22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsروح القرآن

Ayahs 22:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

(اے لوگو ! اپنے پروردگار کے غضب سے بچو، بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی ہی ہولناک چیز ہے۔

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس روز تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔

یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّـکُمْ ج اِنَّ زَلْزَلَـۃَ السَّاعَۃِ شَیْ ئٌ عَظِیْمٌ۔ (الحج : 1) (اے لوگو ! اپنے پروردگار کے غضب سے بچو، بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی ہی ہولناک چیز ہے۔ ) نسخہ اصلاح پروردگار نے انسان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کے لیے جو نسخہ تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں یہ خیال راسخ کردیا جائے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو تمہارا خالق ومالک اور حاکم حقیقی ہے۔ اس نے تمہیں دنیا میں ایک مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اس مقصد کے شعور کو تازہ رکھنے کے لیے ہر دور میں اس نے اپنے نبی اور رسول بھیجے ہیں اور اس مقصد کی وضاحت کے لیے کتابیں اتاری ہیں اور عملی زندگی پر انطباق کے لیے اپنے رسول کی زندگی کو اسوہ حسنہ و کاملہ ٹھہرایا ہے۔ کتاب اور صاحب کتاب دونوں مل کر اللہ تعالیٰ کے اس قانون کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں جس کے مطابق زندگی گزارنا کامیابی کی ضمانت ہے اور جس کی مخالفت دنیا و آخرت کی ناکامی اور ہلاکت ہے۔ اپنے ہر پیغمبر کی معرفت اس نے اہل دنیا پر یہ بات واضح کی کہ تم ہمارے دیئے ہوئے نظام زندگی کے مطابق زندگی گزارتے ہو یا اس کی مخالفت کرتے ہو، اس کا پورا ریکارڈ ہمارے فرشتے تیار رکھیں گے اور اس میں تمہارا کوئی عمل چھوٹنے نہیں پائے گا۔ ایک دن ایسا آئے گا جب ہم اس ریکارڈ کی بنیاد پر تم سے جواب طلب کریں گے۔ تم اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینے کے پابند ٹھہرو گے۔ اسی جوابدہی پر تمہاری جزاء اور سزا کا دارومدار ہوگا۔ قیامت کا یہ تصور جیسے جیسے پختہ ہوتا جاتا ہے، ویسے ویسے انسان کی زندگی میں ہر آلودگی کی تطہیر ہوتی جاتی ہے۔ وہ جب بھی کسی دماغی خیانت کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے یہ خیال دامن گیر ہوجاتا ہے کہ میرا خدا میری اس خیانت سے واقف ہے کیونکہ اس کا علم مجھے گھیرے ہوئے ہے۔ جب کبھی وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف دل میں منصوبے باندھتا ہے تو اگر قیامت کا یقین اس کے دل کے کسی گوشے میں موجود ہے تو وہ فوراً اسے روکتا ہے کہ تم شاید سمجھتے ہو کہ تمہاری اس منصوبہ بندی سے کوئی واقف نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی حالت کو بھی جانتا ہے۔ اسی طرح کبھی اس کا قدم اسلامی شریعت کی حدود سے آگے نکلنے لگتا ہے تو قیامت کا یقین اسے آ پکڑتا ہے کہ تم بھول گئے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ہو۔ صحرا میں کوئی پتّا گرتا ہے تو وہ اسے جانتا ہے، زمین میں کوئی دانہ پھوٹتا ہے یا کلی چٹکتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہوتا ہے، سمندر کی تاریکیوں میں کوئی مچھلی حرکت کرتی ہے تو وہ اس کی آواز سنتا ہے۔ اسی طرح تمہارا ہر عمل بھی اس کی نگاہوں میں ہے۔ اور تمہارے کندھوں پر بیٹھنے والے دو معزز فرشتے برابر تمہارا روزنامچہ مرتب کررہے ہیں۔ جس طرح ایک چور چوکیدار کی موجودگی میں نقب لگانے کی جرأت نہیں کرتا، ایک کلرک، ہیڈکلرک کے ہوتے ہوئے، ایک دفتر کے کارکنان سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں اور ایک سیکشن میں کام کرنے والے سیکشن افسر کے ہوتے ہوئے غلط کام کرنے کی جرأت نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دیکھنے والی نگاہ ہمیں دیکھ رہی ہے۔ تو جس شخص کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ میں اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ہوں، اس کے علم کے حصار میں ہوں، فرشتوں کے جھرمٹ میں ہوں اور میرے کندھوں پر بیٹھنے والے میری ہر حرکت کو ضبط تحریر میں لا رہے ہیں تو وہ دیوانہ ہوجائے تو اور بات ہے ورنہ ہوش و حواس میں وہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرسکتا، کسی خیانت کی جرأت نہیں کرسکتا اور کسی بدکرداری کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ قیامت کے زلزلے کی تصویر اصلاح کے اس بنیادی حوالے کے باعث اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے یہ حکم دیا گیا کہ لوگو ! اپنے رب سے ڈرو، اس کی قوت بےپناہ اور اس کی قدرت احاطہ تصور سے ماورا ہے۔ اس کا علم ہر غلطی سے پاک اور اس کے کارکنان ہر تساہل سے محفوظ ہیں۔ تمہاری زندگی کا ایک ایک عمل اس کی عدالت میں محفوظ ہے۔ تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ جس دن جوابدہی کا وہ دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جو گزرے گی وہ تو بعد کی بات ہے لیکن اس سے پہلے اس دن کا اعلان تین مرحلوں میں ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) کی طویل حدیث میں ان مراحل کو تین نفخوں کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت اسرافیل تین مرتبہ صور پھونکیں گے۔ پہلی دفعہ صور پھونکنے کو نفخۃ الفزع سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کی ہمہ گیر تباہی سے پہلے اس طرح کی صورتحال پیدا کردی جائے گی جس سے ہر شخص اور ہر مخلوق پر گھبراہٹ طاری ہوگی اور اسے یہاں زلزلہ عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ زلزلہ کی تعبیر بھی اس دن کی ہولناکی کو پوری طرح واضح نہیں کرسکتی۔ البتہ ! ہمارے فہم کے قریب کرنے کے لیے یہ تعبیر اختیار کی گئی ہے کیونکہ ہر ملک کے رہنے والے اور ہر نسل سے تعلق رکھنے والے زلزلے کی تباہیوں سے واقف ہیں۔ زلزلہ کیا ہے، ہر پستی کا بلندی میں بدل جانا اور ہر بلندی کا پستی میں ڈوب جانا۔ پہاڑوں کا اپنی جگہ چھوڑ دینا، سمندروں میں نئے جزیروں کا نکل آنا، پرانے جزیروں کا غائب ہوجانا اور بعض دفعہ مکمل شہروں کا چشم زدن میں نابود ہوجانا۔ غالباً 1935 ء کے زلزلہ کوئٹہ میں 51 ہزار انسان لقمہ اجل بنے۔ جاپان میں 1924 ء میں 16 لاکھ انسان اچانک موت کا شکار ہوگئے۔ 2004 ء میں پاکستان میں آنے والا زلزلہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ انسانی جانوں کی ہلاکت کا باعث بنا۔ کئی شہر زمین بوس ہوگئے۔ بعض جگہ جھیلیں نکل آئیں اور پہاڑوں نے اپنی جگہ بدل لی۔ بعض زلزلوں سے پہاڑ پھٹ جاتے ہیں اور ان سے ابلتے ہوئے لاوے کا ایک دریا بہہ نکلتا ہے اور انسان ان حادثات کے مقابلے میں اس قدر بےبس ہے کہ وہ آج تک انھیں روکنے کی کوئی سبیل نہیں سوچ سکا۔ علمائے زمین شناس کا نظریہ یہ ہے کہ آج سے لاکھوں سال پہلے جب زمین سورج سے الگ ہوئی تھی تو اس کا درجہ حرارت سورج کے برابر تھا۔ یہ حرارت آج بھی بطن زمین میں موجود ہے اور لاوے کا درجہ حرارت وہی ہے جو آغاز میں زمین کا تھا یعنی 12 ہزار فارن ہائٹ۔ اب اگر کسی زلزلے سے سارا لاوا باہر آجائے تو سطح زمین ایک کھولتے ہوئے جہنم میں بدل جائے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ زمین کی تباہی کے لیے اس کو پیدا کرنے والے نے کس قدر امکانات پیدا کر رکھے ہیں اور جہاں تک فضاء، خلاء اور آسمانوں کا تعلق ہے اس کی تباہی کوئی ایسی بات نہیں جو سمجھ میں آنے والی نہ ہو۔ خلاء میں کروڑوں بلین ستارے حیرت انگیز رفتار سے محو پرواز ہیں۔ ان میں سے بعض زمین سے دس گنا اور اور بعض ایک کروڑ گنا بڑے ہیں۔ ان کا نظام پرواز اتنا مکمل ہے کہ آج تک کوئی ستارہ دوسرے سے متصادم نہیں ہوا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ طاقت جس نے ان ستاروں کو بنایا اور پھر ان کی راہیں متعین کیں اس بات پر قادر نہیں کہ انھیں باہم ٹکرا دے اور سب کچھ تباہ کردے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ نظام عالم کی پوری گاڑی جس انجن سے چل رہی ہے وہ گرم آفتاب ہے جس کی گرمی روز بروز کم ہوتی جارہی ہے۔ اب سائنسدانوں نے اندازہ لگانا شروع کردیا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب یہ انجن بالکل ٹھنڈا ہوجائے گا اور ساری گاڑی ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور یہ بات بھی سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ پورا نظام کائنات کشش ثقل کے ستون پر قائم ہے اور یہ کشش ثقل بھی روز بروز مدھم پڑتی جارہی ہے۔ چناچہ ایک دن آئے گا کہ تمام کُرّے ایک دوسرے کے قریب ہو کر ٹکرا جائیں گے اور یہ تصادم ان کو چور چور کردے گا۔ اور ممکن ہے کہ یہی وہ زلزلہ ہو جس سے قیامت کا آغاز ہو۔ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ جب صور پھونکا جائے گا تو زمین جھٹکے کھانے لگے گی اور جس طرح کشتی سمندر میں ہچکولے کھاتی ہے اور چاروں طرف سے موجیں اسے تھپیڑے مارتی ہیں اور یا جس طرح کوئی لٹکی ہوئی قندیل آندھی میں حرکت کرتی ہے، یہی حال اس وقت زمین کا ہوگا، اغلب یہ ہے کہ زمین کا یہ حال اس وقت ہوگا جبکہ زمین یکایک الٹی پھر نی شروع ہوجائے گی اور سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ یہی بات قدیم مفسرین میں سے علقمہ اور شعبی نے بیان کی ہے کہ یَکُوْنُ ذٰلِکَ عِنْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِھَا اور زمین کی آبادی پر کیا گزرے گی قرآن کریم میں مختلف مقامات پر اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ سورة الزلزال میں ارشاد فرمایا گیا ہے اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا۔ وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا۔ وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَالَھَا۔ (جبکہ زمین پوری کی پوری ہلا دی جائے گی اور وہ اپنے پیٹ کے بوجھ نکال پھینکے گی اور انسان کہے گا کہ یہ اس کو کیا ہورہا ہے۔ ) سورة الحاقۃ میں فرمایا گیا : فَاَذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِنَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃٌ وَّاحِدَۃً فَیُوْمَئِذٍوَّقَعَتِ الْوَاقِعَۃْ ۔ (اور جب صور میں ایک پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں توڑ دیئے جائیں گے تو وہ واقعہ عظیم پیش آجائے گا۔ ) یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّـآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ھُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰـکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ۔ (الحج : 2) (جس روز تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔ ) قیامت کی ہولناکی کی مزید وضاحت سابقہ آیت میں جس دن کو زلزلہ قرار دیا گیا ہے یہ اسی کی ہولناکی کی تصویر ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیفیت پہلے نفخہ کے وقت ہوگی جبکہ گھبراہٹ کا عالم یہ ہوگا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے بچے کو دودھ پلانا بھول جائے گی۔ ماں کی مامتا سب سے زوردار جذبہ ہے اور یہ جذبہ بچے سے محبت کا دوسرا نام ہے۔ ماں سب کچھ بھول سکتی ہے لیکن اپنے بچے کو نہیں بھول سکتی لیکن اس دن کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ ماں اپنے بچے کو بھی بھول جائے گی۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ آیت کریمہ میں مرضع کی بجائے مرضعۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ مرضع تو دودھ پلانے والی عورت کو کہتے ہیں لیکن مرضعۃ اس وقت بولتے ہیں جبکہ ماں بالفعل اپنے بچے کو دودھ پلانے میں مصروف ہو اور بچہ ماں کا پستان منہ میں لیے ہوئے ہو۔ اس دن کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ ماں دودھ پلانے میں مصروف ہونے کے باوجود اس دن کی ہولناکی کے باعث بچے کو بھی بھول جائے گی اور دودھ پلانے کو بھی بھول جائے گی۔ لوگ دیوانوں کی طرح بھاگے پھریں گے۔ ہر شخص نشے میں مدہوش محسوس ہوگا۔ ایسا لگے گا جیسے اس نے نشہ آور چیز پی لی ہو حالانکہ وہ کسی نشے میں نہیں ہوگا بلکہ اس دن کی ہولناکی نے اسے حواس باختہ کردیا ہوگا۔ ہمارے مفسرین نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں جس زلزلہ قیامت کا ذکر ہے اور جس ہولناکی کی تصویر کشی کی گئی ہے کیا اس کا تعلق قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد سے ہے یا اس سے پہلے۔ قرآن کریم کے سیاق وسباق اور بعض دوسری آیات سے جن کا ہم نے اوپر حوالہ دیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق نفخہ فزع سے ہے جو قیامت قائم ہونے سے پہلے ہوگا اور جسے قیامت کی آخری علامت سمجھا جاتا ہے لیکن بعض حضرات نے بعض دوسری احادیث سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ زلزلہ حشرونشر اور دوبارہ زندہ ہونے کے بعد ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں کوئی منافات نہیں۔ قیامت سے پہلے زلزلہ آنا آیت قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اور حشرونشر کے بعد ہونا اس حدیث سے ثابت ہے جو حدیث آدم (علیہ السلام) کے نام سے معروف ہے۔ البتہ ! اس پر اشکال یہ ہے کہ حشرونشر اور قیامت قائم ہونے کے بعد یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ کوئی عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہو یا کوئی حاملہ حمل ڈال دے تو اس اشکال کی توجیہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو عورت اس دنیا میں حالت حمل میں مری، قیامت کے روز اسی حالت میں اس کا حشر ہوگا اور جو دودھ پلانے کے زمانے میں مرگئی، وہ اسی طرح بچے کے ساتھ اٹھائی جائے گی۔ (کماذکرہ القرطبی)
Ayahs 22:3–4

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کرکے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ ۔ کُتِبَ عَلَیْہِ اَنَّـہٗ مَنْ تَوَلاَّہُ فَاَنَّـہٗ یُضِلُّـہٗ وَیَھْدِیْہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ ۔ (الحج : 3، 4) (اور لوگوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔ جس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ جو اس کے دوست بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کرکے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا۔ ) آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جواب میں بغیر علم کے حجت بازی نبی کریم ﷺ جب اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف لوگوں کو بلاتے اور انکار کرنے والوں اور مخالفت کرنے والوں کو خبردار کرتے کہ تم نے اگر اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے تابع نہ کیا اور مسلسل خواہشِ نفس کی پیروی میں لگے رہے تو پھر سوچ لو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دے سکو گے کیونکہ تم ہزار انکار کرو لیکن تمہارے انکار سے حقیقت نہیں بدل سکتی، تم بہرصورت اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے بندے ہو، تمہارا ایک آقا ہے جسے تم خدا کہتے ہو۔ اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ تم سے اپنے احکام کی اطاعت کروائے اور یہ بات بھی اسے زیب دیتی ہے کہ وہ ایک دن ایسا لائے جس میں تمہاری زندگی بھر کے اعمال کا تم سے مواخذہ کرے، تو آنحضرت ﷺ کی اس فہمائش اور انذاز کے جواب میں عام لوگوں کا رویہ تو یہ ہوتا کہ وہ بات سنتے اور اپنی راہ لیتے، اور کبھی ایسا ہوتا کہ انھیں اپنے کام و دہن کی لذت اور پیٹ کا جہنم بھرنے کی فکر میں اس کا بھی ہوش نہ رہتا کہ وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کو اطمینان سے سننے کی زحمت کرتے۔ البتہ ان میں کچھ ایسے سر پھرے بھی تھے جو اس دعوت کے اثرات کو روکنے کے لیے آنحضرت ﷺ سے بغیر کسی علم اور دلیل کے بحث کرتے۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی بحث اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہوتی تھی۔ اس سے مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو وہ لوگ مانتے تھے البتہ اس کی صفات کے بارے میں انھوں نے مشرکانہ تصورات اختیار کر رکھے تھے، وہ اس کی صفت قدرت کا غلط تصور رکھتے تھے اور یا اس میں دوسری قوتوں کو شریک سمجھتے تھے اور شاید اس غلط تصور کا نتیجہ تھا کہ وہ قیامت کے ممکن الوقوع ہونے کے بارے میں شک و شبہ کا شکار تھے۔ نضر بن حارث ایسے ہی جھگڑالو لوگوں کا سرغنہ تھا، وہ ہمیشہ اس طرح کی بحثوں میں پیش پیش رہتا۔ مردوں کی بوسیدہ ہڈیاں ہاتھوں میں لے کر وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہوجاتا اور کہتا کہ محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو ان بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ تم خود سوچو کیا کبھی ایسی ازکاررفتہ اور بوسیدہ ہڈیاں بھی دوبارہ زندہ ہوسکتی ہیں۔ اس طرح سے وہ وقتی طور پر لوگوں میں آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اثرات کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا تھا اور کم عقل اور غیرسنجیدہ لوگ اس کی باتوں پر داد دیتے تھے، لیکن ان باتوں کے پیچھے کوئی علم تھا نہ دلیل، عقل و فطرت کی ہدایت تھی نہ کسی آسمانی کتاب کی کوئی سند۔ شیطان کی پیروی اس بحث میں انھیں اگر کسی کی رہنمائی میسر تھی تو وہ اس راندہ درگاہ اور دھتکارے ہوئے سرکش شیطان کی تھی جس نے اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ سے دو باتوں کی مہلت طلب کی تھی۔ ایک تو یہ کہ اسے قیامت تک کے لیے زندگی عطا کردے اور دوسری یہ بات کہ مجھے اس کا موقع دے کہ میں اولادِ آدم کو گمراہ کرسکوں۔ چناچہ وہ اپنی مہلت کے مطابق پہلے دن سے آج تک اپنے کام میں مصروف ہے اور اس کے لیے اس نے جنوں اور انسانوں میں سے مفید مطلب لوگ تیار کر رکھے ہیں جو اس کے سکھائے ہوئے طریقوں کے مطابق اولادِآدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دیتے ہوئے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ اس کے گمراہ کرنے سے وہ لوگ گمراہ ہوں گے جنھوں نے اس سے دوستی اور محبت کا رشتہ استوار کر رکھا ہوگا۔ وہ بیشک اس کی ذات سے پیار نہ کرتے ہوں لیکن اگر وہ اس کے مقاصد، اس کے طریق کار اور اس کے طرز عمل کو پسند کرتے ہیں تو یہ چیز اس کی دوستی کے لیے کافی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے قدرت نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ وہی اس کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوں گے اور اس کی پیروی کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو شیطان سے نفرت کرتے اور اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ وہ قرآن و سنت سے اپنا رشتہ استوار رکھیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگتے ہیں کہ وہ شیطان کے وسوسوں سے انھیں محفوظ رکھے۔ تو شیطان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود انھیں کبھی گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ ” بیشک میرے بندے، تیرا ان پر غلبہ نہیں ہوسکے گا۔ “
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو ! اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو (ذرا اس امر میں غور کرو) کہ ہم نے ہی تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر منی کے قطرے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کے ٹکڑے سے کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص، (ایسا ہم نے اس لیے کیا) تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کردیں اور ہم رحموں میں ٹھہرا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مدت معین کے لیے، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں، پھر ایک وقت دیتے ہیں تاکہ تم اپنے شباب کو پہنچ جائو اور تم میں سے کچھ پہلے ہی مرجاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچتے ہیں تاکہ وہ کچھ نہ جانیں ہر چیز کو جاننے کے بعد اور تم زمین کو بالکل خشک دیکھتے ہو، تو جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ یکایک پھبک اٹھتی اور اپچتی ہے اور طرح طرح کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے۔

یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنْ کُنْـتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّـقَۃٍ وَّغَیْرِ مُخَلَّـقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَـکُمْ ط وَنُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَانَشَآئُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ ج وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلاَ یَعْلَمَ مِنْ م بَعْدِ عِلْمٍ شَیْــًٔا ط وَتَرَی الْاَرْضَ ھَامِدَۃً فَاِذَٓا اَنْزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَآئَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ م بَھِیْجٍ ۔ (الحج : 5) (اے لوگو ! اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو (ذرا اس امر میں غور کرو) کہ ہم نے ہی تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر منی کے قطرے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کے ٹکڑے سے کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص، (ایسا ہم نے اس لیے کیا) تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کردیں اور ہم رحموں میں ٹھہرا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مدت معین کے لیے، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں، پھر ایک وقت دیتے ہیں تاکہ تم اپنے شباب کو پہنچ جاؤ اور تم میں سے کچھ پہلے ہی مرجاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچتے ہیں تاکہ وہ کچھ نہ جانیں ہر چیز کو جاننے کے بعد، اور تم زمین کو بالکل خشک دیکھتے ہو، تو جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ یکایک پھبک اٹھتی اور اپچتی ہے اور طرح طرح کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے۔ ) قیامت پر انسان کی اپنی ذات سے استشہاد ہم اس سے پہلے عرض کرچکے ہیں کہ قیامت کے بارے میں مشرکینِ عرب کی روش صریح انکار کی نہ تھی۔ البتہ وہ اس کے وقوع کے بارے میں اشتباہات کا شکار تھے۔ ان کی عقل اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھی کہ اربوں کھربوں مخلوق اور ساری کائنات یک لخت تباہ کی جاسکتی ہے اور پھر اچانک ایک صور پھونکنے سے تمام مخلوقات زندہ بھی کی جاسکتی ہیں۔ اس لیے وہ بار بار قیامت کے حوالے سے اپنے شک و شبہ کا اظہار کرتے۔ قرآن کریم نے اپنی بات کو ٹھیک اسی جگہ سے شروع کیا ہے جہاں پانی مر رہا تھا کہ اے لوگو ! تمہیں اگر اس بات میں شبہ ہے کہ قیامت آئے گی یا نہیں، اور تمہارے خیال میں یہ بات عقل سے بہت بعید ہے کہ کبھی سب کچھ تباہ ہوجائے اور پھر سب کچھ زندہ ہوجائے اور پھر ایک ایسی عدالت قائم ہو جس میں انسانوں کے زندگی بھر کیے ہوئے اعمال حساب کے لیے پیش کیے جائیں۔ تو ہم تمہیں سمجھانے کے لیے خود تمہاری اپنی ذات کی طرف تمہیں توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرت اور قیامت کے وقوع پر بیشمار دلائل موجود ہیں لیکن ہم سب کو چھوڑ کر تمہاری اپنی ذات کو دلیل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ تم اپنے بارے میں غور کرو کہ تم پر عدم طاری تھا یعنی تم کچھ نہیں تھے، ہم نے تمہیں وجود بخشا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی مخلوق کو عدم سے وجود میں لے آنا اللہ تعالیٰ کی تخلیقی قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں اور اس پر بھی طرہ یہ کہ جن مادوں سے یا جس چیز سے انسانوں کی تخلیق کی گئی ان میں سے کوئی چیز بھی اپنی ذات میں زندہ نہیں۔ یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک زندہ مخلوق کو بےجان چیزوں سے پیدا کیا جائے۔ اس لیے فرمایا کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ آدم جو ابوالبشر ہیں ان کی تخلیق مٹی سے ہوئی اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو نطفے سے پیدا کیا گیا اور یہ مادہ منویہ جن غذائوں سے بنتا ہے وہ سب زمین سے اگتی ہیں اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ نوع انسانی کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے کیا گیا ہے جو براہ راست مٹی سے بنائے گئے تھے۔ اور پھر آگے نسل انسانی کا سلسلہ نطفے سے چلا جیسا کہ سورة سجدہ میں فرمایا گیا وَبَدَأ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَـہٗ مِنْ سُلاَ لَۃٍ مِنْ مَّائٍ مَّہِیْن (آیت 7۔ 8) ” انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ایک ست سے چلائی جو حقیر پانی کی شکل میں نکلتا ہے۔ “ نطفہ سے انسان کی تخلیق بجائے خود حیرت انگیز ہے مزید غور کیجیے کہ میاں بیوی کے اتصال سے مرد کا نطفہ عورت کے رحم میں منتقل ہوتا ہے۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ ایک مرد سے ایک وقت میں جتنا نطفہ خارج ہوتا ہے اس کے اندر کئی کروڑ تخم پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک بیضہ انثیٰ سے مل کر انسان بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر مرد و عورت دونوں اس بات کی نہ خبر رکھتے ہیں اور نہ اختیار رکھتے ہیں کہ ان میں سے کون سا تخم بیضہ انثیٰ سے ملنے کا موقع پا سکے گا۔ یہ اس حکیم و قدیر ذات کا فیصلہ ہے جو اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ ان سب کو چھانٹ کر کسی ایک کو کسی خاص وقت میں بیضہ انثیٰ سے ملنے کا موقع دیتا ہے اور اس طرح سے استقرارِ حمل کا مرحلہ طے ہوتا ہے۔ پھر استقرار کے وقت مرد کے تخم اور عورت کے بیضی خلیے کے ملنے سے جو چیز ابتداً بنتی ہے وہ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ خوردبین کے بغیر دیکھی نہیں جاسکتی تو پھر یہ چھوٹی سی چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے آہستہ آہستہ خون کی پھٹکی میں تبدیل ہوتی ہے۔ عَلَقَۃٌ خون کی پھٹکی کو بھی کہتے ہیں اور چھوٹے جاندار کیڑے کو بھی۔ یہ کیڑا جب خون اور جنین کی صورت اختیار کرتا ہے اور اس کے اندر زندگی کی نمود پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر یہ خون کا لوتھڑامُضْغَۃُ کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ مُضْغَۃُ شروع شروع میں نامکمل شکل میں ہوتا ہے، پھر آہستہ آہستہ شکل بننے لگتی ہے اور نین نقش اپنا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ لِنُبَـیِّنَ لَـکُمْ … تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کردیں یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس بات کی محتاج نہ تھی کہ وہ انسانی تخلیق کے لیے ایک پر اسس تجویز کرتی۔ پہلے مادہ منویہ وجود میں آتا، پھر استقرارِ حمل کی نوبت آتی، پھر اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹکی میں تبدیل کیا جاتا، پھر وہ ایک گوشت کا لوتھڑا بنتا اور اس میں بچے کے نین نقش اور شکل کا ڈیزائن تیار کیا جاتا۔ یہ صرف یہ بتانے کے لیے ہے کہ جو پروردگار شکم مادر میں ایک بےجان مادے کو اتنی تبدیلیوں سے گزار کر نہ صرف انسان کو وجود دینے پر قادر ہے بلکہ اسے ایک ایسی مخلوق کی صورت میں منصہ شہود پر لاتا ہے کہ ساری دنیا کی ہمہ ہمی اور رونق اسی کے دم قدم سے ہے۔ اس نے زمین کے سینے کو تخلیقات سے بھر دیا ہے اور فضائوں میں اس کی ایجادات اڑتی پھرتی ہیں۔ جو پروردگار یہ سب کچھ کرنے پر قادر ہے کیا وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ سورة مومنون میں بعینہٖ یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے کہ آخر میں وہ بات بھی کہہ دی گئی ہے جس پر انسان کی خلقت کے یہ تمام مراحل شہادت دے رہے ہیں۔ ارشاد فرمایا : وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍمَّکِیْنٍ ۔ ثُمَّ خَلَقْنَاالنُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلْقَنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ق ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ۔ ثُمَّ اِنَّـکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ۔ ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تُبْعَثُوْنَ ۔ (المومنین۔ 23: 12۔ 16) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا، پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک قرار کی جگہ میں رکھا، پھر ہم نے پانی کی بوند کو جنین کی شکل دی، پھر جنین کو ایک لوتھڑا بنایا، پس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں، پھر ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا، پھر اس کو ایک بالکل ہی مختلف مخلوق کی شکل میں متشکل کردیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ بہترین پیدا کرنے والا ! پھر اس کے بعد تم لازماً مرو گے، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ سلسلہ کلام کی طرف رجوع وَنُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَانَشَآئُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ” اور ہم رحموں میں ٹھہرا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مدت متعین کے لیے، پھر ہم تم کو ایک بچہ کی شکل میں برآمد کرتے ہیں۔ “ ابھی سلسلہ کلام ناتمام تھا کہ اچانک مخاطبوں کو جھنجھوڑنے کے لیے لِنُبَـیِّنَ لَـکُمْ لایا گیا۔ اب پھر اسی سلسلہ کلام کو لیا جارہا ہے۔ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ مادہ منویہ کے شکم مادر میں استقرار پکڑنے کے بعد اور پھر عَلَقَۃًاور مُضْغَۃَ کی تبدیلیوں سے ہمکنار ہونے کے بعد ہم ایک معین مدت تک اسے ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں اور پھر کم و بیش 9 ماہ کے بعد اس بچے کو جس کا آغاز ایک گندے پانی سے ہوا تھا نہایت خوبصورت شکل میں ماں کی آغوش میں لاتے ہیں۔ اس خوبصورت اور من موہنے بچے کو دیکھ کر کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس کی تخلیق گندے پانی کے ایک قطرے سے ہوئی ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ بچہ جب شکم مادر سے باہر آتا ہے تو وہ نہایت بےبسی کی تصویر ہوتا ہے۔ بیشتر مخلوقات کے بچے پیدائش کے چند گھنٹوں بعد اپنی ماں کے ساتھ چلنے پھرنے اور کھانے پینے لگتے ہیں لیکن انسان کا بچہ کئی مہینوں تک اپنے ماں باپ کو پہنچانتا تک نہیں۔ ماں اگر اسے اٹھا کر اپنے سینے سے نہ لگائے اور دودھ اس کے منہ میں نہ نچوڑے تو وہ کبھی نہیں جان سکتا کہ میری خوراک کہاں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی دستگیری کا کیا کہنا کہ یہ بچہ جو ہر طرح کی پہچان سے عاری ہے جس کے حواس خمسہ نے ابھی کام کرنا شروع نہیں کیا، جو شعور کی منزل سے ابھی بہت دور ہے لیکن نہ جانے اسے ماں کے پستان سے دودھ پینا کون سکھاتا ہے ؟ اور بھوک لگنے پر اسے رونے کی تعلیم کس نے دی ہے ؟ اور اپنی خوبصورت مسکراہٹوں کے ساتھ اس نے دوسروں کا دل موہنا کس سے سیکھا ہے ؟ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو ماں کے دودھ یا پتلے دودھ کے سوا کوئی غذا نہیں کھا سکتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آہستہ آہستہ ماں کے دودھ میں مائیت کم ہوتی جاتی ہے اور دھنیت بڑھتی جاتی ہے، حواس اپنا کام شروع کردیتے ہیں، معدہ ثقیل چیز کھانے اور ہضم کرنے کے قابل ہوتا جارہا ہے۔ بچہ اب چیزوں کو پہچاننے لگا ہے۔ جب تک معدہ کمزور تھا تو ماں کے دودھ میں پانی غالب تھا۔ اب معدہ مضبوط ہوگیا ہے تو ماں کا دودھ بھی گاڑھا ہوتا جارہا ہے۔ مختصریہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا وہ کون ہے جس نے شکم مادر میں بچے کی حفاظت کی ؟ پھر وہ دنیا میں آیا تو اس کی درجہ بدرجہ اور عہد بعہد تبدیلیوں کے مطابق کس نے غذا مہیا کی ؟ اور سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ بچہ ابھی دنیا میں آ نہیں پاتا کہ مامتا کی با ہیں پہلے اس کے لیے پھیل چکی ہوتی ہیں اور باپ کے کندھے اسے اٹھانے کے لیے بیتاب ہوتے ہیں۔ دل میں یہ محبت کے چراغ کون جلاتا ہے ؟ اور اسی محبت کے سائے میں بچہ بچپن اور لڑکپن کی منزلیں طے کرتا ہوا جوانی اور رشد کی عمر کو پہنچ کر اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوجاتا ہے۔ جوانی کی عمر جسمانی طاقت و صلاحیت، ارادوں کی پختگی، دماغ کی رعنائی اور ولولوں اور امنگوں کی عمر ہوتی ہے جس میں جسم کی شریانوں میں خون کی بجائے پارہ دوڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اپنی طاقت اور صلاحیت سے فریب خوردہ ہو کر بعض دفعہ انسان اپنے بارے میں عجیب و غریب غلط فہمیوں کا شکار ہونے لگتا ہے، لیکن قدرت اپنا کام مسلسل کرتی رہتی ہے۔ اسی نے اس کو جوانی کی رعنائیاں دی تھیں اب وہی آہستہ آہستہ اس کے جسم کی توانائیوں اور دل و دماغ کی رعنائیوں کو زوال آشنا بنا کر یہ سوچنے کا موقع مہیا کرتی ہے کہ اپنے اس خدا کو کبھی نہ بھولنا جس نے تمہیں جوانی کے مراحل تک پہنچایا۔ اپنے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہونا۔ وہی ذات تمہارا سہارا ہے اب آہستہ آہستہ تم بڑھاپے کی طرف بڑھ رہے ہو اور وہ دن دور نہیں جب وہ تمہیں ارزل العمر تک پہنچا دے گا۔ اب تمہیں بالکل مختلف صورتحال سے دوچار ہونا پڑے گا۔ وہ ذات جس کی عنایات سے تم نہ جانے کیا سے کیا ہوگئے، اب وہی ذات تمہیں زوال کے راستے پر لے جارہی ہے اور تم بڑھاپے میں اس حال کو پہنچ جاتے ہو کہ سب کچھ جاننے کے بعد کچھ نہ جاننے کی تصویر بن جاتے ہو۔ جن شریانوں میں کبھی پارہ دوڑتا تھا اب وہاں خون کی گردش بھی رک رک کے چلتی ہے، جس سینے میں حوصلوں کی فصل تیار ہوتی تھی اب وہاں کمزوری اور بعض دفعہ مایوسی ڈیرہ جما کے بیٹھ جاتی ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا ہے تاکہ ان تبدیلیوں کے آئینہ میں ہر شخصدیکھ سکے کہ جو ذات اتنی بڑی تبدیلیاں پیدا کرسکتی ہے اس کے لیے قیامت برپا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا کوئی قابل تعجب بات نہیں۔ بارش سے قیامت پر دلیل اسی آیت کریمہ میں دوسری مثال یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ اولاً تو تم اپنی ذات میں غور کرو تو قدمقدم پر قیامت کو دیکھ سکتے ہو لیکن اگر باہر بھی دیکھنا چاہو تو کون سی نگاہ ایسی ہے جس نے برسات کا موسم نہیں دیکھا۔ بعض دفعہ طویل عرصے تک بارش برسنے کا نام نہیں لیتی اور عرب میں تو خاص طور پر خشک سالی قحط سالی کی صورت اختیار کر جاتی تھی۔ میلوں تک گھاس کی پتی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ جوہڑوں کا پانی خشک ہونے کے باعث خانہ بدوشوں کے قافلے رواں دواں نظر آتے تھے۔ ہر طرف ویرانی چھائی ہوئی دکھائی دیتی تھی کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی، بادل جھوم کے آئے، بارش برسی۔ وہ زمین جس میں باد سموم چلتی اور ہر طرف دھول اڑتی دکھائی دیتی تھی وہاں دیکھتے ہی دیکھتے جل تھل ایک ہوجاتا ہے اور مردہ زمین میں زندگی کے آثار پھوٹنے لگتے ہیں۔ رات کو مینڈکوں کی آوازیں زندگی کا اعلان کرتی ہیں اور چند ہی دنوں میں زمین مخملی لباس پہن لیتی ہے۔ جدھر دیکھو زندگی انگڑائیاں لیتی نظر آتی ہے۔ رگِ سنگ میں بھی لہو کی گردش دکھائی دینے لگتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو ذات مردہ زمین کو زندگی سے بہرہ ور کرسکتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف زندگی کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور قیامت برپا کرنے میں کیا چیز حائل ہوسکتی ہے ؟
Ayahs 22:6–7

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ ہی پروردگارِ حقیقی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ ان سب کو ایک دن زندہ کرکے اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْحَقُّ وَاَنَّـہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَاَنَّـہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ اٰ تِیَـۃٌ لاَّرَیْبَ فِیْھَا لا وَاَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ ۔ (الحج : 6، 7) ( یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ ہی پروردگارِ حقیقی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور بیشک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں، اور اللہ ان سب کو ایک دن زندہ کرکے اٹھائے گا، جو قبروں میں ہیں۔ ) خلاصہ بحث گزشتہ آیات میں جو کچھ بیان ہوا ہے پیش نظر آیت کریمہ میں ان کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے۔ بیان کردہ حقیقتوں کی تعداد پانچ ہے جو مندرجہ ذیل ہیں۔ 1 اللہ ہی حق ہے۔ 2 وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ 3 وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 4 قیامت یقینا آنے والی ہے۔ 5 اللہ تعالیٰ ضرور ان سب لوگوں کو زندہ کرکے اٹھائے گا جو قیامت کے بپا ہونے تک مرچکے ہوں گے۔ گزشتہ آیت کریمہ میں ان پانچوں باتوں کے اثبات کے لیے نہایت زوردار دلائل دیئے گئے ہیں۔ ہم نے اگرچہ اس آیت کے مفہوم کی وضاحت میں ان دلائل کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے تاہم ان پانچ باتوں میں سے ایک ایک کا تذکرہ کرکے جس طرح سے سید ابوالاعلیٰ مودودی ( رح) نے وضاحت کی ہے وہ اس قابل ہے کہ اسے غور سے پڑھا جائے۔ چناچہ ہم اس وضاحت کو نقل کررہے ہیں۔ اللہ ہی حق ہے پورے نظام کائنات کو چھوڑ کر آدمی صرف اپنی ہی پیدائش پر غور کرے تو معلوم ہوجائے گا کہ ایک ایک انسان کی ہستی میں اللہ کی حقیقی اور واقعی تدبیر ہر وقت بالفعل کارفرما ہے اور ہر ایک کے وجود اور نشو و نما کا ایک مرحلہ اس کے ارادی فیصلے پر ہی طے ہوتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک لگے بندھے قانون پر ہورہا ہے جس کو ایک اندھی بہری بےعلم و بےارادہ فطرت چلا رہی ہے۔ لیکن وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انھیں نظر آئے گا کہ ایک ایک فردِ انسانی جس طرح وجود میں آتا ہے اور پھر جس طرح وہ وجود کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اس میں ایک حکیم و قادرِ مطلق ہستی کا ارادی فیصلہ کس شان سے کام کررہا ہے۔ آدمی جو غذا کھاتا ہے اس میں کہیں انسانی تخم موجود نہیں ہوتا، نہ اس میں کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو نفس انسانی کے خواص پیدا کرتی ہو۔ یہ غذا جسم میں جا کر کہیں بال، کہیں گوشت اور کہیں ہڈی بنتی ہے، اور ایک خاص مقام پر پہنچ کر یہی اس نطفے میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کے اندر انسان بننے کی استعداد رکھنے والے تخم موجود ہوتے ہیں۔ ان تخموں کی کثرت کا حال یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک مرد سے جتنا نطفہ جاری ہوتا ہے اس کے اندر کئی کروڑ تخم پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک بیضہ انثیٰ سے مل کر انسان بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر یہ کس حکیم و قدیر اور حاکم مطلق کا فیصلہ ہے جو ان بیشمار امیدواروں میں سے کسی ایک کو کسی خاص وقت پر چھانٹ کر بیضہ انثیٰ سے ملنے کا موقع دیتا ہے اور اس طرح استقرارِ حمل رونما ہوتا ہے۔ پھر استقرار کے وقت مرد کے تخم اور عورت کے بیضی خلیے (Egg Cell) کے ملنے سے جو چیز ابتداً بنتی ہے وہ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ خوردبین کے بغیر نہیں دیکھی جاسکتی۔ یہ حقیر سی چیز 9 مہینے اور چند روز میں رحم کے اندر پرورش پا کر جن بیشمار مرحلوں سے گزرتی ہوئی ایک جیتے جاگتے انسان کی شکل اختیار کرتی ہے ان میں سے ہر مرحلے پر غور کرو تو تمہارا دل گواہی دے گا کہ یہاں ہر آن ایک حکیم فعال کا ارادی فیصلہ کام کرتا رہا ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کسے تکمیل کو پہنچانا ہے اور کسے خون کے لوتھڑے یا گوشت کی بوٹی یا ناتمام بچے کی شکل میں ساقط کردینا ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو زندہ نکالنا ہے اور کس کو مردہ۔ کس کو معمول کے انسان کی صورت وہ ہئیت میں نکالنا ہے اور کسے ان گنت غیرمعمولی صورتوں میں سے کوئی صورت دے دینی ہے۔ کس کو صحیح وسالم نکالنا ہے اور کسے اندھا، بہرا، گونگا یا ٹنڈا اور لنجا بنا کر پھینک دینا ہے۔ کس کو خوبصورت بنانا ہے اور کس کو بدصورت۔ کس کو مرد بنانا ہے اور کس کو عورت۔ کس کو اعلیٰ درجے کی قوتیں اور صلاحیتیں دے کر بھیجنا ہے اور کس کو کو دن اور کند ذہن پیدا کرنا ہے۔ یہ تخلیق و تشکیل کا عمل جو ہر روز کروڑوں عورتوں کے رحموں میں ہورہا ہے، اس کے دوران میں کسی وقت کسی مرحلے پر بھی ایک خدا کے سوا دنیا کی کوئی طاقت ذرہ برابر اثرانداز نہیں ہوسکتی بلکہ کسی کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس پیٹ میں کیا چیز بن رہی ہے اور کیا بن کر نکلنے والی ہے حالانکہ انسانی آبادیوں میں قسمت کے کم از کم 90 فیصدی فیصلے انہی مراحل میں ہوجاتے ہیں اور یہیں افراد ہی کے نہیں، قوموں کے بلکہ پوری نوع انسانی کے مستقبل کی شکل بنائی اور بگاڑی جاتی ہے۔ اس کے بعد جو بچے دنیا میں آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کسے زندگی کا پہلا سانس لیتے ہی ختم ہوجانا ہے، کسے بڑھ کر جوان ہونا ہے اور کس کو قیامت کے بوریئے سمیٹنے ہیں ؟ یہاں بھی ایک غالب ارادہ کار فرما نظر آتا ہے اور غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی کارفرمائی کسی عالمگیر تدبیر و حکمت پر مبنی ہے جس کے مطابق وہ افراد ہی کی نہیں، قوموں اور ملکوں کی قسمت کے بھی فیصلے کررہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کسی کو اس امر میں شک ہے کہ اللہ ” حق “ ہے اور صرف اللہ ہی ” حق “ ہے تو بیشک وہ عقل کا اندھا ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے دوسری بات جو پیش کردہ آثار سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ” اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ “ لوگوں کو تو یہ سن کر اچنبھا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی وقت مردوں کو زندہ کرے گا، مگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انھیں نظر آئے کہ وہ تو ہر وقت مردے جلا رہا ہے۔ جن مادوں سے آپ کا جسم بنا ہے اور جن غذائوں سے وہ پرورش پاتا ہے ان کا تجزیہ کرکے دیکھ لیجیے۔ کوئلہ، لوہا، چونا، کچھ نمکیات، کچھ ہَوائیں اور ایسی ہی چند چیزیں اور ہیں۔ ان میں سے کسی چیز میں بھی حیات اور نفس انسانی کے خواص موجود نہیں ہیں مگر انہی مردہ، بےجان مادوں کو جمع کرکے آپ کو جیتا جاگتا وجود بنادیا گیا ہے۔ پھر انہی مادوں کی غذا آپ کے جسم میں جاتی ہے اور وہاں اس سے مردوں میں وہ تخم اور عورتوں میں وہ بیضی خلیے بنتے ہیں جن کے ملنے سے آپ ہی جیسے جیتے جاگتے انسان روز بن بن کر نکل رہے ہیں۔ اس کے بعد ذرا اپنے گردوپیش کی زمین پر نظر ڈالیے، بیشمار مختلف چیزوں کے بیج تھے جن کو ہَوائوں اور پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا اور بیشمار مختلف چیزوں کی جڑیں تھیں جو جگہ جگہ پیوند خاک ہوئی تھیں۔ ان میں کہیں بھی بناتی زندگی کا کوئی ظہور موجود نہ تھا۔ آپ کے گردوپیش کی سوکھی زمین ان لاکھوں مردوں کی قبر بنی ہوئی تھی مگر جونہی کہ پانی کا ایک چھینٹا پڑا، ہر طرف زندگی لہلہانے لگی، ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اٹھی اور ہر بےجان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کرگیا۔ یہ احیائے اموات کا عمل ہر برسات میں آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے تیسری چیز جو ان مشاہدات سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ” اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ ساری کائنات کو چھوڑ کر صرف اپنی اسی زمین کو لے لیجیے اور زمین کے بھی تمام حقائق و واقعات کو چھوڑ کر صرف انسان اور نباتات ہی کی زندگی پر نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ یہاں اس کی قدرت کے جو کرشمے آپ کو نظر آتے ہیں کیا انھیں دیکھ کر کوئی صاحب عقل آدمی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ اللہ بس وہی کچھ کرسکتا ہے جو آج ہم اسے کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور کل اگر وہ کچھ اور کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا ؟ اللہ تو خیر بہت بلندو برتر ہستی ہے انسان کے متعلق پچھلی صدی تک لوگوں کے یہ اندازے تھے کہ یہ صرف زمین ہی پر چلنے والی گاڑیاں بنا سکتا ہے۔ ہوا پر اڑنے والی گاڑیاں بنانا اس کی قدرت میں نہیں ہے مگر آج کے ہوائی جہازوں نے بتادیا کہ انسان کے ” امکانات “ کی حدیں تجویز کرنے میں ان کے اندازے کتنے غلط تھے۔ اب اگر کوئی شخص اللہ کے لیے اس کے صرف آج کے کام دیکھ کر امکانات کی کچھ حدیں تجویز کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے اس کے سوا وہ کچھ نہیں کرسکتا۔ تو وہ صرف اپنے ہی ذہن کی تنگی کا ثبوت دیتا ہے، اللہ کی قدرت بہرحال اس کی باندھی ہوئی حدوں میں بند نہیں ہوسکتی۔ قیامت آکر رہے گی چوتھی اور پانچویں بات یعنی یہ کہ ” قیامت کی گھڑی آکر رہے گی “ اور یہ کہ ” اللہ ضرور ان سب لوگوں کو زندہ کرکے اٹھائے گا جو مرچکے ہیں “ ان تین مقدمات کا عقلی نتیجہ ہے جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ اللہ کے کاموں کو اس قدرت کے پہلو سے دیکھیے تو دل گواہی دے گا کہ وہ جب چاہے قیامت برپا کرسکتا ہے اور جب چاہے ان سب مرنے والوں کو پھر سے زندہ کرسکتا ہے جن کو پہلے وہ عدم سے وجود میں لایا تھا اور اگر اس کے کاموں کو اس کی حکمت کے پہلو سے دیکھیے تو عقل شہادت دے گی کہ یہ دونوں کام بھی وہ ضرور کرکے رہے گا کیونکہ ان کے بغیر حکمت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور ایک حکیم سے یہ بعید ہے کہ وہ ان تقاضوں کو پورا نہ کرے۔ جو محدود سی حکمت و دانائی انسان کو حاصل ہے اس کا یہ نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی اپنا مال یا جائیداد یا کاروبار جس کے سپرد بھی کرتا ہے۔ اس سے کسی نہ کسی وقت حساب ضرور لیتا ہے۔ گویا امانت اور محاسبے کے درمیان ایک لازمی عقلی رابطہ ہے جس کو انسان کی محدود حکمت بھی کسی حال میں نظرانداز نہیں کرتی۔ پھر اسی حکمت کی بنا پر آدمی ارادی اور غیرارادی افعال کے درمیان فرق کرتا ہے۔ ارادی افعال کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا تصور وابستہ کرتا ہے، افعال میں نیک اور بد کی تمیز کرتا ہے، اچھے افعال کا نتیجہ تحسین اور انعام کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے اور برے افعال پر سزا کا تقاضا کرتا ہے حتیٰ کہ خود ایک نظام عدالت اس غرض کے لیے وجود میں لاتا ہے۔ یہ حکمت جس خالق نے انسان میں پیدا کی ہے کیا باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ خود اس حکمت سے عاری ہوگا ؟ کیا مانا جاسکتا ہے کہ اپنی اتنی بڑی دنیا اتنے سروسامان اور اس قدر اختیارات کے ساتھ انسان کے سپرد کرکے وہ بھول گیا ہے۔ اس کا حساب وہ کبھی نہ لے گا ؟ کیا کسی صحیح الدماغ آدمی کی عقل یہ گواہی دے سکتی ہے کہ انسان کے جو برے اعمال سزا سے بچ نکلے ہیں یا جن برائیوں کی متناسب سزا اسے نہیں مل سکی ہے ان کی بازپرس کے لیے کبھی عدالت قائم نہ ہوگی اور جو بھلائیاں اپنے منصفانہ انعام سے محروم رہ گئی ہیں وہ ہمیشہ محروم ہی رہیں گی ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو قیامت اور زندگی بعد موت خدائے حکیم کی حکمت کا ایک لازمی تقاضا ہے جس کا پورا ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا سراسر بعیداز عقل ہے۔
Ayahs 22:8–9

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

(تکبر سے) گردن مروڑے ہوئے تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے برگشتہ کریں، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ہم قیامت کے دن انھیں آگ کا عذاب چکھائیں گے۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلاَ ھُدًی وَّلاَ کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ۔ ثَانِیَ عِطْفِہٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط لَہٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّنُذِیْقُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ (الحج : 8، 9) (اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ (تکبر سے) گردن مروڑے ہوئے تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے برگشتہ کریں، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ہم قیامت کے دن انھیں آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ ) مجادلین بےعقل اور امی محض تھے اس آیت کا پہلا حصہ آیت تین میں گزر چکا ہے۔ یہ آیت اسی آیت کی تفصیل معلوم ہوتی ہے۔ بتانا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعوت کے مخالفین اور مجادلین ایسے نہیں تھے جو قرآن کریم کے بیان کردہ دلائل کا علم یا عقل سے جواب دے سکتے اور نہ ان کے پاس کسی آسمانی کتاب کی سند موجود تھی۔ وہ امی محض ہونے کی وجہ سے ہر طرح کے علم اور ہر طرح کی کتاب ہدایت سے بےبہرہ تھے اور جہاں تک عقل کا تعلق تھا اسے انھوں نے اپنے جذبات کی نذر کردیا تھا۔ اس لیے ان کی بحث اور جھگڑے کی بنیاد کوئی علمی حوالہ یا عقل کا کوئی مسلمہ اصول نہیں تھا بلکہ ان کی سب سے بڑی دلیل صرف یہ تھی کہ چونکہ ہم نے اپنے آبائواجداد کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرتے ہوئے اور قیامت کا انکار کرتے ہوئے دیکھا یا سنا ہے تو ظاہر ہے کہ ہم ان کی مخالفت کا تصور بھی نہیں کرسکتے، وہ ہماری عقیدت کا مرجع ہیں اور ہماری قومی شیرازہ بندی کا سب سے مضبوط بندھن ہیں۔ جو بات ان کے خیالات اور ان کے طرز عمل کے خلاف ہوگی اسے ہم کسی طور برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قرآن کریم نے سورة لقمان میں خود اس حقیقت کو واشگاف کیا ہے۔ ارشاد فرمایا : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلاَ ھُدًی وَّلاَ کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ۔ وَاِذَاقِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَااَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاوَجَدْنَا عَلَیْہِ آبَائَ نَاط (اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی چیز کی پیروی کرو تو کہتے ہیں ہم اسی طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ) آباء پرستی عصبیت اور تکبر پیدا کرتی ہے یہ واضح دلیل ہے اس بات کی کہ ان کے پاس قرآن کریم کے دلائل کا آباء پرستی کے سوا کوئی جواب نہ تھا اور انسان کی فطرت یہ ہے کہ جب وہ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دے سکتا اور اس کے نظریاتی سرمائے میں آبائواجداد کی محبت اور عقیدت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا تو پھر وہ اپنے آباء کی عصبیت میں اندھا ہوجاتا ہے۔ وہ دلیل کا مقابلہ ان کی عصبیت سے کرتا ہے۔ اور وہ بات بات پر برہم ہو کر مرنے مارنے پر اتر آتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اگر میں نے ان کی دلیل کو قبول کرلیا تو میرے وہ تمام عقائد جو آبائواجداد سے ورثے میں ملے ہیں غلط ثابت ہوجائیں گے، اور یہ چیز میں گوارہ نہیں کرسکتا۔ چناچہ اس کے رویئے میں برہمی کے ساتھ ساتھ تکبر شامل ہوجاتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ کہاں ہم اور ہمارے آبائواجداد اور کہاں تم بھوکے ننگے لوگ، تم ہمیں سمجھانے نکلے ہو اور ہمارے آبائواجداد کو گمراہ کہتے ہو، ہم اسے کسی طور بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ چناچہ قرآن کریم نے اس بات کی بھی تائید کی ہے۔ ارشاد فرمایا : اِنَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْ اٰ یَاتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطَانٍ اَ تَاھُمْ اِنْ فِیْ صُدُوْرِھِمْ اِلاَ کِبْرٌمَّاھُمْ بِبَالِغِیْہِ ۔ (بیشک جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بغیر کسی دلیل کے، جو ان کے پاس آئی ہو، کٹھ حجتی کرتے ہیں، ان کے دلوں میں صرف غرور ہے جس میں ان کو کامیابی حاصل ہونے والی نہیں ہے۔ ) چناچہ اسی کیفیت کو پیش نظر آیت کریمہ میں ثَانِیَ عِطْفِہٖ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا معنی ہوتا ہے غرور و نخوت سے اپنی گردن کو مروڑنا۔ امامِ قرطبی اس کا مفہوم بیان کرتے ہیں۔ توی عنقہ مرحًا وتضرمًا۔ اشرافِ قریش کے انکار اور تکبر کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ وہ آبائواجداد کی عصبیت کو آنحضرت ﷺ کی دعوت کے سامنے ڈھال کے طور پر استعمال کررہے تھے۔ اگر وہ جذبات سے ہٹ کر عقل سے کام لینے کی کوشش کرتے اور آنحضرت ﷺ کی بات کو سننے کی زحمت کرتے تو بہت ممکن تھا کہ وہ ہدایت یاب ہوجاتے۔ لیکن انھوں نے آباء کی عصبیت اور عقیدت کو اتنی مضبوطی سے اپنے سامنے رکھا کہ کوئی نصیحت اور کوئی عقل کی بات ان تک پہنچنے نہیں پاتی تھی اور پھر یہ عصبیت جب کمزوری کا خطرہ محسوس کرتی ہے تو پھر یہ غصے میں بھڑک اٹھتی ہے اور کبروغرور کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ چناچہ اشرافِ قریش بھی ایسی ہی صورتحال سے گزر رہے تھے اور دوسرا مقصد جو ان کے پیش نظر تھا وہ یہ تھا کہ وہ اپنی رائے پر مضبوطی سے قائم رہ کر دوسروں کو یہ تأثر دینے کی کوشش کررہے تھے کہ اگر ہمارا نقطہ نگاہ غلط ہوتا تو ہم ضرور اس میں کمی بیشی کرنے کی کوشش کرتے لیکن ہم جب کسی بات کو بھی قبول کرکے نہیں دے رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے عقیدے میں بالکل راست اور برسرحق ہیں۔ اس طرح سے وہ بظاہر اپنی استقامت اور مضبوط روی سے لوگوں کو گمراہی پر قائم رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ استکبار کی سزا رسوائی اور عذاب نار ہے آیت کے آخری حصے میں فرمایا گیا ہے کہ مشرکین نے چونکہ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مقابلے میں کبروغرور کا رویہ اختیار کیا ہے اور اپنی جہالت کے مقابلے میں وحی الٰہی کو بھی خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں، تو ان کے اس رویئے کی سزا اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی کہ ان کو دنیا میں ذلت سے دوچار کردیا جائے۔ چناچہ مکہ جو عرب کا مرکز اعصاب تھا اور جسے طاقت اور قوت کا سرچشمہ اور مرکز سمجھا جاتا تھا اور قریش کو پورے عرب میں عقیدت اور محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جنگ بدر میں ان کی پہلی صف تہ تیغ ہوگئی اور دوسری صف گرفتار ہو کر ذلت کا شکار ہوگئی اور پھر آٹھ ہجری میں ان متکبرین نے ہاتھ باندھ کر آنحضرت ﷺ سے جان کی امان مانگی اور ان کی اکثریت قسمت کی دھنی نکلی کہ اسلام کی آغوش میں آگئی۔ چند سرپھرے تھے جو ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ مزید فرمایا کہ یہ چونکہ حق کے مقابلے میں استکبار کا مظاہرہ کیا کرتے تھے اور اسلامی دعوت اور اس کی کامیابیوں کی صورت میں ان کے سینے پر سانپ لوٹتے تھے اور نفرت کا دل میں ایک الائو جلتا رہتا تھا۔ اس لیے قیامت کے دن اس کی سزا یہ دی جائے گی کہ ان کو نار جہنم سے جلایا جائے گا۔ یعنی جس طرح وہ دنیا میں حق کے خلاف غصہ اور نفرت اور حسد سے جلتے رہے اس کی پاداش میں وہ آخرت میں جلنے کا عذاب برداشت کریں گے۔
Ayah 22:10

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

اور اسے بتایا جائے گا کہ) یہ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ )

ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ (الحج : 10) (اور اسے بتایا جائے گا کہ) یہ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ ) آخرت کا عذاب کرتوتوں کا نتیجہ ہے اس آیت کریمہ میں یہ تصور کارفرما ہے کہ آخرت میں ہر شخص کو جس صورتحال سے دوچار ہونا پڑے گا وہ اچانک پیدا نہیں ہوگی بلکہ وہ نتیجہ ہوگا ان اعمال اور کرتوتوں کا جو اس نے دنیا میں کیے ہوں گے۔ یہ دنیا ایک کھیتی ہے یہاں آدمی جو کچھ کرتا ہے وہ بیج کی مانند اس میں بویا جاتا ہے۔ بعض اعمال تو ایسے ہوتے ہیں جس کی فصل دنیا میں ہی لہلہانے لگتی ہے اور ان اعمال کا کرنے والا دنیا میں اس کا پھل دیکھ لیتا ہے۔ لیکن بیشتر اعمال فصل کی صورت میں آخرت میں ظاہر ہوں گے۔ جس نے یہاں دنیا میں تکبر اور غرور کا تخم بویا ہوگا وہ قیامت کے دن رسوائی کی فصل کاٹے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف غصہ اور نفرت کی پرورش کی ہوگی تو اس کے حاصل کے طور پر قیامت کے دن اسے جلایا جائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ عمل کی مدت محدود تھی لیکن سزا غیرمحدود صورت میں ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن اعمال کی مدت محدود معلوم ہوتی ہے وہ برگ و بار لانے میں محدود نہیں ہوتے اور ان کے نتائج صدیوں تک پھیلنے کی وجہ سے قیامت میں لامحدود ہوجائیں گی۔ چینیوں کی مشہور کہاوت ہے کہ جو شخص ہوا کاشت کرتا ہے وہ آندھی کی فصل کاٹتا ہے کیونکہ جب اس کے کٹنے کا وقت آئے گا تو وہ اپنے اثرات و نتائج میں آندھی کی شکل اختیار کرچکا ہوگا۔ ٹھیک کہا کسی نے ؎ ہَوا کی تخم ریزی سے فصل آندھی کی کاٹو گے دوسرے جملے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ یہاں مبالغے پر نفی وارد ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے۔ یعنی اس کا معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ ہر شخص کا عمل اپنے ٹھیک انجام کو پہنچے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم آج اس کے اثرات و نتائج کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ لیکن صدیاں گزرنے سے نہ جانے اس کے اثرات و نتائج کہاں تک پہنچیں۔ اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے اور اس کے مطابق سلوک کرے گا۔