Ayahs 23:112–114قٰـلَ کَمْ لَبِثْـتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ ۔ قَالُوْا لَبِثْـنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ ۔ قٰـلَ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْاَنَّـکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔
(المومنون : 112 تا 114)
(اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا سالوں کے حساب سے تم زمین میں کتنا عرصہ رہے ہو۔ وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم وہاں ٹھہرے ہیں، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے۔ ارشاد ہوگا تم تو بس تھوڑی ہی مدت رہے ہو، کاش تم نے یہ اس وقت جانا ہوتا۔ )
طولِ حیات کا مغالطہ
قریش کے عقیدے کی سب سے بڑی خرابی کا سبب شرک ہے جس نے ان کے انفرادی اور اجتماعی تشخص کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور ان کی بدکرداری اور غیرسنجیدگی کا سب سے بڑا سبب قیامت کا انکار ہے اور قیامت کے بارے میں ان کا تصور یہ ہے کہ اولاً تو اس کے آنے کا کوئی امکان نہیں اور اگر اس کی آمد فرض کر بھی لی جائے تو جب بھی اس کا وقوع ابھی دور ہے، تو ابھی سے اپنا عیش مکدر کیوں کیا جائے۔ قیامت کے دن ان کی یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی لیکن تب اس کا انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ لیکن وہاں جس طرح ان کے ساتھ مکالمہ ہونے والا ہے جو انھیں اپنی غلطی کے اعتراف پر مجبور کردے گا، وہ مکالمہ انھیں سنایا جارہا ہے تاکہ اگر ان کے اندر نصیحت قبول کرنے کا کسی حد تک بھی مادہ موجود ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ چناچہ اس مکالمے کی ابتداء اس طرح ہوگی کہ اے قیامت کا انکار کرنے والو ! یہ بتائو کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ رہے ہو تو وہ جواب میں کہیں گے کہ ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ۔ ہمیں اپنی غفلت کے باعث ٹھیک طرح سے اندازہ نہیں، آپ ان لوگوں سے پوچھ لیجئے جو زندگی کے دنوں کی گنتی کرتے رہے ہیں۔ پروردگار ارشاد فرمائے گا کہ تم آخرت کے مقابلے میں دنیا میں بہت قلیل عرصہ رہے ہو، لیکن تم اسی قلیل کو کثیر سمجھ کر اس کے عیش و عشرت کو ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ آج اگر تمہیں اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو تا ابد ہے۔ دنیا کی زندگی اس کے مقابلے میں فانی بھی ہے اور بہت مختصر بھی۔ لیکن کاش تم نے اس بات کو دنیا میں سمجھا ہوتا تو تمہاری ہدایت کا سبب بن سکتی تھی، لیکن آج اس کا کیا فائدہ۔
بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ یہ مکالمہ کافروں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نہیں ہوگا بلکہ کافر خود آپس میں یہ باتیں کریں گے۔ پہلی آیت میں ” قال “ کا فائل اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ قائل یعنی کوئی کہنے والا ہے جو ظاہر ہے کہ ان ہی میں سے ہوگا۔ اس کے پوچھنے پر دوسرے لوگ جواب دیں گے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا قیام دنیا میں ایک دن کا تھا یا ایک دن کا بھی کچھ حصہ۔ لیکن ساتھ ہی بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم سے کیا پوچھتے ہو، ان لوگوں سے پوچھو جو اس کا شمار کرتے رہے ہیں، لیکن ایسے لوگ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گے۔ ہم تو اس وقت اپنے خطرناک مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں اور ہولناک عذاب ہمارے انتظار میں ہے اور تم ہم سے دنیا میں ہمارے قیام کی تفصیلات جاننا چاہتے ہو۔ پھر ان ہی میں سے کوئی صاحب کہیں گے، معلوم ہوتا ہے یہ وہ صاحب ہوں گے جو دنیا میں ان کے نزدیک بہت عقیل و فہیم سمجھے جاتے تھے کہ صحیح بات تو یہی معلوم ہوتی ہے کہ دنیا میں تمہاری مدت قیام بہت مختصر تھی۔ لیکن اس کے جاننے اور احساس کرنے کا وقت دنیا تھی، آج تو یہ باتیں بیکارِ محض ہیں۔
مکالمے کی اس تشریح پر یہ اہل علم سورة طٰہٰکی آیات 102 تا 104 سے استدلال کرتے ہیں جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کافر آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے یہ کہیں گے کہ تمہارا قیام دنیا میں دس دن سے زیادہ نہ تھا اور پھر ان میں سب سے زیادہ دانا و بینا آدمی یہ کہے گا کہ میرے نزدیک تو یہ قیام ایک دن سے زیادہ نہیں تھا۔ سورة طٰہٰ کی ان آیات کو دیکھتے ہوئے یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ اہل جہنم کی یہ گفتگو ان کے اپنے درمیان ہوگی، اللہ تعالیٰ یا کسی فرشتے کے ساتھ نہیں۔ لیکن جب ہم آنے والی آیت کریمہ کو دیکھتے ہیں جس میں کفار کو ملامت کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ یہ ساری کو تاہیاں اور گمراہیاں اس سبب سے ہوئی ہیں کہ تم نے یہ سمجھا کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے۔ اس میں چونکہ پروردگار کا ارشاد نقل کیا گیا ہے، اس سے یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ یہ گفتگو بھی کفار اور پروردگار کے درمیان ہوئی ہو، اور اس کا بھی امکان ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری سے پہلے جب میدانِ حشر میں انتظار میں کھڑے تھے، یہی گفتگو ان کے درمیان بھی ہوئی ہو اور بعد میں پروردگار سے بھی اس سوال و جواب کی نوبت آئی ہو۔ بہرحال کہنا یہ ہے کہ جس تصور نے ان کی آخرت برباد کر ڈالی اس کی اصلاح آخرت میں جا کے ہوگی لیکن اس وقت اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ممکن ہے کسی کو یہ خیال گزرے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت قلیل اور بےحقیقت ہے، لیکن دنیا میں رہتے ہوئے بعض دفعہ ایک ایک دن گزارنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ قلت و کثرت اور اہم اور غیراہم کا فیصلہ اس وقت ہوتا ہے جب غفلت کا غبار چھٹتا ہے۔ غفلت میں گزرنے والی زندگی گزرتے ہوئے بہت طویل ہوتی ہے لیکن جب وہ اپنے انجام سے دوچار ہوتی ہے یا کسی مقصد سے ہمکنار ہوتی ہے تو تب اندازہ ہوتا ہے کہ اسے تو زندگی کہنا، زندگی کی توہین ہے اور اس کی طوالت دراصل غفلت کی طوالت ہے اور جیسے جیسے آدمی اس فکر کو مجلا اور مصفا کرتا چلا جاتا ہے ویسے ویسے اس کا یہ احساس توانا ہوتا جاتا ہے۔
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا
Ayah 23:115اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰـکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّـکُمْ اِلَیْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ ۔ (المومنون : 115)
(تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہم نے تم کو بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے۔ )
عَبَثًا … عبث کا معنی ہوتا ہے، فضول یعنی بےمقصد۔ (2) کھیل۔
انسان کی کو تاہی فکر اور اس کا نتیجہ
چونکہ عَبَثًا استعمال ہوا ہے۔ ترکیب کے اعتبار سے ہم اس کا ترجمہ کھیل کے طور پر بھی کرسکتے ہیں اور کھیل کے لیے بھی۔ پہلے ترجمہ کے اعتبار سے مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے تمہیں یونہی بطور تفریح پیدا کردیا تھا، تمہاری تخلیق کا کوئی مقصد اور کوئی غرض وغایت نہیں تھی اور دوسرے ترجمے کے اعتبار سے مطلب یہ ہوگا کہ تم محض اس لیے پیدا کیے گئے ہو کہ کھیلو، کودو، عیش و عشرت میں وقت گزارو، لاحاصل مصروفیات میں لگے رہو، تمہاری زندگی کا کوئی مقصد نہیں جس کے بارے میں کل کو تم سے سوال کیا جائے۔ چناچہ ان ہی تصورات کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان عاقبت اور آخرت سے لاپرواہ ہوگیا۔ اس نے یہ گمان کرلیا کہ مجھے چونکہ محض ایک کھیل کے طور پر یا کھیل کود کے لیے پیدا کیا گیا ہے جس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، میں ایک ایسا شتر بےمہار ہوں جسے ہر جگہ گھومنے پھرنے کی آزادی حاصل ہے اور اس کے سپرد کوئی ذمہ داری نہیں۔ میں جو چاہوں کروں، میرے اعمال کی کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایسا سوچنے والا شخص کبھی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کے جانا ہے اور وہاں اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے۔
Ayah 23:116فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ج لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ج رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ ۔ (المومنون : 116)
(پس بالا و برتر ہے اللہ، پادشاہِ حقیقی، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، عرشِ کریم کا مالک۔ )
انسان کی فکری گمراہیوں کی تردید
جن تصورات نے انسان کی عاقبت برباد کی اور زندگی کے حقیقی مقاصد سے غافل کردیا اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عبث اور بےمقصد پیدا کیا ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے بارے میں نہایت گستاخی اور گمراہی کی بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت ہی بلندو برتر ہے۔ اس بلندو برتر ہستی کی شان سے یہ بات نہایت بعید ہے کہ وہ کوئی کار عبث کرے اور محض ایک کھیل تماشا اور تفریح کی خاطر ایک جہان پیدا کر ڈالے اور ایسا انسان تخلیق کرے جس کے دل و دماغ کی رعنائیاں خود بولتی ہوں کہ ایسی مخلوق نہ تو تفریح کا سامان ہوسکتی ہے اور نہ اسے بےمقصد کہا جاسکتا ہے۔
دوسری بات فرمائی کہ وہ پادشاہِ حقیقی ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی رعایا میں اچھے اور برے انسانوں میں یکساں سلوک کرے۔ اپنے وفاداروں کو انعام سے محروم رکھے اور غداروں کو غداری کے لیے کھلی چھٹی دے دے اور پھر ایسے پادشاہِ حقیقی سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی رعایا میں عدل و انصاف نہ کرے، ظالم کو ظلم کی سزا نہ دے اور مظلوم کی اشک شوئی نہ کرے۔ ظالم کو اس بات کا کھٹکا نہ ہو کہ ایک ایسی عدالت کا دن بھی آنے والا ہے جب مجھے اپنی زیادتیوں کی اس طرح سزا ملے گی کہ اس کا کوئی حوالہ بھی مخفی نہیں رہے گا اور جس میں مظلوم کو کوئی امید نہ ہو کہ کبھی میری مظلومیت بھی رنگ لائے گی اور میرا پیدا کرنے والا اور میرا پادشاہِ حقیقی کبھی ظالم سے میرا انتقام لے گا۔
لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ … اس کے سوا کوئی اور اِلٰہ نہیں۔ وہی اس کائنات کا معبود بھی ہے اور حکمران بھی۔ اس کی پرستش اور اس کی اطاعت سے انحراف کرنے والے کی جب گرفت ہوگی تو کوئی اس خیال میں نہ رہے کہ وہ کسی دوسرے کی سعی اور سفارش سے اس کی گرفت سے بچ نکلے گا۔ اس کی زمین پر اس کی مرضی کو نافذ کرنے والے اور اس کے عطا کردہ ضابطہ حیات کو زندگی کا چلن اور قانون بنانے والے قیامت کے دن سرخرو ہوں گے اور اس کی نافرمانی اور اس کی الوہیت میں شریک کرنے والے اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ٹھہریں گے۔
رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ … عرشِ کریم کا مالک۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اقتدارِ مطلق کی تعبیر ہے، لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ عرش کا کوئی وجود نہیں۔ اس کا ایک وجود بھی ہے جو تمام کائنات کو گھیرے ہوئے ہے۔ وہ کیسا ہے ؟ یہ ہم نہیں جانتے۔ جو اس عرش کریم کا مالک ہے اس کی حکومت و اقتدار کی وسعتوں کی بےپناہی کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ جس طرح وہ صاحب جبروت اور پرہیبت حکمران ہے، اسی طرح اس کا کرم اور اس کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے۔ یہ اسی کے کرم کا نتیجہ ہے کہ اس نے اہل زمین کو مہلت عمل دے رکھی ہے۔ سنبھلنے والوں کو سنبھلنے کا موقع دیتا ہے اور نافرمانوں کو کھل کھیلنے کا، تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ جس عظیم ذات کی زمین پر ہم نے نافرمانی اور بغاوت کے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں وہ پکڑنے میں کبھی جلدی نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب رہتی ہے اور اس کی قدرت کی بےپناہی کبھی اس خیال سے گراں بار نہیں ہوتی کہ مجرم طاقت حاصل کرکے ہمارے ہاتھ سے بچ نکلیں گے۔ کوئی اس کی پکڑ سے دور نہیں اور کوئی اس کی قوت کو چیلنج نہیں کرسکتا۔
Ayah 23:117وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ لا لاَ بُرْھَانَ لَـہٗ بِہٖ لا فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ط اِنَّـہٗ لاَ یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ (المومنون : 117)
(اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور اِلٰہ کو پکارے گا جس کے حق میں اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے اور کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ )
آغاز و اختتام میں یکسانی
گزشتہ آیت کریمہ میں توحید کے مضمون کو اس قدر مکمل اور مبرہن کردیا گیا ہے کہ کسی دماغ میں شرک کے غبار کی بھی امید نہیں کی جاسکتی، لیکن اس کے باوجود بھی کوئی شخص اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور اِلٰہ کو پکارتا ہے جبکہ کسی اور کی الوہیت کی دلیل کا وجود ہی کوئی نہیں تو ایسے شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے۔ یعنی اب اسے اپنے رب سے واسطہ پڑنے والا ہے، وہ اس سے بازپرس کرے گا کہ تم نے ایسی عظمتوں اور شانوں والے خدا کے ساتھ کسی دوسرے کو بطور اِلٰہ شریک کرکے اتنی بڑی جسارت کا جو ارتکاب کیا ہے تو تمہارے پاس اس کا جواب کیا ہے۔ دنیا میں سخن سازی کی جاسکتی ہے، دلیلیں بھی گھڑی جاسکتی ہیں اور ہٹ دھرمی بھی دکھائی جاسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ باتیں چلنے والی نہیں۔ اس وقت ایسے مشرک سے کوئی جواب بن نہیں پڑے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ قریش کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ جیسے پادشاہِ حقیقی کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو وہ ایک ایسی بےسروپا بات کہتا ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کافر ہے اور کافر نہ دنیا میں فلاح پاتا ہے نہ آخرت میں فلاح پائے گا۔
اس سورت کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ مومن ہی فلاح پانے والے ہیں۔ پھر ان کی صفات بیان کی گئی تھیں اور فلاح کے حقیقی تصور کو واضح کیا گیا تھا۔ اب اس سورت کو ختم کرتے ہوئے پھر وہی بات دہرائی گئی ہے کہ فلاح مومن کے لیے مقدر ہے، کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو انتہا درجہ مربوط ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس کے ربط میں اس حد تک غموض اور گہرائی ہے جس کو جاننے کے لیے جہاں قرآن کا گہرا علم درکار ہے وہیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سب سے بڑا سہارا ہے۔
Ayah 23:118وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُالرّٰحِمِیْنَ ۔ (المومنون : 118)
(اور دعا کیجیے کہ اے رب ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ معصوم ہیں تو پھر استغفار کا مفہوم کیا ہے ؟
سورت کے آخر میں آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے واسطہ سے آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کو طلب مغفرت و رحمت کی دعا تلقین کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہاں تک رحم کا تعلق ہے یہ تو ایک وسیع المعنی لفظ ہے۔ ایک عام آدمی بھی اللہ تعالیٰ سے رحم کا طلبگار ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے انتہائی مقرب ہیں وہ بھی اس سے ہمیشہ رحم کے خواستگار رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر جگہ اس لفظ کی معنویت میں گہرائی اور گیرائی پیدا ہوجاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مانگنے والے کو وہ کچھ ملتا ہے جو اس کے اپنے مقام و مرتبہ کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن جہاں تک استغفار اور طلب مغفرت کا تعلق ہے یہ دعا تو اس شخص کے لیے سزاوار ہے جس سے کبھی نہ کبھی گناہ کا صدور ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول معصوم ہوتے ہیں یعنی ان سے کبھی گناہ صادر نہیں ہوتا۔ اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول تو چمن نبوت کے گل سرسبد ہیں، ان سے گناہ کے صدور کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، تو پھر آپ کو یہ تلقین کرنا کہ آپ طلب مغفرت کی دعا کریں اس کا کیا مفہوم ہوسکتا ہے۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا استغفار درحقیقت امت کے گناہوں کی بخشش کے لیے ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ کی امت، آپ ﷺ کی اولاد اور آپ ﷺ کی سپاہ کی طرح ہے۔ جرنیل کو ہمیشہ اپنی سپاہ اور باپ کو ہمیشہ اپنی اولاد کی فکر رہتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو تو بھول سکتا ہے لیکن انھیں اپنی دعائوں میں کبھی نہیں بھولتا۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ ان کی خوبیاں اور کمزوریاں ہمیشہ جرنیل اور باپ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس مفہوم کے صحیح ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ یقینا اپنی امت کے لیے استغفار فرماتے تھے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ﷺ اپنے آپ کو بھول جاتے تھے یا آپ ﷺ اپنے لیے اس لیے استغفار نہیں کرتے تھے کیونکہ آپ معصوم تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ استغفار صرف گناہوں سے بخشش کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ مباح کاموں میں تدبیر کی غلطی پر بھی ہوتا ہے اور حسنات الابرار سیئات المقربین کے اصول کے مطابق بعض ایسی باتیں جو نیک لوگوں کی نیکیاں سمجھی جاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقام بلند کے حوالے سے انھیں فروگزاشت کہا جاسکتا ہے۔ ایسی فروگزاشتوں کے لیے استغفار ہمیشہ پیغمبر بھی کرتے رہے ہیں اور اسی کا یہاں آنحضرت ﷺ کو بھی حکم دیا جارہا ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بعض دفعہ استغفار گناہوں سے بخشش کے لیے نہیں ہوتا بلکہ ترقی درجات کے لیے بھی ہوتا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے درجات اور مقامات میں آج بھی برابر اضافہ ہورہا ہے اور قیامت کے دن مزید اضافہ ہوگا۔
دعا میں معنوی لطافت
اس دعا میں ایک لطیف معنویت بھی پائی جاتی ہے کہ آیت 108 میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دھتکارتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دور ہوجاؤ اب جہنم میں پڑے رہو اور مجھ سے کبھی بات کرنے کی جرأت نہ کرنا۔ اور اگلی آیت کریمہ میں اس کی وجہ یہ بتائی کہ تمہارے سامنے میرے بندے اور میرے پیغمبر پر ایمان لانے والے مجھ سے طلب مغفرت کرتے اور رحمت کی دعائیں مانگتے تھے تو تم ان کا ہمیشہ مذاق اڑاتے تھے۔ ان کی توہین کا بدلہ یہ ہے کہ آج میں تم سے بات تک کرنا نہیں چاہتا۔ اب سورت کے آخر میں اپنے انھیں بندوں کو جنھیں قیامت کے دن بیش از بیش نوازشات سے گراں بار کردیا جائے گا، حکم دیا جارہا ہے کہ جن دعائوں پر کافر تمہارا مذاق اڑاتے تھے، تم وہ دعائیں برابر اپنے اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہو۔ یہی دعائیں تمہارے لیے مغفرت و رحمت کے دروازے کی کلید ہیں۔ اس میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن یہ بات تمام صحابہ کرام ( رض) سے کہی جارہی ہے۔ اب اگر یہ لوگ اپنے معمول کے مطابق تمہارا مذاق اڑانا جاری رکھتے ہیں جبکہ انھیں صاف تنبیہ کی جاچکی ہے تو وہ خود ہی اپنے خلاف ایک مضبوط مقدمہ تیار کریں گے جس سے کل انھیں واسطہ پڑنے والا ہے۔