23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsروح القرآن

Ayah 23:24

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو اس کی قوم کے سرداروں نے، جنھوں نے کفر کیا، کہا کہ یہ تو بس تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، یہ چاہتا ہے کہ تم پر اپنی بزرگی جتلائے اور اگر اللہ تعالیٰ رسول ہی بھیجنا چاہتا تو وہ فرشتوں کو (رسول بناکر) نازل کرتا۔ اس طرح کی بات ہم نے اپنے پہلے آبائو اجداد میں تو نہیں سنی۔

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَاھٰذَآ اِلَّابَشَرٌ مِّثْلُکُمْ لا یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ ط وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِکَۃً مَّاسَمِعْنَا بِھٰذَا فِیْٓ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ ۔ (المومنون : 24) تو اس کی قوم کے سرداروں نے، جنھوں نے کفر کیا، کہا کہ یہ تو بس تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، یہ چاہتا ہے کہ تم پر اپنی بزرگی جتلائے اور اگر اللہ تعالیٰ رسول ہی بھیجنا چاہتا تو وہ فرشتوں کو (رسول بناکر) نازل کرتا۔ اس طرح کی بات ہم نے اپنے پہلے آبائو اجداد میں تو نہیں سنی۔ ) قومِ نوح کی مخالفت کے خدوخال اس آیت کریمہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جو رویہ اختیار کیا اور آپ کی دعوت کے جواب میں جو اعتراضات اٹھائے اور مخالفت میں جو لوگ پیش پیش رہے اس کا ایک منظر سامنے لاکر رکھ دیا گیا ہے۔ جس میں بڑی آسانی سے قریش کی مخالفت کے تمام خدوخال اس طرح نمایاں ہوجاتے ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کفر اور شرک کے علم برداروں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب اور مخالفت میں ہمیشہ ایک جیسے اعتراضات کیے۔ ان کا رویہ بھی ایک جیسا رہا اور ایک ہی طبقہ ہے جو ہمیشہ اس مخالفت میں پیش پیش رہا ہے۔ کسی بات میں بھی تو قریش نے ان سے مخالفت نہیں کی۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قریش کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے اور کر رہے ہیں یہ کن لوگوں کا طریقہ رہا ہے ؟ اور ایسا کرنے والے کس طرح کے انجام سے دوچار ہوئے ہیں۔ سب سے پہلی جو بات نمایاں کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی مخالفت میں جو لوگ پیش پیش تھے وہ ہمیشہ کی طرح اس قوم کے اہل ثروت اور اصحابِ اقتدار تھے۔ انھوں نے ہر دور کے گمراہ لوگوں کی طرح رسول کی دعوت کو اپنے اقتدار اور اپنے نام نہاد مقام و مرتبہ کے خلاف ایک سازش سمجھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اگر عوام نے پیغمبر کی دعوت کو قبول کرلیاتو ان کے اندر ایک ایسا شعور پیدا ہوگا جو ہماری خود ساختہ عظمتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ ہم نے ایک جیسے انسانوں میں جو اونچ نیچ اور ظالمانہ تفاوت پیدا کررکھا ہے اس کے پرزے اڑجائیں گے۔ یہ کل کو ہمارے برابر بیٹھیں گے بلکہ ہماری عظمتوں کو چیلنج کریں گے۔ ہر بات کو دلیل اور انسانیت کے ترازو میں تولیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صدیوں سے جو کچھ ہم اپنے لیے حاصل کرسکے ہیں وہ تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس نے ہر دور میں مراعات یافتہ طبقے کو نہ صرف حق سے دور رکھا ہے بلکہ انھوں نے آخری دم تک اہل حق کو پنپنے کا موقع نہیں دیا۔ آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ ایسے ہی لوگوں کی مخالفت اور مظالم کا شکار تھے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت میں بھی یہی لوگ پیش پیش تھے۔ دوسری بات اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کی گمراہیاں بھی مشترک رہی ہیں۔ چناچہ قرآن کریم نے جتنے رسولانِ گرامی کا ذکر کیا ہے انھوں نے اپنی طرف مبعوث ہونے والے رسولوں کی مخالفت میں جو باتیں کہیں اور جو اعتراضات اٹھائے ان میں یہ ایک اعتراض ہر قوم کی طرف سے سنا گیا۔ چناچہ نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی آپ کی مخالفت میں سب سے زیادہ اسی اعتراض کو اچھال رہی تھی اور نبی کریم ﷺ کی مخالفت میں بھی یہی بات باربار کہی گئی کہ نبوت اور رسالت ایک بہت عظیم منصب ہے جس میں ایک شخص براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہدایت حاصل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کا انتہائی قرب حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ براہ راست اس سے باتیں کرتا ہے۔ اس پر اپنی وحی اتارتا ہے۔ ایسے عظیم منصب کا حامل ظاہر ہے کوئی بشر تو نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ وہ جب یہ دیکھتے تھے کہ ان کے بڑے بڑے سردار سیرت و کردار کے کیسے بڑے بڑے عیوب اپنے اندر رکھتے ہیں اور کون سی خرابی ایسی ہے جو انسان میں نہیں پائی جاتی ؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دور کے ابوجہل اور ابو لہب درحقیقت انسانیت کا اعلیٰ نمونہ ہیں، تو کیا ایسے لوگ کبھی نبوت کے منصب پر فائز ہوسکتے ہیں ؟ جبکہ وہ منصب سراسر اعلیٰ کردار اور انسانیت کے مرتبہ علیا کی تعلیم دیتا ہے، لیکن یہ تصور اور خیال صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی ابوجہل یا ابو لہب کو نبوت عطا نہیں کی۔ ہر قوم کی طرف جو بھی رسول آیا قوم اس کی معترف رہی کہ یہ شخص اپنے سیرت و کردار کے اعتبار سے پوری قوم میں بےعیب شخصیت کا مالک ہے۔ کبھی کسی قوم نے کسی بھی رسول پر اخلاقی کمزوری کا الزام نہیں لگایا۔ انھیں ہمیشہ نبوت کے دعویدار پر اس کی غربت اور ناداری کے حوالے سے اعتراض رہا اور وہ اس بات کو ہمیشہ اچھالتے رہے کہ جب قوم میں بڑے بڑے سردار موجود ہیں تو تم جو اپنے تئیں نہ کسی بڑے قبیلے کا انتساب رکھتے ہو، نہ تمہارے پاس طاقتور لوگوں کا کوئی جتھا ہے۔ نہ تم دولت و ثروت کا کوئی تفوق رکھتے ہو۔ تو آخر تمہیں نبوت کیوں دی گئی ؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسانوں میں اگر کسی انسان کو نبی کے طور پر قبول کرسکتے تھے تو اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ دولت و ثروت، عہدہ ومنصب اور اثر ورسوخ کے اعتبار سے غیر معمولی حیثیت کا حامل ہوتا۔ البتہ ! بعض آیات کریمہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنسِ بشر کو جنسِ ملائکہ سے فروتر سمجھتے تھے۔ اگرچہ وہ جنات کو بھی بہت سے حوالوں سے اہمیت دیتے تھے لیکن انھوں نے یہ کبھی نہیں کہا تھا کہ کسی جن کو نبوت عطا کی جانی چاہیے تھی۔ البتہ ! فرشتوں کے تقدس ان کی معصومیت اور نورانی مخلوق ہونے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ان کی ایک عظمت بیٹھی ہوئی تھی۔ اس لیے وہ یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ ہر لحاظ سے انسانوں سے افضل مخلوق ہیں اس لیے نبوت اگر دی جاسکتی تھی تو فرشتوں کو دی جانی چاہیے تھی۔ یہ لوگ دراصل ایک غلط فہمی کا شکار تھے۔ ان کے اندر اس بات کا یقین پیدا نہیں ہو رہا تھا کہ اللہ نے جنسِ بشر کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ یہ وہ مخلوق ہے جسے مسجودِ ملائکہ ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ اللہ نے اس کے اندرنفخِ روح کو اپنی طرف منسوب کر کے اسے خاص اہمیت عطا کی ہے۔ وہ علّم آدم الاسمائ کے تمغہ امتیاز کی حقیقت سے ناآشنا تھے اور دوسری یہ بات کہ نہ جانے یہ حقیقت ان کی نگاہوں سے کیوں اوجھل ہوجاتی تھی کہ اللہ کا نبی انسانوں کی ہدایت اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے بھیجا جاتا ہے ؟ نبی کی زندگی لوگوں کے لیے ایک نمونہ ہوتی ہے۔ وہ اپنی زندگیوں کے چراغوں کو اس کی زندگی کے چراغ سے روشن کرتے ہیں۔ وہ انھیں جس بات کی تعلیم دیتا ہے خود اس پر نہ صرف عمل کرکے دکھاتا ہے بلکہ ان کے سامنے عمل کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کرتا ہے۔ اقدارِ انسانیت، مکارمِ اخلاق، بےنفسی و بےغرضی اور اللہ کی عبادت اور اس کی محبت کی وہ اعلیٰ مثالیں قائم کرتا اور چھوڑ کرجاتا ہے جو ہمیشہ انسانوں کے لیے منارہ نور ثابت ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے جو شخص بھی غور کرے گا اس کے لیے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ یہ مثالیں اسی صورت میں قابل اتباع اور قابل تقلید ثابت ہوسکتی ہیں جبکہ اللہ کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی جنس ایک ہو۔ احساسات میں اشتراک پایا جاتاہو۔ انفعالات یکساں ہوں۔ جسمانی عوراض دونوں کو لاحق ہوتے ہوں۔ جسمانی ضرورتیں دونوں کو پریشان کرتی ہوں۔ لیکن انسان کی نارسائیِ فکر اور بےبصیرتی اور عقیدت و محبت میں غلو ایسے عوارض ہیں جس سے انسان بہت کم چھٹکارا حاصل کرپاتا ہے۔ ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ جن بزرگوں سے لوگوں کو عقیدت ہوجاتی ہے ان کی زندگی کے بعد ان کے بارے میں عجیب و غریب تصورات پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسی چیزوں کو بہت خوبی سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً اس طرح کی باتیں کہ فلاں بزرگ تو اس حدتک خدا رسیدہ تھے کہ بارہ سال تک انھوں نے کچھ نہیں کھایا اور کسی کے بارے میں یہ شہرت کہ وہ کسی کنویں میں کئی سال تک الٹے لٹکے رہے اور کسی کے بارے میں اس طرح کی بےسروپا باتیں کہ انھوں نے کئی سال صرف مٹی کھانے پر اکتفا کیا۔ یہ تصورات ان لوگوں کے ہیں جن کے پاس اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کا چراغ موجود ہے۔ اس کے باوجود حال یہ ہے ؎ اللہ کے کچھ بندے معبود ہی بن بیٹھے لوگوں میں نظر آئی جو خوئے جبیں سائی تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ اللہ کے رسول کی مخالفت میں قوموں نے جو حربے استعمال کیے ہیں ان میں یہ بھی ایک حربہ ہمیشہ استعمال ہوتا رہا کہ ان کی نیتوں پر ہمیشہ شبہ کیا جاتارہا کہ یہ لوگ بظاہر تو درویش اور مسکین دکھائی دیتے ہیں اور ہر وقت آخرت کی باتیں کرتے ہیں لیکن حقیقت میں اقتدار کے بھوکے ہیں۔ اس پر صاحب تفہیم القرآن نے ایک نوٹ لکھا ہے اسے مفید سمجھتے ہوئے ہم یہاں نقل کیے دیتے ہیں۔ یہ بھی مخالفین حق کا قدیم ترین حربہ ہے کہ جو شخص بھی اصلاح کے لیے کوشش کرنے اٹھے اس پر فوراً یہ الزام چسپاں کردیتے ہیں کہ کچھ نہیں۔ بس اقتدار کا بھوکا ہے۔ یہی الزام فرعون نے حضر موسیٰ اور ہارون پر لگایا تھا کہ تم اس لیے اٹھے ہو کہ تمہیں ملک میں بڑائی حاصل ہوجائے۔ تکون لکما الکبریاء علی الارض (یونس آیت 78) یہی الزام حضرت عیسیٰ پر لگایا گیا کہ یہ شخص یہودیوں کا بادشاہ بننا چاہتا ہے اور اسی کا شبہ نبی ﷺ کے متعلق سردارانِ قریش کو تھا۔ چناچہ کئی مرتبہ انھوں نے آپ سے یہ سودا کرنے کی کوشش کی کہ اگر اقتدار کے طالب ہو تو ” اپوزیشن “ چھوڑ کر ” حزبِ اقتدار “ میں شامل ہوجاؤ، تمہیں ہم بادشاہ بنائے لیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ ساری عمر دنیا اور اس کے مادی فائدوں اور اس کی شان و شوکت ہی کے لیے اپنی جان کھپاتے رہتے ہیں ان کے لیے یہ تصور کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے کہ اسی دنیا میں کوئی انسان نیک نیتی اور بےغرضی کے ساتھ فلاحِ انسانیت کی خاطر اپنی جان کھپاسکتا ہے۔ وہ خود چونکہ اپنا اثرواقتدار جمانے کے لیے دلفریب نعرے اور اصلاح کے جھوٹے دعوے شب وروز استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے یہ مکاری و فریب کاری ان کی نگاہ میں بالکل ایک فطری چیز ہوتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اصلاح کا نام مکروفریب کے سوا کسی صداقت اور خلوص کے ساتھ کبھی لیا ہی نہیں جاسکتا۔ یہ نام جو بھی لیتا ہے ضرور وہ ان کا اپنا ہم جنس ہی ہوگا اور لطف یہ ہے کہ مصلحین کے خلاف ” اقتدار کی بھوک “ کا یہ الزام ہمیشہ برسراقتدار لوگ اور ان کے خوشامدی حاشیہ نشین ہی استعمال کرتے رہے ہیں۔ گویا خود انھیں اور ان کے آقایانِ نامدار کو جو اقتدارحاصل ہے وہ تو ان کا پیدائشی حق ہے۔ اس کے حاصل کرنے اور اس پر قابض رہنے میں وہ کسی الزام کے مستحق نہیں ہیں۔ البتہ ! نہایت قابل ملامت ہے وہ جس کے لیے یہ ” غذا “ پیدائشی حق نہ تھی اور اب یہ لوگ اس کے اندر اس چیز کی ” بھوک “ محسوس کررہے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو شخص بھی رائج الوقت نظام زندگی کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے اٹھے گا اور اس کے مقابلے میں اصلاحی نظریہ ونظام پیش کرے گا۔ اس کے لیے بہرحال یہ بات ناگزیر ہوگی کہ اصلاح کی راہ میں جو طاقتیں بھی سدِّراہ ہوں انھیں ہٹانے کی کوشش کرے اور ان طاقتوں کو برسر اقتدار لائے جو اصلاحی نظریہ ونظام کو عملاً نافذ کرسکیں۔ نیز ایسے شخص کی دعوت جب بھی کامیاب ہوگی اس کا قدرتی نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ لوگوں کا مقتدا و پیشوا بن جائے گا اور نئے نظام میں اقتدار کی باگیں یا تو اس کے اپنے ہی ہاتھوں میں ہوں گی یا اس کے حامیوں اور پیروں کے ہاتھ ان پر قابض ہوں گے۔ آخر انبیاء اور مصلحین عالم میں سے کون ہے جس کی کوششوں کا مقصد اپنی دعوت کو عملاً نافذ کرنا نہ تھا۔ اور کون ہے جس کی دعوت کی کامیابی نے فی الواقع اس کو پیشوا نہیں بنادیا ؟ پھر کیا یہ امر واقعی کسی پر یہ الزام چسپاں کردینے کے لیے کافی ہے کہ وہ دراصل اقتدار کا بھوکا تھا اور اس کی اصل غرض وہی پیشوائی تھی جو اس نے حاصل کرلی ؟ ظاہر ہے کہ بدطینت دشمنانِ حق کے سوا اس سوال کا جواب کوئی بھی اثبات میں نہ دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے بجائے خود مطلوب ہونے اور کسی مقصد خیر کے لیے مطلوب ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے، اتنا ہی بڑا فرق جتنا ڈاکو کے خنجر اور ڈاکٹر کے نشتر میں ہے۔ اگر کوئی شخص ـصرف اس بناپرڈاکو اور ڈاکٹر کو ایک کردے کہ دونوں بالارادہ جسم چیرتے ہیں اور نتیجہ میں مال دونوں کے ہاتھ آتا ہے، تو یہ صرف اس کے اپنے ہی دماغ یا دل کا قصور ہے۔ ورنہ دونوں کی نیت دونوں کے طریق کار اور دونوں کے مجموعی کردار میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ کوئی صاحب عقل آدمی ڈاکو کو ڈاکو اور ڈاکٹر کو ڈاکٹر سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتا۔ چوتھی بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بشریت اور نبوت میں تضاد واضح کرنے اور دعویٰ نبوت کرنے والے کی ذات کو مشتبہ قرار دینے کے بعد یہ عقلی دلیل دی کہ ہمیں زندگی میں راہنمائی کے لیے کسی نبی کی حاجت نہیں۔ ہم اپنے معاملات میں رہنمائی کے حوالے سے خو دکفیل ہیں۔ ہمارا کوئی معاملہ بھی الجھا ہوا نہیں۔ اگر بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی کے لیے ضرور کسی نبی کو بھیجنے والا ہے تو یقینی بات ہے کہ وہ کسی بشر کو بھیجنے کی بجائے فرشتوں میں سے کسی کو اس عظیم کام کے لیے بھیجتا کیونکہ بشر تو سرے سے اس کا اہل ہی نہیں تو جب اس نے کسی فرشتے کو نہیں بھیجا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص اس دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہے۔ پانچویں بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ اس شخص کے دعویٰ نبوت کو اس لیے تسلیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم نے اپنے باپ دادا سے اور انھوں نے اپنے آبائواجداد سے کبھی یہ نہیں سنا کہ کوئی بشر بھی نبی ہوسکتا ہے۔ ہمیں دین اپنے اسلاف سے ملا ہے، ہمارے آبائواجداد اس دین کے وارث تھے، اس لیے جس بات کو وہ غلط قراردیتے ہیں یا جو بات انھوں نے کبھی اپنے بڑوں سے نہیں سنی وہ ایک ایسی نئی بات ہے جس کی حیثیت بدعت سے زیادہ نہیں۔ سورة قصص میں اسی حقیقت کو دہراتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ مَاھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًی وَّمَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِیْٓ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ ۔ ” یہ محض ایک جادو ہے جس کو جھوٹ موٹ اللہ کی طرف نسبت دی گئی ہے اور اس طرح کی باتیں ہم نے اگلوں میں تو کبھی سنی نہیں “۔ یہ پانچ باتیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت میں آپ کی نبوت کو رد کرتے ہوئے ان کی قوم کے سربرآوردہ لوگوں نے کہیں۔ یہی باتیں آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں قریش بھی کہہ رہے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قوم جو نوح (علیہ السلام) کی مخالفت کی پاداش میں عذاب کا شکار ہوئی اور دنیا میں آج تک سامانِ عبرت بنی ہوئی ہے اس کے یہ نمایاں اوصاف ہیں جنھیں قرآن کریم نے ایک ترتیب سے بیان کردیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ قریش انھیں باتوں کو اپنے لیے سرمایہ افتخار سمجھتے ہیں جبکہ یہی باتیں ان کی تباہی کا باعث بننے والی ہیں۔
Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

یہ تو بس ایک ایسا شخص ہے جسے جنون کا مرض ہوگیا ہے تو کچھ دن اس کا انتظار کرو

اِنْ ھُوَاِ لَّارَجُلٌ م بِہٖ جِنَّۃٌ فَتَرَبَّصُوْا بِہٖ حَتّٰی حِیْنَ ۔ (المومنون : 25) یہ تو بس ایک ایسا شخص ہے جسے جنون کا مرض ہوگیا ہے تو کچھ دن اس کا انتظار کرو۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جب دیکھا کہ نوح (علیہ السلام) کی باتوں اور آپ کی تعلیمات سے لوگ متأثر ہورہے ہیں اور آپ صرف اس دنیا کے بارے میں نہیں بلکہ آنے والی دنیا کے بارے میں اور بعض ان دیکھے حقائق کے حوالے سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو دوسروں کی گرفت میں نہیں آسکتیں اور نہ انسانی علم اس تک رسائی رکھتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ کا اللہ کے ساتھ کوئی خاص رشتہ ہے اور آپ کے قول کے مطابق واقعی آپ پر فرشتہ وحی لے کر نازل ہوتا ہے اور اسی ذریعے سے آپ کو ان حیران کن باتوں کی خبر ہوتی ہے۔ تو قوم کے سرداروں نے آپ کے اثر کو روکنے اور آپ کی دعوت کو ناقابلِ اعتبار ٹھہرانے کے لیے یہ بات کہنا شروع کی کہ تم اس پیغمبر کی باتوں سے متاثر نہ ہونا اس کے دعو وں کو حقیقت نہ جاننا، اس پر نہ تو کوئی وحی اتری ہے نہ فرشتہ نازل ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دماغ میں کوئی خلل واقع ہوگیا ہے اور اس خلل کے نتیجے میں الٹی سیدھی باتیں اس کے دماغ میں آتی ہیں اور انھیں کو وہ وحی سمجھ کر لوگوں کے سامنے پیش کرنا شروع کردیتا ہے۔ تو بجائے اس کی باتوں کو قبول کرنے کے تم انتظار کرو ہوسکتا ہے کہ اسے جنون سے افاقہ ہوجائے اور یہ خود بخود تسلیم کرے کہ میں نے جو کچھ کہا وہ سراسر خلل دماغ کا نتیجہ تھا۔ قرآن کریم نے قریش کے بارے میں یہ بات بتائی ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو شاعر ٹھہراتے تھے اور آپ کی تعلیمات اور تبلیغ و دعوت کے اثرات کو روکنے کے لیے یہ بات کہا کرتے تھے کہ ہر شاعر وقتی طور پر اپنے زور بیان کے نتیجے میں بعض لوگوں پر اپنا اثر قائم کرلیتا ہے لیکن کلام کا یہ سحر عارضی ہوتا ہے۔ شاعرانہ خیال آرائی چند روز کی گرما گرمی تو پیدا کرسکتی ہے کسی مستقل تبدیلی کا ذریعہ نہیں ہوتی۔ تو اس لیے تم انتظار کرو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی باتیں بھی ہوا میں تحلیل ہوجائیں گی۔ ہوسکتا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اس طرح کی باتیں بھی آپ ( علیہ السلام) کے بارے میں کہی ہوں۔ بہر حال ہر دور میں وقت کے لیڈر جب یہ محسوس کرتے ہیں کہ فلاح مصلح یا نجات دہندہ لوگوں کا مرجع بنتا جارہا ہے تو اس کے اثرات کو ناکام کرنے کے لیے ہمیشہ اسی طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں اور ہر پیغمبر کی قوم نے پیغمبر کے بارے میں ایسی ہی باتیں کہیں۔ موجودہ دور کے مخالفین کی ذہنی عصبیت آج کے دور کو علم وہنر کا دور اور روشنی کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اہل مغرب نے خاص طور پر یہ تأثر دے رکھا ہے کہ ہم ہر اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جسے دلیل کی زبان میں کہا جائے اور جس کے صحیح ہونے پر واضح قرائن موجود ہوں۔ لیکن یہ دیکھ کر انتہائی حیرت ہوتی ہے کہ آج کے دور کا مستشرق اور علمی حیثیت سے مذاہب پر محاکمہ کرنے والے دانشور اور جدید تحقیق کے نام سے تقابلِ ادیان پر کام کرنے والے لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں جسے اندھی مذہبی عصبیت کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مثلاً وہ قرآن کریم کے بارے میں تسلیم کرتے ہیں کہ جس شکل و صورت میں آنحضرت ﷺ نے اسے اپنے صحابہ کے سپرد کیا تھا آج تک اس میں ایک لفظ کی کمی بیشی نہیں ہوئی اور ساتھ ہی وہ اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہیں کہ دنیا کی کوئی کتاب بلکہ کوئی دستاویز اتنے طویل عرصے تک اپنی اصلی حالت پر کبھی قائم نہیں رہی۔ تو بجائے اس کے کہ وہ قرآن کو اللہ کی کتاب تسلیم کرلیں وہ عجیب و غریب تاویلوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے بارے میں تسلیم کرتے ہیں کہ آپ سیرت و کردار کے اعتبار سے اتنے بلند مقام پر فائز تھے کہ آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان نہیں کیا جاسکتا اور یہ بات بھی انھیں تسلیم ہے کہ آپ ذہانت وفطانت اور حکمت و تدبیر میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ باایں ہمہ ! انھیں اللہ کا رسول ماننے سے صاف انکار کرتے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم تسلیم کرتے ہو کہ انھوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور انھوں نے تئیس (23) سالہ دور نبوت میں بڑے اصرار کے ساتھ اپنے آپ کو بطور نبی اور رسول کے پیش کیا۔ اگر وہ اپنے اس دعویٰ میں سچے تھے تو پھر تم ان کے نبی ہونے سے کیسے انکار کرتے ہو ؟ لیکن آدمی ان کے انکار اور اس کے حق میں تاویلوں کو پڑھ کر حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ منٹگمری واٹ جیسا عالمی شہرت کا محقق یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے سالوں تک اہل عرب کی گمراہیوں پر حرا کی تنہائیوں میں غور وفکر کیا تھا اور برسوں گہرے دکھ اور فکر میں گزارے تھے کہ کس طرح لوگوں کو ان گمراہیوں سے نکالا جائے۔ اچانک ایک دن ان کے اندر کی وہ آواز جو ان گمراہیوں کے بارے میں رد عمل کی صورت اختیار کرچکی تھی۔ ان کے لیے باہر کی آواز بن گئی اور وہ اس آواز کو وحی کی اور فرشتے کی آواز سمجھنے لگے اور یہ گمان کرنے لگے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی اترتی ہے۔ اندازہ کیجیے ! جس شخص کی ذہانت وفطانت اور حکمت و دانش کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں وہ اس طرح کی سادگی کا ثبوت دے سکتا ہے کہ اسے تئیس (23) سال تک یہ معلوم نہ ہو سکے کہ میں جسے اللہ کی وحی سمجھتا ہوں وہ تو سراسر میرے اندر کی آواز ہے جبکہ نزول وحی کی کیفیات کو بیسیوں راویوں نے چشم دید واقعات کے طور پر بیان کیا ہے اور وہ وحی جس زبان میں نازل ہوتی رہی ہے اور آج بھی وہ دنیا کے سامنے موجود ہے اس کی فصاحت و بلاغت اور اس کی معجز بیانی کا جواب دینے سے اس وقت بھی دنیا عاجز تھی اور آج بھی عاجز ہے۔ اس وحی نے جو ایک مکمل نظام فکر اور نہایت مرتب ضابطہ حیات دیا ہے کسی مذہب کے پاس اس کا جواب نہیں اور اس نے صدیوں تک دنیا کی سب سے بڑی ریاست کا نظام چلایا ہے۔ اور اس کی تعلیم نے ان لوگوں کو دنیا کا امام بنایا ہے۔ جو دنیا کی سب سے جاہل اور اجڈقوم سے تعلق رکھتے تھے۔ ان باتوں کا آج کی عیسائی اور یہودی دنیا کے پاس کوئی جواب نہیں لیکن انھیں اپنے کفر اور اپنے متعصبانہ رویئے پر شرمندگی کی بجائے اصرار ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کے پیچھے ایک علمی اندازِ فکر اور نہایت غیر متعصب رویہ کار فرما ہے۔
Ayah 23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

حضرت نوح نے دعا کی کہ اے میرے رب ! تو اس چیز سے میری مدد فرما جس میں انھوں نے مجھے جھٹلادیا ہے

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذَّبُوْنِ ۔ (المومنون : 26) حضرت نوح نے دعا کی کہ اے میرے رب ! تو اس چیز سے میری مدد فرما جس میں انھوں نے مجھے جھٹلادیا ہے۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی نزول عذاب کے لیے دعا حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کی نبوت و رسالت کو تسلیم کرنے کی بجائے جب آپ کے قتل کے منصوبے بنانے شروع کر دئیے اور یہ فیصلہ کرلیا کہ اس نبی اور اس کی دعوت کو ہر ممکن طریقے سے مٹا دیا جائے۔ تو تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی کہ الہٰی ! میرے پاس نہ افرادی قوت ہے اور نہ اقتدار کی ہیبت۔ تیری تائید ونصرت کے سوا میرا کوئی سہارا نہیں۔ میں نے شب وروز اپنی قوم کو سمجھایا اور تبلیغ و دعوت کے ذریعے سے ان پر اتمامِ حجت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ لیکن انھوں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر مجھے اور مجھ پر ایمان لانے والوں کو اس حدتک اذیتیں پہنچائی ہیں کہ ہمارا جینا مشکل کردیا ہے۔ رَبِّ اِ نِّی مَغْلُوْبٌ فَا نْتَصِرْ ” اے میرے رب ! میں دبا لیا گیا ہوں، پس تو ان سے میرا بدلہ لے اور میری مدد فرما “۔ (القمر : 10) اور سورة نوح میں فرمایا : وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا۔ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُ وْٓا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا۔ (نوح : 26، 27) ” اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! اس زمین پر کافروں میں سے ایک بسنے والا بھی نہ چھوڑ۔ اگر تو نے انھیں رہنے دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کی نسل سے بدکار منکرینِ حق ہی پیدا ہوں گے “۔ ان دعائوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس عذاب کو نازل کرنے کی درخواست کی ہے جس سے ہر رسول نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے اور جو اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد قوموں پر نازل ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد کسی کو زندہ رہنے کا موقع نہیں دیا جاتا بلکہ ایسی مکمل تباہی ہوتی ہے کہ صدیوں تک وہ قوم آنے والے لوگوں کے لیے سامانِ عبرت بن جاتی ہے۔ قریش کو ان مثالوں سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ تم اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر ایمان نہیں لائو گے تو تمہارا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب ایسا موقع آتا ہے یعنی اتمامِ حجت ہوجاتا ہے تو پیغمبر کو ہجرت کرنے کا حکم ملتا ہے۔ پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے ہجرت کے ذریعے بچالیے جاتے ہیں اور جن لوگوں کی طرف براہ راست اللہ کے نبی کی بعثت ہوتی ہے انھیں تباہ کردیا جاتا ہے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب ایسے موقع پر اللہ سے دعا کی تو اللہ کا حکم آیا۔
Ayah 23:27

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

تو ہم نے حضرت نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق ایک کشتی تیار کیجیے۔ تو جب ہمارا عذاب آجائے اور تنور ابل پڑے تو اس میں ہر چیز کے جوڑے رکھ لو اور اپنے لوگوں کو بھی سوار کر الوبجز ان کے جن کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہ کہئے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ وہ لازماً غرق کیے جائیں گے

فَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا فَاِذَا جَآئَ اَمْرُنَا وَفَارَالتَّنُّوْرُلا فَاسْلُکْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ ج وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِ یْنَ ظَلَمُوْا ج اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْنَ ۔ (المومنون : 27) تو ہم نے حضرت نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق ایک کشتی تیار کیجیے۔ تو جب ہمارا عذاب آجائے اور تنور ابل پڑے تو اس میں ہر چیز کے جوڑے رکھ لو اور اپنے لوگوں کو بھی سوار کر الوبجز ان کے جن کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہ کہئے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ وہ لازماً غرق کیے جائیں گے۔ ) بعض اجمالات کی وضاحت حضرت نوح (علیہ السلام) کی پوری سرگزشت سورة ہود میں گزر چکی ہے۔ تفصیل کے لیے اس کی طرف مراجعت کی جانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکے تھے کہ اس قوم پر پانی کا عذاب بھیجا جائے گا۔ اس لیے حضرت نوح اور آپ پر ایمان لانے والوں کو بچانے کے لیے یہ حکم دیا گیا کہ آپ ایک بڑی کشتی تیا رکیجیے اور تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ کشتی کے بارے میں جزئیات کی حد تک پوری تفصیل وحی کے ذریعے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بتادی گئی تھی اور یہ بھی اطمینان دلایا گیا تھا کہ اس قوم کے اشرار جب آپ کو کشتی بناتا ہوا دیکھیں گے تو یقینا مذاق اڑائیں گے۔ ممکن ہے نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ آپ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ آپ ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں۔ اس لیے کسی بھی حادثے سے آپ کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ بتائی گئی ہے کہ اللہ کا عذاب پانی کے سیلاب کی شکل میں آئے گا اس کا آغاز تنور کے ابلنے سے ہوگا۔ جیسے ہی تنور سے پانی بہنے لگے آپ فوراً اپنی تیاری شروع کردیجیے۔ بعض لوگوں نے تنور سے مراد زمین لی ہے اور بعض کے نزدیک زمین کا بلند ترین حصہ مراد ہے اور بعض یہ سمجھتے ہیں کہ تنور ابلنے کا مطلب طلوع فجر ہے۔ اور بعض کا خیال ہے کہ یہ ” حمی الوطیس “ کی طرح کا ایک استعارہ ہے۔ جس کا معنی ہوتا ہے ہنگامہ گرم ہوجانا۔ یعنی جب سیلاب کا آغاز زمین، فضا اور آسمانوں سے ہوجائے تو آپ کو کشتی کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے۔ لیکن یہ تمام اس لفظ کے مجازی معنی ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ مجازی معنی اس وقت لیے جاتے ہیں جبکہ ظاہری معنی لینا متعذر ہوں۔ یا ظاہری مفہوم لینے میں کوئی قباحت ہو۔ لیکن یہاں تنور کو اگر تنور ہی کے معنی میں لیاجائے تو نہ اس میں کوئی قباحت ہے اور نہ اس میں کوئی مشکل پیش آتی ہے۔ قرآن کریم نے جہاں کہیں بھی طوفانِ نوح کا ذکر کیا ہے وہاں تنور ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اگر یہ کوئی استعارہ ہوتا تو کہیں کسی جگہ دوسرا لفظ بھی استعمال کیا جاتا۔ اس سے اس خیال کی تائید ہوتی ہے کہ یہاں اس کا ظاہری معنی ہی مرا د ہے۔ تأثر دینا شاید یہ مقصود ہے کہ جو تنور ہمیشہ آگ اگلتا ہے اللہ کی قدرت دیکھو جب اس کا عذاب آئے گا تو وہی تنورطوفانِ نوح کے آغازکا اعلان کرے گا اور تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جب طوفان کا آغاز ہوجائے تو پھر تم ہر چیز کا ایک ایک جوڑا اپنے اہل خانہ اور صاحب ایمان لوگوں کو ساتھ لے کر کشتی میں سوار ہوجاؤ۔” کُلٍّ “ یہاں معہودِ ذہنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ تمام جانور جو براہ راست انسان کی معاشی ضرورت سے تعلق رکھتے ہیں ” اثنین، زوجین کی وضاحت کے طور پر آیا ہے۔ یعنی ہر چیز میں سے نر اور مادہ دو دو رکھ لیے جائیں۔ البتہ ! اہل خانہ میں سے صرف وہ لوگ کشتی پر سوار کیے جائیں جو ایمان لاچکے ہیں اور جو ایمان نہ لانے کے باعث اللہ کے عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں انھیں کشتی پر سوار نہ کیا جائے اور ساتھ ہی مزید ایک ہدایت بھی فرمائی کیونکہ اللہ سے بڑھ کر اور کون جان سکتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) دعا میں اگرچہ سخت الفاظ استعمال کرچکے ہیں لیکن جب وہ اپنی قوم کے لوگوں کو طوفان میں ڈوبتا ہوا دیکھیں گے تو ان کے پیغمبرانہ خصائل شاید انھیں خاموش نہ رہنے دیں۔ انسانی ہمدردی اور شفقت کا جذبہ انھیں مجبور کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلادیں اس لیے فرمایا کہ ان لوگوں نے مسلسل شرک اور تمرد کے باعث بندگی اور انسانیت کا ہر رشتہ توڑ ڈالا ہے۔ اس لیے اب یہ کسی رحم و مروت کے مستحق نہیں ہیں۔ انھیں ڈوبتا ہوا دیکھ کر مجھ سے کسی قسم کی درخواست نہ کرنا۔ ان کے غرق ہونے کا فیصلہ کردیا گیا ہے اس لیے یہ غرق ہو کر رہیں گے۔
Ayahs 23:28–29

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پس جب آپ اور آپ کے ساتھی کشتی میں اچھی طرح بیٹھ جائیں تو آپ کہیے کہ شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور یہ بھی عرض کیجیے کہ اے رب ! تو مجھے اتار مبارک اتارنا اور تو بہترین اتارنے والا ہے

فَاِذَااسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَامِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا وَّاَنْتَ خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ ۔ (المومنون : 28، 29) پس جب آپ اور آپ کے ساتھی کشتی میں اچھی طرح بیٹھ جائیں تو آپ کہیے کہ شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔ اور یہ بھی عرض کیجیے کہ اے رب ! تو مجھے اتار مبارک اتارنا اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔ ) کشتی پر سوار ہونے والے اور ان کی دعا یہ کشتی پر سوار ہونے والے کون لوگ ہیں ؟ ان میں حضرت نوح اللہ کے وہ عظیم رسول ہیں جنھوں نے نوصدیوں تک اس قوم کو اللہ کی طرف بلایا اور اس کے عـذاب سے ڈرایا اور ان کے ساتھ آپ کے اہل خانہ اور ان لوگوں کی مختصر سی تعداد ہے جنھوں نے قوم کی سنگدلانا اذیتوں کے باوجود اللہ پر ایمان لانے کی جرأت کی اور پھر نہ جانے کب سے وہ ان مصائب کی چکی میں پستے چلے آرہے ہیں۔ اب جبکہ وہ ایک عافیت کدہ میں اپنی جانیں بچا کر بیٹھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو اس سے چند لمحے پہلے تک ان کی قوم کی طرف سے ان کی زندگیاں اور ان کے مال، ان کے بچے اور ان کے گھر، انتہائی خطرے میں تھے۔ کسی وقت بھی ان پر ہلاکت و تباہی کی قیامت ٹوٹ سکتی تھی۔ اب وہ لوگ جو صدیوں تک سرکشی اور تمرد کا صور پھونکتے رہے اور جنھوں نے کبھی کوئی نصیحت اور حق کی بات سن کے دینا بھی گوارا نہ کیا۔ اور جن کا گمان یہ تھا کہ ہم اس دھرتی کی فیصلہ کن قوت ہیں کوئی ہمیں چیلنج نہیں کرسکتا اب وہ ان بےبس اور بےکس مسلمانوں کے سامنے اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ کشتی لمحہ بہ لمحہ پانی کی لہروں پر بلند ہوتی جارہی ہے اور سیلاب کی طغیانی اس حد تک زوروں پر ہے کہ پہاڑوں کی چوٹیاں بھی پانی میں ڈوبتی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن یہ مظلوم لوگ نہایت اطمینان اور راحت کے ساتھ کشتی میں سوار ہیں اور پانی کا کوئی جھونکا اندر آکر ان کی پریشانی کا باعث بننے کی جرأت نہیں کررہا۔ ایسی حالت میں انھیں یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ آپ اللہ کا شکر ادا کیجیے اور یہ دعا کیجیے کہ الہٰی تیرا شکر ہے کہ ہم بےوسیلہ اور بےکس لوگوں کو ان ظالم درندوں سے تو نے بچایا۔ ظاہر ہے کہ اس موقع سے بڑھ کر اللہ کا شکر ادا کرنے کا اور کونسا موقع ہوسکتا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی کہ کشتی جن منزلوں کی طرف بڑھ رہی ہے وہ آپ کے لیے ان دیکھی اور ان جانی منزلیں ہیں۔ زندگی کے وسائل کے اعتبار سے ہر چیز تباہی کی نذر ہوگئی ہے۔ زمین پر نہ کوئی جائے پناہ باقی ہے اور نہ اشیائے ضرورت کی کوئی چیز۔ لیکن ایک آستانہ ایسا ہے جس کی پناہ ایسی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ زمین پر ہمارا کوئی اپنا نہیں جس کے پاس جاسکیں۔ صرف تیرا ایک آستانہ ہے اس لیے ہم صرف تیرے مہمان ہیں تو ہمارا میزبان ہے۔ جس طرح تو نے ہمیں ان ناہنجاروں سے بچایا ہے اسی طرح کسی مبارک منزل پر ہمیں اتار، تجھ سے بڑھ کر بہتر اتارنے والا اور کون ہوسکتا ہے ؟ یہ دعا چونکہ اللہ کی طرف سے سکھائی گئی ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ صرف دعا نہیں بلکہ فوزوفلاح کی بشارت بھی ہے۔ اس میں دوسرے لفظوں میں یہ باور کرایا جارہا ہے کہ تم ایک بہترین میزبان کے مہمان ہو۔ وہ تمہیں جہاں بھی اتارے گا اس سرزمین کو تمہارے لیے بہتر بنائے گا۔ وہیں تم پھولوپھلو گے۔ تمہاری افرادی تعداد کتنی بھی کم صحیح لیکن اللہ کی قدرت تو کم نہیں وہ تم ہی چند افراد اور تھوڑے سے وسائلِ معاش سے دنیا کو پھر آباد کرے گا۔
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بیشک اس سرگزشت میں بڑی نشانیاں ہیں اور بیشک ہم امتحان کرنے والے ہیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ وَّاِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ ۔ (المومنون : 30) بیشک اس سرگزشت میں بڑی نشانیاں ہیں اور بیشک ہم امتحان کرنے والے ہیں۔ ) سرگزشت میں مضمر نشانیاں قرآن کریم قصہ گوئی کی کتاب نہیں وہ محض قصہ گوئی کے لیے کسی سرگزشت کو بیان نہیں کرتا بلکہ اس کے پیش نظر چند حقائق کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے۔ چناچہ اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس سرگزشت میں غور کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ سب سے پہلی نشانی تو یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اس دنیا کو پیدا کرنے کے بعد اس طرح لاتعلق ہو کر نہیں بیٹھا کہ وہ اپنی مخلوق کو رزق پہنچانے کا انتظام نہ کرے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے جہاں جہاں اس کی مخلوق ہے وہیں وہیں اس کی ربوبیت کا دسترخوان بچھا ہوا ہے۔ اسی طرح انسانوں کو چونکہ اس نے مکلف بنایا ہے اس لیے تکلیفِ شرعی کی ذمہ داری عائد کردینے کے بعد وہ لاتعلق ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ اس کی رہنمائی کے لیے اس نے اپنے رسول بھیجے۔ دوسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کے رسولوں کی تبلیغ و دعوت کی تکذیب کرتے ہیں۔ انھیں ایک خاص حد تک تو مہلت دی جاتی ہے لیکن جب اللہ کے رسولوں کی طرف سے ان پر اتمام ِ حجت ہوجاتی ہے تو پھر اس قوم کی مہلت عمل بھی ختم کردی جاتی ہے۔ پھر اللہ کا عذاب آتا ہے جس سے انھیں کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کسی جگہ کا اقتدار عطا فرماتا ہے اور اپنی زمین کے وسائل ان کے حوالے کرتا ہے تو انھیں ساتھ ہی آزمائش میں بھی مبتلا کرتا ہے۔ ان کا اقتدار اس بات کا اجازت نامہ نہیں ہوتا کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں بلکہ وہ انھیں دیکھتا رہتا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو کس طرح استعمال کررہے ہیں اور جب وہ اپنے اقتدار سے بد مست ہو کر اپنے خالق ومالک سے بغاوت کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو پھر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ اس سرگزشت سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح رسولوں کی دعوت ہمیشہ ایک ہی رہی ہے اسی طرح ان کے مخالفین کی مخالفت کا انداز بھی ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے۔ یہ حقیقت اگر پیش نظر رہے تو ہر دور کے اہل حق جب مصائب سے گزرتے ہیں تو ہر دور کے رسولوں کو بالآخر جو فوزوفلاح نصیب ہوتی ہے وہ ان کے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکتی ہے اور ہر دور کے اہل باطل اگر معذب قوموں کی تاریخ سامنے رکھیں اور قوم نوح کا انجام ان کے سامنے ہو تو انھیں یہ بات سمجھنے میں دشواری پیش نہیں آسکتی کہ ہم کس انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
Ayah 23:31

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے دوسرے لوگ اٹھائے

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْ م بَعْدِ ھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ ۔ (المومنون : 31) پھر ان کے بعد ہم نے دوسرے لوگ اٹھائے۔ ) عاد وثمود کی طرف اشارہ قرن، جس طرح صدی کے معنی میں آتا ہے اسی طرح ایک قوم کے افراد کے بارے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کو غرق کردیئے جانے کے بعد دوسری قوم اٹھائی۔ اس سے مراد قوم عاد اور قوم ثمود ہے کیونکہ سورة اعراف سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح کے بعد قوم عاد آئی ہے اور اس کے بعد قوم ثمود، اور ان قوموں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی طرح آزمائش میں ڈالاجس طرح قوم نوح کو ڈالا گیا تھا۔ طوفانِ نوح سے اس وقت کی معلوم دنیا، کہا جاتا ہے کہ، مکمل طور پر تباہ کردی گئی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد اور آپ پر ایمان لانے والوں کی اولاد سے دوبارہ اس دنیا کو آباد کیا۔
Ayah 23:32

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر ہم نے ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا اس دعوت کے ساتھ کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو

فَاَرْسَلْنَا فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ اَنِ اعْبُدُ واللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلا تَتَّقُوْنَ ۔ (المومنون : 32) پھر ہم نے ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا اس دعوت کے ساتھ کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو۔ ) قومِ نوح کے بعد دیگر قوموں کی طرف رسولوں کی بعثت قومِ نوح کی تباہی کے بعداللہ بہتر جانتا ہے زمین کی آبادی میں کتنا عرصہ لگا۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) آپ کی اولاد اور آپ پر ایمان لانے والوں کی اولاد سے نئی دنیا آباد ہوئی۔ ان میں سے ہر مرنے والا شخص اپنے پسماندگان کو یقینا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیم جس نے انسانوں کو ازسر نو زندگی بخشی اور وہ طوفان جو اللہ کے نبی کی تکذیب اور اس کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان نہ لانے کے نتیجے میں تباہی کا سبب بنا، کے بارے میں سب کچھ بتا کرجاتا تھا۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ زمین کی اس نئی آبادی میں کئی نسلوں تک شیطان کو گمراہی پھیلانے کا موقع نہیں ملا ہوگا۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ انسانوں نے حقیقت سے دور ہٹنا اور شیطان کے پھیلائے ہوئے گمراہی کے جال میں پھنسنا شروع کیا۔ آخر ایک وقت آیا جب حق مغلوب ہونے لگا اور باطل کا چلن دھرتی میں عام ہوگیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں ان کی ہدایت کے لیے اپنے رسول بھیجے۔ کہا جاتا ہے کہ قوم نوح کے بعد جس قوم میں اللہ کے رسول آئے وہ قوم عاد تھی اور ان کی تباہی کے بعد پھر قوم ثمود کی طرف رسول مبعوث ہوئے۔ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف جو رسول آئے وہ یقینا انھیں قوموں سے اپنا جنسی اور نسبی تعلق رکھتے تھے، یعنی نہ وہ جن تھے اور نہ فرشتے بلکہ ان انسانوں میں سے ایسے انسان تھے جنھیں اللہ نے اس دور کی گمراہیوں سے محفوظ رکھا تھا اور وقت آنے پر اللہ نے انھیں پیامبری کے لیے اٹھایا اور لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری ان کے سپرد کی۔ دعوت میں وحدت اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی قوموں کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے پیش کرچکے تھے، یعنی ایک اللہ کی عبادت۔ جس میں کسی اور کے شرکت کا کوئی تصور ممکن نہیں۔ اندازہ کیجیے کہ جو دعوت حضرت نوح (علیہ السلام) لے کر مبعوث ہوئے وہی دعوت بعد کی قوموں میں مبعوث ہونے والے انبیاء کرام پر نازل کی گئی جبکہ ان رسولوں کی آپس میں ملاقات نہیں ہوئی۔ ان کے زمانوں میں طویل فاصلہ ہے۔ وہ ایک دوسرے کی دعوت سے زمینی وسائل کی حد تک بالکل بیخبر ہیں۔ لیکن اس کے باوجودان کی دعوت میں جو انتہا درجے کی وحدت اور یک رنگی پائی جاتی ہے۔ وہ یقینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان سب کا سرچشمہ ہدایت ایک ہے اور اسی سرچشمہ ہدایت کا وہ فیضان ہے جو آج نبی کریم ﷺ کی ذات بابرکات سے قریش تک پہنچ رہا ہے۔
Ayahs 23:33–34

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

(تو ان کی قوم کے سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا اور ہم نے دنیا کی زندگی میں انھیں خوشحالی دے رکھی تھی، کہا کہ یہ تو بس تمہارے ہی مانند ایک بشر ہے یہ وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو۔ اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم پیروی کرنے لگے اپنے جیسے بشر کی تو تم بہت نقصان اٹھانے والے ہوجائو گے

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہِ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّ بُوْا بِلِقَآئِ الْاٰخِرَۃِ وَاَتْرَفْنٰھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لا مَاھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ لا یَاْکُلُ مِمَّا تَاْکُلُوْنَ مِنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ ۔ وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَکُمْ لا اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۔ (المومنون : 33، 34) تو ان کی قوم کے سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا اور ہم نے دنیا کی زندگی میں انھیں خوشحالی دے رکھی تھی، کہا کہ یہ تو بس تمہارے ہی مانند ایک بشر ہے یہ وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو۔ اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اور اگر تم پیروی کرنے لگے اپنے جیسے بشر کی تو تم بہت نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے۔ ) دعوت الی اللہ کی مخالفت کرنے والے اس آیت کریمہ سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے ہمیشہ وہ لوگ رہے ہیں جن کے ہاتھوں میں قومی قیادت ہوتی ہے اور جو اپنے دور کے سربرآوردہ لوگ ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اللہ کے نبیوں کی دعوت کو وہ اپنے لیے خطرے کی علامت سمجھتے ہیں اور وہ اس حقیقت کو پالیتے ہیں کہ اس دعوت کے نتیجے میں جب مصنوعی طبقات ختم ہوں گے اور انسانی ذہنوں سے اونچ نیچ کا تصور مٹے گا۔ تو ہماری سرداریاں باقی نہیں رہیں گی۔ متکبرین کی چند صفات دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان مخالفین اور متکبرین کی کچھ مشترکہ صفات ہیں۔ جن سے ان کے طغیان اور رعونت کو اصل غذا ملتی ہے۔ ان میں پہلی چیز یہ ہے کہ وہ آخرت کے منکر ہوتے ہیں اور اللہ کے سامنے پیشی کا ان کے یہاں کوئی تصور نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ جس طرح کی زندگی گزارتے ہیں اس پر مطمئن ہوتے ہیں وہ یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے کہ اس رویے کے باب میں کسی کے سامنے کبھی جوابدہ بھی ہونا پڑے گا۔ تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کے بگاڑ کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ انتہائی مالدار اور خوشحال لوگ ہوتے ہیں اور اپنی خوشحالی کو اپنے برسر حق ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں۔ وہ اس فتنے میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہماری یہ دنیوی کامیابیاں ہمارے عقیدہ اور عمل کی صحت کی دلیل ہیں۔ اگر ہمارے طرز عمل میں کوئی خرابی ہوتی تو ہمیں اللہ تعالیٰ اپنی قوم کی سرداری اور امارت و ثروت کبھی عطا نہ کرتا اور اسی سوچ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اولاً تو آخرت کے آنے کا کوئی سوال نہیں اور اگر وہ بفرض محال آخرت برپا ہو ہی گئی تو کوئی وجہ نہیں کہ جو دولت و رفاہیت ہمیں یہاں حاصل ہے اس سے ہمیں وہاں محروم کردیا جائے گا۔ اپنے ان بیہودہ تصورات کی بنیاد پر چونکہ وہ اپنے فکر کی بنیاد اٹھاتے ہیں اس لیے جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ ہماری ہی طرح کا ایک بشر ہے اور اس کی زندگی بھی کھانے پینے سے قائم ہے۔ تو یقینا جن باتوں کو ہم زندگی کی کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں وہ بھی انھیں کو سمجھتا ہوگا جبکہ ان میں سے کوئی چیز اس کے اندر نہیں پائی جاتی۔ وہ بشر ہونے میں یقینا ہم جیسا ہے لیکن نہ اس کے پاس دولت ہے نہ رفاہیت۔ نہ اسے کوئی سرداری حاصل ہے اور نہ کوئی طاقت، ایسا شخص تو بجائے خود محرومیوں کی داستان ہے وہ دوسروں کے لیے کیا رہنمائی دے سکتا ہے ؟ چناچہ ان تصورات کو نمایاں کرتے ہوئے وہ لوگوں کو بہکانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر تم نے اپنے جیسے بشر کو جو زندگی کے ہر شرف سے محروم ہے اللہ کا رسول مان کر اس کا قلادہ اطاعت اپنی گردن میں ڈال لیا۔ تو تم اپنی دنیا بھی ڈبو دو گے اور اپنے عیش کے تصورات کو بھی موت کے گھاٹ اتاردو گے۔ نہ تمہاری کوئی روایت باقی رہے گی اور نہ کوئی تمہاری تاریخ۔ اس کے نتیجے میں تم قومی شیرازے سے بھی محروم ہوجاؤ گے۔
Ayahs 23:35–37

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا وہ تمہیں اس بات سے ڈراتا ہے کہ جب تم مرجائو گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائو گے تو پھر تمہیں قبروں سے نکالاجائے گا

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

عقل سے بعید ہے بالکل بعید، یہ ڈراوا، جو تمہیں سنایا جارہا ہے

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں ہم جیتے ہیں، اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں

اَیَعِدُکُمْ اَنَّکُمْ اِذَا مِتُّمْ وَکُنْتُمْ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّکُمْ مُّخْرَجُوْنَ ۔ ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ ۔ اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنُیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔ (المومنون : 35 تا 37) کیا وہ تمہیں اس بات سے ڈراتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو پھر تمہیں قبروں سے نکالاجائے گا۔ عقل سے بعید ہے بالکل بعید، یہ ڈراوا، جو تمہیں سنایا جارہا ہے۔ زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں ہم جیتے ہیں، اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔ ) ” وَعَدَ “ ،” یَعِدُ “ کا ایک معنی ہوتا ہے ” وعدہ کرنا “ اور دوسرا معنی ہے ” ڈرانا “۔ قرآن کریم نے دو معنوں کے لیے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ اَلشَّیْطَانُ یَعِدُ کُمُ الْفَقْرَ ” شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے “۔ اس آیت میں ” یَعِدُ “ ڈرانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی یہی معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ متکبرین کا عوام کو بہکاوا انسان کی فطرت ہے کہ کبھی وہ ترغیب سے متأثر ہوتا ہے اور کبھی ترہیب سے۔ قرآن کریم نے آخرت کی تلقین کے لیے ان دونوں اسالیب کو استعمال کیا ہے۔ قوم کے سردار اپنے لوگوں کو بہکاتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ یہ دعویٰ نبوت کرنے والا شخص تمہیں ڈراتا ہے کہ تم مجھ پر ایمان لائو اس کے نتیجے میں تمہیں دنیا میں بھی کامیابیاں ملیں گی اور آخرت میں بھی سرخرو ٹھہرو گے اور اگر تم ایمان نہیں لاتے ہو تو پھر یاد رکھو موت تو تم سے ٹل نہیں سکتی۔ تم اپنی آنکھوں سے ہر روز لوگوں کے جنازے اٹھتے ہوئے دیکھتے ہو، تمہارا بھی ایک دن جنازہ اٹھے گا۔ یاد رکھو ! مرنے کے بعد تم فنا نہیں ہوجاؤ گے۔ یہ صحیح ہے کہ ایک مدت کے بعد تمہارے جسم مٹی ہوجائیں گے اور تمہاری ہڈیاں الگ الگ ہوجائیں گی۔ لیکن یہ تمہارا تصور صحیح نہیں کہ تمہاری یہ موت مکمل فنا ثابت ہوگی۔ ایک دن ایسا آئے گا جب تمہیں ازسر نو زندہ کیا جائے گا۔ تم اپنی قبروں سے نکالے جاؤ گے اور اپنے رب کے سامنے جوابدہی کے لیے کھڑے کیے جاؤ گے۔ سوچ لو ! آج کی پر تعیش من مرضی کی زندگی کے بارے میں تم اللہ کو کیا جواب دوگے ؟ یہ شخص تمہیں اس طرح کے ڈراوے دے کر اور تمہیں مرعوب کرکے اپنی نبوت کا قائل کرنا چاہتا ہے۔ خبردار یادرکھو ! مرنے کے بعد جب ہڈیاں تک خاک ہوجائیں گی تو یہ بات عقل سے نہایت بعید ہے کہ تمہیں کبھی دوبارہ زندہ بھی کیا جائے گا۔ زندگی یہیں کی زندگی ہے۔ دنیا ہی ہماری زندگی کا مقام ہے اس کے بعد کہیں زندگی نہیں۔ ہمیں یہیں جینا ہے اور یہیں مرنا ہے۔ دوبارہ اٹھائے جانے کا تصور خوش فہمی اور تو ہم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ زندگی کے بگاڑ کا اصل سبب یہی وہ تصور تھا جس نے ان کی زندگی کے رویے کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کی ساری جدجہد اس زندگی کو آرام دہ اور باوقار بنانے اور زیادہ سے زیادہ مال وجاہ حاصل کرنے کیلیے صرف ہوتی تھی۔ وہ اسی دنیا کی خوشیوں اور غموں کو حاصل زندگی سمجھتے تھے۔ وہ اس دنیا کی کامیابیوں کو حقیقی کامیابیاں سمجھتے تھے اور اس کی ناکامیوں کو حقیقی محرومیاں گردانتے تھے۔ اسی بات کا نتیجہ تھا کہ لطف ولذت اور ہر خواہش کا حصول ان کی زندگی کا عنوان بن گیا تھا۔ وہ ایثار و ہمدردی کے نام سے واقف تھے اور بعض دفعہ لوگوں میں شہرت کے حصول کے لیے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ لیکن اسے زندگی کا لازمہ نہیں سمجھتے تھے۔ نہ جانے ان کے ذہنوں میں یہ بات کیوں نہیں آتی تھی کہ یہ دنیا دارالعمل ہے دارالجزا نہیں۔ یہاں ایک آدمی بدکار ہوتے ہوئے عزت و آرام کی زندگی بسر کرتا ہے اور دوسرا آدمی نیک، مخلص اور نوع انسانی کا حقیقی بہی خواہ ہونے کے باجود عمر بھر طرح طرح کی مصیبتوں اور آزمائشوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اگر موت ہی انسانی زندگی کے قافلہ کی آخری منزل ہے تو پھر اس سے بڑی بےانصافی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ یہاں مزدور اور بےنوا لوگ ہمیشہ دکھوں سے بھری زندگی گزارتے ہیں اور ظالم اور ہوشیار لوگ انھیں کے کھنڈرات اور انھیں کی ہڈیوں پر اپنے محلات اٹھاتے ہیں۔ اگر یہی زندگی حقیقی زندگی ہے تو پھر اس کا کون جواب دے گا ؟ ؎ تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات حقیقت یہ ہے کہ قیامت اور آخرت کا یقین انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ انسانیت اقدارِ انسانیت، مکارمِ اخلاق، حقوق و فرائض، آدابِ زندگی، نیکی کافروغ، برائی کی بیخ کنی اور ایثار و محبت کے راستوں کو جلابخشنے کا نام ہے۔ اگر کوئی انسان کہلانے والا شخص ان تمام حقائق و فضائل کو بیکار سمجھتا ہے تو اسے حق پہنچتا ہے کہ وہ قیامت کا انکار کرے۔ لیکن جو شخص ایسا کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا اس کے لیے قیامت کا انکار کرنا فتورِ عقل سے پہلے ممکن نہیں۔ ملکی سرحدیں قربانی سے قائم رہتی ہیں۔ انسانی رشتے ایثار و محبت سے زندہ رہتے ہیں۔ انبیائے کرام اور ان کے راستوں پر چلنے والے زندگی کے ہر سکھ کی قربانی دے کر زندگی کا چراغ جلاتے ہیں۔ اور شہید کا خون انھیں راہوں میں روشنی کا سامان کرتا ہے۔ لیکن ان کی قربانیوں کا صلہ دنیا میں نہیں دیا جاسکا اور یقینا نہیں دیا جاسکتا تو پھر اگر قیامت کو تسلیم نہ کیا جائے تو سوچ لیجئے کہ کون ان راہوں پر چلنے کی ہمت کریگا اور اس طرح ہم اپنی کتنی بڑی متاع سے محروم ہوجائیں گے۔
Ayahs 23:38–39

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

وہ تو ایک ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر ایک جھوٹ گھڑا ہے۔ اور ہم تو قطعاً اس پر ایمان نہیں لائیں گے

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

پیغمبر نے دعا کی اے میرے رب ! تو میری مدد فرما اس چیز کے ساتھ جس میں انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے

اِنْ ھُوَاِلَّا رَجُلُ نِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا وَّمَانَحْنُ لَہٗ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (المومنون : 38) وہ تو ایک ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر ایک جھوٹ گھڑا ہے۔ اور ہم تو قطعاً اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ) عوام کو اکسانے اور بہکانے کے بعد ان کے لیڈروں اور سرداروں نے یہ کہا کہ ہم نے تمہیں سمجھانے کا حق ادا کردیا ہے اور تم پر یہ بات واضح کردی ہے کہ اگر تم نے اس شخص کی اطاعت کا قلادہ گلے میں ڈال لیا تو تم اپنے آپ کو تباہ کرلو گے۔ اب تم جانو اور تمہارا کام، جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو غورو فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس شخص نے رسالت کا دعویٰ کرکے درحقیقت اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ اس نے کبھی کسی بشر کو اپنا رسول بنا کر نہیں بھیجا کیونکہ بشر تو کسی بات میں ہم سے مختلف نہیں۔ تو وہ اللہ کا برگزیدہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور ہماری رہنمائی کا فریضہ کیونکر انجام دے سکتا ہے ؟ اس لیے ہم نے تو فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس شخص پر کبھی ایمان لانے والے نہیں۔ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذَّبُوْنِ ۔ (المومنون : 39) (پیغمبر نے دعا کی اے میرے رب ! تو میری مدد فرما اس چیز کے ساتھ جس میں انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے۔ ) پیغمبر کی دعا یہ آیت گزشتہ رکوع میں گزر چکی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس پیغمبر کا یہاں ذکر ہورہا ہے وہ بھی جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح تبلیغ و دعوت کے حوالے سے ان پر اتمامِ حجت کرچکے اور قوم نے آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے آپ کا کام تمام کرنے اور آپ کی دعوت کو ختم کرنے کا ارادہ کرلیا۔ تو تب پیغمبر نے اللہ سے مدد کرنے کی درخواست کی۔ اور آیت کے الفاظ سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ پیغمبر نے چونکہ انھیں باربار عذاب سے ڈرایا تھا لیکن انھوں نے عذاب سے ڈرنے کی بجائے اسے ایک مذاق بنالیا اب وہ باربار مطالبہ کرنے لگے کہ عذاب کہاں ہے، وہ آتا کیوں نہیں ؟ تو پیغمبر نے اسی عذاب کے حوالے سے اللہ کی نصرت کو پکارا۔
Ayahs 23:40–41

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا عنقریب یہ لوگ اپنے کیے پر نادم ہو کر رہیں گے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

آخر کار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک سخت ڈانٹ نے ان کو آپکڑا۔ تو ہم نے ان کو خس و خاشاک کردیا۔ تو برباد ہوجائے وہ قوم جو ستم شعار ہے

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْن۔ َ فَاَخَذَ تْہُمُ الصَّیْحَۃُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰھُمْ غُثَآئً ج فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المومنون : 40، 41) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا عنقریب یہ لوگ اپنے کیے پر نادم ہو کر رہیں گے۔ آخر کار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک سخت ڈانٹ نے ان کو آپکڑا۔ تو ہم نے ان کو خس و خاشاک کردیا۔ تو برباد ہوجائے وہ قوم جو ستم شعار ہے۔ ) دعا کی قبولیت اللہ کے رسول کی دعا قبول ہوئی۔ تو اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اب اس قوم کی تباہی میں کوئی دیر نہیں عنقریب تم دیکھو گے کہ اللہ کی طرف سے ایسی گرفت ہوگی کہ انھیں خود اندازہ ہوجائے گا کہ ہم نے اللہ کے رسول کی رسالت سے انکار کرکے بہت بڑی حماقت کی۔ اب وہ ندامت کا اظہار کریں گے لیکن یہ ندامت کام نہیں آئے گی۔ چناچہ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برسا اور ایک سخت ڈانٹ نے انھیں آپکڑا۔ صیحۃ : کے معنی ” چنگھاڑ “ کے بھی ہیں اور ” سخت ڈانٹ “ کے بھی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ عذاب کا نشانہ بننے والوں میں عذاب کے بعدجو ایک ہنگامہ اور چیخ پکاربرپا ہوتی ہے وہ یہاں مراد ہو۔ اس لیے اس کے ایک ہی معنی پر اصرار کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ غثائً : اس خس و خاشاک کو کہتے ہیں جو سیلاب کے ساتھ بہتا ہوا آتا ہے۔ اور پھر کناروں پر لگ لگ کر پڑا سڑتا رہتا ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں عذاب کے ذریعے ریزہ ریزہ کرڈالا۔ ان کی لاشیں اور ان کی بستیوں کا ملبہ کوڑا کرکٹ کی طرح ہوا میں اڑتا اور پانی میں بہتا پھرتا تھا حتی کہ یہ سب کچھ زمین کی خاک بن گیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے لعنت اور پھٹکار برسی اور ہمیشہ کے لیے انھیں رحمت سے دور کردیا گیا۔ یہاں بھی کوڑا کرکٹ کی طرح پامال کیے گئے اور قیامت کے دن بھی بدترین انجام سے دوچار ہوں گے۔
Ayah 23:42

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعدکئی قومیں پیدا فرمائیں

ثُمَّ اَنْشَاْ نَا مِنْ م بَعْدِ ھِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَ ۔ (المومنون : 42) (پھر ہم نے ان کے بعدکئی قومیں پیدا فرمائیں۔ ) آیت نمبر 31 میں لفظ ” قرن “ آیا ہے اور یہاں ” قرون “ آیا ہے۔ جو قرن کی جمع ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے مختلف قومیں اٹھائی گئیں۔ عین ممکن ہے کہ ان کے افراد زمین کے مختلف حصوں میں پھیل گئے ہوں اور وہیں آبادی بڑھتے بڑھتے قوموں کی شکل اختیار کرگئی ہو۔ اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے مختلف وقتوں میں متعدد رسول بھیجے لیکن ان کے ناموں کا ذکر نہ قرآن کریم میں ہے اور نہ تورات میں۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم میں نہایت اہتمام کے ساتھ یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اللہ نے ہر قوم میں ہدایت دینے والا ضرور بھیجا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ملک اور کوئی قوم ایسی نہیں جس میں اللہ کے رسول لوگوں کی اصلاح کے لیے نہ آئے ہوں۔