Ayahs 22:23–24اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَمِنْ ذَھَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ط وَلِبَاسُھُمْ فِیْھَا حَرِیْر۔ وَھُدُوْٓ ا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَھُدُوْٓا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِ ۔ (الحج : 23، 24)
(بےشک ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے ندیاں رواں ہیں انھیں وہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا پہناوا ریشم ہوگا۔ اور ان کی راہنمائی پاکیزہ قول کی طرف کی گئی ہوگی اور خدائے حمید کی راہ کی طرف۔ )
اہلِ حق کا انجام
گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جنھوں نے حق کو قبول کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنی امکانی حد تک ہر طرح کی مخالفت اور معاندت سے بھی دریغ نہیں کیا۔ اپنا ذاتی اثر ورسوخ اپنے قبیلے کے وسائل، اپنے ہم خیال لوگوں کی عصبیت ہر چیز کو اس راستے میں جھونک ڈالا۔ اب اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کا انجام بیان ہورہا ہے جنھوں نے ایسے بدنصیب اور برہنہ مخالفین کی مخالفت کا سامنا کیا۔ ان کی اذیتوں کو اللہ کے راستے میں آزمائش جانا۔ جسم وجان پر گزرنے والی ہر مصیبت کو نہایت صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔ چناچہ اس آیت میں یہ بتایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے چونکہ اپنا سب کچھ اللہ کے راستے میں نچھاور کردیا تو ہم بھی انھیں ان کے ایمان وعمل کے بدلے میں ایسے محلات اور باغات عطا کریں گے جن کے نیچے سے ندیاں بہتی ہوں گی اور انھیں بادشاہوں کی طرح سونے چاندی اور موتیوں کے کنگن اور زیورات پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس ریشم سے تیار کیا جائے گا اور آیت میں اس کے لیے جو تعبیر اختیار کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف لباس ہی نہیں ان کے تمام دوسرے لوازم بھی ریشم کے ہوں گے۔
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ اہل جنت کو جو لباس پہنایا جائے گا اس سے تو نسوانیت جھلکتی محسوس ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں نادیدہ جہاں کی باتیں ہیں۔ جس کی حقیقت کو جاننا آج ہمارے لیے ممکن نہیں۔ یہ وہ متشابہات ہیں جن پر یقین کرنا لازم ہے لیکن اس کی حقیقت پر اصرار کرنا ذہنی کجی اور روح کا فساد ہے۔ اس سے ہمیں فی الجملہ یہ تصور ملتا ہے کہ جس طرح جنت میں ہر نعمت بیمثال ہوگی اسی طرح اہل جنت کو پہنایا جانے والا لباس بھی اپنی خوبصورتی اور بیش قیمت ہونے میں بےنظیر ہوگا۔ البتہ کنگنوں اور ہاروں سے یہ محسوس کرنا کہ اس سے نسوانیت مترشح ہوتی ہے یہ تاریخ سے ناواقفیت اور جمالیاتی ذوق کی کمی کی علامت ہے۔ ہر زمانے میں احساسات بدلتے رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں ثقافتی مظاہر بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ہماری قریبی تاریخ ہمیں یہ بتائی ہے کہ دور ملوکیت میں بادشاہ زیورات پہنتے تھے۔ کسریٰ کے کنگنوں سے تو تاریخ کا ہر طالبعلم آگاہ ہے۔ مغلیہ خاندان کے اکثر بادشاہ زیور اور ہار پہنتے تھے اور ہندوستانی ریاستوں کے راجے اور مہاراجے اپنے شاہی لباس کا اسے لازمہ سمجھتے تھے۔
عرب چونکہ مصری اور ایرانی تمدن سے متأثر اور آگاہ تھے اور ان کے ہمسائے میں ریاستوں کے نواب بھی عیش وتنعم کے ان مظاہر کو اپنے ٹھاٹھ باٹھ کا لازمی حصہ گردانتے تھے۔ اس لیے عربوں کو یہ بات بتانے کے لیے کہ تمہیں قیامت میں ایسی زندگی ملنے والی ہے جس میں ایک ایک نعمت بادشاہوں کے لیے قابل رشک ہوگی اور وہاں کا زیورات سے آراستہ لباس دنیا کے حکمرانوں کے لیے بجائے خود ندرت کی حیرت انگیزمثال ہوگا۔ قطع نظر اس سے کہ اس کی حقیقی صورت کیا ہوگی لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی خوبصورتی اور ندرت میں بےنظیر ہی نہیں ہوگا بلکہ ہمارے تصورات سے بھی ماورا ہوگا۔
وَھُدُوْٓ ا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ بعض اہل علم کے نزدیک قول سے مراد کلمہ طیبہ ہے۔ جو ہمارے ایمان کی بنیاد اور اصلاح کا نسخہ ہے۔ اسی سے زندگی میں تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہی وہ پاکیزہ بیج ہے جس سے شجرہ طیبہ نکلتا اور بارآور ہوتا ہے اور ایک مومن کی زندگی اسی پر استوار ہوتی ہے۔ چناچہ اسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی قیامت کے دن اس راستے پر چلے گا جس سے اسے اللہ کا قرب حاصل ہوگا اور جنت کا گھر میسر آئے گا۔
ایک رائے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے جن مقبول بندوں کو ایمان وعمل کی دولت سے نوازے گا آخرت میں ان کا انجام یہ گا کہ جب وہ اپنے ایمان وعمل کے سلسلے میں جنت کی بیش بہا نعمتیں پائیں گے تو بےساختہ ان کی زبان پر پاکیزہ قول یعنی کلمہ حمد وشکر جاری ہوجائے گا۔ قرآن کریم نے سورة الزمر میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی صَدَقَنَا وَعْدَہٗ ” وہ کہیں گے تعریف ہے اس اللہ کی جس نے ہم سے اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کیے۔ “ اور سورة الفاطر میں مزید تفصیل سے ارشاد فرمایا : وَقَالُوالْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِی اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزْنط اِنَّ رَبَّنَا نَغَفُورُ شُکُورُنِالَّذِی اَحَلَّنَادَارُالْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ ۔” اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کیا۔ بیشک ہمارا پروردگار بڑا ہی بخشنے والا اور پذیرائی فرمانے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل سے ہمیں قرار کی منزل میں اتارا۔ “
وَھُدُوْٓا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِسے مراد اسی دارالمقامۃ کی شاہراہ ہے جس کی طرف متذکرہ بالا آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔
Ayah 22:25اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآئَ نِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ ط وَمَنْ یُّرِدْفِیْہِ بِاِلْحَادٍ م بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (الحج : 25)
(بےشک وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے (بلا امتیاز) سب لوگوں کے لیے یکساں بنایا ہے۔ خواہ وہ اس کے شہری ہوں یا آفاقی۔ (تو انھوں نے بہت زیادتی کی ہے) اور جو اس میں کسی بےدینی کسی شرک کے ارتکاب کا ارادہ کرے تو ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔ )
آیت کے ترجمے کی آسانی کے لیے صرف ایک بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ ان الذین سے والباد تک مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ جو فقد ظلموا ظلما کثیرا یا اس کے ہم معنی ہوسکتی ہے۔
” عاکف “ ،” مقیم “ کے معنی میں ہے۔ مراد ہے ” مکہ کا رہنے والا “۔ اور باد کا معنی ” پردیسی یا صحرا سے آنے والا “ ہے۔ مراد اس سے ” آفاقی “ ہے۔ حرم کے باشندوں کے لیے عاکف کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور باہر سے آنے والوں کو الباد کہا جاتا ہے۔
روئے سخن قریش کی طرف اور ان کے جرائم
گزشتہ آیات میں حق و باطل کی کشمکش کے سلسلے میں ہم نے قریش مکہ اور مسلمانوں کے درمیان آویزش کا ذکر پڑھا ہے۔ جس میں قریش نے ظلم کے ہر ہتھیار کو مسلمانوں کی تباہی کا ذریعہ بنا رکھا تھا اور مسلمان سرتاپا صبر اور استقامت کی تصویر بنے اس تشویش ناک صورتحال کا سامنا کررہے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں قریش مکہ کا ایک اور ظلم یا اس کی ایک اور صورت بیان کی جارہی ہے کہ قریش صرف ظلم سے مسلمانوں کی دعوت کو ختم کرنے یا مسلمانوں کو تباہ کرنے ہی کے درپے نہیں تھے بلکہ انھوں نے ظلم کا ایک اور رنگ یہ اختیار کیا تھا کہ وہ مسجد حرام جسے اللہ نے سب کے لیے یکساں حقوق کے ساتھ بنایا ہے اور جس میں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت نہیں اور جس میں آنے والا ہر شخص ہر طرح کے حقوق میں قریش کے برابر رکھا گیا ہے۔ قریش کو یہ حق تو ضرور ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی تولیت کا فرض انجام دیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے وارث کی حیثیت سے بیت اللہ کا متولی سمجھتے ہیں۔ متولی ہونے کی حیثیت سے ان کا یہ فرض ہے کہ آنے والوں کے لیے بیت اللہ میں عبادات کی تمام ممکن صورتوں کو مہیا رکھیں۔ اللہ کے گھر کو ہر طرح کی آلودگی سے محفوظ رکھیں۔ جو طواف کرنا چاہے طواف کا راستہ اس کے لیے کھلا ہو، جو عمرہ ادا کرنا چاہے عمرے کے افعال کی ادائیگی کے لیے اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور جو حج کرنا چاہے اس کے لیے تمام امکانات ہر وقت موجود رہیں۔ لیکن انھیں اس بات کا حق نہیں دیا گیا کہ وہ بیت اللہ پر اجارہ داری قائم کرلیں بیت اللہ اور حرم کو اپنی ملکیت بنالیں جسے چاہیں اسے یہاں آنے دیں۔ لیکن قریش نے مسلمانوں پر اذیت رسانیوں کے ساتھ ساتھ ایک یہ طریقہ بھی اختیار کیا ہے کہ وہ انھیں صرف اللہ کے راستے یعنی دین قبول کرنے سے ہی نہیں روکتے بلکہ وہ اللہ کے گھر اور حرم کی حدود میں آنے سے بھی مسلمانوں کو روکتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اس سے یہ بات سمجھی ہے کہ یہ آیات ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہوں گی کیونکہ ہجرت کے بعد مسلمانوں پر بیت اللہ کے راستے بند کیے۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ ( رض) جب آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے ہجرت کرجانے کے بعد عمرے کے ارادے سے مکہ معظمہ گئے اور پرانے دوستانہ تعلقات کے پیش نظر امیہ بن خلف کے مہمان ٹھہرے وہ صبح انھیں ساتھ لے کر بیت اللہ کا طواف کرانے کے لیے لایا۔ سامنے ابو جہل آتا ہوا دکھائی دیا۔ اس نے قریب آکر امیہ سے پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے ؟ امیہ نے کہا تم نہیں جانتے یہ سعد ہے تو ابو جہل نے غضبناک ہو کر کہا کہ تم ہمارے بھگوڑوں کو پناہ دیتے ہو اور پھر یہاں عمرے کے ارادے سے آتے ہو۔ واللہ اگر تم امیہ کے ساتھ نہ ہوتے تو یہاں سے بچ کر نہیں جاسکتے تھے۔ حضرت سعد نے جواب میں فرمایا کہ اگر تم نے مکہ میں ہمارا داخلہ بند کیا تو ہم تم پر وہ چیز بند کردیں گے جو تم پر اس سے زیادہ سخت ہے۔ یعنی ملک شام کی تجارت۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر مسجد حرام میں داخلے کی پابندی ہجرت کے بعد لگائی گئی ہے۔ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ آیات ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ لیکن بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ مسلمانوں پر بیت اللہ میں داخلے کی پابندی مکہ ہی میں لگادی گئی تھی۔ یہ صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے صحن میں بالعموم نماز ادا کرتے تھے اور اسی نماز کے دوران سجدے کی حالت میں آپ پر اوجھ ڈالی گئی اور آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر گلا گھوٹنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح دیگر صحابہ کرام بھی صحن حرم میں نماز ادا کرتے تھے۔ البتہ ! خانہ کعبہ میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں پر داخل ہونے کی ممانعت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب عثمان بن طلحہ کلید بردارِکعبہ سے آپ نے خانہ کعبہ کے اندر جانے کے لیے چابی طلب کی تو اس نے سختی سے انکار کردیا لیکن آیت کریمہ میں خانہ کعبہ کے اندر جانے پر پابندی کا ذکر نہیں بلکہ مسجد حرام کے اندر جانے کی پابندی کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ مسلمانوں پر مسجد حرام کے اندر جانے کی پابندی نہیں تھی اگرچہ وہ ظالم مسلمانوں کو مسجد حرام سے پکڑ کر اذیتوں کا نشانہ بناتے تھے۔
قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں قریش کے اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے حرم کے رہنے والے اور باہر سے آنے والوں کے لیے یکساں طور پر اللہ کے گھر اور مسجد حرام کو عبادت کا مرکز بنایا ہے۔ سب کو یہاں طواف اعتکاف اور نماز کی اجازت ہے۔ لیکن قریش نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حرم الہٰی کے ٹھیکہ دار اور اجارہ دار بن بیٹھے ہیں۔ حالانکہ متولی ہونے کی حیثیت سے ان کا کام بیت اللہ کی خدمت بجا لانا ہے کسی طرح کا ظلم اور اجارہ داری قائم کرنے کا انھیں کوئی حق نہیں۔ اسی سے اہل علم نے یہ بات سمجھی ہے کہ مسجد حرام پر کسی خاندان یا کسی مخصوص حکومت کی اجارہ داری قائم نہیں ہوسکتی۔ اس میں عرب وعجم اور شرق وغرب کے مسلمانوں کے حقوق یکساں ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں پر یکساں طور پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے گھر کی حفاظت کا انتظام کریں۔ اگر خدانخواستہ اس گھر کے لیے کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو تمام عالم اسلام کو وہاں اپنی فوجیں بھیجنے کا حق حاصل ہے۔ حرم کی حکومت دوسرے علاقے کے مسلمانوں کو یہ کہہ کر نہیں روک سکتی کہ یہ ہمارا داخلی مسئلہ ہے۔
حرم اور مسجد حرام کی انھیں خصوصیات کے باعث فقہاء میں یہ بحث چل نکلی ہے کہ حرم ِ مکہ اور اس کی زمین پر بنے ہوئے مکانات کسی کی ملکیت ہوسکتے ہیں یا نہیں اور کیا کوئی اپنا مکان بیچ سکتا ہے یا نہیں۔ اپنے مکان کا کرایہ حاجیوں سے وصول کرسکتا ہے یا نہیں۔ جو اہل علم حرم کی سرزمین پر بنے ہوئے مکانات کو وقف قرار دیتے ہیں ظاہر ہے وہ ایسی کسی اجازت دینے کے قائل نہیں۔ اس پر مولانا مودودی نے ایک تفصیلی نوٹ لکھا ہے ہم افادہ عام کے لیے اسے نقل کیے دیتے ہیں۔
یہاں فقہی نقطہ نظر سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں جن کے بارے میں فقہائے اسلام کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔
مسجدِ حرام سے کیا مراد ہے ؟
اول یہ کہ مسجدِحرام سے مراد کیا ہے ؟ آیا صرف مسجد یا پورا حرم مکہ ؟
دوم یہ کہ اس میں عاکف (رہنے والے) اور باد (باہر سے آنے والے) کے حقوق برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟
ایک گروہ کہتا ہے کہ اس سے مراد صرف مسجد ہے نہ کہ پوراحرم، جیسا کہ قرآن کے ظاہر الفاظ سے مترشح ہوتا ہے۔ اور اس میں حقوق کے مساوی ہونے سے مراد عبادت کے حق میں مساوات ہے جیسا کہ نبی ﷺ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ یابنی عبد مناف من ولی منکم من امورالناس شیئا فلا یمنعن احدا طاف بھذا البیت اوصلی ایۃ ساعۃ شاء من لیل اونھار۔” اے اولاد عبدمناف ! تم میں سے جو کوئی لوگوں کے معاملات پر کسی اقتدار کا مالک ہو اسے چاہیے کہ کسی شخص کو رات اور دن کے کسی وقت میں بھی خانہ کعبہ کا طواف کرنے یا نماز پڑھنے سے منع نہ کرے “۔ اس رائے کے حامی کہتے ہیں کہ مسجد حرام سے پورا حرم مراد لینا اور پھر وہاں جملہ حیثیات سے مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر قرار دینا غلط ہے کیونکہ مکہ کے مکانات اور زمینوں پر لوگوں کے حقوق ملکیت و وراثت اور حقوق بیع واجارہ اسلام سے پہلے قائم تھے اور اسلام کے بعد بھی قائم رہے حتی کہ حضرت عمر ( رض) کے زمانے میں صفوان بن امیہ کا مکان مکہ میں جیل کی تعمیر کے لیے چار ہزار درہم میں خریدا گیا۔ لہٰذا یہ مساوات صرف عبادت ہی کے معاملہ میں ہے نہ کہ کسی اور چیز میں۔ یہ امام شافعی اور ان کے ہم خیال اصحاب کا قول ہے۔
دوسرا گروہ کہتا ہے کہ مسجد حرام سے مراد پورا حرم مکہ ہے۔ اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ خود اس آیت میں جس چیز پر مشرکین مکہ کو ملامت کی گئی ہے وہ مسلمانوں کے حج میں مانع ہونا ہے اور ان کے اس فعل کو یہ کہہ کہ رد کیا ہے کہ وہاں سب کے حقوق برابر ہیں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ حج صرف مسجد ہی میں نہیں ہوتا بلکہ صفا اور مروہ سے لے کر منیٰ ، مزدلفہ، عرفات، سب مناسک حج کے مقامات ہیں۔ پھر قرآن میں ایک جگہ نہیں متعدد مقامات پر مسجد حرام بول کر پورا حرم مراد لیا گیا ہے۔ مثلا ً فرمایا : والمسجد الحرام واخراج اھلہ منہ اکبر عنداللہ ” مسجد حرام سے روکنا اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک ماہ حرام میں جنگ کرنے سے بڑا گناہ ہے “ البقرۃ آیت 217۔ ظاہر ہے کہ یہاں مسجد سے نماز پڑھنے والوں کو نکالنانھیں بلکہ مکہ سے مسلمان باشندوں کو نکالنا مراد ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : ذلک لمن لم یکن اھلہ حاضری المسجد الحرام ” یہ رعایت اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں۔ البقرۃ آیت 196۔ یہاں بھی مسجد حرام سے مراد پورا حرم مکہ ہے نہ کہ محض مسجد۔ لہذا مسجد حرام میں مساوات کو صرف مسجد میں مساوات تک محدود نہیں قرار دیاجاسکتا بلکہ یہ حرم مکہ میں مساوات ہے۔
پھر یہ گروہ کہتا ہے کہ یہ مساوات صرف عبادت اور تعظیم و حرمت ہی میں نہیں ہے بلکہ حرم مکہ میں تمام حقوق کے اعتبار سے ہے۔ یہ سرزمین اللہ کی طرف سے وقف عام ہے لہٰذا اس پر اور اس کی عبادت پر کسی کے حقوق ملکیت نہیں ہیں۔ ہر شخص ہر جگہ ٹھہر سکتا ہے کوئی کسی کو نہیں روک سکتا اور نہ کسی بیٹھے ہوئے کو اٹھا سکتا ہے۔ اس کے ثبوت میں یہ لوگ بکثرت احادیث اور آثار پیش کرتے ہیں۔ مثلاً
عبداللہ بن عمر ( رض) کی روایت کہ نبی ﷺ نے فرمایا : مکہ مناح لانباع رباعھا ولا تؤا جر بیو تھا، ” مکہ مسافروں کے اترنے کی جگہ ہے نہ اس میں زمینیں بیچی جائیں اور نہ اس کے مکان کرائے پر چڑھائے جائیں “۔
ابراہیم نخفی کی مرسل روایت کہ حضور ﷺ نے فرمایا : مکہ حرمھا اللہ لا یحل بیع رباعھا ولا اجارۃ بیو تھا۔ ” مکہ کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے۔ اس کی زمین کو بیچنا اور اس کے مکانوں کا کرایہ وصول کرنا حلال نہیں ہے۔ “ (واضح رہے کہ ابراہیم نخفی کی مرسلات حدیث مربوع کے حکم میں ہیں کیونکہ ان کا یہ قاعدہ مشہور و معروف ہے کہ جب وہ مرسل روایت کرتے ہیں تو دراصل عبداللہ بن مسعود کے واسطے سے روایت کرتے ہیں) مجاہد نے بھی تقریباً انہی الفاظ میں ایک روایت نقل کی ہے۔
علقمہ بن نضلہ کی روایت کہ ” رسول اللہ ﷺ در ابوبکر و عمر اور عثمان ( رض) کے زمانے میں مکہ کی زمینیں سوائب (افتادہ زمینیں یاشاملات) سمجھی جاتی تھیں۔ جس کو ضرورت ہوتی وہ رہتا تھا اور جب ضرورت نہ رہتی دوسرے کو ٹھہرا دیتا تھا۔ “
عبداللہ بن عمر ( رض) کی روایت کہ حضرت عمر ( رض) نے حکم دے دیا تھا کہ حج کے زمانے میں مکہ کا کوئی شخص اپنا دروازہ بند نہ کرے بلکہ مجاہد کی روایت تو یہ ہے کہ حضرت عمر ( رض) نے اہل مکہ کو اپنے مکانات کے صحن کھلے چھوڑدینے کا حکم دے رکھا تھا اور وہ ان پر دروازے لگانے سے منع کرتے تھے تاکہ آنے والا جہاں چاہے ٹھہرے۔ یہی روایت عطا کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ صرف سہیل بن عمرو کو فاروقِ اعظم نے صحن کے دروازے لگانے کی اجازت دی تھی کیونکہ ان کو تجارتی کاروبار کے سلسلے میں اپنے اونٹ وہاں بند کرنے ہوتے تھے۔
عبداللہ بن عمر ( رض) کا قول کہ جو شخص مکہ کے مکانات کا کرایہ وصول کرتا ہے وہ اپنا پیٹ آگ سے بھرتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ( رض) کا قول کہ اللہ نے پورے حرم کو مسجد بنادیا ہے جہاں سب کے حقوق برابر ہیں۔ مکہ والوں کو باہر والوں سے کرایہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے۔
عمر بن عبدالعزیز کا فرمان امیر مکہ کے نام کہ مکہ کے مکانات پر کرایہ نہ لیا جائے کیونکہ یہ حرام ہے۔
ان روایات کی بنا پر بکثرت تابعین اس طرف گئے ہیں اور فقہا میں سے امام مالک، امام ابو حنیفہ، سفیان ثوری، امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راھویہ کی بھی یہی رائے ہے کہ اراضی مکہ کی بیع اور کم از کم موسم حج میں مکہ کے مکانوں کا کرایہ جائز نہیں۔ البتہ ! بیشتر فقہاء نے مکہ کے مکانات پر لوگوں کی ملکیت تسلیم کی ہے اور ان کی بحیثیت عمارت، نہ کہ بحیثیت زمین بیع کو بھی جائز قرار دیا ہے۔
یہی مسلک کتاب اللہ وسنت رسول اللہ اور سنت خلفاء راشدین سے قریب تر معلوم ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے مسلمانوں پر حج اس لیے فرض نہیں کیا ہے کہ یہ اہل مکہ کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنے اور جو مسلمان احساسِ فرض سے مجبور ہو کر وہاں جائیں، انھیں وہاں کے مالکانِ زمین اور مالکانِ مکانات خوب کرائے وصول کر کرکے لوٹیں۔ وہ ایک وقف عام ہے تمام اہل ایمان کیلیے۔ اس کی زمین کسی کی ملک نہیں ہے۔ ہر زائر کو حق ہے کہ جہاں جگہ پائے ٹھہر جائے۔ (تفہیم القرآن)
اللہ کے گھر کی عظمت
وَمَنْ یُّرِدْفِیْہِ بِاِلْحَادٍ م بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍاس میں پروردگار نے اپنے گھر کی عظمت کو بیان فرمایا ہے۔ یہ گھر اتنا عظیم ہے کہ اس گھر میں کسی طرح کی کج روی اور کسی طرح کے ظلم کی کوئی گنجائش نہیں۔ شریعت نے جن امور کو گناہ قرار دیا ہے۔ ان کا ارتکاب ہر جگہ گناہ ہے۔ لیکن اگر وہی گناہ کے کام حرم کی حدود میں یا مسجد حرام میں کیے جائیں تو ایک جرم دو جرموں کی صورت اختیار کرجاتا ہے ایک گناہ کا ارتکاب اور دوسرا مسجدِحرام کی حرمت کو پامال کرنا۔ یہ دونوں جرم مل کر اس گناہ کے کرنے والے کو عذاب الیم کا مستحق قرار دے دیتے ہیں۔
اس گھر کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ وہاں کے قدرتی درختوں کا کاٹا نہیں جاسکتا وہاں کی خود رو گھاس اکھاڑی نہیں جاسکتی وہاں کے پرندوں اور دوسرے جانوروں کا شکار نہیں کیا جاسکتا اور نہ شکار کی غرض سے انھیں باہر بھگایا جاسکتا ہے۔ صرف موذی جانور مارے جاسکتے ہیں۔ وہاں کی کوئی گری پڑی چیز بھی اٹھانا ممنوع ہے۔ اس سے بڑھ کر عظمت اور کیا ہوگی کہ کوئی شخص احرام باندھے بغیر حرم کی حدود میں داخل نہیں ہوسکتا۔ بجز ان لوگوں کے جو بار بار اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے آنے پر مجبور ہیں۔
اللہ کے گھر کی عظمت کے سامنے اللہ نے اپنے بندوں کو اس طرح بےبس بنایا ہے کہ اگر کسی کے باپ کا قاتل بھی حدود حرم میں پناہ لے لے تو اس کے گریبان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا جب تک وہ خود حدود حرم سے باہر نہ نکلے اسے سزا نہیں دی جاسکتی۔
مسلمانوں کو پابند کردیا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی حرم میں جنگ نہیں کرسکتے۔ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے اسے اپنی حرمت سے حرام ٹھہرایا ہے۔ کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ یہاں خون بہائے۔ آنحضرت ﷺ کے لیے ایک ساعت کی حدتک اس گھر کو حلال کیا گیا تھا۔ پھر اس کی حرمت بحال کردی گئی جو قیامت تک قائم رہے گی۔
ایک صورت یہ ہے کہ یہاں ظلم الحاد سے بدل واقع ہوا ہے اور قرآن کریم نے مختلف مواقع پر ظلم کو شرک کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں الحاد سے مراد شرک ہے اور اس کے گناہ عظیم ہونے بلکہ بغاوت قرار دیئے جانے میں کوئی شبہ نہیں۔ جو شخص یا جو قوم اللہ کے گھر میں شرک کی اجازت دے گی یا اس کو فروغ دے گی جس طرح قریش نے اللہ کے گھر کو توحید کا مرکز بنانے کی بجائے بت پرستی کا مرکز بنادیا تھا اور تین سو ساٹھ بت لاکر صحن کعبہ میں نصب کردئیے گئے تھے۔ یہ ایک ایسا الحاد اور کج روی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے عذاب الیم کی خبر دی ہے۔ اس میں ایک طرح سے قریش کو وارننگ دی گئی ہے کہ تم اپنے کرتوتوں کے باعث اب زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیے جاؤ گے اور دوسری طرف مسلمانوں کی غیرت کو انگیخت کیا گیا ہے کہ قریش مکہ نے چونکہ اللہ کے گھر کی عظمت کو پامال کردیا ہے اور ان مقاصد کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا ہے جن کے لیے بیت اللہ کو بنایا گیا تھا اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم بیت اللہ کی اصل حیثیت اور عظمت کو بحال کرو۔
Ayah 22:26وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَھِّرَ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْقَآئِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ۔ (الحج : 26)
(اور یاد کرو جبکہ ہم نے ابراہیم کے لیے ٹھکانا بنایابیت اللہ کی جگہ کو اس ہدایت کے ساتھ کہ کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا۔ )
حضرت ابراہیم اور بیت اللہ کی تاریخ
اس آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بیت اللہ کی تاریخ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ اس آیت میں غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد کا مسکن بنایا تھا اور اس میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کے اصل مقاصد کیا تھے ؟
بوأنا کا مصدر ” تبویہ “ ہے۔ اس کے معنی ” ٹکانے، ٹھہرانے، آباد کرنے اور بسانے “ کے ہیں۔ لیکن تفسیر مظہری کے مصنف نے لکھا ہے کہ اس کا معنی ” مقرر کرنا “ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی تعمیر کے لیے خود اس جگہ کا تعین فرمایا تھا اور اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کا اسے مسکن بنایا تھا۔
بعض مفسرین کا خیال ہے کہ بَوَّأنَا کا معنی ” ٹھکانا دینا “ ہے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں بیت اللہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کا ٹھکانا دیا۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) پہلے سے اس علاقے کے رہنے والے نہ تھے۔ آپ کی رہائش ملک شام میں تھی۔ لیکن بیت اللہ کا نشان پہلے سے یہاں موجود تھا چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی خبر دی گئی اور یہاں ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ آپ اس گھر کو ازسر نو تعمیر کریں جو دنیا کی نگاہوں سے مستور ہوچکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بیت اللہ کو سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا۔ طوفانِ نوح کی تباہی میں اسے اٹھالیا گیا۔ لیکن اس کی بنیادیں اپنی جگہ پر موجود تھیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان بنیادوں کی خبر دی گئی جنھیں ریت کے ایک ٹیلے نے چھپا رکھا تھا۔ آپ نے کھدائی کرکے ان بنیادوں کو نکالا اور پھر اس پر اللہ کے گھر کی تعمیر کی اور آپ خود اس گھر کے متولی مقرر ہوئے اور اس گھر کو پوری دنیا کی ہدایت کے لیے مرکز توحید بنایا گیا۔ لیکن یہ نہایت شرم کی بات ہے کہ اتنی بڑی حقیقت کو یہود نے چھپانے کے لیے اپنی کتاب میں تحریف کرڈالی۔ مکہ کا نام بدلا گیا۔ صفا اور مروہ کے تلفظ تبدیل کیے گئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پوری تاریخ بدل ڈالی گئی اور اپنے تئیں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نہیں بلکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ ان کی قربانی ملک شام میں ہوئی تھی منیٰ یعنی مکہ معظمہ کے دامن میں نہیں ہوئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے اہل علم پیدا کیے جنھوں نے یہود کی تحریفات کا پردہ چاک کیا اور تورات ہی سے ثابت کیا کہ یہود کے دجل وتلبیس کا یہ کاروبار اپنی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
تعمیر بیت اللہ کے مقاصد
دوسری بات جو اس آیت کریمہ میں کہی گئی ہے وہ ان مقاصد کا تعین ہے جن کے لیے بیت اللہ کی تعمیر کی گئی تھی۔ ان میں پہلامقصد یہ تھا کہ یہ گھر اللہ کی عبادت کا ایسا مرکز ہونا چاہیے جس میں کسی طرح کے شرک کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ اس میں آنے والے اللہ ہی کے سامنے قیام کریں، اسی کے سامنے رکوع کریں، اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور اسی سے لو لگانے کے لیے اعتکاف کریں۔ ایسی نماز جس میں قیام، رکوع اور سجود صرف اللہ کے لیے ہو اور بیت اللہ کا ایسا طواف اور ایسی زیارت جس میں صرف اللہ کی یاد ہی کے لیے اعتکاف کیا جائے۔ یہ ایسی عبادات ہیں جس کے نتیجے میں شرک کی ہر آلودگی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ لیکن قریش نے جو اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا حامل اور حضرت خلیل اللہ کی دینی وراثت کا وارث کہتے ہیں، اس گھر کے مقاصد کو ایسا پامال کیا ہے کہ وہ گھر جو کبھی توحید کا مرکز تھا، اسے تین سو پینسٹھ بتوں کی آماجگاہ بنا کر بتکدہ کی صورت دے دی۔ ان بتوں پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں، بتوں کو سجدے کیے جاتے ہیں، ان سے مرادیں مانگی جاتی ہیں، انھیں اللہ کی صفات میں شریک سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح سے بیت اللہ توحید کا مرکز نہیں ایک تیرتھ بن کر رہ گیا ہے حالانکہ ان کا اصل کام یہ تھا کہ وہ بیت اللہ میں آنے والوں کے لیے جہاں صفائی ستھرائی کا کام کرتے، ہر طرح کی گندگی سے اسے صاف ستھرا رکھتے، وہاں کا ماحول اتنا معطر رکھتے کہ لوگ جب تک یہاں ٹھہرتے انھیں ماحول کا تکدر کبھی پریشان نہ کرتا۔ وہیں یہ بھی ان کے لیے ضروری تھا کہ یہاں شرک کی آلودگی پیدا ہونے نہ دیتے۔ لیکن انھوں نے ہر وہ کام کیا جس سے اس گھر کی پاکیزگی پر حرف آیا اور اس گھر کی تعمیر کے مقاصد کو نقصان پہنچا۔
Ayah 22:27وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْ تُوْکَ رِجَالًاوَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ۔ (الحج : 27)
( اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو وہ تمہارے پاس آئیں گے پیادہ بھی اور نہایت لاغر اونٹیوں پر بھی۔ جو آئیں گی دو ردراز گہرے پہاڑی راستوں سے۔ )
مشکل الفاظ کا معنی۔ رجالراجل کی جمع ہے۔ جس کے معنی ہیں پیادہ چلنے والے۔
ضامر اس اونٹ یا اونٹنی یا گھوڑے کو کہتے ہیں جو طول سفر کی وجہ سے لاغر ہوجاتا ہے۔ یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
فجّ ” پہاڑوں کے درمیانی راستہ “ کو کہتے ہیں۔” درّے “ پر بھی بولا جاتا ہے۔” عمیق “ اس کی صفت ہے۔ پہاڑی راستے چونکہ تنگ ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ کثرت آمدورفت کے باعث گہرے ہوجاتے ہیں۔ اس لیے یہاں ” عمیق “ ” گہرے “ کے معنی میں لایا گیا ہے۔” عمیق “ کا دوسرا معنی ” دور “ بھی ہوتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس گھر کی زیارت کرنے والے دور دراز پہاڑی راستوں سے آئیں گے۔
حضرت ابراہیم کو منادی کا حکم
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ کے حوالے سے یہ دوسری ہدایت دی گئی ہے۔ بیت اللہ کی تعمیر جب مکمل ہوگئی تو پھر حکم ہوا کہ لوگوں میں اس کی منادی کردو کہ وہ اس گھر کی زیارت اور طواف کے لیے آئیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حیرت کی تصویر بن کر کہا کہ پروردگار ! ان پہاڑوں میں میری آواز کون سنے گا ؟ یہاں تو دور دور تک کوئی آبادی نہیں ؟ پروردگار نے فرمایا کہ تمہارا کام منادی کرنا ہے لوگوں تک اسے پہنچانا یہ ہمارا کام ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر اعلان کیا کہ لوگو ! اللہ کا گھر تعمیر ہوچکا اب تمہیں اس کے حج، عمرہ اور طواف کرنے کے لیے آنا چاہیے، میں تمہیں اس کی دعوت دیتا ہوں۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آواز ساری دنیا میں پہنچادی اور صرف اس وقت کے زندہ انسانوں تک ہی نہیں بلکہ جو انسان آئندہ قیامت تک پیدا ہونے والے تھے بطور معجزہ ان سب تک یہ آواز پہنچادی گئی اور جس کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے حج کرنا لکھ دیا ہے ان میں سے ہر ایک نے اس آواز کے جواب میں ” لبیک اللھم لبیک “ کہا۔ یعنی حاضر ہونے کا اقرار کیا۔ حضرت ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ حج کے تلبیہ کی اصل بنیاد یہی ندائے ابراہیمی کا جواب ہے۔ (قرطبی ومظہری)
اس آیت کریمہ میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو اس گھر کے حج کے لیے بلائیں وہ ہر تنگ و تاریک اور دوردراز گوشے سے پہاڑی دروں اور پامال راستوں سے گزرتے ہوئے آئیں گے۔ ان کی منزل کی دوری ان کی سواریوں کو لاغر کردے گی۔ لیکن ان کے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ ہمیشہ اسی طرح لاغر سواریوں پر اور تنگ راستوں سے گزر کر آئیں گے بلکہ اس میں تصور یہ دینا ہے کہ مکہ کی سرزمین میں بظاہر کوئی ایسی کشش نہیں کہ لوگ کشاں کشاں یہاں پہنچیں۔ نہ وہاں ایسی کوئی سیر گاہیں ہیں اور نہ قدرتی مناظر جن کی خاطر لوگکھنچے چلے آئیں۔ سبزے سے تہی دامن سیاہ رنگ کے پہاڑ اللہ کے نہایت سادہ سے گھر کو گھیرے کھڑے ہیں اور وہ سیاہ قبا پہنے ناز ونیاز کی تصویر بنے لوگوں کی آرزوؤں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کے موسم اور اس کی فضا میں بھی ایسی کوئی اپیل نہیں کہ لوگ وہاں پہنچنے کے لیے طبیعت میں امنگ اٹھتی ہوئی محسوس کریں۔ لیکن اس کے باوجود اس گھر میں اللہ نے کوئی ایسی کشش ایسی اپنائیت اور ایسی دلوں کو کھینچ لینے والی کیفیت رکھی ہے کہ بظاہر اسباب وہاں دلچسپی کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ لیکن اس کے باوجود دل ہیں کہ کھنچے چلے جارہے ہیں۔ نگاہیں ہیں کہ اس کے دیدار سے سیر ہونے میں نہیں آتیں۔ جو ایک دفعہ جاتا ہے وہ باربار جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو اس وقت بھی موجود تھی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا اعلان کیا تھا اور آج جبکہ مادہ پرستی اور اتباع ہوا نے انسان کی ترجیحات اور اذواق بدل ڈالے ہیں۔ لیکن اللہ کے گھر کی کشش اور اس کے بلاوے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ لوگوں کی وارفتگی وہی ہے وہاں حاضر ہونیوالے عشاق روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ مکہ کا دامن اپنی تمام وسعتوں سمیت اس گھر کے عشاق کو سمیٹنے سے عاجز ہوجاتا ہے۔ لیکن لوگوں کے جذبہ شوق میں کوئی کمی نہیں آتی۔ ریاض خیرآبادی نے ٹھیک ہی کہا تھا ؎
کوئی بات تو ہے آخر مے کدے میں ضرور
جو دور دور سے مے خوار آ کے پیتے ہیں
Ayah 22:28لِّیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ م بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ج فَکُلُوْا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْبَآ ئِسَ الْفَقِیْرَ ۔ (الحج : 28)
(تاکہ لوگ اپنے فائدہ کی جگہوں پر پہنچیں اور نام لیں اللہ کا چند جانے پہچانے دنوں میں ان جانوروں پر جو اللہ نے انھیں بخشے ہیں۔ پس اس میں سے کھائو اور فاقہ کش فقیروں کو کھلائو۔ )
حج کی دنیوی برکات
اس آیت کریمہ میں حج کے لیے بیت اللہ میں حاضری کو لوگوں کے لیے نفع آور قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ حج میں ان کی حاضری مکہ معظمہ میں انھیں ایسی جگہوں پر پہنچا دیتی تھی جہاں ان کے لیے فائدے رکھے گئے ہیں۔ یہ فوائد دو طرح کے ہیں۔ ایک تو دینی اور روحانی فائدے ہیں جو وہاں جانے والے کو نصیب ہوتے ہیں۔ اللہ کے گھر کا طواف ایک ایسی نعمت ہے جو اس جگہ کے علاوہ کہیں میسر نہیں آسکتی۔ وہاں کی نمازیں ایک لاکھ گنا اجر وثواب رکھتی ہیں۔ وہاں کی ہر نیکی اور ہر عمل اپنے اندر خیر و برکت کا ایک وسیع خزانہ رکھتا ہے اور مزید یہ بات بھی کہ جب ایک شخص اللہ کے گھر کے سامنے ملتزم سے چمٹ کر اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اس کی روح کی تمام آلودگیاں دھل جاتی ہیں۔ اس کے نفس کی چوریاں خود بخود زباں تک آتی اور بخشش طلب کرتی ہیں۔ دل و دماغ ایسے سرمدی کیف سے لذت اندوز ہوتے ہیں جس سے فکری ژولیدگی بھی ختم ہوتی ہے اور فکری نارسائی کو بھی اپنا محمل مل جاتا ہے۔ انسان اس طرح دھلا ہوا وہاں سے نکلتا ہے جس طرح کپڑا بھٹی سے صاف ہو کر باہر آتا ہے۔ بیت اللہ میں حاضری سے اصل مقصود انھیں فوائد اور برکات کا حصول ہے۔
اسلام میں چونکہ رہبانیت نہیں وہ اسلام کو کسی خاص دائرے میں محدود نہیں کرتا۔ اس کی دنیوی ضرورتیں بھی اسلامی طریقے سے پوری ہوتی ہیں اور اس کی اخروی ضرورتیں بھی دنیا کے صحیح استعمال سے وابستہ ہیں۔ اس لیے اس نے حج کے مناسک سے فارغ ہو کر اکتسابِ مال کے جائز ذرائع کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔
اسلام سے پہلے اللہ کے گھر کی حاضری عربوں کے لیے دنیوی خیر و برکت کی کلید بن گئی تھی۔ پورا جزیرہ عرب نفرتوں کا جہنم بن چکا تھا۔ اشھرحرم کے علاوہ کسی اور مہینے میں تجارتی قافلوں کا آنا جانا آسان نہ تھا۔ یہ حرمت والے مہینے ذیقعد، ذی الحج اور محرم تو مسلسل تھے لیکن ایک ان سے ہٹا ہوا ” رجب “ کا مہینہ بھی ان میں شامل تھا۔ چناچہ عرب رجب میں عمرے کے لیے نکلتے تھے اور باقی تین حرمت والے مہینوں میں وہ حج کی غرض سے سفر کرتے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے تجارتی قافلے بھی انھیں مہینوں میں آتے جاتے تھے اور کوئی ان کے لیے روک نہ تھی اور جب وہ حج یا عمرے کے لیے مکہ معظمہ آتے تھے تو ان کے ساتھ تجارت کا بھی وسیع سامان ہوتا تھا۔ چناچہ ایام حج سے پہلے اور ان کے بعد بھی مال تجارت سے بازار سج جاتے تھے۔ پورے عرب سے مختلف قسم کا مال مکہ کے بازاروں میں پہنچتا تھا اور مکہ کی مصنوعات حج سے واپس جانے والوں کے ذریعے ہر قبیلے اور ہر بستی میں پہنچ جاتی تھیں اس طرح اللہ تعالیٰ نے عربوں کی گزر بسر کا ایک محفوظ ذریعہ پیدا کردیا تھا اور مکہ والوں کے لیے بھی سال بھر کی ضروریات کا سامان ہوجاتا تھا اور یہ سب کچھ چونکہ بیت اللہ کے طفیل انھیں مل رہا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ عربوں کو چاہیے کہ وہ مکہ معظمہ میں پہنچ کر اپنی نفع والی جگہوں کو دیکھیں۔
حج کی مخفی برکات
علاوہ ازیں کچھ اور بھی فوائد ایسے ہیں جو اہل نظر کو نظر آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حج کے سفر میں ایک بڑی رقم خرچ آتی ہے اور کم آمدنی والے لوگ عمر بھر تھوڑی تھوڑی بچا کر جمع کرتے رہتے ہیں۔ تب حج کا سروسامان کرتے ہیں۔ لیکن یہ آج تک کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ کوئی شخص جس نے حج اور عمرہ کے لیے عمر بھر کی پونجی صرف کر ڈالی ہو اور وہ اس وجہ سے محتاج ہوگیا ہو اور اسے فقر وفاقہ نے آگھیرا ہو جبکہ اتنی بڑی رقم کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنے کے باعث بہت سے مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور بعض دفعہ فاقوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے بلکہ اس کے برعکس یہ دیکھا گیا ہے کہ جو شخص عمرہ یا حج کر کے آتا ہے اگر اس نے واقعی یہ سب کچھ اخلاص کے ساتھ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں اضافہ فرما دیتا ہے۔
جانوروں کی قربانی اظہارِ شکر ہے
مزید فرمایا گیا ہے کہ حج پر جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں جانوروں کی شکل میں نعمت عطا فرمائی ہے، اس کا شکر ادا کرو۔ جس طرح دل و دماغ کی رعنائیوں کا شکر ایمان سے ادا ہوتا ہے اور اعضاء وجوارح کی توانائیوں کا شکر نماز سے ادا ہوتا ہے، اور جسم کی داخلی نعمتوں کا شکر روزے سے ادا ہوتا ہے اور مال و دولت کی فراوانی کا شکر زکوٰۃ کی صورت میں ادا ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جو چارپائے اور مویشی انسانوں کو عطا فرمائے ہیں ان کا شکر یہ ہے کہ انھیں اللہ کے راستے میں قربان کیا جائے۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ جو لوگ جانوروں کے ریوڑ پالتے ہیں یا ان کا کاروبار ان سے متعلق ہے یا پہلے زمانے میں انسانوں کی گزربسر کا یہ بہت بڑا ذریعہ تھا ان کے لیے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن آج کا انسان جو صنعتی دور میں داخل ہوچکا ہے یا انتظامیہ کا کل پرزہ بن کر زندگی کے مراحل طے کررہا ہے اس کا جانوروں سے کیا تعلق ؟ لیکن یہ محض قلت فکر کا نتیجہ ہے جس طرح جانور پالنے والے کا جانور سے تعلق ہے اسی طرح اس کے خریدنے والوں، گوشت کھانے والوں اور ان کے متعلقات سے فائدہ اٹھانے والوں کا بھی ایک تعلق ہے۔ اسی لیے سب کو حکم دیا گیا کہ حج کے متعین دنوں میں اللہ کے عطا کیے ہوئے جانوروں پر اس کا شکر ادا کریں۔ متعین یا جانے پہچانے دنوں سے مراد، دس، گیارہ، بارہ ذوالحج کے تین دن ہیں اور ان پر شکر ادا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جانور اللہ نے عطا کیے ہیں تو اسی کے نام پر اور اسی کی رضا کے لیے انھیں ذبح کرنا چاہیے۔
ہر حیوان کی جان انسانوں کی جان کی طرح اللہ کی بیش بہا نعمت ہے۔ اسے کسی اور کے نام پر کسی بھی جانور سے چھینا نہیں جاسکتا کیونکہ اس پر سراسر اللہ کا حق ثابت ہے۔ اس لیے اللہ کی ذات نے اس پر قفل لگادیا ہے اور اس کی چابی اپنے نام کو ٹھہرایا ہے۔ جب بھی اس کے نام سے یہ تالا کھولا جائے گا تو اس جانور کا گوشت کھانا حلال بھی ہوگا اور اظہارِ شکر کی ایک صورت بھی، اور اگر کسی اور کے نام پر اس کو ذبح کیا جائے گا تو یہ اللہ کے حق کو چیلنج کرنے کے مترادف ہوگا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ جانور حرام ہوجائے گا۔
مشرکین کی غلط فہمی کا ازالہ
مشرکین کا خیال یہ تھا کہ اللہ کے نام پر جو قربانی دی جاتی ہے، اس کا گوشت قربانی دینے والے کے لیے حرام ہے۔ اس قربانی کا گوشت اس کا خون اللہ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے چناچہ وہ اپنی قربانیوں کا گوشت بیت اللہ کے دروازے کے سامنے ڈھیر کردیتے اور جانور کا خون بیت اللہ کی دیواروں پر اچھالتے۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے جانوروں کے گوشت اور خون کا خواہش مند نہیں وہ تو صرف تمہارے دلوں کے تقویٰ اور اخلاص کو دیکھتا ہے اس لیے تمہیں اجازت ہے کہ تم اپنی قربانی کا جانور خود بھی کھائو اور دوسروں کو بھی کھلائو۔
آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور میں تین حصے کیے جاسکتے ہیں ایک اہل خانہ کا دوسرا اعزہ و احباب کا اور تیسرا غریبوں اور حاجت مندوں کا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قربانی کرنے والے کے لیے قربانی کے جانور کا گوشت کھانا ممنوع نہیں بلکہ پسندیدہ ہے۔ البتہ ! قربانی کی ایک قسم وہ ہے جو کسی جرم کی سزا کے طور پر کی جاتی ہے۔ مثلاً کسی نے حرم شریف کے اندر شکار مار دیاتو اس پر اس کی جزا میں کسی جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جو کام احرام کی حالت میں ممنوع ہیں اگر کسی نے ان میں سے کوئی کام کرلیا تو اس پر بھی جانور ذبح کرنا لازم ہوجاتا ہے جس کو فقہا کی اصطلاح میں دم جنایت کہا جاتا ہے۔ ایسی قربانی کا گوشت کھانا قربانی دینے والے کے لیے جائز نہیں۔ یہ صرف فقرا اور مساکین کا حق ہے۔ کسی مالدار کو کھلایا نہیں جاسکتا۔
Ayah 22:29ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ۔ (الحج : 29)
(پھر وہ اپنے میل کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور بیت عتیق کا طواف کریں۔ )
تفث کے معنی ” میل کچیل “ کے ہیں۔ اور قضٰی کا معنی ہے اَزََالَ یعنی ” میل کچیل دور کرنا “۔
حج کے آخری مناسک
آٹھ ذوالحج کو منیٰ میں پانچ نمازوں کی ادائیگی اور شب بسری، نو ذوالحج کو عرفات کا وقوف اور پھر مزدلفہ میں رات کا قیام اور دس تاریخ کو قربانی دینے کے بعد حج کے مناسک ادا کرنے والے کو احرام کھولنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ گزشتہ دو دنوں کی بھاگ دوڑ اور مناسکِ حج کی ادائیگی کی مصروفیت میں احرام کی چادریں گندی ہوجاتی ہیں، جسم پر میل جم جاتا ہے، بال گرد آلود ہوجاتے ہیں۔ مناسکِ حج کی ادائیگی کے دوران تو ضروری تھا کہ حاجی دیوانہ صفت ہر طرح کے تکلفات سے دور ان تمام جگہوں میں اللہ کی یاد اور حج کے احکام کی ادائیگی میں اس طرح مصروف رہتا کہ اسے بندگی کے سوا کسی اور چیز کا ہوش ہی نہ ہوتا۔ لیکن اب جبکہ حج کے اکثرمناسک ادا ہوگئے اور قربانی بھی دے دی گئی تو اب مناسب ہے کہ وہ نہا دھو کر کپڑے بدلے اور عام معمول کی زندگی اختیار کرے۔ لیکن اس کے طرز عمل سے اب بھی یہ اظہار ہونا چاہیے کہ اس کی دیوانگی بھی اللہ کے لیے ہے اور اس کی فرزانگی بھی اللہ کی خاطر ہے۔ پہلے اس کی خستہ حالی اور پراگندہ بالی اللہ کو پسند تھی اب اس کا صاف ستھرا لباس اور نہایادھویا جسم اللہ کو مطلوب ہے۔ اب معمول کا لباس پہن کر اسے بیت عتیق کے طواف کے لیے نکلنا چاہیے اور اس طواف سے مراد طوافِ زیارت ہے جو حج کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔
افعالِ حج کی جو ترتیب قرآن و حدیث سے معلوم ہوتی ہے، امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک تو اس کی پابندی واجب ہے اور اس کے خلاف کرنے والے پر ایک دَمِ جنایت لازم آتا ہے۔ البتہ ! امامِ شافعی کے نزدیک سنت ہے۔ البتہ ! ان کے نزدیک بھی اس کے خلاف کرنے سے ثواب میں کمی ہوتی ہے مگر دَم لازم نہیں ہوتا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کی حدیث میں ہے۔
من قد ّم شیئا من نسکہ او اخرہ فلیھرق دماً رواہ ابن شیبۃ موقوفاً وھو حکم المرفوع (مظہری)
” جس شخص نے افعالِ حج میں سے کسی کو مقدم یا مؤخر کردیا اس پر لازم ہے کہ ایک دَم دے۔ “
نذر کا مفہوم
وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ ” اور وہ اپنی نذریں پوری کریں “۔ نذور، نذر کی جمع ہے۔ جس کو اردو میں ” منت “ کہا جاتا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ جو کام شرع میں کسی شخص پر واجب نہیں تھا وہ اگر زبان سے یہ نذر کرلے اور منت مان لے کہ میں یہ کام کروں گا تو یہ ” نذر “ ہوجاتی ہے اور اگر ایسا کام کرنا شرعاً گناہ نہ ہو تو اس کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے اور اگر وہ کام گناہ ہو تو پھر اس کا پورا کرنا نہ صرف یہ کہ جائز نہیں بلکہ اس کے خلاف کرنا ضروری ہے۔ البتہ ! اس صورت میں چونکہ نذر ٹوٹ جائے گی تو اس کا کفارہ دینا لازم ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ صرف دل میں کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرنے سے نذر نہیں ہوتی۔ جب تک زبان سے الفاظ ادا نہ کیے جائیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے تو اس نذر سے قربانی ہی مراد لی ہے۔ لیکن جمہور کی رائے یہ ہے کہ اس سے عام نذریں مراد ہیں۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جب دیکھتے ہیں کہ ایام حج عام ایام کی نسبت زیادہ بابرکت اور زیادہ تقویٰ کے حامل ہیں اور اس میں اعمالِ خیر کے اجروثواب کا تناسب بہت بڑھ جاتا ہے۔ تو وہ احرام سے فارغ ہو کر بعض مزید نیکیوں کے لیے نذر مان لیتے ہیں۔ تو ایسی نذروں کا پورا کیا جانا ضروری ہے۔
وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ.... وہ بیت عتیق کا طواف کریں۔ اس سے طوافِ زیارت مراد ہے۔ یہ چونکہ ارکانِ حج میں سے آخری رکن ہے۔ اس کی ادائیگی کے بعد احرام کی پابندیاں مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہیں۔ قربانی کے بعد حاجی احرام کھول دیتا ہے اور وہ ہر جائز کام کرنے کا مجاز ہوجاتا ہے لیکن اپنی بیوی سے مباشرت نہیں کرسکتا۔ اس کی اجازت طوافِ زیارت کے بعد ہوتی ہے۔ اس طواف کے بعد حج مکمل ہوجاتا ہے۔ اب صرف جمرات پر رمی کرنی ہے اور پھر روانگی سے پہلے طوافِ وداع کرنا ہے۔
بیتِ عتیق
آیت میں ” بیت عتیق “ کہا گیا ہے۔ اس کا ایک معنی ہے ” قدیم “۔ اس معنی کے حوالے سے اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی تمام عبادت گاہوں میں یہ سب سے پرانی عبادت گاہ اور پرانا معبد ہے کیونکہ دنیا میں اللہ کا دوسرا گھر بیت المقدس یا مسجد اقصیٰ کے نام سے معروف ہے اور سب اہل علم جانتے ہیں کہ وہ اس گھر کی تعمیر سے صدیوں بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ بقول حالی ؎
وہ دنیا میں گھر سب سے پہلا خدا کا
خلیل ایک معمار تھا جس بنا کا
ازل سے مشیت نے تھا جس کو تاکا
کہ ُ ابلے کا یاں سے وہ چشمہ ھدیٰ کا
” عتیق “ کا دوسرا معنی ” آزاد “ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کا گھر ایسا ہے جس پر کبھی دشمنانِ خدا غالب نہیں آسکیں گے۔ بیت المقدس بھی اللہ کا گھر ہے، لیکن وہاں کی تاریخ نے بہت سے انقلابات دیکھے ہیں۔ کتنی دفعہ وہ گھر مکمل طور پر تباہ کیا گیا ہے اور ہیکل سلیمانی جسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ بختِ نصر کی تباہی کے بعد اگرچہ اسے ازسرنو بنایا گیا تھا، لیکن دوسری تباہی کے بعد جو رومیوں کے ہاتھوں ہوئی پھر دوبارہ تعمیر نہ ہوسکا۔ لیکن اللہ کا یہ گھر (اللہ اسے اپنی حفاظت میں رکھے) آج تک کبھی دشمنوں کے ہاتھوں مسمار نہیں ہوا۔ جب کبھی اسے گرایا گیا تو دوبارہ بنانے کے لیے گرایا گیا اور جب ایک دفعہ ابرہہ نے بہت بڑی قوت ساتھ لے کر اسے مٹا دینے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے ذریعے اسے مٹا دیا۔ اب اگرچہ حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی ہمیشہ حفاظت کرے گا۔
Ayahs 22:30–31ذٰلِکَ ق وَمَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ط وَاُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔ حُنَفَآئَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ ط وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ ۔ (الحج : 30، 31)
(ان امور کو یاد رکھو ! اور جو شخص اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرتا ہے تو وہ اس کے رب کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہے۔ اور تمہارے لیے چوپائے حلال ٹھہرائے گئے ہیں بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنادیئے گئے ہیں۔ تو بتوں کی گندگی سے پرہیز کرو اور جھوٹی بات سے بچو۔ اللہ ہی کی طرف یکسو رہو۔ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ وہ آسمان سے گرے اور چڑیاں اس کو اچک لیں یا ہوا اس کو کسی دوردراز جگہ میں لے جا پھینکے۔ )
ذلک اس کی متعدد تراکیب کی گئی ہیں۔ لیکن ان میں سب سے آسان اور واضح یہ ہے کہ یہ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ تقدیرِکلام یوں ہوگی۔ احفظ ذلک، وذلک اشارۃ الی ما سبق من الاحکام (مظہری)
حج اور مناسکِ حج اور بیت اللہ کے سلسلے میں ابراہیم (علیہ السلام) کو جو ہدایات دی گئی تھیں وہ یہاں ختم ہوگئیں۔ اس لیے انھیں اچھی طرح سمجھ لو اور محفوظ کرلو۔ اب اس کے بعد جو ہدایات دی جارہی ہیں یہ ان لوگوں کے لیے ہیں جو اپنے آپ کو بیت اللہ کا متولی سمجھتے ہیں لیکن اس امانت کی ذمہ داریوں سے بالکل غافل ہیں۔
تمام حرماتِ الہٰی کے احترام کی ہدایت
پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو حرمت عطا فرمائی ہے۔ جن کا احترام اور جن کی حیثیت کا اہتمام ضروری ہے۔ ان میں حرم ہے، مسجد حرام ہے، اشھرِ حرم ہیں۔ ھدی اور قلائد وغیرہ ہیں۔ ان تمام چیزوں کی حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واسطے سے انسانوں کو سکھائی گئی تھی۔ لیکن آج جو لوگ بیت اللہ کی تولیت پر مسلط ہیں اور اپنے آپ کو تمام اہل عرب کے لیے رہنما سمجھتے ہیں انھوں نے ان تمام چیزوں کی حرمت پامال کرکے رکھ دی ہے۔ حرم اور مسجد حرام پر تمام انسانوں کا یکساں حق رکھا گیا تھا لیکن انھوں نے غاصبانہ قبضہ جما کر اپنا یہ حق سمجھ لیا ہے ہم جسے چاہیں یہاں آنے دیں اور جسے چاہیں روک دیں۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ اسی طرح اشھر حرم میں (نسی کا) قاعدہ ایجاد کرکے ان کی حیثیت ختم کرکے رکھ دی ہے۔ اللہ نے انھیں قمری مہینوں میں شمار کیا تھا انھوں نے انھیں شمسی مہینوں میں شامل کردیا ہے۔ ان مہینوں سے لوگوں کی دینی مصلحتیں وابستہ تھیں۔ انھوں نے ان مہینوں کو تجارت سے وابستہ کرکے اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ یہی حال باقی حرمات کا بھی ہے۔ اس لیے یہاں حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کریں اور انھیں اپنے مفادات کا وسیلہ نہ بنائیں۔
دوسری بات یہ ارشا دفرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش اور اہل عرب کے لیے تمام چوپایوں کو حلال کیا تھا۔ لیکن قریش نے اپنی خانہ ساز شریعت میں اپنے بتوں کے تعلق سے بہت سے جانوروں کو حرام کررکھا ہے۔ سورة الانعام کی آیات 136 سے 153 تک آیات میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ تحریم وتحلیل کے حوالے سے سورة الانعام میں ان کی دراز دستیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ تم نے اپنے بتوں کے تعلق کے حوالے سے شرک کی جو گندگیاں اپنے اوپر لاد رکھی ہیں انتہائی ضروری ہے کہ انھیں اتار پھینکو اور جہاں تک ممکن ہوسکے ان سے اجتناب کرو اور مزید فرمایا کہ تمہاری جسارتوں کا عالم یہ ہے کہ تم اپنے طور پر تحریم وتحلیل کا کاروبار کرتے ہو لیکن اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہو۔ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جو سب جھوٹوں سے زیادہ شنیع اور قابل نفرت ہے۔ اس سے توبہ کرو۔
جس طرح شرک نے تمہارے اعتقادات بگاڑے ہیں اسی طرح اللہ کی حرمتوں کو بھی تم نے شرک کے حوالے سے پامال کیا ہے۔ جب تک تم شرک کی ان زنجیروں کو نہیں توڑو گے اور ہر طرف سے کٹ کر اللہ کے ایک آستانے کے ہو کر نہیں رہ جاؤ گے، اس وقت تک تمہاری زندگیوں میں اصلاح کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوسکتی۔ اللہ کی توحید ایک مائِ صافی ہے جس میں شرک کی آلودگی قابل برداشت نہیں۔ اپنے اعتقادات کی درستی اور زندگی کو صحیح رخ پر ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ تم کامل یکسوئی سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑو، نہ اس کی ذات میں کسی کو شریک بنائو، نہ اس کی صفات میں۔ جس طرح اس کی ذات واجب الوجود ہے اسی طرح اس کی صفات قدیم اور ذاتی ہیں۔ باقی جہاں کہیں بھی کوئی خوبی یا کمال ہے کسی کا اپنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا فرمایا ہوا ہے۔ وجود، علم، اختیار، سمع وبصر غرضیکہ جو کچھ اور جتنا کچھ کسی کے پاس ہے وہ بخشش خداوندی ہے۔ جب اس کے سوا ہر چیز اپنی تمام صفاتِ کمال حتیٰ کہ اپنے وجود میں بھی اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے تو وہ اس کی شریک کیسے ہوسکتی ہے ؟
اس قدر واضح حقائق کے بعد بھی اگر کوئی بدبخت اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، تو وہ اپنے لیے تباہی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص آسمان کی بلندیوں سے نیچے پھینک دیا جائے۔ ظاہر ہے ایسے شخص کے بچنے کا کوئی امکان نہیں۔ البتہ ! یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی شیطان کے ہتھے چڑھ جائے۔ وہ ایک بےلنگر کا جہاز ہے جو ہر چٹان سے ٹکراسکتا ہے اور کٹا ہوا پتنگ ہے جس کو ہوا جہاں چاہے اڑا لے جاسکتی ہے۔ توحیدزمین پر بسنے والی انسان نام کی حقیر سی مخلوق کو رفعتوں کے آسمان پر بٹھا دیتی ہے۔ ہر طرح کی سرافرازی اس کے گھر کی لونڈی بن جاتی ہے۔ لیکن جب وہ شرک کرتا ہے تو وہ آسمان کی بلندیوں سے گرجاتا ہے پھر یا تو راستے ہی میں شیطان اس کو اچک لیتے ہیں اور یا وہ ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر کر اس قدر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے کہ ہوا اسے کسی بھی دور جگہ لے جاکر پھینک سکتی ہے۔