21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsروح القرآن

Ayahs 21:78–79

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور حضرت دائود اور حضرت سلیمان پر بھی ہم نے اپنا فضل کیا، یاد کرو جب وہ دونوں ایک کھیتی کے مقدمے کا فیصلہ کررہے تھے جبکہ اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں شب میں جا پڑی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ کررہے تھے۔

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

سو ہم نے سمجھادیا وہ معاملہ سلیمان ( علیہ السلام) کو اور ہم نے ان سب کو بخشا تھا حکم اور حلم، اور ہم نے مسخر کردیا تھا دائود (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو، وہ سب ان کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تھے اور یہ سب کچھ ہم ہی کرنے والے تھے۔

وَدَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ اِذْیَحْکُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْنَفَشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ ج وَکُنَّا لِحُکْمِھِمْ شٰھِدِیْنَ ۔ فَفَھَّمْنٰـھَا سُلَیْمٰنِ ج وَکلُاًّ اٰ تَیْنَا حُکْمًا وَّ عِلْمًا ز وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَالْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَالطَّیْرَ ط وَکُنَّا فٰعِلِیْنَ ۔ (الانبیاء : 78، 79) (اور حضرت دائود اور حضرت سلیمان پر بھی ہم نے اپنا فضل کیا، یاد کرو جب وہ دونوں ایک کھیتی کے مقدمے کا فیصلہ کررہے تھے جبکہ اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں شب میں جا پڑی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ کررہے تھے۔ سو ہم نے سمجھادیا وہ معاملہ سلیمان (رح) کو اور ہم نے ان سب کو بخشا تھا حکم اور علم، اور ہم نے مسخر کردیا تھا دائود (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو، وہ سب ان کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تھے اور یہ سب کچھ ہم ہی کرنے والے تھے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ … دونوں منصوب ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں سے پہلے کوئی فعل محذوف ہے جس کے یہ مفعول ہیں۔ یہاں سخرنا یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف مانا جاسکتا ہے۔ نفش … کا معنی بکریوں یا مویشیوں کا رات کے وقت کسی فصل میں گھس جانا اور اسے اجاڑ دینا ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کا ایک مقدمے کی طرف اشارہ اس آیت کریمہ سے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر شروع ہورہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جن کمالات سے نوازا اور ان پر جو احسانات کیے ان میں سے چند ایک کا اجمالاً تذکرہ کیا گیا ہے۔ کمالات اور احسانات کا ذکر کرنے سے پہلے نہایت اختصار سے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس سے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام کمالات اور فضائل کے باوجود اپنی طبیعت میں ایسی سلامتی رکھتے تھے کہ بیٹا اپنے فہم و فراست کو اللہ تعالیٰ کی عنایت اور امانت سمجھ کر اپنے جلیل القدر باپ کے سامنے نہایت احتیاط سے اظہار ضروری سمجھتا تھا اور باپ اپنے تمام کمالات کے باوصف نوخیز اور نوعمر بیٹے کی بات کو کماحقہ وزن دیتا تھا اور دونوں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے تھے۔ باپ خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا سعادت مند بیٹا عطا فرمایا ہے اور بیٹا ہر وقت مستعد تھا کہ مجھے اپنے باپ کے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کس طرح حصہ لے کر اپنے باپ کے لیے سہولت پیدا کرنا ہے۔ جہاں تک واقعہ کا تعلق ہے نہ تو قرآن کریم میں اس کا ذکر کیا گیا ہے اور نہ حدیث رسول ﷺ میں اس کی تفصیل ملتی ہے۔ البتہ ! کتبِ تفسیر میں اس واقعہ کی جو تفصیل مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص کی بکریاں رات کے وقت کسی شخص کے کھیت میں گھس گئیں اور اسے پامال کر ڈالا۔ کھیت والا دادرسی کے لیے حضرت دائود (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ( علیہ السلام) نے بکریوں کے مالک کو بلایا، دونوں کے بیان لیے۔ بیان سن کر آپ ( علیہ السلام) اس نتیجے پر پہنچے کہ بکریوں کے مالک نے اپنی بکریوں کا ریوڑ سنبھالنے میں کوتاہی کی ہے اور کھیت والے کی فصل اجاڑ دی ہے۔ اب اس کا تاوان یہ ہے کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں کیونکہ کھیت والے کا جتنا نقصان ہوا ہے بکریوں کی قیمت اندازاً اس کے لگ بھگ ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جو نوعمری کی وجہ سے ابھی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے البتہ اپنے عظیم باپ کے پاس بیٹھ کر علم و حکمت سے استفادہ کرتے تھے۔ انھوں نے یہ فیصلہ سن کر کمسن ہونے کے باوجود اس سے اختلاف کیا اور نہایت ادب سے عرض کی کہ اگر مجھے اجازت ہو تو میں اس کا ایک دوسرا حل تجویز کرنا چاہتا ہوں۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے یہ کہا کہ بکریاں عارضی طور پر کھیت والے کو دے دی جائیں، وہ ان کا دودھ پیئے اور دوسرے فوائد حاصل کرے اور بکریوں والے کو حکم دیا جائے کہ وہ اجڑے ہوئے کھیت میں محنت کرے اور نئے سرے سے فصل کاشت کرے اور جب وہ پروان چڑھ کر اپنی اصل حالت پر آجائے تو کھیت والے کو اس کا کھیت دے دیا جائے اور بکریوں کے مالک کو اس کی بکریاں واپس کردی جائیں۔ یہ فیصلہ سن کر حضرت دائود (علیہ السلام) کو حد درجہ خوشی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے ایسا ہونہار فرزند عطا فرمایا ہے۔ پروردگار نے دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے جو کچھ کہا وہ ان کی اپنی فہم و فراست کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ ہماری عطا و بخشش تھی۔ حکم اور علم دونوں کو یکساں عطا کیا گیا تھا، یعنی دونوں باپ اور بیٹا بیک وقت پیغمبر بھی تھے اور حکمران بھی لیکن یہ ہماری دین ہے کہ ہم حکمت عطا کرنے میں بعض کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہم نے فہم و فراست میں حصہ وافر عطا فرمایا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کا اپنے بیٹے کی بات کو نہایت خوشی سے قبول کرنا دراصل اس بات کا اظہار تھا کہ وہ فیصلہ کرنے میں حد درجہ محتاط واقع ہوئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی انسان ہوتے ہیں، وہ جب کسی معاملے میں فیصلہ اجتہاد سے کرتے ہیں تو اس میں فروگزاشت کا امکان ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو غلطی پر باقی نہیں رہنے دیتا۔ وحی کے ذریعے اس کی اصلاح کردی جاتی ہے۔ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ میرے بیٹے کو بھی چونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی ہے ممکن ہے اس کا فیصلہ وحی الٰہی کا نتیجہ ہو اور اس کے ذریعے سے میری اجتہادی غلطی کی اصلاح مقصود ہو۔ اس فیصلے اور واقعہ کی تفصیل چونکہ قرآن و سنت میں مذکور نہیں اس لیے ہمارے فقہائے کرام نے اسے اپنے فیصلوں کی بنیاد نہیں بنایا۔ البتہ ! ترمذی شریف میں ایک حدیث میں ایک صاحب کی شکایت بیان کی گئی ہے جسے کسی دوسرے صاحب کے جانور نے نقصان پہنچایا تھا اور یہ واقعہ چونکہ رات کے وقت پیش آیا تھا اس لیے نبی کریم ﷺ نے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دن کے وقت بعض دفعہ مویشی کھلے ہوتے ہیں لیکن رات کے وقت حفاظت کے لیے باندھ کے رکھے جاتے ہیں۔ کسی جانور کا رات کے وقت نقصان پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مالک نے اس کی حفاظت میں کوتاہی کی ہے اس لیے اس پر نقصان کا تاوان عائد کیا جانا چاہیے۔ امامِ شافعی ( رح) نے اس سے یہ سمجھا کہ آنحضرت ﷺ نے یہ فیصلہ چونکہ رات کے حوالے سے کیا ہے اس لیے رات کے وقت نقصان کے ازالے کے لیے مویشی کے مالک پر تاوان عائد کیا جائے گا، البتہ دن کو نہیں۔ لیکن امام حنیفہ ( رح) فرماتے ہیں کہ تاوان کا تعلق رات یا دن سے نہیں بلکہ مالک کی تقصیر سے ہے وہ جس وقت بھی کوتاہی کرے اسے اس کی سزا ملنی چاہیے۔ یہ اتفاق ہے کہ واقعہ مذکورہ کا تعلق رات کے وقت سے ہے اور رات کو عام طور پر جانور باندھے جاتے ہیں لیکن اگر دن کے کسی وقت میں مالک کی کوتاہی سے کسی کو نقصان پہنچتا ہے تو جرمانہ اسے بھی ادا کرنا ہوگا۔ عدالتی فیصلوں کے بارے میں ہمارے اہل علم یہ کہتے ہیں کہ اگر عدالت کے دو فیصلے باہم متضاد ہوں لیکن فیصلہ دینے والے دونوں قاضی قضا کی صلاحیت رکھتے ہوں اور کوئی شخص بھی نیت میں خرابی نہ رکھتا ہو تو دونوں فیصلے متضاد ہونے کے باوجود برسرحق سمجھے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں یقینا دونوں میں سے ایک ہی صحیح ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کسی بھی مجتہد کو جس نے حُسنِ نیت اور محنت سے فیصلہ دیا ہو غلطی بتا کر شرمندہ نہیں فرمائے گا۔ البتہ ! یہ ضرور ہے کہ تحکیم اور قضاء ایک نازک معاملہ ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک قسم کے قاضی وہ ہیں جو فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر فیصلہ دیتے ہوں۔ یہ غلطی بھی کریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ انھیں جنت عطا فرمائے گا اور دوسری قسم کے قاضی وہ ہیں جو سرے سے فیصلہ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صلاحیت سے تو بہرہ ور ہیں لیکن ان میں نہ حُسنِ نیت پایا جاتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا خوف۔ یہ دونوں قسم کے قاضی جہنم میں جائیں گے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی درویشی تسخیر کا معنی ہوتا ہے، کسی کو کسی کی خدمت میں لگا دینا یا اس کے تابع کردینا۔ اس آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا، لیکن اس کے بعد مَعْہٗ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لہکا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح میں اس طرح ہمنوا بنادیا گیا تھا کہ جیسے ہی آپ ( علیہ السلام) رات کے پچھلے پہر یا طلوع سحر کے وقت پہاڑوں کے دامن میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے اور اپنے اوپر نازل ہونے والی کتاب زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ بھی آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کرتے اور پرندے بھی ہجوم در ہجوم آپ ( علیہ السلام) کے گرد جمع ہو کر تسبیح میں مصروف ہوجاتے۔ آپ ( علیہ السلام) کو اس کے لیے حکم دینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی بلکہ ان کی تسخیر اسی مقصد کے لیے کی گئی تھی کہ جیسے ہی وہ آپ ( علیہ السلام) کی آواز سنیں آپ ( علیہ السلام) کی ہمنوائی میں تسبیح کرنا شروع کردیں۔ تسخیر کا مفہوم بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) چونکہ نہایت خوش الحان تھے۔ آپ ( علیہ السلام) کی نہایت سریلی اور بلند آواز میں بلا کی تاثیر تھی۔ اس لیے جیسے ہی آپ ( علیہ السلام) زبور کی تلاوت کرتے جو منظوم تھی تو پہاڑ آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ گونجنے لگتے اور پرندے بھی مسحور ہو کر آپ ( علیہ السلام) کے گرد اترنے لگتے۔ پہاڑوں اور پرندوں کے مسخر کرنے کا یہی مفہوم ہے۔ اس مفہوم کے مراد لینے میں حرج تو کوئی نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات اور آپ ( علیہ السلام) کے فضائل کا ذکر کرتے ہوئے بطورِخاص جس عمل کو تسخیر کا نام دیا ہے اور پھر مزید موکد اور مبرہن کرنے کے لیے یہ بھی فرمایا کہ یہ حیرت انگیز کمال حضرت دائود (علیہ السلام) سے اس لیے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کے کرنے والے ہم تھے اور ہمارے لیے تو کوئی چیز نہ ناممکن ہے نہ مشکل۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو تأثر اور جو کیفیت کسی دوسرے خوش آواز آدمی سے پیدا ہوسکتی ہے اور جو صرف اس کی خوبصورت آواز کی تأثیر کا نتیجہ ہوتی ہے یہ یقینا اس سے زائد، منفرد اور ممتاز چیز تھی، ورنہ پروردگار اس اہتمام سے اس کا ذکر نہ فرماتے۔ اور دوسری بات یہ کہ اگر تسبیح سے مراد صرف پہاڑوں کا گونجنا اور پرندوں کا اتر آنا ہے تو یہ بھی آپ ( علیہ السلام) کی کوئی خصوصیت نہیں۔ اس لیے کہ قرآن کریم ہی میں فرمایا گیا ہے : وَاِنْ مِنْ شَیْ ئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰـکِنْ لاَّ تَْفقَہُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ ” ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس تسبیح سے وہی ناقابلِ فہم تسبیح مراد لی جائے جو اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کرتی ہے تو پھر اس آیت کریمہ میں جس تسبیح کا ذکر کیا گیا ہے اس کی کیا خصوصیت باقی رہے گی۔ ان تمام باتوں سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) جب اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید میں مصروف ہوتے تو بالکل انھیں الفاظ میں پہاڑ اور پرندے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تھے جن الفاظ میں حضرت دائود (علیہ السلام) کرتے تھے اور اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ اس کے کرنے والے یعنی اس کی صلاحیت دینے والے ہم تھے۔ ہم جسے چاہیں بولنے کی صلاحیت دے دیں۔ جس طرح آنحضرت ﷺ کے معجزے سے مٹھی میں پتھر کے کنکروں نے کلمہ پڑھا اور پاس بیٹھنے والوں نے اپنے کانوں سے سنا۔ اسی طرح یہ پہاڑ اور پرندے بھی تسبیح کناں ہوتے تھے۔
Ayah 21:80

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

ہم نے انھیں تمہارے لیے ایک خاص جنگی لباس کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تم کو جنگ میں محفوظ رکھے، تو کیا تم شکر ادا کرنے والے ہو۔

وَعَلَّمْنٰـہُ صَنْعَۃَ لَـبُوْسٍ لَّـکُمْ لِتُحْصِنَـکُمْ مِّنْ م بَاْسِکُمْ ج فَھَلْ اَنْـتُمْ شٰکِرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 80) (ہم نے انھیں تمہارے لیے ایک خاص جنگی لباس کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تم کو جنگ میں محفوظ رکھے، تو کیا تم شکر ادا کرنے والے ہو۔ ) حضرت دائود (علیہ السلام) درویش بھی تھے اور شہسوار بھی گزشتہ آیت کریمہ سے یہ تأثر ملتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی ہونے کی وجہ سے علم کے پیکر اور افتاء و قضاء کے شن اور تھے۔ آپ ( علیہ السلام) کی بیشتر توجہ لوگوں کے معاملات حل کرنے اور ان کی زندگیوں کی اصلاح پر رہتی تھی اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو وہ سوز و گداز بخشا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) دن بھر علمی مصروفیات اور عدالتی معاملات میں مصروف رہتے لیکن رات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تسبیح وتحمید میں وقت گزرتا تھا اور طلوع سحر کے وقت پہاڑوں کی طرف نکل جاتے اور وہاں زبور کی تلاوت اور ذکر اللہ کی تسبیح میں اس طرح کھو جاتے کہ پہاڑ اور پرندے بھی ان کی تسبیح میں ان کی ہمنوائی کرتے۔ ایسا لگتا تھا کہ حکمرانی کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں پر درویشی کا غلبہ تھا۔ بس یوں کہنا چاہیے کہ آپ ( علیہ السلام) ایک درویش حکمران تھے لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی داستانِ حیات کا ایک اور ورق الٹا جارہا ہے۔ وہ یہ کہ جس طرح آپ ( علیہ السلام) کو علم اور عبادت سے بےپناہ شغف تھا اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح آپ ( علیہ السلام) کی زندگی کا سب سے بڑا ہدف تھا اسی طرح آپ ( علیہ السلام) مردِ میدان بھی تھے۔ یوں کہنا چاہیے کہ آپ ( علیہ السلام) رات کے راہب اور دن کے شہسوار تھے۔ کوئی انھیں لوگوں کے معاملات کی طرف توجہ فرماتے ہوئے دیکھتا تو وہ سمجھتا کہ آپ ( علیہ السلام) ایک اچھے حکمران ہیں، لیکن جب ان کی عبادت کو دیکھتا تو آپ ( علیہ السلام) پر ایک درویش کا گمان ہوتا۔ لیکن جب وہ یہ دیکھتا کہ آپ ( علیہ السلام) اسلحہ جنگ کی تیاری میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں بلکہ آپ ( علیہ السلام) زرہ دائودی کے موجد ہیں اور اسی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی معاصر قوموں پر غلبہ عطا فرمایا تھا تو وہ سمجھ جاتا کہ ہُوَ رَاہِبٌ بِالْلَّیْلِ وَفَارِسٌ م بِالنَّھَارِ ” آپ رات کو درویش ہوتے ہیں اور دن کو شہسوار ہوتے ہیں۔ “ ان کی ہمہ جہت شخصیت کا عالم یہ تھا کہ ان کی پرسوز دُعائوں اور مناجاتوں سے پہاڑوں کے دل موم ہوجاتے تھے اور ان کی دفاعی ایجادات اور فوجی قوت سے دشمنوں پر لرزہ طاری رہتا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے دور کے دفاعی اسلحہ میں زرہ کو چونکہ بےحد اہمیت حاصل تھی اور ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم اور علم سے نوازا تھا۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) پر ان بےپایاں نعمتوں کا حوالہ دے کر لوگوں سے سوال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ نعمتیں اس کے شکر کی بدولت ہیں تو کیا تم بھی اس طرح اللہ تعالیٰ کر شکر ادا کرنے کی کوشش کروگے۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کو زرہ سازی کی صنعت اور دیگر دفاعی صلاحیتیں اس لیے عطا کی گئی تھیں تاکہ تم جنگ کی ہولناکیوں سے محفوظ رہو تو کیا تم اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو
Ayah 21:81

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کے لیے تندو تیز ہوا کو مسخر کردیا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جسے ہم نے برکت دی ہے، اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔

وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖٓ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰـرَکْنَا فِیْھَا ط وَکُنَّا بِکُلِّ شَیْئٍ عٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 81) (اور ہم نے سلیمان کے لیے تندو تیز ہوا کو مسخر کردیا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جسے ہم نے برکت دی ہے، اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر انعامات حضرت دائود (علیہ السلام) پر انعامات کے ذکر کے بعد ان انعامات کا ذکر کیا جارہا ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر کیے گئے۔ ان پر پہلا انعام یہ ہوا کہ ہوا کو آپ ( علیہ السلام) کے تابع فرمان کردیا گیا۔ اس آیت کریمہ میں تندوتیز ہوا کا ذکر ہے لیکن سورة ص میں اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَائً حَیْثُ یَشَائُ ” پس ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے بسہولت چلتی تھی، جدھر وہ جانا چاہتا۔ “ سو رہ سبا میں مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے : وَلِسُلَیْمَنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّرَوَاحُھَا شَھْرٌ ” اور سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا، ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا صبح کو اور ایک مہینے کی راہ تک اس کا چلنا شام کو۔ “ ان تینوں آیات کو گہری نظر سے دیکھنے سے جو تأثر ابھرتا ہے اس میں اگر ذہنی تحفظات کو دخل اندازی کا موقع نہ دیا جائے تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قابو میں دے دیا تھا، وہ آپ ( علیہ السلام) کے حکم کے مطابق چلتی اور خدمت بجا لاتی تھی۔ آپ ( علیہ السلام) کا ایک عظیم تخت تھا۔ آپ ( علیہ السلام) اپنے وزراء اور امراء کو ساتھ لے کر تخت پر سوار ہوجاتے اور ہوا کو حکم دیتے چناچہ تندوتیز ہوا اس بھاری بھرکم تخت کو زمین سے اٹھاتی اور اوپر جا کر ہوا کی رفتار نرم ہوجاتی جس کی رفتار کا اندازہ یہ تھا کہ آپ ( علیہ السلام) جہاں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے جانا چاہتے ہوا اس تخت کو لے کر چلتی۔ صبح کو آپ ( علیہ السلام) کا سفر ایک مہینے کی مسافت کا تھا اور شام کا سفر بھی اسی مسافت کا ہوتا۔ یعنی آپ ( علیہ السلام) سینکڑوں میل تک تخت پر سوار اڑتے رہتے اور اندازاً یہ سفر اتنا ہوتا جتنا اونٹوں پر ایک مہینے میں کیا جاتا اور شام کو پھر اسی رفتار سے واپس اپنے مستقر پر تشریف لے آتے۔ رہی یہ بات کہ یہ ہوا آپ ( علیہ السلام) کے تجارتی بیڑوں کو آپ ( علیہ السلام) کے حکم سے کھینچے لیے پھرتی جس کے نتیجے میں آپ ( علیہ السلام) کی بحری تجارت بہت دور تک پھیل گئی۔ ایک طرف عصیون جابر سے ان کے تجارتی جہاز بحراحمر میں یمن اور دوسرے جنوبی و مشرقی ممالک کی طرف جاتے تھے۔ اور دوسری طرف بحرروم کی بندرگاہوں سے ان کا بیڑہ مغربی ممالک کی طرف جایا کرتا تھا۔ اور آپ ( علیہ السلام) کے حکم سے جہازوں کے بادبان ہر طرح کی ہَوائوں میں کھلے رہتے۔ چونکہ ہوا آپ ( علیہ السلام) کے حکم کی پابند تھی اس لیے وہ ہمیشہ بادموافق بن کر اپنا فرض انجام دیتی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے انعام کے مظاہر ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے معجزے کو باد موافق کی کارکردگی تک منحصر کردیا جائے۔ یقینا ہَوائوں کا یہ فیضان بھی جو آپ ( علیہ السلام) کے تجارتی اسفار میں معاون ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ کا انعام تھا اور جس طرح ہوا آپ ( علیہ السلام) کے تحت کو لے کر آپ ( علیہ السلام) کے حکم سے اڑتی تھی وہ بھی اللہ تعالیٰ کا انعام اور کرم تھا۔ ان دونوں میں کہیں بھی تضاد نہیں۔ اور آخر میں فرمایا کہ ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ ہم نے حضرت سلیمان کو جن انعامات سے نوازا اور آپ ( علیہ السلام) کو تصرفات عطا کیے یہ اندھے کی بانٹ نہیں تھی بلکہ ہم جانتے تھے کہ حضرت سلیمان ان تمام صلاحیتوں اور انعامات سے بہرہ ور ہو کر بھی اپنی بندگی سے سرمو تجاوز نہیں کریں گے کیونکہ وہ صرف ایک حکمران ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی ہیں۔ وہ جس طرح عبادت میں اللہ تعالیٰ کے بندے ہوتے ہیں اسی طرح وہ تخت پر بیٹھ کر بھی اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا کرتے ہیں۔ وہ تمام انعامات کے باوجود کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوتے کہ یہ ان کی ذاتی ذہانت کا نتیجہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے روزافزوں فضل و کرم کو اپنے لیے انعام سمجھ کر بیش از بیش اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ بندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میری ایک ایک بات، ایک ایک عمل اور ایک ایک ارادے سے واقف ہے۔ اگر میں کہیں بھی اپنی حدود سے تجاوز کروں گا تو اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق کل کو مجھے اس کی جوابدہی کرنا پڑے گی اور یہی وہ احساس ہے جو بڑے سے بڑے آدمی کو بھی اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
Ayah 21:82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور شیاطین میں سے بھی ہم نے اس کے لیے مسخر کردیئے تھے جو ان کے لیے سمندروں میں غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے اور ہم ہی ان کے نگہبان تھے۔

وَمِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَـہٗ وَیَعْمَلُوْنَ عَمَلاً دُوْنَ ذٰلِکَ ج وَکُنَّا لَہُمْ حٰفِظِیْنَ ۔ (الانبیاء : 82) (اور شیاطین میں سے بھی ہم نے اس کے لیے مسخر کردیئے تھے جو ان کے لیے سمندروں میں غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے اور ہم ہی ان کے نگہبان تھے۔ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو کمالات بخشے اور جن نعمتوں سے نوازا ان میں سے ایک نعمت کا سابقہ آیت میں ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کے لیے ہَوائوں کو مسخر کردیا تھا۔ اب اس آیت کریمہ میں دوسری نعمت کا ذکر ہورہا ہے کہ جنات بھی آپ ( علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیئے گئے تھے۔ قرآن کریم کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات آگ کے بنے ہوئے وہ اجسامِ لطیفہ ہیں جو عقل و شعور رکھتے ہیں اور انسان کی طرح احکامِ شرع کے مکلف ہیں۔ اس مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع فرمان کردیا تھا، لیکن ان میں سے جو جنات آپ ( علیہ السلام) پر ایمان نہیں لائے انھیں قرآن کریم شیاطین کے نام سے یاد کرتا ہے یعنی جنات کا لفظ تو مومن اور کافر دونوں پر بولا جاتا ہے لیکن غیر مومن اور غیرمسلم جنات کو شیاطین کہا گیا ہے۔ جو جنات مومن تھے وہ تو ایمان کی وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت کو فرض سمجھتے تھے اس لیے انھیں مسخر کرنے کی بات نہیں کی گئی لیکن جو جنات آپ ( علیہ السلام) پر ایمان نہیں لائے انھیں بطور خاص آپ ( علیہ السلام) کی تسخیر میں دیا گیا۔ وہ اپنے تمام تر کفر اور سرکشی کے باوجود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع فرمان بنائے گئے تھے وہ ایمان نہ رکھتے ہوئے بھی آپ ( علیہ السلام) کی اطاعت کرنے کے پابند تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کی طاقت کے اعتبار سے ان سے ایسے کام لیتے تھے جنھیں انسان انجام نہیں دے سکتے تھے۔ وہ سمندروں میں غوطے لگاتے اور سمندری دولت مونگے اور موتی وغیرہ آپ ( علیہ السلام) کے لیے فراہم کرتے تھے۔ اور سورة سبا میں فرمایا گیا ہے کہ وہ آپ ( علیہ السلام) کے لیے محرابیں اور شاندار مکانات اور مورتیں اور پتھر کے بڑے بڑے پیالے (جو حوض کی طرح کام دیں) تیار کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی نہ جانے ان سے اور کیا کیا کام لیے جاتے تھے۔ لیکن وہ اپنی ہر طرح کی سرکشی کے باوجود آپ ( علیہ السلام) کے حکم سے سرتابی کرنے کی مجال نہیں رکھتے تھے اور نہ اس بات پر قادر تھے کہ آپ ( علیہ السلام) کو کوئی نقصان پہنچا سکیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی تھی۔ اس لیے اس آیت کے آخر میں فرمایا وَکُنَّا لَہُمْ حٰفِظِیْنَ ” اور ہم ہی ان کے نگہبان تھے۔ “ مشرکینِ عرب ان جنات کو عالم الغیب سمجھتے تھے۔ اس لیے ان سے استمداد بھی کرتے تھے اور ان کے نام کے چڑھاوے بھی چڑھاتے تھے لیکن سورة سبا میں اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے یہ بات واضح کردی کہ وہ جس طرح باقی رعایا کی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے احکام کے پابند اور ان کے تابع فرمان تھے اسی طرح وہ دوسری مخلوقات کی طرح غیب جاننے والے نہ تھے ورنہ یہ ممکن نہ تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کی ان کو خبر تک نہ ہوتی اور وہ موت کے بعد بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو سامنے کھڑا محسوس کرکے برابر سخت سے سخت کام انجام دیتے رہتے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ مَادَلَّـہُمْ عَلٰی مَوْتِـہٖٓ اِلاَّ دَآبَّـۃُ الْاَرْضِ تَاْکُلُ مِنْسَاَ تَـہٗ فَلَمَّا خَرَّتَـبَـیَّـنَـتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَالَبِثُـوْا فِی الْعَذَابِ الْمُہِیْن ” پھر جب ہم نے سلیمان ( علیہ السلام) کو وفات دے دی تو ان جنوں کو اس کی موت پر مطلع کرنے والی کوئی چیز نہ تھی مگر زمین کا کیڑا (یعنی گھن) جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا پس جب وہ گرپڑا تو جنوں کو پتہ چل گیا کہ اگر وہ واقعی غیب دان ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں اتنی مدت تک مبتلا نہ رہتے۔ “ قرآن کریم کی ان آیات کو پڑھ کر کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ قرآن کریم جن شیاطین کی بات کررہا ہے وہ سرکش انسان تھے اور آس پاس کی قوموں سے فراہم کیے گئے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ قرآن کے الفاظ میں ان کی اس تاویل کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ قرآن میں جہاں جہاں بھی یہ قصہ آیا ہے وہاں کا سیاق وسباق اور انداز بیان اس تاویل کو راہ دینے سے صاف انکار کرتا ہے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے لیے عمارتیں بنانے والے اگر انسان ہی تھے تو آخر یہ ان کی ایسی کیا خصوصیت تھی جس کو اس شان سے قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے اہرام مصری سے لے کر نیویارک کی فلک شگاف عمارتوں تک کس چیز کو انسان نے نہیں بنایا ہے اور کس بادشاہ یا رئیس یا ملک التجار کے لیے وہ ” جن “ اور ” شیاطین “ فراہم نہیں ہوئے جو آپ حضرت سلیمان کے لیے فراہم کررہے ہیں ؟ آیت کی تشریح دوسری آیات کی روشنی میں سورة سبا میں اس کی تفصیل یہ آئی ہے : وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْـہِ بِاِذْنِ رَبِّـہٖ وَمَنْ یَّزِعُ مِنْھُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْـہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ ۔ یَعْمَلُوْنَ لَـہٗ مَا یَشَّـآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رَّسِیَاتٍ … فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ مَادَلَّـہُمْ عَلٰی مَوْتِـہٖٓ اِلاَّ دَآبَّـۃُ الْاَرْضِ تَاْکُلُ مِنْسَاَ تَـہٗ فَلَمَّا خَرَّتَـبَـیَّـنَـتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَالَبِثُـوْا فِی الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ ۔ ” اور جنوں میں سے ایسے جن ہم نے اس کے لیے مسخر کردیئے تھے جو اس کے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے اور جو کوئی ہمارے حکم سے ان میں سے انحراف کرتا تو ہم اس کو بھڑکتی ہوئی آگ کا مزا چکھاتے۔ وہ اس کے لیے جیسے وہ چاہتا قصر اور مجسمے اور حوض جیسے بڑے بڑے لگن اور بھاری جمی ہوئی دیگیں بناتے تھے … پھر جب ہم نے سلیمان ( علیہ السلام) کو وفات دے دی تو ان جنوں کو اس کی موت پر مطلع کرنے والی کوئی چیز نہ تھی مگر زمین کا کیڑا (یعنی گھن) جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا پس جب وہ گرپڑا تو جنوں کو پتہ چل گیا کہ اگر وہ واقعی غیب دان ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں اتنی مدت تک مبتلا نہ رہتے۔ اس آیت سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جو شیاطین حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے لیے مسخر ہوئے تھے اور جو ان کے لیے مختلف خدمات انجام دیتے تھے وہ جن تھے اور جن بھی وہ جن کے بارے میں مشرکین عرب کا یہ عقیدہ تھا اور جو خود اپنے بارے میں بھی یہ غلط فہمی رکھتے تھے کہ ان کو علم غیب حاصل ہے اب ہر شخص جو قرآن مجید کو آنکھیں کھول کر پڑھے اور اس کو اپنے تعصبات اور پیشگی قائم کیے ہوئے نظریات کا تابع بنائے بغیر پڑھے وہ خود دیکھ سکتا ہے کہ جہاں قرآن مطلق ” شیطان “ اور ” جن “ کے الفاظ استعمال کرتا ہے وہاں اس کی مراد کونسی مخلوق ہوتی ہے اور قرآن کی رو سے وہ کون سے جن ہیں جن کو مشرکین عرب عالم الغیب سمجھتے تھے۔ (تفہیم القرآن)
Ayahs 21:83–84

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور یاد کرو ایوب کو جب انھوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی فریاد قبول فرمائی اور ہم نے ان کی تکلیف دور کردی اور انھیں ان کے اہل و عیال بھی دیئے اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی، خاص اپنے فضل سے، اور عبادت گزاروں کی یاد دہانی کے لیے۔

وَاَ یُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَکَشَفْنَا مَابِـہٖ مِنْ ضُرِّ وَّاٰ تَیْنٰـہُ اَھْلَـہٗ وَمِثْلَھُمْ مَّعَہُمْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَذِکْرٰی لِلْعٰبِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 83، 84) (اور یاد کرو ایوب کو جب انھوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ تو ہم نے ان کی فریاد قبول فرمائی اور ہم نے ان کی تکلیف دور کردی اور انھیں ان کے اہل و عیال بھی دیئے اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی، خاص اپنے فضل سے، اور عبادت گزاروں کی یاد دہانی کے لیے۔ ) صبر کے حوالے سے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا اسوہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے، پھر جو لوگ ان آزمائشوں میں سرخرو ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں مختلف مدارج سے نوازتا ہے اور ان کی ذات اور ان کے کردار کو آنے والی دنیا کے لیے نمونہ بنا دیتا ہے۔ مزید یہ بات کہ اس کی آزمائش کے رنگ جدا جدا ہیں۔ کبھی وہ نعمتیں دے کر آزماتا ہے اور کبھی تکلیفوں میں مبتلا کرکے اور نعمتیں چھین کر آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دو شخصیتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں حکومت اور دولت دے کر آزمایا۔ وہ بجائے ناشکری کرنے اور عہدہ و منصب کے غرور میں مبتلا ہونے کے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شکر کا رویہ اختیار کیا۔ ایک طرف عادلانہ حکومت کی اور خلق خدا کے حقوق ادا کیے اور دوسری طرف تخت و تاج کو فقر و درویشی کی علامت بنادیا اور ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ کی زمین کو اس کے باغیوں سے پاک کرنے کے لیے جہاد و غزا کے لیے اپنی ذاتوں اور اپنے وسائل کو جھونک دیا۔ پروردگار نے انھیں شکر کے پیکر اور درویش حکمران کے طور پر انسانوں کے لیے نمونہ ٹھہرایا اور قیامت تک آنے والی انسانیت کا سرمایہ بنادیا۔ پیشِ نظر آیات کریمہ میں ایک اور شخصیت کا ذکر کیا جارہا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پہلے نعمتیں دے کر آزمایا اور پھر تکلیفوں میں مبتلا کر کے آزمایا۔ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) شکر کے نمائندہ تھے۔ اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کو صبر کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ انسانی زندگی کے دو ہی اہم عنوان ہیں، صبر اور شکر۔ کبھی انسان ایک میں ٹھوکر کھاتا ہے اور کبھی دوسرے میں۔ اس لیے قرآن کریم نے انسانی اصلاح کے لیے ان دونوں پر بہت زور دیا ہے اور جابجا ایسی عظیم اور مقدس شخصیتوں کو ذکر فرمایا ہے جن کی زندگیاں ان دونوں کی تصویر تھیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی شخصیت، زمانہ، قومیت ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کا ہے۔ آپ ( علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے عیسو کی نسل سے تھے۔ حضرت وہب بن منبہ کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ سفرِایوب سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک عوض میں حضرت ایوب ایک نہایت کامل اور راست باز انسان تھے۔ اللہ نے انھیں بڑا خاندان اور بڑی دولت دے رکھی تھی۔ ان کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ اہلیہ محترمہ کا نام رحمت بتایا جاتا ہے جو حضرت یوسف کے فرزند ایفرائین کی لخت جگر تھیں۔ بڑی حسین و جمیل اور صحت مند تھیں۔ سات ہزار بھیڑیں، تین ہزار اونٹ، ایک ہزار بیل اور پانچ سو باربرداری کے گدھے ان کے پاس تھے۔ ان کے نوکر چاکر بھی بیشمار تھے۔ اہل مشرق میں اس درجہ کا مالدار کوئی اور نہ تھا۔ ان گوناگوں انعامات اور اس خدم و حشم کے باوجود آپ ( علیہ السلام) خدا کے نہایت شکرگزار اور فرمانبردار بندے تھے۔ ان کی نیکی پر شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو حسد ہوا۔ انھوں نے طعنہ دیا جس طرح کہ سفرِایوب میں ذکر کیا گیا ہے کہ ( ایوب کی یہ خدا پرستی و راست بازی اس لیے ہوئی کہ خدا نے اسے ہر طرح کی خوشحالیاں دے رکھی ہیں، اگر یہ ان سے محروم ہوجائے تو پھر کبھی خدا کا شکرگزار نہ ہو) ۔ چناچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کھیتیاں جل کر راکھ ہوگئیں، مال مویشی میں ایسی وباء پھوٹی کہ ایک بھی زندہ نہ رہا۔ آپ ( علیہ السلام) کے سارے بیٹے اور بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے یہاں مدعو تھے کہ مکان گرا اور سب لقمہ اجل ہوگئے۔ آپ ( علیہ السلام) کے جسم میں آبلے نمودار ہوگئے، خارش کی وجہ سے انھیں کھجلایا تو انھوں نے ناسوروں کی شکل اختیار کرلی۔ ان میں چھوٹے چھوٹے کیڑے رینگنے لگے، جسم سے پیپ بہنے لگی، لیکن حضرت ایوب (علیہ السلام) ہرحال میں صبر کی تصویر بنے رہے، حرف شکایت تک زبان پر نہ آیا۔ ساری دولت و حشمت غائب ہوگئی لیکن سفرِ ایوب کی روایت کے مطابق آپ ( علیہ السلام) کا یہ حال رہا کہ : ” وہ سجدے میں گرپڑا اور کہا میں اپنی ماں کے پیٹ سے برہنہ پیدا ہوا تھا اور برہنہ ہی دنیا سے جاؤں گا۔ خداوند نے مجھے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ اسی کے نام کے لیے ساری پاکیاں اور مبارکیاں ہوں۔ “ جب جسم سارا آبلوں اور ناسوروں سے بھر گیا اور جسم سے پیپ بہنے لگی، سب نیازمند اپنا سلسلہ نیازوعقیدت توڑ کر الگ ہوگئے، سب دوستوں نے نفرت سے آنکھیں پھیر لیں تب بھی آپ ( علیہ السلام) کے صبر اور شکر میں کوئی کمی نہ آئی۔ اس ناقابلِ برداشت تکلیف اور ناگفتہ بہ محرومی کی حالت میں بھی حرف شکایت تو زبان پر کیا آتا یا کسی اور کے سامنے دست سوال تو کیا پھیلاتے صرف اتنا کہا اور وہ بھی اپنے اللہ سے۔ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ” کہ مجھے سخت تکلیف نے چھویا ہے یعنی میں مبتلائے آزار ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے۔ “ دعا کی بلاغت پر غور کیجیے کہ اپنے دکھ درد کا حوالہ تو دیا لیکن حرف مدعا زبان پر نہیں لائے، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت پر چھوڑ دیا۔ جس طرح کوئی انتہائی خوددار آدمی جب کوئی چارہ کار نہیں دیکھتا اور پے در پے فاقے اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوجاتے ہیں تو وہ کسی کریم النفس ہستی کے سامنے صرف اتنی بات کہہ کے رک جاتا ہے کہ ” میں بھوکا ہوں اور آپ فیاض ہیں۔ “ اس کے بعد اس کی خودداری اسے کچھ کہنے سے روک دیتی ہے۔ اس دعا میں بھی حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنے دکھ کا ذکر کیا، لیکن مداویٰ مانگنے کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حوالہ دے کر خاموش ہوگئے۔ یہی وہ مقام ہے جس کو مقام رضا کہتے ہیں۔ جو شخص اس مقام کو حاصل کرلیتا ہے وہ نہ تو اللہ تعالیٰ کے آستانے سے بےنیاز ہوتا ہے اور نہ اپنی زبان کو بےقابو ہونے دیتا ہے کہ کہیں بےصبری کا اظہار نہ ہوجائے۔ بس وہ یہ سمجھتا ہے کہ ؎ جس نے دیا ہے درد وہی چارہ گر بھی ہے کہنی ہے چارہ گر سے ہی خود چارہ گر کی بات چناچہ اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھل گیا۔ سورة ص کے چوتھے رکوع میں اس کی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) سے فرمایا اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ، ھٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌوَّشَرَابٌ ” اپنا پائوں مارو، یہ ٹھنڈا پانی موجود ہے، نہانے کو اور پینے کو۔ “ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے زمین پر پائوں مارنے سے پانی کا چشمہ ابلنے لگا۔ آپ ( علیہ السلام) نے اس میں غسل کیا اور اس کا پانی پیا تو جسم کی ساری بیماریاں دھل گئیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی۔ تمام تکالیف بھی دور فرما دیں جن میں وہ مبتلا تھے اور ان کے اہل و عیال اور ان کے خدم و حشم بھی ازسرنو عطا فرمائے۔ حسن و شباب پھر لوٹ آیا، اجڑا ہوا گھر آباد ہوگیا، مال و دولت کی فراوانی ہوگئی۔ بعض روایات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بچے بچیوں کو زندہ کردیا گیا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اس واقعہ کو اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ یہ قیامت تک آنے والے ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی کو اپنا فریضہ اور سرمایہ سمجھتے ہیں یاددہانی کا کام دے۔ وہ جب بھی کبھی اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہوں تو برے سے برے حالات میں بھی حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر کو یاد کریں اور اس بات کا یقین اپنے اندر پیدا کریں کہ آج بھی پروردگار صبر اور شکر کرنے والوں کو نوازتا ہے اور ہر طرح کی نعمت سے بہرہ ور فرماتا ہے۔ آپ نے دیکھ لیا کہ قرآن کریم نے حضرت ایوب کے سیرت و کردار کو کس قدر اہتمام کے ساتھ ذکر فرمایا اور قیامت تک کے لیے آنے والے صاحب ایمان لوگوں کے لیے اسے اسوہ حسنہ بنادیا۔ لیکن بائیبل نے جو آپ ( علیہ السلام) کا نقشہ کھینچا ہے اسے ذکر کرنے کی بجائے میں تفہیم القرآن کا ایک نوٹ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ اس قصے میں قرآن مجید حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اس شان سے پیش کرتا ہے کہ وہ صبر کی تصویر نظر آتے ہیں اور پھر کہتا ہے کہ ان کی زندگی عبادت گزاروں کے لیے ایک نمونہ ہے لیکن دوسری طرف بائیبل کی سفرِ ایوب ( علیہ السلام) پڑھئے تو وہاں آپ کو ایک ایسے شخص کی تصویر نظر آئے گی جو خدا کے خلاف مجسم شکایت اور اپنی مصیبت پر ہمہ تن فریاد بنا ہوا ہے۔ بار بار اس کی زبان سے یہ فقرے ادا ہوتے ہیں ” نابود ہو وہ دن جس میں، میں پیدا ہوا، میں رحم ہی میں کیوں نہ مرگیا، میں نے پیٹ سے نکلتے ہی کیوں نہ جان دے دی۔ “ اور بار بار وہ خدا کے خلاف شکایتیں کرتا ہے کہ ” قادر مطلق کے تیر میرے اندر لگے ہوئے ہیں، میری روح انہی کے زہر کو پی رہی ہے، خدا کی ڈرائونی باتیں میرے خلاف صف باندھے ہوئے ہیں۔ “ ” اے بنی آدم کے ناظر ! اگر میں نے گناہ کیا ہے تو تیرا کیا بگاڑتا ہوں ؟ تو نے کیوں مجھے اپنا نشانہ بنایا ہے یہاں تک کہ میں اپنے آپ پر بوجھ ہوں ؟ تو میرا گناہ کیوں نہیں معاف کرتا اور میری بدکاری کیوں نہیں دور کردیتا ؟ “ میں خدا سے کہوں گا کہ مجھے ملزم نہ ٹھہرا، مجھے بتا کہ تو مجھ سے کیوں جھگڑتا ہے ؟ کیا تجھے اچھا لگتا ہے کہ اندھیر کرے اور اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیز کو حقیر جانے اور شریروں کی مشورت کو روشن کرے ؟ “ اس کے تین دوست اسے آکر تسلی دیتے ہیں اور اس کو صبر اور تسلیم و رضا کی تلقین کرتے ہیں مگر وہ نہیں مانتا۔ وہ ان کی تلقین کے جواب میں پے در پے خدا پر الزام رکھے چلا جاتا ہے اور ان کے سمجھانے کے باوجود اصرار کرتا ہے کہ خدا کے اس فعل میں کوئی حکمت و مصلحت نہیں ہے، صرف ایک ظلم ہے جو مجھ جیسے ایک متقی و عبادت گزار آدمی پر کیا جارہا ہے۔ وہ خدا کے اس انتظام پر سخت اعتراضات کرتا ہے کہ ایک طرف بدکار نوازے جاتے ہیں اور دوسری طرف نیکوکار ستائے جاتے ہیں۔ وہ ایک ایک کرکے اپنی نیکیاں گناتا ہے اور پھر وہ تکلیفیں بیان کرتا ہے جو ان کے بدلے میں خدا نے اس پر ڈالیں اور پھر کہتا ہے کہ خدا کے پاس اگر کوئی جواب ہے تو وہ مجھے بتائے کہ یہ سلوک میرے ساتھ کس قصور کی پاداش میں کیا گیا ہے۔ اس کی یہ زبان درازی اپنے خالق کے مقابلے میں اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ آخرکار اس کے دوست اس کی باتوں کا جواب دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ چپ ہوتے ہیں تو ایک چوتھا آدمی جو ان کی باتیں خاموش سن رہا تھا بیچ میں دخل دیتا ہے اور حضرت ایوب ( علیہ السلام) کو بےتحاشا اس بات پر ڈانٹتا ہے کہ ” اس نے خدا کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو راست ٹھہرایا۔ “ اس کی تقریر ختم نہیں ہوتی کہ بیچ میں اللہ میاں خود بول پڑتے ہیں اور پھر ان کے اور حضرت ایوب ( علیہ السلام) کے درمیان خوب دوبدو بحث ہوتی ہے۔ اس ساری داستان کو پڑھتے ہوئے کسی جگہ بھی ہم کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہم اس صبر مجسم کا حال اور کلام پڑھ رہے ہیں جس کی تصویر عبادت گزاروں کے لیے سبق بنا کر قرآن نے پیش کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کتاب کا ابتدائی حصہ کچھ کہہ رہا ہے، بیچ کا حصہ کچھ اور آخر میں نتیجہ کچھ اور نکل آتا ہے۔ تینوں حصوں میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ ابتدائی حصہ کہتا ہے کہ حضرت ایوب ( علیہ السلام) ایک نہایت راست باز، خدا ترس اور نیک شخص تھا اور اس کے ساتھ اتنا دولت مند کہ ” اہل مشرق میں وہ سب سے بڑا آدمی تھا۔ “ ایک روز خدا کے ہاں اس کے (یعنی خود اللہ میاں کے) بیٹے حاضر ہوئے اور ان کے ساتھ شیطان بھی آیا۔ خدا نے اس محفل میں اپنے بندے ایوب پر فخر کا اظہار کیا۔ شیطان نے کہا آپ نے جو کچھ اسے دے رکھا ہے اس کے بعد وہ شکر نہ کرے گا تو اور کیا کرے گا۔ ذرا اس کی نعمت چھین کر دیکھیے، وہ آپ کے منہ پر آپ کی ” تکفیر “ نہ کرے تو میرا نام شیطان نہیں۔ خدا نے کہا، اچھا، اس کا سب کچھ تیرے اختیار میں دیا جاتا ہے۔ البتہ اس کی ذات کو کوئی نقصان نہ پہنچائیو۔ شیطان نے جا کر حضرت ایوب ( علیہ السلام) کے تمام مال و دولت کا اور اس کے پورے خاندان کا صفایا کردیا اور ایوب ہر چیز سے محروم ہو کر بالکل اکیلا رہ گیا مگر ایوب کی آنکھ پر میل نہ آیا۔ اس نے خدا کو سجدہ کیا اور کہا ” ننگا ہی میں اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا اور ننگا ہی واپس جاؤں گا۔ خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو۔ “ پھر ایک دن ویسی ہی محفل اللہ میاں کے ہاں جمی۔ ان کے بیٹے بھی آئے اور شیطان بھی حاضر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو جتایا کہ دیکھ لے، ایوب کیسا راستباز آدمی ثابت ہوا۔ شیطان نے کہا، جناب، ذرا اس کے جسم پر مصیبت ڈال کر دیکھیے وہ آپ کے منہ پر آپ کی ” تکفیر “ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اچھا جا، اس کو تیرے اختیار میں دیا گیا، بس اس کی جان محفوظ رہے۔ چناچہ شیطان واپس ہوا اور آکر اس نے ” ایوب کو تلوے سے چاند تک درد ناک پھوڑوں سے دکھ دیا۔ “ اس کی بیوی نے اس سے کہا ” کیا تو اب بھی اپنی راستی پر قائم رہے گا ؟ خدا کی تکفیر کر اور مرجا۔ “ اس نے جواب دیا ” تو ان عورتوں کی سی باتیں کرتی ہے۔ کیا ہم خدا کے ہاتھ سے سکھ پائیں اور دکھ نہ پائیں۔ “ یہ ہے سفرِایوب ( علیہ السلام) کے پہلے اور دوسرے باب کا خلاصہ، لیکن اس کے بعد تیسرے باب سے ایک دوسرا ہی مضمون شروع ہوتا ہے جو بیالیسیوں باب تک ایوب کی بےصبری اور خدا کے خلاف شکایات و الزامات کی ایک مسلسل داستان ہے اور اس سے پوری طرح یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ایوب کے بارے میں خدا کا اندازہ غلط اور شیطان کا اندازہ صحیح تھا پھر بیالیسویں باب میں خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خوب دوبدو بحث کرلینے کے بعد، صبروشکر اور توکل کی بنا پر نہیں بلکہ اللہ میاں کی ڈانٹ کھا کر، ایوب ان سے معافی مانگ لیتا ہے اور وہ اسے قبول کرکے اس کی تکلیفیں دور کردیتے ہیں اور جتنا کچھ پہلے اس کے پاس تھا اس سے دوچند دے دیتے ہیں۔ اس آخری حصے کو پڑھتے وقت آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایوب اور اللہ میاں دونوں شیطان کے چیلنج کے مقابلے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور پھر محض اپنی بات رکھنے کے لیے اللہ میاں نے ڈانٹ ڈپٹ کر اسے معافی مانگنے پر مجبور کیا ہے اور اس کے معافی مانگتے ہی اسے قبول کرلیا ہے تاکہ شیطان کے سامنے ان کی ہیٹی نہ ہو۔ یہ کتاب خود اپنے منہ سے بول رہی ہے کہ یہ نہ خدا کا کلام ہے نہ خود حضرت ایوب کا بلکہ یہ حضرت ایوب کے زمانے کا بھی نہیں ہے۔ ان کے صدیوں بعد کسی شخص نے قصہ ایوب کو بنیاد بنا کر ” یوسف زلیخا “ کی طرح ایک داستان لکھی ہے اور اس میں ایوب، الیفزتیمانی، سوخی بلدو، نعماتی صوفر، براکیل بوزی کا بیٹا الیہو، چند کیرکٹر ہیں جن کی زبان سے نظام کائنات کے متعلق دراصل وہ خود اپنا فلسفہ بیان کرتا ہے۔ اس کی شاعری اور اس کے زور بیان کی جس قدر جی چاہیے داد دے لیجیے۔ مگر کتب مقدسہ کے مجموعے میں ایک صحیفہ آسمانی کی حیثیت سے اس کو جگہ دینے کے کوئی معنی نہیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی سیرت سے اس کا بس اتنا ہی تعلق ہے جتنا ” یوسف زلیخا “ کا تعلق سیرت یوسفی سے ہے بلکہ شاید اتنا بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب کے ابتدائی اور آخری حصے میں جو واقعات بیان کیے گئے ہیں ان میں صحیح تاریخ کا ایک عنصر پایا جاتا ہے اور وہ شاعر نے یا تو زبانی روایات سے لیا ہوگا جو اس کے زمانے میں مشہور ہوں گی یا پھر کسی صحیفے سے اخذ کیا ہوگا جو اب ناپید ہے۔
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور یاد کرو اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل کو، یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے۔

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی خاص رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ نیکوکاروں میں سے تھے۔

وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِدْرِیْسَ وَذَاالْـکِفْلِ ط کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ وَاَدْخَلْنٰـھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا ط اِنَّھُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (الانبیاء : 85، 86) (اور یاد کرو اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل کو، یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے۔ اور ہم نے ان کو اپنی خاص رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ نیکوکاروں میں سے تھے۔ ) یہ تینوں انبیائے کرام صبر کی تصویر ہیں یہ تینوں انبیائے کرام بھی حضرت ایوب (علیہ السلام) کی طرح دیگر خصائلِ حمیدہ کے ساتھ ساتھ صبر میں بطور خاص امتیاز رکھتے تھے۔ اس لیے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد ان کا ذکر کرکے فرمایا یہ سب صبر کرنے والوں یعنی مشکل سے مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے والوں میں سے تھے۔ ان میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا جہاں تک تعلق ہے۔ ان کی زندگی کے حالات اور اپنی ذات کی قربانی کے حوالے سے ان کا کارنامہ صبر کی ہمیشہ رہنے والی ایک ایسی درخشاں مثال ہے اور جس سے امت مسلمہ کا ایک ایک فرد واقف ہے۔ جہاں تک حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تعلق ہے قرآن کریم نے بعض جگہ نہایت اہتمام کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے اور انھیں صدیق نبی کا خطاب دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کا مقام بہت بلند ہے لیکن ان کی زندگی کے حالات سے تاریخ بالکل خاموش ہے۔ وہ زمانہ قبل از تاریخ کی شخصیت ہیں نہ ہم اس دور کی تاریخ سے واقف ہیں اور نہ ان کی زبان سے۔ بحرمردار کے غاروں سے کچھ نوشتے ملے ہیں جن کے بارے میں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ وہ صحیفے ہیں جو حضرت ادریس (علیہ السلام) پر نازل ہوئے تھے، لیکن ان کی زبان چونکہ آج مردہ ہوچکی ہے اس لیے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا تاوقتیکہ اسے ماہرین پڑھنے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔ جہاں تک حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا تعلق ہے، اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ مفسرین کے اقوال میں بہت اضطراب پایا جاتا ہے۔ ان کے نام، ان کے زمانے اور جس علاقے میں وہ مبعوث ہوئے ہر چیز میں شدید اختلاف ہے۔ زیادہ تر لوگ انھیں حضرت حزقیل قرار دیتے ہیں، لیکن یہ بھی اسی شکل میں قابل اعتماد ہے جب یہ ثابت ہوجائے کہ حضرت حزقیل اس لقب سے ملقب تھے۔ قدیم صحیفوں میں ہمیں ان کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ قرآن کریم نے دو جگہ ذکر فرما کر ان کے نام کو زندہ کردیا ہے لیکن ان کے تفصیلی حالات ذکر نہیں فرمائے۔ ممکن ہے عربی لب و لہجہ میں ان کے نام بدل گئے ہوں یا قدیم صحیفوں میں جس طرح اور بعض چیزیں غائب ہوگئی ہیں، ان کا نام بھی غائب کردیا گیا ہو۔ بہر صورت یہ بات تو یقینی ہے کہ جس طرح قرآن کریم نے ان کا ذکر کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور صبر ان کا خصوصی اور امتیازی وصف تھا۔