Ayah 21:87وَذَاالنُّوْنِ اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَعَلَیْہِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰـتِ اَنْ لَّآ اِلٰـہَ اِلاَّ ٓ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ صلے ق اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 87)
(اور یاد کرو مچھلی والے کو جبکہ وہ قوم سے برہم ہو کر چل کھڑا ہو اور یہ خیال کیا کہ ہم اس پر کوئی گرفت نہیں کریں گے، پھر اس نے تاریکیوں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بیشک میں ہی قصورواروں سے ہوں۔ )
حضرت یونس (علیہ السلام) کی سرگزشت
اس آیت کریمہ میں ذوالنون کے نام سے ایک اور پیغمبر کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ بتانا یہ ہے کہ ہر طرح کی تکلیف اور مایوسی میں اگر کوئی ذات سہارا دینے والی اور کام آنے والی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تکلیفوں میں جس طرح عام آدمی مبتلا ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نبی بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ جس طرح عام آدمی اپنی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، انبیائے کرام بھی اپنی تمام تر قدرومنزلت کے باوجود اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی عظیم ہے کہ وہ جب گرفت کرنے پہ آتا ہے تو بڑے سے بڑے مقام و مرتبے والے کی بھی گرفت کرتا ہے۔
عربی زبان میں نون مچھلی کو کہتے ہیں، ذوالنون کا معنی ہے مچھلی والا۔ مراد اس سے حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ انھیں مچھلی والا اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ ایک محدود عرصے تک مچھلی کے پیٹ میں رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی فضل و کرم سے انھیں نجات بخشی۔ انھیں نام کی بجائے لقب سے پکارنا دراصل ایک قسم کے پیار کا اظہار ہے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) اہل نینوا کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ نینوا موصل کے قریب ایک شہر تھا جس میں رہنے والوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار کہی جاتی ہے۔ صحیفہ یونس میں اسی تعداد کا ذکر کیا گیا ہے اور قرآن کریم نے اسے مِائَۃَ اَلْفٍ اَوْیَزِیْدُوْنَسے تعبیر کیا ہے، یعنی ایک لاکھ اور چند۔ یہ دوسرے لفظوں میں صحیفہ یونس کی روایت کی تائید ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے ایک مدت تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا لیکن کسی نے ان کی بات سننا گوارا نہ کیا۔ آپ جیسے جیسے دعوت میں سرگرمی پیدا کرتے گئے ویسے ویسے ان کی مخالفت میں اضافہ ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ ایک وقت آگیا کہ آپ ان کے رویئے سے حددرجہ نالاں ہوگئے۔ آپ نے محسوس کیا کہ میں اس قدر طویل عرصے تک نہایت اخلاص اور پِتَّہ خون کردینے والی محنت کے ساتھ قوم کو سمجھا چکا ہوں اور انہوں نے کوئی اس کا اثر قبول نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قوم پر اتمامِ حجت ہوچکا۔ اگر ان میں قبولیت کا تھوڑا سا مادہ بھی ہوتا تو یہ ضرور اس دعوت کو قبول کرتے۔ مزید ان کے ساتھ سر کھپانا پتھروں سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میں نے آج تک قبرستانوں میں اذانیں دی ہیں۔ انھیں دعوت دیتے ہوئے میرے بالوں کی سیاہی دھلنے لگی ہے لیکن ان پتھر دلوں میں کوئی نرمی پیدا نہیں ہوئی۔ اس لیے مزید یہاں ٹھہرنا اپنے دکھوں میں اضافہ کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ چناچہ آپ حمیت حق کے جذبے سے جس میں قوم کے رویئے نے برہمی کا عنصر بھی شامل کردیا تھا ناراض ہو کر نینوا سے نکل گئے۔
جب کوئی قوم حق کی ناقدری میں بڑھتی چلی جاتی ہے تو دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے والوں میں قوم کی طرف سے مایوسی کا پیدا ہوجانا ایک فطری جذبہ ہے اور اس میں کسی نفسانیت کے شائبہ کی بجائے حمیتِ حق کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت حضرت یونس (علیہ السلام) قوم کو چھوڑ کر چلے گئے لیکن اس جذبے کے غلبے کی وجہ سے ان کے ذہن سے یہ بات اتر گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نینوا میں رسول کی حیثیت سے مبعوث کیے گئے ہیں۔ آپ کی حیثیت ایک مورچے میں متعین سپاہی کی ہے۔ آپ کسی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر مورچہ نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ کو کب تک اپنی قوم میں رہنا ہے اور کب وہاں سے ہجرت کرنا ہے اس کا فیصلہ آپ نہیں کریں گے بلکہ پروردگار کرے گا۔ انبیائے کرام کی یہ سنت رہی ہے کہ چاہے ان پر کیسی قیامت گزر جائے وہ کبھی اپنی قوم کو اذن الٰہی کے بغیر چھوڑ کر ہجرت نہیں کرتے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) حمیتِ حق کے جوش میں انبیائے کرام کی اس سنت کی طرف توجہ نہیں دے سکے اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ میں چونکہ ایک طویل عرصے تک بدترین حالات میں اپنے فرائض انجام دے چکا ہوں، میرے یہاں سے نکلنے پر اللہ تعالیٰ کوئی گرفت نہیں فرمائیں گے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) اپنی بستی سے نکلے تو نئی منزل کی تلاش میں دریا کو عبور کرنے کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوئے جو پہلے سے تیار کھڑی تھی۔ کشتی کچھ سفر کرنے کے بعد ایک طوفان میں گھر گئی۔ جب طوفان ٹلتا نظر نہ آیا تو ملاحوں نے اس زمانے کے عام وہم کے مطابق یہ خیال کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کشتی میں غلام ہے جو اپنے مالک سے بھاگ آیا ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ غلام کون ہے ؟ اس کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا۔ قرعہ ڈالنے کے لیے انھوں نے حضرت یونس (علیہ السلام) سے درخواست کی، کیونکہ آپ ( علیہ السلام) اپنی پیغمبرانہ وجاہت اور دلآویز شخصیت کے باعث سب میں ثقہ معلوم ہورہے تھے۔ قرعہ ڈالا گیا تو حضرت یونس (علیہ السلام) ہی کا نام نکلا۔ آپ ( علیہ السلام) سمجھ گئے کہ میں ہی بھاگا ہوا غلام ہوں جو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر بستی سے نکل آیا ہوں۔ آپ ( علیہ السلام) سمندر میں کود گئے۔ ایک بہت بڑی مچھلی اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے ہی منہ کھولے کھڑی تھی، اس نے آپ ( علیہ السلام) کو نگل لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ خبردار میرے پیغمبر کو کوئی نقصان نہ پہنچے، یونس تمہاری خوراک نہیں بلکہ ہم نے تیرے شکم کو اس کے لیے قیدخانہ بنایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ میں نے مشکلات سے نکلنے کے لیے ایک کوشش کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے گہرے ظلمات میں ڈال دیا گیا۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکی، سمندر کے پانی کی تاریکی اور پھر اوپر بادلوں کی تاریکی۔ آپ ( علیہ السلام) جان گئے کہ یہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) کے دل سے وہ زندہ جاوید دعا نکلی جس کے لیے آج بھی یہ ضمانت ہے کہ وہ اگر صدق دل سے مانگی جائے تو کبھی قبولیت سے محروم نہیں رہتی۔ اس دعا میں آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور سبوحیت کا اقرار کیا اور اپنے آپ کو گنہگار اور قصوروار ٹھہرا کر نہایت بےبسی سے اپنے رب کو پکارا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی نے ان کو ساحل کی ریت پر اگل دیا۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نڈھال جسم کو گرمی اور دھوپ کی تمازت سے بچانے کے لیے کدو یا اسی قسم کی کوئی بیل پہلے سے اگا رکھی تھی جس کے نیچے انھیں پناہ ملی۔ جب اس حادثہ سے اوسان بجا ہوئے اور جسم میں کچھ جان آئی تو ان کو پھر اہل نینوا کے پاس انذار کے لیے جانے کی ہدایت ہوئی۔
نینوا کے عام باشندے اس سے پہلے ہی حالات کے تیور دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوچکے تھے۔ وہ سب اللہ پر ایمان لائے۔ بادشاہ نے بھی شاہی لباس اتار کر ٹاٹ کا پیرہن پہن لیا اور باشندوں کے نام فرمان جاری کیا کہ ہر شخص اپنی بری ر اہ سے باز آجائے، روزہ رکھے، اللہ کے حضور زاری کرے اور توبہ وانابت کا سر جھکائے۔
آیتِ کریمہ کے بعض جملوں کے غلط ترجمے کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان جملوں کی وضاحت کردی جائے تاکہ یہ غلط فہمیاں دور ہوجائیں۔
بعض جملوں کی تشریح
اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًا ” جب وہ نکلے غضبناک ہوکر۔ “ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) اپنے کام سے دلبرداشتہ اور غضبناک ہو کر ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے حالانکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کی غضبناکی اور ناراضگی کا سبب وہ آزردگی تھی جو انھیں قوم کے رویئے سے ہوئی۔ انھوں نے قوم کو راہ راست پر لانے کے لیے سارے جتن کر ڈالے لیکن ان سنگدلوں میں کہیں نرمی پیدا نہ ہوئی۔ اس صورتحال نے ان کو آزردہ کیا جس سے جوشِ حمیت نے ان کے اندر غضبناکی پیدا کی۔ جس کا سبب قوم کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے دین کی ناقدری کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَعَلَیْہِ … بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہیں حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے یہ گمان کیا کہ ان کے اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل جانے سے اللہ تعالیٰ کوئی گرفت نہیں فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ میں کس حد تک یہاں محنت کرچکا ہوں اور قوم کے رویئے نے مجھے کس حد تک مایوس کیا ہے۔ اس پر اگر آپ غور کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ یہ سراسر فطری جذبہ تھا جس میں کوئی قابل گرفت بات نہیں البتہ حضرت یونس کو جوشِ غیرت میں اس بات کی طرف توجہ نہیں ہوسکی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جس محاذ پر مامور کیا ہے وہ اس کے اذن اور اجازت کے بغیر اسے چھوڑ نہیں سکتے۔ یہ ایک ایسی اجتہادی فروگزاشت تھی جو کسی عام شخص سے ہوتی، وہ اپنی ذات میں کتنا بھی نیک ہوتا لیکن پیغمبر نہ ہوتا، تو اللہ تعالیٰ اس پر کبھی گرفت نہ فرماتا۔ لیکن حضرات انبیائے چونکہ تمام انسانیت کے لیے نمونہ ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ان سے کوئی ادنیٰ لغزش بھی صادر ہوتی ہے تو پروردگار اس کی اصلاح فرماتے ہیں تاکہ اصلاح و تربیت کا اعلیٰ نمونہ متأثر نہ ہونے پائے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) نے جو دعا کی، اسے عام طور پر آیت کریمہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ امامِ احمد، امامِ ترمذی اور دیگر محدثین سے منقول ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :
” دَعوَۃُ ذِی النُّونِ اِذَا دَعَارَبَّہ وَھُوَ فِی بَطْنِ الحُوتِ لَااِلہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ ، لَم یَدَعَ بِہَارَجُلٌ مُسْلِمٌ فِی شَییئٍ اِلَّااِسْتَجَابَ لَہٗ ۔ “
یعنی حضرت ذی النون کی وہ دعا جو مچھلی کے شکم میں انھوں نے کی تھی جو مسلمان جس مشکل میں ان الفاظ سے دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔ حاکم نے ایک اور ارشادِ نبوی اس طرح نقل کیا ہے۔
الا اخبرکم بشییء اذا نزل باحدمنکم کرب اوبلاء فدعا بہ الافرج اللہ عنہ قیل بلی یارسول اللہ۔
حضور نے اپنے صحابہ سے پوچھا کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں کہ جب تمہیں کوئی غم اور مصیبت لاحق ہو اور تم اس سے بارگاہ الٰہی میں التجا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہاری مشکل آسان فرما دے۔ صحابہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ضرور ارشاد فرمایئے تو حضور ﷺ نے یہی دعا ارشاد فرمائی۔ حضرت شاہ عبدالعزیز نے اپنے والد بزرگوار حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) سے قضائے حاجات کے لیے نفل پڑھنا بیان فرمایا۔ ناظرین کے فائدہ کے لیے ان کی ترتیب بھی لکھی جاتی ہے۔
” مجھ کو میرے والد مرشد نے اجازت فرمائی ہے کہ انسان حاجاتِ مشکلہ کے بر آنے کے واسطے چار رکعتیں پڑھے۔ پہلی رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ سُبْحَانَـکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن فَاسْتَجَبْنَا لَـہٗ وَنَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذَالِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْن کو سو بار پڑھے۔ دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد رَبِّ اِنِّیْ مَسَّنِیَ الضُرُّوَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن سو بار پڑھے۔ تیسری رکعت میں فاتحہ کے بعد وَاُفَـوِّضُ اَمْرِیْ اِلٰی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِسو بار۔ چوتھی رکعت میں بعد فاتحہ کے قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل پھر سلام پھیر کر سو بار یہ کہے رب انی مغلوب فانتصر۔
شاہ عبدالعزیز صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق ( رح) نے ارشاد فرمایا کہ یہ چاروں آیتیں اسم اعظم ہیں کہ ان کے وسیلے سے جو سوال کیا جائے اور جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔
Ayah 21:88فَاسْتَجَبْنَا لَـہٗ لا وَنَجَّیْنٰـہُ مِنَ الْغَمِّ ط وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الانبیاء : 88)
(پس ہم نے ان کی پکار کو قبول فرما لیا اور ہم نے انھیں غم سے نجات دے دی اور ہم اسی طرح اہل ایمان کو نجات دیتے ہیں۔ )
حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا کی قبولیت
جب مچھلی کے پیٹ اور سمندر کے اندر ہزاروں ظلمات میں گھرے ہوئے حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنے اللہ کو پکارا، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کی پکار کو قبولیت کا شرف بخشا۔ وہ زمین کے پاتال میں پہنچ چکا تھا جہاں کسی انسان کا شاید تصور بھی نہ پہنچ سکے، لیکن اللہ تعالیٰ ہر جگہ سنتا اور دستگیری فرماتا ہے۔ چناچہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی دستگیری کی گئی اور انھیں اس غم سے نجات دے دی جس سے ان کا جگر کٹتا جارہا تھا۔ یہ غم درحقیقت دہرا غم تھا۔ ایک غم اس بات کا کہ ایسے ہولناک اندھیروں سے میں کیونکر نجات پا سکوں گا۔ یہاں تو کوئی میری فریاد سننے والا نہیں۔ ایک ہی ہے جو ہر ایک کی اور ہر جگہ سنتا ہے۔ چناچہ اسی کو اس نے پکارا۔ اور دوسرا غم یہ کہ میں جو اپنی قوم سے اذن الٰہی کے بغیر نکل آیا اور یہ خیال نہ کیا کہ میں فرض کی ادائیگی کے دوران اپنا محاذ نہیں چھوڑ سکتا۔ میں نے یہ سمجھا کہ میں ان پر اتمام حجت کرچکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا دین پہنچانے اور سمجھانے بجھانے میں کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ اب اگر ان کی اذیت رسانیوں سے بچنے کے لیے انھیں چھوڑ کر چلا بھی جاؤں تو اس پر اللہ تعالیٰ گرفت نہیں فرمائے گا اور ممکن ہے کہ قوم میرے چلے جانے کے بعد اپنے رویئے پر نظرثانی کرے۔ لیکن میری یہ سوچ ایک اجتہادی فروگزاشت تھی جس کی وجہ سے یہ سرزنش ہوئی ہے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ نے اس قبر سے مجھے نجات بھی دے دی تو جو فروگزاشت مجھ سے ہوچکی ہے جو میرا حقیقی غم ہے کیا اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف فرمائے گا یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے یونس کو ہر طرح کے غم سے نجات دے دی۔ مچھلی کے پیٹ سے بھی باہر آگئے اور جب اپنی قوم میں دوبارہ گئے تو ساری قوم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئی۔
آیت کے آخری جملے میں ارشاد فرمایا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی سرگزشت سنانا محض زیب داستان کے لیے نہیں اور نہ اس سے مقصود داستان سرائی ہے بلکہ اس سے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو اطمینان دلانا ہے کہ حالات چاہے آپ ﷺ کے لیے کیسے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں اور اسلامی دعوت کے لیے لوگوں نے آگے بڑھنے میں کیسی بھی مشکلات کھڑی کردی ہوں آپ ﷺ اس سے نہ گھبرائیں۔ آپ ﷺ کے سر پر اس ذات کا سایہ ہے جو ہر طرح کے حالات سے نجات دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب انھیں تاریکیوں سے کامیابی کی سحر طلوع ہوگی اور اسلامی انقلاب برپا ہوجائے گا۔
قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ مشکلات کی تاریکیوں سے نکالنا اور مایوس کن حالات سے امید کا چراغ روشن کرنا یہ صرف حضرت یونس (علیہ السلام) کے لیے خاص نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہر دور کے مسلمانوں کے لیے ہے جب بھی مسلمان عہدوفا نبھانے میں کمی نہ کریں اور اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے راستے میں قربان کرنے کے لیے تیار ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی اسی طرح مشکلات سے نجات دے گا اور کامیابیوں سے ہمکنار کرے گا۔
آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
Ayah 21:89وَزَکَرِیَّـآ اِذْ نَادٰی رَبَّـہٗ رَبِّ لاَ تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُالْوٰرِثِیْنَ ۔ (الانبیاء : 89)
(اور زکریا کو یاد کرو جب انھوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب تو مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے۔ )
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کی قبولیت
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سرگزشت تفصیل سے سورة مریم میں گزر چکی ہے۔ انھوں نے بھی نہایت مایوس کن حالات میں اللہ تعالیٰ سے اولاد کے لیے دعا کی تھی جبکہ آپ ( علیہ السلام) کی عمر باپ بننے کی عمر سے گزر چکی تھی۔ سر ہلنے لگا تھا اور بیوی بانجھ ہوچکی تھی۔ آپ ( علیہ السلام) تیزی سے آخری منزل کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن فکر اس بات کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے دین کا جو چراغ جلائے رکھنے کی مجھے توفیق دی ہے میرے اعزا و اقرباء سب نااہل اور دین سے بیگانہ ہیں۔ ان میں کوئی ایک بھی اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں اور میرا اپنا کوئی بیٹا نہیں جس سے میں اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی امید کرسکوں۔ الٰہی تو سب کچھ جاننے والا ہے۔ اپنے خاص فضل و کرم سے مجھے تنہا نہ چھوڑ اور مجھے بیٹا عطا فرما۔ یہ میں جانتا ہوں کہ تیرے دین کا کام میری ذات یا میری اولاد کا محتاج نہیں۔ تو اپنے دین کا خود بہترین وارث ہے لیکن میں تو یہ دعا اس لیے کر رہا ہوں کہ تیرے دین کی خدمت کی جو سعادت میرے خاندان کو حاصل رہی ہے اس سے یہ خاندان محروم نہ ہوجائے۔
Ayah 21:90فَاسْتَجَبْنَا لَـہٗ ز وَوَھَبْنَا لَہٗ یَحْیٰی وَاَصْلَحْنَا لَـہٗ زَوْجَہٗ ط اِنَّھُمْ کَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَھَبًا ط وَکَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ ۔ (الانبیاء : 90)
(تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور ہم نے اس کو یحییٰ عطا فرمایا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے سازگار کردیا، بیشک یہ لوگ نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے والے اور امید و بیم میں ہمیں پکارنے والے اور ہمارے ہی سامنے عجزونیاز کرنے والے تھے۔ )
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا مقصد
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے زکریا کی دعا کو قبول فرمایا، انھوں نے چونکہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لیے وارث مانگا تھا یعنی ایسا بیٹا جو میراثِ یعقوب کا حق ادا کرسکے۔ چناچہ ہم نے انھیں یحییٰ جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ اور سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں ہم نے ان کی شخصیت کے بارے میں بطور خاص اس بات کو نمایاں کیا ہے کہ حضرت یحییٰ نے زندگی بھر نہ ایسی غذا کھائی جو عام طور پر کھائی جاتی ہے، نہ کوئی سلا ہوا کپڑا پہنا۔ جنگلی شہد ان کی خوراک رہا اور ایک پرانا کمبل درمیان میں پھاڑ کر ان کا ملبوس بن جاتا اور ان کی زندگی کی مصروفیات میں اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے تگ و دو کے سوا کسی اور مصروفیت کا گزر تک نہ ہوسکا۔
اور قبولیتِ دعا میں اس بات کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ بانجھ ہوچکی تھیں یعنی اولاد پیدا کرنے کی عمر سے گزر چکی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے دعا کو قبول فرماتے ہوئے آپ ( علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو استقرارِحمل اور وضع حمل کے قابل بنادیا اور شاید یہ بھی مراد ہو کہ ان کی صحت اس قابل بنادی کہ وہ سہولت سے بچے کی تربیت کرسکیں۔
آیت کے دوسرے حصے میں اِنَّھُمْکی ضمیر کا مرجع یا تو حضرت زکریا (علیہ السلام) سے وابستہ لوگ ہیں۔ ان میں کچھ اعزا بھی ہوسکتے ہیں اور کچھ آپ ( علیہ السلام) کے شاگرد جو اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف کرچکے تھے۔ چناچہ ان کی تعریف میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ ایسے تھے کہ جو نہ صرف نیکوکار تھے بلکہ نیکی کی طرف ان کا میلان سبقت کی صورت اختیار کرچکا تھا۔ ان کے اندر تنافسِ دنیا نہیں بلکہ دین اور بھلائی کے لیے تنافس کا جذبہ غالب تھا اور وہ ہرحال میں امید ہو یا خوف، اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے لو لگانے والے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرافگندہ اور اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرنے والے تھے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اِنَّھُمْ کی ضمیر کا مرجع متذکرہ بالا انبیائے کرام کو ٹھہرایا جائے۔ اور پھر آگے جو صفات بیان ہوئی ہیں انھیں ان کا موصوف قرار دیا جائے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں مفہوم بیک وقت مراد لیے جائیں۔
Ayah 21:91وَالَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْھَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنٰـھَا وَابْنَھَـآ اٰ یَـۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 91)
(اور یاد کرو اس پاکدامن بی بی کو جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا، تو ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونکی اور ہم نے اسے اور اس کے بیٹے کو دنیا والوں کے لیے (اپنی قدرت کی) نشانی بنادیا۔ )
حضرت مریم [ کا تذکرہ
ان عظیم شخصیتوں کا ذکر ہورہا ہے جنھوں نے ہر طرح کے ناموافق حالات میں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا اور پھر اسی کو پکارا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر اور استقامت کی لاج رکھی اور ان کی دُعائوں کو قبول فرماتے ہوئے ان کو کامیابیوں سے نوازا۔ انھیں میں سے حضرت مریم [ بھی ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اظہار اور اپنی ایک نشانی دکھانے کے لیے بہت بڑے امتحان میں ڈالا۔ نہایت نیک نام خاندان کی دختر نیک اختر ہوتے ہوئے کنوارپن میں انھیں بچے کی ماں بننے کی آزمائش میں مبتلا کیا۔ انھوں نے ہر طرح کے حالات میں جس طرح اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کی اور جس طرح اس عظیم ابتلا سے نہایت استقامت اور صبر کے ساتھ گزریں، اس پر اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے احسانات سے نوازا۔
توالد و تناسل کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ نر اور مادہ کے اتصال سے سے توالد کا سلسلہ چلتا ہے اور انسانوں میں بھی اسی طرح نوع انسانی کا قافلہ چلتا رہا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ دنیا کو یہ دکھایا جائے کو نوع انسانی کا یہ قافلہ اپنے آپ محو سفر نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا قانون ہے جس کے نتیجے میں یہ قافلہ چل رہا ہے۔ وہ اگر چاہے تو اس قانون کو توڑ کر بغیر مرد اور عورت کے اتصال کے بچہ پیدا کرسکتا ہے۔ چناچہ اپنی اس قدرت کے اظہار کے لیے حضرت مریم [ کا انتخاب ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اظہار میں تو کوئی دشواری نہ تھی لیکن حضرت مریم [ کے لیے اس ابتلا سے گزرنا ہزاروں مشکلات سے گزرنا تھا۔ خاندان کی نیک نامی کو بٹہ لگانا تھا، اپنی ذات اور اپنی شرم و حیاء کو لمبی زبانوں کی سولی پر لٹکانا تھا لیکن حضرت مریم[ نے یہ سب کچھ برداشت کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کے اظہار اور استقرارِ حمل کے لیے جو طریقہ اختیار کیا وہ نفخ روح تھا۔ اس سے سینٹ پال اور دوسرے گمراہ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش نفخ خداوندی سے ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی صفات چونکہ ازلی اور ابدی ہیں، اس لیے آپ ( علیہ السلام) بھی ازلی اور ابدی ہیں۔ اور مزیدبراں یہ کہ صفات چونکہ موصوف کا حصہ ہوتی ہیں اور اس سے منفک نہیں ہوسکتیں۔ بنابریں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی خداوندِذوالجلال سے الگ نہیں بلکہ اس کی ذات کا حصہ ہیں۔ چناچہ اسی گمراہی کے ازالے کے لیے پروردگار نے فرمایا۔ اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَم ” بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ تعالیٰ کے یہاں حضرت آدم کی مثال کی طرح ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر صرف کلمہ کن سے پیدا کیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی بغیر باپ کے کلمہ کن سے پیدا کیا گیا ہے اور مزید یہ بات کہ پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے ایک بشر بنا رہا ہوں۔ فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُوْحِیْ فَقَعُوْا لَـہٗ سَاجِدِیْن ” پس جب میں اسے پورا بنا لوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ “ جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی روح کے نفخ سے پیدا کیا۔ اس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کو بھی اپنی روح کے نفخ سے پیدا کیا۔ لیکن آج تک کبھی کسی شخص نے یہ نہیں کہا کہ آدم خدا ہیں، خدا کے بیٹے ہیں یا خدائی میں شریک ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ معمول کے طریقہ تخلیق کی بجائے جب اللہ تعالیٰ کسی کو براہ راست اپنے حکم سے وجود میں لا کر زندگی بخشتا ہے تو اس کو اپنی روح سے پھونکنے کے الفاظ سے تعبیر فرماتا ہے اور اس روح کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف غالباً اس وجہ سے کی گئی ہے کہ اس کا پھونکا جانا معجزے کی غیرمعمولی شان رکھتا ہے۔ لیکن برخودغلط لوگوں نے اس کو اپنی خانہ ساز تعبیروں سے کچھ سے کچھ بنا کے رکھ دیا۔
Ayah 21:92اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اَمَّـۃً وَّاحِدَۃً صلے ز وَّاَنَا رَبُّـکُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (الانبیاء : 92)
(یہ تمہاری امت، ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں تو میری ہی عبادت کرو۔ )
خلاصہ بحث
اس آیت کریمہ میں تمام انسانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ تم نے مذکورہ آیات میں جو مختلف انبیائے کرام کا تذکرہ پڑھا ہے اس سے ممکن ہے تمہیں یہ غلط فہمی ہو کہ ان میں سے ہر پیغمبر اپنی الگ امت کا بانی رہا ہے اور ہر پیغمبر نے اپنی امت کو ایک الگ دین سکھایا ہے۔ اس لحاظ سے دنیا میں جتنے مذاہب پائے جاتے ہیں ان کے اختلاف کا سبب درحقیقت مختلف انبیائے کرام ہیں۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ جو دنیا میں مذاہب کے نام پر الگ الگ گروہ بنے ہیں اس کے بنانے والے گمراہ لوگ تھے۔ تمام انبیائے کرام ایک ہی دین کے داعی بن کر آئے تھے۔ سب نے توحید کی دعوت دی، سب نے آخرت میں جوابدہی سے خبردار کیا، سب نے اللہ تعالیٰ ہی کے احکام پہنچائے اور اسی کی نازل کردہ شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ ان کے عقائد اور اصول میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ بعض جزوی احکام میں اختلاف تھا جو حالات کے اختلاف کا نتیجہ تھا۔ چناچہ آج بھی جو پیغمبر تشریف لائے ہیں یہ وہی دعوت پیش کررہے ہیں جو تمام انبیائے کرام کی دعوت تھی اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ میں تمہارا رب ہوں اس لیے تم صرف میری عبادت کرو، یعنی میرے احکام پر چلو، میرے سامنے سر جھکائو، مجھ سے امیدیں باندھو اور مجھ ہی سے خوف کھائو اور زندگی کے ہر معاملے میں میری ہی شریعت کے فیصلے قبول کرو۔
بعض اہل علم نے امت کا معنی دین کیا ہے۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بات ایک ہی ہے کہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور اس کی بنیاد وحدت رب اور وحدت اب پر ہے۔ مجھے ایک مانو، میری توحید کو دستورالعمل بنائو اور میری ہی عبادت کرو۔
Ayah 21:93وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَہُمْ ط کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ ۔ (الانبیاء : 93)
(اور انھوں نے اپنا دین پارہ پارہ کر ڈالا، ہر ایک کو ہماری ہی طرف لوٹنا ہے۔ )
دین میں اختلاف کرنے والوں کو تنبیہ
مختلف مذاہب اور مختلف گروہ لوگوں کے باہمی بگاڑ کا نتیجہ ہیں۔ لوگوں نے دین میں نئی نئی بدعتیں ایجاد کیں اور ہر گروہ نے اپنی خواہشات کو دین میں داخل کردیا۔ اس طرح سے دین کو پارہ پارہ اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ نبی آخرالزماں ﷺ کی تشریف آوری کے بعد نوع انسانی کے لیے ازسرنو ایک بنیاد فراہم کردی گئی ہے۔ دین کو کامل کردیا گیا ہے، تمام شریعتوں کو جامع اور کامل شکل میں ایک شریعت کی صورت میں ڈھال دیا گیا ہے۔ اسے قبول کرکے اپنی متاع گم گشتہ کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور اگر آج بھی مخالفت کرنے والے اس نعمت کی قدر کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ انھیں بہرصورت ہمارے پاس آنا ہے۔ پھر انھیں ایک ایک بات کا جواب دینا پڑے گا۔
Ayah 21:94فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَلاَ کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ ج وَاِنَّا لَـہٗ کٰتِبُوْنَ ۔
(الانبیاء : 94)
(پس جو شخص نیک عمل کرے گا اس حال میں کہ وہ مومن ہو تو اس کے کام کی ناقدری نہیں ہوگی اور ہم اس کے لیے (اس کے اعمال کو) لکھنے والے ہیں۔ )
بہت بڑی بشارت
گزشتہ امتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیائے کرام اور رسولانِ گرامی تشریف لاتے رہے اور مختلف ادوار میں انسانوں کی اصلاح کے لیے مقدور بھر مساعی انجام دیتے رہے، لیکن نزول قرآن کے وقت دنیا کا یہ حال ہے کہ اہل دنیا نے انسانی شیرازہ بندی اور اللہ تعالیٰ کے دین کی وحدت کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہر دردمند دل محسوس کرتا ہے کہ شاید اس دنیا کا مقدر اب کبھی نہیں بدلے گا اور تباہی اس کے لیے لکھ دی گئی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس ناگفتہ بہ حالت میں بھی امید کا ایک چراغ روشن کیا گیا ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ انسانوں نے اگرچہ اپنی قسمت بگاڑنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے انسان کو محروم نہیں فرمایا کیونکہ انسان وقتی اور کمزور جذبات کا شکار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس طرح کے تمام جذبات سے پاک اور ماورا ہے۔ انسان سرکشی اور تمرد کا راستہ اختیار کرتا ہے لیکن اس کی ذات اسے ہمیشہ ڈھیل دیتی رہتی ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ آج بھی جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ضروریاتِ دین کا یقین پیدا کرے اور اس کی شریعت کے مطابق اپنے اعمال کی اصلاح کرے اور پھر ہر عمل کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کو اپنا مقصد بنائے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایسے شخص کی مساعی کو کبھی رد نہیں کیا جائے گا۔ اس کی کوشش کی کبھی ناقدری نہیں ہوگی، اس کے ہر عمل کو قبولیت کے ترازو میں تولا جائے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے اعمال کا پھل کھائے گا اور قیامت کے دن بھی اس کے اعمال محفوظ اور مکتوب حالت میں اس کے ہاتھوں میں تھما دیئے جائیں گے اور انھیں کے مطابق اس کے ساتھ جزاء اور سزا کا معاملہ ہوگا۔
اس آیت کا پیغام ایسا حوصلہ افزاء اور روح کو سرشار کرنے والا ہے کہ جس نے نہ جانے کتنی مرجھائی ہوئی امیدوں کو ازسرنو زندگی بخشی اور تباہی کے کنارے کھڑے انسان کو ایک روشن راستہ دکھایا اور مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انتہائی رحمت کا سلوک فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ ایمان و اخلاص کی روشنی میں کیے ہوئے اعمال اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہیں کہ وہ انھیں نہ صرف محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے بلکہ اس کو محفوظ کرنے کے اسباب بھی فراہم کرتا ہے اور اس کے کارکنان اس کے ایک ایک قول اور فعل کو کتابت کی صورت میں محفوظ کردیتے ہیں۔
Ayah 21:95وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰـھَـآ اَنَّھُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الانبیاء : 95)
(اور ناممکن ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا ہو، وہ پھر پلٹ سکے۔ )
یہاں حرام کا معنی ممنوع ہے۔ قال الراغب الحرام الممنوع
ایک وارننگ
سابقہ آیت کریمہ میں جس طرح نوع انسانی کے لیے امید کا ایک چراغ جلایا گیا اسی طرح نوع انسانی کے لیے اس چراغ کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے ایک وارننگ بھی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت اپنی جگہ لیکن انسانوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون اس قدر بےلچک ہے کہ جب کوئی قوم اپنے وقت کے پیغمبر پر ایمان نہیں لاتی اور اس کی طرف آنے والی کتاب کو وظیفہ عمل نہیں بناتی بلکہ مخالفت پر کمربستہ ہوجاتی ہے اور مخالفت میں بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ اس ہدایت کے چراغ کو ہمیشہ کے لیے گل کرنے کے منصوبے باندھنے لگتی ہے۔ تب اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے تو اس کا عذاب اس کی محرومی اور تباہی کا پیغام بن کر نازل ہوتا ہے اور اس قوم کی جڑ مار دی جاتی ہے۔ چناچہ اسی بات کی طرف توجہ دلانے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اس طرح کی جس بستی پر بھی ہمارا عذاب نازل ہوچکا ہے اس کے بارے میں یہ بات حتمی ہے کہ ان معذب قوموں میں سے کوئی قوم دوبارہ سر نہیں اٹھا سکتی اور ان کی نشاۃ ثانیہ اور حیات نو کا تصور بھی ممکن نہیں۔
اور اس کا بھی کوئی امکان نہیں کہ دوبارہ انھیں وجود سے بہرہ ور کیا جائے گا اور نئی زندگی دے کر دوبارہ اس دارالامتحان میں بھیج دیا جائے گا۔ اب تو انھیں صرف قیامت کو اپنے کرتوتوں کا جواب دینا ہے۔
جس طرح کوئی معذب قوم دوبارہ زندہ نہیں کی جاتی، اسی طرح اگر کسی قوم کی مسلسل سرکشی اور تمرد کی وجہ سے ہدایت سے محرومی کا فیصلہ کردیا جاتا ہے تو پھر اسے توبہ اور انابت الی اللہ کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کی ہزار کوششوں کے باوجود بھی وہ قوم کبھی ہدایت سے نوازی نہیں جاتی۔
پیشِ نظر آیت کریمہ میں بیان کردہ ان تمام مفاہیم کا امکان موجود ہے اور قریش مکہ کو اس آیت کے واسطے سے آئینہ دکھانا مقصود ہے تاکہ وہ اچھی طرح اس آئینہ میں اپنی شکل دیکھ کر کوئی سا فیصلہ کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔
Ayah 21:96حَتّٰیٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 96)
(یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے نیچے اترنے لگیں گے۔ )
” حدب “ اونچی جگہ کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع ” حداب “ ہے۔ ” ینسلون “ نسلان الذئب سے ماخوذ ہے، بھیڑیئے کی سرعت رفتار کو کہتے ہیں۔
یاجوج و ماجوج سے مراد
یاجوج اور ماجوج کے متعلق تفصیلی بحث سورة کہف میں گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة کہف آیت 94۔ لیکن وہاں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین جب ایشیا کے شمال مشرقی علاقے میں پہنچے ہیں تو وہاں پہاڑوں کے دامن میں رہنے والوں نے شکایت کی تھی کہ وقتاً فوقتاً یاجوج اور ماجوج ہم پر حملہ آور ہو کر تباہی مچا دیتے ہیں۔ چونکہ وہ ان پہاڑوں کے پیچھے رہتے ہیں اور مختلف قبائل کی صورت میں کھلے آسمان کے نیچے فطری زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی کثرت تعداد اور خوف و خطر سے بےنیاز طبیعت کے باعث متمدن ممالک ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ ہمارے اور ان کے درمیان پہاڑوں کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیجیے تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں۔ چناچہ ذوالقرنین ان کے راستے میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کردی اور اس طرح سے اس وقت کی متمدن دنیا کو ان کی یلغار سے محفوظ کردیا۔
بیشتر مؤرخین کا خیال ہے کہ یاجوج و ماجوج سے مراد روس اور شمالی چین کے وہ قبائل ہیں جو تاتاری، منگولی، ھن اور سیتھین وغیرہ ناموں سے مشہور ہیں اور قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر حملے کرتے رہے ہیں۔ بائبل کی کتاب پیدائش (باب 10) میں ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی نسل میں شمار کیا گیا ہے۔ حزقی ایل کے صحیفے (باب 38۔ 39) میں ان کا علاقہ روس اور توبل (موجودہ توبالسک) اور مسک (موجودہ ماسکو) بتایا گیا ہے۔ اسرائیلی مؤرخ یوسیفوس ان سے مراد سیتھین قوم لیتا ہے جس کا علاقہ بحراسود کے شمال اور مشرق میں واقع تھا۔ جیردم کے بیان کے مطابق ماجوج کا کیشیا کے شمال میں بحر خزر کے قریب آباد تھے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں جن یاجوج و ماجوج کا ذکر ہورہا ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ انھیں یاجوج و ماجوج کی اولاد ہیں یا یہ کوئی اور قوم ہیں جنھیں کسی خاص مناسبت کے باعث یاجوج و ماجوج کہا گیا ہے۔ ان کا ظہور قرب قیامت میں ہوگا۔ نبی کریم ﷺ کا مشہور ارشاد جسے مسلم نے حذیفہ بن اسید الغفاری ( رض) کی روایت سے نقل کیا ہے، اس میں بھی یاجوج ماجوج کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس حدیث میں بیان کردہ تمام نشانیوں کا تعلق قرب قیامت سے ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس علامتیں نہ دیکھ لو۔ دھواں، دجال، دابۃ الارض، مغرب سے سورج کا طلوع، حضرت عیسیٰ ابن مریم کا نزول، یاجوج و ماجوج کی یورش اور تین بڑے خسوف ایک مشرق میں، دوسرا مغرب اور تیسرا جزیرۃ العرب میں۔ پھر سب سے آخر میں یمن سے ایک سخت آگ اٹھے گی جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی۔
ان کا صحیح تعین تو مشکل ہے، اسی وجہ سے مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مولانا شبیراحمد عثمانی ( رح) نے فوائد القرآن میں جو کچھ لکھا ہے ہم اس کو نقل کر رہے ہیں۔ وہ بالکل ایک مختلف بات کی طرف ہماری رہنمائی کررہے ہیں۔
ایک تحقیق
یاجوج و ماجوج کون ہیں ؟ کس ملک میں رہتے ہیں ؟ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی سد (آہنی دیوار) کہاں ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے متعلق مفسرین و مؤرخین کے اقوال مختلف رہے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے (واللہ اعلم) کہ یاجوج و ماجوج کی قوم عام انسانوں اور جنات کے درمیان ایک برزخی مخلوق ہے اور جیسا کہ کعب احبار نے فرمایا اور نووی نے فتاوی میں جمہور علماء سے نقل کیا ہے ان کا سلسلہ نسب باپ کی طرف سے آدم پر منتہی ہوتا ہے مگر ماں کی طرف سے حوا تک نہیں پہنچتا گویا وہ عام آدمیوں کے محض باپ شریک بھائی ہوئے۔ کیا عجب ہے کہ دجال اکبر جسے تمیم داری نے کسی جزیرہ میں مقید دیکھا تھا اسی قوم کا ہو، جب حضرت مسیح (علیہ السلام) جو محض ایک آدم زاد خاتون (مریم صدیقہ) کے بطن سے بتوسط نفخہ ملکیہ پیدا ہوئے نزول من السماء کے بعد دجال کو ہلاک کردیں گے۔ اس وقت یہ قوم یاجوج و ماجوج دنیا پر خروج کرے گی اور آخرکار حضرت مسیح کی دعا سے غیرمعمولی موت مرے گی۔ اس وقت یہ قوم کہاں ہے ؟ اور ذوالقرنین کی دیوار آہنی کس جگہ واقع ہے ؟ سو جو شخص ان سب اوصاف کو پیش نظر رکھے گا جن کا ثبوت اس قوم اور دیوار آہنی کے متعلق قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں ملتا ہے اس کو کہنا پڑے گا کہ جن قوموں، ملکوں اور دیواروں کا لوگوں نے رائے سے پتہ بتادیا ہے یہ مجموعہ اوصاف ایک میں بھی پایا نہیں جاتا۔ لہٰذا وہ خیالات صحیح معلوم نہیں ہوتے اور احادیث صحیحہ کا انکار یا نصوص کی تاویلات بعیدہ دین کے خلاف ہے۔ رہا مخالفین کا یہ شبہ کہ ہم نے تمام زمین کو چھان ڈالا مگر کہیں اس کا پتہ نہیں ملا اور اسی شبہ کے جواب کے لیے ہمارے مخالفین نے پتہ بتلانے کی کوشش کی ہے۔ اس کا صحیح جواب وہی ہے جو علامہ آلوسی بغدادی نے دیا ہے کہ ہم کو اس کا موقع معلوم نہیں، اور ممکن ہے کہ ہمارے اور اس کے درمیان بڑے بڑے سمندر حائل ہوں، اور یہ دعویٰ کرنا کہ ہم تمام خشکی اور تری پر محیط ہوچکے ہیں واجب التسلیم نہیں۔ عقلاً جائز ہے کہ جس طرح اب سے پانچ سو برس پہلے ہم کو چوتھے براعظم (امریکہ) کے وجود کا پتہ نہ تھا اب بھی کوئی پانچواں براعظم ایسا موجود ہو جہاں تک ہم رسائی نہ حاصل کرسکے ہوں اور تھوڑے دنوں بعد ہم وہاں تک یا وہ لوگ ہم تک پہنچ سکیں۔ سمندر کی دیوار اعظم جو آسٹریلیا کے شمال مشرقی ساحل پر واقع ہے آج کل برطانوی سائنسدان ڈاکٹر سی ایم ینگ کے زیرہدایت اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ یہ دیوار ہزار میل سے زیادہ لمبی اور بعض بعض مقامات پر بارہ بارہ میل تک چوڑی اور ہزار فٹ اونچی ہے جس پر بیشمار مخلوق بستی ہے جو مہم اس کام کے لیے روانہ ہوئی تھی حال میں اس نے اپنی یک سالہ تحقیق ختم کی ہے، جس سے سمندر کے عجیب و غریب اسرار منکشف ہوتے ہیں اور انسان کو حیرت واستعجاب کی ایک نئی دنیا معلوم ہو رہی ہے، پھر کیسے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ہم کو خشکی و تری کی تمام مخلوق کے مکمل انکشافات حاصل ہوچکے ہیں ؟ بہرحال مخبر صادق نے جس کا صدق دلائل قطعیہ سے ثابت ہے جب اس دیوار کی مع اس کے اوصاف کے خبر دی تو ہم پر واجب ہے کہ ہم اس کی تصدیق کریں اور ان واقعات کے منتظر رہیں جو مشرکین و منکرین کے علی الرغم پیش آکر رہیں گے۔
(حاشیہ قرآن بر ترجمہ شیخ محمود حسن، مطبوعہ مملکۃ عربیہ سعودیہ)
یاجوج و ماجوج کا ظہور قرب قیامت کی علامت ہے
یاجوج و ماجوج کوئی بھی ہوں، یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یاجوج و ماجوج کا ظہور بھی ہے۔ قربِ قیامت میں یہ لوگ اپنی پناہ گاہوں سے اتنی بڑی تعداد میں اور اس سرعت رفتار کے ساتھ نکلیں گے کہ ساری دنیا فساد سے بھر جائے گی اور وہ اس طرح دنیا پر ٹوٹ پڑیں گے جیسے کوئی شکاری درندہ یکایک پنجرے یا بندھن سے چھوڑ دیا گیا ہو۔ اس وقت دنیا کی کیا صورت ہوگی، بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ چیز متشابہات میں سے ہے اور متشابہات کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس وقت قیامت کا وقت انتہائی قریب آ لگا ہوگا۔ یہ قریش مکہ اور ان جیسے دوسرے لوگ جو آنحضرت ﷺ اور قرآن کے پیش کردہ دلائل سے مطمئن ہونے والے نہیں، ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب قیامت ان کے سر پر آکھڑی ہوگی، یہ اس وقت ایمان لانے کی کوشش کریں گے لیکن اس وقت ایمان لانا ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔
Ayah 21:97وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُالْحَقُّ فَاِذَا ھِیَ شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط یٰوَیْلَنَا قَدْکُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 97)
(اور قریب آگیا ہے سچا وعدہ تو یکایک ان لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنھوں نے کفر کیا، وہ پکاریں گے، ہائے ہماری بدبختی ہم اس سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ )
قیامت سر پر کھڑی ہے
نبی کریم ﷺ جب قریش کو قیامت کے دن کی جوابدہی سے ڈراتے تھے اور انھیں زندگی کے معاملات میں سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے تھے تو وہ قیامت کو بہت دور کی بات سمجھتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ اولاً تو قیامت کا وقوع ہی عقل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ یہ محض ایک ڈراوا ہے جس سے ہمیں اس لیے ڈرایا جاتا ہے تاکہ ہم خوفزدہ ہو کر ان پر ایمان لے آئیں۔ اگر فرض کریں کہ قیامت کا آنا واقعی یقینی ہے تو تب بھی یہ بات تو کسی طرح قرین قیاس نہیں کہ قیامت اتنی جلدی آنے والی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے پر تعیش شب و روز کو اس تصور سے مکدر کرلیں۔ قرآن کریم کہتا ہے اِنَّھُمْ یَرَوْنَـہٗ بَعِیْدًا وَنَرَاہُ قَرِیْبًا ” وہ اس کو بہت دور خیال کررہے ہیں لیکن ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں۔ “ انسان کی کو تاہی فکر یہ ہے کہ وہ کبھی اس بات پر غور نہیں کرتا کہ غور و فکر اور اندازوں کے پیمانے میرے اور پروردگار کے یکساں نہیں۔ میں جب اپنے پیمانوں سے ناپتا ہوں تو مجھے قیامت بہت دور دکھائی دیتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ایام کے اعتبار سے تو وہ بالکل سر پر کھڑی ہے۔ انسان کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ قیامت اگر اچانک آدھمکی تو میں کس حال میں ہوں گا۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا :
فَاِذَا ھِیَ شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُالَّذِیْنَ کَفَرُوْا…کہ آج جبکہ انھیں قیامت کے آنے کا یقین پیدا نہیں ہورہا لیکن جب قیامت آئے گی اور وہ اچانک آئے گی تو اس وقت ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے، ان کی آنکھیں ایسی ہوجائیں گی جیسے اوپر کہیں ٹنگی گئی ہوں۔ نہایت دہشت زدگی کے عالم میں حیرانی کی تصویر بنے فضاء کو تک رہے ہوں گے۔ کیونکہ انسان جب کسی ہولناک چیز کو اچانک دیکھتا ہے تو اس کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اور وہ دہشت زدہ ہو کر فضاء میں دیکھتا ہی چلا جاتا ہے۔
یٰوَیْلَنَا قَدْکُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْنَ … زبانیں تو ان کی بند ہوچکی ہوں گی لیکن ان کی زبان حال گویا ہوگی۔ نہایت تأسف اور حسرت سے کہیں گے، ہائے ہماری بدبختی۔ ایک ایسی حقیقت جس کی خبر ہر نبی دیتا رہا اور ہمیشہ عقل نے اس کا تقاضا کیا، اور اخلاق اپنی صداقت کے لیے اس سے تائید مانگتے رہے، لیکن ہم اس کا انکار کرتے رہے۔ ہمیں یہ سامنے کی حقیقت ایسے لگی جیسے پہاڑ پیچھے کوئی حقیقت چھپی ہو۔ ہماری غفلت نے ہمیں سامنے کی حقیقتوں سے بھی محروم کردیا۔
انسان کی اصل کو تاہی
انسان کی عجیب کمزوری یہ ہے کہ جب اس کی آنکھوں پر غفلت کے پردے پڑجاتے ہیں تو وہ سامنے کی چیزوں کو دیکھنے سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ انسان کا دل جو قدرت نے ایک مصفا اور مجلا آئینہ بنایا ہے وہ اپنی آب و تاب کھو دیتا ہے۔ اسی غفلت نے ہمیں یہ برے دن دکھائے۔ کاش ! ہم نے کبھی غفلت کے پردے کے پیچھے دیکھنے کی کوشش کی ہوتی۔ پھر آگے بڑھ کر وہ یہ کہیں گے کہ ہماری بدنصیبی کا سفر یہیں ختم نہیں ہوتا، کیونکہ ہمیں غفلت سے جگانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر بھیجے۔ نبی آخرالزماں ﷺ نے ہمیں بیدار کرنے کے لیے زندگی کا ہر دکھ برداشت کیا لیکن ہم چونکہ ظلم کا راستہ اختیار کرچکے تھے اس لیے بجائے اللہ تعالیٰ کے نبی کی تنبیہات کو سمجھنے کے اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ غفلت سے بیدار کرنے والے بعض دفعہ بیدار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن جو شخص خودکشی کا ارادہ کرلیتا ہے اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہم نے خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا اور خودکشی کا راستہ اختیار کیا۔ آج ہمیں اس کا احساس ہوا ہے تو اب اس کا وقت گزر چکا ہے۔
Ayah 21:98اِنَّـکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ ط اَنْـتُمْ لَھَاوٰرِدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 98)
(بیشک تم اور تمہارے وہ معبود جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو جہنم کا ایندھن بنو گے، تم لازماً اس میں داخل ہو کر رہو گے۔ )
تمہارا اعتراف کام نہیں آئے گا
آج تم اپنی قسمت کا ماتم کرتے ہو اور اعتراف کرتے ہو کہ ہم غفلت میں پڑے رہے، اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر نے ہرچند کوشش کی لیکن ہم نے آنکھیں کھولنا گوارا نہ کیں بلکہ ہم ظلم کے راستے پر چل نکلے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ تمہارا یہ اعتراف اور یہ واویلا قیامت میں کسی کام نہیں آئے گا۔ تمہارا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ تمہیں بھی جہنم میں پھینکا جائے گا اور تمہارے ان معبودوں کو بھی جنھیں تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا اور جن کی تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کرتے ہو۔ ماتعبدون میں ” ما “ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے مراد ان کے اصنام و احجار ہیں، مشرکین جن کی پوجا کرتے تھے۔ ” ما “ کا استعمال چونکہ بےجان چیزوں کے لیے ہوتا ہے اس لیے اس سے مراد وہ جاندار قوتیں نہیں ہوسکتیں جن کی مشرکین بتوں کے علاوہ پوجا کرتے تھے۔ ان کا ذکر قرآن کریم نے بعض دوسرے مواقع پر کیا ہے۔ یہاں تو صرف یہ بتانا ہے کہ جن پتھروں کے خدائوں کو تم نے اپنا معبود سمجھا جب تمہیں جہنم میں ڈالا جائے گا تو تمہارے ساتھ انھیں بھی جہنم میں پھینکا جائے گا اور وہ بھی تمہاری طرح جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اس وقت تمہیں شدید احساس ہوگا کہ جنھیں ہم اپنا معبود سمجھ کر پوجتے رہے اور یہ یقین کرتے رہے کہ قیامت کے دن یہ ہمارے سفارشی ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے یہ ہماری شفاعت کریں گے اور آج ان کا حال یہ ہے کہ یہ ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ اس آیت پر عبداللہ بن الزیغری نے اعتراض کیا کہ تم یہ کہتے ہو کہ مشرکین کے معبود بھی ان کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے، تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ حضرت مسیح اور حضرت عزیر اور ملائکہ بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ عیسائیوں نے حضرت مسیح کو ابن اللہ ٹھہرایا اور ان کی پوجا کی اور یہود نے حضرت عزیر کو معبود سمجھا اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے رہے اور ان سے مرادیں مانگتے رہے۔ تو کیا یہ بھی اپنے پوجا کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، نَعَمْ کُلُّ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُعْبَدَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَھُوَ مَعْ مَنْ عَبَدَہٗ ” ہاں ہر وہ شخص جس نے پسند کیا کہ اللہ تعالیٰ کی بجائے اس کی بندگی کی جائے، وہ جہنم کے عذاب میں ان کے ساتھ ہوگا۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین کے ساتھ جہنم میں وہ شخص ڈالا جائے گا جس نے انھیں اپنی بندگی کی تعلیم دی ہو اور جو اپنی بندگی پر خوش ہوتا رہا ہو۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے عمر بھر خلق خدا کو بندگیِ رب کی ترغیب دی لیکن دنیا سے چلے جانے کے بعد لوگوں نے انھیں ہی معبود بنا لیا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کے نبی اور ولی۔ اس سے ظاہر ہے کہ دوسروں کے جرم میں وہ کیسے ماخوذ ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر (علیہ السلام) اپنی قوموں کو اللہ تعالیٰ کی توحید سکھاتے اور اس کی بندگی کی تعلیم دیتے رہے، بعد میں لوگوں نے کیا روش اختیار کی، اس کی ان پر کیا ذمہ داری۔ اسی طرح ملائکہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں اور ہر وقت اس کے احکام کی تعمیل میں لگے رہتے ہیں، انھیں کیا خبر اور ان کی کیا ذمہ داری کہ لوگ ان کے بارے میں کس گمراہی میں مبتلا ہیں۔ البتہ جن لوگوں نے اہل دنیا سے اپنی بندگی کروائی اور طاغوت بن کر زندگی گزاری اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے مقابلے میں لوگوں پر اپنا قانون نافذ کیا، وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے یہاں سخت جوابدہی سے گزریں گے۔
Ayah 21:99لَوْکَانَ ھٰٓؤْ لَآئِ اٰ لِھَۃً مَّا وَرَدُوْھَا ط وَکُلٌّ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 99)
(اگر یہ لوگ معبود ہوتے تو وہ جہنم میں داخل نہ ہوتے اور (جھوٹے خدا اور ان کے پجاری) سب اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ )
ایک واضح اور بےساختہ دلیل
گزشتہ آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا، یہ اس سے منتزع ہونے والی وہ فطری دلیل ہے جسے مشرکین کے سامنے پیش کرنا اصل مقصد ہے کہ جن بتوں کو تم نے خدا بنا رکھا ہے اور ان کی پوجا پاٹ کرتے، ان کے سامنے چڑھاوے پیش کرتے ہو۔ اگر یہ واقعی خدا ہوتے اور ان کی پوجا کرنا جائز ہوتا تو کیا وہ جہنم کا ایندھن بنتے اور انھیں واقعی پروردگار جہنم میں پھینک دیتا۔ کیا سچے معبودوں اور خدائوں کا یہ انجام ہوتا ہے۔ یہ ایک بےساختہ دلیل ہے کہ ان کا معبود ہونا تو دور کی بات ہے وہ تو اس قابل بھی نہیں کہ کسی حوالے سے ان کا تذکرہ کیا جائے کیونکہ جس کے بارے میں علم ہوجائے کہ وہ کل کو جہنم کا ایندھن بننے والا ہے، اس سے تو ہزار دفعہ پناہ مانگی جاتی ہے نہ کہ اس کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے۔
مشرکین کی اس روش کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ یہ اپنے معبودوں سمیت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گی۔
Ayah 21:100لَھُمْ فِیْھَا زَفِیْرٌ وَّ ھُمْ فِیْھَا لاَ یَسْمَعُوْنَ ۔ (الانبیاء : 100)
(ان کے لیے اس میں (شدت عذاب سے) چلانا ہوگا اور وہ اس میں اور کچھ نہ سن سکیں گے۔ )
زَفِیْرٌکا معنی شدت عذاب سے چیخنا اور چلانا ہے اور یا زَفِیْرٌاس پھنکار کو کہتے ہیں جو سخت گرمی اور محنت اور تکان کے باعث آدمی کے منہ سے لمبے سانس کی صورت میں نکلتا ہے۔
کفار کی چیخ و پکار
جو لوگ اپنے شرک کے باعث جہنم میں پھینکے جائیں گے، جہنم کے عذاب کی شدت کے باعث ان کے منہ سے چیخیں نکلیں گی، وہ انتہائی تکلیف میں چلائیں گے اور مدد کے لیے پکاریں گے اور ان پر تکلیف کی شدت کا اس حد تک غلبہ ہوگا کہ ایک دوسرے کی چیخ و پکار بھی انھیں سنائی نہیں دے گی۔ آدمی کے لیے جب کوئی تکلیف ناقابلِ برداشت ہوجاتی ہے تو وہ عموماً تکلیف کے احساس کے علاوہ باقی ہر طرح کے احساس سے محروم ہوجاتا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ پہلے جملے میں ” ہم “ ضمیر کا مرجع بتوں کے پجاری ہیں اور دوسرے جملے میں ان کے اصنام و احجار۔ اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ مشرکین انتہائی تکلیف میں اپنے نام نہاد معبودوں کو پکاریں گے اور وہ جہنم میں ان کے ساتھ ہی ہوں گے۔ لیکن ان ٹھس پتھروں کو کچھ خبر نہیں ہوگی کہ جو زندگی بھر ہماری پوجا کرتے رہے ہیں، آج وہ ہمیں اپنی مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ اس میں ممکن ہے ذہن میں انتشارِ ضمیر کا خلجان پیدا ہو، لیکن یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انتشارِ ضمیر اس صورت میں کلام کا عیب ہے جب مرجع میں التباس کا اندیشہ ہو۔ لیکن اگر یہ اندیشہ نہ ہو بلکہ مرجع کے تعین کے لیے واضح قرینہ موجود ہو تو پھر انتشارِضمیر بجائے عیب ہونے کے ایجاز کے پہلو سے کلام کا حسن بن جاتا ہے، یہاں بھی ایسا ہی ہے۔