Ayahs 21:62–63قَالُوْٓائَ اَنْتَ فَعَلْتَ ھٰذَا بِاٰ لِھَتِنَا یٰٓـاِبْرٰھِیْمُ ۔ قَالَ بَلْ فَعَلَـہٗ صلے ق کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا فَسْئَلُوْھُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 62، 63)
(انھوں نے پوچھا کہ اے ابراہیم، کیا یہ حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کی ہے۔ حضرت ابراہیم نے جواب دیا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ حرکت کی ہوگی، سو ان سے پوچھو، اگر یہ بولتے ہوں۔ )
استفسار اور جواب
سوالوں کی نوعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) سے سوال کرنے والے اربابِ اقتدار بھی تھے اور پیشوایانِ دین بھی۔ انھوں نے نہایت حیرت اور غصے میں ڈوبے ہوئے لہجے میں پوچھا کہ ابراہیم ہمارے خدائوں کے ساتھ تم نے یہ حرکت کی ہے ؟ کیونکہ جس کے دل میں اپنے خدائوں کے ساتھ معمولی عقیدت بھی ہے وہ تو یہ حرکت نہیں کرسکتا اور تم بھی اسی قوم کے ایک فرد ہو، تم سے بھی یہ توقع نہیں ہوسکتی۔ لیکن تمہارے بارے میں خبر دینے والوں نے یہ کہا ہے کہ شاید تم نے یہ حرکت کی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں ؟ آپ بت کدے کا منظر دیکھ لیجیے، تمام چھوٹے چھوٹے بتوں کے جسم ٹوٹے پھوٹے بکھرے ہوئے ہیں لیکن ان میں سے بڑا کندھے پر کلہاڑا رکھے اور ان کی ساری مٹھائیوں کو اپنے سامنے ڈھیر کیے بیٹھا ہے، آپ اسے کیوں نہیں پوچھتے ؟ اور اگر ان سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہے تو جن بتوں کے اعضاء توڑے گئے ہیں ان سے پوچھ لیجیے وہ خود بتائیں گے کہ ان پر یہ قیامت کس نے برپا کی ہے، اگر وہ بول سکتے ہیں تو۔
آپ اس پوری کارروائی کو دیکھ لیجیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہیں بھی انکار نہیں کررہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا بلکہ وہ اپنی اس جسارت کے واسطے سے ان کے نام نہاد خدائوں کی بےبسی ان کے سامنے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جن بتوں کو تمہارے بت گروں نے تراشا ہے اور تمہارے مجسمہ سازوں نے ان کے مجسمے بنائے ہیں اور جن پر یہ قیامت کی گھڑی آئی ہے لیکن وہ اپنے دفاع میں ہاتھ تک نہیں ہلا سکے اور اب تمہیں اس مجرم کی تلاش ہے جس نے یہ سب کچھ کیا ہے تو وہ تمہیں یہ تک نہیں بتاسکتے کہ ہمارے ساتھ یہ ظلم کس نے کیا ہے۔ یعنی نہ ان کا وجود اپنا، نہ وہ اپنے دفاع پر قادر اور نہ وہ قوت گویائی سے بہرہ ور، تو کیا ایسے ہوتے ہیں خدا ؟ اتنے گئے گزرے تو حشرات الارض تک نہیں ہوتے۔ کیڑے مکوڑے بھی اپنے مسلنے والوں کو ڈس لیتے ہیں اور چیونٹیاں بھی اپنے تحفظ کے لیے بلوں میں گھس جاتی ہیں، لیکن یہاں عجیب حال ہے کہ تم اپنی مشکلات میں جن کے سامنے دست سوال پھیلاتے ہو وہ تو اپنے جو گے بھی نہیں۔
توقع تھی وہ جن سے خستگی میں داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ کشتہ تیغ ستم نکلے
ہم نے اپنی بساط کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مؤقف کا صحیح محمل واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کو اگر سامنے رکھا جائے تو سچ اور جھوٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے اور ایک حدیث سے استدلال بھی کیا جاتا ہے، ہم اس کی وضاحت کے لیے معارف القرآن کی تشریحات مستعار لیتے ہیں :
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو حضرت ابراہیم نے خود کیا تھا پھر اس سے انکار اور ان کے بڑے کی طرف منسوب کرنا بظاہر خلاف واقعہ ہے جس کو جھوٹ کہا جاتا ہے۔ حضرت خلیل اللہ کی شان اس سے بالا و برتر ہے، اس کے جواب کے لیے حضرات مفسرین نے بہت سے احتمالات بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک وہ بھی ہے جس کو خلاصہ تفسیر بیان القرآن میں اختیار کیا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول بطور فرض کے تھا یعنی تم یہ کیوں نہیں فرض کرلیتے کہ یہ کام بڑے بت نے کیا ہوگا اور بطور فرض کے کوئی خلاف واقعہ بات کہنا جھوٹ میں داخل نہیں جیسے خود قرآن میں ہے ان کان للرحمن ولد فانا اول العابدین یعنی اگر اللہ رحمن کے کوئی لڑکا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں داخل ہوتا، لیکن بےغبار اور بےتاویل وہ توجیہ ہے جس کو بحر محیط، قرطبی، روح المعانی وغیرہ میں اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اسناد مجازی ہے جو کام ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے کیا تھا اس کو بڑے بت کی طرف بطور اسناد مجازی کے منسوب کردیا کیونکہ اس کام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آمادہ کرنے والا یہی بت تھا اور اس کی تخصیص شاید اس وجہ سے ہو کہ ان کی برادری اس بت کی تعظیم سب سے زیادہ کرتی تھی اس کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی چور کی سزا میں اس کا ہاتھ کاٹ دے اور پھر کہے کہ یہ میں نے نہیں کاٹا بلکہ تیرے عمل اور تیری کجروی نے ہاتھ کاٹا ہے کیونکہ ہاتھ کاٹنے کا سبب اس کا عمل ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عملی طور پر بھی بتوں کے توڑنے کو بڑے بت کی طرف منسوب کیا تھا جیسا کہ روایات میں ہے کہ جس تبر یا کلہاڑے سے ان کے بت توڑے تھے یہ کلہاڑا بڑے بت کے مونڈھے پر یا اس کے ہاتھ میں رکھ دیا تھا کہ دیکھنے والے کو یہ خیال پیدا ہو کہ اس نے ہی یہ کام کیا ہے اور قولاً بھی اس کی طرف منسوب فرمایا تو یہ ایک اسناد مجازی ہے جیسے عربی کا مشہور مقولہ انبت الربیع البقلہ اس کی معروف مثال ہے (یعنی موسم ربیع کی بارش نے کھیتی اگائی ہے) کہ اگرچہ اگانے والا درحقیقت حق تعالیٰ ہے مگر اس کو ایک ظاہری سبب کی طرف منسوب کردیا گیا ہے اور اس کو کوئی جھوٹ نہیں کہہ سکتا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بڑے بت کی طرف اس فعل کو عملاً اور قولاً منسوب کردینا جھوٹ ہرگز نہیں۔ البتہ بہت سی مصالح دینیہ کے لیے یہ توریہ اختیار فرمایا۔ ان میں ایک مصلحت تو یہی تھی کہ دیکھنے والوں کو اس طرف توجہ ہوجائے کہ شاید اس بڑے بت کو اس پر غصہ آگیا ہو کہ میرے ساتھ عبادت میں ان چھوٹے بتوں کو کیوں شریک کیا جاتا ہے۔ اگر یہ خیال ان کے دلوں میں پیدا ہو تو توحید حق کا راستہ کھل جاتا ہے کہ جب ایک بڑا بت اپنے ساتھ چھوٹے بتوں کی شرکت گوارا نہیں کرتا تو رب العالمین ان پتھروں کی شرکت اپنے ساتھ کیسے گوارا کرے۔
دوسرے یہ کہ ان کو یہ خیال اس وقت پیدا ہونا قرین عقل ہے کہ جن کو ہم خدا اور مختار کل کہتے ہیں اگر یہ ایسے ہی ہوتے تو کوئی ان کے توڑنے پر کیسے قادر ہوتا۔ تیسرے یہ کہ اگر اس فعل کو وہ بڑے بت کی طرف منسوب کردیں تو جو بت یہ کام کرسکے کہ دوسرے بتوں کو توڑ دے اس میں گویائی کی طاقت بھی ہونی چاہیے۔ اس لیے فرمایا فَسْئَلُوْھُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول مذکور کو بلاتاویل کے اپنے ظاہر پر رکھ کر یہ کہا جائے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس فعل کو بڑے بت کی طرف منسوب فرمایا اور یہ اسناد مجازی کے طور پر فرمایا تو اس میں کوئی جھوٹ اور خلاف واقعہ کا شبہ نہیں رہتا۔ صرف ایک قسم کا توریہ ہے۔
حدیث میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف تین جھوٹ منسوب کرنے کی حقیقت
ایک سوال اب یہ رہ جاتا ہے کہ صحیح احادیث میں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ان ابراھیم (علیہ السلام) لم یکذب غیرثلاث (رواہ البخاری و مسلم) یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کبھی جھوٹ نہیں بولا بجز تین جگہوں کے پھر ان تینوں کی تفصیل اسی حدیث میں اس طرح بیان فرمائی کہ ان میں سے دو جھوٹ تو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے بولے گئے ایک یہی جو اس آیت میں بل فعلہ کبیرھم فرمایا، دوسرا عید کے روز برادری سے یہ عذر کرنا کہ انی سقیم، میں بیمار ہوں اور تیسرا (اپنی زوجہ کی حفاظت کے لیے بولا گیا) وہ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اہلیہ محترمہ حضرت سارہ کے ساتھ سفر میں تھے کہ ایک ایسی بستی پر گزر ہوا جہاں کا رئیس ظالم بدکار تھا۔ جب کسی شخص کے ساتھ اس کی بیوی کو دیکھتا تو بیوی کو پکڑ لیتا اور اس سے بدکاری کرتا، مگر یہ معاملہ اس صورت میں نہ کرتا تھا جبکہ کوئی بیٹی اپنے باپ کے ساتھ یا بہن اپنے بھائی کے ساتھ ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس بستی میں مع اہلیہ کے پہنچنے کی مخبری اس ظالم بدکار کے سامنے کردی گئی تو اس نے حضرت سارہ کو گرفتار کرکے بلوالیا، پکڑنے والوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ عورت رشتہ میں تم سے کیا تعلق رکھتی ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ظالم کے خوف سے بچنے کے لیے یہ فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔ (یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں تیسرے جھوٹ سے تعبیر کیا گیا ہے) مگر اس کے باوجود وہ پکڑ لیے گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ کو بھی بتلا دیا کہ میں نے تم کو اپنی بہن کہا ہے تم بھی اس کے خلاف نہ کہنا اور وجہ یہ ہے کہ اسلامی رشتہ سے تم میری بہن ہو کیونکہ اس وقت اس زمین میں ہم دو ہی مسلمان ہیں اور اسلامی اخوت کا تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مقابلے پر قدرت نہ تھی، اللہ تعالیٰ کے سامنے الحاح وزاری کے لیے نماز پڑھنا شروع کردی۔ حضرت سارہ اس کے پاس پہنچیں یہ ظالم بری نیت سے ان کی طرف بڑھا تو قدرت نے اس کو اپاہج و معذور کردیا۔ اس پر اس نے حضرت سارہ سے درخواست کی کہ تم دعا کردو کہ میری یہ معذوری دور ہوجاوے، میں تمہیں کچھ نہ کہوں گا۔ ان کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے پھر اس کو صحیح سالم کردیا مگر اس نے عہد شکنی کی اور پھر بری نیت سے ان پر ہاتھ ڈالنا چاہا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا۔ اسی طرح تین مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا تو اس نے حضرت سارہ کو واپس کردیا۔ (یہ خلاصہ مضمون حدیث کا ہے) بہرحال اس حدیث میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف تین جھوٹ کی نسبت صراحۃً کی گئی ہے جو شان نبوت و عصمت کیخلاف ہے مگر اس کا جواب خود اسی حدیث کے اندر موجود ہے وہ یہ کہ دراصل ان میں سے ایک بھی حقیقی معنی میں جھوٹ نہ تھا یہ توریہ تھا جو ظلم سے بچنے کے لیے جائز و حلال ہوتا ہے وہ جھوٹ کے حکم میں نہیں ہوتا۔ اس کی دلیل خود حدیث مذکور میں یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ سے کہا تھا کہ میں نے تمہیں اپنی بہن بتلایا ہے تم سے پوچھا جائے تو تم بھی مجھے بھائی بتلانا اور بہن کہنے کی وجہ بھی ان کو بتلا دی کہ ہم دونوں اسلامی برادری کے اعتبار سے بہن بھائی ہیں۔ اسی کا نام توریہ ہے کہ الفاظ ایسے بولے جائیں جن کے دو مفہوم ہوسکیں۔ سننے والا اس سے ایک مفہوم سمجھے اور بولنے والے کی نیت دوسرے مفہوم کی ہو اور ظلم سے بچنے کے لیے یہ تدبیر توریہ کی باتفاق فقہاء جائز ہے یہ شیعوں کے تقیہ سے بالکل مختلف چیز ہے۔ تقیہ میں صریح جھوٹ بولا جاتا ہے اور اس پر عمل بھی کہا جاتا ہے توریہ میں صریح جھوٹ نہیں ہوتا بلکہ جس معنی سے متکلم بول رہا ہے وہ بالکل صحیح اور سچ ہوتے ہیں جیسے اسلامی برادری کے لحاظ سے بھائی بہن ہونا، یہ وجہ تو خود حدیث مذکور کے الفاظ میں صراحۃً مذکور ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ درحقیقت کذب نہ تھا بلکہ ایک توریہ تھا، ٹھیک اسی طرح کی توجیہ پہلے دونوں کلاموں میں ہوسکتی ہے۔ بل فعلہ کبیرھم کی توجیہ ابھی اوپر لکھی گئی ہے کہ اس میں بطور اسناد مجازی اس فعل کو بڑے بت کی طرف منسوب کیا ہے۔ اسی طرح انی سقیم کا لفظ ہے کیونکہ سقیم کا لفظ جس طرح ظاہری طور پر بیمار کے معنی میں آتا ہے اسی طرح رنجیدہ و غمگین اور مضمحل ہونے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی دوسرے معنی کے لحاظ سے انی سقیم فرمایا تھا۔ مخاطبوں نے اس کو بیماری کے معنی میں سمجھا اور اسی حدیث میں جو یہ الفاظ آئے ہیں کہ ان تین کذبات میں دو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے تھے یہ خود قرینہ قویہ اس کا ہے کہ یہ کوئی گناہ کا کام نہ تھا ورنہ گناہ کا کام اللہ تعالیٰ کے لیے کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوسکتا اور گناہ کا کام نہ ہونا جبھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ حقیقۃً کذب نہ ہو بلکہ ایسا کلام ہو جس کے دو معنی ہوسکتے ہوں، ایک کذب اور دوسرا صحیح ہو۔
حدیثِ کذ بات ابراہیم (علیہ السلام) کو غلط قرار دینا جہالت ہے
مرزا قادیانی اور کچھ دوسرے مستشرقین سے مغلوب مسلمانوں نے اس حدیث کو باوجود صحیح السند ہونے کے اس لیے غلط اور باطل کہہ دیا کہ اس سے حضرت خلیل اللہ کی طرف جھوٹ کی نسبت ہوتی ہے اور سند کے سارے راویوں کو جھوٹا کہہ دینا اس سے بہتر ہے کہ خلیل اللہ کو جھوٹا قرار دیا جائے کیونکہ وہ قرآن کے خلاف ہے اور پھر اس سے ایک کلیہ قاعدہ یہ نکال لیا کہ جو حدیث قرآن کیخلاف ہو خواہ وہ کتنی ہی قوی اور صحیح اور معتبر اسانید سے ثابت ہو وہ غلط قرار دی جائے۔ یہ بات اپنی جگہ تو بالکل صحیح اور ساری امت کے نزدیک بطور فرض محال کے مسلم ہے مگر علماء امت نے تمام ذخیرہ احادیث میں اپنی عمریں صرف کرکے ایک ایک حدیث کو چھان لیا ہے جس حدیث کا ثبوت قوی اور صحیح اسانید سے ہوگیا ان میں ایک بھی ایسی نہیں ہوسکتی کہ جس کو قرآن کیخلاف کہا جاسکے بلکہ وہ اپنی تمام کم فہمی یا کج فہمی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ جس حدیث کو رد اور باطل کرنا چاہا اس کو قرآن سے ٹکرا دیا اور یہ کہہ کر فارغ ہوگئے کہ یہ حدیث خلاف قرآن ہونے کے سبب غیرمعتبر ہے جیسا کہ اسی حدیث میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ الفاظ کذبات سے توریہ مراد ہونا خود حدیث کے اندر موجود ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ پھر حدیث میں توریہ کو کذبات کے لفظ سے کیوں تعبیر کیا گیا تو اس کی وجہ وہی ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصہ میں گزر چکی ہے کہ مقربانِ بارگاہ حق تعالیٰ کی ادنیٰ کمزوری اور محض رخصت اور جائز پر عمل کرلینا اور عزیمت کو چھوڑ دینا بھی قابل مواخذہ سمجھا جاتا ہے اور ایسی چیزوں پر قرآن میں حق تعالیٰ کا عتاب انبیاء کے بارے میں بکثرت منقول ہے۔ حدیث شفاعت جو مشہور و معروف ہے کہ محشر میں ساری مخلوق جمع ہو کر حساب جلد ہونے کے متعلق انبیاء سے شفاعت کے طالب ہوں گے، آدم (علیہ السلام) سے لے کر خاتم الانبیاء سے پہلے تک تمام انبیاء کے پاس پہنچیں گے۔ ہر پیغمبر اپنے کسی قصور اور کوتاہی کا ذکر کرکے شفاعت کی ہمت نہ کرے گا، آخر میں سب خاتم الانبیاء (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور آپ اس شفاعتِ کبریٰ کے لیے کھڑے ہوں گے۔ اس حدیث میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ ان کلمات کو جو بطور توریہ کے کہے گئے تھے حقیقۃً کذب نہ تھے مگر پیغمبرانہ عزیمت کے خلاف تھے۔ اپنا قصور اور کوتاہی قرار دے کر عذر کردیں گے، اسی کوتاہی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے حدیث میں ان کو بلفظ کذبات تعبیر کردیا گیا جس کا رسول اللہ ﷺ کو حق تھا اور آپ کی حدیث روایت کرنے اور بیان کرنے کی حد تک ہمیں بھی حق ہے مگر اپنی طرف سے کوئی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں یوں کہے کہ انھوں نے جھوٹ بولا یہ جائز نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ساتھ سورة طٰہٰ کی تفسیر میں قرطبی اور بحرمحیط کے حوالہ سے بیان ہوچکا ہے کہ قرآن یا حدیث میں جو اس طرح کے الفاظ کسی پیغمبر کے بارے میں آئے ہیں ان کا ذکر بطور تلاوتِ قرآن یا تعلیمِ قرآن یا روایت حدیث کے تو کیا جاسکتا ہے خود اپنی طرف سے ان الفاظ کا کسی پیغمبر کی طرف منسوب کرنا بےادبی ہے جو کسی کے لیے جائز نہیں۔
حدیثِ مذکور میں ایک اہم ہدایت اور اخلاصِ عمل کی باریکی کا بیان
حدیث میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں جن کذباتِ ثلٰثہ کا ذکر آیا ہے حدیث میں ان میں سے پہلے دو کے بارے میں تو یہ آیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تھے مگر تیسری بات جو حضرت سارہ کے بارے میں کہی گئی اس کو اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں فرمایا حالانکہ بیوی کی آبرو کی حفاظت بھی عین دین ہے۔ اس پر تفسیر قرطبی میں قاضی ابوبکر بن عربی سے ایک بڑا نکتہ نقل کیا گیا ہے جس کے متعلق ابن عربی نے فرمایا کہ یہ صلحاء و اولیاء کی کمر توڑ دینے والی بات ہے وہ یہ کہ تیسری بات بھی اگرچہ کام دین ہی کا تھا مگر اس میں کچھ اپنا حظ نفس بیوی کی عصمت اور حرم کی حفاظت کا بھی تھا، اتنی سی غرض دنیوی شامل ہوجانے کی بنا پر اس کو فی اللہ اور للہ کی فہرست سے الگ کردیا گیا کیونکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے الاللہ الدین الخالص، یہ معاملہ بیوی کی عصمت کی حفاظت کا اگر ہماری یا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو بلاشبہ اس کو بھی للہ فی اللہ میں شمار کیا جاتا مگر انبیاء کی عظمت شان کا مقام سب سے بلند ہے ان کے لیے اتنا سا حظ نفس شامل ہوں بھی اخلاص کامل کے منافی سمجھا گیا، واللہ اعلم وفقنا اللہ للاخلاص فی کل عمل۔
Ayah 21:64فَرَجَعُوْٓا اِلٰٓی اَنْفُسِھِمْ فَقَالُوْٓا اِنَّـکُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الانبیاء : 64)
(لاجواب ہوکر) اپنے دلوں میں غور کرنے لگے، پھر بولے بلاشبہ تم ہی ناحق پر ہو۔ )
حقیقت کی جھلک
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس چونکا دینے والے طنز نے ان کے دماغ کے تاروں کو شدت سے ہلایا۔ بت پرستی کی عصیبت کے پردوں میں دراڑیں پڑیں۔ دل و دماغ میں بجلی سی کوند گئی۔ متنبہ ہو کے سوچنے لگے کہ یہ نوجوان غلط نہیں کہہ رہا۔ غضب خدا کا ہم نے جنھیں خدائی کے منصب پر بٹھا رکھا ہے وہ یہ بتانے کے قابل بھی نہیں ہیں کہ انھیں اس تباہی سے دوچار کس نے کیا ہے تو وہ ہماری قسمتیں بنانے میں کیا کردار ادا کرسکیں گے۔ ہم اب تک ان کی عقیدت و محبت میں اندھے ہو کر جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ سراسر ظلم، جہالت اور نادانی تھی۔ ہم نے ہر اس شخص کو ظالم سمجھا جس نے بت پرستی پر تنقید کی اور ان پتھر کے مجسموں کو پتھر کہنے کی جسارت کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنے آپ پر ظلم کرتے رہے ہیں۔
Ayahs 21:65–66ثُمَّ نُکِسُوْا عَلٰی رُئُ وْسِھِمْ ج لَقَدْعَلِمْتَ مَاھٰٓـؤُلَآئِ یَنْطِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 65)
(پھر وہ اوندھے ہو کر (اپنی سابقہ گمراہی کی طرف) پلٹ گئے۔ بولے کہ تمہیں معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
نَـکَسَ …کا معنی کسی چیز کو اس طرح الٹ دینا ہے کہ اس کے پائوں اوپر ہوجائیں اور سر نیچے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ شرم و خجالت کے مارے ان کے سر جھک گئے، یہ صحیح نہیں۔ اگر یہ کہنا ہوتا تو عبارت اس طرح ہونی چاہیے تھی نَکَسُوْ رُئُ وْسُھُمْ لیکن یہاں نُکِسُوْا عَلٰی رُئُ وْسِھِمْہے۔ اس کا معنی ہے کہ وہ اپنی مشرکانہ جہالت اور بتوں کی عبادت کی طرف پھر پلٹ گئے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے یہی معنی مروی ہے۔ اَدْرَکَھُمُ الشِقَائُ فَعَادُوْا اِلٰی کُفْرِھِمْ ” یعنی انھیں ان کی بدبختی نے آلیا اور پھر وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے۔ “
عصبیت ِجاہلیت بہت بری بلا ہے۔ جس دل اور دماغ پر یہ پنجے گاڑ لیتی ہے اسے ہوش نہیں آنے دیتی اور اگر کبھی اس کی آنکھ کھلتی بھی ہے تو دوسرے ہی لمحے وہ آنکھ بند کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بارہا ایسا تجربہ ہوا کہ برادری، پارٹی یا اپنے فرقے کی بعض کمزوریوں کا ادراک شروع ہوا لیکن پھر گروہی تعصبات اور پارٹی مفادات غالب آگئے۔ اقبال نے تو صرف حکمران کی ساحری کی بات کی ہے برسوں کے جمے ہوئے تعصبات کی ساحری بھی اس سے کم نہیں ہوتی۔ ؎
نیند سے بیدار ہوتا ہے کوئی محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری
زنجیریں نہ ٹوٹ سکیں
یہ لوگ بھی ایک لمحے کے لیے ہوش میں آئے لیکن دوسرے ہی لمحے نسلوں کے تعصبات ان پر غالب آگئے اور پھر انھیں باتوں کی جگالی کرنے لگے۔ البتہ ! کہنے کو کوئی بات میسر نہ تھی۔ دھیمے ہو کر بولے کہ تم جانتے ہو ہمارے خدا بولا نہیں کرتے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ہیں یہ خدا، لیکن قوت گویائی سے محروم ہیں۔ جہالت بھی کس قدرتباہ کن شے ہے اور جاہلیت کا تعصب اس سے بھی بڑی مصیبت ہے۔ ان بتوں کو خدا بنا دیتا ہے جو بولنے سے بھی محروم ہیں۔
قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَنْفَعُکُمْ شَیْئًا وَّلاَ یَضُرُّکُمْ ۔ (الانبیاء : 64)
(آپ نے فرمایا کیا تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی جو نہ تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ تمہیں کوئی ضرر پہنچا سکتی ہیں۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھرپور وار
مشرکین کے اس اعتراف کے بعد کہ یہ بول نہیں سکتے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک بھرپور وار کیا اور ایک ضرب کاری لگائی کہ نادانو ! تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جو نہ تم کو نفع پہنچا سکیں اور نہ کوئی نقصان۔ کسی کی پرستش کرنا کوئی فیشن تو نہیں۔ یہ تو کسی کی عظمت کے سامنے اپنے آپ کو ڈھیر کردینا۔ کسی کی قدرت کے سامنے اپنی عاجزی کا اعتراف کرنا، کسی کی بڑائی کے سامنے اپنی کمتری کا اقرار کرنا ہے۔ کسی احسن، انفع اور اکمل ذات کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا ہے اور تم اپنا یہ سرمایہ ان کے سامنے ڈھیر کرچکے ہو جو بولنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔
Ayah 21:67اُفٍّ لَّـکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 67)
(تُف ہے تم پر بھی اور ان چیزوں پر بھی جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ )
اُفٍّ لَّـکُمْ… اظہارِبیزاری اور نہایت شدید نفرت و کراہت کا کلمہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ کوئی دلیل ان پر کارگر نہیں ہورہی۔ اور اپنی جہالت اور گمراہی پر کوئی دلیل بھی ان کے پاس نہیں تو آپ ( علیہ السلام) نے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ تُف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر۔ ایسا لگتا ہے کہ تم عقل سے بالکل ہی پیدل ہو۔ اگر تم میں ذرا بھی عقل ہوتی تو تم اس بات کو ضرور سمجھ لیتے کہ پتھر کی مورتیاں بھی کیا پرستش کے قابل ہوتی ہیں۔ جن کی بےبسی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی حفاظت تو کیا کرتیں اپنی بپتا بھی کسی کو نہ سنا سکیں تو ایسی بیکار چیزیں کسی جگہ کا بوجھ تو ہوسکتی ہیں عزت و افتخار کے منصب کی اہل نہیں ہوسکتیں۔
Ayah 21:68قَالُوْا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْٓا اٰ لِھَتَـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ۔ (الانبیاء : 68)
(سب یک زبان ہو کر بولے) جلا ڈالو اس کو اور مدد کرو اپنی خدائوں کی اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سزا کا اعلان
اہلِ باطل اور اربابِ اقتدار کا ہمیشہ یہ شیوہ رہا ہے کہ جب وہ دلائل کی جنگ ہار جاتے ہیں تو پھر تشدد پر اتر آتے ہیں بالخصوص ان کا مذہبی طبقہ جب اپنی پیشوائی کو خطرے میں دیکھتا ہے تو پھر وہ برہنہ طاقت بن کر میدان میں آجاتا ہے۔ یہاں چونکہ اقتدار اور مذہبی اجارہ دار ملی بھگت سے اس ملک پر حکومت کررہے تھے، ان کے لیے یہ بات انتہائی تشویشناک تھی کہ ان کی سیادت و امارت اور تخت اقتدار غیر اللہ کی پرستش کے جن تصورات پر قائم ہے اسے کوئی نقصان پہنچے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت میں جب انھوں نے ان بنیادی تصورات کی مخالفت دیکھی تو انھیں یوں محسوس ہوا کہ ہمارے پائوں تلے سے زمین ہلنے لگی ہے اور ایک نوجوان ہماری سیادت و امارت کو چیلنج کررہا ہے۔ اب ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ اپنے تحفظ وبقاء کے لیے اس زبان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیں جس سے وہ خطرہ محسوس کررہے تھے۔ چناچہ سب بیک زبان چلا اٹھے اس شخص کو پکڑو اور اسے جلادو اور اس طرح سے اپنے خدائوں کے بارے میں جو خطرات لاحق ہورہے ہیں ان کا سد باب کردو۔ چناچہ حکم دے دیا گیا کہ آگ کا ایک بہت بڑا الائو روشن کرو اور عام لوگوں کے سامنے اسے ایک مذہبی ضرورت اور اپنے مزعومہ مذہب کی بقاء کی جنگ کے طور پر پیش کرو۔ عوام تو ایسی باتوں سے دیوانگی کی حد تک برافروختہ ہوجاتے ہیں۔ چناچہ ہر شخص نے اسے اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔ لکڑیوں کے گٹھے اٹھا کے لائے اور اس میدان میں ڈھیر کرتے چلے گئے جہاں الائو جلانا تھا۔ بالآخر لکڑیوں کے اس انبار کو آگ لگائی گئی۔ اس حد تک اس کے شعلے بھڑکے کہ اس کے قریب جانا ناممکن ہوگیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں پھینکنے کے لیے منجنیق تیار کی گئی۔ جب یہ سازوسامان ہوگیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس حال میں قید خانے سے نکالا گیا کہ ان کے پائوں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں۔ جب انھیں منجنیق میں رکھ کر پھینکا جانے لگا تو عالم بالا میں قیامت برپا ہوگئی۔ الٰہی ! تیری اس بھری دنیا میں صرف ایک ابراہیم ہے جو تیرا نام لیتا ہے اور تیری توحید کا پرچم سربلند کرنا چاہتا ہے۔ کیا زمین میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ ایسا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں اس کو جلا دینا چاہیے۔ یہی تو ایک شمع ہے جس نے کفر کی تاریکیوں میں روشنی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر یہ بجھ گئی تو تیرا نام لیوا دنیا میں کوئی نہیں رہے گا۔ بارگاہِ ایزدی سے حکم ہوا کہ ملاء ِ اعلیٰ کے رہنے والو ! تمہیں ابراہیم کی مدد کرنے کی اجازت ہے۔ سب اپنی درخواست لے کر پہنچے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت استغنا سے کسی کی بھی مدد لینے سے انکار کردیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حاضر ہوئے کہ خلیل ! میں ہر حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، آپ ( علیہ السلام) چاہیں تو میں اس آتش کدے کو بجھا دوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ میرے حال سے واقف ہے یا نہیں ؟ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا وہ تو سب سے واقف ہے۔ فرمایا پھر مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں۔ حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) نے درخواست کی کہ اپنے رب سے اپنے بچائو کی دعا کیجیے۔ اس پیکر تسلیم و رضا نے جواب دیا حَسْبِیْ مِنْ سُؤالِیْ عِلْمُہٗ بِحَالِیْ جب وہ میرے حال کو جانتا ہے تو مجھے درخواست کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں اس کے ہر فیصلے کے سامنے سر جھکاتا ہوں۔ اقبال نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس طرز عمل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا :
یقیں مثل خلیل آتش نشینی
یقیں اللہ مستی خود گزینی
Ayahs 21:69–70قُلْنَا یٰـنَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ ۔ وَاَرَادُوْابِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰـھُمُ الْاَخْسَرِیْنَ ۔ (الانبیاء : 69، 70)
(ہم نے حکم دیا، اے آگ ! تو ابراہیم کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔ انھوں نے تو ابراہیم کو گزند پہنچانے کا ارادہ کیا لیکن ہم نے ان کو ناکام بنادیا۔ )
آگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی
انھوں نے جیسے ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینکا، اللہ تعالیٰ نے دہکتے انگاروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کو حکم دیا، خبردار ! میرے خلیل کا بال بیکا نہ ہو۔ اے آگ ! ابراہیم کے لیے ٹھنڈی ہوجا، لیکن اتنی ٹھنڈی نہ ہو کہ اسے ٹھنڈک سے نقصان پہنچے۔ اس کے لیے سلامتی بن جا۔ قرآن کریم نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی کہ آگ کس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سلامتی کا باعث بنی۔ لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ شعلے بجھ گئے، آگ ٹھنڈی ہوگئی اور آپ ( علیہ السلام) بتمام و کمال خیریت کے ساتھ آگ کے الائو سے نکل آئے۔ رہی یہ بات کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ اس کا جاننا یقینا اس شخص کے لیے مشکل ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور پیغمبر کے معجزات پر یقین نہیں رکھتا۔ لیکن جو شخص اس پر ایمان رکھتا ہے کہ اشیاء کے خواص و اثرات تمام تر اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں۔ وہ چاہے تو زہر کو تریاق بنا دے اور چاہے تو تریاق کو زہر میں تبدیل کردے۔ اس کے لیے بحرقلزم کی موجوں کو روک دینا اور حضرت خلیل کے ہاتھ میں تیز چھری کا کند کردینا کوئی مشکل نہیں۔ اس کا حکم ہر چیز پر حاوی ہے۔ اس کی قدرت کے تصرفات کو چونکہ ہم دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں تو ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوتا۔ لیکن اگر یہی تصرفات ہم پہلی دفعہ دیکھتے تو یقینا ہماری حیرت ہمارے لیے پریشانی کا باعث ہوجاتی۔ آگ کا سلامتی بن جانا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوا اور یہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معجزہ تھا۔
دشمن نے یہ چاہا تھا کہ ہم ابراہیم کو آگ میں جلا کر توحید کی اس آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیں گے اور اس کے نتیجے میں بت پرستی اپنا آپ منوانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ان پر الٹ دیا۔ آگ کا جو الائو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے جلایا تھا وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صداقت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اعلان بن گیا۔
Ayah 21:71وَنَجَّیْنٰـہُ وَلُوْطًا اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰـرَکْنٰافِیْھَا لِلْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 71)
(اور ہم نے حضرت ابراہیم کو اور حضرت لوط کو نجات دی اس سر زمین کی طرف جسے ہم نے بابرکت بنایا تھا تمام جہان والوں کے لیے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت
بت کدے کے پجاری، پروہت اور اربابِ اقتدار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے میں ناکامی سے کوئی سبق سیکھنے کی بجائے زخمی سانپ کی طرح پہلے سے بھی زیادہ زہر اگلنے لگے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ کفر کی اتنی بڑی ناکامی اور حق کی اتنی بڑی فتح اثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ لوگ جبر و استبداد اور صدیوں کی عصبیت کی وجہ سے بولنے کی ہمت تو نہیں کریں گے لیکن ان کے احساس میں ایک شعلہ سا ضرور بھڑکے گا کہ اگر ابراہیم سچائی پر نہ ہوتے تو اتنا بڑا الائو ان کے لیے سلامتی نہ بنتا۔ کوئی تعجب نہیں کہ یہی احساس کا شعلہ آنے والے دنوں میں بت پرستی کو بھسم کرنے کا باعث بن جائے۔ چناچہ انھوں نے شہر میں ایسے حالات پیدا کردیئے اور بادشاہ کو مجبور کردیا کہ یہ نہایت خطرناک شخص ہے اسے ہر ممکن طریقے سے ختم کردینا چاہیے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم کو ہجرت کا حکم دیا اور وہ حضرت لوط کو ساتھ لے کر اس سرزمین کی طرف ہجرت کر گئے جسے ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بھائی تھے، نحور اور حاران۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حاران کے بیٹے تھے۔ (پیدائش باب 11 آیت 26) سورة عنکبوت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جو تذکرہ آیا ہے اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم میں سے صرف ایک حضرت لوط ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ ملاحظہ ہو آیت 26 اور پھر آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ برکت والی سرزمین سے مراد شام اور کنعان کی سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے زرخیزی اور شادابی عطا فرمائی ہے اور ساتھ ساتھ روحانی برکات سے بھی نوازا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد متعدد نبی وہاں مبعوث ہوئے۔ اس سرزمین نے ان کے خیروبرکت سے فائدہ اٹھایا اور آج کتنے انبیائے کرام وہاں مدفون ہیں۔
Ayah 21:72وَوَھَبْنَالَـہٗٓ اِسْحٰقَ ط وَیَعْقُوْبَ نَافِلَۃً ط وَکُلاًّ جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ ۔ (الانبیاء : 72)
(اور ہم نے حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق عطا کیے اور مزید براں یعقوب دیئے اور ہم نے سب کو نیک بخت کیا۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر افضال و عنایات کی بارش
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے وطن سے ہجرت فرمائی اور توحید کی جس دعوت کو ان کے اپنے برداشت نہ کرپائے اسے لے کر کنعان میں پہنچے اور پھر نہ جانے کس کس ملک اور کس کس شہر میں اس امانت کا حق ادا کرنے کے لیے مسلسل سفر کی صعوبتیں اٹھاتے اور لوگوں کی مخالفتیں برداشت کرتے رہے اور اس سفر میں حضرت لوط و کے سوا کوئی آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر نہ صرف آپ ( علیہ السلام) کا وطن چھوٹا بلکہ اپنی قوم اور اپنے بھائی بند بھی چھوٹ گئے۔ اور دنیا میں اپنے بھتیجے کے سوا کوئی اپنا نہ رہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کی تنہائی کو محسوس فرمایا اور محض اپنے فضل و کرم سے آپ ( علیہ السلام) کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جیسا عظیم فرزند عطا فرمایا۔ اور جب حضرت اسماعیل کی بھی قربانی مانگ لی گئی اور آپ ( علیہ السلام) نے نہایت وفاشعاری اور حوصلہ مندی کے ساتھ بیٹے کی گردن پر بھی چھری پھیرنے میں تأمل نہ کیا تو تب اس کے انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسی نعمتیں عطا فرمائیں۔ مقصود تو حضرت اسحاق کو عطا کرنا تھا اور وہ اس عمر میں آپ ( علیہ السلام) کے گھر میں تولد ہوئے جبکہ آپ ( علیہ السلام) کی اہلیہ محترمہ بڑھاپے کا شکار ہو کر بانجھ ہوچکی تھی اور خود آپ ( علیہ السلام) بھی باپ بننے کی عمر سے گزر چکے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بڑھاپے میں صرف بیٹا ہی عطا نہیں فرمایا بلکہ اس پر بھی مزید کرم فرماتے ہوئے حضرت یعقوب کا انعام بھی بخشا۔ اس لیے اس کو نافلہ کے لفظ سے یاد فرمایا جس کا معنی ہوتا ہے، زائد۔ اور شاید اس میں اطمینان اور خوشی کا یہ پہلو بھی تھا کہ ہم نے آپ کو اسماعیل کے بعد جو اسحاق جیسا بیٹا عطا فرمایا ہے تو آپ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو لمبی عمر عطا فرمائے گا کیونکہ اس کے لیے ہم نے یعقوب کو بھی مقدر کردیا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عزیز و اقرباء سے دور ہو کر یقینا تنہائی محسوس کرتے اور ملول رہتے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس تنہائی کو باغ و بہار بنادیا اور ان نابکار و ناہنجار عزیزوں کی صحبت سے محروم کرکے وہ اولاد عطا فرمائی جو صالحین اور اخیار میں سے تھے اور پھر ایسا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو صرف صالح اولاد دی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر میں نبوت بھی رکھی۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو بھی نبی بنایا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر اس خاندان سے نبوت کا ایک سلسلہ قائم ہوگیا۔ صدیوں تک اسی خاندان سے نبی اٹھائے جاتے رہے تاآنکہ نبی کریم ﷺ پر نبوت اور رسالت ختم کردی گئیں۔ اور آپ ﷺ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری شاخ یعنی بنی اسماعیل میں سے اٹھائے گئے اور اس طرح سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے خیرواصلاح اور نبوت و رسالت کا سرچشمہ بنادیا۔
Ayah 21:73وَجَعَلْنٰـھُمْ اَئِمَّـۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْھِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَـآئَ الزَّکٰوۃِ ج وَکَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 73)
(اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انھیں بھلائی کے کام اور نماز کا اہتمام اور زکوٰۃ ادا کرنے کی ہدایت کی، اور وہ ہماری ہی بندگی کرنے والے تھے۔ )
اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کا مزید کرم یہ ہوا کہ انھیں جو اولاد عطا فرمائی انھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا امام بنایا۔ مشرقِ وسطیٰ اور بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کے دین کی رہنمائی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کی قیادت و امامت انھیں لوگوں کے سپرد کی گئی۔ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے دور میں اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والوں کے امام تھے اور ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی امت اٹھائی جس نے صدیوں تک اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کا فرض انجام دیا۔
یوں تو ہر پیغمبر ان لوگوں کے لیے امام ہوتا ہے جن کی طرف وہ مبعوث کیا جاتا ہے، لیکن ایسے پیغمبر بھی دنیا میں تشریف لائے ہیں جن پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا، لیکن حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) وہ خوش بخت پیغمبر ہیں جن کے واسطے سے اللہ تعالیٰ نے امتیں اٹھائیں۔ جب تک یہ دنیا میں رہے اللہ تعالیٰ کے حکم اور توفیق سے بھلائیوں کو فروغ دیتے رہے۔ جسم و جان اور مال و دولت میں اللہ تعالیٰ سے وفاداری کے اظہار کی جامع ترین صورتیں نماز اور زکوٰۃ ہیں۔ اس لیے بطورخاص ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول نماز کا اہتمام کرتے اور نظام زکوٰۃ قائم کرتے رہے اور ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ان کی صلاحیتوں اور طاقتوں کا ایک ایک شمہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت و اعانت اور سربلندی میں صرف ہوتا رہا ہے کیونکہ وہ از اول تا آخر اللہ تعالیٰ ہی کے عبادت گزار اور فرمانبردار تھے۔ نہ کسی اور کے سامنے انھوں نے سر جھکایا اور نہ کسی اور کے لیے اپنا مال و دولت صرف کیا۔
Ayahs 21:74–75وَلُوْطًا اٰ تَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا وَّنَجَّیْنٰـہُ مِنَ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓـئِثَط اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمَ سَوْئٍ فٰسِقِیْنَ ۔ وَاَدْخَلْنٰـہُ فِیْ رَحْمَتِـنَا ط اِنَّـہٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔
(الانبیاء : 74، 75)
(ہم نے حضرت لوط کو قوت فیصلہ اور علم کی نعمت عطا فرمائی اور ہم نے انھیں اس بستی سے نجات دی جس بستی کے رہنے والے خبائث کا ارتکاب کرتے تھے، وہ لوگ تھے ہی نافرمان۔ اور ہم نے لوط کو خاص اپنی رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ نیک بختوں میں سے تھے۔ )
حضرت لوط (علیہ السلام) پر عنایات
حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر سابقہ آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے آیا تھا اور اب ان کا مستقل ذکر کیا جارہا ہے لیکن نہایت اختصار کے ساتھ۔ کیونکہ اس سے پہلے کسی قدر تفصیل سے بعض مواقع پر ان کا ذکر آچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے امتی کی حیثیت سے ہجرت کرنے کی توفیق بخشی تھی، لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم اور علم سے نوازا، یعنی ان کو نبوت عطا فرمائی اور قوت فیصلہ سے مشرف فرمایا۔ اور انھیں ایک علاقے کی طرف مبعوث کیا جو بحرمردار کے قریب تھا اور بعض روایات کے مطابق وہ سات بستیوں یا شہروں پر پھیلا ہوا تھا اور ان میں بڑی بستی کا نام سدوم تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے برسوں تک ان کی اصلاح کے لیے کوششیں کیں لیکن وہ لوگ ایسے پاجی واقع ہوئے تھے کہ لواطت جیسے خلاف فطرت فعل کے ایسے رسیا تھے کہ انھوں نے اس حوالے سیشرم و حیاء کا ہر ٹانکا توڑ ڈالا تھا۔ ممکن ہے اسی ام الذنوب کو یہاں خبائث سے تعبیر کیا گیا ہو کیونکہ یہ ایک ایسی برائی ہے جو اپنے ساتھ کئی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے اس کی حیثیت خبیث کی نہیں خبائث کی ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اس خباثت کے ساتھ ساتھ ان کے اندر اور بھی بڑی بڑی برائیاں پائی جاتی تھیں جن میں قرآن کریم میں قطع سبیل کے نام سے ایک برائی کا ذکر فرمایا گیا ہے اور بعض روایات میں اور بھی برائیوں کا تذکرہ ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ لوگ گناہوں کی دلدل میں اس طرح دھنسے ہوئے تھے کہ انسانیت کی کوئی سی خوبی ان میں باقی نہیں رہی تھی۔ جب انھوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی اصلاح کی کاوشوں کو قبول کرنے کی بجائے سرکشی اور تمرد کا راستہ اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب بھیجا۔ اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو اس عذاب سے محفوظ فرمایا اور ان نابکار اور نافرمان لوگوں کی رفاقت سے نجات بخشی اور آپ ( علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں داخل فرما دیا۔ اس سے مراد دنیا میں آپ ( علیہ السلام) کی نجات و فلاح بھی ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت میں جو آپ ( علیہ السلام) کو کامیابی ملنے والی ہے اس کی طرف اشارہ ہو۔
قرطبی نے حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کا قول نقل کیا ہے کہ آپ کو سات بستیوں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا، ان میں سے چھ بستیوں پر اللہ کا عذاب آیا اور ان کو تہہ وبالا کردیا گیا۔ البتہ ایک بستی کو بچالیا گیا اور اس میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کے متعلقین اور آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کو سکونت کی سعادت بخشی۔ ہوسکتا ہے کہ اسی کو رحمت میں داخلے سے تعبیر کیا گیا ہو۔
Ayah 21:76وَنُوْحًا اِذْ نَادٰی مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَـہٗ فَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ ۔
(الانبیاء : 76)
(اور حضرت نوح کو بھی ہم نے ہدایت بخشی، یاد کرو جب انھوں نے دعاکی اس سے پہلے، تو ہم نے ان کی دعا قبول کی پھر نجات دی ہم نے آپ کو اور آپ کے اہل کو عظیم مصیبت سے۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ
جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت لوط کو اپنی ہدایت سے نوازا اور انھیں نبوت عطا فرمائی، اسی طرح ہم نے ان سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی ہدایت دی تھی۔ ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے وہی کچھ سلوک کیا جیسے ہر نبی اور رسول کی قوم نے ہر نبی اور رسول کے ساتھ کیا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جس قدر طویل مدت تک تبلیغ و دعوت کا فرض انجام دیا اور آپ ( علیہ السلام) کی قوم نے بےپناہ مصائب سے آپ ( علیہ السلام) کو دوچار کیے رکھا۔ یہ آپ ( علیہ السلام) کی ایک ایسی انفرادیت ہے جس میں کوئی اور رسول آپ ( علیہ السلام) کا شریک وسہیم نہیں۔ کسی اور رسول کو ساڑھے نوسو سال تک اس کٹھنائی سے گزرنا نہیں پڑا۔ چند سالوں کی اذیتیں انسان کو ہلا کے رکھ دیتی ہیں۔ چہ جائیکہ نو صدیوں تک ایک داعی الی الحق دعوت کا فرض انجام دے اور اس کی پاداش میں گونا گوں مصائب کا شکار رہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کس کینڈے سے پیدا کیا تھا اور صبر و استقامت کی کتنی بڑی مقدار آپ ( علیہ السلام) کو عطا کی تھی، لیکن جب اس قدر طویل مدت تک بھی آپ ( علیہ السلام) کی قوم کے دل نہ پسیجے اور انھوں نے آپ ( علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنا تو دور کی بات ہے اپنے رویئے پر نظرثانی کرنا بھی برداشت نہ کیا تو تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ اتمامِ حجت میں کوئی کمی باقی نہیں رہ گئی۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہدایت اس قوم کی قسمت میں نہیں۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے دعا کا دامن اپنے رب کے سامنے پھیلا دیا۔ اور جس طرح اپنا دل اپنے رب کے سامنے کھول کے رکھا اس کا تفصیلی ذکر تو انشاء اللہ تعالیٰ سورة نوح میں آئے گا یہاں ہم صرف اس سلسلہ کی آخری آیات کا ذکر کرنے پر اکتفا کررہے ہیں۔
مِمَّا خَطِیٰٓـتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا۔ فَلَمْ یَجِدُوْا لَھُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْصَارًا۔ وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا۔ اِنَّـکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلاَ یَلِدُوْٓا اِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا۔ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًاوَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ طوَلاَ تَزِدِالظّٰلِمِیْنَ اِلاَّ تَبَارًا۔ (نوح : 25۔ 28)
(پس قوم نوح ( علیہ السلام) کے لوگ اپنے جرموں کی پاداش میں غرق کردیئے گئے اور آگ میں داخل کیے گئے اور وہ خدا کے مقابل میں اپنے لیے کوئی مددگار نہ پا سکے۔ اور نوح ( علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب ! تو زمین پر ان کافروں میں سے ایک کو بھی چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔ اگر تو ان کو چھوڑے رکھے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور صرف ناہنجاروں اور ناشکروں ہی کو جنم دیں گے۔ اے میرے رب ! میری اور میری والدین کی مغفرت فرما اور ان کی جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوجائیں۔ اور تمام مومنین و مومنات کی اور ظالموں کے لیے صرف تباہی میں اضافہ کر۔ ) فَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ …اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول فرمایا اور آپ ( علیہ السلام) کی دعا کے مطابق آپ ( علیہ السلام) کی قوم پر وہ عذاب بھیجا جس نے ان کی جڑ کاٹ کے رکھ دی اور ان کی تباہی اور بربادی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کے اہل کو کرب عظیم سے نجات عطا فرمائی۔ اہل سے مراد آپ ( علیہ السلام) کے اہل خانہ بھی ہیں اور آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے بھی بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ آپ ( علیہ السلام) کے اہل خانہ میں سے بھی انھیں نجات عطا فرمائی جو آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے اور آپ ( علیہ السلام) کا وہ بیٹا جسے کنعان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جس نے اپنے باپ پر ایمان نہ لا کر تباہی کو دعوت دی اور اس حد تک قوت ادراک سے محروم ہوا کہ یہ بھی نہ جان سکا کہ یہ کوئی بارش نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اور اپنے پدربزرگوار کی پیار بھری دعوت کے باوجود آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار ہونے سے انکار کردیا اور یہ سمجھا کہ میں اپنے تنومند جسم سے کام لے کر پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑ سکتا ہے ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے پانی کی ایک موج اٹھی اور بیٹا باپ کی آنکھوں کے سامنے ڈوب گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے تو اس میں ایمان کے سوا کوئی اور قوت بچانے والی نہیں ہوتی۔ جس کے دل میں ایمان ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کی دستگیری کرتی ہے۔ چناچہ اس عذاب سے اور اس کرب عظیم سے جس میں صدیوں سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے مبتلا تھے اس سے اللہ تعالیٰ نے نجات دے دی۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس کرب و بلا سے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والے کفار مکہ کے ہاتھوں دوچار کیے جارہے تھے اسی اذیت رسانی میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے مبتلا کیے گئے تھے اور صدیوں سے اس عذاب کو برداشت کر رہے تھے۔ قوم کی تباہی اور اس عذاب سے ان کی جان چھوٹی۔
Ayah 21:77وَنَصَرْنٰـہُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِنَا ط اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمَ سَوْئٍ فَاَغْرَقْـنٰـھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (الانبیاء : 77)
(اور ہم نے ان کی حمایت کی اس قوم کے مقابلہ میں جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا، بیشک وہ نہایت ہی برے لوگ تھے، پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کا انجام
معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح کی اذیت رسانیوں سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے انتہائی ناگفتہ بہ حالت سے گزر رہے تھے۔ صدیوں تک قوم نے جنھیں اپنی ستم رانیوں کا نشانہ بنا رکھا تھا یقینا ان کے کاروبار تباہ ہوچکے ہوں گے۔ جان و تن کا رشتہ قائم رکھنا ان کے لیے مشکل ہورہا ہوگا۔ وہ اس قدر کمزور کیے جا چکے ہوں گے کہ وہ ہزار کوشش کے باوجود بھی اذیتوں کی بھٹی سے نکلنے پر قادر نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے خصوصی فضل و کرم سے ان کی نصرت فرمائی اور انھیں اس طرح ان کے چنگل سے نکالا جس کا تصور بھی دور دور تک مشکل تھا اور قوم نوح نے چونکہ اپنے کفر و شرک اور بداعمالیوں کے باعث فسق و فجور کو انتہا تک پہنچا دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی زمین کو فساد سے بھر دیا تھا۔ اب ضرورت اس بات کی تھی کہ اس زمین کو ان کے شر و فساد سے پاک کیا جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کا انتظام اس طرح فرمایا کہ زمین کے سمندروں اور آسمان کے بادلوں کو حکم دیا چناچہ ہر طرف سے پانی برسا اور زمین سے پانی ابلا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑ بھی پانی میں چھپ گئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا سفینہ نجات کا سفینہ بن کر پانی کی سطح پر تیرتا ہوا جودی پہاڑ پر جا کر رک گیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اصحابِ ایمان کو ظالموں کے ظلم سے بچایا اور زمین کی مکمل تطہیر کا انتظام کیا اور اس قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ انھوں نے اپنے فسق و فجور سے اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کردیا تھا۔