23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsروح القرآن

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

(بےشک فلاح پائی ہے ایمان والوں نے

قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (المومنون : 1) (بےشک فلاح پائی ہے ایمان والوں نے۔ ) اس سورة کا آغاز اگرچہ ایک سپاٹ انداز میں کیا گیا ہے۔ لیکن جن کی نگاہوں میں وہ زمانہ اور وہ حالات ہیں جب یہ سورة نازل ہوئی ہے تو ان کے لیے سمجھنا مشکل نہیں کہ اس بےتکلف انداز میں درحقیقت کن حقائق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حقیقت کا ادراک تو اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں ہوسکتا۔ لیکن جو باتیں انسانی فکر بہ ادنیٰ تجسس جان سکتی ہے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔ فلاح کی حقیقت 1 یہاں فلاح سے مراد درحقیقت وہ فلاح نہیں جس کا تصور اشرافِ قریش کے دل و دماغ پرچھایا ہوا تھا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ فلاح دراصل دنیوی عیش و عشرت، تجارت کی وسعت، دولت کی فراوانی، عہدہ ومنصب اور شہرت وناموری کا میسر آنا ہے۔ خدم وحشم کی فراوانی عام انسانوں پر رعب وہیبت، عرب وبیرونِ عرب قابل ذکر قوتوں سے تعلقات، یہ وہ سرمایہ ہے جس کے حاصل ہوجانے پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں فلاح میسر آگئی ہے۔ اس لیے قریش کے چھوٹے بڑے لوگ درجہ بدرجہ چونکہ اس فلاح کے وسائل پر قابض اور ان سے متمتع ہورہے تھے تو وہ بجاطور پر یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں کسی اور فلاح کی ضرورت نہیں۔ فلاح وہی ہے جو اس سے پہلے ہمیں حاصل ہے۔ لیکن اس کے برعکس مسلمان جس زبوں حالی سے گزر رہے تھے اور رفتہ رفتہ جس طرح ان کے مالی حالات قابل رحم ہوتے جارہے تھے اور ان میں بیشتر لوگ نان شبینہ کے محتاج ہو کر رہ گئے تھے اور روز بروز حوائجِ دنیا ان کے لیے ایک مسئلہ بنتی جارہی تھیں۔ قریش کی نگاہوں میں یہ لوگ ہر طرح کی فلاح سے محروم اور نہایت بدنصیب لوگ تھے۔ اس آیت کے حوالے سے اس غلط تصور پر چوٹ لگائی جارہی ہے کہ تم جن چیزوں کو فلاح و کامرانی کی علامت سمجھتے ہو ان کی حقیقت فریبِ نظر سے زیادہ نہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا ؎ یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ دولت و حشمت، عہدہ ومنصب، اسباب ووسائل، انسان کی ضروریات تو ہیں، نہ یہ حقیقتِ انسان ہیں اور نہ مقاصدِ انسان۔ ان کی کمی بیشی سے صبر وشکر کی صفات تو ضرور پیدا ہوتی ہیں لیکن انسان کی حقیقتِ نفس الامری پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قومیں جب بھی سرافراز ہوتی ہیں وہ ہمیشہ مقاصد سے وابستگی، کردار کی پختگی، اخلاق کی توانائی اور قلب ونگاہ کی روشنی سے ہوتی ہیں، وسائل واسباب سے نہیں۔ انقلاب کا سیل غریب کے جھونپڑے سے نکلتا ہے، جس میں امیروں کے محلات بہہ جاتے ہیں۔ دنیا کا بنائو ہمیشہ انسان کے بنائو کا مرہونِ منت رہا ہے اور دنیا کا بگاڑ انسان کے بگاڑ کا نتیجہ۔ اقبال نے خوب کہا ؎ تیری روح میں ہے اگر شرر تو خیال فقر و غنا نہ کر کہ جہاں میں نان شعیر پر ہے مدار قوت حیدری 2 دوسری بات جس کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول دنیا میں جس دین کی دعوت لے کر آتے ہیں اس کا مرکزی موضوع یا ہدف انسان کی اصلاح ہوتا ہے۔ اگر کوئی دعوت بہتر سے بہتر انسان تیار کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دعوت صحیح، برحق اور منجانب اللہ ہے۔ لیکن اگر وہ انسان کی تعمیرِ کردار کی بجائے کچھ اور قسم کے احساسات اور اذواق ومیلانات، انسان کے اندر پیدا کردیتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دعوت ناکام بھی ہے اور کاذب وفاسد بھی۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ کی سرزمین پر جن لوگوں کو سب سے پہلے اپنی دعوت اور تبلیغ کا ہدف بنایا ان میں عقیدہ وعمل کی کوئی ایسی خرابی نہیں، جو نہ پائی جاتی ہو۔ اور سیرت واخلاق کا کوئی ایسا فساد نہیں جس کی وہ علامت نہ ہوں۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی دعوت کے نتیجے میں جو لوگ ایمان لائے، پیش نظر رکوع میں ان کی صفات کا ایک مرقع پیش کیا گیا ہے اور یہ مرقع ایسا ہے جس کی صحت و صداقت میں دشمن کو بھی کوئی شبہ نہیں ان میں سے ایک ایک شخص ان تمام صفات سے موصوف ہے۔ ان کا وجود اور ان کی صفات اس بات کی دلیل ہیں کہ جس دعوت نے ایسے حیران کن لوگ تیار کیے ہیں جو انسانی پتھروں کے ڈھیر میں چمکنے والے ہیروں سے کم نہیں، وہ دعوت یقینا حق کی دعوت ہے اور جس عظیم شخصیت نے اپنی تربیت کے زور سے ان لوگوں کو تیار کیا ہے، اس کے رسول برحق ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے زندگی کے بہت سے معیارات بنارکھے ہیں۔ اور انھیں معیارات کو برحق اور قابل عمل سمجھتے ہوئے اہل دنیا انھیں بروئے کار لانے میں مصروف ہیں۔ اسی کا ایک نمونہ قریش کی فکر اور ان کی زندگی ہے۔ وہ اس سے مختلف کسی پیمانہ فکر اور کسی زاویہ نگاہ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن یہ تمام وہ معیارات ہیں جس نے دنیا کو دکھوں سے بھر دیا ہے اور زمین میں جا بجا فساد پھیل گیا ہے۔ انسان ان کے برے نتائج کے زخم سہہ رہا ہے۔ لیکن صحیح اور مفید زاویہ نگاہ اس کے سامنے نہیں۔ زندگی کا کوئی ایسا نمونہ جو لوگوں کو اپیل کرسکے دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ ایسی تاریکی اور ایسی بےبسی میں اچانک یہ نغمہ سرمدی آسمان سے اترتا ہے اور لوگوں کے سامنے زندگی کی ایسی تصویر رکھ دیتا ہے، جس کا عنوان فلاح و کامرانی ہے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں جس فلاح کا ذکر کیا گیا ہے اس کے حوالے سے دو باتیں جاننا بہت ضروری ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ اس فلاح سے مراد صرف فلاحِ اخروی نہیں۔ اگرچہ ایک مومن کے لیے حقیقی مقصود یہی فلاح ہے اور وہ اسی فلاح کے حصول کے لیے اپنا مال و دولت، اپنا عیش و آرام، حتی کہ اپنی زندگی بھی قربان کردیتا ہے اور اس قربانی کو بھی کامیابی کا زینہ سمجھتا ہے۔ لیکن اللہ کی طرف سے اصحابِ ایمان کو جس فلاح و کامرانی کا مژدہ سنایا گیا ہے، وہ اخروی کامیابی کے ساتھ ساتھ دنیوی کامیابی بھی ہے۔ جس کا ذکر گزشتہ سورة میں کیا گیا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے تین وعدے فرمائے ہیں اور تینوں کا تعلق دنیا سے ہے اور اس آیت کریمہ میں چوتھا وعدہ کیا گیا ہے جس کا تعلق جنت الفردوس سے ہے۔ دنیا میں جو تین وعدے کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔ 1 استخلاف فی الارض 2 مسلمانوں کے لیے ان کے دین کا تمکن 3 خوف کی بجائے امن چناچہ اللہ تعالیٰ نے دور نبوت اور خلافتِ راشدہ میں تینوں وعدے پورے فرمائے۔ اسی طرح جنت الفردوس کے وعدے کے ایفا میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ دوسری بات فلاح کے حوالے سے جس کا جاننا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے اخروی فلاح کا وعدہ ظاہر ہے مستقبل میں یعنی قیامت میں فرمایا ہے۔ لیکن اس کو تعبیر ماضی کے صیغے سے کیا گیا ہے، جس سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ مسلمانوں کو جنت اگرچہ قیامت کو ملے گی لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں چونکہ اس کا فیصلہ ہوچکا ہے اس لیے اس جنت کا ملنا اس طرح قطعی اور یقینی ہے جیسے یہ وعدہ پورا ہوچکا ہو۔ جو بات ہو چکتی ہے وہ ماضی بن جاتی ہے اور جو ہونے والی ہوتی ہے وہ مستقبل ہوتی ہے۔ یہاں ماضی کا صیغہ لانے سے اس کی قطعیت کا اظہار ہے۔
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

ایمان لانے والے) وہ ہیں جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں

الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَا تِھِمْ خَاشِعُوْنَ ۔ (المومنون : 2) (ایمان لانے والے) وہ ہیں جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ اہلِ ایمان کی پہلی صفت خشوع کا معنی ہے ” عاجزی، تذلل، نیاز مندی، کسی کے سامنے جھک جانا، دب جانا “۔ آدمی جب کسی عظیم ذات یا پرہیبت شخصیت کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اس کی عظمت اور اس کی ہیبت سے مرعوب ہوجاتا ہے اور اگر وہ عظمت اور ہیبت حقیقی اور واقعی ہے تو پھر یہ مرعوبیت انکساری، عاجزی اور تذلل صرف اس حدتک محدود نہیں رہتا کہ اس کے سامنے گردن جھک جائے، جسم خم ہوجائے، کندھے سکڑ جائیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دل و دماغ بھی سرافگندہ ہوجاتا ہے۔ نماز میں خشوع اسی کیفیت کا نام ہے۔ حضرت حسن ( رض) کو لوگوں نے دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں تو رنگت اڑ جاتی اور چہرے پر ایک ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ لوگوں نے پوچھا : وضو کرتے ہوئے آپ کی یہ کیفیت کیوں ہوتی ہے ؟ فرمانے لگے کہ جب میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ یہ وضو دراصل اللہ کی بارگاہ میں حاضری کی تیاری ہے جیسے جیسے وہ حاضری کا وقت قریب آتا جاتا ہے تو مجھ پر ایک ہیبت طاری ہوتی جاتی ہے۔ یوں تو آدمی ہر وقت اللہ کے سامنے ہے لیکن نماز میں چونکہ بطور خاص آدمی خود اللہ کے حضور میں پیش ہوتا ہے اس لیے خشوع کا تقاضا یہی ہے کہ اس پر یہ کیفیت طاری ہو اور اگر یہ کیفیت طاری نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کی نماز خشوع سے خالی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ ڈاڑھی کے بالوں سے کھیلتا جاتا ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا : لوخشع قلبہ خشعت جوارحہ ” اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے جسم پر بھی خشوع طاری ہوتا “۔ اس کی عملی صورت وہی ہے جس کا ذکر صاحب تفسیر مظہری نے کیا ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں : الخشوع فی الصلوۃ ھوجمع الھمۃ لھا والاعراض عما سواہ والتد بر فی ما یجری علی لسانہ من القراء ۃ والذکر (مظہری) ” نماز میں خشوع کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ساری توجہ نماز میں مرکوز کردے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز سے منہ پھیر لے اور وہ اپنی زبان سے جو تلاوت اور ذکر کرتا ہے ان کے معنی پر غور و تدبر کرے “۔ اگر ایسی کیفیت نما زپڑھنے والے پر طاری ہوجاتی ہے تو خود بخود اس کے اندر وہ تمام احتیاطیں پیدا ہوجاتی ہیں جو ہمیں شریعت نے سکھائی ہیں۔ لیکن انسان چونکہ کمزور واقع ہوا ہے اس لیے شریعت نے نماز کے کچھ ایسے آداب مقرر کردیئے ہیں جو خشوع پیدا کرنے میں معاون بھی ثابت ہوتے ہیں اور انھیں سے اندازہ بھی ہوتا رہتا ہے کہ خشوع کی کیفیت کیا ہے۔ شریعت کا حکم یہ ہے کہ آدمی دائیں بائیں نہ مڑے اور نہ سر اٹھا کر اوپر کو دیکھے۔ حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک نگاہ سجدہ گاہ سے متجاوز نہیں ہونی چاہیے۔ نماز میں کھیلنا اور مختلف سمتوں میں جھکنا بھی ممنوع ہے۔ کپڑوں کو بار بار سمیٹنا یا ان کو جھاڑنا یا ان سے شغل کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس بات سے بھی باخبر کیا گیا ہے کہ آدمی اپنے جسم کو آگے پیچھے حرکت نہ دے۔ اپنی انگلیاں نہ چٹخائے۔ اپنے کپڑوں کو نہ سمیٹتا رہے۔ سجدہ میں جائے تو اپنے سجدہ کی جگہ کو ہاتھوں سے صاف نہ کرتا رہے۔ تعدیلِ ارکان کی پابندی کرے۔ نماز میں اگر کوئی چیز اذیت دے رہی ہو تو اسے ایک ہاتھ سے دفع کیا جاسکتا ہے مگر باربار ہاتھوں کو حرکت دینا یا دونوں ہاتھوں کو استعمال کرنا ممنوع ہے۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور وہ لغویات سے احتراز کرتے ہیں

وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ۔ (المومنون : 3) (اور وہ لغویات سے احتراز کرتے ہیں۔ ) اہلِ ایمان کی ایک اور صفت لغو سے مرادہر وہ قول اور فعل ہے جو زندگی کے اصل مقصود یعنی رضائے الہٰی سے غافل کرنے والاہو۔ اسلامی تربیت اور نماز کی پابندی انسان کی سیرت و کردار میں ایسی یک جہتی اور یکسوئی پیدا کرتی ہے کہ اس کا راستہ صراط مستقیم بن جاتا ہے۔ وہ اس صراط مستقیم پر چلتا ہوا دائیں بائیں دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اس کی تمام توجہات رضائے الہٰی کے حصول پر مرکوز رہتی ہیں۔ وہ زندگی کے ایک ایک لمحے کو زندگی کے مقصد کے مطابق گزارنا فرض سمجھتا ہے۔ اسے ہمیشہ یہ احساس دامن گیر رہتا ہے کہ اگر میں کسی ایسی دلچسپی میں کھو گیا جس سے میری منزل کھوٹی ہوگئی یا کسی ایسے کام میں اپنی صلاحیتیں صرف کر ڈالیں جو صلاحیتوں کا صحیح مصرف نہیں تھا تو میں اپنے اللہ کو کیا جواب دوں گا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ ” ایک آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہراس چیز کو چھوڑ دے جس میں نہ دنیا کا بھلا ہے نہ دین کا “۔ اس لیے ایک مومن اگر کبھی کسی ایسی جگہ سے گزرتا ہے جہاں کوئی ایسا لغو کام ہورہاہو تو وہ اس کی طرف توجہ کیے بغیر گزرجاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود کسی جگہ جارہے تھے۔ راستے میں کوئی تقریب منعقد ہورہی تھی جس میں لغویات بھی جاری تھیں۔ آپ کو معلوم نہ تھا کہ مجھے ایسی جگہ سے گزرنا پڑے گا۔ اب چونکہ گزرنا ناگزیر تھا تو آپ نے چادر سے اپنا منہ سر لپیٹ لیا اور چکر کاٹتے ہوئے ایک طرف سے گزر گئے۔ کسی مسلمان نے انھیں گزرتے ہوئے دیکھا تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اسے بیان کیا۔ تو آپ نے خوش ہو کر فرمایا : واذا مروا بااللغو مروا کراماً ” اور جب وہ کسی لغو بات سے گزرتے ہیں تو وقار سے گزر جاتے ہیں “۔ یعنی ادھر متوجہ ہوئے بغیر نہایت بےنیازی سے گزر جاتے ہیں۔ صاحبِ ایمان لوگوں کو ایمان جو یکسوئی عطا کرتا ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب وہ اللہ کے دین کی تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں مخالفین کے پاس جاتے تو وہ اسلام کے بارے میں قسم قسم کے سوالات اٹھاتے اور طرح طرح کی بیہودگی سے کام لیتے۔ کبھی ان کی غربت کو ہدف طعن بنایا جاتا اور کبھی انھیں آنے والے دنوں میں مختلف خطرات اور مصائب کے پیش آنے سے ڈرایا جاتا۔ ان کی زبانیں بچھوئوں کی طرح زہر اگلتیں۔ لیکن یہ ایمان کی دولت سے مالامال لوگ ان کی کسی قسم کی ژاژ خائی کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنے مقصدی کام سے اور زیادہ لگائو کا اظہار کرتے ہوئے کہتے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اور کر رہے ہو تمہیں بہر حال اللہ کے ہاں اس کا جواب دینا ہے۔ اور ہم اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہیں اس لیے آپ کی بیہودہ باتوں کا کوئی جواب دینا پسند نہیں کریں گے۔ قرآن کریم نے اس کی منظر کشی کرتے ہوئے فرمایا : واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ وقالوا لنا اعمالنا ولکم اعمالکم ” اور جب وہ کوئی فضول بکواس سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے ساتھ تمہارے اعمال “۔ لیکن اس صدمہ جانکاہ کا شکوہ کس سے کریں ؟ کہ جس امت کا ایک ایک لمحہ اللہ کی رضا کا امین تھا اور وہ اپنے وقت کا کوئی حصہ مقصد سے بیگانہ ہو کر گزارنے کا تصور بھی گناہ سمجھتی تھی اب اس کے معمولات ایسے ہوگئے ہیں جس میں وقت کی قدروقیمت کا دور دور تک پتہ نہیں۔ تفریح سے اسلام نے نہیں روکا لیکن ایسی تفریح جو پانچ پانچ دن جاری رہے اور جو تفریح زندگی کے مقاصد پر غالب آجائے اور زندگی کی ہر سنجیدگی جس کے سامنے دم توڑ جائے، نوجوان علم کے حصول پر اسے ترجیح دینے لگیں، اور یا ایسی تفریح جس میں گردنیں کٹیں، سڑکوں پر قتل عام ہو، چھتوں پر شیطان چڑھ کر ناچے، شرم وحیا کا جنازہ نکل جائے، ان لغویات میں اس امت کی دلچسپی صدمہ جانکاہ نہیں اور کیا ہے ؟ ان لغویات کی گہرائی اور گیرائی کو دیکھ کر اقبال یاد آتا ہے۔ اس نے کہا تھا ؎ عشقِ بتاں سے ہاتھ اٹھا اپنی خودی میں ڈوب جا نقش و نگارِ دَیر میں خون جگر نہ کر تلف
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور وہ جو زکوٰۃ ادا کرتے رہنے والے ہیں

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ ۔ (المومنون : 4) (اور وہ جو زکوٰۃ ادا کرتے رہنے والے ہیں۔ ) زکوٰۃ دوسرا ستون ہے اصحابِ ایمان کی تیسری صفت زکوٰۃ کی صورت میں بیان کی جارہی ہے۔ قرآن کریم میں ہم دیکھتے ہیں کہ پروردگار نے مسلمانوں کی تعمیرِ کردار، شیرازہ بندی، اللہ تعالیٰ اور دین سے گہری وابستگی اور انتہا درجے کا نظم وضبط، پیدا کرنے کے لیے نماز کا جابجا حکم دیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں بیشتر مواقع پر نما ز کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین کا دوسرا ستون ہے۔ انبیائے کرام کی دعوتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم نے بالعموم یہ بات ضرور کہی ہے کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے یعنی نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر ضرور کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انسانی کمزوریوں میں ہوائے نفس نے جو مظاہر پیدا کیے ہیں اس کی اکثر صورتوں کا علاج تو نماز سے ہوجاتا ہے۔ لیکن جہاں تک حبِّ مال اور اس کے نتیجے میں انسانی حقوق سے لاپرواہی بلکہ بےرحمی اور شقاوت کا تعلق ہے اسے دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے کیونکہ جو شخص زکوٰۃ کی حقیقت کو سمجھ کر اس پر عمل کرتا ہے وہ مال کی محبت میں غیر متوازن نہیں ہوتا۔ اسی طرح مالی طور پر محتاج لوگوں کی جو ضرورتیں امراء کی دولت سے متعلق ہیں ان سے صرف نظر نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ جس طرح اپنے دل و دماغ اور اعضاء وجوارح کی ترجیحات کا جواب اللہ کے سامنے دینا ہے اسی طرح بندوں کے حقوق اور ان کے تعلق کے حوالے سے بھی سخت باز پرس کا اندیشہ ہے اور اسلام کا اصل حسن ہی یہ ہے کہ وہ جس طرح اپنے ماننے والوں کو اللہ کے آستانے پر جھکا کر اللہ کے دامن سے وابستہ کردیتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کے ذریعے مالداروں کو غریبوں کے ساتھ مربوط بھی کرتا ہے۔ اس طرح ایک مسلمان خلق اور خالق دونوں سے صحیح بنیادوں پر اپنے تعلق کو استوار کرلیتا ہے۔ زکوٰۃ سے مراد انفاق فی سبیل اللہ ہے یہ سورة چونکہ مکی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ زکوٰۃ قانونی اور اصطلاحی حیثیت سے مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔ اس لیے اس سورة میں زکوٰۃ کا لفظ اصطلاحی معنوں میں مراد نہیں لیا جاسکتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم نے مکی سورتوں میں بھی بیشتر مواقع پر زکوٰۃ کا ذکر فرمایا اور اس کی ترغیب بھی دی تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد اصطلاحی زکوٰۃ نہیں بلکہ انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ جس طرح نماز باجماعت اجتماعیت کی روح اور اللہ سے مضبوط تعلق کو پیدا کرتی ہے اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ غریبوں اور امیروں کو اجتماعیت کا درس دیتا اور باہمی روابط کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر چند آدمی اکٹھے بیٹھ کر اللہ کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن ان میں سے صاحب استطاعت غریب اور محتاج کو اپنے کھانے میں شریک نہیں کرتے تو ان کے اندر حقیقی وحدت پیدا نہیں ہوسکتی اور وہ کبھی اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتے کہ ہم ایک امت کے افراد ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے اعضاء کی مانند ٹھہرا یا ہے۔ اس لیے یہاں انفاق فی سبیل اللہ اصحابِ ایمان کی صفت کے طور پر بیان فرماکر ان کی حقیقی قوت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ زکوٰۃ کا ایک اور مفہوم بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں اصحابِ ایمان کے لیے صفت کے طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو قرآن کریم کے مختلف مواقع پر مستعمل الفاظ یُؤْ تُوْنَ الزَّکٰوۃَ کی صورت میں اس صفت کو ذکر فرمایا جاتا۔ نئی تعبیر اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ جبکہ دونوں تعبیروں کے معنی میں بہت اختلاف ہے۔ پیش نظر تعبیر میں معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کو بطور مصدر کے استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ ایمان وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کے لیے کوشش کرنے والے لوگ ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ وہ زکوٰۃ کے طریقے پر عمل کرنے والے لوگ ہیں۔ زکوٰۃ کا لفظی معنٰی ” پاک اور صاف کرنا “ ہے۔ عربی زبان میں زکوٰۃ کا مفہوم دو معنوں سے مرکب ہے۔ ایک ہے ” پاکیزگی “ اور دوسرا ہے ” نشو و نما “۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ صاحب ایمان اپنے ایمان کے جوہر کو جب ترقی دینا چاہتا ہے تو کچھ قوتیں ہیں جو اس کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔ ہوائے نفس اپنا زور لگاتی ہے، مفادات کی ماری ہوئی عقل اپنے لیے راستہ نکالنے کی کوشش کرتی ہے۔ ہر شخص کے دل میں بیٹھی ہوئی مفادات کی ہوس پائوں کی زنجیر بن جاتی ہے۔ جو شخص ایمان کے مطابق اپنی زندگی کو اس راستے پر چلانا چاہتا ہے جس کی طرف اس کا ایمان راہنمائی کرتا ہے تو وہ سب سے پہلے ان رکاوٹوں سے اپنے ایمان کو پاکیزہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے زکوٰۃ کا تعلق صرف مال و دولت سے نہیں بلکہ نفس، اخلاق، زندگی اور ایسی ہی دوسری ہی چیزوں سے بھی ہے۔ ان تمام کو اس جوہرِ ایمان سے آراستہ کرنا اور مخالف قوتوں سے ان کو بچانا بلکہ انھیں ان کے سامنے زیر کردینا یہ پہلا مرحلہ ہے جس سے ایمان کا راستہ آسان ہوجاتا ہے اور دوسرا معنی ہے جوہرِ ایمان کو نشو و نما دینا۔ یعنی قرآن وسنت سے ایمان کے جو تقاضے ہمارے سامنے آتے ہیں ان میں سے ایک ایک کو جلا دینا اور پروان چڑھانا ہے۔ اس میں فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ قیام لیل اور دن کی مختلف نمازیں بھی شامل ہیں۔ فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانا ہے۔ اپنے باطن کی صفائی کے لیے صیام رمضان کے ساتھ ساتھ نفلی روزوں کی عادت ڈالنا بھی ہے۔ لوگوں کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ ہر طرح کی مروت، ہمدردی اور غمگساری بھی شامل ہے۔ جس میں عیادتِ مریض بھی ہے، حقِ ہمسائیگی بھی ہے، حقِ قرابت بھی ہے، گرے ہوئے لوگوں کی ہر طرح مدد کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ اس لحاظ سے یہ اصلاح کا ایک وسیع سلسلہ ہے جس میں اپنی ذات، اپنے احباب، اپنے اقربا اور گردوپیش کی ساری زندگی شامل ہے۔ ان تمام کو لادینیت اور بدعملی کی آلائشوں سے پاک کرنا اور اسلامی اقدار اور ایمانی انوار کو فروغ دینا اصحابِ ایمان کی وہ صفت ہے جسے زکوٰۃ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ ۔ (المومنون : 5) (وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ) اہلِ ایمان کی ایک اور صفت اصحابِ ایمان کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یعنی جسم کے وہ حصے جنھیں چھپانا ضروری ہے۔ انھیں کھولنے اور عریاں کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ نہ وہ دوسروں کے ستر پر نگاہ ڈالتے ہیں اور نہ اسے برداشت کرتے ہیں کہ کوئی ان کے ستر پر نگاہ ڈالے۔ آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ : ” کوئی شخص مجھے عریاں حالت میں دیکھے یعنی اس کی نظر میرے ستر پر پڑے اس سے بہتر ہے کہ مجھے آسمانوں سے گرادیا جائے اور میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں “۔ اور یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے اور عورت کاستر ہاتھ پائوں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ہے۔ اب اس کی شکایت کس سے کی جائے کہ حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ کی بیٹیاں مختلف کھیلوں میں شریک ہو کر ٹیوی پر اپنے جسموں کی نمائش کرتی ہیں اور ڈراموں اور کمرشل میں کام کرنے والی بہو بیٹیاں اپنے نازوانداز، اپنے جسم کے مختلف زاویوں اور اپنی ادائوں سے دنیا کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ ہم کر سٹن کیلر کی امت سے تعلق رکھتی ہیں، ہمار افاطمہ اور عائشہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی حالت دیکھ کر تو بعض دفعہ بےساختہ کہنے کو جی چاہتا ہے : بانجھ ہوجائیں زمینیں لڑکیاں پیدا نہ ہوں اے خدا شہنازگل سی بیٹیاں پیدا نہ ہوں پھول پیدا ہوں مگر شاخوں کی آرائش رہیں لڑکیاں پیدا ہوں لیکن تتلیاں پیدا نہ ہوں اور جہاں تک مردوں کا تعلق ہے انھوں نے فری سٹائل کشتیوں، کبڈی اور بعض دوسری کھیلوں سے امتیاز ہی ختم کرڈالا ہے کہ مرد کا بھی کوئی ستر ہوتا ہے۔ دوسرا مفہوم اس آیت کا یہ ہے کہ وہ اپنی عصمت وعفت کو محفوظ رکھتے ہیں۔ یعنی صنفی معاملات میں آزادی نہیں برتتے۔ شہوانی خواہشات کو کنڑول میں رکھتے ہیں اس کے استعمال میں بےلگام نہیں ہوتے۔ وہ ان کو صرف وہیں آزادی دیتے ہیں جہاں اس کا حق ان کو حاصل ہے۔
Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

بجز اپنی بیویوں اور اپنی کنیزوں کے، سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں

اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُمَلُوْمِیْن۔ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ ۔ (المومنون : 6، 7) (بجز اپنی بیویوں اور اپنی کنیزوں کے، سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔ البتہ ! جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ سابقہ آیت کریمہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ جو اصحابِ ایمان اور اللہ والے ہوتے ہیں وہ اپنی شرمگاہوں کی اس طرح حفاظت کرتے ہیں کہ وہ جنسی تعلق کو اپنے لیے ایک عیب سمجھتے ہیں۔ وہ بالکل راہبوں اور جوگیوں کی طرح زندگی بھر نہ شادی کرتے ہیں اور نہ کسی اور طرح اس تعلق کے قریب جاتے ہیں۔ چناچہ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی اس طرح حفاظت کرتے ہیں کہ بیویوں اور کنیزوں کے سوا صنفی تعلق کسی اور سے قائم نہیں کرتے۔ وہ چونکہ اپنے اللہ پر ایمان لائے ہیں اس کی شریعت کو انھوں نے اپنا دستورالعمل بنایا ہے اور اس کے رسول کو اپنا آئیڈیل اور اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لیے جہاں اس کی شریعت کسی چیز کی اجازت دیتی ہے تو وہ اجازت کو اپنے لیے ذریعہ فلاح سمجھتے ہیں اور جہاں کسی چیز سے روکتی ہے تو اس سے رک جانے کو اللہ کی رضا کا راستہ جانتے ہیں۔ وہ اپنے صنفی تعلقات میں نہ تو بالکل سانڈھ بن جانتے ہیں کہ آبروئیں برباد کرتے پھریں اور انسانی معاشرے کو لاعلاج امراض کا شکار کردیں اور نہ وہ اپنے اوپر غیر ضروری پابندیاں لگا کر رہبانیت کا راستہ اختیار کرکے فطرت سے جنگ کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں نکاح کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اپنی بیویوں سے صنفی تعلق قائم کریں۔ اسی طرح لونڈیوں اور کنیزوں سے بھی جنسی تعلق قائم کرنے کی اجازت دی ہے کیونکہ ایک وقت میں یہ بھی اسلامی معاشرے کی بہتری اور اصلاح کے لیے بہت ضروری تھا۔ بیوی سے یہ تعلق اس لیے جائز ہے کہ نکاح کو جائز طریقہ قرار دیا گیا ہے اور لونڈی سے اس تعلق کے جواز کا سبب یہ ہے کہ باقاعدہ قانونی حیثیت سے لونڈی اپنے آقا کی ملک میں آتی ہے اور وہ ملک اس کے آقا کو اس سے تمتع کا حق دیتی ہے۔ لیکن اب چونکہ غلامی کا دور گزر گیا ہے اسلام نے اپنی ہمہ گیر کوششوں سے غلامی کو ختم کرڈالا ہے اس لیے ازسر نو ان بحثوں کو زندہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ یہاں تو بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں صنفی ضرورت ان کا فطری تقاضا ہے۔ اللہ نے اس تقاضے کو قانونی شکل دے کر نکاح اور ملک کی صورت میں اس کی اجازت دی ہے۔ لیکن جو شخص ان دونوں جائز طریقوں سے تجاوز کرتا ہوا کوئی اور راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ حد سے تجاوز کرنے والوں میں شمار ہوگا اور اسلامی شریعت میں حد سے تجاوز کو زنا کہا گیا ہے جس پر حد زنا جاری کی جاتی ہے۔ متعہ کا رد بعض علما نے انھیں آیات سے متعہ کی حرمت کو ثابت کیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ایک مومن کے لیے صنفی خواہشات کی تکمیل کے دوہی طریقے ہیں جنھیں قرآن کریم نے جائز ٹھہرایا ہے۔ ایک ہے ” منکوحہ بیوی “ اور دوسری ہے ” مملوکہ لونڈی “۔ اس کے علاوہ تیسری ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں صنفی تعلق پیدا کیا جاسکے۔ جو شخص کسی عورت سے متعہ کرتا ہے تو یہ ممتوعہ عورت نہ تو بیوی کے حکم میں داخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میں۔ لونڈی تو ظاہر ہے کہ وہ نہیں ہے اور جہاں تک بیوی ہونے کا تعلق ہے اسے بیوی بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ زوجیت کے لیے جتنے قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ نہ وہ مرد کی وارث ہوتی ہے، نہ مرد اس کا وارث ہوتا ہے۔ نہ اس کے لیے عدت ہے، نہ طلاق۔ نہ نفقہ، نہ ایلاء اور ظہار اور لعان وغیرہ۔ بلکہ چار بیویوں کی مقررہ حد سے بھی وہ مستثنیٰ ہے۔ پر جب وہ بیوی اور لونڈی دونوں کی تعریف میں نہیں آتی تو لامحالہ وہ ان کے علاوہ کچھ اور میں شمار ہوگی۔ جس کے طالب کو قرآن حد سے گزرنے والا قرار دیتا ہے۔ علامہ شبلی نے اپنی کتاب ” المامون “ میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ خلیفہ مامون اہل تشیع کے دلائل سے متاثرہو کر متعہ کے جواز کا قائل ہوگیا اور اس نے شہر میں متعہ کے جواز کا اعلان کرنے کا حکم دیا۔ جب شیخ الاسلام کو علم ہوا تو وہ خلیفہ کے پاس آئے اور اس سے آکر بات کی اور انھیں آیات سے استدلال کیا اور مامون سے پوچھا کہ ممتوعہ عورت لونڈی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ تو کیا بیوی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ تو شیخ الاسلام نے کہا کہ اس کے علاوہ تو ہر تعلق قرآن کریم نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کو حد سے تجاوز کرنے والا قراردیا ہے۔ مامون کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا تو دوبارہ شہر میں متعہ کے حرام ہونے کا اعلان کرایا گیا۔ اہلِ تشیع کی جسارت اہلِ تشیع متعہ کو مباح ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کے فضائل بیان کرنے میں انتہائی مبالغہ سے کام لیتے ہیں۔ پیش نظر آیات کی موجودگی میں میں نہیں سمجھتا کہ وہ کون سے دلائل کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن دلائل سے قطع نظر ایک بات نہایت حیران کن ہے کہ جس کام کو وہ فضیلت اور ثواب کا کام سمجھتے ہیں اور لوگوں کو اس کی ترغیب بھی دیتے ہیں اسی کام کو وہ اپنی بچیوں اور اپنی بہنوں کے لیے کبھی سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بازاری عورتوں کا ایک بازار لگا رہے ؟ یا طبقہ امرا کے لوگ غریب بچیوں سے متعہ کے نام پر عیاشی کرتے رہیں ؟ اگر ایک فعل ایک خاندان کے لیے باعث ننگ وعار ہے تو دوسرے کسی خاندان کے لیے باعث عزو وقار کیسے ہوسکتا ہے ؟ اہلِ تشیع کی جسارت کا عالم تو یہ ہے کہ وہ تو نبی کریم ﷺ کے خاندان کو بھی اس سے بالا تر نہیں سمجھتے۔ ضیاء القرآن کے محترم مصنف نے ایک حوالہ دیا ہے ہم نہایت شرم کے احساس کے ساتھ اسے یہاں نقل کررہے ہیں۔ اس مسئلہ کی تحقیق کرتے ہوئے جب میری نظر شیعہ کی مشہور کتاب تہذیب الاحکام جلد 7 صفحہ 271 مطبوعہ نجف اشرف باب تفصیل احکام النکاح جس کے مصنف شیخ الطائفہ ابی جعفر الطوسی ہیں کی اس عبارت پر پڑی ولا بأس بالتمتع بالھاشمیۃ کہ خاندانِ نبوت کی خواتین کے ساتھ بھی متعہ کرنے میں حرج نہیں تو نہ پوچھئے مجھ پر کیا گزری۔ میرا سر چکرانے لگا اور آنکھوں میں خون اترآیا اور میں اپنے آپ سے پوچھنے لگا کہ کیا یہ مذہب ان لوگوں کا ہے جو اہل بیت پاک کی محبت اور تعظیم و تکریم کو اپنا دین و ایمان بتاتے ہیں ؟ کیا اس دعویٰ محبت کی یہ حقیقت ہے ؟ کیا تعظیم و تکریم کے مدعی اتنی گستاخی کے جواز کا فتویٰ دے سکتے ہیں ؟ العیاذ باللہ العیاذ باللہ تعالیٰ
Ayahs 23:7–8

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

البتہ ! جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھنے والے ہیں

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ ۔ (المومنون : 8) (اور وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھنے والے ہیں۔ ) اہلِ ایمان کی ایک اور صفت اہلِ ایمان کی پانچویں اور چھٹی صفت کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی امانتوں کا پاس رکھنے والے ہیں۔ امانت کا لفظ بڑا وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو صلاحیتیں اور قوتیں عطا فرمائی ہیں یہ اس کی انسانوں کے پاس امانتیں ہیں۔ زندگی سب سے بڑی امانت ہے۔ جوانی زندگی کا ایک حصہ ہے لیکن اپنی اہمیت کے پیش نظر الگ سے اسے امانت کا درجہ دیا گیا ہے۔ مال و دولت بھی اللہ کی امانت ہے اور مال و دولت کے حصول کی صلاحیت بھی اللہ کی امانت ہے۔ ذہنی صلاحیتیں حصول علم کے ذرائع اور پھر اسے عام کرنے کی کوششیں بھی اللہ کی امانت ہیں۔ ان سب کے بارے میں الگ الگ پوچھا جائے گا کہ تم نے ان امانتوں کا حق کیسے ادا کیا ؟ کیا یہ امانتیں امانتیں رکھنے والے کی ہدایت کے مطابق صحیح مصرف میں صرف کی گئیں یا ان میں خیانت کی گئی ؟ اسی طرح اولاد بھی اللہ کی امانت ہے۔ عہدہ ومنصب بھی اللہ کی دین ہے۔ وجاہت اور شخصیت بھی اللہ کا عطیہ ہے۔ ان سب کے بارے میں پوچھاجائے گا۔ اسی طرح انسان جو ایک دوسرے کے پاس امانتیں رکھواتے ہیں یا دوسروں کے جو حقوق کسی شخص کے ذمہ عائد ہوتے ہیں یہ بھی امانت کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ اہل ایمان ان تمام امانتوں کو اللہ کا حق جان کر ادا کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔ اہلِ ایمان کی ایک اور صفت اصحابِ ایمان کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ عہد کا پاس کرنے والے ہوتے ہیں۔ عہد میں وہ تمام عہدومیثاق شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لیے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطے سے اپنی شریعت کی شکل میں اس دنیا میں لیے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام عہدومیثاق بھی اس میں شامل ہیں جو ہم نے ایمان کی صورت میں اپنے اللہ سے کیے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام معاہدات اور تمام قول وقرار جو ہم نے مختلف قوموں اور مختلف افراد سے کیے ہیں، خواہ وہ تحریری شکل میں ہوں یا زبانی حد تک یا معاشرے کے معروف کی صورت میں ہم اسے قبول کرچکے ہیں یہ تمام بھی عہدومیثاق میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ایسی تمام امانتوں اور تمام عہدومیثاق کی پاس داری کا حکم دیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا شاید ہی کوئی خطبہ ایسا ہوگا جس میں آپ نے یہ ارشاد نہ فرمایا ہو : لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ” اس آدمی کا ایمان نہیں جس میں امانت کی پابندی نہیں “۔ اور لادین لمن لا عھد لہ ” اور اس آدمی کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں “۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے منافق کی علامتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ چار خصلتیں ہیں کہ جس میں وہ چاروں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک پائی جائے اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے۔ جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے وہ چار خصلتیں یہ ہیں کہ 1 جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔ 2 جب بولے تو جھوٹ بولے۔ 3 جب عہد کرے تو توڑ دے۔ 4 اور جب کسی سے جھگڑے تو اخلاق ودیانت کی ساری حدیں پھلانگ جائے۔ وہ اصحابِ ایمان جنھیں اللہ نے کامیابی سے نوازا ہے وہ امانتوں کی بھی پاسداری کرتے ہیں اور عہدومیثاق کا بھی پاس کرتے ہیں۔
Ayah 23:9

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں

وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوٰ تِھِمْ یُحَافِظُوْنَ ۔ (المومنون : 9) (اور وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ ) ایک اور صفت کا بیان اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کی ایک اور صفت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ ان صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع ہوا تھا اور نماز ہی پر ختم کیا جارہا ہے۔ البتہ ! فرق یہ ہے کہ پہلے نماز کی روح یعنی نماز کے اندر خشوع کا ذکر کیا گیا تھا اور اب نماز کی محافظت یعنی اس کی دیکھ بھال اور اس کے اہتمام کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اور دوسرا فرق یہ ہے کہ پہلے صلوٰۃ کے لفظ کو واحد لایا گیا تھا اور اس آیت میں جمع لایا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں جنسِ نماز مراد تھی اور یہاں ایک ایک وقت کی نماز فرداً فرداً مراد ہے۔ نماز جہاں بھی ہو اور جب بھی ہو اگر اس میں خشوع نہیں تو وہ روح سے خالی نماز ہے۔ جس سے نما زکی صورت تو وجود میں آسکتی ہے نماز کی حقیقت نہیں اور صرف کسی چیز کی صورت حقیقت کے بغیر دیر تک باقی نہیں رہا کرتی۔ اور یہ صورت سے حقیقت کا سفر تب ممکن ہوتا ہے جب صورت اور سیرت دونوں کی محافظت کی جائے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ جیسے جیسے صورت بہتر ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے حقیقت کی طرف دھیان بڑھتا جاتا ہے اور جیسے جیسے حقیقت کی طرف دھیان بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے صورت کے اہتمام میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے اصل توجہ سب سے پہلے صورت پر ہوتی ہے جس کے اندر سے حقیقت وجود میں آتی ہے۔ اس لیے اہل ایمان کی یہ صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں یعنی اس کے ایک ایک پہلو کی نگہداشت کرتے ہیں۔ وہ اوقاتِ نماز، آدابِ نماز، اور ارکان و اجزائِ نماز، غرض نماز سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کی پوری طرح نگہداشت کرتے ہیں۔ نماز کی تیاری کے لیے صاف کپڑوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ جسم کی پاکیزگی کا خیال کرتے ہیں۔ وضو، سنن، مستحبات اور آداب کے اہتمام کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ نماز کبھی وقت ٹال کر نہیں پڑھتے۔ جب تک ایک رکن کی ادائیگی نہیں ہوجاتی دوسرے رکن کی طرف انتقال نہیں کرتے۔ یعنی تعدیلِ ارکان کا اہتمام رکھتے ہیں۔ نماز میں جو کچھ پڑھتے ہیں اس کے ایک ایک لفظ پر غور کرتے ہیں۔ اس کے معنی اور مفہوم پر توجہ دیتے اور اپنے دل میں اسے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حتی الامکان نماز جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ وقت سے پہلے مسجد میں پہنچتے ہیں اور نہایت اطمینان سے نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے نکلتے ہیں۔ دل ان کا مسجد میں اٹکا رہتا ہے۔ جب تک نماز میں رہتے ہیں یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے سامنے ہیں۔ ان کے دل پگھلتے اور آنکھوں سے آنسو برستے ہیں۔ اس طرح سے خشوع کی طرف ان کا سفر جاری رہتا ہے اور یہ سب کچھ وہ اس لیے کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ نماز باغ جنت کا پودا ہے اس کی طرف سے ذرا سی غفلت اور ناقدری اس کے بےثمر ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر اسے پورے اہتمام سے قائم رکھا گیا تو دین کا ایک ایک ستون باقی رہے گا اور اگر اس کی طرف سے لاپرواہی برتی گئی تو دین کی عمارت کو کسی وقت بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : اَلصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ مَنْ اَقَامَھَا فَقَدْ اَقَامَ الدِّیْنِ وَمَنْ ھََدَمَھَا فَقَدْ ھَدَ مَ الدِّیْنِ ” نماز دین کا ستون ہے جس نے اسے قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا اور جس نے اسے گرا دیا اس نے دین کو ڈھا دیا “۔
Ayahs 23:10–11

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

اور اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے

اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْوٰرِثُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ط ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (المومنون : 10، 11) (یہی لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے۔ اور اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ ) فردوس کی وراثت کے اصل حقدار وہ اہل ایمان جو متذکرہ بالا صفات سے موصوف ہوں گے اور زندگی بھر انھوں نے اپنے اندر ان صفات کو پیدا کرنے اور باقی رکھنے میں محنت کی ہوگی تو وہ اپنے اس ایمان وعمل کے باعث اللہ کے فضل کے مستحق ٹھہریں گے۔ جس کا نتیجہ اور ثمرہ یہ ہوگا کہ اللہ انھیں وہ جنت عطا فرمائے گا جس سے ان کے جدِ امجد کو نکالا گیا تھا۔ چناچہ اب وہ اپنے جدِ امجد سمیت اس میراث کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ وہ دنیا میں اپنے باپ کے اور اپنے ازلی دشمن شیطان کو دنیا میں شکست دے کر جنت میں داخل ہوں گے۔ اس لیے اب انھیں نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔ وہاں شیطان کی دسترس کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ وہ اپنے اللہ کی عظیم نعمتوں سے سرافراز کیے جائیں گے۔ فردوس جنت کا اعلیٰ ترین مقام ہے اور اس سے وہ لوگ نوازے جاتے ہیں جو اپنی مسلسل قربانیوں، ایمان پر استقامت اور اعمال و اخلاق کی بہترین خوبیوں کے باعث اللہ کا اعلیٰ ترین قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ فردوس کے اعلیٰ ترین مقام ہونے کے باعث تمام سابقہ امتوں میں بھی اس لفظ کا استعمال ملتا ہے اور تمام انسانی زبانوں میں تلفظ کے اختلاف کے باوجود مشترک طور پر اس کا مادہ پایا جاتا ہے۔ سنسکرت میں ” پرَویشا “ قدیم کلدانی زبان میں ” پَرویسا “ قدیم ایرانی زبان (ژند) میں ” پیری وائزا “ عبرانی میں ” پر ویس “ ارمنی میں ” پرویز “ سریانی میں ” پر ویسو “ یونانی میں ” پاراوانسوس “ لاطینی میں ” پارا ڈائسس “ اور عربی میں ” فردوس “۔ یہ لفظ ان سب زبانوں میں ایک ایسے باغ کے لیے بولا جاتا ہے جس کے گرد حصار کھنچا ہوا ہو۔ وسیع ہو آدمی کی قیام گاہ سے متصل ہو اور اس میں ہر قسم کے پھل خصوصاً انگو رپائے جاتے ہوں بلکہ مختلف زبانوں میں نو منتخب پالتو پرندوں اور جانوروں کا پایا جانا اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ قرآن سے پہلے عرب کے کلام جاہلیت میں لفظ فردوس مستعمل تھا اور قرآن میں اس کا اطلاق متعدد باغوں کے مجموعے پر کیا گیا ہے۔ سورة کہف میں ارشاد ہوا ہے : کانت لھم جنت الفردوس نزلاً ” ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہیں “۔ اس سے جو تصور ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ فردوس ایک بڑی جگہ ہے جس میں بکثرت چمن اور گلشن پائے جاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)