22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsروح القرآن

Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

(اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جارہی ہے پس اسے غور سے سنو۔ بیشک تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ اگرچہ اس کام کے لیے وہ سب جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیزچھین لے تو وہ اس مکھی سے اسے بچا بھی نہیں سکتے۔ کتنا بےبس ہے ایسا طالب اور کتنا بےبس ہے ایسا مطلوب۔

یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْالَہٗ ط اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ ط وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّایَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ط ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ ۔ (الحج : 73) (اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جارہی ہے پس اسے غور سے سنو۔ بیشک تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ اگرچہ اس کام کے لیے وہ سب جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیزچھین لے تو وہ اس مکھی سے اسے بچا بھی نہیں سکتے۔ کتنا بےبس ہے ایسا طالب اور کتنا بےبس ہے ایسا مطلوب۔ ) مشرکین کے شرکاء کی حقیقت اس سے پہلے فرمایا گیا ہے کہ مشرکین جن قوتوں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں اس کے لیے ان کے پاس نہ کوئی نقلی دلیل ہے اور نہ عقلی۔ محض شیطانی وساوس، آبائو اجداد کی تقلید اور توہمات کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی اسی بےعلمی اور بےعقلی پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہم تمہارے سامنے ایک مثال پیش کرتے ہیں جس سے ان مشرکین کی حماقت کا بھی اندازہ ہوجائے گا اور جنھیں انھوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ان معبودوں کی بےحقیقتی بھی واضح ہوجائے گی۔ اور ساتھ ہی ساتھ انھیں شرمندہ اور زچ کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے نام نہاد معبودوں پر تنقید کی وجہ سے جس برہمی کا شکار ہو اور تم جس طرح سے مرنے مارنے پر تل جاتے ہو تمہارے چہرے بگڑ جاتے اور بھویں تن جاتی ہیں۔ ہم تمہیں ایک مثال کے ذریعے ان کی بےبسی واضح کرتے ہیں تاکہ تم اپنے رویے پر غور کرنے کی کوشش کرو۔ تمثیل یہ بیان کی گئی ہے کہ تم جن دیوی دیوتائوں کو پکارتے ہو اور جن بتوں کو تم نے اپنا معبود بنا رکھا ہے ان کی بےبسی کا عالم تو یہ ہے کہ مخلوقات میں سب حقیر مخلوق مکھی ہے۔ لیکن ان کی بےبسی اور ناطاقتی کا حال یہ ہے کہ وہ ایک مکھی پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں۔ بلکہ ان کی بےبسی کا حال تو اس سے بھی بدتر ہے کہ مکھی تو وہ کیا پیدا کریں گے چاہے دنیا بھر کے شرکا جمع ہو کر بھی اس کے لیے کوشش کردیکھیں۔ انھیں تو اگر یہ کہا جائے کہ تم یہ چیزیں جو چڑھاوے کے طور پر تمہارے سامنے پیش کی گئی ہیں انھیں مکھیوں سے بچانے کی کوشش کرو تو وہ کسی مکھی سے اپنا حلوہ نہیں چھین سکتے۔ حتی کہ کسی مکھی کو اڑا نہیں سکتے۔ تو کیا معبود ایسے ہوتے ہیں ؟ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ :” طالب بھی کمزور اور مطلوب بھی کمزور “۔ ایک حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کسی کو معبود ماننا کوئی فیشن نہیں بلکہ انسان کی کمزوری ہے۔ وہ جب کسی معاملے میں اپنی بےبسی محسوس کرتا ہے مـثلاً رزق کی تنگی یا نہ ختم ہونے والی بیماری یا اور اسی قسم کے حوادث تو پھر وہ کسی ایسی ذات کو مدد کے لیے پکارتا ہے جس کے بارے میں اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ ذات بڑی قوتوں کی مالک ہے۔ وہ یقینا میری بےبسی میں میری مدد کرسکتی ہے۔ میں جب اسے مدد کے لیے پکاروں گا تو اس کی مدد کرنے کے نتیجے میں ان مصائب سے بچ جاؤں گا۔ لیکن کیسے تعجب کی بات ہے کہ ان مشرکین نے ان قوتوں کو اپنا معبود بنایا ہے جو ان سے بھی بڑھ کر عاجز اور بےبس ہیں۔ انسان اپنی ذات میں بہت بڑی قوت رکھتا ہے اس نے کیسی کیسی حیرت انگیز ایجادات کی ہیں۔ لیکن انھیں میں سے عقیدے کے کمزور لوگ ان فرضی قوتوں کے سامنے جھکتے ہیں جو مکھی پیدا کرنا تو دور کی بات ہے اپنے چہرے سے مکھی ہانگ سکنے پر بھی قادر نہیں ہیں۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

انھوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسے اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور اور سب پر غالب ہے۔

مَاقَدَرُواللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (الحج : 74) (انھوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسے اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور اور سب پر غالب ہے۔ ) ان مشرکین نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی۔ اگر انھیں ذرا بھی اس کی عظمت اور قدرت کا اندازہ ہوتا تو وہ کبھی کسی مخلوق کو اس کا شریک کرنے کی جسارت نہ کرتے۔ چہ جائیکہ ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک بنادیا جائے جو مکھی اڑانے پر بھی قادر نہ ہوں۔ ان کے بتوں اور دیوی دیوتائوں کی بےبسی اور کمزوری تو ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اس سے بھی بڑھ حقیقت یہ ہے کہ اللہ قوی ہے یعنی اس کی قوتوں کا کوئی مثیل نہیں اور وہ عزیز ہے یعنی سب پر غالب ہے۔ زمین اور آسمان کی تمام مخلوقات اس کے قبضے میں ہیں اور اس کے سامنے عاجز ہیں۔ وہ جو ارادہ فرماتا ہے اس کو پورا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے اور کسی کو مجال نہیں کہ کوئی اس کے ارادے میں مزاحم ہوسکے۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے اپنے پیغامبر چن لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی (رسول چنتا ہے) ۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ۔ (الحج : 75) (اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے اپنے پیغامبر چن لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی (رسول چنتا ہے) ۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ ) فرشتوں کی حیثیت اس آیت کریمہ میں بعض مشرک قوموں کی مشرکانہ گمراہیوں پر نکیر کی گئی ہے۔ مشرکینِ عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جو ہمیں اللہ کے عذاب سے بچاتی ہیں۔ اور دنیا میں ہمارے لیے خیر و برکت کا باعث ہیں۔ اور یہود و نصاریٰ حضرت عزیر اور حضرت مسیح (علیہما السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا سمجھتے تھے اور اپنی مصیبتوں میں مدد کے لیے انھیں پکارتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور انسان بھی۔ ان دونوں میں سے کسی میں بھی الوہی خصوصیات نہیں ہیں۔ دونوں باقی مخلوقات کی طرح اللہ کے سامنے عاجز اور بےبس ہیں۔ البتہ ! دونوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے جس کو چاہتا ہے پیغامبری کے لیے چن لیتا ہے۔ اور یہ بات انڈرسٹڈ (Under Stood) ہے کہ جب چاہتا ہے کسی اور خدمت کے لیے چن لیتا ہے۔ لیکن پیغامبری کی خدمت چونکہ سب سے اہم ہے اس لیے صرف اس کا ذکر فرمایا۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہمیشہ اللہ کا پیغام اور کلام لے کر اس کے نبیوں اور رسولوں پر اترتے رہے ہیں۔ اسی طرح انسانوں میں سے بھی وہ جسے چاہتا ہے اپنی پیغامبری کیلیے چن لیتا ہے۔ یعنی نبوت و رسالت کے منصب پر فائز کردیتا ہے۔ اور اس طرح سے وہ دنیا کی اصلاح کی خدمت پر مقرر کیے جاتے ہیں۔ یہ ان کا ایسا اعزاز ہے جس سے بڑھ کر کسی مخلوق کے لیے کوئی اور اعزاز نہیں ہوسکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انھیں اللہ کی ذات، صفات یا حقوق میں شریک کردیاجائے۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ” بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے “۔ یعنی مخلوقات کی ضروریات کو وہ ذات پورا کرسکتی ہے جو ہر ایک کی اور ہر وقت سننے کی طاقت رکھتی ہو۔ اسی طرح کوئی مخلوق بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو۔ یہ شان چونکہ اللہ کے سوا کسی اور کی نہیں تو وہ اللہ کی شریک کیسے ہوسکتی ہے ؟ یا اللہ اسے شریک کیوں بنائے گا ؟ اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جن فرشتوں کو مشرکینِ عرب قوت و طاقت کا سرچشمہ سمجھ کر پوجتے اور پکارتے ہیں وہ بھی ہر وقت اللہ کی نگاہوں میں ہیں۔ اللہ چونکہ سمیع ہے اس لیے وہ ان کی ہر بات کو سنتا ہے۔ اور وہ چونکہ بصیر ہے وہ سب اس کی نگاہوں میں ہیں اور وہ ہر وقت ان کی نگرانی کرتا ہے۔
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملات لوٹتے ہیں۔

یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِ یْھِمْ وَمَاخَلْفَھُمْ ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (الحج : 76) (وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملات لوٹتے ہیں۔ ) اللہ کے علم اور قدرت کی وسعت مشرکین کی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی یہ بھی تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم جیسی بھی زندگی گزاریں فرشتے اللہ سے سفارش کرکے ہمیں چھڑالیں گے۔ اس لیے وہ اپنے سب معاملات میں فرشتوں ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ یعنی ان سے مدد طلب کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ فرشتوں کے سامنے ہے جسے وہ کسی حد تک دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ اسے بھی جانتا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے جو ان کی حدود سے ماورا ہے اللہ اسے بھی جانتا ہے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ انسانوں کے تمام معاملات فرشتوں کے سامنے نہیں اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں اس لیے جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ اللہ کی بارگاہ سے ہوتا ہے۔ اس میں کسی مخلوق کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ تو چونکہ اللہ کا علم سب پر حاوی ہے تو کوئی مخلوق فرشتوں سمیت اس کے علم میں اضافہ نہیں کرسکتی اور چونکہ ہر معاملہ اللہ کے سامنے پیش ہوتا ہے اس لیے کسی معاملے میں کوئی مخلوق دخل اندازی نہیں کرسکتی بلکہ خود فرشتوں کے معاملات بھی اللہ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ وہ جو ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اس کی رپورٹ اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلائی کے کام کروتا کہ تم فلاح پائو۔

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْاوَاسْجُدُوْاوَاعْبُدُوْارَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (الحج : 77) (اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلائی کے کام کروتا کہ تم فلاح پائو۔ ) امتِ مسلمہ کا منصب پیشِ نظر آیات خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ اس سے پہلے مشرکینِ مکہ کی بداعمالیوں اور حدود پامالیوں کے حوالے سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اللہ نے اپنا گھر ان کی تولیت میں دیا تھا کیونکہ یہ اپنے عظیم باپ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ذمہ داریوں کے وارث تھے لیکن انھوں نے اس کا حق ادا کرنا تو دور کی بات ہے اللہ کے گھر کی عظیم حیثیت کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے۔ اسے اللہ نے توحید کا مرکز بنایا تھا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے وہاں سے ایک امت مسلمہ کے اٹھائے جانے کی دعائیں کی تھیں۔ لیکن انھوں نے تین سو ساٹھ بتوں کا اسے مرکز بنادیا۔ توحید کا وہ مرکز شرک کی آماجگاہ بن گیا۔ اگرچہ انھوں نے حجاج کی خدمت کی اور اللہ کے گھر کے احترام کو باقی رکھنے کے لیے مقدور بھر کوششیں کیں۔ لیکن اس کی اصل حیثیت اور اس گھر کی تعمیر کے مقاصد کو بالکل تباہ و برباد کردیا اسی کو پروردگار نے ان کی خیانت اور کفرانِ نعمت قرار دیا ہے۔ اور یہ فرمایا کہ ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے اب ہم انھیں بیت اللہ کی تولیت کے عظیم منصب سے معزول کر رہے ہیں اور اب یہ ذمہ داری اس نوزائیدہ امت کو سونپی جارہی ہے جو اس گھر کی عظمت کو سمجھتی اور اس کی تعمیر کے مقاصد کو پہچانتی ہے۔ مطلوبہ صفات کی تیاری کی ہدایت پیشِ نظر آیت کریمہ میں مسلمانوں سے براہ راست خطاب فرماکر انھیں اس عظیم ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے اپنے اندر جن صفات کا پیدا کرنا ضروری ہے ان کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ رکوع کرو اور سجدہ کرو۔ سجدہ کرو چونکہ امر کا صیغہ ہے اس لیے اس سے امام شافعی اور بعض دوسرے جلیل القدر علماء نے یہ سمجھا کہ یہ آیت سجدہ ہے اور اس آیت کے پڑھنے والے کے لیے سجدہ ادا کرنا ضروری ہے۔ اور اس سے انھوں نے ایک تو ” اسجدوا “ کے لفظ سے استدلال کیا اور دوسری بات انھوں نے یہ کہی کہ حضرت عقبہ بن عامر کی روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کیا اس سورة کو اللہ نے دوسجدوں سے فضیلت عطا فرمائی ہے۔ تو آپ نے فرمایا : ہاں۔ تو اس کا مطلب واضح ہے کہ یہ آیت سجدے کی آیت ہے۔ اور تیسری دلیل ان کی یہ ہے کہ ابن ماجہ کی روایت میں حضرت عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو سورة حج میں دو سجدے سکھائے تھے۔ اس کے جواب میں احناف کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت آیت سجدہ نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں صرف سجدے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ رکوع کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اور جہاں یہ دونوں حکم اکٹھے آتے ہیں اس کا مطلب نماز ہوتا ہے کیونکہ دونوں کا وقوع نماز ہی میں ہوسکتا ہے۔ اور جہاں تک احادیث کا تعلق ہے احناف کے نزدیک ان میں سے کسی حدیث کی سند پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی اور جہاں تک اقوالِ صحابہ کا تعلق ہے انھوں نے حضرت عبداللہ ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ سورة حج میں دوسجدے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پہلا سجدہ لازمی ہے اور دوسرا سجدہ تعلیمی ہے۔ نماز کا حکم اس امت کو اس مقصد پر فائز کرتے ہوئے پہلا حکم یہ دیا گیا ہے کہ تم رکوع و سجود کرو یعنی نما زپڑھو۔ اور ہم اس پہلے بھی آیت نمبر 41 میں پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں کی جنھیں وہ اقتدار دینا چاہتا ہے پہلی صفت یہ بیان کرتا ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ نماز درحقیقت صرف ایک عبادت نہیں بلکہ اس عبادت میں وہ تمام حقائق جمع کردیئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں اسلامی زندگی وجود میں آتی ہے۔ دنیا کی امامت وسیادت کا منصب اپنے اندر بڑی نزاکت رکھتا ہے جہاں یہ ذمہ داری ہے وہاں خلافت کی صورت میں اقتدار کا راستہ بھی ہے اور اقتدار ایک ایسی نازک ذمہ داری اور ایک ایسی کٹھن آزمائش ہے کہ جس شخص کی سیرت و کردار میں معمولی سی بھی خرابی موجود ہو وہ کبھی بھی اقتدار کی ذمہ داریوں کو باحسن طریق ادا نہیں کرسکتا اور پھر اسلامی اقتدار کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ درحقیقت اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت کو قائم کرنا ہے۔ نیکیوں کو فروغ دینا اور برائیوں کو ختم کرنا ہے۔ ایسی ذمہ داری صرف وہ شخص یا وہ قوم ادا کرسکتی ہے جو اپنے آپ کو اللہ کی چاکر سمجھتی ہو۔ اس کی فکر اور اس کی قوت عمل پر اللہ کی حاکمیت کی چھاپ لگی ہو اور نماز اس راستے پر چلنے کی وہ روشنی مہیا کرتی ہے جس کے بعد ذمہ داری کا سفر آسان ہوجاتا ہے۔ آدمی جب ہاتھ اٹھا کر نیت باندھتا ہے تو وہ ساری دنیا سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور نیت باندھ کر جب وہ اللہ کی حمد وثنا کرتا ہے تو اللہ سے عہد وفا باندھتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ میرا قیام میرا رکوع اور میرا سجود صرف تیرے لیے اور تیرے دین کی سربلندی کے لیے ہوگا۔ اقتدار آدمی میں خواہشات کو ابھارتا، دل و دماغ میں رعونت اور تکبر کا خناس پیدا کرتا اور اپنے مفادات کو ترجیح دینے کا راستہ دکھاتا ہے اور نماز ان تمام چیزوں سے صرف اللہ کے لیے دستبرداری کا پیغام دیتی ہے۔ ایک طرف تو وہ دنیا کی ہر طاقت سے سر اٹھانے کی تعلیم دیتی اور ہر آستانے کو پائوں کی ٹھوکروں پر اچھالنے کی ترغیب دیتی ہے اور دوسری طرف اللہ کے لیے عجز ونیاز پیدا کرتی اور سب کچھ اس کے راستے میں قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ اللہ کی اطاعت اس کے بعد فرمایا : وَاعْبُدُوْا رَبَّکُم۔ یہاں عبادت اطاعت کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں جس طرح نماز اللہ کے لیے ہی پڑھنی ہے، اسی کے لیے سرجھکانا ہے اور زندگی کے ہر معاملے میں اسی کا طاعت کرنی ہے۔ اللہ سے تمہارے تعلق کا مفہوم یہ ہرگز نہیں کہ وہ مسجد کی فضا تک محدود ہو کر رہ جائے۔ بلکہ تم اپنے رب کی عبادت کے ساتھ ساتھ اطاعت کے بھی پابند ٹھہرائے گئے ہو۔ جس طرح تمہارا قیام رکوع اور سجود صرف اسی کے لیے ہے اسی طرح تمہاری زندگی کا ہر شعبہ اسی کے علم کی روشنی میں منور ہونا چاہیے۔ آئین اور قانون تمہارے لیے وہی قابل قبول ہے جسے قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ تمہاری معاشرت، معیشت، سیاست اور حکومت کی ترجیحات وہی ہیں جو اللہ کے دین نے تمہارے لیے مقرر کردی ہیں۔ خلقِ خدا کی خدمت وَافْعَلُوا الْخَیْرَ :’، ’ اور بھلائی کے کام کرو “۔ اس حکم نے پہلے دونوں احکام کے ساتھ مل کر زندگی کے تمام دوائر کو مکمل کردیا۔ جس طرح عبادت اللہ کی اور اطاعت بھی اسی کی، اسی طرح خدمت تمام نوع انسانی کی۔ بھلائی کے کام اپنے اندر بہت وسعت رکھتے ہیں اور ان کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ پوری نوع انسانی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو چونکہ امامت وسیادت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے تو جس طرح ان کی توجہ اور خدمت کے مستحق مسلمان ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی ہیں جو اگرچہ دائرہ اسلام میں داخل نہیں لیکن مسلمانوں کی مملکت میں رہنے کے باعث ہر طرح کی بھلائی کے مستحق ہیں بلکہ اسلام تو ان لوگوں کے ساتھ بھی بھلائی کا حکم دیتا ہے جو مملکتِ اسلامیہ کے باسی نہ ہوں۔ ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو ان تک اللہ کے دین کی دعوت پہنچانا اور اگر وہ کسی ابتلا میں مبتلا ہوں تو ان کی مدد کرنا اس حکم میں شامل ہے۔ مکہ معظمہ میں جب قحط پھیلا، باوجود اس کے کہ اہل مکہ مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکا ر تھے۔ لیکن جب انھوں نے آنحضرت ﷺ سے بھوک سے مرتے ہوئے لوگوں کی مدد کی درخواست کی تو آنحضرت ﷺ نے امکانی حدتک ان کی مدد فرمائی اور انھیں بھوک کی اذیت سے بچایا۔ آخر میں فرمایا کہ اگر تم ان تمام ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرو تو اس بات کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیوی اورا خروی فوزوفلاح سے نوازے۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں سرتوڑ کوشش کرو جس طرح کوشش کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو چن لیا ہے (حق کی پاسبانی اور اشاعت کے لیے) اور دین کے معاملے میں اس نے تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اپنے باپ ابراہیم کی ملت کی پیروی کرواسی نے تمہارا نام مسلم رکھا اس سے پہلے (اور اس قرآن میں بھی تمہارا نام مسلم ہے) تاکہ رسول تم پر اللہ کے دین کی گواہی دیں اور تم دوسرے لوگوں پر اس کی گواہی دو اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کے دامن رحمت کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ وہی تمہارا کارساز ہے۔ پس وہ بہترین کارساز ہے اور بہترین مدد فرمانے والا۔

وَجَاھِدُوْافِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ط ھُوَاجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حََرَجٍ ط مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ط ھُوَسَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ 5 لا مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْاشُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِصلے ج فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْابِاللّٰہِط ھُوَ مَوْلٰکُمْ ج فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ ۔ (الحج : 78) (اور اللہ کی راہ میں سرتوڑ کوشش کرو جس طرح کوشش کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو چن لیا ہے (حق کی پاسبانی اور اشاعت کے لیے) اور دین کے معاملے میں اس نے تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اپنے باپ ابراہیم کی ملت کی پیروی کرواسی نے تمہارا نام مسلم رکھا اس سے پہلے (اور اس قرآن میں بھی تمہارا نام مسلم ہے) تاکہ رسول تم پر اللہ کے دین کی گواہی دیں اور تم دوسرے لوگوں پر اس کی گواہی دو اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کے دامن رحمت کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ وہی تمہارا کارساز ہے۔ پس وہ بہترین کارساز ہے اور بہترین مدد فرمانے والا ہے۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں ان باتوں کا حکم دیا گیا جو امامت وسیادت کے لیے بنیادی صفات کی حیثیت رکھتی تھیں۔ امت مسلمہ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اگر امامت کا فرض انجام دینا ہے تو متذکرہ بالا صفات اپنے اندر پیدا کرنا ازبس ضروری ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ان صفات کی تیاری کے بعد تمہیں جو اصل کام کرنا ہے وہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے سرتوڑ کوشش کرنی ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ کے آغاز میں صرف جہاد کا حکم نہیں دیا گیا بلکہحَقَّ جِھَادِہٖکی قید لگائی گئی ہے۔ یعنی اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے ایسی جدوجہد درکار ہے جس میں نہ کسی تساہل کا دخل ہو، نہ کسی تحفظِ ذہنی کا، نہ اس میں مصلحت راستہ روکے، نہ حالات کا دبائودامن گیر ہوسکے۔ جہاد کا مفہوم اور اس کی اقسام اس جہدِ مسلسل کے حوالے سے جب ہم غور کرتے ہیں اور اہل لغت سے جہاد کا معنی معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بہت حد تک اس کی وسعت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ علامہ راغب لفظ جہاد کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : الجہاد والمجاھدۃ استفراغ الوسع فی مدافعۃ العد و ” یعنی دشمن کا مقابلہ کرنے میں اپنی ہر امکانی قوت صرف کردینے کو جہاد اور مجاہدہ کہتے ہیں “۔ مزید فرماتے ہیں کہ جہاد کی تین قسمیں ہیں۔ 1 مجاہدۃ العدو الظاہر (ظاہری دشمن سے جہاد) 2 مجاہدۃ الشیطان (شیطان سے جہاد) 3 مجاہدۃ النفس اور ( اپنے نفس کے خلاف جہاد) ۔ اس آیت میں تینوں قسم کے جہاد شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاد ہر ایسی انتہائی کوشش کا نام ہے۔ جس میں اللہ کے کلمے کی سربلندی کے راستے میں حائل ہونے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنا پیش نظر ہو۔ سرسری نگاہ میں محسوس ہوتا ہے کہ جو قوتیں اسلام کا راستہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں ان کی طاقت کو توڑنا اور انھیں مغلوب کرنا جہاد کا مقصد ہے۔ لیکن اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو اس جہاد اور مجاہدے کا اولین ہدف آدمی کا اپنا نفس امارہ ہے۔ جو ہر وقت اللہ سے بغاوت کرنے کے لیے زور لگاتارہتا ہے اور آدمی کو ایمان و اطاعت کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب تک اس کو مسخر نہ کیا جائے باہر کا کوئی مجاہدہ اعلائے کلمۃ الحق کا سبب نہیں بن سکتا بلکہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بعض دفعہ باہر کے دشمن کو زیر کرلیا جاتا ہے۔ لیکن اپنی خواہشات اور مفادات کی ہوس خود مجاہد کو زیر کرلیتی ہے۔ جان پر کھیل کو جو بازی جیتی جاتی ہے اسے بڑی آسانی سے ہار دیا جاتا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جاھدوا اھواء کم کما تجاہدون اعداء کم ” اپنے ظاہری دشمنوں سے تم جس طرح جہاد کرتے ہو اسی طرح اپنی نفسانی خواہشات کے خلاف بھی جہاد کرو “ بلکہ اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے ایک جنگ سے واپس آنے والے غازیوں سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قدمتم خیر مقدم من الجھاد الاصغر الی الجھاد الاکبر ” تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آگئے ہو “۔ عرض کیا گیا وہ بڑا جہاد کیا ہے ؟ فرمایا : مجاھدۃ العبد ھواہ ” آدمی کی خود اپنی خواہشِ نفس کے خلاف جدوجہد “۔ جہاد کے حکم کا سبب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایسی سرتوڑ کوشش کرنے کا حکم کیوں دیا جارہا ہے ؟ اس کا سبب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ھُوَاجْتَبٰکُمْ ” اس نے تمہیں چن لیا ہے “۔ یعنی تمہیں کلمہ حق کی سربلندی کے لیے انتہائی جدوجہد کرنے کا حکم اس لیے دیا جارہا ہے کہ اللہ نے تمہیں اس عظیم مقصد کے لیے انتخاب کرلیا ہے۔ قریش اور یہود اس منصب سے معزول کردیئے گئے اور ان کی جگہ تمہیں یہ اعزاز بخشا جارہا ہے۔ دیکھنا ! اس عظیم منصب کی لاج رکھنا اور اس منصب کی ذمہ داریوں کو پورے عزم وجزم کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرنا۔ دین میں حرج نہ ہونے کا مفہوم وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حََرَجٍ ” اللہ نے تمہیں جس دین کی سربلندی کے لیے علم اٹھانے کا حکم دیا ہے اور جس عظیم منصب کا بار تم پر ڈالا جارہا ہے اس کے بارے میں تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ اس کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے تم کوئی مشکل محسوس نہیں کروگے۔ جس طرح یہود نے اپنے دین میں خانہ ساز احکام کا اضافہ کرکے اپنے لیے مشکلات پیدا کی تھیں اللہ تعالیٰ نے اس دین کو ان مشکلات سے محفوظ رکھا ہے۔ اس دین میں ایسی کوئی بات نہیں جس کو قبول کرنے کے بعد تمہاری مادی، علمی اور روحانی ترقی کی راہیں مسدود ہوجائیں۔ صحابہ کرام کو براہ راست اس منصب کے لیے چنا گیا تھا۔ چناچہ انھوں نے اس منصب کی جس طرح ذمہ داریاں ادا کیں اور اس کی نزاکتوں کو جس طرح ملحوظ رکھا اس کا نتیجہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف ان کے لیے فتوحات کے دروازے نہیں کھولے بلکہ انھوں نے اس دین کے حوالے سے دنیا کو علم آشنا بنایا۔ تہذیب اور تمدن کی بنیادیں فراہم کیں۔ ایک ایسا آئین دیا جس نے انسانوں کو زندگی کے ہر مرحلے میں آسانیاں مہیا کیں۔ عدالتوں کا ایسا نظام دیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے انصاف کا چلن عام ہوگیا۔ لیکن بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارا آج کا تعلیم یافتہ نوجوان دین کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ ترکی نے اپنی نادانی کی وجہ سے صرف ان بدگمانیوں کے باعث یا سازش کا شکار ہو کر اپنے ہاتھوں خلافت تار تار کردی اور عالم اسلام کو کوچہ سیاست میں بےیارومددگار چھوڑ دیا۔ مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ” جس دین کی حفاظت، نصرت اور علم برداری اور جس گھر کی تولیت تمہارے سپرد کی جارہی ہے یہ کوئی نئی چیز نہیں اور نہ یہ کوئی نیا دین ہے بلکہ یہ وہی چیز ہے جسے تم ملت ابراہیم کے نام سے یاد کرتے ہو اور آج تک اس کی عظمت کے گیت گاتے ہو۔ یوں تو ہر نبی کی ملت اسی دین کی عکاس رہی کیونکہ ہر دور میں دین کی بنیادوں میں کبھی تبدیلی نہیں ہوئی۔ مرورِ زمانہ سے انسانوں کی ضروریات بدلیں تو آنے والی شریعت میں نئے احکام کی ضرورت پیش آئی۔ لیکن جن بنیادی صداقتوں پر دین کی بنیاد اٹھائی گئی تھی۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہاں باقی انبیائِ کرام کا ذکر چھوڑ کر صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اہل عرب انھیں کی ملت سے واقف تھے اور قریش اپنے آپ کو ان کی اولاد سمجھتے تھے اور مزید یہ بات بھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ تمام قابل ذکر مذاہب سے پہلا کا زمانہ ہے۔ یہودیت کا آغاز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوا اور عیسائیت کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے۔ رہے مشرکینِ عرب تو انھیں بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کے ہاں بت پرستی کا رواج عمرو بن لحی سے شروع ہوا۔ جو بنی خزاعہ کا سردار تھا اور موآب کے علاقہ سے ” ہبل “ نامی بت لے کر آیا تھا اور اس کا زمانہ زیادہ سے زیادہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے پانچ چھ سو سال پہلے کا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ یہودی، عیسائی، صابی اور اہل عرب تمام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آج بھی اپنا مقتدا تسلیم کرتے ہیں۔ اس لیے جب ان کی ملت کا ذکر کیا گیا جو ان ملتوں میں سے کسی ملت کے پیرو نہ تھے تو لامحالہ وہی ملت اصل ملت حق ہے اور نبی کریم ﷺ اسی ملت کو زندہ کرنے اور اسی کو زیادہ جامع حیثیت سے پیش کرنے کے لیے تشریف لائے ہیں۔ ممکن ہے ملت ابراہیمی کے ذکر سے اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہو کہ مسلمانوں کو کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیے جس جہاد کا حکم دیا جارہا ہے اس کا عملی نمونہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذات گرامی ہے۔ انھوں نے جس طرح قدم قدم پر صرف اللہ کی رضا کے حصول اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے قربانیاں دیں، یہ درحقیقت وہ ملت ابراہیمی ہے جس کی طرف مسلمانوں کو دعوت دی جارہی ہے۔ ھُوَسَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ 5 لا مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تمہارا نام اس سے پہلے مسلمان رکھا تھا۔ یعنی جب انھوں نے اللہ کا گھر تعمیر کیا اور پھر یہ دعا مانگی کہ یا اللہ ہماری اولاد میں سے ایک امت مسلمہ اٹھانا اور مزید یہ کہ ان کی طرف اپنا آخری رسول بھیجنا۔ اس طرح سے انھوں نے آخری امت کو امت مسلمہ کا نام دیا تھا اور یہ بھی اس میں اشارہ موجود ہے کہ یہی دین درحقیقت ملت ابراہیمی ہے۔ جس کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی۔ امتِ مسلمہ کے وجود کا مقصد لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْاشُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ : یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے امت مسلمہ کو چنا گیا ہے اور اسی مضمون کو سورة البقرۃ آیت نمبر 142 میں بھی بیان کیا گیا ہے اور وہاں ہم تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں۔ یہاں اسی مقصد کو مزید تاکید کے ساتھ بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جس منصب پر فائز کیا گیا تھا۔ بعد میں بنی اسرائیل اس منصب پر فائز ہوئے اور اسی منصب کا ایک حصہ یعنی اللہ کے گھر کی تولیت قریش کو ملا۔ لیکن دونوں نے جس طرح نااہل ہونے کا ثبوت دیا وہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر دلیل لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چناچہ اب انھیں معزول کرکے مسلمانوں کو امامت وسیادت کے اس منصب پر فائز کیا جارہا ہے اور انھیں بتایا جارہا ہے کہ اب قیامت تک تمہارا کام یہ ہے کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے شہادت حق کے اس عظیم فریضہ کو زندگی کا ہر دکھ اٹھا کر انتہائی امانت ودیانت کے ساتھ اس طرح ادا کیا کہ اس کے مبہمات کو کھولا، اس کے مجملات کو واضح کیا، اس کے احکام کو عملی زندگی پر منطبق کر کے دکھایا۔ ملی زندگی کے ناگزیر شعبوں کو عملی شکل دی۔ ریاست و حکومت کی تشکیل فرمائی۔ اس کو ایک نظام عطا کیا۔ اخلاقی، قانونی، تہذیبی، تمدنی، حتی کہ حربی اداروں کو بھی اس طرح منظم کیا کہ قیامت تک کے لیے اسلام کے بنیادی احکام کو عملی شکل میں متشکل فرماکرتمام اجتماعی ضرورتوں کے حوالے سے شہادتِ حق کا پیکر بنادیا اور پھر یہی فریضہ امت کے حوالے کرکے انھیں اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ آخر میں پھر اقامتِ صلوٰۃ اور اہتمامِ زکوٰۃ کا حکم دیا کیونکہ ان دونوں کے بغیر شہادتِ حق کی ذمہ داری ادا کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ پورے دین کی عمارت ان دونوں ستونوں پر قائم ہے۔ امت کا مقتدر طبقہ اگر خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیتا ہے اور وہ اپنے مالیاتی نظام کو زکوٰۃ کی پاکیزگی کا پابند نہیں کرتا تو شہادتِ حق کا فریضہ ادا ہونا تو دور کی بات ہے اس کا تصور بھی گدلا کر رہ جائے گا۔ مزید فرمایا کہ شہادتِ حق کی ادائیگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اللہ کو یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو کیونکہ حالات کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی مختلف تبدیلیوں سے آشنا ہوگی۔ بیرونی اثرات اپنا کام کریں گے۔ کمزور طبعیتیں ان کا سہارا لے کر مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کو مسموم کرنے کی کوشش کریں گی۔ ان کا مقابلہ کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ اللہ پر توکل میں کمی نہ آنے پائے اور اللہ کی رسی یعنی اس کے دین کا سررشتہ ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ پھر امید کی جاسکتی ہے کہ امت مسلمہ اپنے فرض کی ادائیگی میں بہانے تلاش کرنے کی بجائے عزم وجزم کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے کمر بستہ ہونے کی کوشش کرے گی۔ لیکن اگر اس کے تصورات میں کہیں کمزوری لاحق ہوگئی اور اس نے اللہ کی بجائے دوسرے سہاروں کی طرف دیکھنا شروع کردیا تو پھر معاملہ مخدوش ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ اس بات کا یقین دلوں سے نکلنے نہ پائے کہ اللہ ہی بہترین کارساز اور وہی بہترین مددگار ہے۔ اگر اس کی کارسازی ہمیں میسر ہے اور اس کی پشت پناہی ہمیں حاصل ہے تو پھر دنیا ہزار کوشش کے باوجود ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور اگر ایسا نہیں تو پھر ہم ساری کوششوں کے بعد بھی منزل مقصود حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔