22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsروح القرآن

Ayahs 22:42–44

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں ( تو تعجب کی بات نہیں) پس جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود۔

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم، قوم لوط۔

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے لوگوں نے بھی۔ اور موسیٰ کی بھی تکذیب کی گئی۔ تو میں نے ان کافروں کو کچھ ڈھیل دی ( جب وہ باز نہ آئے) تو پھر میں نے انھیں پکڑ لیاتودیکھو کیسی ہوئی میری پھٹکار۔

وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوْدُ ۔ لا وَ قَوْمُ اِبْرٰھِیْمَ وَقَوْمُ لُوْطٍ ۔ لا وَّاَصْحٰبُ مَدْیَنَ ج وَکُذِّبَ مُوْسٰی فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُھُمْ ج فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ۔ (الحج : 42، 43، 44) ( اور اگر یہ کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں ( تو تعجب کی بات نہیں) پس جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود۔ اور قوم ابراہیم، قوم لوط۔ اور مدین کے لوگوں نے بھی۔ اور موسیٰ کی بھی تکذیب کی گئی۔ تو میں نے ان کافروں کو کچھ ڈھیل دی ( جب وہ باز نہ آئے) تو پھر میں نے انھیں پکڑ لیاتودیکھو کیسی ہوئی میری پھٹکار۔ ) آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی تاریخ کی روشنی میں اہلِ حق اور اہل باطل کی کشمکش کا ذکر جاری ہے اور آنحضرت ﷺ کے ہم عصر لوگوں میں اہل باطل کی نمائندگی چونکہ قریش کررہے تھے تو ان کے جرائم کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیاجب کہ اللہ تعالیٰ نے مقامی اور اجنبی اور تمام لوگوں کے کے لیے اللہ کے گھر کو مرکز توحید بنایا تھا عبادت کے لیے سب پر دروازے کھولے گئے تھے اور سب کے حقوق اس میں برابر تھے چناچہ ان کے اس جرم کے حوالے سے بیت اللہ کی تاریخ بیان کرنے کی تقریب پیدا ہوئی تو قرآن کریم نے اس کی مختصر تاریخ بیان کرنا ضروری سمجھا۔ پھر اسی مناسبت سے مسلمانوں کو ان کا فرض یاد دلاتے ہوئے انھیں جہاد کی اجازت دی گئی۔ یہ اگرچہ چار آیات مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں لیکن مضمون کے ساتھ مطابقت کی وجہ سے انھیں اس سورت میں شامل فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ان آیات کی تکمیل کے بعد پھر اسی مضمون کو لیا جارہا ہے کہ اس میں اہل باطل کے نمائندہ کے طور پر قریش پیش پیش تھے اور وہ نہایت سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں کی مخالفت کررہے تھے اور آئے دن ان کے بڑھتے ہوئے مظالم سے مسلمان سخت پریشان تھے۔ ان کی اذیتیں چونکہ ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی تھیں۔ اس لیے مسلمانوں کی زبانوں پر اللہ کی تائید اور نزول کے لیے باربار دعائیں مچل مچل جاتی تھیں۔ چناچہ پیش نظر آیات کریمہ میں براہ راست آنحضرت ﷺ کو خطاب فرماکر تسلی دی گئی ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ اور مسلمان انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں مبتلا کردیئے گئے ہیں۔ اسلام سے وابستہ لوگوں کے لیے یہ انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حق و باطل کی کشمکش ہمیشہ انھیں راہوں سے گزری ہے۔ جب بھی اللہ کی طرف سے کوئی نبی یا رسول دعوت لے کر آیا اس کی قوم نے ہمیشہ اس کی تکذیب کی۔ تاریخ آپ کے سامنے ہے جھٹلانے والی قوموں کے کھنڈرات ان راستوں میں بکھرے ہوئے ہیں جہاں سے قریش کے تجارتی قافلے گزر کر جاتے ہیں۔ ان کھنڈرات کا ایک ایک ذرہ اس حقیقت کو نمایاں کررہا ہے کہ اہل حق ہمیشہ ستائے گئے ہیں اور اہل باطل نے دعوت الی اللہ کے جواب میں ہمیشہ بہیمیت اور درندگی کا ثبوت دیا ہے۔ قوم نوح، قوم ثمود، قوم عاد، قوم ابراہیم، قوم لوط اور اہل مدین، ان میں سے کون سی قوم ہے جس نے اس تاریخ کو نہیں دھرایا ؟ کفر ہمیشہ اللہ کے دین کی دعوت پر بھڑکتا رہا اور اہل کفر نے طاقت کے زور سے سچائی اور بندگی کی اس آواز کو ہمیشہ دبانا چاہا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب کی روش پر فوراً گرفت نہیں فرمائی جس طرح اہل کفر کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ حق کی تکذیب کرتے رہے ہیں۔ اس طرح اللہ کی بھی سنت رہی ہے کہ وہ ان تکذیب کرنے والوں کو پکڑنے اور سزا دینے میں جلدی نہیں کیا کرتا۔ وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنی روش پر غور کریں اور اگر سنبھلنا چاہیں تو سنبھل جائیں۔ لیکن جب ڈھیل کا وقت گزر جاتا ہے اور اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں کہ وہ وقت کب اختتام پذیر ہوتا ہے، تو پھر اللہ کی پکڑ آجاتی ہے۔ اس حقیقت کی تائید کے لیے سب سے آخر میں موسیٰ (علیہ السلام) کی تاریخ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ غالباً یہ حوالہ آخر میں اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ قریش یہود سے تعلق کی وجہ سے سب سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تاریخ سے واقف تھے اور مزید یہ بات بھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہی سب سے پہلے صاحب شریعت نبی کے طور پر مبعوث کیے گئے تھے اور آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ انھیں کے حالات سے آگاہ تھے۔ اس لیے نہایت بےساختہ انداز میں توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ دیکھو تکذیب تو موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی کی گئی ہے اور ان کے لیے مجہول کا صیغہ شاید اس لیے استعمال کیا گیا کہ ان کی تکذیب ان کی قوم نے نہیں بلکہ فرعون اور اس کی قوم نے کی تھی جو قبطی قوم سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق فرعونیوں کو بھی ڈھیل دی لیکن جب وہ بھی اپنی روش سے باز نہ آئے تو پھر اللہ کی گرفت آئی اور انھیں عبرت کا نمونہ بنادیا گیا۔ نَکِیْر : اصل میں نکیری ہے۔” ر “ کا کسرہ ” ی “ کے گرنے کا قرینہ ہے۔ نکیر کا معنی عام طور پر انکار کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض اہل لغت کا خیال ہے کہ نکیر مجرد انکار کو نہیں کہتے بلکہ اس انکار کو کہتے ہیں جس کے ساتھ غیرت، نفرت، اور بیزاری کی شدت پائی جاتی ہو۔ بعض اہل لغت نے اس کا ترجمہ عقوبت یا عذاب بھی کیا ہے۔ لیکن وہ بھی عام عذاب کو اس کا مصداق نہیں سمجھتے بلکہ اس سے ایسا عذاب مراد لیتے ہیں جو معذب شخص یا معذب قوم کا حلیہ بگاڑدے۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کرڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اب اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے ناکارہ کنویں اور کتنے پختہ محل ہیں جو ویران پڑے ہیں۔

فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا وَھِیَ ظَالِمَۃٌ فَھِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِھَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّقَصْرٍ مَّشِیْدٍ ۔ (الحج : 45) (اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کرڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اب اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے ناکارہ کنویں اور کتنے پختہ محل ہیں جو ویران پڑے ہیں۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ : یہ مبتدا اور مرفوع ہے۔ اور یا فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور ” اھلکنا “ اس فعل کا مفسر ہے۔ فَھِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِھَا ” ان کی دیواریں ان کی چھتوں پر گری پڑی ہیں “۔ یہ صورتحال کی تصویر ہے۔ بڑی عمارتوں کے گرنے کا آغاز عموماً ان کی چھتوں سے ہوتا ہے۔ متروک ومہجور ہوجانے کے بعد پہلے ان کی چھتیں بوسیدہ ہوکرگرتی ہیں پھر دیواریں ان کے اوپر گرجاتی ہیں۔ اسی طرح اللہ کا عذاب زلزلے کی صورت میں آتا ہے تو پہلے چھتیں گرا کرتی ہیں پھر دیواریں ان پر ڈھے جاتی ہیں۔ وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ : بےکار کنواں۔ جس سے لوگوں نے پانی نکالنا بند کردیاہو۔ عرب میں چونکہ پانی کی کمیابی تھی اس لیے کسی چشمے یا کنویں پر بستی بن جایا کرتی تھی۔ اس لیے عموماً لوگ کنویں اور بستی کو ہم معنی سمجھتے تھے۔ جب کسی قبیلے کا نام لینا ہوتا تو فلاں قبیلے کا کنواں کہہ کر نام لیا کرتے تھے اور جب یہ کہا جاتا کہ فلاں کے کنویں اجڑگئے ہیں تو اس کا مطلب یہ تھا کہ بستی اجڑ گئی ہے۔ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ : مضبوط اور شاندار محل۔ جو عمارت چونے سے چنی گئی اور چونے سے پلستر کی گئی ہو اسے ” مشید “ کہتے تھے۔ جس طرح آیت میں بئرٍ کے بعدمعطلہ کی صفت آئی ہے اسی طرح یہاں بھی کسی نہ کسی صفت کو محذوف ماننا پڑے گا۔ متذکرہ حقیقت کی تائید سابقہ آیات کریمہ میں جو حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جن قوموں اور جن بستیوں کے رہنے والوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی تو انھیں ایک وقت کے لیے مہلت تو دی گئی لیکن جب انھوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو بالآخر وہ عذاب کا شکار ہوگئے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی کی تائید کی گئی ہے اور کسی بستی کا نام لیے بغیر علی الاطلاق اہل عرب سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم جانتے ہو کہ کتنی بستیاں ہیں جن کو تکذیبِ رسل کے باعث ہم ہلاک کرچکے ہیں، تم ان کے کھنڈرات سے گزرتے ہو۔ تمہارے قافلے وہاں سے گزرتے ہیں۔ ان بستیوں کی تاریخ سے تم کسی نہ کسی حد تک واقف ہو۔ ان کے بستیوں کے آثار کے طور پر بعض جگہ محلات کھڑے ہیں جو سونے پڑے ہیں۔ وہاں کسی مکین کا نشاں نہیں ملتا۔ کتنے کنویں ہیں جن پر کبھی لوگ آتے جاتے ہوں گے اب وہ معطل اور بےکار پڑے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک چیز تمہارے لیے نصیحت اور عبرت کا سامان ہے۔ تم چاہو تو اس سے نصیحت حاصل کرسکتے ہو۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ( ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل ایسے ہوجاتے جن سے وہ (حق کو) سمجھتے۔ یا ان کے کان ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سنتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْافِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْاٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَاج فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ۔ (الحج : 66) (کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ( ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل ایسے ہوجاتے جن سے وہ (حق کو) سمجھتے۔ یا ان کے کان ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سنتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔ ) عبرت پذیری سے گریز کا انجام اللہ تعالیٰ نے جن بستیوں اور جن قوموں کو تکذیبِ رسل کے نتیجے میں ہلاک کیا وہ تو یقینا اپنے برے انجام کو پہنچ گئیں اور موت کی خاموشی نے انھیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ لیکن وہ اپنی تباہی اور بربادی کے آثار اپنے پیچھے چھوڑ گئیں۔ ان کے محلات کے کھنڈرات، ان کی اجڑی ہوئی بستیاں، ان کے بےکار اور بےآباد کنویں، اپنی داستان سنانے کے لیے آج بھی باقی ہیں۔ اور انھیں اس لیے باقی رکھا گیا ہے کہ یہاں سے گزرنے والے تجارتی قافلے وہ ان بستیوں کی تباہی اور بربادی کو دیکھ کر کبھی سوچنے کی زحمت گوارا کریں اور وہ اسباق ودروس جو ان میں سے ایک ایک پتھر پر کندہ ہیں اور وہ ہزاروں عبرتیں جو ایک ایک کھنڈر کے نیچے دفن ہیں۔ اور وہ بیشمار نصیحتیں جو آج بھی ان کی فضائوں میں بولتی اور تیرتی ہوئی سنائی اور دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں سے گزرنے والے شائد کبھی ان کی طرف دھیان دے سکیں اور یہ سوچنے کی زحمت کرسکیں کہ آخر ان قوموں پر یہ تباہی کیوں آئی ؟ یہ لوگ اپنے دنیوی معاملات، اپنے مادی وسائل، اور اپنے نفع وضرر کے پیمانوں میں ہر طرح خود کفیل اور اتارو تھے۔ اپنی ضرورتوں کو سمجھتے اور انفرادی اور اجتماعی سطح پر انھیں بروئے کار لانے میں نہایت فعال ثابت ہوئے تھے۔ اس کے باوجود ان پر اتنی بڑی افتاد پڑی تو اس کا سبب آخر اس کے سوا اور کیا تھا کہ انھوں نے جسمانی اور مادی ضرورتوں کی بجا آوری کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی تھیں۔ لیکن اخلاقی توانائی، ذہنی شائستگی، قلبی اطمینان، اور روحانی بالیدگی کے لیے ان کے پاس کوئی وقت نہ تھا۔ اخلاقیات کی تباہی کے باعث انسانی قدریں رفتہ رفتہ اپنے انجام کو پہنچ رہی تھیں۔ لیکن انھیں کسی بات کا ملال نہ تھا کیونکہ مسلسل مادے کی مصروفیت، شکم پروری، اور اتباعِ ہوا نے ان کے پیٹ کی بھوک، سفلی جذبات، خودغرضی اور ہوس زر میں تو خوباضافہ کیا تھا لیکن انسان کی مقصدی اور معنوی ضرورتوں کو اس قدر پس پشت ڈال دیا تھا کہ وہ کالعدم ہو کر رہ گئیں۔ بصیرت کا نور بجھ گیا۔ دلوں کے گھروندے تاریک ہوگئے۔ قوموں کا اصل حادثہ یہ ہے کہ جب وہ ایسے علم و دانش کو جو صرف معدے کی خدمت انجام دیتا ہے، اپنی زندگی کی روشنی بنالیتی ہیں تو پھر ضمیر اور دلوں کی موت واقع ہوجاتی ہے حالانکہ تباہ شدہ بستیوں میں مخفی عبرتوں کو اس لیے نمایاں کیا جاتا ہے تاکہ دلوں میں روشنی پیدا ہو۔ بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت بھی اپنا کام کرنے لگے۔ لیکن جب ان عبرتوں کی طرف توجہ نہیں کی جاتی بلکہ تباہ شدہ بستیوں میں بھی کلچر تلاش کیا جاتا ہے اور ہزاروں سال پرانی تہذیب کے آثار ڈھونڈنے پر ساری توجہ صرف کی جاتی ہے تو پھر اللہ کے رسولوں کی تعلیم اور اللہ کی نازل کردہ کتابوں کا اعجاز بھی بےاثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں سوال آئے کہ قرآن کریم فہم و بصیرت کو دلوں کی طرف منسوب کر رہا ہے حالانکہ یہ دماغوں کا عمل ہے۔ اس سلسلے میں پہلی گزارش تو یہ ہے کہ قرآن کریم کو یہ اسلوب سائنسی اسلوب نہیں بلکہ ادبی اسلوب ہے۔ قرآن کریم نصیحت کی کتاب ہے سائنس کی نہیں اور جہاں تک ادب اور نصیحت کا تعلق ہے ہر دور میں اس میں معتبر حوالہ دلوں ہی کا رہا ہے دماغوں کا نہیں۔ اقبال اپنی قوم کا مصلح ہے۔ اس نے انسانی اصلاح کے لیے ہمیشہ دلوں کی بیداری پر زور دیا ہے اور دلوں میں نور پیدا کرنے کی بات کی ہے حالانکہ وہ خود جانتا تھا کہ سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے۔ وہ کہتا ہے ؎ دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک نہ تیری ضرب ہے کاری نہ میری ضرب ہے کاری دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ مزید کہتا ہے ؎ دل کا نور کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اب تو اربا بِ سائنس بھی تسلیم کرنے لگے ہیں کہ دل صرف خون کو پمپ کرنے کی مشین نہیں بلکہ اس کے اندر احساسات کی دنیا بھی آباد ہے۔ یہ خوشی اور غم کو محسوس کرتا ہے، حسن وقبح کا اصل معیار قدرت نے اسی کے اندر رکھا ہے اور یہیں سے دماغ کو روشنی اور آنکھ کو بصیرت ملتی ہے۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور بیشک ایک دن آپ کے رب کے نزدیک ایک ہزار سال کی طرح کا ہوتا ہے جس حساب سے تم گنتی کرتے ہو۔

وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ط وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ (الحج : 47) (اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور بیشک ایک دن آپ کے رب کے نزدیک ایک ہزار سال کی طرح کا ہوتا ہے جس حساب سے تم گنتی کرتے ہو۔ ) ایک مغالطے کا ازالہ مخالفت کرنے والے آنحضرت ﷺ سے بار بار مطالبہ کرتے کہ آپ ہمیں جس عذاب سے ڈراتے ہیں اسے لے کیوں نہیں آتے ؟ اگر ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ ہم پر عذاب کا کوڑا برسنا چاہیے تو پھر دیر کس بات کی ہے ؟ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کی باتیں ایک ڈراوے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ ہم عذاب سے ڈر کر آپ کی بات مان لیں اور آپ پر ایمان لے آئیں۔ ان باتوں کے جواب میں پروردگار ارشاد فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ آپ سے عذاب مانگنے میں جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ جب کوئی قوم تکذیبِ رسول میں حد سے آگے بڑھ جاتی ہے تو اسے انجام سے ضرور دوچار ہونا پڑتا ہے۔ معذب قوموں کے کھنڈرات جگہ جگہ اس کی شہادت دے رہے ہیں۔ لیکن تم جس غلط فہمی کا شکار ہو وہ یہ ہے کہ تم نے اعمال کی کھیتی کو بھی عام کھیتیوں پر قیاس کررکھا ہے کہ ادھر بوئی اور ادھر کاٹ لی جبکہ قومیں اپنے عروج وزوال کا سفر دنوں اور مہینوں میں طے نہیں کرتیں بلکہ اس کے لیے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ انسان اپنے محدود پیمانوں سے جب ناپتا ہے تو اسے چند سالوں کی مدت یا مہلت بہت طویل معلوم ہوتی ہے لیکن اسے یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کا ایک دن اس دنیا کے دنوں کے حساب سے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ اس کے سیکنڈ اور منٹ انسانوں کی دنیا کے برسوں سے بھی طویل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اس کی اپنی تقویم کے مطابق ہوتے ہیں۔ انسانی تقویم میں صدیاں گزر جاتی ہیں۔ لیکن اللہ کے یہاں منٹوں اور گھنٹوں کی بات ہوتی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کسی قوم کو سنبھلنے کے لیے کس قدر مہلت ملنی چاہیے۔ اس اسلوب کو سامنے رکھتے ہوئے انسانوں کو ہمیشہ اللہ کے فیصلوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قریش بھی اگر اس اسلوب کے مطابق نزول عذاب کی تاخیر کا جائزہ لیں تو انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوسکتا ہے۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں تھیں جن کو ان کے ظلم کے باوجود میں نے ڈھیل دی۔ پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔ اور میری ہی طرف سب کو لوٹنا ہے۔

وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَمْلَیْتُ لَھَا وَھِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذْتُھَا ج وَاِلَیَّ الْمَصِیْرُ ۔ (الحج : 48) ( اور کتنی بستیاں تھیں جن کو ان کے ظلم کے باوجود میں نے ڈھیل دی۔ پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔ اور میری ہی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ ) قریش کو وارننگ اس آیت کریمہ میں خبر تو بعض بستیوں کے بارے میں دی جارہی ہے لیکن روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ انھیں سنا کر یہ بات کہی جارہی ہے کہ تم پہلی قوم نہیں ہو اور نہ پہلی بستی ہو جس کی طرف اللہ کا رسول آیا ہے اور وہ ان کے انکار اور تمرد کے باعث انھیں عذاب سے ڈرا رہا ہے اور وہ محض اسے ڈراوا سمجھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کتنی بستیاں اس صورتحال سے دوچارہ ہوچکی ہیں۔ انھوں نے اللہ کے دین کی تکذیب اور اس کے رسول کی دعوت سے انتہا درجہ انکار کے باوجود ایک عرصہ دراز تک انھیں مہلت دی گئی۔ وہ بجائے اس کے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ان کے انکار اور تمرد اور ایذا رسانی میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں اس پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ لیکن پھر جب یہ مہلت عمل ختم ہوگئی تو اللہ نے انھیں پکڑلیا اور پھر ان پر وہ عذاب آیا جس نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ مکہ کے رہنے والو ! اگر تم نے اپنے طرز عمل کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو اندیشہ ہے کہ تمہارا انجام بھی وہی ہو جس سے معذب قومیں دوچار ہوچکی ہیں اور اگر اللہ کی کسی مصلحت کے تحت دنیا میں تم پر عذاب نہ آئے تو یہ مت سمجھ لینا کہ تم بچ نکلے ہو تمہیں قیامت کے دن بہرحال میرے پاس آنا ہے کیونکہ میری ہی طرف ہر پیدا ہونے والے کو لوٹنا اور اپنے انجام سے دوچار ہونا ہے۔
Ayah 22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(کہہ دیجیے ( اے پیغمبر) ! اے لوگو ! میں تو تمہارے لیے بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔

قُلْ یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَالَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (الحج : 49) (کہہ دیجیے ( اے پیغمبر) ! اے لوگو ! میں تو تمہارے لیے بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔ ) آنحضرت ﷺ کی حیثیت مشرکینِ مکہ کے سابقہ انکار اور تغافل کے باعث قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کی اصل حیثیت کو واضح فرمایا ہے۔ قریش مکہ اور دیگر مشرکین چونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے انھیں آنحضرت ﷺ کی حیثیت کو سمجھنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ آپ چونکہ اللہ کے دیئے ہوئے نور نبوت سے دیکھ رہے تھے کہ قریش کا کفر اور شرک پر اصرار انھیں بہت برے انجام کی طرف لے جارہا ہے۔ جس کا نتیجہ اللہ کے عذاب کا نزول بھی ہوسکتا ہے ورنہ قیامت کے بعد جہنم کی ہولناک سزا تو یقینی ہے۔ آپ نہایت ہمدردی اور غمگساری کے باعث انھیں باربار تنبیہ کرتے اور جب وہ تنبیہ سے بھی اثر قبول نہ کرتے تو پھر انھیں اللہ کی طرف سے آنے والے عذاب سے ڈراتے۔ لیکن قریش اور دیگر مخالفین اپنے عناد اور مخالفت میں اس حدتک اندھے ہوچکے تھے کہ بجائے آپ کی دعوت پر غور کرنے کے مخالفت اور ایذا رسانی میں تیزی پیدا کردیتے اور عذاب سے ڈرنے کی بجائے باربار اس کا مطالبہ کرتے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے اپنی حیثیت واضح کردیں اور اس وضاحت کے لیے آپ کو جو تعبیر اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ اہل عرب کے اسلوب کے عین مطابق ہے۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب کسی بستی کے رہنے والے یہ محسوس کرتے کہ دشمن کی طرف سے انھیں شب خون کا اندیشہ ہے یا سفر میں ان کا قافلہ جہاں کہیں پڑائو ڈالتا، تو کسی قریبی قبیلے کی طرف سے حملے کے اندیشہ سے وہ یہ انتظام کرتے کہ کسی بھی بلند ٹیلے پر ایک یا چند آدمیوں کو نگران مقرر کرتے تاکہ اگر کسی طرف سے وہ کسی خطرے کو محسوس کریں تو فوراً اپنی قوم کو اطلاع دیں۔ چناچہ ایسے مقرر کردہ نگران کا طریقہ یہ ہوتا کہ جیسے ہی وہ کسی خطرے کو دیکھتا یا کسی حملے کی بو سونگھتا تو اپنے کپڑے پھاڑ کر بالکل برہنہ ہوجاتا اور لوگوں کو حملے کے دفاع کے لیے پکارنا شروع کردیتا چونکہ ایسا شخص بالکل برہنہ ہو کر ایسا کرتا تھا اس لیے اسے ” نذیرٌ عریان “ کہا جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو بھی اسی تعبیر کے ذریعے اپنی حیثیت واضح کرنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن عریان کا لفظ چونکہ غیر مہذب اور ناشائستہ لفظ تھا جسے قرآن کریم کی متانت اور آنحضرت ﷺ کی شائستگی کسی طور برداشت نہیں کرسکتی تھی، اس لیے عریان کو مبین سے بدل دیا گیا۔ لیکن حیثیت کو واضح کرنے کے لیے اس سے بہتر تعبیر شاید اور کوئی ممکن نہ تھی۔ جس طرح قوم کا حقیقی خیر خواہ جس کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ ایک بلند جگہ کھڑے ہو کر دشمن سے اپنی قوم کی حفاظت کرے اور اگر کوئی خطرہ محسوس کرے تو جان پر کھیل کر اپنی قوم کو اس کی اطلاع دے۔ اسی طرح ایک نبی اور رسول بھی اللہ کی طرف سے ایسے ہی احساس اور ایسی ہی ذمہ داری کے ساتھ مبعوث کیا جاتا ہے۔ چونکہ اس پر وحی اترتی ہے اور اسے نور نبوت و رسالت سے سرافراز کیا جاتا ہے اس لیے جو کچھ وہ دیکھتا اور جانتا ہے وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ پھر اس کے دل میں خلق خدا کو عذاب الہٰی سے بچانے کے لیے جس درجہ کی ہمدردی اور غمگساری ہوتی ہے اس کا گزر بھی کسی اور کے دل میں ممکن نہیں۔ آغازِ نبوت میں بھی آنحضرت ﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر نبوت کا اعلان کرنے سے پہلے اپنی اسی حیثیت کو واضح فرمایا تھا۔ آپ نے سب سے پہلے اپنی قوم سے استفسار کیا کہ میں تمہاری نگاہ میں سچا ہوں یا جھوٹا ؟ کیونکہ جھوٹا شخص اللہ کا نبی نہیں ہوسکتا۔ جب ساری قوم نے آپ کے سچا ہونے کی شہادت دی تب آپ نے فرمایا کہ دیکھو ! میں ایک بلند جگہ پر کھڑا ہوں تمہیں بھی دیکھ رہا ہوں اور پہاڑی کے پیچھے کے حالات بھی میرے سامنے ہیں۔ اس کے پیچھے اگر کوئی خطرہ مخفی ہے تو میں اسے دیکھ سکتا ہوں تم نہیں دیکھ سکتے۔ تو کیا تم میری بات پر اعتماد کروگے ؟ میں تم سے اگر یہ کہوں ؎ کہ فوجِ گراں پشت کوہ صفا پر پڑی ہے کہ لوٹے تمہیں گھات پا کر کہا تیری ہر بات کا یاں یقیں ہے کہ بچپن سے صادق ہے تو اور امیں ہے اس طرح آپ نے ایک مثال سے اپنی حیثیت کو واضح کیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی اپنی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ میں تمہارے خطرناک انجام کو دیکھ رہا ہوں۔ لیکن تم بےخوف ہو کر اس کی طرف بڑھ رہے ہو۔ میں تمہیں اس کی ہولناکی سے بچانا چاہتا ہوں۔ لیکن تم میری ہمدردی اور غمگساری کا مذاق اڑاتے ہو۔ شب وروز میری بےساختہ دعوت اصلاحِ احوال کے لیے، ہمت سے بڑھ کر مساعی، گالیوں کے جواب میں ہمدردی سے بھرپور نصیحتیں، وحشیانہ اذیتوں کے جواب میں صبرا ورعفو و درگزر ان میں سے ایک ایک بات میری حیثیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ جس سے یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ میں تمہارے لیے عذاب لے کر نہیں آیا بلکہ عذاب سے بچانے کے لیے نذیرٌ مبین بن کر آیا ہوں۔ میں دنیوی اور اخروی نقصانات سے تمہیں بچانے کے لیے انذار کررہا ہوں۔
Ayah 22:50

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور عزت والی روزی بھی۔

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ (الحج : 50) (سو جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور عزت والی روزی بھی۔ ) ایک کوتاہ فہمی کا ازالہ آنحضرت ﷺ کی حیثیت نذیرٌ مبین کے طور پر بیان کرنے کے بعد ان لوگوں پر انعام کا ذکر کیا جارہا ہے جو ایمان اور عمل صالح کی دولت سے مشرف ہیں حالانکہ نذیرٌ مبین کی حیثیت سے انعام کی بجائے انذار کے کسی پہلو کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا یہ ہماری کوتاہ فہمی ہے ورنہ یہ انعام بھی انذار ہی کا ایک حصہ ہے کیونکہ انذار کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جس بات سے کسی کو روکنا مقصود ہو اس کا مخالف پہلو جو اپنے اندر اپیل اور کشش رکھتاہو اسے ذکر کیا جائے تاکہ اسے محسوس ہو کہ اگر میں نے اپنا طرز عمل نہ بدلا تو میں زندگی کے اس حسن سے محروم رہوں گا، جو میرے طرز عمل کے مخالف پہلو میں موجود ہے۔ اس طرح سے اس کے قلب ونظر کو ایک ٹھوکر سی لگتی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ میں اپنے مستقبل کی جن بہاروں کو اپنے اندر معمولی سی تبدیلی پیدا کرکے حاصل کرسکتا ہوں۔ میں نے اسے یکسر کیوں چھوڑ رکھا ہے ؟ مغفرت اور رزق کریم کا مفہوم دوسری بات یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں جن لوگوں کے لیے مغفرت اور رزق کریم کی نوید سنائی جارہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی اکثریت طبقہ غربا سے تعلق رکھنے کے باعث ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جنھیں اشرافِ قریش کبھی اپنی مجلسوں میں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ وہ ان کے ساتھ بیٹھنا اور ان کی بات سننا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ چناچہ جب وہ اس حال میں ان کے سامنے سے گزرتے کہ کسی کا جو تاٹوٹا ہوا ہوتا اور کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے تو وہ ان پر پھبتیاں کستے اور مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ ماشاء اللہ یہ وہ لوگ ہیں جو قیصر وکسریٰ پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایسے ہی لوگوں کے لیے اس انعام کا ذکر کیا جارہا ہے۔ جس کی قدروقیمت اور وسعت احاطہ تصور میں سما نہیں سکتی۔ چناچہ جب اس طرح کی آیات اشرافِ قریش کے سامنے پڑھی جاتی تھیں انھیں ایک آگ لگ جاتی تھی اور ان کے نخوت اور تکبر کے احساس پر ایک چوٹ لگتی تھی اور اس طرح سے ان کے اندر کی دنیا میں ایک حشر برپا ہوجاتا تھا کہ اگر واقعی ایسا ہوگیا جیسا قرآن کریم کہہ رہا ہے تو پھر ان کے سامنے ہماری کیا حیثیت ہوگی۔ چناچہ اس تصور سے احساس کا ایک شعلہ ساپھوٹتا جو ان کے لیے انذار کا حکم رکھتا تھا۔ شائد اسی لیے انذار کے حوالے سے سب سے پہلے صاحب ایمان لوگوں پر جو انعامات ہونے والے ہیں ان کا ذکر کرنا ضروری سمجھا گیا۔ قرآن کریم نے جہاں کہیں بھی ایمان کا ذکر کیا ہے۔ جو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان ہے تو ساتھ ہی عمل صالح کا ذکر ضرور فرمایا۔ اس سے یہ تأثر دینا مقصود ہے کہ ایمان ایک بیج ہے جس سے اعمالِ صالحہ کی فصل وجود میں آتی ہے یا ایک درخت ہے جس سے اعمالِ صالحہ کے شگوفے پھوٹتے اور اسلامی زندگی کے رسیلے پھل لگتے ہیں۔ لیکن جس ایمان سے کوئی عمل ظہور پذیر نہیں ہوتا اور اس سے اسلامی زندگی کا کوئی شگوفہ نہیں پھوٹتا اور حقوق و فرائض کے احساس کی ٹھنڈی چھائوں وجود میں نہیں آتی اس ایمان کی حقیقت اور اصلیت میں یقینا کوئی خرابی ہے۔ اندیشہ ہے کہ ایسا ایمان اللہ کے یہاں مغفرت کا باعث نہیں بن سکے گا۔ جبکہ مغفرت وہ چابی ہے جس سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں اور فوزوفلاح کا وہ وثیقہ ہے جو جنت میں داخلے کا باعث بن سکتا ہے۔ جن خوش نصیب لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں گے انھیں رزق کریم سے نوازا جائے گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رزق کریم جنت اور جنت کی نعمتوں کی ایک جامع تعبیر ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اہل جنت کو ایسی نعمتوں سے نوازا جائے گا جنھیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا۔ ایسی صدائیں آویزہ گوش بنیں گی جنھیں کسی کان نے نہیں سنا۔ انبساط اور اہتزار کی وہ دولت نصیب ہوگی جس کا کسی دل میں کبھی گزر نہیں ہوا۔ ایسی تمام نعمتیں جنھیں بیان کرنے کے لیے الفاظ کا دامن تنگ ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے رزق کریم کی ایک جامع تعبیر اختیار کی ہے۔
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو لوگ کوشش کرتے رہے ہماری آیتوں (کی تردید) میں اس خیال سے کہ وہ ہمیں ہرا دیں گے وہی دوزخ والے ہیں۔

وَالَّذِیْنَ سَعَوْافِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ۔ (الحج : 51) (اور جو لوگ کوشش کرتے رہے ہماری آیتوں (کی تردید) میں اس خیال سے کہ وہ ہمیں ہرا دیں گے وہی دوزخ والے ہیں۔ ) معاندین کو مکمل انذار قریش اور اہل مکہ کو مکمل طور پر انذار کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ بھی شب وروز اس کام میں مصروف ہیں کہ وہ اللہ کے دین کی دعوت کو آگے بڑھنے سے روک دیں اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں انھیں اس حد تک ہراساں کردیں کہ وہ اسلام چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں اور آنحضرت ﷺ جب لوگوں کے سامنے اللہ کا دین پیش کرنے کے لیے نکلیں تو قدم قدم پر ان کا تعاقب کریں اور ہر شخص کے ذہن میں ان کے بارے میں بدگمانی پیدا کریں اور جب وہ لوگون کو قرآن کریم پڑھ کر سنائیں تو شور مچادیں تاکہ لوگ قرآن کریم کی آواز سننے نہ پائیں اور ان کے پیش نظر مقصد صرف یہ ہو کہ وہ اللہ کے دین کی تبلیغ و دعوت کو ناکام کردیں اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ اب اس دعوت کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں کیونکہ یہ ہر طرف سے مخالفت کے طوفان میں اس طرح گھر گئی ہے جس سے اس کے بچ نکلنے کے امکانات بہت ہی محدود ہوگئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انذار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو جہنم میں پھینکے جائیں گے۔ یہاں ان کی سرمستیاں ان کی سوچ کی راہ میں حائل ہوگئی ہیں اور وہ اپنے انجام سے متعلق بالکل بیخبر ہو کر رہ گئے ہیں۔ اے کاش ! انھیں معلوم ہوتا کہ جہنم کی آگ ان کے انتظار میں ہے۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر جب بھی اس نے کوئی ارمان کیا (یا اللہ کا حکم پڑھ کرسنایا) تو شیطان نے اس کی راہ میں اڑنگے (شکوک) ڈالے۔ پس اللہ مٹا دیتا ہے جو شیطان دخل اندازی کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور بہت دانا ہے۔

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّآاِذَا تَمَنّٰیٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ ج فَیَنْسَخُ اللّٰہُ مَایُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الحج : 52) (ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر جب بھی اس نے کوئی ارمان کیا (یا اللہ کا حکم پڑھ کرسنایا) تو شیطان نے اس کی راہ میں اڑنگے (شکوک) ڈالے۔ پس اللہ مٹا دیتا ہے جو شیطان دخل اندازی کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور بہت دانا ہے۔ ) سعی فی المعاجزۃ کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی گذشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے سعی فی المعاجزۃ کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی قریش اور دیگر اہل مکہ کی جانب سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو روکنے کے لیے جو ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے اور غلط فہمیوں کی جو فصل تیار کی جارہی ہے اور ایمان لانے والوں کو ایمان سے روکنے کے لیے جو مہلک زخم لگائے جارہے ہیں۔ جن کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو اس حد تک عاجز کردیں کہ وہ اسلام کی دعوت و تبلیغ سے گریز کرنا شروع کردیں یا کم ازکم ان میں جو بےپناہ ایمان کا جذبہ دکھائی دیتا ہے، اور جس طرح سے وہ ہر بڑی سے بڑی تکلیف کے سامنے استقامت دکھاتے ہیں اس میں دراڑیں پڑجائیں۔ اس پوری صورتحال کو سعی فی المعاجزہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ معاندین کی ایسی وحشیانہ اور حددرجہ مخالفانہ کارروائیوں سے جو کچھ مسلمانوں پر گزر رہی تھی اور جس طرح تبلیغی کوششیں آگے بڑھنے کے لیے ہر راستے کو مسدود پارہی تھیں آنحضرت ﷺ یقینا اس پر پریشان تھے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ان میں سے کوئی بات بھی نئی نہیں۔ جب بھی ہم نے انسانوں کی اصلاح کے لیے اپنا کوئی نبی یا رسول بھیجا ہے تو شیطانی قوتوں نے کبھی بھی اس کی دعوت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا۔ نہ صرف قدم قدم پر روڑے اٹکائے ہیں بلکہ ہر سیدھی سادی بات اور وحی الہٰی کی دل میں اتر جانے والی ہر ہدایت کو غلط فہمیوں کی نذر کیا ہے۔ ایسے ایسے الزامات لگائے اور اتہامات باندھے ہیں کہ حق و باطل کی اس کشمکش میں ہر طرف اٹھتی ہوئی بدگمانیوں کی دھول نے دماغوں کو مسموم کرکے رکھ دیا ہے۔ تمنٰی اور امنیۃ کا مفہوم آیتِ کریمہ میں ” تَمَنّٰیٓ“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ صاحب اقرب الموارد کے نزدیک اس کے معنی ہیں کسی چیز کی خواہش، ارمان، تمنایا حوصلہ کرنا۔ یا کسی مقصد کے لیے اپیل یا استمالت کرنا۔ اس معنی کے لحاظ سے آیت میں آنے والا لفظ ” امنیۃٌ“ کا مفہوم ہوگا، خواہش، ارمان، تمنا، حوصلہ اور اپیل۔ صاحبِ لسان کے نزدیک ” تَمَنّٰیٓ“ کا معنی قرأت کرنا اور پڑھ کر سنانا ہے۔ اور ” امنیۃ “ متلو کے معنی میں ہوگا۔ میری ناقص رائے میں ان دونوں معنی کے لحاظ سے مطلوب، مفہوم، اور مراد میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مفہوم یہ ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر نے ان لوگوں کی اصلاح کے لیے جن کی طرف انھیں مبعوث کیا گیا ہے کوئی خواہش کی ہے۔ کوئی تمنا باندھی ہے، کوئی منصوبہ بنایا ہے اور کسی چیز کو ہدف بناکر شب وروز اس کے لیے سعی کی ہے اور اس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ پیغمبر کی سعی اور کاوش، تمنا اور ارمان اللہ کے دین کے غلبے اور لوگوں کو اللہ کے آستانے پر جھکانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ لوگوں کو ایمان کی دولت سے بہرہ ور کرنے اور حسن عمل کا شوق پیدا کرنے اور اللہ کی رضا کی طلب کو مقصود بنانے کے لیے منصوبے باندھتے اور اسے بروئے کار لانے کے لیے شب وروز محنت و کاوش کرتے ہیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مفہوم اور مراد یہ ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر نے اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت اور اس کی شریعت کے احکام اور اس کے دین کی اساسی باتوں سے متعلق نازل ہونے والی وحی لوگوں کو پڑھ کر سنائی ہے تو مخالفین نے اس خیال سے غلط فہمیوں کا غبار اڑایا کہ وحی الہٰی کو اگر توجہ سے سن لیا گیا اور سنجیدگی سے اس کی طرف دھیان دیا گیا تو یہ ممکن نہیں کہ لوگ اس کے اثرات کو قبول نہ کریں۔ چناچہ دونوں صورتوں میں شیطان نے ہر نبی اور رسول کی تبلیغی مساعی کو ناکام کرنے کے لیے راستے میں مشکلات پیدا کیں اور نازل ہونے والی وحی کے بارے میں غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا ایک طوفان اٹھادیا۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ کفر کی ہر دور میں یہی ریت رہی ہے اور اہل حق کو ہمیشہ ان مشکلات سے واسطہ پڑتارہا ہے۔ اس لیے آپ ان باتوں سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ آنحضرت ﷺ کو تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں دونوں طرح کے موانع سے واسطہ پڑا آپ کے بارے میں غلط فہمیوں کا طوفان بھی اٹھایا گیا۔ کبھی آپ کی بشریت کو زیر بحث لایا گیا، کبھی آپ کی غربت کو مذاق کا نشانہ بنایا گیا، کبھی آپ پر ایمان لانے والوں کی زبوں حالی کا تمسخر اڑایا گیا۔ کبھی آپ کے لیے گھر سے باہر کی دنیا اس حدتک مخدوش کردی گئی کہ آپ کو تین سال تک شعب ابی طالب میں پناہ گزیں ہونا پڑا۔ آپ تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں نئے میدان کی تلاش میں طائف تشریف لے گئے تو اہل مکہ کے اٹھائے ہوئے سوالوں نے وہاں بھی آپ کا تعاقب کیا اور شاید اہل مکہ کے ایماء پر ان لوگوں نے شرافت کی تمام قدروں اور قرابت کی تمام نزاکتوں کو بالائے طاق رکھ دیا۔ آپ وہاں سے واپس تشریف لائے تو ایک کافر لیکن وضع دار سردار کی پناہ کے بغیر مکہ میں داخل نہ ہوسکے۔ جہاں تک آپ پر نازل ہونے والی کتاب اور اس کے ارشادات کا تعلق ہے جب بھی آپ نے لوگوں کے سامنے انھیں پڑھ کر سنایا تو اشرارِ قریش نے اس میں قسم قسم کے سوالات اٹھائے۔ غلط فہمیاں پیدا کیں اور سیدھے سادے احکام کو الجھانے کی کوشش کی۔ قرآن کریم نے کفار کی اس روش کا ذکر کرتے ہوئے ان کے اٹھائے ہوئے سوالوں میں سے ایک مثال بھی ذکر فرمائی۔ سورة الفرقان میں ارشاد فرمایا : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُ وًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ ط وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا۔ وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً ج کَذٰلِکَ ج لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا۔ وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰکَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا۔ (31۔ 33) (اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے دشمن بنائے اور اطمینان رکھو، تمہارا رب رہنمائی اور مدد کے لیے کافی ہے۔ اور یہ کافر اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اس شخص پر یہ قرآن آخر بیک دفعہ کیوں نہیں نازل کردیا گیا ! ہم نے ایسا اس لیے کیا کہ اس بار گراں کے لیے تمہارے دل کو اس کے ذریعہ سے اچھی طرح مضبوط کردیں اور ہم نے اس کو اہتمام کے ساتھ بالتدریج اتارا اور یہ جو شگوفہ بھی چھوڑیں گے تو ہم اس کے جواب میں حق کو واضح اور اس کی بہترین توجیہ کردیں گے۔ ) اسی طرح سورة الانعام میں ارشاد فرمایا گیا ہے : وَکَذٰالِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوُّا شَیَاطِیْنَ الْاِنْسَ وَالجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلَی بَعْض زُخْرُفَ الْقَوْلِ غَرُوْرَا ط (اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے سرکش انسانوں اور جنوں کو دشمن بنادیا اور وہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے ایسی باتیں سکھاتے ہیں جو بظاہر بڑی دلکش ہوتی ہیں ) اور ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : وَاِنَّ الشَّیَاطِیْنَ لِیُوحُونَ اِلٰی اَوْلِیَائِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ (شیطان اپنے چیلوں کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ وہ تمہارے ساتھ بحث مباحثہ شروع کردیں۔ ) ان آیات کریمہ میں غور فرمائیے ! ایک تو حق کے مخالفین کے رویے کو ذکر کیا گیا ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں آئی اور یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ جن وانس کے شیاطین ہمیشہ اہل کفر کی مدد کرتے رہے ہیں۔ جس طرح ان کا آپس میں رابطہ رہا ہے اور باہمی مشاورت سے وہ جس طرح حق کی مخالفت کرتے رہے ہیں اسی طرح وہ حق اور اہل حق کے بارے میں ہر طرح کی غلط فہمی اور الجھائو میں ڈالنے والے سوالات کا طومار بھی باندھتے رہے ہیں۔ پھر اس کی ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ پر قرآن پاک کا نزول ہورہا تھا کبھی ایک سورة ، کبھی ایک رکوع اور کبھی چند آیتیں اور آپ ہر نازل ہونے والی وحی کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سناتے تھے تو شیاطین نے کفار کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم لوگوں کو یہ بات سمجھائو کہ اگر قرآن کریم اللہ کی طرف سے نازل ہورہا ہوتا تو اس کے لیے کیا مشکل تھی کہ وہ ایک ہی دفعہ پورا قرآن کریم نازل کردیتا۔ آخر اس نے تورات اور انجیل بھی تو یکبارگی نازل کی تھیں۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ محمد (e) کسی کی مدد سے جتنی آیات تیار کرلیتے ہیں وہ لوگوں کو پڑھ کر سنادیتے ہیں۔ اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ قرآن کی آیتیں ہیں جو مجھ پر اللہ نے نازل کی ہیں۔ ایک مخالف یا خالی الذہن کے لیے اس طرح کا اعتراض قرآن کریم اور آپ کی نبوت کے حوالے سے بدگمانی پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ احکام کا نزول شروع ہوا تو ہر حکم کے بارے میں کفار نے عجیب و غریب سوالات اٹھائے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ” حُرِّمَ عَلَیْکُمُُ الْمَیْتَۃَ “ ” تم پر مردار حرام کیے گئے “۔ تو مشرکین نے اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا اور لوگوں سے کہنے لگے کہ ذرا غور کیجیے کہ جس جانور کو یہ لوگ خود مارتے یعنی ذبح کرتے ہیں وہ تو ان کے نزدیک حلال ہے اور جسے اللہ نے مارا ہے اسے یہ حرام اور پلید سمجھتے ہیں۔ اسی طرح جب سود کی حرمت نازل ہوئی تو انھیں پھر سوال اٹھانے کا موقع ملا کہ بیع ہو یا سود، دونوں سے مقصود نفع حاصل کرنا ہے۔ عجیب بات ہے کہ نفع حاصل کرنے کے لیے بیع حلال ہے اور سود حرام ہے۔ آخر ان دونوں میں فرق کیا ہے ؟ قرآن کریم نے جب یہ کہا کہ تم بھی اور وہ بھی جن کی تم پوجا کرتے ہو جہنم کا ایندھن بنو گے۔ تو ان کے ذہین لوگوں نے بات اڑائی کہ دنیا میں جن کی پوجا کی گئی ہے ان میں حضرت مسیح اور حضرت عزیر بھی ہیں۔ حضرت مسیح کو عیسائیوں نے اللہ کا بیٹا قرار دیا اور یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا۔ تو کیا یہ دونوں مقدس نفوس لوگوں کے پوجا کرنے کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے ؟ مختصر یہ کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے انھوں نے دونوں طرح کا رویہ اختیار کیا مخالفت اور معاندت سے مشکلات بھی پیدا کیں اور علمی اور سرسری اشتباہات بھی اٹھائے۔ اعتراضات بھی کیے اور غلط فہمیوں کا غبار بھی اڑایا۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمارہا ہے کہ شیاطینِ جن وانس کا تو ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے اس لیے وہ آپ کے ساتھ بھی یہی کچھ کررہے ہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بھی ایک سنت ہے کہ شیطانی قوتیں اللہ کے دین کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے جو کچھ کرتی ہیں اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات اور اپنے احکام کو مستحکم کردیتا ہے۔ اشتباہات کی وضاحت کرتا ہے۔ اعتراضات کا جواب دیتا ہے۔ مشتبہات کو محکمات کی مدد سے آسان کرتا اور واضح کرتا ہے۔ اپنی حکمت کاملہ اور دلائل قاہرہ سے شک وارتیاب کے کانٹوں کو صاف کردیتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ آنحضرت ﷺ کی شخصیت کی دلآویزی اور قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور معجزبیانی اور آنحضرت ﷺ سے ظہور پذیر ہونے والے معجزات اور وحشیانہ ایذائوں کے مقابلے میں بےپناہ استقامت آہستہ آہستہ دیکھنے والوں کے دلوں کے بند دروازوں کو کھول دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت حق و باطل کے تصادم میں حق کی مؤید ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ اہل باطل شکست و نامرادی سے دوچارہوتے ہیں اور یہ جو کچھ ہوتا ہے یہ سب کچھ اللہ کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ اہل حق کا اثاثہ وہ اعتماد ہے جو اللہ کے علم و حکمت پر ہوتا ہے۔
Ayahs 22:53–54

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

یہ اس لیے ہوتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ شیطان کے ذریعے ڈالے ہوئے وسوسوں کو ان لوگوں کے لیے فتنہ بنائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں۔ اور بیشک ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور نکل جاتے ہیں۔

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

نیز اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ وہ لوگ جنھیں علم بخشا گیا ہے اچھی طرح جان لیں کہ یہی آپ کے رب کی جانب سے حق ہے تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے لیے ان کے دل جھک جائیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ضرور صراط مستقیم کی ہدایت فرمائے گا۔

لِّیَجْعَلَ مَایُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ ۔ لا وَّلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَیُؤُ مِنُوْا بِہٖ فَتُخْبِتَ لَہٗ قُلُوْبُھُمْ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَھَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الحج : 53، 54) (یہ اس لیے ہوتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ شیطان کے ذریعے ڈالے ہوئے وسوسوں کو ان لوگوں کے لیے فتنہ بنائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں۔ اور بیشک ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور نکل جاتے ہیں۔ نیز اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ وہ لوگ جنھیں علم بخشا گیا ہے اچھی طرح جان لیں کہ یہی آپ کے رب کی جانب سے حق ہے تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے لیے ان کے دل جھک جائیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ضرور صراط مستقیم کی ہدایت فرمائے گا۔ ) ایک سوال کا جواب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر حق کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو شیطان اپنے لائو لشکر سمیت اس دعوت کو ناکام کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور وہ لوگوں کے دلوں میں مختلف قسم کے اعتراضات پیدا کرکے فتنہ انگیزی کا سامان کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ صورتحال از خود پیدا نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسانوں کی ہدایت کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ چلایا ہے اسی طرح شیطانی قوتوں کو بھی حق کا راستہ روکنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے تاکہ اس کے ذریعے سے وہ انسانوں کو ایک آزمائش میں ڈالے اور پھر یہ دیکھے کہ اس آزمائش میں کون پورا اترتا ہے ؟ ایک طرف اللہ کا رسول اس پر اترنے والی کتاب، اور اس کی تبلیغ و دعوت اپنا کام کرتی ہے اور دوسری طرف جن وانس سے تعلق رکھنے والے شیاطین شیطانی اثرات سے متأ ثر ہو کر اپنا کام کرتے ہیں۔ پیغمبر جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوتا ہے اللہ تعالیٰ انھیں عقل شعور اور امتیاز کی دولت دے کر فیصلہ کرنے کا موقع دیتا ہے کہ دونوں طرف کی کاوشوں کو دیکھو اور پھر حق کو قبول کرنے کا فیصلہ کرو۔ چناچہ اس آزمائش میں وہ لوگ ناکام ہوجاتے ہیں جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہوتا ہے یا مسلسل حق کی مخالفت کی وجہ سے ان کے دل سخت ہوچکے ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ان سخت دلوں کے حوالے سے قریش اور یہود کے کٹر معاندین کی طرف اشارہ ہو جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں ایک اتحاد قائم کرچکے تھے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مخالفت کے باعث ان کی فوراً گرفت نہیں فرماتا اس کا رسول مسلسل تبلیغ و دعوت سے انھیں حق کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ان میں جو لوگ ظلم کی راہ پر چل نکلتے ہیں وہ اتنا دور نکل جاتے ہیں کہ ان کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔ اور دوسری آیت میں یہ فرمایا گیا کہ جن لوگوں کو علم آشنا بنایا گیا ہے وہ جہالت سے دل لگانے کی بجائے علمِ الہٰی سے دل لگاتے ہیں۔ اور پیغمبر کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ حق و باطل کی اس کشمکش میں بالآخر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وحی الہٰی کا نور اور پیغمبر کا بےعیب کردار اور پھر صاحب ایمان لوگوں کی اس پر استقامت ایک ایسی روشنی ہے جس سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ چناچہ وہ اس حق پر ایمان لاتے ہیں اور اگر پہلے سے ایمان لاچکے ہیں تو ان کے ایمان میں پختگی آجاتی ہے اور ان کے دلوں میں سختی کی بجائے نرمی اور عاجزی پیدا ہوجاتی ہے۔ جب یہ لوگ عاجزانہ اللہ کی طرف بڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنی طرف بڑھنے والوں کی دستگیری فرماتا ہے وہ اصحابِ کہف کی صورت میں چند نوجوان ہی کیون نہ ہوں جب وہ حالات کے بالکل برعکس اللہ کی توحید کو اپنا مقصد بنالیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت میں اضافہ فرماتے ہیں اور ان کے دل کو مضبوط کردیتے ہیں اور انھیں حوصلہ مندی کی اس دولت سے بہرہ ور کردیتے ہیں جس کے بعد دلوں میں کمزوری کبھی داخل نہیں ہوتی بلکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کا وہ اس طرح ہاتھ تھامتے ہیں کہ انھیں منزل مقصود تک پہنچا کر چھوڑتے ہیں۔ صراط مستیقم سے مراد وہ منزل ہے جو ایمان کی انتہا ہے اور ہدایت سے مراد ایصال الی المطلوب ہے جو دنیا میں یقین و ایمان کا آخری مرحلہ ہے اور جس کا نتیجہ آخرت میں جنت ہے۔ یہ ہے ان آیات کا وہ مفہوم جو احقر نے اس کے سیاق وسباق اور ائمہ تفسیر کی نگارشات اور اہل لغت کی مدد سے سمجھا ہے۔ اس کو سامنے رکھتے ہوئے نہ کسی شان نزول کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور نہ اس روایت کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کی حیثیت القائِ شیطانی کے سوا کچھ نہیں اور جسے ہمارے ائمہ تفسیر کی اکثریت نے رد کردیا ہے۔ البتہ ! ان آیات کا ایک مفہوم مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم نے فوائد القرآن میں سپرد قلم کیا ہے جو ہر قاری کی توجہ کے لائق ہے میں اسے یہاں نقل کررہا ہوں۔ احقر کے نزدیک بہترین اور سہل ترین تفسیر وہ ہے جس کی مختصر اصل سلف کے منقول ہے یعنی تمنی کو بمعنی قرأت و تلاوت یا تحدیث کے اور ” امنیۃ “ کو بمعنی متلو حدیث کے لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ قدیم سے یہ عادت رہی ہے کہ جب کوئی نبی یارسول کوئی بات بیان کرتا یا اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے تو شیطان اس بیان کی ہوئی بات یا آیت میں طرح طرح کے شبہات ڈال دیتا ہے۔ یعنی بعض باتوں کے متعلق بہت لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرکے شکوک و شبہات پیدا کردیتا ہے۔ مثلاً نبی نے آیت ” حُرِّمَ عَلَیْکُمُُ الْمَیْتَۃ َ “ الخ پڑھ کر سنائی، شیطان نے شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہو اتو حلال اور اللہ کا مارا ہوا حرام کہتے ہیں۔ یا آپ نے اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ پڑھا۔ اس نے شبہ ڈالا کہما تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ میں حضرت مسیح وعزیر اور ملائکۃ اللہ بھی شامل ہیں۔ یا آپ نے حضرت مسیح کے متعلق پڑھا کَلِمَۃٌ اَلْقَاھَااِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحُ مِنْہُشیطان نے سمجھایا کہ اس سے حضرت مسیح کی ابنیت والوہیت ثابت ہوتی ہے۔ اس القائے شیطانی کے ابطال ورد میں پیغمبر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی وہ آیات سناتے ہیں جو بالکل صاف اور محکم ہوں اور ایسی پکی باتیں بتلاتے ہیں جن کو سن کر شک وشبہ کی قطعاً گنجائش نہ رہے۔ گویا متشابہات کی ظاہری سطح کو لے کر شیطان جو اغوا کرتا ہے آیات محکمات اس کی جڑ کاٹ دیتی ہیں۔ جنھیں سن کر تمام شکوک و شبہات ایک دم کافور ہوجاتے ہیں۔ یہ دو قسم کی آیتیں کیوں اتاری جاتی ہیں ؟ شیطان کو اتنی وسوسہ اندازی اور تصرف کا موقعہ کیوں دیا جاتا ہے ؟ اور آیات کا جو احکام بعد کو کیا جاتا ہے ابتدا ہی سے کیوں نہیں کیا جاتا ؟ یہ سب امور اللہ تعالیٰ کی غیر محدود علم و حکمت سے ناشی ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو علماً وعملاً دارِ امتحان بنایا ہے، چناچہ اس قسم کی کارروائی میں بندوں کی جانچ ہے کہ کون شخص اپنے دل کی بیماری یا سختی کی وجہ سے پادر ہوا شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور کون سمجھ دار آدمی اپنے علم و تحقیق کی حکمت سے ایمان واخبات کے مقام بلند پر پہنچ کر دم لیتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آدمی نیک نیتی اور ایمانداری سے سمجھنا چاہے تو اللہ تعالیٰ دستگیری فرماکر اس کو سیدھی راہ پر قائم فرمادیتے ہیں۔ رہے منکرین ومتشککین ان کو قیامت تک اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا ؎ ہر چہ گیرد علتی علت شود ہماری اس تقریر میں دور تک کئی آیتوں کا مطلب بیان ہوگیا۔ سمجھ دار آدمی اس کے اجزا کو آیات کے اجزا پر بےتکلف منطبق کرسکتا ہے۔ یہ آیات جیسا کہ ہم نے سورة آل عمران کے شروع میں بیان کیا تھا ھُوَالَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ اٰیٰاتٌ مُحْکَمَاتٌ سے بہت مشابہ ہیں۔ چناچہ اِلَّآاِذَا تَمَنّٰیٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ ج میں متشابہات کا اور ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہ میں محکمات کا ذکر ہوا۔ اور لِّیَجْعَلَ مَایُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَۃً میں زائغین کی دو قسمیں مذکور ہوئیں۔ جن میں اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌکا کام ابتغاء تاویل اور اَلْقَاسِیَۃِ قُلُُوْبُھُْم کی غرض ابتغاء فتنہ ہے۔ آگے لَیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوالْعِلْمَ… الخ کو آیۃ وَالرَّاسِخُوْنَ فِیْ الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ …الخ کی جگہ سمجھو اور وہاں جو دعا رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبُنَا بَعْدَاِذْھَدَیْتَنَاسے کی تھی یہاں اس کی اجابت کا ذکر اِنَّ اللّٰہَ لَھَادِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم میں کیا گیا ہے۔ اور رَبَّنَا اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ فِیْہِ کے مناسب وَلَایَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فِی مِرْیَۃٍ مِنْہ ُ حَتّٰی تَا تِیَھُمُ السَّاعَۃُ اِلٰی قَولُہُ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ ہوئی (تنبیہ) آیت حاضرہ کے تحت میں مفسرین نے جو قصہ ” غرانیق “ کا ذکر کیا ہے اس پر بحث کا یہاں موقع نہیں۔ شاید سورة النجم میں کچھ لکھنے کی نوبت آئے۔ ہم نے شرح صحیح مسلم میں بہت بسط سے اس پر کلام کیا ہے۔ بہرحال آیت کا مطلب سلف کی تفسیر کے موافق بالکل صاف ہے گویا یہ تفصیل اس کی ہوئی جو اوپر وَالَّذِیْنَ سَعَوْا فِی اٰیٰا تِنَا مُعَاجِزِیْنَ میں ابطال آیات اللہ کی سعی کا ذکر تھا۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس کی طرف سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایک منحوس دن کا عذاب آجائے۔

وَلَایَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ حَتّٰی تَاْ تِیَھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْیَاْ تِیَھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ ۔ (الحج : 55) (اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس کی طرف سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایک منحوس دن کا عذاب آجائے۔ ) آنحضرت ﷺ کے لیے مزید تسلی اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو مزید تسلی دی گئی ہے کہ آپ اشرافِ قریش یعنی ان بڑے بڑے کافروں کے بارے میں جو شب وروز آپ کی مخالفت اور معاندت میں مشغول رہتے ہیں اور آپ کی کوئی نصیحت ان پر اثر انداز نہیں ہوتی، پریشان اور دل گرفتہ نہ ہوں۔ نصیحت حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کی ضرورت محسوس کرے۔ سنجیدگی سے بات کو سنے اور کم ازکم اتنی بات کو قبول کرلے کہ جو کچھ پیغمبر کی طرف سے کہا جارہا ہے عین ممکن ہے کہ وہ حق اور سچ ہو اور ہماری دنیا اور عقبیٰ کا دارومدار اس کے قبول کرنے پر ہو۔ اس صورت میں امید کی جاسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہمدردی اور غمگساری میں ڈوبی ہوئی نصیحتیں اور ان کی ہدایت کے لیے انتہائی اضطراب ان کی طبیعتوں پر اثرانداز ہوسکے۔ لیکن وہ جب تک اس معمولی بات کو بھی قبول کرنے کیلیے تیار نہیں ہوتے اور ان کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ انھوں نے عذاب اور قیامت کو بھی مذاق سمجھ رکھا ہے تو ایسے لوگ کبھی حق کے قریب نہیں آسکتے۔ ان پر آپ ہزار محنت کریں وہ اپنے شک وارتیاب کی دنیا سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے۔ وہ اپنے کفر وشرک پر اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک اچانک قیامت نہیں آدھمکتی اور یا اللہ کی طرف سے عذاب نہیں آجاتا۔ عذاب کی ہولناکی یا قیامت کی ناقابلِ بیان کیفیت کو دیکھ کر وہ یقینا واویلا کریں گے کہ ہائے ہماری شامت اور بدنصیبی کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کی دعوت پر کان دھرنے کی زحمت نہ کی وہ جو کچھ کہتے تھے بالکل صحیح تھا آج اس کی صداقت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس وقت کا اعتراف ان کے کسی کام نہیں آئے گا کیونکہ عذاب تباہی کا فیصلہ بن کر آتا ہے اور قیامت دارالجزا ہے جو عمل کے ہر امکان کو ختم کردیتی ہے۔ عقیم کا مفہوم عذاب کی شدت اور گیرائی کو واضح کرنے کے لیے، جس دن عذاب آئے گا، اس دن کی صفت ” عقیم “ لائی گئی ہے۔ عقیم اس کو کہتے ہیں جو اولاد کے قابل نہ ہو اور وہ دن جس کے بعد رات نہ آئے اور نہ اس کے بعد کوئی نیا دن طلوع ہو تو اس کو بھی اس لحاظ سے ” عقیم “ کہتے ہیں۔ جب کسی قوم پر تباہی نازل ہوتی ہے تو اس کی زندگی کا وہ ایسا دن ہوتا ہے جس کے بعد نہ اس کے لیے کوئی رات آتی ہے اور نہ دن طلوع ہوتا ہے۔ نہ اسے توبہ کی توفیق ہوتی ہے اور نہ اس کا ایمان کام آتا ہے۔ گویا اسے ہر خیر سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کی زندگی عقیم ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے ضحاک نے کہا ” عذاب یوم لالیلۃ لہ وھو یوم القیامۃ “ ضحاک اور بعض دیگر مفسرین کے نزدیک اس سے قیامت کا دن مراد ہے کیونکہ اس کے بعد کوئی رات نہیں آئے گی۔ لیکن جس قوم پر عذاب آتا ہے اس کا وہ دن بھی عقیم ہوتا ہے۔ جس میں عذاب نازل ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد اس قوم پر کوئی رات نہیں آتی اور وہ قوم اس لحاظ سے عقیم ہوتی ہے کہ اس سے کسی نئے عمل کا ظہور نہیں ہوتا اور وہ کسی کار خیر کو انجام نہیں دے سکتی۔