22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsروح القرآن

Ayahs 22:11–12

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

(اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں، پس اگر کوئی انھیں کوئی فائدہ پہنچے تب تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آزمائش پیش آگئی تو فوراً ( دین سے) منہ موڑ لیتے ہیں، انھوں نے دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی، یہی تو کھلا ہوا خسارہ ہے۔

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

یہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں، جو نہ ضرر پہنچا سکتی ہیں اور نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں، یہی بڑی دور کی گمراہی ہے۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُاللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ ج فَاِنْ اَصَابَـہٗ خَیْرُ نِ اطْمَاَنَّ بِہٖ ج وَاِنْ اَصَابَتْـہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْھِہٖ قف ج خَسِرَالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ ط ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۔ (الحج : 11) (اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں، پس اگر کوئی انھیں کوئی فائدہ پہنچے تب تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آزمائش پیش آگئی تو فوراً ( دین سے) منہ موڑ لیتے ہیں، انھوں نے دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی، یہی تو کھلا ہوا خسارہ ہے۔ ) ہر چیز کے کنارے اور دہانے کو حرف کہتے ہیں۔ حَرْفُ کُلِّ شَیْ ئٍ طَرْفُـہٗ وَشَفِیْرُہٗ وَحَدُّہٗ (قرطبی) دشمنانِ دین کی دشمنی کا ایک رنگ اور ایمانی زندگی کا ایک پہلو اس سے پہلے اسلام کے معاندین کا مشرکین کے نام سے ذکر کیا گیا ہے جس سے ہمارے سامنے ایک تصویر ابھرتی ہے کہ ایک دور کے لوگ ہیں جو اپنی زندگی کی باگ ڈور، خواہشاتِ نفس اور شیطان کے ہاتھ میں دے چکے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد دنیوی عیش و عشرت اور مال و متاع سے فائدہ اٹھانا ہے۔ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر کوئی قانون حاکم نہیں۔ فطری سادگی اور چند وضعی مراسم اور قبائلی مفادات سے جنم لینے والی ایک تہذیب ان کے معاشرے کی صورت گری کرتی ہے۔ خواہشاتِ نفس بےروک ہونے کی وجہ سے اخلاقیات کا وجود بہت حد تک ناپید ہوچکا ہے۔ دنیا کے قیام کو حاصل زندگی سمجھنے کی وجہ سے اسی دنیا کی خوشیوں اور غموں کے حصول کو صلاحیتوں اور توانائیوں کے لیے چیلنج بنادیا گیا ہے جس سے ایک نہ ختم ہونے والا تصادم مختلف قبائل میں پیدا ہوچکا ہے۔ نتیجتاً زندگی غیرمحفوظ ہو کر رہ گئی ہے۔ اس تباہ کن صورتحال کو بدلنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے آخری رسول کو مبعوث کرتا ہے۔ اس پر اپنی آخری کتاب اتارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ان لوگوں کی ناگفتہ بہ حالت کو بدلنے کے لیے ان کے سامنے وہ نسخہ شفا پیش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر نازل کیا ہے۔ ان کی ایک ایک کمزوری اور ایک ایک گمراہی کو کھول کھول کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور انھیں بتلاتا ہے کہ تم نے زندگی گزارنے کا جو طریقہ اپنا رکھا ہے وہ سراسر تباہی اور ہلاکت ہے۔ پورا جزیرہ عرب تمہارے اس رویئے کے باعث جہنم بن چکا ہے۔ تمہارے باہمی رشتے ٹوٹ چکے ہیں۔ زندگی کے حقیقی مقاصد سے بےبہرہ ہو کر تم نے اپنے لیے وہ مقاصد متعین کرلیے ہیں جن سے حیوانیت پیدا ہوتی ہے اور انسانیت دم توڑ جاتی ہے اور اخلاق تباہ ہوجاتے ہیں۔ تم آہستہ آہستہ اس صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہو جو تباہ ہونے والی قوموں کی ہوتی ہے لیکن اس بگڑی ہوئی قوم نے ہمدردی اور خیرخواہی کی اس آواز کو قبول کرنے کی بجائے پہلے اس کی مخالفت کی اور جب دیکھا کہ تبلیغ و دعوت کا سلسلہ مخالفت سے رکنے کی بجائے اور تیز ہوگیا ہے تو پھر وہ معاندت پر اتر آئے اور اس کے لیے انھوں نے ہر رشتہ توڑ ڈالا، شرافت کی ہر قدر پامال کردی۔ چشمِ تصور سے دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ایک طرف ہمدردی اور خیرخواہی اور نہایت فکرمندی کے ساتھ ان ڈوبنے والوں اور تباہ ہونے والوں کو بچانے کی ہر ممکن تدابیر ہورہی ہیں اور دوسری طرف ہمدردی اور خیرخواہی کی اس آواز کو ہر طریقے سے خاموش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چناچہ دو گروہوں کی الگ الگ شناخت، الگ الگ چلن، الگ الگ طوراطوار اور الگ الگ سیرت و کردار نمایاں طور پر نظر آرہے ہیں کہ اچانک ان ہی میں سے ایک تیسرا گروہ بھی کہیں کہیں دکھائی دینے لگا ہے۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ مکہ میں رہنے والے بالخصوص اور باقی جزیرہ عرب کے رہنے والے بالعموم زندگی گزارنے کا جو طریقہ اختیار کرچکے ہیں وہ یقینا تباہی کی طرف لے جارہا ہے اور جو لوگ انھیں سمجھانے بجھانے اور اس طریقے کو چھوڑ کر ایک اور طریقہ اپنانے کی دعوت دے رہے ہیں وہ یقینا حُسنِ کردار کے مالک، گہری ہمدردی رکھنے والے، مقاصدِ زندگی کا واضح تصور دینے والے اور ایک ایسی پاکیزہ دعوت کو پیش کرنے والے ہیں جس کے نتیجے میں ہر چیز کے تبدیل ہوجانے کا امکان ہے۔ یہ جزیرہ عرب جو نفرت و وحشت کا جہنم بن چکا ہے اور جہاں دشمنی اور عداوت کے بگولے اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں اور ہر طرف بداخلاقی اور گمراہی کی ایک باد سموم چل رہی ہے اگر اس صورتحال کو بدلا نہ گیا تو یقینا وہ ہلاکت اور بربادی دور نہیں جس سے اصلاح و دعوت کا کام کرنے والے برابر ہمیں آگاہ کررہے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہ دعوت و اصلاح کے داعی جو دعوت لے کے اٹھے ہیں ان میں خواہشاتِ نفس کی پیروی کا کوئی امکان نہیں۔ وہ ایک روکھی پھیکی زندگی ہے جو ایک بڑے مقصد کے حصول کے لیے گزاری جاتی ہے اور جس کے لیے قدم قدم پر قربانی و ایثار کے تقاضے ہیں۔ اب اگر ہم ان کی دعوت قبول کرکے ان کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں تو ہمارے ساتھ بھی وہی قیامت گزرے گی جس کا سامنا یہ لوگ کررہے ہیں اور اگر ہم دعوت کو قبول کرنے سے بالکل انکار کردیتے ہیں تو پھر اسی جہنم میں رہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ وہ ایک دورا ہے پر کھڑے ہیں، دعوت کو قبول کرتے ہیں تو حقائق کی تلخیاں اور مخالفین کی اذیتیں اپنی طرف بڑھتی ہوئی محسوس کرتے ہیں، اور اگر قبول نہیں کرتے ہیں تو جو ضمیر میں تھوڑی سی روشنی پیدا ہوئی ہے وہ ملامت کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اسی میں عافیت محسوس کرتے ہیں کہ اس نئی اٹھتی ہوئی اسلامی دعوت کو قبول تو کریں لیکن اس تصادم کے دریا میں اترنے سے اجتناب کریں۔ کنارے پر کھڑے ہو کر دیکھیں کہ اس تصادم کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ چناچہ وہ مسلمانوں کے ساتھ اس تصور کے سائے میں آگے بڑھتے ہیں کہ اگر ان کے اپنے مفادات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور کسی بڑی قربانی کا تقاضا پیدا نہیں ہوتا تو انھیں اسلام اور اس کی تمام خوبیوں کا اقرار ہے اور اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس شمع کو اٹھانے میں انھیں کوئی پش و پیش نہیں۔ لیکن اگر انھیں اپنے مفادات کی قربانی دینا پڑتی ہے اور زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی رونما کرنا ضروری ہوجاتا ہے تو وہ واپس وہیں پلٹ جاتے ہیں جہاں سے وہ چلے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے سامنے زندگی کا کوئی حقیقی مقصد نہیں بلکہ وہ بندہ درہم و دینار ہیں۔ ان کی زندگی کا اصل ہدف آرام و راحت کا حصول، جلبِ منفعت اور بیش از بیش مفادات کا حاصل کرنا ہے۔ انھیں آنحضرت ﷺ کے دیئے ہوئے شعور اور پاکیزہ سیرت و کردار سے انکار نہیں لیکن اس کے لیے اپنے آرام و راحت کو تج دینا اور سب کچھ اس کے راستے میں قربان کردینا انتہائی تکلیف دہ فیصلہ ہے جو ان کے لیے قابل قبول نہیں۔ انھیں پھولوں سے محبت ہے لیکن پھول تک پہنچنے کے لیے کانٹوں کا تصور بھی ان کے لیے تکلیف دہ ہے۔ وہ سچ کو عزیز رکھتے ہیں لیکن اگر اس کی قیمت ادا کرنی پڑے تو پھر جھوٹ کے ساتھ گزارہ کرنے سے انھیں کوئی عار نہیں۔ اسلام اگر انھیں اس بات کی ضمانت دے سکے کہ ان کے مفادات پر کوئی ضرب نہیں پڑے گی تو وہ اسلام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اگر اسلام اس کی ضمانت نہیں دیتا بلکہ وہ صاف صاف کہتا ہے کہ زندگی کا ہر تعلق اور ہر وابستگی آزمائش کے مراحل سے گزرتی ہے، کوئی محبت اس وقت تک قابل اعتماد نہیں ہوتی جب تک وہ آزمائش میں اتر کر اپنا سچا ہونا ثابت نہیں کرتی۔ ؎ محبت کے مقدر میں کہاں آرام ہے اے ہمدم کہیں شعلہ، کہیں بجلی، کہیں سیماب ہوتی ہے جبکہ محبت محض ایک فرد کا دوسرے فرد سے تعلق کا نام ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام جو زندگی کی ہمہ جہت اور ہمہ گیر تبدیلی کا داعی ہے کسی آزمائش میں ڈالے بغیر اسلامی وابستگی کا اعتبار کرلے جبکہ اسلام ہر طرح کے تعلق کو توڑ کر اللہ تعالیٰ سے وابستگی کی دعوت ہے جس میں دل و دماغ سے غیر اللہ سے تمام رشتے کاٹنے پڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے وفاداری کے مقابلے میں تمام وفاداریوں سے انکار کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کی بالادستی کے مقابلے میں تمام قوانین کو جھٹکنا پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی غیرمشروط اطاعت کے سامنے ہر طرح کی اطاعت سے انکار کرنا پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کے رسول سے محبت و اطاعت کا رشتہ جوڑ کر ان کی ذات کو نمونے کے طور پر اس طرح دل و دماغ میں بسانا اور زندگی کے طوراطوار میں رہنما بنانا پڑتا ہے کہ اس کے سامنے تمام حوالوں سے تسلیم کردہ ہیروز کی محبت کو دل سے نکالنا اور ان کی زندگی کے نمونوں کو زندگی کے تمام شعبوں سے بےدخل کرنا ناگزیر ہے۔ یہ ایک ایسی ہمہ گیر تبدیلی ہے جو عقیدے سے لے کر معاشرت، معیشت، سیاست، اصولِ حکمرانی، طریقِ حکومت، تصوراتِ ریاست اور آداب انسانیت غرضیکہ کے تمام انفرادی اور اجتماعی دوائر پر چھائی ہوئی ہے۔ اس میں نہ کسی دوسری وابستگی کا گزر ہوتا ہے، نہ کسی دوسری وفاداری کا تصور پایا جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی سروری کے سوا ہر سروری اور سرداری شرک ہے۔ بقول اقبال : سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری اور زندگی کی رہنمائی اور نمونے کے لیے صرف ایک ذات عزیز ہے جس کی ہمہ گیری اور گہرائی کا عالم یہ ہے کہ : وہ دانائے سُبُل ختم الرُسُل مولائے کل جس نے غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طٰہٰ یہ کردار آج بھی موجود ہے لیکن اس دور کا منافق جو تحفظات کے ساتھ اسلام کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہے لیکن کسی قسم کے ایثار اور قربانی کے لیے تیار نہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جسے ہم آج بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آج کے دانشور یا ابنائے زمانہ اسلام کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرتے، انھیں نبی کریم ﷺ کی ذات سے بھی انکار نہیں۔ وہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب ماننے سے انکاری نہیں، لیکن یہ بات انھیں کسی طور گوارا نہیں کہ وہ اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر قبول کریں جس میں کسی اور رہنمائی کے لیے کوئی گنجائش نہ ہو۔ وہ قرآن کریم کو ایک ایسے قانون کے طور پر ماننے کے لیے تیار نہیں جو معاشرت، معیشت، سیاست، تہذیب و تمدن، غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی دینے پر مصر ہو۔ وہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول ماننے سے انکار نہیں کرتے، لیکن انھیں اس بات میں تأمل ہے کہ وہ انھیں دانائے سُبُل سمجھیں اور مولائے کل مانیں جن کی ذات سے ثقافت پھوٹے، جن کی معاشرتی رہنمائی سے تہذیب جنم لے اور جن کی شریعت سے تمدن کو رہنمائی ملے اور جن پر نازل ہونے والی کتاب عدالتوں میں قانون بن کر فیصلے دے۔ ٹھیک کہا کسی شاعر نے : یاراں عجب اندازِ دو رنگی دارند مصحف بہ بغل دین فرنگی دارند اسلام نے دو عملی اور دو رنگی کو نہ عہد نبوت میں قبول کیا تھا اور نہ آج قبول کرنے کو تیار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت جس طرح ہر قسم کے شرکت کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے اسی طرح اس کے مصطفیٰ کی شخصیت ہر دوسری شخصیت کو ماننے سے ابا کرتی ہے اور اس کا دیا ہوا ضابطہ حیات ہر دوسرے ضابطہ حیات کی دریوزہ گری سے انکار کرتا ہے۔ اس کا نازل کردہ آئین اور قانون ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت آخری قانون ہے اور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی آخری اسوہ کاملہ ہے جس میں کسی پیوند کی کوئی گنجائش نہیں۔ جس طرح اس پر نازل ہونے والی کتاب ہر طرح کے شک و شبہ سے ماورا ایک محفوظ کتاب ہے، اسی طرح نبی کریم ﷺ کی زندگی کے حالات قانونی اور اخلاقی رہنمائی کے طور پر بالکل محفوظ حالت میں ہیں اور ان کی زندگی کا روزنامچہ آج بھی اس طرح مسلمانوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہے جس سے ہم اپنی شب و روز کی زندگی میں مکمل طور پر رہنمائی لے سکتے ہیں۔ دورِ نبوت میں جن لوگوں نے منافقت کی روش اختیار کی اور اسلام کو جلبِ منفعت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی ان کی دنیا بھی تباہ ہوئی اور آخرت بھی تباہ ہوگئی۔ کتبِ تفسیر میں اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے یہ واقعہ لکھا گیا ہے کہ ایک یہودی مسلمان ہوا۔ اتفاق سے کچھ عرصہ بعد اس کی بینائی جاتی رہی، پھر اس کا زبردست مالی نقصان ہوگیا، اس کا ایک لڑکا تھا وہ بھی مرگیا۔ اس نے ان مصائب کو اسلام کی نحوست جانا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اقلنی ’ ’ کہ میں نے جو آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی مجھے اس سے آزاد کردیجیے۔ “ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان الاسلام لایقال ” یعنی اسلام کی بیعت واپس نہیں لی جاسکتی۔ “ کہنے لگا کہ مجھے اس دین سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ میں اندھا ہوگیا، مال برباد ہوا، بیٹا مرگیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا یا یہودی ان الاسلام یسبک الرجال کما یسبک النارخبث الحدید والذھب والفضۃ ” اے یہودی ! اسلام اس طرح مردوں کو گلاتا ہے جس طرح آگ لوہے اور سونے اور چاندی کے میل کچیل کو صاف کرتی ہے۔ “ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو آدمی منفعت کے کاروبار اور مال و دولت کی محبت اور مفادات کی ہوس سے آزاد نہیں ہوتا، اسلام اس کے دل میں نہیں اترتا۔ وہ اسلام کو ایک کاروبار سمجھتا ہے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے دین کی خاطر سب کچھ چھوڑ دینے کا نام ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا لیکن جو شخص اس تصور کو قبول کیے بغیر اسلام کے دائرے میں آتا ہے اسے جب آزمائش کی بھٹی میں ڈالا جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ اور اسلام سے بدگمان ہو کر آخرت تو تباہ کرتا ہے، دنیا بھی تباہ کرلیتا ہے، اسی کو آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ اس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی گئی۔ اور یہی وہ سب سے بڑی ناکامی ہے جسے خسرانِ مبین قرار دیا گیا ہے۔ یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَضُرُّہٗ وَمَا لاَ یَنْفَعُہٗ ط ذٰلِکَ ھُوَالضَّلٰـلُ الْبَعِیْدُ ۔ (الحج : 12) (یہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں، جو نہ ضرر پہنچا سکتی ہیں اور نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں، یہی بڑی دور کی گمراہی ہے۔ ) مشرکین کا رویہ اور دعا کا مفہوم اس آیت کریمہ کا تعلق چونکہ گزشتہ آیت کریمہ سے ہے، اس میں ان لوگوں پر تنقید کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں لیکن ایک کنارے پر کھڑے ہوکر، ان کی زندگی کا اصل ہدف مفادات اور منافع کا حصول ہے۔ وہ کسی ایسے مقصد کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس کی انھیں قیمت ادا کرنی پڑے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت میں ان کے مفادات محفوظ ہونے کی بجائے انھیں مصائب کا سامنا کرنے کی دعوت دی جارہی ہے تو وہ ایسے اسلام سے کان پر ہاتھ دھرتے اور دور بھاگ نکلتے ہیں۔ اور وہ یقین کرلیتے ہیں کہ اسلام کے قبول کرنے سے ہماری زندگی کا ہر رنگ پھیکا ہوجائے گا اور ہمیں اللہ تعالیٰ سے جو امیدیں اور آرزوئیں ہیں ان میں سے کسی کے پورا ہونے کا کوئی امکان نہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کو چھوڑ کر اور آستانے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے اسی رویئے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے لوگوں کو پکارتے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ پکار عبادت کے معنی میں ہے کیونکہ یہ آیت گزشتہ آیت کے مضمون کا تسلسل ہے اور عبادت میں جس طرح بندگی اور اطاعت شامل ہے اسی طرح دُعا، استغاثہ، فریاد اور استمداد بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونے کے بعد حیرانی کی بات ہے کہ یہ ان آستانوں پر سر جھکاتے اور ان قوتوں سے فریاد کرتے ہیں جو نہ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان دے سکتی ہیں۔ اگر تو اس سے بت مراد لیے جائیں تو پھر اگرچہ معنی زیادہ واضح ہوجاتا ہے لیکن اس میں بھی ایک بات کا دھیان رکھنا بہت ضروری ہے وہ یہ کہ جن لوگوں نے بت پرستی کا ارتکاب کیا ہے ان کے پیش نظر یہ کبھی نہیں رہا کہ یہ پتھر کے اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بت غیرمعمولی قدرتوں کے مالک ہیں یہ ہماری ہر بگڑی بنا سکتے اور ہماری زندگیاں سنوار سکتے ہیں بلکہ ان کے ذہن میں ان زندہ شخصیتوں کا تصور ہوتا ہے جن کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی یاد میں یہ مجسمے اور یہ بت تراشے گئے ہیں۔ وہ طاقت اور قدرت کا مالک ان شخصیتوں کو سمجھتے ہیں اور جن کے بارے میں ان کا گمان یہ ہے کہ مرنے کے بعد اللہ والوں میں زیادہ قوتیں آجاتی ہیں۔ جو کام وہ اپنی زندگی میں نہیں کرسکتے وہ موت کے بعد کرسکتے ہیں۔ وہ لوگوں کی دُعائیں سنتے اور ان کی فریادوں کو پورا کرتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مرنے والے دنیا سے چلے گئے اور ان کے نام پر یہ گھڑے ہوئے بت اپنے اندر کوئی قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مشرکین نے جس طرح بتوں کو خدا کا شریک بنایا ہے اسی طرح فرشتوں کو، دیوتائوں کو اور بعض قوتوں کے اوتاروں کو بھی اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہے۔ اور کتنی ایسی طاغوتی قوتیں ہیں جن کے اقتدار اور اختیار کے سامنے مشرکین نے نہ صرف سر جھکائے ہیں بلکہ اپنا مال و دولت اور اپنی صلاحیتوں کا سرمایہ ان کے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے صرف کیا ہے۔ وہ اپنی خدائی کا صور پھونکتے ہیں تو یہ ان کی خدائی کو غذا فراہم کرتے ہیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ حقیقت میں وہ نہ نافع ہیں اور نہ ضار ہیں۔ نفع و ضرر کی حقیقی قوت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن اس کے باوجود وہ ان کو نافع اور ضار سمجھ کر ان کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ کس قدر دور کی گمراہی ہے کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے نہیں جھکتا وہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسے خالق ومالک وہ بھی تسلیم کرتا ہے اور اسے بھی اس کی بےپناہ قوتوں کا اعتراف ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جن کے سامنے استمداد کے لیے ہاتھ پھیلایا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی مدد نہیں کرسکتے۔ اس کے باوجود جب وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جبکہ وہ یقینی سہارا ہے اس کے سامنے سر جھکاتا اور ہاتھ پھیلاتا ہے جو نفع اور نقصان کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتنی بڑی حماقت اور کتنی دور کی گمراہی ہے۔
Ayah 22:13

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جن کا ضرر ان کے نفع سے زیادہ قریب ہے، بہت برا ہے ان کا مولیٰ اور برے ہیں ان کے ساتھی۔

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّہٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَفْعِہٖ ط لَبِئْسَ الْمَوْلٰی وَلَبِئْسَ الْعَشِیْرُ ۔ (الحج : 13) (وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جن کا ضرر ان کے نفع سے زیادہ قریب ہے، بہت برا ہے ان کا مولیٰ اور برے ہیں ان کے ساتھی۔ ) مشرکین کی حماقت گزشتہ آیت میں فرمایا کہ مشرکین کی انتہائی گمراہی ملاحظہ ہو کہ یہ ان چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان دے سکتی ہیں اور ان کے لیے جس پروردگار کو چھوڑا ہے وہ نہ صرف نفع و ضرر پر قادر ہے بلکہ اس کی قدرتیں بےپناہ ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا گیا ہے کہ کسی ایسی ذات کو پکارنا جو نفع و ضرر پر قادر نہ ہو یقینا حماقت ہے لیکن ایسی ذات کو پکارناجس کی ضرررسانی نفع رسانی کی قوت سے بڑھی ہوئی ہو، اسے کم سے کم الفاظ میں حماقت در حماقت کہا جانا چاہیے۔ بعض بزرگوں نے اس آیت کے مفہوم کو اس طرح واضح کیا ہے کہ غیر اللہ سے نفع کی امید تو زیادہ سے زیادہ موہوم کہی جاسکتی ہے، لیکن ان کے پوجنے کا جو ضرر ہے وہ قطعی اور یقینی ہے۔ موہوم امید کے برآنے کا سوال تو بعد میں دیکھا جائے گا نقصان تو ابھی ہاتھوں ہاتھ پہنچ گیا۔ آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسری قوتوں کو پکارنے کے نتیجے میں جہنم کی سزا سنائی جائے گی تو مشرکین پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری بدنصیبی ہم نے جن کے سہارے پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑا اور جن کی امید پر شرک کا راستہ اختیار کیا وہ آج ہمارے کیا کام آتے ان کی بدنصیبی کا حال تو یہ ہے کہ ہماری طرح وہ بھی جہنم کا ایندھن بنائے جارہے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی : توقع تھی وہ جن سے خستگی میں داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ کشتہ تیغ ستم نکلے قرآن کریم کہتا ہے کہ کسی ایک کی بات نہیں بلکہ مولیٰ اور عشیر دونوں ہی ایک سے ایک بڑھ کر ناہنجار ثابت ہوئے۔ مولیٰ سے مراد وہ شرکاء و شفعاء ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا مرجع اور کارساز بنایا گیا اور عشیر سے مراد وہ مشرکین ہیں جنھوں نے ان کو مرجع و کارساز بنایا۔
Ayah 22:14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغوں میں جن کے نیچے سے نہریں رواں دواں ہوں گی، بیشک اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوالصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُط اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایُرِیْدُ ۔ (الحج : 14) (بیشک اللہ تعالیٰ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغوں میں جن کے نیچے سے نہریں رواں دواں ہوں گی، بیشک اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ ) مخلصین کا انجام اللہ تعالیٰ سے مایوس ہو کر دوسروں کو پکارنے والوں کے انجام کے ذکر کے بعد اب ان لوگوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے جنھوں نے نہایت ناگفتہ بہ حالات اور مخالفت اور معاندت کے طوفانوں میں اللہ تعالیٰ سے امید ٹوٹنے نہیں دی۔ وہ ٹھیک اس راستے پر چلتے رہے جس کی رہنمائی انھیں ذات رسالت مآب ﷺ کی طرف سے ملتی رہی۔ انھیں بڑی سے بڑی آزمائش پیش آئی، لیکن اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس پر بھروسے میں کبھی کمی نہ آئی۔ ان کے اس یقین میں کبھی کمزوری نہ آسکی کہ ہماری زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور اس راستے میں سب کچھ قربان کردینا ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں دواں ہوں گی۔ آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا گیا کہ یقینا اس وقت مسلمان نہایت زبوں حالی سے گزر رہے ہیں۔ دعوت و تبلیغ کے راستے بظاہر بند ہوتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کا راستہ بند کرنے والا کوئی نہیں۔ مکہ والے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف چاہے کیسی ہی تدبیریں کریں وہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی تدبیر پر غالب نہیں آسکتے۔ وہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔ وہ یقینا اپنے پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد فرمائے گا اور انھیں ہرحال میں سرخرو کرے گا۔
Ayah 22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو اسے چاہیے کہ وہ آسمان تک ایک رسی تانے، پھر اسے کاٹ ڈالے (پھر اپنے معاملہ کا فیصلہ کر ڈالے) پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کے غم کو دور کرنے والی بنتی ہے۔

مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَـآئِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ ھَلْ یُذْھِبَنَّ کَیْدُہٗ مَایَغْیِظُ ۔ (الحج : 15) (جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو اسے چاہیے کہ وہ آسمان تک ایک رسی تانے، پھر اسے کاٹ ڈالے (پھر اپنے معاملہ کا فیصلہ کر ڈالے) پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کے غم کو دور کرنے والی بنتی ہے۔ ) اس آیت کے مفہوم میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے تو ہم خود کچھ کہنے کی بجائے تین مفسرین کی بیان کردہ تفسیر کو نقل کررہے ہیں جن کی ہمارے نزدیک ایک اہمیت ہے۔ ان میں سے جسے بھی اختیار کرلیا جائے انشاء اللہ غلط نہیں ہوگا۔ ضمیر مفعول کا مرجع مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَـآئِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ ھَلْ یُذْھِبَنَّ کَیْدُہٗ مَایَغْیِظُ میں ضمیر کا مرجع ” مَنْ “ ہے۔ جن لوگوں نے اس کا مرجع رسول اللہ ﷺ کو مانا ہے ان کی رائے سیاق و سباقِ کلام سے بالکل بےجوڑ ہے۔ آیت میں اشارہ انھیں دو دلوں اور منافقوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے اور جن کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ اگر انھیں کوئی آزمائش پیش آجاتی ہے تو خدا سے مایوس و بدگمان ہو کر دوسرے کو مولیٰ و مرجع بنا بیٹھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پیش آمدہ مشکل سے خدا ان کو نہیں نکالے گا یا نہیں نکال سکتا۔ مدّ سبب کا مفہوم فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَـآء آسمان میں رسی تاننا آخری اور انتہائی تدبیر کو دیکھنے کے لیے اسی طرح کا ایک استعارہ ہے جس طرح ہماری زبان میں تھگلی لگانے کا استعارہ ہے۔ سورة انعام میں بھی آسمان میں تھگلی لگانے کا استعارہ گزر چکا ہے۔ فرمایا ہے : وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِغْرَاضُھُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیْ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْسُلَّمًا فِی السَّمَـآئِ فَتَاْ تِیَھِمْ بِاٰ یَـۃٍ ط وَلَوْشَـآئَ اللّٰہُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدٰی فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ۔ (انعام : 35) (اور اگر ان لوگوں کا اعراض تم پر ایسا ہی شاق گزر رہا ہے تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگا کر ان کے لیے کوئی نشانی لا سکو تو لادو ! اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر مجتمع کردیتا تو تم جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے نہ بنو ! ) زہیر اور اعشیٰ نے بھی انتہائی اور آخری جدوجہد کے مفہوم کے لیے یہ محاورہ استعمال کیا ہے۔ زہیر کا مصرع ہے : ولو نال اسباب السماء بسُلّم اسی طرح اعشیٰ کہتا ہے : ورقیت اسباب السماء بسُلّم قطع کا مفہوم ثُمَّ لْیَقْطَعْ ۔ ” قطع “ کے معنی ابومسلم نے قطع مسافت کے لیے ہیں یعنی وہ آسمان میں رسی تانے اور آسمان میں چڑھ جائے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی قطع وحی کے لیے ہیں یعنی جس کو یہ گمان ہو کہ اللہ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا وہ آسمان میں چڑھ کر سلسلہ وحی کو قطع کردے۔ اکثر لوگوں نے اس کے معنی پھانسی لگانے یا گلا گھونٹ لینے کے لیے ہیں یعنی وہ چھت میں رسی لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی لگالے۔ ان تاویلوں میں جو قباحت ہے اس سے قطع نظر، لفظ ” قطع “ کا جو مفہوم ان حضرات نے لیا ہے وہی محل نظر ہے۔ وحی کو منقطع کردینے یا پھانسی لگا لینے کے معنی کے لیے تو اس لفظ کا استعمال بالکل ہی ناموزوں ہے۔ عربیت کا ذوق اس سے ابا کرتا ہے۔ کسی مفہوم کے لیے معروف و متداول الفاظ کے ہوتے ہوئے کسی ناموزوں لفظ کا استعمال قرآن کی فصاحت و بلاغت کے بالکل منافی ہے۔ قطع مسافت کے مفہوم کے لیے اگرچہ اس لفظ کو ناموزوں نہیں قرار دیا جاسکتا اس لیے کہ قطع وادی، وغیرہ کے محاورات عربی میں معروف ہیں لیکن یہاں اس لفظ کا استعمال اس مفہوم کے لیے بالکل ناموزوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آسمان کی طرف رسی تاننے کا ذکر ہے تو اس کے ساتھ فَلَیَتَصَعَّدْ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ موزوں ہوسکتا ہے۔ یقطع اس کے ساتھ کسی طرح بھی موزوں نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تمام اقوال ضعیف ہیں۔ البتہ ! عزم و جزم کے ساتھ کسی معاملہ کا فیصل کرنے کے مفہوم کے لیے یہ لفظ اعلیٰ عربی میں معروف ہے۔ اس کی نظیر خود قرآن میں موجود ہے۔ مثلاً سورة نمل میں ہے : قَالَتْ یَٰاَیُّھَاالْمََلَؤُا اَفْـتُوْنِیْ فِیْٓ اَمْرِیْ ج مَاکُنْتُ قَاطِعَۃً اَمْرًا حَتّٰی تَشْھَدُوْنِ ۔ (نمل : 32) (ملکہ سبا نے کہا کہ اے درباریو ! میرے معاملے میں آپ لوگ اپنی رائے دیں۔ میں کسی معاملہ کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود ہو کر مشورہ نہ دیں۔ ) اللہ سے مایوسی و بدگمانی کا انجام اجزائے آیت کی تشریح کے بعد اب آیت کے مفہوم پر غور کیجیے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بدبخت و نامراد اللہ سے مایوس و بدگمان ہوتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرے گا اور اس بدگمانی میں مبتلا ہو کر دوسروں کو اپنا مولیٰ و مرجع بناتا ہے وہ جو چاہے کر دیکھے، وہ آسمان میں تھگلی لگائے اور اپنا پورا زور لگا کر اپنے معاملہ کا فیصلہ اور غم اور پریشانی کو اگر دور کرسکتا ہے تو دور کرلے۔ مطلب یہ کہ خدا کو ایسے لاخیروں سے کوئی بحث نہیں۔ وہ جہاں چاہیں آوارہ گردی کریں اور جس جوہڑ سے چاہیں اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کریں۔ لیکن یاد رکھیں کہ انسانی فطرت کے اندر جو پیاس ہے وہ ہر جوہڑ کے پانی سے نہیں بجھ سکتی۔ وہ صرف ایمان کے حوض کوثر ہی سے بجھتی ہے اور اس کے اندر جو خلا ہے وہ ہر اینٹ پتھر سے نہیں بھرا جاسکتا، اس کو اگر بھرا جاسکتا ہے تو صرف اللہ واحد کی یاد ہی سے بھرا جاسکتا ہے۔ سورة طٰہٰ کی آیت 124 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس آیت سے متعلق بعض مزید سوالات جو پیدا ہوں گے وہ اس سے صاف ہوجائیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خدا سے مایوسی و بدگمانی شرک کے بہت بڑے عوامل میں سے ہے۔ اس حقیقت کی وضاحت ہم اپنی کتاب حقیقتِ شرک میں کرچکے ہیں۔ انسان جب خدا سے کٹتا ہے تو وہ بہرحال اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کوئی نہ کوئی سہارا ڈھونڈھنے کی سعی کرتا ہے لیکن حقیقی سہارا چونکہ خدا اور صرف خدا ہی ہے اس وجہ سے وہ چاہے آسمان ہی پر چڑھ جائے اس کی ساری سعی لاحاصل ہی رہتی ہے۔ اس آیت میں فی الاخرۃ کا لفظ بھی قابل غور ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں اللہ ہی یاور و ناصر ہے اسی طرح آخرۃ میں بھی اللہ ہی یاوروناصر ہے۔ اگر کوئی اللہ کے رحم یا انصاف سے بدگمان ہو کر کسی اور کو اپنا یاوروناصر بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ کے مقابل میں اس کے کام آئیں گے تو وہ یہ بھی کر دیکھے۔ اس کے اس وہم کی حقیقت بھی قیامت کے دن اس پر آشکارہ ہوجائے گی۔ (تدبرِ قرآن) سلسلہ تقریر کو نگاہ میں رکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ گمان کرنے والا شخص وہی ہے جو کنارے پر کھڑا ہو کر بندگی کرتا ہے۔ جب تک حالات اچھے رہتے ہیں مطمئن رہتا ہے اور جب کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے یا کسی ایسی حالت سے دوچار ہوتا ہے جو اسے ناگوار ہے تو اللہ سے پھرجاتا ہے اور ایک ایک آستانے پر ماتھا رگڑنے لگتا ہے۔ اس شخص کی یہ کیفیت کیوں ہے ؟ اس لیے کہ وہ قضائے الٰہی پر راضی نہیں ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ قسمت کے بنائو اور بگاڑ کے سر رشتے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مایوس ہو کر دوسرے آستانوں سے امیدیں وابستہ کرتا ہے۔ اس بنا پر فرمایا جارہا ہے کہ جس شخص کے یہ خیالات ہوں وہ اپنا سارا زور لگا کر دیکھ لے حتیٰ کہ اگر آسمان کو پھاڑ کر تھگلی لگا سکتا ہو تو یہ بھی کرکے دیکھ لے کہ آیا اس کی کوئی تدبیر تقدیرالٰہی کے کسی ایسے فیصلے کو بدل سکتی ہے جو اس کو ناگوار ہے۔ آسمان پر پہنچنے اور شگاف دینے سے مراد ہے وہ بڑی سے بڑی کوشش جس کا انسان تصور کرسکتا ہو۔ ان الفاظ کا کوئی لفظی مفہوم مراد نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن) مَنْ کَانَ یَظُنُّ ، حاصل یہ ہے کہ اسلام کا راستہ روکنے والے معاند جو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس کے دین کی مدد نہ کرے ان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ تو جبھی ہوسکتا ہے جبکہ معاذاللہ آنحضرت ﷺ سے منصب نبوت سلب ہوجائے اور آپ ﷺ پر وحی آنا منقطع ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو نبوت و رسالت سپرد فرماتا ہے اور اس کو وحی الٰہی سے نوازتا ہے اسکی مدد تو دنیا و آخرت میں کرنے کا اس کی طرف سے پختہ عہد ہے اور عقلاً بھی اس کے خلاف نہ ہونا چاہیے تو جو شخص آپ کی اور آپ کے دین کی ترقی کو روکنا چاہتا ہے اس کو اگر اس کے قبضہ میں ہو تو ایسی تدبیر کرنا چاہیے کہ یہ منصب نبوت سلب ہوجائے اور وحی الٰہی منقطع ہوجائے۔ اس مضمون کو ایک فرض محال کے عنوان سے اس طرح تعبیر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے وحی کو منقطع کرنے کا کام کرنا چاہتا ہے تو کسی طرح آسمان پر پہنچے وہاں جا کر اس سلسلہ وحی کو ختم کر دے اور ظاہر ہے کہ نہ کسی کا اس طرح آسمان پر جاناممکن، نہ اللہ تعالیٰ سے قطع وحی کو کہنا ممکن، تو پھر جب تدبیر کوئی کارگر نہیں تو اسلام و ایمان کے خلاف غیظ و غضب کا کیا نتیجہ ؟ یہ تفسیر بعینہٖ درمنثور میں ابن زید سے روایت کی گئی ہے اور میرے نزدیک یہ سب سے بہتر اور صاف تفسیر ہے۔ (بیان القرآن مع تسھیل) قرطبی نے اسی تفسیر کو ابوجعفر نحاس سے نقل کرکے فرمایا کہ یہ سب سے احسن تفسیر ہے اور حضرت ابن عباس ( رض) سے بھی اس تفسیر کو نقل کیا ہے اور بعض حضرات نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ سماء سے مراد اپنے مکان کی چھت ہے اور مراد آیت کی یہ ہے کہ اگر کسی معاند جاہل کی خواہش یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس کے دین کی مدد نہ کرے اور وہ اسلام کے خلاف غیظ وغضب لیے ہوئے ہے تو سمجھ لے کہ اس کی یہ مراد تو کبھی پوری نہ ہوگی۔ اس احمقانہ غیض و غضب کا تو علاج یہی ہے کہ چھت میں رسی ڈال کر پھانسی لے لے اور مرجائے۔ (مظہری وغیرہ) (معارف القرآن)
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کو نازل کیا ہے۔ واضح دلائل کی صورت میں بیشک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰـہُ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لا وَّاَنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ ۔ (الحج : 16) (اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کو نازل کیا ہے۔ واضح دلائل کی صورت میں بیشک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ) دلائل کب بےاثر ہوتے ہیں ؟ گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین کو آنحضرت ﷺ کی دعوت پر اس قدر غصہ اور رنج تھا کہ وہ یہ سوچتے تھے کہ کاش ! کوئی ایسی صورت ممکن ہو کہ ہم نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کا سلسلہ منقطع کردیں۔ ایسی صورت میں آنحضرت ﷺ کی دعوت کا سلسلہ خود بخود رک جائے گا اور آیت کے الفاظ میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ وہ اللہ کی ذات کریم سے بھی انتہائی نالاں اور آزردہ تھے۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ ہم اس دعوت کو روکنے کے لیے جو کچھ کرتے ہیں اس میں ہمیں کہیں کامیابی نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری بالکل مدد کرنا نہیں چاہتا۔ چناچہ اس پس منظر میں جب کہ مشرکین اللہ سے بھی ناراض ہیں اور آنحضرت ﷺ کی دعوت پر وہ غیض وغضب میں جلے جارہے ہیں ان سے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ انسان کی سرشت یہ ہے کہ جب اس سے کوئی بھلے کی بات کہی جائے تو وہ اسے سمجھنے کے لیے دلیل کا خواہش مند ہوتا ہے اور اگر اسے دلائل سے مطمئن کردیا جائے تو پھر اپنی سرشت کے تقاضا کے مطابق ہے اس بات کو قبول کرلیتا ہے۔ البتہ ! جب کوئی شخص کسی اچھی سے اچھی بات کے حوالے سے بھی تحفظات کا شکار ہوجاتا ہے یا اس کے منفی جذبات اس کے خلاف کام کرنے لگتے ہیں تو دلائل بھی بےاثر ہوجاتے ہیں۔ مشرکین کا اصل مسئلہ یہی ہے۔ قرآن کریم پروردگار نے واضح دلائل کے ساتھ اتارا ہے۔ وہ کوئی بات بھی بلا دلیل نہیں کرتا اور لائل میں ہر طرح کے دلائل سے کام لیتا ہے۔ کبھی دلائل آفاق پیش کرتا ہے اور کبھی دلائل انفس کبھی انسانی فطرت کو آواز دیتا ہے اور کبھی دلوں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے۔ لیکن جب انسان اپنے منفی جذبات کے تحت ہر دروازہ بند کرلیتا ہے۔ تو اس کے سمع و قبول کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔ سنت اللہ کا بیان آیت کے دوسرے حصے میں ہدایت و ضلالت سے متعلق سنت اللہ کو بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی عنایت انسانوں کے لیے ہدایت کو آسان بنانے کی خاطر دلائل میں کوئی کمی نہیں رہنے دیتی۔ سمجھانے بجھانے کے تمام امکانات سے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن فیصلہ اللہ کی سنت کے مطابق اس بات پر ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ نے جس جوہر عقل سے نوازا ہے اور دل دماغ کی جو رعنائیاں عطا فرمائی ہیں انسان ان سے کہاں تک کام لیتا ہے۔ اگر وہ ان خداداد صلاحیتوں سے کام لیتا ہے، اللہ سے توفیق مانگتا ہے تو یقینا اس کے لیے قبولیت کے دروازے کھل جاتے ہیں لیکن اگر وہ گروہی عصبیت کا شکار ہو کر منفی جذبات کے تحت بات کو سننا بھی پسند نہیں کرتا تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت دینا کبھی پسند نہیں کرتا۔ اللہ کی ذات انتہائی غیور ہے اور اس کا دین نہایت قدروقیمت کا حامل ہے۔ یہ ایسے شخص کو کبھی عطا نہیں ہوتا جو اس کے لیے اپنے دل میں خواہش نہیں رکھتا۔ آنحضرت ﷺ کی ذاتی وجاہت آپ کا بےعیب کردار، آپ کی انسانوں کے لیے انتہائی ہمدردی اور خیرخواہی اور قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور اس کا معجزانہ انداز بھی اس کی ہدایت کا باعث نہیں بنتا۔ جس طرح ہدایت کی قبولیت کے لیے دلائل اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ انسانی ماحول اور انسانی فطرت اپنا کام کرتی ہے۔ اس سے بڑھ کر اللہ کی توفیق اس میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ سے توفیق نہیں مانگتا اور اس کے رویے میں طلب صادق پیدا نہیں ہوتی وہ کبھی بھی ہدایت سے نوازا نہیں جاتا۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صائبین اور نصاریٰ اور مجوس اور جنھوں نے شرک کیا۔ بیشک اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالصّٰبِئِیْنَ وَالنَّصٰرٰی وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ۔ (الحج : 17) (جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صائبین اور نصاریٰ اور مجوس اور جنھوں نے شرک کیا۔ بیشک اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ ) اسلام کے مخالف گروہ گزشتہ آیات میں ہم نے محسوس کیا ہے کہ حق و باطل میں ایک کشمکش برپا ہے جس میں اہل حق اپنی مساعیِ جلیلہ استقامت اور اخلاص کا پوری طرح ثبوت دے رہے ہیں اور مخالفین برہنہ مخالفت اور بےروک اذیت رسانی پر اتر آئے ہیں۔ تلخیاں عروج پر ہیں۔ مومن سخت امتحان سے گزر رہے ہیں اور کافر مخالفت میں کھولتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں اور جانبین میں جو قوتیں اپنے اپنے راستے پر چل رہی ہیں ان میں ایک طرف صاحب ایمان ہیں اور دوسری طرف کافر اور مشرک ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ اگرچہ اس کشمکش کے دو ہی فریق ہیں، مومن اور مشرک، لیکن دنیا میں اسلام کے دشمن اور بھی ہیں۔ جو مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔ ان سب کی ہمدردیاں کسی نہ کسی رنگ میں مشرکین کے ساتھ ہیں۔ ان میں یہودتو کھلم کھلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں بلکہ انہی کے سکھانے پڑھانے پر قریش مختلف سوالات آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اسلامی دعوت کے مقابل براہ راست دو گروہ ہیں اور باقی تین گروہ جن کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے وہ پس پردہ انھیں سپورٹ کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں مسلمان اور مومن ہیں جو ہر حملہ برداشت کررہے ہیں۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں مشرکین اور یہود کا ذکر تو فعل کی شکل میں ہوا ہے اور صابی، نصاریٰ اور مجوس کا ذکر اسم کی شکل میں ہوا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ فعل کے اندر ایک قسم کی سرگرمی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جبکہ اسم بالعموم صرف علامتِ امتیاز کا فائدہ دیا کرتا ہے۔ آیت کریمہ میں مسلمانوں کے علاوہ جن مخالف گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کی تفصیل اگرچہ سورة البقرۃ میں گزر چکی ہے تاہم جہاں تک یہود کا تعلق ہے ان کا نام اور ان کی سرگرمیاں مسلمانوں سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اسی طرح نصاریٰ یعنی عیسائیوں سے بھی امت مسلمہ واقف ہے۔ البتہ ! صائبین جنھیں عام طور پر صابی کہا جاتا ہے آنحضرت ﷺ کے دور میں ان کے ایک سے زیادہ گروہ پائے جاتے تھے۔ ان میں جو گروہ سب سے مشہور تھا وہ بالائی عراق (یعنی الجزیرۃ) کے علاقہ میں اچھی خاصی تعداد میں پایا جاتا تھا۔ یہ لوگ اپنے آپ کو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا پیرو کار بتاتے تھے۔ ان کے مذہب کی خاص علامت نماز تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قریش نے جب مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو وہ انھیں صابی کہنے لگے۔ مجوس بھی آنحضرت ﷺ کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ وہ آگ کی پوجا کرتے تھے اور تاریکی اور روشنی کے دو خدا مانتے تھے۔ اپنے آپ کو زردشت کے پیروکار بتاتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ زردشت پر اللہ کی کتاب نازل ہوئی تھی۔ لیکن مرور ایام سے وہ مٹ گئی۔ اب ان کے پاس چند ہدایات کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ اپنے پیغمبر کے حوالے سے یہ بات کہتے تھے کہ ان پر جو کتاب اتری تھی اس میں یہ آیت موجود تھی کہ میں نے دین کو مکمل نہیں کیا میرے بعد ایک نبی آئے گا جس پر دین مکمل کیا جائے گا۔ ان کے مذہب اور اخلاق کو مزدک کی گمراہیوں نے بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا تھا۔ حتیٰ کہ سگی بہن سے نکاح تک ان میں رواج پا گیا تھا۔ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا ...... سے مراد بالعموم عرب کے رہنے والے اور بالخصوص مکہ کے رہنے والے تھے۔ یوں تو جو گروہ یا جو شخص بھی شرک میں مبتلا ہو اس کے لیے یہ تعبیر اختیار کی جاسکتی اور اسے مشرک کہا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں دوسرے گروہوں کے مقابلے میں مشرکین کو ایک گروہ کے طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شرک ـصرف گمراہی نہیں انسانیت کے لیے عیب بھی ہے۔ اسی وجہ سے باقی گروہ جن کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے اگرچہ اپنے اندر شرک کی کئی صورتیں رکھتے تھے۔ لیکن وہ مشرک کہلانا پسند نہیں کرتے تھے۔ یہ خصوصیت صرف اہل عرب کی تھی کہ جس طرح وہ فخر کے ساتھ اپنے اپنے کو امی کہتے تھے اسی طرح مشرک بھی کہلاتے تھے۔ صاحبِ ایمان لوگوں کے مقابلے میں تمام مخالف اور مفسد گروہوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ مشرکین کی طرح چاہے براہ راست اسلام کی مخالفت کریں یا پس پردہ رہ کرمخالف قوتوں کو سپورٹ (Support) کریں لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ جہاں تک علمی پیرائے میں سمجھانے بجھانے کا تعلق ہے اس میں کوئی کمی باقی نہیں رہی بلکہ اب تو بات اتمامِ حجت تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح اس دعوت کے نتیجے میں انسان کے جس سیرت و کردار کی تعمیر ہوئی ہے اس نے بھی حق و باطل خیر وشر اور صحیح اور غلط کا فیصلہ کردیا ہے۔ باایں ہمہ ! مخالفین اپنی مخالفت سے رکتے نظر نہیں آتے اور کسی بھی صحیح بات کو وزن دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حق و باطل کی یہ کشمکش یہیں ختم ہونے والی نہیں یہاں اگر مخالفین کے رویے پر اللہ کا عذاب نہ آیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاملہ یہیں ختم ہوگیا اس کشمکش کا اصل فیصلہ قیامت کو ہوگا۔ آج کے مخالف اور دشمن قیامت کے دن اپنے انجام کو اپنی نظروں سے دیکھیں گے۔ اور جن اہل حق کو آج وہ حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں وہ ان کے سامنے عزت و افتخار سے نوازے جائیں گے اور آج کی کشمکش کا قیامت کے دن فیصلہ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں کیونکہ وہ ہر چیز سے واقف اور آگاہ ہے اور اپنے علم کے مطابق دونوں گروہوں میں فیصلہ کرے گا۔
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج چاند ستارے پہاڑ درخت اور چوپائے اور بہت سے انسان، اور بہت سے ایسے ہیں جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے اور جن کو اللہ ذلیل کردے ان کو کوئی دوسرا عزت دینے والا نہیں۔ اللہ ہی کرتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّ وَآبُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ ط وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ ط وَمَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ ط اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایَشَـآئُ ۔ (الحج : 18) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج چاند ستارے پہاڑ درخت اور چوپائے اور بہت سے انسان، اور بہت سے ایسے ہیں جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے اور جن کو اللہ ذلیل کردے ان کو کوئی دوسرا عزت دینے والا نہیں۔ اللہ ہی کرتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔ ) کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے حق و باطل کی کشمکش میں اصل فریقِ مخالف مشرکین ہیں۔ ان میں اور مسلمانوں میں اصل بنائے نزاع عقیدہ توحید ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کی ذات میں کسی نہ کسی کو شریک کرتے ہیں۔ لیکن بیشتر مشرکین ایسے ہیں جو اللہ کی صفات میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور انھیں غلط فہمی یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ذات وہ چاہے کیسی ہی عظیم کیوں نہ ہو ساری کائنات کا نظام چلائے اور مخلوقات کے ایک ایک فرد کی ضرورتوں کو جانے اور انھیں پورا کرے۔ جس طرح دنیا میں ایک ملک کا حکمران تخت سلطنت پر بیٹھ کر اپنے ماتحتوں کے واسطے سے حکومت کرتا ہے اور میں اپنی حاکمیت کے حق میں درجہ بدرجہ مختلف ماتحت قوتوں کو شامل کرلیتا ہے اور وہ اس کی طرف سے تفویض کردہ فرائض اس کے دیئے ہوئے اختیار سے انجام دیتے ہیں۔ یہی حال اللہ کی سلطنت کا بھی ہے۔ وہ تخت کبریائی پر فائز ہے۔ لیکن حکومت کے بعض اختیارات اس نے مختلف قوتوں کو سونپ رکھے ہیں۔ اس لیے جب تک ان قوتوں سے استمداد نہ کی جائے اور انھیں خوش کرنے کے لیے بندگی کے آداب بجا نہ لائے جائیں اور ان کے نام پر چڑھاوے نہ چڑھائے جائیں اس وقت تک انسانوں کی ضروریات کا مداوا کیسے ہوسکتا ہے ؟ پروردگار ان کی گمراہیوں کے جواب میں نہایت سادہ اور مشاہداتی دلیل پیش کررہا ہے اور جن وانس کے مشاہدے کو دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمارہا ہے کہ جس قدر کائناتی قوتیں ہیں ان میں سورج ہے، چاند ہے، ستارے ہیں، پہاڑ ہیں، درخت ہیں اور چارپائے ہیں اور اسی طرح زمین و آسمان کی ایسی مخلوقات بھی ہیں جنھیں ہم کماحقہٗ نہیں جانتے۔ یہ سب اللہ کی عظمت اور اس کی حاکمیت کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اپنے فرائض انجام دینے میں مکمل طور پر اس کے اطاعت گزار ہیں۔ سورج اپنے طلوع و غروب میں، روشنی بکھیرنے میں، اہل زمین کو گرمی مہیا کرنے میں، سمندر سے بخارات کو اٹھانے میں اور پھلوں کے پکانے میں کبھی کسی تأمل یا سستی کا شکار نہیں ہوا۔ چاند اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کبھی کسی تساہل سے دوچار نہیں ہوا۔ ستاروں نے ٹمٹمانے میں کبھی کوتاہی نہیں کی اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں کامل اطاعت کے ساتھ سرگرداں اور ڈیوٹی انجام دے رہا ہے۔ پہاڑ اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے استادہ ہیں۔ انھوں نے زمین کی طنابیں کھینچ رکھی ہیں۔ اللہ کے حکم کے مطابق زمین کو متوازن رکھا ہے اس مخفی سرمائے کو محفوظ رکھتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی سعی و کاوش کے لیے چیلنج بنایا ہے۔ درخت اللہ کے تکوینی قانون کے تحت اپنا فرض انجام دے رہے ہیں۔ سایہ دار درخت سایہ دے رہا ہے۔ اور پھل دار پھل مہیا کرتا ہے۔ سوکھ کر انسانوں کی ضرورت کے لیے چولہوں کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اور خدمات جو انسان ان سے طلب کرتا ہے کبھی انکار نہیں کرتے۔ اس طرح سے کائنات کی ایک ایک مخلوق چاہے وہ اپنی ذات میں چھوٹی ہے یا بڑی اللہ کے تکوینی نظام میں بندھی ہوئی اور اطاعت کے رشتے سے وابستہ ہے۔ انسانوں نے اپنی کو تاہی فکر سے آفتاب کو حجم اور قوت میں بڑا دیکھ کر ہمیشہ اس کی پوجا کی ہے۔ نجانے کس کس کو اس کا دیوتا بنایا ہے اور کیسے کیسے اوتار فرض کیے ہیں اور قوموں کی قومیں اس کی عظمت کے سامنے سجدہ ریز ہوتی رہی ہیں۔ لیکن ہر شخص بچشم سر دیکھ سکتا ہے کہ سورج خود اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ وہ شب وروز اپنے رب کے سامنے قیام رکوع اور سجدے میں رہتا ہے۔ طلوع کے وقت وہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے، دوپہر تک وہ قیام میں رہتا ہے۔ زوال کے بعد وہ رکوع میں جھک جاتا ہے اور غروب کے وقت وہ سجدے میں گر جاتا ہے اور رات بھر اسی سجدے کی حالت میں رہتا ہے۔ باقی مظاہرِ قدرت بھی اسی طرح اس کے سامنے کبھی قیام کی حالت میں کبھی رکوع کی حالت میں اور کبھی سجدے کی حالت میں بندگی بجا لاتے ہیں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ ہر وقت قیام رکوع اور سجود میں رہتا ہے اور پھر اس کی فطرت پر ایسی توحید غالب ہے کہ یہ ہمیشہ آفتاب کی مخالف سمت میں رہتا ہے۔ اگر سورج مشرق کی سمت میں ہے تو سایہ مغرب کی جانب پھیلتا ہے اور اگر سورج مغرب کی جانب ہے تو ہر چیز کا سایہ مشرق کی طرف پھیلتا ہے۔ وہ اپنے وجود سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ...... بہت سے لوگ بھی ایسے ہیں جو باقی کائنات کی طرح اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اسی کی غیرمشروط اطاعت کرتے ہیں اسی سے ڈرتے اور اسی سے امیدیں باندھتے ہیں۔ ان کی فطرت مظاہرِ کائنات کی فطرت کی طرح صحیح اور مستقیم ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو تمام کائنات کے برعکس توحید کے راستے پر چلنے کی بجائے شرک کے راستے پر چلتے ہیں۔ اللہ نے ان کو ایک عظمت دی ہے کہ وہ انسان ہونے کی حیثیت سے اشرف المخلوقات ہی نہیں بلکہ تمام عناصرِ قدرت کے مخدوم ومتبوع ہیں۔ تمام عناصرِقدرت شب وروز ان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کا سر اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ لیکن اس کے باوجود وہ غیر اللہ کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ متبوع بننے کی بجائے عناصرِ قدرت کی بندگی بجا لاتے ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے عظیم شرف سے نوازا تھا لیکن انھوں نے اپنی شامت اعمال سے اپنے آپ کو ذلت کے گڑھے میں گرا لیا۔ ذوق نے ٹھیک کہا بشر جو اس تیرہ خاکداں میں پڑا یہ اس کی اپنی فروتنی ہے وگرنہ قندیلِ عرش میں بھی اسی کے جلوے کی روشنی ہے ایسے شخص نے اللہ کی دی ہوئی کرامت وعزت کو ٹھکرا کر شرک کی ذلت اور اہانت کو قبول کیا۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے گرگیا ۔ جیسے ہی عظمتوں اور شرافتوں کے منبع سے اس کا رشتہ ٹوٹاوہ قعر مذلت میں اترتا چلا گیا۔ اللہ کی ہر مخلوق کی ایک قدرومنزلت ہے کیونکہ وہ اللہ کی بندگی میں کبھی کسی کو شریک نہیں کرتا لیکن جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے جبکہ اسے اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تو وہ چونکہ خود اپنے آپ کو ہر طرح کی عزت سے محروم کرلیتا ہے اس لیے قرآن کریم نے اسے شر البریہقرار دیا ہے۔ اور پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا کہ جس شخص کو اللہ ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں کیونکہ عزتیں اسی کی بارگاہ سے نصیب ہوتی ہیں اور وہ بارگاہ ایسی غیور ہے کہ وہاں کسی کو دم مارنے کی گنجائش نہیں اس بارگاہ کا مالک جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔
Ayahs 22:19–22

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ان میں سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے لباس تراشے جائیں گے۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے سب گل جائے گا اور کھالیں بھی۔

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کی سرکوبی کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے۔

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب جب وہ اس کے کسی عذاب سے نکلنے کی کوشش کریں گے اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کا عذاب

ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ ز فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ ط یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُئُ وْسِہِمُ الْحَمِیْمُ ۔ یُصْھَرُبِہٖ مَا فِیْ بُطُوْنِہِمْ وَالْجُلُوْدُ ۔ وَلَھُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ ۔ کُلَّمَآ اَرَادُوْآ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْھَا ق وَذُوْقُوْا عَذابَ الْحَرِیْقِ ۔ (الحج : 19 تا 22) (یہ دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ان میں سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے لباس تراشے جائیں گے۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ اس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے سب گل جائے گا اور کھالیں بھی۔ اور ان کی سرکوبی کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے۔ جب جب وہ اس کے کسی عذاب سے نکلنے کی کوشش کریں گے اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کا عذاب۔ ) اسلام کے متحارب گروہوں کا انجام گزشتہ آیات میں ہم نے حق و باطل کی کشمکش کا جو منظر دیکھا ہے اس میں اگرچہ کرداروں کی تعداد دو سے زیادہ ہے لیکن حقیقت میں دو ہی فریق ہیں جن کے درمیان یہ لڑائی جاری ہے۔ ایک طرف اہل حق کا بلند حوصلہ لیکن بےوسیلہ گروہ ہے۔ جسے مسلسل اذیتوں اور مصیبتوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف مشرکین کا گروہ ہے جنھیں کسی طور توحید گوارہ نہیں۔ جو شرک کی حمائت میں آستینیں چڑھائے ہوئے مرنے مارنے پر تلا ہوا ہے۔ یہود ہر لحاظ سے ان کی مدد کے لیے سرگرم ہیں نصاریٰ صابی اور مجوس پس پردہ رہ کر مشرکین کے لیے کلمہ تحسین کہتے اور ہر طرح کی اخلاقی مدد مہیا کرتے ہیں کیونکہ ان کا اور مشرکین کا مضمون واحد ہے۔ یہ تعداد میں اگرچہ زیادہ ہیں۔ لیکن الکفر ملۃ واحدۃ کے مصداق ایک ہی بےسایہ شجر کی شاخیں ہیں۔ ان کی ہر بات اور ان کا ہر عمل کفر اور شرک کی خدمت کے لیے وقف ہے اور مسلمانوں کی تمام مساعی اور تمام تر استقامت صرف اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہے۔ اس لحاظ سے یہ تصادم دو گروہوں میں ہے چاہے ان کے نام کچھ بھی ہوں اور ان کی تعداد کتنی ہو۔ ہر دور میں یہ نام بدلتے رہے ہیں اور بدلتے رہیں گے لیکن ان کی تمام تر کشمکش اور تمام تر لڑائی حق و باطل کے درمیان ہی ہوگی۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی اس کا عنوان یہی تھا اور آج جبکہ مسلمان کا خون ارزاں ہوگیا ہے اور ہر جگہ سے دھواں اٹھ رہا ہے تب بھی اس کا عنوان یہی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا تھا ؎ نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ شکن نئے وہی قوت اسداللّٰہی وہی مرحبی وہی عنتری اللہ تعالیٰ مخالف گروہ کو انجام کی آگاہی دینے کے لیے فرمارہا ہے کہ قیامت کے دن انھیں آگ کا لباس پہنایا جائے گا کیونکہ دنیا میں یہ حق کی مخالفت کے جوش میں نفرت غصہ حسد اور انتقام کی جس آگ میں جلتے رہے ہیں ان کے لیے آگ کا لباس ہی مناسب ہے۔ اسی طرح ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس سے ان کی کھالیں بھی جلیں گی اور ان کے تمام اندرونی احشاء بھسم ہوجائیں گی اور یہی سزا ان کے لیے سزاوار بھی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اسلام دشمنی کی آگ میں کھولتے رہے ہیں۔ جہنم کے جو داروغے ان کی نگرانی کے لیے مسلط کیے جائیں گے ان کے ہاتھوں میں لوہے کے بڑے بڑے گرز ہوں گے جب یہ جہنم کے عذاب سے گھبر اکر کسی دوسری آفت کی پناہ میں جانا چاہیں گے تو وہ انھیں گرز مار مار کر واپس اسی جگہ لوٹادیں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ اب یہاں سے نکلنے کی کوشش کیوں کررہے ہو جہنم کی آگ سے جلنے کا مزہ چکھو۔ یہی وہ عذاب ہے جس سے دنیا میں تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔ لیکن تم نے کبھی بات سننے کی بھی زحمت نہ کی بلکہ جس نے تمہیں نہایت خیر خواہی سے اس انجام سے بچانا چاہا تم نے زندگی بھر اسے چین نہیں لینے دیا۔ تو جس عذاب کی خاطر تم نے یہ رویہ اختیار کیا تو اب تم اس سے بھاگنا کیوں چاہتے ہو۔