21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsروح القرآن

Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا سے بہرہ مند کیا حتیٰ کہ اسی حال میں ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا، کیا وہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم سرزمین (مکہ) کی طرف اس کو اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے بڑھ رہے ہیں تو کیا یہ لوگ غالب آسکتے ہیں۔

بَلْ مَتَّعْنَا ھٰٓؤُلَآئِ وَاٰبَآئَ ھُمْ حَتّٰی طَالَ عَلَیْھِمُ الْعُمُرُ ط اَفَلاَ یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا ط اَفَھُمُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ (الانبیاء : 44) (بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا سے بہرہ مند کیا حتیٰ کہ اسی حال میں ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا، کیا وہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم سرزمین (مکہ) کی طرف اس کو اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے بڑھ رہے ہیں تو کیا یہ لوگ غالب آسکتے ہیں۔ ) مخالفین کے انکار کا اصل سبب نبی کریم ﷺ کی دلآویز شخصیت اور آپ ﷺ کی حکمت و دانش میں ڈوبی ہوئی فصاحت و بلاغت اور قرآن کریم کے محکم دلائل کے باوجود قریش اور دیگر اہل مکہ کا آپ ﷺ کی دعوت پر کان نہ دھرنا بلکہ مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دینا ایک ایسا سوال ہے کہ بعض دفعہ اس میں آدمی الجھ کر رہ جاتا ہے۔ قرآن کریم نے نہایت حکمت اور انسانی فطرت کے حوالے سے اس کا جواب ارشاد فرمایا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی فطرت یہ ہے کہ جب اس کے حالات دگرگوں ہوتے ہیں تو وہ مایوسی میں ڈوبنے لگتا ہے اور جب اسے مال و دولت فراوانی سے ملتا ہے اور زندگی کی راحتیں اسے میسر آتی ہیں تو وہ عموماً خودفراموشی اور خدا فراموشی کا شکار ہوجاتا ہے۔ جب اس کی ضرورتیں اسے پریشان نہیں کرتیں بلکہ ہر چیز اسے فراوانی سے میسر آتی ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرا کوئی خدا نہیں اور جب اس کے شب و روز عیش و عشرت کی مستی میں گزرتے ہیں تو وہ اس احساس سے محروم ہوجاتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد بھی ہے۔ اسی حالت پر جب اس پر ایک طویل مدت گزر جاتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ میرے آبائواجداد بھی دولت کی ریل پیل رکھتے تھے اور میں بھی سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوا ہوں اور میرے اخلاف بھی اسی طرح داد عیش دیتے رہیں گے تو زندگی کی حقیقت، زندگی کے مقاصد، انسانی حقوق اور اقدارِ انسانیت اس کے لیے محض کتابی باتیں ہو کے رہ جاتی ہیں۔ وہ اس قدر برخودغلط ہوجاتا ہے کہ اسے اپنی خواہشات کے سوا اور کوئی حقیقت دکھائی نہیں دیتی۔ وہ اپنی ذات کے سوا کسی اور ذات پر توجہ دینے کی زحمت نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص اسے کوئی نصیحت کی بات سمجھانا چاہتا ہے تو وہ بجائے سمجھنے کے اس کا منہ نوچنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ جتنی بھی گمراہ قومیں گزری ہیں اور آج بھی جتنے گمراہ خاندان یا افراد موجود ہیں ان کی گمراہی کا یہی سب سے بڑا سبب ہے۔ ان کی دولت اور عیش و عشرت نے ان سے ان کی انسانیت چھین لی ہے۔ وہ انسانی سطح پر اتر کر کبھی سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ اس حقیقت کو مجسم شکل میں اگر آج بھی دیکھنا ہو تو اپنے جاگیرداروں اور طبقہ امراء کے بیشتر لوگوں کو دیکھ لیا جائے اور یا ان لوگوں کو دیکھ لیا جائے جو ایک طویل عرصے سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ان میں بعض خاندان تو ایسے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ حکمران پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اس ملک کا مقدر ہماری حکمرانی سے وابستہ ہے۔ اور بعض طبقات ایسے ہیں جن میں یہ پندار پیدا ہوچکا ہے۔ یہی گمراہی قریش اور اشرافِ قریش کو لگی تھی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ ہر صحیح اور سچی بات کے قبول کرنے سے ان کے دل سخت ہوگئے تھے۔ چناچہ ان کی امارت اور حکومت کی طوالت نے ان کو ہر صحیح بات سے محروم کردیا تھا۔ ایک وارننگ آیت کے دوسرے حصے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے سے یقینا یہ لوگ ناکارہ ثابت ہوئے ہیں۔ انھیں اگر کوئی چیز راہ راست پر لاسکتی ہے تو صرف یہ بات کہ اپنے مستقبل کے بارے میں خطرات محسوس کریں اور یہ سمجھ لیں کہ زمین ان کے پائوں کے نیچے سے نکلنے والی ہے۔ چناچہ اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ نبی کریم ﷺ کی جس دعوت کو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے آگے بڑھنے سے روک دیا ہے اور آپ کی ساری سرگرمیاں صرف آپ کی زندگی تک ہیں اس کے بعد یہ خودبخود دم توڑ جائیں گی۔ اسی دعوت کا اثر یہ ہے کہ یہ دعوت مکہ کے گردوپیش میں دور دور تک اپنے معاونین پیدا کرچکی ہے۔ مکہ والے یقینا اس کی طرف سے دل سخت کرچکے ہیں لیکن مکہ کے اردگرد ور دور تک کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس میں اس دعوت کے اثرات نہ پہنچ چکے ہوں۔ حتیٰ کہ مدینہ منورہ آہستہ آہستہ اس دعوت کے زیراثر آتا جارہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ دین اور اس کی یہ دعوت آہستہ آہستہ سرزمینِ مکہ کی طرف اس کے گردوپیش کو فتح کرتی ہوئی بڑھتی جارہی ہے۔ قوموں کی تاریخ میں چند سالوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ تم دیکھو کے کہ وہ وقت دور نہیں کہ تم تو اپنے تئیں آنحضرت ﷺ کو ہجرت پر مجبور کردو گے لیکن ایک ہی سال بعد میدانِ بدر میں یہی کمزور اور نہتے لوگ تمہارا بھرکس نکال دیں گے۔ اور پھر چند ہی سال بعد وہ مکہ جس کی طاقت پر تمہیں ناز ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا اور تم میں سے جو لوگ اس دعوت کو قبول کرنے سے منکر ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے سامنے ہاتھ باندھے زندگی کی امان کی درخواست کررہے ہوں گے اور پھر اس سے ایک سال بعد اعلان کردیا جائے گا کہ سرزمینِ عرب اسلام کا گہوارہ بن چکی ہے اب یہاں اس کے ماننے والے رہیں گے، انکار کرنے والے عرب کی سرزمین کو چھوڑ دیں اور یا قتل ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اس طرح سے حق ہر طرف سے زمین کو سمیٹتا ہوا فاتحانہ شان سے اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف بڑھے گا اور ہر قوت اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے گی۔ اَفَھُمُ الْغٰلِبُوْنَ ” تو کیا یہ لوگ غالب آنے والے ہیں۔ “ ہرچند کہ مکہ معظمہ میں اس آیت کریمہ کے نزول تک اسلام مظلوم تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلامی دعوت کے آگے بڑھنے کے امکانات سمٹتے جارہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جسے چشم بینا عطا کی تھی وہ دیکھ سکتا تھا کہ کس طرح اسلام کا دائرہ اثر پھیل رہا ہے اور کس طرح ہر قبیلے میں اس کے اثرات وسیع ہوتے جارہے ہیں۔ بنا بریں یہ تصور کرنا کس قدر حماقت تھی کہ اب اسلام کے بروئے کار آنے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں اور حق و باطل کی اس کشمکش میں قریش پورے طور پر غالب آکر رہیں گے کیونکہ اسلام کی دعوت صرف اہل مکہ کے لیے نہیں تھی بلکہ اس کی مخاطب بالعموم پوری دنیا تھی اور بالخصوص عرب تھے۔ مکہ والے یقینا بعض تحفظات کا شکار تھے لیکن گردوپیش میں اسلام کے اثرات جس طرح بڑھتے جارہے تھے اس کے پیش نظر قریش کے غلبے کے امکانات روزبروز ختم ہوتے جارہے تھے اور اسلامی غلبے کے قدم آگے بڑھ رہے تھے۔
Ayah 21:45

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے ! میں تو تمہیں بس وحی کے ذریعے سے انذار کررہا ہوں اور بہرے جب وہ خطرے سے آگاہ کیے جاتے ہیں تو پکار کو نہیں سنتے۔

قُلْ اِنَّمَا اُنْذِرُکُمْ بِالْوَحْیِ صلے ز وَلاَ یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَـآئَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 45) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! میں تو تمہیں بس وحی کے ذریعے سے انذار کررہا ہوں اور بہرے جب وہ خطرے سے آگاہ کیے جاتے ہیں تو پکار کو نہیں سنتے۔ ) ایک مزید تنبیہ سابقہ آیت کریمہ میں قریش کو جو وارننگ دی گئی ہے اور ایک نشانی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر ان پر یہ بات واضح کردیجیے کہ اسلام کے عمومی غلبے اور تمہاری شکست اور نامرادی کی جو پیشگوئی کی گئی ہے اس کو محض مفروضہ نہ سمجھو بلکہ یہ بات مجھ پر اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے نازل کی گئی ہے اور تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی وحی ہر خطا سے پاک ہیں۔ اس لیے اس پیشگوئی کے بروئے کار آنے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں لیکن تم جس طرح اپنی عادت کے مطابق اسے مذاق میں اڑا رہے ہو یہ بھی ایسی بات نہیں جو سمجھ میں آنے والی نہ ہو کیونکہ مسلسل حق سے انکار کے باعث تمہاری عقلیں مائوف ہوگئی ہیں۔ تمہیں بالکل سامنے کی بات بھی مشکل سے سمجھ میں آتی ہے اور جب کسی کی عقل جواب دے جائے یا وہ عقل سے بےبہرہ ہوجائے تو پھر اس کی حیثیت کانوں سے بہرے جیسے شخص کی ہوتی ہے کہ اسے خطرے کے وقت ہزار پکارا جائے وہ کبھی اس پکار کو نہیں سنتا اور بالآخر خطرے کا شکار ہو کر رہتا ہے۔ میں بھی اپنی پیغمبرانہ فطرت کے مطابق تمہیں شب و روز خبردار کررہا ہوں لیکن تم بہروں کی طرح میری بات سن کے نہیں دیتے تو میں اس پر سوائے تأسف کے اظہار کے اور کچھ نہیں کرسکتا۔
Ayah 21:46

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اگر آپ کے رب کے عذاب کا کوئی جھونکا انھیں چھو گیا تو یہ چیخ اٹھیں گے کہ ہائے ہماری بدبختی، بیشک ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔

وَلَئِنْ مَّسَّتْھُمْ نَفْحَۃٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ یٰـوَیْلَنَـآ اِنَّاکُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 46) (اگر آپ کے رب کے عذاب کا کوئی جھونکا انھیں چھو گیا تو یہ چیخ اٹھیں گے کہ ہائے ہماری بدبختی، بیشک ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔ ) آج یہ ہر وارننگ کے جواب میں جس طرح مذاق اڑاتے اور منہ چڑاتے ہیں کاش انھیں عذاب کی حقیقت اور شدت کا کچھ بھی اندازہ ہوتا تو کبھی یہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب تو جڑ اکھاڑ دینے والی چیز ہے، اس کی شدت کا عالم تو یہ ہے کہ اگر اس کا معمولی جھونکا بھی انھیں چھو جائے تو ان کی ساری شیخی دھری رہ جائے۔ نَفْحَۃٌمیں تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی عذاب کی لپیٹ میں آجانا تو یقینا تصور کو بھی جلا دینے والا ہے۔ اگر اس کا معمولی جھونکا اور اس کی معمولی لپٹ بھی انھیں لگ جائے تو یہ چیختے پھریں اور جو باتیں آج انھیں سمجھ نہیں آرہیں ان کی زبانوں پر ان کے اعتراف کے سوا اور کچھ نہ ہو، یہ واویلا کرتے پھریں کہ ہائے ہماری بدبختی، آج جس مصیبت سے ہم دوچار ہورہے ہیں یہ بےسبب نہیں، ہم ہی اپنے اوپر ظلم توڑنے والے تھے۔ یعنی ہم بار بار اس کا مطالبہ کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے اور آج جبکہ اس کا ایک جھونکا ہم تک پہنچا ہے تو ہم ایک ایسی مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہیں جس کے ازالے کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھیں گے تو کسی جان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی کا رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی عمل ہوگا تو ہم اسے بھی لاحاضر کریں گے اور ہم حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔

وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْائً ط وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَ تَیْنَا بِھَا ط وَکَفٰی بِنَا حٰسِبِیْنَ ۔ (الانبیاء : 47) (اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھیں گے تو کسی جان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی کا رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی عمل ہوگا تو ہم اسے بھی لاحاضر کریں گے اور ہم حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح الْمَوَازِیْنَ …میزان کی جمع ہے۔ القسطاس کی صفت ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ موصوف اور صفت میں واحد جمع میں مطابقت ہونی چاہیے، لیکن یہاں ایسا نہیں۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ القسط مصدر ہے۔ اور جب مصدر صفت واقع ہو تو وہ واحد اور جمع سب کی صفت واقع ہوسکتا ہے۔ مَوَازِیْنَ کے جمع لانے کی وجہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ الْمَوَازِیْنَ کو جمع اس لیے لایا گیا ہے کہ قیامت میں وزن اعمال کے لیے بہت سی میزانیں استعمال کی جائیں گی۔ خواہ ہر شخص کے لیے الگ الگ میزان ہو یا خاص خاص اعمال کے لیے الگ الگ میزانیں ہوں مگر جمہور علماء اس پر متفق ہیں کہ میزان ایک ہی ہوگی، اس کو بصیغہ جمع اس لیے لایا گیا ہے کہ وہ بہت سی میزانوں کا کام دے گی کیونکہ تمام مخلوقات کے اعمال کو یہی تولے گی، پھر اس میزان کی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ صرف تولنے ہی کے لیے استعمال نہیں ہوگی بلکہ وہ صحیح تولنے اور عدل و انصاف میں ذرا کمی بیشی نہیں کرے گی۔ مستدرک حاکم میں حضرت سلمان فارسی ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز جو میزان وزن اعمال کے لیے رکھی جائے گی اتنی بڑی اور وسیع ہوگی کہ اس میں آسمان و زمین کو تولنا چاہیں تو وہ بھی اس میں سما جائیں۔ حضرت انس ( رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی جناب میں گزارش کی کہ قیامت کے دن آپ ﷺ میری شفاعت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، میں انشاء اللہ شفاعت کروں گا۔ میں نے عرض کی، یارسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ کو کہاں تلاش کروں ؟ فرمایا پہلے پل صراط پر مجھے ڈھونڈنا اور اگر وہاں ملاقات نہ ہوئی تو میزان کے پاس مجھے تلاش کرنا۔ میں نے عرض کیا کہ اگر وہاں بھی شرف ملاقات نصیب نہ ہو۔ فرمایا پھر حوض کے پاس۔ میں ان تین مقامات میں سے کسی ایک پر ضرور ہوں گا۔ (ترمذی بیہقی) حاکم اور بیہقی نے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا قیامت کے روز بھی آپ ﷺ اپنے اہل و عیال کو یاد رکھیں گے۔ فرمایا، قیامت میں تین مقام تو ایسے ہوں گے کہ ان میں کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ ایک وہ وقت جب میزانِ عدل کے سامنے وزن اعمال کے لیے حاضری ہوگی جب تک نتیجہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس کا پلہ نیکیوں کا بھاری ہوا یا ہلکا رہا، کسی کو کسی کی یاد نہ آئے گی اور دوسرا مقام وہ ہے جب نامہ ہائے اعمال دئیے جائیں گے، جب تک یہ متعین نہ ہوجائے کہ نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آیا یا بائیں ہاتھ میں یا پشت کی طرف آیا۔ اور تیسرا مقام پل صراط سے گزرنے کا وقت ہے جب تک پار نہ ہوجائیں، کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ (مظہری) وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَ تَیْنَا بِھَا یہاں کَانَ کا اسم محذوف ہے، یعنی یوم حساب اور میزانِ اعمال کے وقت ہر انسان کے سب چھوٹے بڑے اور اچھے برے اعمال حاضر کیے جائیں گے۔ کسی شخص سے زیادتی نہیں ہوگی۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ میرے بعض اعمال وزن نہیں کیے جاسکے ورنہ میں یقینا نجات پا جاتا یا بہتر حالت میں ہوتا۔ یہی بات سورة لقمان میں ان الفاظ میں ارشاد فرمائی گئی ہے۔ یٰـبُنَیَّ اِنَّھَا اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّـۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَـکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْفِی السَّمٰوٰتِ اَوْفِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِھَا اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ۔ اے میرے بیٹے کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو خواہ وہ کسی گھاٹی میں ہو یا آسمان میں ہو یا زمین میں خدا اس کو موجود کردے گا، بیشک خدا بڑا ہی باریک بین اور بڑی ہی خبر رکھنے والا ہے۔ وزنِ اعمال کی صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ فرشتوں کے لکھے ہوئے اعمال نامے تولے جائیں جیسا کے حدیث بطاقہ سے اس طرف اشارہ نکلتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اعمال کو مجسم کرلیا جائے اور جواہر مستقلہ کی شکل دے دی جائے اور ان کا وزن کیا جائے۔ عام طور سے روایات اسی پر شاہد ہیں اور جمہور علماء نے اسی صورت کو اختیار کیا ہے۔ ترمذی نے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ! میرے دو غلام ہیں جو مجھے جھوٹا کہتے ہیں اور معاملات میں خیانت کرتے ہیں، اور میرے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کے مقابلے میں، میں انھیں زبان سے بھی برا بھلا کہتا ہوں اور ہاتھ سے مارتا بھی ہوں تو میرا اور ان غلاموں کا انصاف کس طرح ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نافرمانی اور خیانت اور سرکشی کو تولا جائے گا، پھر تمہارے سبّ و شتم اور مار پیٹ کو تولا جائے گا۔ اگر تمہاری سزا اور ان کا جرم برابر ہوا تو معاملہ برابر ہوجائے گا اور اگر تمہاری سزا ان کے جرم سے کم رہی تو وہ تمہارا احسان شمار ہوگا۔ اور اگر ان کے جرم سے بڑھ گئی تو جتنی تم نے زیادتی کی ہے اس کا تم سے انتقام لیا جائے گا۔ یہ شخص وہاں سے اٹھ کر الگ بیٹھ گیا اور رونے لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن میں یہ آیت نہیں پڑھی۔ پھر آپ نے متذکرہ بالا آیت تلاوت فرمائی۔ اس نے عرض کیا کہ اب تو میرے لیے اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ میں ان کو آزاد کرکے اس حساب کے غم سے بےفکر ہوجاؤں۔ (قرطبی) وَکَفٰی بِنَا حٰسِبِیْنَ ” اور ہم حساب کے لیے کافی ہیں۔ “ مشرکین کا خیال تھا کہ اولاً تو قیامت کا وقوع عقل میں آنے والی بات نہیں۔ چلیے اگر اسے مان بھی لیا جائے تو یہ بات تو کسی طرح معقول نہیں کہ اربوں کھربوں مخلوقات کے بیشمار اعمال کا حساب کیا جائے گا۔ سب کے اعمال کہاں سے میسر آئیں گے۔ پھر ان کے نیک و بد کا حساب کون کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی کام کے لیے بھی ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں اور کوئی کام ایسا نہیں جو ہماری قدرت کی وسعت سے باہر ہو۔ تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہر چیز اور ہر کام پر محیط ہے، اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ اس لیے تمام مخلوقات کے اعمال میں سے کوئی عمل مخفی نہیں رہے گا اور اعمال اپنی وسعت کے باوجود حساب کتاب سے باہر نہیں رہیں گے اور اس کے لیے تمہارے مزعومہ شرکاء کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی، اللہ تعالیٰ تنہا اس کام کے لیے کافی ہے۔
Ayahs 21:48–49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

ہم عطا کرچکے ہیں موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو فرقان اور روشنی اور ذکر پرہیزگاروں کے لیے۔

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ قیامت سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔

وَلَقَدْ اٰ تَیْنَا مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَضِیْـآئً وَّذِکْرًالِّلْمُتَّـقِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْبِ وَھُمْ مِّنَ السَّاعَۃِ مُشْفِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 48، 49) (ہم عطا کرچکے ہیں موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو فرقان اور روشنی اور ذکر پرہیزگاروں کے لیے۔ جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ قیامت سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ ) گزشتہ انبیائے کرام سے استشہاد یہاں سے متعدد انبیائے کرام کا تذکرہ شروع ہورہا ہے۔ اس سے پہلے مشرکینِ مکہ نے جتنے اعتراضات کیے ان سب کا جواب دیا گیا اور مختلف اوقات میں جو انھوں نے نشانیاں مانگیں اس کے نتائج سے باخبر کیا گیا اور نبوت کے بارے میں جو انھوں نے غلط تصورات اپنا رکھے تھے ان کا ازالہ کیا گیا۔ اب یہاں سے چند انبیائے کرام کی زندگی کے حالات اور ان کی قوموں کی تاریخ بیان کی جارہی ہے تاکہ اعتراض کرنے والوں کو یہ اندازہ ہوسکے کہ نبی کریم ﷺ کی شخصیت سابقہ انبیائے کرام کی شخصیتوں سے مختلف نہیں۔ آپ ﷺ کی دعوت بعینہوہی ہے جو اس سے پہلے انبیائے کرام پیش کرتے رہے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ان کی دعوت اور ان کی شریعت ان کے اپنے حالات کے مطابق تھی اور نبی کریم ﷺ کی دعوت اس دین اور شریعت کے لیے ہے جس کا تعلق پوری نوع انسانی اور قیامت تک کے حالات سے ہے۔ یہ پہلی شریعتوں کی جامع بھی ہے اور آنے والے حالات کے لیے کامل بھی۔ لیکن پہلی دعوتوں اور شریعتوں کے حوالے سے اس میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے اور مزید یہ کہ قریش نے جس طرح نبی کریم ﷺ کی مخالفت پر کمر باندھ رکھی ہے اور ان کا گمان یہ ہے کہ وہ مخالفت کے زور سے نبی کریم ﷺ کی دعوت کو ناکام کردیں گے۔ سابقہ انبیائے کرام کے حالات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قریش کا یہ رویہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوت کے ساتھ کوئی نیا نہیں۔ ہر دور میں پیغمبروں کے ساتھ ان کی امتوں نے ایسا ہی معاملہ کیا ہے۔ لیکن ان کی تاریخ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ایک مدت تک ڈھیل دی گئی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کرلیں۔ لیکن جب انھوں نے اس ڈھیل سے فائدہ نہ اٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے بھیجے جانے والے پیغمبر کو اپنی حفاظت میں لے لیا اور انکار کرنے والی قوم کو عذاب کی نذر کردیا۔ آج پھر وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے تو سابقہ انبیائے کرام کی سرگزشتوں سے قریش کو سوچنے کا موقع دیا جارہا ہے کہ تم نے اگر پہلی امتوں جیسا رویہ جاری رکھا تو یا رکھو تم بھی اس عذاب سے بچ نہیں سکو گے جس عذاب کا شکار پہلی امتیں ہوئی ہیں۔ تورات کی تین خصوصیات سب سے پہلی بات جو پیش نظر آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعوت کے مخاطب تمام لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جن اہل کتاب کے ساتھ تمہارا صدیوں کا واسطہ ہے اور آج وہ طریقے طریقے سے تمہیں نبی کریم ﷺ اور ان کے لائے ہوئے دین کے خلاف اکساتے رہتے ہیں اور انھیں کے سکھائے پڑھائے ہوئے سوالات اور اعتراضات تم نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کرتے رہتے ہو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے ان کی طرف حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا تھا اور ان پر ایک کتاب اتاری تھی جو آج بھی تورات کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ اس کتاب کی باقی آسمانی کتابوں کی طرح تین خصوصیات تھیں۔ اس کی پہلی خصوصیت یہ تھی کہ اسے فرقان بنایا گیا تھا، وہ حق و باطل، صحیح اور غلط میں فرق کرنے والی تھی۔ اس نے لوگوں کے سامنے خیر اور شر، حلال اور حرام اور حسن اور قبح میں فرق کرکے واضح کردیا تھا کہ یہ ہے وہ راستہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف جاتا ہے اور جس سے دنیوی اور اخروی کامیابیوں کی ضمانت ملتی ہے۔ جس طرح اندھیرے اور اجالے کے فرق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور جس طرح ندی کے دو کنارے اکٹھے نہیں ہوسکتے اور جس طرح تاریخ کے دو باب باہم پیوست نہیں ہوسکتے، اسی طرح خیر اور شر، اچھائی اور برائی، جھوٹ اور سچ اور صحیح اور غلط میں بھی کوئی ابہام نہیں ہوسکتا۔ تورات نے ہر طرح کے ابہام کو دور کرکے خیر و شر کو الگ الگ اور نمایاں کرکے دکھا دیا۔ اسی لیے اس کو فرقان کا نام دیا گیا تھا، کیونکہ فرقان کا معنی ہے دو چیزوں میں فرق کرنے والا اور کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے والی کسوٹی۔ تورات کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ضیاء یعنی روشنی ہے وہ تمام فکری چیزوں کو اس طرح مبرہن اور نمایاں کرکے پیش کرتی ہے کہ صحیح اور غلط افکار میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا۔ وہ زندگی کی شاہراہ کو اس طرح روشن کردیتی ہے کہ ذہنی و اخلاقی اور فکری و عملی تاریکیوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ اور تیسری صفت اس کی یہ ہے کہ وہ اولادِ آدم کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر بھیجنے کے بعد سب سے پہلے یہی نصیحت فرمائی گئی تھی کہ زندگی گزارنے کے لیے ہدایت و رہنمائی تم پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کی جائے گی۔ تمہیں اس کا اتباع کرنا ہے۔ اپنی طرف سے زندگی کے ضوابط اور آداب مقرر کرنے کی اجازت نہیں۔ چناچہ تورات باقی آسمانی کتابوں کی طرح اسی بھولے ہوئے سبق کی یاددہانی کے لیے نازل کی گئی تھی۔ البتہ ! یہ ضرور ہے کہ اس کی ان خوبیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے متقی ہونا ضروری ہے۔ تقویٰ اصل میں وقویٰ ہے، جس کا معنی ہے بچنا اور ڈرنا اور ہر ممکن احتیاطی تدابیر بروئے کار لانا۔ جس شخص کے اندر اچھائی اور برائی اور خیر اور شر اور حق اور باطل کی صحیح شناخت موجود نہیں تو اس سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ خیر کو قبول کرے گا اور شر کو قبول کرنے سے انکار کردے گا۔ جب تک اس کے دل میں صحیح اور غلط میں امتیاز کا دیا روشن نہیں ہوتا اس وقت تک وہ کتاب اللہ کے فرقان ہونے کی صفت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اس کے لیے لازمی چیز یہ ہے کہ وہ بن دیکھے خدا پر یقین رکھتا ہو کہ وہ پوری کائنات کا خالق ومالک اور رب ہے۔ اس نے ہر ایک کو پیدا فرمایا اور پھر اس کی زندگی کے امکانات روشن کیے۔ وہ ہر مخلوق کی عہد بعہد بدلتی ہوئی ضرورتوں کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ پورا بھی کرتا ہے۔ اسی نے انسان کو جسمانی ضرورتیں بھی بہم پہنچائی ہیں اور اس کی معنوی ضرورتوں کی کفالت بھی کی ہے۔ اس نے انسانوں کی ربوبیت کا سامان اس لیے تو نہیں کیا کہ وہ خودرو پودوں کی طرح زندگی گزاریں اور مل دل کر ختم ہوجائیں۔ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی پیہم نوازشات اور عقل و شعور کی بخشش اور وحی الٰہی کا نزول اسی لیے تو ہے کہ اسے یہ معلوم ہو کہ مجھے زندگی ایک خاص مقصد کے لیے دی گئی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں اتار کر میری رہنمائی کی گئی ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ میری زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں گزرے، میرے ایک ایک عمل کو محفوظ کیا جائے اور پھر ایک دن ایسا آئے جب اللہ تعالیٰ کے عدل کی کارفرمائی ہو اور اس کے نتیجے میں جزاء اور سزا کا ترتب ہو۔ چنانچہوہی لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اس احساس و شعور کے تحت زندگی گزارتے ہیں اور ان کا کوئی لمحہ اس تصور سے خالی نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایسی ذات کی نگرانی میں ہیں جسے نہ کبھی نیند آتی ہے اور کبھی اونگھ آتی ہے اور جو ان کے ایک ایک عمل کو محفوظ کررہا ہے اور پھر وہ ایک دن ایسا لائے گا جسے قیامت کہتے ہیں جب ان سے ایک ایک عمل کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔ اسی احساس کا نام تقویٰ ہے اور اس احساس کے حامل لوگ اپنے رب کی خشیت اور جوابدہی کے دن سے ہمیشہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ بھی ایک بابرکت یاددہانی ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے تو کیا تم اس کو قبول کرنے سے انکاری ہو۔

وَھٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ اَنْزَلْنٰـہُ ط اَفَاَنْـتُمْ لَـہٗ مُنْکِرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 50) (اور یہ بھی ایک بابرکت یاددہانی ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے تو کیا تم اس کو قبول کرنے سے انکاری ہو۔ ) قرآن بابرکت کتاب، اس کا انکار محرومی ہے جس طرح ہم نے تورات اور دیگر آسمانی کتابوں کو اتارا تھا اسی طرح ہم نے قرآن کو بھی نازل کیا ہے۔ جس طرح سابقہ آسمانی کتابیں اپنے ساتھ برکتیں لے کر نازل ہوئی تھیں اسی طرح یہ کتاب بھی برکات و حسنات کا منبع ہے۔ جس گھر میں پڑھی جائے گی وہاں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ جس دل میں اترے گی وہ دل روشن ہوجائے گا۔ جس ملک میں نافذ کی جائے گی اس ملک پر شب و روز رحمتیں اور برکتیں برسیں گی۔ اور تاریخ کے مختلف ادوار میں جب بھی قرآن کریم کو حقیقی معنوں میں اپنا رہنما بنایا گیا اور وہ جس مقصد کو لے کر آئی ہے مسلمانوں نے اسے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تو اللہ تعالیٰ نے وہ برکتیں عطا فرمائیں جس کا تصور بھی آج شاید مشکل ہو۔ قریش کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ کیا تم ایسی بابرکت کتاب کو ماننے سے انکار کررہے ہو۔ سوچ لو کہ پہلی معذب قوموں نے جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہونے والی کتابوں اور مبعوث ہونے والے رسولوں کا انکار کیا تو وہ کس عبرتناک انجام کو پہنچیں۔ ان کی تاریخ تمہارے سامنے ہے، تم اپنے تجارتی اسفار میں ان کے کھنڈرات سے گزرتے ہو۔ تو کیا قرآن کریم کا انکار کرکے تم اس تباہی سے محفوظ رہو گے ؟
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

(اور اس سے پہلے ہم نے حضرت ابراہیم کو ان کی دانائی عطا فرمائی تھی اور ہم ان سے خوب باخبر تھے۔

وَلَقَدْ ٰ اتَیْنَـآ اِبْرٰھِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 51) (اور اس سے پہلے ہم نے حضرت ابراہیم کو ان کی دانائی عطا فرمائی تھی اور ہم ان سے خوب باخبر تھے۔ ) حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ گزشتہ سورت میں چونکہ تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اس لیے اس کے مختصر ذکر پر اکتفا فرمایا۔ البتہ ! یہ بات واضح کردی کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کی طرح قوم کی اصلاح کے لیے تشریف لائے تھے اور ان کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب نازل کی تھی جو اپنی صفات کے اعتبار سے فرقان، ضیاء اور ذکر کہلانے کی مستحق تھی۔ لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری تھا کہ اسے سننے اور قبول کرنے والے اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا کریں اور قیامت کے دن کی جوابدہی کا احساس زندہ رکھیں۔ اب نبی کریم ﷺ پر تورات ہی کی طرح قرآن کریم نازل کیا گیا ہے اور یہ تورات سے بھی بڑھ کر اپنے اندر وہ صفات رکھتا ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن قریش کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح تورات سے استفادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان اور خشیت الٰہی اور جوابدہی کے احساس کے بغیر ممکن نہیں، قرآن سے بھی استفادہ ان صفات کو پیدا کیے بغیر خارج از بحث ہے۔ تاریخ ہدایت اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا خاص مقام اب یہاں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تفصیل سے ذکر کیا جارہا ہے کیونکہ نزول قرآن کے وقت بھی اور آج بھی تینوں بڑے مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت انھیں اپنا مقتداء سمجھتے ہیں اور اہل عرب بالخصوص انھیں کو اپنا جدِامجد، مورثِ اعلیٰ اور حقیقی رہنما سمجھتے تھے۔ ان کے تذکرے کے آئینے میں یہ دکھانا مقصود ہے کہ نبی کریم ﷺ جس طرح شب و روز توحید کے فروغ اور شرک کے رد میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو وقف کر رہے ہیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ایسا ہی کیا تھا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ جو دعوت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی، نبی کریم ﷺ بھی وہی دعوت اہل مکہ کے سامنے پیش فرما رہے ہیں۔ آپ ﷺ کی تمام تر مساعی اور اس راستے میں بیش بہا قربانیاں اور جان توڑ محنت بالکل اسی محنت کا عکس اور قربانیوں کا پرتو ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انجام دی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بھی اسی رُشد، ہدایت اور دانش سے نوازا ہے جس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نوازا گیا تھا۔ رُشد کا ترجمہ ہدایت بھی کیا گیا ہے، ہوش مندی اور دانش بھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس لفظ کا استعمال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے اپنے اندر جو مفہوم رکھتا ہے کسی زبان میں بھی شاید اس کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ جذبہ بےپناہ جس نے نوعمری میں باطل سے لڑنے کا حوصلہ دیا پورے شہر میں اپنے مشن کے حوالے سے تنہا ہوتے ہوئے اپنے والد اور پوری قوم کو چیلنج کرنا اور اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنا اور اس راستے میں پیش آنے والی بڑی سے بڑی مشکل کو خاطر میں نہ لانا، ایک ایسا جذبہ ہے جسے کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح دعوت حق کو پیش کرنے میں جس حکمت و مصلحت کو پیش نظر رکھا گیا اور گفتگو میں جس طرح خوبصورت طنز کے ذریعے دماغوں کو جھنجھوڑا گیا اور جس طرح بالکل سامنے کے لیکن نہایت موثر دلائل کے ساتھ اپنے مخالفین کو آہستہ آہستہ ایسی سطح پر لایا گیا کہ دیکھنے والوں نے ان کی بےبسی اور جواب دینے سے معذوری علی روؤس الاشہاد اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس دانش، استدلالی قوت اور جذبہ بےپناہ اور غیرمتزلزل حوصلہ کو پروردگار نے رشد کے نام سے تعبیر فرمایا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی زبان میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے اس کے معنی کا حق ادا ہوسکتا ہو۔ مزید ایک بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم کو اتنے بڑے مقام و مرتبہ سے یونہی نہیں نواز دیا تھا بلکہ ہم جانتے تھے کہ ابراہیم میں یہ تمام صفات بتمام و کمال موجود ہیں اور انھوں نے قدم قدم پر اس کا ثبوت فراہم کیا تھا اور یہ صفات ہم نے خود مسلسل تربیت سے ان کے اندر پیدا کی تھیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اس کی کوئی بخشش بھی اندھی بانٹ نہیں ہوتی اور نبوت تو سب سے اعلیٰ اور نازک ذمہ داری ہے۔ اسے تو پروردگار اسی کو عطا کرتا ہے جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا بار اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ” اللہ خوب جانتا ہے کہ اپنی رسالت کس کے حوالے کرے۔ “
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

یاد کرو ! جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا مورتیاں ہیں جن کی پوجا پاٹ پر تم جمے بیٹھے ہو۔

اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَاھٰذِہِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْٓ اَنْـتُمْ لَھَا عٰکِفُوْنَ ۔ (الانبیاء : 52) (یاد کرو جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا مورتیاں ہیں جن کی پوجا پاٹ پر تم جمے بیٹھے ہو۔ ) اصنام پرستی کی مذمت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جس دانش و بصیرت، ہدایت اور حوصلہ مندی سے نوازا تھا، یہ اس کا اظہار ہے۔ ابھی آپ عنفوانِ شباب میں ہیں۔ جب نوجوانوں پر جوانی کے جذبوں اور خواہشات کی سحرکاریوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ جب وہ کسی سنجیدہ بات اور خواہشات کو حدود میں رکھنے والی کسی نصیحت کے سننے کے بھی روادار نہیں ہوتے انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کون کس کی پوجا کر رہا ہے، ان کے سامنے ایک ہی معبود ہوتا ہے کہ جس کا نام جوانی اور اس کے تقاضے ہیں۔ وہ صرف ایک راستے کو جانتے ہیں جس میں کچھ لوٹا جاتا اور کچھ لٹوایا جاتا ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ جانے کس سانچے میں ڈھلے اور کن جذبوں سے نوازے گئے تھے کہ آپ ( علیہ السلام) اسی عمر میں وہ بات کہہ رہے ہیں جس میں قوم اور اقتدار کی طرف سے پیش آنے والی مشکلات کے سوا اور کوئی چیز ملنے والی نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بت گروں اور اقتدار کے مسند نشینوں میں ایک ملی بھگت کے نتیجے میں نمرود تخت اقتدار پر براجمان ہے۔ بتوں کو مورتیاں کہنا اور اس طرح تحقیر آمیز انداز میں انھیں یاد کرنا اپنے آپ کو مصائب کے حوالے کردینا ہے، لیکن وہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے اپنے اس فرض کی انجام دہی کی فکر میں ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے انھیں فائز کیا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے، حکمرانی کوئی اور کررہا ہے۔ رزق اللہ تعالیٰ کا کھایا جارہا ہے لیکن دل بتوں کی محبت سے سرشار ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنے باپ کے سامنے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ آپ کا کوئی خالق بھی ہے اور رازق بھی۔ اسی نے آپ کو مہلت عمل دے رکھی ہے۔ عجیب بات ہے کہ رزق اس کا کھاتے ہو اور سر بتوں کے سامنے جھکاتے ہو۔ پھر بت خانے میں جا کر اور اس سے باہر مختلف تقریبات میں قوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ جنھیں تم خدا سمجھتے ہو وہ تمہارے ہاتھوں کی بنائی ہوئی مورتیاں ہیں۔ تمثال اس صورت کو کہتے ہیں جو ہاتھوں سے بنائی جائے چونکہ اس قوم میں مظاہرِقدرت کی پوجا کرنے والے بھی تھے اور سیارہ پرست بھی اور کچھ لوگ ماضی میں گزرے ہوئے بزرگوں سے عقیدت رکھتے تھے اس لیے ان مورتیوں میں ستاروں کی شبیہیں بھی تھیں، گزشتہ بزرگوں کے مجسمے بھی تھے۔ اپنے ہاتھوں سے گھڑی ہوئی مورتیوں کے بارے میں وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ شان الوہیت کی مالک ہیں۔ چناچہ انھیں مورتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحقیر کے انداز میں جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا کہ ان مورتیوں کی آخر حقیقت کیا ہے ؟ تم جو شب و روز ان پر دھرنا جمائے بیٹھے ہو اور ہر وقت ان کی پوجا کرنے کی فکر میں رہتے ہو اور ان کے سامنے چڑھاوے چڑھاتے ہو، پتھر کی یہ مورتیاں جو نہ حرکت کرتی ہیں، نہ بولتی ہے نہ کھاتی ہیں اور تم ان کے سامنے مٹھائی کے تھال سجا کے رکھتے ہو، آخر یہ قصہ کیا ہے ؟
Ayah 21:53

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انھوں نے جواب دیا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے۔

قَالُوْا وَجَدْنَـآ ٰ ابَـآئَ نَالَھَا عٰبِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 53) (انھوں نے جواب دیا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے۔ ) قوم کا حماقت آمیز جواب جواب میں آپ ( علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں نے وہی بات کہی جو ایسی حماقتوں کے حامی ہمیشہ کہا کرتے ہیں۔ جب ان سے دلیل کا جواب دلیل سے بن نہیں پاتا تو ان کے نزدیک سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ہم نے اسی پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ اگر ہم غلط ہیں تو ہمارے باپ دادا تو غلط نہیں ہوسکتے۔ قرآن کریم نے اور بھی بعض مواقع پر ان کی اس حماقت پر گرفت کی ہے۔ اور یہ اصولی بات ارشاد فرمائی ہے کہ دنیوی معاملات میں یہ جاننے کے لیے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ علم اور عقل سے پوچھا جاتا ہے۔ چناچہ ہر دور کے اہل علم اور اصحابِ عقل ان معاملات میں جو کچھ کہتے ہیں اسے قبول کرلیا جاتا ہے۔ اسی طرح جس بات کا تعلق دین سے ہو اس میں ان لوگوں سے پوچھا جاتا ہے جو ہدایت یافتہ ہوں اور دین کو سمجھتے ہوں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ لوگ پہلے گزرے ہیں یا آج موجود ہیں۔ جس طرح آج اچھے لوگ بھی موجود ہیں اور برے بھی، اسی طرح جو لوگ گزر چکے اور آج انھیں آبائواجداد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ان میں بھی ہر طرح کے لوگ تھے۔ اس لیے ان کا آبائواجداد ہونا کوئی دلیل نہیں۔ دلیل علم ہے، عقل ہے یا ہدایت۔ آج کے لوگ چند سالوں کے بعد آبائواجداد میں شامل ہوجائیں گے۔ تو کیا ان لوگوں کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے کہ ان کی جہالت اور ان کی بےدینی ان کی اولاد کے لیے سند بن جائے گی۔
Ayah 21:54

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

آپ نے کہا کہ تم بھی اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں مبتلا رہے ہو۔

قَالَ لَقَدْکُنْـتُمْ اَنْـتُمْ وَ ٰ ابَـآؤُکُمْ فِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الانبیاء : 54) (آپ نے کہا کہ تم بھی اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں مبتلا رہے ہو۔ ) بت پرستی صریح گمراہی ہے بت پرستی ایک صریح گمراہی ہے۔ کوئی صاحب دانش آدمی اس کی تائید نہیں کرسکتا اور کسی اللہ تعالیٰ کے نبی نے کبھی اسے گوارا نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اس کی مذمت کی۔ اس لیے جس طرح آج بت پرستی گمراہی ہے اسی طرح تمہارے آبائواجداد کے زمانے میں بھی گمراہی تھی۔ آج تم اس گمراہی میں مبتلا ہو، ماضی میں وہ مبتلا رہ چکے ہیں۔ تمہیں ہوش و خرد اور ہدایت کی روشنی میں اپنے طرزفکر اور طرز عمل کی اصلاح کرنی چاہیے نہ کہ آبائواجداد کی گمراہیوں کو سند بنا لینا چاہیے۔ یہ کہنا کہ ہم وہی کچھ کررہے ہیں جو ہمارے آبائواجداد کیا کرتے تھے یہ صرف ایک دلیل نہیں بلکہ اس میں باپ دادا کی حمیت و عصبیت بھی شامل ہے۔ کوئی شخص یہ سننا پسند نہیں کرتا کہ میرے آبائواجداد کو گمراہ کہا جائے۔ اس لیے جب اہل باطل اپنے آبائواجداد کا حوالہ دیتے ہیں تو وہ درحقیقت لوگوں کو داعی حق کیخلاف اکساتے ہیں کہ یہ شخص کس قدر خطرناک ہے جو تمہارے آبائواجداد کے خلاف باتیں کرتا اور ان کو گمراہ بتاتا ہے۔ چناچہ اس انگیخت کے بعد لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ہمیں کیا کہا جارہا ہے، وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کہنے والا ہمارے آبائواجداد کی توہین کررہا ہے۔ اس لیے جاہل لوگوں کو ایسی کسی بات کی دعوت دینا جس کی زد ان کے آبائواجداد پر پڑتی ہو، نہایت خطرناک ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت عزیمت کے ساتھ اس کام کو انجام دیا۔ آپ ( علیہ السلام) جانتے تھے کہ اس کے نتیجے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، لیکن آپ ( علیہ السلام) نے ہر خطرے کا سامنا کرتے ہوئے نہایت بےخوفی کے ساتھ توحید کی دعوت ان کے سامنے پیش کی۔ وہ لوگ چونکہ ایسی باتوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ کوئی شخص علی الاعلان بےخوف و خطر ان کے بتوں پر تنقید کرے گا اس لیے انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو سن کر کہا :
Ayah 21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

انھوں نے پوچھا کہ تم ہمارے پاس کوئی سچی بات لے کر آئے ہو یا صرف دل لگی کررہے ہو۔

قَالُوْٓا اَجِئْـتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ ۔ (الانبیاء : 55) (انھوں نے پوچھا کہ تم ہمارے پاس کوئی سچی بات لے کر آئے ہو یا صرف دل لگی کررہے ہو۔ ) لوگوں نے یہ سمجھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) جو کچھ کہہ رہے ہیں، یہ محض ہم سے دل لگی کررہے ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بت پرستی کے ماحول میں بت پرستی کی مذمت کی جائے اور اسے صریح گمراہی قرار دیا جائے۔ اس لیے انھوں نے پلٹ کر ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کی بات کی وضاحت چاہی۔
Ayah 21:56

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

(آپ نے فرمایا (دل لگی نہیں کررہا) بلکہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔

قَالَ بَلْ رَّبُّکُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَھُنَّ صلے ز وَاَنَا عَلٰی ذٰلِکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 56) (آپ نے فرمایا (دل لگی نہیں کررہا) بلکہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔ ) دعوتِ حق کی راہ میں ایک اور قدم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا کہ پتھر اور مٹی کے بت تمہارے رب نہیں ہیں بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا وہ خدا ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں یہ بات محض زیب داستان کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ میں اس حقیقت پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں یعنی اس کی مجھے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے چونکہ میں اس صداقت پر یقین رکھتا ہوں اس لیے میں ہر قیمت پر اس کی گواہی دوں گا۔ میری زبان بھی اس کی گواہی دے گی، میرا عمل بھی بولے گا۔ تم مجھے طاقت کے زور سے دبانے کی کوشش کرو گے تو میری بےخوفی اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد کی گواہی دے گی۔ تم میری جان کے درپے ہوجاؤ گے تو میں اس کا اثر قبول کرنے کی بجائے اپنی جرأت و استقامت سے یہ ثابت کردوں گا کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ میری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور اللہ کی قسم میں تمہارے ان بتوں کے ساتھ ایک تدبیر کروں گا اس کے بعد کہ تم یہاں سے پیٹھ پھیرتے ہوئے چلے جائو گے۔

وَتَاللّٰہِ لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ ۔ (الانبیاء : 57) (اور اللہ کی قسم میں تمہارے ان بتوں کے ساتھ ایک تدبیر کروں گا اس کے بعد کہ تم یہاں سے پیٹھ پھیرتے ہوئے چلے جاؤ گے۔ ) کَیْد… خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں۔ یعنی مخالف کیخلاف اسے نقصان پہنچانے کے لیے اس طرح اقدام کرنا کہ وہ اس سے باخبر نہ ہوسکے۔ جوہری لکھتے ہیں کُلُّ شَیْ ئٍ تُعَالِجُہٗ اَنْتَ تَکِیْدُہٗ ۔ کسی چیز کے متعلق برا ارادہ کرنے کو بھی کید کہتے ہیں۔ کَادَ اَیْ اَرَادَہٗ بِسُوْئٍ (المنجد) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اچھوتا اندازِ تبلیغ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بت خانے کے اندر یا باہر لوگوں کو توحید کی تلقین اور بت پرستی پر نکیر فرما رہے تھے لیکن لوگ بتوں کی عصبیت میں اندھا ہونے کے باعث آپ ( علیہ السلام) کی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ تب آپ ( علیہ السلام) نے اپنے دل میں یا دبی زبان میں یا کسی حد تک لوگوں کو سنا کر یہ بات کہی کہ میں تمہارے بتوں کے ساتھ ایسی تدبیر کروں گا کہ جس سے تمہیں بتوں کی بےبضاعتی، ناطاقتی اور بےبسی کا اندازہ ہوجائے گا اور پھر میں تم سے پوچھوں گا کہ کیا خدا ایسا بےبس اور ایسا گیا گزرا ہوتا ہے۔ میں تمہیں جس خدا کی طرف دعوت دے رہا ہوں وہ ساری کائنات کا خالق ومالک اور سب کا رزق رساں ہے اور تم اس کے مقابلے میں جن بتوں کی پوجا کررہے ہو اور ان کو خدا سمجھتے ہو ان کی بےبسی کا وہ عالم ہے جو تمہارے سامنے ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ میں یہ سب کچھ اس وقت کروں گا جب تم یہاں سے جا چکے ہو گے۔ اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک مطلب تو یہ ہے کہ اب جبکہ میں بت خانے میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں جب تم پوجا پاٹ سے فارغ ہو کر یہاں سے نکل جاؤ گے تو میں رات کے کسی حصے میں آکر وہ کچھ کروں گا جسے یہاں ” کید “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یا مطلب یہ ہے کہ عنقریب تمہارا ایک تہوار آنے والا ہے۔ تم اپنے بت خانے کے پجاریوں سمیت تہوار منانے کے لیے چلے جاؤ گے اور پھر شام کو کہیں لوٹ کے آئو گے۔ تمہارا بت خانہ کسی مجاور اور کسی محافظ کے بغیر کھلا پڑا ہوگا تو میں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تمہارے بت خانے میں جاؤں گا اور وہاں وہ کچھ کروں گا جو میں کرنا چاہتا ہوں۔
Ayah 21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پس آپ نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا بجز ان کے بڑے بت کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

فَجَعَلَھُمْ جُذٰذًا اِلاَّ کَبِیْرًا لَّھُمْ لَعَلَّہُمْ اِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الانبیاء : 58) (پس آپ نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا بجز ان کے بڑے بت کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ ) تہوار کا دن آیا، لوگ ہجوم در ہجوم شہر سے باہر تہوار منانے کے لیے نکل گئے۔ دن بھر تفریحی جھمیلوں میں مشغول رہے۔ وہاں نہ کوئی پجاری رہا اور نہ کوئی محافظ۔ خالی بت کدے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہوگئے۔ ہاتھ میں ایک بڑا کلہاڑا تھا۔ بت کدے کے وسیع ہال میں ایک بڑا بت نصب تھا اور اس کے دونوں طرف ایک ترتیب سے چھوٹے بت رکھے ہوئے تھے اور سب کے سامنے چڑھاؤوں کی مٹھائی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی تدبیر کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی کا کان کاٹا، کسی کی ناک، کسی کی آنکھ پھوڑی اور کسی کا بازو توڑ ڈالا اور سب مٹھائیاں اٹھا کر بڑے بت کے سامنے ڈھیر کردیں اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا اور خود وہاں سے کھسک گئے۔ مقصود یہ تھا کہ جب بت خانے کے پجاری اور دوسرے عقیدت مند بتوں کی یہ تباہی اور توڑ پھوڑ دیکھیں گے تو اس کا فوری نتیجہ ایک تو یہ ہوسکتا ہے کہ ان میں ایسے لوگ کہ جن کے دلوں کی روشنی بت پرستی نے بالکل بجھا نہیں دی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹیں اور سوچیں کہ ایسے بےبس اور ناکارہ ہمارے خدا تو نہیں ہوسکتے۔ خدا یقینا وہ ہے جس نے ہمیں زندگی دی اور زندگی کے امکانات روشن کیے اور دوسرا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع خدا کی بجائے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہوں اور ان کی یہ ساری تدبیر صرف اس مقصد کے لیے ہو کہ جب اس شہر کے لوگ اور بت خانے کے مجاور اور متولی اپنے بتوں کا یہ انجام دیکھیں گے تو یقینا تلاش اور تحقیق کے بعد وہ مجھ تک پہنچیں گے کیونکہ شہر بھر میں کوئی اور سر پھرا ایسا نہیں جس کی زبان سے کبھی بت پرستی کیخلاف ایک کلمہ بھی سرزد ہوا ہو۔ میرے خیالات سے جو لوگ واقف ہیں وہ یقینا اس سیلاب کا رخ میری طرف پھیر دیں گے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے سامنے علی روئوس الاشہاد اپنی بات کہنے کا موقع ملے۔ میں توحید کو دلائل سے ثابت کروں اور بت پرستی کے نقصانات اور اس کے بےعقل ہونے پر لوگوں کو متوجہ کروں اور جھنجھوڑوں۔ حیرانی کی بات ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جانتے تھے کہ میں اتنا بڑا اقدام کررہا ہوں جسے نہ عوام برداشت کریں گے اور نہ حکمران طبقہ اسے برداشت کرسکے گا۔ یقینا اس کے نتیجے میں، میں ناقابلِ بیان اذیتوں میں مبتلا کردیا جاؤں گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں دینی حمیت سے اس قدر مالامال کیا تھا کہ وہ اس کے مقابلے میں بڑے سے بڑے خطرے کو انگیخت کرنے میں بھی کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرنا اور باطل کو سرعام شکست دینا اس تدبیر کے سوا ممکن نہیں۔
Ayah 21:59

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

وہ بولے کہ جس نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے بیشک وہ بڑا ہی ظالم ہے۔

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ ھٰذَا بِاٰ لِھَتِنَـآ اِنَّـہٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 95) (وہ بولے کہ جس نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے بیشک وہ بڑا ہی ظالم ہے۔ ) سرشام جب پجاری واپس لوٹے اور انھوں نے بت کدے کی تباہی دیکھی تو ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ اصحابِ اقتدار کو بھی اطلاع ہوئی۔ سب موقع پر پہنچ گئے۔ سب کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس شخص نے اتنا بڑا اقدام کیا ہے اور جس طرح سے اس ملک کے رہنے والوں کی غیرت کو چیلنج کیا ہے وہ یقینا کوئی بہت ہی سر پھرا اور بڑا ظالم ہے۔ کیونکہ بقائمی ہوش و حواس اتنی بڑی کارروائی کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایسی کارروائی وہی کرسکتا ہے جو اپنی ذات کا بھی دشمن ہے اور اپنی قوم کا بھی۔
Ayah 21:60

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

(چند آدمیوں نے کہا) ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ ان کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُھُمْ یُقَالُ لَـہٗٓ اِبْرٰھِیْمُ ۔ (الانبیاء : 60) (چند آدمیوں نے کہا) ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ ان کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے ایسے لوگ جنھیں ان سے گفتگو کا موقع مل چکا تھا یا آپ ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرچکے تھے وہ کسی حد تک آپ ( علیہ السلام) کے خیالات سے آگاہ تھے لیکن انھوں نے آپ ( علیہ السلام) کی باتوں کو کبھی سنجیدہ اہمیت نہیں دی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ایک سر پھرے نوجوان کی غیرذمہ دارانہ باتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ انھیں اس بات کا تو گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ کبھی یہ نوجوان اتنی بڑی حرکت کرسکتا ہے۔ اب جو انھوں نے اپنے سامنے اس جسارت کا ارتکاب دیکھا تو معاً ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ہو نہ ہو یہ کارستانی ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی ہے۔ اس لیے انھوں نے لوگوں کو بتایا کہ ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ بتوں کا ذکر برائی سے کیا کرتا ہے۔ لیکن انھوں نے اپنی گفتگو میں برائی کا لفظ نہیں کہا یعنی وہ اپنے خدائوں کی حمایت و نصرت اور عقیدت و محبت میں اس حد تک ڈوبے ہوئے تھے کہ وہ نقل کفر کو بھی کفر سمجھتے تھے۔ اس لیے انھوں نے ذمہ داروں کو اطلاع دیتے ہوئے صرف یہ کہا کہ وہ ہمارے خدائوں کا ذکر کیا کرتا ہے۔ ہم اسے زیادہ نہیں جانتے اور نہ قوم میں اس کی شہرت ہے۔ اتنا ہمیں معلوم ہے کہ اسے ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
Ayah 21:61

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے پکڑ کر لائو تاکہ وہ بھی گواہ رہیں۔

قَالُوْا فَاْ تُوْا بِہٖ عَلٰٓی اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَشْھَدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 61) (انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے پکڑ کر لائو تاکہ وہ بھی گواہ رہیں۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر مقدمہ قوم کے سربراہوں اور مذہبی پروہتوں نے حکم دیا کہ انھیں لوگوں کے سامنے گرفتار کرکے لائو تاکہ اس کے جرم کی تحقیق لوگوں کے سامنے کی جائے اور پھر اس کی سزا کو بھی تمام لوگ اپنی نگاہوں سے دیکھیں اور لوگوں کے سامنے جا کر گواہی دیں کہ وہ شخص جس نے ہمارے خدائوں کے ساتھ یہ جسارت کی تھی وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ ان نام نہاد خدائوں سے چونکہ سب لوگوں کا عقیدت و محبت اور بندگی کا رشتہ تھا تو جس نے ان کے ساتھ گستاخی کی تھی وہ پوری قوم کا مجرم تھا۔ اس لیے اربابِ حل و عقد نے یہ ضروری سمجھا کہ اس شخص کو پکڑ کر سامنے لایا جائے اور اس پر مقدمہ سب کے سامنے چلایا جائے اور پھر جو اس کو سزا ملے سب اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسروں کے سامنے اس کی شہادت دیں کیونکہ شہود کا معنی دیکھنا بھی ہوتا ہے اور گواہی دینا بھی، تاکہ لوگوں کے لیے یہ سزا عبرت کا سامان بن جائے۔