رہ جاتا ہے۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت جوش میں آتی ہے۔ وہ آسمان کا بند کھول دیتا ہے اور اس سے دھڑادھڑ پانی برسنے لگتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جل تھل ایک ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ زمین کے بند بھی کھول دیئے جاتے ہیں وہ بھی اپنی نباتات کے خزانے اگلنا شروع کردیتی ہے۔ چند دنوں کے بعد دیکھو جہاں دھول اڑتی اور ویرانی چھائی ہوئی تھی وہاں زندگی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔ بےآب و گیا صحرا میں مینڈک ٹرانے لگتے ہیں، زمین ہری بانات کی وردی پہن لیتی ہے، فضا پردہ رنگ میں محجوب ہوجاتی ہے اور رگ سنگ میں بھی لہو کی گردش محسوس ہوتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ انقلاب آخر کس کی قدرت کا نتیجہ ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے بھی اس دوسرے مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں ابن ابی حاتم کی سند سے حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی۔ انھوں نے حضرت ابن عباس ( رض) کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ اس شیخ کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو اور وہ جو جواب دیں مجھے بھی اس کی اطلاع دو ۔ یہ شخص حضرت ابن عباس ( رض) کے پاس گیا اور دریافت کیا کہ اس آیت میں رتقاً اور فتقنا سے کیا مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ پہلے آسمان بند تھے، بارش نہ برساتے تھے اور زمین بند تھی کہ اس میں نباتات نہیں اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسان کو آباد کیا تو آسمان کی بارش کھول دی اور زمین کا نشوونما۔ یہ شخص آیت کی تفسیر معلوم کرکے حضرت ابن عمر ( رض) کے پاس واپس گیا اور جو کچھ حضرت ابن عباس ( رض) سے سنا تھا وہ بیان کیا۔ تو حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) نے فرمایا کہ اب مجھے ثابت ہوگیا کہ واقعی ابن عباس ( رض) کو قرآن کا علم عطا کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے میں تفسیرِقرآن کے بارے میں ابن عباس ( رض) کے بیانات کو ایک جرأت سمجھا کرتا تھا جو مجھے پسند نہ تھی۔ اب معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علوم قرآن کا خاص ذوق عطا فرمایا ہے۔ انھوں نے رتق و فتق کی تفسیر صحیح فرمائی ہے۔ جو لوگ توحید و معاد پر نشانیاں طلب کرتے ہیں ان کے لیے اس سے بڑھ کر اور نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ جس پروردگار کے قبضہ قدرت میں آسمان و زمین اس طرح محصور ہیں کہ وہ جب چاہتا ہے ان کے منہ باندھ دیتا ہے اور جب چاہتا کھول دیتا ہے اور پھر اسی بارش سے مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے لیے ایک دن قیامت بپا کرنا اور زمین سے مردوں کو اٹھا کھڑا کرنا آخر کیا مشکل ہے۔ ؟ اسی طرح کیا یہ بات نہیں سمجھی جاسکتی کہ اگر آسمان کا خدا کوئی اور ہوتا اور زمین کا معبود اور ہوتا تو آسمان کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین کی زندگی اور شادابی کے لیے اپنے پانی کے ذخیرے کا منہ کھولتا۔ اس کی بلا سے زمین اور اہل زمین تباہی و بربادی کی نذر ہوجاتے اور اگر اس نے پانی برسایا ہی تھا تو اگر زمین کا خدا کوئی اور ہوتا تو وہ زمین کی قوت روئیدگی کو آمادہ عمل ہونے کی اجازت نہ دیتا۔ ان دونوں کا آپس میں متضاد اور متخالف ہونے کے باوجود زمین کی زندگی اور اہل زمین کی سیرابی کا انتظام کرنا کیا اس وجہ سے نہیں کہ ان دونوں کا معبود ایک ہے اور اسی معبود کا ارادہ ان دونوں پر حاوی ہے وہ جب چاہتا ہے یہاں خزاں طاری کردیتا ہے اور جب چاہتا بہار کی ہَوائیں چلا دیتا ہے۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَـآئِ کُلَّ شَیْ ئٍ حَیٍ ” ہم نے ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت نے زمین و آسمان میں اپنے رنگ دکھائے ہیں، اسی طرح اس کی قدرت کا ایک یہ بھی رنگ اور اظہار ہے کہ اس نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا فرمایا۔ یعنی پانی کو پروردگار نے سبب زندگی اور اصل حیات بنایا اور اسی سے زندگی کا آغاز کیا۔ اور سورة نور میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا یعنی اس کا مادہ اصلی پانی ہے اور یا ہر جاندار کی بقا کا انحصار پانی پر ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مادہ منویہ مراد لیا جائے۔ تو اس سے بھی ہر جاندار کا وجود میں آنا مشاہد و معلوم ہے۔ جدید ماہرینِ علم الحیات کی تحقیق یہ ہے کہ ہر جاندار کی ترکیب میں عنصر اصلی پروٹوپلازم کا ہوتا ہے۔ اگر اسی کو مانا جائے تو اس جوہر میں بھی حصہ غالب پانی کا ہی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرحال میں زندگی اور پانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مولانا عثمانی، فوائدِ عثمانی میں لکھتے ہیں (عموماً جاندار چیزیں جو تم کو نظر آتی ہیں بالواسطہ و بلاواسطہ پانی سے بنائی گئیں، پانی ہی ان کا مادہ ہے۔ اِلاَّ کوئی ایسی مخلوق جس کی نسبت ثابت ہوجائے کہ ان کی پیدائش میں پانی کو دخل نہیں وہ مستثنیٰ ہوگی۔ للاکثرحکم الکل کے اعتبار سے یہ کلمہ صادق رہے گا) ۔
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے کہ وہ ان کو لے کر لڑھک نہ جائے اور ہم نے ان میں کشادہ راہیں بنادیں تاکہ یہ لوگ راستہ پاسکیں۔

وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِہِمْ ص وَجَعَلْنَا فِیْھَا فِجَاجًا سُبُلاً لَّعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 31) (اور ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے کہ وہ ان کو لے کر لڑھک نہ جائے اور ہم نے ان میں کشادہ راہیں بنادیں تاکہ یہ لوگ راستہ پاسکیں۔ ) رَوَاسِیَ … پہاڑوں کی صفت کے لیے آتا ہے لیکن اب اپنی شہرت کے باعث موصوف کے قائم مقام ہوگیا۔ اس کا معنی ہے بلند پہاڑ۔ اَنْ تَمِیْدَ بِہِمْ … میں اَنْ سے پہلے مَخَافَۃًیا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ان کو ساتھ لے کر لڑھک جائے۔ فِجَاجًا، فَجٌ کی جمع ہے۔ دو پہاڑوں کے درمیان کے شگاف کو کہتے ہیں۔ کشادہ راستے کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ مراد اس سے پہاڑوں کے درمیان درے ہیں۔ پہاڑوں کی نشانیوں کی طرف اشارہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بچھایا تو وہ حالت اضطراب میں ڈانواں ڈول تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر بلند اور بھاری پہاڑ جما دیئے تاکہ اس کا توازن درست رہے اور کسی ایک طرف لڑھک کر کسی دوسرے کُرّے سے نہ جا ٹکرائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو حرکت سے روک دیا جائے بلکہ حرکت میں توازن پیدا کرنے کے لیے یہ انتظام فرمایا گیا۔ چناچہ زمین کی یہ حرکت اور گردش اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہے۔ جب سے زمین کو بچھایا گیا آج تک اس کی حرکت میں کمی بیشی نہیں ہوئی ورنہ انسانوں کے سارے حساب غلط ہوجاتے۔ آج تک اس کا توازن غلط نہیں ہوسکا ورنہ موسموں کا اختلاف اور بدلنا ناممکن ہوجاتا۔ اور سردیوں کی طویل رات ہر چیز کو جما دیتی، اور گرمیوں کا طویل دن ہر چیز کو جلا دیتا اور انسانی زندگی ناممکن ہوجاتی۔ اللہ تعالیٰ کا دوسرا احسان یہ ہے کہ جس طرح اس نے پہاڑ جما کر زمین کی حرکت کو متوازن کیا اور انسانی زندگی کو محفوظ کردیا اسی طرح اس نے بلند سے بلند پہاڑ اس طرح نہیں جمائے کہ وہ قوموں اور ملکوں کے درمیان حد فاصل قرار پائیں اور ان کے درمیان کوئی راستہ نہ نکل سکے بلکہ اس نے پہاڑوں کے درمیان درے کھول دیئے اور ان میں اس بات کا امکان پیدا فرما دیا کہ انسان اپنی عقل سے کام لے کر یہاں کشادہ راستے بھی نکال سکتا ہے اور سہولت کے دیگر امکانات کو بھی وجود دے سکتا ہے۔ آج تو انسان نے ڈائنامیٹ کے ذریعے پہاڑوں میں راستہ نکالنے اور سڑکیں بنانے کی قوت حاصل کرلی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہی قوت انسانوں کے لیے مسائل در مسائل پیدا کرتی چلی جارہی ہے۔ لیکن ازمنہ ماضیہ میں جب انسان ابھی اتنی ترقی نہیں کرسکا تھا تو اس وقت یہی قدرتی ذرائع دوسری قوموں اور ملکوں سے رابط کا ذریعہ تھے اور انسان نے ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھایا۔ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَکے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک مطلب تو وہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے ان پہاڑوں کو پیدا کیا پھر زمین پر انھیں جمایا اور پھر ان میں راستے نکالے اور ان کے اندر عجیب و غریب دھاتیں رکھیں اور پانی کے چشمے رواں کیے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ انسان ان میں غور کرے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت، عظمت اور حکمت کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اس طرح سے ان پہاڑوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لیے راستہ بنائے۔ لیکن انسان کا عجیب حال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں سے عجیب و غریب نشانیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن جو نشانیاں پہاڑوں کی صورت میں اس کے سامنے کھڑی ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتا۔ تو ایسا انسان جو زمین و آسمان کی نشانیوں اور پہاڑوں کی حیرت انگیزیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتا تو اسے اگر کوئی اس کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ دکھا بھی دیا جائے تو وہ اس سے کیا ہدایت حاصل کرے گا۔ ہدایت کے لیے تو عقل کی سلامتی، طبیعت کی آمادگی اور قلبی یکسوئی ضروری ہے جو ان لوگوں کو میسر نہیں۔ اس لیے بجائے ہدایت حاصل کرنے کے معجزات کے مطالبے پر اکتفا ہی کو حاصل زندگی سمجھتے ہیں۔
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ لوگ اس کی نشانیوں سے روگردانی کیے ہوئے ہیں

وَجَعَلْنَا السَّمَـآئَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا صلے ج وَّھُمْ عَنْ اٰیٰـتِھَا مُعْرِضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 32) (اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ لوگ اس کی نشانیوں سے روگردانی کیے ہوئے ہیں۔ ) آسمان کی نشانیوں کی طرف اشارہ اسی سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ معجزات طلب کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اس ناپیداکنار سقف نیلگوں کو کیوں نہیں دیکھتے جس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ آج تک انسانی پیمانے اسے ناپ نہیں سکے اور جس کی بلندی کا حال یہ ہے کہ انسان اسے دیکھتا ہے لیکن آج تک وہاں تک رسائی حاصل نہیں کرسکا۔ اور یہ بھی معلوم نہیں کرسکا کہ یہ چھت کب بنائی گئی لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس کی تمام تر قدامت کے باوجود کہیں کہنگی کے اثرات نظر نہیں آتے۔ اس کی بناوٹ میں کسی معمولی خلل کی نشاندہی نہیں کی جاسکی۔ انسان کی ساری کاوشیں اس میں کسی شگاف کو آج تک دیکھنے سے عاجز ہیں۔ ایسی مضبوط چھت جو ہماری حدِنظر بلکہ حد تصور سے ماورا اور ہر طرح کے شگاف اور ہر قسم کی دراڑ سے محفوظ ہے۔ اس قابل نہیں کہ انسان اسے دیکھ کر اس کے خالق کی عظمت کا اعتراف کرے اور یہ سوچنے کی زحمت کرے کہ ہمارے سروں پر یہ تنی ہوئی چھت جس طرح ہر عیب سے مبرا معلوم ہوتی ہے کیا اس کا بنانے والا ہر طرح کی کمزوری، ہر قسم کے عیب اور ہر قسم کی شرکت سے منزہ نہیں ہوگا۔ قرآن کریم نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا اِلَی السَّمَـآئِ فَوْقَھُمْ کَیْفَ بَنَیْنَـٰـھَا وَزَیَّـنّٰـھَا وَمَا لَھَا مِنْ فُرُوْجٍ ۔ (ق۔ 6) (کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف توجہ نہیں کی ؟ ہم نے اس کو کیسا بنایا اور کس طرح اس کو زینت دی اور کہیں اس میں دراڑ اور کوئی شگاف نہیں۔ ) اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۔ مَاتَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍط فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْر۔ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ۔ (الملک : 2۔ 4) (وہ ذات جس نے پیدا کیے سات آسمان تہ بہ تہ، تم خدائے رحمن کی اس صنعت گری میں کوئی نقص نہیں پاسکتے، پس نگاہ دوڑائو، کیا تم کوئی خلل دیکھتے ہو ؟ پھر دوبارہ نگاہ دوڑائو، تمہاری نگاہ ناکام اور تھک ہار کر واپس آجائے گی لیکن وہ کوئی خلل نہ پاسکے گی۔ )
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند بنائے، سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔

وَھُوَالَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ۔ (الانبیاء : 33) (اور وہی ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند بنائے، سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ ) رات اور دن کی عنایات کی طرف اشارہ اللہ تعالیٰ نے مزید کرم یہ فرمایا کہ رات اور دن کا تسلسل قائم فرمایا۔ دن کی ہمہ ہمی اور سرگرمی کے لیے سورج کا تنور جلایا اور اس سے ہر گھر کا صرف چولہا ہی نہیں جلا بلکہ انسانی زندگی کا ایک ایک چراغ روشن ہوا اور رات کو چاند سے منور فرمایا۔ دن کی روشنی انسانی سرگرمیوں کی ضامن ہے اور چاند کی چاندنی دلوں کے لیے ٹھنڈک کا باعث اور انسان کے لیے آرام و راحت کا پیغام ہے۔ دن کا تھکا ماندہ انسان رات کی آغوش میں آرام ڈھونڈتا ہے۔ اگر رات کا گہرا سناٹا اسے محیط رہتا تو وہ خوفزدگی کی کیفیت میں آرام کی بجائے دہشت کا شکار ہوجاتا اور اگر اسے کوئی ضرورت لاحق ہوتی تو رات کی تاریکی اسے کہیں آنے جانے کے قابل نہ چھوڑتی۔ رات کو ایک مدھم چراغ روشن کیا جو آرام و راحت میں خلل انداز ہونے کی بجائے تسکین کا پیغام اور ناگزیر ضرورتوں میں سہارے کا باعث ہے۔ کُلٌّ میں تنوین مضاف اِلَیہ کے حذف کی طرف اشارہ ہے۔ کُلُّھُمْ کے معنی میں ہے۔ فَلَکْدراصل ہر دائرے اور گول چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے چرخے میں جو گول چمڑا لگا ہوتا ہے اس کو فَلْکَۃُ الْمِغْزَلْکہتے ہیں۔ فارسی میں اسے چرخ اور گردوں کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ عربی زبان میں آسمان کے معروف ناموں میں سے ہے، اور یہاں اس سے مراد شمس و قمر کی وہ مداریں ہیں جن پر وہ حرکت کررہے ہیں۔ الفاظِ قرآن میں اس کی کوئی تصریح نہیں کہ یہ مداریں آسمان کے اندر ہیں یا باہر فضا میں۔ حالیہ خلائی تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ یہ مداریں خلاء اور فضا میں آسمان کے بہت نیچے ہیں۔ آیت کے الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلک کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں یہ تارے کھونٹیوں کی طرح جڑے ہوئے ہوں۔ وہ خود انھیں لیے ہوئے گھوم رہا ہے بلکہ وہ کوئی سیال شے ہے یا فضا یا خلاء کی سی نوعیت کی چیز ہے جس میں ان تاروں کی حرکت تیرنے کے فعل سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر سیارہ اور ستارہ اپنے مدار میں حرکت کر رہا ہے لیکن کسی میں یہ مجال نہیں کہ وہ سرمو اپنے مدار سے منحرف ہوسکے۔ اگر ان میں سے کوئی سیارہ ذرا بھی ادھر ادھر ہوجائے تو سارے نظام کائنات میں خلل واقع ہوجائے۔ اتنے عظیم کُرّوں کا اپنے مدار میں سمٹ کر چلنا، کبھی اپنے راستے سے انحراف نہ کرنا اور کبھی کسی ادنیٰ تخلف اور توقف کو راستہ نہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ پوری کائنات حاکم کائنات کی محکوم اور اس کے ہاتھ میں مسخر ہے۔ ان میں باہمی نسبت چاہے اضداد کی کیوں نہ ہو لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نہایت توافق اور کامل ہم آہنگی کے ساتھ اپنا اپنا فرض انجام دینے میں لگے رہتے ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہاں نہ صرف حاکم مطلق کی کارفرمائی ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حاکم صرف ایک ہے اور اسی کی قوت قاہرہ کے ہاتھ میں ان کی باگ ہے۔ اب یہ کیسی حماقت ہے کہ لوگ ان نشانیوں کے ہوتے ہوئے کسی اور نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ (اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ سے لے کر کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ تک کی تقریر شرک کی تردید میں ہے اور اَوَلَمْ یَرَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے لے کر فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ تک جو کچھ فرمایا گیا ہے اس میں توحید کے لیے ایجابی (Positive) دلائل دیئے گئے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ نظام کائنات جو تمہارے سامنے ہے، کیا اس میں کہیں ایک اللہ رب العالمین کے سوا کسی اور کی بھی کوئی کاریگری تمہیں نظر آتی ہے ؟ کیا یہ نظام ایک سے زیادہ خدائوں کی کارفرمائی میں چل سکتا تھا اور اس باقاعدگی کے ساتھ جاری رہ سکتا تھا ؟ کیا اس حکیمانہ نظام کے متعلق کوئی صاحب عقل و خرد آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ یہ ایک کھلنڈرے کا کھیل ہے اور اس نے محض تفریح کے لیے چند گڑیاں بنائی ہیں جن سے کچھ مدت کھیل کر بس وہ یونہی ان کو خاک میں ملا دے گا ؟ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور پھر بھی نبی کی بات ماننے سے انکار کیے جاتے ہو ؟ تم کو نظر نہیں آتا کہ زمین و آسمان کی ایک ایک چیز اس نظریہ توحید کی شہادت دے رہی ہے جو یہ نبی تمہارے سامنے پیش کررہا ہے ؟ ان نشانیوں کے ہوتے ہوئے تم کہتے ہو کہ فَلْیَا تِنَابِٰایـَـۃٍ ” یہ نبی کوئی نشانی لے کر آئے۔ “ کیا نبی کی دعوت توحید کے حق ہونے پر گواہی دینے کے لیے یہ نشانیاں کافی نہیں ہیں ؟ ) (تفہیم القرآن)
Ayah 21:34

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشہ کی زندگی نہیں بخشی تو کیا اگر آپ انتقال کرجائیں تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

وَماَ جَعَلْنَا لِبَشَرٍمِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ط اَفَـاْئِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 34) (اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشہ کی زندگی نہیں بخشی تو کیا اگر آپ انتقال کرجائیں تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ) رسول کے بشر اور فانی ہونے پر اعتراض کرنے والوں کو جواب اس سورت کے آغاز میں قرآن کریم نے قریش کے ان اعتراضات کا ذکر کیا اور جواب دیا ہے جو وہ اکثر آنحضرت ﷺ پر کیا کرتے تھے۔ آیت 8 میں اشرافِ قریش نے عام لوگوں کو سمجھاتے ہوئے یہ کہا کہ تم جس شخص کی باتوں سے متأثر ہورہے ہو وہ تو صرف تمہاری طرح کا ایک بشر ہے، پھر اس کا ایک خاص پیرائے میں جواب ارشاد فرمایا گیا، پھر اثباتِ توحید اور ردشرک پر دلائل دیئے گئے، اب پھر معترضین کے اسی رویئے کو زیربحث لایا گیا ہے۔ البتہ یہاں بات ایک دوسرے پیرائے میں کہی گئی ہے کہ لوگو ! تم جس شخص کی باتوں سے متأثر ہو کر اس کے قریب ہورہے ہو، ذرا یہ تو سوچو کہ آخر اس میں ایسی کون سی خوبی ہے جو تمہیں اپیل کررہی ہے۔ وہ نہ صرف تمہاری طرح ایک بشر ہے بلکہ عام لوگوں کی طرح اسے بھی ایک دن موت کا شکار ہونا ہے۔ کیا پروردگار ایک ایسے شخص کو انسانوں کی رہنمائی کے لیے مبعوث کرسکتا ہے جسے ہم سے بڑھ کر کوئی خصوصیت حاصل نہ ہو اور پھر وہ کوئی ابدی زندگی لے کر بھی نہ آیا ہو بلکہ چند سالوں کے بعد وہ بھی ہماری طرح فنا ہوجانیوالا ہے پھر تم رہنمائی اور تعلیم کو کہاں تلاش کرو گے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس صورتحال میں اپنے لیے آسودگی کا ایک پہلو محسوس کرتے تھے، وہ یہ سوچ کر خوش ہوتے تھے کہ ہم جس شخص کی تعلیم و تبلیغ سے پریشان ہورہے ہیں کہ اس کا اثر ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔ کہیں باپ مسلمان ہے اور کہیں بیٹا اور کہیں ماں دائرہ اسلام میں داخل ہو رہی ہے اور کہیں بیٹی۔ ہمارا قومی شیرازہ معرض خطر میں ہے۔ لیکن فی الجملہ ایک اطمینان کی بات بھی ہے کہ وہ ہمیشہ کی زندگی لے کر نہیں آیا، چند سالوں میں ہماری طرح موت کی نذر ہوجائے گا اور ہم اس مصیبت سے نجات پاجائیں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان باتوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم اگر اس بات کو قابل اعتراض سمجھتے ہو کہ یہ دعوائے نبوت کرنے والا شخص ابدی زندگی لے کر نہیں آیا تو کیا تم ابدی زندگی لے کر آئے ہو ؟ اگر تم ہمیشہ رہنے والے ہوتے تو تم یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم ابدی زندگی رکھنے والے لوگ ایک فانی شخص کی رہنمائی کیوں قبول کریں۔ لیکن موجودہ صورت میں تو تمہیں اعتراض کا کوئی حق نہیں کیونکہ تم بھی فانی ہو اور نبوت کا مدعی بھی فانی ہے تو پھر اعتراض کی کیا بات ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ اس سے پہلے بھی انبیائے کرام اور رسولانِ عظام تشریف لا چکے ہیں۔ کیا تم کسی رسول کو آج دنیا میں موجود پاتے ہو جو ہمیشہ کی زندگی لے کر آیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت اور ابدی زندگی کے درمیان کوئی لزوم نہیں ورنہ آج تک آئے ہوئے تمام انبیائے کرام ہمارے سامنے موجود ہوتے۔ اور تمہارا اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا کہ چند سالوں کے بعد یہ مدعی نبوت اللہ تعالیٰ کو پیارا ہوجائے گا تو ہم اس ابتلا سے بچ جائیں گے حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ تم بھی ہمیشہ کی زندگی لے کر نہیں آئے، تمہیں زودیابدیر موت کی آغوش میں جانا ہے تو پھر صرف پیغمبر کی موت پر بغلیں بجانے کا کیا معنی۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے اثر قبول نہ کریں، ہر شخص کو ایک دن دنیا سے جانا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ آپ ﷺ تو اپنی عظیم خدمات اور بیش بہا کارناموں کے ساتھ اپنے اللہ سے ملیں گے اور وہاں عظیم مناصب اور عظیم درجات سے بہرہ ور ہوں گے، لیکن یہ لوگ جس صورتحال سے دوچار ہونے والے ہیں اس کا تصور بھی ہولناک ہے۔
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تم لوگوں کو دکھ اور سکھ دونوں سے آزما رہے ہیں اور آخر کار تم سب کو ہماری طرف ہی لوٹ کے آنا ہے۔

کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ۔ (الانبیاء : 35) (ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تم لوگوں کو دکھ اور سکھ دونوں سے آزما رہے ہیں اور آخر کار تم سب کو ہماری طرف ہی لوٹ کے آنا ہے۔ ) گزشتہ اعتراض کا جواب ایک دوسرے پہلو سے اس آیت کریمہ میں متذکرہ بالا اعتراض کا جواب ایک دوسرے پہلو سے دیا گیا ہے۔ کفار کو جس طرح آنحضرت ﷺ کے بشر ہونے پر اعتراض تھا، اسی طرح وہ اس بات پر بھی معترض تھے کہ آپ ﷺ اگر اللہ تعالیٰ کے رسول ہوتے تو کم از کم آپ ﷺ کوئی رئیس آدمی ہوتے یا آپ ﷺ کسی قبیلے کے سردار ہوتے۔ ایک تو آپ ﷺ ہماری طرح بشر اور پھر اس کے ساتھ ساتھ مال و دولت اور سرداری سے تہی دامن، ایسی صورتحال میں یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو رسالت دی ہے۔ پروردگار نے نہایت اختصار سے اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ جس طرح نبی کے لیے مافوق بشر ہونا ضروری نہیں، اسی طرح اس کا صاحب مال و جائیداد ہونا بھی ضروری نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول تو دنیا میں اس لیے آتے ہیں کہ وہ انسانوں کو اقدارِ انسانیت سے بہرہ ور کریں اور ان کے دل و دماغ کا اس طرح تزکیہ کریں کہ وہ تمام رزائلِ نفسانی اور مکائد شیطانی کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکیں اور ان کی زندگی ہر لحاظ سے انسانوں کے لیے رحمت اور بھلائی کا پیغام ہو۔ اس کام کے لیے امارت و غربت کی بحثیں بیکار ہیں۔ وہ جس طرح ایک امیر آدمی کو شکر کی ترغیب دیتے ہیں اسی طرح غریب آدمی کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ انسانیت کا مقام و مرتبہ بلند کرنے کے لیے لوگوں پر واضح کرتے ہیں کہ اس دنیا میں غربت و امارت، دکھ اور سکھ، رنج و راحت صرف امتحان کے لیے ہے جس سے وہ اپنے بندوں کا امتحان کرتا ہے۔ اس کا انسانیت سے کوئی رشتہ نہیں اور نہ اس سے کسی انسان کے چھوٹے اور بڑے ہونے کا تعلق ہے۔ میں تو صرف اس لیے آیا ہوں تاکہ تمہیں ایسی زندگی گزارنے کے قابل بنا دوں جس سے تم کل اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوسکو۔ اس لیے کہ تم سب کو بالآخر اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جب وہ آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو وہ آپ ﷺ کو مذاق بنا لیتے ہیں کہتے ہیں کیا یہی ہے وہ جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے (برائی سے) اور حال یہ ہے کہ وہ رحمن کے ذکر کے بھی منکر ہیں۔

وَاِذَا رَاٰ کَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ یَّـتَّخِذُوْنَکَ اِلاَّ ھُزُوًا ط اَھٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِھَتَکُمْ ج وَھُمْ بِذِکْرِالرَّحْمٰنِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 36) (اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جب وہ آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو وہ آپ ﷺ کو مذاق بنا لیتے ہیں کہتے ہیں کیا یہی ہے وہ جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے (برائی سے) اور حال یہ ہے کہ وہ رحمن کے ذکر کے بھی منکر ہیں۔ ) مخالفین کا شرافت سے گرا ہوا رویہ آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے جواب میں مشرکینِ قریش جو رویہ اپنائے ہوئے تھے اس کا ذکر گزشتہ آیات سے جاری ہے۔ اسی کے تسلسل میں یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ ان بدبختوں کا حال یہ ہے کہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کی عزت و وجاہت کو اپنے لیے مباح کرلیا ہے۔ اعلانِ نبوت سے پہلے یہی لوگ ہر طرح سے آپ ﷺ کا احترام بجا لاتے تھے لیکن اب دین دشمنی نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ عام شرافت سے تہی دامن ہو کر جہاں بھی آپ کو دیکھتے ہیں آپ ﷺ کو مذاق بنا لیتے ہیں اور گز گز بھر کی لمبی زبانیں آپ ﷺ کے بارے میں ہر وہ بات کہتی ہیں جو کسی بھی مخالف کے بارے میں کہی جاسکتی ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات اور آپ ﷺ کے کردار کے بارے میں ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ ان کا دل کا گواہی دیتا ہے کہ آپ ہر طرح کی اخلاقی یا انسانی کمزوری سے بہت بلند ہیں۔ اس لیے وہ آپ کو مذاق بناتے ہوئے بھی اپنے بغض کے اصلی سبب کو چھپا نہیں پاتے اور ایک دوسرے کو متوجہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہی ہے وہ شخص جو تمہارے بتوں اور خدائوں کی مذمت کرتا ہے، ان کی بےبسی کا مذاق اڑاتا ہے اور تمہیں اس خدا کے سامنے جھکنے کی دعوت دیتا ہے جو قادر مطلق اور علیم وخبیر ہے۔ مٹی کی مورتوں سے اللہ سے بڑھ کر محبت بلکہ عصبیت غور کیجیے ! وہ آپ کے اصل جرم کو نمایاں کرتے ہوئے یہ نہیں کہتے کہ یہ ہمارے خدائوں کی مذمت کرتا ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جو تمہارے خدائوں پر تنقید کرتا ہے۔ اس سے دراصل ان کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ عوامی نفسیات کو انگیخت کرکے ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔ عام انسانوں کی کمزوری یہ ہے کہ وہ جن سے عقیدت کا تعلق قائم کرلیتے ہیں ان کے بارے میں خفیف سے خفیف تنقید کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ عقیدت کا مفہوم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی عقل اور اپنے احساس کو ان کے آستانے کی کنیز بنادیا جائے اور یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ جس سے ہماری عقیدت کا رشتہ ہے وہ ہر طرح کی تنقید سے ماورا ہے۔ اشرافِ قریش ان کے اسی احساس کو بھڑکا کر آنحضرت ﷺ کی دشمنی میں اضافہ کرنے کی سعی نامشکور کرتے تھے اور ان کی اس روش نے ان کو اس حد تک اندھا کردیا تھا کہ وہ اپنے نام نہاد خدائوں کے سامنے خدائے رحمن کی عظمت کو بھی بھول چکے تھے۔ یعنی ایک طرف تو ان کا حال یہ تھا کہ مٹی اور پتھر کی بنائی ہوئی مورتوں کے بارے میں وہ اس قدر حساس واقع ہوئے تھے کہ معمولی معمولی باتوں پر ان کی غیرت و حمیت بےقابو ہوجاتی تھی، لیکن دوسری طرف وہ خدائے رحمن جس کے خوان نعمت پر وہ پل رہے تھے اور جس کی رحمتوں کی برکت سے ان کی زندگی کے امکانات روشن تھے اس کا ذکر کرنے کے بھی روادار نہیں تھے۔ جہاں کہیں ان کے بتوں پر تنقید کی جاتی یا انھیں راہ راست کی تلقین کی جاتی تو بجائے اس پر غور کرنے کے خدائے رحمن کے ذکر سے نہ صرف ابا کرتے بلکہ نفرت کا اظہار کرتے۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نام سے تو واقف تھے لیکن رحمن سے ناواقفیت کا اظہار کرتے تھے اور صاف کہتے تھے کہ ہم رحمن کو نہیں جانتے۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی کمزوریوں میں سے ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی کی عقیدت میں گرفتار ہوجاتا ہے چاہے اس کا یہ طرز عمل کتنا بھی غلط کیوں نہ ہو وہ اس کے مقابلے میں خدائے بزرگ و برتر کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ آپ اپنے گردوپیش میں جھانک کر دیکھ لیجیے اہل مذہب کی لڑائیاں اللہ تعالیٰ کے بارے میں نہیں، اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے بارے میں ہوتی ہیں۔ جہاں کسی نے اس محبت کے غلو کی طرف اشارہ کیا اور شریعت کے اعتدال کو اختیار کرنے کی تلقین کی تو ایک لڑائی شروع ہوجاتی ہے اور اس لڑائی میں بعض ستم ظریف پروردگار کا ذکر نہایت استخفاف کے انداز میں کرتے ہیں اور انھیں کبھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ دوسروں سے عقیدت کا یہ معنی تو ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے عقیدت و محبت میں کمی آئے۔
Ayahs 21:37–38

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان کو جلدی کے خمیر سے پیدا کیا گیا ہے تو میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائوں گا، سو تم مجھ سے جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ط سَاُوْرِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْنِ ۔ وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الانبیاء : 37، 38) (انسان کو جلدی کے خمیر سے پیدا کیا گیا ہے تو میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائوں گا، سو تم مجھ سے جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔ اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ ) کسی چیز کو اس کے مقررہ وقت سے پہلے طلب کرنے کو عجلت کہتے ہیں۔ (روح البیان) مشکل الفاظ کی تشریح خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ” انسان کو جلدبازی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “ یہ عربی زبان کا محاورہ ہے۔ جب کسی وصف کے بارے میں یہ کہنا ہو کہ وہ فلاں میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے تو اس کے متعلق کہتے ہیں کہ فلاں شخص اس وصف سے پیدا ہوا ہے۔ مثلاً کوئی شخص بہت غصیل ہے تو کہتے ہیں کہ خلق من غضب اور اگر کوئی شخص بہت کریم ہے تو کہیں گے خلق من کرممطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ وصف اس میں بہت زیادہ ہے۔ اردو زبان میں بھی جب کسی کے بارے میں یہ کہنا ہو کہ وہ طلاقتِ لسانی میں کمال رکھتا ہے تو کہتے ہیں کہ وہ حرفوں کا بنا ہوا ہے۔ عذاب کے لیے جلد بازی کا جواب جلد بازی انسان کی کمزوریوں میں سے ہے۔ اس لیے عرب اسے ام الندامات کہتے ہیں اور قرآن کریم نے بعض جگہ اس پر گرفت بھی فرمائی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اچھے لوگوں کی جلد بازیاں اچھائی کے نتائج دیکھنے میں ہوتی ہیں اور برے لوگ برائی کے ظہور میں جلد باز ہوتے ہیں۔ اس کی شناعت میں متعلق بدل جانے سے کمی بیشی ہوتی ہے لیکن اصولی طور پر عجلت بجائے خود نامحمود سمجھی جاتی ہے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں اشرافِ قریش کے اسی مکروہ طرز عمل کا ذکر جاری ہے جس کا تذکرہ ہم نے گزشتہ آیات میں پڑھا ہے۔ وہ اپنی جلدبازی کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ کہتے تھے کہ آپ ہمیں جس عذاب یا قیامت سے ڈراتے رہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ عذاب کسی وقت بھی آسکتا ہے تو آخر وہ عذاب آتا کیوں نہیں ؟ ہمارے طرز عمل میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی، ہم تو اسی طرح دندناتے پھر رہے ہیں تو پھر عذاب میں تاخیر کا سبب کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ کہنا، ان کی کسی فکری کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اسی کمزوری کا اظہار ہے جو نا تربیت یافتہ لوگوں سے ہمیشہ ظہور پذیر ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ ہاتھوں پر سرسوں جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ان کی ہدایت اور اصلاح کے لیے بھیجا ہے۔ اس کی شب و روز کوشش اس کے سوا کچھ نہیں کہ کسی طرح یہ لوگ ان بنیادی حقائق کو سمجھ جائیں اور قبول کرلیں جن پر ان کی دنیوی اور اخروی کامیابیوں کا انحصار ہے۔ وہ اسی مقصد کے لیے ان کے ہاتھوں دکھ اٹھا رہا ہے، اذیتیں برداشت کررہا ہے، ان کی بےروک زبانوں کے زخم سہ رہا ہے اور ساتھ ساتھ انھیں تنبیہ بھی کررہا ہے کہ تم جس راستے پر بڑھتے چلے جارہے ہو وہ تو تباہی کا راستہ ہے۔ اولاً تو دنیا ہی میں تمہارے اس رویئے کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوسکتا ہے اور اگر پروردگار نے تمہاری ڈھیل میں اضافہ کیے رکھا تو اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ قیامت کے دن تمہیں سخت جوابدہی سے گزرنا ہوگا۔ تو مشرکینِ مکہ بجائے اس کے کہ اس تاخیر کو اپنے لیے رحمت سمجھیں اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں وہ آنحضرت ﷺ کے لیے اسی تاخیر کو استہزاء کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں اور بار بار عذاب کا مطالبہ اس طرح کر رہے ہیں جس طرح قرض کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگر تم عذاب کی کچھ نشانیاں ہی دیکھنے پر مصر ہو تو پھر تمہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا چند سالوں کی بات ہے کہ تمہارے سامنے چند نشانیوں کا ظہور ضرور ہوگا۔ چناچہ قیام مکہ کے دور میں بارشوں کا روک دینا اور قحط سالی مسلط کردینا یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی اور پھر ہجرت کے ایک سال بعد ہی جنگ بدر میں قریش کی پہلی صف کا تہِ تیغ ہوجانا اور دوسری صف کا گرفتار ہوجانا اور اس طرح سے قریش کی قیادت کا خاتمہ بجائے خود اللہ تعالیٰ کی نشانیاں تھیں جسے ہر چشم بینا دیکھ سکتی تھی لیکن مشرکین کا رویہ وہی رہا جو اس سے پہلے تھا۔ وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مطالبہ کرتے رہے جب تک فتح مکہ سے ان کی کمر توڑ نہیں دی گئی۔
Ayahs 21:39–40

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش یہ کفر کرنے والے جان لیتے اس وقت کو جب وہ روک نہ سکیں گے اپنے چہروں سے عذاب نار کو، نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی کسی طرف سے مدد کی جائے گی۔

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ اچانک ان پر آدھمکے گی، سو انھیں بدحواس کردے گی پھر وہ نہ اسے رد کرسکیں گے اور نہ ہی انھیں مزید مہلت دی جائے گی۔

لَوْیَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا حِیْنَ لاَ یَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْھِھِمُ النَّارَ وَلاَ عَنْ ظُہُوْرِ ھِمْ وَلاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ بَلْ تَاْ تِیْھِمْ بَغْتَۃً فَتَبْھَتُھُمْ فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا وَلاَ ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 39، 40) (کاش یہ کفر کرنے والے جان لیتے اس وقت کو جب وہ روک نہ سکیں گے اپنے چہروں سے عذاب نار کو، نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی کسی طرف سے مدد کی جائے گی۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آدھمکے گی، سو انھیں بدحواس کردے گی پھر وہ نہ اسے رد کرسکیں گے اور نہ ہی انھیں مزید مہلت دی جائے گی۔ ) مخالفین کے رویئے پر اظہارِ حسرت نہایت حسرت کے انداز میں فرمایا جارہا ہے کہ ایک طرف انسان کی بیخبر ی ہے جو گمراہی تک جا پہنچی ہے اور دوسری طرف اس کی جسارت ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے نبردآزما ہے۔ انسان کچھ نہیں جانتا کہ اس کا پروردگار اس سے کیا چاہتا ہے۔ وہ اگرچہ اپنے معاملات میں عقل و شعور سے بہرہ ور ہے لیکن زندگی کے اجتماعی معاملات، اخلاقی مسلمات، انسانی فطرت کے مقتضیات، عالم برزخ اور عالم آخرت کے اسرار اور اللہ تعالیٰ کی شریعت کی تفصیلات کو جاننے کے لیے اس کی عقل کافی نہیں۔ اس کے لیے وحی الٰہی کی ضرورت ہے جس کے حامل بن کر اللہ تعالیٰ کے رسول تشریف لاتے ہیں۔ اب انسان کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت کو قبول کرے، ان پر نازل کی جانے والی کتابوں کی رہنمائی کو زندگی کا رہنما بنائے۔ اور اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے رسول کے اتباع کو اپنے اوپر لازم ٹھہرا لے۔ لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اس رہنمائی کو قبول کرنے کی بجائے اپنی جہالت پر اصرار کرتا ہے اور جب پیغمبر اس کے طرز عمل کی پاداش میں پیدا ہونے والے خطرات کو اس کے سامنے ذکر کرتا ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے انکار کی صورت میں جو کچھ اس پر بیتنے والی ہے جب اسے اس سے آگاہ کیا جاتا ہے تو بجائے قبول کرنے کے اس سے آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ چناچہ اس پوری صورتحال پر اظہارِتأسف کرتے ہوئے بہ اندازِ حسرت فرمایا جارہا ہے کہ کاش انکار کرنے والوں کو یہ معلوم ہوتا کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے تو انسان اس کے سامنے کس قدر بےبس ہوتا ہے آج تو یہ منہ پھاڑ پھاڑ کر نہ صرف اس کا مطالبہ کررہے ہیں بلکہ پیغمبر کا مذاق اڑا رہے ہیں، لیکن جب وہ عذاب آئے گا اور اس سے جو آگ برسے گی اسے یہ اپنے جسم کے کسی حصے سے روک نہیں سکیں گے۔ وہ ان کے چہروں کو جلائے گی، ان کے پہلوئوں کو داغے گی۔ اور اس وقت یہ مدد کے لیے چیخیں گے اور ان لوگوں کا نام لے لے کر دہائی دیں گے جنھیں انھوں نے بزعم خود معبود بنا رکھا ہے، لیکن کوئی ان کی مدد کو نہیں آئے گا۔ انھیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں کہ جب وہ عذاب آتا ہے تو وہ بتا کے نہیں آتا۔ اس سے پہلے ایسے آثار ظاہر نہیں ہوتے کہ آدمی اپنے بچائو کی کوئی تدبیر کرسکے۔ وہ اچانک آتا ہے اور انسانوں کو بدحواس کردیتا ہے۔ تمام وسائل دھرے رہ جاتے ہیں، مدافعت کی ہر قوت دم توڑ جاتی ہے، لوگ رحم کے لیے فریاد کرتے ہیں لیکن مزید مہلت نہیں دی جاتی۔ کاش یہ لوگ آج اس کی شدت اور ہولناکی کا کچھ اندازہ کرلیں تو شاید ان کے لیے بہتر ہو۔
Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

وَلَقَدِاسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَخَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الانبیاء : 41) (اور آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مذاق اڑانے والوں کو تنبیہ بھی کی گئی ہے۔ تسلی کا مضمون یہ ہے کہ اے پیغمبر ! آپ ان بدبختوں کی زبان درازیوں سے بدمزہ نہ ہوں۔ تبلیغ و دعوت کے راستے کی کچھ سنتیں ہیں جن میں ایک سنت یہ ہے کہ جس نے بھی انسانوں کی ہدایت اور اللہ تعالیٰ کا دین پہنچانے کے لیے تبلیغ و دعوت اور اصلاح کا کام کیا ہے اس کی قوم نے کبھی آرام سے اس دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ مدتوں تک اس نے اس دعوت کے راستے میں نہ صرف روڑے اٹکائے بلکہ داعی الی الحق کے لیے جینا دوبھر کردیا۔ ہر طرح کی اذیتیں پہنچائی گئیں، زبان درازیوں سے دل زخمی کیے گئے اور دنیا کا کوئی دکھ ایسا نہیں جو اس راستے پر چلنے والوں نے برداشت نہیں کیا۔ پہلے آنے والے رسول بھی آپ ہی کی طرح خون جگر پی پی کر قوم کی ہدایت کے لیے کوشاں رہے۔ انھوں نے بھی آپ ہی کی طرح قوم کی ایذارسانیوں کے جواب میں ہمیشہ ہمدردی و خیرخواہی کا ثبوت دیا۔ ان کی گالیاں سن کر دعائیں دیتے رہے، لیکن ان کی قوموں نے ان کی خیرخواہی اور ہمدردی کا جواب ہمیشہ بدخواہی اور دشمنی سے دیا۔ آپ ﷺ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یہ تاریخ کا تسلسل ہے۔ یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور یہی کچھ ہوتا رہے گا۔ ؎ زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے آپ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ یہ صورتحال ہمیشہ نہیں رہے گی ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے۔ ہر رات کے بعد سحر طلوع ہوتی ہے۔ آپ کی مساعیِ جمیلہ کی سحر بھی طلوع ہونے والی ہے اور اس میں کچھ زیادہ دیر نہیں۔ مشرکین سے یہ کہا جارہا ہے کہ جس طرح یہ ایک تاریخی روایت ہے کہ ہر پیغمبر کی قوم نے اسے ستایا اور اس کی مخالفت کی انتہا کردی۔ اسی طرح یہ بھی تاریخی روایت ہے کہ جب وہ قوم اپنی مخالفت اور اپنے انکار میں بڑھتی چلی گئی حتیٰ کہ وہ پیغمبر کی جان لینے کے منصوبے باندھنے لگی تو تب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ لوگ جو عذاب کا تمسخر اڑایا کرتے تھے ان میں سے ایک ایک شخص اس عذاب کی نذر ہوا اور اپنے انجام کو پہنچا۔ مکہ کے لوگو ! تم بھی اسی تاریخ کا حصہ ہو۔ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اللہ تعالیٰ کی یہ سنت حرکت میں آئے گی اور تم میں سے ایک ایک تمسخر کرنے والا اپنے انجام کو پہنچے گا۔
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان سے پوچھئے رات اور دن خدائے رحمن کی پکڑ سے کون تمہاری حفاظت کر رہا ہے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کررہے ہیں۔

قُلْ مَنْ یَّکْلَؤُکُمْ بِالَّیْلَ وَالنَّھَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ط بَلْ ھُمْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّھِمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 42) (اے پیغمبر ان سے پوچھئے رات اور دن خدائے رحمن کی پکڑ سے کون تمہاری حفاظت کر رہا ہے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کررہے ہیں۔ ) عذاب کا مطالبہ کرنے والوں سے ایک سوال گزشتہ مضمون کے تسلسل میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انھیں عذاب دینے کا فیصلہ کرلے تو انھیں اس کے عذاب سے رات اور دن میں کون بچانے والا ہے۔ کیا انھوں نے اپنے بچائو کا کوئی سامان کر رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ بےخوف اور نڈر ہو کر بار بار عذاب کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہمہ گیری کا عالم تو یہ ہے کہ اگر وہ عذاب بھیجنا چاہے تو رات اور دن میں کسی وقت بھی عذاب بھیج سکتا ہے۔ عناصرِ قدرت ہر وقت اس کے سامنے تعمیلِ حکم کے لیے دست بستہ تیار رہتے ہیں۔ وہ دن کی ہمہ ہمی میں بھی پکڑ سکتا ہے اور رات کو نیند کی حالت میں بھی تباہ کرسکتا ہے۔ جس کی قدرت کا یہ عالم ہے تم نے آخر اس سے بچائو کی کیا تدبیر کر رکھی ہے جو اس جرأت اور بےباکی سے تم عذاب کا مطالبہ کرتے ہو۔ آیت کے دوسرے جملے میں ارشاد فرمایا کہ ہم جانتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائو کی نہ کوئی تدبیر کرسکے ہو اور نہ کرسکتے ہو بلکہ تمہارا معاملہ اس سے بھی زیادہ دگرگوں اور قابل افسوس ہے کہ جس رب کریم کے ہاتھوں میں تمہاری زندگی اور اس کے امکانات ہیں اور جس کے رزق پر تم پل رہے ہو اور تمہاری زندگی کا ہر وسیلہ جس کی عنایت سے تمہیں میسر ہے تم اس کی یاددہانی اور اس کی ہر طرح کی تنبیہ سے منہ پھیرے ہوئے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا رسول تمہیں بار بار اس کی طرف سے تنبیہ کررہا ہے لیکن تمہیں بالکل پرواہ نہیں اور کائنات کا گوشہ گوشہ اور خود تمہاری اندرونی فطرت تمہیں اشارے کررہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے منہ نہ پھیرو۔ اس کی تنبیہات سے تغافل مت برتو۔ لیکن تمہارے اعراض اور لاپرواہی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ ایسی صورتحال میں اظہارِافسوس کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ سطور میں ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ من الرحمن سے من عذاب الرحمن مراد لیا جائے، لیکن اگر عذاب کو محذوف نہ مانا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم تو بار بار اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو لیکن تم نے یہ کبھی سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ عذاب آئے یا نہ آئے تم تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہو۔ جس زمین پر تم چلتے ہو اگر اس زمین کو اللہ تعالیٰ حکم دے دے کہ تمہارا بوجھ اٹھانے سے انکار کردے بلکہ تم اس میں دھنستے چلے جاؤ تو تم کیا کرسکتے ہو۔ اگر وہ بارشوں کا برسنا بند کردے تو تم قحط سالی میں مبتلا ہو کر بھوک کی نذر ہوجاؤ۔ اگر وہ زمین کی حرکت کو بدل دے تو گرمیوں کا طویل دن تمہیں جھلس ڈالے اور سردیوں کی طویل رات تمہارے چولہے ٹھنڈے کردے اور پانی تک کو جما کر تمہارے لیے زندگی ناممکن کردے، فضائے آسمانی سے ہر رات برسنے والے کروڑوں شہاب اگر براہ راست تمہارے سروں پر برسنے لگیں اور زمین سے ایک فاصلے پر تنا ہوا پردہ ہٹا لیا جائے جو انھیں روکتا ہے تو تمہاری زندگی کے باقی رہنے کے کیا امکانات ہیں۔ الغرض ہر لمحہ انسان اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہے اور دنیا کی کوئی طاقت انسان کو اس کی گرفت سے آزاد نہیں کرسکتی۔ کبھی وہ اس کی رحمت کی گرفت میں ہوتا ہے اور کبھی آفت کی گرفت میں۔ کبھی راحتیں اس پر نثار ہوتی ہیں اور کبھی مشکلات اسے گھیر لیتی ہیں۔ وہ کسی حال میں بھی اللہ تعالیٰ سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ جس انسان کی احتیاج اور بےبسی کا یہ عالم ہے کس قدر دکھ کی بات ہے کہ وہ اس ذات سے منہ پھیرے ہوئے ہے جو ہرحال میں اس کی حفاظت کرتی اور اس پر احسان کرتی ہے۔
Ayah 21:43

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ان کے ہمارے سوا اور خدا بھی ہیں، جو انھیں بچا لیں گے، وہ جھوٹے معبود تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے اور نہ انھیں ہماری تائید میسر ہوگی۔

اَمْ لَہُمْ اٰلِھَۃٌ تَمْنَعُھُمْ مِّنْ دُوْنَنِا ط لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِھِمْ وَلاَ ھُمْ مِّنَا یُصْحَبُوْنَ ۔ (الانبیاء : 43) (کیا ان کے ہمارے سوا اور خدا بھی ہیں، جو انھیں بچا لیں گے، وہ جھوٹے معبود تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے اور نہ انھیں ہماری تائید میسر ہوگی۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے والا یقینا انھیں کوئی نہیں لیکن ایک غلط فہمی ہے جو ہمیشہ انھیں سہارا دیتی ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس لات و منات اور عزیٰ وہبل کو ہم نے آج تک پکارا اور ان کی قربانیاں دی ہیں اور ہمیشہ ان کے نام کے چڑھاوے چڑھائے ہیں ان کے خیال میں یہ محض پتھر کی تراشیدہ مورتیاں نہیں بلکہ ان کے پیچھے زندہ شخصیتیں ہیں جن سے عقیدت کے باعث لوگوں نے ان کے مجسمے تراش لیے۔ اسی طرح برسوں ہم نے فرشتوں کو اپنا معبود بنا کر پوجا ہے اور ان سے استمداد کی ہے اور بعض ایسے قبیلے بھی تھے جو بعض جنات کو اپنا معبود سمجھتے تھے۔ زندگی بھر ان کی پوجا پاٹ صرف اسی لیے تو کی ہے کہ جس طرح انھوں نے ہمیشہ ہماری دنیا میں مدد کی اسی طرح وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی بچائیں گے۔ یہ وہ غلط فہمی ہے جو ہمیشہ اہل عرب کو اپنے کفر و شرک کے رویئے میں سہارا دیتی تھی۔ پروردگار ان کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ نادانو ! جن پر تم نے تکیہ کر رکھا ہے یہ تو اس قابل بھی نہیں کہ اپنی کوئی مدد کرسکیں، تمہاری مدد کیا کریں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس سوال کے لیے کٹہڑے میں کھڑے کیے جائیں کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ تمہارے مرنے کے بعد تمہاری پوجا کریں۔ البتہ ! وہ ایک صورت میں کسی حد تک تمہاری مدد کرسکتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ یہ بھی نہیں کر پائیں گے۔ وہ صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اجازت دے دے کہ تم فلاں فلاں کی شفاعت کرسکتے ہو، ان کے لیے میری تائید و نصرت تمہیں حاصل ہے لیکن یہ اعزاز اللہ تعالیٰ صرف اپنے مقرب بندوں کو دے گا جنھوں نے دنیا کی اصلاح کے لیے کوششیں کیں۔ ان نام نہاد معبودوں کو نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی صورت ممکن نہیں کہ کوئی ذات کسی کے کام آسکے۔ علامہ پانی پتی ( رح) آیت کے اس جملہ کی وضاحت کرتے ہوئے جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں اس سے ہماری گزارش کی تائید ہوتی ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ ولایصحبھم منا نصر کمایصحب لمن یشفع عصاۃ المومنین من النبیین والملائکۃ والصالحین ” یعنی انبیاء، ملائکہ اور اولیاء کرام جو گناہگار مومنوں کی شفاعت کریں گے انھیں تو تائیدِ الٰہی اور نصرت ربانی حاصل ہوگی، لیکن کفار کے جھوٹے خدا اس سے بھی محروم ہوں گے۔ “ (مظہری)