Ayahs 21:101–102اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓیلا اُوْلٰٓئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ ۔ لاَ یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا ج وَھُمْ فِیْ مَااشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 101، 102)
(بیشک جن کے لیے اچھے انجام کا ہماری جانب سے وعدہ ہوچکا ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔ وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے وہ ان (نعمتوں) میں جن کی خواہش انھوں نے کی تھی ہمیشہ رہیں گے۔ )
ایک اعتراض کا جواب
حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کا خیال ہے کہ جب سابقہ آیت کریمہ نازل ہوئی (تو جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں) ابن الزیغری نے کہا کہ اگر شرک کی وجہ سے معبود جہنم میں جائیں گے تو جہاں ہمارے معبود یعنی پتھر کے بت جائیں گے وہاں حضرت مسیح، حضرت عزیر اور ملائکہ بھی جائیں گے، کیونکہ ان کی بھی پوجا کی جاتی ہے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے اچھے انجام کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے۔ یعنی انبیائے کرام معصوم پیدا ہوتے ہیں ان کو کسی غلطی پر اللہ تعالیٰ باقی نہیں رہنے دیتا اور قیامت کے دن وہ نہ صرف نجات سے بہرہ ور ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کا مرتبہ و مقام بھی بہت بلند ہوگا۔ اس لیے یہ کہنا کہ وہ جہنم میں جائیں گے اس سے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے وہ تو جہنم سے انتہائی دور رکھے جائیں گے اور جہنم میں عذاب کے باعث جو چیخ و پکار ہوگی اور خود جہنم کے بھڑکنے کی وجہ سے جو آوازیں پیدا ہوں گی ان میں سے کسی آواز کی آہٹ بھی ان تک نہیں پہنچنے دی جائے گی۔
ایک حیرت انگیز اعزاز
اس آیت کریمہ میں مزید فرمایا گیا ہے کہ جن خوش نصیب لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا انھیں ایسے عیش و آرام سے نوازا اور ایسی نعمتوں سے بہرہ ور کیا جائے گا جس کا تصور بھی کسی دوسرے کے لیے ممکن نہیں۔
دنیا میں ہفت اقلیم کا بادشاہ بھی ان نعمتوں کا تصور نہیں کرسکتا جو اہل جنت کو حاصل ہوں گی۔ ان میں سب سے بڑی نعمت جس کا دنیا میں وجود بھی معدوم ہے وہ یہ ہے کہ اہل جنت اپنے لیے جس عیش و آرام اور جس تنعم کی خواہش کریں گے وہ فوراً انھیں میسر آجائے گا۔ وہاں کوئی ناممکن چیز ناممکن نہیں ہوگی۔ دنیا میں بڑے سے بڑا بادشاہ بھی ہزاروں ایسی نعمتوں سے محروم رہتا ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے۔ ہر صاحب اقتدار کی خواہش اس سے مختلف نہیں ہوتی کہ اس کے اقتدار کو کبھی زوال نہ آئے اور ہر بادشاہ ایک ملک کے بعد دوسرے ملک کی فکر میں ہوتا ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا حکمران بھی تکدرات سے محفوظ نہیں ہوتا، اور بڑے سے بڑا عہدہ و منصب اور مال و دولت رکھنے والا ہزاروں ارمان لے کر دنیا سے رخصت ہوتا ہے لیکن جنت میں نہ کسی تکدر کی گنجائش ہوگی نہ کوئی ارمان اپنی تعبیر سے محروم رہے گا۔
یہ صحیح ہے کہ وہاں کی ابدی زندگی کبھی فنا کا شکار نہیں ہوگی اور ہمارے شاعر نے اسے بھی ایک پابندی قرار دیا اور یہ کہا :
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پروردگار نے اس بات کی خوشخبری دی ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ ضمانت دی ہے کہ اہل جنت، جنت کے قیام سے نہ کبھی آزردہ ہوں گے اور نہ اکتائیں گے اور انھیں کبھی اس بات کا تصور بھی نہیں ہوگا کہ یہاں سے نکل کر کہیں اور بھی جایا جاسکتا ہے۔ انسان تغیرپسند اور متلون واقع ہوا ہے۔ میدانی علاقوں کے رہنے والے پہاڑوں میں جانا پسند کرتے ہیں اور پہاڑوں کے باسی میدانی علاقوں میں آنا خوشی کا باعث سمجھتے ہیں کیونکہ دونوں علاقوں کی خوشیاں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ لیکن جنت میں چونکہ سب خوشیاں میسر ہوں گی اس لیے پروردگار نے فرمایا : لاَ یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلاً …
Ayah 21:103لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ط ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْـتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 103)
(اس دن ان کو بڑی گھبراہٹ کا غم لاحق نہ ہوگا اور فرشتے ان کا خیرمقدم کریں گے (کہیں گے) یہ ہے آپ کا وہ دن جس کا آپ لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا۔ )
فزع اکبر سے کیا مراد ہے ؟
حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ فزع اکبر سے مراد صور کا نفخہ ثانیہ ہے جس سے سب مردے زندہ ہو کر انصاف کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے بعض حضرات نے نفحہ اولیٰ کو فزع اکبر قرار دیا ہے۔ ابن عربی کا قول یہ ہے کہ نفخہ تین ہوں گے۔ پہلا نفخہ، نفخہ فزع ہوگا جس سے ساری دنیا کے لوگ گھبرا اٹھیں گے، اسی کو یہاں فزع اکبر کہا گیا ہے۔ آیت 97 میں فرمایا گیا ہے کہ آج یہ لوگ بڑی ڈھٹائی سے قیامت کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن جب وہ دن اچانک آدھمکے گا تو ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ وہ ہولناک دن فزع اکبر سے شروع ہوگا۔ یعنی اس دن کا آغاز ایک ایسے نفخہ سے ہوگا جس سے عظیم گھبراہٹ طاری ہوجائے گی اور ساری دنیا کے لوگ گھبرا اٹھیں گے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اربوں کھربوں مخلوق جس گھبراہٹ کا شکار ہوگی یقینا اس کے اسباب بےپناہ ہوں گے اور عام ہولناکی اور دہشت پورے ماحول پر چھا چکی ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے فضل و کرم کا کیا کہنا کہ اس حال میں بھی اس کے صاحب ایمان بندوں پر یہ گھبراہٹ اثر نہیں کرے گی بلکہ اس کے برعکس منظر یہ ہوگا کہ بیشتر لوگ گھبراہٹ کا شکار ہو کر عجیب ناگفتہ بہ حالت میں مبتلا ہوں گے لیکن صاحب ایمان لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ آج کے دن کی عام کیفیت کیا ہے وہ نہایت پرسکون حالت میں اپنی قبروں سے اٹھیں گے اور میدانِ حشر کی طرف رواں دواں ہوجائیں گے اور فرشتے خوش آمدید کہنے کے لیے ان کے راستے میں موجود ہوں گے وہ ایک ایک کا نہایت احترام کے ساتھ استقبال کریں گے، نہایت حوصلہ افزاء کلمات کہیں گے اور انھیں بشارت دیں گے کہ دنیا میں جن ابدی کامرانیوں کو آپ کو مژدہ سنایا جاتا رہا آج انھیں کامرانیوں کے حصول کا مبارک دن ہے اور یہی وہ امید افزا دن ہے جس کا انبیاء کے واسطے سے آپ سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔
Ayah 21:104یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآئَ کَطَیِّ السِّجْلِّ لِلْکُتُبِط کَمَا بَدَاْنَـآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ ط وَعْدًا عَلَیْنَا ط اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ ۔ (الانبیاء : 104)
(اس دن کا خیال کرو جس دن ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے جس طرح طومار میں اوراق کو لپیٹتے ہیں، جس طرح ہم نے پہلی دفعہ خلقت کا آغاز کیا اسی طرح ہم اس کا اعادہ کریں گے، یہ ہمارے ذمہ ایک حتمی وعدہ ہے۔ بیشک ہم یہ کرکے رہیں گے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
سِجِْلّ … اس دفتر یا طومار یا فائل کو کہتے ہیں جس میں لکھے ہوئے اوراق محفوظ کرلیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے اس کا ترجمہ صحیفہ منقول ہے۔ کُتُبْ… یہاں اوراقِ نوشتہ کے معنی میں ہے۔
روزِقیامت کی ہولناکی
روزِ قیامت کی ہیبت اور ہولناکی کو ذہنوں میں مزید پیوست کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ اس دن ہم آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح اوراقِ نوشتہ کسی فائل میں لپیٹ کر محفوظ کردیئے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا ایک ایک ورق الٹ دیا جائے گا۔ اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ میدانِ حشر قائم ہونے سے پہلے نئے سرے سے کائنات کی بساط بچھے گی۔ اب آسمان بھی نئے ہوں گے، زمین بھی نئی ہوگی اور اس کائنات کے فرامین و نوامیس بھی نئے ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ پہلی کائنات کی بساط لپیٹ کر نئی کائنات کو وجود کیسے دے دیا جائے گا ؟ اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔ اس لیے کہ جو ذہن اس بات کو قبول کرتا ہے کہ کائنات اور اس میں بسنے والی ایک ایک مخلوق اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئی ہے اس کے لیے یہ بات جاننا کیا مشکل ہے کہ کسی چیز کا پہلی مرتبہ بنانے والا اسے دوسری مرتبہ پہلی مرتبہ سے زیادہ آسان طریقے سے بنا لیتا ہے۔ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ کا یہاں یہی مفہوم ہے۔
وَعْدًا عَلَیْنَا … قیامت کا دن لانا ہمارے ذمہ ہے کیونکہ ہم اس کا وعدہ کرچکے ہیں۔ ہم نے انسانوں کو عقل اور شعور دے کر اور انبیائے کرام اور کتب الٰہیہ کے ذریعے ہم جن و انس سے یہ وعدہ کرچکے ہیں کہ اگر تم نے ہمارے نازل کردہ احکام و ہدایات کے مطابق زندگی گزاری تو ہم تمہیں بہتر سے بہتر جزاء سے نوازیں گے۔ اور جن لوگوں نے ہمارے احکام و ہدایات سے انکار کیا اور سرکشی کی روش اختیار کی انھیں ہم بدترین سزا دیں گے۔ جن لوگوں نے اس امتحان کو قبول کرلیا ان کے حوالے سے ہمارے وعدے کے مطابق یہ بات ہم پر لازم ٹھہری کہ ہم قیامت کا دن ضرور لائیں۔ مزیدبراں ! اللہ تعالیٰ نے یہ بھی وعدہ فرمایا تھا کہ اگر تم نے میری ہدایت کے مطابق زندگی گزاری تو ہم تمہیں دنیا میں بھی کامیابیوں سے نوازیں گے اور آخرت میں بھی کسی غم واندوہ سے واسطہ نہیں پڑے گا۔ اب اگر ہم قیامت کو برپا نہیں کرتے تو ہم اپنے وعدوں کا ایفا نہیں کرسکتے۔ اگر دنیا میں نیکی اور بدی برابر ٹھہرے، اچھائی اور بُرائی ایک مول بکنے لگے، محنت کرنے والا اور بدمحنت ایک ترازو میں تولے جائیں، خودغرض اور قربانی و ایثار کے پیکر ایک ہی طرح کے نتائج سے بہرہ ور ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں۔ ایک ایسا کارخانہ ہے جس کی کوئی پیداوار نہیں، ایک ایسی کائنات ہے جس میں کہیں کوئی حکمت نہیں جبکہ اس کائنات کا خالق ومالک علیم بھی ہے اور حکیم بھی۔ اس کے ہر عمل کے پیچھے حکمت و دانش کارفرما ہے۔
اس کائنات کے صحیح محمل کا تعین اسی صورت میں ممکن ہے کہ یہاں کے رہنے والوں میں ہر شخص اس امید پر کام کرے کہ یہ زندگی حقیقی زندگی نہیں بلکہ حقیقی زندگی کی تیاری کا ایک مرحلہ ہے۔ یہ دارالجزاء نہیں بلکہ دارالعمل ہے۔ یہاں کا ہر شخص اپنی زندگی کا ایک مقصد رکھتا ہے اور اسی مقصد کے حوالے سے قیامت کا آنا ضروری ہے تاکہ وہاں اس کے لیے جزاء و سزا کا فیصلہ ہوسکے۔ یہاں کے مظالم، ہوسکتا ہے کہ کبھی سزا سے نہ گزر سکیں لیکن ایک دن ضرور آئے گا جبکہ ہر ظالم کو اس کے ظلم کی سزا ملے گی اور وہ اس سے بچ نہیں سکے گا۔
اس کائنات کا اصل حسن اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا اظہار ہے اور صفت عدل کا اظہار دنیا میں کماحقہ ممکن نہیں۔ یہاں کے دکھوں کا مداوا دنیا میں کسی حد تک تو ہوسکتا ہے لیکن عدل کے تمام تر تقاضوں کو بروئے کار نہیں لایا جاسکتا۔ اس لیے اس کائنات کے وجود کی توجیہ، انسان کو دیا ہوا فہم و شعور اور نازل کردہ آسمانی نوشتوں کا دنیا سے متعلق تصور اور انبیائے کرام کی دعوت کا موضوع ان میں سے ہر چیز اپنے محمل سے بیگانہ اور حقیقی مفہوم سے ناآشنا ہوجائے گی اگر قیامت برپانہ کی جائے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ قیامت کا لانا ہم پر لازم ہے اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔
Ayah 21:105وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزُّبُوْرِ مِنْ م بَعْدِالذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ۔
(الانبیاء : 105)
( علیہ السلام) ْ (ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔ )
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زبور میں اپنا یہ فیصلہ لکھ دیا اور اب پھر اس کا اعادہ کررہے ہیں کہ زمین کے وارث اللہ تعالیٰ نے نیک بندے ہوں گے۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ زمین سے مراد وہ زمین ہے جس پر ہم رہ رہے ہیں اور اس زمین پر جو لوگ بھی حکومت قائم کرلیتے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ جو بالعموم برسراقتدار رہتے ہیں انھیں کو حق ہے کہ وہ اس زمین کے وارث ہوں۔ اور وہ اپنی جن قوتوں سے بہرہ ور ہو کر زمین کی حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اسی صلاحیت کا حاصل کرنا صالحیت ہے جو صلاحیت کا ہم معنی ہے اور یہی لوگ صالحین کہلانے کے مستحق ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک دنیا میں جتنی حکومتیں گزری ہیں اور جن لوگوں نے زمین کے بڑے حصے پر کبھی بھی اقتدار حاصل کیا ہے یہی لوگ تھے جن کو صالح قرار دیا گیا ہے اور انھیں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین کا وارث بنایا گیا تھا۔ اس مفہوم کو قبول کرلینے کے بعد پہلی جو بات تسلیم کرنی پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ فرعون اور نمرود، شداد اور ہامان، ہٹلر اور مسولینی، لینن اور سٹالن علی ہٰذا القیاس ہماری قریب یا بعید تاریخ میں جتنے بھی بڑے بڑے حکمران گزرے ہیں چاہے وہ پرلے درجے کے کافر اور مشرک ہوں، چاہے وہ چنگیز خاں جیسے ظالم ہوں یا جدید دنیا کے بش جیسے لوگ ہوں ان کا کفر اور شرک، ان کا ظلم اور نفاق، ان کی بداخلاقی اور بےحیائی، ان میں سے بعض حکمرانوں کا خدا سے انکار یہ سب بیکار باتیں ہیں، اصل بات دیکھنے کی صرف یہ ہے کہ ان میں دنیا کے کسی حصے پر اقتدار چھین لینے اور قبضہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین کے وارث ہیں۔
دوسری بات یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں ہوگا کہ ماضی میں کتنے عظیم رسول گزرے ہیں جنھیں کسی نہ کسی حکمران کی اصلاح اور ہدایت کے لیے بھیجا گیا اور اگر وہ ہدایت قبول نہیں کرتے تو پھر ان سے اقتدار چھین کر اللہ تعالیٰ کی زمین کے اوپر رہنے والوں کو آزادی سے اللہ تعالیٰ کا دین قبول کرنے کا موقع دیا گیا۔ نہایت اختصار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے اقتدار سے ٹکرائے اور بالآخر فرعون کو تباہ کردیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نمرود اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے اٹھے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے جالوت کو شکست دی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ یمن کو ہدایت کا راستہ دکھایا۔ غرضیکہ دنیا میں آنے والا کوئی رسول بھی پہلے سے تخت اقتدار پر متمکن حکمرانوں کی حکمرانی کو پختہ کرنے اور سند جواز دینے کے لیے نہیں آیا بلکہ ان کا تختہ الٹ کر اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے دین کو نافذ کرنے کے لیے مبعوث ہوا۔ اگر آج کے دانشوروں کا متذکرہ بالا تصور قبول کرلیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پیغمبروں کی دعوت غلط تھی اور ظالم حکمرانوں سے ان کا تصادم سراسر فساد پیدا کرنے کی کوشش تھی۔ ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان بھی اس بےہودہ تصور کو قبول نہیں کرسکتا۔
رہی یہ بات کہ اس آیت کریمہ کا صحیح مفہوم کیا ہے اس کے لیے ہم نے معارف القرآن کا ایک نوٹ اور پھر تدبر قرآن کا ایک نوٹ نقل کیا ہے تاکہ ان سے استفادہ کیا جاسکے۔
ذکر اور زبور کی وضاحت
لفظ زبور، زُبُرْ کی جمع ہے جس کے معنی کتاب کے ہیں اور زبور اس خاص کتاب کا نام بھی ہے جو حضرت دائود (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ اس جگہ زبور سے کیا مراد ہے اس میں اقوال مختلف ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ذکر سے مراد آیت میں تورات ہے اور زبور سے مراد وہ سب کتابیں ہیں جو تورات کے بعد نازل ہوئیں۔ انجیل، زبور، دائود اور قرآن (اخرجہ ابن جریر) یہی تفسیر ضحاک سے بھی منقول ہے اور ابن زید نے فرمایا کہ ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے اور زبور سے مراد تمام کتابیں جو انبیائے پر نازل ہوئی ہیں۔ زجاج نے اسی کو اختیار کیا۔ (روح المعانی)
الارض سے کیا مراد ہے ؟
الارض… اس جگہ ارض سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک ارض جنت ہے۔ ابن جریر نے ابن عباس ( رض) سے یہ تفسیر نقل کی ہے اور یہی تفسیر مجاہد، ابن جبیر، عکرمہ، سدی اور ابوالعالیہ سے بھی منقول ہے۔ امام رازی ( رح) نے فرمایا کہ قرآن کی دوسری آیت میں جو یہ فرمایا کہ اس ارض کے وارث صالحین ہوں گے یہ بھی اسی کا قرینہ ہے کہ ارض سے جنت مراد ہو۔ دنیا کی زمین کے وارث تو مؤمنین کافر سبھی ہوجاتے ہیں۔ نیز یہ کہ یہاں صالحین کا وارث ارض ہونا ذکر قیامت کے بعد آیا ہے اور قیامت کے بعد جنت کی زمین کے سوا کوئی دوسری زمین نہیں اور حضرت ابن عباس ( رض) کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس ارض سے مراد عام ارض ہے۔ دنیا کی زمین بھی اور جنت کی زمین بھی۔ جنت کی زمین کے تو تنہا وارث صالحین ہونا ظاہر ہے۔ دنیا کی پوری زمین کے وارث ہونا بھی ایک وقت میں مؤمنین صالحین کے لیے موعود ہے جس کی خبر قرآن کریم کی متعدد آیات میں دی گئی ہے۔ ایک آیت میں ہے، ان الارض للہ یورثھا من یّشآء من عبادہٖ والعاقبۃ للمتقین، ایک دوسری آیت میں ہے وعداللّٰہ الّذین اٰمنوا منکم وعملٰوالضّٰلحٰت لیستخلفنّھم فی الارض الآیۃ، تیسری ایک آیت میں انّا الننصر رسلنا والّذین اٰمنوا فی الحیٰوۃ الدّنیا و یوم یقوم الاشھاد، مؤمنین صالحین کا دنیا کے معظم معمورہ پر قابض اور وارث ہونا ایک مرتبہ دنیا پہلے مشاہدہ کرچکی ہے اور زمانہ دراز تک یہ صورت قائم رہی اور پھر حضرت مہدی (علیہ السلام) کے زمانے میں ہونے والی ہے۔ (روح المعانی و ابن کثیر) (ماخوذ از معارف القرآن)
اس آیت میں زبور کا حوالہ ہے۔ زبور میں یہ بات یوں تو جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ زمین کے وارث خدا کے نیک بندے ہی ہوں گے لیکن باب 37 تو پورے کا پورا گویا صرف اسی ایک حقیقت کی وضاحت کے لیے مخصوص ہے۔ اس وجہ سے ہم یہ پورا باب یہاں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے حوالہ کی صحت و صداقت بھی واضح ہوجائے اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ زمین کی وراثت سے یہاں کس زمین کی وراثت مراد ہے۔ نیز مِنْ م بَعْدِالذِّکْرِ کا صحیح مفہوم بھی متعین ہوسکے کہ ” ذکر “ سے یہاں کس چیز کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے ہم زبور سے حضرت دائود ( علیہ السلام) کا مزمور نقل کرتے ہیں، اس کے بعد اس کی ان باتوں کی طرف اشارہ کریں گے جو آیت زیربحث کی وضاحت کے لیے خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔
” تو بدکرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہو۔
اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر۔
کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ ڈالے جائیں گے۔
اور سبزہ کی طرح مرجھا جائیں گے۔
خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔
ملک میں آباد رہ اور اس کی وفاداری سے پرورش پا۔
خداوند میں مسرور رہ۔
اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا۔
اپنی راہ خداوند پر چھوڑ دے۔
اور اس پر توکل کر۔ وہی سب کچھ کرے گا۔
وہ تیری راست بازی کو نور کی طرح،
اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح روشن کرے گا۔
خداوند میں مطمئن رہ اور صبر سے اس کی آس رکھ۔
اس آدمی کے سبب سے جو اپنی راہ میں کامیاب ہوتا۔
اور برے منصوبوں کو انجام دیتا ہے بیزار نہ ہو۔
قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے۔
کیونکہ بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے۔
لیکن جن کو خداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہوں گے۔
کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہوجائے گا۔
تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا پر وہ نہ ہوگا۔
لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے۔
شریر راست باز کے خلاف بندش باندھتا ہے۔
اور اس پر دانت پیستا ہے۔
خداوند اس پر ہنسے گا۔
کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کا دن آتا ہے۔
شریروں نے تلوار نکالی اور کمان کھینچی ہے۔
تاکہ غریب اور محتاج کو گرا دیں۔
اور راست رو کو قتل کریں۔
ان کی تلوار ان ہی کے دل کو چھیدے گی۔
اور ان کی کمانیں توڑی جائیں گی۔
صادق کا تھوڑا سا مال۔
بہت سے شریروں کی دولت سے بہتر ہے۔
کیونکہ شریروں کے بازو توڑے جائیں گے۔
لیکن خداوند صادقوں کو سنبھالتا ہے۔
کامل لوگوں کے ایام کو خدا جانتا ہے۔
ان کی میراث ہمیشہ کے لیے ہوگی۔
وہ آفت کے وقت شرمندہ نہ ہوں گے۔
اور کال کے دنوں میں آسودہ رہیں گے۔
لیکن شریر ہلاک ہوں گے۔
خداوند کے دشمن چراگاہوں کی سرسبزی کی مانند ہوں گے۔
وہ فنا ہوجائیں گے۔ وہ دھوئیں کی طرح جاتے رہیں گے۔
شریر قرض لیتا ہے اور ادا نہیں کرتا۔
لیکن صادق رحم کرتا ہے اور دیتا ہے۔
کیونکہ جن کو وہ برکت دیتا ہے وہ زمین کے وارث ہوں گے۔
اور جن پر وہ لعنت کرتا ہے وہ کاٹ ڈالے جائیں گے۔
انسان کی روشیں خداوند کریم کی طرف سے قائم ہیں۔
اور وہ اس کی راہ سے خوش ہے۔
اگر وہ گر بھی جائے تو پڑا نہ رہے گا۔
کیونکہ خداوند اسے اپنے ہاتھ سے سنبھالتا ہے۔
میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوں۔
تو بھی میں نے صادق کو بےکس۔
اور اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔
وہ دن بھر رحم کرتا ہے اور قرض دیتا ہے۔
اور اس کی اولاد کو برکت ملتی ہے۔
بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر۔
اور ہمیشہ تک آباد رہ۔
کیونکہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے،
اور اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا۔
وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں۔
پر شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔
صادق زمین کے وارث ہوں گے۔
اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔
صادق کے منہ سے دانائی نکلتی ہے۔
اور اس کی زبان سے انصاف کی باتیں۔
اس کے خدا کی شریعت اس کے دل میں ہے۔
وہ اپنی روش میں پھسلے گا نہیں۔
شریر صادق کی تاک میں رہتا ہے۔
اور اسے قتل کرنا چاہتا ہے۔
خداوند اسے اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑے گا۔
اور جب اس کی عدالت ہو تو اسے مجرم نہ ٹھہرائے گا۔
خداوند کی آس رکھ اور اسی کی راہ پر چلتا رہ۔
اور وہ تجھے سرفراز کرکے زمین کے وارث بنائے گا۔
ہمارے نزدیک زبور کے اسی مزمور کا قرآن نے یہاں حوالہ دیا ہے۔ اس مزمور پر غور کیجیے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ اس کی نوعیت ایک ترکیب بند کی ہے جس میں پہلے موعظت و نصیحت کی باتیں آتی ہیں پھر بار بار ایک ترجیع یا ٹیپ کے بند کی طرح یہ بات آتی ہے کہ زمین اور ملک کے وارث خدا کے نیک اور متقی بندے ہوں گے۔ یہ اسلوب کلام قرآن کی سورة رحمن کے اسلوب سے مشابہ ہے جس میں فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ، کی ترجیع ہے۔ خط کشیدہ فقروں پر نگاہ ڈالیے تو یہ بات بھی معلوم ہوگی کہ یہاں صالحین و متقین کے لیے زمین کی جس وراثت کا ذکر ہے اس کے ساتھ یہ بشارت بھی ہے کہ یہ وراثت ابدی ہوگی مثلاً فرمایا ہے ” ان کی میراث ہمیشہ کے لیے ہوگی۔ “ دوسری جگہ ہے ” اور ہمیشہ تک آباد رہ “ تیسری جگہ ہے ” وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں “ چوتھی جگہ نہایت واضح الفاظ میں ہے ” اور صادق زمین کے وارث ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔ “
ظاہر ہے کہ یہ ابدی وراثت کی بشارت اس زمین سے متعلق نہیں ہے جس پر ہم اور آپ آباد ہیں۔ اس کی نہ تو کوئی چیز ابدی ہے اور نہ اس کی وراثت صالحین و متقین کے لیے مخصوص ہے بلکہ یہ زمین اور اس کی ہر چیز فانی ہے اور اس میں نیکوں اور بدوں دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک مدت تک کے لیے یکساں مہلت بخشی ہے جس کے بعد یہ آسمان و زمین دونوں فنا ہوجائیں گے اور نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ایک جہانِ نو پیدا ہوگا جس کی ابدی وراثت صالحین و متقین کو حاصل ہوگی اور اہل باطل جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔
بعینہٖ یہی بات قرآن سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اوپر کی آیت 104 میں صاف تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دن اس آسمان کی بساط لپیٹ کر رکھ دے گا۔ سورة ابراہیم آیت 48 میں آسمان و زمین دونوں سے متعلق یہ تصریح ہے کہ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَالْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ (اس دن کو نگاہ میں رکھو جن دن زمین دوسری زمین سے اور آسمان دوسرے آسمان سے بدل دیئے جائیں گے) اس بدلے ہوئے آسمان و زمین کے اندر بلاشبہ یہ قانون ہوگا کہ ان کی ابدی وراثت و بادشاہی صرف صالحین کو حاصل ہوگی۔ نافرمانوں کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ یہ بات صرف زبور اور قرآن ہی سے نہیں بلکہ تمام آسمانی صحیفوں اور تمام نبیوں اور رسولوں کی تعلیم سے ثابت ہے۔
اسی حقیقت کو قرآن نے آیت زیربحث میں زبور کے حوالہ سے واضح فرمایا ہے۔ زبور حضرت دائود (علیہ السلام) پر اترے ہوئے نغماتِ الٰہی کا مجموعہ ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) جیسا کہ اسی سورة میں بیان ہوا ہے، نبی بھی تھے اور اس زمین کے ایک جلیل القدر بادشاہ بھی۔ ایک بادشاہ کی زبان ہی سے یہ اعلان سب سے زیادہ موزوں ہوسکتا تھا کہ زمین کے حقیقی اور آخری وارث صرف اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہی ہوں گے جب ایک صاحب جبروت بادشاہ اسی حقیقت کی منادی کر گیا ہے تو کسی دوسرے کے لیے اس میں مجالِ سخن کہاں باقی رہی ! !
اس وضاحت کے بعد اب آیت زیربحث کے اجزاء پر غور کیجیے۔
وَلَقَدْکَتَبْنَا فِی الذَّبُوْرِ مِنْ م بَعْدِالذِّکْرِ ۔ اور زبور کے باب 37 کے حوالہ سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ قرآن نے یہاں زبور کی جس تعلیم کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس کے ایک مستقل باب میں نہایت تفصیل کے ساتھ، نہایت موثر انداز میں بیان ہوئی ہے اور یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ اسلوب بیان یہ اختیار فرمایا گیا ہے کہ اصل بات ترجیع و تکرار کے ساتھ اس طرح کہی گئی ہے کہ ہر بار اصل بات سے پہلے حکمت و موعظت کی نہایت اعلیٰ باتوں کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اسی چیز کی طرف قرآن نے من م بعدالذکر کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اس اشارے کی اہمیت یہ ہے کہ درحقیقت یہی نصیحتیں ہیں جن پر عمل زمین کی ابدی بادشاہی کا ضامن ہے۔
اَنَّ الْاَرْضَ یَزِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ۔ یہ وہ اصل بات ہے جس کے لیے قرآن نے زبور کا حوالہ دیا ہے۔ زبور کے حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ یہاں زمین سے مراد اس جہانِ نو کی زمین ہے جو قیامت کے بعد وجود میں آئے گی اور جس کے مالک و وارث بلاشرکت غیرے صرف اللہ کے نیکوکار بندے ہوں گے۔ (ماخوذ از تدبر قرآن)
Ayah 21:106اِنَّ فِیْ ھٰذَا لَبَلٰـغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 106)
(بیشک اس قرآن میں ہمارے عبادت گزار بندوں کے لیے بڑی آگاہی ہے۔ )
لَبَلٰـغًا …اس لفظ کی تنکیر تفخیمِ شان کے لیے ہے۔ ” بلاغ “ کفایت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور منادیِ عام اور بشارتِ عام پر بھی بولا جاتا ہے۔
بلاغ کا مفہوم
اس آیت کریمہ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے اور بندہ بن کر رہنے کا فیصلہ کرچکے ہیں انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ قرآن کریم جو اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے یہ بندگی کے تمام اصول و ضوابط اور تمام آداب کا احاطہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ زندگی کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جس کا جواب قرآن کریم میں موجود نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بےحد والاقدر، بالاقامت اور تمام کائنات کی محسن و مربی ہے۔ جو شخص اس کی بندگی کا حق ادا کرنا چاہتا ہے اس کے لیے نہ عقل کفایت کرسکتی ہے اور نہ انسانوں کا تجربہ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس مشکل کی عقدہ کشائی خود پروردگار فرمائے۔ چناچہ اس نے اپنی عظیم کتاب بھیج کر انسان کی تمام ضرورتوں اور اس کے دل و دماغ کی تمام نزاکتوں کا لحاظ فرمایا اور ایک ایسا متوازن ضابطہ حیات عنایت فرمایا ہے جس کی باریکیوں کو سمجھنا انسان کے لیے آسان نہیں۔ چہ جائیکہ وہ اس سے بہتر ضابطہ حیات تجویز کرسکے۔ یہ ہر لحاظ سے کافی و شافی ہے۔
دوسرا مفہوم اس آیت کریمہ کا یہ ہوسکتا ہے کہ گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ کہ زمین کے وارث صرف اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور عبادت گزار بندوں کے لیے ایسا اعلانِ بشارت ہے کہ جس کے لیے انسان کو اپنا سب کچھ قربان کردینا چاہیے اور جسے بھی یہ آرزو ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی بڑا مقام حاصل کرسکوں اسے اس راستے میں قسمت آزمائی کرنی چاہیے اور اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس حیات چند روزہ کے بگھیڑوں میں الجھ کر میں آخرت میں ہمیشہ رہنے والی بادشاہت اور سعادت کو ضائع نہیں کرسکتا۔ اس لیے مجھے اپنا ایک ایک لمحہ اور مال و دولت میں سے ایک ایک دھیلا اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اس کی بندگی کا حق ادا کرتے ہوئے صرف کرنا چاہیے۔
Ayah 21:107وَمَـآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 107)
(اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کے بھیجا۔ )
رحمت کی وضاحت
انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت وہ ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کرنے کے نتیجے میں یہ دنیا بھی جنت بن جائے اور آخرت میں ہمیشہ کی زندگی میں سرخروئی کا باعث بنے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ایک تو اس وجہ سے اہل دنیا کے لیے رحمت ہے کہ دنیا والوں کو آپ کے واسطے سے وہ پیغامِ سرمدی ملا ہے جو یہاں بھی اور وہاں بھی کامیابی و کامرانی اور اللہ تعالیٰ کے تقرب کی ضمانت ہے اور مزید یہ کہ یہ پیغام نوع انسانی تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول نے جس شفقت، رأفت، رحمت و محبت اور ہمدردی و جاں نثاری اور ایثار و قربانی کا ثبوت دیا ہے وہ بجائے خود رحمت کا ذریعہ بھی ہے اور رحمت کا اسوہ بھی ہے۔ آپ ﷺ ہی کی ہدایت کے طفیل ایک باپ شفقت کا پیکر بنا، بیٹا ادب اور فرمانبرداری کی تصویر بنا، ماں اپنی اولاد کے لیے سرتا پا ایثار ہوگئی، بچوں نے ان کے قدموں میں اپنی جنت کی بہار دیکھی۔ اس تعلق کے پھلنے پھولنے سے معاشرے کی پہلی اینٹ رکھی گئی جس میں صرف چند افراد کی زندگی ہی دکھائی نہیں دیتی بلکہ شفقت، محبت، ایثار و قربانی اور ایک دوسرے کے لیے جینے اور مرنے کا اسلوب بھی دکھائی دیتا ہے۔ ایسی اینٹوں سے جب اسلامی معاشرہ پروان چڑھتا ہے تو خاندان وجود میں آتا ہے۔ اور ایسے ہی چند خاندان اسلامی معاشرے کو وجود بخشتے ہیں اور اسلامی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی بن جاتے ہیں۔ اسی میں ہمسائیگی کا شعور پیدا ہوتا ہے، آدابِ جوار کا سبق ملتا ہے، ہر گھر دوسرے گھر کا محافظ بن جاتا ہے، افراد فرائض اور حقوق سے بہرہ ور ہو کر زندگی کی آسودگی کی ضمانت بن جاتے ہیں۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی زمین پر ایک خاندان، پھر اسلامی معاشرہ اور پھر اسلامی ریاست وجود میں آتی ہے جو اپنے طوراطوار اور اپنے اہداف کے حوالے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی رحمت کا سایہ ہوتی ہے اور تمام روئے زمین پر ایسی ہی ریاستوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا نفاذ انسان کا حقیقی مقصد زندگی ہے اور اسی مقصد کی بجاآوری سے زمین انسانوں کے لیے آتش فشاں پہاڑ کی مانند بننے کی بجائے ایسی صورت اختیار کر جاتی ہے کہ جس میں محبت و رأفت اور ہمدردی و جاں نثاری کے پھول کھلتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے کے دکھ میں شریک اور اپنی دولت تقسیم کرنے والا بن جاتا ہے۔ لوگ دوسروں سے کچھ حاصل کرکے نہیں بلکہ دوسروں پر نچھاور کرکے قلبی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ چناچہ زمین پر جب ایسی انسانی زندگی برگ و بار پیدا کرتی ہے جس کا ہدف صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی ہوتا ہے تو وہ زندگی اس رحمت کی وجہ سے وجود میں آتی ہے جسے یہاں رحمت اللعالمین کہا گیا ہے کیونکہ اس میں صرف انسانوں ہی کا بھلا نہیں ہوتا بلکہ حیوانوں کے حقوق کی بھی پاسداری ہوتی ہے۔ آبادیاں اپنے جلو میں انسانی دکھ نہیں، سکھ اور راحت رکھتی ہیں، سڑکوں اور شاہراہوں کو حقوق ملتے ہیں، نباتات اور جمادات تک اپنے حقیقی تصور کے ساتھ زمین کی زینت بنتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ رحمت روئے زمین پر پھیلتی جاتی ہے ویسے ویسے اس کا سایہ گھنا ہوتا جاتا ہے۔ سب سے پہلے عرب اس سائے میں آئے تو ان کی زندگی کے دکھ سمٹ گئے۔ پھر وہ اس شمع کو لے کر چار دانگ عالم میں پھیل گئے تو دنیا نے اس کو تسلیم کیا کہ اس سے پہلے روئے زمین پر کبھی ایسے انسان پیدا نہیں ہوئے جو اپنے ساتھ رحمت کا پیغام ہی نہیں، رحمت کی ضمانت بھی رکھتے ہیں۔ آج بدنصیبی سے مسلمان اپنی ڈگر سے ہٹ گئے ہیں، لیکن جہاں تہاں بھی کہیں روشنی نظر آتی یا زندگی آسودہ دکھائی دیتی ہے تو وہ صرف اس رحمت کا فیض ہے جسے رحمت اللعالمین کہا گیا ہے۔
بہار اب جو دنیا میں آئی ہوئی ہے
یہ سب پود انھیں ﷺ کی لگائی ہوئی ہے
Ayah 21:108قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَـآ اِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ج فَھَلْ اَنْـتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (الانبیاء : 108)
(کہہ دیجیے کہ میری طرف تو صرف یہ وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو کیا تم اپنے کو اسی کے حوالہ کرتے ہو۔ )
رحمت کی بنیاد وحدت الوہیت ہے
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اہل جہاں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور اس رحمت دو عالم کو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو خبردار کردیں کہ اگر تم میری رحمت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اس کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں کیونکہ جب تک تم وحدت اِلٰہ پر یقین نہیں لاتے اس وقت تک تمہارے نظریات میں نہ فکری وحدت پیدا ہوسکتی ہے اور نہ تمہاری زندگی میں یکسانی پیدا ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدت کو چھوڑ کر نہ جانے تم کس کس آستانے پر جھکو گے۔ اپنی زندگی کے اصول و ضوابط کے لیے نہ جانے تم کہاں کہاں کی دریوزہ گری کرو گے اور تم زندگی کے آخری رہنما کو تسلیم کرنے کی بجائے نہ جانے کس کس کور ہنما بنائو گے اور کس کس کو اپنا آئیڈل ٹھہرائو گے۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام یہ ہے کہ وہ جس طرح اپنی ذات میں واحد اور یکتا ہے، اسی طرح اپنی صفات اور اپنے حقوق میں بھی وحدہ لاشریک ہے۔ اسی کو غیرمشروط اطاعت کا حق پہنچتا ہے اور وہی حق رکھتا ہے کہ انسانوں کو دستور، آئین، قانون اور رہنمائی کی تمام تفاصیل مہیا کرے۔ چونکہ مجرد تعلیم اور رہنمائی انسان پر براہ راست اثرانداز نہیں ہوتی بلکہ زندگی میں تبدیلی زندگی سے پیدا ہوتی ہے۔ جس طرح دیئے سے دیا جلتا ہے، اسی طرح نبی کی صورت میں جو سراجِ منیر روشن ہوا ہے اس کی ضیاء سے زندگی کی تمام تاریکیاں دور کی جاسکتی ہیں۔ چناچہ اس سَیّدِ دو عالم نے اللہ تعالیٰ کی وحدت کے بنیادی تصور کو راسخ کرتے ہوئے اپنی شخصیت اور اپنے عمل کے زور سے ایک ایک گرہ کو کھولا اور اس راستے کی تمام مشکلات کو دور کردیا۔
سچ کہا کسی نے ؎
نثار سید کونین پر مرے ماں باپ
سبق دیا بھی تو کیا لا الہ الا اللہ
اس بنیادی سبق دینے کے بعد آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں سے پوچھئے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ضابطہ حیات اور اس ضابطے کی وضاحت کرنے والی زندگی کے اپنے آپ کو سپرد کرتے ہو یا نہیں۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری شخصیت، تمہارے خاندان، تمہارے معاشرے اور تمہاری ریاست کی تمام تاریکیاں روشنی میں بدل جائیں تو پھر تمہیں انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ہر ادارہ اور ہر نظم اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ہوگا اور آنحضرت ﷺ کی سنت کا اپنے آپ کو پابند کرنا ہوگا کیونکہ یہی وہ رویہ ہے جس سے تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوسکتے ہو، اسی کے نمائندہ بن کر نبی کریم ﷺ تشریف لائے ہیں۔
Ayah 21:109فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْـتُـکُمْ عَلٰی سَوَآئٍ ط وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ۔
(الانبیاء : 109)
(اگر وہ پھر بھی روگردانی کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تم سب کو یکساں طور پر خبردار کردیا ہے، اب میں یہ نہیں جانتا کہ قریب ہے یا بعید جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ )
فیصلہ کن تنبیہ
اگر آپ ﷺ کے اس واضح انذار اور آپ ﷺ کی اس تنبیہ کے بعد بھی یہ لوگ اپنے اعراض کی روش نہ بدلیں بلکہ اس پر جمے رہیں تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ میں نے ایک طویل عرصے تک تمہیں سمجھانے بجھانے کی کوشش کی۔ مجھ پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی اترتی ہے میں نے بغیر کسی تفریق کے بلاکم وکاست تم تک پہنچائی ہے اور میں نے بار بار یہ بھی کہا ہے کہ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو کوئی بعید نہیں کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجائے۔ اب اگر تم اپنا رویہ بدلنے کی بجائے بار بار مجھ سے یہ پوچھتے ہو کہ وہ عذاب کب آئے گا، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں تو وحی الٰہی کا پابند ہوں، اسی کے حکم سے میں تمہیں بار بار تنبیہ کررہا ہوں۔ اب رہی یہ بات کہ اس عذاب کے آنے کا وقت کون سا ہے ؟ وہ قریب ہے یا بعید ہے ؟ تو میں اسے نہیں جانتا۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ عذاب میں تقدیم و تاخیر ہوسکتی ہے لیکن اس کے قطعی اور حتمی ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
Ayah 21:110اِنَّـہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَمِنَ الْقَوْلِ وَیَعْلَمُ مَا تَکْتُمُوْنَ ۔ (الانبیاء : 110)
(بیشک وہ جانتا ہے جو بات تم بلند آواز سے کہتے ہو اور جانتا ہے جو تم اپنے دل میں چھپاتے ہو۔ )
مشرکینِ مکہ بار بار آپ ﷺ سے کبھی عذاب کا مطالبہ کرتے اور کبھی قیامت کی بحث چھیڑتے کہ اگر اس قیامت کو آنا ہی ہے تو وہ اب تک آکیوں نہیں پائی، آخر اس کا جہاز کہاں لنگرانداز ہوگیا ہے۔ وہ اس طرح کے سوالات کرتے ہوئے یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے تھے کہ عذاب یا قیامت کی تاخیر کے باعث ہم آج تک نعمت ایمان سے محروم ہیں۔ اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ وہ واقعی ہمارے سر پر پہنچ گئے ہیں تو ہم ضرور ایمان لے آتے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ تمہارے مطالبے کی حقیقت کیا ہے ؟ اور تم اس طرح کی باتیں کن تحفظات کے تحت کررہے ہو ؟ اور تمہارے ارادے اور خفیہ منصوبوں میں کیا محرکات کارفرما ہیں ؟ ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں۔ جو بات تم الفاظ کا جامہ پہنا کر کہتے ہو یا بلند آہنگی سے کہتے ہو، ان میں سے ہر بات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ تم اگر کسی بات کو چھپاتے ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم سے نہیں چھپ سکتی، وہ تمہارے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔
Ayah 21:111وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّـہٗ فِـتـْنَـۃٌ لَّـکُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ۔ (الانبیاء : 111)
(اور مجھے نہیں معلوم، شاید یہ ( مہلت) تمہارے لیے ایک آزمائش اور فائدہ اٹھا لینے کی ایک مہلت ہو۔ )
یہ جو عذاب میں تاخیر ہورہی ہے، میں اس کا سبب نہیں جانتا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمتوں کے بارے میں جب تک کسی بات کا علم اپنے پیغمبر کو نہیں دیتا تو پیغمبر خود سے نہیں جان سکتا۔ اس لیے میں اس تاخیر کے بھید سے واقف نہیں ہوں۔ ممکن ہے کہ یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابھی اللہ تعالیٰ تمہیں کھانے بلسنے کی مہلت دینا چاہتا ہو۔ اگر یہ آزمائش ہے تو تمہیں اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو بدلنے اور بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور اگر دوسری صورت ہے تو شکر کا رویہ اختیار کرکے اپنے انجام کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
Ayah 21:112قٰـلَ رَبِّ احْکُمْ بِالْحَقِّطوَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانَ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ ۔ (الانبیاء : 112)
(آنحضرت ﷺ نے عرض کی، اے میرے رب ! حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور ہمارا رب رحمن ہی ہے جس سے مدد کی درخواست ہے ان باتوں کے مقابلے میں جو تم بیان کرتے ہو۔ )
آنحضرت ﷺ کی دُعا
قَالَ … دَعَا کے معنی میں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے پروردگار سے دعا فرمائی کہ میری طرف سے تبلیغ و دعوت میں کوئی کمی نہیں اور مخالفین کی ستم رانیاں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ اگر ان پر اتمامِ حجت ہوچکا ہے تو میری دعا ہے کہ آپ ان مخالفین اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما دیجیے۔ دنیا کی نگاہیں حق و باطل کی اس کشمکش کے نتیجے پر لگی ہوئی ہیں۔ الٰہی ! تو ایسا فیصلہ فرما جس سے حق کا حق ہونا واضح ہوجائے اور باطل کا باطل ہونا مبرہن ہوجائے اور پھر کفار کو سنا کر یہ بات کہی جارہی ہے کہ ہم اپنے رب سے فیصلے کے اس لیے متمنی ہیں کہ وہی خدائے رحمن ہے جو اپنے بندوں کے حالات جانتا بھی ہے اور مہربانی بھی فرماتا ہے۔ ہم تمہاری طرح کسی اور آستانے پر جھکنا نہیں جانتے، ہمارے لیے وہی ایک آستانہ ہے۔ اس لیے جو کچھ تم ہماری مخالفت میں کہتے ہو، ہم اس کے لیے بھی اللہ سے مدد کے طالب اور خواستگار ہیں کیونکہ ؎
جس نے دیا ہے درد وہی چارہ گر بھی ہے
کہنی ہے چارہ گر سے ہی خود چارہ گر کی بات